Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

    اسلام آباد: انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک آنے والی کمی آگئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک آنے والی کمی کی بنیادی وجہ 25 ہزارکلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی کا آنا ہے۔

    ٹیلی کام کے ذمہ دار ذرائع سے بتایا ہے کہ 40 ٹیرا بائیٹ کا اہم ترین کیبل فجیرا کے قریب خراب ہوگیا جس کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست ہو گئی ہے۔

    اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں-

  • مقبوضہ کشمیر: سرچ آپریشن کے دوران افسر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک

    مقبوضہ کشمیر: سرچ آپریشن کے دوران افسر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک

    سری نگر: مقبوضہ وادی کشمیر میں ایک حملے کے باعث ایک افسر سمیت پانچ بھارتی فوجی ہلاک ہ ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ وادی چنار کے ضلع پونچھ میں سرچ آپریشن کے دوران پیش آیا ہے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ حسب معمول سرن کوٹ کے علاقے میں گھر گھر تلاشی لے رہی تھی اس دوران پورے علاقے کا محاصرہ تھا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج پر ہونے والے حملے میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت 5 فوجی اہلکار ہلاک ہو ئے ہیں۔

    علاقے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج پر کیے جانے والے حملے میں ایک اہلکار زخمی بھی ہوا ہے بھارتی فوج نے تاحال علاقے کا محاصرہ کررکھا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیویندر آنند کا کہنا ہے کہ علاقے میں فوج اور پولیس کی مزید کمک بھیجی گئی ہے جب کہ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں 1400 سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت غیر قانونی اور جھوٹے الزامات پر مبنی غیر انسانی اقدامات سے دنیا کو گمراہ نہیں کرسکتا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں 1400 سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہے، بھارت غیر قانونی اور جھوٹے الزامات پر مبنی غیر انسانی اقدامات سے دنیا کو گمراہ کرسکتا ہے اور نہ ہی دینا کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جھوٹے بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں اب تک کے سب سے بڑے کریک ڈاؤن میں جھوٹے الزامات کے تحت گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتا ہے، بھارتی قابض افواج کی جانب سے صوابدیدی گرفتاریاں اور حراست بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرنے کی بدترین مثالیں ہیں، ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں حالیہ اضافہ، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور مقبوضہ کشمیر میں صوابدیدی گرفتاریاں بین الاقوامی برادری کے لیے چیلنج کا باعث ہیں۔

    عاصم افتخار نے کہا تھا کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے ناقابل تردید شواہد پر مبنی ایک جامع ڈوزیئر عالمی برادری کو پیش کیا تھا، بھارت کو یہ حقیقت تسلیم کر لینا چاہیے کہ کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا کوئی بھی حربہ انھیں حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کی تحریک کو دبا نہیں سکتا ہے۔

  • امریکی بحریہ کا انجینئیر جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار

    امریکی بحریہ کا انجینئیر جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار

    ورجینیا: امریکی بحریہ کے انجینیئر کو جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں جوہری آبدوزوں سے متعلق اہم اور خفیہ معلومات چوری کرکے بھاری داموں فروخت کرنے والے نیوکلیئر انجینیئر کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے جرم عائد کردی گئی۔

    امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ریاست ورجینیا میں کارروائی کرتے ہوئے جوہری معلومات کی غیر قانونی فروخت اور جاسوسی کے الزام میں امریکی بحریہ کے نیوکلیئر انجینیئر 42 سالہ جوناتھن  ٹوبے اور اہلیہ 45 سالہ ڈیانا کو ہفتے کے روز گرفتار کیا تھا تاہم اب فرد جرم بھی عائد کردی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ میں بطور نیوکلیئر انجینئر فرائض انجام دینے والے جوناتھن اپنی اہلیہ کے ہمراہ جوہری آبدوزوں سے متعلق معلومات کو بھاری داموں میں فروخت کرنے کی اطلاع پر ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کے لیے ایف بی آئی ایجنٹ کو خریدار کے روپ میں بھیجا گیا تھا۔

    امریکی وزارت انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ایف بی آئی کے انڈر کور ایجنٹ کو غیرملکی حکومت کا اہلکار سمجھ کر جوہری آبدوزوں کی جاسوسی کرکے اہم اور خفیہ معلومات ایک لاکھ ڈالر میں فروخت کیں جوڑے پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے اور انہیں منگل کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    تاہم وزارت انصاف کے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ ملزم جوڑا ایف بی آئی اے کے انڈر کور ایجنٹ کو کس ملک کا اہلکار سمجھ کر جوہری معلومات فروخت کرتے رہے۔

    ادھر” دی گارجئین” نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک امریکی نیوی نیوکلیئر انجینئر پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ فوجی رازوں تک رسائی رکھتا ہے ، اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ امریکی ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کے ڈیزائن کے بارے میں معلومات کسی ایسے شخص کو منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسے وہ غیر ملکی حکومت کا نمائندہ سمجھتا تھا-لیکن جو ایف بی آئی کا خفیہ ایجنٹ نکلا۔

    جاسوسی سے متعلق الزامات کی تفصیل سے متعلق ایک مجرمانہ شکایت میں ، امریکی محکمہ انصاف (ڈی او جے) نے کہا کہ جوناتھن ٹوبے نے تقریبا ایک سال تک ایک ایسے رابطے کو معلومات فروخت کیں جن کے خیال میں وہ غیر ملکی طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں اس ملک کا نام نہیں تھا۔

    ڈی او جے کے مطابق ، 42 سالہ ٹوبے کو ہفتہ کے روز مغربی ورجینیا میں اپنی 45 سالہ بیوی ڈیانا ٹوبے کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا ، جب اس نے ریاست میں پہلے سے ترتیب دی گئی "ڈیڈ ڈراپ” پر ہٹنے والا میموری کارڈ رکھا تھا۔ ٹوبے اناپولیس ، میری لینڈ سے ہیں۔

    یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ٹوبے کے پاس کوئی وکیل ہے جو ان کی طرف سے بات کر سکتا ہے۔ بحریہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم اپریل 2020 میں شروع ہوئی جب جوناتھن ٹوبے نے بحریہ کے دستاویزات کا ایک پیکیج ایک غیر ملکی حکومت کو بھیجا اور کہا کہ وہ آپریشن کے دستور ، کارکردگی کی رپورٹ اور دیگر حساس معلومات فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس نے اس ڈیل کو آگے بڑھانے کے لیے ہدایات بھی فراہم کیں ، جس میں کہا گیا تھا: "میں آپ کی زبان میں اس ناقص ترجمے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ براہ کرم یہ خط اپنی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کو بھیجیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ معلومات آپ کی قوم کے لیے بہت اہم ہوں گی۔ یہ دھوکہ نہیں ہے۔

    پچھلے دسمبر میں بیرونی ملک میں ایف بی آئی کے دفتر نے پیکیج حاصل کیا ، جس میں پٹسبرگ کا واپسی پتہ تھا اس کی وجہ سے ایک مہینے طویل خفیہ آپریشن ہوا جس میں ایک ایجنٹ نے غیر ملکی حکومت کے نمائندے کے طور پر پیش کرتے ہوئے ٹوبے کی پیش کردہ معلومات کے لیے ہزاروں ڈالر کرپٹو کرنسی کی ادائیگی کی پیشکش کی۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ جون میں خفیہ ایجنٹ نے 10 ہزار ڈالر کرپٹوکرنسی میں بھیجے تھے ، اسے نیک نیتی اور اعتماد کی علامت قرار دیا۔

    اگلے ہفتے ، ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے دیکھا کہ ٹوبے مغربی ورجینیا میں ایک متفقہ مقام پر تبادلے کے لیے پہنچے ، ڈیانا ٹوبے ڈیڈ ڈراپ آپریشن کے دوران اپنے شوہر کی تلاش میں نظر آئیں۔

    شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی نے پلاسٹک میں لپٹا ہوا ایک نیلے رنگ کا ایس ڈی کارڈ برآمد کیا اور مونگ پھلی کے مکھن کے سینڈوچ پر روٹی کے دو ٹکڑوں کے درمیان رکھا۔

    محکمہ انصاف نے کہا کہ ایف بی آئی نے ٹوبے کو 20 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی اور ایس ڈی کارڈ کا مواد بحریہ کے موضوع کے ماہر کو فراہم کیا ، جس نے طے کیا کہ ریکارڈ میں ورجینیا کلاس آبدوز ری ایکٹرز کے ڈیزائن عناصر اور کارکردگی کی خصوصیات شامل ہیں۔

    شکایت کے مطابق وہ آبدوزیں جدید اور ایٹمی طاقت سے چلنے والی ’کروز میزائل فاسٹ اٹیک آبدوزیں‘ ہیں۔

    ایس ڈی کارڈ میں ایک ٹائپ شدہ پیغام بھی شامل تھا جس میں کہا گیا تھا ، "مجھے امید ہے کہ آپ کے ماہرین فراہم کردہ نمونے سے بہت خوش ہوں گے اور میں اپنے اعتماد کو بڑھانے کے لیے چھوٹے تبادلے کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔”

    ایف بی آئی نے اگلے کئی مہینوں میں اسی طرح کا ڈیڈ ڈراپ ایکسچینج کیا ، بشمول اگست میں ورجینیا میں جس میں ٹوبے کو 70،000 ڈالر ادا کیے گئے تھے اور ایک چیونگم پیکج میں ایس ڈی کارڈ چھپایا گیا تھا۔

    شکایت میں ایٹمی توانائی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے ، جو ایٹمی ہتھیاروں یا جوہری مواد سے متعلق معلومات کے انکشاف کو محدود کرتا ہے۔

    توقع کی جاتی ہے کہ ٹوبے منگل کے روز مغربی ورجینیا کے مارٹن برگ میں اپنی ابتدائی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ جوناتھن ٹوبے نے 2012 سے امریکی حکومت کے لیے کام کیا ہے ، جو ایک انتہائی خفیہ سیکیورٹی کلیئرنس رکھتا ہے اور بحری ایٹمی پروپیلن میں مہارت رکھتا ہے۔ انہیں پٹسبرگ کے علاقے میں ایک لیبارٹری بھی تفویض کی گئی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے لیے جوہری توانائی پر کام کرتا ہے۔

  • لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر  وقاص امجد

    لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر وقاص امجد

    قیام پاکستان سے اب تک لاہور کی تاریخ میں بہت سے افسران آئے جنھوں نےباغات کے شہر کی خوبصورتی میں اضافے اور سہولت کیلئے اپنے سے پہلے والے افسر سےبھی زیادہ اور بہتر اقدامات کیے لیکن اس شہر کی ترقی اور خوبصورتی کا جو سہرا کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کے سر سجا ہے ، اسکی نظیر نہیں ملتی۔بطور کمشنر لاہور تعیناتی کے دوران انکے شروع کیے گئے پروجیکٹس کی بدولت آج لاہور کو عالمی سطح پرنئی پہچان مل رہی ہے۔
    ماضی میں اسی شہر کے ڈپٹی کمشنر رہنے والےکیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان جب لاہور ڈویژن کے 59 ویں کمشنر بنے تو جہاں اپنے پرانے تجربے کی بنیاد پر کام کا آغاز کیا وہیں کورونا وباء کے دوران بطور سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کی حیثیت سے کیے گئے اقدامات کو بھی مدنظر رکھا۔ صحت کے شعبے سے ایک خاص عرصے تک جڑے رہنے کا ہی نتیجہ تھا کہ لاہوریوں کو اس وباء سے بچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انھیں ایک شفیق باپ کی طرح ماسک پہننے کی تلقین کی اور بعدازاں” لاہور وئیرز ماسک” مہم پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا۔
    اسی طرح” لاہور گیٹس ویکسی نیٹڈ ” مہم کے تحت شہریوں کو ویکسین لگوانے کی طرف راغب کیا اورساتھ ساتھ افواہوں کی شکار پڑھی لکھی عوام کو ویکسینیشن کی اہمیت سے بھی روشناس کروایا۔ اس کام کیلئے جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز بھی کیا گیاہے۔اس پروگرام کے تحت طلباء کی مدد سے عوام الناس کو معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ویکسینیشن کا کورس مکمل کرنے کی ہدایات دی جائیں گی۔
    کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ کے مترادف کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی کی حیثیت سے بھی ماضی میں خاصہ کام کیا اورجس تندہی کیساتھ کیا، اسکی مثال ملنا بھی مشکل ہے۔ انھوں نےعوام کی صحت پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے بغیر انھیں صاف ستھری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
    اسی طرح لاہور کی ادبی پہچان اور اسے ملنے والےسٹی آف لٹریچر کے اعزاز میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے کمشنر لاہور نے ادبی سرگرمیوں کے کیلنڈر کی تیاری کی بھی ہدایات کررکھی ہیں جو انکے ادب دوست ہونے کی واضح نشانی ہے۔ ٹریفک کے اژدھام کے باعث لاہور شہر کی خوبصورتی پر پڑنے والےمنفی اثرات کو بھانپتے ہوئے کمشنر لاہور نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مدد سے شہر کو مزید خوبصورت بنانے کا بھی پلان بنایا اور اس پلان کووزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ لاہور میں بڑی تفصیل سےبیان بھی کیاگیا۔ کمشنر لاہور کی انتھک محنت اور مسلسل کام کرنے کی لگن کی بدولت کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کو وزیراعظم سے تعریفی کلمات بھی سننے کو ملے۔

    Twitter Id
    @waqas_amjaad

  • خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں  تحریر : نواب فیصل اعوان

    خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں تحریر : نواب فیصل اعوان

    ۔
    حضور کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پہ لاکھوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا ۔
    خاتم النبین حضور پاک رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی صرف وہ چیز ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح کی ضمانت اور اللہ رب العزت کی محبت پانے کاذریعہ ہے ۔
    اسی طرح کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔
    فرمانِ نبویﷺ ہے
    ” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو ”
    چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اسلام میں حرمت اور ناموس کے اعتبار سے کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ۔“
    تمام انبیاء میں کسی بھی نبی پر کوئی زبان درازی یا گستاخی کے مرتکب کی سزا قتل کے علاوہ کوئی نہیں ہے ایسے شخص کا سر قلم کر دیا جاۓ جو خاتم النبین حضرت محمد ﷺ یا اللہ کے کسی بھی نبی یا پیغمبر کے بارے میں زبان درازی کرے ۔
    یہ تو ہر مسلمان ہی جانتا ہوگا کہ
    حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اورروشن چراغ دوسرے لفظوں میں مشعل راہ ہے ۔
    ہمارے دین اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ، واضح اور عام فہم ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی کا گزر نہیں ہے۔
    ان تعلیمات و ہدایات کا مکمل نمونہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی تھی فلہٰذا جب تک آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے نہ ہو اس وقت تک نہ ہم اسلام کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور پر اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
    مسلمانوں کے لیے یہ باعث سعادت ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرت کے تقریباً ہر پہلو پر علمی کام ہو چکا ہے۔ سیرت النبیﷺ کے کہا کہنے کہ جب وہ بولیں تو ہونٹوں سے پھول جھڑیں کہ جب وہ دیکھیں تو انسان منجمد ہو جاۓ خاتم النبین محمد ﷺ ہمارے بڑی شان والے ۔
    اس وقت سیرت نبوی ﷺ کا معالعہ اس لیۓ بھی ضروری ہے کہ غیر مسلم ہمارے پیارے آقا و کریم خاتم النبین ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق رہنماٸ حاصل کر سکیں وہ جان سکیں کہ ہمارے آقا کی زندگی کیسی تھی ۔؟
    قرآن مجید میں ہے کہ
    ” آپ کیلۓ ہمارے نبی ﷺ کی زندگی اسوہ حسنہ ہے ۔“
    قرآن کریم میں اس بات کا بھی سختی سے ذکر کیا گیا ہے کہ
    ” ہمارے نبی کی اطاعت کرو “
    خاتم النبین حضور کریم آقا مرسلین نانا حسنؓ و حسینؓ حضرت محمد مصطفی کی اطاعت ہر مسلمان پر لازم و ملزوم ہے اس کیلۓ تمام مسلمانوں کو سیرت نبوی کا بغور مطالعہ کرنا چاہیۓ تاکہ وہ جان سکیں کہ حضور کو کونسی چیز پسند تھی کس سے آقا و مولا کریم نے روکا تاکہ آقا کریم کی زندگی کی روشنی میں کامل زندگی بسر کی جا سکے ۔
    اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ
    اے مومنوں نبیﷺ کی اطاعت کرو
    یہاں اطاعت سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم خاتم النبین حضور کریم ﷺ کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ آپﷺ کی زندگی مکمل ضابطہ حیات اور مشعل راہ ہے ۔
    مسلمان سیرت رسول خاتم النبین کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنماٸ پاٸیں ۔
    حضور کریم ﷺ کی عادات و اطوار کا مطالعہ کیا جاۓ تاکہ ایک مکمل کامل زندگی جی جا سکیں کیونکہ کاملیت اس وقت ہوگی جب دل میں حضورکریم خاتم النبین ﷺ کی محبت انتہا کو ہوگی تبھی ایک انسان کامل انسان بن سکتا ہے اور یہی کاملیت انسان کو حضور پاک ﷺ کی کچہری نصیب کرا سکتی ہے اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت رب سے ملا سکتی ہے ۔
    اللہ آپ آپکو مجھے سب مسلمانوں کو حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کا فرماں بردار بناۓ اور ان کی زندگی کے رہنما اصولوں پہ اور متعین کردہ حدود و قیود پہ زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین ..

    ‎@NAwabFebi

  • پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    میرے پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہے جب پانامہ پیپرز منظر پر آئے تو جن جن افراد کے نام تھے ان میں کافی افراد نے اپنے اپنے آس پاس یا حلقہ احباب کو مطمئن کرنے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں دی ،ن لیگ نے اسے پاکستان کے خلاف عالمی سازش ،مولانا فضل الرحمن نے اسے یہودی سازش قرار دیا ،نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر نے تو پانامہ کو نظریہ پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا ،خواجہ آصف نے بڑے فخر سے اس وقت کے وزیراعظم  نواز شریف کو اسیمبلی میں کھڑے ہوکر کہا کہ میاں صاحب آپ بے فکر ہوجائیں یہ پانامہ ڈرامہ بھی لوگ بھول جائیں گے کوئ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ،شہباز شریف نے پانامہ کو پاجامہ سے تشبیہ دی مطلب ہر اس بندے نے اپنے اپنے طرز سے پانامہ کے خلاف بیان بازی کی جس کی جماعت کا لیڈر یا حلقہ احباب کے بندے کا اس پانامہ میں نام آیا ،اس وقت عمران خان صاحب اپوزیشن میں تھے انہوں نے کھل کر پانامہ میں نام آنے والے لوگوں کو پاکستانی قوم کے سامنے بے نقاب کیا اور پاکستانی قوم کو بتایا کہ کس طرح اس ملک کا پیسہ لوٹ کر ان لوگوں نے باہر آفشور کمپنیاں بنائ ہیں ،اس کے علاوہ شفاف تحقیقات اور کڑے احتساب کے لئے عمران خان صاحب نے ایک مکمل تحریک چلائ اور آخرکار سپریم کورٹ جاپہنچے جہاں پر مکمل چھان بین اور تمام قانونی پہلووٴں کا جائزہ لیا گیا ،یاد رہے آفشور کمپنی تب تک جرم نہیں جب تک یہ ثابت نا ہوجائے کہ اس کمپنی کو بنانے کے لئے جو پیسہ استعمال ہوا وہ پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجاگیا اس پیسہ کا پاکستان میں کوئ حساب کتاب نہیں دیا گیا اور ناہی ٹیکس ادا کیا گیا ،سپریم کورٹ نے ان تمام قانونی نکات پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے جواب طلب کیا لیکن نواز شریف حساب کتاب دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور کئ عرصے تک چلنے والے اس کیس میں نواز شریف اپنے حق میں کوئ واضع ثبوت پیش نا کرسکے جس کی نتیجے میں آخر کار نواز شریف کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت 28جولائ 2017کو نااہل قرار دے دیا جس کے بعد ن لیگ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف بڑا شور شرابہ کیا ،ججز اور اعلی اداروں کے خلاف ایک مکمل کمپئین چلائ یہ تو تھی  پانامہ پیپرز کے بعد کے حالات ،ابھی چند دن پہلے پانامہ طرز کا پنڈورا پیپرز بھی سامنے آیا جس میں پاکستان کے 700 سے زائد افراد کا نام اس میں شامل ہیں جن کی آفشور کمپنیاں نکل آئ ہیں اب وہی ن لیگ ،مولانا فضل الرحمن سمیت تمام پی ڈی ایم کے لوگ اس پنڈورا پیپرز پر وزیراعظم عمران خان صاحب سے بھی استعفی کا مطالبہ کردیا حالانکہ اس میں وزیراعظم عمران خان صاحب کا کوئ ذکر تک نہیں آیا ،پانامہ کو عالمی سازش کہنے والے لوگ اب پی ٹی آئ کے جن افراد کا نام آیا ہے ان کا کڑا احتساب چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تحقیقات ہونے سے پہلے ان کو کرپشن میں ملوث قرار دے رہے ہیں ،اب ان سے کوئ بندہ پوچھے جب پانامہ عالمی ،یہودی سازش تھی تو پنڈورا کوئ سازش کیوں نہیں ؟پنڈورا بھی جاری تو انہی لوگوں نے کیا ہے جنہوں نے پانامہ پیپرز جاری کئے تھے 

    بہرحال وزیراعظم عمران خان صاحب نے اسے کوئ سازش قرار نہیں دیا بلکہ اس پنڈورا پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کے سخت احتساب کا اعلان کرکے ایک اعلی سطحی کمیشن تشکیل دے دیا جس کی نگرانی وزیراعظم صاحب خود کریں گے اور پوری قوم پر امید ہے کہ اس تحقیقات کے بعد جو بھی غیر قانونی طور پر اس میں ملوث پایا گیا اس کو پاکستانی قانون کے مطابق  سزادی جائے گی اور وزیراعظم کسی بھی ایسے اپنی پارٹی کے بندے کی کوئ حمایت نہیں کرے گا جب تک وہ اس میں خود کو بیگناہ ثابت نہیں کرتا وزیراعظم عمران خان صاحب کے اس اعلان کو نا صرف پاکستانی قوم بلکہ عالمی دنیا نے بھی سراہا ہے اور یقینن یہ ایک کرپشن سے پاک پاکستان کی طرف ایک احسن قدم ہے 

    باقی کسی بھی اپوزیشن کی جماعت کو وزیراعظم کے اس تحقیقاتی کمیشن پر کوئ اعتراض ہے یا وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب اپنے بندوں کو کوئ رعایت دیں گے تو وہ عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں ،جس طرح عمران خان صاحب اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پانامہ پیپرز پر سپریم کورٹ گئے تھے اسی طرح اس وقت کی اپوزیشن کے پاس بھی یہ آپشن موجود ہے اور ان کو اگر کہیں کوئ چیز صحیح نا لگے تو ان کو جانا چاہیے سپریم کورٹ کی طرف ،باقی صرف باتوں ،دھمکیوں اور خالی سیاست کے لئے بیان بازی سے اپوزیشن کو کوئ فائدہ نہیں ہونا 

    @MajeedMahar4

  • ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔

    ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔

    جو یاد آئے بھول کر پھر اےہم نفسو وہ خواب ہیں ہم۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان خان 1936ء کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1952ء  میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے ۔ کراچی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی۔ پھر جرمنی اور ہالینڈ سے  اعلی تعلیم حاصل کی ۔ 1970ء میں ہالینڈ سے میٹالرجی میں ماسٹر کیا ۔ اور 1972ء میں بیلجیئم سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔  اس کے بعد وطن واپس لوٹے۔ 1974ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکوں کے تجربات کیے۔ اس کے بعد آپ نے 1976 ء میں پاکستان انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا۔بعد میں اس ادارے کا نام صدر پاکستان ضیاءالحق نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتاہے۔ صرف آٹھ سال کی قلیل مدت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی محنت اور لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے تمام نوبل انعام یافتہ سائنسدان کو حیرت میں مبتلا کیا۔  28 مئی 1998 ء میں پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا ۔جس کی نگرانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کر رہے تھے ۔یہ سب آپ کی  اور آپ کی ایٹمی ٹیم کی محنت اور جذبہ حب وطنی کی بدولت ممکن ہوا۔ الحمدللہ پاکستان دنیا کا پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا ۔آپ نے 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو وطن عزیز کیلئے شاندار خدمات سرانجام دینے پر محسن پاکستان کا خطاب دیا گیا۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں جنہیں تین صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ انہیں ان خدمات پر دو بار نشان امتیاز اور ایک بار ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔ سنہ 2003 میں اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ادارے نے پاکستان  گورنمنٹ کو ایک خط ارسال کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے جوہری راز فروخت کیےہیں۔ بعدازاں ٹی وی پروگرام میں آ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی ایران لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد  انہیں اسلام آباد  میں ان کے گھر نظر بند کر دیا گیا ۔2009 ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ ان کی نظر بندی کو ختم کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد شہری کی طرح زندگی گزارنے کے احکامات جاری کیے۔ مگر وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں احکام کو مطلع کرنے کے پابند تھے۔ بغیر مطلع کیے کہیں آنا جانا ممکن نہیں تھا۔ 2020ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ان کا موقف تھا کہ میری نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے مجھ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تعلیمی اداروں میں نہیں جانے دیا جاتا ۔مجھے تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں سٹوڈنٹ کو کچھ لیکچر دیے سکوں۔ درخواست میں مزید یہ بھی کہا گیاتھا کہ جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت تو  میرے ساتھ گارڈ نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی بندوقیں نہ فوجی اور نہ ہی رینجرز ۔ اب 84 سال کا عمر رسیدہ ہو چکا ہوں۔ چلنا پھرنا مشکل ہے ۔ میں اپنے ہی ملک میں موجود ہوں اور باہر جانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ میں اپنے ملک سے غداری نہیں کروں گا ۔ایک عام آدمی کی طرح بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ جس پر عدالت کے ریمارکس تھے کہ ان حالات میں آپ کی زندگی کو خطرہ سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو آپ کے لیے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں مگر غیر محفوظ نہیں ۔نظر بندی کے باعث ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان گزشتہ کئی سالوں سے پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ خاندانی ذرائع کے مطابق کچھ ہفتے پہلے ڈاکٹر صاحب کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اور ہسپتال میں زیر علاج رہے۔  ڈاکٹر عبد القدیر خان کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی گئی۔ بعد میں طبیعت بہتر ہونے پر کرونا سے ریکوری پر آپ کو واپس گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔ 9 اکتوبر کی شب کو ڈاکٹر صاحب کی اچانک طبیعت خراب ہوئی۔ جس کے بعد انہیں ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ 10 اکتوبر کی صبح سات بجے کے قریب پاکستان ایٹمی پروگرام کے خالق اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ محب وطن پاکستانی اور محسن پاکستان کا سنہرا باب ہمیشہ کے لئے لیے بند ہو گیا۔ آپ کی خدمات کو رہتے پاکستان تک یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اس قوم اور ملک پر جتنا بڑا احسان تھا اقتدار میں رہنے والوں نے انہیں اتنا ہی نظر انداز کیا۔ درویش صفت انسان اپنی کسم پرسی اور تکالیف چھپائے رخصت ہو گئے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رخلت کا سن کر کر پوری قوم غمزدہ ہے ۔ہر آنکھ اشک بار ہے۔ آپ نےانتھک محنت اور لگن کے جذبے سے سر شار ہوکر ہماری دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں یہ ریاست آپ کا خیال نہ رکھ سکی جو عزت آپ کو دینی چاہیے تھی وہ نہ دے سکی۔ اللہ ہمیں قوم کے محسنوں کی قدر سکھائے ۔ اللہ آپ کی مغفرت فرمائے آپ کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

    ہم بھی چلے ہیں سوئے کارواں 

    آنے والوں کو ہمارا سلام کہنا۔

    Follow on Twitter

    @786Rajanaeem

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے💕

    10 اکتوبر 2021 کو ہم نے اس دیدہ ور اس قیمتی اور نایاب ہیرے کو کھو دیا جن کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: 

    "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

    آپ یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوے۔ آپ ایک بہت ہی سادہ اور انتہاٸی عاجز مزاج اور ایک مخلص انسان تھے۔آپ نے پاکستان کے لیے نا قابل فراموش اور گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بعد آپ نے پاکستان کو عالمی برادری میں مضبوط بنانے کے لیے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے 28مٸی 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے مقام پہ ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت ہے لہذا ہماری ارضِ پاک کی طرف میلی نگاہ سے نہ دیکھنا ورنہ ہم جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دنیا آپ کو A.Q.Khan کے نام سے بھی جانتی ہے اور عالمی دنیا میں آپ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔

    ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاں علامہ اقبال رح اور قاٸداعظم رح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ۔ آپ نے شدید مخالفت اور دباٶ کے باوجود بھی اس ارضِ پاک کو ایک ایٹمی طاقت بنایا ۔

    پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا پوری دنیا کے لیے یہ پیغام تھا کہ اس اسلامی مملکتِ خداداد کو کوٸی شکست نہیں دے سکتا۔ آپ کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان ایک طاقتور مملکت بن کر اُبھرا۔ 

    آپ کو محسنِ پاکستان کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اور سرکاری سطح پہ بہت سے اعزازات نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا مگر پھر بھی بحیثیت قوم ہم نے انہیں وہ عزت و مقام نہیں دیا جس کے وہ قابل تھے

    انہوں نے اس اسلامی ریاست کو ایٹمی طاقت بنا کہ عالمی دنیا کے ظلم سے بچا لیا شام ، فلسطین، اعراق، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرزمین پاکستان پہ قدرت کا ایک انمول تحفہ تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کے دشمنوں پہ لرزا طاری کر دیا ۔

    آپ نے ایک اسلامی ریاست کی مضبوطی اور اس کی بقاء کے لیے جو کوششیں کیں اور جو کارہاۓ نمایاں انجام دیے اس کے بعد اگر آپ کو محسنِ  اُمت کہا جاۓ تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔

    آپ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول صلى الله عليه واله وسلم بھی تھے. آپ نے ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں کہا تھا :

    "کہ آپ کو اپنے بھوپالی ہونے پہ فخر ہے کیونکہ ایک تو وہ غدار نہیں ہوتے اور دوسرا ان میں کوٸی قادیانی پیدا نہیں ہوتا ”

    آپ صرف ایک شخصیت کا ہی نام نہیں تھے بلکہ ایک عہد کا نام بھی تھے جو تمام ہوا اور سب کو افسردہ کر گیا۔ پاکستان ایک مخلص ایماندار اور نڈر و  دلیر محبِ وطن اور ایک مضبوط قوت سے محروم ہو گیا😢

    ” ڈھونڈو گے اگر ہمیں ملکوں ملکوں ۔۔۔ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” 

    ہر آنکھ اشک بار ہے انکے جانے پہ۔ انکا خلاء باقی رہے گا اور پاکستان اور پاکستانی انکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ قوم ہمیشہ انکی خدمات کی مقروض رہے گی اور تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔ ہمیں یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ جیسے انکی قدر کرنے کا حق تھا ہم نے ویسی نہیں کی۔ 

    "عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن۔۔۔۔یہ الگ بات ہے دفناٸیں گے اعزاز کے ساتھ”

    اللّٰہ پاک ڈاکٹر صاحب کی بے حساب مغفرت فرماۓ اور ان کے درجات بلند فرماۓ آمین ❣️

    شمسہ بتول

    @sbwords7

  • استحکام پاکستان کی بنیاد چل بسا  ازقلم محمد عبداللہ گِل 

    مملکت خداداد کا 14 اگست 1947ء کرہ ارض کے نقشے پر ظہور ہوا۔پاکستان کو سیکولرازم اور لبرلزم کہ بنیاد پر نہیں بنایا گیا بلکہ اس مملکت کا نظریہ اس کی بنیاد دین اسلام کو چنا گیا پھر اس کے لیے محنت کی گئی جس کا ثبوت مسلم لیگ کے اس نعرے سے ہوتا ھے جو کبھی بھوپال میں لگ رہا ہوتا تو کبھی بنگال میں کبھی دہلی میں کبھی بلوچستان میں 

    "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ”

    اسلام کی بنیاد پر یہ وطن بنا دیا گیا مخلص اور اسلام پسند قیادت نے اس کے لیے قربانیاں دی۔لیکن ابھی مملکت کو بنے 24 سال ہی بیٹے تھے تو اس ملک کے خلاف سازش کو رچا گیا۔ان سازشوں کی وجہ سے ہمارا دشمن اور ازلی حریف بھارت کامیاب ہوا اور پاکستان دولخت ہوا اس وقت ایک شخصیت نے سربراہ مملکت خداداد پاکستان کو خط لکھا جس میں خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسلام کو ایٹمی قوت کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔امت مسلمہ کے لئے اس قدر درد دل رکھنے والی شخصیت کا اسم گرامی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے امت مسلمہ اور پاکستان کو استحکام دیا۔لیکن آج 10 اکتوبر کو وہ شخصیت اس جہان فانی سے رخصت ہو گی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان حب الوطنی کے جذبہ سے مالا مال بلکہ محبت اسلام سے لبریز تھے۔کمال عجب کی شخصیت تھی کہ اتنا بڑا نام۔رکھنے والا شخص جس کو کئی لاکھ ڈالر تنخواہ پر نوکریاں دینے کو ملک تیار تھے لیکن اس نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا فرض انجام دیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک پاکستان کے نظر بندیوں کو بھی برداشت کر لیا اپنے بارے دشمن کی سازشوں کو بھی برداشت کر لیا۔بلکہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کے آگے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گے لیکن پاکستان پر آنچ تک کو نہ آنے دیا۔

    بلکہ یہ کہا ہو گا 

    "اے ستم گر ادھر آ ستم آزمائے 

    تو تیر آزما اور ہم ہنر آزمائے”

    بلکہ کیسا ہنر آزمایا کہ ملک پاکستان کو اپنے اردگرد موجود چیل بھیڑوں سے بچا لیا۔آج بھی ہم سے دس گنا بڑا حریف ہم سے کاپنتا ھے۔اس کی وجہ ہماری فوج کا جوہری طور پر مضبوط ہونا ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ نظریاتی لوگوں کے لیے سرحدوں کی قید نہیں ہوتی کیونکہ ڈاکٹر صاحب بھوپال سے چلے ہنری سے تعلیم کو حاصل کیا پھر پاکستان آئے انڈیا کے ایٹمی حملوں کے مد مقابل 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں نعرہ تکبیر کو بلند کر دیا اور یہ بھی پیغام دے دیا کہ آج استحکام پاکستان مکمل ہو چکا ھے۔وہ پاکستان کی ناو جس پر 1971 پر نظریاتی حملہ ہوا آج وہ مستحکم ہو چکی ھے۔جس کی وجہ سے قوم ان کو سلام پیش کرتی ھے۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جو ان کے کارناموں کو بیان کر سکے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے ایٹمی قوت پاکستان کو بنایا جس کی وجہ سے آج افغان امن معاہدہ میں پاکستان کی اہمیت ھے اگر فوجی اتحاد ھے تو پاکستان چیف ھے۔ملکوں کی فوجیں ہمارے پاس جنگی مشقیں کرنے آتی ہیں بلکہ امریکہ،اسرائیل بھارت اور یہ یہود و نصاری کے ملک ہم سے گھبراتے ہیں۔انھیں پتہ ھے کہ ان کے پاس نظریہ جہاد تو پہلے ہی ھے لیکن اب ان کے پاس جنگی گھوڑیں بھی ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے اس کارنامہ کی وجہ سے امت مسلمہ ان کی مقروض ھے اور ان سے عقیدت رکھتی ھے۔جس کا منہ بولتا ثبوت آج ان کی وفات کے بعد سوشل میڈیا اور مسلم ممالک کے چینلز کی طرف سے ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی وفات پر غم و رنج کا اظہار کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسے باہنر شخص کو بدقسمتی سے ملک پاکستان کے حکمرانوں نے اس طرح بروئے کار نہیں لایا جس طرح حق تھا بیرونی پریشر پر ان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا تھا۔جو اس ملک کے نظریاتی غدار ہیں ان کی جمع پونجی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی اور محسن پاکستان کے پاس لباس کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔میری حکومت وقت سے گزارش ھے کہ خدارا ایسے نظریاتی محافظوں کو تلاش کر کے ان کا خیال رکھو ان کو قید و بند کی صعوبتوں سے نہ گزرارو۔

    اللہ تبارک و تعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے

    @ABGILL_1 

  • غداری تحریر: فروا منیر

    غداری تحریر: فروا منیر

    غداری ایک ایسی لعنت ہے جو کسی بھی ملک کی بنیادوں کو کوکھلا کر دیتی ہے۔ اگر ہم تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں امت مسلمہ کی جماعتوں میں ہی کئی غدار نظر آئیں گے۔
    کسی بھی ملک کی سر زمین میں اس کے رہنے والوں کے لیے ماں کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سرزمین وطن کے ساتھ غداری کرنا ماں سے غداری کرنے کے برابر ہوتا ہے۔

    مگر تاریخ گواہ ہے کے کچھ لوگ تھے جنہوں نے وطن اور دین کی پرواہ نہ کی اور وہ صرف کچھ دولت کی خاطر تخت کی خاطر اس وطن کے خلاف  اس وطن کے دشمنوں کے ساتھ مل گئے اور غداروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ اگر ٹیپو سلطان کا دوست میر جعفر غداری نہ کرتا تو کیا آج برصغیر پاک و ہند کا یہ جغرافیہ ہوتا جو آپ کے سامنے ہے؟ اسی وجہ سے علامہ اقبالؒ نے بھی میر جعفر کو ننگ ملت‘ ننگ دیں اور ننگ وطن کے ناموں سے یاد کیا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ اگر شریف مکہ غداری نہ کرتے تو نہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوتا اور نہ ہی مسلمانوں کی یہ حالت ہوتی۔

    اقبالؒ نے تاریخ کے اس موڑ پر بھی ببانگ دہل کہا ’’بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفیٰؐ‘‘ بحیثیت مسلمان تاریخ میرے ہاتھ میں قدم قدم پر غداروں کی ایک فہرست تھما دیتی ہے‘

    اکثر اوقات ہم غداروں کو پہچان نہیں پاتے یا پھر غداروں کو غدار ماننے میں اتنی دیر کر جاتے ہیں کہ وہ ہماری بنیادوں کو کوکھلا کر چکے ہوتے ہیں۔

    سقوط بغداد مسلمانوں کے دکھ کے لیے کافی تھا کہ سقوط ڈھاکہ جیسا منظر سامنے آگیا ۔اسکے غداروں کی فہرست میں بڑے کردار شیخ مجیب الرحمنٰ اور جنرل یحییٰ خان ہیں۔

    کسی بھی ملک کو اس کے دشمن سے زیادہ جو چیز نقصان پہنچاتی ہے وہ ہے غداری۔دشمن تو سامنے سے وار کرتا ہے مگر غدار کسی بھی ریاست کے وہ کھوٹے سکے ہیں جو ریاست جو اندرونی طور پر کمزور کرتے ہیں۔

    زیادہ دور جانے جی ضرورت نہیں سابقہ وزیراعظم نواز شریف کے دشمن ملک انڈیا کے وزیراعظم سے پرانے تعلقات ہیں.  یہ تعلقات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ گھریلو سطح پربھی ہیں ۔
    ایسا بھی کیا کہ کشمیر پر ظلم ڈھاںے اور اسلام کے خلاف بولنے والے ، مسلمانوں ہر ظلم کرنے والے شخص کو جناب نواز شریف اپنے گھر اپنی نواسی جی شادی پر دعوت دیتے ہیں. آپس میں تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔

    ضرورت صرف امر کی ہےکہ نہ صرف غداروں کو پہچانا جائے بلکہ سر عام لٹکایا جائے ۔ تا کہ کوئی بھی اس وطن پاک کے ساتھ غداری کرنے کی سوچ کا تصور بھی نہیں رکھ سکے ۔

    @Fatii_PTI