Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا  امتحان، تحریر: نوید شیخ

    میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    خبریں تو بہت ہیں لیکن اس حکومت کے لیے مسئلہ نمبر ون میڈیا بنا ہوا ہے ۔ آج کی بھی خبریں اور وزراء کے بیانات صرف یہ ہی تھے کہ کیسے بے لگام میڈیا کو لگام ڈالی جائے ۔ یہ حکومت اپنی کارکردگی ، وزراء اور مشیروں کا احتساب کرنے کو تیار نہیں ۔ پر میڈیا کے ہاتھ پاوں باندھا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے ۔

    معیشت کو ٹھیک کرنے اور پاکستان کو پتہ نہیں کیا بنانے کے جو دعوے کیے جاتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی اعلی کارکردگی سے ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 170روپے کے قریب پہنچ گیا ۔ جس سے سٹاک مارکیٹ میں 1کھرب ڈوب گئے ہیں ۔ جی ہاں ایک کھرب روپے ۔ یہ وہ خبر ہے جو حکومت سمجھتی ہے کہ فیک نیوز ہے ۔ ایسے جب پیڑول ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے تو حکومت سمجھتی ہے کہ یہ بھی فیک نیوز ہے ۔ بجلی آٹے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو بھی حکومت فیک نیوز کی نظر دے دیکھتی ہے ۔ حقیقت اور کھرا سچ یہ ہے کہ یہ حکومت ہی فیک ہے۔ اس کے کنڑول میں نہ تو اس کے اپنے وزیر ہیں نہ ہی بیوروکریٹ ۔ اور مافیاز تو اس حکومت کو استعمال کرتے ہیں ۔ ان کو کنٹرول کرنا اس حکومت کے بس میں نہیں یہ سچ آپ بتائیں گے تو آپکو غداری سے لے کر پٹواری جیالے سمیت پتہ نہیں کیا کیا طعنے دیے جائیں گے ۔ آپکو کہا جائے گا کہ آپ بھارت چلے جائیں ۔ آپ ایجنٹ ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی اور کرائم بڑھ رہا ہے ۔ آپ کہیں گے کہ عثمان بزدار اورمحمود خان ٹکے کا کام نہیں کررہے۔ تو یہ اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں آپکے پیچھے لگا دیں گے جو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آپکو لعن طعن کریں گے ۔ یہ آپکو لفافہ کہیں گے ۔ یہ آپکو ننگی گالیاں دیں گے ۔ یہ آپکی ایسی کردار کشی کریں گے کہ آپ اپنی ہی نظروں میں گر جائیں گے ۔

    مجھے یہ کہتے ہوئے رتی برابر بھی نہ خوف ہے نہ ڈر ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غلط استعمال پی ٹی آئی نے کیا۔ بلکہ باقی جماعتوں نے ان کی دیکھا دیکھی میڈیا سیل بنائے ۔ یہ واحد جماعت تھی جس نے کئی سال قبل برطانیہ، امریکہ ،سنگاپور اور یورپ میں خصوصی اور خفیہ سوشل میڈیا سیل قائم کئے تھے جو فیک اکائونٹس سے نقادوں کی کردار کشی کرتے رہے۔ ملک کے اندر مختلف اہم لیڈروں نے سوشل میڈیا کے اپنے اپنے سیٹ اپ بنائے ۔ جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی تنظیم کے سوشل میڈیا کے سیٹ اپس اس کے علاوہ تھے ۔ تو اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فیک ٹرولنگ سے مجھے کوئی فرق پڑے گا تو یہ غلطی پر ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز حکومتی پارٹی خود پھیلاتی ہے ۔ میرا کام ہے یہ بتانا کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ کن اذیتوں میں مبتلا ہیں ۔ اور میں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ۔ آپ جا کر میری گزشتہ ویڈیوز دیکھیں لیں ۔ کمنٹس پڑھ لیں ساری کہانی آپکو معلوم ہوجائے گی ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اس وقت نواز شریف اور آصف زرداری کے کرپشن اسکینڈلز سے لے کر بری گورننس کو ایکسپوز کیا جب وہ حکومت میں تھے ۔ ہم آج بھی کئی کیس اس دور کے بھگت رہے ہیں ۔ ہم پر حملے ہوئے ۔ ہم نوکریوں سے نکالے گئے ۔ لفافے لینے ہوتے تو نواز شریف سے زیادہ کون دے سکتا تھا ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اکیلے مریم کے میڈیا سیل کو ٹکر دیے رکھی ۔ تو میں اور میری ٹیم ان سے نہیں ڈری تو یہ جو جھوٹی ٹرولنگ میری کی جارہی ہے ۔ یا مجھے اور میری ٹیم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ میں ڈرنے والا نہیں ہوں میں سچ بولوں گا ۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذان

    ہ مالشیوں اور پالشیوں کی تو ہی دور میں ہی آؤ بھگت ہوتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ میں یہ نہیں کروں گا ۔ یہ میں بتادوں کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے میڈیا کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے ۔ اگر یہ قانون بن گیا تواس کے بعد حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ صرف اخبار نہیں اور الیکٹرونک چینلز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول بھی حکومت کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کالے قانون کے لئے عمران خان اور ان کے ترجمان یہ بھونڈی دلیل دے رہے ہیں کہ وہ فیک نیوز کا خاتمہ چاہتے ہیں حالانکہ سب سے زیادہ فیک نیوز خود یہ حکومت پھیلارہی ہے ۔ شائد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بارعوام نے یہ افسوسناک منظر دیکھا ہے کہ کسی وفاقی وزیر نے بے دریغ اور بلا جھجک الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پیسے لینے کی سنگین تہمت عائد کی ہے۔ کیا وفاقی وزیر کے پاس ثبوت ہیں ۔ کیا یہ فیک نیوز نہیں ہے ۔ اپوزیشن سمیت سب عوام اس الزام پر ہل کر رہ گئے ہیں ۔ چنانچہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اُس سیاسی جماعت کا نام بتائے جس نے الیکشن کمیشن کو بطورِ رشوت پیسے دیے ہیں۔ اس پرحکومتی وزیر کہتے ہیں کہ ہم کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے خلاف میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں آٹا ، چینی ، گھی ، بجلی ، دوائیوں ، پیٹرول مافیا پر اس حکومت کے بیانات اور فیک نیوز کی ایک داستان ہے جس پر اگرکوئی کتاب لکھنے بیٹھے تو صحفے کم پڑجائیں ۔ حکومت اگر فیک نیوز کا خاتمہ چاہتی ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز چل رہے ہیں ۔ قانون بنا دے کہ ان کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہئے ۔ آج بھی تمام حکومتی وزیر ڈھٹائی سے کہتے رہے کہ حکومت کو غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جب کہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ یہ پتہ کیسے لگائیں گے کہ فیک نیوز کونسی ہے؟ کیا فیک نیوز وہ ہوگی جسے حکومت کہہ دے کہ یہ فیک نیوز ہے۔ یعنی حکومت جسے سچ قرار دے، وہ ہی سچ ہو گا۔

    ویسے بھی کون سا صحافی ہے جو چاہے گا کہ وہ فیک نیوز دے ۔ اس ملک میں خبر کی حرمت کی خاطر صحافیوں نے صرف ماریں نہیں کھائیں اپنے گلے تک کٹوائے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کی شکل بگاڑنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں ۔ اُن سے کون واقف نہیں۔ کئی چینل و اخبارات سخت مالی دباؤ کا شکار ہوکر بند ہوگئے ہیں ہزاروں صحافی بے روز گار ہوگئے اور کئی ادارے مقروض ہوگئے۔ پاکستان صحافت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 138ویں پوزیشن سے145ویں پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت نے خود ایک فیک نیوز کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ اس حکومت میں جو جتنا جھوٹ بولے ۔ جو جتنے اچھےطریقے سے مخالفین کو لتراڑے اس کو اتنا ہی اچھا عہدہ مل جاتا ہے ۔ اس حکومت نے چن چن کر بدتمیز ، اخلاق سے گری گفتگو کرنے والوں ، رنگ بازوں اور نااہلوں کی فوج کو جمع کر رکھا ہے ۔ جس کا کام بس روز دن میں دس دفعہ میڈیا پر آکر لوگوں کی کردار کشی کرنا ہے ۔یعنی جتنا لُچا اتنا اُچا۔ میڈیا پر اس قدر پابندیاں تو شاید ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں لگی تھیں جتنی آج لگائی جا رہی ہیں ۔ لہٰذا حکومت، عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ کیونکہ نہ یہ حکومت صدا رہنے ہے ۔ نہ عہدے صدا رہنے ہیں ۔ نہ کرسی صدا رہنی ہے ۔ دراصل پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ اس خواہش کا عملی اظہار پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالتے ہی کر دیا تھا۔ پچھلے تین برسوں کے دوران بھی خان صاحب کی حکومت ملکی میڈیا کو زیرکرنے اور اپنے ڈھب پر کرنے کی لاتعداد کوششیں کر چکی ہے۔ کئی صحافی اور میڈیا ورکرز لمبے حکومتی ہاتھوں کا ہدف بنے ہیں۔ یہ میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا بھی امتحان ہے۔ اپوزیشن کی ساری قیادت اور ملک کی نمایاں وکلا تنظیموں نے بھی میڈیا ورکرز کے اس احتجاج میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ وعدہ کہاں تک ایفا ہوتا ہے

  • کرونا اور حکومتی دوغلا پن، تحریر: محمد شعیب

    اس وقت ہمارا ملک کرونا وائرس کی چوتھی لہر چل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لاک ڈاون دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے بلکہ ویکسین کو لیکر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی سننےمیں آ رہا ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی لاک ڈاون کی نظر ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہے جسے مکمل طور پرvaccinateکرنا ہے اور جب یہ ہدف حاصل کرلیں گے تو ستمبر کے آخر میں پانبدیوں میں کمی ہو گی۔ اور 30 ستمبر تک جن لوگوں نے دونوں ڈوز نہیں لگوائیں ہوں گی ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا عملہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

    ٹھیک ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کرونا وائرس بہت خطر ناک ہے ہمیں اس سے بچاو کے لئے ہر صورت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کرونا اور اس سے بچاو کی ویکسین کو لیکر مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں کے رویے اتنے دوغلے کیوں ہیں؟پابندیوں کے معیار مختلف کیوں ہیں؟جس کام میں حکومت کی مرضی ہو اس کام پر چھوٹ کیسے مل جاتی ہے؟صرف چند چیزوں کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟کورونا وائرس جب پھیلنا شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کے بہت سے ممالک میں بہت سخت لاک ڈاون لگایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بغیر لاک ڈاون کے بھی اس پر قابو پا لیا گیا۔ اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو عجیب ہی صورتحال ہے جب گزشتہ سال کورونا وبا کی شروعات تھی توپاکستان میں سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ عوام کو گھروں میں بند کردیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سخت لاک ڈاون کے بعد کرونا وائرس کا پاکستان سے خاتمہ ہو جاتا اور اب ہم سکون میں ہوتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وائرس شدید سے شدید ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ جن ممالک سے یہ وائرس یہاں آ رہا تھا ان کی فلائٹس بند کرکے ہم اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچاو کے لئے فلائٹس بند نہیں کیں لیکن خود پر پابندیاں لگوا کر ریڈ لسٹ میں ضرور آ گئے۔ اور اب جیسے جیسے ویکسین کو لیکر حکومت عوام پر دباو بڑھا رہی ہے تو لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید بڑھتی جا رہی ہےدراصل لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو اس فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہ لگوائیں یا ابھی نہ لگوائیں اور کچھ عرصہ بعد لگوائیں لیکن حکومت بضد ہے کہ اگر ویکسین نہ لگوائی تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، ہم سم بند کر دیں گے، شناختی کارڈ بلاک کردیں گے۔ کسی دفتر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ جسے عوام حکومت کی بدمعاشی کہہ رہی ہے۔ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ دھمکیاں پاکستانیوں کو دی جارہی ہیں اور ان کی پرسنل لائف میں دخل دیا جارہا ہے؟اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج جب اس وائرس کے پھیلاو کو شروع ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ویکسین کا عمل شروع ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں تو عوام ابھی تک اسے قبول کیوں نہیں کررہی عوام اتنیConfuseاور ڈری ہوئی کیوں ہے؟دراصل اس کی وجہ دنیا کے کئی ممالک اور ان کی حکومتوں کا دوغلا پن ہے۔سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کی ہی بات کر لیں تو حکومت کی طرف سے شادی ہالز میں تین سو لوگوں کی اجازت ہے۔ پارکس میں پانچ سو لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لوکل بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ بازاروں میں رات آٹھ بجے تک خوب ہجوم ہوتا ہے۔ لیکن سکولز بند ہیں۔۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیل ہونے والے طلبہ کو بھی رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا اور آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔اور اگر کہیں پابندیوں میں نرمی بھی کر دی جائے تو تعلیمی ادارے 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جاتے ہیں Alternate daysمیں کلاسز ہوتی ہیں۔جب کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو سب ماہرین نے خود ہمیں یہ بتایا تھا کہ بچوں کے لئے یہ وائرس خطرناک نہیں ہے بچے صرف اس وائرس کےCarrier ہوتے ہیں۔ تو اب جب بڑوں کو ویکسین لگ چکی ہے اور بچوں کا اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو سکولز ابھی تک کیوں بند ہیں؟ اگر کھولے بھی جا رہے ہیں تو پچاس فیصد حاضری کیوں؟ ایک بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں تو کلاس میں پچیس بچے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جہاں بہت سخت لاک ڈاون لگائے گئے تھے لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا گیا تو سب سے پہلے سکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں سکول کھلے ہوئے ہیں اس کے بعد سکولز بند نہیں کئے گئے۔تو جب باقی ممالک میں سکولز کھولے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پاکستان میں جب لاک ڈاون میں نرمی کی بات آتی ہے تو سکولز کا نمبر سب سے آخر میں کیوں؟ کیا پاکستان میں وائرس کی کوئی خاص قسم ہے جو سکولز میں زیادہ ایکٹیو ہے؟اور ساتھ ہی پندرہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہCarrier ہیں آپ نے ان کو ویکسین لگانی شروع کر دی حالانکہ کوئی بھی ویکسین کیوں نہ ہوBioNTech, Pfizer CanSino CoronaVac Moderna Oxford, AstraZenecaSinopharm Sputnik V ان کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ویکسینز کرونا سے بچاو میں کارگر نہیں ہیں یہ کرونا کا علاج نہیں ہیں۔ ان کا رول صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کو کرونا ہو جائے تو یہ آپ کی حالت کو زیادہ بگڑنے نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو ventilator کی ضرورت پڑے یا خدانخواستہ کسی کی موت ہو جائے۔ صرف اس بنیاد پر ہم خود بچوں کے اندر ویکسین کی صورت میں وائرس والا جراثیم ڈال رہے ہیں تاکہ ان کی Immunityبڑھ جائے۔اور جبکہ ان ویکسینز کے بہت سے Side effectsکے کیسسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت جلدی میں بنائیں گئیں ہیں آج تک تاریخ میں کوئی ویکسین بھی تیار کرکے اتنی جلدی سب انسانوں کو نہیں لگائی گئی جتنی جلدی اس ویکسین کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے لازمی قرار دے کر زبر دستی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی جن کو کرونا ہو چکا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں ان کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔

    سکولز کے ساتھ ساتھ یہی حال مساجد کا بھی ہے اور یہی دوغلاپن آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی نظر آئے گا۔ جب بھی جس سیاسی جماعت کا دل کرتا ہے وہ جلسے جلوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں کوئی ایس او پیز فالو نہیں کی جاتیں اور اتنی بڑی تعداد میں عوام کا ہجوم اکھٹا کر لیا جاتا ہے۔ اور تو اور آپ خود دیکھ لیں کرونا کی وجہ سے سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن الیکشنز بند نہیں ہوئے لوگ پولنگ بوتھ پر اکھٹے ہو رہے ہیں ایک بیلٹ پیپر کتنے ہاتھوں سے گزر رہا ہے ایک ہی سٹیمپ سے کتنے لوگ ٹھپا لگا رہے ہیں لیکن وہاں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔اور یہ دوغلا پن صرف پاکستان میں نہیں ہے اور بھی کئی ممالک میں ہے آپ سعودیہ عرب کی ہی مثال لے لیں۔ سعودیہ عرب میں حرم خالی ہے حج تقریبا معطل ہے۔ عمرہ بھی بند ہے۔ لیکن 5 جولائی 2021 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق حج مقامات پر جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سینما ہالز کھلے ہیں فلم فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ کورونا کے ‏دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔ آخری 2 سینما 19 اگست 2021 کو ریاض اور طائف میں کھولے گئے۔ دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سعودیہ میں 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے 13 میں سے 9 صوبوں میں سینما کھل چکے ہیں جن میں سے 21 ریاض، 9 مکہ مکرمہ ریجن اور 8 مشرقی ریجن میں کھولے گئے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 تک پہنچی اور اب 44 ہوگئی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب کرونا اپنے عروج پر رہا ہے۔ جدہ اورریاض میں بڑے میوزیکل ‏کنسرٹ ہوئے ہیں فٹ بال میچز بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن لوگ حرم شریف میں نہیں آ سکتے؟
    وہاں جانے کے لئے تو ابھی تک کوئی ویکسین بھی فائنل نہیں کی جا رہی کہ لوگوں کو پتہ ہو کہ اگر ہم یہ ویکسین لگوا لیں تو اس کے بعد حج یا عمرہ کے لئے جا سکتے ہیں لیکن نہیں صرف اپنی مرضی کی جگہیں کھولنی ہیں اور جہاں مرضی نہیں ہے وہاں سب بند ہے۔

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کی ان دوغلی پالیسیز کی وجہ سے عوام ابھی تک اس وائرس کو لیکر کنفیوز ہے۔ جس طرح زبردستی ویکسین لگائی جا رہی ہے عوام اس سے ڈری ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا میں یہ وائرس ہے تو پوری دنیا کا اس سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ سیاسی ہجوم کی اجازت ہے الیکشنز کی اجازت ہے لیکن سکولز اور مساجد پر پابندی ہے۔ ایک پالیسی بنائیں اور اس کو ہرجگہ لاگو کریں اور جہاں تک بات ویکسین کی ہے تو پہلے لوگوں کا اس پر اعتماد بحال کریں پھر ویکسین لگائیں تاکہ لوگوں میں بے چینی ختم ہو عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہی چلانے کا وتیرہ مت اپنائیں اس میں سب کا نقصان ہے۔

  • متوازن غذا  تحریر : عفراء مرزا

    متوازن غذا تحریر : عفراء مرزا

    مرغیاں کوفتے مچھلی بھنے تیتر بٹیر
    کس کے گھر جاے گا سیلاب غذا میرے بعد
    مندرجہ بالا شعر تو مجید لاہوری کا ہے جس میں انھوں نے دل کھول کر بدپرہیزی کی ہے ۔ گوشت کے دل دادہ شاعر نے زبان کے چسکے کو اس قدر خوب صورتی سے ادا کیا ہے کہ شعر زبانی یاد ہوگیا ہے ۔ انسانی جسم کو جس قدر گوشت کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ سبزیوں کی اور دیگر لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔

     متوازن غذا ہی جسم کو توانا و تن درست رکھتی ہے ۔ جس قدر بہ ترین اور معیاری خوراک کا انتخاب کیا جاے گا ۔ اسی قدر جسم طاقت ور، صحت مند اور مدافعتی اعتبار سے مضبوط ہوگا ۔

    غذائیت سے بھرپور خوراک کے ذرائع ایسے ہوں جو جسم کی تعمیر و تشکیل اور مکمل نشوونما کرسکیں ۔ وٹامنز ، پروٹینز، چکنائی ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، کلورین ، گندھک ، آکسیجن اور سوڈیم وغیرہ ہمارے بدن میں بیماریوں سے دفاع کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھنے میں اہم ترین ذریعہ ہیں ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مندرجہ بالا اجزاء سے ہی بدن قائم رہتا ہے ۔

     ہم کو خیال رکھنا چاہیے کہ کیا کھایا ہے جب کہ ہم میں سے اکثر خیال رکھتے ہیں کہ کتنا کھایا ہے ۔ حالاں کہ ایک ترین چیز کیا کھایا ہے ۔

     جسم کی نشوونما ، قد کی مناسب بڑھوتری، بینائی اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن اے کو لازمی حیثیت حاصل ہے جو کہ حیوانی غذاؤں مثلاً دودھ، دہی، پنیر، مکھن ،دیسی گھی اور چربی والے گوشت کے علاوہ دیگر میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔

     سبزیوں میں گاجر ، ٹماٹر ، پالک ، بند گوبھی وغیرہ میں مخصوص مقدار کے ساتھ پایا جاتا ہے۔  اعصابی نظام کو متحرک رکھنے ، دل و دماغ اور اعضا کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے وٹامن بی کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ تمام ترکاریوں ، سبزیوں ، پھلوں اور گندم ، مکئی ، دالیں اور دودھ کی مصنوعات میں اس مقدار کافی موجود ہوتی ہے ۔

     وٹامن سی آنکھوں ، دانتوں ، مسوڑھوں اور جلد کی حفاظت کرتا ہے ۔ عام جسمانی کم زوری کو دور کرنے میں اہم کردار اسی وٹامن کا ہوتا ہے ۔ ممکنہ حد تک پھل چھلکوں سمیت  اور سبزیاں کچی کھائیں ۔


     حد سے زیادہ سبزیوں و ترکاریوں کو دھونے ، پکانے اور بھوننے سے یہ نازک و لطیف وٹامن ضائع ہوجاتا ہے۔  وٹامن ڈی کا کردار بھی لازم ہے کہ اس کا کام دانتوں کی مضبوطی اور حفاظت کرنا ہے ۔


     موسم سرما کی دھوپ اور مالش کرنا اس کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیجیے۔  وٹامن ای انسانی نسل کشی اور افزائش کے لیے ضروری ہے۔ بوڑھاپے کے اثرات کو روکنا اسی وٹامن کا کام ہے ۔ یہ گندم ، باجرا ، جو، چنا، پستہ، بادام ، چلغوزہ و تلوں کے تیل میں کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ نشاستہ کا کردار بدن میں ایندھن جیسا ہے اور جسم کو قوت توانائی فراہم کرنے کا بہ ترین ذریعہ ہے ۔

     پروٹین عضلات اور جسم کی دوسری بافتوں کی نشوونما کے لیے ایک لازمی جزو ہے جو کہ گوشت، انڈا، دودھ ، مکھن ، مختلف روغنیات، پالک، گاجر ، مٹر، لوبیا اور دالوں وغیرہ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کیلشیم ، فولاد ، میگنیشیم ، گندھک ، آئیوڈین ، کلورین ، سوڈیم ، پوٹاشیم ، فاسفورس ، زنک اور کئی دیگر وٹامنز بھی ہیں جو کہ جسم کے لیے لازم ہیں ۔

    ذرا سی احتیاط اور بہ ترین غذائی انتخاب ہمارے لیے صحت و تن درستی کا پیام بن جاتا ہے ۔ غیر معیاری اور ناقص خوراک کا استعمال ، عدم صفائی اور غیر صحت مندانہ طرز عمل ہمیں بیماریوں کی دعوت دیتا ہے۔ بازاری اشیاء سے حتی الامکان اجتناب اور معتدلانہ طرز زیست ہی ہمیں توانا و تن درست رکھ سکتا ہے ۔

    AframirzaDn

  • شمالی کوریا کا ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ ،  جاپان نے اشتعال انگیزی قرار دیدیا

    شمالی کوریا کا ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ ، جاپان نے اشتعال انگیزی قرار دیدیا

    شمالی کوریا نے ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہےشمالی کوریا ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر ایسا نظام تیار کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میزائل کو شمالی کوریا کی مشرقی بندرگاہ کے قریب چلتی ہوئی ٹرین سے داغا گیا ٹرین لانچ میزائل نیا نظام ہے جو حملہ آور دشمن کو نشانہ بنانے کیلئے تیار کیا گیا ہے شمالی کورین حکام کے مطابق میزائل نے مشرقی ساحل سے800 کلومیٹر دور سمندر میں ایک ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے داغے گئے میزائل ایک نئے "ریلوے سے چلنے والے میزائل سسٹم” کی آزمائش ہیں جو کسی بھی طاقت کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    جنوبی کوریا اور جاپانی حکام نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہیں شمالی کوریا کی جانب سے کیے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کا پتہ چلا ہے۔اس سے چند دن پہلے ہی اس نے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ایٹمی صلاحیت ہو سکتی ہے۔

    شمالی کوریا نے میزائل کی لانچنگ اسی دن کی جب جنوبی کوریا نے سب میرین سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    جاپان کے وزیراعظم یوشڈی سوگا نے میزائل لانچ کو ‘اشتعال انگیز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خطے کا امن اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے رواں ہفتے یہ دوسرا میزائل تجربہ ہے بیلسٹک میزائل کے تجربات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں جو شمالی کوریا کی ایٹمی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

    رواں ہفتے کے آغاز پر شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا جو کہ جاپان کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے رابطے میں ہیں امریکا

  • اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    اسپیس ایکس کا خلائی جہازانسپائریشن 4 پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق انسپائزیشن چاروں افراد کو لے کر زمین کے گرد چکر لگائے گی، خلائی شٹل فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس اسٹیشن سے روانہ ہوئی۔ خلائی گاڑی مشن کے تحت تین دن تک وہاں قیام کرے گی، مشن کو انسپیریشن 4 کا نام دیا گیا ہےاگلے تین دنوں میں انسپیریشن 4 کا عملہ ہر 24 گھنٹے میں 15 مرتبہ زمین کا چکر لگائے گا۔

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    جس میں شہری اسپیس ایکس کے راکٹ میں زمین کے گرد چکر مکمل کریں گے خلائی گاڑی زمین کے مدار میں پہنچنے کے بعد27 ہزار 360 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے ہر 90 منٹ میں ایک چکر مکمل کرے گی خلائی گاڑی اس دوران زمین کے گرد آواز کی رفتار سے 22 گنا زیادہ تیزی کے ساتھ سفر کرے گی۔


    چند ماہ قبل ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے ناسا کے لیے انسانوں جیسے مدافعتی نظام رکھنے والے 73 ہزار خرد بینی جانور اور دیگر تحقیقاتی مواد کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن روانہ کیا تھا۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ پر 7،300 پاؤنڈ سے زیادہ تحقیقی مواد، رسد اور ہارڈ ویئر پر مشتمل جدید کارگو مشن کو جمعرات کے روز فلوریڈا میں کینیڈی اسپیس سنٹر سے خلائی اسٹیشن پر روانہ کیا۔


    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق سائنسدانوں کو انسانوں پر اسپیس لائٹ کے اثرات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی ،اس سے ماہرین خلا میں رہتے ہوئے خلابازوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مطالعہ کریں گے، اور دریافت کیا جائے گا کہ خلا میں طویل مدتی قیام کس طرح انسانی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

  • معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت  28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرایا ہے جسے ہوم سنیما کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس نئے ٹی وی کو بطور خاص سنیما کے شوقین افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کے بعد کمپنی کا کہنا ہے کہ سنیما گھروں تک جانے کی روایت پرانی ہو گئی ہے مگر اس کے لے ضروری ہے کہ آپ کے پاس کم از کم 70 ہزار امریکی ڈالرز ( ایک کروڑ 18 لاکھ 68 ہزار 500 پاکستانی روپے) اضافی ہوں –

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایل جی کمپنی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ایکسٹریم ہوم سنیما 325 انچ (27 فٹ) چوڑا ہے اور 8 کے آپشن کے ساتھ مختلف سائزوں میں دستیاب ہے۔

    ایل جی الیکٹرانکس یو ایس اے کے نائب صدر ڈین اسمتھ نے تصدیق کی ہے کہ متعارف کرائے جانے والے نئے ہوم سنیما کی قیمتیں تقریبا ً70،000 امریکی ڈالرز سے شروع ہو کر 1.7 ملین امریکی ڈالرز ( 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے) تک ہوں گی۔

    ایل جی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ہوم سنیما 2K ، 4K اور 8K کنفیگریشنز میں دستیاب ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے ایکسٹریم ہوم سنیما میں شائقین کے لیے پاپ کارن کے علاوہ باقی سب کچھ ہے۔

    کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق متعارف کرائے جانے والے ہوم سنیما کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ صارفین اسے اپنے گھر میں موجود جگہ کے اعتبار سے افقی و عمودی طور پر بھی سیٹ کرسکتے ہیں کمپنی نے اس کے ساتھ ایک فلائٹ کیس بھی دیا ہے جس کی وجہ سے چھٹیوں کے دوران اسے اپنے ہمراہ لے جانا بھی ممکن ہوگا۔

    ایل جی کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہر سیٹ کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ پیک کیا جاتا ہے اور کسٹم پیکجنگ کا پورا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ صارفین تک پہنچنے میں کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو۔

    برطانوی اخبار کے مطابق لیکن بہت بڑے سائز کا ٹی وی متعارف کرانے والا ایل جی واحد ادارہ یا کمپنی نہیں ہے کیونکہ کچھ دن قبل ہی سام سنگ نے بھی دی وال کے نام سے ایک بڑی اسکرین کی نقاب کشائی کی تھی جو کہ ایک ہزار انچ کی ہے۔

    اخبار کے مطابق سام سنگ کی جانب سے متعار کرائی جانے والی دی وال نامی بڑی اسکرین ماڈیولر ڈیزائن میں ہے جو کئی چھوٹی اسکرینوں پر مشتمل ہوتی ہے جب کہ ایل جی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ہوم سنیما صرف ایک اسکرین پر مشتمل ہے۔

    Interior of a luxury living room with billiard table

    میڈیا رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے گھر کی دیوار کو ایک نئی جدت دی ہے اور گھریلو سجاوٹ کے ساتھ ساتھ انتہائی دلکش منظر بھی پیش کرتی ہے اور انتہائی خوشگوار و لاتعداد نئے تجربات سے ہم آہنگ کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔

    سام سنگ کی جانب سے تاحال دی وال کی قیمت کا عوامی طور پر باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا ہے کہ لیکن میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کا 2019 کا ایک ورژن ایک لاکھ امریکی ڈالرز (ایک کروڑ 69 لاکھ 55 ہزار پاکستانی روپے) میں فروخت ہوا ہے۔

  • ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢   تحریر ۔ روشن دین

    ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢ تحریر ۔ روشن دین

    ڈاکٹر احمد حسن دانی کے مطابق پہلا شہنشاہ جس نے اس علاقے (گلگت) میں کشنا کی طاقت کو بڑھایا وہ ویما کڈفیس تھا۔ اس حوالے سے نشانیاں چلاس اور ہنزہ میں ملتے ہیں۔ کوشانوں نے نہ صرف پورے گلگت بلتستان کو فتح کیا بلکہ لداخ پر بھی اپنا اختیار بڑھایا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ان کی حکمرانی کی نشست ہنزہ میں کہیں واقع ہوگی۔ کوشان تبت سے سنکیانگ تک لداخ ، کوہستان اور ہنزہ سمیت علاقے کو کنٹرول کر رہے تھے۔
    کنشک کے دور میں چین کے ساتھ براہ راست رابطہ سلک روڈ شاخ کے ذریعے قائم ہوا جو گلگت سے گزرا۔ بدھ مت نے گندھارا سے کھوٹن ، یارکنڈ ، کاشغر اور چین کے مغرب تک سفر کیا۔ اس عرصے میں اس علاقے میں بدھ عباتگاہوں اور سٹوپوں کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہوئی اور بظاہر گلگت ایک اہم بدھسٹ سٹیٹ بن گیا۔ کوشانوں نے گلگت کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن کیا۔ اس وقت گلگت کے حکمرانوں کو ’’ پٹولہ شاہی ‘‘ کا لقب حاصل تھا۔ دیوا سری چندر گلگت اور ہنزہ میں پٹولا شاہی خاندان کے آخری حکمران تھے۔
    جب تبتیوں نے گلگت پر حملہ کیا تو چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کو دوبارہ قائم کیا۔ اس دوران تبتیوں نے بلتستان کو اپنے قبضے میں لے لیا جہاں سکردو میں نشانیاں اور بدھ مت کی ایک بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصے میں پٹولا شاہی حکومت قائم ہوئی۔
    1884 میں ایک ہنگری سیاح کارل یوگن نے بلتستان ، گلگت اور چترال سے پتھروں کی نقش و نگار شائع کی۔ چٹانوں کی نقش و نگار کا پہلا مطالعہ جرمن تبت کے ماہر اگست ہرمن فرانک نےکیا۔ جنہوں نے 1902 میں لداخ بلتستان ، چلاس کے بارے میں اپنی پہلی آثار قدیمہ کا مطالعہ شائع کیا۔ غلام محمد نے سب سے پہلے گلگت اور چلاس کے علاقے میں بدھسٹ راک نقش و نگار کو اپنی کتاب میں شائع کیا۔ "گلگت کے تہوار اور لوک کہانیاں” 1905 میں
    گلگت بلتستان میں چٹانوں پر بدھ مت کی کئی باقیات اور تصاویر کھدی ہوئی ہیں۔ 1986 کے اندازوں کے مطابق قراقرم ہائی وے (kkh) کے ساتھ 3000 شلالیھ اور 30000 سے زائد پیٹروگلیفس دریافت ہوئے۔ چلاس کو نوشتہ جات اور پیٹروگلیفس کے مطالعہ کے لیے ایک انتہائی دلچسپ جگہ سمجھا جاتا ہے۔ چلاس کے نزدیک خروشتی نسخہ مل سکتا ہے جو دوسرے کوشنا شہنشاہ کا حوالہ دیتے ہوئے اویما داساکاسا کا نام دیتا ہے۔ چلاس کے قریب ، تھلپن کو تراش کندہ پتھروں کی کان سمجھا جاتا ہے۔ ایک راستہ ہے جسے حاجیوں کے راستے کا نام دیا گیا ہے جہاں آپ نقش و نگار پتھروں کی دولت دیکھ سکتے ہیں ، تاریخی طور پہ تھلپن سے خنجرگاہ کے راستے گلگت جانے والا راستہ ہے۔ ایک جگہ پر بدھ کے پہلے خطبے کی کہانی ہے اور اس سائٹ کو "پہلا خطبہ کی چٹان” کہا جاتا ہے۔
    یہاں بدھ بیچ میں بیٹھا ہے جبکہ پانچ شاگرد اس کے ارد گرد ہیں۔ چلاس میں ہمیں قدیم شبیہہ کا سب سے بڑا ذخیرہ اور پتھر میں نقش و نگار ملتا ہے۔ کوہستان کے شتیال سے شروع ہو کر گلگت تک۔ تھلپن میں بدھ کے بیٹھنے کی سب سے وسیع نمائندگی محفوظ ہے جس میں بدھ کا پہلا خطبہ نمایاں ہے۔ داریل اور شتیال وادی جس میں کئی مسافر آئے تھے ، مشنری سوگڈین زبان میں کئی سو نقش یہاں پائے جاتے ہیں۔ وادی گلگت (عالم برج) اور ہنزہ میں حالات شلالیھ پیش کرتے ہیں جو پورے دور میں پھیلے ہوئے ہیں جس میں کھوش سلطنت خروش اور برہمی رسم الخط میں موجود تھی جو پانچویں اور آٹھویں صدی کی ہے۔
    گلگت شہر کے نواح میں کارگاہ (نالہ) کے افتتاح کے موقع پر بدھ کا ایک پتھر کٹا ہوا ہے۔ یہ شکل 9 فٹ بلند ہے۔ غالبا histor مورخین کے مطابق یہ سنگ تراشی ساتویں صدی میں کی گئی تھی۔ فا ہین نے بدھ کے اس اعداد و شمار کا بھی ذکر کیا جس نے 400 قبل از مسہی میں گلگت کا دورہ کیا تھا۔ گلگت کے نپور گاؤں میں کارگاہ بدھ کے ساتھ مل گیا۔ مخطوطات لکڑی کے ڈبے میں پیک کیے گئے تھے۔ یہ جگہ ایک قدیم کھنڈر معلوم ہوتی ہے جو شاید بدھ راہبوں کی رہائش گاہ تھی۔
    یونیسکو کے مطابق گلگت کے نسخے سب سے قدیم نسخوں میں سے ہیں۔ یہ نسخے برصغیر میں بدھ مت کے مخطوطات کا واحد مجموعہ ہیں۔ گلگت کے مخطوطات میں تین بدھ مت کے مترادفات (مذہب کے سربراہوں کے درمیان کانفرنس) کا حوالہ ہے۔ ایک اور مشہور مقام ہنزہ کے ایک مقام پر واقع ہے جسے ہلدیکوش (گنیش اور عطا آباد جھیل کے درمیان) کہا جاتا ہے۔ یہاں کی اہمیت ایک یادگار ہے جو صدیوں تک لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہی۔ چٹانوں پر نقش و نگار پہلی صدی کے ہیں۔ چٹان میں نوشتہ جات شامل ہیں جو سوگڈین ، خروشتے اور براہمی زبانوں میں تراشے گئے ہیں۔ ہنزہ کے خوفناک پتھروں کو سب سے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ابیکس کی، شکار کے مناظر اور نقش درج ہے۔
    ہیرالڈ ہاپٹ مین کے مطابق پچاس ہزار سے زیادہ پتھروں کی نقش و نگار اور چھ ہزار نوشتہ جات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور مزید تلاش کے ساتھ ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ کشن سلطنت کے شہنشاہ کے نام ان تحریروں کے ساتھ ساتھ کنشکا اور ہیوشکا سلطنت کے شہنشاہوں کے نام بھی ظاہر ہوتے ہیں
    تبتی لوگ لداخ سے ہوتے ہوئے بلتستان میں داخل ہوئے جہاں ان کے نوشتہ جات اور بدھ نقش و نگار سکردو اور دیگر مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں۔ سکردو کے قریب منتھل گاؤں بدھ مت کی نقش و نگار کے لیے مشہور ہے اور یہ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ ہے جس کے چاروں طرف بیس شاگرد ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شلالیھ دوسری اور تیسری صدی کے ارد گرد کندہ کیے گئے ہوں گے۔
    اسے پہلی بار جین ای ڈنکن نے 1904 میں دستاویز کیا تھا۔ تبت سے چین کو خطرہ تھا جو گلگت کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے ، چینی سلطنت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تبتی حملہ آوروں کو بالائی سندھ اور آکسس سے دور رکھا جائے۔ تبتی لداخ ، بلتستان ، گلگت ، یاسین کے راستے شمال اور مغرب کی طرف بڑھا ، حالانکہ بوروگل گزرتا ہے۔ چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کی حکمرانی بحال کی۔ لیکن تبتی بلتستان کو اپنے قبضے میں کرنے میں کامیاب رہے۔
    یہاں ایک مکتبہ فکر بھی ہے کہ بدھ مت کے بعد گلگت اور گرد و نواح کا علاقہ قرون وسطیٰ کے زمانے میں زرتشتی حکمرانوں کے ماتحت آیا۔ ھود العلم میں لکھا ہے کہ مقامی حکمران سورج (خدا) کے پیروکار تھے۔ جان بڈولف کے مطابق آکسس وادی زرتشتی مذہب کا گہوارہ تھا اس لیے جنوب کے علاقے اس کے زیر اثر آئے۔ جان بڈولف "ٹیلیانی” تہوار کے مطابق گلگت اور ہنزہ اور بلتستان میں ماضی میں منائی جانے والی آگ کی عبادت کی یادگار ہے۔ ہنزہ میں اسے "تم شیلنگ” ، استور میں "لومی” اور چلاس میں اسے "ڈائیکو” کہا جاتا ہے۔
    جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ، اسلام اس خطے میں تیرہ کے آخر یا چودہویں صدی کے آغاز میں کشمیر ، وسطی ایشیا اور سوات/کاغان سے آیا۔ گلگت کے آخری حکمران شری بدعت کو ایک عزور جمشید نے قتل کر دیا جس نے اپنی بیٹی سے شادی کے بعد ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھی۔
    گلگت بلتستان میں کئی تاریخی مقامات ہیں ان مقامات کو حکومت کی طرف سے ورثہ قرار دینے کی ضرورت ہے اور ان کو ختم ہوتے ہوئے ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں محکمہ آثار قدیمہ/ریسرچ سنٹر کے قیام کی بھی ضرورت ہے جو گلگت بلتستان کے ثقافتی ورثے کے حصول کی طرف ایک قدم ہے۔ خاص طور پر ضلع چلاس میں آثار قدیمہ کے مقامات کے بارے میں خدشات ہیں کہ ممکنہ طور پر دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔ گلگت بلتستان کی حکومت اور وفاقی حکومت کو اس قومی ورثے کے تحفظ اور نقل مکانی کے لیے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

  • کنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی  تحریر: سیف الرحمان

    کنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی تحریر: سیف الرحمان

    سال 2018کے جنرل الیکشن کے بعد پاکستانی سیاست کا رخ ہی بدل گیا ہے۔ اس وقت پانچ سکنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی

    تحریر: سیف الرحمانال کے بچے سے لے کر ستر سال کے بزرگ تک ہر شخص کی پاکستانی سیاست پہ نا صرف گہری نظر ہے بلکہ وہ بذاد خود کسی نا کسی صورت حصہ بھی لیتے نظر آ رہے ہیں۔ جنرل الیکشن پانچ سال کیلئے ہوتے ہیں۔ ان پانچ سالوں میں خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن بھی ہوتے ہیں۔ ضمنی اور بلدیاتی الیکشن سے سیاست کے بدلتے رنگ اور لوگوں کے رجحان کا بھی پتا چلتا  رہتا ہے۔ 

      سابقہ ادوار میں    تمام  سیاسی حکومتوں نے پاور میں  آ کر بلدیاتی اداروں کو  تقریبا مفلوج کئے رکھا ۔ اگر دیکھا جائے تو ڈکٹیٹر شپ میں  نا صرف  باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کرائے جاتے رہے بلکہ  ان کو اختیارات اور فنڈز بھی  ملتے رہے۔ سیاسی حکومتیں جنہیں سب سے زیادہ توجہ بلدیاتی اداروں پر دینی چاہیے انہوں نے بلدیات کو ہمیشہ پس پردہ رکھا۔ عوامی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز کی ترسیل روکے رکھی۔

    اس وقت دیکھا جائے تو  ایک بار پھر بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں  شروع ہو چکی ہیں۔ اس کا  پہلا مرحلہ کنٹونمنٹ اداروں کے الیکشن سے مکمل ہوا۔کنٹونمنٹ بورڈز کے 206وارڈز میں جنرل ممبر نشستیں جیتنے کیلئےکل 1513امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔

    پنجاب کے انیس کنٹونمنٹ بوڈز کی ایک سو بارہ وارڈز میں 878امیدواروں نے حصہ لیا۔

     سندھ کے آٹھ کنٹونمنٹ بورڈز کی 53وارڈز میں چارسو اٹھارہ امیدواروں نے حصہ لیا۔

     خیبر پختون خواہ  کے نو کنٹونمنٹ بورڈز کی تینتیس وارڈز میں ایک سو ستر واروں امید واروں  نے حصہ لیا۔

      اسی طرح بلوچستان کے تین کنٹونمنٹ بورڈز کی آٹھ وارڈز میں سنتالیس امیدواروں نے حصہ لیا۔

     بعض لوگ اس  الیکشن کے نتائج کو اگلے جنرل الیکشن میں کسی بڑی تبدیلی سے مشروط کر رہے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ کنٹونمنٹ کا علاقہ زیادہ وسیع نہیں ہوتا  یہ چند شہروں تک محدود ہوتا ہے اور  یہاں کا ووٹر بھی  گلی محلے کے ووٹر زسے مختلف ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ بلدیاتی الیکشن کی ہار جیت سےسیاسی جماعتوں  اور دوراندیش لیڈروں کوآئندہ آنے والے عام انتخابات  کیلئے ایک بار سوچنے پر ضرور مجبور کر دیتی ہے۔

    اس وقت پیپلز پارٹی گراؤنڈ سے مکمل غائب نظر آ رہی ہے۔ سندھ کے علاوہ باقی سارے ملک میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بہت بری طرح متاثر ہوا پڑا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سن دو ہزار   آٹھ سے  دو ہزارتیرہ تک پانچ سال کا طرز حکمرانی  ہے۔  اس دور میں کرپشن  اور بدترین گورننس  جیسے الزامات نے پیپلز پارٹی کو تقریبا سندھ تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے تمام خاندان جو ایک وقت میں جیالے ہوا کرتے تھے ان سے مایوس ہو کر تحریک انصاف کے ووٹر بن گئے۔ آپ کہہ سکتے ہوپیپلز پارٹی کا ستر فیصد ووٹر اس وقت تحریک انصاف کا نا صرف ووٹر ہے بلکہ انکی آنے والی نئی نسلوں نے بھی اپنا سیاسی سفر تحریک انصاف اور عمران خان کو بطور لیڈر تسلیم کرتے ہوئے شروع کر لیا ہے۔ 

    اگر بات کی جائے  مسلم لیگ ن  کی تو وہ اس معاملے میں بہت شاطر اور دور اندیش نظر آتی ہے۔ن لیگ کی اعلی قیادت پر کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے باجود  انہو ں  نےکائونٹر کرنے کی بہتر  حکمت عملی بنائی۔ نوجوان ووٹر  کو اپنی طرف متوجہ رکھنے  کے لئے مختلف  حربے اپنائے ۔بڑی ہوشیاری سے  چند  الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی سے توڑ کر ن لیگ میں شامل کیا۔جس کی مثال  ڈی جی خان کے لغاری خاندان اور ملتان سے سکندر بوسن، جہانیاں گردیزی وغیرہ ہیں۔   اس کے علاوہ شہباز شریف کا پرو فوج گروپ میں رہنا اور نواز شریف اور مریم کا فوج مخالف ہونا بھی سیاسی حربہ اور ووٹر کی کسی دوسری طرف راغب ہونے کی کوشش کو ناکام بنانے کا حربہ نظر آتا ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کیلئے  موجودہ کنٹونمنٹ الیکشن کے  نتائج خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت  کو یقین تھا کہ  کام کرو نہ کرو لوگ عمران خان کے نام پہ ضرور ووٹ دیں۔مگر حقیقت تلخ ہے۔عوام سمجھدار ہو چکی ہے۔ آپ اندازہ لگائیں تحریک انصاف نے اپنے کئی مضبوط علاقوں سے شکست کھائی ہے اور بعض جگہوں پر تو بہت ہی  بدترین شکست ہوئی ہے۔ راولپنڈی میں تحریک انصاف نے پچھلے انتخابات میں ایک طرح سے سوئپ کیا تھا اور  اس بار چکلالہ پنڈی سے انہیں بہت بری طرح  شکست ہوئی ہے۔ آپ  واہ کینٹ  کو دیکھ لیں وہاں بھی  تحریک انصاف کو اچھا خاصہ ڈنٹ پڑا ہے۔ اگر لاہور  کی بات کی جائے تو وہاں انکی قیادت خواب خرگوش میں شادیانے بجاتی نظر آ رہی تھی ۔ میں نے الیکشن سے پانچ دن پہلے بلدیات کے ایک فوکل پرسن کو بتایا کہ لاہور میں تحریک انصاف کیلئے کچھ اچھے حالات نظر نہیں آ رہے تو انہوں مجھے جواب دیا کہ ہم آدھی سے ذیادہ سیٹیں آسانی سے جیت لیں گے۔ مجھے اس وقت بھی ان کی یہ بات بہت عجیب لگی لیکن پھر یہ سوچ کر بات دوبارہ سوال نہیں کیا  کہ شاہد ان لوگوں نے اندر کھاتے کچھ بہتر سوچ رکھا ہو گا۔

    لاہور کینٹ کے علاقے میں پی ٹی آئی کا ووٹ کافی ذیادہ ہے۔ اندرون لاہور  کی اگر بات کی جائے جس میں باغبان پورہ اور اچھرہ وغیرہ کے علاقے شامل ہیں کم ہے۔ لاہور کینٹ میں ن لیگ نے جتنا ووٹ لیا اس کی امید شاہد خود تحریک انصاف کو  بھی نہیں تھی ۔

      اگر بات کی جائےملتان  کی تو تحریک انصاف کو بہت بری طرح  شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ملتان میں ذیادہ طرح آذاد  امیدواروں نے میدان مارا ہے۔ اس پہ شاہ محمود قریشی کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان اٹھ  رہا ہے کیونکہ ملتان شاہ صاحب کا حلقہ ووٹ اور پہچان سمجھا جاتا ہے۔

    بعض لوگ کہتے پھر رہے ہیں کہ جو آذاد امیدوار جیتے ہیں وہ بھی ہمارے ہی لوگ تھے تو یہاں ٹکٹ دینے والوں پہ سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ٹکٹ ہی کیوں دیتے ہو جن کا ووٹ بینک ہی نہیں ہوتا۔ کیا یہ مقامی تنظیم کی ناکامی نہیں؟

     اگر بات کی جائے  کھاریاں کینٹ اور بہاولپور  کینٹ کی تو یہاں  تحریک انصاف نے عزت بچا لی ۔ اگر ان دو علاقوں کا رزلٹ بھی ویسا ہی آتا جیسا باقی  پنجاب کی جگہوں سے آیا تو پھر  پنجاب میں ان کا صفایا ہوجانا تھا۔ کھاریاں میں تحریک انصاف نے توقع سے ذیادہ اچھا رزلٹ دیا ۔

     اگر بات کی جائے پشاور کی تو یہاں  پی ٹی آئی  کوکلین سویپ کرنا چاہئے تھا  کیونکہ  عام انتخابات میں تحریک انصاف  نے پشاور  سے سوئپ کیا تھا۔ اس بار پشاور میں تحریک انصاف ذیادہ اچھا رزلٹ نہ دے سکی۔ پشاور کے علاوہ  نوشہرہ میں بھی تحریک انصاف کو بہت  نقصان ہوا۔ اتنے اچھے رزلٹس نہیں آئے جتنے کے پی سے توقع کی جا رہی تھی۔ بہر حال کے پی نے  تحریک انصاف کو سہارا دیا ہےورنہ پنجاب  میں ن لیگ نے تحریک انصاف کو شکست دی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہو کہ پنجاب میں عمران خان کیلئے خطرے کی گھنٹی بچ چکی ہے۔ 

     اب آتے ہیں کراچی کی طرف کراچی نے ایک بار پھر تحریک انصاف پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ۔ کراچی میں تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کو کافی ٹف ٹائم دیا۔ مجموعی طور پہ کراچی کے رزلٹ تحریک انصاف کیلئے بہت اچھے رہے ہیں۔ سندھ میں مجموعی طور پر ان کی نشستیں ذیادہ ہیں، مگر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ جہاں سے تحریک انصاف کو جیتنا چاہیے تھاوہاں سے ہار گئی۔ یاد رہے  کلفٹن سے پی ٹی آئی  عام انتخابات میں بھی  نشستیں نکالتی رہی ہے اور یہاں پر پارٹی کے اہم لیڈروں کے گھر بھی ہیں۔ عمران خان کو سوچنا ہو گا کہ کسی کمزور  کپتان کی قیادت میں کبھی ٹیم جیت نہیں  سکتی۔ پنجاب میں کنٹونمنٹ بورڈ کے نتیجہ نے پنجاب کے مستقبل پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا۔اگر کسی کو کوئی شکوک و شہبات ہیں تو آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں کلیئر ہو جائے گا۔

     عمران خان نے پنجاب ٹیم  کیلئے جو کپتان چن رکھا ہے لگ رہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اس کپتان(عثمان بزدار ) نے ساری تحریک انصاف کو دیوار میں چن کے رکھ دینا ہے۔ شرافت اور ایمانداری کیساتھ بندے کی سیاسی ساخت اور قدکاٹھ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جو بدقسمتی سے ابھی تک بزدار صاحب کے اندر نظر نہیں آ رہا۔

    اگر ہم بات کریں مسلم لیگ ن کی تو اسکی  مجموعی نشستیں تحریک انصاف سے کچھ کم  ہیں لیکن  ن لیگ  کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں واضح طور پر اپنی برتری ثابت کردی۔ رہی سہی کثر آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں پوری ہو جائے گی۔دیکھا جائے تو  ن لیگ کی درجہ اول اور درجہ دوئم کی  قیادت  اس وقت سخت دباؤمیں ہے۔یہ سب کے سب مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ نواز شریف تاحیات ناہل اور عدالتی مفرور ہے۔ مریم نواز خود نااہل اور سزا یافتہ مجرم ہیں۔ ایسے برے حالات میں بھی  اتنی اچھی کارکردگی دکھانا قابل تحسین ہے۔اس سے یہ بھی  ثابت ہوا کہ عمران خان اور ان کے حامی اپنی تمام تر کوششوں  کے باوجود ن لیگ کو پنجاب سے آؤٹ نہیں کر سکے۔ن لیگ کی  راولپنڈی کی  اچھی کارکردگی بونس پوائنٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہےگوجرانوالہ اور کھاریاں کی شکست نے  ن لیگ کو سوچنے پر ضرور مجبور کیا ہو گا۔ کیونکہ گجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے ہار کا مطلب ن لیگ کی بنیادیں کھوکھلی ہونے کے معترادف ہے۔ن لیگ نے اس بار کراچی میں نشستیں لے کر سب کو حیران کر دیا۔کیونکہ سندھ میں ن لیگ کا کوئی خاص ووٹ بینک نہیں ہے۔ن لیگ بھی پی پی کی طرح صوبائی جماعت بنتی جا رہی ہے   ۔ کے پی ,  سندھ اور بلوچستان میں ن لیگ کو بہت محنت کرنی پڑے گی۔

    اگر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کے لئے یہ موجودہ الیکشن  سخت مایوس کن ثابت ہوئےہیں۔ لگ رہا ہے کہ   پیپلزپارٹی صرف سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ بلاول بھٹو ذرداری نے پنجاب میں محنت بھی کی ۔ کافی جلسے وغیرہ بھی کئے ۔ جنوبی پنجاب میں یوسی لیول تک جلسوں سے خطاب بھی کئے لیکن رزلٹ صفر جمع صفر برابر صفر ہی آیا۔اگلے عام انتخابات سے پہلے انہیں قومی سطح پر تاثر جمانے کے لئے بہت محنت کرنا ہوگی۔ کوئی نیا منشور پیش کرنا ہوگا۔ اپنے اوپر سے کرپشن کے لیبل ہٹانے ہوں گے۔ سب سے اہم بات سندھ میں گورننس بہتر کرنی ہو گی۔ اگر سندھ میں طرز حکمرانی بہتر کر لی تو شاہد باقی صوبوں میں بھی ووٹ بینک بن پائے۔ تحریک انصاف نے وفاق سے پہلے کے پی میں حکومت کی اپنا لوہا منکوایا ۔ لوگوں کو اعتماد دیا کہ ہمیں ووٹ دو ہم تبدیلی لے کر آئیں گے۔ بلاول کو بھی سندھ سے شروعات کرنا ہو گی۔  جس دن عوام نے سندھ میں تبدیلی محسوس کی بلاول کو ووٹ مانگنے میں دشواری نہیں ہو گی۔

    اگر بات کی جائے مولانا فضل الرحمان صاحب کی جماعت کی تو جے یو آئی کیلئے یہ الیکشن بہت ہی برا رہا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا صاحب کی پارٹی صرف رینٹ اے  جلسہ کی حد تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔  مولانا فضل الرحمن  صاحب کی جماعت کو سب سے ذیادہ نقصان پی ڈی ایم کی وجہ سے ہوا ہے۔

    اگر  بات کی جائے اے این پی  کی تو انہوں نے اس  بلدیاتی  الیکشن میں بہت  محنت کی اور پشاور میں بہترین کارکردگی دکھائی۔  اب آئندہ بلدیاتی انتخابات میں دیکھنا ہوگا کہ اے این پی کہاں کھڑی ہے اور اسے کتنے ووٹ ملتے ہیں؟ اگر اے این پی آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں بھی بہتر کارکردگی دیکھانے میں کامیاب ہو  جاتی ہے  تو تحریک انصاف کی قیادت کو اپنے طرز حکمرانی  پر بیٹھ کر سوچنا پڑے گا۔

    کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں سب سے ذیادہ حیران  جماعت اسلامی نے کیا۔ طویل عرصے بعد اس نے کراچی میں بہت اعلی کارکردگی دیکھائی ہے۔  جماعت اسلامی  نے کراچی سے پانچ ,  چکلالہ پنڈی سے دو   , دو جبکہ مردان اور نوشہرہ سے  ایک ایک نشست نکالی  ہے۔ اگر بات کی جائے  کراچی  کی تو یہاں جماعت اسلامی  تیسرے نمبر پر رہی اور اس کے ووٹوں کی شرح بھی  بہت اچھی رہی۔آپ کہہ سکتے ہو کہ  جماعت اسلامی نے کراچی میں ایم کیو ایم، ن لیگ اور پی ایس پی کے مجموعی ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔  اس کارکردگی پر کراچی کے امیر حافظ نعیم مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اگر کراچی میں  مزید محنت کی جائے تو جماعت اسلامی کراچی میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔  

    اس وقت پورے پاکستان میں بیالیس کنٹونمنٹ بوڈ ز کی دوسو انیس وارڈز ہیں۔ لیکن الیکشن صرف  انتالیس کنٹونمنٹ بورڈز کی دوسو چھ  نشستوں پر ہی ہو پایا ہے۔  اگر پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو مجموعی طور پر پی ٹی آئی نے 60 نشستوں کے ساتھ سر فہرست

      ن لیگ 57 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر

     جبکہ آذاد امید وار 43نشستوں کے  ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ 

    پیپلز پارٹی 14سیٹوں کے ساتھ چوتھےنمبر پر

    ایم کیو ایم پاکستان 10نشستوں کیساتھ پانچوے نمبر پر

     جماعت اسلامی 6سیٹوں کیساتھ چھٹے نمبر پر

     بلوچستان عوامی پارٹی 3نشستوں کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔

    ان رزلٹس سے ایک بات تو کلیئر ہے کہ آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن ہوں یا جنرل الیکشن مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان ہی ہو گا۔ خان صاحب کو پنحاب بارے ایک بار پھر تسلی سے بیٹھ کر سوچنا  پڑے گا۔ اگر پنجاب ہاتھ سے نکل گیا تو وفاق میں بیٹھنے کو کوئی فائدہ نہیں۔ 

    ن لیگ پنجاب کی حد تک کلیئر ہے اب بس وفاقی میں آنے کیلئے کے پی اور بلوچستان میں محنت کرنی پڑے گی جو باآسانی ممکن  ہے کیونکہ ان صوبوں میں ن لیگ کا اچھا خاصہ  ووٹ بینک موجود ہے جبکہ خان صاحب کو صرف اور صرف پنجاب کی حد تک محنت کرنی پڑے گی۔ اس مقصد کیلئے  ٹیم کی کمان بدلنی پڑے گی  تو بھی خان صاحب کو دیر نہیں کرنی چاہئے۔  عمران خان اگر پنجاب کلیئر کر گئے تو 2023کا جنرل الیکشن جیت کر دوبارہ وزیراعظم بننا کوئی مشکل کام نہیں  ہے۔

    @saif__says

  • ڈاکٹر صفدر محمود: پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ،تحریر: ملک رمضان اسراء 

    ڈاکٹر صفدر محمود: پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ،تحریر: ملک رمضان اسراء 

    سابق وفاقی سیکرٹری، معروف کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر صفدر محمود کئی ماہ سے علیل تھے اور اس دوران امریکہ میں زیرعلاج رہے جسکے بعد وہ وطن واپس آئے اور اپنے آخری ایام میں ان کی یاداشت چلی گئی تھی، ڈاکٹر صاحب 30 دسمبر 1944 کو ضلع گجرات ڈنگہ میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز اور پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا تھا کچھ عرصہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد 1967ء میں سول سروس کا امتحان پاس کیا اور 1974ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر صفدر محمود متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ مرحوم کی تصانیف میں "سچ تو یہ ہے، مسلم لیگ کا دور حکومت، پاکستان کیوں ٹوٹا، پاکستان:تاریخ و سیاست، درد آگہی اور سدابہار” شامل ہیں۔  ڈاکٹر صفدر محمود کو انکی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی ایک العربیہ اردو کی تحریر میں لکھتے ہیں کہ: "استاد ٹھیک ہی کہتا تھا کہ اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ پیری اور ’’ملّائی‘‘ کی بجائے سیاست کو عیاری کہتے۔ علامہ اقبال کے دور میں شاید سیاست اتنی عیار نہیں ہوتی تھی بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ علامہ اقبال کے دور میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے قومی رہنما قائد اعظم اور نہرو دونوں اصولی،قومی اورنظریاتی سیاست کے نمائندے اور ترجمان تھے۔ سیاست میں عیاری قیام پاکستان کے بعد آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری طرح چھا گئی۔ کم و بیش یہی حال ہندوستان میں بھی ہوا لیکن ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں لوٹ مار کا غدر قدرے زیادہ مچا کیونکہ مسلمانوں کے معدے وسیع، ہاضمے مضبوط اور شان و شوکت کا شوق تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔”

    ڈاکٹر صاحب روزنامہ جنگ کے آخری کالم جن کا عنوان ہے "بندگی اور بے بندگی” میں لکھتے ہیں کہ: "مرض اور قرض اچانک حملہ آور ہوتے ہیں لیکن جاتے جاتے وقت لیتے ہیں۔ اللہ پاک کا کرم ہے، اُس کی کس کس نعمت کا شکر ادا کروں کہ شاید شکر ادا کرنا ممکن ہی نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے زندگی بھر مالی قرض سے خاصی حد تک محفوظ رکھا لیکن جہاں تک دوستوں، بہی خواہوں کی محبتوں کے قرض کا تعلق ہے وہ ادا نہیں ہو سکتا۔ محبتوں کے قرض سے کہیں زیادہ اہم اور وزنی قرض احسانات کا ہوتا ہے کیونکہ میرا تجربہ ہے جو شخص آپ پر احسان کرتا ہے آپ اُس کا قرض کسی صورت بھی نہیں چکا سکتے چاہے آپ جواباً اُس پر درجنوں احسانات کریں۔ احسان صرف وہی شخص کرتا ہے جو بھلائی، نیکی، مدد، خدمت میں یقین رکھتا ہو اور اپنی ذات سے اور اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہو۔ میں نے زندگی کے سفر میں کئی ایسے لوگ دیکھے جو کسی مصیبت زدہ کو مشکل سے نکال کر احسان کا ثواب کما سکتے تھے لیکن وہ اپنے مفادات، جمع، تفریق اور سود و زیاں کی پیچیدگیوں میں اُلجھ کر کنارہ کش ہو گئے۔ مطلب یہ کہ جو انسان ہمیشہ اپنی ذات کو مقدم رکھتا ہو اور اپنے مفادات کو ہر شے پر ترجیح دیتا ہو، وہ کسی پر احسان کرنے کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ احسان کرنے کی صلاحیت اُنہیں ملتی ہے جن کے ظرف اور قلب وسیع ہوتے ہیں، جن میں ایثار کا جذبہ ہوتا ہے اور جو دوسرے انسانوں کو نہ صرف اہمیت دیتے ہیں بلکہ اُن کی خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ میں نے زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے جو دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات پر فوقیت دیتے تھے لیکن زندگی کے طویل سفر میں اپنی ذات کی نفی کرنے والے فقط چند حضرات ملے جنہیں میں صحیح معنوں میں اللہ کا دوست سمجھتا ہوں کیونکہ اپنی ذات کی نفی اللہ سے دوستی کئے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ یہ بلند رتبہ صرف اُنہیں ملتا ہے جو اِس کے مستحق ہوتے ہیں۔”

    مورخ ڈاکٹر صفدر محمود 13 ستمبر 2021 کو بقصائے الہی تقریبا 77 سال کی عمر میں خالق حقیقی کو جا ملے اس حوالے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیعہ رحیلہ قاضی نے لکھا:” ‏ڈاکٹر صفدر محمود تحریک پاکستان کے ایسے نادر تاریخ دان جو صحیح معنوں میں نظریہ پاکستان کے محافظ تھے۔ ان سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس ہمیشہ رہے گا۔ اللہ ان سے راضی ہوجاۓ۔

    ایک ٹوئیٹر صارف محمد طاہر لکھتے ہیں  کہ:

    ڈاکٹر صفدر محمود کا انتقال نظریاتی جہتوں سے مطالعہ پاکستان کے شوقین حضرات کے لیے انتہائی افسوس ناک خبر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے پاکستان کی تاریخ و سیاست کے حوالے سے قابل ذکر کام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے۔

    معروف صحافی انصار عباسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ‏نظریہ پاکستان کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ایک بااثر آواز محترم صفدر محمود انتقال فرما گئے۔ اللہ تعالی اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کی اسلام اور اسلامی پاکستان کے لیے کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین

    لکھاری نجمہ منصور ڈاکٹر صاحب کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ: "میری کتاب "رشحات قائد” کا دیباچہ انہوں نے لکھا تھا، بہت نستعلیق شخصیت کے مالک اور مستند تاریخ دان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)

    پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے مرحوم ڈاکٹر صفدر محمود کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ: "ڈاکٹر صفدر محمود نے مختلف میدان ہائے علم اور شعبہ صحافت میں نہایت بلند پایہ خدمات سر انجام دیں۔ دعا ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔”

    یقینا ڈاکٹر صاحب ایک عظیم تاریخ دان تھے ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کے چلے جانے کا خلا کبھی پر نہیں ہوتا لیکن آئیندہ نسل کیلئے ایسے منصف کی تحاریر، تصانیف اور تحقیق ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہ جاتی ہے لہذا نوجوان نسل کو چاہئے کے انہیں پڑھیں اور پھر اپنی تحقیق اور مطالعے کی بنیاد پر اختلاف یا اتفاق کا اظہار کریں کیونکہ ہم سب کو حق ہے کہ علم کی بناء پر شائستہ طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کریں اور ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی یہی خوبی تھی کہ وہ اگر کسی سے اختلاف رائے کا اظہار بھی کرتے تھے تو ان میں بے انتہاء حد تک شائستگی ہوتی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ اہل علم  لوگوں کا بحث مباحثہ یا اختلاف رائے رکھنا بھی نئے علوم کے دریچے کھولتا ہے۔

  • کرونا ویکسین اور سازشی باتیں تحریر: محمد جمیل

    کرونا ویکسین اور سازشی باتیں تحریر: محمد جمیل

    کرونا ویکسین لگوانے سے آپ نامَرد ہو جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے سے خواتین بچے پیدا نہیں کر سکیں گی۔ کرونا ویکسین لگوانے سے آپ کو شدید ٹائیفائیڈ بُخار ہوگا، اور آپ چھ سال پہلے اوپر اٹھا لیے جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے سے آپ دو سال کے عرصے میں مَر جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے کی وجہ سے آپ الرجی کی اک خوف ناک قِسم کا شکار ہو کر بھیانک موت مریں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے کے بعد آپ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو جائیں گے جس کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلے گا۔ کرونا ویکسین لگوانے کی وجہ سے لاکھوں لوگ پُر اسرار بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں جن کا انجام بھی موت ہوگا۔
    جب سے کرونا ویکسین ایجاد ہوئی ہے درج بالا قِسم کے جملے یا ان جملوں سے مِلتی جُلتی بہت سی ویڈیوز اور تحریریں سوشل میڈیا پہ مسلسل گردش کر رہی ہیں۔ درج بالا تمام باتیں سازشی باتیں ہیں اور فقط مبالغے پہ مبنی ہیں جِن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    فرض کریں دس لاکھ لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پہ اک اک ٹیبلیٹ پیراسیٹامول(پیناڈول) کھلائی گئی۔ دس لاکھ میں سے چار لوگوں کو پیناڈول ری ایکٹ کر گئی تو اس کا ری ایکٹ کرنے کا تناسب کتنا کم بنتا ہے؟ حتی کہ پیناڈول کے پچاس سے زائد سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔ اسی طرح دنیا کی کوئی بھی ویکسین یا میڈیسن ہے اس کے مثبت منفی اثرات لازمی ہوتے ہیں بلکہ ہر میڈیسن کے ساتھ لکھے ہوتے ہیں۔
    ڈسپرین بےضرر سی خون پتلا کرنے والی عام دوائی ہے لیکن اگر یہ آنتوں میں جا کر انفیکشن کر دے تو کھانے والے کو معدے کا السر ہوسکتا ہے۔
    امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی ‘فائزر’ نے کئی دہائیوں پہلے بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کی نالیوں میں خون کے بہاؤ کی بہتری کےلیے sildanfil نامی کیمیکل سے ‘ویاگرا’ ٹیبلٹ تیار کی۔۔ ویاگرا کے افیکٹس میں اک عجیب امر سامنے آیا کہ ویاگرا کھانے والے افراد کا below the abdominal body یعنی کمر سے نیچے خون کا بہاؤ تیز ہو گیا جس سے ویاگرا استعمال کرنے والے مریضوں کی جنسی قوت کئی گُنا بڑھ گئی۔۔ دیکھتے دیکھتے جنسی قوت بڑھانے کےلیے ویاگرا دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میڈسن بن گئی۔ جن لوگوں نے ویاگرا کا بےتحاشا استعمال کیا ان میں ویاگرا کا نیا سائیڈ افیکٹ سامنے آیا کہ ویاگرا نے ان کے گُردوں کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ جب صحت کے اداروں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا ہفتے میں تین سے زیادہ ٹیبلٹ کھانے والے شخص کو ویاگرا کے سائیڈ افیکٹس کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود عالمی ادارہِ صحت نے ویاگرا کے عام استعمال پہ پابندی عائد کر دی۔
    دنیا میں اس وقت جتنے زندہ انسان موجود ہیں۔ ان انسانوں میں ہر شخص کے خلیات اک دوسرے سے مختلف ہیں۔ انگلیوں کے پورووں پہ موجود نشانات سے لے کر ہمارے جسم کے اک باریک سے بال کا ڈیزائن دنیا کے کسی دوسرے انسان سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر میڈیسن ہر نئے انسان پہ ایک سا اثر نہیں چھوڑتی۔ اسی طرح فی زمانہ کووِڈ ویکسین لگوانے کا عمل جاری ہے۔ کرونا ویکسین اگر ایک لاکھ لوگوں میں سے کسی ایک کو ری ایکٹ کرتی ہے تو یہ کوئی انسان دشمن دوائی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اس ایک متاثر شخص کو لے کر باقی ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے لوگوں پہ مثبت نتائج دینے کے عمل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ حتی کہ کووِڈ ویکسین کرونا وائرس کے کمزور سیلز ہوتے ہیں جن کا کام ہمارے مدافعتی نظام کو بہتر بنا کے طاقتور کرونا وائرس حملے سے بچانا ہے یعنی یہ ویکسین ہمارے مدافعتی نظام کی بہتری کا کام کرتی ہے.
    لہذا کرونا ویکسین سے متعلق کسی بھی منفی پروپیگنڈے پہ کان نہ دھریں جتنا جلدی ممکن ہو سکے ویکسین لگوا کر اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو وبائی وائرس سے محفوظ بنائیں۔

    Twitter Handle: @RealJameel8