Baaghi TV

Category: بلاگ

  • برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

    برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

             

    کبھی برطانیہ کا دعوی تھا کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر اس کا قبضہ ہے دنیا کے 150 ملکوں پر برطانوی راج قائم تھا اور برطانوی سلطنت  میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور آج حال یہ ہے کہ برطانیہ کا رقبہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے کچھ زیادہ ہے کیا ان سب چیزوں نے برطانیہ کی طاقت کو کم کر دیا ہے تو اس کا جواب ہے ہاں برطانیہ کا سوپر پاور اسٹیٹس تو ختم ہوگیا ہے لیکن آج بھی امریکہ میں سکیورٹی کونسل کا مستقبل ممبر ہونے کی وجہ سے سے برطانیہ کسی بھی مسئلے کو ویٹو کر کر اس مسئلہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے ہے برطانیہ کے پاس ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہے برطانیہ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے کسی جگہ پر فوج بھیجنی ہو یا کسی بھی مسئلہ کے اوپر کوئی ڈبیٹ کرنی ہو تو وہ برطانیہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا بھلے ہی برطانیہ رقبہ کے لحاظ سے سے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تھوڑا سا بڑا ہے لیکن اس کا دفاعی بجٹ اور فوجی بجٹ کتنا ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ برطانیہ کا فوجی بجٹ 61 ارب ڈالر ہوتا ہے یعنی پاکستان کے فوجی بجٹ سے چھ گناہ زیادہ برطانوی ایئر فورس کے پاس دو سو سے زیادہ طیارے ہیں اور برطانوی بحریہ کے پاس کسی بھی طیارے کو منٹوں میں تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن اس کا سب سے خطرناک ہتھیار ایٹمی آبدوزیں ہیں یہ آبدوزیں ہر وقت برطانیہ کے ارد گرد چکر لگاتی رہتی ہیں اور اس کا دفاع کرتی رہتی ہیں دوسری طرف طرف اگر غور کریں تو اسلحہ تیار کرنے میں برطانیہ کا دنیا میں چھٹا نمبر ہے برطانوی معیشت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور جی سیون کا اہم رکن بھی ہے کچھ سال پہلے برطانیہ نے یونان اور آئرلینڈ کو دیوالیہ ہونے سے بھی بچایا تھا برطانیہ کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کہ امریکہ ایشیا اور افریقہ کے درمیان میں واقع ہے جس کا اس کو یہ فائدہ ہے کہ دنیا کے ان تین براعظموں میں ہونے والی کسی بھی قسم کی کوئی تجارت برطانیہ کے بنا نہیں ہو سکتی ایک امریکی جریدے کے مطابق اگر امریکہ دنیا کی سپرپاور ہے تو برطانیہ دنیا کی سپر سافٹ پاور ہے کیونکہ برطانیہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود یہ میسج لکھنے میں آج تک برقرار ہے کہ وہ امریکہ سے بہتر ہے مختصر بات کریں تو برطانیہ اتنی بڑی فوجی طاقت تو نہیں ہے کہ وہ دنیا کے کسی ملک پر تن تنہا حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لے لیکن برطانیہ اتنی بڑی طاقت ضرور ہے کہ دنیا میں ہونے والے کسی بھی ملک میں کسی بھی فیصلے پہ وہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اتنی بڑی فوجی طاقت ضرور ہے کہ کوئی بھی ملک اس پر حملہ کرنے کی سوچ نہیں سکتا یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برطانیہ کی طاقت اس کی فوجی اور معاشی قوت میں چھپی ہوئی نہیں بلکہ برطانیہ کی طاقت جدید  یونیورسٹیاں یا سائنسی مہارت اور دنیا کے تمام ملکوں سے اچھے تعلقات ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر

    ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماہ اکتوبر بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990 کے عشرے میں دنیا بھر میں پہلی مرتبہ بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) سے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنے کے لئے پنک ربن مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ بریسٹ کینسر(چھاتی کا سرطان) دنیا بھر کی خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر ہے، ساتھ ہی دنیا بھر کی خواتین کی شرح اموات کے بڑھنے کا سب سے بڑا سبب بھی بریسٹ کینسر کو ہی مانا جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک ریسرچ کے مطابق بریسٹ کینسر دنیا بھر میں تمام قسم کے کینسرز کا 10 فیصد ہے جو کہ تشخیص سے ثابت ہوتا ہے۔

    مرض کی پیچیدگیوں اور اس حوالے خواتین کو پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر صدر مملکت پاکستان عارف علوی صاحب اور خاتون اول بیگم ثمینہ علوی بھی بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے اور مرض کے پھیلائو کو روکنے کے حوالے سے اقدامات کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اسی حوالے سے ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی صاحب نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی جلد تشخیص ہی ملک میں اس مہلک مرض کا شکار ہونے والی سالانہ 40 ہزار خواتین کی زندگیاں بچانے کا واحد راستہ ہے ، اس سلسلے میں بھرپور آگاہی مہمات کے ذریعے چھاتی کے کینسر کے بارے میں ممنوعات سے نجات حاصل کر کے خواتین کو فوری طبی مدد لینے سے متعلق ہچکچاہٹ کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے بارے میں ان کی آگاہی مہم کے پیش نظر میڈیا اپنے ٹیلی ویڑن پروگراموں اور اخبارات میں اس موضوع کو موثر طریقے سے اجاگر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مہینے مختلف شہروں کے کالجوں کا دورہ کریں گی تاکہ لڑکیوں میں خود تشخیص کے حوالے سے شعور بیدار کیا جا سکے۔ انہوں نے خاندانوں کے مردوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس بیماری سے منسلک مشکلات کا ادراک کریں اور مناسب طبی دیکھ بھال کے لئے خواتین کی مدد کریں۔
    اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کی شرح پاکستان میں ہی پائی جاتی ہے، ہر سال 90 ہزار کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے 40 ہزار خواتین کی موت ہو جاتی ہے، مختلف ریسرچ کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں ہر 9 میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے اور یقینا یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔لیکن ساتھ ہی اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس مہلک مرض کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی شرح پاکستان میں ہی اتنی زیادہ کیوں ہے؟ مزید براں یہ کہ اس مرض سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

    آگاہی کیوں ضروری ہے؟
    خواتین میں جِلد کے کینسر کے بعد بریسٹ کینسر سب سے عام مرض ہے۔ اوسط عمر میں ہر عورت میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 12فیصد پایا جاتا ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 3لاکھ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے تقریبا 15فیصد 40ہزار خواتین بریسٹ کینسر کے سبب موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر8میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہے جب کہ ہر 2منٹ میں ایک عورت میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کی جاتی ہے۔ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دیکھا جائے توایشیائی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح سب سے زیادہ پاکستان میں پائی جاتی ہے جس کے باعث یہ مرض ملک میں خواتین کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس موذی مرض سے نمٹنے کے لئے لازمی ہے کہ اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج ہو لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کو اس مرض کے حوالے سے آگاہی حاصل ہو۔اس مرض سے متعلق یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ بریسٹ کینسر کے لئے اسکریننگ ٹیسٹ40سال کی عمر میں شروع کیاجاتا ہے جبکہ سالانہ میموگرافی اور مرض کی بروقت تشخیص کے ذریعے بریسٹ کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ خواتین بریسٹ کینسر کے حوالے سے باشعور ہوں گی تو عین ممکن ہے کہ نہ صرف اس مرض سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جاسکے بلکہ اس مرض کی شرح بھی کم ہوجائے۔
    بریسٹ کینسر کیا ہے ؟

    https://twitter.com/MustansarPK/status/1446445962017267712

    جسم کے پٹھے چھوٹے خلیوں سے مل کر بنے ہوتے ہیں لیکن اگریہی خلیے بے قابو انداز میں بڑھنا شروع ہو جائیں اور ایک ڈھیر بنا لیں تو یہ کینسر بن جاتا ہے۔ زیر غور بیماری میں چھاتی میں گلٹی یا رسولی بن جاتی ہے، یہ گلٹی یا رسولی سائز میں بڑھ سکتی ہے اور اس کی جڑیں چھاتی میں پھیل بھی سکتی ہیں،جس کے باعث چھاتی میں تکلیف اور ساخت میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ چھاتی کے اندر، باہر یا نیچے زخم بڑھ کر بعض اوقات کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مریض اور مرض کی نوعیت کے مطابق یہ علامات مختلف بھی ہو سکتی ہیں لیکن واضح رہے کہ یہ کینسر متعدی (Infectious) نہیں ہوتا، نہ ہی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ بریسٹ کینسر بنیادی طور پر خواتین کو متاثر کرتا ہے، تاہم مردوں میں بھی اس کینسر کے خطرات پائے جاتے ہیں، مگر تشخیص نہ ہونے کے برابرہے بین الاقوامی ڈاکٹرز کی آرا کے مطابق ہارمونز کی بے اعتدالی بریسٹ کینسر کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔ بنیادی طور پر جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی زیادتی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ دوسری جانب خواتین کا غیرصحت مند طرز زندگی اور غیر متوازن خوراک بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔بڑی عمر میں شادی یا زائد عمر میں پہلے بچے کی پیدائش بھی بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتی ہیں لیکن اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 4فیصدکم ہوجاتا ہے۔بریسٹ کینسر موروثی کینسر بھی ہے، تقریبا 10فیصد بریسٹ کینسر موروثی جینیاتی نقائص کی وجہ سے ہوتاہے جبکہ جینیاتی نقائص کی حامل خواتین کی اپنی زندگیوں میں اس مرض کے ہونے کے80فیصد امکانات ہوتے ہیں ۔عام طور پر بریسٹ کینسر کا سبب بریسٹ لمپس بھی ہوتے ہیں۔ یہ چھاتی میں بننے والی وہ گلٹیاں ہیں، جنہیں پول سیٹک یا فابٹر و سیٹک کہا جاتا ہے۔ بریسٹ لمپس کے سبب بریسٹ کینسر ہونے کے امکانات خاصے بڑھ جاتے ہیں ۔بروقت تشخیص اس مرض پر قابو پانے کیلئے سب سے پہلا مرحلہ اس کی تشخیص ہے، جس کے لئے طبی ماہرین خواتین کوبریسٹ چیک اپ باقاعدگی سے کروانے کا مشورہ دیتے ہیں، خصوصا ان خواتین کوجن کی عمر 40سال سے زائد ہے۔تشخیص کا بہترین طریقہ میموگرافی ہے، خواتین کسی بھی شبہہ کی صورت میںمیموگرافی کرواسکتی ہیں۔ یہ ایک طرز کا ایکسرے ہوتا ہے جس کے ذریعے چند گھنٹوں میں کینسر کے مرض کا پتا چل جاتا ہے۔ میموگرافی کروانے کے وقت سے متعلق کافی عرصے سے ایک لمبی بحث جاری ہے، تاہم امریکی پریوینٹو سروسز ٹاسک فورس کی ایک حالیہ تجویز کے مطابق50سال میں قدم رکھنے والی تمام تر خواتین کو ہر دو سال میں کم ازکم ایک بار میموگرافی ضرور کروانی چاہیے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق خواتین کو 45سال کی عمر سے سالانہ اسکریننگ کروانی چاہیے جبکہ50سال کی عمر تک میموگرافی لازمی قرار دی جاتی ہے۔ تاہم اگر کسی کی فیملی ہسٹری میں بریسٹ کینسر کے کیسز موجود ہیں تو اسے اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے مخصوص عمر سے قبل ہی میموگرافی کروالینی چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں اس مرض کی آگاہی پیدا کی جائے، اس سلسلے میں اکتوبر کو اس مرض کی آگاہی کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، بہت سی این جی اوز اس آگاہی مہم میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں اور پنک ربن نامی (Pink Ribbon ) تنظیم بریسٹ کینسر کی آگاہی اور اس کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی میں سر فہرست ہے۔

    شوکت خانم ہسپتال نے پانچ منٹس اپنے لئے (5 minutes for me) کے نام سے ایک مہم چلائی جس میں پاکستان کی خواتین کو آگاہی دی گئی کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص میں صرف پانچ منٹس ہی درکار ہوتے ہیں، اس مہم میں یہ بھی بتایا گیا کہ 40 سال سے کم عمر خواتین کو ہر مہینے اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے اور 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے ریگولر چیک اپ کے ساتھ ساتھ میمو گرافی بھی کروا لیں جو کہ بریسٹ کینسر کا مخصوص ٹیسٹ ہے، کیوں کہ اس مرض کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھ جاتا ہے، اس لئے بڑی عمر میں یہ ٹیسٹ ضروری ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ سماج کے باشعور اور متحرک لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے کہ بروقت تشخیص ہی اس مرض کا ممکن حل ہے اور یہ مرض قابل علاج ہے، بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بریسٹ کینسر میں مبتلا خاتون ناپاک یا اچھوت ہے جس کی بنا پر نہ تو مریض کا تیار کردہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ ہی اس کے قریب جاتے ہیں جو کہ انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے جس کی حوصلہ شکنی لازمی ہے۔بریسٹ کینسر کسی بھی دوسرے کینسر کی طرح ایک مرض ہے جو کہ وبائی مرض کی طرح نہیں پھیلتا بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے نعرے کے مصداق کہ "ہم کر سکتے ہیں، میں کر سکتی ہوں” اسی نعرے پر عمل کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مرض کو مات دے سکتی ہیں تاہم ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس حوالے سے خواتین کو درست آگاہی فراہم کریں تاکہ بروقت تشخیص کے ذریعے مرض کے بڑھائو پر قابو پاکر قیمتی زندگیاں اور وسائل بچائے جا سکیں۔

    @MustansarPK

  • جب آسماں بھی رو پڑا۔۔! تحریر:خنیس الرحمن

    جب آسماں بھی رو پڑا۔۔! تحریر:خنیس الرحمن

    حیدر علی میسور کا حاکم تھا۔اس کی رحلت کے بعد سب اس کے جانشین سلطان فتح علی المعروف ٹیپوسلطان نے کمان سنبھال لی۔جب ٹیپو سلطان نے دیکھا کہ دشمن کے پاس وافر مقدار میں جدید اسلحہ ہے اور دشمن کے مقابلے میں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔سلطان نے اپنے سپہ سالاروں کے ہمراہ اپنی ریاست کے چار بڑے شہروں میں تارا منڈل کے نام سے کارخانے لگائے جس میں اسلحہ سازی کا کام شروع ہوا۔سلطان نے ایک ایسا جدید راکٹ تیار کیا جس نے دشمن کی نیندیں حرام کردیں،دشمن بوکھلا گیا۔سلطان نے جدید قسم کے اسلحے بنائے۔سلطان کو تاریخ میں راکٹ کا موجد کہا جانے لگا۔۴ مئی 1799 ء میں سلطان کو انگریزوں نے شہید کردیا۔تاریخ کے اوراق میں لکھا ہے ایک طرف شہر کا قاضی سلطان کی نماز جنازہ پڑھا رہا تھا آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھانے لگے،سلطان کی تدفین کے موقع پر آسمان پر گہرے بادل چھا گئے،یک دم بارش برسنے،بجلی کڑکنے لگی۔لگی یوں لگ رہا تھا کہ سلطان کی جدائی میں آسمان بھی رو پڑا۔آج اسی خطے میں پاکستان قائم ہو اتو پاکستان کا دشمن مضبوط تھا پاکستان سے اسلحہ سازی کے لیے کام کیا۔پاکستان نے ایٹمی قوت بننے کی ٹھان لی کہ وہ ہر صورت دشمن کے مقابلے میں جدید اسلحہ بنائے۔اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بیرون ملک مقیم پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر خان کو پاکستان واپس بلالیا۔جوہری پروگرام کا سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بنادیا گیا۔وہ طویل عرصے تک اس پروگرام پر کام کرتے رہے۔ان کی ٹیم نے 1998ء میں اپنے ملک کے سربراہان کو خوشخبری سنائی۔پاکستان ایٹمی دھماکے کردیے پوری دنیا میں شور مچ گیا۔پاکستان کے اس اقدام پر عرب ممالک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہیں پاکستان پر سختیوں کا دور شروع ہوگیا۔ جس کاڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی شکار ہونا پڑا۔قوم نے محسن پاکستان کا خطاب دے دیا۔کل اتوار کے دن محسن پاکستان پچاسی برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔محسن پاکستان کی وفات کی خبر جیسے جیسے عوام تک پہنچی قوم اپنے محسن کو سپردخاک کرنے کے لیے گھروں سے روانہ ہوگئی۔ساڑھے تین کا وقت طے ہو ا۔دو بجے تک عوام کی کثیر تعداد فیصل مسجد پہنچ چکی تھی۔موسم اچانک بدلنے لگا۔میں خود وہاں موجود تھا۔محسن پاکستان کا جسد خاکی فیصل مسجد لایا گیا۔بارش میں بھی لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ڈاکٹر غزالی نے نماز جنازہ پڑھائی،اس دوران یک دم آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے،بجلی کڑکنے لگی۔لیکن عوام کی کثیر تعداد محسن پاکستان کے جسد خاکی کو رخصت کرنے لیے موجود تھی۔محسن پاکستان کی جدائی میں آسماں بھی رو رہا تھا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جسد خاکی کو ایچ ایٹ قبرستان پہنچایا گیا جہاں فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ڈاکٹر صاحب کو قوم کبھی نہیں بھلائے گی۔

  • "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ نواز شریف کے دور میں چینی 65 روپے کلو تھی لیکن یہ بھول گئے کہ مشرف دور میں 27 روپے کلو تھی
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ڈالر 130 روپے کا نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف تو ڈالر 60 روپے کا چھوڑ کر گیا تھا
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ملک پر قرضہ ‏95 ارب ڈالر نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا
    لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف 33 ارب ڈالر پر چھوڑ کر گیا تھا

    اگر نواز شریف دور میں ملک ترقی کررہا تھا تو چینی 65 سے کم کر کے جانا چاہئیے تھا
    اگر ملک ترقی کررہا تھا تو ڈالر 60 روپے سے کم کر کہ جاتا۔
    اگر ملک ترقی کر رہا تھا تو قرضہ 33 ارب ڈالر سے کم کر کے جاتا۔

    جیسے آج عمران خان نے ملک کے قرضوں میں کمی لانا شروع کی ہے۔ آپ عمران خان سے لاکھ اختلاف رکھیں لیکن آپ کو ماننا پڑے گا اس سے اچھا آپشن ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اگر آپکی چوائس وہی لوگ ہیں جنکی کارکردگی ہمارے سامنے ہیں جن کے جیسے غدار اور منافق کوئی نہیں تو آپ وراثتی ماحول کے ذہنی غلام ہیں۔

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ایسے ایسے سیاستدان ہیں جن کے بال سفید ہوگئے سیاست کرتے جو واقعی قابل بھی ہیں اور ایماندار بھی ہونگے لیکن وہ بلاول اور مریم کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ سیاسی پارٹی ان کے باپ کی ہے اس لیے حکمرانی کا حق بھی انہی کا ہے پھر چاہے سیاست کی الف بے بھی معلوم نا ہو لیکن وراثت میں یہ ملک اور اس پر حکمرانی مل گئی پہلے ان کے آباؤ اجداد ہم پر حکمرانی کرتے رہے اب ان کی اولاد ہم پر حاکم بنیں گے ۔ آخر کیوں ۔؟

    میرا یا آپ کا بچہ کیوں حاکم نہیں بن سکتا آخر یہ بادشاہت ہے یا جمہوریت ۔ اگر جمہوریت ہے تو کیسی جمہوریت جہاں نسل در نسل غلام نسل در نسل حکمران چلے آرہے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آخر کیوں نہیں سوچتے کہ یہ دو خاندان پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں یہ مہنگائی غربت بے روزگاری اداروں کی بد حالی سب انہیں کی میراث ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں آخر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس کوئی ایسی جادو کی چھڑی ہے جو چار دہائیوں کی تباہی کو چند سالوں میں ہی ٹھیک کر دے گی یعنی ملک تباہ کرنے میں بھی کم سے کم چالیس سال لگے ہیں راتوں رات تباہ نہیں ہوا اور آپ چاہتے ہیں ٹھیک فوراً کر دیا جائے ۔؟

    ایسا ممکن ہی نہیں ہمیں ٹیکسز مہنگائی غربت کی چکی میں پسنا پڑے گا اب یہ تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی اس کے علاؤہ کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں۔ آئینے کے دو رخ ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے عقل و فہم سے عاری اندھے گونگے بہرے لوگ دیکھنے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ عمران خان نا بھی رہا تو اس کو کون سا فرق پڑے گا وہ تو وزیراعظم بننے سے پہلے بھی شہرت و عزت کہ زندگی وہ گزار چکا ہے بعد میں بھی گزار لے گا فرق پڑے گا مجھے اور آپ کو جو آج ہم عمران خان کو کوس رہے ہیں کل جب پھر سے ہم پر ڈاکو خاندان راج کر رہے ہونگے تو ہم اس وقت کو یاد کر کہ دہایاں دے رہے ہونگے لیکن پھر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔

    خدارا ہوش کے ناخن لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان   صوفیہ صدیقی

    "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان صوفیہ صدیقی

    دس اکتوبر 2021کی صبح, سوا نو بجے کے قریب ایک مخصوص ایس ایم ایس ٹون کے بعد میں نے موبائل اٹھایا۔ ساتھ ہی ایک افسوسناک خبر میری آنکھوں کے سامنے تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم میں نہیں رہے۔
    معذرت کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں یہ مذاق اتنی بار سن چکے تھے کہ دکانوں کو ایسے لگا کہ جیسے ایک بار پھر دھوکا دیا جارہا ہے ایس ایم ایس کرنے والے سے سوال بھیجا کیا واقعی؟؟
    جواب ملا! بدقسمتی سے اس بار یہ خبر درست ہے ۔افسوس صد افسوس ہم نے ایک عظیم سائنسدان اور ایک عظیم انسان کو کھو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کو یقینا پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اسلام آباد میں شاہرہ ِ فیصل کو ان کی جنازہ سے قبل و بعد کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند دیکھا۔ بے وقت کی بارش اور گھٹاؤں نے عظیم سائنسدان کو رخصت کیا۔ گویا آسمان بھی رویا اس بے قدری پہ جس کا اس قوم کو سامنا ہے۔

    اے کیو خان کو تمام تر سرکاری اور عسکری اعزازات کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں عام افراد کے علاؤہ سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمایاں بات یہ تھی کہ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے جنازے میں آنے سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے ہونے کا احتمال تھا سو وہ شریک نہ ہوئے۔

    ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد

    چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے

    تعزیت کرنے والے انبار اور بہت سے نقطوں پر مشتمل بحث دیکھتے دیکھتے، پاکستان کے بھارت میں تعینات سابق سفیر عبداللہ باسط کی ایک تحریر آنکھوں سے گزری۔ درج تھا ” دفنائیں گے قومی اعزاز کے ساتھ”. ایسے لگا یہ الفاظ ڈاکٹر عبد القدیر کے تھے۔ آج سچ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر لگا کہ نہیں پاکستان کے ہر محسن کی آواز ہے جو لٹ پٹ کہ پاکستان آیا اپنا سب کچھ اس کو دیا اور پھر غدار ہوا پھر جاتے جاتے اعزازات سے نواز دیا گیا کیوں کہ زبان بند ہوگئی تھی۔

    خیرسوشل میڈیا پہ تلاش کیا تو ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک وڈیو ملی جس میں سابق سفارتکار 25 مئی 2018 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر میں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومتوں سے نالاں تھے۔ مگر ریاستی پالیسیوں سے باغی نہیں تھے۔ عام لوگوں کی طرح بلا وجہ میں واویلا بھی نہیں مچاتے تھے۔
    عبد الباسط کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ” اب پاکستان سے تو کچھ مقدم نہیں ہے ۔ یہ ریاست ہے تو ہم ہے نہیں ہیں۔ نہیں تو ہم نہیں ہیں” ایک اور جگہ کہا کہ میں قید میں ہوں لیکن سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کرینگے۔

    ان چند جملوں سے ایسے لگتا ہے کہ اے کیو خان کم ظرف نہیں تھے۔ یقینا نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا۔ لکھا۔ بنایا بتایا۔ اپنی تحریروں سے بہت سے مشکلات کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
    محسن پاکستان کے جانے سے پاکستان ایک ایسے اثاثہ سے محروم ہوا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
    قومی سلامتی کا ایک اہم باب رقم کرنے والا اے کیو خان دنیا سے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوا ۔ اپنا باب بند کرتے کرتے ایک نیا باب کھول گیا ہے ہم کب تک اپنے ہیروز ایسے غداری کے الزامات میں نظر بند رکھیں گے اور پھر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن!!

  • عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امبر صباء

    عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ تحریر : امبر صباء

    Twitter 👇
    @MrsHamdani1
    جب ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے دین اسلام لے کر آئے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت چمک اٹھی اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی و روندی ہوئی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہو گیا کہ عبادات اور معاملات بلکہ زندگی و موت کے ہر مرحلے اور موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں.
    مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر کیے گئے اور قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر عورتوں کی مختلف حیثیتوں میں ان کے حقوق و فرائض کی وضاحت ملتی ہے عورتوں کو کسبِ معاش کا حق دیا گیا انہیں وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ماں کی اطاعت کے نتیجے میں جنت کی خوشخبری سنائی گئی ماں گھر میں ایک ایسی قوت ہے جو تربیت اور ایثار کے ہتھیار سے اپنی اولاد کو منشاء خداوندی کے مطابق ڈھالتی ہے
    دین اسلام نے واضح طورپر بتا دیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیقی بنیاد ایک ہی ہے.
    سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ: ” جو نیک کام کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے دنیا میں پاکیزہ زندگی دیں اور ان کے اچھے کاموں کا جو وہ کرتے ہیں اجر دیں گے” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کی حیثیت کے ضمن میں فرمایا ”اس (بیٹی) کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کرو” اور بیٹی کی اچھی تربیت اور اس کے ساتھ شفقت کو آگ سے نجات کا ذریعہ قراردیا. اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ”عورت جب بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرتی ہے.
    دور نو میں پھر سے عورت پر مختلف قسموں کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں آزادی نسواں کے پرفریب نعروں سے عورتوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور ان عورتوں کو سرعام ننگا کیا جا رہا ہے ہر کوئی عورت ذات کو ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے اور آزادی نسواں کے نام پر عورت کو بیٹی، بیوی، بہن اور ماں بننے سے روکا جا رہا ہے عورتوں کو کلیوں و محفلوں کی زینت بنایا جا رہا ہے ان کی عزت و ناموس کو ہر گلی کوچے میں لوٹا جا رہا ہے الغرض عورت کو ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے کیا یہی ہمارا دین ہے؟ عیاش پسند لوگ قرآنی احکامات میں تاویلیں کر رہے ہیں علماء حق کو قدامت پسند کے القابات دیئے جا رہے ہیں
    خدارا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دین اسلام کے احکامات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے،آزادی نسواں کے پرفریب نعروں کی ذد میں آکر ہم کہیں دینی اسلام کے احکامات کو بھول تو نہیں بیٹھے تو آئیے اپنی اصلاح کریں عورتوں کو ان کے حقوق دیں وہ حقوق جو کہ عورتوں کو دین اسلام نے دیئے ہیں آئیے اپنی اصلاح کیجئے اور ایک عزت دار مسلمان ہونے کا ثبوت دیجیے.
    ” سنو عورت کو کھلونا سمجھنے والو
    جس کے نام سے ہےرونق
    وہ ہے عورت
    تو جس کا بیٹا ہے
    وہ ہے عورت
    خدا نے جس کے قدموں تلے رکھی ہے جنت
    وہ ہے عورت
    جو کل تیرا نصیب ہے
    وہ ہے عورت
    جس کا تو باپ بنے گا
    وہ ہے عورت
    جس کا بھائی ہے تو
    وہ ہے عورت
    سنو! عورت کی عزت کرنا ایک عزت دار مرد کی نشانی ہے.

  • سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    اس دنیا میں بسنے والا ہر ذی روح اس دنیا کا باسی ہے ۔
    انسان اس وقت تک معاشرے کا کارآمد شخص نہیں بن سکتا جب تک اس کی سوچ مثبت نہ ہو کیونکہ انسان کی سوچ ہی اس کو مثبت یا منفی بناتی ہے ۔
    آپ کی جیسی سوچ ہوگی ویسے کام ہونگے اور اگر سوچ اچھی ہے تو نتاٸج اچھے نکلیں گے اگر بری ہے تو برے ۔
    اسی چیز کو اللہ پاک نے قرآن میں واضع بھی کیا ہے ۔

    ‏اللّٰہ ﷻ کا ارشاد ہے :

    وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)

    ” اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی“۔

    ایک انسان اپنے لفظوں سے نہیں اپنے عمل سے مثالی بنتا ہے انسان کو پستیوں سے نکال کر بلندیوں پر لے جانے والی شے اُس کا عمل ہے۔

    جب انسان پیدا ہوتا ہے،اس وقت وہ سب جیسا ہوتا ہے لیکن اپنے مقصدِ حیات کا تعین کر لینے اور اس کی تکمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے بعد وہ مثالی اور کامیاب لوگوں کا ہم سفر بن جاتا ہے۔وہ لوگوں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔اسے منزلوں کے سلام آنے لگتے ہیں۔

    مثبت سوچ تحریکی انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔انسان کو جب سمجھ آ جائے کوئی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اپنے لیے کچھ نہ کرے۔

    جب انسان میں یقین پیدا ہو جائے میں کر سکتا ہوں اور جب وہ اپنی رائے سے نہیں اپنے عمل سے دنیا کو دکھادے کہ وہ زندگی کے سفر میں جیتا ہے پھر وہ مثال بنتا ہے۔عزم صمیم اور جہدِ مسلسل کی زندہ داستان،جو صدیوں لوگوں کے دلوں کو اپنے حصار میں لیے رہتی ہے۔ 

     ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عملی نمونہ پیش کیا۔اللّٰہ کے ہر حکم پر عمل کر کے دکھایا۔انسانوں سے پیار کر کے انسانیت کے دلوں میں گھر کیا حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ ہمارے لیۓ مشعل راہ ہے ۔
    اس دنیا میں حقیقی مشعل راہ حضور کی ذات اقدس ہے ۔
    آپ کا ہر قول فعل زندگی گزارنے کے رہنما اصولوں پہ مبنی ہے ۔
    حضور کریم کی ذات طیبہ تاقیامت مسلمانوں اور روۓ زمین پہ بسنے والے ہر ذی شعور کیلۓ ایک مثال ہے ۔
    حضور کریم کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ تو زندگی گزارنے عبادات و انصاف اور زندگی کے ہر پہلو کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے ۔

    قائداعظم نے اقبال کے خواب کو عمل اور تعبیر کی چادر میں لپیٹ کر پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک مثالی مملکت بنا دیا ۔
    قاٸداعظم نے ایک ایسے ملک کیلۓ جدوجہد کی جس میں مسلمان اپنی عبادات تسلی سے ادا کر سکیں ۔
    پاکستان کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پہ رکھی گٸ ہے اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کی زبان پہ ایک ہی نعرہ تھا الله أكبر ۔

    دو ایسے بھائی جنہیں پرندوں کی طرح اڑنے کا جنون تھا پھر ایک دن انہوں نہ اپنے عمل سے اس جنون کو حقیقت کر دکھایا۔ انہوں نےثابت کر دیا کہ کامیابی اور نام عمل والوں کا مقدر ہے۔
    آج دنیا بھر میں تیز ترین سفر ہواٸ جہازوں پہ ہو رہا ہے ۔

    انسانیت کے علمبردار عبد الستار ایدھی اپنے عمل سے مثال بنے ،لوگوں کا درد محسوس کرنے والے ہمدرد کی زندہ و جاوید مثال۔ جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
    آپ نے اپنی سوچ عمل اور اللہ پہ کامل یقین کی بنا پہ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنا دی ایدھی پناہ گاہیں لنگر خانے بنا لیۓ جو پوری آب و تاب سے اب بھی چل رہے ہیں ۔

    ہر انسان عملِ پیہم سے دنیا کے لیے مثال رقم کرسکتا ہے۔ اپنے جنون اور عمل کی روشنی سے دنیا کو منور کر  کے اس کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    ‎@Gumnam_HBK

  • ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد

    ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد


    ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے لیکن کبھی سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اس کو ایک المیہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ تمباکو نوشی سماجی برائیوں کی جڑ یے اس سے نہ صرف صحت بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکل جاتا یے۔ ہمارے گھروں میں بڑا بھائی یا والد صاحب اگر سگریٹ نوشی کرتے ہوں تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی یا کسی بچے کو دوکان سے سگریٹ خریدنے کے لئے بھیج دیتے ہیں اور اس کو بلکل معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے جبکہ قانونی طور پہ 18 سال سے کم عمر کو سگریٹ فروخت کرنے پہ پابندی ہونے کے باوجود دوکاندار سرعام  بچوں کو سگریٹ فروخت کررہے ہوتے ہیں۔ اکثر کل کو یہی بچے خود اس لعنت کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ نوجوان نسل سگریٹ نوشی کو فیشن یا سٹیس کو کی علامت سمجھا جاتا ہے۔  بدقسمتی سے پاکستان میں بائیس کروڑ کی آبادی میں سے تین کروڑ کے قریب سگریٹ نوش ہیں۔

    سگریٹ نوشی اس حد تک نقصان دہ ہے کہ اگر دن میں روازنہ ایک سگریٹ بھی پیا جائے تو اس سے بھی ہارٹ اٹیک یا فالج کے 50 فیصد چانسز ہے ہیں اگر کوئی روازنہ 20 کے بجائے ایک سگریٹ پیتا ہے تو یہی سمجھتا ہے سٹروک یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ پانچ فیصد رہ جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ خطرہ کم سے کم 50 فیصد تک رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے یہی سمجھتے ہیں ک سگریٹ سے پھیپھڑوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے جب کہ حقیقت میں پھیپھڑوں سے لے کر دل دماغ اور جگر کے لئے تمباکو نوشی یکساں نقصان دہ ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے اس بات پہ یقین نہ کریں کہ ایک دن میں چند سگریٹ یا صرف ایک سگریٹ سے تھوڑا نقصان ہوتا ہے اور کم سگریٹ نوشی طویل مدتی نقصان نہیں پہنچاتی یہ ایک غلط سوچ ہے تحقیق کے مطابق جس طرح بندوق کی ایک گولی سے نقصان ہوسکتا ہے ایسے ہی دن میں روازنہ ایک سگریٹ پینا بھی نقصان دہ یے۔ تمباکو نوشی کم کرنے یا مکمل طور پہ ختم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مہلک بیماریوں سے  ان کو اور ان کے اردگرد والوں کو محفوظ کیا جاسکے۔ تمباکو نوشی سے دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افراد لقمہ اجل بنتے ہیں اور ان میں سے 20 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ اٹیک سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ طویل مدت تک تمباکو نوشی زندگی  12 سے 15 سال تک زندگی کو کم کردیتی ہے۔ یہ عام غلط فہمی ہے کہ طویل عرصہ تک سگریٹ نوشی کے بعد اس کو ترک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ جیسے ہی آپ سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں اس سے پھیپھڑوں کی شدید بیماریاں اور کینسر ہونے کے امکانات کم ہوتےجاتے ہیں، تمباکو نوشی کے باعث ہارٹ اٹیک اور فالج کے ساتھ پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر بھی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ افراد تمباکو نوش ہیں جن میں اکثر سگریٹ نوش ہیں۔ ملک میں لاکھوں دکانیں ایسی ہیں جہاں سگریٹ آسانی سے دستیاب ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمباکو نوشی کی لت لگنا وہ بیماری ہے جس سے صحت اور دولت دونوں سے ہاتھ دھونے پہ مجبور کردیتی ہے۔ بیشتر تمباکو نوش کوشش کے باوجود بھی اس کو ترک نہیں کرپاتے اور خود کو بیماریوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اس عادت سے جان چھڑانے کی کوششیں کی جاتی ہیں مگر آج تک پاکستان سمیت کوئی ایک بھی ترقی پذیر ملک ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس لت کا مکمل طور نہیں تو ساٹھ ستر فیصد خاتمہ کیا ہو۔ پاکستان میں اس وقت مختلف اندازوں کے مطابق ڈھائی کروڑ سے تین کروڑ کے درمیان افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں، بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں جب تین کروڑ افراد تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوں تو صورت حال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے اجتناب کریں  سلگانے سے پہلے سوچ لیں بجائے اس کے کہ سوچنے کے قابل نہ رہیں

    tweets ‎@KharnalZ

  • علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اس کا پہلا لفظ "اقرائ” تھا، یعنی "پڑھ”۔ اس بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پڑھنے یعنی علم سیکھنے کے کیا فوائد ہیں، کیوں کہ جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ پڑھ لیا، تو اللہ تعالی نے پورا قرآن شریف آپ کے دل میں اتار دیا۔ اس ایک لفظ اقراءیعنی پڑھنے کے لفظ کی اہمیت افادیت کو اچھی طرح جان سکتے ہیں اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ علم کے بغیر کوئی بھی کام اور عمل بے معنی ہے، یعنی علم ایک ایسی شے ہے، جو ہم سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا اور ہم اس کو جتنا پھیلائیں گے، یہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا، مگر افسوس آج ہم علم کی اہمیت و افادیت کو بھول چکے ہیں۔ یہ علم ہی ہے جو ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے اور ہمیں یہ پہچاننے میں مدد دیتا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل ہے۔ آج پاکستان کی عوام بہت سے مسائل سے گزر رہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم علم سے بہت دور ہو چکے ہیں اور جس کی وجہ سے ہم اپنا اچھا اور برا سوچنے سے قاصر ہیں۔

    دورِ حاضر بلکہ کسی بھی دور میں کوئی بھی تعلیم کی حقیقت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا، جو معاشرہ تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے، وہ ہر میدان میں پستی اور زوال کا شکار رہتا ہے۔ علم کی افادیت اپنی جگہ ایک کثیر خزانہ سمیٹے ہوئے ہے، ہمیں علم کے بارے میں کئی احادیث اور اقوال ملتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ "علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی آغوش تک” اسی طرح حضرت علی کا فرمان ہے کہ "علم مال سے بہتر ہے، کیوں کہ تمھیں مال کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، جب کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے۔”

    مندرجہ بالا حدیث شریف اور قول سے تو آپ کو علم کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ ہو ہی گیا ہوگا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم علم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، اس خوف اس کے کہیں وہ علم کی دولت سے آشنا ہوکر ظالم لوگوں سے اعلان بغاوت نہ کر دیں۔

    جب انسان دنیا میں آتا ہے، بڑا ہوتا ہے، ہوش سنبھالتا ہے۔ گھر والے کچھ ہی بڑے ہونے کے بعد اسے سکھا دیتے ہیں کہ اسے کیا بننا ہے، فوجی، ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل وغیرہ۔ پھر وہ اس کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور وہ زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے مگر 98 فی صد متوسط طبقے کی تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے اور اس کا خواب کبھی شرمندہ ¿ تعبیر نہیں نہیں ہو پاتا اور وہ ناخواندہ ہی رہ جاتا ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی جزو ہے، دنیا بھر کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کی وجہ سے دوسری قوموں پر سبقت حاصل کرتی ہیں۔ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کا تصور ہی نہیں کر سکتی، مگر جب پاکستان کی بات ہو تو قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکومت نے تعلیم پر خاص توجہ نہ دی اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھا۔

    شاید حکمرانوں کا کردار ایسا رہا ہی نہیں کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھ سکتے کبھی اسمبلیوں میں منتخب کردہ نمائندگان کی جعلی ڈگریاں نکل آتی ہیں، تو کبھی نظام ہی میں تبدیلی لاکر تعلیم کی شرط کو کم کر دیا جاتا ہے۔

    پاکستان کی 70 فی صد آبادی آج تک ناخواندہ ہے۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوش حال وباوقار ملک بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں پورے عزم کے ساتھ اپنے تمام تر وسائل استعمال کرتے ہوئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ اس عمل کے لیے پاکستان میں دُہرے تعلیمی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور کم سے کم عرصے میں ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں ناخواندگی کے خلاف کام کیا جائے ناخواندگی ختم کرنا نا ممکن نہیں، لیکن مشکل ضرور ہے۔ ملک میں صرف ایک فی صد لوگ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور پھر یونیورسٹیوں پر نظر ڈالی جائے، تو نجی یونیورسٹیوں میں غریب بچے کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ یہ پاکستان کے نظام تعلیم سے ایک مذاق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اچھی تعلیم حکمرانوں جاگیرداروں وڈیروں کے لیے دوسرے درجے کا معیار تعلیم ہے اور اس لیے بھی انتظام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بہترین تعلیمی نظام کے لیے کوریا، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں حکومت کو چاہیے کہ دُہرے تعلیمی نظام مکمل طور پر خاتمہ کرے اور پاکستان کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا زیادہ سے زیادہ قیام عمل میں لایا جائے اور وہاں یک ساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے۔

    ٭٭٭

    ٹیوئٹر : ‎@fahadpremier

  • کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    اگر آپ باشعور اور حساس والدین ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کسی کا محتاج نہ ہو ، وہ خود اعتماد ہو، زندگی میں کسی پر بوجھ نہ بنے ، زندگی کے چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کی ہمت کر سکتا ہو ، وہ دوسروں سے گھل مل سکتا ہو ، نہ صرف اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں بلکہ روز مرہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل ہو ۔ وہ آپ کیلئے سرمایہ افتخار بن سکے آپ کا فرماں بردار ہو لوگ اس سے ملیں تو اس سے خوش ہوں اس کے پاس دولت، شہرت، طاقت اور آزادی وغیرہ سب کچھ ہو ۔

    یقیناً یہ وہ خواہشات ہیں جو تمام ہی والدین رکھتے ہیں ۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اپنے ساتھ ان کا بھی نام روشن کرے لیکن کیا سب والدین کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے ؟

    عموماً آدمی پچاس سے ساٹھ سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے لیکن چند لوگ ایسے ہیں جن کا نام ان کی موت کے بعد بھی ہزاروں سال تک یاد رکھا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عام لوگوں اور ان لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے ؟ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے دنیا انہیں یاد کرتی ہے ؟ کیوں لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ؟ یہ لوگ ایسا کیا کر گئے کہ دنیا کے مؤثر ترین لوگوں میں شامل ہو گئے یہ مؤثر اور معروف لوگ بھی کبھی نہ کبھی بچے تھے بلکل عام بچوں کی طرح انہوں نے زندگی گزاری تھی لیکن غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کچھ خاص عوامل ان افراد کے پچپن میں ایسے ہیں جو ان کے مستقبل کو دیگر افراد کے مستقبل سے مختلف کرتے ہیں 

    سوال یہ ہے کہ بعض بچے بڑے ہو کر "ہیرو” کیوں بن جاتے ہیں اور کچھ "زیرو” کیوں رہ جاتے ہیں ؟

    ہمارے پاس عموماً دوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے "مقدر” لیکن جب آپ صرف ایک وجہ کو حتمی مان لیتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کبھی بھی حقیقت شناس نہیں ہو پاتے ، یہ ممکن بھی کیسے ہے کہ "سیب” اور "کیلے” پر لیکچر سن کر اس موضوع پر کتاب پڑھ کر آپ سیب اور کیلے کے ذائقے سے آشنا ہو جائیں سیب اور کیلے پر چار پانچ گھنٹے کا لیکچر سنیں ، چار پانچ گھنٹے بحث کرنے اور تین سو صفحات پر مشتمل کتاب پڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ سیب اور کیلا چکھ لیں آپ کو حقیقت کا علم خود ہو جائے گا ہر چیز کی وجہ قسمت نہیں ہوتی کچھ معاملات اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں بھی رکھے ہیں قسمت یا مقدر پر الزام لگا کر ہم اپنی زمہ داری سے آنکھیں چرانا چاہتے ہیں لیکن نتیجہ تو صرف حقیقت کا عمل ہی آتا ہے آپ کا یہ طریقہ آپ کو اطمینان سے ایک جگہ بٹھا تو سکتا ہے لیکن آپ کے نتائج کو بدل نہیں سکتا اولاد کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آپ اپنی اولاد کیلئے جتنے بڑے خواب دیکھیں اور نیک خواہشات دل میں رکھیں آپ ان خوابوں کی تعبیر اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک آپ ان کیلئے عملی اور حقیقت پر مبنی تدابیر نہیں کریں گے ۔

    یاد رکھیئے ! دولت مندی نتیجہ ہے ، غربت نتیجہ ہے ، صحت نتیجہ ہے ، بیماری نتیجہ ہے ، نیک نامی نتیجہ ہے ، بدنامی نتیجہ ہے ، کامیابی نتیجہ ہے ، ناکامی نتیجہ ہے  اختیار اور بے اختیاری بھی نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق ایک منظم نظام کے تحت کی ہے جس میں مختلف قوانین کام کر رہے ہیں ایک قانون یہ بتاتا ہے کہ ہر نتیجے کا ایک سبب ہوتا ہے نتیجہ خواہ دولت کی شکل میں ہو یا غربت کی صورت میں ، کامیابی کی شکل میں ہو یا ناکامی کی صورت میں ، غور کریں تو ہر ایک کے پس منظر میں کوئی سبب ، کوئی وجہ ملے گی ۔ اسی طرح آپ کے بچے کا جو مزاج اور مستقبل ہے اس کا سبب اس کی پچپن کی تربیت ہے

    Sabir Hussain

    ‎@SabirHussain43