Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے تحریر احمد

    مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے تحریر احمد

    اگر آپ کا آج سکھی ہے تو یقینا آپ کا آنے والا کل دکھی ہوگا 

    اگر آپ کا آج دکھی ہے تو یقینا آپ کا آنے والا کل سکھی ہوگا

    اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے

    میں حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ سخت سے سخت ترین فیصلے کل کی بجائے آج ہی لے کہیں ایسا نہ ہو کہ آج کا ریلیف کل کو وبال جان بن جائے لہذا میری تو رائے یہی ہے کہ قوم کو سلو پوائزننگ دینے کی بجائے مہنگائی کا چھٹکا ایک ہی دم دے دیا جائے

    میرے پاکستانیو اب حقائق کو غور سے پڑھنا

    مہنگائی کیوں ہو رہی ہے؟؟

    پاکستان تقریبا 80 فیصد اشیاء درآمد کرتا ہے یعنی جو اشیاء ہم باہر کے ملکوں سے خریدتے ہیں تو جب وہ مہنگی ہوتی ہیں تو ہمیں ڈبل قیمت میں ملنے لگتی ہیں مثال کے طور پر اگر ڈالر 150 کا ہو تو ہمیں جو چیز چاہیے مثال کے طور پر اگر ہمیں ایک پینسل چاہیے جس کی قیمت 1 ڈالر ہے 

    جب وہ پاکستان آئے گی تو اس کی قیمت 150 روپے ہوگی اور جب ڈالر 150 سے 170 تک جائے گا تو پینسل کی قیمت بھی 150 سے 170 روپے تک چلی جائے گی

    عالمی بحران

    کورونا نے اس وقت دنیا میں جو معاشی تباہی پھیلا رکھی ہے اگر آپ دنیا کے حالات و واقعات کو میری طرح جان جائیں تو آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ محسوس کریں گے کہ ہم پاکستان میں الحمداللہ سب سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں

    اب سنیں 

    کورونا کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 0 بیرل پر ڈالر ہو چکی تھی اور آج 80 بیرل پر ڈالر تک پہنچ چکی ہے

    تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 85 فیصد بڑھ چکی ہے گیس کی قیمت تقریبا 180 فیصد بڑھی اور 1 سال میں کوئلے کی قیمت 200 فیصد سے زائد بڑھی جبکہ 1 مہینے کے دوران تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 20 فیصد بڑھی ہے کوئلے اور گیس کی قیمت تقریبا 30 فیصد بڑھی ہے

    اس بدترین مہنگائی سے امریکہ یورپ چائنا جیسی معیشتیں ہل کر رہ گئی ہیں پاکستان تو کسی گنتی میں بھی نہیں آتا

    امریکہ میں گیس کی قیمت 180 فیصد تک بڑھ چکی ہے یورپ کا برا حال ہے پچھلے دنوں لندن میں پیٹرول کے لیے لمبی قطاریں لگی ہوئی تھی اٹلی اور سپین بجلی کے نرخ بڑھا رہے ہیں جبکہ چائنا نے تو باقاعدہ لوڈشیڈنگ کا اعلان کردیا ہے اور اپنے کارخانوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار یا تو کم کر لیں یا پھر بند کر دیں کیونکہ چائنہ میں بجلی کوئلے سے بن رہی ہے اور اس وقت سپلائی اور ڈیمانڈ کا شدید بحران آ رہا ہے

    اس وقت سب کا برا حال ہے

    امریکہ نے دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی OPEC سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ اپنی پیداوار بڑھائیں یورپ نے رشیا سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ اپنی گیس کی سپلائی بڑھائیں اور چائنا آسٹریلیا اور انڈونیشیا سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ کوئلے کی ترسیلات بڑھائیں 

    یعنی 1 سال میں عالمی مارکیٹ میں 80 فیصد پٹرول مہنگا ہوا ہے جبکہ حکومت پاکستان نے پیٹرول کی قیمت 1 سال میں صرف 20 فیصد سے کم قیمت بڑھائی اور آج بھی پیٹرول کی قیمت الحمدللہ اس خطے میں سب سے کم ہے

    اب یہ فیصلہ حکومت پاکستان کو کرنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں پٹرول بجلی گیس کی قیمت بڑھا کر پاکستان کے مستقبل کو روشن اور خود مختار بنانا چاہتی ہے یا پھر عارضی ریلیف فراہم کر کے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے در پر بھیک مانگنے جاتی ہے

    میری تو یہی رائے ہے کہ حکومت بجلی گیس اور پٹرول کی قیمت میں مزید 3 فیصد اضافہ کردے اور جتنی جلدی ہو پاکستانی معیشت کو آئی ایم ایف کی بیساکھیوں سے آزاد کروا لے

    جبکہ کمزور اور بے بس صارفین پر اس کا بوجھ ہرگز نہیں ڈالنا چاہیے

     باقی ہر صاحب استطاعت سے کم سے کم اتنی قیمت وصول کرے جتنی قیمت پر ہم باہر سے لے رہے ہیں 

    میرے پاکستانیو گھبرانا ہرگز نہیں آج دکھ ہو گا تو انشاءاللہ کل سکھ ہی سکھ ہوگا چین ہی چین ہو گا.

    @iamAhmadokz 

  • سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    سرمایہ کاری تحریر:محمد جاوید حقانی

    محترم قارئين کرام

     رزق حلال یا زریعہ معاش  ایک ایسی اہم ضرورت ہے جو انسان کی زندگی کا بہترین حصہ یعنی جوانی اس ضرورت کی فکر کھا جاتی ہے۔

    غریب کا بچہ نو عمری میں ہی مزدوری کیلئے نکل پڑتا ہے

    اور امیر کا بچہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے

    اکثر ایسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے

    لیکن یہ فرض نہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا

    بلکہ بہت سارے ایسے لوگوں کو میں جانتا ہوں جو انتہائی غربت میں پڑھے لکھے ہیں

    اسی طرح بہت سارے ایسے لوگوں کو بھی میں جانتا ہوں جو ابھی پوری طرح بالغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اینٹوں کے بھٹوں پہ اینٹیں، مستری کے ساتھ مزدوری یا پھر ہنر مند بننے کیلئے کسی ویلڈر یا میکنک کی دکان کا رخ کرتے ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کامیاب بننے کیلئے دولت مند یا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں 

    بلکہ کامیابی کیلئے ایسے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے جو ایجاد یا ڈائیرکشن یا پھر پالیسی بنانے کا ماہر ہو

    آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ بہت تھوڑی عمر میں بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور بعض لوگ بڑھاپے تک بھی یہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتے جو کچھ لوگ اٹھارہ بیس سال کی عمر میں حاصل کرچکے ہوتے ہیں.

    اسے ہم قسمت کا کھیل تو ضرور کہہ سکتے ہیں

    لیکن قسمت ہمیشہ بنانی پڑتی ہے 

    کامیاب بننے ترقی کرنے اور دولت کمانے کے مختلف طریقے ہیں

    لیکن سب سے بہترین طریقہ جو میں سمجھتا ہوں  وہ

    "سرمایہ کاری” ہے 

    ارسطو کے بقول:

    "دولت کھاد کی طرح ہے جب تک اسے پھیلایا نہ جائے فائدہ حاصل نہیں ہوتا”

    آج کے جدید دور میں سرمایہ کاری کے اتنے پلیٹفارم ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے 

    اور اتنے فراڈ ہیں کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے

    لیکن تھوڑی سی بھی سرمایہ کاری اگر کسی بہترین جگہ ہوجائے تو چند سالوں میں مالی پریشانیاں ہمیشہ کیلئے ختم ہوسکتی ہیں.

    بہت سارے لوگ آنلائن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں 

    یہ کمپنیاں شروع میں اچھا منافع ضرور دیتی ہیں اور بہت سارے لوگ گھیرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن چند ہی ماہ کے بعد عین غین ہوجاتی ہیں.

    اب انسان چونکہ لالچ میں آجاتا ہے 

    تو وہ کسی ایسی کمپنی میں اپنی رقم سرمایہ کاری کیلئے لگاتا ہے جو بہت سارا منافع دے رہی ہوتی ہے

    تو وہ اسے واپس نکالنے کی بجائے جب زیادہ منافع دیکھتا ہے تو منافع بھی اسی میں سرمایہ کاری پہ لگا دیتا ہے

    پھر بائینری انکم کے لالچ میں کچھ اپنے مزید ساتھیوں کی سرمایہ کاری بھی شروع کرتا ہے

    اور اتنے میں کمپنی عین غین کرجاتی ہے

    پھر سر میں بازو رکھ کے پریشان بیٹھ جاتا ہے

    اور کبھی بھی دوبارہ سرمایہ کاری کیلئے آمادہ نہیں ہوتا

    یہ ایک قسم کے ناکام لوگ ہی ٹھرتے ہیں

    دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو انہی طرز کی کمپنيوں میں گھستے ہیں اپنی تھوڑی بہت سرمایہ کاری کرتے ہیں اور کام کو مزید سمجھتے ہیں اپنی سرمایہ کاری واپس لیتے ہیں اور منافع شدہ رقم کو سرمایہ بنا کے سرمایہ کاری کرتے ہیں

    یہ ایک ٹیکنیکی ذہن رکھنے والے لوگوں کا کام ہوتا ہے جو اپنا نقصان یا تو ہونے ہی نہیں دیتے یا پھر ہو بھی جائے تو بہت ہی قلیل نقصان ہوتا ہے اور بہت جلد ایسے لوگ کامیابی کا سفر طے کرلیتے ہیں

    تیسری قسم کی سرمایہ کاری کا تعلق آنلائن کسی شعبے سے نہیں بلکہ براہ راست اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے

    اس میں بھی کامیابی اور ناکامی دونوں ہوتی ہیں لیکن جو ڈٹ جاتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو نقصان کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں وہ ناکام ٹھرتے ہیں.

    آنلائن سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اپنی رقم کسی دوسرے کے ہاتھ میں دینی ہوتی ہے

    جب کہ براہ راست اپنے ہاتھ سے سرمایہ لگانا الگ ہوتا ہے

    جیسے کوئی دکان کھول لی جائے اور اس سے کاروبار شروع کردیا جائے

    اب کاروبار جہاں بھی شروع کیا جاتا ہے وہ وقت اور علاقے کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے تو ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    اس پر ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر علاقے میں ضرورت کپڑوں کی دکان کی ہو اور بندہ کریانہ جو کہ پانچ ساتھ دکانیں پہلے ہی موجود ہوں کھول لے تو ظاہر ہے کامیاب ہونے میں وقت لگے گا.

    اس موضوع پر بہت سی گفتگو کی جاسکتی ہے

    مگر صرف اتنی گزارش ہے کہ اگر آپ بیس ہزار روپے بھی مہانہ کما رہے ہیں تو اس میں دو ہزار ہی سہی لیکن بچت کرکے سرمایہ کاری اپنے کاروبار کیلئے ضرور کریں

    اس سے آپ بھی اور آپکی نسلیں بھی نوکری سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرجائیں گی.

    @JavaidHaqqani

  • سیاحت کے فروغ میں ڈیجیٹل میڈیا کاکردار تحریر: محمد عابد خان

    ہمارا وطن پاکستان انتہائی دلکش اورخوبصورت سیاحتی مقامات سے بھرا ہوا ہے۔سیاحت کا فروغ ، نئے سیاحتی مقامات کی تلاش اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنانا،سیاحوں کا تحفظ ، سیاحتی علاقوں کوسہولیات کی فراہمی اور متعلقہ امور کوفروغ دینا ہے۔سیاحت کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتاہے، پاکستان میں سیاحتی شعبے میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے.وطن عزیزپاکستان جغرافیائی اعتبار سے بھی دنیاکا ایک منفرد اور خوبصورت ترین ملک ہے۔یہاں وسیع و عریض سمندر ہیں ، لق و دق صحرا ہیں۔ بالخصوص ملک کے حسین ترین خطےخیبر پختو نخوا کے قبا ئلی اضلاع   کو وطن عزیز پاکستان کے ماتھے کا جھومر کہاجائے تو بے جانہ ہو گا۔ جہاں خوبصورت پہاڑ  اور سر سبز و شاداب وادیاں ہیں۔سیاحت کے فروغ کے لئے کسی ملک کےتاریخی وثقافتی ورثوں اور سیاحتی مقامات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے،سیاحت کے فروغ کے لئے جہاں تاریخی و ثقافتی مقامات اور سیاحوں کے لئے سہولتوں کی فراہمی درکارہوتی ہے وہاں امن و امان کا قیام بھی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے۔ بد قسمتی سے

    پاکستان میں ایک عرصہ تک امن و امان کے مسئلے کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر رہا۔لیکن پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا  اور ​سوشل میڈیا​کےزریعے عالمی سطح پر پاکستان  کو ایک پرامن ملک پیش کیا گیا جس کے  بعد سیاحوں نے پاکستان کی طرف رخ کرنا شروع کردیا۔ان ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم میں ایک نام کانسپٹ ٹی وی کا بھی ہے جو بیک وقت تین زبانوں ،پشتو،اردو اور انگریزی زبان میں ادب، ثقافت،سیاحت،امن اورکھیل بارے مختلف آرٹیکل اور خبریں اپنےنیوز ویب سائٹ پر پبلش کرکے سوشل میڈیااکاونٹس سے جاری کرکے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج گراف بڑھا دیا جس کی وجہ سے  پاکستان  کا پرامن اور پر سکون ماحول دنیا میں مثالی اور عالمی سیاحوں کے لئے کشش کا باعث  بن گیا ۔ ان کے علاوہ باغی ٹی وی کا کردار لائق تحسین ہے جس نے بھی اپنی خبروں اور مضامین کے زریعے پاکستان، خاص طور پر خیبر پختو نخوا اور قبائلی علاقوں میں  امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ عید کے دوران خیبر پختونخوا میں لاکھوں سیاحوں کی آمد کااندازہ لگایا گیا ہے ۔

    عید کی تعطیلات ختم ہو نے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے عید الاضحیٰ کے موقع پر صوبہ کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد کی رپورٹ جاری کردی تھی  جس کے مطابق 27 لاکھ ستر ہزار سیاحوں نے سیاحتی علاقوں کا دورہ کیا ، کثیر تعداد میں سیاحوں کی آمد سے 66 ارب سے زائد کا کاروبار ہوا جبکہ مقامی معیشت کو 27 ارب سے زائد کا فائدہ ہوا، سرکاری دستاویز کے مطابق عید کے دوران دس لاکھ 50 سے زائد سیاحوں نے سوات کا رخ کیا، گلیات دس لاکھ اور کمراٹ میں ایک لاکھ 20 ہزار سیاحوں نے سیر کی، وادی کاغان میں سات لاکھ سے زائد جبکہ چترال 50 ہزار سیاحوں کی آمد ہوئی ،عید کی چھیٹوں میں سات لاکھ 20 ہزار گاڑیاں سیاحتی علاقوں میں داخل ہوئیں، سیا حوں نے تین دن تک سیاحتی مقامات پر عید کی تعطیلات گزاریں، آیام عید کے دوران مقامی لوگوں کے روزگار و آمدن میں اضافہ ہوا، تازہ ترین رپورٹ  کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں سیاح اب بھی صوبے کے سیاحتی مقامات میں سیر و تفریح کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا محمود خان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے  سیاحوں کی آمد بارے رپورٹ وزیر اعظم عمران  خان سے ایک  ملاقات میں پیش کی تھی جس کو وزیر اعظم عمران خان نے بے حد سراہا اور صوبائی حکومت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین کی۔ سیاحت دنیا بھرمیں اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اسےدنیا کے مختلف ممالک میں انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے ۔تہذیبی و ثقافتی اقدار اور تاریخی آثار کو ملک و قوم کے روشن مستقبل کے لئے بروئے کار لانا دانشمندقوموں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ ہماری ثقافتی سرگرمیاں پائیدار قومی تعمیر و ترقی کی ضامن ہونی چاہئیں۔

  • طلباء کا احتجاج  تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    طلباء کا احتجاج تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    تعلیم و تربیت ہر معاشرے کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ھے۔تعلیم کے لیے ایک نظام بنایا گیا ھے جس کا مقصد اس شعبے کو اچھے طریقے سے چلانا اور جو کمی کوتاہی ہو اس کو۔دور کرنا ھے۔تعلیمی میدان میں جو سب سے مشکل اور محنت طلب شعبہ ھے وہ میڈیکل کا ھے۔معاشرے کے وہ طلباء جو محنتی اور ذہانت کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں وہی اس کو اپناتے ہیں اور اپنے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔میڈیکل یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے ایک ٹیسٹ کا انعقاد کیا جاتا ھے جس کو MDCat کہا جاتا ھے۔اس ٹیسٹ کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ معاشرے کی کریم کو نکال کر اس شعبے میں لایا جائے تاکہ وہ آگے جا کر اچھی کارکردگی دکھائے۔اس امتحان کو پہلے یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز کے زیر انتظام پنجاب سے لیا جاتا تھا اسی طرح سندھ میں داود یونیورسٹی یہ ٹیسٹ لیتی تھی۔اس سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ہر صوبے کا چونکہ سلیبس مختلف ھے تو ٹیسٹ بھی مختلف ہوتا تھا اور طلباء کو شکایت نہیں ہوتی تھی اور سب سے بڑی بات یہ تھی بطور ثبوت کاربن پیپر سے لی گی عکاسی دی جاتی تھی کہ یہ یہ نشانات امیدوار نے لگائے ہیں اور جو غلط ہو جاتے تھے طالب علم بھی خاموشی سے مان لیتا تھا۔لیکن اس سال یہ امتحان پاکستان میڈیکل کمیشن کے زير اہتمام لینے کا فیصلہ کیا گیا۔اور پاکستان میڈیکل کمیشن نے جو پالیسی بنائی اس میں یہ تھا کہ۔طلباء کو آوٹ لائن دے دی گئی کہ اس سے آپکا امتحان آنا ھے۔اب جو سلیبس دیا گیا ہر صوبے میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے چونکہ وہ ایک نہیں ھے اس لیے کچھ فرق ہونے کی وجہ سے طلباء کو پریشانی ہوئی۔جیسے کہ مثال کے طور پر ایک سوال دیکھ لے 

    انسانی جسم میں پٹھوں کی تعداد کتنی ھے؟

    پنجاب بوڑد لی کتاب میں تعداد 650 لکھی ہوئی ھے جبکہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اور سندھ کی کتاب میں تعداد 600 لکھی گئی۔

    اور اتفاق سے یہ سوال امتحان میں آیا بھی اور دونوں ہی آپشن تھے اب طالب علم کیا لگائے اس کی عقل سے باہر تھا۔

    طلباء کو پہلا جو مسلہ درپیش ہوا وہ یہ تھا کہ سوالات ان کی دسترس یعنی کے ان کے صوبے کے نصاب سے باہر تھے۔

    دوسرا بنیادی مسئلہ جو طلباء کو درپیش آیا وہ یہ تھا کہ امتحان چونکہ آن لائن TAB پر لیا گیا تو طلباء کو امتحان کے بعد بطور ثبوت کوئی پیپر یا دستاویز نہیں دی گئی کہ یہ یہ نشانات و جوابات آپ نے لگائے ہیں۔اس سے ہوا یہ بہت سے ذہین طلباء وہ طلباء جن کے میٹرک میں 95 فیصد سے زائد نمبر ہیں وہ فیل ہو گے وجہ کیا بنی کہ سافٹ وئیر میں غلطیاں ہیں۔اس کا منہ بولتا ثبوت یہ ھے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے جس کمپنی کے زیر انتظام یہ ٹیسٹ لیا وہ TEPs ھے اور اس کی طرف سے جو پریکٹس ٹیسٹ اپلوڈ کیا گیا اس کے سوالات میں بھی غلطیاں تھی اور جوابات میں غلطیاں تھی۔اس سے طلباء کی طرف سے یہ موقف اپنایا گیا کہ 210 سوالات آپ صحیح بنا نہیں سکے تو ہر بچے کا ٹیسٹ علیحدہ ھے آپ کیسے سوالات اور جوابات درست کر سکتے ہیں؟

    یہ اب تک پاکستان میڈیکل کمیشن پر سوالیہ نشان ھے جس کا وہ جواب نہیں دے سکا۔

    پاکستان میڈیکل کمیشن کے اس سسٹم میں غلطی کا امکان اس لیے بھی ھے کہ طلباء کو حق ہی نہیں کہ وہ ٹیسٹ کی ری چیکنگ یا ری کاؤنٹگ کروا سکے۔جبکہ دنیا بھر میں جتنے بھی ٹیسٹ لیے جاتے ہیں اگر آپ اپنے نتیجے سے مطمئن نہیں تو آپ اس کو چیلنج کر سکتے ہیں۔لیکن پاکستان میڈیکل کمیشن نے طلباء سے یہ حق بھی چھین لیا۔اسی طرح جب میں اس پر تحقیق کر رہا تھا تو میری نظر سے ایک بات گزری کہ ایک جاننے والے نے ٹیسٹ ہی ابھی نہیں دیا اور اس کا نتیجہ اپلوڈ کر دیا گیا یہ بات بھی پی ایم سی کے سسٹم میں خرابی پر دلالت کر رہی ھے۔یہ بات کوئی ایک دو طالب علم نہیں کہہ رہا بلکہ ہر طالب علم کی زبان پر عام ھے۔طالب علم امتحان دے کر نکلتا ھے وہ کہتا ھے 190 پکے ہیں لیکن جب نتیجہ آتا ھے تو فیل ہوتا ھے۔کوئی ایک دو طالب علم کہے تو چلو مان لیا جائے کہ طلباء غلط ہیں ادھر تو ہر بندہ ہی یہ ہی کہہ رہا ھے۔اس کے پاکستان میڈیکل کمیشن کے ایکٹ کے مطابق کمیشن اس بات کا پابند ھے کہ تمام طلباء کا ٹیسٹ ایک ہی دن لیا جائے لیکن ادھر یہ بھی زیادتی کی گئی کہ پورا مہینہ ٹیسٹ چلا کسی بچے کا پہلے امتحان تھا کسی کا بعد میں۔جو کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے اپنے قانون کی خلاف ورزی تھی۔ان تمام مطالبات کو لے کر جب نہتے طلباء میدان میں نکلے پہلے انھوں نے پاکستان میڈیکل کمیشن کے باہر پرامن احتجاج کیا جب ان کی شنوائی نہ ہوئی تو ڈی چوک میں سات دن انھوں نے دھرنہ دیا حکومت پاکستان نے پاکستان کے مستقبل کے مطالبات کو سننے کی بجائے ان پر لاٹھی چارج اور چاقووں سے حملہ کیا جو کہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ھے اور ریاست کو یہ ذیب بھی نہیں دیتا۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ طلباء کے مطالبات سن کر تحقیقات کروائے اور ان کا ٹیسٹ دوبارہ لینے کا جو مطالبہ ھے اس کو مانے کیونکہ طلباء ہمارا مستقبل ھے اور ان کو ر

    درپیش مسائل بھی حقیقت پر مبنی ھے۔

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے 

    وہ فضل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

  • طاقت کی سیاست تحریر: ملک سراج احمد

    طاقت کی سیاست تحریر: ملک سراج احمد

    خلافت عباسیہ کے دارالحکومت بغداد نے دنیا بھر میں ایک خاص شہرت حاصل کی ۔علم و حکمت اور فن تعمیر کے اعتبار سے بغداد کا کوئی ثانی نہیں تھا۔منگول جنرل مونکو خان نے بغداد پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور اس سلسلے میں ایک بہت بڑی فوج تشکیل دی ۔اس فوج کی کمان ہلاکو خان نے کی اور اس فوج میں چینی کمانڈرز سمیت مسیحی افواج کا بڑا دستہ شامل تھا ۔نومبر 1257 میں منگول فوج نے بغداد کی طرف کوچ کیا اوربغداد پہنچ کر ہلاکو نے خلیفہ معتصم سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جس کو خلیفہ نے حقارت سے ٹھکرا دیا۔منگول فوج کے چینی دستے نے 29 جنوری 1258 کو بغداد کا محاصرہ کرلیا۔محاصرہ سخت ہوا اور جب امان کی صورت نظر نا آئی تو ایک دن بغداد کی فصیل کا دروازہ کھلا اور کچھ لوگ باہر آئے اور ہلاکو سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    یہ بغداد کے عمائدین کا وفد تھا ان کو ہلاکو کے خیمے کی طرف لےجایا گیا ۔ہلاکو نے وفد کو ملاقات کے لیئے خیمے کے اندر بلا لیا۔گفتگو شروع ہوئی اور عمائدین کافی دیر گفتگو کرتے رہے ۔ہلاکو نے ترجمان سے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں تو ترجمان نے کہا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بغداد کی چابیاں دینے کو تیار ہیں مگر ہمیں کچھ باتوں پر آپ کی اخلاقی ضمانت چاہیے تو ہلاکو نے پوچھا کہ وہ کیا ہےتو انہوں نے کہا کہ فوج بغداد میں لوٹ مار نہیں کرئے گی اور قتل عام بھی نہیں کرئے گی ۔منگول فوج طے شدہ اصول وضوابط اور اخلاقیات کے ساتھ شہر میں داخل ہوگی ۔اس پر ہلاکو خان نے تاریخی جواب دیا کہ طاقت کے اپنے اصول وضوابط اور اخلاقیات ہوتی ہیں۔اور اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ طاقت نے بغداد کا جو حشر کیا ۔کئی روز تک دجلہ کا پانی عالموں اور فلسفیوں کے خون سے رنگین رہا۔

    منگولوں کا عہد اپنےاختتام کو پہنچا تو طاقت کا پلڑا ترکوں کا بھاری ہوگیا اور اس کے بعد دنیا سلطنت عثمانیہ کی بے پناہ طاقت کے سامنے سرنگوں رہی ۔بے خوفی اور جوانمردی سے لڑتے ہوئے ترکوں کے سامنے کوئی نا ٹھہر سکا اور یوں چرواہے دنیا کے ایک بہت بڑے خطے کے رہنما بن گئے ۔مگر جب یہ طاقت دوسروں کے ہاتھ میں پہنچی تو سلطنت عثمانیہ کے اتنے ٹکڑے ہوئے کہ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی تھی ۔اب یہ طاقت برٹش ایمپائر کے پاس تھی ۔تاج برطانیہ کا عظیم اقتدار ایک ایسے خطہ ارضی پر قائم ہوا جو اتنا وسیع وعریض تھا کہ کہتے ہیں کہ وہاں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔مگر دوسری جنگ عظم اس عظیم ایمپائر کو لے ڈوبی اور برٹش ایمپائر کے اتنے حصے ہوئے کہ لوگ سلطنت عثمانیہ کے زوال کو بھول گئے ۔

    منگولوں سے لے کر تاج برطانیہ کے عہد تک سات صدیوں میں بارہا جغرافیے تبدیل ہوئے اور اس تبدیلی کا محرک طاقت تھی یہ طاقت تھی جس نے اتنے بڑے بڑے ایمپائر بنائے اور یہی طاقت ہی تھی جس نے ان ایمپائر کو دھول چٹا دی ۔دجلہ کے خوں رنگ پانی سے لے کر روسی فوج کے آخری فوجی کے دریائے آمو کو پار کرنے تک کا بنیادی محرک طاقت ہی تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب وزیر خارجہ بھٹو نے ہندوستانی جارحیت پر اپنی طالبعلم بیٹی بے نظیر بھٹو سے تجزیہ کرنے کو کہا تو بے نظیر بھٹو کے مطابق بھارت یو این او چارٹر کی خلاف ورزی کرکے دنیا میں اکیلا ہورہا ہے اور پاکستان کو اس کیس میں اخلاقی برتری حاصل ہے اس پر ذوالفقار علی بھٹو نے تاریخی جواب دیا کہ مجھے خوشی ہےکہ تم سیاست کی طاقت کو سمجھ گئی ہو مگر تمہیں طاقت کی سیاست کو سمجھنے میں مزید کچھ وقت لگےگا۔

    یہ طاقت ہی ہے کہ جمہوریت اور انسانیت کا راگ الاپتی دنیا کو مقبوضہ کشمیر کے انسانوں کی حالت نظر نہیں آتی نا ہی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والےمظالم نظر آتےہیں۔کیمیائی ہتھیاروں کے نام پر امریکہ بہادر عراق پر چڑھ دوڑا اور لاکھوں عراقی مار دئیے اور دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے دو دہائیوں تک افغانستان میں خون کی ہولی کھیلتا رہا تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اب طاقت اس کے پاس ہے۔طے ہوگیا کہ طاقت کے اپنے اصول و ضوابط، عزائم ، مقاصد اور اخلاقیات ہوتی ہے ۔من پسند نتائج کےحصول کےلیےطاقت کا استعمال جائز تصور ہوتا ہے ۔

    انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہو یا علاقائی اسٹیبلشمنٹ ہو ایک ہی اصول پرکام کرتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیار کا حصول اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ کمزور کرنا اب ان دو مقاصد کے لیے لاکھوں لوگوں کی قربانی بھی دینی پڑ جائےتو دریغ نہیں کرتے۔مذہب ، قومیت ، اور لسانیت کے نام پر تقسیم معاشرے ، معاشی طورپر بدحال ان طاقت وروں کی آسان شکار گاہیں ہیں۔ حقیقت میں ہم جیسے لوگ تو ان طاقتور ہاتھوں کی انگلیوں سے بندھے ہوئے دھاگوں کےساتھ لٹکی ہوئی وہ پتلیاں ہیں جو اس وقت تک حرکت میں رہتی ہیں جب تک یہ ہاتھ حرکت کرتے ہیں۔اس وقت یہ ہاتھ حرکت میں ہیں تو ہم بھی ناچ رہے ہیں مگر ستم یہ کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری ہر حرکت ہماری منشا اور ہمارے ارادے سے ہورہی ہے۔جبکہ ایسا نہیں ہے بالکل نہیں ہے

    طاقتوروں کا کھیل جاری ہے۔اوکس کے بعد کھیل دلچسپ ہوتا جارہا ہے۔زمینی اور سمندری ناکہ بندی شروع ہوگئی ہے۔انڈو پیسفک پر طاقتوروں کی نظریں جم گئی ہیں ۔ابھرتی ہوئی طاقت چین پہلے سے موجود سپر پاور کو چیلنج کررہی ہے۔زیادہ طاقت کے حصول کی خاطر نئے بلاک اور اتحاد بننا شروع ہوگئے ہیں۔دنیا بھر میں اور خاص طورپر چین کے اطراف میں طاقتوروں کی سیاست جلد نقطہ عروج کو پہنچ جائے گی۔خدانخواستہ مگر لگ یہی رہا ہےکہ ہاتھیوں کی لڑائی ہمارے کھیتوں میں ہوگی اگر ایسا ہوا تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔امید ہے اس پر غور وفکر ہوگا مگر فی الوقت سوال یہ ہے کہ طاقت کے اس کھیل میں ہمارا کردار کیا ہوگا اور دوسرا سوال یہ کہ ہمارے کردار کا تعین ہم خود کریں گے یا پھر یہ طاقتور کریں گے ۔آخری سوال یہ کہ اگر ہم اپنےکردار کا تعین خود کریں گے تو ہمارا مستقبل کیا ہوگا اور ہمارے کردار کا تعین یہ طاقتیں کریں گی تو بھی ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟

    https://www.facebook.com/maliksiraj.ahmed.7

  • آج کے نوجوانوں کا سوشل میڈیا کا استعمال   تحریر: تیمور خان 

    آج کے نوجوانوں کا سوشل میڈیا کا استعمال تحریر: تیمور خان 

     انسان اپنی تمام ضروریات کو خود پورا نہیں کر سکتا۔  اسے اپنی خواہشات ، اپنی ضروریات اور اپنا موضوع دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے۔  ترسیل کے اس عمل کو "مواصلات” کہا جاتا ہے۔

     سوشل میڈیا کا مقصد لوگوں کے درمیان مختلف ذرائع سے رابطہ قائم کرنا ہے۔  جس کے مزاج ، خیالات ، ثقافت اور آج کے معاشرے کے حالات زندگی پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔  اس کا بہاؤ بہت وسیع اور لامحدود ہے۔  معاشرے میں ہر ایک کو سوشل میڈیا کے ذریعے اظہار رائے اور اظہار رائے کی آزادی کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔  آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔  یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا آزاد نہ ہو وہاں صحت مند جمہوریت کی تعمیر ممکن نہیں۔  سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر کسی مہذب معاشرے کا تصور کرنا ناممکن ہے۔  اگر ٹیکنالوجی کو ضرورت کے مطابق مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں کسی نعمت سے کم نہیں۔  موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ٹول کے طور پر ابھرا ہے جس نے معاشرے پر دیرپا تاثر چھوڑا ہے۔  سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔  12 سے 35 سال کی عمر کے لوگوں کے سوشل میڈیا کے استعمال میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔  وہ نوجوان جنہوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو استعمال کرنا سیکھا ہے وہ بڑے مالی اور سماجی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔  سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و خواتین نے لاکھوں روپے کمائے اور روزگار کا ذریعہ تلاش کیا۔  ہر گزرتے دن کے ساتھ ، فری لانسرز اور سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے اس کے معاشی فوائد کو تلاش کر رہے ہیں۔

     پچھلے کئی سالوں سے ، پاکستان سوشل میڈیا کے بے مثال استعمال کا مشاہدہ کر رہا ہے ، اور نوجوان تیزی سے استعمال کر رہے ہیں اور اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔  یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ انتہا پسندانہ رویوں کا آسانی سے شکار ہو جاتا ہے اور تعمیری سرگرمیوں سے ہٹ جاتا ہے۔  آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز ، یعنی سوشل میڈیا کے گمنام استعمال کرنے والے یا اپنی اصلی شناخت چھپانے والے ، جن کا مقصد جھوٹ یا طنز کی آمیزش کی آڑ میں الجھن پھیلانا ہے ، بہت سرگرم ہیں۔  ہم سب اس سنگین صورتحال سے واقف ہیں ، لیکن عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی موجود نہیں ہے۔  شاید اس سلسلے میں سب سے مناسب تجویز یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔  تاکہ وہ اپنے بچوں اور طلباء کی تربیت کرتے ہوئے اس اہم اور  بڑی حد تک نظر انداز کیے گئے مسئلے پر مناسب توجہ دے سکیں۔  اس سلسلے میں ، والدین کی پہلی اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے  عمر میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون تک رسائی دیں، یا تو وہ بلوغت کے دور سے گزریں مطلب اچھے برے چیز کی تمیز پر سمجھ سکیں  رسائی سے پہلے اور دوران مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی بہت اہم ہے۔

     اگر ہم سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر ایک نظر ڈالیں تو اس نے نوجوانوں کو خطرناک حد تک گمراہ کیا ہے۔  نوجوان فحاشی اور عریانی کے جال میں چھلانگ لگاتے ہوئے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ دشمن نوجوانوں کے ذہنوں میں اپنی برائی پھیلا رہے ہیں۔  ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جسے آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ تو عرض اور تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں پر گہری نظر رکھنی چاہئے خوصوص بلخصوص نوجوانوں کو چاہئیے کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنے صحیح ضرورت دینی اور دنیاوی تعلیم کے لئے استعمال کریں تاکہ وہ اس سے مستفید ہو سکیں، اور آج ہمیں سوشل میڈیا پر ان ویبسائٹ اور اکاوئنٹس کا بائکاٹ کرنا چاہیے جو معاشرے میں فحاشی پھیلانے کا ایک ذریعہ ہے، اللہ تبارک وتعالی ہمیں نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

    @ImTaimurKhan

  • خواتین کا کردار تحریر:غلام رسول

    خواتین کا کردار تحریر:غلام رسول

    انسانی زندگی میں ایک خاتون کا کردار محور کی طرح ہے۔تمام خاندان کی زندگی خاتون کے گرد ہی گھومتی ہے۔پیدائش پر رحمت بن کر آنے والی بیٹی، باپ کیلئے رحمت، بھائیوں کیلئے محبت کا گہوارہ، ماں کیلئے توجہ کا مرکز، بنے ہوئے زندگی کی ابتداء کرتی ہے۔یہاں والدین کی بہت بڑی ذمہ داری جو خالقِ کائنات نے رکھی ہے وہ تعلیم و تربیت ہے۔والدہ اپنی بیٹی کو تربیت کے مختلف مراحل سے گزارتی ہے تو والد اس کی مناسب تعلیم کا بندوبست کرتا ہے۔

    اسی اثناء میں بیٹی جوانی کی حدود میں قدم رکھتی ہے زندگی کا چکر اسے نئی نسل کا امین بنانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔جناب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا فرمان ہے، "بیٹا باپ کے گھر اور بیٹی شوہر کے گھر عروج پاتی ہے”۔ یعنی ذمہ داری پڑنے پر ہی اپنی جگہ مضبوط ہوتے ہیں۔ جیسے خاندان میں ایک خاتون محور ہوتی ہے، یعنی "خاتون اعلٰی” بیٹوں کی ماں، شہر کی عترت، بزرگوں کیلئے خدمت و خیال رکھنے والی شخصیت، بیماری میں تیماردار، غم میں مونس، خوشی میں خاندان کا ستون۔۔۔۔

    یہ ہے وہ محور خاندان کیلئے جسے عورت، خاتون یا خاندان کی حوّا کہتے ہیں۔ لبرل کیا کہتے ہیں،مجھے یہاں اس پر بحث نہیں کرنا لیکن ایک خاندان میں خاتون کیا مقام رکھتی ہے کیسے معاشرے میں اپنا مقام بناتی ہے، وہ سب سے اہم ہے۔

    کسی بھی شخص، عورت ہو یا مرد، اس کی پہلی تربیت گاہ کسی ماں یعنی عورت کی گود ہوتی ہے۔پہلی پرورش گاہ اس عورت کی کوکھ ہوتی ہے۔تربیت دونوں مقام پر یکساں ہوتی ہے۔کبھی آزما لیں اور آج سائنس بھی اس کو مان رہی ہے کہ ماں کے رحم میں ہی پرورش پاتا ہوا بچہ اپنی تربیت کے ابتدائی مراحل سے گزرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک حافظہ ماں اپنے ایامِ حمل میں قرآن کی تلاوت کرتی ہے تو اولاد بھی قرآن کو ناصرف جلد حفظ کر پاتا ہے بلکہ ایک بار تو ایک بچہ پیدائشی طور پر ہی قرآن کو درست تلفظ سے پڑھتا تھا، جب بولنے کے قابل ہوا تو ایک بار آیت سن کر فورا” پڑھنے لگتا تھا۔ اسی طرح گانے بجانے اور طرب و موسیقی کی محفلوں کی دلدادہ ماں کی اولاد اسی طرح موسیقی کی دلدادہ اولاد کی ماں بنتی ہے۔ خیر شکم مادر میں تربیت ایک امر مشکل ہے، ناممکن نہیں۔ البتہ یہاں ہم بات کریں گے کہ معاشرے میں خاتون کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔ 

    ایک معاشرے کیلئے خاندان سب سے چھوٹی اکائی ہوتا ہے۔کئی خاندان مل کر ایک معاشرہ ترتیب دیتے ہیں۔ جیسے کسی محلہ میں آپ اکثر ایک جیسا ماحول دیکھتے ہیں۔ وہاں رہنے والے سب ہی ایکدوسرے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں اور سب ہی ایکدوسرے کے غموں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب ہم دیکھتے تو روز ہیں لیکن کبھی اس کے بارے میں تدبر اختیار نہیں کرتے۔ 

    چند محلے مل کر ایک گاؤں، قصبہ یا شہر بنتے ہیں، اور عمومی طور پر اسے معاشرہ کی تشکیل کہا جاتا ہے۔ کسی معاشرے کی چند خوبیاں یا خامیاں عام ہو جاتی ہیں۔ انہیں اس معاشرے کی خصوصیات کہا جاتا ہے۔ جیسے مہمان نوازی، مددگار لوگ، ہنس مکھ، غصیلے، بہادر، نڈر، بزدل، بدمعاش، بدقماش، مجرمانہ ذہنیت کے مالک، جرم سے نفرت کرنے والے، وغیرہ۔۔۔ یہی خصوصیات قومی سطح پر اس معاشرے کی پہچان بن جاتی ہیں۔

    کسی بھی معاشرے کی پہلی اور آخری اکائی چونکہ خاندان ہوتا ہے اس لئے خاندان کا محور جو ماں ہوتی ہے اور تربیت کا پہلا زینہ، وہی خاندان کی تربیت کو اچھا یا برا کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر وہ معاشرہ اس عورت کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ اگر خاتون کی کی گئی تربیت میں عورت کی عزت کرنا، بزرگوں کا ادب، بچوں پر شفقت کرنا، اردگرد کے لوگوں کی عزت کرنا اور معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت، تحمل مزاجی، صبر، شجاعت و بہادری سکھاتی ہو تو عام معاشرہ بھی انہی خصوصیات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو مرد کا معاشرہ کہا جاتا ہے۔ انتہائی معذرت کیساتھ، کوئی معاشرہ مرد کا نہیں ہوتا۔ ہر معاشرہ فقط عورت سے تشکیل پاتا ہے۔ 

    اب اگر کوئی مرد اچھا ہے تو اس کا سہرا اسی ماں کے سر ہے، لیکن اگر کوئی مرد بدقماش، نالائق، ہنجار، بیغیرت، بدکردار ہے تو اس کی ذمہ دار بھی وہی عورت ہے۔ کیونکہ یہ معاشرہ مرد کی بنیاد پر تشکیل نہیں پاتا بلکہ عورت اس کی بنیاد، عورت ہی اسکا ستون ہے۔ مرد اس عورت کا محافظ، غمگسار، ساتھی اور عام طور پر اس کی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے زندگی گزار دیتا ہے۔ 

    کسی کے بہکاوے میں آکر اپنے معاشرہ کو خراب کرنے کی بجائے اصل بنیاد کو سمجھنا لازم ہے۔ ہر مرد طاقتور ہونے سے بہت پہلے اپنی کمزوریوں کو ایک عورت کی گود میں ہی پروان چڑھاتے ہوئے طاقت و قوت حاصل کرتا ہے۔

    فیصلہ آپ کیجئے کہ عورت کا کردار کتنا اہم اور کس قدر مضبوط ہے۔ ان حالات میں ایک ماں کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ آج کی بیٹی کل کی ماں ہے، اس لئے اپنی بیٹی کی تربیت اور تعلیم پر خاص توجہ مرکوز کریں۔ اگر ایک بیٹی کی تعلیم و تربیت درست ہو جائے تو پوری نسل سنورتی ہے، کیونکہ بیٹیاں نسلوں کی امین ہوتی ہیں۔

    @pak4army

  • عُمرِ فاروق ابنِ خطاب تصی اللّہ تعالیٰ کے دور کی اسلامی ریاست تحریر:محمد رضوان۔

    عُمرِ فاروق ابنِ خطاب تصی اللّہ تعالیٰ کے دور کی اسلامی ریاست تحریر:محمد رضوان۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا 

    آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ مراد نبی ہیں آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا میں مانگا ہے 

    خلیفہ اور حکمرانوں کے کسی دور میں اسلامی ریاست اپنی مثالی شکل میں حاصل نہیں کی گئی ، جیسا کہ دوسرے خلیفہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں حاصل کیا گیا تھا۔ ، جس نے سالمیت اور مضبوطی ، رحم اور انصاف ، وقار اور عاجزی ، شدت اور سنیاست کو جوڑ دیا۔

    الفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دس سالوں میں تاریخ کی سب سے طاقتور سلطنت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ، لہذا اسلامی ریاست فارسی اور رومی سلطنتوں کے زوال کے بعد قائم ہوئی۔ فارس اور مشرق میں چین کی سرحدوں سے لے کر مغرب میں مصر اور افریقہ تک ، اور شمال میں بحیرہ کیسپین سے لے کر جنوب میں سوڈان اور یمن تک ، "عمر” رضی اللہ عنہ قابل تھے ان دو سلطنتوں کو ان عربوں کے ساتھ فتح کریں جو کہ کچھ عرصہ پہلے تک بدوین قبائل تھے ، ان کے درمیان اختلافات تھے اور معمولی وجوہات کی بنا پر جنگیں شروع ہوئیں ، قبائلی جنونیت سے متاثر ہو کر ، اور قبل از اسلام رسم و رواج اور فنا ہونے والے رسم و رواج سے اندھا ہو گیا۔ اس مذہب کی چھتری کے نیچے متحد ، جس نے اسے عقیدے کے بندھن اور بھائی چارے اور محبت کے بندھنوں سے جوڑ دیا ، اور تخیل سے بالاتر ہو کر جلال اور بہادری حاصل کی ، خدا نے اس کے لیے وہ کارنامہ تخلیق کیا جو اس کے راستے کی رہنمائی کرتا تھا ، اور اس کے بینر تک لے جاتا تھا اس نے دنیا پر غلبہ حاصل کیا ، اور دنیا کی ملکیت تھی۔

    عمر ابن الخطاب کی پیدائش اور پرورش

    عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبدالعزیز بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ مکہ میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش ہوئی اور ان کے والد الخطاب اپنی سختی کے لیے مشہور تھے۔ اور بے رحمی ، اور وہ ایک ذہین آدمی تھا ، اپنی قوم میں کھڑا ، بہادر اور جرات مندانہ تھا۔ ، اور "الخطاب” نے کئی عورتوں سے شادی کی ، اور ان کے بہت سے بیٹے تھے۔

    اور عمر رضی اللہ عنہ – اپنے بچپن میں – اس سے لطف اندوز ہوئے جو قریش سے ان کے بہت سے ساتھیوں نے نہیں کیا۔ انہوں نے پڑھنا لکھنا سیکھا اور تمام قریش میں صرف سترہ آدمی اس میں ماہر تھے۔

    اور جب عمر رضی اللہ عنہ بڑے ہوئے تو وہ اپنے والد کے اونٹوں کو چراتے تھے اور خود کو کسی نہ کسی کھیل میں لے جاتے تھے۔

    عمر رضی اللہ عنہ – اسلام سے پہلے "مکہ” کے دوسرے نوجوانوں کی طرح – تفریح ​​اور  مہنگے خوشبوں  کا عاشق تھا ، اور "عمر” نے مسلمانوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی دشمنی حبشہ کی پہلی ہجرت تک جاری رکھی ، اور "عمر” نے اپنے لوگوں سے ان کی علیحدگی پر کچھ دکھ اور غم محسوس کرنا شروع کیا۔ وطن کے بعد جب انہوں نے اذیت اور زیادتی برداشت کی ، اور "محمد” سے چھٹکارا پانے کا اس کا عزم طے ہو گیا۔ قریش کی طرف لوٹنا اس اتحاد کو جو اس نئے مذہب سے ٹوٹ گیا تھا! چنانچہ اس نے اپنی تلوار چھین لی ، اور وہاں گیا جہاں محمد اور اس کے ساتھی دار العقم میں جمع ہوئے تھے ، اور جب وہ راستے میں تھے تو وہ بنی زہرہ کے ایک آدمی سے ملے اور کہا: عمر تم کہاں گئے تھے؟ اس نے کہا: میں محمد کو قتل کرنا چاہتا ہوں اس نے کہا: کیا تم اپنے گھر کے لوگوں کے پاس واپس جا کر ان کے معاملات قائم نہیں کرو گے؟اور اس نے اسے اپنی بہن "فاطمہ بنت الخطاب” اور اس کے شوہر "سعید بن زید بن عمر رضی اللہ عنہ” اور "عمر” کے جلدی جلدی ان کے گھر آنے کی اطلاع دی اور وہ "خباب بن العراط” رضی اللہ عنہ ان سے سورہ "طہ” کی تلاوت کر رہے تھے ، جب انہوں نے اس کی آواز سنی تو "خباب” اور "فاطمہ” نے اخبار چھپا لیا ، تو عمر پریشان ہو گئے سعید پر چھلانگ لگائی اور اسے مارا ، اور اس کی بہن کو تھپڑ مارا ، اس کا چہرہ لہو لہان ہو گیا۔ اس کے کپڑوں کے بنڈلوں اور تلوار کے ٹکڑوں کے بارے میں ، اور اس سے کہا: کیا تم ختم نہیں ہو گئے ہو ، عمر ، جب تک خدا تمہیں ذلت اور سزا سے نیچے نہیں لاتا ، الولید بن المغیرہ کو کیا ہوا؟ عمر نے کہا: اے خدا کے رسول ، میں تمہارے پاس خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے لیے آیا تھا اور جو خدا کی طرف سے آیا تھا ، اس لیے خدا کے رسول اور مسلمان بڑے ہوئے ، عمر نے کہا: اے خدا کے رسول ، کیا ہم سچ پر نہیں ہیں؟ اگر ہم مرتے ہیں اور اگر ہم زندہ رہتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ، اس نے کہا:غائب کیوں؟ مسجد میں داخل ہونے تک مسلمان دو صفوں میں نکل گئے۔قریش نے جب انہیں دیکھا تو وہ ایک ڈپریشن میں مبتلا ہوگئیں جو کہ وہ نہیں کرتی تھیں اور یہ مشرکین کے خلاف مسلمانوں کی پہلی ظاہری شکل تھی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا نے اسے اس دور سے "الفرق” کیا

    فاروق عمر نے کال کے چھٹے سال ذی الحجہ میں اسلام قبول کیا ، اور اس کی عمر چھبیس سال ہے ، اور اس نے تقریبا for چالیس مردوں کے بعد اسلام قبول کیا ، اور "عمر” نے اس جوش کے ساتھ اسلام میں داخل کیا وہ اس سے پہلے لڑ رہا تھا ، اس لیے وہ اپنے قریش کی تبدیلی کی خبر پھیلانا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے مشرکین کے نقصان سے اپنے مذہب کے ساتھ بھاگتے ہوئے "مدینہ” کی طرف ہجرت شروع کر دی اور وہ چھپ کر اس کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سات ، پھر مزار پر آئے اور دعا کی ، پھر اس نے مشرکین کے گروہ کو بلایا: "جو شخص اپنی ماں کو سوگوار کرنا چاہتا ہے یا اس کا بیٹا یتیم ہے یا اس کی بیوی بیوہ ہے تو وہ مجھے اس وادی کے پیچھے پھینک دے۔”

    مدینہ میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اور "عتبان بن مالک” کے درمیان بھائی چارہ بنایا اور کہا گیا: "معاذ بن افرا” اور اس میں اس کی زندگی کا ایک اور پہلو تھا جس سے وہ واقف نہیں تھا مکہ میں ، اور بہت سے پہلو اور نئے پہلو ظاہر ہونے لگے ، "عمر” کی شخصیت سے ، اور وہ "شہر” میں عوامی زندگی میں نمایاں کردار بن گئے۔

    عمر ابن الخطاب بہت زیادہ ایمان ، تجرید اور شفافیت کی وجہ سے ممتاز تھے ، اور وہ اسلام سے انتہائی حسد اور سچائی میں دلیری کے لیے مشہور تھے ، کیونکہ وہ عقل ، حکمت اور اچھی رائے کے حامل تھے۔ خدا ، اگر ہم نے ابراہیم کی جگہ کو نماز کی جگہ لیا: تو آیت نازل ہوئی (اور ابراہیم کی جگہ سے نماز کی جگہ لے لو) [البقر:: 125] ، اور اس نے کہا ، "اے اللہ کے رسول ، تمہارا عورتیں ان میں نیک اور بدکار دونوں داخل ہوں گی۔

    اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے کہا جو ان کے بارے میں حسد میں جمع تھیں: (شاید اس کا رب اگر اس نے تمہیں طلاق دے دی تو اس کی جگہ تم سے بہتر بیویاں لے لیں گے) [التحریم : 5] تو یہ نازل ہوا۔

    شاید ان حالات میں عمر کی رائے سے متفق ہو کر وحی کا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے: "خدا نے عمر کی زبان اور دل کو سچ بنایا ہے۔”

    ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا گیا: "لوگوں پر کوئی بات نازل نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کے بارے میں کہا اور عمر ابن الخطاب نے اس کے بارے میں کہا ، لیکن قرآن اس طرح نازل ہوا جس طرح عمر ، خدا ہو۔ اس سے خوش ، کہا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور دوست "ابوبکر” نے مسلمانوں کی خلافت سنبھالی ، چنانچہ عمر ابن الخطاب ان کے وفادار وزیر اور مشیر تھے۔ ایک پردہ جو عظیم انسانی جذبات کے اس تمام بہاؤ کے پیچھے چھپا ہوا ہے جسے بہت سے لوگ ایک کمزوری سمجھتے ہیں جو مردوں ، خاص طور پر رہنماؤں اور رہنماؤں کے قابل نہیں ہے۔ دوست کی موت کے بعد مسلمان۔

    کمانڈر "عمر بن الخطاب” کی بیعت کا عہد ” ابوبکر الصدیق ” کی وفات کے اگلے دن مسلمانوں کا خلیفہ تھا [22 جمعہ الاخیرہ 13 ھ: 23 اگست 632 AD] .

    اور نئے خلیفہ نے پہلے لمحے سے ان کے سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا شروع کیا ، خاص طور پر لیونٹ میں مسلم افواج کی نازک جنگی پوزیشن۔جنہوں نے اسے دریائے فرات کے پل کو عبور کرنے کے خطرے سے خبردار کیا ، اور اسے مشورہ دیا کہ فارسیوں نے اسے عبور کیا کیونکہ دریا کے مغرب میں مسلم افواج کی پوزیشن بہتر ہے ، یہاں تک کہ اگر مسلمانوں نے فتح حاصل کی تو انہوں نے پل آسانی سے عبور کیا ، لیکن "ابو عبیدہ” نے ان کا جواب نہیں دیا ، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو جنگ میں شکست ہوئی پل ، اور ابو عبیدہ اور چار ہزار مسلم فوج کی شہادت

    "پل کی لڑائی” میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی تھی اس کے بعد المثنا بن حارثہ نے شکست کے اثرات کو مٹانے کی کوشش میں مسلم فوج کے حوصلے بلند کرنے کی کوشش کی اور پھر اس نے فارسیوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کام کیا۔ دریا کے مغرب کو عبور کیا ، اور انہیں دھوکہ دینے کے بعد انہیں پار کرنے کے لیے آگے بڑھانے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں پر جتنی جلدی فتح حاصل کی ، اس لیے المتھانہ نے انہیں اپنی افواج سے حیران کر دیا ، اور الج کے کنارے پر ذلت آمیز شکست دی۔ دریائے بویب ، جس کے لیے اس جنگ کا نام لیا گیا۔

    اس فتح کی خبر مدینہ میں الفاروق تک پہنچی ، چنانچہ وہ فارسیوں سے لڑنے کے لیے خود ایک فوج کے سربراہ کے طور پر باہر جانا چاہتا تھا ، لیکن ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ مسلمان رہنماؤں کے علاوہ کسی اور کو منتخب کرے فوج کی ، اور انہوں نے اسے "سعد بن ابی وقاص” نامزد کیا تو عمر نے اسے حکم دیا۔ لیوینٹ کی طرف جانے والی فوج پر ، جہاں اس نے "القادسیہ” میں ڈیرہ ڈالا۔

    سعد نے اپنے لوگوں کا ایک وفد فارسیوں کے بادشاہ بوروجرد III کے پاس بھیجا۔ اسے اسلام پیش کرنے کے لیے کہ وہ اپنی بادشاہی میں رہے اور اسے اس کے یا خراج یا جنگ کے درمیان انتخاب دے ، لیکن بادشاہ نے تکبر اور تکبر کے ساتھ وفد سے ملاقات کی اور جنگ کے سوا کسی چیز سے انکار کیا ، اس لیے دونوں ٹیموں کے درمیان جنگ ہوئی ، اور جنگ چار دن تک جاری رہی یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں "القادسیہ” میں مسلمانوں کی فتح ہوئی ، اور فارسی فوج کو ایک شکست ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلامی تاریخ میں فیصلہ کن لڑائیاں ، جیسا کہ اس نے عربوں اور مسلمانوں کو صدیوں تک فارسیوں کے کنٹرول میں رہنے کے بعد "عراق” واپس کر دیا ، اور اس فتح نے مسلمانوں کے لیے مزید فتوحات کا راستہ کھول دیا۔

    خلیفہ دوئم کی عظمت بیان کرتے وقت کم کوتاہی ہو تو اللّہ تعالیٰ معاف فرمائے 

    Twitter @RizwanANA97

  • بے روزگاری اور ہمارے نوجوانوں کی کیرئیر کونسلنگ تحیریر: وسیم سید 


    twitter : @S_Paswal

    ‏ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی بحران اور کم شرح نمو کا شکار ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق بے روزگاری کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے ماہرین معاشیات کے مطابق بے روزگاری کی موجودہ لہر خطرناک رجحان کی علامت ہے۔ بہت سے ماہرین معاشیات اس بارے میں اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں کل افرادی قوت میں سے بے روزگار افراد کی تعداد میں تیزی سے بڑہ رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ ملک میں اس وقت تقریبا 67 67 ملین افرادی قوت ہے۔ ان میں سے اگر 18.5 ملین لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں تو یہ تعداد 25 فیصد کے قریب ہو جاتی ہے اور بے روزگاروں کی اتنی بڑی تعداد کا اندازہ ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں لگایا گیا تھا۔ 

    ‏کیریئر کی بے چینی ، مستقبل کے عدم تحفظ کے جذبات ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ایک عام مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں ہم سب کو ک اس پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے نوجوان طلباء کو ڈگریاں مکمل کرنے کے بعد کچھ نہ کرنے پر دباؤ ، طعنہ یا طعنہ نہیں دینا چاہیے۔ یہ ان سب کو ذہنی طور پر پریشان کر تاہےل پاکستان میں جاب مارکیٹ سے نبرد آزما ہیں۔ لڑکیاں سماجی ایڈجسٹمنٹ اور ڈگریوں کے بعد شادی کر رہی ہیں۔ میں اس مرحلے سے گزرنے والے بہت سارے لوگوں سے ملتی  ہوں۔ زیادہ تر اس کا اظہار نہیں کرتے اور جب کچھ اظہار کرتے ہیں تو میں انہیں مندرجہ ذیل تجویز کرتا ہوں:

    ‏دوسروں کے ساتھ اپنے کیریئر کا موازنہ ڈپریشن لاتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ نوکری یا شادی کے لیے دیر کر رہے ہیں لیکن نہیں۔ ابھی آپ کا وقت نہیں آیا۔ موازنہ کرنا بند کریں۔ کوئی پہلے کیوں کما رہا ہے یہ آپ کے حالات اور حالات سے متعلق نہیں ہے۔ ذرا دیکھیں کہ کیا آپ محنت کا حصہ گنوا رہے ہیں اور اس کا محاسبہ کریں 

    ‏سماجی دباؤ ایک حقیقت ہے لیکن مایوس ہونے کے بجائے اس سے نمٹنا سیکھیں۔ ان لوگوں سے پرہیز کریں جو فطرت میں حوصلہ شکنی کر رہے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں جو تخلیقی ہیں ، آپ کی شخصیت کی تعریف کریں اور آپ کو لگتا ہے کہ وہ آپ کی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی فکر رکھتے ہیں۔ 

    ‏کمفرٹ زون سے باہر نکلیں اور اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔ یہ نہ صرف آپ کو کامیابی کے قریب لائے گا بلکہ آپ کو اس پریشانی سے بھی نجات دلائے گا کہ آپ اس وقت  کیریئر کی بربادی کے احساس کی وجہ سے گزر رہے ہیں۔ میں عام طور پر صلاح دیتی ہوں کہ مہارت کی طرف راغب ہوں ہنر کی ترقی انتہائی اہم ہے کیونکہ ہمارا ڈگری نصاب بدقسمتی سے اس کا احاطہ نہیں کرتا ہے۔ اپنے ٹولز سے متعلقہ ٹولز پر تجربہ حاصل کریں۔ اس کے لیے آن لائن مفت کورسز میں داخلہ لیں۔ 

    ‏پھر اہداف مقرر کریں اور ہر مقصد کو حصوں میں تقسیم کریں تاکہ اس کے لیے شیڈول کو حاصل کیا جاسکے۔ یہ مقصد کچھ بھی ہو سکتا ہے ، انٹرن شپ حاصل کرنا ، کل وقتی نوکری آنا یا مشاورت جو آپ کی دلچسپی کا ہو۔

    ‏ان لوگوں تک پہنچیں جو آپ کے موضوع سے متعلق ہیں اور اپنے مقاصد کے حصول میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایک اچھا پیشہ ور سماجی حلقہ بنائیں۔ لوگوں کو بار بار کال کرنے سے پریشان نہ کریں اور کسی کے پاس آتے وقت ہمیشہ نرم لہجہ رکھین اور احترام کریں۔

    ‏میرے خیال میں سب سے اہم حصہ ذاتی فلاح ہے۔ اپنی ذاتی اور خاندانی ضروریات کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کریں۔ باہر چہل قدمی کریں ، باہر جائیں ، کوئی گیم کھیلیں۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ گھومیں جبکہ کام کے اجزاء پر بھی توجہ دیں جو آپ کو اپنے مقصد کی طرف کرنے کی ضرورت ہے۔ہر ایک کے ساتھ نرمی اور حوصلہ افزائی کریں۔ اپنی مہارتوں کو فراخدلی سے پیش کریں۔ اپنے کاموں کا ایک پورٹ فولیو بنانے کی کوشش کریں یہاں تک کہ اگر آپ اپنے موضوع سے متعلقہ کام مفت میں دے رہے ہیں۔ اپنی سیکھنے اور مہارت کی پیشہ ورانہ پیشکش تیار کریں۔ اپنے آپ کو ان کمیونٹیز میں نمایاں کریں جو آپ سے متعلق ہیں۔ ایک بار جب آپ یہ کام اور ذاتی معمول طے کرلیں گے ، آپ دیکھیں گے کہ آپ کا پیشہ ورانہ سماجی حلقہ بڑھتا جائے گا اور آپ ایک پورٹ فولیو بنانا شروع کردیں گے۔ کیریئر میں تاخیر یا ڈپریشن اور پریشانی میں مبتلا ہونے کے لیے آپ کو کم وقت ملے گا۔ ہمیشہ ایسے لوگ رہیں گے جو آپ کر رہے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے آپ کیا کریں۔ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صرف ان لوگوں کی توقعات کا خیال رکھیں جو ان کے لیے اہم ہیں اور ان توقعات پر پورا اترنا ، یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ جذباتی اور نفسیاتی طور پر مضبوط رہیں اور اپنے آرام کے زون سے باہر مصروف معمولات کے لیے پرعزم رہیں۔ کمفرٹ زون ہمیشہ کمفرٹ زون سے باہر رہنے کے بعد آتا ہے۔ اور ایک آخری بات یاد رکھنا: عمر صرف ایک نمبر ہے۔ آپ کیریئر شروع کرنے میں کبھی دیر نہیں کرتے۔

  • پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    کیلیفورنیا کی ایک خاتون آرکنساس کے کریٹر آف ڈائمنڈس اسٹیٹ پارک گھومنے آئیں جہاں انہیں اتفاقی طور پر 4.38 قیراط کا پیلے رنگ کا ہیرا ملا جو کہ نایاب ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نورین ویریڈ اور اس کے شوہرمائیکل نے جب کریٹر آف ڈائمنڈس اسٹیٹ پارک سے ایک چمکتا ہوا پتھر اٹھایا تو انہیں بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ یہ 4.38 قیراط ہیرا نکل آئے گا۔

    آرکنساس اسٹیٹ پارکس کے حکام نے بتایا کہ گرینائٹ بے سے تعلق رکھنے والی خاتون نورین ریڈ برگ جمعرات کو اپنے شوہر کے ساتھ پارک کا دورہ کر رہی تھی اور تقریبا 40 منٹ تک کھلے میدان میں جواہرات کی تلاش میں تھیں جب انہیں سطح پر کوئی چمکدار چیز نظر آئی۔

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    خاتون نے کہا میں نہیں جانتی تھی کہ یہ ہیرا ہے، لیکن یہ صاف اور چمکدار تھا ، لہذا میں نے اسے اٹھا لیا خاتون کے شوہر مائیکل ڈائمنڈ ڈسکوری سینٹر لے گئے جہاں اس کی شناخت 4.38 قیراط پیلے رنگ کے ہیرے کے طور پر ہوئی۔

    پارک سپرنٹنڈنٹ ہاویل نے کہا کہ ہیرا جیلی بین کے سائز، ناشپاتی کی شکل اور لیمونیڈ رنگ کا ہے جب میں نے پہلی بار اس ہیرے کو خوردبین کے نیچے رکھ کر دیکھا، تو میں نے سوچا ، واہ ، کتنی خوبصورت شکل اور رنگ ہے۔

    پارک انتظامیہ کے مطابق یہاں آنے والوں کو جو کچھ ملتا وہ اس کے مالک ہوتے ہیں 1906 سے اب تک اس پارک سے75ہزار سے زائد ہیرے مل چکے ہیں اس پارک میں آنے والے کچھ لوگوں کو کبھی کچھ نہیں ملتا لیکن نورین ویریڈ کو ایک گھنٹے میں ہی ہیرا مل گیا۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    انتظامیہ نے اس سال 258 ہیرے رجسٹرڈ کیے جو اس پارک سے مختلف لوگوں کو ملے ہیں۔ یوم مزدور2020 پر ، ایک آدمی کو 9.07 قیراط کا ہیرا ملا جو اب تک کا دوسرا بڑا ہیرا تھا۔

    پارک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نورین اور مائیکل کے آنے سے قبل بارش ہوئی تھی لیکن جس دن وہ پارک آئے اس دن سورج نکلا ہوا تھا بارش سے ہیرے کے اوپر سے مٹی وغیرہ ہٹ گئی اور سورج کی کرنیں پڑنے سے وہ کافی زیادہ چمک رہا تھا یہ واضح نہیں ہے کہ ہیرے کی قیمت کیا ہے۔

    یہ911 ایکڑ پر محیط پارک امریکی ریاست آرکنساس کی پائیک کاؤنٹی میں ہے یہ پارک دنیا میں واحد مقام ہے جہاں سے ہیرے ملتے ہیں اور عام عوام کو یہاں جانے کی اجازت ہے۔

    دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں