Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات  تحریر: تیمور خان

    ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات تحریر: تیمور خان

    صفر المظفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اس مہینے کے حوالے سے میں آج چند گذارشات تحریر کر رہا ہوں، اور وہ گذارشات یہ ہیں، کہ جہالت کی وجہ سے عام طور پر اس مہینے کو منحوس مہینا کہا جاتا ہے، اور کم علمی کی وجہ سے جہالت کی وجہ سے اس مہینے کے ساتھ بہت سارے شکوک اور تھمات وابستہ کیے جاتے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ شعریت اسلامیہ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے کہ ماہ صفر المظفر کے متعلق جو شکوک اور جہالت والی باتیں ہیں ان کی کیا حقیقت ہے،

    یاد رکھیں انسان پہ جو بھی مصیبت آتی ہے تکالیف اور بیماریاں آتی ہے اس کے آنے کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں، اللہ تعالیٰ نے پانچویں پارہ کے سورۃ نساء میں واضح طور پہ فرمایا۔ ٫٫ اے لوگوں تم میں سے جس پر بھی دنیا میں جو بلائی اور خیر ملتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور تمہیں دنیا میں جو تکلیفات مشکلات اور مصیبتیں ملتی ہے تو تمہارے اپنے کئے ہوئے شامت اعمال کی وجہ سے ملتی ہیں؛؛

    تو پہلی بنیادی وجہ انسان کو دنیا میں جو تکلیف اور اذیت ملتی ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال ہوا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تمہارے گناہ اور تکسیرات کو معاف بھی کر دیتا ہے،اور  دوسری بنیادی وجہ انسان پہ جو مصیبتیں اور تکالیف آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائشی کے طور پر آتی ہے، ان میں گناہوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ میرے اس بندے کے دراجات بلند ہوں اور جب اللہ اپنے بندے کو اپنا قرب دینا چاہتا ہے اپنا نزدیک بنانا چاہتا ہے، تو پھر بندے پہ اللہ اپنے امتحانات مقرر کر دیتا ہے، اور جب ان تکالیف اور امتحانات کے باوجود بندہ صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ سے لو لگائی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے درجات بلند کرتا ہے۔ 

    اسی کے متعلق اللہ تبارک وتعالٰی نے دوسرے پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ اے لوگوں ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور آزمائیں گے ڈر کی وجہ سے، اس ڈر کی وجہ سے تمہیں آزمائیں گے، کبھی تمہیں بھوکا رکھیں وہ تمہاری آزمائش ہوگی، تمہارے مالوں میں ہم کمی کر دینگے ، تمہاری جانوں کا بھی ہم امتحان لینگے، اور کبھی کبھی میووں کے ذریعے تمہاری آزمائش لیں گے، اولاد چین کے تمہارا امتحان لیں گے، لیکن اللہ نے فرمایا اے میرے حبیب ان تکالیف میں جو صبر کرنے والے ہیں آپ ان کو خوشخبری دے دیجیے۔

    یہی وجہ ہے انبیاء کرام جو کے تمام انسانوں میں سب سے افضل اور اشرف جماعت ہیں ان پہ سب سے زیادہ تکلیفات اور مصیبتیں آئیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا جتنی تکلیفات اور مصیبتیں انبیاء اور سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں مجھ پہ آئیں اتنی آج تک کسی بھی نبی پہ  نہیں آئیں، تو جو اللہ کا جتنا ہی زیادہ مقرب ہوگا اس کی مشکلات بھی اتنی ہی زیادہ ہونگی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ جب عام انسان پہ مشکلات اور مصیبتیں آتی ہیں تو وہ شور مچائے گا وہ اللہ سے شکوہ کرے گا، لیکن جب اللہ کا نیک بندہ ہوگا اس کے ظاہری چہرے سے بھی کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ یہ تکلیف میں ہے وہ صبر اور تحمل سے کام لے گا، اسی لئے اللہ فرماتا ہے کہ انہیں لوگوں پہ اللہ کی رحمت پھر اترتی ہے۔

    تو اسی لئے میں نے شروع میں تحریر کیا کہ صفر المظفر کا مہینہ ہے لوگ جہالت کی وجہ سے منحوس کا لقب دیتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب بھی صفر المظفر کا مہینہ آتا لوگ تجارت کے لئے نہیں جاتے تھے لوگ سوچتے تھے اگر تجارت کے لئے جاؤں گا تو مجھے تجارت میں نقصان ملے گا، لوگ اس مہینے میں شادیاں روک لیتے تھے ان کا کہنا تھا یہ شادی ناکام ہو جائے گی یہاں تک کہ اس مہینے میں کوئی بھی فیصلہ جس میں انسان اپنے کامیابی کی طرف جاتے تھے وہ اس مہینے میں وہ فیصلے نہیں کرتے تھے، لیکن جب اسلام آیا تو اسلام نے اسے قسم کے شکوک تھمات کو ختم کر دیا اسلام نے کہا یہ سب توھمات ہیں، اسلام نے کہا سارے مہینے اللہ کہ محرم الحرام بھی اللہ کا مہینہ ہے صفر المظفر بھی اللہ کا مہینہ ہے ذی الحجہ تک جتنے بھی قمری مہینے ہیں یہ سب اللہ کے مہینے ہیں کوئی بھی نحوست کی بات نہیں بلکہ اسلام نے لفظ نحوست کو ختم کیا۔ ، جب اسلام نے کسی چیز میں کمی نہیں چوڑی تو پھر توھم کس بات کا، جب تم اللہ پہ توکل کرو گے کوئی وسوسہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا توھم کے بت سرکارِ دوعالم ﷺ نے دفنا دیے ہیں

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا بخآری مسلم شریف کی حدیث ہے، آپ نے فرمایا چار چیزیں جن کو عرب نے منحوس قرار دیا وہ کہتے تھے بیماری خود بخود ایک انسان سے دوسرے کو لگتی ہیں اسلام نے اس کو ختم کر دیا یہ توھم والی بات ہے ایک بیماری اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر دوسرے انسان کو کبھی بھی نہیں لگتی محدیثین فرماتے ہیں بلکہ اللہ کا ارادہ اس میں شامل ہوتا ہے، حضور نے فرمایا بدفغالی اسلام میں نہیں٫ مثال کے طور پر میں راستے میں جا رہا تھا کالی بلی میرے سامنے سے گزر گئی اس لئے میں بیمار ہوا؛ فلاں میرے ماتھے پہ لگا صبحِ صبح،، البتہ نیک فعا لی  ہے، مثال کے طور پر آج میرا دن بہت اچھا گزرا کیوں کہ میں نے اپنی ماں کے چہرے کی زیارت کی۔ حضور نے فرمایا علو میں بھی کوئی نحوسیت نہیں، ٫٫علو ایک پرندہ ہے؛؛ جس کو عرب والے نحوس پرندہ کہتے تھے، جب کوئی راستہ پہ جاتا تو اگر راستے میں اس کو علو کی آواز آتی یا اسکا نظر علو پر لگتا تو وہ واپس آتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ صفر المظفر میں بھی کوئی نحوسیت نہیں ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں صفر المظفر کو نحوس مہینہ کہا جاتا تھا خصوصاً صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو منحوس کہا جاتا ہے یہ رسم ہمارے معاشرے میں ہندستان سے آئی ہے چونکہ ہم متحدہ ہندوستان میں تھے پہلے ہمارے بڑے اکٹھے رہتے تھے سکوں اور ہندوؤں کے ساتھ کیونکہ یہ ان کے ہی توھمات  تھے اور یہی توھمات زمانہ جاہلیت میں عرب کے بھی تھے اور ہمارے برصغیر میں صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو تیرہ تیزی بھی کہتے ہیں، تیرہ تیزی کا مطلب کی اس مہینے کے پہلے تیرہ دن سخت ہوتے ہیں،، تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ان باتوں کا کوئی بھی اصل نہیں ہے یہ جھوٹ اور جہالت والی باتیں ہیں سارے دن اللہ کے ہیں اور اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں اسی لئے علماء نے کہا کہ صفر کے نام کے ساتھ  المظفر کا نام بھی لگا دیا کرو آپ نے اکثر دیکھا بھی ہوگا، المظفر کا مطلب کامیابی،، تو صفر المظفر یعنی وہ مہینہ جس میں انسان کو کامیابیاں ملتی ہیں، یہ المظفر کا لفظ ساتھ میں اس لئے لگایا گیا تاکہ لوگوں کے دلوں سے وہ توھمات اور بد شگونیاں نکل جائیں۔ اس لئے اس مہینے میں اس قسم کی باتیں کرنا یہ جہالت والی باتیں اس قسم کی باتوں کا اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ صفر المظفر کے پورے مہینے میں اکثر لوگ پورا مہینہ یا صفر کے آخری بدھ کو کیر پکھاتے ہیں یا کوئی خیرات کرتے ہیں، اگر یہ اپنے بڑوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی دن بھی مقرر نہیں یعنی پورے مہینے میں ہر وقت کرے پھر جائز ہے اور اگر نہیں صرف اس کے لئے خاص دن یعنی بدھ رکھا گیا ہو تو پھر ناجائز ہے اگرچہ ہمیں اس کا اصلاح کرنا چاہیے کہ آپ جو بھی خیرات دے رہے ہو وہ اللہ کی رضا اور بڑوں کے ایصالِ سواب کے لئے اگر وہ بدھ ہو گا جمعرات تو پھر جائز ہے۔ بعض غیر مستند کتب او رسالوں میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس آخری بدھ والے دن ہم چوری یا خیرات اس لئے کرتے ہیں کہ یہ بیبیوں نے کی تھی اور خاص کر حضرت فاطمہ خاتون جنت کے متعلق اس قسم کی روایات بیان کی جاتی ہے یاد رکھیں یہ روایت غلط ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔٫٫ اور روایت یہ پیش کی جاتی ہے کہ صفر کا جو آخری بدھ تھا سرکارِ دوعالم ﷺ چونکہ اس بدھ سے پہلے بیمار تھے اور اس آخری بدھ کو آپ کی تبعیت زرہ سی ٹھیک ہوئی تھی اور آپ گھر سے باہر تشریف لائے تھے، تو اس خوشی میں خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہرہ نے کچھ خیرات کیا تھا، تو یاد رکھیں صدقہ اور خیرات بلکل جائز ہے لیکن اس روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی بنیاد پر یہ بلکل ناجائز ہے، ہمارے برصغیر پاک و ہند میں جتنے بھی بڑے بڑے علماء ہیں انھوں نے اس روایت سے یکسر انکار کیا ہے یہاں تک کہ مستند کتابوں میں بھی اس کا کوئی اصل نہیں بلکہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ نے اپنے تصانیف میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آخری بدھ تھا صفر المظفر کا اس میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی بیماری اور بھی زیادہ ہو گئی تھی، بعض لوگ لا علمی کی وجہ سے کہ آپ کی بیماری شائد کم ہوئی تھی تو اس لئے اگر کوئی  اس نیت سے کہ آخری بدھ والے دن  صدقہ یا خیرات کرتا ہے تو یہ ناجائز ہے باقی اگر کوئی اچھے نیت سے محرم سے لے کر ذی الحجہ تک اور صفر المظفر کے پورے مہینے خیرات کرتا ہے اس کو منع نہیں کرنا چاہیے یہ جائز ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔

    @ImTaimurKhan

  • میرا ٹوئٹر سفر تحریر: ناصرہ فیصل

    میرا ٹوئٹر سفر تحریر: ناصرہ فیصل

    مُجھے یقین ہے ہر کسی نے ٹوئٹر کا سنا ہوا ہوگا ،استعمال کرتے ہیں یا نہی وہ الگ بات ہے لیکن کسی نہ کِسی ذریعے سے ٹوئٹر کا سن ضرور رکھا ہوگا۔ ٹوئٹر کا ہم نے بھی بہت سالوں سے سن رکھا تھا تقریباً پانچ سال پہلے ٹوئٹر کا سن کر ڈاؤن لوڈ کیا، جب ٹوئٹر کو اکائونٹ بنانے کے بعد کھولا تو عجیب بدرنگی سی دنیا نظر آئی۔۔ نظر کے سامنے کچھ ٹویٹس گزریں پر کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔ تھوڑا آگے پیچھے دیکھا پر کوئی دلچسپ چیز نظر نہی آئی اور دس منٹوں میں ہی بور ہو کر بند کر دیا۔ ایک دو دفعہ پھر کوشش کی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ سو ہم نے ٹوئٹر کو الوداع کہہ کر ڈیلیٹ کر دیا۔۔ سال بھر بعد پھر کسی کے مونہہ سے ٹوئٹر کا سن کر پھر سے لاگ ان کیا نتیجہ وہی رہا جو پہلی دفعہ تھا۔ دل میں سوچا عجیب لوگ ہیں۔ پتہ نہیں کیا نظر آتا ہے انکو ٹوئٹر میں جو ٹائم ضایع کرنے آ جاتے ہیں یہاں، ہم تو فیس بک پر ہی ٹھیک ہیں۔ سو ایک دفعہ پھر الوداع کہا اور ٹوئٹر کو پھر سے حذف کر دیا اپنے موبائل سے۔

    سال 2018 کے الیکشن سے پہلے ایک جنون سا دل پر چھا گیا کے اس دفعہ اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا ہے۔ تمام بدعنوان عناصر سے اپنے ملک کو پاک کرنا ہے انکی بدعنوانی کو دنیا کے سامنے لانا ہے اور ایک ایسے بندے کا ساتھ دینا ہے جو ایک لمبے عرصے سے سب کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے پر کوئی جاگنے کو تیار ہی نہیں۔۔ میری مراد عمران خان صاحب ہیں۔ دھرنے کے دنوں میں جو آگاہی مہم اُنہوں نے چلائ اور جس طرح لوگوں کو۔ ایک تحریک دی بدعنوان عناصر کے خلاف ، اس سے دل میں ایک نیا ہی جوش و جذبہ پیدا ہو گیا کچھ کر دکھانے کا۔۔ سو اب کے ہم نے ایک عزم صمیم کے ساتھ ٹوئٹر ڈاؤن لوڈ کیا اور سوچ لیا کچھ بھی ہو جائے اب اسکو سمجھ کر ہی چھوڑنا ہے۔۔کافی سارے دن بہت بوریت ہوئی، اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ پھر کچھ ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرنا شروع کیا، کچھ فالوورز بڑھنا شروع ہوئے۔ گلابی نمک کی اُن دِنوں ایک بہت اچھے صاحب(نام نہیں لونگی) بہت اچھی مہم چلا رہے تھے ، انکی طرف سے دعوت نامہ آیا ٹیم میں شامل ہونے کا ۔ ہم نے جھٹ سے ہاں کر دی۔
    مزے کی بات یہ کے ابھی تک ہمیں ڈی ایم کے بارے میں کوئی خاص آئیڈیا نہیں تھا اور گروپ میں کیا ہوتا ہے اسکا تو بلکل بھی علم نہیں تھا۔۔ ہم تو گروپ میں جا کر گھبرا ہی گئے۔ ارے اتنے سارے لڑکے اور ٹیکسٹ میں گفتگو چلی جا رہی۔ ایک لڑکی ہونے کی وجہ سے بہت سارا خوش آمدید ۔ ارے باپ رے یہ سب کیا ہے۔ ہمارے بھائی لوگ نے یہ سب دیکھ لیا تو ٹوئٹر بند کرا دیں گے اس لیے ہم ڈر کے مارے اگلے ہی دن وہاں سے بھاگ نکلے۔۔( معافی گلابی نمک بھائی)

    خیر پھر کچھ دن ایسے چلے۔۔ کچھ ٹویٹ کیے۔۔ کیونکہ لکھنے کا کیڑا تو ہم میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ سو اپنی تئیں اچھا لکھنے کی کوشش کی۔۔ آہستہ آہستہ خود پر تھوڑا اعتماد ہونا شروع ہوا۔ اور پھر ایک ٹیم آئی کے وارئیرز کے ایک ایڈمن کی طرف سے دعوت نامہ ملا جو ہم نے تھوڑی شد و مد کے بعد قبول کر لیا۔۔ ساتھ میں وعدہ لیا ایڈمن سے کے ہم گروپ میں کوئی بات نہیں کریں گے صرف ٹرینڈز میں حصہ لیں گے۔ ایڈمن صاحب تو خوش ہو گئے ک ٹرینڈز کرنا ہی تو مقصد ہے۔ وہ ایک بہت اچھا دور تھا، ٹوئٹر صاف ستھرا تھا، لڑکے لڑکے ہی ہوتے تھے( مطلب لڑکیوں کے اکاؤنٹس سے نہیں آتے تھے) لڑکیاں کم تھیں لیکن ماحول بہت اچھا تھا۔ پہلے ہی ٹرینڈ میں ہم نے تو اپنی دھاک بٹھا دی۔۔ خود ہی سارے ٹوئٹس لکھے کیونکہ کاپی پیسٹ کا اس وقت پتہ ہی نہیں تھا۔ بہت تعریفیں ہوئیں ۔ اسکے بعد ایک مشن شروع ہو گیا۔۔ کچھ سمجھ آنے لگا کے کس سمت میں اور کِس طرح سے مثبت انداز میں ٹوئٹر کا استعمال کرنا ہے۔۔ فالوورز کا کوئی جنون نہیں تھا۔ کوئی کرتا ہے تو کرے نہیں تو پرواہ نہیں۔ بہت سے ٹرینڈز کیے۔ ہر ہفتے تین چار ٹرینڈز ہوتے تھے اور ہم ہوتے تھے اور ٹویٹس اور ریٹویٹس کی قطار لگ جاتی تھی۔ ایک دن میں چار چار لمٹس لگواتے اور بڑے خوش ہوتے تھے۔ اور اگلے دن رزلٹ کا انتظار کے کونسے نمبر پر آئے ہم۔ کیونکہ بچپن سے جنون نمبر ایک پر آنے کا بھی تھا۔۔ پھر ٹیم والوں کا دباؤ شروع ہوا کہ اب ایڈمن بنیں اور ہم کوئی ذمےداری لینا نہی چاہتے تھے اس لیے انکار پر انکار ۔۔ پر شاباش ہے ٹیم مینیجمنٹ کو بھی ، پیچھا نہی چھوڑا اُنہوں نے بھی اور آخر کار پہلے نائب ایڈمن اور پھر ایڈمن بنا ڈالا۔۔ پھر سینئر ایڈمن بن کر مینیجمنٹ کا حصہ بنے، اپنے سینئرز سے بہت کچھ سیکھا۔ ٹرینڈ کیسے بنتے ہیں ایچ ٹی کیسے بنتا ہے، ٹاپک کیسے چنا جاتا ہے، یہ سب ایک دلچسپ تجربہ رہا۔۔ کچھ اور ٹیموں میں بھی شمولیت اختیار کی لیکن اپنی پہلی ٹیم کے ساتھ وفادار رہے کیون وفاداری بھی ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ سال سے زیادہ ہو گیا تھا اسی اثناء میں ہمیں ٹوئٹر پر۔۔ عمران خان الیکشن جیت کر وزیر اعظم بن چکے ہوئے تھے۔ اور ہم انکے ساتھ ایک نئے پاکستان کی تکمیل کے لیے کوشاں رہے۔۔ ساتھ ساتھ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے لیے بیشمار ٹرینڈز کیے ۔۔ بیشمار اکاؤنٹس شہید کروائے اور کبھی غم بھی نہی کیا انکا۔ کیونکہ مقصد اکائونٹ نہیں تھا۔ مقصد پاکستان، اپنی افواج، کشمیر اور پاکستان کے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرنا تھا۔

    پھر افسوس کے ہماری ٹیم مینجمنٹ میں پھوٹ پڑ گئی اور ہماری ٹیم ٹوٹ گئی جسکا آج بھی افسوس ہے۔ اور پھر ہم نے اپنی ایک ٹیم کا آغاز کیا اپنے چند بہترین دوستوں کی مدد سے۔ الحمدللہ آج سال سے اُوپر ہو گیا وہ ٹیم چلا رہے ہیں۔ مقصد وہی ہے جو پہلے دن تھا۔ اس سفر میں بہت سے اچھے دوست ملے۔ بہت سے بچھڑ بھی گئے جن کی یاد آج بھی دل سے جاتی نہیں ہے۔ بہت سے سبق ملے۔۔ بہت کچھ سیکھا لوگوں کے رویوں سے متعلق۔۔ آج ٹوئٹر ویسا نہی ہے جیسا آج سے دو تین سال پہلے تھا لیکن اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے اور یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کے جہاں بہت سے لوگ صرف دوسرے لوگوں کو استعمال کرنے کے لیے ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں وہاں بیشمار لوگ صرف اور صرف اپنے وطن، پاکستان کی بھلائی کے لیے اپنا دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ایسے سب لوگ میرے دل کے بےحد قریب رہتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو نیک کام کرنے کی ہدایت اور توفیق عطا فرمائیں۔۔آمین ثم آمین
    نوٹ: کسی اگلے آرٹیکل میں کچھ مزے دار قصے بھی بیان کرنے کی کوشش کروں گی جو کے بیشمار ہیں۔

    @NiniYmz

  • ایک ملک ایک قوم ایک نصاب  تحریر زوہیب خٹک

    ایک ملک ایک قوم ایک نصاب تحریر زوہیب خٹک

    ایک ملک ایک قوم ایک نصاب

    حکومت وقت نے جب سے یکساں تعلیمی نصاب متعارف کروایا ہے تب سے کئی حلقوں میں اس عمل کو سراہا جارہا ہے کہ غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی تعلیم حاصل کرے گا اور مستقبل میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں سب شہریوں کو مساوی حقوق مل سکیں گے۔ یعنی امیر غریب کی تفریق ختم ہو جائے گی۔ لیکن جہاں لوگ اس نصاب کو مثبت نظر سے دیکھ رہے ہیں وہیں ہمیشہ کی طرح لبرل طبقے کو اس نصاب میں بھی کیڑے نکالنے کا موقع مل گیا۔ اور اس طبقے کا من پسند منجن عورت کے حقوق عورت کی آزادی کے نام پر واویلا شروع کر دیا بی بی سی کو مضمون لکھ ڈالے کہ پاکستان میں عورتوں کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں اور وجہ بھی ایسی مزحکہ خیز پیش کی گئی کہ کوئی بھی با شعور انسان کا سر چکرا جائے کہ آخر کوئی اس قدر پسند ذہنیت کیسے رکھ سکتا ہے۔ پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب پر شائع کی گئی ایک تصویر ہے جس میں ماں اور بیٹی کالین پر بیٹھے ہیں جبکہ باپ اور بیٹا صوفے پر اس ایک تصویر کو بنیاد بنا کر پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ یہ نصاب اور یہ حکومت عورتوں کے حقوق کے خلاف ہے یہ خدا نخواستہ عورت کو مرد سے کمتر سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس دیگر کئی درسی کتب میں خواتین یعنی ماں بیٹی کو صوفے پر بیٹھا دیکھا جاسکتا ہے اور بیٹا یا شوہر کالین پر بیٹھے ہیں جیسے عام طور پر ہمارے گھروں میں ہوتا ہے۔ لیکن وہ تمام تصاویر اس لبرل طبقے کو نظر نہیں آئیں۔

    جیسے اس لبرل طبقے کو عید قربان پر جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں پھر چاہے سارا سال خود کے ایف سی مکڈولنڈ نوش فرماتے رہیں لیکن غریب کو مفت میں گوشت کھانے کو ملے تو جانوروں کا دکھ درد جاگ اٹھتا ہے تاکہ عام مسلمانوں کو دینی فریضے سے بدظن کیا جاسکے۔ ایسے ہی یکساں تعلیمی نصاب میں بھی انہیں عورتوں کے حقوق کا کوئی دکھ درد نہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ غریب کے بچے کی کیا مجال جو ہمارے بچوں کے مقابلے پر آسکے۔ اس ملک کی اشرافیہ بننا تو صرف ہمارا حق ہے ہم اس ملک کے مالک کرتا دھرتا ہیں غریب کا بچہ تو ہمارا نوکر ہی بنے گا وہ کیونکر افسر بنے۔

    ساتھ ہی انہیں حکومت کے اس اقدام پر بھی شدید دکھ اور صدمہ پہنچا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مرد و خواتین اساتذہ کے جینز پتلون پہننے پر کیوں پابندی لگا دی ہے۔ حالانکہ مُہزب لباس کے متعلق قوانین تو مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں میں بھی لاگو ہے جن کا دین اسلام سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن بنیادی اخلاقیات کو تو وہ بھی مانتے ہیں اور اپنے اساتذہ کو طالب علموں کے لیے رول ماڈل کے طور پر دکھانا چاہتے ہیں اساتذہ کا لباس چال ڈھال اٹھنا بیٹھنا انداز گفتگو ہر چیز بچوں پر اثر ڈالتی ہے اس لیے وہ مغربی معاشرے بھی اپنے اساتذہ کو بنیادی اخلاقیات پر عمل کرنے کے لیے پابند کرتے ہیں۔ لیکن یہاں بدقسمتی سے اس لبرل طبقے کو کوئی عقل و شعور کی بات سمجھنا اونٹ کو رکشے میں بٹھانے کے مترادف ہے کیونکہ یہ دین بیزار طبقہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔ میرا مطالبہ ہے کہ حکومتِ وقت ان مٹھی بھر ننگ دھڑنگ شدت پسند عناصر کے آگے ڈٹ جائے اور ہمارے معاشرے کے معمار نئی نسل اور اساتزہ کی بھلائی کے لیے اپنے اس بہترین فیصلے سے ہرگز پیچھے نا ہٹے۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

    کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

    پورے پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے سندھ میں بھی کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے لئے گہما گہمی دیکھنے میں آرہی ہے ہر جماعت جلسے جلوسوں اور انتخابی مہم کے ذریعے عوام کو اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو اس وقت بھی حکومت اور وزارتوں کے باوجود سندھ کے کسی بھی ایک ضلع کو مثالی ضلع بتانے کی پوزیشن میں نہیں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال پورے ہوچکے اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کا صوبوں پر صرف ٹیکس لینے کی اور وفاقی ماتحت اداروں کے زریعے اپنی کارکردگی دکھانے کا کام رہ گیا ہے مگر وہ کام بھی وفاقی حکومت سے عوام کو کوئی ریلیف دلانے سے قاصر ہے کیونکہ وفاق کے زیرِ انتظام بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے عوام کا جس طرح جوس نکالا ہے وہ کوئی بھی پاکستانی اپکو بخوبی بتا سکتا ہے چینی سے لیکر ایل پی جی تک اور ڈالر سے لیکر ڈالڈا تک ہر چیز وفاقی حکومت کو منہ چڑھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر وفاقی حکومت کا کہنا ہے آپ کو گھبرانا نہیں ہے 

    وفاق کی ناکامیوں کو دیکھنے کے بعد صوبہ سندھ کی جانب رخ کرتے ہیں جہاں پچھلے 13 سالوں سے پیپلز پارٹی کی بلا شرکت غیر لگاتار حکومت جاری ہے بلکہ یوں کہیے کہ سندھ کی عوام پر 13 سالوں سے وہ بھٹو حکومت کررہا ہے جو کبھی دکھائی ہی نہیں دیتا لیکن پھر بھی عوام مر گئی لیکن بھٹو آج بھی ذندہ ہے پیپلز پارٹی نے 13 سالوں میں سندھ کی وہ حالت کردی ہے کہ روشنیوں کا شہر کراچی اب موئنجودڑو کا منظر پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے جیسے لوگ جب پاکستان کو ٹیکس کی مد میں 65 پرسنٹ ریونیو دینے والے صوبے پر حکمرانی کریں گے تو بس پھر ملک اور قوم کا اللہ ہی مالک ہے

    ویسے ایک نہایت ہی قابل انسان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت آٹو پر چل رہا ہے 

    میرے آرٹیکل کا مین مدا بھی یہی ہے کہ میرا پیارا ملک بیقدروں اور نااہلوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود بھی اللہ کے فضل سے چل رہا ہے جس میں پورے پاکستان کی ہر جماعت حکمرانی اور اپوزیشن دونوں ہی مزے لوٹ رہی ہیں سوائے ایک جماعت کے جس کا ذکر بعد میں کرونگا فلحال سندھ کی حکمران جماعتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو پیپلز پارٹی تو سب کو معلوم ہے کہ ووٹ تو نکل آتا ہے ہے پولنگ بوتھ سے مگر بھٹو کسی کو نظر نہیں آتا 13 سالوں سے اقتدار میں ہے وفاق میں اپوزیشن میں بھی ہے تحریک انصاف وفاق میں حکمران اور سندھ میں اپوزیشن جماعتوں میں شامل ہے جب کہ انکے بیشتر وفاقی وزیر اور ملک صدر پاکستان کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ کا عہدہ آج بھی ان کے پاس ہے لیکن وہ بھی گیارہ گیارہ سو کے ناجانے کتنے ٹیکے اپنے جلسوں میں کراچی والوں کو لگا کر جاچکے مگر وہ تو نا آئے عوام کو کورونا کا ٹیکہ لگ گیا 

    تیسری اور سب سے زیادہ اقتدار میں رہنے والی جماعت جو ہر حکومت میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں کا حصہ رہی لوکل الیکشن کے پچھلے بیس سالہ دور میں سے 15 سال انکا مئیر منتخب کروا کر دینے والے کراچی کے شہری ایک سید مصطفیٰ کمال کے دور کے علاؤہ کسی بھی وزیر میئر اور گورنر سے آج تک کوئی فوائد حاصل نہیں کرسکے سوائے انکی جائیدادوں اور بینک بیلنس میں اضافے کے علاؤہ لیکن حد تو یہ ہے کہ سندھ کے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں آج بھی یہ جماعت عوام کو ووٹ کے بدلے اچھے کل کی تصویر دکھا کر ووٹ مانگ رہے ہیں جو پچھلے چالیس سالوں سے ووٹ لیتے آرہے ہیں اور صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے 

    اب آتے ہیں پاک سر زمین پارٹی کی جانب جو اس بار پہلی مرتبہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اس کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال اپنے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی الیکشن مہم بہت زور ؤ شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی جانب سے تمام جماعتوں کی کارکردگی دیکھنے کے بعد اب مصطفیٰ کمال کو آزمانے کے علاؤہ کوئی آپشن موجود نہیں پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین کی جس بات پر عوام سب سے زیادہ متوجہ وہ یہ نعرہ ہے کے میرے نمائندوں کو ووٹ دیکر آپ اپنے گھروں میں سونا میں اور میرے نمائندے راتوں کو جاگ کر تمہارے صبح کو بہتر بناتے ہوئے نظر آئینگے 

    12 ستمبر کو کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں سندھ سے کونسی جماعت کامیاب ہو گی اس کا تو کسی کو علم نہیں مگر عوام کو اپنے ووٹ کا لازمی اور اچھے نمائندوں کو منتخب کرنے کا عمل ہی انکو انکی حالت میں بہتری لانے کا سبب بن سکتا ہے تو عوام کو چاہیے کہ اچھے اور کام والے نمائندوں کو منتخب کروا کر اپنا اور اپنے علاقوں کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے ووٹ ضرور دیں اور اچھے کو دیں 

  • میچ میں کتے کی انٹری، دلچسپ ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل

    میچ میں کتے کی انٹری، دلچسپ ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل

    آئر لینڈ میں خواتین کے کرکٹ میچ اس وقت دلچسپ موڑ اختیار کر گیا جب میچ میں کے دوران کتے کی انٹری ہوئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

     

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق آئر لینڈ میں جاری خواتین کے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران کتا اچانک میدان میں آ گیا اور گیند منہ میں دبا کر بھاگ نکلا۔

    آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی،ٹی 20 ورلڈ کپ بارے بھی بڑا دعویٰ

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خواتین کھلاڑی نے جیسے ہی شارٹ مارا اور وہ رن لینے کے لیے دوڑی تو اچانک ایک کتا میدان میں داخل ہوا اور فیلڈر کے پہنچنے سے قبل ہی کتے نے گیند کو اپنے منہ سے پکڑ کر دوڑ لگا دی۔

    شائقین کرکٹ کیلئے انتظارختم، اٹھارہ برس بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد

    کھلاڑیوں نے کتے کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کتے نے دوڑ لگا دی اور ہاتھ نہ آیا تاہم بعد ازاں کتا بالنگ اینڈ پر پہنچ گیا اور کھلاڑی کو گیند تھما دی کتے کی اس انٹری اور حرکت سے میچ شائقین خوب محفوظ ہوئے-

    پی سی بی نے کرک ایچ کیو اور کرک وز سے تین سالہ معاہدہ کرلیا

    کتے کی وجہ سے میچ کو تھوڑی دیر کے لیے روکا گیا اور اسے نکالنے کے بعد کرکٹ میچ دوبارہ شروع کیا گیا، کتے کی دلچسپ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے اور اسے ابھی تک ہزاروں صارفین دیکھ چُکے ہیں-

    قومی کرکٹ ٹیم کا ایک اور کھلاڑی کرونا کا شکار

    پاکستان کپ ویمنز ون ڈے ٹورنامنٹ جمعرات سے شروع ہوگا

  • لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان – محمد نعیم شہزاد

    لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان – محمد نعیم شہزاد

    لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان
    محمد نعیم شہزاد

    12 ستمبر 2021 کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کا دن ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے انتخابی مہم زوروں سے جاری ہے۔ انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد عوامی خدمت کے دعویداروں نے اپنی انتخابی مہم سے عوام کو خوب پریشان کی رکھا۔ گزشتہ دو دن لاہور میں بارش بھی ہوئی اور اس بارش کے دوران پانی سے بری گلیوں میں محلے کی دکانیں اور راستے بند کروا کر عوامی خدمت کے خوب وعدے کیے گئے ۔ اس بار کے انتخابات میں ہونے والے چند اہم مشاہدات قارئین کی نظر کرتا ہوں۔

    لاہور میں خصوصاً کینٹ کے علاقے میں زیر زمین پانی پینے کے قابل نہیں ہے جس کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ نے ہر ٹیوب ویل کے ساتھ واٹر فلٹریشن پلانٹ لگا رکھا ہے۔ فلٹریشن پلانٹ کے کارٹریج ہر تین مہینے بعد تبدیل ہونا ہوتے ہیں اور اس کی تاریخ کا باقاعدہ چارٹ فلٹریشن پلانٹس پر آویزاں کیا جاتا ہے۔ الیکشن سے پہلے تقریباً دو ماہ کا عرصہ کارٹریج کی تبدیلی کے بغیر گزرا ہے اور کسی عوامی نمائندے نے اس بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں دی کیونکہ وہ تو ان پلانٹس کا پانی استعمال نہیں کرتے یہ تو علاقے کے غریب مکینوں کے لیے ہے۔ ورنہ جگہ جگہ فلٹریشن پلانٹس قیمتاً پانی بیچ رہے ہیں۔

    دوسرا ایک اہم مشاہدہ ہوا وہ نون لیگ کے حوالے سے تھا۔ گزشتہ قومی انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی اس جماعت نے نعرہ تبدیل کر لیا اور ووٹ کی عزت کی بجائے کام پر ووٹ مانگنا شروع کر دیا۔ اب ان کا نعرہ ہے کام کو ووٹ دو۔ گویا ووٹ کی عزت یہی ہے کہ ووٹ کام کو دیا جائے تو کام تو حقیقت میں کوئی بھی نہیں کرتا تو کیا ووٹ کو ضائع کر دیا جائے؟ جواب سوچ کر دیجیے گا۔

    پاکستان تحریک انصاف کی بات کریں تو کمال حیرت کی بات ہے کہ مرکز اور ایک صوبے کے علاوہ باقی صوبوں میں حکومت کرکے تبدیلی نہ لا سکنے والی جماعت اب بھی تبدیلی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم نے گزشتہ دو برس کی حکومت کی تعلیمی سرگرمیوں کو سراہا ہے جبکہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں تعلیمی ادارے بہت کم عرصہ کھلے رہے اور طلباء خوش جبکہ والدین، اساتذہ اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان پریشان رہے۔

    امیدواروں کی ایک بڑی تعداد آزاد حیثیت سے بھی الیکشن لڑ رہی ہے۔ لاہور کینٹ کی وارڈ نمبر 6 میں ایک آزاد امیدوار ایسے ہیں جو گزشتہ الیکشن پی ٹی آئی کی طرف سے لڑتے رہے ہیں مگر اس بار وہ پارٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ شب ان کے مرکزی دفتر کے سامنے ان کا انتخابی جلسہ تھا جس میں ایک مضحکہ خیز واقعہ پیش آیا۔ پنڈال سپورٹرز سے بھرا ہوا تھا اسٹیج پر معززین علاقہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ پرجوش خطابات ہو رہے تھے۔ جب اسٹیج سے امیدوار کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگوائے جا رہے تھے عین اسی وقت نامعلوم کہاں سے ایک گدھا پنڈال میں داخل ہو گیا۔ اور عوام میں کی بھیڑ میں گھستا چلا گیا۔

    گلیاں پانی سے بھری ہیں ۔ بعض سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ علاقے کے ٹیوب ویل اکثر خراب رہتے ہیں اور بیشمار عوامی مسائل کا ڈھیر ہے مگر الیکشن تو ہو گا۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا کام کو عزت ملتی ہے یا عوام اب بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ جو بھی ہو فیصلہ رات تک ہو جائے گا۔

  • سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    کے۔پی۔کے ” کے ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی کاغان اپنے حسین و دلکش مناظر،پرلطف آب وہوا،ہرے بھرے فلک بوس پہاڑوں اور اپنی جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔161کلومیٹر طویل وادی کاغان کا آغاز بالاکوٹ سے ہوتا ہے۔شہداء کی سرزمین بالاکوٹ مانسہرہ سے 30کلومیٹر اور سطح سمندر سے 3250 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔وادی کاغان کا دروازہ کہلایا جانے والا یہ شہر تعلیمی،ثقافتی اور ایک تجارتی مرکز بھی ہے۔اس شہر کی سیاحتی اہمیت کچھ زیادہ نہیں ۔سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کا مدفن ہونے کی وجہ سے اسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔اور وادی کا اختتام سطح سمندر سے 13690فٹ بلند درہ بابوسر پر ھوتا ہے۔اس حسین وادی کے بارے میں کوثر نیازی لکھتے ہیں:
    باٹا کنڈی کی بھلدران کی، شگران کی یاد
    دل شاعر میں ہے خوابوں کے پرستان کی یاد
    یہ پگھلتی ہوئی چاندی سا چمکتا پانی!
    دل سے جائے گی نہ اب وادی کاغان کی یاد
    مصحف روئے دل آرا کی تلاوت جیسے
    کتنی رنگین ودل افراز ہے ناران کی یاد
    اس خواہش میں چلا آیا ہوں بابوسر پر
    اس کی چوٹی سے مجھے آئے گی فاران کی یاد
    کاش اس مست خنک چھاوں میں تم بھی ہوتے
    دل میں ابتک ہے اک حسرت وارمان کی یاد
    عشق جس رنگ میں ہو زندہ وپائندہ ہے
    دل ہر سنگ میں ہے سیف کے رومان کی یاد
    جبر کرکے مجھے لے آئے یہاں کوثر
    دل سی جائے گی نہ احباب کے احسان کی یاد

    یہ کوئی ستمبر کی آخری رات ہوگی۔جب ہم 9بجے کے قریب وادی کاغان کےلیے روانہ ہوئے۔گاڑی میں بیٹھتے ہی ہلاگلا شروع ہوگیا۔کبھی نعرے بازی سننے کو ملتی تو کبھی گانے۔۔۔۔۔
    مانسہرہ پہنچتے ہی سرد اور خنک ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ایک ہوٹل سے چائے پی اور پھر سفر شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاغان کا پہاڑی راستہ جتنا ہم نے خوفناک سنا تھا ۔اس سے کہیں زیادہ نکلا۔اس سمے ہمیں وہ وقت یاد آیا جب ہم ماں کے شیر ہوتے تھے مگر دن کے وقت بھی گاوں کے پہاڑوں سے بکریوں کو واپس لانے کےلیے جانے سے ڈرتے تھے۔ان پہاڑوں پر ہمیں “ماں”یاد آتی تھی۔اور ان پہاڑوں پر “خدا”یاد آیا۔
    تقریبا صبح سات بجے کے قریب ہم وادی کاغان میں داخل ہوچکے تھے۔ایک دوست ہمیں “silent”بھائی کہتا ھے۔مگر جتنی خاموش وادی کاغان ہے اتنے ہم بھی نہیں۔
    بقول مستنصر حسین تارڑ:
    “وادی کاغان کے لوگ کچی کوٹھروں سے بھیڑ بکریوں کو بےدخل کر کے اور ان میں سیاحوں کو داخل کر کے ایک شب میں ہزاروں روپے کماتے ہیں۔اس کے باوجود بہت سے لوگ رہائش نہ ملنے پر بالاکوٹ میں جاکر سر چھپاتے ہیں۔”
    مگر اب کاغان میں ہوٹلوں اور خچروں کی تعداد مساوی ہونے والی ہے۔دو گھنٹے آرام کے بعد ہم جھیل سیف الملوک کی طرف روانہ ہوئے۔”جھیل سیف الملوک “کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ یہ جھیل بھی “کلرکہار جھیل” کی طرح مختلف چیزوں مثلا بسکٹ، ٹافیوں اور چپس کے خالی رپیروں سے سجی ہوگی۔مگر افسوس!جھیل پر پہنچ کر ہمارا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ہماری پہلی نظر جن چیزوں پر پڑی وہ بدوضع کھوکھے،خیمے نما عارضی کمرےاور اپنی قمیض سے ناک صاف کرتا بچہ تھا۔اور دوسری نظر میں ہم نے ایک دل کش اور حیرت انگیز چیز سفید لباس میں دیکھی۔آپ کے خیال میں کوئی پری ہوگی مگر پری نہیں تھی۔ایک پہاڑ تھا۔جس نے برف کا سفید لباس اوڑھ رکھا تھا۔ہاں!ہمیں جھیل سیف الملوک پر “پریاں “بھی دیکھائی دی مگر وہ نورانی پریاں نہ تھیں۔
    چند گھنٹوں کے آرام کے بعد ہم ناران کا بازار دیکھنے دوڑ پڑے۔رات کے دس بجے بھی سڑک کی دونوں جانب انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہجوم تھا۔حلوائی کی دکان پر رنگ برنگی مٹھائیاں تھالوں میں سجی ہوئی تھیں۔حلوائی کی دکان کے بالکل سامنے تیکھے نقوش والا لڑکا “کافی”بیچ رہا تھا۔ رات کو بھی دن کا سماں تھا۔نوجوان جوڑے”من تو شدی ،تو من شدی” کی مجسم صورت بنے آ اور جا رہے تھے۔کچھ تو ایسے بھی تھےجو کبھی نوجوان جوڑوں کو دیکھتے تو کبھی ادھر ادھر کی دکانوں کو۔ہم بھی انھی میں شمار تھے۔یعنی۔۔۔۔۔۔۔ٹائم دیکھا تو 12بج چکے تھے۔مگر اس ماحول سے نکلنے کو جی ہی نہیں چارہا تھا۔سوچا جاکر سونے کا کیا فائدہ ناجانے پھر کب ملے گا یہ سماں۔حالی نے بھی شاید میرے لیے کہا تھا۔
    “کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا”
    تھوڑا آگے سیخوں پر کباب بنائے جا رہے تھے۔ایک ہوٹل میں رش اتنا تھا کہ جیسا مفت کھانا مل رہا ہو۔سو ہم بھی گھس گئے۔جب بل آیا تو مفت کھانے والوں کو یوں لگا کہ جیسے پڑوسیوں کا بل بھی ہم بھر رہے ہیں۔کچھ دیر بعد اچانک بازار کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی اور ہم بھی لوٹ آئے۔
    اگلے روز ناشتے کے بعد ہم”بابو سر ٹاپ”کی دید کو نکل پڑے۔ شاہراہ کو چوڑا کرنے کےلیے جگہ جگہ بل ڈوزر پہاڑوں سے ماتھا لگائے دیکھائی دیے۔ کھڑکی سے گردن باہر نکالی تو تیکھے نقوش والی لڑکی تیز تیز قدموں سے چلتی دیکھائی دی۔تھوڑا آگے میری ہی عمر کا ایک جوان بھیڑ بکریاں چراتے دیکھائی دیا۔راستے میں جھیل”لولوسر”کی دید بھی نصیب ہوئی۔جسے وادی کی شہہ رگ یعنی “دریائے کنہار” کا ماخذ بھی کہا جاتا ہے۔وادی کا حرف آخر کہلایا جانے والا درہ بابو سر ناران سے 81کلومیٹر اور سطح سمندر سے 13690فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ایک دفعہ گاوں میں ابا جان نے بتایا”بیٹا اونچی جگہ پر سگنلز اچھے آتے ہیں”مگر بابو سر کی( 13680فٹ )کی اونچائی پر ایسا نہیں تھا۔”سورج کے قریب تھے،پھر بھی سردی زیادہ”۔چائے پینے کےلیے لکڑی کے پرانے تختوں سے بنے اک اعلی ہوٹل میں گئے۔چھوٹے سے کپ میں پانچ گھونٹ چائے۔اور قیمت پچاس روپے ادا کرنا پڑی۔یعنی فی گھونٹ 10روپے۔بابوسر کی ٹاپ پر پہنچتے ہی ہمیں “اعزارائیل”کا خیال آیا اور ہم نیچے کی طرف بھاگے۔ناران واپس پہنچ کر ہم نے آرام کی خاطر اپنے کمرے میں جانے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔دوستوں کے اصرار پر ہمیں ناران کی گلیوں کی خاک چھاننے کےلیے جانا پڑا۔سوکھے پتوں کی مانند لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے۔ زیادہ تر گھروں کے چار دیواریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔چند گھروں میں تو مغرب سے پہلے بھی روٹی کھاتے افراد دیکھائی دیے۔انھیں دیکھ کر مجھے اپنا آبائی گاوں یاد آیا۔ وہاں ہم بھی کبھی مغرب سے پہلے تو کبھی نماز کے فورا بعد کھانا کھا لیتے تھے۔وہاں کے لوگ بھی ناران کی اس گلی کے لوگوں کی طرح سادہ ہیں۔ تھکاوٹ کے احساس کو قدرے زائل کرنے کےلیے ہم نے چائے پی۔ہوٹل واپس آکر کھانا کھایا۔اور پھر بازار چل دیے۔
    اگلے دن “لالہ زار”کی طرف روانگی ہوئی۔لالہ زار تو واقعی لالہ زار ہے۔ جو مزہ پیدل جانے میں ہے،وہ بھلا چیپ میں جانے والوں کو کہاں نصیب ہوتا ھے۔(خود )گرتے اور (پتھروں کو) گراتے ہوئے بڑی مشکل سے پہنچے۔ہمارا خیال تھا کہ لالہ زار پر پھول ہمارا استقبال کریں گے۔مگر ہمارا استقبال صنوبر کے درختوں اور آلو کے کھیتوں نے کیا۔لیکن تھوڑا آگے چل کے پھولوں نے بھی مسکراتے ہوئے ہمیں استقبالیہ نظروں سے دیکھا۔لوگ گھڑ سواری یا خچر سواری بڑے شوق سے کر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچاہٹ۔۔۔صنوبر کے درخت۔۔۔لالہ وگل۔۔۔لالہ زار کی رونق ہیں۔
    کنہار کی ٹراوٹ مچھلی اپنے خوش ذائقے کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔لیکن اب یہ خوش ذائقہ مخلوق کم ہوتی جارہی ہے۔سنا ہے کہ دریائے کنہار کا پانی انکھوں کے امراض کےلیے انتہائی مفید ہے۔کہا جاتا ہے کہ سفر کے دوران ملکہ نور جہاں کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ملکہ نے اس پانی سے آنکھیں دھوئی تو آرام مل گیا۔ ملکہ نے دریا کو “نین سکھ”کا نام دیا۔ہمیں بھی دریائے کنہار کی دید تو نصیب ہوئی مگر افسوس وقت کی کمی کی وجہ سے ہم کنہار کی الجھی موجوں سے گفتگو نہ کرسکے۔
    وادی میں تین دن رات مسلسل گھوڑے دوڑانے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ “آلو”یہاں کی اہم پیداوار اور “ہندکو”یہاں کی مقامی زبان ہے۔جو حضرات “حج کعبہ”کر چکے ہیں اور “فطرت یا قدرت کا حج”کرنا چاہتے ہیں تو وہ وادی کاغان جا کر یہ سعادت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    @EjazulhaqUsmani

  • یوم وفات حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ  تحریر: احسان الحق

    یوم وفات حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ تحریر: احسان الحق

    حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح وہ بطل جلیل ہیں جن کی فراست، تدبر، سیاست اور وکالت کا برصغیر میں تو کیا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں. آپ یقیناً بیسویں صدی کے عظیم ترین اور بہترین رہنما ہیں جن کی عظمت، فراست، اخلاق اور سیاست کی تعریف کرنے پر پوری دنیا مجبور ہے. آپ نے مسلمانان برصغیر کے خلاف انگریز-ہندو گٹھ جوڑ کا بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا اور دونوں حریفوں کو اپنی فراست اور سیاست کے ذریعے زیر کیا. تقریباً 200 سالہ غلامی میں جکڑی مسلمان قوم کو بدمست اور متعصب ہندوؤں اور انگریزوں سے آزادی دلانا یقیناً بہترین صاحب سیاست اور صاحب فراست شخصیت کا کام ہے. بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح عالم سیاسیات میں ایک انتہائی منفرد اور غیرمعمولی شخصیت ہیں. آپ نہ صرف سیاست، وکالت، شجاعت اور حوصلے میں اعلیٰ ترین تھے بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے بے لوث اور بے غرض ہو کر اجتماعی فلاح کا ایسا کارنامہ سرانجام دینے میں کامیاب ہوئے جس کی دشمنوں سمیت ساری دنیا معترف ہے.

    حضرت قائداعظمؒ ایک بہترین سیاستدان اور مدبر ہونے کے ساتھ ساتھ دور اندیش بھی تھے. برصغیر کے مسلمانوں کے متعلق آپ نے جتنے خدشات کا اظہار کیا وہ سارے خدشات وقت کے ساتھ ساتھ درست ثابت ہوئے. دہلی میں منعقدہ مسلم لیگ کے تیسویں اجلاس میں آپ نے فرمایا تھا.

    "مسلمان گروہوں اور فرقوں کی نہیں بلکہ اسلام اور قوم کی محبت پیدا کریں کیوں کہ انہیں برائیوں نے مسلمانوں کو 200 سال سے کمزور اور محکوم بنا رکھا ہے”. اسی طرح آپ نے کشمیر کے متعلق جو فرمایا تھا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” ہمیں اب احساس ہوا کہ کہ کشمیر کیسے اور کس طرح پاکستان کی شہ رگ ہے. ناجائز اسرائیلی ریاست کے قیام کے خلاف آپ نے جو کچھ فرمایا تھا آج وقت نے ٹھیک اسی طرح ثابت کر دیا ہے. ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق ہندوؤں کی سوچ کا آپ 100 سال پہلے بتا چکے تھے جو آج ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں.

    بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائداعظمؒ بیماری کی حالت میں بھی پاکستان کا سوچ رہے تھے. قائداعظمؒ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ "قائداعظمؒ کے آخری لمحات” میں لکھتے ہیں کہ، 

    قائداعظمؒ کو کریون اے کے سگریٹ پسند تھے اور اکثر یہی سگریٹ نوش فرماتے تھے. ایک دن کریون اے کے سگریٹ ختم ہو گئے اور پورے کویٹہ میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے تھے. لیفٹیننٹ کرنل الٰہی بخش نے کہا کہ میں نے ایک دوکان پر یہ سگریٹ دیکھے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں جا کر یہ سگریٹ لے آتا ہوں. جاتے جاتے کرنل الٰہی بخش کہنے لگے کہ اگر ہم پاکستان میں سگریٹ بنانے کی فیکٹری بنائیں اور اچھی قسم کا تمباکو امریکہ سے منگوا کر اپنے ہی ملک میں سگریٹ بنانا شروع کر دیں تو یہ کتنا اچھا ہوگا. یہ سن کر حضرت محمد علی جناحؒ کی آنکھیں جوش سے لال ہو گئیں اور فرمانے لگے "پاکستان میں دنیا کا سب سے اچھا تمباکو ملتا ہے، تمباکو کے لئے ہم امریکہ کے محتاج نہیں ہو سکتے. ہم اپنے ملک میں بہترین تمباکو پیدا کر کے سیگریٹ بنا کر دوسرے ملکوں کو بھی بیچ سکتے ہیں”

    ایک روز حضرت قائداعظمؒ باتوں باتوں میں فرمانے لگے کہ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے، ایک ایسی حقیقت جس کا دوست، دشمن، اپنے اور پرائے سب اعتراف کرنے پر مجبور ہیں. پاکستان بن چکا ہے. پاکستان کا مستقل درخشندہ ہے. میری روح کو تسکین میسر ہے کیوں کہ برصغیر کے مسلمان اب ہندوؤں یا انگریزوں کے غلام نہیں رہے بلکہ آزاد ریاست کے مالک ہیں. مزید فرماتے ہیں کہ جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری قوم آج ایک آزاد اور خود مختار قوم بن چکی ہے تو فخر سے میرا سر عجز و نیاز کے جذبات سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کو جھک جاتا ہے.

    ان دنوں معالجین کی زیر نگرانی آپ حضرت قائداعظمؒ کوئٹہ زیارت میں تھے. آپ کی طبیعت قدرے سنبھل گئی تھی مگر بعد میں آپکی طبیعت روز بروز مضمحل ہوتی چلی گئی اور کمزوری میں اضافہ ہوتا گیا. 8 یا 9 ستمبر کو قائداعظمؒ نے اپنی طبی ٹیم سے فرمایا کہ مجھے کراچی لے چلو.

    11 ستمبر کو کوئیٹہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے. آپکے ذاتی معالجین، مادر ملت فاطمہ جناح اور کرنل الٰہی بخش ہمراہ تھے. دوران سفر آپ سکون سے رہے. قائداعظمؒ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں کہ

    "ہم 11 ستمبر کو کوئٹہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے. راستہ میں مکمل پرسکون رہے اور ادھر ادھر کی باتیں بھی کرتے رہے. سفر کے دوران کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف محسوس نہیں کی”

    فاطمہ جناح کے کہنے پر کرنل الٰہی بخش، ڈاکٹر مستری اور ڈاکٹر ریاض علی شاہ ہوٹل چلے گئے. ڈاکٹر کہتے ہیں کہ 9 بجے کے قریب فاطمہ جناح کا ہمیں فون آیا اور کہتی ہیں کہ کمزوری میں اضافہ ہو گیا ہے اور طبیعت میں بے قراری بڑھتی جا رہی ہیں، پریشانی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح نے یہ سب فون پر ڈاکٹروں کو بتایا. معالجین اور کرنل الٰہی بخش فوراً گورنمنٹ ہاؤس کراچی پہنچے. حضرت قائداعظمؒ پر بے ہوشی طاری تھی اور کمزوری انتہا کو پہنچ چکی تھی. آپکی نبض میں بگاڑ آ گیا تھا اور آنکھیں پتھرا رہی تھیں. طبی ٹیم نے باہم مشورے سے آپکو کئی ٹیکے لگائے گئے جس سے آپکی طبیعت میں کسی حد تک بہتری پیدا ہوئی. مگر کچھ دیر بعد آپ کا دل ڈوبنے لگا اور آپکی نبض بھی غیرمتوازن طریقے سے چلنے لگی، آنکھیں بند ہونے لگیں اور سانس بھی رک رک کر چلنے لگی. اس بے ہوشی کے عالم میں آپ نے کچھ کہا.

    ساتھ کھڑے معالجین اور قریبی لوگوں کے بقول کہ حضرت قائداعظمؒ کا آخری فقرہ مکمل طور پر ہمیں سمجھ نہیں آیا صرف "اللہ” اور "پاکستان”سمجھ آیا. مطلب آخری لمحات میں آخری الفاظ بھی اللہ اور پاکستان کے متعلق تھے. 11 ستمبر 1948 کو 71 سال کی عمر میں پاکستان اور مسلمانوں کا سوچتے سوچتے 10 بج کر 25 منٹوں پر صدی کے عظیم ترین رہنما، مسلمانان برصغیر کے مسیحا، باکردار، بابائے قوم اور بانی پاکستان ہمیشہ کی نیند سو گئے.

    انا للہ واناالیہ راجعون.

    بانی پاکستان حضرت محمد علی جناحؒ کے انتقال کی خبر پورے کراچی میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی. کراچی سمیت پورا پاکستان حزن و ملال میں ڈوب گیا. تمام رات لاکھوں پاکستانیوں سمیت دنیا کے تمام مسلمان اپنے عظیم رہنما اور مسیحا کی رحلت پر ماتم میں سوگوار اور اشک بار رہے. صبح ہوتے ہی پورا پاکستان ماتم کدہ بن گیا. 12 ستمبر کو عظیم قائد کے عظیم جنازے کو اس کی شایانِ شان کے مطابق فوجی اور ریاستی اعزاز سے اٹھایا گیا. اپنے عظیم قائد کو الوداع کہنے کے لئے لاکھوں لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی. صدی کے عظیم ترین رہنما اور مسیحا کو دفن کر دیا گیا.

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا.

    اللہ تعالیٰ حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائیں اور درجات بلند فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کریں۔ آمین

    ‎@mian_ihsaan

  • تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    آجکل تعلیمی اداروں میں چھوٹے بچوں کو پڑھانے کیلئےاساتذہ کا انتخاب کرتے ہوئے قابلیت سے زیادہ خوبصورتی کو ترجیح دی جا رہی ہے نئی نئی تعلیم سے فارغ ہوئی لڑکیوں کو بناء کسی تدریسی تجربے یا کسی تدریسی تربیت کے کم تنخواہوں پر اسکولوں میں بطور استاد رکھ لیا جاتا ہے جن کی تعلیمی قابلیت میٹرک ، انٹر اور بہت زیادہ ہو تو گریجویشن ہوتی ہے لیکن کوئی پروفیشنل سرٹیفیکٹ یا ڈگری نہیں ہوتی۔
    انہیں اسکول مالکان پیسہ بچانے کیلئے ہائر کرتے ہیں اور ایک ،دو گھنٹوں کی ورک شاپ کروا کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت پڑھانے کے لیئے اچھی طرح ٹیچر کی تربیت کر دی ہے جبکہ ہوتا سب کچھ اسکے برعکس ہی ہے ۔

    ان لڑکیوں کے پڑھانے کے طریقوں میں تو جو غلطیاں ہوں سو ہوں مگر جو ایک چیز سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے وہ ہے پسندیدگی یا جانبداری ۔ ان ٹیچرز کو تمام بچوں میں جو بچہ یا بچی زیادہ پیارے لگتے ہیں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے چاہے وہ گود میں بیٹھا کے کلر کروانا ہو یا اپنے ہاتھ سے لنچ بریک میں کھانا کھلانا ہو ۔ اب اگر یہی رویہ باقی تمام بچوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا تو قابلِ تعریف امر ہوتا مگر المیہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیتی عملہ دراصل معصوم ذہنوں میں تعصب ، جلن اور حسد جیسے جذبات( جن کے نام سے بھی یہ معصوم ذہن ناواقف ہیں ) بھر رہا ہے جب ایک ٹیچر جو کے تمام بچوں کو یکساں تعلیم اور شفقت دینے پرمعمور کی گئی ہے بچوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھے گی تو دوسرے کمسن ذہنوں پہ کتنا منفی اثر پڑے گا باقی بچے اس مخصوص بچے سے گھلنے ملنے سے کترائیں گے ایک طرح سے اس بچے کا کلاس میں سوشل بائیکاٹ ہو جائے گا جس معاملے میں اس بچے کا قصور بھی نہیں ہوگا اسکی سزا باقی بچوں کی طرف سے اسکو دی جائے گی

    دوسرے بچے اپنا احساس محرومی مٹانے کیلئے اسکو احساس کمتری میں مبتلا کر دیں گے اور یہ سب کوئی بھی بچہ جانتے بوجھتے نہیں کرتا لیکن یہ ان سے ہوتا چلا جاتا ہے اور وجہ ہوتی ہیں کم تعلیم یافتہ ، کم تنخواہوں پہ نوکریاں کرتی غیر تربیت یافتہ اساتذہ

    یہ مسئلہ صرف چھوٹی کلاسز تک محدود نہیں رہتا بلکہ جیسے جیسے بچوں کی کلاس بڑھتی جاتی ہے بچوں میں مختلف طرح کے رویے جنم لیتے ہیں کچھ بچے اسی امتیازی سلوک کے بناء پہ خود کو دوسروں سے برتر تصور کرنے لگتے ہیں ، کچھ اساتذہ کی خوشامد کرکے آگے بڑھنے کو ذریعہ بنا لیتے ہیں

    ایک چیز اور جو تعلیمی اداروں میں دیکھی جارہی ہے وہ والدہ یا کسی قریبی رشتہ دار کا اسی ادارے میں ٹیچر ہونا ہے جہاں انکے گھر کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوں پھر وہاں جانبداری کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ہے اساتذہ آپس میں دوستاں کر لیتی ہیں اور پھر اس دوستی کا شکار لائق اور قابل بچے ہوتے ہیں

    ان طور طریقوں سے ہم اچھے ذہنوں کا زیاں کردیتے ہیں وہ بچے جو روشن مستقبل کے ضامن تھے انکی آئندہ کی زندگی اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہے وہ پڑھائی اور اسکول سے بھاگنے لگتے ہیں لعن طعن کی وجہ سے انکا دل تعلیمی اداروں سے اچاٹ ہوجاتا ہے اور اگر غلط لوگوں کے ہاتھ چڑھ جائیں تو پوری طرح برباد ہوجاتے ہیں

    اس کے علاوہ کم عمر اور غیرپیشہ ورانہ ٹیچرز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آگے داخلے کیلئے سال کے بیچ میں اسکول چھوڑ کے چلی جاتی ہیں جن کی وجہ سے معصوم بچے جو ان اساتذہ کے عادی ہوجاتے ہیں ذہنی طور پہ پریشان ہوجاتے ہیں اور انکی تعلیمی کارکردگی پہ یہ تبدیلی بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔

    چھوٹے علاقوں میں یا نچلی سطح پہ کھولے گئے اسکول صرف اپنی طلبہ کی گنتی بڑھانے کی خاطر بگڑے ہوئے ، فیلیئرز اور بڑی عمر کے بچوں کو بھی کبھی سفازش ، کبھی اثر رسوخ اور کبھی لالچ کی بناء پہ باآسانی داخلہ دے دیتے ہیں جنکی وجہ سے کم عمر طلبہ کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ وقت سے پہلے ان معلومات کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں جس سے انکے کمسن ذہن سخت اثرانداز ہوتے ہیں انکا دھیان پڑھائی سے ہٹ کر دوسری سرگرمیوں کی جانب مبذول ہوجاتا ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ عملہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بے تحاشہ کوتاہیاں کرتا نظر آتا ہے ان کا خود کا مشاہدہ کم ہوتا ہے تو بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کے بجائے یہ ٹیچرز ان کو کبھی ڈانٹ کر کبھی غلط جواب دیکر گمراہ کر دیتے ہیں ۔ ان ٹیچرز کو امتحانی پرچہ (کوئسچن پیپر) بھی سیٹ کرنا نہیں آتا اکثر ہی غلط مارکنگ کرتی دیکھائی دیتی ہیں مثلاً دو لائن کے سوال کے نمبر ۴، ۶ نمبر ہونگے اور بڑے سوال یا مضمون کے کم نمبر سیٹ کیئے ہوتے ہیں

    پڑھے لکھے والدین سے یہ اساتذہ ایسے خوف کھاتے ہیں جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو ان سے اگر میٹنگ رکھی جائے تو عموماً آپ کو والدین اساتذہ کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور یہ اساتذہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے بچے کو ہی نالائق ، نااہل،نکما ثابت کرنے کے درپہ نظر آتے ہیں

    ان سب سے ہٹ کر ایک اور مسئلہ جو آجکل درپیش ہے وہ ہے پرائیوٹ ٹیوشن کا۔ پہلے اگر کوئی بچہ پڑھائی میں کمزور ہوتا تھا تو اس کے لیئے ٹیوشن کی سہولت سے استفادہ حاصل کیا جاتا تھا لیکن آج کل ٹیوشن کے معانی ہی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں اساتذہ اپنے ہی اسکول کے ہی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور امتحان سے پہلے ہی امتحانی سوالات بچوں کو رٹّا دیئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی بچے اعلٰی نمبر حاصل کرکے اگلی جماعت میں چلے جاتے ہیں اور جن طالبعلموں نے محنت کرکے تمام سلیبس سے تیاری کی ہوتی ہے انکے نمبر کم آجاتے ہیں ۔

    یہ جانبداری اور اجارہ داری کا سلسلہ دراصل ایک پوری نسل کی ذہنی تباہی کا موجب بنتا جا رہا ہے لیکن اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے انکی جانبداری اور اس ٹیوشن گردی کے نظام کے خاتمے پہ بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
    ہم ملک میں یکساں نظام تعلیم کی بات تو بہت زور و شور سے کرتے ہیں کہ ملک کے تمام طبقوں میں تعلیمی نصاب اور نظام یکساں ہونا چاہئیے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھرتیوں ، انکی اہلیت ، قابلیت اور تربیت کی بھی پوری جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی انہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپنی چاہئے ۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار ہیں اگر وہی بہترین نہیں ہونگے تو وہ ایک شاندار قوم کی تیاری میں کیسے معاون کردار ادا کر سکتے ہیں ؟ سوچیئے گا ضرور!
    Twitter handle : @HaayaSays

  • پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان    تحریر : علی خان

    پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان   تحریر : علی خان

    چوہدری نثار پاکستانی سیاست کا بڑا نام ہے پر اس کے ساتھ یہ وہ پھوپھی ہے جو کسی سے خوش نہیں چاہیے وہ نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو ذرداری یاں عمران خان ۔ 

    ہم دیسی لوگوں میں  کیونکہ رشتوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لیے زندگی کے ہر  سنجیدہ و تفریحی شعبے میں  معروف شخصیات سے مختلف رشتے منسوب کردئیے جاتے ہیں۔ چاچائے کرکٹ۔۔ بابائے قوم۔۔۔ مادر ملت۔۔۔ برادران  ملت۔۔۔ دختر مشرق وغیرہ وغیرہ۔ سیاسی رشتوں میں بہن ،بھائی، بیٹا بیٹی وغیرہ تو ہم سب نے ہی سن رکھے ہیں۔۔۔  سیاسی اتحاد بنتے ہی مختلف نسبی رشتے بھی وجود میں آجاتے ہیں۔۔۔ کچھ سیاستدانوں  میں یہ نام کے رشتے بعد میں باقاعدہ رشتہ داریوں میں بھی تبدیل ہوجاتے ہیں

    روزمرہ زندگی میں بھی والد کے دوستوں کو چاچا  اور والدہ کی دوستوں کو خالہ کہنا عام سی بات ہے لیکن  سگی پھوپھو کے علاوہ کسی کو پھوپھو بنانے کی ریت شاید ہی کسی نے سنی ہو۔ پھوپھی کا رشتہ سب  رشتوں سے منفرد ہوتا ہے۔   سب سے زیادہ خیال بھی پھوپھو رکھتی ہے اور ناراض بھی رہتی ہے۔ ناراض ہوتے ہوئے بھی سب کی خبر رکھنا پھوپھو کا ہی کمال ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پھوپھی کسی رشتے کا نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے تو  غلط نہ ہوگا۔ پھوپھو کے ناراض ہونے کے لیے کوئی خاص وجہ درکار نہیں ہوتی۔ گھر میں کوئی  بھی خوشی ہو سب سے پہلے پھوپھو کو دعوت دی جاتی لیکن پھر بھی  ناراضی کا سامنا ہوتا کہ دعوت دینے آگئے ہم کوئی غیر تھے۔ ہم سے کوئی صلاح ہی لے لیتے۔ اگر صلاح لے لی جائے تو یہ گلہ کہ مشورہ دینے کا کیا فائدہ کرتے تو تم لوگ اپنی ہی مرضی ہو وغیرہ وغیرہ 

    پاکستانی سیاست میں بھی ایک ایسے کردار ہیں جن پر آج کل پھوپھی والی کیفیت طاری ہے۔ ماضی میں ایک ہی جماعت سے طویل تر وابستگی کے باوجود بھی ہر معاملے میں اپنی علیحدہ رائے رکھی اور اپنی بات مانے نہ جانے پر پارٹی قیادت سے نالاں بھی  رہے۔  اپنی علیحدہ رائے کو انقلابی سمجھا یہ اور بات کہ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ڈیڑھ انچ کی مسجد تھی۔ پارٹی کے اندر اور باہر کسی سے ناراض ہوئے تو یوں ہوئے کہ سالوں بات کرنے سے بھی گئے۔ اپنی سنیارٹی کا زعم اتنا کہ پارٹی سربراہ کو جونیئر ہونے کے طعنے دیتے رہے۔ اپنی جماعت سے طویل عرصہ ناراضی پر دوسری جماعت نے شمولیت کی دعوت دی تو گومگو کی کیفیت سے نہ نکلے اور وزارت اعلیٰ کا ممکنہ منصب گنوا بیٹھے۔ الیکشن میں ضد کے باعث قومی اسمبلی کی نشست نہ جیت سکے تو خودساختہ ناراضی سے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا حلف تک نہ لیا اور گھر بیٹھ رہے۔ عرصہ اڑھائی سال بعد اچانک خود ہی سے خیال آیا تو اسمبلی پہنچ کر حلف اٹھا لیا۔ اس بات پر اس بڑھیا کی یاد آئی  بار بار لڑائی کرکہ گھر سے نکل جاتیں  اور سامنے میدان میں بیٹھ کر نخروں سے مانتیں۔ اب روز نکلیں تو بار بار کی لڑائی سے تنگ آئے گھر والے منانے نہ آئے۔ بھوک کی ماری خاتون  کو اور کچھ سمجھ نہ آیا تو چراگاہ سے واپس آئے بچھڑے کی پونچھ پکڑی اور یہ کہتی گھر میں داخل ہوئیں کہ "مینوں چھڈ میں نئیں جانا گھر نوں”۔

      پاکستانی سیاست کی یہ پھوپھو آج کل تحریک انصاف پر بہت نثار ہیں اور تحریک انصاف والے بھی  سینئر سیاست دان  سے پینگیں بڑھنے پر نہال ہیں۔ اللہ کرے یہ پیا ر محبت بڑھتا رہے اور   سب شیر و شکر رہیں لیکن پھوپھی والی کیفیت کچھ بھی کروا سکتی ہے۔  ایسی ہی ایک پھوپھی کو مشکل سے منا کر بھتیجے کی شادی کے لیے لایا گیا۔ پھوپھی صاحبہ کو  کچھ دیر میں پرانی رنجش یاد آئی لیکن لڑائی کا بہانہ نہ سمجھ آیا تو چھت پر جاچڑھیں اور کچھ کھٹر پٹر کی۔ اہل خانہ نے بچوں کا شور سمجھ کر پوچھا ” کون اے چھت تے” موقعے کی منتظر پھوپھی نے نیچے اتر فوری بچے سنبھالے اور شادی چھوڑ روانہ ہوگئیں کہ "ہن اسی کون ہوگئے؟؟؟”

    تحریر ؛ علی خان    

    @hidesidewithak