Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ام_الخبائث تحریر:- آمنہ فاطمہ

    ام_الخبائث تحریر:- آمنہ فاطمہ

     

    لفظ ہی ایسا ہے جس کا نام سنتے ہی ایک منفی احساس پیدا ہوتا ہے دنیا کا کوئی ہی ملک یا مذہب ایسا ہوگا جس نے منشیات کے استعمال پر پابندیاں عائد نہ کی ہوں گی باوجود اس کے دنیا میں لوگوں کی ایک ایسی بڑی تعداد موجود ہے جو اس لعنت کے استعمال کا شکار ہے اور اس میں مرد و زن دونوں شامل ہیں جو بھی منشیات کے استعمال کا عادی ہو جاتا ہے وہ پھر جنونی حد تک اسکی طرف مائل نظر آتا ہے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی اجیرن بنا دیتا ہے 

    ایسے بے بس اور لاچار ماں باپ بہن بھائی اور بچے میں نے  خود دیکھے ہیں جن کا بیٹا بھائی یا باپ نشے کے استعمال کا شکار تھا جس نے اپنی ساری جمع پونجی لٹا دی جس نے خاندان اور معاشرے میں اپنا مقام گرتا دیکھا جس نے اپنے سامنے اپنے بیوی بچوں کی زندگی کو جہنم ہوتے دیکھا اور جس نے معاشرے کی حقارت بھری نظروں اور طعنوں کا بھی سامنا کیا مگر اس سب کے باوجود وہ نشے کی زنجیروں کو توڑ نہ سکا اور موت کے گھاٹ اپنے ہی ہاتھوں اترا میں نے دیکھے ہیں ایسے خاندان اور ایسے بچے جن کا بچپن جن کی جوانی اور حتی کہ بڑھاپا بھی اس ذلت کے طوق کو انکے گلے سے نا اتار پایا کہ یہ تو ایک نشئ کا بیٹا/بیٹی ہے جانے کون سا وہ شخص تھا جس نے اس خباثت کو ایجاد کیا

    دنیا میں آج تک کوئی ملک ایسا قانون یا طریقہ نہیں نکال پایا جس کے نافذ کرنے سے منشیات کا دنیا سے خاتمہ ہو سکے سوائے مذہب اسلام کے اسلام نے شراب کو تمام "جرائم کی ماں” کہا حتی کہ ایک شراب ہی نہیں بلکہ جملہ نشہ آور اشیاء کو ہی حرام قرار دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسکی سزا "حد” مقرر کی 

    جب اسلام نے اس قدر سختی برتی تو پھر کیوں نام نہاد اسلامی ممالک میں بھی اسکی روک تھام نہ ہوسکی کیوں قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات معافیا کے سامنے اسقدر کمزور  اور بے بس دکھائی دیتے ہیں یہ معافیا منشیات کے بنانے سے لیکر اسے بآسانی فروخت کرنے تک آزاد ہیں  ابھی تک اس رؤے زمین پر دو ہی ایسے شہر ہیں جو اس لعنت سے پاک ہیں اور وہ ہیں ‘مکہ مکرمہ’ اور ‘مدینہ منورہ’ جہاں منشیات کی ہوا تک کا گزر نہیں اور یہ مقدس ترین زمینیں اسلام کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں 

    کتنے

    شرم کی بات ہے کہ آج کے اسلامی ممالک میں منشیات ہر مرد و زن بچے بوڑھے کے لیے بآسانی دستیاب ہیں ہر سکول کالج یونیورسٹی میں یہ معافیا نسلیں خراب کرنے کی خاطر پہنچ چکا ہے عوام کے ٹھیکیدار ایک ایک اڈے سے وقف ہیں اور ایک ایک سہولت کار کو جانتے ہیں مگر افسوس قانون کے ہاتھ اور زبانیں دونوں منشیات معافیا نے خرید رکھی ہیں میری ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیے جائیں اور منشیات کا استعمال کرنے والوں کو اسلامی قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں 

  • ‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی  تحریر : سیف الرحمان

    ‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی تحریر : سیف الرحمان

    آج کل الیکٹرانک مشین کو لے سارے ملک میں  کافی بحث مباحثہ شروع ہے۔ اس بحث میں بیک وقت پانچ فریق حصہ لے رہے ہیں۔ سب کے سب اپنی اپنی رائے اور تحزیے دیتے نظر  آ رہے ہیں۔ یہ پانچ فریق مندرجہ ذیل ہیں۔ 

    1-حکومت

    2- اپوزیشن

    3-میڈیا

    4-الیکشن کمیشن

    5-عام عوام

    حکومت وزیر اعظم کے ویثرن نیوٹرل ایمپائر /فری اینڈ فیئر الیکشن کے خواب کی تعبیر کیلئے جہدو جد کرتی نظر آ رہی ہے۔

    اپوزیشن حسب روایت حکومتی کام میں روڑے اٹکاتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ بظاہر دھاندلی سے پاک الیکشن جو کافی سارے لوگوں کیلئے باعث فکر اور پریشانی بن سکتی نظر آتی ہے۔

    میڈیا اس بحث میں دونوں فریقوں کی رائے لیتا نظر آ رہا ہے کچھ دانشوروں کے تجزے بھی الیکشن ریفارمز میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔

    عام عوام الیکشن ریفارمز کیلئے خوش اور جذباتی نظر آر  ہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین آ جائے تو ہم بھی جدید دور میں نا صرف قدم رکھ سکتے ہیں بلکہ دھاندلی جیسی الزام تراشی سے بھی بچت ہو جائے گی۔ 

    الیکشن کمیشن کا کردار الیکٹرانک مشین کو لے کر روز اول سے مشکوک نظر آ رہا ہے۔  سن٢٠١١سے لے کر ٢٠٢١تک الیکشن کمیشن نے الیکشن ریفارمز پر ایک ٹکے کا کام نہیں کیا۔ اب جب حکومت نے الیکٹرانک مشین بنا ہی لی تو سب سے ذیادہ اور سرعام مخالفت بھی الیکشن کمیشن نے ہی کی ہے۔

    اب اصل میچ تین فریقوں کے مابین پڑنے والاہے۔ حکومت, الیکشن کمیشن اور اپوزیشن۔  پہلی باری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونی چاہئے تھی لیکن الیکشن کمیشن نے خود فرنٹ سے لیڈر کرنے اور حکومتی ریفارمز کیخلاف پنجہ آزمائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے  بیک فٹ پر جا کر الیکشن کمیشن کو سپوٹ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ الیکشن کمیشن نے  گزشتہ ہفتہ حکومتی ٹیم سے ملاقات میں الیکٹرانک مشین کو لے کر 37اعتراضات اٹھائے ۔ ان اعتراضات پہ اگر غور کریں تو ایسا لگ رہا ہے  کہ یہ اعتراضات الیکشن کمیشن کی بجائے کسی سیاسی پارٹی کے بندے نے اٹھائے ہیں۔  آئے پہلے آپ کو ایک ایک کر کے اعتراضات بتاتے ہیں۔ 

    الیکشن کمیشن کے اعتراضات:

     وقت بہت کم ہے 

    الیکشن کمیشن نے حکومت کی رائے لیئے بغیر ہی فیصلہ کر دیا جبکہ حکومت کہتی ہے کہ ہم چھ ماہ میں مطلوبہ تعدار میں مشینیں بنا کر دے سکتے ہیں۔ مطلب بنانے والا کہہ رہا کہ بنا دوں گا لیکن الیکشن کمیشن کہتا ہے نہیں رہنے دیں 

      الیکٹرانک ووٹنک مشین پہ راز داری نہیں رہے گی

    حقیقت یہ ہے کہ  جب الیکٹرانک مشین سےرسید باہر نکلتی ہے تو اس پہ  صرف بار کوڈ درج ہوتا ہے۔ اس  میں نہ ووٹر کا نام ہے نہ اس کے خاندان کا نام ہے نہ ہی اس کا ایڈریس اور نہ ہی شناختی کارڈ نمبر درج ہوتا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ ووٹر کی راز داری ظاہر ہوتی ہے غلط بات ہے

    ای وی ایم سے ووٹر کی شناخت گمنام نہیں رہے گی

    جیسے کہ پہلے بتاچکا ہوں کہ ای وی ایم  رسیدپہ صرف ٹائم تاریخ اور بار کوڈ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔  بار کوٹ صرف الیکشن کمیشن ہی ٹریس کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بندہ نہیں کر سکتا۔

    مشین کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا نہیں جا سکتا

    بندہ پوچھے آپ نے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھ کر کیا کرنا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کمپیوٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا ہے؟

    ووٹوں کی جمع تفریق کرتے وقت کلکولیٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کبھی چیک کیا ہے؟

    ای وی ایم کا کم از کم ایک سو پچاس ارب خرچہ آئے گا

    کیا الیکشن کے اخراجات چیف الیکشن کمیشن صاحب کو  اپنی جیب سے ادا کرنے تھے؟

    کیا اس سے پہلے جتنے الیکشن ہوئے وہ فری میں ہوتے آ رہے ہیں؟

      الیکشن کی شفافیت  اور ساکھ مشکوک رہے گی

    اب بندہ پوچھے کہ اس سے پہلے ایسا کون سا الیکشن ہے جو مشکوک نہیں رہا؟

    الیکشن کمیشن اپنی تاریخ کا کوئی ایک عدد الیکشن بتا دے جو مکمل فری اینڈ فیئر کروایا ہوجس پہ کسی نے اعتراض نا کیا ہو۔

      الیکٹرانک مشین کس کی تحویل میں رہے گی

    اس سے پہلے الیکشن بیلٹ کس کی تحویل میں رہتے تھے؟

    ظاہر ہے ای وی ایم بھی الیکشن کمیشن کی تحویل میں ہی رہے گی۔ 

    ویئر ہاؤس اور ٹرانسپوٹیشن میں  مشینوں کے سافٹ ویئر تبدیل کئے جا سکتے ہیں

    یہ منطق سمجھ سے باہر ہے۔ ویئر ہاؤس الیکشن کمیشن کا تحویل بھی الیکشن کمیشن کی پھر تبدیل کون اور کیسے کرے گا۔ مطلب الیکشن کمیشن اتنا نااہل اور نالائق ہے جو الیکٹرانک مشین کی حفاظت تک نہیں کر سکتا۔ 

     بلیک بکس کی شفافیت پر سوال اٹھ سکتا ہے

    یہاں الیکشن کمیشن کو مشین کے رنگ پہ اعتراض ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کالے رنگ کا ڈبہ جس میں مشین پیک ہو گی مشکوک ہے۔ مطلب چیف الیکشن کمیشن صاحب کو کالا رنگ ہی پسند نہیں۔ 

     ہر جگہ مشین کی صلاحیت پہ سوالات اٹھ سکتے ہیں

    یہاں الیکشن کمیشن مشین بغیر بجلی استعمال پہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ حکومت نے گارنٹی دی ہے کہ یہ مشین  بغیر بجلی بیٹری پر ایک لمبے بیک اپ کیساتھ K2 پہ بھی چلے گی اوربحر  الکاہل کے اندر سب سے نچلی سطح پر بھی کام کرے گی۔ لیکن الیکشن کمیشن کی مرضی جب انہوں نے کہہ دیا کہ نہیں چلنی تو سمجھو نہیں چلنی۔

    مشین کی منتقلی اور حفاظت

    سر پہلے جو بندے بیلٹ پیپر کی منتقلی اور حفاظت کرتے تھے یقین مانیں وہی بندے الیکٹرانک مشینوں کی حفاظت بھی کر لیں گے۔ کسی اضافی برگیڈ یا پولیس نفری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

      ای وی ایم سے شفاف الیکشن ممکن نہیں ہے

    اگر دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے بھی شفاف الیکشن ممکن نہیں ہیں تو پھر کیا بندہ الیکشن کمیشن کو تالا لگا دے۔ بہرحال یہ اعتراض بھی سیاسی بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے

    سافٹ ویئر   باآسانی ٹمپر اور بدلہ  جا سکتا ہے

    سیل بند مشین کو کھولنا ہی نا ممکن ہے اگر کھل گئی تو فورا پتا چل جائے گا۔ کیونکہ اس مشین کو کھول کر دوبارہ جوڑنے کی آپشن ہی ختم کر دی گئی۔ اگر کوئی یہ حرکت کرنا بھی چاہے گا تو کھلی مشین سے فورا پتا چل جائے گا

    الیکٹرانک مشین فراڈ نہیں روک سکتی

    الیکشن کمیشن کے اس اعتراض کے بعد ایک عد ہنسی تو بنتی ہے۔ بندہ پوچھے مشین فراڈ کیسے روکے گی۔ فراڈ تو الیکشن کمیشن کے بندوں نے روکنا ہے۔ مشین نے صرف اور صرف شفاف  بیلٹنگ کروانی ہے۔ ایک شناختی کارڈ پہ صرف ایک ووٹ۔  کسی مردے کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا۔ کوئی ڈبل ووٹ نہیں دے پائے گا۔ کوئی ٹھپہ نہیں لگے گا۔ 

      مشین کی آذادی پہ سوال ہوں گے

    مجھے تو مشین کی آذادی پہ سوال سے مراد شاہد مشین  کی بغیر چائے پانی اور بریک کے اپنی ووٹنگ جاری رکھنے کی صلاحیت سمجھ آئی ہے۔ 

      مشین کو ہیک کیا جا سکتا ہے

    کوئی صاحب عقل یہ بتا دے کلکولیٹر کو کیسے ہیک کیا جا سکتا ہے؟

    الیکٹرانک مشین کی تھیوری بھی کلکولیٹر جیسی ہے نا بلیو ٹوتھ , نا انٹر نیٹ نا ہی کوئی بیرونی ڈیوائس اس کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہے ۔

      ای وی ایم کی ایمانداری پہ یقین نہیں کیا جا سکتا

    کوئی بندہ الیکشن کمیشن کو بتائے کہ ای وی ایم  ایک مشین ہے  اور اس کو مشین کی طرح ہی دیکھا جائے۔  

    اتنی ذیادہ مشینوں سے ایک ہی دن میں انتخاب کرانا ممکن نہیں

    اگر مینول کام جلدی جلدی ہوتے ہیں  تو لوگ مشینوں سے کیوں کام لیتے ہیں؟

    جو کام پنسل سے  لکھ کر پانچ منٹ میں ہوتا ہے اگر وہی کام صرف ایک بٹن دبانے سے ہو جائے تو ذیادہ بہتر کون ہے۔ مشین یا مینول طریقہ ؟

      ووٹر کی تعلیم اور ٹیکنالوحی روکاوٹ بننے گی

    یہاں الیکشن کمیشن ساری قوم کو ان پڑھ اور جاہل سمجھ رہا ہے۔ اس وقت تقریبا ہر شخص کے پاس ٹچ موبائل ہے۔ ان موبائلوں میں ایپ دیکھ لیں شاہد اچیف الیکشن کمیشن نے کبھی استعمال نہ کی ہوں جو ان پڑھ لوگ چلارہے ہیں۔

      اسٹیک ہولڈرکا اتفاق نہیں ہے

    الیکشن آپ نے کروانے یا اسٹیک ہولڈرز نے۔ 

    عوام کا اعتماد نہیں

    عوام تو الیکشن کمیشن پہ بھی اعتماد نہیں کرتی۔ پھر کیا کرنا چاہئے؟

    ڈیٹا انٹی گریشن اور ویری فیکیشن

    کوئی چیف الیکشن کمیشنر صاحب کو بتا دے کہ جو رسید مشین سے نکل کر بیلٹ بکس کی ذینت بنتی ہے اس کو آپ ہر طرح سے تصدیق کیلئے پیش کر سکتے ہیں۔ بار کوڈ کے اندر سب کچھ موجود ہوتا ہے۔

      خواتین کے ٹرن آؤٹ کو مشین ذیادہ نہیں کر سکتی

    کیا بیلٹ بکس خواتین کو گھروں سے پکڑ پکڑ کر ووٹ ڈالنے لایا کرتے تھے جو الیکٹرانک مشین سے نہیں ہو پائے گا۔ یہ اعتراض بھی بہت عجیب و غریب ہے۔

      مشین نتائج میں تاخیر کا سبب بننے گی

    صرف ایک بٹن دبانے کی دیر ہے رزلٹ پرنٹ کی شکل میں باہر نکل آئے گا۔ الیکشن کمیشن کا یہ اعتراض بھی کوئی خاص وزن نہیں رکھتا۔

      میڈیا اور سول سوسائٹی کو بداعتمادی ہو سکتی ہے

    مطلب الیکشن کروانے کیلئے میڈیا اور سول سوسائٹی کو راضی رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ایسی سوچ ہے تو کر لئے شفاف الیکشن

       مشینوں کی مرمت الیکشن میں دھاندلی کا باعث بن سکتی ہے

    پہلے الیکشن کمیشن سے کوئی پوچھے کہ سیل بند مشینوں کی مرمت کون کرواتا ہے؟ 

    جب حکومت نے کہہ دیا کہ سیل کھول دی تو مشین ضائع تو مرمت کا تو سوال ہی نہیں بنتا۔ خراب مشین تبدیل ہو گی مرمت نہیں ہو گی

      ریاستی اختیارات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے

    الیکشن کمیشن کو کوئی بتائے الیکشن کے وقت عبوری حکومت ہوگی۔ عبوری حکومت  کا کام الیکشن کرانا ہوتا ہے اس کے علاوہ کوئی خاص اختیارات اس کے پاس نہیں ہوتے

      ووٹ کی خریدو فروخت نہیں رکے گی

    مشین  نے ووٹ خریدنے والوں پہ کیس تو کرنے نہیں لہذا یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے۔ خریدو فروخت بیلٹ کے ہوتے ہوئے بھی ہوتی تھی۔

      مشین میں ووٹ کی کوئی سکریسی نہیں ہے

    صرف بار کوڈ تاریخ اور وقت کے علاوہ رسید پہ کچھ نہیں ہو گا اور کون سی سکریسی چاہئے؟

    الیکشن سے پہلے وقت کی کمی

    سر  ابھی دو سال پڑے ہیں چھ ماہ میں مشینیں بن کر آ جائیں گی آپ بس نیت کریں اﷲ آسانیاں فرمائے گا۔

    یہ تمام اعتراضات پڑھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اعتراضات کسی الیکشن کمیشن کے بندے نے لگائے ہوں گے؟

    یہ سب کے سب اعتراضات سیاسی نوعیت کے نظر آ رہے ہیں۔ اس کے پچھے کون ہے یہ الگ بحث لیکن اس سے الیکشن کمیشن کی اپنی ساکھ کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اس وقت پورے پاکستان میں لوگ الیکشن کمیشن کو  تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی پارٹی بننے کی بجائے یا سیاسی وابستگی کی بجائے قومی ادارہ بن کر سوچنا چاہئے۔ اگر کوئی حکومت الیکشن ریفارمز میں سنجیدہ ہو ہی گئی ہے تو برائے مہربانی آپ بھی تعاون کریں اور قومی ادارے کے طور پر بہتری کی معاونت کریں۔

    قانون تو پارلیمان نے بنانا ہے اور شاہد ای وی ایم کے تحت الیکشن کرانے کا قانون بن بھی جائے تو اس کے بعد الیکشن کمیشن کدھر جائے گا۔ کیونکہ آئین میں واضع لکھا ہے جو قانون پارلیمان بنا کر دیں الیکشن کمیشن نے اسی کے مطابق الیکشن کروانے ہیں۔ بطوو ادارہ الیکشن کمیشن کوئی قانون نہ تو بنا سکتا ہے اور نہ  ہی بنے قانون کی مخالفت کر سکتا ہے۔

    ہماری دعا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے حوالے سے ایسا نظام آئے جس سے ایمانداد اور پڑھے لکھے لوگ ہی اسمبلیوں کا حصہ بنیں۔ ایسا نظام جس میں ٹھپہ راج اور رشوت خوری کے تمام دروازے بند ہو جائیں۔  آمین

    ‎@saif__says

  • قیام پاکستان تحریر ۔محمد نسیم

    قیام پاکستان تحریر ۔محمد نسیم

    جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان حاصل کرنے میں برصغیر کے مسلمانوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں
    درحقیقت برصغیر میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہی ایسا شروع کردیا گیا تھا کہ ان کا جینا مشکل ہوچکا تھا مسلمانوں کو تصب کی نظر سے دیکھا جاتا تھا حتٰی کہ حالات یہاں تک تھے کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انتہا پسند ہندؤں نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا ایک انگریز رپورٹر نے برصغیر کے دورے کے بعد اپنے سفر کے حالات یوں بیان کئیے
    "میں جس گلی سے میں جاؤں وہاں مسلمانوں کا خون نظر آتا تھا جہاں مسلمان نظر آتا اسے ذبح کردیا جاتا ”
    نہ بچوں کو دیکھا گیا تھا بوڑھوں کو نہ خواتین جو بھی مسلمان ہوتا اس کا گلا کاٹا جاتا
    آج بھی یہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ظلم و ستم کیا گیا انگریزوں اور ہندؤں نے مسلمانوں کو ذلیل و رسوا اور تنگ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا
    مسلمان اپنا ایک الگ ملک چاہتے تھے جہاں مذہبی آزادی ہوتی اس مسئلے پر بہت سارے مسلمان لیڈروں نے اپنی خدمات سرانجام دیں مسلمانوں کو تعلیم کی ترغیب دی اس میں سر سید احمد خان پیش پیش رہے
    اس کارنامے میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (شاعر مشرق) کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں نئے وطن کا خواب دکھایا اور اپنی پرتاثیر شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے جذبے بھی خوب بلند کئیے
    اور پھر آگے مرحلہ آیا اس خواب کو تکمیل تک لانے کا اس عظیم کارنامے کو سرانجام دینے کے لئیے الله تعالٰی نے قائداعظم جیسے عظیم لیڈر کو چُنا انہوں نے انتھک محنت،بلند حوصلہ ،بہادری اور پختہ اراده کرنے جیسی اپنی اعلٰی شخصیت اور دور نظری کے ذریعے اس عظیم کارنامے کو سرانجام دیا جب پاکستان بننے والا تھا اور آخری مراحل میں تھا تو قائداعظم محمد علی جناح کو ٹی ۔بی (T.B) نے اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن قائداعظم محمد علی جناح کے حوصلے کو کوئی چیز پست نہ کرسکی قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے ڈاکٹر کو سختی سے منع کردیا کہ وه ان کی بیماری کو راز رکھے تاکہ ان کی بیماری کسی کام پر آڑے نہ آئے
    اس سلسلے میں ان کی بہن فاطمہ جناح نے بھی ان کا خُوب ساتھ دیا ان کے شانہ بشانہ کام کیا گھر گھر جاکر عورتوں کو ترغیب دی آخر وقت آ ہی گیا قائداعظم کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی محنت قربانیاں رنگ لے آئیں اور 14 اگست 1947 کو دُنیا کے نقشے پر کلمے کے نام پر بننے والا ہمارا پیارا پاکستان نمودار ہوا ہر طرف خوشی کی لہر تھی
    لیکن پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم محمد علی جناح کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی اور 11 ستمبر 1948کوقائداعظم محمد علی جناح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
    اس کے بعد جب بیماری کی خبر عام ہوئی تو جس انگریز نمائندے نے،جس کانام لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھا اس نے بیان میں کہا کہ
    "اگر مجھے پتہ ہوتا کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے 1948 میں فوت ہوجانا ہے تومیں تقسیم کے عمل کو مزید طویل کردیتا اور پاکستان کبھی بھی دنیا کے نقشے پر نہ آتا”
    قصہ مختصر پاکستان بنا لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کے وقت قربانیاں دیں اس ظلم کی الگ داستان ہے
    آج پاکستان نے اپنا مقام حاصل کرلیا ہے آج دُنیا کی بڑی بڑی ایٹمی قوتیں پاکستان سے بات کرنے سے پہلےسوچتی ہیں
    اور ان حالات میں جب پاکستان کو سب لیڈر کھوکھلا کررہےتھےاپنے مفادات کی بنا پر ،اللہ تعالٰی نے پاکستان کو عمران خان جیسا عظیم لیڈر عطا کیا جو کہ پاکستان بنانے والوں کی طرح پاکستان کی خوشحالی کے لئیےاپنی ذات کی فکر کئیے بغیر دن رات محنت کررہا ہے اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئیے کوششیں کررہا ہے تاکہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی دنیا میں عزت ہو
    الله تعالٰی پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین
    @Naseem_Khera

  • علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    علاماتِ قیامت تحریر: محمد اسعد لعل

    قرآنِ مجید میں قیامت کی ایک علامت بتائی گئی ہے، وہ علامت یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ ہمارے ہاں یأجوج و مأجوج کے بہت سے قصے مشہور ہو گئے ہیں۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آسمانی مخلوق ہے۔ قرآن نے بہت وضاحت کے ساتھ اس کے بارے میں بتا دیا ہے کہ ” یہاں تک کہ یأجوج و مأجوج کھول دیے جائیں گے، اور وہ ہر گھاٹی سے آپ کو لپکتے ہوئے نظر آئیں گے، جیسے کوئی گروہ پِل پڑتا ہے۔” پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قیامت کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کا ظہور ہو جائے گا۔

    ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ علاماتِ قیامت کو بیان کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آ گئی؟

    انبیاء نے بتا دیا کہ قیامت آئے گی، لیکن اس کے بارے میں کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کب برپا ہو گی۔ قیامت کا وقت کسی نبی نے نہیں بتایا، اور وقت بتانا بھی نہیں چاہیے۔ اگر قیامت کا وقت معین کر دیا جائے تو پھر امتحان ختم ہو جائے گا۔ امتحان کے لیے جس طرح ضروری ہے کہ موت کا وقت نہ بتایا جائے اسی طرح قیامت کا وقت بھی نہیں بتایا گیا۔سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ قیامت کب برپا ہو گی۔

    قیامت درحقیقت موت ہی ہے۔ ایک وہ موت ہے جو انفرادی طور پر انسانوں پر طاری ہو رہی ہے۔ ایک موت وہ ہے جو گویا پوری کی پوری انسانیت پر طاری ہو جانی ہے۔ اسی کو قیامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قیامت کے بارے میں وقت تو نہیں بتایا گیا پر خبر ضرور دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں منادی کی گئی ہے، لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس کی تیاری کرو۔

    اس کی علامت بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔ اس کی بڑی سادہ سی وجہ ہے۔ قیامت کی جب منادی کی جا رہی ہے تو منادی کرنے والے کون ہیں۔۔۔اللہ کے پیغمبر۔ انبیاء کرام جس طرح کسی چیز کے علمی اور عقلی دلائل دیتے ہیں بالکل اسی طریقے سے بعض اوقات حسی دلائل بھی پیش کر دیتے ہیں۔ یعنی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ علمی اور عقلی دلائل سے متنبہ نہیں ہو رہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر متنبہ ہو جائیں۔ بعض انبیاء کو اپنے معجزات بھی دکھانے پڑے۔ وہ معجزات ان کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کے دونوں بڑے معجزے” یدبیضاء” اور "عصا” کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ "یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو دلائل تھے”۔

    معجزہ کیا ہے؟۔۔۔کسی شخص کے ساتھ خدا کی معیت کا ظہور ہی معجزہ ہے۔ ایک لحاظ سے یہ بتایا جاتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ اسی طرح سے انبیاء کرام کچھ پیشین گوئیاں کرتے ہیں، وہ پیشین گوئیاں بھی اصل میں ان کی صداقت کے دلائل ہیں۔ مثال کے طور پر غلبہ روم کی پیشین گوئی کی گئی تھی، جب کِسری (خسرو) نے آپﷺ کا خط پھاڑ دیا تو آپ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا کہ اس نے اپنی سلطنت کے ٹکڑے کر دیے۔ بہت سی پیشین گوئیاں ہیں جو اللہ کے پیغمبر نے کی تھیں، اسی طریقے سے وہ بعد میں آنے والے زمانوں کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ جس وقت ان پیشین گوئیوں کا ظہور ہوتا ہے تو پیغمبر کی عدم موجودگی میں بھی پیغمبر کی طرف توجہ کا ذریعہ بن جاتی ہیں، گویا صداقت کی ایک اور دلیل پیدا ہو جاتی ہے۔

    یہ درحقیقت وہ دلائل ہیں جن کو قرآن مجید نے  آپ ﷺ کی موجودگی میں بیان کیا تھا کہ،”ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے” یہ نشانیاں خود آپﷺ کے سامنے بھی دکھائی گئیں اور جب آپﷺ کی نبوت قیامت تک ہے تو ظاہر ہے یہ نشانیاں قیامت تک نمودار ہوتی رہیں گی۔

    اسی طرح آپﷺ نے قرب قیامت کے بارے میں بھی کچھ نشانیاں بیان کی ہیں اور قرآن مجید نے بھی اس بارے میں بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک نشانی ہی بیان کی گئی ہے، اور وہ نشانی یأجوج و مأجوج کا خروج ہے۔ یأجوج و مأجوج کے بارے میں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ جو اس وقت دنیا ہے  یعنی دنیا کا ایک دور وہ ہے جو حضرت آدمؑ کے بعد شروع ہوا اور اُس کا خاتمہ حضرت نوحؑ پر ہوا۔ اس کے بعد حضرت نوحؑ کا دور شروع ہوا۔ ساڑھے نو سو سال کی غیر معمولی زندگی انہوں نے بسر کی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم پر عذاب کا فیصلہ کیا۔ وہ لوگ جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے ان کے لیے حکم دیا گیا کہ ایک کشتی میں سوار کر لیا جائے۔ تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نجات پائی۔ ان میں سے ان کے تین بیٹے ہیں (حام، سام اور یافث) جن کی اولادیں پروان چڑھیں۔ 

    آپ اگر دیکھیں تو پہلے مرحلے میں حام کی اولاد ہے جو دنیا میں اقتدار تک پہنچی، یہ زیادہ تر افریقہ میں آباد رہے۔ ان کی بڑی بڑی سلطنتیں وہیں وجود میں آئیں۔اس کے بعد سام کی اولاد کو اقتدار حاصل ہونا شروع ہوا، یہ جو قدیم عرب کے بادشاہ تھے یہ دراصل سامی بادشاہ تھے۔ تیسرے بیٹے یافث کی اولاد وسطی ایشیا میں جا کر آباد ہوئی۔ یافث کے پھر دس ،بارہ بیٹوں کا نام آتا ہے۔ یافث کی اولاد میں سے یأجوج و مأجوج کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔ یہ یأجوج و مأجوج کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہے بلکہ حضرت نوحؑ کے پوتے ہیں۔

    یأجوج و مأجوج نے وسطی ایشیا سے اپنی زندگی کی ابتدا کی اور پھر یہیں سے ہجرت کر کے امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا پہنچے۔ جب دنیا ختم ہونے کے قریب آئے گی تو یہ دنیا کے پھاٹکوں پر قبضہ کر چکے ہوں گے۔ آج اگر آپ دنیا کے نقشے کو اُٹھا کر دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک دائرے میں یأجوج و مأجوج کا اقتدار ہے، اور درمیان میں حام اور سام  کی نسلیں آباد ہیں۔ چنانچہ اس وقت یأجوج و مأجوج اقتدار میں ہیں اور اب آہستہ آہستہ یہ وقت آئے گا کہ جب یہ ہر گھاٹی سے لپکیں گے اور یہاں تک کہ سمندروں کا سارا پانی پی جائیں گے، اور اس کے بعد قیامت برپا ہو گی۔

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ میرا دوست | تحریر:عدنان یوسفزئی 

    مطالعہ ایک کامیاب انسان اور بطور خاص کامیاب لکھاری کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک جاندار کو زندہ رہنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ آکسیجن کی عدم موجودگی میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

        دراصل مطالعہ ایک نشہ ہے اور جو کوئی اس نشے کا عادی بن جاتا ہے پھر وہ مطالعہ کے بغیر نہیں رہ سکتا،یہ کوئی مبالغہ آمیز بات نہیں بلکہ ہماری اکابر واسلاف کی زندگیوں میں ہمیں اس کا واضح عکس ملتا ہے۔کہ وہ بعض اوقات مطالعے میں اس قدر منہمک ہوجاتے کہ پھران کو یہ بھی یاد نہ رہتا کہ کھانا کھایا ہے یا نہیں وہ مکمل مستعرق ہوجاتے۔اسی مطالعے کی استعراق میں امام مسلم رح نے ایک مرتبہ اتنے زیادہ کھجور کھائی کہ ان کی معدے نے اس کی گرمائش برداشت نہ کی، چنانچہ اسی سے وفات پائی۔

              لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ میں مطالعے اور کتب بینی کا یہ ذوق تیزی کیساتھ زوال پذیر ہیجس کی وجہ سے ہم اپنے عظمت رفتہ سے دور ہوتے جارہے ہیں بقول شاعر مشرق رح 

    گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی

    ثریا نے زمین پر اسمان سے ہم کو دے مارا

         کتب بینی کی عادت وشوق نے ہمیں علوم وفنون سے بہت دور کردیا۔مغرب نے کتب بینی کو فروغ دیتے ہوئے انتظارگاہوں تک میں لائبریریاں قائم کیں اس لیے وہاں روز بروز نت نئے تجربات مختلف میدانوں سے آرہے ہیں۔

    مطالعہ کرنا سب سے بڑھ کر کتاب ایک بہترین ساتھی ہے۔ ایک اچھے لکھاری بننے کے لیے کتابوں کا مطالعہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ کتاب کے مطالعے کا شوق اور محبت جس کسی کو لگ جائے تو وہ تنہائی کو اپنے لئے ایک نعمت سمجھتا ہے۔

    کتاب بہت عجیب قسم کا دوست ہے. یہ انسان کو بھی ہنساتا ہے اور کبھی رلاتا ہے۔

    یہ کتاب ہی ہے جس کا مطالعہ اگر ایک طرف ہمیں اپنی روشن ماضی کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف مسلمانوں کے زوال کی داستان سناتا ہے۔ یہ کتاب ہی تو ہے جو ایک طرف  ہمیں غیروں کے مظالم کی گواہی دیتا ہے اور دوسری طرف یہ کتاب ہی ہے جو کہ اپنائیت کے ناطے امت مسلمہ سے شکوہ کنا نظر آتی ہے۔ 

    کتاب ہمیں نیک وبد کی تمیز سکھاتی ہے۔ ہم ایک اچھی کتاب کو ایک بہترین استاد کی زیر نگرانی پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکامات معلوم کرسکتے ہے۔اسی طرح ہم سرور کائنات خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک سنت سے باخبر ہو سکتے ہے۔

    دنیا میں کتاب سے دوستی کرنا ہے تو اس کی دوستی آپ کے دل کو ایسے روشنی عطا کردیتے ہے۔ جس سے زندگی بھر آپ اس روشنی سے لطف اندوز ہونگے۔ اس کی جتنا بھی مطالعہ آپ کریں۔ اتنا ہی آپ کی کتاب سے دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوجائیگی۔

                       انسان جب کتاب سے تعلق رکھتا ہے اور اسے اپنا دوست بناتا ہے تو کتاب کی دوستی انسان کو اپنی صحیح منزل دکھا کر راہ راست پر لاتا ہے۔ خواہ وہ دنیاوی ہو یا اخروی دونوں میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔

    مغربی دنیا میں آج کل بڑا ہو یا چھوٹا کتاب سے تعلق اور اس میں مطالعے کی رحجان پایا جاتا ہے۔ اس نے کتابوں سے دوستی کرکے اس سے اپنے لیے دنیاوی راستے کھول دیے ہیں۔ وہ پستیوں کی راہیں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئے ہیں، صرف اور صرف وہ مطالعے کے گہرے سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔

               بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کتابوں سے دوستی کرنے اور مطالعے کے شوقین افراد کی تعداد بہت کم پائی جاتی ہے۔ اگر ہم نے کتابوں کی سے دوستی قائم کرلی۔ پھر ہم کتاب کی مطالعہ کئے بغیر اپنے آپ کو نامکمل سمجھے گے۔ یہ ہمیں اپنا منزل بتاتے ہیں کہ کیسے آپ اس پستیوں کی تاریک ظلمتوں سے نکل کر اپنی بلند وبالا منزلوں کی طرف جانا ہے۔

                کتاب کی ہر ایک لفظ ہم کو نئے نئے سوچ دیکر علم کے خزانے ہمارے لئے کھول دیتا ہے۔ کتاب ہی ہمیں مشرق سے لیکر مغرب تک، شمال سے لیکر جنوب تک سارے حالات بیان کر کے ہمیں اندھیروں سے نکال کر، اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتا ہے. قلم وکتاب سے رشتہ قائم کرنا ہی ہمیں ہمارے اقدار و عظمت کے مینارے دکھاتا ہے۔ کتاب کے بغیر ہماری زندگی میں لطف نہیں ہوگی۔

    اگر مطالعے کے لیے  اچھی اور معیاری کتاب کا انتخاب نہیں کیا گیا تو یہی کتاب بعض اوقات آستین کا سانپ بھی بن سکتا ہے۔مثلاً مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر ایک انسان دین اسلام کا بن سکتا ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ کتب کے انتخاب میں بہت ہی احتیاط سے کام لیا جائے۔

         مختصراً یہ کہ مطالعہ ہی ایک ادنیٰ انسان کو معراج تک لے جاتا ہے، کیونکہ مطالعہ کرنے والا شخص قوموں کی تاریخ وثقافت،رسوم ورواج اور تہذیب  کامیابی وکامرانی سے باخبر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں اسی انداز سے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کتاب اچھے برے میں تمیز کراتے ہیں، اور مطالعہ کرنے والا بندہ تنہائیوں سینہیں گھبراتا بلکہ تنہائی کو یکسوئی سمجھ کر مطالعہ کرتا رہتا ہے۔

    Twitter | @AdnaniYousafza

  • پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ شہدادپور ضلع سانگھڑ  100 سالہ پروجیکٹ   تحریر محمد عثمان

    پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ شہدادپور ضلع سانگھڑ  100 سالہ پروجیکٹ تحریر محمد عثمان

    اندرون سندھ ضلع سانگھڑ تحصیل شہدادپور ٹنڈوآدم روڈ پر واقع ( پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ) 100 سالہ پروجیکٹ ۔ آج سے آٹھ سال قبل دریافت ہونے والا (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ نہ صرف شہدادپور ، بلکہ ملک پاکستان کے لیے بھی ایک سنہری باب ثابت ہوگا ۔ اس پروجیکٹ کے ساتھ 13مختلف چھوٹی Sui کا لنک جڑا ہوا ہے اور ساتھ ہی 23 مختلف جگہوں سے دریافت ہونے والے تیل اور گیس کے ذخائر کا لنک بھی اس پروجیکٹ سے ملا ہوا ہے جو روزانہ ایک بلین کیوبک فِٹ (BCF) گیس پیدا کرتا ہے اور مُلکِ پاکستان کی 22 فیصد گیس(SSGCL) اس پروجیکٹ سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ کو چین  کے سپرد کیا گیا ہے ۔ اس(PPL) پروجیکٹ میں 1793 لوگ ملازمت کرتے ہیں ۔ ضلع سانگھڑ کا شمار سندھ کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے ضلع سانگھڑ کے لوگوں کی بڑی تعداد غریب طبقے سے ہے ۔ یہاں کے لوگوں کا آمدن ذرائع زراعت سے منسلک ہے اور یہاں کے لوگ محنت مزدوری کھیتی باڑی سے گزر بسر کرتے ہیں تو ایسے میں یہ (PPL) 100 سالہ پروجیکٹ ایک امید کی کرن بن کر آیا تھا کہ اب یہاں کے لوگوں کی زندگی بہتر ہوجائے گی 

    اب یہاں  کے لوگ کی بنیادی ضروریات سڑکیں، گٹر لائن، گلیوں، جیسے مسائل بھی حل ہوجائے گے اور یہاں کے لوگوں کو ملازمتیں بھی میسر ہونگی. لیکن ہوا کچھ بھی نہیں سارے مسائل ساری امیدیں خام خیالی ہی ثابت ہوئی.

    اس(PPL) پروجیکٹ کے 1793 ملازموں میں سے صرف 10 فیصد لوگ ہی ضلع سانگھڑ سے لیے گئے ہیں ۔ وہ  بھی حسبِ روایت سفارشات اثروسوخ رکھنے والے لوگ ہیں غریب لوگوں کی زندگیوں میں کوئی آسانی نہیں آئی جو حقوق تھے سانگھڑ کے  لوگوں کے وہ نہیں دیے گئے ۔  پاکستان سمیت دیگر ممالک میں یہ بات آئین میں ہے کہ جس جگہ بھی تیل گیس کے ذخائر دریافت ہوں گے تو اس جگہ یا شہر کے لوگوں کے لیے گیس بجلی فری ہو جاتی ہے اس شہر کی سڑکیں ودیگر تعمیراتی کام کیے جاتے ہیں ۔ اعلی تعلیم کے لیے اسکالر شپ دی جاتی ہے اور زیادہ تعداد میں ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں مگر یہاں تو سانگھڑ، شہدادپور اور ٹنڈوآدم کے لوگوں کے حقوق دفن کر دیے گئے ان لوگوں کو گیس نہ بجلی اور نہ ہی ملازمتیں دی گئی اگر چند ملازمتیں

    دی گئی وہ بھی صرف وڈیرہ شاہی امیرکبیر سفارشات  کی بنا پر ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سانگھڑ شہداد پور اور ٹنڈو آدم کے پڑھے لکھے نوجوان جو بے روزگار  ہیں ان نوجوانوں کو علاقائی کوٹا کی بنیاد پر میرٹ کو مدِ نذر رکھ کر ملازمتیں دی جاتی  ۔   لیکن ہوا یہ کہ اس پروجیکٹ میں ملازمت اسی کو ملی جس کا تعلق وڈیروں سے تھا یا کسی سیاسی جماعت سے تھا۔ مقامی  پڑھے لکھے بیروزگار لوگوں کے حقوق یہاں بھی دفن کر دیے گیے ۔ 10 فیصد چائنہ اور باقی 80 فیصد لوگ سانگھڑ سے باہر صوبہ پنجاب و دیگر صوبوں کی طرف سے لیے گئے ہیں ۔ یہ سراسر نا انصافی ہے مقامی  بےروزگار غریب لوگوں کے ساتھ۔ یہ تو صرف (PPL) کے بارے میں ہورہا ہے. اس کے علاوہ بھی اسی طرز  کے کئی پروجیکٹس سانگھڑ میں چل رہے ہیں اور مختلف گورنمنٹ کے اداروں میں بھی یہی سفارشی کلچر عام ہے ۔ چاہے پھر وہ بلدیاتی ، ادارہ ہو یا گورنمنٹ اسکول و کالج ،  یا گورنمنٹ  ہاسپٹل ۔ گورنمنٹ ہاسپٹل میں تو سفارشی کلچر اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہاں نرسنگ میں ان پڑھ لوگ بھرتی کیے ہوئے ہیں ۔ ان کو انجکشن تک لگانا نہیں آتا ہے ۔ کیا یہ سراسر لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں  ۔میری وزیراعظم صاحب سے  درخواست ہے کہ اندرونِ سندھ میں جو نوجوانان کی حق تلفی ہو رہی اس پر نظرثانی کریں اور اندرون سندھ میں اتنے تیل اور گیس کے ذخائر نکلنے کے باوجود بھی سندھ کے حالات ایسے ہیں خاص طور پر سانگھڑ کے  غریب لوگوں کو ان کا حق دیا جائے  ۔ ملک پاکستان کی بہتری انصاف میں ہیں غریب طبقے کی فلاح وبہبود میں ہے۔ آج مسلمان اسی وجہ سے پیچھے ہیں کہ ہم نے انصاف کے دامن کو چھوڑدیا ہے۔ جب مسلمانوں نے 700 سال تک حکمرانی کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ دوسرا وہ انصاف پسند تھے وہ انصاف کرتے تھے چاہے امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ انصاف کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے انہوں نے 700 سال تک حکمرانی کی ۔ اگر ہم ملک کی بہتری اور ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں بھی انصاف کرنا ہوگا ۔ اس انصاف کی وجہ سے ہم نہ صرف غریب لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکال سکتے ہیں بلکہ اس ملک پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں  کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔

    Twitter @Usmankbol

  • اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

    اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

    ‏اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟

     اردو ہماری تہذیبی شناخت ہے۔ اس میں شاید ہی اختلاف ہو۔ اور مزید اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ سرکاری زبان کے ساتھ ساتھ مادری زبان بھی ہے، اختلافات تو یہ ہیں کہ یہ صرف ماضی میں ہی ضروری تھی یا مستقبل میں بھی اس کے کچھ تقاضے ہیں ؟نئی صدی میں ہونی والی ترقی نے سب کچھ بدل ڈالا ہے انسانی زندگی، رہن سہن اور وسائل سب ہی میں بڑا تغیر برپا ہے اس کے ساتھ ہی اردو کا وہ ادب بھی کمزور ہوتا جا رہا جو آج سے ساٹھ ستر سال پہلے تھا نسلِ نو اردو زبان سے بہت دور ہوتی جا رہی ہے اور اردو روایات کو سمجھنے سے قاصر ہے یہ نسل نا تو غالب و میر کو سمجھتی ہے اور نا ہی فیض اور اقبال کے استعاروں کو. اقبال و غالب کے بنا بھی بھلا اردو کی کوئی تہذیب یا روایت ہے کسی بھی قوم کی روایات اس وقت تک ہی زندہ رہتی ہیں جب تک وہ انہیں اپنی روز مرہ زندگی میں بروۓ کار لاتا رہتا ہے جس دن سے وہ بے نیاز ہوتا ہے تو وہ نا پائید ہو جاتی ہیں قومیں کیسے تباہ ہوتی ہیں بڑے بڑے دانشوروں نے اس پہ بہت کچھ لکھا اور سب کا خلاصہ یہی نکلا جو قومیں اپنی روایات سے منہ موڑ لیتی ہیں وہ ختم ہو جاتی ہیں سکندرِ اعظم ہو یا چنگیز خان جنہوں نے آدھی دنیا فتح کی مگر ان کے ماننے والے جلد ہی ختم ہو گئے کیوں.؟ کیونکہ ان کے پاس اپنی روایات تھیں اور نا ہی کوئی تہزیب. آج کے دور میں زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ علم ہے. علم کے بنا زندگی کچھ بھی نہیں ہے. اور علم اسی زبان سے کی حاصل کیا جا سکتا ہے جو وقت کی ضرورت ہو اور اسی زبان سے حاصل کر دہ علم زندگی کو سہل کرتا ہے، اس وقت اردو زبان علم کی زبان بننےسے قاصر ہے یہ کام اس وقت انگریزی نے لے لیا ہے اور اب زندگی اسی کے ساتھ ہی چل پڑی ہے کوئی بھی زبان دو وجہ سے ترقی پاتی ہے ایک تو یہ کے تخلیق کردہ علم اس زبان میں ہو یا وہ زبان دنیا بھر کے علم کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور یہ صلاحیت اب انگریزی زبان میں ہی موجود ہے. جب دنیا بھر میں عربوں کی حکومت تھی اور انہی کا راج چلتا تھا تو عربی زبان اپنے عروج پر تھی، پھر دور آیا سلطنتِ عثمانیہ کا جس کی بدولت فارسی زبان کو عروج ملا اور اس وقت دنیا بھر انگریزوں کا راج ہے چاہے وہ بلاواسطہ ہو یا بالواسطہ اور اسی ہی کی بدولت اب انگریزی زبان کو باقی سب زبانوں پہ سبقت مل چکی ہے آج اکیسویں صدی ہے اور ہر ایک کی تہزیب کی بھاگ دوڑ سائنس کی نت نئی ایجادات پر ہے اور اردو اس قابل نہیں کے جس کے ذریعے علم حاصل کر کے سائنس کے پیچھے بھاگتی دنیا کے ساتھ چلا جائے اب یہ مقام صرف انگریزی زبان کو ہی حاصل ہے اردو زبان اب ایک محدود زبان بن چکی ہے، انیسویں صدی کو اردو زبان کے عروج کا زمانہ بھی بولا جا سکتا ہے جس میں اقبال، غالب، مودودی اور شبلی نعمانی جیسے شاعر و مفکر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی شاعری اور تفسیر و تاریخ کے ذریعے اردو زبان کو عالم اسلام تک پہنچا کے اردو زبان کا لوہا منوا دیا تھا اور پھر اس کے بعد ہم آزاد ہو گئے جس وجہ سے اپنی روایات اور تہذیب کا دام بھی ہاتھ سے چھوڑنے لگے اقبال و غالب کے بعد ان کی روحانی مسندیں خالی ہو گئی اور کوئی اس قابل نا رہا کے ان کے پیغام کو آگے پہنچائے اگر کوئی آیا بھی تو ہم نے اسے قبول نا کیا، اسی طرح سے پھر اردو زبان کو فروغ کم ہوتا چلا گیا اور اردو علوم زوال پزیر ہونے لگا پھر افسوس کا مقام یہ ہوا کے انگریزوں کے چلے جانے کی بعد بھی ہمارا نظام تعلیم نا بدل سکا ہم آزاد ہو کے بھی غلام ہی رہے، اگر کیسی نے کوئی سائنسی علم حاصل کرنا ہے یا کوئی بڑی نوکری کرنی ہے تو اسے انگریزی ہی سیکھنی پڑے گی اس بنا پر ہماری نوجوان نسل کے پاس اور کوئی رستہ نہیں تھا سوائے اپنی تہذیب سے دور ہونے کے، اب اگر کوئی نوجوان اردو زبان بولتے وقت انگریزی استعمال کرتا ہے تو وہ بہت پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور وہی نوجوان اگر انگریزی کے دوران اردو کے الفاظ کے چناؤ کر لے تو اس کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہی وجہ احساس کمتری کی وجہ بنتی ہے امرا اپنے بچوں کو بڑے سکولوں میں انگریزی پڑھنے کے لیے بھیج دیتے ہیں جو کے پھر بعد میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ جو چھوٹے اسکول میں پڑتا ہے اسے اردوتو ڈھنگ سے نہیں سیکھائی جاتی انگریزی کے دروازے تو پہلے سے ہی اس کے لیے بند کر دئیے جاتے ہیں، یہ رویہ ایک بہت بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے حکومت وقت اور بڑے حلقوں کو لازمی اس پہ سوچنا چاہیے اور ایک عالمی مسئلے کی طرح اس کا حل تلاش کرنا چاہیے

    ‎@Durre_ki_jan

  • پاکستان کے نئے کوچ میتھیو ہیڈن پی سی بی کے لئے بڑی آزمائش

    پاکستان کے نئے کوچ میتھیو ہیڈن پی سی بی کے لئے بڑی آزمائش

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین رمیز راجہ نے عہدہ سنبھالتے ہیں بڑا اعلان کردیا ہے آسٹریلیا کے جارحانہ اوپنر میتھیو ہیڈن کو بیٹنگ اور جنوبی افریقا کے ورنن فلینڈر کو باولنگ کوچ مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی : میتھیو ہیڈن بائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں اور آسٹریلیا کی طرف سے دو ون ڈے ورلڈ کپ جیت چکے ہیں آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن 103 ٹیسٹ 161 ونڈے اور صرف نو ٹی20 کھیلے ہیں۔ میتھیو ہیڈن نے ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھ ہزار سے زائد ون ڈے میں 6 ہزار سے زائد اور 300 ٹی20رن اسکور کیے ہیں۔ میتھیو ہیڈن نے 2009 اور فیلنڈر نے پچھلےسال ہی ریٹائرمنٹ لی ہے۔

    میچ میں کتے کی انٹری، دلچسپ ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل

    میتھیو ہیڈن سابق آسٹریلوی اوپنر ہیں۔ انہوں نے 103 ٹیسٹ میچوں میں 50 سے زائد کی اوسط کے ساتھ 8 ہزار 625 رنز بنائے۔ ٹیسٹ کریئر میں30 سنچریز اور 29 ففٹیز بنائیں۔

    ون ڈے میں انہوں نے 161 میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی اور 43 سے زائد کی اوسط کے ساتھ 6 ہزار 133 رنز بنائے۔ انہوں نے ون ڈے میں 10 سنچریز اور 36 نصف سنچریز بنائیں۔ انہوں نے 9 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بھی آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔

    آسٹریلیا نے افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا

    تاہم کسی بھی سطح پر 1 دن کی کوچنگ کا تجربہ نہیں حتیٰ کہ کلب یا 19 سال سے کم عمر کا بھی نہیں بلکہ بہت سارے ٹورنامنٹس کے لیے رمیز کے ساتھ تبصرہ کیا ہے تو پھر کیا مذاق ہے ؟ یا پسندیدگی ؟ پاکستان ان غیر تجربہ کار کوچز کے لیے آزمائش اور غلطی کا بورڈ رہے گا۔

    جنوبی افریقی کے فاسٹ بالر ورنن فیلنڈر نے 64 ٹیسٹ میچوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی، جبکہ 30 ون ڈے اور صرف 7 ٹی ٹوئنٹی کھیلیں ہیں، فیلنڈر نے 224 ٹیسٹ وکٹس، 41 ون ڈے وکٹس اور صرف 4 ٹی ٹوئنٹی وکٹس حاصل کی ہیں۔

    انہوں نے 24 کی اوسط سے بیٹنگ کرتے ہوئے 1779 رنز بنائے ۔ ورنن فلانڈر کا ریکارڈ ہے کہ انہوں نے بنا سنچری اسکور کیا 1779 رنز اسکور کیے۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ باکسنگ میچ کی میزبانی کریں گے

    ورنن فیلنڈر نے 2011 میں آسٹریلیا کے خلاف اپنے کئیریر کا آغاز کیا تھا۔ جبکہ جنوری 2020 میں انگلیڈ کے خلاف آخری میچ کھیل کر کرکٹ کو خیر آباد کہہ دیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے نومنتخب چیئرمین رمیز راجہ نے نیوز کانفرنس کے دوران میتھیو ہیڈن اور ورنن فلینڈر کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔

    بابر اعظم کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ دوستی یاری کواہمیت نا دیں وسیم اختر

  • وزارت تعلیم کا دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا سے متعلق بڑا فیصلہ

    وزارت تعلیم کا دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا سے متعلق بڑا فیصلہ

    وزارت تعلیم نے پاکستان بھر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے تمام طلبا کو پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں وزائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ رواں سال دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحان دینے والے تمام طلبا کو پاس کیا جائے گاکیونکہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے باعث فوری طور پر امتحانات لینا ممکن نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جو طلبا امتحانات میں فیل ہوئے ہوں گے ان کو ​33 فیصد رعایتی نمبر دے کر پاس کیا جائے گا۔رواں سال میٹرک کے طلبا کے چار مضامین جبکہ بارہویں جماعت کے طلبا کے تین مضامین کے امتحانات لیے گئے تھے اہم اعلان سندھ حکومت کے فیصلہ کو دیکھتے ہوئے کیا گیا۔

    کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن نے ثابت کیاکہ وزیر اعظم عمران خان ہی واحد قومی لیڈر ہیں…

    ذرائع کے مطابق میٹرک اورانٹرمیڈیٹ کےامتحانات سال میں 2 بار ہوں گے، امتحانات کو سپلیمنٹری امتحانات کا نام نہیں دیا جائے گا، آئندہ سال میٹرک امتحانات مئی، جون میں ہوں گے، آئندہ سال نیا سیشن اگست سے شروع ہو گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 67 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 26 ہزار 787 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 12 لاکھ 7 ہزار 508 ہوگئی۔

    ملک میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 67 اموات

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 988 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 4 لاکھ 14 ہزار 390، سندھ میں 4 لاکھ 45 ہزار 369، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 68 ہزار 748، بلوچستان میں 32 ہزار 591، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 168، اسلام آباد میں ایک لاکھ 2 ہزار 863 جبکہ آزاد کشمیر میں 33 ہزار 379 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 85 لاکھ 21 ہزار 728 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 53 ہزار 158 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 10 لاکھ 90 ہزار 176 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 5 ہزار 66 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    بے روزگاروں کے لیے خوشخبری: 46 ہزار اساتذہ کی بھرتی شروع

  • جمہوریت اور عوام تحریر:سردار ساجد محمود خان

    جمہوریت اور عوام تحریر:سردار ساجد محمود خان

    اسلامی جمہوریہ پاکستان

    یہاں جمہوریت کے نام پر جو کھلا مذاق عوام کے ساتھ مشرف کے بعد سے کھیلا جارہاہے وہ قابل ذکر ہے کہ کسطرح عوام کو بیوقوف بنایا جارہاہے پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو نون لیگ اپوزیشن تھی اور خوب پیپلز پارٹی کو برا اور صرف برا کہا پورے پانچھ سال نون لیگ اسی کام میں لگی رہی کے پیپلز پارٹی تو روز کرپشن کر رہی ہے پیپلز پارٹی عوام کا خون چوس رہی ہے ظلم کررہی ہے مہنگائی انتہا کو پہنچھ چکی ہے عوام کی پہنچ سے روٹی دور کردی گئی ہے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے پیپلز پارٹی کو عوام کا خیال نہیں ہے ہر بجٹ عوام دشمن بجٹ کہا گیا پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں  نون لیگ ہر بجٹ میں کہتی تھی کے اس بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں یہ عوام دشمن بجٹ ہے لیکن بجٹ ہر بار پاس ہوتا رہا عوام صرف ڈرامہ بازی دیکھتی اور پیپلز پارٹی کے لئے آپنے دل میں غصہ پالتی رہی

    خیر وقت کا کیا ہے وقت تو گزرجاتا ہے اب الیکشن کا وقت ہوا تو نون لیگ اور باقی جماعتیں اپنا اپنا چورن بیچنے لگیں خیال رہے یہاں نون لیگ کا نام اس لئے لیا جارہا ہے کیونکہ اس ٹائم میں انکی بڑی واہ واہ تھی  کوئی کہتا کے چھے مہینے میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی تو نام بدل دینا کوئی کہتا کے پیٹ پھاڑ کر عوام کا پیسہ واپس لینگے کوئی کہتا کہ کرپشن کرنے والوں کو روڈ پر گسیٹینگے 

    2008 سے 2013 تک عوام کے لئے کیا قانون بنا اس سے عوام کو بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی حکومت نے عوام کا دھیان اس طرف انے دیا ہر روز ایک نیا تماشا رہتا تھا اور عوام کا سارا دھیان اس تماشے پر لگا رہتا تھا اور پیچھے سے پاکستان کو پتہ نہیں کتنا قرضہ میں ڈبویا پیپلز پارٹی کی حکومت نے

    اب آیا الیکشن کا وقت الیکشن ہوا نون لیگ جیت گئی اور حکومت بنا لی اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھ گئی

    اب میدان میں ایک اور پارٹی آگئ تھی پاکستان تحریک انصاف جو کے پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی وہ بھی اپوزیشن میں بیٹھ گئی لیکن اس جماعت نے آپنا راستہ الگ رکھا

    نون لیگ کا دور شروع ہوا تو پہلے لوڈ شیڈنگ کا مثلہ تھا جس پر عوام نے انہیں ووٹ دیا تھا کیونکہ کے انہوں نے چھے ماہ کے وعدے پر کہ لوڈ شیڈنگ ختم کردینگے پر عوام سے ووٹ لئے تھے اس پر آتے کہ ساتھ وزیراعظم نے کہا تھا اس وعدے کو بھول جائیں یہ جوش خطابت میں کہدیا تھا  حکومت میں اکر پھر وہی تو چور میں سپاہی والا چورن چلنے لگا نون لیگ پیپلز پارٹی پر روز کرپشن کے الزام لگائے اور مزے کی بات ہے کہ حکومت وقت الزام لگا رہی ہے اور نا گرفتار کرسکی ملزم کو اور نہ کوئی الزام ثابت کرسکی اسی دوران پاکستان تحریک انصاف اور قادری صاحب بھی میدان میں اترے ہوے تھے انکے الگ مثائل سامنے آئے عوام پہلے سے ہی نون اور پیپلز پارٹی کے ڈرامائی جھگڑوں میں مصروف تھی یہاں ایک نیا انقلاب کا مثلہ کھڑا ہوگیا تو اب عوام اور زیادہ مصروف ہوگئی 

    انکو یہ فکر نہیں تھی کے مہنگائی کہاں پہنچ گئی ہے عوام کا جینا مشکل کیا جارہا ہے عوام کے لئے یہ لوگ اسمبلی میں ہیں

    لیکن یہ اپنے مثلوں میں عوام کو بیوقوف بنائے جارہے ہیں عوام کا دھیان اس طرف نہ ہو اس بات کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے ہر جمہوری دور میں 

    نون لیگ کے دور میں پہلا سال تو لوڈ شیڈنگ مہنگائی کرپشن کے رونے پر رہا قانون کیا بنا عوام کو فکر نہیں دوسرا سال دھرنے کی نظر ہوا عوام فکر نہیں تیسرے سال سانحہ پشاور ہوا عوام کا دھیان وہاں پھر نواز شریف نااہلی والا دور عوام وہاں مصروف کیا قانون بنا عوام کے لیئے عوام کو اس کی فکر نہیں پھر اسی طرح چوتھا سال آیا عوام مصروف رہی اسکے لئے کیا قانون بنا عوام کو کوئی پرواہ نہیں  اب پھر الیکشن کا وقت آیا عوام پھر مصروف 

     نئی حکومت اس بار پاکستان تحریک انصاف کی بنی جسنے اتنے سبز باغ دکھائے تھے کے

    عوام نے سوچا تھا کے نوے دنو میں پاکستان آمریکہ سے بھی زیادہ ترقی کرلیگا  

    لیکن مزے کی عمران خان صاحب نے بھی وہی سپیچ پڑھی جو نواز شریف نے پڑھی تھی کے جوش خطابت

    خان صاحب نے کہا کے یو ٹرن لینے والا لیڈر ہوتا ہے

    لیکن مثلہ وہی پرانا رہا یہاں کے تو چور میں سپاہی والا 

    عوام یہاں پھر مصروف ہوگئی

    پہلے سال کیا قانون بنا عوام کو پہلے کی طرح کوئی فکر نہیں

    دوسرے سال کیا قانون بنا عوام کو کوئی فکر نہیں تیسرا سال بھی کیا قانون بنا عوام کو کوئی فکر نہیں

    اللّٰہ پاک کا فرمان ہے کہ جو قومیں اپنا بھلا نہیں چاہتیں

    اللّٰہ پاک بھی انکی مدد نہیں کرتا

    پاکستانی جب تک اپنے حق کے لئے نہیں اٹھے گی اس سے بھی زیادہ برا حال ہوگا پھر

    جتنے مرضی حکمران بدل لیں آپ ترقی نہیں کر سکتے

    کیونکہ کے جو بھی آتا ہے وہ صرف بیوقوف بنانے میں لگا ہوا ہے۔  یہ جمہوریت جب تک رہے گی ملک کا نقصان ہوتا رہیگا

    عوام کو سہی معنوں میں تبدیلی چاہیے تو پہلے خود تبدیل ہوں اور پھر اس جمہوری نظام سے جان چھڑائیں

    ملک کی ترقی کا واحد نظام صدارتی نظام ہے 

    بلکل اسی طرح جیسے امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں یہ نظام کامیابی سے رائج ہے 

    عوام جاگے اور اپنے منتخب نمائندوں سے سوال کریں کے اپنے حلقے کے لئے کیا کام کیا ہے

    وعدے وفا کیوں نہیں کئے آپ خود دن بدن امیر ہوتے جارہے ہیں اور عوام غریب سے غریب تر کیوں ہو رہی ہے۔    

    @sajid_mehmood