Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی خواہش ہے کہ وہ لمبے عرصے تک جئیں اس حوالے سے ارب پتی جیف بیزوس اور یوری ملنر ایسی بائیوٹیکنالوجی فرم کو فنڈز دے رہے ہیں جس کا مقصد عمر کو بڑھانا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق الٹس نامی لیب کے لیے امریکہ اور برطانیہ میں 270 ملین ڈالر اکٹھے کیے گئے ہیں تاکہ جانوروں اور ممکنہ طور پر انسانوں میں سیل ری پروگرومنگ ٹیکنالوجی کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    پروگرام میں ایک جاپانی ڈاکٹر شنیا یاماناکا بھی شامل ہیں جنہوں نے سیل ریپروگرامنگ میں تحقیق کی اور انہیں اس تحقیق کے لیے 2012 کا نوبل انعام دیا گیا۔

    انہوں نے دریافت کیا کہ خلیوں میں صرف چار مخصوص پروٹینز کو شامل کرکے انہیں دوبارہ پرانی حالت میں واپس لایا جاسکتا ہے جو جانوروں کو نئی زندگی کی طرف لاسکتے ہیں2016 میں بھی ایسی ہی تحقیق میں ایک سیل بنایا گیا تھا جس کا تجربہ چوہوں پر کیا گیا، جس کے مثبت اثرات دیکھے گئے تھے۔

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی صرف خلیوں کو جوان نہیں بناتی، بلکہ انہیں سٹیم سیلز میں تبدیل کر کے ان کے کردار کو بھی بدل دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں پر آزمانا اب بھی بہت خطرناک ہے۔

  • وزیراعظم ہاؤس  میں کفایت شعاری،تحریر:ام سلمیٰ

    وزیراعظم ہاؤس میں کفایت شعاری،تحریر:ام سلمیٰ

    کبھی سنا کسی کو فکر ہوئی ہو کے وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کتنے ہیں عجیب سا سوال ہے ؟
    کوئی وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات کی بھی فکر کر رہا ہے قائد اعظم کے بعد.

    عمران خان کی قیادت والی حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت میں کفایت شعاری کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس کے 49 فیصد اور وزیراعظم آفس کے 29 فیصد اخراجات کو کم کیا ہے اب تک. سابقہ ​​حکومتوں کے ساتھ اخراجات کا موازنہ کرتے ہوئے دستاویز پر اگر روشنی ڈالی جائے تو آپکو وزیر اعظم اور صدر بلکے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے علاوہ کیمپ آفس بھی ملیں گے ان سابقہ حکومتوں کے اخراجات میں یہ تمام کیمپ آفس بھی شامل ہیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری کے دو کیمپ دفاتر تھے جن کی قیمت تقریبا 3.6 ارب روپے تھی.

    دوسری طرف ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لیے رائے ونڈ کیمپ آفس پر حکومت کو 4.3 ارب روپے خرچ ہوئے. جبکہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اپنے دو کیمپ دفاتر کے لیے 572 ملین روپے استعمال کیے.

    سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پانچ کیمپ دفاتر پر 570 ملین روپے خرچ کیے جبکہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کے پاس کوئی کیمپ آفس نہیں ہے یہ بھی انہونی رہی جب حکومت ان کیمپ آفس کے بغیر چل سکتی ہے تو کیوں عوام کا پیسہ اس طرح کے اخراجات میں استعمال ہو؟ سرکاری دستاویزات یہ بھی بتاتی ہیں کہ آصف علی زرداری نے اپنے دو کیمپ دفاتر پر 3.6 ارب روپے خرچ کیے ، جبکہ 245 سرکاری گاڑیاں اور 656 سیکیورٹی اہلکار بھی ان کے ساتھ تعینات تھے۔

    دستاویزات کے مطابق نواز شریف نے رائے ونڈ کو اپنا کیمپ آفس بنایا اور سیکیورٹی کے لیے 2،717 پولیس اہلکار تعینات کیے ، جس سے قومی خزانے کو 4.3 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

    2018 میں 590 ملین روپے سے 2020 میں 280 ملین روپے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات 2018 میں 590 ملین روپے تھے جو 2019 میں 339 ملین روپے اور 2020 میں 280 ملین روپے رہ گئے۔ پی ایم او کے اخراجات جو 2018 میں 514 ملین روپے تھے ، 2019 میں 305 ملین روپے اور 2020 میں 334 ملین روپے رہ گئے۔

    دستاویزات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کا سالانہ اخراجات 180 ملین روپے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس سے کوئی صوابدیدی گرانٹ ، گفٹ اور کیش ایوارڈ نہیں دیا۔سب کو سرکاری کھاتے میں جمع کروا دیا جو کے وہ بہت کم قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتے تھے سب کو نیلامی پے لگوا دیا.

    سرکاری دورے اورعمران خان کی کفایت شعاری
    پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 48 سرکاری دورے کیے جن پر سرکاری خرچہ 572 ملین روپے آیا جبکہ ان کے جانشین راجہ پرویز اشرف نے 9 سرکاری دورے کیے جن کی مالیت 107 ملین روپے تھی۔ جب کے نواز شریف نے 92 سرکاری دورے کیے جن پر قومی خزانے کو 1.8 ارب روپے لاگت آئی جبکہ ان کے جانشین شاہد خاقان عباسی نے 19 سرکاری دورے کیے جن پر 260 ملین روپے خرچ ہوئے۔

    دوسری طرف ، وزیر اعظم عمران خان نے 26 سرکاری دورے کیے پی ٹی آئی حکومت کی کفایت شعاری مہم میں پی ایم او کے اخراجات 46 ملین روپے رہ گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے حکومتوں کے اخراجات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ مالی سال میں 218 ملین روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم صرف 46 ملین روپے استعمال کیے گئے.سب سے اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب نے اس پے توجہ دی پاکستان تحریک انصاف کی زیرقیادت وفاقی حکومت کی کفایت شعاری مہم نے قومی خزانے کو لاکھوں روپے بچانے میں مدد کی ہے۔

    ایک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ خرچ آدھے سے بھی کم کر دیا اخراجات کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ مالی سال میں 218 ملین روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم ، صرف 46 ملین روپے استعمال ہوئے۔ اسی طرح سرکاری دوروں کی مدد میں خرچ ہونے والے قومی خزانے کو بھی مختص بجٹ میں سے 10 ملین روپے کی کافی رقم بچائے گئے.

    اس کے علاوہ ، تفریح ​​اور تحائف کے عنوان کے تحت بجٹ میں واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے جو کہ 1.5 ملین روپے سے صرف 1000 تک ہے۔ وزیر اعظم کے دورے کے اخراجات میں ایک اور بڑے پیمانے پر کمی دیکھی گئی۔ ایک نا قابل یقین کمی 20 ملین روپے کے مختص بجٹ کے مقابلے میں صرف 1.2 ملین روپے خرچ کیے گئے۔

    عمران خان نے ثابت کیا سوچ آجائے تو سب کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے ثابت کیا کے قومی خزانے کا غلط استعمال نہں ہونے دیں گے اس کے ثبوت آپ کے سامنے ہیں.

    @aworrior888

  • ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    سوال یہ ہے کہ آج مسلم ممالک میں معاشرے میں خواتین کا کردار کیا ہے؟ زندگی کے کن شعبوں میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا خواتین کے کردار میں تبدیلی آرہی ہے خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ ہے۔ اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ کیونکہ ہم خواتین معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں ہمیں خود اپنے دفاع کے لئے کھڑا ہونا ہوگااور اس معاشرے میں اپنے آپ کو منوانا ہوگا کہ ہم ہی ہیں جو اس معاشرے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

    کسی بھی ملک یا ریاست کی تعمیر و معاشی ترقی میں خواتین کا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ اسی طرح خواتین کو بااختیار بنا دیا جائے تو پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ہمارے ملک میں خواتین اپنی جہدِ مسلسل پر گامزن ہیں اور آج بھی انہیں لاتعداد مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے آگے بڑھنے میں صرف نقل وحرکت کی پابندیاں ہی حائل نہیں بلکہ انہیں اجرتوں کے شدید فرق کا مسئلہ بھی درپیش ہے خواتین کے حقوق کو ہمارے ہاں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت پر حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہے کہ موثر پروگرام اور پالیساں وضع کی جائیں اور ان کا نفاذ کیا جائے۔ اس کے علاوہ جو قوانین پہلے سے نافذ ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال میں بہتری لانا بھی انتہائی ضروری ہے۔۔ خواتین کے حقوق کے لئے جنگ جاری رکھنی ہو گی خواتین کے حقوق کے لیے ہمیں نہ صرف قوانین کے ذریعے عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرتے ہوئے جدوجہد کرنی ہوگی یہ ہمارا چیلنج ہے اور خواتین کو امتیازی سلوک اور بدسلوکی کے خلاف جنگ ہم سب کو آگے بڑھ کر لینی ہو گی ہم خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کو خود پہچانا ہوگا

    آج کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور ملک کے بہترین اداروں میں اپنا کردار ادا کر رہی آج کی عورت بدل چکی ہے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہین پاکستان کے آئین میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت
    بھی دی گئی ہے لیکن ان قوانین کے عملدرآمد کے مسائل کی وجہ سے خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں عورتوں کے کون کون سے حقوق شامل ہیں اور خواتین ان قواتین سے
    کیسے اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں اور ان حقوق کی پامالی کرنے پر مجرم کن سزاؤں کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کافی جہگوں پر دیکھا گیا ہے کہ خاص کر پسماندہ علاقوں میں خواتین کو اکثر جائیداد سے بے دخل کردیا جاتا ہے اور ان کو ان کا شرعی اور قانونی حق سے محروم رکھا جاتا۔ ہے لیکن پاکستان کا آئین اس بارے میں بالکل واضح طور پر عورتوں کو ان کا جائیداد میں حق دیا جائے۔
    ہراساں کرنے پینل کوڈ کہ مطابق یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کرے، جس میں ایسےجملے بولے جائے، جو خاتون کو تکلیف پہچائے یا اس کو ہراساں کرے، ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے ایسے خواہ یہ گھر میں ہوں یا دفاتر میں، ایسا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔وہ تمام خواتین جو ان حالات سے گزرنے کے بجائے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے قانونی ذرائع سے انصاف طلب کریں

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں زندگی گزارنے والے سید علی گیلانی 92 سال کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اگر انہیں شہید سید علی گیلانی کہا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ جدوجہد میں تھے، وہ کشمیر کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ انہوں نے نظر بندیوں، جیلوں اور قیدوں میں گزارا۔ ان کی آواز بوڑھی ہو گئی تھی، کمزور ہو گئی تھی لیکن اب بھی ان کے الفاظ میں گرج موجود تھی۔ ان کی آنکھوں میں جو آزادی کا خواب تھا وہ انشاءاللہ ضرور پورا ہو گا۔

    ان کی ایک ویڈیو نظر کے سامنے سے گزری جس میں وہ ایک دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔ پورے کشمیر میں لاک ڈاؤن لگا ہوا تھا، کشمیریوں پر ظلم کیا جا رہا تھا، ان کا حق چھینا جا رہا تھا، شہید کیا جا رہا تھا، گھر گھر تلاشی ہو رہی تھی، بھارتی فورسز کشمیریوں سے بدتمیزی کر رہی تھیں، اُس وقت انہوں نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا کہ "دروازہ کھولو، دیکھو تمہاری جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے۔” یہ آواز ہمیشہ بھارت کے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ اس عمر میں ان کی آواز بوڑھی ہو چکی تھی لیکن ان کے الفاظ میں جو طاقت تھی وہ آج بھی پوری وادی میں گونج رہی ہے۔

    سید علی گیلانی بڑے عرصے سے علیل تھے، نظر بند بھی تھے اور سمجھوتہ بھی نہیں کر رہے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تدفین سب سے بڑا سوال تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کی تدفین سری نگر کے شہدا کے قبرستان میں کی جائے۔ لیکن بھارتیوں نے ان کی یہ خواہش بھی پوری نہ ہونے دی۔ بھارتی ڈر گئے تھے کہ اگر سید علی گیلانی کی میت کو اُٹھا کر وہاں تک لے جایا گیا تو پورا کشمیر میت کے ساتھ باہر نکل آئے گا، لوگوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا اور یہ تحریک دوبارہ زور پکڑ لے گی۔ 

    اس لیے پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا۔ جگہ جگہ خاردار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ ان کی رہائش گاہ پر بہت بڑی تعداد میں نفری پہنچ گئی۔ ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ جھگڑا کیا گیا، اور اُن کی تدفین زبردستی اُن کے گھر کے قریب ہی قبرستان میں کروائی گئی۔ ایک جسدِ خاکی سے بھارت اتنا زیادہ ڈر گیا کہ انہوں نے پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا، انہوں نے پورے کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر دیا کہ لوگ کہیں باہر نہ آ جائیں۔ لیکن یہ تو ہو گا، اور یہ انشاءاللہ آپ کو ہوتا ہوا نظر آئے گا۔

    کشمیر کے لوگ آج نہ صرف سراپائے احتجاج ہیں بلکہ سوگ میں ہیں۔ پاکستان نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ وزیراعظم اور صدرِ پاکستان نے فوری طور پر ردِ عمل دیا۔ سید علی گیلانی کشمیریوں کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ تھے۔ پاکستان کے ساتھ کشمیر کو جوڑنے کے حوالے سے ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تمام وہ راستے اختیار کیے جس سے کشمیریوں کو ان کا حق دلوایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے سیاست کر کے دیکھی اور وہ کئی دفعہ جیتے، لیکن ان کی پارٹی کو کبھی بھی اکثریت میں نہیں آنے دیا گیا۔ کیوں کے بھارتی حکومتیں ان سے کہتی تھیں کہ ہمارے ساتھ سمجھوتہ کر لیں ہم آپ کی کشمیر میں حکومت بنوا دیں گے، لیکن سید علی گیلانی نے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کشمیریوں کو کبھی دھوکہ نہیں دیا۔ پھر سیاست چھوڑی اور حُریت میں آ گئے۔ آزادی کی تحریک میں کام کرتے رہے۔ بلآخر ان کا نعرہ پورے کشمیر میں گونجنے لگا کہ "کشمیر بنے گا پاکستان” ۔

    ایک اور ویڈیو ان کی مقبول ہو رہی ہے جس میں وہ بہت زوردار آواز میں کہتے ہیں کہ "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ ان کے یہ الفاظ وادی میں گونج رہے ہیں۔

    سید علی گیلانی کا ایک بہت اہم سٹیٹمنٹ جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انہوں نے پوری دنیا کو مخاطب کر تے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سب یونہی خاموش رہے اور ہم سب مار دیے گئے تو اللہ کے حضور آپ سب کو جوابدہ ہونا پڑے گا، کیوں کے بھارت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی شروع کرنے جا رہا ہے، اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے”۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی میں یہ ثابت کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے، کشمیریوں کو دھوکہ نہیں دیں گے اور کبھی آزادی کا سودا نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے کشمیریوں نے بہت سے لوگوں کو موقع دیا، یعنی شیخ عبداللہ کو سر پہ اُٹھایا، اتنی عزت دی لیکن اس نے انڈیا گورنمنٹ سے معاہدہ کر لیا اور کشمیر کا حکمران بن کے موجیں کیں۔

    سید علی گیلانی کا ایک دوسرا قول جس پر وہ ساری زندگی کھرے اُترے، انہوں نے کہا کہ "بھارت اپنی ساری دولت ہمارے قدموں میں ڈال دے اور ہماری سڑکوں پر تارکول کی بجائے سونا بچھا دے تو تب بھی ایک شہید کے خون کی قیمت نہیں چکا سکتا۔

    یہ ایک عظیم مجاہد کی داستان ہے، جو ساری زندگی اپنی آنکھوں میں آزادی کا خواب لے کر جیتے رہے، نعرے لگاتے رہے کہ ” کشمیر بنےگا پاکستان”، "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ انہوں نے جو خواب دیکھے وہ خواب انشاءاللہ ضرور پورے ہوں گے۔

    ان کے جانے کا غم کبھی کم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سید علی گیلانی کے درجات بلند کریں اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائیں۔ (آمین)

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • تمباکو نوشی تحریر: صلاح الدین

    تمباکو نوشی تحریر: صلاح الدین

    دنیا  بھر میں سب زیادہ تعداد میں فروخت ہونے والی اشیاء میں سے ایک سگریٹ بھی ہے۔تمباکو نوشی کی عادت بعد میں دیگر منشّیات مثلاً چرس ، ہیروئن ، شیشہ وغیرہ کے استعمال کا سبب بن جاتی ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی باقی منشیات کی جانب پہلا قدم کہلائی جا سکتی ہے۔

    روزانہ سینکڑوں لوگ تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ وبا ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

    نوجوان کسی بھی ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے شروع سے ہی ان پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں سکول سے ہی نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک کافی حد تک تمباکو نوشی پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے انتہائی مضر ہے, تمباکو نوشی سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور دمہ جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو کہ آگے جا کر انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بھی رہتا ہے عام لوگوں کے مقابلے میں تمباکو نوشی لوگوں کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کی وجہ سے تمباکو نوش تو متاثر ہوتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ رہنے والے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر تمباکو کے دھوئیں سے بچے بہت متاثر ہوتے ہیں ان میں دمہ اور دوسری متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو سوچنا چاہیے انکی اس بری عادت کا ان کی صحت پر تو برا اثر ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ اس کے عزیز بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو نوش افراد کو چاہیے جتنا جلدی ممکن ہو اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل کریں۔

    حکومتی سطح پر تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی جانب سے کوئی خاص آگہی مہم نہیں شروع کی گئی جس سے اس وبا کو کم کرنے میں کوئی مدد مل سکے۔ اس لیے انسداد تمباکو نوشی کی مہم چلانی چاہیے جس میں معاشرے کے سب طبقات، می ڈیا وغیرہ کو بھی بھر پور حصہ لینا چاہیے۔ سکول اور کالج کے نصاب میں انسداد تمباکو نوشی کے متعلق مضمون ہونا چاہیے جس میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں مکمل آگاہی ہو تاکہ انہیں شروع سے ہی تمباکو نوشی جیسی بری عادت سے دور رکھا جا سکے۔ 

    بسوں، مارکیٹس، دفاتر اور عوامی جگہوں پر تمباکو نوشی کی سختی سے ممانعت ہو تاکہ اردگرد کے لوگوں کو تمباکو کے دھوئیں سے محفوظ بنایا جا سکے اور جو کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اس کو جرمانہ اور قید کی سزا ہونی چاہیے۔ 

    سماجی رابطوں کی مختلف ایپس ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام وغیرہ پر بھی تمباکو نوشی کے خلاف بہترین مہم چلائی جا سکتی ہے اس لیے آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنے ملک سے تمباکو نوشی کی وبا کو کم کرنے میں اپنی پوری کوشش کریں گے۔

  • لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 

    لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 


    قانون سازی کی بات کی جائے تو وطن عزیز میں آئے روز نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بڑھتے جرائم کو روکا جائے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے

    پاکستان میں اگر کوئی نچلے طبقے کا شخص جرائم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں اور بلاخوف مجرم کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا ھے تو جو کہ خوش آئند عمل ہے۔

    لیکن جب کوئی بااثر شخصیات کسی غریب پر ظلم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ان وڈیروں اور جاگیرداروں کو گھر بیٹھے ریلیف فراہم کرتے ہیں جس سے معاشرے میں غریب کی عزت مجروح ہوتی ہے اور بااثر شخصیات اپنی طاقت سے عوام پر ظلم کرنے کو ہی اپنی عظمت سمجھتے ہیں

    پاکستان میں چاروں صوبوں کی بات کی جائے تو ہر صوبے میں الگ قسم پائی جاتی ہیں پنجاب میں اگر کوئی نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تو طاقت وار لوگوں کی پشت پناہی کرنے والے صحافی نیے قانون کو متنازع بنانے شروع ہو جاتے ہیں

    دوسری جانب وطن عزیز میں سب سے زیادہ سندھ میں لاقانونیت دیکھی جاتی ہے جہاں ملک کا چیف جسٹس موقع سے شراب برآمد کر لیتے ہیں اور چند گھنٹوں میں وہ شراب کی بوتلیں شہید میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ جس سے شراب برآمد ہوئی وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ھے

    سوچیں جہاں ملک کا چیف جسٹس کچھ نہیں کر سکے مجرم بااثر ھے تو وہاں میرے اور آپ جیسے لوگوں کو کیا انصاف فراہم کیا جائے گا انصاف تو دور کی بات الٹا تذلیل کی جاتی ہیں

    پاکستان عدلیہ کا شمار دنیا کی درجہ بندی سے دیکھا جائے تو کسی سے چھپا ڈھاکا نہیں ایک سو اٹھائیس میں سے ایک سو بیسویں نمبر آتا ہے اگر پاکستان میں عدلیہ آزاد اور انصاف پر مبنی فیصلے صادر کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہیں۔ بڑھتے جرائم کی ایک وجہ مہنگائی ، غربت ، بےروزگاری کے ساتھ ساتھ بےحیائی بھی معاشرے میں بڑھتے جرائم کا اسبب بن رہی ہے۔

    جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں بچوں سے زیادتی کے حالیہ واقعات دیکھیں جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں آئے روز کسی معصوم سے زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اسب لاقانونیت ھے ایسا قانون نافذ کیا جائے جس سے دوسرے کو سزا کا خوف ہو۔

    اس کے ساتھ ساتھ جو کیسیز انڈرٹرائیل ھے مجرموں کو کڑی سے کڑی سزائیں دی جائے تاکہ کہ دوسرے لوگوں کو علم ہے یہاں طاقت وار اور غریب کے لئے ایک قانون ھے اور اداروں کو بھی چاہیے اس میں بااثر شخصیات کو کسی بھی کیس میں رعایت نہیں دی جائے اور جب کوئی بااثر افراد کسی کیس میں اپنی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کریں پہلے اس کا احتساب کیا جائے کہیں ایسا تو ہو رہا بیرون دُشمنوں کے پیروکار کے طور پر تو ملک کو کمزور کرنے کی سازش میں ملوث نہ ہو۔

    @AK_Anwar_Khan

  • جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو  جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی   تحریر: امبر سیف 

    جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی  تحریر: امبر سیف 

    ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس وجہ سے اداس نہیں  ہوتے ہیں کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے بلکہ اس وجہ سے بھی اداس ہوتے ہیں کہ ہماری بیٹی تو پیدا ہوئی ہے جو ہمارے گھر کی رحمت ہے لیکن جب یہ بڑی ہو گی تو جہیز نہ دینے کی وجہ سے کنوارہ نہ رہ جائے گی۔۔۔۔۔۔

    آپ کو پتا ہے جو باپ جہیز میں فرنیچر دیتا ہے وہ کس طرح قرضے میں ڈوب کے یہ خریدتا ہے؟ اس فرنیچر کی پالش اتر جاتی ہے لیکن اس باپ کا قرضہ نہیں اترتا۔جہیز کے پیسے جمع کرتے کرتے ایک باپ لوگوں کے آگے بک جاتا ہے اس معاشرے میں بیٹیاں جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔پتہ چلتا ہے ساس نے تیل ڈال کے آگ لگا دی،آگ کیوں لگائی کیوں کہ وہ جہیز میں کچھ نہیں لے کے آئی۔کچھ لڑکیوں کی طلاق ہو جاتی ہے صرف جہیز نہ دینے کی وجہ سے۔جہیز نے لوگوں کے گھر تباہ کر دیئے لیکن آج بھی یہ مسلہ حل نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے.ہم لوگ اپنے بچوں کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ زندگی میں اتنا کما سکیں کہ اس انتظار میں نہ رہیں ۔کب ہماری شادی ہو گی کب لڑکی اپنے ساتھ کار،اےسی،فرنیچر اور گھر کی ایک ایک چیز لے کے آئے گی۔

    ماں بیٹے کے پیدا ہوتے ہی یہ سوچنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ جب بڑا ہو گا اس کی شادی ایک ایسے گھر میں کروں گی جہاں لڑکی بھی خوبصورت ہو اور اپنے ساتھ جہیز میں بھی سب کچھ لے کے آئے اور یہ سوچ بیٹے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے

    لیکن جب بیٹے کی شادی ہوتی ہے اور وہ جہیز میں وہ سب نہیں لاتی جو اس نے سوچا ہوتا ہے تو پھر شروع ہو جاتی ہیں لڑائیاں۔ جس میں لڑکی جو اپنے ساتھ بہت سے خواب لے کے آتی ہے کہ کب میری شادی ہو گی اور کب میں نئے گھر میں نئے لوگوں کو اپنا بنائوں گی۔لیکن اس کی سوچ یہ نہیں ہوتی کہ جہیز نہ لانے کی وجہ سے اسے کن تکلیفوں سے گزرنا پڑے گا۔سسرال والے اسے حقیر کیڑے سے بھی کم سمجھتے ہیں۔

    اب اس لڑکی کی زندگی کو دیکھ کر بہت سے ماں باپ ڈر جاتے ہیں کہ اگر ہم نے بھی اپنی بیٹی کو کچھ نہ دیا تو ہماری بیٹی کی زندگی بھی اسی عذاب سے گزرے گی۔باپ اپنی بیٹی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے خود کو قرضے میں ڈبو لیتا ہے۔بہت سے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی جہیز بنانا شروع کر دیتے ہیں اور ساری زندگی ان کی چیزیں جمع کرنے میں گزر جاتی ہے۔ماں باپ ساری زندگی یہ ہی سوچتے رہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کی سسرال میں عزت ہو اسے کسی کا طعنہ سننے کو نہ ملے۔ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ ہم جتنا بیٹی کو دیں گے بیٹی کے سسرال والے اس کا اتنا خیال رکھیں گے،اس کے آگے پیچھے پھریں گے۔اس سب کی جگہ میں وہ ان لوگوں کی عادت خراب کر دیتے ہیں۔اسی طرح کچھ لوگ اتنے کمظرف ہوتے ہیں جو شادی میں جو جہیز ہوتا ہے وہ تو ایک طرف لیکن شادی کے کچھ دیر بعد اس کی ڈیماند بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔وہ لوگ کاروبار کا بہانہ بنا کر پیسے لینا شروع کر دیتے ہیں کہ اپنے باپ سے بولو میری مدد کریں مجھے کاروبار کرنا ہے اور اگر تم پیسے لائو گی تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے،تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی۔

    کبھی کار کی فرمائش کبھی موبائل کی اور کبھی گھر کی اور ضرورت کی چیزوں کی۔وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جو جہیز آیا ابھی تو اس کا قرضہ بھی نہیں اترا اور نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر انسان اپنے جسم کا حصہ انہیں دے رہا ہے کہ باقی اس کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔شادی کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ روز نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس کے بدلے میں لڑکی کے ماں باپ اس ڈر سے یہ ساری فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہماری بیٹی کو طلاق نہ ہو جائے یا اسے گھر سے نہ نکال دیں۔

    اس کا حل کیا ہے؟کیسے ہم اس جہیز جیسی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں؟ ہر انسان جب خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھے کہ لوگ کیسے کہ لوگ کیسے جہیز اکھٹا کرتے ہیں،کیسے قرض کے نیچے دب کر اپنی بیٹی کی کھوکھلی خوشیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔یہ ہم سب نے سوچنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنائیں کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے وہ کسی کی بیٹی اس وجہ سے نہ لے کہ اسے جہیز میں بہت کچھ ملنا ہے۔وہ یہ سوچے کہ لڑکی کی تربیت اچھی ہوئی ہے،وہ اچھے خاندان سے ہے،پڑھی لکھی ہے اور اسے یہ یقین ہو کہ زندگی کی ساری خوشیاں دینا اس کا فرض ہے نہ کہ اس کے ماں باپ کا۔

    ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا

    کتنی نامراد ہے یہ رسم جہیز بھی  

    twitter.com/Ambersaif3

  • نفسیاتی دباو   تحریر : تعمیر حسین

    نفسیاتی دباو تحریر : تعمیر حسین

    زندگی میں کوئ نا کوئ واقع ایسا رونماں ہوتا ہے جس سے انسان ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے اس کو نفسیاتی بیماری کہا جاتا ہے کیونکہ اس بیماری کا زیادہ اثر دماغ پہ پڑتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  جسمانی کمزوری بھی ہونے لگتی ہےنفسیات ۔۔۔

    نفسیات ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو ماضی سے نہیں نکلنے دیتی ایک نفسیاتی انسان تلخ ہونے کے ساتھ ساتھ الگ تھلک رہنے لگتا ہے اسکو یہی لگتا ہے میں الگ دنیا کا ہوں مجھے کوئ سمجھ نہیں سکتا اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے ایسے انسان کو ہم سمجھنے کے بجائے اور تکلیف دیتے ہیں اور وہ مزید تلخ ہوتا جاتا ہے

    ایسا انسان توجہ کے ساتھ پیار چاہتا ہے انسان کو نفسیاتی بنانے میں اس کے اردگرد کا ماحول اور وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن سے وہ جوڑا ہوا ہوتا ہے سوشل میڈیا کے تعلقات انسان کو  نفسیاتی بنانے میں سب سے پہلے ہے وقت گزاری سے کہیں لوگوں کی زندگیاں برباد ہوگئ عارضی تعلقات دکھ کا باعث بن کے انسان کو روحانی طور پہ ختم کررہے ہیں

    دوسروں کو تکلیف دینا دل آزاری کرنا ہمارا مذہب اسلام نہیں سیکھاتا دوسروں کو محبتوں کے جال میں پھنسانا  اور کسی کا ناجائز فائدہ اٹھانا 

    کیا یہ جائز ہے؟؟ جو ہر کوئ اس راہ پہ گامزن ہورہا ہے ہمارا مستقبل یہ تو نہیں تھا کہ اپنوں کی بربادی کا خود ہی سبب بنے خدارا ہوش کیجیے دوسروں کو عزت دیجیے استعمال نا کیجئے نفساتی بنانے اور کسی کو زندہ مار دینے میں کوئ فرق نہیں کسی کا دل دکھانے کی کوئ معافی نہیں

    ایک نفسیاتی انسان یا تو خاموش ہوجاتا ہے یا پھر مختصر جواب دینے لگتا ہے وہ اپنی الگ دنیا میں رہنے لگتا ہے اسکو کسی سے لگاو نہیں رہتا نا وہ اپنا صیح خیال رکھ پاتاہے نا کھانے پینے کی اسکو خبر ہوتی ہے اور نا روز مرہ کے  کاموں پہ توجہ دے  پاتا ہے تنہا رہنے لگتا ہے اور کمتری کا شکار ہوجاتا ہے 

    اور مایوسی میں جینے لگتا ہے 

    ایسے انسان کو کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ڈپریشن کا علاج باتوں سے بھی کیا جاسکتا ہےوہ یہی چاہتا ہے  کوئ اسکے سنے اور سمجھے 

    وقت سب سے زیادہ قیمتی ہے دوسروں کو اچھا وقت دے انکے کام ائے اور نفسیاتی انسان پاگل نہیں ہوتا لہذا اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور دوسروں کے لیے ذہنی سکون کا باعث بنے اور سوشل میڈیا کے تعلقات سے پرہیز کیا جائے کیونکہ ہر کوئ اپنی اصل شناخت سے موجود نہیں ہوتا ایک انسان کے سو نام اور پہچان بنی ہوتی ہے اور مختلف چہروں میں چھپا ہوا ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پہ ویسے بھی ہر کوئ نیک پرہیزگار بنا ہوتا ہے لازمی نہیں حقیقت میں وہ ویسا ہی ہو جیسا وہ ثابت کر رہا ہو خوشیار رہے خود کو ایسے لوگوں سے بچا کے رکھے جو اپکو ذہنی طور پہ بیمار کر دے اپنا خیال رکھا جائے  اور خود کو کاموں میں مصروف رکھے تاکہ اکیلا پن ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا نا کرے 

    تلخ ہونا کوئ عداوت نہیں 

    مٹھاس میں زہر پوشیدہ نا ہو
             

    Official Twitter Account ‎@J_Tameer

  • سماجی سرگرمی میں دلچسپی کا نقصان تحریر خالد عمران خان

     تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طلاق بچوں کو سماجی طور پر بھی متاثر کر سکتی ہے۔ جن بچوں کا خاندان طلاق سے گزر رہا ہے انہیں دوسروں سے متعلق مشکل وقت درپیش ہوسکتا ہے ، اور ان کا سماجی رابطے کم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بچے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا ان کا خاندان ہی واحد خاندان ہے جس نے طلاق حاصل کرلی ہے۔اور ان کے ماں پاب اس طرح الگ ہو رہے ہیں وہ اپنے ماں اور پاب کے ساتھ ایک ساتھ نہں رہ سکیں گے. یہ بات ان پے بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔

     تبدیلی کو اپنانے میں دشواری۔
     طلاق کے بعد بچوں کو زیادہ سے نئے ماحول کو قبول کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ فوراََ ہونے والی تبدیلی کو وہ جلدی قبول نہں کر پاتے انکو بہت مشکل لگ رہا ہوتا ہے خود کو تبدیل کرنا اور نئے تبدیل ماحول میں خود پہلے جیسا رکھنا خود کو اس ماحول میں ڈھالنا اس کی سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ نئی خاندانی حرکیات ، نیا مکان یا رہائشی صورتحال ، اسکول ، دوست اور بہت کچھ ، سب پر بہت اثر پڑ سکتا ہے۔

     

    جذباتی طور پر حساس ہوتے ہیں بچے ہمیں انکے رویوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے تعلق جیسے معاملات کے لڑائی جھگڑوں کو اور گھر کے بدلتے ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں بچے اپنے آپ کو محفوظ بھی نہں محسوس کرتے اپنے دل کی بات کسی سے شیئر نہں کر رہی ہوتے اور اندر ہی اندر جب اس طرح کے غصے یہ پریشانی والے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وہ انکو کنٹرول بھی نہں کر پا رہے ہوتے ایسے وقت انکو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ماں باپ کی کوشش ہونی چاہیے کے طلاق جیسے معاملے تک پنچھنے سے پہلے لازمی اگر گھر میں بچے موجود ہیں تو ان کے بارے میں ضرور سوچیں اور سوچ سمجھ کے اس قسم کا فیصلہ کریں کیوں کے اس قسم کے فیصلوں سے سب سے زیادہ اگر کسی پے اثر پڑتا ہے تووہ ہمارے بچے ہیں جن کے لیے اس بات کو قبول کرنا کے ماں باپ ساتھ نہ ہوں اور زندگی بلکل تبدیل ہوجائے اور انکو کسی نئی ماحول کی عادت ڈالنا بہت ہی مشکل ترین مسئلہ ہے ساتھ ہی ان کے تعلیمی معاملات کا خراب ہونا بھی مد نظر رکھنے والی بات ہے۔بچوں سے بات کریں انکے خیالات اور احساسات جانیں اور انکو سمجھنے کے بعد ماں باپ سوچ سمجھ کے اس طرح کے قدم اٹھائیں۔
     طلاق گھر کے افراد میں کئی طرح کے جذبات کو سامنے لا سکتی ہے ، اور اس میں شامل بچے بھی مختلف نہیں ہیں۔ نقصان ، غصہ ، الجھن ، بے چینی ، اور بہت سے دوسرے کے احساسات ، سب اس منتقلی سے آ سکتے ہیں۔ طلاق بچوں کو مغلوب اور جذباتی طور پر حساس محسوس کر سکتی ہے۔ بچوں کو اپنے جذبات کے لیے ایک ظاہر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے انکو ضرورت ہوتی ہے کے کوئی بات کرنے والا ، کوئی سننے والا ، وغیرہ – بچے اپنے جذبات پر عمل کرنے کے ذریعے طلاق کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں۔

    Twitter handle
    @KhalidImranK

  • کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام وفات پا گئے

    کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام وفات پا گئے

    کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کشمیر کاز کے علمبردار ، بزرگ صحافی اور دانشور شیخ تجمل الاسلام اسلام آباد میں مختصر علالت کے بعد 67برس کی عمر میں وفات پا گئے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شیخ تجمل الاسلام گزشتہ ایک ماہ سے اسلام آبادکے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے شیخ تجمل الاسلام کا تعلق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر سے تھا،اُنہوں نے 1975ء میں کشمیر یونیورسٹی سرینگر سے ایل ایل بی اور 1980ء میں اسی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا وہ طالب علمی کے دوران 1979ء سے 1984ء تک مقبوضہ علاقے میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ۔

    وکی پیڈیا سے لی گئی معلومات کے مطابق انہوں نے1973ءتا 1980ء تک سرینگر سے شائع ہونے والے اخبار اذان کے چیف ایڈیٹر اور کئی روزناموں اورہفتہ وار اخبارات اور جرائدبطور مدیر کام کیا۔وہ 1975ء تا1984ء تک سرینگر میں وکالت کرتے رہے،شیخ تجمل الاسلام نے غیر قانونی بھارتی تسلط سے مقبوضہ جموںوکشمیر کی آزادی کے ایک پرجوش حامی ہونے کی پاداش میں شدید سختیاں برداشت کیں اور 1974ء اور 1984ء کے درمیان کئی بار گرفتار کیے گئے-

    70کی دہائی میں دو اہم واقعات یعنی1971ءمیں سقوط ڈھاکہ اور 1975ءمیں اندرا عبداللہ معاہدے کے بعد بھارت نے یہ پروپیگنڈہ تیز کر دیا کہ اب پاکستان کشمیریوں کی بھر پور حمایت کے قابل نہیں رہا ۔ بھارت کے اس پروپیگنڈے نے کشمیریوںکے حوصلوں پر قدرے منفی اثرات مرتب کیے اور اس سے مقبوضہ علاقے میں جمود کی کیفیت طاری ہو گئی جسے توڑنے کیلئے شیخ تجمل الاسلام نے 1982ءمیں سرینگرمیں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ، اگرچہ بھارت نے بعد میں یہ کانفرنس نہ ہونے دی مگر اس کی تیاریوں نے اہل کشمیر خاص طور پر نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی تڑپ بیدار کر دی ۔

    جس کے بعد شیخ تجمل الاسلام بھارت کی نظرو ں میں کھٹکنے لگے ، جب ان کے گرد شکنجہ کسا جانے لگا تو و ہ نیپال منتقل ہو گئے ، نیپال میں انہوں نے کشمیرکاز کیلئے بھر پور کام کیا،کھٹمنڈو میں قیام کے دوران اسلامک سیوک سنگھ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جو اس وقت نیپال کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہے،نیپال میں قیام کے دوران انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز (آئی آئی ایف ایس او) کے تحت جنوبی ایشیا میں مسلم سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے کوآرڈی نیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

    شیخ تجمل الاسلام پاکستان ہجرت کے بعد 1998ء سے 1999ء تک پاکستان ٹیلی ویژن کے نیوز سیکشن کے وابستہ رہے۔ انہوں نے 1992ء سے 2000ء تک انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر افیرئرز کی سربراہی کی ۔بعد ازاں وہ 1999ءمیں ” کشمیر میڈیا سروس “ کے ساتھ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر وابستہ ہو گئے اور اپنی آخری سانس تک اس ادارے کے ساتھ منسلک رہے، وہ ’ کشمیر انسائیٹ ‘ کے نام سے شائع ہونے والے انگریزی جریدے کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔

    شیخ تجمل الاسلام نے بین الاقوامی سطح پر اور پاکستان میں کشمیر پر مختلف کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی اور اپنی تقاریر میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریشہ دوانیوں ، مذموم منصوبوں ، شاطرانہ چالوں کاپردہ چاک کرتے رہے ، انہوں نے کشمیر پر انگریزی اور اردو میں مضامین اور تجزیے تحریر کیے۔ وہ ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے انصاف پر مبنی حل کی حمایت کرتے رہے۔ان کی دیانتداری اور دانشورانہ مہارت کی وجہ سے صحافتی حلقوں میں ان کی بہت عزت وتوقیر کی جاتی تھی۔