Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رنگیلاالیکشن کمیشن  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    لگتا ہے الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ انتخابات ،نئی انتخابی اصلاحات اور اوورسیز پاکستانیوں کے حق راۓ دہی کے خلاف دم ٹھونک کے میدان میں آگیا ہے۔

    الیکٹرونک ووٹننگ مشین کے خلاف قائمہ کمیٹی میں پیش کئے 37 اعتراضات ،اعتراضات کم اور لطیفے زیادہ لگتے ہیں۔

    خاص طور پر یہ اعتراض تو تاریخی پزیرائ کا باعث بن چُکا ہے۔جس میں الیکشن کمیشن نے کچھ زیادہ ہی دور کی کوڑی لاتے ہوۓ کہا کہ اس مشین کو ایلفی ڈال کر جام کیا جا سکتا ہے۔اس اعتراض پر تو اگرارسطو بھی زندہ ہوتا تو شائد خود کُشی کو ترجیح دیتا۔

    کل سے اس ایلفی والی بات کو لیکر الیکشن کمیشن کی جو دُرگت سوشل میڈیا پر بن رہی ہے،وہ شائد اس کمیشن خور کمیشن کے لئے کافی ہو۔

    ایلفی کی بحیثیت ایک پراڈکٹ کے،جتنی مشہوری کمیشن والوں نے کروادی ہے،اتنی شائد وہ کروڑوں کے اشتہارات چھپوا کر بھی نہ کر پاتے۔

    ایلفی والے ماوراۓ عقل اعتراض کے علاوہ دیگر اعتراضات بی اسی طرح چُوں چُوں کا مُربہ ہی ہیں۔

    ان اعتراضات کو تو اعتراض براۓ اعتراض کہنا بھی مناسب نہیں لگتا۔

    کسی ایک اعتراض میں بھی عقل و شعور کی ہلکی سی رمق بھی نہیں ہے۔

    بس لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے کسی کے اشارے پر کھیل تماشا کیا جا رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن میں بیٹھی کٹھ پُتلیوں کی ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں،

    سب کو پتہ ہے۔یہ گٹھ جوڑ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

    اس گٹھ جوڑ کو خونی لبرلز کی حمایت سب کچھ واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔

    الیکشن کمیشن اپنی پوری توانائیاں اس بات پہ صرف کر رہا ہے کہ کسی طرح آئندہ انتخابات کو شفاف انعقاد سے روک کر اسی دقیانوسی طریقے سے منعقد کروایا جاۓ،

    جس میں مُردے بھی ووٹ ڈالنے آجاتے ہیں۔

    پرانے سسٹم میں جعلی ووٹوں کا اندراج اب کوئ راز والی بات نہیں۔

    پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پی پی امیدواران بیس سے پچیس ہزار بوگس ووٹوں کا تحفہ لیکر گھر سے نکلتے ہیں،

    جس کے بعد انہیں مدمقابل امیدوار تو ہرانے کی پوزیشن میں آہی نہیں سکتا،

    ہاں اگر بدقسمتی آڑے آجاۓ تو الگ بات۔

    کمیشن نے صرف الیکٹرونک ووٹننگ مشین میں ٹانگ نہیں اڑائ ہوئ بلکہ انتخابی اصلاحات کی شدید مخالفت کا بیڑہ بھی اُٹھارکھا ہے۔

    کمیشن اس وقت ن لیگ ،پی پی اور فضل الرحمن کی جماعت کی طرح پی ڈی ایم کا باقاعدہ حصہ نظر آتا ہے۔

    انوکھے لاڈلے کمیشن کی ایک اور ضد یہ بھی ہے کہ حکومتی کوششوں کے برعکس اوورسیز پاکستانیوں کو بھی حق راۓ دہی سے محروم رکھا جاۓ۔

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،جنہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان ملک کا اثاثہ کہتے نہیں تھکتے،

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،

    جن کے بھیجے گئے زرمبادلہ کے باعث ملک معیشت کا پہیہ رواں دواں ہے۔

    جبکہ کمیشن والے ان سے سوتیلی ماں والا سلوک کرنے پر تُلے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کو تو بس اتنا کسی نے بتا دیا ہے کہ اگر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا جاۓ تو پی ٹی آئ کو فائدہ ہوگا،

    کیونکہ بعض تجزیوں کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کے وژن کی حامی ہے۔

    اسی ایک مفروضے کی بدولت کمیشن والے سر دھڑ کی بازی لگاۓ ہوۓ ہیں کہ کسی طرح بھی،

    اوورسیز پاکستانیوں کو اس حق سے محروم رکھ کر ن لیگ اور پی پی کو اس سیاسی نقصان سے بچایا جاۓ۔

    الیکشن کمیشن کے 37 اعتراضات میں نہ تو کوئ ٹھوس دلیل ہے اور نہ ہی کوئ ایسی وجہ،

    جو الیکٹرونک ووٹننگ مشین کی افادیت کو کم کر سکے۔

    پاکستان میں روایت بن چکی ہے کہ ہر الیکشن میں ہارنے والا نہ تو اپنی شکست تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی آئندہ پانچ سال وہ جیتنے والے کو دلجمعی سے کام کرنے دیتا ہے۔

    دھاندلی کا رونا روتے روتے پانچ سال گزر جاتے ہیں اور پھر نئے رونے دھونے کی بنیاد رکھنے کے لئے نئے بوگس،غیر شفاف اور ایک اور متنازعہ انتخابات کا انعقاد کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ سارا گورکھ دھندا الیکشن کمیشن کی چھتر چھایا میں ہوتا ہے۔

    پھر بھی وہ دھاندلی زدہ الیکشن کروانے پر بضد ہے۔

    سب کچھ جانتے بوجھتے ہوۓ بھی وہ انجان بنے بیٹھے ہیں۔

    وہ بے قرار ہو کر پیچ وتاب کھاۓ جا رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات بھی اُن کے آقاؤوں کی خواہش کے عین مطابق کرواۓ جا سکیں،

    اتنی بے قراری ظاہر ہے،

    بے سبب تو نہیں ہوتی،

    جاننے والے اس بے قراری کا سبب جانتے بھی ہیں اور اس سبب کو دور کرنےکی تدبیر کرنا بھی جانتے ہیں۔

    اس تدبیر کا استعمال الیکشن کمیشن کے مکمل ایکسپوز ہونے کے بعد یقینا” کیا بھی جاۓ گا،

    کیونکہ ملک کی تقدیر زیادہ دیر ان کمیشنوں کی نظر نہیں کی جا سکتی۔

    پہلے ہی بہت دیر ہو چُکی،

    مُلک کا ہر ادارہ تباہ کیا جا چُکا۔

    اگر مُلک کو چلانا ہے تو ان کمیشنوں کو ہر صورت راہ راست پہ لانا ہو گا۔

    ان سے بغیر کمیشنوں کے فرائض سرانجام دلوانا ہوں گے۔

    انکی مادر پدر آزادی نے ان کے پیٹ تو بھر دئے ہیں مگر ملک کی جڑیں کھوکھلا کر دی ہیں۔

    الیکشن کمیشن جیسے اداروں کی زور زبردستیوں،

    من مانیوں اور بدمعاشیوں سے لگتا ہے کہ ملک ان جیسے اداروں کا ماتحت ہے نا کہ یہ ادارے اس ملک کے ماتحت۔

    ہر بار متنازعہ انتخابات کی شرمناک تاریخ رکھنے کے باوجود الیکشن کمیشن اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    بے شمار اور بے حساب لعن طعن کے باوجود کمیشن اپنا قبلہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    مگر اب یہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

    اس قسم کے جانبدار کمیشنوں اور مافیاز کو مزید اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    اب ان اداروں کو قانون کے تابع لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہی وہ وقت ہے،

    جب ان بگڑوں تگڑوں کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔اداروں کا اس وقت ایک پیج پر ہونا اس ملک کی خوش قسمتی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس ملک کو بنانا سٹیٹ بنانے والوں کو نتھ ڈالنی چاہیے۔

    عمران خان اللہ کے بعد اس ملک کے محب وطن عوام کی آخری امید ہے۔

    اگر عمران خان کے دور میں یہ بوسیدہ نظام درست نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا،

    خدانخواستہ بالخصوص اگر ن لیگ یا پی پی برسر اقتدار آگئیں تو اس بوسیدہ نظام کے ٹھیک ہونے کی اُمید ہمیشہ کے لئے دم توڑ جاۓ گی،

    پھر یہ نظام سدھرنے کے بجاۓ مزید اُجڑے گا،

    کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں بذات خود اس بوسیدہ اور فرسودہ نظام کی معمار ہیں۔

    یہ کمیشن نما مافیاز انہیں کے لگاۓ ہوۓ ہوۓ بُوٹے ہیں۔

    ان پارٹیوں نے خود انہیں حرام کھلا کھلا کے ایسے کمیشنوں کی آبیاری کر رکھی ہے۔

    اپنے ہاتھوں سے لگاۓ گئے پودے کون اپنے ہاتھوں سے تلف کرتا ہے؟

    خاص طور پر کرپشن کے وہ پودے،

    جو ان کی کرپشن پر شجر سایہ دار کی طرح چھاؤں بنا کے رکھتے ہوں #

    تحریر ۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی


    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

    عورت ہمیشہ سے مظلوم، تحقیر و تذلیل کا شکار، نہ کوئی عزت نہ کوئی مقام۔ یہود و نصاری ہوں یا رومی و شامی، مصری ہوں یا ہندی، عرب کے صحرا سے یورپ کے درباروں تک ہر جگہ عورت کی حیثیت ایک لونڈی سے زیادہ نہ تھی۔ کبھی جانوروں کے مول اس سے زیادہ لگتے تو کبھی اچھوت سمجھی جاتی، کبھی شیطانی روح کہلاتی تو کبھی ستی کردی جاتی۔ غرض آمد اسلام سے پہلے عورت کے سرے سے جینے پر ہی قدغن تھی۔ کہیں پیدائش کیساتھ ہی زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا تو کہیں شمع محفل بنا کر مردوں کی نشاطِ طبع کا سامان کیا جاتا، کہیں مال وراثت کی صورت بٹتی تو کہیں سربازار لٹتی، کہیں گروی رکھوا کر پامال کی جاتی تو کہیں جوے میں ہار دی جاتی، غرض دنیا کی سب سے حقیر ترین شے عورت تھی۔

    مرد کا راج
    سر کا تاج
    سہما وجود
    رسموں کی قیود
    ظلم و ستم مقدر
    جیون فقط صبر
    کچلی ہوئی ذات
    ہر حال میں مات
    لیکن پھر رحمت للعالمین ﷺ کی آمد نے سسکتی، بلکتی عورت کی زندگی کو منور کر دیا۔ وہ کرلاتی مخلوق جو سانس بھی اپنی مرضی سے نہیں لے سکتی تھی اس کو وہ وقار و سربلندی بخشی جو اس کا جائز حق تھا۔ پیروں کی جوتی سمجھی جانے والی کے پاؤں تلے جنت رکھ دی۔ بیٹی کو نحوست کی جگہ رحمت بنا دیا، ذلت سمجھنے والوں کیلئے بہن باعث تکریم بنا دی گئی اور آدھا ایمان ہی بیوی سے مکمل کروادیا گیا۔شمع محفل کو گھر کی زینت بنا کرعورت کے ہر رشتے کو افتخار بخشا گیا۔ قرآن پاک کی پوری ایک سورت کا نام النساء رکھ کر تاقیامت خواتین کے مرتبے کا تعین کر دیا گیا۔ وراثت سے لیکر معاشرت تک کے تمام حقوق و فرائض متعین کردیے گئے۔ اور زمانہ جاہلیت کی تمام ظالمانہ رسوم و رواج کا مکمل خاتمہ کر کے اسے عظمت کا نمونہ بنادیا گیا۔
    اسلام نے فرعون کی بیوی کا درجہ جنت کی سردار کا کر دیا۔ حضرت مریم ؑ کی پاکدامنی پر پوری سورت اتاری گئی۔ قرآن مجید میں حضرت زینب ؓ کے خلع کے حق کو تسلیم کرکے نبی ﷺ سے نکاح کا شرف بخشا گیا، حضرت عائشہ ؓ کی برأت کیلئے آیات کا نزول ہوا اور تاقیامت عورت کی عصمت و عفت پربہتان طرازی کرنے والوں کیلئے قانون بنا دیا گیا۔ مرد کو عورت کا ولی مقرر کر کے عورت کو ہر طرح کی معاشی زمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا۔
    یہ اسلام ہی تھا جس نے عورت کو ایک کمتر مخلوق کے درجے سے نکال کر بطور انسان مردکے برابر رتبہ دیا۔
    لیکن صد افسوس کہ آج کا ترقی پسند مرد خواہ مشرقی ہو یا مغرب کا پروردہ، جو خود کو تہذیب یافتہ و انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتا، خواتین کو ان کا جائز حق دینے سے خائف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہیں عورت تیزاب گردی کا شکار ہے تو کہیں بدترین گھریلو تشدد کا، ماڈرن ازم کے باوجود آج بھی بیٹی کی پیدائش پر ناگواری ظاہر کی جاتی اور بیوی کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا۔ پوری دنیا میں خطرناک حد تک بڑھتے عصمت فروشی، آبرو ریزی، جنسی ہراسگی اور صنفی امتیازی سلوک کے واقعات اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ جدیدیت کے نام پر عورت کا استحصال کیا جارہا۔ ستم ظریفی یہ کہ اکثر خواتین کے حقوق کے چمپئن ہی ان گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوتے۔ چوراہوں پر عورت مارچ کے بینر اٹھائے یہ مرد حضرات گھر کی چار دیواری میں بیوی کو معمولی بات پر دھنک کر رکھ دیتے۔ بڑی بڑی این جی اوز عورت کے حقوق کی بحالی کیلئے فنڈز تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن اپنی خواتین ورکرز کو جائز تنخواہیں تک نہیں دیتی۔ تیزاب گردی پر فلم بنا کر آسکر ایوارڈ لینے والی خاتون نے خود سب سے زیادہ متاثرہ عورت کا استحصال کیا۔ لیکن اگر کوئی ان امور پر آواز اٹھائے تو اس پر بنیاد پرستی اور پدرسری کا الزام لگادیا جاتا۔
    آزادی نسواں اور فیمینزم کا راگ الاپتے یہ لوگ صرف مغربی تعصب کی تقلید میں اسلام کو عورت کی ترقی کا دشمن سمجھتے۔ ان کا ہر ہر نعرہ اسلام کیخلاف ہوتا۔ حالانکہ اگر یہ صحیح معنوں میں اسلام سے واقف ہوتے تو جان لیتے کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے۔ پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے والے نہیں جانتے کہ پردہ عورت کی عزت کا محافظ اور وقار کا باعث ہے۔ اسلامی تعلیمات کیخلاف دشنام طرازی کرتے یہ لوگ بھول جاتے کہ ترویج اسلام میں خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے۔
    حضرت خدیجہ ؓکی اخلاقی و مالی مدد نے اسلام کوابتدائی مشکل ترین دنوں میں سہارا دیا۔ ان کا درجہ اتنا بلند کہ خود باری تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے زریعے سلام کہلوایا۔ غزوات میں مسلم خواتین کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تلوار بازی سے مرہم پٹی تک ہر مرحلے میں مردوں کے قدم بقدم رہیں۔ حق گوئی و بیباکی، جرآت و شجاعت، ذہانت و فراست ازدواج مطہرات و صحابیات کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔ ایک بیٹی کو اللّٰہ نے وہ مرتبہ دیا کہ نبی پاک ﷺ کی تاقیامت مبارک ترین نسل حضرت فاطمتہ الزہرا ؓ کی بابرکت آغوش کی بدولت ہے۔ یزید کے دربار میں حضرت زینب ؓ کی للکار جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کی بہترین مثال ہے۔ سائنس، طب، فقہ، ادب، تاریخ، اقتصادیات غرض کونسا ایسا شعبہ زندگی ہے جس میں ہمیں ماہر ترین مسلم خواتین نہیں ملتی ہیں۔ ہم مسلمانوں کی ستم ظریفی کہ ہم نے اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کی حامل مسلم خواتین کو چھوڑ کر دو ٹکے کی اخلاق باختہ ماڈلز کو آئیڈیل بنا لیا ہے۔ ہندوؤں سے متاثرہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کم عقل اور صرف گھریلو کام کاج تک محدود سمجھا جانے لگا۔ نتیجتاً ہمارے اسلاف کے شاندار کارنامے سیرت کی کتابوں تک محدود ہو گئے۔ مزید برآں جو پردہ عورت کی عصمت کا محافظ تھا اسے عورت کی ترقی کا سب سے بڑا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ پروپیگنڈہ کی ایسی ہوا چلی کہ اچھے خاصے سمجھدار لوگ اس کے دام میں آ گئے۔ یہاں تک کہ اسلام کی اصل روح اور تعلیمات سے واقف اور اس پر عمل کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔
    ابھی بھی وقت ہے خدارا سنبھل جائیں۔ خدا سے بڑا نہ کوئی خیرخواہ ہوسکتا نہ معلم۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہونے کے ناطے ہمیشہ گمراہی کے گھنگور اندھیروں کیطرف ہی لے جائے گا جس کا انجام دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی۔ شیطان کے چیلے مسحور کن نعروں اور رنگین نظاروں کی مدد سے سبز باغ دکھا کر بے حیائی کی راہ پر گامزن کررہے اور ہماری خواتین بلا سوچ سمجھ کے اپنی جنت چھوڑ کر بازار کی زینت بن رہی ہیں۔ جائز مطالبات اور حرام کاری کے فروغ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدارا ان دونوں کو آپس میں نہ ملائیں ورنہ عورت کی مظلومیت کی داستانیں تو ختم نہ ہوں گی لیکن بے حیائی و فحاشی میں ضرور اضافہ ہوگا جس کا انجام بلآخر معاشرے کی بربادی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد پاک ہم سب کیلئے مشعل راہ بھی ہے اور تنبیہ بھی؛
    ”تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ، اور تم میں سب سے بہتر ہے وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔”
    کیا اس کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ نہیں ہے؟
    ‎@once_says

  • خواہشات کی تکمیل میں سکون کی تلاش تحریر:- محمد دانش

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے  میرے ارمان لیکن پھر بھی کم  نکلے ۔

    انسان ازل سے سکون قلب حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے اور اس کو یہ ہی لگتا ہے کہ خواہشات کی تکمیل اس کو سکون قلب دے گی اور وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے انتھک محنت کرتا ہے جب وہ اپنا مقصد اور اپنی خواہش کو پورا کر لیتا ہے تو وہ اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اس نے سکون حاصل کر لیا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا وہ کچھ وقت تو خوش اور مطمئن ہوتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ پھر بے چین ہوجاتا ہے کیونکہ خواہشات کی تکمیل میں سکون نہیں ہے۔جیسا کہ
    بچپن سے ہمیں لگتا تھا کہ ہم بڑے ہو جائیں گے تو زندگی سب سے زیادہ پرسکون ہوگی پھر جب بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ بچپن کی زندگی ہی تو سب سے زیادہ پرسکون زندگی تھی جس میں نہ کوئی ٹینشن، نہ کوئی پروبلم ، نہ کوئی زمہ داریاں ۔
    میری اپنی زندگی میں ایسا کئی بار ہوا ہے میں شدت سے خواہش کرتا تھا کہ میرا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہوجائے اس خواہش اور مقصد کو پورا کرنے کے لئے میں نے دن رات محنت کی رشتے داروں سے لا تعلق رہا اور نہ کسی خوشی غمی میں شامل ہو سکا صرف اور صرف میڈکل کالج میں داخلے کی خواہش کو اہم جانا بالاآخر وہ دن میری زندگی میں آہی گیا جس کے کئے میں نے زندگی کے بارہ سال محنت کی اور ہر چیز کو فراموش کر دیا ۔
    وہ میری زندگی کا انتہائی بہترین دن تھا جب مجھے پتہ چلا کہ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں ہوگیا ہے میں بےحد خوش تھا اتنا کہ جیسے میں نے دنیا فتح کر لی لیکن جب میں نے کالج جانا شروع کیا تو وہ خوشی جس کو پانے کے لئے میں نے سب کچھ فراموش کر دیا تھا، تھوڑے ہی وقت میں مدھم پڑنے لگی تھی اور پھر میرے اندر کچھ نئی خواہشات نے جنم لیااور میرے دل کا سکون ختم ہونے لگا حالانکہ یہ میری بچپن کی خواہش تھی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تو وقتی سکون تھا اصل سکون تو اس میں تھا ہی نہیں۔
    انسان اپنی زندگی کا بیشتر حصہ خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے گزار دیتا ہے جوانی میں اچھامقام پانے کے لئے صحت گنوا دیتا ہے اور بڑھاپے میں صحت مند ہونے کی خواہش میں پیسہ گنواتا ہے ان سب میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ سکون قلب تو اللّہ کی یاد اور ذکر میں ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللّہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں

    اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ
    یاد رکھو اللّہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے
    (سورہ الرعد آیت نمبر 28)
    اللّہ نے اپنے ذکر میں سکون اور اطمینان رکھا اور انسان اس اپنی خواہشات میں ڈھونڈتا ہے
    اس سے میں نے اپنی زندگی میں یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے خواہش کرنا اور اسکی تکمیل کے لئے کوشش کرنا کوئی غلط بات نہی ہے لیکن ان خواہشات کی تکمیل سے سکون قلب کی توقع رکھنا غلط بات ہے کیونکہ دائمی سکون صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی اللّہ پاک اور اسکے رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارینگے تو ہمیں چاہیے ہم اس آخرت کی فکر کریں جو حقیقی زندگی ہے جس کا کوئی اختتام نہی ہے اور اپنے آپکو اس عارضی دنیا کے جنجال سے نکالیں کیونکہ یہ دنیا صرف ایک امتحان گاہ ہے
    اللّہ پاک ہمیں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @iEngrDani

  • والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    بچے اپنے والدین کے انداز سے ہی متاثر ہوتے ہیں ۔اس طرح ہم لوگ بھی اپنے بچوں کی پرورش بھی اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں ۔ بچوں کی پرورش میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ہمیں چاہیئے کہ ہمیں اچھے ماں باپ بننے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔اس سے معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ جیسے والدین تربیت دیں گے بچے اسی طرح ماحول کو اپنائیں گے ،اسی طرح کی سوسائٹی کو اپنائیں گے ۔
    آپ لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہونگے کے ہم سب اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے اور ان کو آزادی بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی من چاہے چیزیں کریں، پر ایک وقت آتا ہے کہ ہم اس حد کو پار کر دیتے ہیں اور پھر ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں ۔اور اس وقت سمجھ نہیں آتا کے کیا جائے ۔ جو کے سراسر غلط ہے ۔ہمیں اپنے بچوں کو ایک حد تک پیار، آزادی اور لاڈ دینا چاہیئے کیونکہ یہی پیار اور لاڈ بچے کو بگھاڑ بھی دیتا اور کھبی کھبی کھبی سنوار بھی دیتا ہے ۔ اور ان کی حدود کا تعین خود ماں باپ کو ہی کرنا چاہیئے ۔اب آپ کے ذہن میں سوال آئےگا کے "پیار کی حد کا تعین کیسے کیا جائے؟” تو جواب یہ ہے کے آپکو اپنا کردار بہتر کرنا ہوگا کیونکہ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں ۔ تو پھر جیسا والدین کا سلوک ،اخلاق اور رہن سہن ہو گا تو بچے وہی سیکھیں گے اور اپنائیں گے ۔
    کچھ عرصہ پہلے جاپان میں ایک سروے کیا گیا اور کچھ لوگو کے انٹرویو لیے گے تو اس سروے کے مطابق والدین اور بچوں میں رابطہ بہت کم ہے ۔ اور والدین کا رویہ بچوں کے لیے بہت نرم بھی ہے ۔ ساتھ ہی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک چوتھائی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا برتاؤ بچوں کو لے کر بہت سخت ہے ۔ یہ بات صرف مشرقی ممالک تک ہی
    محدود نہیں ہے ۔اس وجہہ سے بچوں اور والدین میں دوستی کا رشتہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
    والدین کو یہ بھی چاہیئے کہ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی بھی ان پر مسلط نہ کرے۔ انکو بات بات پر نہ ٹوکا کریں ۔ انکے ہر موڈ کو تسلم کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کے تمام جذبات اور احساسات کو قبول کرنا چاہیئے تا کے جب ہم انکو غصہ کریں تو وہ پریشان نہ ہو اور اپنا دل چھوٹا نہ کریں۔ والدین کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ اسکا بچہ ہار وقت خوش رہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ ماہر نفسايات کے مطابق یہ ہے کہ آپ کا بچہ ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا اس لئے والدین کا فرض ہے کہ بچے کے ہر موڈ کو قبول کرے اور اسکو مجبور نہ کرے کے وہ اسکی وجہ بتاۓ۔ کیونکہ اس سے انکا موڈ اور خراب ہو جائے گا اور یہ لازم ہے کہ وہ پھر اپنے ،والدین سے باتمیزی کریں۔
    آپ(والدین) اپنے بچے کا انسانی عکس ہوتے ہیں ۔ہم اپنے بچوں کے ساتھ جو بھی بتاؤ کرتے ہیں وہی بتاؤ انکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔اگر والدین کچھ اپنے بچے کو سمجھنا چاھتے ہیں تو وہ ان کو ہنسی مزاق میں اس بات کا ذکر کریں اور سمجھیں۔ کوشش کریں جب ملیں ان سے تو ہمیشہ خوشی سے ملیں۔ لیکن اگر آپ کے بچے کا رویہ برا ہے اور وہ آپکو اپنے اس رویہ سے کچھ محسوس یا کچھ بتانا چاہتا ہے تو آپکو اصل مطلب تلاش کرنا چاہیئے پھر اسکو حل کرنے کے لیے انکی مدد کریں ۔

    Twittet ID: @iam_farha

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا،  تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

  • بدلنا تو پڑے گا ہی”  تحریر؛ ارباز رضا بُھٹہ

    بدلنا تو پڑے گا ہی” تحریر؛ ارباز رضا بُھٹہ

    اس وقت اگر دیکھا جائے تو ہمارے چھوٹے سے چھوٹے بچے کے ذہن میں بھی یہ بات بٹھا کر رکھ دی گئی ہے کہ مغربی اقوام خصوصاً ان کے لیڈرز جو کہ خود کو دنیا پر مزید اوپر کرنے اور مسلمانوں کو دن بدن نیچا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ہمارے سخت مخالف ہیں اور روز بروز سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ خدانخواستہ میں اس بات کا انکاری نہیں ہوں اور نہ ہی یہ سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ ٹھیک کر رہے ہیں۔

    اس وقت بات اس انداز سے بچوں کے آگے پیش کرنی چاہیے کہ دیکھو! جب تک ہمارے پاس طاقت و اقتدار، علم اور مستقبل کی بہترین پلاننگ رہی تب تک تو ہم نے بھی کھل کر ان لوگوں کی دھلائی کی۔ اس بات میں شک نہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ادوار کے علاوہ بھی چند ادوار میں بہترین انداز سے غیر مسلموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا گیا مگر بات زیادہ تر بادشاہوں کے ادوار پر ہو رہی ہے۔ جس بادشاہ کا جتنا بس چلا اس نے اتنا ہی خود کا یعنی مسلمانوں کا اور غیر مسلموں کا نقصان کیا۔ خود خزانے سمیٹے اور غریبوں کو دن بدن قریب تر کر دیا گیا۔ تمام آسائشیں خود کے لیے حاصل کی اگر عوام کو دیا بھی تو ناتلافی نقصان۔ خیراس بات کا خلاصہ میں چند انہی جملوں میں کرنا چاہوں گا کہ جب حقیقی اسلام جو کہ خدا اور اس کے رسول کا تھا درباری اسلام میں تبدیل ہوا تب ہی ایسےمسائل نے جنم لیا جن کی وجہ سے ہم دن بدن بستی میں چلے گئے۔

    یہ بات تاریخ کے اوراق میں قلم بند ہے کہ جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کے چمٹے سے تشبیہ دی جاتی تھیں اور انہیں بدروحوں کو نکالنے کے لیے سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی۔ اس وقت عراق میں مسلمان جدید کیمسٹری اور ادویات کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ جہاں ابن سینا ایسی کتاب لکھ رہا تھا جسے اکیسویں صدی میں پڑھا جانا تھا۔ دوسری جانب جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے آگے چل کر "بائبل” کا خطاب ملنا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ ان درباری بادشاہوں کے اسلام کی وجہ سے جس میں صرف اور صرف ظلم و ستم کو آگے کر کے دکھایا گیا ساتھ ہی ان ادوار میں وہ بکے ہوئے مولوی جنہوں نے اسلام اور بادشاہت کے نظام کو باہم ملا کر رکھ دیا دن بدن مسلمانوں کے زوال کا باعث بنے۔ ایک بات میں اکثر سوچتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارک جو کہ ظاہری طور پر صرف 63 برس تھی اس میں بھی صرف 23 سال کے عرصے میں اسلام بےحد پھیلا وہ بھی عمل اور اخلاق سے۔ مگر اس وقت سے اب تک اگر اسلام پھیلا بھی ہے تو کس ratio سے؟

    ​ خیر اگر ہم اپنے بچوں کو بغیر کسی کی پرواہ کیے یہی بتا دیں بیٹا جب تک ہمارے پاس قوت و طاقت علم کی بدولت تھی ہم نے ترقی کی اور دوسری اقوام کو اسلام کی جانب اخلاقی طور پر دعوت دینے کی بجائے ہم نے ڈنڈے کے زور پر کام کیا۔ یہاں میں بادشاہوں کے اسلام کے بات کر رہا ہوں نہ کہ اولیائے کرام کے پھیلائے گئے اسلام کی۔ مگر جب ہم سے یہی سب چیزیں ختم ہوئی جب ہم نے بھی بو علی سینا اور جابر بن حیان کے دور کے یورپی لوگوں کے جیسے کام شروع کر دیے یعنی مختلف بیماریوں کو ہم نے تعویذ و جادو اور دم و درود پر رکھ لیا بنا ان کا علاج کیے اور وہ ہمارے بزرگوں والا کام( یعنی سائنس کی مدد سے علاج) کرنے لگے تو انہوں نے مزید دریافتیں کی اور سائنس کو ترقی دی۔ تب انہوں نے نہ ہی دن دیکھا نہ رات، نہ ہی عراق و شام اور نہ ہی افغانستان و پاکستان انہوں نے ہمیں ہر لحاظ سے پستی کی جانب دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی اور کیا کہنے ہم نے بھی جانب پستی ہی جانا پسند فرمایا۔ اس لیے ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارا کوئی حال نہیں ہے ہم ظاہری طور پر بدلنا چاہتے ہیں مگر اندرونی طور پر پستی کو پسند کیے ہوئے ہیں اور اس سے نکلنا تو دور کی بات ہم نکلنے کا سوچتے تک نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم مار کھا رہے ہیں اور کھاتے رہیں گے۔ ہماری دنیا میں کہیں عزت نہیں ہو گی چاہے وہ ہمیں اپنے مقاصد کی خاطر کھلائیں یا پھر دہشت گرد کہ کر مار دیں ان کی مرضی ہے۔ اس میں ہم بےبس ہیں۔ اس لیے جب تک ہم نہیں بدلیں گے جب تک تعلیمی میدان میں آگے نہیں چلے جاتے تب تک ہر ملک، شہر اور گلی میں مسلمان ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔

    @Haider_Arbaz_01

  • زندگی ایک مختصر سفر تحریر:ثمرہ مصطفی

    زندگی کیا ہے؟یہ زندگی ایک کتاب کی طرح ہوتی ھے، بالکل ایک بند کتاب کی طرح، جسے جب پڑھنے کے لئے کھولا جائے تو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کس صفحے میں ہنسی اور خوشی ملنے والی ھے اور کہاں غم اور آنسو…. لیکن دعا سے تقدیریں بدل جاتی ہیں اور ہاں کسی کے چہرے پر مت جائیں کیونکہ ہر انسان ایک بند کتاب کی مانند ھے جس کے سرورق پر کچھ اور جبکہ اندرونی صفحات پر کچھ اور تحریر ہوتا ھے۔ زندگی ایک سفر ہے جسکی منزل موت ہے۔ہر انسان کا اپنا مقصد ہوتا ہے لیکن کسی کو اپنا مقصد یاد نہیں شاید اسی وجہ سے ہر کوٸی الجھن کا شکارہے۔ہر کوٸی محنت کررہا ہے لیکن اچھے مسقبل کیلے نہیں بلکہ دوسرے  کو نیچا دکھانے کیلے اسی لیےتو محنت کرنے کا باوجود بھی کامیابی نہیں ملتی۔اور پھر ساری زندگی اپنے رب سے شکوہ کرتے رہتے ہیں ۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دوسروں سے متاثر ہوتے ہیں ان جیسا بننا چاہتے ہیں لیکن ان جیسی محنت نہیں کرتے کیونکہ ہم ظاہر دیکھتے ہیں باطن نہیں۔ہم اس بات کو سوچنا ضروری ہی نہیں سمجھتے کہ جس شخص کی زندگی سے ہم متاثر ہورہے ہیں اسنے کتنی محنت کی ہوگی۔ہرانسان کی زندگی مختلف ہوتی ہے۔جو دوسرا ہے وہ اپ کبھی نہیں بن سکتے اگر زندگی میں سکون چاہتے ہیں تو اپنی زندگی کا مقصد پہچانیں۔  زندگی نے دنیا میں کسی سے وفا نہیں کی،ساری دنیا کے لوگوں کو دھوکہ دے چکی ہےاور کیا پتہ زندگی کی کس راہ پر ہماری زندگی آہستہ ہوجاۓاور موت ہمیں آن لے۔ایسی زندگی کا کیا بھروسہ جو طوفانوں میں چراغ کی طرح جلے اور موت کا انتظارکیوں نہ کریں جو آندھی کی طرح ہمارے پیچھے ہے۔رسولﷺنے فرمایا جب شیطان مردود ہوا تو اسنے کہااے پاک پروردگار تیری عزت کی قسم تیرے بندوں کو ہمیشہ بہکاتا رہوں گا جب تک  انکے جسموں میں انکی روحیں رہیں گی، اللہ پاک  نے  فرمایا مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی اور اپنے اعلیٰ رتبے کی جب تک وہ مجھ سے توبہ کرتے رہیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔زندگی انسان کا سب سے طویل سفراور سب سے مختصر سفر ہے یزندگی ایک خواب ہے جو خوبصورت بھی ہوسکتا ہے اور بھیانک بھی ۔زندگی ایک خوشی بھی ہے اور اذیت بھی ۔زندگی کہ کئی روپ ہیں یہ کبھی سراب ہے کبھی گلاب ہے تو کبھی عذاب ہے زندگی-اس زندگی سے انسان کو ہر طرح کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ اس کی تلاش میں یہ بھول جاتا ہے کہ یہ زندگی ایک پھول کی مانند ہے جواپنی شاخ سے جدا ہوکر مرجھاجاۓ گی۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم زندگی کی حقیقت جانتے تو ہیں لیکن جان بوجھ کر حقیقت سے نظریں چرا لیتے ہیں اور  زندگی کی حقیقت کو ماننے  سے انکار کر دیتے ہیں لیکن حقیقت تو حقیقت ہے جب سامنے آتی ہے تو پھر ہم انسان ہی حیران و پریشان اور ہراساں  ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنے اندر حقیقت کو جاننے کے ساتھ ساتھ ماننے کا ظرف بھی پیدا کر لیں اور زندگی کی حقیقت سے نظریں نہ چرائیں تو پھر ہر قسم کے حقائق کا بڑی بہادری و جرات مندی سے سامنا کر سکتے ہیں بجائے یہ کہ حقیقت کو سامنے پا کر  حیرانی و پریشانی کا مظاہرہ کرنے کی بجاۓ  زندگی کی حقیقت پر غور  کریں تو اس حیرانی و پریشانی کی کیفیت سے آزاد ہو سکتے ہیں-میری دعا ہے کہ خداوند تعالٰی ہماری زندگیوں میں سکون  اور  خوشیاں عطا فرمائے۔ غموں اور دکھوں سے محفوظ رکھے۔ ہماری جاٸز دلی خواہشات کو پورا فرمائے۔

    @Samra_Mustafa_

  • یہ جو ہر شخص ماہر بنا ہوتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل  تحریر: علی خان

    یہ جو ہر شخص ماہر بنا ہوتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل تحریر: علی خان

     

    قصہ پرمزاح ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی مزاج کا عکاس بھی ہے کہ کسی صاحب نظر کی محفل میں مجھ سے ایک بے صبرے صاحب جاپہنچے اور چار کتابوں کا ذکر کرکہ بولے حضرت مجھے مبارک دیں کہ یہ کتابیں پڑھ کر میں ابدال ہوگیا ہوں۔ صاحب محفل بولے مبارکباد کا نہیں بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ گوشت پوست کا انسان اب دال ہوگیا ہے۔ ان طالب حق کا یہ جواب سن کر کیا حال ہوا معلوم نہیں مگر ایسے شارٹ کٹ چاہے و دنیا کے لیے ہوں یا دین کے لیے تلاش کرنا گویا ہماری سرشت بن چکی ہے۔ 2 مہینوں میں میٹرک اور انٹر پاس کرنے کے دعوے تو پرانے ہوئے کہ اب رکشوں کے پیچھے 3 مہینے میں ڈاکٹر بنانے کے اشتہارات بھی عام سی بات لگنے لگی ہے۔ ایسا لالچ دینے والوں کا دھندا ہم جیسوں سے ہی چلتا ہے کہ ہمیں ہر کام میں ماہر بننا پسند ہے چاہے ہمارا اس سے تعلق ہو یا نا ہو۔ چار سو پھیلے ویب ٹی وی اور ان کے اینکرز بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ زبان سے کوئی تعلق لگاؤ ہو یا نا ہو۔ معلومات بے شک ساتھ کے محلے بارے بھی نہ ہو لیکن افغان جنگ اور عالمی حالات پر تبصرے میں یہ ماہرین کوئی کسر نہیں چھوڑتے.

    مریض کی عیادت کرنے جانے والا ہر شخص ایسے ایسے طبی مشوروں سے نوازتا ہے کہ بیمار انہیں سن کر مزید بیمار پڑ جاتا ہے۔ کسی کو قانونی کام پڑ جائے تو ہر آتا جاتا تعلق دار اسے دو چار قانون مشوروں سے ضرور نوازتا ہے اور ان میں اکثر مشورے طبی لحاظ سے ضرررساں اور قانونی حوالے سے قریب قریب جرائم  میں شمار ہوتے ہیں۔ کسی کے پکے کھانے میں نقص نکالنا اور اس بارے اپنے تئیں مفید مشورے دینا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ بچوں کی اچھی پرورش کے طریقے وہ خاتون بتاتی ہیں جن کی اپنی شادی نہیں ہوئی ہوتی۔   کسی کی شادی کا تمبو لگ رہا ہو یا قل خوانی کاکھانا طے کیا جارہا ہو۔ مفت کے مشورے دینے  والے کہیں موقع نہیں جانے دیتے۔ کسی کے بچے کا نام رکھنا ہو، مشورہ حاضر، سڑک پر جاتے اسٹینڈ اٹھانے کی دہائیاں دیتے، دوپٹہ سنبھالنے کی آوازیں لگاتے ہمارے ہی بھائی بندو ہوتے ہیں۔  کسی بھی موقعے پر خاموش رہنا شاید جرم سمجھا جاتا ہے۔ معاملہ  مزید خراب تب ہوتا ہے جب ایسے جعلی ماہر میدان عمل میں بھی آن پہنچتے ہیں اور اچھے خاصے کام کا بیڑا غرق کردیتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ مثالیں  ہر مرتبہ عید الاضحیٰ  پر ہمیں نظر آتی ہیں جب موسمی قصائی  کئی  افراد کی قربانی ہی ضائع کردیتے ہیں

    دیکھا دیکھی کے کاموں کا انجام تو یوں سا ہی ہوتا ہے کہ کسی گاؤں میں ایک اماں بی گلہڑ کے مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ تکلیف کے مارے دہائی دی تو راستے سے گزرتا اتائی آیا اور علاج کا یقین دلایا۔ اماں نے حامی بھری تو اتائی نے گردن پر کپڑا باندھ کر اوپر ہتھوڑا دے مارا۔ بوڑھی مریضہ جان سے گئیں تو دیہاتیوں نے جعلی طبیب کو جاپکڑا ۔ مار کھا کر طبیعت درست ہوئی تو بولا ساتھ کے گاؤں میں یہ ترکیب اونٹ کے گلے میں پھنسا تربوز نکالنے کو استعمال کی جاتی۔ وہاں سے مار کھا روانہ ہوا ۔ اگلی بستی میں ایک  شخص کو کھجور کے درخت پر پھنسے دیکھا کہ وہ اوپر تو جاپہنچا تھا لیکن  واپسی کی سمجھ نہ تھی۔ دانائی کا بھوت اتائی پر پھر سوار ہوااور آگے بڑھ مشورہ دیا کے اوپر رسی پھینکو  جو اوپر پھنسا شخص کمر میں باندھ لے۔ پھر مل کر دوسرے سرے پر زور لگاؤ۔  دیہاتیوں نے عمل کیا اور درخت پر پھنسا آدمی نیچے گر ا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اتائی نے پھر مار کھائی اور  وجہ یوں بتائی کہ ایک بار کسی جگہ ڈوبنے والے کو ایسے ہی بچایا گیا تھا۔ تو ایسے مشورے دینے اور لینے سے بچیں کہ جان لیوا ہوسکتے ہیں  ورنہ یوں ہی چلتا رہا تو  قصہ اپنا بھی عدم کی راہوں میں  لکھا جائےگا

    تحریر ؛ علی خان 

    @hidesidewithak

  • اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    ✨اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا✨
    قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں قوم کی تعمیر کے لیے تین رہنما اصول سکھائے تھے۔ وہ اصول اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط ہیں۔ انہوں نے تینوں میں سب سے زیادہ اہم اتحاد ہے اور بے شک اتحاد اجتماعی زندگی میں تیز اور دیرپا ترقی کے لیے سب سے قیمتی اصول ہے۔
    ایک قوم ان لوگوں کا مجموعہ ہے جو کسی خاص علاقے میں رہتے ہیں اور تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور قومی مفادات کی خاطر مشترکہ طور پر کوششیں کرتے ہیں۔ ملک و ملت کی خاطر یکجا ہو کر تمام تعصبات کو مٹا کر مل جل کر کوشش کرنی انہیں منظم بناتا ہے۔
    اتحاد و یکجہتی بہترین نظام زندگی کے طور پر اسلام کی عظمت اور پھیلاؤ کے لیے ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں نے خود کو ہندوؤں سے الگ کر دیا۔ لہذا ہماری بقا اور ترقی کا راز اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ پاکستان میں قومی اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہمارے طاقتور پڑوسی اور دشمن بھارت نے ابھی تک ہمارے آزاد وجود کو قبول نہیں کیا ہے اور ہر وقت ہمیں نقصان پہنچانے کے اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج خراب کرنے کے لیے کوٸی نہ کوٸی سازش کرتا رہتا ہے۔ کچھ دوسری طاقتیں بھی ہیں جو کسی نظریاتی ریاست کو اپنی سرحدوں کے قریب ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتی ہیں ۔ پاکستان کے دشمن ہمیشہ ملک میں قومی وحدت کو کمزور کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہماری اہم ضرورت ایک قوم کے طور پر اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا ہے جس نظریے پہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور قاٸد اعظم نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا ہم سب کو بحیثیت قوم اس نظریہ پر متحد ہونا ہے تا کہ بیرونی طاقتیں ہم پہ مسلط نہ ہو سکیں ہمیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ مزید وقت ضائع کیے بغیر ہمیں اپنے ملک میں اسلامی نظام زندگی متعارف کرانا چاہیے کیونکہ اسلام قومی وحدت اخوت اور مساوات پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے اسلام نے بھاٸی چارے کا ایک دوسرے سے حسن سلوک کا انسانیت کا اور بحیثیت قوم متحد ہونے کا درس دیا۔ اسلام سماجی انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے معاشرے کے ہر فرد کو حقوق دیے ہیں۔ اقلیتوں کو تحفظ دیا ہے ۔ اسلام معاشرے میں عدل وانصاف کا ضامن ہے۔
    اقبال رح نے فرمایا تھا: کہ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے💫 ۔ ہمیں اپنے اند بحیثیت قوم اتفاق اور بھاٸی چارے کی فضاء قاٸم کرنی ہے جو وطن عزیز کی بقا اور ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
    اس کے علاوہ ہمیں پاکستان میں جمہوریت اور نمائندہ حکومت کی کامیابی کے لیے ہم لوگوں کو حکومت کے معاملات میں شرکت کا احساس دلا کر انہیں محب وطن بنا سکتے ہیں پاکستان کے مساٸل کو حل کرنا یا اسکی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہم سب کو بھی مل جل کر اس کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا کرپشن ، رشوت ، بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
    علاقائی مسائل کو مرکزی حکومت کی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر حل کرنا چاہیے۔ زبان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسے تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ہماری زبان ہماری شناخت ہے اور ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچانے کا بہترین زریعہ ہے ۔
    مختلف صوبوں کے درمیان تجارتی اور سفری سہولیات بھی مہیا کی جائیں پریس ، سوشل میڈیااور ٹیلی ویژن بھی لوگوں کے نقطہ نظر کو ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہم ملک میں حقیقی معنوں میں قومی وحدت پیدا کریں گے تو ہم اپنے ملک کی سالمیت کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپس میں اتحاد و اتفاق قاٸم کرو گے تو تمام دشمنوں کو زیر کر سکو گے اور ترقی یافتہ قوم بن کے ابھرو گے مگر اگر آپس میں ہی الجھ جاٶ گے تو دشمن تمہیں نقصان پہنچاۓ گا ۔ہم سب اس ملت کے کے مقدر کا ستارا ہیں ایک قوم ہیں متحد رہیں تا کہ وطن عزیز مزید مضبوط ہو 😇
    شمسہ بتول
    @sbwords7

  • سوشل میڈیا کا استعمال ، تحریر:  راحیلہ عقیل

    سوشل میڈیا کا استعمال ، تحریر: راحیلہ عقیل

    کچھ سال پہلے تک سوشل میڈیا اتنا عام نہیں تھا لوگ صرف ضرورت کے تحت اسکا استعمال کرتے تھے آج ہر ہاتھ میں موبائل ہو اور اس میں سوشل میڈیا کااستعمال نا ہو ناممکن سی بات ہے اناڑی سے اناڑی بھی سوشل میڈیا پر بیٹھے گیانی بنے ہوتے ہیں تیزی سے ترقی کرتے دور میں جہاں ہر انسان خود کی پہچان بنانے کے لیے خود کو منوانے مقبول کرنے کے لیے اس کوشش میں رہتا ہے جو بھی خبر ویڈیو وائرل ہو پہلے ہمارے اکاؤنٹ سے ہوجاے ہمارے لائکس،فالورز بڑھ جائیں ہمارا نام ہوجاے چاہے پھر وہ خبر جھوٹی ہو یا نازیبا ویڈیوز ہر شخص خودنمائی چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ وقت ہی ایسا ہے یہاں گھروں میں ایک دوسرے کو ٹائم دینے کے بجائے کوشش ہوتی جلد از جلد کام ختم کرکے سوشل میڈیا پر وقت گزارا جائے گھروں میں بے سکون، وقت نا دینے کی شکایت، تعلیم پر توجہ نا دینا، کھانے پینے صحت کا خیال نا رکھنا، نیند پوری نا کرنا، یہ سب سوشل میڈیا کی مہربانی ہے ہم اس قدر عادی ہوچکے ہیں کے اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے وقت ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کے ہم اپنی نسلوں کو کیا ترغیب دے رہے ہیں یہی تو سیکھ رہے ہم سے بچے اور پھر ہم ہی شکایت کررہے ہوتے ہیں کے بچے بدتمیز ہورہے ہیں بات نہیں سنتے ہم نے ہی تو بچوں سے جان چھڑانے کے لیے انکے ہاتھوں میں موبائل دیے ہیں بچوں کو جس وقت کتابوں کی ماں باپ کی توجہ کی گھومنے پھرنے، لاڈ پیار کی ضرورت ہوتی ہم نے ساری زمہ داری ایک موبائل دلا کر پوری کردی ؟ سوچیے …….

    سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کا گند

    بہت سارے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال سیاسی طور پر کرتے ہیں وہ جماعت کی خوبیاں اور مخالف جماعتوں کی خامیاں گنواتے تھکتے نہیں، کافی بار سنا کے کچھ جماعتیں پیڈ ٹیمز سے کام کرواتی ہیں،گالیاں ، الزامات، دھمکیا، فوج مخالف بیانہ، یہ اکثر جعلی اکاؤنٹس سے ہوتا یا پھر دوسرے ممالک میں آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سکون سے فل اے سی روم میں بیٹھے لوگ یہ کام بخوبی سرانجام دیتے ہیں ظاہر ہے انکو ڈر خوف تو ہوتا نہیں، پیچھے رہ جاتے ہمدرد کارکنان وہ سارا دن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں ہر طرح سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں رہتے کے کیسے اپنے رہنما کو پارسا ثابت کریں
    میرا ایک سوال ہے ان کارکنان سے ہمدردوں سے
    خدا نا کرے آپ مر گئے آپ کے جنازے پر آپکے رہنما آئیں گے؟ یا وہ دوست آپکے دکھ پریشانی میں آپکو حوصلہ دینگے ساتھ دینگے جن سے آپ سارا دن لڑائیاں کرتے ہوں اپنے رہنماؤں کے لیے ؟ خود فیصلہ کرلیں۔۔۔۔۔۔۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ
    آج کے دور میں سوشل میڈیا پاور ہے یہاں دس منٹ میں کسی کے ساتھ ہوئے ظلم پر آواز اٹھاکر حکمرانوں کو جگایا جاتا ہے ارادے ایکشن نا لیتے ہوں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اتنے مضبوط ہیں کہ وہ جانتے ہیں انکی آواز سنی جاے گی بلکہ کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی یہ مثبت پہلو یہ صحیح استعمال ہے کشمیر کی آزادی کی تحریک ہو یا بھارت کے کشمیر میں مظالم، افغانستان میں طالبان کی واپسی ہو یا امریکہ، بھارت کی چیخیں یہ سب ہمیں سوشل میڈیا سے پتہ چلتا ہے کہ کب کون کیا کررہا کہہ رہا ۔۔۔۔ آنے والے وقتوں میں سوشل میڈیا اک نیا رخ لے گا۔۔۔

    ٹک ٹاک
    ایسے ہی کچھ ایپس ایسی بھی ہیں جہاں سوائے گند، غلاظت،بے حیائی،فتنے کے سوا کچھ نہیں ٹک ٹاک” سب ہی جانتے ہیں ٹک ٹاکرز کے آئے روز نئے اسکینڈلز منظرعام پر آتے ہیں جس وجہ سے پاکستان میں فلحال ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔

    یوٹیوب
    یوٹیوب اچھی ایپ ہے اپنے حساب سے چاہیں تو پیسے کمانے کا زبردست طریقہ ہے گھر بیٹھے کافی کام کرتے ہیں لوگ اس پر خواتین کوکنگ، میکپ، سلائی کڑھائی، بیوٹی ٹپس اور بھی کافی چیزیں ہیں جن پر کام کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔
    ہر چیز کے اچھے برے پہلوں ہیں یہ سوچنا ہمارا کام ہے کے ہم نے خود اور اپنے بچوں کو اسکا استعمال کیسے کروانا ہے اور کس عمر میں انکے ہاتھوں میں فون دینے ہیں انکو آزادی دینی ہے ۔۔۔۔۔
    تحریر راحیلہ عقیل