Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    آسٹریلیا میں ایک ایسی بطخ ہے جو انسانی جملوں کو نقل کر کے دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق طوطوں کو تو میاں مٹھو اور دیگر انسانی جملے سکھانا سنا اور دیکھا بھی تھا مگر اب بطخ بھی انسانوں کی نقل کرنے لگی ہے اس کا سب سے مشہور جملہ ہے ’یو بلڈی فول‘ جو انگریزی زبان میں گالی کی طرح سمجھا جاتا ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ بطخیں بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی بطخوں سے سیٹیاں مارنا سیکھتی ہیں جس سے وہ آپس میں بات کرتی ہیں، لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ انسانوں کے درمیان پلنے سے انہیں انسانی آوزیں بھی سکھائی جا سکتی ہیں۔

    آسٹریلیا کے سائنسدان پیٹر جے فلا نے تحقیق کے دوران ایک نر بچے کو پالا جو چار سال کا ہے اسے رِپر کا نام دیا گیا ہے یہ غصے میں اول فول الفاظ ادا کرتا ہے ۔

    رپورٹ کے مطابق بطخ دروازہ بند ہونے کی آواز نکالنے کے ساتھ انسانوں کی طرح کھانسی بھی کرتی ہے، لیکن اب اس نے ایک جملہ بھی سیکھ لیا ہے اور وہ واضح انداز میں ’یوبلڈی فول‘ کہہ سکتی ہے۔

    پانیوں میں آزادانہ گھومنا پسند کرنے والی مسک بطخ آواز سیکھنے اور بولنے کی حیرت انگیز خاصیت رکھتی ہے وہ زیادہ تر قید ہو کر غصے میں یہ الفاظ سیکھ کر اپنے جزبات کا اظہار کرتی ہے۔

  • تحریر "لفظوں کے موتی تحریر: فرزانہ شریف

    تحریر "لفظوں کے موتی تحریر: فرزانہ شریف

    آپ نے کس عمر میں (اب عمر کا سن کے بھاگ نہ جانا میرا مکمل آرٹیکل پڑھ کے جانا پلیز۔۔!!)
    سیانے کہتے ہیں اپنی عمر کا ہر دور انجوائے کرنا چاہئیے ہم اتنے ناشکرے ہوتے ہیں بچپن میں بڑے ہونے کا شوق اور بڑے ہوکر چھوٹے کہلانے کا جنون.اس خواہش میں عورت اور مرد دونوں ہی مبتلا ہیں.
    پاکستان میں تو عام رواج ہے مرد اپنے سے ایک سال بڑی خاتون کو آنٹی کہنے سے بھی ہچکچاتے نہیں اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کو انکل بول دے تو اس کی جان پر بن آتی ہے اور اگر اپ کی کوئی کزن عمر چور ہے آپ سے ڈیڑھ دو برس چھوٹی بھی ہے تو اس کا بس نہیں چلتا آپکو آنٹی انکل کہنا شروع کردے چاہے بچپن سے بڑے ہونے تک وہی کزن آپکو آپکے نام سے ہی کیوں نہ مخاطب کرتی رہی ہو یہ بھی عمومآ پاکستان میں ہی ہوتا ہے باہر ممالک میں یہ سب نہیں چلتا چاہے آپ 18 سال کے ہو 22 سال کے ہوں پچاس سال کے ہوں سو سال کے ہوں آپکو محترم اور محترمہ کرکے بلایا جائے گا اور بہین بھائی کزنز دوست وغیرہ نام سے بلائیں گے چاہے بہین بھائیوں میں دس سال کا ہی فرق کیوں نہ ہو ۔۔۔!!!
    عمومآ ایسا ہوتا ہے لڑکی 30 سال کی عمر کے بعد اگر اپنی ڈائٹ کا خیال نہ رکھے تو اس کا فگر خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔۔پھر تھوڑا تھوڑا مل کر دریا مطلب ڈبر” بننے والا جیسا معاملہ ہوجاتا ہے اگر احتیاط نہ کی جائے تو اور لڑکیاں تو اپنا فگر برقرار رکھنے کے لیے بھوکی پیاسی رہ کراپنے "مقصد” میں کامیاب ہوجاتی ہیں جو بےچاری نہیں ہوسکتی اس میں کامیاب ۔اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ گھر میں خوشحالی اور مرغن کھانے کھانا اور خاص طور پر باہر سے ذیادہ ہیوی کھانا لیکر کھانے سے ڈائٹ کاسارا پلان فیل ہوجاتا ہے پھر ان خواتین کواپنے سے ڈیڑھ دوسال چھوٹے لوگوں کی باجی آنٹی بننا پڑتا ہے یا تو اپنی ڈائٹ پر کنٹرول رکھیں یا پھر یہ سب برداشت کرنے کی اپنے اندر قوت پیدا کریں ۔۔
    بعض لوگ عمر چور ہوتے ہیں جو مرضی ہے کھائیں پئیں کسی ایکسرسائز کی ضرورت ہی نہیں سلم سمارٹ ایسے لوگ میری نظر میں خوش قسمت ترین انسان ہیں جو بنا محنت کے پھل کھا رہے ہوتے ہیں ان کو اپنے سے ایک دو سال بڑے لوگ باجی آنٹی کی شکل میں نظر آتے ہیں ۔کبھی کبھی تو لوگ آپکو اتنا سینئر قرار دینے کی کوشش کرنے لگتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے بس حضرت آدم علیہ السلام اور اماں ہوا کے بعد آپ ہی آئے تھے اس دنیا میں ۔۔
    بعض لوگ ڈائٹ پلان ایکسرسائز سب کرنے کے باوجود اپنی پسند کا فگر قائم نہیں رکھ سکتے اس کی بڑی وجہ موروثی بیماری بھی ہوتی ہے ان کے خاندان میں یہ شروع سے چلی آرہی ہوتی ہے اور بدقسمتی سے یہ ان لوگوں کو بھی تحفہ مل جاتا ہے ان چاہا تحفہ ۔۔!!!!
    لیکن اس میں اس انسان کا کوئی قصور نہیں ہوتا تو کرنا ایسا چاہئیے اسے کبھی اپنی کمزوری نہ بننے دیں اپنی شخصیت میں اعتماد پیدا کریں کوئی جو مرضی ہے آپ کے بارے میں سوچے ۔آپ نے اپنے آپکو مین ٹین کرکے رکھنا ہے اپنی شخصیت ایسی بنانی ہے کہ آپ ہر عمر میں ہر روپ میں "جازب نظر” آئیں سوچنے کا ٹھیکہ اپنے مخالفین کے پاس رہنے دیں ۔مخالفیں اس لیے کہ جو لوگ اپ کے اپنے ہیں وہ آپکو ہر روپ میں آپ سے پیار کریں گے اور انھیں آپ اچھے لگو گے جن کو آپ اچھے نہیں لگتے ان کو آپ چاہے دنیا کے خوبصورت ترین انسان بن کر بھی آجائیں اچھے نہیں لگیں گے ۔۔۔اس لیے ایسے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دیں دیکھنا آپ کی شخصیت کیسے سنور کر نکھر جائے گی ۔
    رہی بات شکل صورت کی اس پر ایک مکمل آرٹیکل پہلے بھی لکھ چکی بار بار یہ کہوں گی جب ہم کسی کی شکل صورت کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں دراصل ہم مصور کے بنائے شاہکار میں نقص نکال رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم انسانوں کی تو اتنی اوقات ہی نہیں ایک بال بھی بنا سکیں اللہ کے غضب سے ہر دم ڈرنا چاہئے اس کی پکڑ بہت سخت ہے ۔۔!!!
    ہمیشہ اپنی عاجزی میں رہیں یہ چار دن کی ذندگی ہے اسے ہنس کے گزار جائیں ۔ خوب صورت ترین ۔امیر ترین ۔ذہین ترین انسان بھی مٹی میں مل جائیں گے یہ ہی انسان کی حقیقت ہے ہماری ازلی "میں "کا خانہ پر کرنے کے لیے اور آجائیں گے ایسے ہی دنیا کا نظام چلتا رہے گا میری ماں ہمیشہ کہتی تھیں کہ "آج مرگے کل دوسرا دن "تب بہت بچپن تھا اس کہاوت کہ سمجھ نہیں تھی پھر یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ بات کتنی سچ تھی ۔۔!!
    کوشش کریں دنیا میں ایسے کچھ عمل چھوڑ جائیں جو بعد میں ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں ہم انسان تھوڑے خود غرض ٹائپ کے ہوتے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے ہماری محفل نیک متقی پرہزگار لوگوں کے ساتھ رہے ان کی برکت سے ہمارے گناہ بھی اللہ معاف کردے اور اللہ انسان کے عمل سے بھی ذیادہ نیت دیکھتا ہے میں نے کبھی نیک نیت انسان کو زلیل ہوتے نہیں دیکھا بس اپنا دل صاف رکھیں پانچ وقت نماز پڑھیں اللہ آپ کے سب راستے آسان کردے گا جن رشتہ داروں کو منہ لگانے کو بھی دل نہیں کرتا ان سے بھی عزت احترام محبت سے پیش آنا ثابت کرتا ہے کہ آپ کی تربیت کتنی نیک ماں نے کی ہے

  • بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب  نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ ابھر آیا کنڈ ملیر کو بلوچستان کا جادوئی ساحل بھی کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حکام کا کہنا ہے کہ سمندر کی تہہ سے اچانک ابھرنے والا جزیرہ بڑے رقبے پر محیط ہے۔ سمندر میں یہ جزیرے گہرے پانیوں میں جغرافیائی ردوبدل کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں تاہم سمندر میں ابھرنے والے یہ جزیرے اکثر وبیشتر ابھرنے کےکچھ عرصے بعد دوبارہ غائب ہوجاتے ہیں۔

    کراچی سے 240 کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر کا ساحل واقع ہے۔ جہاں، پہاڑ، صحرا اور سمندر ایک جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں کنڈ ملیر بلوچ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جو ایک پہاڑی پر آباد ہے سفید ریت پر نیلا پانی اور موجیں مارتا سمندر اس بستی کے نیچے موجود ہے جو یہاں سے گزرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرہی لیتا ہے۔

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

    مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر اور سوشل میڈیا پر کنڈ ملیر کے حسن کے چرچوں نے سیاحوں کو یہاں کا پتا دیا ہے اور اب ہفتہ وار تعطیلات کے علاوہ تہواروں کے موقع پر لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سمندر کے نیلے پانی سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔

    کنڈ ملیر کو گذشتہ سال ایشیا کے 50 خوبصورت ترین ساحلوں میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ درجہ بندی سیاحت اور فوٹو گرافی کے لحاظ سے کی گئی تھی۔

    کراچی کے معروف ساحلوں ہاکس بے، مبارک ولیج اور کاکا پیر کے مقابلے میں یہاں سمندر زیادہ گہرا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ بچے اور خواتین بھی بے دھڑک سمندر میں اتر جاتے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کنڈ ملیر کے قریب ابھرنے والا جزیرہ ساحل کی اہمیت کو بڑھا سکتا ہے ۔ حکام اس جزیرہ کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

  • بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

    بہنیں منحوس نہیں ہوتیں   تحریر ممتازعباس شگری

     بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عیدکی شب ابو یا امی جاتے ہیں میری بیوی ایک دن مجھ سے کہنے لگی آپ کی بہن جب بھی آتی ہے اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں خرچ ڈبل ہو جاتا ہے اور تمہاری ماں ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے،کبھی صرف کے ڈبے اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا میں ماں سے غصے میں کہہ دیاماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کردیں۔ماں چپ رہی لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری بہن کچھ نہ بولی 

    4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ آو میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن لیکن وہ مسکراکربولی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔وقت گزرتاگیاجب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا  ہو رہا تھا تو میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمین سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا بہن سامنے بیٹھی تھی وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی وہ بیچاری خاموش تھی۔بڑابھائی علحیدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھابہت پریشان تھا میں نے لاکھ روپیہ قرض بھی لے لیا تھا بھوک سر پہ تھی میں حالات سے بہت پریشان کمرے میں اکیلا بیٹھا شاید رو رہا تھا،اس وقت وہی بہن گھر آگئی میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحو س میں نے بیوی کو کہا کچھ بہن کے لئے کچھ تیارکرو،بیوی میرے پاس آکربولی اس کیلئے گوشت یابریانی پکانے کی کوئی ضرورت نہیں،پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی بھائی پریشان ہو بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری گود میں کھیلتے رہے ہو اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو پھر میرے قریب ہوئی اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے آہستہ سے بولی پاگل تواویں پریشان ہوتا ہے بچے اسکول میں تھے سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر بیٹے کا علاج کروا۔شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم نے۔میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم کو میری قسم ہے میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے شاید اس کی جمع پونجی تھی میری جیب میں ڈال کر بولی بچوں کو گوشت لا دیناپریشان نہ ہوا کر، جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا کربولی دیکھو اتنے بال سفید ہو گئے وہ جلدی سے جانے لگی میری نظراس کے پیروں کی طرف  پڑی ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی تھی،میں بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھااس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیے سکون آ جائے۔بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے جیب سے رومال نکال کرآنسوصاف کیا۔یہ کہانی ہمارے موجودہ معاشرے کی عکاسی ہے۔آپ آگے بڑھنے سے پہلے ایک اورکہانی بھی پڑھ لیں۔

     اختری بیگم کاتعلق خانیوال کے گاوں مخدوم پورسے ہے،یہ سات اپریل کی صبح اپنے ولدین کی زمین پرقبضہ لینے پہنچیں جوعدالتی حکم کیمطابق ان کے حصے میں آیاتھا،لیکن وہ وہاں سے اپنے پاؤں پرچل کرواپس نہ جاسکی،کیوں نہ جاسکی یہ کہانی بھیانک ہے،ان کے بھائیوں نے مل کران پرحملہ کیااوران کی ٹانگیں توڑدی، یوں وہ چلنے سے بھی قاصرہوکررہ گئیں،انکے بھائیوں نے جرم تسلیم کرلی،جیل کی ہواکھائی اورکچھ عرصہ بعدضمانت پرباہربھی آگئے۔یہ ہماراسسٹم ہے،اورہمارے ہاں ریاست مدینہ میں یہ قانون بھی ہے اورجائزبھی۔

     آپ ایک دن تاریخ کامطالعہ کرکے دیکھ لیں پاکستان کاشماران ممالک میں ہوتاہے جہاں عورت کو وراثتی حقوق یاجائیدادکی ملکیت دینے کی شرخ سب سے کم ہے،جائیدادبہنوں کوحصہ دینے والے ملکوں میں پاکستان کاشمار127میں سے 121ویں نمبرپرہے،بلوچستان پاکستان کاوہ صوبہ ہے جہاں خواتین کووراثت دینے کی شرخ صفرہے،یوں آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہم ریاست مدینہ میں سرکارمدینہ کی دین پرکس حدتک عمل پیراہے،اسلام کے مطابق وراثت میں بہنوں کاباقاعدہ حق مقررہے لیکن ہم اسلام کالبادہ اُڑھ کرجہیزکے نام پراسلام کامذاق اُڑانے کے علاوہ کرکیارہے ہیں،کیایہی اسلام ہے،آپ ایک بارریاست پاکستان کے اس ایکٹ پرہی نظرگھمانے کی سعی کریں جس کے مطابق خاتون کوحق وراثت سے محروم کیے جانے پردس سال قیداوردس لاکھ جرمانے کی سزامقررکی گئی ہے یہ ایکٹ پریونشین اورانٹی ویمن کے نام سے 2011میں منظورہوئی،لیکن ہمارے یہاں ایسے کتنے ایکٹ ہوں گے جومنظورتوہوئی ہے لیکن اس پرکوئی بھی شہری عمل کرنے کوتیارہی نہیں، کیایہی ہمارااسلام ہے کیایہی ہماراقانون ہے،ہمیں اسلام کے نام پراسلام کواستعمال کرنے کی بجائے اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہوناہوگا،ہمیں اپنے معاشرے میں عورت کامقام جانناہوگا،جس ہستی کے پاوں تلے جنت ہوتی ہے،ہم انہیں ان کی جائزحقوق سے بھی کیسے محروم کررہے ہیں،آپ ایک دن اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچیں کیاآپ اسلام کے اصولوں پرعمل پیراہے،کیاآپ اپنے محرم خواتین کے،آپ اپنے بہنوں کے حقوق اداکررہے ہیں؟جس دن آپ اورمیں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرسوچناشروع کرتے ہوئے عمل کریں گے یقین کرلیں،اس دن آپ کوسمجھ آجائیں گے بہنیں منحوس نہیں ہوتیں، اس دن سے معاشرے میں تبدیلی آئے گی،تبدیلی کسی دوسرے کو نہیں اپنے آپ کوبدلنے کانام ہے توبس آج سے اپنے آپ کوبدلنے کاآغازکرلیں۔

    Twitter ID:    @mumtazshigri12

  •   بالی وڈ کے دو بڑے سوپر سٹارز کی کہانی تحریر علی اصغر

         

                    سوپر اسٹار بمقابلہ سوپر اسٹار               
    یہ بات ہے آج سے بارہ سال پہلے سن 2009 کی جب آئیفا ایوارڈ کی تقریب کے دوران راجیش کھنا اپنی ہی فلم کا ایک ایک شعر سنا رہے تھے تو اس میں چھپا درد سامنے نظر آ رہا تھا با لی وڈ کا پہلا سوپرسٹار  بالی ووڈ کی شہنشاہ کے ہاتھوں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پاکر اسٹیج پر کھڑا تھا
    ہندوستانی سینماؤں کی ان دو بڑی شخصیت کی کہانی اسٹیج پر بارہ سال پہلے 2009 میں پہنچی مگر ان کا رشتہ 40 سال پرانا ہے تب امیتابھ امیتابھ نہیں تھے اور راجیش کھناان دنوں سوپر اسٹار کاکا کہلائے  جاتے تھے تھے 1969 میں آئے امیتابھ بچن کو پہلی کامیابی کے لیے چار سال انتظار کرنا پڑا اور سال 1973 میں امیتابھ کو فلم زنجیر سے بڑی کامیابی ملی جبکہ امیتابھ بچن سے تین سال پہلے بالی وڈ میں آئے راجیش کھنا سال 1969 سے لے کر 1972 تک لگاتار 15 سپر ہٹ موویز دے چکے تھے تب راجیش کھنا سوپراسٹار تھے اور امیتابھ بچن اپنی ایک ہٹ کے لیے ترس رہے تھے تب پہلی بار دونوں ایک فلم میں ملے فلم کا نام تھا آنند اس فلم میں راجیش کھنا کو ایک ایک ڈائیلاگ کے اوپر داد مل رہی تھی امیتابھ بچن اس فلم میں ایک سائیڈ رول کر رہے تھے اور راجیش کھنا فلم کی جان تھے لیکن پردے کے پیچھے کی کہانی کچھ اور تھی وہ سال تھا سال 1971 مشہور کہانی نگار علی پیٹر جون  لکھتے ہیں رشی کیش مکھرجی امیتابھ اور راجیش کھنا کو لے کر ایک فلم بنانا چاہتے تھے بتایا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ نے کہا کہ اس فلم سے امیتابھ بچن کو ہٹا لیجئے ایک سپر اسٹار کا ایک نئے ہیرو کے لیے ایسا کہنا کافی حیران کن تھا اس وقت لوگوں کا ماننا یہ تھا کہ راجیش کھنا اپنے آپ کو بہت جلدی غیر محفوظ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور  امیتابھ کو لے کر بھی ان کے من میں یہی خیال تھا اس کے دو سال کے بعد 1973 میں آئی نمک حرام نے ایک دفعہ پھر امیتابھ بچن اور راجیش کھنا کی جوڑی کو سپر ہٹ کر دیا
    ان دونوں کی جوڑی پردے پر کامیاب تو ہوئی مگر اس بار یہ کردار فلم آنند کی طرح کمزور نہیں تھا بلکہ اس بار راجیش کھنا کی ٹکر کا کردار تھا یہ وہ وقت تھا جب امیتابھ بچن کو کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنی تھی اور راجیش کھنا کو انہیں سیڑھیوں سے نیچے اترنا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ان دونوں کے درمیان کچھ اور کھچڑی پک چکی تھی علی پیٹر جون راجیش کھنا کے بہت ہی قریب تھے وہ یہ بتاتے ہیں کہ ان دنوں میں ایک فلم باورچی بن رہی تھی باورچی کے سیٹ کے پر جب امیتابھ بچن جیا بچن کو لینے آتے تھے تو راجیش کھنا ان سے کنارہ کر لیتے تھے یہاں تک کہ وہ صرف جیا بچن سے ہی ہیلو ہائے کرتے تھے ایک دن جیا بچن نے راجیش کھنا کو جھاڑتے ہوئے  کہا کہ دیکھ لینا ایک دن وہ تم سے بڑا سٹار بنے گا یہ واقعہ علی پیٹر جون کے سامنے ہوا تھا وہ کہتے ہیں کہ جیا بچن نے کہا کہ وہ آدمی اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے وہ کوئی خدا نہیں ہے ایک آدمی کو دوسرے آدمی کو عزت دینے میں کیا جاتا ہے ایسا علی لکھتے ہیں ہیں کہ اس وقت جیابچن نے کھڑے ہو کر کہا کہ دیکھ لینا ایک وقت آئے گا یہ جو آدمی میرے ساتھ کھڑا ہے یہ کتنا بڑا اسٹار ہوگا وہ جو اپنے آپ کو خدا سمجھے بیٹھا ہے وہ کہیں کا نہیں رہے گا وہ سال تھا 1972 اس وقت باورچی فلم آئی تھی اس وقت تک راجیش کھنا کے نام ایک درجن سے زیادہ سوپر ہٹ موویز تھی تھی اور امیتابھ بچن کو انڈسٹری میں آئے ہوئے صرف تین سال ہوئے تھے  آگے چل کر امیتابھ نے اپنے نام درجنوں سپر ہٹ موویز کی اور راجیش کھنا سٹارڈم کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے امیتابچن کی کامیابی بی اور راجیش کھنا کی ناکامی ریل کی پٹڑیوں کی طرح آگے بڑھتی جا رہی تھی اگلے پندرہ سال تک امیتابھ نے ہر سال کامیاب فلمیں دیں 1973 میں آئی فلم زنجیر سے امیتابھ کو بڑی کامیابی ملی اس کے بعد ابھیمان, نمک حرام, ملی, دیوار, چپکے چپکے, شعلے, کبھی کبھی, ہیراپھیری, قسمیں وعدے, ڈون, ترشول, مقدر کا سکندر اور ان جیسی اور کامیاب فلموں نے اگلے چھ سال میں امیتابھ کو انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ بنا دیا جب کہ راجیش کی اگلی فلمیں باکس آفس پہ دم توڑتی گی1969 سے لے کر 1972 تک لگاتار پندرہ سوپر ہٹ موویز دینے والے راجیش کھنا کی اگلی فلمیں جیسے کہ مہا چور, عاشقوں بہاروں کا, بنڈل باز, محبوبہ, راجہ رانی, پلکوں کی چھاؤں میں ایسی فلموں نے بالی ووڈ پر پانی بھی نہیں مانگا اور فلاپ ہوتی چلی گئی یہ وہ وقت تھا کہ جب راجیش کھنا کو بچن نام سے نفرت ہوگئی ہے کہا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ نے اپنے آپ کو سپر ہٹ ثابت کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں کی مگر امیتابھ بچن کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو
    واپس نہیں لا سکے وہ اپنے دوستوں کو کہا کرتے تھے تھے کہ کے اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں ایسے ایرے غیرے لوگوں سےڈر جاؤں گا جاؤنگا یا اگر آپ ایسا سوچتے بھی ہیں تو آپ کو ہمارا دربار چھوڑنا پڑے گا ہے شاید بچن نام سے یہ نفرت اس لیے بھی تھی تھی کہ راجیش کھنہ نے جو سٹار دم دیکھا آج وہ سٹار دم امیتابھ بچن جی رہے تھے اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد بعد امیتابھ بچن اور راجیش کھنا بمبئی کے ایک ہوٹل میں ایک پارٹی میں اکٹھے  ہوئے تو وہاں پر راجیش کھنہ سے زیادہ لوگ لوگ میتابچن سے آٹو گراف لینے پہنچے راجیش کھنا اس واقعہ کو لے کر اتنا دل برداشتہ ہوئے کے پارٹی ادھوری چھوڑ کر چلے گئے اور اپنے کمرے میں جا کے خوب شراب پی  اور خدا سے کہنے لگے لگے کہ میرے ساتھ ہی کیوں کیوں اینگری ینگ مین کے کردار میں امیتابھ بچن کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھےجارہے تھے اور راجیش کھنا اپنے آپ کو دہرانے کے چکر میں فلاپ ہوتے جارہے تھے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ راجیش کھنا کے چاہنے والوں نے ایک اور سپر سٹار کو چن لیا تھا اور وہ تھا امیتابھ بچن
    اس کے بعد 80کی دہائی میں جب امیتابھ بچن کا ستارہ مدہم پڑنے لگا تو انہوں نے سیاست کا رخ کیا یا اس کے بعد 90 کی دہائی میں راجیش کھنہ نے بھی یہی کام کیا اور وہ بھی سیاست میں آگئے یہ کہا جاتا ہے ہے کہ راجیوگاندھی امیتابھ بچن کو جلانے کے لیے راجیش کھنا کو سیاست میں لے کر آئے تھے 1991 میں ایل کے ایڈوانی کے مد مقابل الیکشن لڑیں 1991 میں جب ایل کے ایڈوانی کے مدمقابل امریتا سونی کو کھڑا کرنا تھا مگر الیکشن سے کچھ دن پہلے اچانک راجیش کھنا کا نام اناؤنس کردیا گیا اور اس کے بعد جب الیکشن ہوا  تو راجیش کھنا وہ الیکشن ہار گئے گئے اور وہ بھی صرف پندرہ سو ووٹ کے فرق سے اس کے بعد جب ایل کے ایڈوانی نے نئی دلی والی سیٹ چھوڑی تو راجیش کھنا فلمی دنیا کے ایک اور ستارے شتروگھن سہنا کو ہرا کر اسمبلی میں پہنچ گئے اس طرح ان کا اسمبلی میں پہنچنے کا خواب پورا ہوگیا اس کے بعد اگلے الیکشن میں راجیش کھنا ہار گئے اور وہ بھی امیتابھ بچن کی طرح الٹے پاؤں سیاست سے واپس فلمی نگری کی جانب آ گئے  اکیسویں صدی کے شروع میں میں امیتابھ بچن کون بنے گا کروڑ پتی پروگرام سے ایک دفعہ پھر کامیابیوں کی سیڑھی پر پہنچ گئے ہاں اب راجیش کھنا میں اتنی ہمت باقی نہیں تھی اور انہوں نے فلموں میں ہی اپنے آپ کو دوبارہ آزمانے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہو سکا اس کے بعد 2009 میں امیتابچن کی ملاقات ایک دفعہ پھر راجیش کھنا کے ساتھ ہوئی جہاں امیتابھ بچن نے راجیش کھنا کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا اس کے تین سال کے بعد جب راجیش کھنا دنیا سے گئے تو امیتابچن وہاں پر اپنے بیٹے ابھیشیک بچن کے ساتھ پہنچے  آخری بار دیدار کرنے بالی ووڈ کا پہلا سوپر اسٹار اس دنیا سے جا رہا تھا اور عجیب اتفاق دیکھئے یے کہ امیتابھ بچن اور راجیش کھنہ نے جو پہلی فلم اکٹھے کی تھی آنند اس میں بھی فلم کا کردار آنند یعنی راجیش کھنا جب دنیا سے جاتا ہے امیتابھ بچن اس کے بعد اس کے پاس آتے ہیں ہیں یہ تھی آج کی کہانی  اچھی لگی ہو ہو تو کمنٹس میں بتائیے گا 

    Thanks
    Ali Asgher khan 
    Twitter account @Ali_khan_AJK 
    Twitter account @Ali_AJKPTI 

  • ڈپریشن اور اسلام تحریر: سیدہ بنت زینب

    ڈپریشن اور اسلام تحریر: سیدہ بنت زینب

    ڈپریشن ایک ایسا احساس ہے جب انسان خود کو دو اونچی دیواروں کے درمیان اندھیرے میں پھنسے ہوئے محسوس کرتا ہے، جس کے آگے کوئی راستہ نہیں ہے اور کوئی راستہ پیچھے نہیں ہے. ماضی کی ہر بری یاد کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے یہ اسی لمحے ہوا ہے، جبکہ مستقبل کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے اس میں موجودہ مصیبت کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں ہوگا. ڈپریشن منفی خیالات سوچنے سے نہیں ہوتا. بلکہ یہ ڈپریشن ہی ہے جو منفی خیالات کا سبب بنتا ہے. افسردہ شخص ایک خوشگوار واقعہ کے بارے میں صرف تب سوچ سکتا ہے تاکہ اس کے دوران ہونے والی منفی باتوں کو یاد کر سکے. ڈپریشن کی منفیت ان کے تمام خیالات کو ایک سیاہ بادل کی طرح ڈھانپ دیتی ہے.

    جب ہم افسردہ ہوتے ہیں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ جیسے ہم اس بڑی، وسیع دنیا میں اپنے آپ پر مصیبتیں چھوڑ کر چلے جا رہے ہیں، بغیر کسی مقصد یا حکمت کے زندگی گزار رہے ہیں. دن بہ دن گزرتا ہے، ہم تکلیف اٹھاتے ہیں، اور ہم کسی چیز کے لیے بہتر نہیں ہیں….!

    ڈپریشن سے نمٹنے کی طرف پہلا قدم صرف یہ ماننا اور سمجھنا ہے کہ خدا ہمارے تمام مسائل کو حل کر سکتا ہے اور ہماری ڈپریشن کو فوری طور پر دور کر سکتا ہے، لیکن وہ ایسا نہ کرنے کا انتخاب کر رہا ہے. آپ نے اسے ترک نہیں کیا ہے، وہ آپ کے ساتھ ایسا ہونے دے رہا ہے اور ہر سیکنڈ میں آپ کو تکلیف میں مبتلا دیکھ رہا ہے، وہ آپ کے دل میں چھپی بات تک کو جانتا ہے. یہ کبھی کبھی بہت عجیب بھی لگتا ہے، کہ ایک مہربان خدا اس کی اجازت کیوں دے گا؟ کچھ لوگ اس کی وجہ سے مایوس ہو جاتے ہیں، ہمت ہار جاتے ہیں.

    یاد رکھیں آپ کا ڈپریشن بے مقصد نہیں ہے. آپ کی افسردگی آپ اور خدا کے درمیان معاملہ ہے. وہ مکمل طور پر اس کا اختیار رکھتے ہیں کہ جب وہ چاہیں اسے روک دیں.

    جب آپ کو تکلیف ہوتی ہے ، اگر آپ خدا سے پیٹھ پھیرتے ہیں اور اس کی مدد نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہیں تو آپ اس کے امتحان میں ناکام ہو رہے ہیں. وہ جو رویہ آپ کو دکھانا چاہتا ہے وہ تسلیم اور قبولیت میں سے ایک ہے، وہ رویہ جو قرآن کے نبی سب دکھاتے ہیں خدا کی طرف دکھاتے ہیں. آپ کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ، "خدا ، میں جانتا ہوں کہ آپ اس دنیا کی ہر چیز کے مالک ہیں، دنیا کا پتا پتا آپ کے حکم کا پابند ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے تکلیف میں دیکھ رہے ہیں. جو گناہ مجھے یہاں لائے ہیں انہیں معاف کر دیں، میری جو غلطیاں ہیں وہ معاف کریں، میری رہنمائی کریں اور میرے علم میں اضافہ کریں. مجھے سیکھنے میں مدد کریں کہ مجھے کیا سیکھنا ہے. مجھے ہر دکھ غم تکلیف سے نجات دیں. بے شک آپ کسی جاندار پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے مگر مجھے معاف کریں اور میرا شمار اپنے چند خاص بندوں میں کریں جنہیں سکون اور ہدایت نصیب ہوئی ہے.”

    مایوسی کفر ہے، بس یاد رکھیے کہ اللّٰہ ہیں نا ہمارے ساتھ. وہ سب کچھ وقت آنے پر خود ہی ٹھیک کر دیں گے انشاء اللہ…..!

  • امت محمدی ﷺپانچ نمازیں تحریر:محمد آصف شفیق

    امت محمدی ﷺپانچ نمازیں تحریر:محمد آصف شفیق

    امت محمدی ﷺپانچ نمازیں  اجرثواب پچاس نمازوں کا
    نبی کریم ﷺ کو اللہ رب العالمین کی طرف سے پانچ نمازوں کا تحفہ  ملا  ، جو ہیں تو پانچ مگرثواب  میں  پچاس کے برابر ہیں اسی حوالے سے  صحیح احادیث  کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں  
    یحیی بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شب میرے گھر کی چھت پھٹ گئی اور میں مکہ میں تھا، پھر جبرائیل علیہ السلام  اترے اور انہوں نے میرے سینہ کو چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر ایک طشت سونے کا حکمت وایمان سے بھرا ہوا لائے اور اسے میرے سینہ میں ڈال دیا، پھر سینہ کو بند کر دیا، اس کے بعد میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے آسمان پر چڑھا لے گئے، جب میں دنیا کے آسمان پر پہنچا، تو جبرائیل علیہ السلام  نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ (دروازہ) کھول دے، اس نے کہا کون ہے؟ وہ بولے جبرائیل علیہ السلام  ہے، پھر اس نے کہا، کیا تمہارے ساتھ کوئی (اور بھی) ہے، جبرائیل علیہ السلام  نے کہا ہاں! میرے ہمراہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے کہا وہ بلائے گئے تھے؟ جبرائیل علیہ السلام  علیہ السلام نے کہا ہاں! جب دروازہ کھول دیا گیا، تو ہم آسمان دنیا کے اوپر چڑھے، یکایک ایک ایسے شخص پر نظر پڑی، جو بیٹھا ہوا تھا، اس کی داہنی جانب کچھ لوگ تھے، اور اس کی بائیں جانب (بھی) کچھ لوگ تھے، جب وہ اپنے داہنی جانب دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو دیتے، انہوں نے (مجھے دیکھ کر) کہا کہ مرحبا بالنبی الصالح والابن الصالح میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے یہ آدم ہیں، اور یہ لوگ ان کے دائیں اور بائیں ان کی اولاد کی روحیں ہیں، دائیں جانب جنت والے ہیں اور بائیں جانب دوزخ والے، اسی لئے جب وہ اپنی داہنی جانب نظر کرتے ہیں، تو ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں، تو رونے لگتے ہیں، یہاں تک کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے، اور اس کے داروغہ سے کہا کہ (دروازے) کھول دے، تو ان سے داروغہ نے اسی قسم کی گفتگو کی، جیسے پہلے نے کی تھی، پھر (دروازہ) کھول دیا گیا، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، پھر ابوذر نے ذکر کیا کہ آپﷺ نے آسمانوں میں آدم علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، موسٰی علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کی، اور یہ نہیں بیان کیا کہ ان کے مدارج کس طرح ہیں، سوا اس کے کہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا میں، اور ابراہیم علیہ السلام  سے چھٹے آسمان میں پایا، انس کہتے ہیں پھر جب جبرائیل علیہ السلام  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر حضرت ادریس علیہ السلام  کے پاس سے گذرے تو انہوں نے کہامَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ (آپ فرماتے ہیں) میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ ادریس علیہ السلام  ہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، تو انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے (جبریل سے) پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ عیسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں ابراہیم علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا، یہ ابراہیم علیہ السلام  ہیں، ابن شہاب کہتے ہیں مجھے ابن حزم نے خبر دی کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے چڑھا لے گئے، یہاں تک کہ میں ایک ایسے بلند مقام میں پہنچا، جہاں (فرشتوں کے) قلموں کی کشش کی آواز میں نے سنی، ابن حزم اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، جب میں یہ فریضہ لے کر لوٹا، تو موسیٰ علیہ السلام پر گذرا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ نے آپﷺ کے لئے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے (یہ سن کر) کہا کہ اپنے اللہ کے پاس لوٹ جائیے، اس لئے کہ آپﷺ کی امت (اس قدر عبادت کی) طاقت نہیں رکھتی، تب میں لوٹ گیا، تو اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا، اور کہا کہ اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر وہی کہا کہ اپنے پروردگار سے رجوع کیجئے، کیونکہ آپ ﷺکی امت (اس کی بھی) طاقت نہیں رکھتی، پھر میں نے رجوع کیا تو اللہ نے ایک حصہ اس کا (اور) معاف کر دیا، پھر میں ان کے پاس لوٹ کر آیا اور بیان کیا تو وہ بولے کہ آپﷺ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جائیں، کیونکہ آپﷺ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، چنانچہ پھر میں نے اللہ سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اچھا (اب) یہ پانچ (رکھی) جاتی ہیں اور یہ (در حقیقت با اعتبار ثواب کے) پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی، پھر میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا، انہوں نے کہا پھر اپنے پرودگار سے رجوع کیجئے، میں نے کہا (اب) مجھے اپنے پروردگار سے باربار کہتے ہوئے شرم آتی ہے، پھر مجھے روانہ کیا گیا، یہاں تک کہ میں سدرۃ المنتہی پہنچایا گیا اور اس پر بہت سے رنگ چھا رہے تھے، میں نہ سمجھا کہ یہ کیا ہیں؟ پھر میں جنت میں داخل کیا گیا (تو کیا دیکھتا ہوں) کہ اس میں موتی کی لڑیاں ہیں اور ان کی مٹی مشک ہے۔
    صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 346           

    @mmasief

  • سعودی عرب :  بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

    سعودی عرب میں بحیرہ احمر میں سمندری سائنس اور ماحولیات کے ماہرین نے جزیرہ الوقادی کے جنوب میں مرجان کالونی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جزیرہ 600 سال پرانا ہے اور اس کی اونچائی 10 میٹر سے زیادہ ہے مرجان کی چٹانوں کی عمر کالونی کے بیرونی ڈھانچے پر سالانہ بڑھنے والے حلقوں کے سائز اور تعداد کی پیمائش سے کی-

    رپورٹ کے مطابق جزیرے میں مرجانی چٹانوں کی کالونی پچھلی صدیوں کا ایک تاریخی حوالہ ہے یہ کالونی سائنسدانوں کو سائنسی طریقوں سے مرجان کی چٹانوں کے ذریعے گزشتہ سالوں میں سمندر کے درجہ حرارت اور اس وقت کیمیائی ساخت کو جاننے میں مدد دے گی۔

    دریافت ہوئی کالونی بڑی تعداد میں مچھلیوں کا گھربن سکتی ہے مرجان کالونیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کئی وجوہات ہیں جو مرجان کی چٹانوں کی زندگی کو متاثرکرتی ہیں۔

    ریڈ سی کمپنی مرجان کی چٹانوں کے ماحول کو بڑھانے اور پراجیکٹ ایریا میں ان کے ماحولیاتی تنوع کو بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    کمپنی کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سمندری حیات کے تحفظ کو یقینی بنائیں اورآلودگی اور شکار کے ذریعے آبی مخلوقات کے وجود کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

  • جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم شہزادی

    جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم شہزادی

    جہیز، حق مہر اور ہم ،تحریر: ارم رائے
    مجھے عام طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں ایک ٹاپ پر بات کیا کروں تو ٹاپک اکٹھے نا کروں لیکن مسلہ یہ ہے کہ میرے اکثر ٹاپکس ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جیسے نزلہ زکام اکٹھا لکھا جاتا ہے صبح وشام دن ورات ایک ساتھ لکھے جاتے ہیں ویسے میرے ٹاپکس بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ایک ٹاپک دوسرے کو مکمل کرتا ہے اور دوسرا پہلے کو۔ جن دو موضوعات پر بات کررہی ہوں یہ معاشرے کی بہت بڑی اور تلخ حقیقت ہیں۔ اور اسکا شکار ہونے والے بھی نوجوان اور شکار کرنے والے بھی نوجوان۔ جہیز ایک لعنت ہے اس بات پر سارا پاکستان اور معاشرہ متفق ہے۔ جتنے مرضی اس سروے کروائیں لڑکیاں لڑکے اسے لعنت قرار دیتے نظر آئیں گے۔ پاکستان کی ادھےسے زیادہ ابادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ نوجوان مستقبل ہیں ہمارا۔ انکے قول فعل میں تضاد اتنا ہے کہ بعض دفعہ سمجھ نہیں اتی کہ یہ خاندان کو سمبھالنا تو دور کی بات اپنے آپ کو سنبھال پائیں گے؟ یہی حال سوشل میڈیا کا یہاں جہیز پر بحث کریں تو بھی اپکو 99فیصد جہیز کو لعنت سمجھیں گے اور اسے برا کہیں گے تو اگر جہیز ایک لعنت ہے اور اس لعنت کی وجہ سے کئی بچیوں کے سر میں چاندی اتر آئی ہے تو پھر وہ ہیں کون جو جہیز لے رہے ہیں یا مطالبہ کررہے ہیں؟ کون لمبی لمبی لسٹیں بنا کے دیتا ہے؟ کون ہیں جو اب فرنیچر اور الیکٹرونکس سے نکل گاڑی اور پلاٹ تک مطالبہ کررہے ہیں؟ کون ہے جو لڑکے کی ماں کے لیے کنگن کا مطالبہ کررہا ہے؟ یقیناً یہی نوجوان جو یو ہر جگہ اسے لعنت قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن عملا اسکا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں اگر اس پر ان نوجوانوں سے پوچھا جائے تو تاویلیں گھڑتے ہیں کہ امی نے کہا ہے باجی نے کہا ہے میں تو جہیز کے خلاف ہو لیکن ماں بہنوں کے آگے سر نہیں اٹھا سکتا ورنہ وہ کہیں گی کہ دیکھا زن مرید بن گیا ہے۔

    لیکن یہ تمام چیزیں میں اس کو بنوا دونگا یا جو وہ جہیز کے نام پے دیں گے میں کسی طرح لوٹا دونگا کس نے پھر واپس لینا اور کس نے لوٹانا۔ اسی طرح لڑکیاں بھی کہیں گی کہ اس لڑکے سے شادی کریں گی جو جہیز نہیں لےگا یا جہیز نہیں مانگےگا۔ میرے والدین نے مجھ پر اور میری تعلیم پر پہلے ہی لاکھوں خرچ کیے ہیں مزیدانکا بوجھ نہیں بننا۔ لیکن عملا وہ بھی جہیز کے لیے حریص پائی گئیں۔ یوں چیزیں اکٹھی کررہی ہونگی جیسے پہلی بار لے رہی ہیں یا آخری بار۔ الله کی بندیوں والدین ہیں ساری زندگی دیں گے آخری بار تھوڑی ہے کہ اس قدر لالچ کرو پلاسٹک کی بالٹی تک لیں گی۔ باپ کو بھائیوں کو مقروض کریں گی جہیز اور شادی کے فنکشنز کے نام پر۔ اسی طرح لڑکے کے والدین بھی یہی کہتے نظر آئیں گے کہ ہم اپنے لیے تھوڑی کہہ رہے ہیں جو بھی چیزیں ہونگی بچوں کے ہی کام آئیں گی۔۔ اب آتے ہیں حق مہر کی طرف، حق مہر وہ رقم ہوتی ہے جو نکاح کے وقت لڑکے کی طرف سے لڑکی کے لیے لکھی جاتی ہے اور ادا کی جاتی ہے۔ شریعت میں بھی اس کی اجازت ہے لیکن نقصان تب ہوتا ہے جب حق مہر شرعی ہونے کے بجائے یا، لڑکے کی مالی حثیت کو مدنظر رکھے بغیر طے کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ لاکھوں اور بعض دفعہ کروڑوں میں لکھا جاتا ہے۔ لڑکی والے سکیورٹی کے نام پے یہ پیسہ لکھواتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس لڑکے کی احثیت ہی نہیں کہ وہ اتنی ادائیگی کرسکے تو لکھوایا کیوں جاتا ہے؟ کیا یہ بوجھ نہیں ہے؟ ایک لڑکا جسکی عمر ہی کم و بیش 25 سے 30 سال ہے وہ تمام تر آسائشات فوراً کیسے دے سکتا ہے جن آسائشات کو دیتے ہوئے اپکے والد کا سر سفید اور کندھے جھک گئے۔ اور کیا واقعی وہ لاکھوں کا حق مہر خوشیوں کی ضمانت ہے؟ کیا واقعی وہ سکیورٹی دے سکتا ہے؟ حادثات زندگی کا حصہ ہیں ان سے محفوظ الله کی زات رکھ سکتی ہے روپیہ پیسہ نہیں۔ اس لیے خدارا شادی کو سنت نبوی صلی الله عليه والہ وسلم سمجھ کر ادا کرو نا کہ کاروبار۔ جب شادی کو کاروبار اور محض لین دین کا زریعہ بناؤگے تو کہاں سکون پاؤگے؟ کیسے برکت ہوگی اس رشتے میں؟ نکاح میں برکت ہے اس برکت کو آسان کیجے تاکہ زنا کا راستہ روکا جا سکے۔ نکاح سستا کیجے تاکہ بہن بیٹی عزت سستی نا ہو۔ بیٹیوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو انہیں قرانی تعلیمات دیں انہیں دنیوی تعلیم دیں پاؤں پے کھڑا کریں لیکن حد سے تجاوز نا کرنے دیں
    جزاک الله

  • سوشل میڈیا پر بلی کی بہادری کے چرچے

    سوشل میڈیا پر بلی کی بہادری کے چرچے

    نئی دہلی: بھارت کے ایک کنویں میں گرنے والی بلی اور چیتے کی لڑائی کی ویڈیو سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں چیتے اور بلی ایک کنویں میں گر گئے چیتے نے کنویں کی منڈیر پر پناہ لی تو وہاں پہلے سے ہی ایک بلی موجود تھی۔

    چیتے نے اپنے سے کئی گناہ چھوٹی بلی پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو بلی بھی سینہ تان کر کھڑی ہو گئی اور چیتے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا بلی کی اس بہادر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جو دنیا بھر میں لوگون کی دلچسپی کا باعث بن گئی ہے-

    یو اے ای: ایکوریم میں دنیا کا سب سے بڑا سانپ

    چیتے کے کنویں میں گرنے کے بعد مقامی افراد وہاں پہنچ گئے تھے اور وہ کنویں کے دہانے پر کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے جنہوں نے بلی کی بہادری کی ویڈیو اپنے موبائل میں محفوظ کر لی۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مغربی ناسک ڈویژن کے جنگلات کے ڈپٹی کنزرویٹر پنکج گرگ کا کہنا تھا کہ چیتا اس بلی کا پیچھا کرتے ہوئے کنویں میں گر گیا تھا جسے کنوئیں سے نکال کر جنگل میں چھوڑ دیا گیا ہے۔