Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    سگریٹ انڈسٹری کے وارے نیارے، تحریر: محمد شعیب

    پاکستان میں ہر تیسرا شخص سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ ساتھ ہی ہمارے ملک میں کچھ ایسے بھی ہیں۔ جن کے پاس تین وقت کا کھانا کھانے کی اسطاعت نہیں ہوتی۔ لیکن وہ سگریٹ ضرور پیتے ہیں۔ ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 90 لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے پاکستان میں سستے سگریٹس کی دستیابی۔

    ۔ مثال میں آپکو دے دیتا ہوں پاکستان میں 20 سگریٹ کے پیکٹ کی اوسط قیمت 38 روپے ہے یعنی تقریباً دو روپے کا ایک سگریٹ۔ اندازہ لگائیں کہ روٹی 10 روپے کی ہے۔ یعنی پاکستان میں روٹی سگریٹ سے پانچ گنا زیادہ مہنگی ہے۔ اگر ملٹی نیشنل برانڈز کی مہنگی سگریٹس کی بات کی جائے تو وہ بھی ایک سگریٹ دس روپے میں مل جاتا ہے یعنی مہنگا ترین سگریٹ بھی روٹی کی قیمت میں مل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کی عمر کے بارہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔ پھر نوجوان میں خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں یہ لت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ان میں تمباکو نوشی کی شرح 15 فیصد ہے۔ زیادہ تر مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ پھر ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے
    19 فیصد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ۔ فی الحال تمباکو نوشی سے صحت کے نظام پر اضافی بوجھ پڑنے کے علاوہ نوجوانی کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔ تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔

    ۔ پھر برطانیہ کی آکسفورڈ اکانومی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 78 ارب سے زائد سگریٹ کی اسٹکس اسموک کی جاتی ہیں۔ جن میں 33 ارب سگریٹ اسٹیکس غیر قانونی ہیں۔ ان غیر قانونی سگریٹ اسٹیکس میں سے ساڑھے 8 ارب اسٹکس اسمگل کی جاتی ہیں جبکہ تقریباً 33 ارب اسٹکس ملک میں غیر قانونی طور پر تیار ہوتی ہیں۔۔ پھر صحت کے حوالے سے دیکھیں تو اتنا تمباکو نوشی سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہوتا جتنے اخراجات ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔PAKISTAN INSTITUTE OF DEVELOPMENT ECONOMICSکی اسٹڈی کے مطابق تمباکو نوشی سے متعلقہ تمام بیماریوں اور 2019 میں ہونے والی اموات کی وجہ سے ہونے والے کل3.85بلین ڈالرز کے اخراجات ہوئے ۔ جو کہ پاکستان کے GDP کا 6.1 فیصد ہے۔
    جبکہ تمباکو نوشی کی کل ٹیکس collection120بلین روپے تھی جو کہ تمباکو نوشی سے ہونے والے خرچے کا تقریباً 20فیصد بنتا ہے ۔ پھر اس وقت پاکستان میں کینسر ، دل ، شوگر ، بلڈ پریشر اور سانس کی بیماریوں کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے ۔ جو کہ تقریباً 71فیصد بنتی ہے ۔ صرف ان بیماریوں کے علاج پر پاکستان 2.74بلین ڈالرز خرچ کرتا ہے ۔

    ۔ میں آپکو خطے کے ممالک اور مختلف اشیاء کے ساتھ comparisonکرکے بتاتا ہوں تاکہ آپکو بات سمجھ میں آجائے ۔۔ اس وقت پاکستان میں گولڈ فلیک نامی سگریٹ سستا ہے اور تقریباً 50
    سینٹ میں پیکٹ دستیاب ہے جبکہ یہی سگریٹ بھارت میں چار ڈالر، بحرین میں 4.16 اور متحدہ عرب امارات میں 4.36 ڈالر میں دستیاب ہے۔ اب مہنگے سگریٹ کی قیمت دیکھیے۔ گولڈ لیف سگریٹ کا پیکٹ پاکستان میں 1.13 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1.90،بھارت میں 2.48، سعودی عرب میں 3.47 اور سری لنکا میں 6.71 ڈالر میں دستیاب ہے۔ یعنی پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا میں یہ سگریٹ تقریباً پانچ ڈالر زیادہ مہنگا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں 2019 سے 2021 تک گوشت 32 فیصد، چکن 168 فیصد، انڈے 83 فیصد، دودھ 51 فیصد تک مہنگے ہوئے لیکن اسی عرصہ میں سگریٹ ایک فیصد بھی مہنگے نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ تمباکو کی صنعت بہت ٹیکس دیتی ہے ۔ صرف سکے کا ایک رخ ہے ۔ ۔ پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح کا پانچ گنا سختی سے تجویز کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں میں 60 فی صد افراد سگریٹ نوشی سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں تاہم ان میں سے محض30 فیصد ہی کو ترک تمباکو نوشی کے مراحل میں ضروری سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں صرف 23 ممالک میں تمباکونوشی چھوڑنے کے خواہش مندوں کا ان کی حکومتیں ساتھ دیتی ہیں۔

    ۔ اب عالمی ادارہ صحت کی طرف سے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہاگیا ہے کہ وہ ٹوبیکو فری ماحول قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے لئے لوگوں کو شعور فراہم کریں، سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مندوں کا ساتھ دیں ، انھیں ایسے ہتھیار فراہم کریں کہ وہ اسے بہ آسانی ترک کرسکیں۔۔ دنیا بھر میں چھ لاکھ افراد ایسے بھی ہیں جو سگریٹ کے دھوئیں سے بیمار ہوتے ہیں حالانکہ وہ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ ان کے قریب کوئی دوسرا فرد سگریٹ پیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ہلاک ہونے والے 70لاکھ افراد تمباکو نوش ہوتے ہیں جبکہ دس لاکھ بیس ہزار افراد بلواسطہ طور پر تمباکونوشی سے متاثر ہوکر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔۔ ویسے سگریٹ چھوڑنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ دراصل ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں تو ترک سگریٹ نوشی مشکل نہیں ہے۔ زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں جو سگریٹ نہیں پیتے۔۔ جب سگریٹ کی طلب ہو تو خود سے عہد کریں میں قوت ارادی کا مضبوط ہوں ،میرا فیصلہ ہے میں سگریٹ نہیں پیوں گا ۔ اس کے ساتھ خود ترغیبی کے ذریعے خود کو ہی سگریٹ کے خلاف لیکچر دیں۔ ۔ مراقبہ ، یوگا اور پابندی سے ورزش کرنے سے سگریٹ نوشی سے نجات مل جاتی ہے کیونکہ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے ۔ لیکن سب سے اہم آپ کی قوت ارادی ہی ہے ۔

    ۔ ایک تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق سے تمباکو نوشی کے عادی افراد کیلئے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ چاہے آپ اسے چھوڑنے کی کوشش نہ بھی کر رہے ہو۔ جو افراد آغاز پر سگریٹ نوشی سے گریز کرنے کی کوشش شروع کرتے ہیں ان کی کامیابی کا کافی زیادہ امکان ہوتا ہے۔ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے۔ ۔ یاد رکھیں آپ کے پھیپھڑوں میں ایسی ’حیران کن‘ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے نقصان کی مرمت کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو سگریٹ نوشی کو ترک کرنا پڑے گا۔ اگر معاشرے کے سنجیدہ اور باشعور طبقہ نے اس طرف توجہ نہ کی تو شاید کوئی گھر اس تباہی سے نہ بچ سکے۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ ڈاکٹرز ، پروفیسرز، ٹیچرز ، علماء سب کے سب عوامی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کریں۔ تعلیمی اداروں میں مباحثے اور سیمینار منعقد کروائے جائیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی سگریٹ اور دیگر منشیات کے تباہ کن اثرات سے عوام کو آگاہ کرے۔۔ ایسے نعرے اور سلوگن عام کئے جائیں کہ سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے۔ نشہ کے عادی افراد سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جائے اور ان کا علاج کرکے انھیں زندگی کی طرف واپس لوٹایا جائے۔ ہمارا دین بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی ، اس نے ساری انسانیت کو بچالیا۔

  • الیکٹرانک میڈیا کا دوہرا معیار تحریر:بابر شہزاد

    الیکٹرانک میڈیا کا دوہرا معیار تحریر:بابر شہزاد

    میڈیا کسی بھی ملک کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے کیونکہ معاشرے کے نکھار اور بگاڑ میں میڈیا کا کلیدی کردار ہوتا ہے کہ جب تک یہ لوگ بلا کسی حیل و حجت کے معاشرے کی برائیوں کی نشان دہی کرتے رہتے ہیں تب تک اس اہم ستون کی اہمیت برقرار رہتی ہے لیکن جیسے ہی یہ تفرقہ شروع کر دیں اور چاپلوسی پر اتر آئیں تو اپنی ساکھ اور اہمیت کھو دیتے ہیں۔

    میں اپنی اس بات کو کچھ سادہ مثالوں سے ثابت کروں گا کہ کیسے کچھ نام نہاد صحافیوں نے صحافت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کے ایجنڈے پر کام کیا۔ ن لیگی دور حکومت میں عائشہ گلالئی جو کہ تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بن کر اسمبلی میں براجمان تھیں تو نہ جانے کس کی ایماء پر اس نے اس وقت من گھڑت کہانی میڈیا کے سامنے پیش کر دی کہ کیسے عمران خان اور اس کے موبائل پر پیغام بھیجتے ہیں اور اس کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس اس کی پریس کانفرنس کرنے کی دیر تھی کہ میڈیا کی بھیڑیں بغیر کسی ثبوت کے عمران خان پر چڑھ دوڑے اور روزانہ رات کے ٹاک شوز میں عدالتیں لگتیں اور روزانہ عمران خان کو سزا دینے کے متلاشی نظر آتے۔ اور تو اور ایک بڑے تگڑے صحافی نے یہ تک کہہ دیا کہ اس نے گلالئی کے موبائل میں عمران خان کے پیغامات دیکھے ہیں جس کو دیکھنے کے بعد وہ س نتیجے پر پہنچا ہے کہ گلالئی کے الزامات میں صداقت ہے۔ ہر طرف ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی پگڑی اچھالی جاتی لیکن نہ تو کوئی ثبوت عدالتوں میں پیش کیا گیا اور نہ ہی کوئی سزا ہوئی اور سب ڈرامہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گیا لیکن ان نام نہاد صحافیوں نہ کبھی شرم آئی کہ اپنے کیے ہوئی پروگرامز پر معافی ہی مانگ لیتے اور نہ ہی گلالئی اس کے بعد منظر عام پر آئیں کہ اس خاتون نے پیسوں کی خاطر اپنی عزت تک داؤ پر لگا دی۔ یہ کوئی پہلا واقع نہیں تھا کہ مخالفین نے عمران خان کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے کیونکہ اس سے پہلے یہودی ایجنٹ کا نعرہ بھی لگایا گیا اور ریحام خان کی قسط بھی سب کو یاد ہے کہ کیسے مطلقہ ہونے کے بعد اس نے عمران خان کی کردار کشی کی اور اب تک کر رہی ہے لیکن کمال کا حوصلہ اور ہمت ہے عمران خان میں کہ کبھی مخالفین کو ان کی طرح جواب نہیں دیا۔ عائشہ گلالئی اور ریحام خان نہیں انتہائی غلیظ الزامات لگائے اور روزنہ کی بنیاد پر لگاتیں تھیں لیکن خان صاحب نے کبھی ان کو جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی ان کی زبان میں جواب دینے سے منع کیا۔

    اب آ جاتے ہیں اور تازہ واقع کے اوپر کہ کچھ دن قبل سابقہ ن لیگی گورنر اور پاکستان مسلم لیگ ن کا اہم رہنما زبیر عمر کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں گورنر صاحب کی خواتین کے ساتھ رنگرلیوں کو ہر کسی نے دیکھا کہ کیسے اپنی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ ان کو نوکری اور پتہ نہیں کیا کیا جھانسا دے کر اپنے بستر کو گرم کرتے رہے۔ بہت ہی چونکا دینے والی ویڈیوز تھیں اور میڈیا کے لیے بہت بڑی خبر بھی تھی لیکن چونکہ یہ عمران خان نہیں تھا لہذا نہ تو کوئی ٹاک شو ہوا اور نہ اس بار کوئی بھی صحافی ان غریب لڑکیوں کی آواز بنا جو اس درندے نما انسان کی حوس کا نشانہ بنیں۔

    اگر خدانخواستہ یہ ویڈیوز عمران خان یا کسی تحریک انصاف کے رہنما کی ہوتیں تو اب تک ان نام نہاد صحافیوں نے لڑکیوں کی مشک کو پہچانتے ہوئے کئی پروگرام کر لیے ہونے تھے لیکن چونکہ یہ ن لیگی رہنما کی ویڈیوز ہیں تو نہ تو کوئی لڑکی کے گھر تک پہنچا اور نہ ہی کسی صحافی نے زبیر عمر سے سوال پوچھنے یا اس کے خلاف پروگرام کرنے کی جسارت کی بلکہ کچھ خاتون صحافیوں سمیت بعض صحافیوں نے تو باقاعدہ اس کا ساتھ دیا کہ سوشل میڈیا صارفین بہت تنقید کر رہے تھے تو کچھ صحافی حضرات باقاعدہ طور پر زبیر عمر کے ترجمان کے طور پر اس کا دفاع کر رہے تھے جو کہ انتہائی حیران کن بات ہے۔

    تو قارئین آپ نے دیکھا کہ ہمارے میڈیا اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں کیسے منافقت کی جاتی ہے اور صرف وہی خبریں مرچ مصالحے ڈال کر سنائی جاتی ہیں جن کے بدلے میں بہت سے مالی فوائد میسر ہوں۔ صحافت ایک مشکل پیشہ ہے ان لوگوں کے لیے جو محنت کرتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کرتے ہیں لیکن آج کل کے صحافیوں نے اس پیشے کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ وہ صحافی صرف اور صرف پیسے کو اپنے خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 

    Twitter handle: @babarshahzad32

  • پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام تحریر :محمد احمد

    پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام تحریر :محمد احمد

    برصغیر پاک و ھند پر صلیبی سامراج کے قبضے کے تحت Colonialism کا بہت اثر رہا عام رعایا اور خواص کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا جو کہ قیام پاکستان اور ھندوستان کے بعد بھی جاری رہا اور آج بھی اسکے اثرات دونوں ممالک پر بدرجہ اتم موجود ہیں۔
    برطانیہ کا رائج شدہ پارلیمانی جمہوری نظام ھند و پاک میں بھی اپنایا گیا جو کہ اپنی اچھی یا بری حالت میں چل رہا ہے ۔عوام کو اپنے شہروں میں مختلف جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈر کو ووٹ دینا ہوتا ہے جسکی بنیاد پر وہ پارلیمنٹ میں جاکر اپنی پارٹی کے شخص کو ووٹ کرکے لیڈر آف ہاوس منتخب کرتے ہیں اور وہی ملک کا وزیر اعظم بنتا ہے۔
    یہ نظام پوری طرح ڈلیور نہیں کرپا رہا ۔
    کیوں ؟ اسکی چند اہم وجوہات ہیں
    1۔ ایک پارٹی کا سربراہ نیک ایماندار ہے لیکن اس شخص نے اپنا ٹکٹ کسی ایسے شخص کو دیا ہے جو چور ہے رسہ گیر اپنے علاقے میں مشہور ہے اور لوگوں پر اسکا خوف ہے تو وہ electable کہلاتا ہے اور وہ جیت جاتا ہے ۔ ایسے میں وہ شخص پارلیمنٹ میں پہنچ گیا اس نے اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے عوام کو کچھ نہیں ملنا ۔
    2۔ کوئی ایسا پارٹی لیڈر جو کرپٹ ہے چور ہے لیکن اسکا ٹکٹ ہولڈ نیک اور ایماندار ہے ۔ اب کیا اس ٹکٹ ہولڈر کو ووٹ دیا جائے جسکی وجہ سے کرپٹ شخص حکمران بن سکتا ہے ؟ ظاہر ہے یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔
    3۔ اس نظام میں electable کافی اہمیت رکھتے ہیں جو الیکشن سے پہلے چلنے والی ہوا کا رخ دیکھ کر اسکے ساتھ جانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور جیتنے کے بعد ہمیشہ اقتدار میں رہ کر اپنا لوٹ مار تھانہ کلچر کرپشن رشوت کا بازار گرم رکھتے ہیں اور حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں ۔ انکو ہم electable مافیا کہہ سکتے ہیں۔
    4۔ پاکستان جیسے ملک میں وڈیرہ شاہی اور اثر رسوخ والے امیر اور جدی پشتی سیاسی لوگوں کو زیادہ پذیرائی دی جاتی ہے۔ کوئی ایسا شخص جو کہ پڑھا لکھا ہو اور سماج میں کچھ بہتری لانے کے لیے عملی سیاست میں حصہ لینا چاہتا ہو تو اسکے لیے اول تو کسی پارٹی کے اندر جگہ بنانا بہت مشکل ہے اور اگر سفید پوش شخص ہے تو اور بھی زیادہ مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ سیاست کو وقت دے یا اپنے روزگار یا کاروبار کو ۔ ایسا شخص آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے تو جیتنا ناممکن ہے کیونکہ الیکشن جیتنے کے لیے ذاتی ووٹ کے ساتھ ساتھ پارٹی ووٹ بھی چاہیے ہوتا ہے۔
    5۔ کسی ایسے شخص کو جوکہ صاف ستھری شخصیت والا کم پیسے والا ہو اسکو ٹکٹ مل جائے اور اسکے مقابلے میں کوئی بدمعاش غنڈہ کو ٹکٹ مل جائے تو لوگ ووٹ کسی شریف آدمی کی بجائے بدمعاش غنڈے کو دینا پسند کرتے ہیں کیونکہ اسکا علاقے میں خوف ہوتا ہے اور وہ تھانے میں پرچہ ، زمین پر قبضہ اور دیگر دھمکیوں کی وجہ سے لوگوں پر اثر رکھتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے ڈیروں پر کریمنل اور کرپٹ حضرات کا اکثر ڈیرہ رہتا ہے جو کہ اس سیاست دان کے لیے ہر اچھا برا کام بھی کرتے ہیں اور علاقے کا SHO بھی اس سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ ایسی پریکٹس اکثر دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں بہت زیادہ کی جاتی ہے جوکہ پاکستان کا بیشتر حصہ ہے۔
    6۔ الیکشن سے پہلے ووٹ خریدے جاتے ہیں فی شناختی کارڈ 1000 روپے کا ووٹ کا ٹرینڈ تو کافی علاقوں سے رپورٹ ہوا ہے ۔ الیکشن سے پہلے 10 سے 15 ہزار لوگ ایسے غریب لوگ جو کہ ووٹ بیچنا چاہتے ہیں ضرور مل جاتے ہیں جو کہ 1000 روپے نقد لیکر حلف دیتے ہیں کہ ہم ووٹ ڈالیں گے ۔ اب اس پری پول دھاندلی کا کوئی سدباب نہیں ہے۔
    7 ۔ ملک کے اکثر بالخصوص دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں ہر محلے قصبے یونین کونسل پر ایک ایسا شخص موجود ہوتا ہے جو اس علاقے کا سو کالڈ بڑا ہوتا ہے وہ اس علاقے کی ہر خوشی غمی میں شریک رہتا ہے اور انکے تمام انتظامی و دیگر حکومتی مسائل میں انکا ساتھ دیتا رہتا ہے گلی محلے کے چھوٹے موٹے کاموں میں لوگوں کی ھیلپ کرتا رہتا ہے( مقامی MNA یا MPA کی مدد اور تعاون سے ) تو الیکشن دنوں میں وہ اپنے علاقے میں ٹکٹ ہولڈر سے پیسے لیکر جلسے بھی منعقد کرواتا ہے اور الیکشن دنوں میں ووٹ کے نام پر پیسہ اور مراعات بھی لیتا رہتا ہے۔ وہ شخص اس علاقے کی قسمت کافیصلہ کرتا ہے اور اکثر لوگ اسکے کہنے پر بھی ووٹ ڈالتے ہیں۔
    8۔ ہمارے سامنے بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ الیکشن دنوں میں امیر "ترین” لوگ کیسے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں یونین کونسل لیول پر اثر رکھنے والوں کو جو زیادہ بڑے ہوتے ہیں انکو 1300 CC گاڑیاں ، ان سے کم اثر رکھنے والوں کو 800 cc گاڑیاں اور جانفشانی سے کام کرنے والے لوگوں کو موٹرسائیکل تک گفٹ کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ زور لگا کر الیکشن لڑیں اور ووٹر کو جیسے تیسے منائیں اور الیکشن کے دن لوگوں کو نکال کر پولنگ بوتھ لیکر جائیں اور جب شام کو رزلٹ آئے تو اپنے ٹکٹ ہولڈر کو اپنے علاقے یا محلے یا پولنگ بوتھ کا رزلٹ دے سکیں اور اقتدار میں آنے کے بعد مزید قریب آکر مزید مزے کرسکیں ۔
    9۔ بےشمار علاقے بالخصوص اندرون سندھ میں ایسے ہیں جنکا تعلیمی معیار اتنا ہے یا انکو آگہی اتنی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے صدر کا نام تک نہیں جانتے ہوتے اور الیکشن کے دن پر انکو گاڑیوں میں بھر بھر کر لے جایا جاتا ہے اور کہا جاتا کہ بس اس نشان پر ٹھپہ لگانا ہے اور وہ بغیر کسی چوں چراں کے ٹھپہ لگا کر آتے ہیں ۔ اور ساری زندگی نعرے لگاتے گزر جاتی ہے کہ فلاں زندہ ہے اور فلاں جیوے۔ سالہا سال سے یہ پریکٹس جاری ہے اور انکی ابتر حالت کبھی بھی نہیں بدلی نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ علاج کی سہولیات اور نہ ہی بچوں کو سکول مہیا ہیں۔
    10۔ ہمارے پارلیمانی نظام سے فائدہ اٹھانے والے حکمرانوں نے ایک بات بہت پہلے سے سمجھ لی تھی کہ پاکستان کو خواندگی اور آگہی کی طرف نہیں لیکر جانا ۔ عوام کی جہالت اور کم علمی ہی انکو لیڈر بنانے میں سب کلیدی کردار ادا کرے گی ۔ جو شناختی کارڈ کے عوض ووٹ بیچ سکیں ، جو فقط بریانی کی پلیٹ پر ووٹ ڈال سکیں، جو کرپٹ حکمرانوں کے بارے میں یہ رائے رکھیں کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو یے ، جو خوف اور دہشت کی وجہ سے ووٹ دے سکیں ، جو علاقے پر اثر رسوخ رکھنے کی وجہ سے ووٹ دے سکیں ایسے لوگ یقینا” پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نہیں ہوسکتے ۔ اسلیے جان بوجھ کر لوگوں کو ان پڑھ رکھا جاتا رہا تاکہ انکے اقتدار کو طول مل سکے۔

    11۔ ہر 3 سال بعد جب سینیٹ کا الیکشن آتا ہے تو یہی MNA اور MPA اپنی بولی لگواتے ہیں، اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو زیادہ پیسے خرچ کرتا ہے اور زیادہ اچھی بولی لگاتا ہے ۔

    پاکستان کو صدارتی نظام زیادہ سوٹ کرتا ہے جس میں عوام کو اپنے شہر کے کرپٹ یا ایماندار شخص کو ووٹ دیکر اپنے ملک کی قسمت کا فیصلہ انکے ہاتھ میں نہیں دینا ہوتا جو پارلیمنٹ میں جاکر اپنا ووٹ بیچ کر نجانے کس کو ہم پر مسلط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے عوام براہ راست لیڈر کا انتخاب کرتی ہے جو کہ اصل جمہوریت ہے اور بقول مرحوم مولانا ڈاکٹر اسرار احمد صدارتی نظام اسلامی شرعی نظام سے قریب تر اور پارلیمانی نظام سے بہتر ہے ایسا شخص جسکو عوام نے ڈائریکٹ ووٹ دیکر منتخب کیا وہی شخص عوام کی اصل نمائندگی کا حقدار ہے اور وہی اس مملکت خداداد اور عوام کے لیے بہتر کام کرسکتا ہے۔ مفلوج و ناکارہ پارلیمانی نظام کے تحت بہتری کی گنجائش بہت کم ہے اس نظام کو کرپٹ ایلیٹ جو کہ پیسے کی بدولت اقتدار کے ایوانوں کا حصہ بنتی ہے اپنے کاروبار اپنے خاندان کے لیے کام کرتی ہے ۔ کتنے ہی سیاستدان ایسے آئے جو اقتدار میں آنے سے پہلے تو کم امیر تھے اقتدار میں آنے کے بعد سپر امیر ہوگئے کاروبار جائداد گاڑیاں اتنی زیادہ بنا لیں بیرون ملک جائیداد بنا لی بچے ملک سے باہر رہنے اور پڑھنے لگے۔ بڑے بڑے شوگر و انڈسٹری مافیا ، رئیل سٹیٹ مافیا ،قبضہ گروپ مافیا پیسے کی وجہ سے الیکشن جیت کر پارلیمان میں آئے اور اپنے کرپشن کا دفاع بھی کیا اور مزید فائدہ اور مراعات بھی حاصل کیں۔

    پاکستان میں پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام ہونا چاہئے ۔
    @EyeMKhokhar

  • مہنگائی قابو کرنے کا آسان طریقہ تحریر زوہیب خٹک

    مہنگائی قابو کرنے کا آسان طریقہ تحریر زوہیب خٹک

    عمران خان صاحب اپنی مشکلات میں اضافہ مت کریں اور سیدھا سیدھا امریکہ کے سامنے لیٹ جائیں، اسرائیل کو تسلیم کریں، بھارت کی شان میں قصیدے پڑھنا شروع کر دیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جائیں 10 ارب ڈالر قرضہ لیں 5 ارب سے عیاشی کریں اور ہمیں 5 ارب کی سبسڈی دیں۔ ملک جائے بھاڑ میں قرضہ چڑھتا ہے تو چڑھنے دیں کونسا آپ نے وہ قرض ادا کرنا ہے

    آپ کے بہادر فیصلے چند گھنٹے اس قوم کو یاد رہتے ہیں بس۔ ہم غیرت سے جینا تو چاہتے ہیں لیکن اسکی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔خدا کے لئے ہمیں غیرت سے جینے کا درس دینا چھوڑ دیں۔ غیرت کی ہمیشہ ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ہم ادا کرنے کو تیار نہیں.

    خان صاحب ہم روشن خیال نہیں راشن خیال ہیں۔ ہم دماغ سے نہیں پیٹ سے سوچنے والی عوام ہیں ۔ آپکی جرات کیسے ہوئ ہمیں خوداری کا سبق پڑھانے کی ہم ہرگز اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔۔
    ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتے ضرور ہیں لیکن ہم سے اس پر عمل نہ ہوگا کیونکہ ہمیں بس دو وقت کی روٹی چائیے اس لیے مہربانی کریں ہمیں آزمائش میں نا ڈالیں۔ ہم نہ تو غیرت سے جینا چاہتے ہیں ، نہ ہمیں کسی اور چیز کی پرواہ ہے۔ ہاں ہم سے بس نعرے لگوا لیں اسرائیل نامنظور، غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔ لیکن غیرت سے جینا ہمیں نہیں قبول۔

    ہم بدنصیب لوگوں کو حقائق سمجھ نہیں آ رہے۔ ہمیں نواز اور زرداری جیسے فرعون ہی سوٹ کرتے ہیں۔ جو بیرونی قرضوں میں سے چند سکوں کی سبسڈی عوام کو دے کر باقی اپنے اکاؤنٹس بھرنے کے لیے واپس لے جاتے ہیں اور یہ عوام کہتی ہے کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔ جو عوام خود لٹنے برباد ہونے ملک گروی رکھوانے غلامی برداشت کرنے کو تیار ہے انہیں آپ غیرت کے سبق پڑھا رہے ہیں۔؟؟

    دنیا کی فاتح قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں وہ ریاستِ مدینہ ہو یا سلطنت عثمانیہ مٹھی بھر مسلمان جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں پہننے کو اچھا لباس نہیں رہنے کو پکا مکان نہیں وہ غیرت کے اوپر کھڑے ہوتے ہیں تو اللہ انہیں چند سالوں میں آدھی دنیا کی حکمرانی عطا کر دیتا ہے ان عرب کو بدوؤں کے ہاتھوں سلطنتِ روم اور فارس ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں یہ آپ کے پڑوس میں چند ہزار طالبان نے غیرت کے اوپر پوری دنیا سے ٹکر لے لی بیس سال بھوک و افلاس برداشت کی ایک ایک گھر سے دس دس جنازے اٹھائے ہزاروں کو تو کفن دفن تک نصیب نہیں ہوا لیکن وہ ڈٹے رہے لڑتے رہے او بِلآخر فتح یاب ہوئے۔

    اس عوام کو سلطان صلاح الدین ایوبی سلطان محمد فاتح خالد بن ولید جیسے عظیم فاتح تو چاہئیے ہیں لیکن خود انہوں نے رتی برابر غیرت ایمانی نہیں دکھانی۔ جان لیں کہ عظیم مقاصد کے لیے عظیم قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں مشکلات تکلیفیں رکاوٹیں آتی ہیں ان حالات سے لڑ کر ہی قومیں عظیم بنتی ہیں دنیا کی تاریخ میں کسی قوم نے بھی بغیر تکلیفوں کے عروج نہیں پایا۔ ابھی تو حالات اور خراب کیے جائیں گے جو آپ نے امریکہ بہادر کو آنکھیں دکھائی ہیں وہ آپ پر اقتصادی پابندیاں لگائے گا ہر محاذ پر آپ کو ضرب لگانے کی کوشش کرے گا عوام نے تب آپ کے ساتھ کھڑے ہونا تو دور خود آپ کو گریبان سے پکڑ کر اقتدار سے نکال دینا ہے اور بخوشی غلامی کا توق گلے میں ڈال کر کہیں گے ہمارے اجداد بھی غلام تھے ہم بھی غلام رہیں گے بے شک علامہ اقبال کہتے رہے ہوں ۔ "اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی”۔ لیکن ہمیں روٹی چاہئیے پھر چاہے غلامی کی ہی کیوں نا ہو۔ کیونکہ غیرت سے پیٹ نہیں بھرتا نا ہم غیرت سے جینے کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    خضرؑ وموسیؑ   کا  واقعہ ! تحریر: محمدآصف شفیق

    سورۃ کہف جس کی تلاوت ہم ہر جمعہ کو کرتے ہیں اسی سورۃ میں  حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰ  علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے اس حوالے سے کچھ تفصیل اس حدیث مبارکہ میں بھی ہے آئیں آج اس پر غورو خوض  کرتے ہیں

      عبداللہ بن محمد السندی، سفیان، عمرو، سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جو خضر سے ہم نشین ہوئے تھے، بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے، وہ کوئی دوسرے موسیٰ ہیں، تو ابن عباس نے کہا کہ (وہ) اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے، ہم سے ابی بن کعب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ موسیٰ علیہ السلام (ایک دن) بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ زیادہ جاننے والا میں ہوں، لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا، پھر اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ تم سے زیادہ جاننے والا ہے، موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے اے میرے پروردگار! میری ان سے کیسے ملاقات ہوگی؟ تو ان سے کہا گیا کہ مچھلی کو زنبیل میں رکھو اور مجمع البحرین کی طرف چل پڑو، جب اس مچھلی کو نہ پاؤ تو سمجھ لینا کہ وہ بندہ وہیں ہے، موسیٰ علیہ السلام چلے اور اپنے ہمراہ اپنے خادم یوشع بن نون علیہ السلام کو بھی لے لیا، اور ان دونوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی، یہاں تک کہ جب پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں نے اپنے سر (اس پر) رکھ لئے اور سوگئے، مچھلی زنبیل سے نکل گئی اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا، بعد میں (مچھلی کے زندہ ہو جانے سے) موسیٰ اور ان کے خادم کو تعجب ہوا، پھر وہ دونوں باقی رات اور ایک دن چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ بے شک ہم نے اپنے اس سفر سے تکلیف اٹھائی اور موسیٰ جب تک کہ اس جگہ سے آگے نہیں گئے، جس کا حکم دیا گیا تھا، اس وقت تک انہوں نے کچھ تکلیف محسوس نہیں کی، ان کے خادم نے دیکھا تو مچھلی غائب تھی، تب انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کا واقعہ کہنا بھول گیا، موسیٰ نے کہا یہی وہ (مقام) ہے، جس کی تلاش کرتے تھے، پھر وہ دونوں اپنے قدموں پر لوٹ گئے، پس جب اس پتھر تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی کپڑا اوڑھے ہوئے یا یہ کہا کہ اس نے کپڑا اوڑھ لیا تھا، بیٹھا ہوا ہے موسیٰ نے سلام کیا تو خضر علیہ السلام نے کہا اس مقام میں سلام کہاں ؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں (یہاں کا رہنے والا نہیں ہوں میں) موسی  علیہ السلام ٰہوں، خضر علیہ السلام نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟، انہوں نے کہا ہاں، موسیٰ نے کہا کیا میں اس امید پر تمہارے ہمراہ رہوں کہ جو کچھ ہدایت تمہیں سکھائی گئی ہے، مجھے بھی سکھلا دو، انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، اے موسیٰ! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر (حاوی) ہوں کہ تم اسے نہیں جانتے وہ اللہ نے مجھے سکھایا ہے اور تم ایسے علم پر حاوی ہو جو اللہ نے تمہیں تلقین کیا ہے کہ میں اسے نہیں جانتا، موسیٰ  علیہ السلام  نے کہا انشاء اللہ! تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے، اور میں کسی بات میں تمہاری  نافرمانی نہ کروں گا، پھر وہ دونوں دریا کے کنارے کنارے چلے ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی، اتنے میں ایک کشتی ان کے پاس (سے ہو کر) گذری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو، خضر علیہ السلام پہچان لئے گئے اور کشتی والوں نے انہیں بے اجرت بٹھا لیا پھر (اسی اثنا میں) ایک چڑیا آئی، اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے ایک چونچ یا دو چونچیں دریا میں ماریں، خضر علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ میرے علم اور تمہارے علم نے اللہ کے علم سے اس چڑیا کی چونچ کی بقدر بھی کم نہیں کیا ہے، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ کی طرف قصد کیا اور اسے اکھیڑ ڈالا، موسیٰ کہنے لگے، ان لوگوں نے ہم کو بے کرایہ (لئے ہوئے) بٹھا لیا اور تم نے ان کی کشتی کے ساتھ برائی کا) قصد کیا، اسے توڑ دیا، تاکہ اس کے لوگوں کو غرق کر دو، خضر علیہ السلام نے کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر صبر نہ کر سکو گے، موسیٰ نے کہا جو میں بھول گیا، اس کا مواخدہ مجھ سے نہ کرو اور میرے کام میں مجھ پر تنگی نہ کرو، راوی کہتا ہے کہ پہلی بار موسیٰ سے بھول کر یہ بات اعتراض کی ہوگئی، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر چلے، تو ایک لڑکا ملا جو اور لڑکوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام اس کا سر اوپر سے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھ سے اس کو اکھیڑ ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ ایک بے گناہ بچے کو بے وجہ قتل کردیا، خضر علیہ السلام نے کہا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر میری باتوں پر ہرگز صبر نہ کر سکو گے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس پہنچے، وہاں کے رہنے والوں سے انہوں نے کھانا مانگا، ان لوگوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، پھر وہاں ایک دیوار ایسی دیکھی جو گرنے کے قریب تھی، خضر نے اپنے ہاتھ سے اس کو سہارا دیا اور اس کو درست کردیا، موسیٰ نے ان سے کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے، خضر بولے کہ (بس اب) یہی ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم کرے، ہم یہ چاہتے تھے کہ کاش موسیٰ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کا (پورا) قصہ ہم سے بیان فرماتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 125           حدیث مرفوع      مکررات  16   متفق علیہ 11

    باقی واقعہ قرآن کریم  کی سورۃ الکھف میں کچھ اس طرح سے ہے 

    اس نے کہا :بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں ، جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جودریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر (بے عیب)کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ رہا وہ لڑکا ، تو اس کے والدین مومن تھے ، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ ٔ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مد فون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔(78-82سورت الکھف)

    @mmasief

  • میڈیکل طلباء کا دھرنا تحریر: محمد عمران خان

    میڈیکل طلباء کا دھرنا تحریر: محمد عمران خان

    پوری دنیا میں میڈیکل کی فیلڈ جن میں ایم بی بی ایس اور ڈینٹسٹ کی فیلڈ میں داخلہ لینے کے لیے ایم کیٹ یا عام زبان میں انٹری ٹیسٹ کو پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد میرٹ کی بنیاد پر طلباء اہل ہوتے ہیں ان کو متعلقہ فیلڈز میں پرائیویٹ یا سرکاری اداروں میں داخلہ ملتا ہے۔ داخلہ ملنے کے بعد وہ وہاں سے میڈیکل ڈاکٹر کی پانچ سالہ ڈگری مکمل کرتے ہیں۔

    پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی میڈیکل فیلڈ میں داخل لینے کے لیے میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر سال لاکھوں طلباء ٹیسٹ پاس کرکے میڈیکل کی فیلڈ میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں سے وہ اپنی ڈگری مکمل کرکے پروفیشنل ڈاکٹر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ہر سال کی طرح امسال بھی میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے لیے کم و بیش دو لاکھ طلباء و طالبات نے میڈیکل کالج کا ایڈمیشن ٹیسٹ دیا۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے اس دفعہ نیا تجربہ کرتے ہوئے ٹیپس نامی کمپنی کو ٹیسٹ لینے کا ٹھیکہ دیا جس نے آن لائن ٹیسٹ لیا۔ یادرہے ٹیپس وہ کمپنی ہے جس کو میڈیکل کے طلباء و طالبات کے داخلے فارمز موصول ہونے کے بعد ٹھیکہ دیا گیا۔ جب ٹیسٹ شروع ہوا تو ٹیپس کی ویب سائٹ ہی ڈاؤن ہوگئی اور طلباء کو شدید ذہنی ٹینشن میں الجھا دیا گیا۔ اکثر جگہوں پر ویب سائٹ نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ جب امتحانات کے بعد نتائج کا اعلان کیا گیا تو دو لاکھ طلباء و طالبات میں سے صرف 5-7 فیصد طلبہ کامیاب قرار پائے۔ فیل ہونے والوں میں بورڈز کے ٹاپرز بھی شامل تھے۔ سرکاری آفیسران اور دو ممبران قومی اسمبلی کے بچے بھی ٹیسٹ میں فیل ہوگئے جس کی ناکامی کا ذمہ دار ٹیپس کے سسٹم کو قرار دیا گیا۔ پورے ملک کے طلبہ اس ناانصافی پر سراپا احتجاج ہوگئے اور شہر شہر مظاہرے شروع کردیے۔ سینکڑوں طلباء و طالبات نے اسلام آباد میں پاکستان میڈیکل کمیشن کے مرکزی دفتر کا رخ کیا اور حکام سے ٹیسٹ دوبارہ لینے کی درخواست کی۔ کوئٹہ میں احتجاجی طلبہ اور پولیس میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ایک طالبہ شہید اور درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے۔ پولیس نے متعدد طلبہ کو گرفتار بھی کیا جن کو بعد ازاں حکومت کی ہدایت پر رہا کردیا گیا۔ مگر تب تک پورے ملک میں مظاہرے زور پکڑ چکے تھے۔ بچوں کے ساتھ ان کے والدین بھی احتجاج میں شامل ہوگئے جو صرف ایک ہی مطالبہ کررہے تھے کہ ٹیسٹ دوبارہ لیا جائے۔ سوشل میڈیا پر مسلسل ٹاپ ٹرینڈ رہنے کے بعد میڈیا نے بھی اس معاملے کو کوریج دینا شروع کردی۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے شنوائی نہ ہوئی اور طلباء و طالبات نے ان کے دفتر کے سامنے دھرنا دے دیا۔ ایک طلبہ یونین کے رہنما چوہدری عرفان یوسف احتجاجی طلبہ کے لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور تمام مطالبات اور دھرنے کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔

    جب چار روز کے دھرنے سے کوئی بات نہ بنی تو دھرنے کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر شفٹ کردیا گیا۔ یادرہے یہ وہی ڈی چوک ہے جہاں موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 2014 میں اکٹھے دھرنا دیا تھا۔ ڈی چوک پر تین دن گزرنے کے بعد بھی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ تب عرفان یوسف نے اگلے لائحہ عمل کے طور پر وزیر اعظم ہاؤس کی طرف پرامن مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ جیسے ہی طلباء و طالبات نے مارچ شروع کیا پولیس نے شدید لاٹھی چارج کرکے درجنوں طالب علموں کو زخمی کردیا۔ تب میڈیا نے معاملے کو کوریج دی تو سینیٹ اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا۔ سابق ڈپٹی سپیکر سینیٹ سلیم مانڈوی والا، خرم نواز گنڈا پور سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک سمیت دیگر پارلیمنٹیرینز نے دھرنے میں شرکت کی اور احتجاجی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اتنی بڑی کوریج ملنے کے باوجود بھی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا پالیسی بیان سامنے نہیں آیا۔ نائب صدر پاکستان میڈیکل کمیشن علی رضا نے معاملے پر سٹوڈنٹس کو جھوٹا قرار دے کر جان چھڑا لی۔ مگر احتجاجی طلبہ کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ کئی طلبہ تنظیمات، ڈاکٹروں کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے دھرنے میں شرکت کرکے کے احتجاجی طلبہ سے اظہار یکجہتی کیا۔ اگلے لائحہ عمل کا اعلان 4 اکتوبر کو دینے کا اعلان سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ کی ہیلتھ کمیٹی نے نوٹس لیا اور معاملے پر انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ 4 اکتوبر کو ہی معلوم ہوگا کہ احتجاجی طلبہ کیا لائحہ عمل پیش کرتے ہیں۔

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • ملک میں نفاذ اسلام کا موضوع  تحریر :جواد خان یوسفزئی

     ایک زمانے میں بہت زیر بحث رہتا تھا۔ آج کل اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسلام پسند جماعتیں ایک تو کافی غیر فعال ہیں دوسرے ان کی توجہ امور خارجہ پر زیادہ رہتی ہے۔ دیگر جماعتیں اسلام کی بات کرتی ہیں لیکن بغیر سوچے سمجھے۔ عام آدمی کے ذہن میں مملکتی سطح پر اسلام کا مطلب غیر مسلموں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے آگے کچھ نہیں۔
    اسلام کا مقصد انسانی معاشرے کی ایک خاص نہج پر تعمیر ہے۔ معاشرے کی تعمیر کے لیے اخلاقی تعلیمات کے علاوہ قوانین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام کا بھی اپنا ایک مفصل قانونی نظام ہے جسے ملک کا نظام بنانا ہی نفاذ اسلام کی بنیاد ہے۔
    1977 اور 1985 کے دوران اسلامی قوانین کے نفاذ کی کچھ کوششیں ہوئیں۔ ان میں زکواۃ و عشر آرڈنینس کو چھوڑ کر باقی کچھ مخصوص جرائم کی سزاؤں کے بارے میں ہیں جنہیں حدود کہا جاتا ہے۔ قتل، زنا، بہتان تراشی اور چوری۔
    ظاہر ہے ان چار جرائم کے علاوہ بھی بے شمار جرائم معاشرے میں ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا قانونی نظام انگریزی قانون پر عمل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مندرجہ بالا نافذ شدہ قوانین سزائیں بھی بہت مخصوص حالات میں قابل نفاذ ہیں اور باقی حالات میں ان جرائم پر قانون تقریباً خاموش ہے۔
    یہ درست ہے کہ فقہ میں حدود کے علاوہ دیگر جرائم پر سزاؤں کی بھی گنجائش ہے اور انہیں اصطلاحی طور پر "تعزیرسیاسیہ” کہا جاتا ہے یعنی ایسی سزائیں جن کا تعین حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان کا تعین قاضی (عدالت) کی صوابدید ہے۔ لیکن پورے قانونی نظام کی تفصیلات کو عدالت کی صوبدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ تحریری قانون بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو قانون کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا کیونکہ قانون میں یکسانیت بنیادی چیز ہوتی ہے۔
    ایسا بھی نہیں کہ تعزیرات کو مکمل طور پر عدالت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ فقہاء نے بہت سے جرائم کے لیے سزائیں تجویز کی ہیں، جن سے مدد لی جاسکتی ہے۔ ان کے علاوہ ایک مثال ترکی کی عثمانی سلطنت کی ہے جہاں "مجلۃ الاحکام العدلیہ” کے نام سے کچھ اسلامی قوانین کو مدون شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ ہمارے ہندوستان میں عالمگیر بادشاہ کے زمانے میں فتاوےٰ کا ایک مجموعہ مدون ہوا تھا۔
    پاکستان میں اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کے لیے سب سے پہلے ایک واحد قابل عمل مجموعہ ترتیب دینا ضروری ہے۔ ظاہر ہے پاکستان میں حنفیوں کی اکثریت ہے تو یہ کام حنفی فقہ کے اندر رہتے ہوئے کرنا پڑے گا۔ اس مجوعے میں ہر معاملے کے لیے ایک واحد قانون بتانا ہوگا جس کے مطابق عدالت نے فیصلہ دینا ہے۔ قران و حدیث نیز قیاس و اجماع کے دلائل اور ائمہ کے اختلاف نیز فتاویٰ کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ اکیڈیمک باتیں ہیں جن سے عدالت کو کوئی سروکار نہیں ہوچاہیے۔ اسے ایک حتمی قانونی دفعہ چاہیے ہوتا ہے جس پر وہ فیصلہ دے سکے۔
    تعزیرات کے علاوہ دیوانی قوانین کو بھی اسی طریقے سے مدون کیا جائے۔
    شخصی قوانین (personal laws) کے مجموعے ہر فقہی مکتب کے لیے الگ الگ مرتب کیے جاسکتے ہیں۔
    یہاں یہ مت کہیں کہ ہمارے پاس پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں۔ قوانین کا موجود ہونا اور انہیں زمانے کی ضروریات کے مطابق ترتیب دے کر نافذ کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو لوگ بہت پہلے آرام سے بیٹھ جاتے۔ ہر دور میں کتابیں لکھنے اور فتاوےٰ تحریر کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔
    آخری بات یہ کہ اس وقت کسی اجتہاد وغیرہ کی نہیں بلکہ پہلے سے موجود فقہی قوانین کو مدون کرنے کی ضرورت ہے۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • موجودہ تعلیمی نظام اور مستقبل تحریر: عثمان

    موجودہ تعلیمی نظام اور مستقبل تحریر: عثمان

    میرے چھوٹے بھائی عرفان اور رضوان اللّه کے فضل و کرم سے آٹھویں جماعت پاس کر چکے تھے اور 

    نویں جماعت میں داخلہ کروانے میں گھر والے تاخیر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ابّا جان کی طرف سے دونوں بھائیوں کو کسی اعلیٰ سکول میں تعلیم دلانے کی زمیداری مجھے دی گئی تھی۔ تو میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ شہر کے سکولوں کا دورہ کرنے نکل پڑا

    شہر بھر کے سکول پھرنے کے باد چند ہی ایسے سکول تھے جن کا ماحول مناسب تھا ورنہ تو سکولوں میں نا تو صفائی تھی نا ہی پینے کا صاف پانی اور نا ہی تربیت یافتہ اساتذہ ۔بہت سے سکولوں کے اساتذہ اور طلبہ سے بات کرنے کا بھی اتفاق ہوا لیکن میرا دل و دماغ مطمئن نہیں ہوئے-

    پھر جب شام کے وقت ابّا  کو تمام دن کا احوال بتایا جس پر ابّا کہنے لگے بیٹا کل آپ میرے دوست اور آپ کے استاد محترم محمّد اکبر کے پاس چلے جانا ان سے مشورہ کر لینا وہ بہتر مشورہ دیں گے ۔

    محمّد اکبر استاد ہیں (اسلامک سائنس کالج شہدادپور ) کے 

    اتوار کے دن ابّا ہی کے ساتھ استاد محترم  کے پاس پہنچے  چائے پی ابّا نے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی مشورہ دیں ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کیاجائے۔

    استاد محترم نے کہا آپ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں یا صرف نام کی سند دلوانی ہے۔

    ابّا نے کہا بھئی پڑھانا چاہتے ہیں, استاد نے کہا کے شہر کے نامی گرامی اسکولوں کے بجائے اسلامک سائنس کالج  میں داخلے کا مشورہ دیا ۔اگلے ہی دن بھائیوں  کو لے کر اسلامک سائنس کالج پہنچا تو وہاں بچوں کا سکول یونیفارم دیکھ کر حیران ہوگیا وہ پینٹ شرٹ نہیں بلکے قومی لباس شلوار قمیض میں تھے۔ ہم جیسے ہی کلاس میں داخل ہوئے بچوں نے اسلام و علیکم کہاں 

    ہم نے جواب میں وعلیکم اسلام کہا ۔کچھ ہی دیر تک اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں صرف دنیاوی تعلیم ہی نہیں بلکہ دین ِاسلام کی تربیت بھی دی جاتی ہے تہذیب یافتہ طلباء و استاد تھے اور ساتھ ہی مسجد تھی پینے کے صاف پانی کی سہولت تھی پارک، کھیل کا میدان تھا ۔

    دونوں بھائیوں کا ٹیسٹ ہوا  تو وہاں موجو استاد نے کہا کے آپکے بھائی کو ہم نویں جماعت سے ارو دوسرے کو آٹھویں جماعت سے داخلہ دیں گے کیونکہ اس کی بنیادی تعلیم کمزور ہے ۔

    ہم نے وہاں کے استاد کا شکریہ ادا کیا اور چل دیے۔

    ابّا جان کو سارا احوال بتایا اور استاد محمّد اکبر کو بھی تمام صورت حال سےآگاہ کیا ۔پھر 

    میں نے استاد محترم سے پوچھا کہ میرے بھائیوں کی بنیادی تعلیم کمزور کیسے ہو سکتی ہے جبکہ ایک  جماعت سے آٹھ  جماعت تک اچھی گریڈنگ لیتے آئے ہیں ۔

    استاد نے کہا کہ صرف آپکے بھائی کو نہیں بلکہ ہمارے تمام تعلیمی اداروں میں سب کی بنیادی تعلیم کمزور ہے ۔وجہ اچھے اور قابل اساتذہ کا نہ ہونا ہے ۔ ہمارے ضلع سانگھڑ  تحصیل شہداپور میں 250 ایسے اسکول ہیں جن میں دس جماعت پاس طلبہ و طلبات کو ایک استاد کا درجہ دے دیا جاتا ہے جو میری نظر میں غلط ہے ۔

    ایک دس پاس جماعت کی طلبہ جس کی بنیادی تعلیم کمزور ہو وہ کیسے بچوں کو ادب پڑھائے گی جو ایک  قابل استاد میں ہوتی ہے ؟

    اور کمزوری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل ایک بچے کو پانچ سبجیکٹ پڑھاتے ہے جوکہ بچہ ایک بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ پاتا 

    ہمارے دور میں بچے کو پہلے ایک سبجیکٹ پر محنت کروائی جاتی تھی اور بچہ لگن کے ساتھ پڑھتا تھا۔مگر آج ٹیوشن الگ اسکول الگ بچہ ٹھیک سے نہیں پڑھ پاتا ۔

    ہونا یہ چاہے تھا کہ بچے کو اسلامیات اردو اور آسان انگلش اچھے سے پڑھائی جائے جو کہ یہ سب ماحول آج بھی اسلامک اسکول میں ہے وہاں کے بچوں میں ادب اخلاص صاف لباس پانچ وقت نماز کی پابندی بہترین مستقبل کی شروعات ملتی ہے یہاں کے بچے امتحانات میں نقل نہیں کرتے بچے اس قابل ہیں کے خود سے پڑھ لیتے ہیں ۔

    میرے ذہن میں ایک بات آئی استاد محترم یہ دس ، بارہ پاس والے لڑکے لڑکیوں کو آخر کیا ضرورت پڑتی ہے جو وہ لوگ آگے پڑھنے کے بجائے یہاں کے اسکول میں بچوں کو پڑھانے لگ جاتے ہیں ؟

    استاد نے بتایا کہ  ہمارے سندھ کا  تعلیمی نظام و دیگر وسائل کی وجہ سے

     12 جماعت پاس طلبہ و طالبات آگے پڑھ نہیں پاتے آپ کے سروے کے مطابق 20 ایسے کالج جس میں طلبہ کو بورڈ کے امتحانات میں نکل کی تمام تر سہولیات دی جاتی ہے اور طلبہ آسانی سے پاس ہو جاتے ہے ۔

    کالج میں طلبہ کا مائنڈ سیٹ پہلے سے ہی بنا دیا جاتا ہے کہ آپ کو نقل مل جائے گی آپ  پاس ہیں 

    اسی طرح طلبہ و طالبات کو پتا ہے کہ ہم پاس ہیں 

    تعلیمی ادارے اب پہلے جیسے نہیں رہے تمام اسکول و کالجوں کو اب صرف بزنس کے طور پر چلایا جاتا ہے 

    بچوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے  ۔

    پاکستان کا 85 فیصد طبقہ پڑھ رہا ہے مگر کیا پڑھ رہا ہے ؟

    ‏‎ارباب اختیار اس بارے  میں بھی سوچئے اور  بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والے ان مافیاز کے خلاف ایکشن لے؛

    علم بہت بڑی دولت ہے!

    یقین نہ آئے تو تعلیمی اداروں کے مالکان کو ہی دیکھ لو ۔

    @UsmanKbol

  • ہندوستان کی سب سے بڑی جغرافیائی کمزوری تحریر اصغر علی                                                 

    ہندوستان کی سب سے بڑی جغرافیائی کمزوری تحریر اصغر علی                                                 

    تحریر اصغر علی                                                 

                                                 
    اگر آپ ہندوستان کے نقشے کو دیکھیں تو اس کے شمال مشرق میں بنگلہ دیش نیپال بھوٹان اور چین کے درمیان ایک تنگ سی راہداری ہے اس جگہ کا نام سیلیگوری ہے اور اس راہداری  کو اسی جگہ کے نام پر رکھا کیا ہے اس کو سیلیگوری کوریڈور کہتے ہیں یہ تنگ سی رہداری مرکزی بھارت کو اپنی شمال مشرقی  8 ریاستوں سے ملاتی ہے یہ راہداری اتنی  تنگ ہے ہے کہ ایک جگہ پر اس کی چوڑائی صرف 17 سے 20 کلومیٹر رہ جاتی ہیں  اگر کوئی اس راہداری کو بند کر دے تو بھارت کا اسکی ان آٹھ اہم ریاستوں سے  زمینی راستہ کٹ جاتا ہے  اور سمندر سے جانے کے لیے اسے خلیج بنگال کا سہارا لینا پڑے گا اس کے بعد یہ راستہ بنگلہ دیش اور برما سے ہو کر گزرتا ہے بنگلہ دیش سے اس کے تعلقات اچھے نہیں اور برما سے بھی یہی حالات ہے اس لیے بھارت کی یہ سب سے بڑی  جغرافیائی کمزوری کھلائی جاتی ہے بھارت کی ان آٹھ ریاستوں میں اسام اروناچل پردیش سکم منی پور میگھالے ناگا لینڈ تیری پورا اور میزو رام شامل  ہیں ان آٹھ ریاستوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ رقبے کے لحاظ سے یہ ریا ستیں نیوزی لینڈ اور برطانیہ جیسے بڑے ملک سے بھی زیادہ رقبے پر محیط ہے جبکہ ان آٹھ ریاستوں کی آبادی  سارے چار کروڑ لوگوں پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ اس کوریڈور کو کو بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری سمجھا جاتا ہے اور اس لیے لیے ماہرین اس کو انڈیا کی چکن نک یعنی مرغی کی گردن کہتے ہیں اگر ہم آپ کو بتاتے ہیں کے اس کوریدور کو بھارت کی سب سے بڑی کمزوری کیوں سمجھا جاتا ہے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت چین کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اس کی بڑی وجہ صبح دونوں ملکوں کے درمیان میں موجود بارڈر میکموہن لائن ہیں جس سے چین نے کبھی اپنا مستقل بارڈر نہیں مانا کیونکہ اسی بارڈر پر موجود ایک ریاست جس کا نام اروناچل پردیس ہے اس کو کو چین بھارت کا نہیں بلکہ اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین اروناچل پردیش ہمیشہ آپنے نقشہ میں ہی دکھاتا ہے اروناچل پردیش فیس بک بھارت کی آن 8 شمال مشرق میں واقع ریاستوں میں سے ایک بہت بڑی ریاست ہے اس ریاست کا رقبہ لگ بھگ آسٹریا اور اردن کے برابر ہے ایسی ریاست کے حصول کے لیے دونوں ملکوں میں جنگ بھی ہو چکی ہے یہ جنگ 1962 میں ہوئی تھی اور اس جنگ میں چین کا پلڑا بھاری رہا اس کے بعد انیس سو سڑسٹھ میں بھی بھارت کی ریاست سکم اور تبت کے بارڈر پر بھی جھڑپیں ہو چکی ہیں ہنی تنازعات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان حالات کافی کشیدہ رہتے ہیں  اروناچل پردیش میں موجود بھارتی فوج کو سپلائی لائن اسی تنگ راستے سلیگوری کوریڈور سے ہی ہوتی ہے  اگر چین اور بھارت میں جنگ ہو جاتی ہے تو سلیگوری کوریڈور جیسے تنگ علاقے کا دفاع کرنا بہت مشکل ہے اس کے برعکس کس چین کا سپلائی لائن کاٹنا بہت آسان ہے اسی وجہ سے یہ بھارت کی سب سے بڑی دفاعی کمزوری ہے اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بھارت کو اپنے زیر کنٹرول اور علاقوں میں سے اروناچل پردیش سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے بھارت نے اس کوریڈور کو بچانے کے لیے ادھر اپنی دفاعی پوزیشن انتہائی مضبوط کی ہوئی ہے ہے ادھر اس نے دو جنگی اڈے بنا رکھے ہیں  اور جنگ ہونے کی صورت میں بھارت کو نیپال اور بھوٹان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھنے پڑیں گے  کیونکہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے سے یہ کوریڈور بلاک کرنا چین کے لیے بہت مشکل ہوگا چین اپنی فوج اس کوریڈور سے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر تبت میں اتار چکا ہے ہے اور وہ اپنی ریاست اروناچل پردیش جس کو اپنا حصہ اور اپنے نقشوں میں دکھاتا ہے اس کے لئے کبھی بھی  ہندوستان پر حملہ کر سکتا ہے اور یہی کمزوری ہندوستان کو آٹھ ریاستوں سے دور کر سکتی ہے                                        

    Written by Asghar Ali

    Twitter id @Ali_AJKPTI

  • جنگِ روم اور وفاتِ معتمد تحریر  منصور احمد قریشی ( اسلام آباد)

    جنگِ روم اور وفاتِ معتمد تحریر منصور احمد قریشی ( اسلام آباد)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سنہ ۲۵۷ میں میخائیل بن روفیل قیصر قسطنطنیہ کو اس کے ایک رشتہ دار نے جو صقلبی کے نام سے مشہور تھا ۔ قتل کر کے خود تختِ سلطنت پر براجمان ہوا۔ سنہ ۲۵۹ میں رومیوں نے ملطیہ پر فوج کشی کی ۔ مگر شکست کھا کر واپس گئے ۔ سنہ ۲۶۳ میں رومیوں نے قلعہ کرکرہ متصل طرسوس کو مسلمانوں سے چھین لیا ۔ سنہ ۲۶۴ میں عبدالّٰلہ بن رشید بن کاؤس نے چالیس ہزار سرحدی شامی فوجوں کے ساتھ بلادِ روم پر چڑھائی کی اول فتح حاصل کی ۔ مگر بعد میں عبدالّٰلہ بن رشید گرفتار ہو کر قسطنطنیہ پہنچا ۔ 

    سنہ ۲۶۵ میں رومیوں نے عام اذفہ پر حملہ کیا ۔ چار سو مسلمان شہید اور چار سو گرفتار ہوۓ ۔ اسی سال قیصرِ روم نے عبدالّٰلہ بن رشید کو معہ چند جلد قرآن مجید کے احمد بن طولون کے پاس بطور ہدیہ روانہ کیا ۔ سنہ ۲۶۶ میں جزیرہ صقلیہ کے متصل رومیوں اور مسلمانوں کے جنگی بیڑوں میں لڑائی ہوئی۔ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کی کئی جنگی کشتیاں رومیوں نے اپنے قبضے میں لے لیں ۔ باقی ماندہ نے ساحل صقلیہ میں جا کر قیام کیا ۔

    احمد بن طولون کے نائب شام نے اسی بلادِ روم پر ایک کامیاب حملہ کر کے بہت سامانِ غنیمت حاصل کیا ۔ سنہ ۲۷۰ میں رومیوں نے ایک لاکھ فوج کے ساتھ مقام قلمیہ پر جو طرسوس سے چھ میل کے فاصلے پر ہے ، حملہ کیا ۔ مازیار والی طرسوس نے رومیوں پر شب خون مارا اور ستر ہزار رومی مقتول ہوۓ۔ بطریق اعظم گرفتار ہوا اور صلیب اعظم بھی مسلمانوں کے قبضے میں آ گئی ۔ سنہ ۲۷۳ میں مازیار والی طرسوس نے رومیوں پر حملہ کیا اور کامیاب واپس آیا۔ سنہ ۲۷۸ میں مازیار والی طرسوس اور احمد جعفی نے مل کر بلادِ روم پر حملہ کیا ۔ حالتِ جنگ میں منجنیق کا ایک پتھر مازیار کو آ کر لگا ۔ وہ زخمی ہو کر لڑائی موقوف کر کے واپس ہوا اور راستے میں مر گیا ۔ مسلمانوں نے طرسوس میں لا کر دفن کیا ۔ اگرچہ عالمِ اسلام میں سخت ہلچل مچی ہوئی تھی اور جا بجا خانہ جنگی برپا تھی ۔ تاہم رومیوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں کوئی عظیم الشان کامیابی حاصل نہ ہو سکی ۔ 

    خلیفہ معتمد علی الّٰلہ بن متوکل علی الّٰلہ نے ۲۰ رجب سنہ ۲۷۹ میں وفات پائی اور سامرا میں مدفون ہوا ۔ معتصم بالّٰلہ بن ہارون الرشید کے وقت سے خلفاء عباسیہ کا دارالخلافہ سامرا چلا آتا تھا ۔ معتمد علی الّٰلہ نے سامرا کو چھوڑ کر بغداد میں رہنا اختیار کیا اور پھر بغداد ہی دارالخلافہ ہو گیا ۔ سامرا کو چھوڑنے اور بغداد کو دارالخلافہ بنانے ہی کا نتیجہ تھا کہ ترک سردار جو خلافت اور دربارِ خلافت پر حاوی و متسلط تھے اُن کا زور یک لخت ٹوٹ گیا ۔ دارالخلافہ کی تبدیلی بھی معتمد کے بھائی موفق کی عقل و تدبیر کا نتیجہ تھا ۔

    معتمد کے زمانے میں دولت و حکومت کی قوتیں بالکل کمزور ہو چکی تھیں ۔ اُمراۓ سلطنت میں جیسا کہ ایسی حالت میں ہونا چاہیۓ تھا نااتفاقی ، عداوت اور ایک دوسرے کی مخالفت خوب زوروں پر تھی ۔ ممالکِ محروسہ کے ہر حصے اور ہر سمت میں فتنہ و فساد کا بازار گرم تھا ۔ لوگوں کے دل سے خلیفہ کا رعب بالکل مٹ چکا تھا ۔ جہاں جس کو موقع ملا اُس نے ملک دبا لیا ۔ صوبہ داروں نے خراج بھیجنا بند کر دیا ۔ کوئی آئین اور کوئی قانون تمام ملک میں رائج نہ رہا ۔ ہر شخص نے جس ملک پر قبضہ کیا اپنا ہی قانون جاری کیا ۔ رعایا پر بڑے بڑے ظلم ہونے لگے ۔ عاملوں نے آزادانہ جس طرح چاہا رعایا کو تختہ مشق ظلم بنایا ۔ بنو سامان نے ماوراء النہر پر ، بنو صفار نے سجستان و کرمان خراسان اور ملکِ فارس پر حسن بن یزید نے طبرستان و جرجان پر زنگیوں نے بصرہ و ایلہ و واسط پر ، خوارج نے موصل و جزیرہ پر ابن طولون نے مصر و شام پر ۔ ابن اغلب نے افریقہ پر قبضہ کر کے اپنی اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔

    Twitter Handle : @MansurQr