Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈپریشن اور خودکشی تحریر: تنزیلہ اشرف

    ڈپریشن اور خودکشی تحریر: تنزیلہ اشرف

    دنیا میں بہت سی بیماریاں ہیں لیکن ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی وجود کو گھن کی طرح کھا رہی ہے ۔۔ہم آئے روز
    اخبارات میں،اپنے اردگرد بہت سے ایسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں۔۔
    "کبھی کوئی بچہ امتحان میں ناکامی پر موت کو گلے لگا رہا ہے تو کبھی کوئی نام نہاد عشق میں ناکامی پر آہ بھر کر زندگی کو
    ناکام سمجھ کر موت کی آغوش میں جا سوتا ہے”۔۔
    ” کیا زندگی اتنی سستی ہے” ؟ ۔۔
    ہمیں سوچنا ہے اور جاگنا ہے اس غفلت کی نیند سے جس میں ہم ڈوبے ہوئے ہیں اور ہماری نئی نسل تباہی کے دہانے پر جا
    پہنچی ہے۔
    خود کشی کے بڑھتے واقعات ہمیں توجہ دال رہے ہیں کہ ہم اپنی نئی نسل کی تربیت کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔۔
    ہمارے بچے حتی کی اب نوجوان طبقہ بھی ڈپریشن کی زد میں آکر ایک ہی راستہ چنتا ہے اور وہ ہے موت۔۔
    ایسا کیوں ہے کیا ہمارے معاشرتی رویے اس طرح کے ہیں؟۔۔کیوں خودکشی کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟۔۔
    ڈپریشن کی بیماری عام ہے۔۔
    "آج ہم ان وجوہات پر غور کریں گے جو ڈپریشن کی وجہ بنتی ہیں اور نتیجہ موت کی صورت نکلتا ہے۔۔۔
    بچوں کو ڈپریشن سے محفوظ رکھنے کا طریقہ انھیں تعلیم کے ساتھ کھیل کود اور صحت مند سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے اس
    کے عالوہ وقتاً فوقتاً شرتی تربیت بھی کرنی چاہیے۔۔انھیں وقت کی گردش میں موجود خم دار رستوں پر چل ان کی اخالقی و معا
    کر منزل کی تالش سکھانی چاہیے”۔
    "ہمیں ضرورت ہے ہم اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کی نام نہاد سرگرمیوں سے دور رکھیں ۔۔ان کی تربیت اس طرح کریں کہ ان کو
    کوئی مشکل ،مشکل نہ لگے اور وہ کامیابی سے اپنے رستے کی طرف بڑھ جائیں”۔۔۔
    انھیں بتانا چاہیئے وہ کسی ناکامی کو اپنے ذہن پر سوار مت کریں بلکہ مشکل سے رستہ نکال کر آگے بڑھ جائیں۔۔
    ڈپریشن کی ایک اور وجہ نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی بھی ہے ۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے بے
    حد استعمال نے ہماری زندگیوں کو جھگڑ دیا ہے۔بعض لوگ سوشل میڈیا کی وجہ سے اتنے زیادہ اپنی راہ سے ہٹ کر بے راہ
    روی کی طرف بڑھ جاتے ہیں کہ نتیجہ موت کی صورت نکلتا ہے۔۔
    "ڈپریشن کی ایک اور وجہ زندگی کا جمود ہے کبھی کبھی زندگی میں ایسے لمحے موجود ہوتے ہیں جو بلکل اس پانی کی طرح
    ہوتے ہیں جو ساکن ہوتا ہے اور پھر اس کو کائی لگ جاتی ہے اس طرح اگر انسانی زندگی بھی جمود کا شکار ہو تو اس کو بھی
    کائی لگ جاتی ہے اور یہ کائی انسانی وجود کو کھا جاتی ہے اور بعض اوقات نتیجہ خودکشی کی صورت نکلتا ہے”۔۔۔
    "زندگی ایک بہتے ہوئے پانی کی طرح ہونی چاہیئے کیونکہ ٹھہرے ہوئے لمحے اور منجمد پانی موت کی عالمت ہے اگر زندہ
    رہنا ہے تو چلتے رہنا ہے ۔۔چھوٹے چھوٹے قدم ہی سہی لیکن قدم اٹھاتے رہنا ہے اسی میں انسانی وجود کی بقا ہے”۔۔
    "ہمیشہ ایک بات کا یاد رکھیں اگر کوئی رشتہ آپ سے چھن گیا یا دور ہو گیا ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ آپ ایک بہتر
    رشتے کے حقدار ہیں۔۔۔اس لئے خود کو اذیت مت دیں”۔۔
    آپ کو ہمیشہ وہ ہی ملتا ہے جس کے آپ حقدار ہوتے ہیں۔۔۔۔اس لئے خودفریبی سے بچیں۔۔۔
    خودکشی کی ایک اور وجہ نوجوان نسل کا چاہتوں اور محبتوں کی ڈور میں الجھنا بھی ہے ۔۔
    "ہمیں یاد رکھنا کہ محرم رشتوں کی محبت کبھی نامحرم رشتوں کی محبت پر حاوی نہیں ہوتی وہ محبت نہیں ایک دھوکا •
    ہوتا ہے جو ہم خود کو خود ہی دے رہے ہوتے ہیں۔۔محبت وہ ہے جو آسمانوں میں حیا کے نور سے لکھ کر عزت کی
    چادر میں لپیٹ کر ہمیں ایسے سونپی جاتی ہے جو ہمیں معتبر کر دیتی ہے اس لئے جھوٹی اور فریبی محبتوں سے خود
    کو بچائیں”
    کوشش کریں اپنے اردگرد موجود الجھے لوگوں کو خود سے جوڑ کر حرام موت سے بچائیں اسی میں بقا ہے, اسی میں زندگی۔

  • سگریٹ نوشی سے چھٹکارے کے پانچ مفید نکات حریر جہانتاب احمد صدیقی

    سگریٹ نوشی سے چھٹکارے کے پانچ مفید نکات حریر جہانتاب احمد صدیقی


    سگریٹ نوشی ایک بد ترین لت ہے جو سرطان ، فالج، اور امراض قلب کا سبب ہوتی ہے، اس لت سے پیچھا چھڑانا مضبوط ترین قوت ارادی کے مالک افراد کے بھی بس کی بات نہیں ہوتی۔ مگرسگریٹ نوشی کے نقصانات کم کرنے کیلٸے کچھ عادتیں اپنا کر خود کو اس لت سے آزاد کرواسکتے ہیں ۔

    جس جگہ سگریٹ نوشی کا اشتہار دیا گیا ہوتا ہے وہیں اس سے بچنے کیلٸے طریقے بھی بتائيں جاتے ہیں جسے بری طرح سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے، سگریٹ نوشی چھوڑنا ممکن نہیں مگر منصوبہ بندی کے تحت اس لت سے جان چھڑانا ناممکن بھی نہیں ہے ، ہر آنے والے دن کے ساتھ سگریٹ کی تعداد کم کر کے اس سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ ایک بار ایسا کرنے کی کوشش کریں اور پھر دیکھیں آپ کی صحت پر کس حد تک مثبت اثرات مرتکب ہوتے ہیں

    تو پھر کیا سگریٹ نوشی کی لت سے چھٹکارا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ چند مفید نکات اس حوالے سے بہت مددگار ثابت ہوں گے۔

    ١- تمباکو نوشی چھوڑنے کا منصوبہ بنائيں اور سگریٹ چھوڑنے کی تاریخ طے کریں۔. اگلے دو ہفتوں کے اندر ایک تاریخ کا انتخاب کریں ، لہذا آپ کے پاس چھوڑنے کی ترغیب کھوئے بغیر تیاری کرنے کے لئے کافی وقت ہے۔. اگر آپ بنیادی طور پر کام پر سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو ، ہفتے کے آخر میں چھوڑ دیں ، لہذا آپ کے پاس تبدیلی کے مطابق کچھ دن باقی ہیں۔.

    ٢- کنبہ ، دوستوں ، اور ساتھی کارکنوں سے کہو کہ آپ چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اپنے دوستوں اور اہل خانہ کو تمباکو نوشی چھوڑنے اور ان سے یہ بتانے کے اپنے منصوبے پر عمل کرنے دیں کہ آپ کو ان کے تعاون اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔. ایک ایسے دوست دوست کی تلاش کریں جو تمباکو نوشی کو بھی روکنا چاہتا ہو۔. آپ ایک دوسرے کو مشکل وقت سے گزرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔.

    ٣-ان چیلنجوں کا اندازہ لگائیں اور ان کا منصوبہ بنائیں جن کو چھوڑتے وقت آپ کو سامنا کرنا پڑے گا۔.زیادہ تر لوگ جو دوبارہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں وہ پہلے تین مہینوں میں ایسا کرتے ہیں۔. آپ عام چیلنجوں ، جیسے نیکوٹین کی واپسی اور سگریٹ کی خواہشوں کے لئے آگے کی تیاری کرکے اپنے آپ کو اس میں مدد کرسکتے ہیں۔.

    ٤- سگریٹ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کو اپنے گھر ، کار اور کام سے ہٹا دیں۔.اپنے تمام سگریٹ ، لائٹر ، اشٹری اور میچ پھینک دیں۔. اپنے کپڑے دھوئے اور کسی بھی ایسی چیز کو تازہ کریں جس سے دھواں کی طرح بو آ رہی ہو۔. اپنی کار کو شیمپو کریں ، اپنے دالیں اور قالین صاف کریں ، اور اپنے فرنیچر کو بھاپیں۔.

    ٥-سگریٹ چھوڑنے میں مدد حاصل کرنے کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔آپ کا ڈاکٹر انخلا کی علامات میں مدد کے لیے دوائیں لکھ سکتا ہے۔. اگر آپ ڈاکٹر کو نہیں دیکھ سکتے ہیں تو ، آپ اپنی مقامی فارمیسی میں کاؤنٹر پر بہت ساری مصنوعات حاصل کرسکتے ہیں ، بشمول نیکوٹین پیچ ، اور لوزینجز وغیرہ

  • پاکستان کی پہچان پاکستانی ٹرک آرٹ تحریر: محمد جمیل

    پاکستان کی پہچان پاکستانی ٹرک آرٹ تحریر: محمد جمیل

    آرٹ میں ہمیشہ پاکستان کو ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے. اپنے فن کے جوہر دکھا کر بہت سے فنکاروں نے اپنا اور ملک پاکستان کا نام روشن کیا یے "پاکستانی ٹرک آرٹ” ایسا ہی ایک آرٹ جس نے پاکستان کو شہرت اور ایک الگ پہچان دی ہے. پاکستان نے اس آرٹ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی ہے.
    رنگ برنگے اور خوبصورت ڈیزائنز سے تیار کردہ پاکستانی ٹرک آرٹ جب لمبے سفر اور سرحدوں پر جاتے ہیں تو ان کا آرٹ دیکھ کر انہیں باآسانی پہچانا جا سکتا ہے. پاکستان میں ٹرک ڈرائیوروں کے من پسند ڈیزائن بھی تیار کئے جاتے ہیں اس میں قدرتی مناظر, قومی ہیروز کی تصاویر, شاعری اور رنگ برنگے پھول پتیاں وغیرہ شامل ہیں.
    ٹرک آرٹ میں صرف رنگوں کا ہی کھیل شامل نہیں ہے کیوں کہ رنگوں والے آرٹ تو صرف دن میں ہی دکھائی دیتے ہیں اس لیِے آرٹسٹوں نے نئے طریقے استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک اور کاغذ سے بنے مختلف اشکال چھوٹے بڑے ٹکڑوں کو ٹرک کی باڈی پر خاص ترکیب سے لگائے جاتے ہیں جن پر رات کے وقت روشنی پڑنے سے یہ ڈیزائنز اور تصاویر چمک اٹھتے ہیں. کچھ ڈیزائن صوبائی لحاظ سے بھی ہوتے ہین جن میں آزاد کشمیر, سندھ, پنجاب اور بلوچستان کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں. بعض ٹرکوں پر ایسی تصاریر بھی ہوتی ہیں جو کہ جزبہ حب الوطنی کے مظہر ہوتی ہے.
    پاکستان میں ٹرک آرٹ کا کام 1960 میں شروع ہوا تھا جب بیرون ملک سے ٹرک پاکستان آتے تھے. اس سے قبل یہ آرٹ صرف بیل گاڑیوں یا گھوڑا گاڑی پر ہوتا تھا.
    اب یہ ٹرک آرٹ صرف ٹرک کی حد تک کی محدود نہیں رہا بلکہ گھریلوں استعمال کی اشیاء پر بھی اب یہ آرٹ کئے جاتے ہیں. کچھ لوگ اپنی کار, بائی سائیکل پر بھی ٹرک آرٹ کرواتے ہیں.
    پاکستانی ٹرک آرٹ اب آسمانوں پر بھی پہنچ چکا ہے ایک فلائینگ اکیڈمی نے اپنے دو سیٹوں والے طیاروں کو اس ٹرک آرٹ میں مزیں کروایا ہے.
    اسی طرح سابقہ جرمن ایمبیسڈر مارٹن کوبلر نے اپنی بائی سائیکل پر ٹرک کروایا جسے وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے ساتھ واپس جرمنی لے گئے. پاکستان کے لئے یہ ٹرک آرٹ چند برسوں میں بہترین ثقافتی ورثہ بن کر سامنے آیا ہے.
    بہت سے ٹرک آرٹسٹ یہ شکائیت کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں کوئی بھی تعریفی سند یا لیٹر آف ایپریسی ایشن نہیں دیا گیا جبکہ بیرون ممالک میں انہیں اس منفرد کام کے باعث کئی سرٹیفیکیٹس, اعزازات مل چکے ہیں. کچھ آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ ٹرک مالک آرٹ دیکھ کر واہ واہ تو کرتے ہیں لیکن انکے دام دینے پر بلکل تیار نہیں ہیں اسی وجہ سے آرٹسٹ اب اس فن سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں کیوں کہ اس مہنگائی اور معاشی مسائل کی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا نہیں چلتا.
    یہ ٹرک آرٹس کی ہی محنت ہے کہ پرانے ٹرک کو
    بھی ایسے سجایا جاتا ہے جیسے بلکل نیا ہو.

    ایک ٹرک کو تیار کرنے میں لاکھوں روپے لگائے جاتے ہیں جبکہ ایک مکمل ٹرک کہ ییاری میں ایک سے زائد ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جس میں چھ سے آٹھ مزدور کام کرتے ہیں.

    Twitter Handle: @RealJameel8

  • سارے قصور اور سزائیں عورت سے ہی منسوب ہیں کیا؟ تحریر مدثرہ مبین

    سارے قصور اور سزائیں عورت سے ہی منسوب ہیں کیا؟ تحریر مدثرہ مبین

    2 سال کی بچی گود می لیے شوہر کے بے دریغ ظلم کے بعد سسکیاں لیتے ہوئے آج بھی اماں ابا کی رخصتی کے وقت کی گئ نصیحتیں یاد کرتے ہوۓ درد کو دبانے کی نا کام کوشش کر رہی ہے. اماں نے کہاں تھا بیٹی تمہیں ہر حال میں شوہر کا حکم بجا لانا ہے کچھ بھی ہو برداشت کرنا ہے اور ابا کا کہنا تھا اس گھر سے ڈولی اٹھ رہی ہے شوہر کے گھر سے میت ہی اٹھے گی.
    انہیں لفظوں کی مالا کو سینے سے لگائے پچھلے 10 سالوں سے وہ شوہر کی ہر ناانصافی کو برداشت کر رہی ہے. اور ہر بار کی طرح ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کو صبر کی تھپکی سے سلا دیتی ہے. کیونکہ جانتی ہے طلاق کے دھبے کے ساتھ معاشرہ اس کو کبھی قبول نہیں کرے گا.
    مردوں کے اس معاشرے میں سارے قصور اور سزائیں عورت کے لیے ہی تو ہیں.
    شوہر بیوی کی عزت نہ کرے تو قصور اسکا
    بیٹیاں پیدا ہو تو بھی قصوروار عورت
    کسی سے نکاح کی خواہش ظاہر کرنے پر سزا اسکا مقدر
    عورت کو بلیک میل کرکے اسے بداخلاقی پر مجبور کیا جائے تو بھی قصور اسکا
    شوہر پسند کی شادی نہ ہونے پر طلاق دے دے تو بھی قصور اسکا
    عورت کی عصمت دری کی جائے تو بھی قصوروار وہی
    وہ بھائی جو کسی لڑکی کے ساتھ محض وقت گزاری کے لیے ہوٹلوں اور پارکوں کی زینت بنا رہتا ہے بہن کی پسند کی شادی کی ضد پر اسے غیرت کے نام پر قتل کرنے پر ذرا عار محسوس نہیں کرتا. ستم ظریفی یہ کہ اسکا قتل کرنا بھی کسی کو قابل سزا نہیں لگتا.
    بحیثیت مسلمان اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ زمینی خدا شاید اس گمان میں ہیں کہ روز محشر حساب صرف عورتوں کا ہی ہوگا مرد کو اس کے مرد ہونے کے جواز پر بے حساب بحش دیا جائے گا. وہ بھول چکے ہیں کہ روز محشر ہر ذی روح کا حساب ہوگا جس نے جو بھی بویا ہے وہ کاٹنا پڑے گا وہاں محض جنس کی بنیاد پر رہائی نہیں ہوگی.
    کب قفل اتارے جائیں گے اور درد سناۓ جائیں گے
    جو مر جاتے ہیں ذہنوں میں وہ خواب بچاۓ جائیں گے
    کب تک دنیا کی رسموں پہ یونہی جذبے وارے جائیں گے
    آخر کب تک بنتِ حواں کے کرداد داغے جائیں گے
    مرتی ہیں غیرت کے نام پہ بیٹیاں ہی ہمیشہ کب بیٹے مارے جائیں گے
    مانا مرد کو عورت سے بلند رتبہ دیا گیا ہے لیکن فضیلت تو صرف تقوی کی بنیاد پر ہے. افضل وہ ہیں جو دوسروں کے حق میں بہتر ہیں جو دوسروں کے حق ادا کرنے والے ہیں نہ کہ صرف اپنے حقوق پر زور دینے والے.
    میری تمام ماؤں بہنوں سے درخواست ہے خدارا بیٹی کی تربیت کے ساتھ ساتھ بیٹے کی تربیت پر بھی زور دیں اور انہیں بتاۓ گناہ کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت سزا دونوں کے لیے یکساں ہے.بحیثیت مسلمان اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ زمینی خدا شاید اس گمان میں ہیں کہ روز محشر حساب صرف عورتوں کا ہی ہوگا مرد کو اس کے مرد ہونے کے جواز پر بے حساب بحش دیا جائے گا. وہ بھول چکے ہیں کہ روز محشر ہر ذی روح کا حساب ہوگا جس نے جو بھی بویا ہے وہ کاٹنا پڑے گا وہاں محض جنس کی بنیاد پر رہائی نہیں ہوگی.
    کب قفل اتارے جائیں گے اور درد سناۓ جائیں گے
    جو مر جاتے ہیں ذہنوں میں وہ خواب بچاۓ جائیں گے
    کب تک دنیا کی رسموں پہ یونہی جذبے وارے جائیں گے
    آخر کب تک بنتِ حواں کے کرداد داغے جائیں گے
    مرتی ہیں غیرت کے نام پہ بیٹیاں ہی ہمیشہ کب بیٹے مارے جائیں گے
    مطالبہ تو یہ ہے کہ گناہ کی سزا اگر عورت کے لیے ہے تو مرد کیوں بری الذمہ ہے. دنیا میں کہی بھی سزا اور جزا کے قانون میں کیا مرد اور عورت کی تفریق ہے.
    مانا دین اسلام میں مرد کو عورت سے بلند رتبہ دیا گیا ہے لیکن فضیلت تو صرف تقوی کی بنیاد پر ہے. افضل وہ ہیں جو دوسروں کے حق میں بہتر ہیں جو دوسروں کے حق ادا کرنے والے ہیں نہ کہ صرف اپنے حقوق پر زور دینے والے.
    میری تمام ماؤں بہنوں سے درخواست ہے خدارا بیٹی کی تربیت کے ساتھ ساتھ بیٹے کی تربیت پر بھی زور دیں اور انہیں بتاۓ گناہ کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت سزا دونوں کے لیے یکساں ہے. انہیں ایسا مرد بناۓ تو معاشرے میں بگاڑ کا سبب نہیں بلکہ بہتری کا امین ہو.
    @MudasraMobeen

  • بدلتے موسموں کی ڈائری سے تحریر: فضیلت اجالا۔

    بدلتے موسموں کی ڈائری سے تحریر: فضیلت اجالا۔

    آج کتابوں کی الماری سے گرد جھاڑتے جھارٹے اچانک ہی کتابوں میں موجود میری ڈائری نیچے گری اور کئی رتجگوں ،ازیتوں، آنسؤں اور سالوں کے صبر اور محنت سے یادوں پہ ڈالی ہوئی گرد جھڑنے لگی۔ آپ سے بہتر کون جانے گا کہ میں کتابوں کی ،لفظوں کی،استعاروں کی کتنی دیوانی تھی۔

     پانچویں جماعت سے کتابیں اور ناولز پڑھنے کے باوجود  

    آپ میری زندگی کی وہ پہلی اور آخری کتاب جسے میں آنکھوں سے نہیں روح سے پڑھا ہے،جسکے الفاظ میرے دماغ میں نہیں میرے دل میں سمائے اور ایسے سمائے کے پھر آپ کے علاوہ کوئ لفظ بھایا ہی نہیں ۔

    اب میں کتابیں خریدتی ضرور ہوں لیکن پڑھ نہیں پاتی کیوں کہ ہر صفحہ یادوں کی نئی شاہراہ کا روپ دھار لیتا ہے ۔

    پہلے جب کبھی زندگی مشکل لگنے لگتی تھی میں الفاظ کا سہارا لیتی تھی اور دکھ درد،حسرتیں ،خواہشیں سب صفحہ قرطاس پہ اتار دیتی تھی لیکن

    اب۔۔۔۔۔قصہ مختصر اب لفظ مرہم نہیں بنتے ہیں ۔

    ایسا لگتا ہے جیسے الفاظ کا قحط پڑ گیا ہو یا میرے پاس کچھ باقی نا رہا ہو لکھنے کیلیے 

    یا شاید جو میں لکھنا چاہتی ہوں اس کو بیان کرنے کیلیے الفاظ بنے ہی نہیں ۔

    اور پتہ ہے ضبط سے میری آنکھیں لہو رنگ ہو جاتی ہیں جب کوئی پوچھتا ہے کہ کیا درد کو لکھا جا سکتا ہے؟ سوال کرنے والے کیا جانے کہ درد لکھا ہی تو نہیں جاتا یہ تو بس محسوس ہوتا ہے اور جہاں درد ہوں وہاں باقی احساسات کا کوئی وجود نہیں رہتا ۔

    پہلے میری تحریروں میں خوابوں ،رنگوں اور خوشیوں کا عکس جھلکتا تھا لیکن اب میری تحریریں ،مسائل ،معاشرے اور زندگی کی تلخیوں کے گرد گھومتی ہیں ،پڑھنے والے سمجھتے ہیں اب مجھے لکھنے کا شعور آگیا ہے انہیں کیا معلوم کہ پہلے میں جو لکھتی تھی آپ کو مخاطب کر کے لکھتی تھی لیکن 

    اب میں نے خوابوں میں بھی آپ سے کلام کرنا چھوڑ دیا ہے ،پہلےمیرے الفاظ کی رعنائی آپ سے تھی  

    میرے الفاظ کی روح تھے آپ لیکن اب مجھے اپنے لکھے تمام لفظ بے جان کٹھ پتلیاں لگتے ہیں ۔

    کون کہتا ہے وقت مرہم ہوتا ہے ؟ آج کئی سال گزرنے کے بعد میری ڈائری کی اک جھلک مجھے واپس اسی موڑ پہ لے آئی ہے تو ثابت ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ زخم مندمل نہیں گہرے ہوتے جاتے کیونکہ 

    کچھ زخموں کے لئے شاید وقت کے پاس بھی مرہم نہیں خنجر ہوتا ھے ۔

    میری ڈائری کے صفحات کی بوسیدگی چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ اس پہ لکھے الفاظ زندگی سے محروم ہو چکے ہیں ۔ہاں لیکن وہ آخری صفحہ جس میں اب بھی زندگی کروٹ لیتی دکھائی دیتی ہے جس پہ میں وہ آپکی سالگرہ والی رات لکھی ہے،اور ہر وہ لمحہ جس میں آپ میرے سنگ مسکرائے تھے ،اور وہ آپ کے ہمراہ جامعہ سے گھر تک کے سفر کے اک اک قدم کی داستاں رقم ہے اس سانس لیتے آخری صفحے پہ ۔

    وہ چہرہ وہ باتیں وہ یادیں آج بھی میری ڈائری کے تاریک اوراق پہ بکھریں پڑے ہیں ۔

    کسی کو الفت ہوتی ہے محبت ہوتی ہے ،انس ہوتا ہے مجھے یہ سب نہیں تھا مجھے تو عادت ہے ،عقیدت ہے اور بھلا کبھی عادتیں اور عقیدتیں بھی تبدیل ہوتی ہیں ؟

    ہاں وقت کے ساتھ ساتھ ہم درد سہنا سیکھ جاتے ہیں یا شاید تکلیف کی شدت وہی رہتی ہے بس اظہار کا طریقہ بدل لیتی ہے ، پہلے میں ساری ساری رات سارا دن رو کے گزار دیتی تھی اب روتی نہیں ہوں تو وہی درد مائیگرین بن کے راتوں کی نیندیں چرائے رکھتا ہے۔

    گزرے لمحات کا تذکرہ میرے لیے بلکل ایسا ہی ہے جیسے کسی مرنے والے کے سامنے زندگی کی دلکشی اور رعنائیوں کی باتیں کی جائیں ۔

    میری زات بلکل ایسے ہوگئی ہے جسے کوئ اپنے ہی سائے کی تلاش میں بھٹک رہا ہو۔ یاد ہے وہ تصویر جس میں آپ میرے ساتھ نہیں تھے لیکن دور کھڑے آپکا سایہ چپکے سے میں نے اپنے سنگ باندھ لیا تھا ،بس اسی سائے کی تلاش میں ہوں۔

    اور کون کہتا ہے کہ درد دینے والے کیلیے دل سے بدعا ہی نکلتی ہے؟ میرے تو آج بھی ہاتھ بارگاہ الہی میں اٹھتے ہیں تو پہلے سوال آپکی خوشیوں اور سکون کا ہوتا ہے ،اپنی زات کو ہمیشہ آپ کے بعد رکھا ہے میں نے بس نام لکھتے ہوئے اپنے نام کے آگے لکھا آپ کا نام مجھے اچھا لگتا ہے ،اور اسی لیے میں کبھی اپنا پورا نام نہیں لکھتی ہمیشہ آدھا لکھتی ہوں۔

    کچھ عادتیں اور رشتے ایسے ہوتے ہیں جنکی قید میں انسان ہمیشہ رہتا ہے اور موت کے ساتھ ہی اس قید سے رہائی پاتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کے لحد کے سینے میں بھی میرا دل آپ کے نام پہ ضرور دھڑکے گا ۔

    کہ جسم فانی ھے تو کیا روح تو امر ہے نا ۔

    اور پڑھنے والے کیا جانے کہ لفظ ، محبت ، عقیدت یہ سب صرف لڑکا لڑکی کے مخصوص رشتے کیلیے نہیں ہوتے ،رشتہ کوئی بھی ہوسکتا ہے 

    Twitter ID @PatrioticUjii

  • بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر کیوں ہے؟     تحریر: ایمان ملک 

    بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر کیوں ہے؟     تحریر: ایمان ملک 

     
    علاقائی سلامتی کی صورت حال پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے قریبی پڑوس میں ، اور خاص طور پر افغانستان کے اگلے دروازے پر موجود  تخریبی عناصر کو بھی زیرِ نظر رکھنا چاہیے جو فی الوقت ہمارے ملک میں علاقائی صورتحال سے فائدہ اٹھانے اور امن و امان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کوئٹہ کے مضافات میں کوئٹہ مستونگ روڈ پر اتوار کو ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم از کم چار فرنٹیئر کور کے جوانوں کی شہادت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہمارا ملک ایک لمحے کے لیے بھی کسی بھی طور پر کسی کی بھی جانب سے اپنے محافظوں کو نیچا دکھانے کی روش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پاکستان ابھی بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ 
    کالعدم ٹی ٹی پی نے مذکورہ بالا دہشت گردی کی کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں کے دوران پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے خاص طور پر خودکش حملوں میں۔ مثال کے طور پر پچھلے مہینے ، کم از کم دو بچے گوادر کے ایسٹ بے ایکسپریس وے کے علاقے میں شہید ہوئے تھے جبکہ دہشت گردوں کا نشانہ چینی شہریوں کو لے جانے والی موٹر کار تھی علاوہ ازیں، کراچی میں بھی چینی افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ واقعات کالعدم بلوچ علیحدگی پسندوں نے انجام دیے ہیں۔ مزید برآں جولائی کا داسو واقعہ ( جس میں متعدد چینی شہری مارے گئے تھے) اور اس جیسے حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والے دیگر افسوسناک واقعات پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ دشمنان پاکستان کا ہدف بظاہر چینی شہری اور بلوچستان کی سرزمین ہے مگر درحقیقت انکا مقصد سی پیک جیسے اسٹراٹیجک منصوبے کو رکوانا اور ناکام بنانا ہے۔  
    اگرچہ پاکستان بیرون ملک سیکورٹی خطرات پر قابو پانے کے لیے بہت کم کام کر سکتا ہے کیونکہ یہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، لیکن پھر بھی وہ اپنے تمام تر سیکیورٹی اپریٹس کو متحرک کر سکتا ہے تاکہ عسکریت پسندوں کی یہاں سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے نیز انہیں بروقت روکا جاسکے ۔ بلاشبہ اس وقت افغانستان ایک تشویشناک علاقہ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ پاکستان  کے افغان طالبان کے ساتھ منفی تعلقات نہیں ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کابل کے حقیقی حکمرانوں بالخصوص افغانستان میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا فقدان ہے ، جبکہ خود ساختہ داعش کے خراسان باب جیسے گروپ ، ٹی ٹی پی اور بلوچ باغی اب بھی افغان سرزمین پر موجود ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالے کہ وہ ان سیکورٹی خطرات کے خلاف کارروائی کرے ، جبکہ داخلی کوششیں بھی تیز کی جائیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان میں دشمنوں کی طرف سے کوئی چھوٹی یا بڑی دراندازی / دہشتگردی نہ ہو سکے جسکا حساس ادارے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ 
    دریں اثناء ، انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز کو بھی مقامی طور پر بحال کرنے کی ضرورت ہے ، خاص طور پر بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ، جہاں سیکیورٹی کی صورتحال ماضی میں خاص طور پر نازک رہی ہے۔ مزید یہ کہ کچھ علاقائی ریاستیں جو پاکستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتی وہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کو بطور ہتھیار ہمارے ملک کے خلاف استعمال کر سکتی ہیں اس لیے حکومت پاکستان کو ان کی کوششوں کا مقابلہ اور بروقت تداراک کرنا چاہیے۔ آخر میں ، افغانستان میں جتنی جلدی بھی ایک جامع حکومت بنتی ہے ، نہ صرف یہ اس ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے بہتر ہوگا۔ طالبان کے ساتھ ساتھ ان کے افغان مخالفین کو بھی اس مقصد کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایک نئی خانہ جنگی کو مذکورہ بالا عسکریت پسند گروہ خود کو خطے میں دوبارہ منظم کرنے اور پورے علاقے میں تباہی پھیلانے کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ 
    ایمان ملک 

  • تمباکو نوشی اور اس کے اثرات تحریر : اسامہ خان

    تمباکو نوشی اور اس کے اثرات تحریر : اسامہ خان

    تمباکو نوشی ہمیشہ اپنے دوست احبابو سے لگتی ہے۔ ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے پڑتا ہے لکھتا ہے بڑا ہوتا ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے اور زندگی میں اسکو کچھ ایسے دوست ملتے ہیں جو نشہ تو کرتے ہیں سب دوستوں کو بھی کہتے ہیں کہ آپ بھی کریں اور ان لوگوں کا اپنے دوستوں کو نشے پر لگانے کا بڑا ہی کوئی ایک میرا طریقہ ہوتا ہے یہ اپنے دوست کو ایسے سگریٹ نوشی اور دیگر نشو  میں پھنساتے ہیں جیسے یہ کوئی بہت ہی اچھا کام ہو شروع شروع میں وہ دوست اپنے نئے دوست کو سگریٹ بھی دیتے ہیں اور نشہ بھی دیتے ہیں آہستہ آہستہ جب اس کو اس چیز کی لت لگ جاتی ہے تو اس کو کہتے ہیں اپنے لیے بھی لے اور ہمارے لیے بھی لے آؤ کیونکہ ان کا کام صرف نشہ پینا ہوتا ہے بے شک وہ اپنے پیسوں سے پیا یا کسی اور کے پیسوں سے اب وہ لڑکا بھی مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کو نشے کی لت لگ چکی ہوتی ہے تو اپنے لیے بھی لے کر آتا ہے اور دوستوں کے لیے بھی لے کر آتا ہے آہستہ آہستہ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کے گھر والوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سگریٹ نوشی کرتا ہے لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے والدین بچے کو ہمارے بھی صحیح روکے بھی صحیح تو لیکن وہ بچہ نہیں روک سکتا کیونکہ اس کو اس چیز کی لت لگ چکی ہوتی ہے جب والدین سمجھاتے ہیں کہ بیٹا یہ سگریٹ نوشی نہیں کرتے تو اس وقت ان کو اس چیز کی سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے لیے یہ بات صحیح ہے کیونکہ ان کو صرف اس لعت کو پورا کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس کے دوستوں نے اس کو ایسا جال میں پھنسایا ہوتا ہے وہ سگریٹ نوشی کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے کاش کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں۔ کیونکہ سگریٹ نوشی ایک ایسی لعنت ہے جو آج کل بہت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے آج کل کے نوجوان کھانا کھائیں کیا نہ کھائیں سگریٹ ضرور پیتے ہیں کیونکہ وہ اس لت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ اگر وہ سگریٹ نہ پینے ہیں تو وہ کھانا بھی نہیں کھاسکتے لیکن یہں سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے اس کا ایک بہترین حل ہے والدین سیگریٹ نوشی سے خود دور رہیں جب بچے دیکھیں گے کہ ہمارے والدین سگریٹ نوشی سے دور رہتے ہیں تو وہ بھی اس چیز کے نزدیک نہیں جائیں گے کیونکہ ان کو بچپن سے ہی اس چیز کی عادت نہیں ہوگی لیکن پھر بھی ان پر نظر رکھیں کہ ان کے کوئی ایسے دوست نہ ہو جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اپنے بچوں کا خاص کر پندرہ سال سے لے کر بیس سال کی عمر تک خیال رکھیں اس کے بعد بچہ ہر بات کو سمجھنے لگ جاتا ہے اور اگر بیس سال تک وہ بچہ سگریٹ نوشی نہیں کرتا تو آگے بہت زیادہ چانسز ہوتے ہیں کہ سگریٹ نوشی نہیں کرے گا لیکن اس معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بچوں کو ولگر آتے ہیں کہ پریشانی میں سگریٹ نوشی کرنی چاہیے اس سے پریشانی کم ہوتی ہے حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے اس بات کو میں اس اس بات سے جھوٹ کہوں گا کیا ہمارے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن پر زندگی کی بہت سی مشکلات آئیں لیکن انہوں نے کبھی اللہ کے سوا کسی سے مدد نہیں مانگی پریشان ہونا تو دور کی بات ہے کیونکہ ان کو پتا تھا جو کرنا ہے میرے پیارے رب نے کرنا ہے اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا لیکن آج کا مسلمان پتہ نہیں کس بات پر یقین کرتا ہے اور سگریٹ نوشی پر اتر آتا ہے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں تاکہ بچے سگریٹ نوشی سے دور رہیں اور اللہ نہ کرے اگر آپ کی وجہ سے سگریٹ نوشی میں منسلک ہے تو براہ کرم اس کا علاج کریں اور سگریٹ نوشی سے اس کو دور کریں سگریٹ نوشی کی وجہ سے بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس میں سب سے بڑی بیماری کینسر ہے آج ہم اپنے بچوں کا خیال رکھیں گے تو کل ان کا مستقبل اچھا ہوگا اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچائے رکھے
    Twitter: ‎@usamajahnzaib

  • عورت اور معاشرہ؟   تحریر فیضان علی

    عورت اور معاشرہ؟  تحریر فیضان علی

    ‏:

    معاشرے میں عورت کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیا عورت کو ہمارے معاشرے کی لعنت سمجھا جاتا ہے کیوں؟ اس جدید دور میں احمقانہ سلوک کیا جا رہا ہے؟ کیوں ہم لوگوں نے اپنی آخرت کی فکر چھوڑ دی ہے؟ کیوں ہم لوگ جاہلوں سے بھی بد تر ہوتے جا رہے ہیں کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ 

    اگر عورت پہ فحاشی کا دبہ لگا کر معاشرہ کو بدنام کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کے عورت معاشرے کو خراب کر رہی ہے؟ صرف عورت ہی اس معاشرے کی زمہ دار نہیں ہے اس معاشرے میں مرد بھی رہتے ہیں جن کو با اخلاق ہونا لازمی ہے معاشرے کی زمہ داری کسی ایک فرد پہ نہیں ہے اس کے لیے مرد اور خواتین دونوں کو با کردار ،با اخلاق ہونا ضروری ہے، 

    عورت کو کوئی ترجی نہیں دیتا کسی کی ماں، بہن، بیٹی ،بیوی کیا انکو معاشرے میں عزت سے زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے؟ اگر ہم کسی کی عورت کے بارے میں الٹے خیالات سوچ سکتے ہیں تو یہ بات بھی سوچ لینی چاہیے کے کوئی ہمارے گھر کی عورتوں کے لیے بھی غلط خیالات تصور کر سکتا ہے

    اس معاشرے میں عورت کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس کے زمہ دار کون لوگ ہیں کن لوگوں کی وجہ سے معاشرہ خراب اور بد کردار ہوتا جا رہا ہے، 

    آئیے اب آپ کو بتاتا ہوں کے اس معاشرے میں انسانیت کس حد تک گیر چکی ہے اور درندگی کس حد تک پھیل گئی ہے کے لوگوں میں خوف خدا بلکل ختم ہو چکہ ہے، 

     عورت کے لباس سے شروع کرتا ہوں کے عورت نے اگر ساڑھی پہنی ہے ,شلوار قمیض پہنی ہے,ٹراوذر پہنا ہے,چوڑی دار پاجامہ پہنا ہے,سر سے پاوں تک چادر میں لپٹی ہے دوپٹہ گلے میں ڈالا ہےدوپٹے کے بغیر ہےپوری آستینیں پہنی ہیں,آدھی آستینیں ہیں برقعہ پہنا ہے یا ٹانگیں ننگی ہے چاہے جس بھی طرح کے لباس میں ہو اس کا ریپ ہو جاتا ہے

    عورت چاہے 3 سال کی بچی ہے,4 سال کی سکول جانے والی ,8 سال کی قرآن پاک پڑھنے جانے والی,14 سال کی بلوغت میں قدم رکھنے والی, 20 سال کی جوان,40 سال کی ,50 سال می بزرگ,70 سال کی برگزیدہ یا پھر قبر میں لیٹی ہو ریپ کر دی جاتی ہے

    عورت کا مذہب اسلام ہو. سکھ ہو ,عیسائیت ہو,یہودیت ہو,جین مت ہو,بدھ ہو ,چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو مسلک سے ہو فرقے سے ہو یا وہ ان سب سے نا تعلق رکھتی ہو اس کو ریپ کر دیاجاتا ہے

    کالی ہو ,گوری ہو,سانولی ہو,موٹی ہو,پتلی ہو,چھوٹی ہو,یا لمبی ہو اپاہج ہو اس کا ریپ ہونے کی خبریں آتی ہیں

    ہمارے مزہب نے عورت کو بہت عزت دی ہے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے کہیں ماں کے قدموں تلے جنت کا رتبہ کہیں بیٹی جیسی نعمت عطاء کر کے اللہ رب العزت رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اللہ رب العزت بیٹی عطاء کر کے فرماتا ہے اے میرے بندے میں خود تیرے ساتھ ہوں اتنا بڑا رتبہ عورت زات کو میں نے یا اپ نے نہیں دیا؟ نہیں یہ رتبہ عورت کو اللہ پاک نے دیا ہے پھر ہم لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کے ہمیں بھی کسی عورت نے جنا ہے ہم بھی کیسی عورت سے پیدا ہوئے ہیں اگر اپ مرد پیدا کیے گئے ہو تو کیا اس کا مطلب اپ عورت کی عزت کرنا چھوڑ دوگے؟ اے انسان تیری کیا اوقات ہے تجھے اس بات کا اندازہ بھی ہے توں کس سے پیدا کیا گیا ہے یہ سوال ہم سب کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے، 

    قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے کے”اے انسان ہم نے تمہیں ایک گندے پانی کی بوند س پیدا کیا ہے” اس کے بعد اب انسان کی کیا اوقات رہ جاتی ہے کے پلیت پانی سے انسان کی پیدائش ہوئی انسان کی اوقات کچھ بھی نہیں رہتی مگر یہی انسان بڑا ہو کر خود کو بہت خوبصورت سمجھنے لگ جاتا پیسہ کیا پاس اجاتا ہے وہ انسانیت ہی بھولا دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ مفلوج ہو جاتی ہے اور حیوانیت سر چڑھ کر بولنے لگتی ہے مسئلہ اگر لباس,عمر مذہب,رنگ,سائز کا نہیں تو پھر مسئلہ ہے کیا مسئلہ ہے ہوس ,ہوس زدہ ذہنوں کا مسئلہ ہے درندگی کا مسئلہ ہے بھوک کا اور مسئلہ ہے "انسانیت” سے گرنے کا، جب انسان کے اندر سے انسانیت ختم ہو جاتی ہے تو پیچھے صرف ایک چیز حیوانیت بچتی ہے جس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہی کیوں کے اگر انسانیت ہے تو انسان اشرف المخلوق ہے ورنہ انسانیت کے بغیر انسان باقی نہیں رہتا اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں کے مجھے اور آپ سب کو با کردار اور بااخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا انسان بنائے اور ہمیں اپنے معاشرے میں انسانیت اور اخلاقیات کو سئ معنوں میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین 🙏

    اپ مجھے ٹویٹر پہ بھی فالو کر سکتے ہیں

     "فیضان علی”

    ‎@Faizan_Ali92

  • اخلاقی جرائم تحریر:خالد عمران

    اخلاقی جرائم تحریر:خالد عمران

    کسی عاقل و بالغ شخص کا جان بوجھ کر کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کرنا جرم کہلاتا ھے۔موجودہ دور میں جرائم کسی بھی معاشرے کا ایک لازمی جزو بن چکے ہیں۔جرم تو جرم ہی ہوتا ھے خواہ وہ اخلاقی جرم ہو یا جنسی طور۔جرم ہمارے معاشروں میں اس قدر سرایت کرچکا ھے کہ اس نے نہ کسی شخص انفرادی زندگی محفوظ ھے اور نہ ہی اجتماعی، ہر خاص و عام اس کی زد میں آچکا ھے۔ہمارے معاشرے میں اب جو جرائم کے حالات ہیں یہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں ھے ایسے لگتا ھے جیسے پورا معاشرہ ہی جرائم کی لپیٹ میں آچکا ھے۔آج بڑے بڑے دانشور اور مہذب تعلیم یافتہ افراد بھی اپنے زاویے کے مطابق اس کے اصل محرکات اور اسباب پر اپنا نکتہ نظر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔کوئی ان جرائم کو بیروزگاری قرار دیتا ھے تو کوئی حکومت کی ناقص پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتا ھے۔
    ترقی یافتہ ممالک بھی جرائم سے محفوظ نظر نہیں آتے،بلکہ ترقی پذیر ممالک کی نسبت ان ممالک میں مجرمان نت نئے طریقوں سے جرائم کرتے نظر آتے ہیں۔ہر معاشرے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جس کے مطابق وہاں کے لوگ اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں،اور اپنے روز مرہ زندگی کے معاملات ان ہی اصولوں کے تحت سرانجام دیتے ہیں۔ اگر کسی بھی معاشرے میں قانون کی بالا دستی قائم نہ ہوسکے تو وہ معاشرے کی تباہی کا باعث بنتا ھے اور جرائم کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ھے۔اس سے عوام بدحالی اور ناانصافی کا شکار ہوجاتی ھے، جس کی وجہ سے معاشرہ زلت و رسوائی کا شکار ہوجاتا ھے۔
    پاکستان میں اخلاقی جرائم میں کثرت سے اضافہ ہوا ھے اس وقت پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں بداخلاقی اور بےحیائی کے اڈے قائم ہیں سب سے ذیادہ تشویشناک اور تکلیف دہ بات یہ ھے کہ ان اڈوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مکمل قانونی تفظ دیا جاتا ھے اور ان اڈوں پر کام کرنے والی طوائفوں کو کھلے عام چھٹی دے دی گئ ھے ملک پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے کبھی بھی قحبہ گری کو روکنے کے لئے کبھی ازخود نوٹس لینے کی جسارت نہیں کی، اگر پنجاب کی بات کی جائے تو لاہور کی سب سے بڑی اور تاریخی بادشاہی مسجد کے سائے تلے موجود برائے کے ان اڈوں کے تدارک کے لئے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک پولیس اعلیٰ حکام کے حکم نامے کی منتظر ھے۔اگر ہم ماضی پر نگاہ ڈالیں تو لال مسجد کے خطیب اور طالب علموں پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اسلام میں موجود مساج سنٹر کو بند کروانے کے لئے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کررہے تھے جبکہ میڈم شمیم نامی خاتون ہے کاروبار میں بے جا مداخلت کررہے تھے، لال مسجد کی انتظامیہ کا یہ اقدام انتہائی قابل ستائش ھے کہ انہوں نے برائی کو ازخود ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ سب نظر کیوں نہیں آتا؟ مولانا عبد العزیز کا یہ اقدام اگر خلاف قانون تھا تو ملک میں موجود بے حیائی کے یہ اڈے اور مساج سنٹرز کس قانون کے تحت چلائے جارہے ہیں؟ کوئی پوچھنے والا کیوں نہیں ھے یہاں؟
    پاکستان کے دنیا میں نقشے پر ابھرنے کے ساتھ ہی یہ ملک مختلف جرائم میں دھنستا چلا گیا، اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھی شراب کی درآمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ھے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھلے عام شراب دستیاب ہے، اس کے علاوہ بے شمار ایسے جرائم میں اضافہ ہوا ھے۔

    اخلاقی جرائم کے حوالے سے اس وقت عوامی رائے دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ھے، ایک طرف جہاں یہ کہا جاتا ھے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرمان کو قرار واقعی ہی سزا دینی چاہیے وہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ ہر فرد کا انفرادی عمل ھے ہمیں کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے میرے خیال سے زاتی عمل کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں ھے کہ آپ خلاف قانون ہر عمل کرتے پھریں۔یہاں یہ بات قابلِ غور ھے کہ اگر اسلام میں شخصی آزادی کا تصور ہوتا تو زانی، شرابی کبھی بھی سزا کے مرتکب قرار نہ پاتے۔ ایک اسلامی ریاست میں صرف مالی بدعنوانیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اخلاقی جرائم کی بھی بیخ کنی لازمی ھے جب تک حکومت مالی جرائم کے ساتھ اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی اس وقت یقیناً حکومت اپنی آئینی اور مذہبی ذمہ داریوں سے ہر گز عہدہ برآں نہیں ہوسکتی

    ۔۔Written by

     : Khalid
     Imran Khan
    :‎@KhalidImranK۔

  • بے روزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ .تحریر:صائمہ رحمان

    بے روزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ .تحریر:صائمہ رحمان

    ورلڈ بنک کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کے تین سالوں میں بےروزگاری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی کی سکتی ہے مگر افسوس کی بات یہ کہ دن بدن بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ روزگاری ایک عالمی مسئلہ ہے امریکہ برطانیہ فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اور ترقی یافتہ ممالک
    میں بھی بیروزگاری پائی جاتی ہےہمارا پاکستان بھی اس مجبوری کی زد میں ہےمعاشرے میں بے روزگاری ایک سماجی برائی تصور کی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں اس سے فاقہ طاری ہونا ، بیماری پھیلتی ہے
    پاکستان کے نوجوان طبقے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے ہمارے وطن ِمیں بے روزگاری کا دور دورا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ اب لوگ زندگی سے تنگ اور خاندان کے بوجھ سے تنگ آ کر خودکشی جیسے سنگین اقدامات پر اتر آئے ہیں۔جس کی وجہ سے جرائم میں بھی تیزی سے اچھے پڑھے لکھے نوجوان ایسے جرائم میں ملوس ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے لئے ایک بد نما داغ بن جاتے ہیں جرائم کی شرح دیکھی جائے تو پڑھے لکھے نوجوان کا تناسب نظر آئے گا یا وہ جن کو نوکریاں نہیں ملتی بوجھ بھی آج کل جس طرف دیکھا جائے بےروزگاری کا رونا رویا جارہا ہے حالات کی ستم ظریفی دیکھئی جائے تو کئی نوجوان نامور تعلیمی اداروں سے پڑھ کر اچھی ڈگری لے کر بھی جام کی تلاش میں دربرد کی ٹھوکرے کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں چہرے پر بے یقینی اور ناکامی کا لیبل سجائے باہر آتے ہیں۔ اور نوکری کی تلاش میں رہتے ہیں کچھ نوجوان تو اپنی ڈگری سے نچلی سطح پر جام کرتے نظر آتے ہیں کچھ نوجوان دل برداشتہ ہو کر ایسے کام کرنےپر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے خاندان کے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

    کچھ نوجوانوں کے روزگار نا ملنے کی وجہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے رہیتے ہیں اور پھر کسی چھوٹے موٹے کاروبار یا درمیانے درجے کی ملازمت کو اپنی توہین سمجھنے لگتے ہیں۔ خواہ مخواہ اپنے معیار کو اونچا کرکے کئی ایسے موقعے نوکریوں کو بھی ضائع کردیتے ہیں یہ کہے کر یہ ہمارے معیار کی نہیں ہے”بہت اچھے“ کی تلاش میں” کچھ اچھے“ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مایوس نوجوان زندگی کی کئی دور میں پیچھے رہے جاتے ہیں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے اور بے روزگاری ختم کرنے لئے مواقع پیدا کیے جائیں۔ بے روزگاری کے باعث غربت جنم لیتی ہے اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ غربت کی وجہ سے پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہےبے روزگارسے انسان کو شرافت اور ایمانداری کی توقع کرنا ناممکن ہوجاتا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا اور بیماری میں دوائی میسر نہیں کرسکتا تو اس سے اچھے اور برے کی تمیز کھو دیتا ہے اور ہر وہ کام کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ بیانک ہوتا ہے غربت اور بے روزگاری ایک ریاست کی سب بڑی کمزوری اور نا اہلی سمجھی جاتی ہے جو ملک نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکتا تو پھر اور کیا کرے گا یہی حال ہمارے ملک کا ہے بس وعدے کئے جاتے ہیں روزگار نہیں۔ بیروزگاری اچانک ہی نہیں امڈ آتی۔ اس کے پیچھے بہت سی وجوہات اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ وجوہات ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں انفرادی طور پر دور کرنا مشکل ہوتا ہے بلکہ صرف حکومت ہی ہےجو نوجوانوں کو ایسے عوامل پیدا کرے جس سے وہ کام پر لگ سکے سرکاری سطح پر ایسے عناصر کی روک تھام کے لیے اقدامات کر سکتی ہے

    نوجوانوں کو چاہئیے کہ یہ صبر کا دامن تھامے رکھے اور اللّٰہ تعالٰپر یقین رکھتے ہو ئے یہ سوچے کہ رزق کا دروازہ اللہ ضرور انشاءاللہ کھولے گا۔ ہمارا ملک تبی ترقی کر سکتا ہے جب زیادہ زیادہ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور وہ اچھا کام کر کے اس ملک کی خدمت کر سکے گئے ہم بس دعا کر سکتے ہیں ہمارے ملک سے ایک بار بے زورگاری کا خاتمہ ہوجائے پھر ہی غربت میں کمی ممکن ہے پھر کوئی انسان بھوک کی وجہ سے اپنے بچوں سمیت خود کشیاں نہ کرے ۔
    email saima.arynews@gmail.com