Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خواتین اساتذہ کے مسائل تحریر: آصف گوہر

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے بتع کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے مزر‏.‏ کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے
    صحیح بخاری 6124
    مہذب معاشروں میں قوانین اور پالیسیاں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لئے بنائی جاتیں ہیں اور جن قوانیں میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔
    چند روز قبل ماریہ احسان الہی کی ٹویٹ نظر سے گزری نفس مضمون کچھ یوں تھا ۔
    "‏‎میں ایک ایسی ٹیچر کو جانتی ہوں جن کا مس کیریج ہوگیا اپنی جاب کی وجہ سے وہ روزانہ 46 km ایک طرف کا سفر کرتی تھی اسکول کے لیے نتیجتاً انہیں طلاق کا سامنا کرنا پڑا”
    پڑھ کر دل پسیج کر رہ گیا کہ ملازمت ہنستا بستا گھر کے ٹوٹنے کا سبب بنا۔
    ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں ۔جنسی درندوں کی بہتات میں خواتین کا ملازمت کے لئے نکلنا جان جوکھم میں ڈالنےسے کم نہیں ۔
    سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ بہت ساری خواتین تنگ آکر ملازمت چھوڑ دیتی ہیں جس سے انکو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔
    پچھلے ماہ روالپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں
    اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچیں
    موجودہ پنجاب حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کئ انقلابی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ جس میں اساتذہ کے تبادلوں کے نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے اساتذہ گھر بیٹھے اپنی ٹرانسفر کے لئے اپلائی کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود خواتین اساتذہ کو خواہش کی جگہ ٹرانسفرز کے راہ میں کئ طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں سیٹیں خالی نہیں یا وہ اپنے موجودہ سکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اپلائی ہی نہیں کر سکتیں ۔
    میں نے خود پنجاب کے دوردراز شہروں سے ٹرانسفر کے لئے آئی خواتین اساتذہ کو لاہور سیکرٹریٹ میں پریشان حال دیکھا جن کے پاس تعلقات اور تگڑی سفارش ہوتی ہے انکی ایکسٹریم ہارڈشپ کے تحت ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔
    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور ڈاکٹر مراد راس سے التماس ہے کہ
    خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے اور خواتین اساتذہ کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور جواتین اساتذہ کو ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے ہر ڈسٹرکٹس میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں جن کاچیف ایگزیکٹو آفیسرز کو بخوبی علم ہے ۔
    روزگار کے لئے سو سو کلومیٹر روز کا سفر اذیت ناک ہوتا ہے خانگی زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔ اپنے بچے مطلوبہ توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
    آسانیاں پیدا کریں اور گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔
    @Educarepak

  • ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    11، 12، 13، 14، 15، 20،  22، 23،  25 ، 43، 45،  91، ، 93،9، 94۔۔۔۔ جیو اسٹار، نیا وقت، اچھا وقت، ، اے آر زیڈ، سماں،  میری جنگ، تیری جنگ، کرائم کنٹرول، اینٹی کرپشن، اینٹی کرائم۔ دوستو  ابتدائی حروف سے نہ سہی ، الفاظ کی گردان سے تو آپ کی سمجھ میں کچھ نہ کچھ معاملہ تو آہی گیا ہوگا،،، جی ہاں یہ وطن عزیز میں پھیلی اس نئی وبا یعنی ویب ٹی وی  میں سے چند ایک کے نام ہیں۔ اب میں انہیں وبا کیوں کہہ رہاہوں اسکا کچھ قصہ ہوجائے۔ پاکستان میں اکیسویں صدی کی ابتداء کے ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا تیزی سے پھلا پھولا، ایک کے بعد ایک سیٹلائٹ ٹی وی چینلز  منظر عام پر آئے۔  ہر لمحہ بریکنگ نیوز کی دوڑ نے عوام کے لیے نئی مصروفیت کا سامان کیا۔ ریٹنگ کے چکر میں ان چینلز کی  خبریں بعض اوقات ڈرامے سے بھی زیادہ سنسنی لیے  ہوتیں،،، صاف ستھرے چمکدار اسٹوڈیوز میں بیٹھے نیوز کاسٹرز اور اینکرز کو فنکاروں سے زیادہ شہرت ملنے لگی۔ ترقی کے خواہش مند ہر نوجوان کا دل اینکرنگ کو مچلنے لگا لیکن کیا کیجئے کہ ایک انار سو بیمار کے مصداق چند ایک چینلز تھے اور انکے کچھ درجن اینکرز۔ ٹی وی میزبان بننا مقابلے کا امتحان پاس کرنے سے زیادہ کٹھن اور قسمت کا کھیل سمجھا جانے لگا اور ہزاروں امیدواران میں سے کچھ حسد اور کچھ رشک کرتے رہ گئے۔

    ان سب من ہی من میں تیار اینکرز اور  صحافیوں نے قسمت کا لکھا جان کر صبر کرلیا تھا کہ اسمارٹ فون کی آمد سے ایک نیا در  وا ہوگیا،،،  موبائل یا کمپیوٹرز میں ایڈیٹنگ سافٹ وئیر انسٹال کریں،،، دیوار پر ایک رنگ کا کپڑا لگائیں،،، کسی بھی موضوع پر ویڈیو ریکارڈ کریں اور اس کی ایڈیٹنگ کرکے پس منظر میں اسٹوڈیو بنا لیں،،، آپکا چینل تیار ہوگیا،،، شروع میں یہ چینل مقبول بھی ہوئے کیونکہ غیر روایتی انداز میں کام کرنے والے یہ چینلز پیمرا اور دیگر حکومتی کنڑول سے آزاد تھے ۔ یہاں بغیر کسی رکاوٹ کے حکومت پر تنقید ممکن تھی اور لائیو نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ شدہ ہر اسٹوری چلانا ممکن تھا،،، روایتی میڈیا کے تربیت یافتہ صحافیوں کا  شروع کردہ یہ سلسلہ جب غیر تربیت یافتہ، کم پڑھے لکھے اور دیہاڑی دار صحافیوں تک پہنچا تو وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوا کہ الامان۔

    خود کو صحافی کہلانے والی یہ مخلوق معروف چینلز سے مشابہ لوگو اٹھائے  ہر چھوٹے بڑے شہروں کی گلی محلوں، دفاتر ، دکانوں اور فیکٹری کارخانوں پر یلغار کرتی نظر آتی ہے۔ خبر لینے کے بہانے یہ حضرات جب کسی تاجر کے پاس جاتے ہیں تو مفت جلیبیاں یا پکوڑے نہ ملنے پر  بھی ناراض ہوجاتے ہیں۔ یہ غصہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اسی دکاندار کو دکھانے اور پیسے اینٹھنے پر ہی ختم ہوتا ہے،  ہر آتے جاتے عام و خاص کے سامنے منہ میں گھسیڑنے کی حد  تک مائیک دے ڈالنا اور اپنے بے تکے سوالات کا جواب مانگنا یہ صحافی اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ کسی کی نجی زندگی اور قانونی و غیر قانونی کافرق ان  کو بالکل نہیں معلوم ہوتا۔ سارا دن صحافت کے نام پر بھتہ خوری کےبعد شام کو یہی  فیس بکی اور یوٹیوبی "سینئر صحافی  "ہر مسئلے کا طوق  حکومت کے گلے ڈال کر  خود ہاتھ جھاڑ پرے  ہولیتے ہیں۔

    حکومت کی دیگر پالیسیوں پر لاکھ اختلاف  سہی لیکن ایسے بے مہار چینلز اور منہ پھاڑ صحافیوں کا قبلہ درست کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ ایسے گلی محلے کے چینلز کی رجسٹریشن وقت کی ضرورت ہے،،، اس امر کے لیے مالکان کی اہلیت  اور شہرت  کو مدنظر بھی نہایت اہم ہوگا ورنہ میڈیا کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہ ہو ان لفافی صحافیوں کے چکر میں حقیقی صحافی اور میڈیا سے وابستہ دیگر کارکن اپنی عزت بچانے کو شعبے کو خیرآباد کہہ دیں اور  پھر میڈیا کے نام پر ان  بہروپیوں کے کرتب ہی باقی بچیں

    @hidesidewithak

  • یوم دفاع پاکستان  تحریر: تماضر خنساء

    یوم دفاع پاکستان تحریر: تماضر خنساء

    چھ ستمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ
    یادگار دن جب پاک فوج کے جوانوں نے اس پاک وطن کی طرف بڑھنے والے ناپاک قدموں کو روند ڈالا تھا…
    وہ چھ ستمبر کا دن تھا جب انڈیا نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لاہور پر قبضہ کرنے کا ارادہ کیا… انڈین آفیسرز بہت خوش تھے اسی لیے کچھ زیادہ ہی پر اعتماد بھی تھے…. ان کا ارادہ تھا کہ واہگہ بارڈر سے پاکستان پر حملہ کرکے وہ باآسانی لاہور پر قبضہ کرلیں گے… صرف یہی نہیں بلکہ وہیں ان کا جشن منانے کا بھی ارادہ تھا.. وہ بے چارے لاہور میں ناشتہ کرنے کے خواہشمند تھے…
    بھارت کی یہ چھوٹی سی خواہش تو پوری نہ ہوسکی مگر پاکستانی سپاہ نے انڈیا کے ماتھے پہ شکست کا وہ جھومر سجایا کہ جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا…
    وہ آئے تو ناشتہ کرنے تھے مگر پاک فوج نے انکو زندگی بھر کا ناشتہ بھلادیا …
    بھارتی فوج کا وہ کمانڈر انچیف جس نے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانے میں شراب پی کر اپنی فتح کا جشن منائیں گے پاک فوج کے سپوتوں نے اسکو ایسا طمانچہ رسید کیا کہ اسکے بعد سے تاریخ میں کسی بھی انڈین نے فوجی نے پاکستان کی چائے سے زیادہ کی فرمائش نہیں کی ….
    رات 3:45 پہ واہگہ بارڈر کی طرف سے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر حملہ کردیا …پھر آسمان نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ کس طرح پاک فوج کے نڈر جانبازوں نے اپنے جسموں سے بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنا ڈالا اور اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی
    جبرالٹر آپریشن کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی.اسی نتیجے میں جنگی جنون میں مبتلا اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کو کھلم کھلا دھمکی دے ڈالی تھی کہ ” اب ہم اپنی مرضی سے اپنا من پسند محاذ کھولیں گے ".بھارت کی ہمیشہ سے یہی روش رہی ہے.
    موسم برسات ٹینکوں کی نقل و حرکت کیلیے ایک رکاوٹ ہوتا ہے اور فوجی نقل و حرکت بھی اس وقت سست روی کا شکار ہوجاتی ہے . موسم برسات کے ختم ہوتے ہی بھارت نے سیالکوٹ، قصور اور لاہور تین جانب سے پاکستان پہ حملہ کردیا . بھارت کامنصوبہ تھا کہ حملہ اس قدر اچانک اور فوری ہو کہ پاک فوج سنبھل ہی نہ پائے، مگر افسوس وہ لوگ پاک فوج کو سمجھ ہی نہ پائے اور پھر پاکستان کے قابل سپوتوں نے وہ معرکے سر انجام دیے کہ دنیا دنگ رہ گئ، بھارتی فوج نے لاہور سے حملہ کرکے ہڈیارہ گاؤں پر قبضہ کرلیا ،جواب میں پاک فوج نے دشمن کو نو گھنٹے کامیابی سے وہیں روکے رکھا اور یہی وقت تھا پاک فوج کے سنبھل جانے کا اور بھارتی فوج ڈگمگا کر رہ گئ …بی آر بی نہر بھارتی فوج کیلیےمضبوط دیوار بن گئ
    یہ معرکہ شہید میجر عزیز بھٹی نے سر انجام دیا اور شہادت سے سرفراز ہوئے…
    اگلے دو دن پاک فوج نے بھارت کے علاقے میں آٹھ کلو میٹر تک پیش قدمی کی اور قصبہ کھیم کرن پہ پاکستان کا پرچم لہرادیا جس کے جواب میں جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے اپنے ٹینک اس جنگ میں جھونک دیے ،اس محاذ پر دوسری جنگ عظیم کےبعد ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ ہوئ ،اس جنگ میں فرسٹ انڈین آرمر ڈویژن بھی شامل تھا جسکے باعث پاک فوج پہ یہاں دباؤ بڑھ گیا تو پاک فوج کے جوانوں نے اپنے جسموں سے بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ٹینکوں کا قبرستان بنادیا، اسی کے ساتھ پاک فضائیہ بھی حرکت میں آگئ اور یوں چونڈہ کے مقام پر بھارتی پیش قدمی روک دی گئ… آج بھی چونڈہ کے مقام پر وہ ٹینک نصب ہے جسے بھارتی چھوڑ کر بھاگے تھے.
    بھارت میں چونڈہ کا مقام انکے ٹینکوں کی قبر کے نام سے” جانا جاتا ہے ”
    پھر پاک فضائیہ نے اپنے جوہر دکھائے اور بھارتی اڈوں کو بہت نقصان پہنچایا اسی میں پاک فوج کے دو ہواباز رفیقی اور یونس حسن شہید ہوگئے.. پھر اسکے بعد بھارتی فضائیہ کی کوئ قابل ذکر کارکردگی دیکھنے میں نہیں آئ اور یہیں دوسری طرف پاکستان کےقابل فخر سپوت ایم ایم عالم نے بھارت کے چار ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مارگرائے جس نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑڈالی..
    جہاں بری اور فضائ فوج نے دشمن کو مارگرایا وہیں بحری فوج نے بھی اپنے جوہر دکھائے اور بھارت کے دوارکا نامی اڈے کو تباہ کردیا دوسری طرف پاک بحریہ کی آبدوز غازی” نے بھارتی بحری جنگی جہاز ککری بھی تباہ کردیااس سے بھارتی بحریہ کی بھی کمر ٹوٹ گئ اور اسی کی بدولت کراچی محفوظ رہا.. یہ یاد گار جنگ تیئس ستمبر کو ختم ہوئ اور اپنے ساتھ ساتھ بھارت کے ماتھے پہ شکست کا کلنک چھوڑگئ اور پاکستان کی فتح ساری دنیا نے دیکھی….
    چھ ستمبر کی جنگ کے بعد سے بھارت نے کبھی پاکستان سے آمنے سامنے جنگ کی ہمت نہ کی ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کر کے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے…
    ہر سال پاکستان میں چھ ستمبر کی اس جنگ کو یاد کیا جاتا ہے جس میں بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا…
    یہ وہ دن ہے کہ جب دنیا نے دیکھا کہ ایک کمزور ملک نے کسطرح جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو شکست دی…
    اسی فتح اور پاکستان کے مضبوط دفاع کی مناسبت سے اس دن کو یوم دفاعِ پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
    یہی وہ یادگار دن ہے جب پاک فوج کے جانبازوں نے اس ملک کی خاطر اپنی جانوں کی بازیاں کھیلیں اور اپنے رب کے حضور سرخرو ہوگئے… آج بھی پاکستان کا ہر ایک جوان پہلے سے زیادہ نڈر اور بہادر ہےانکو موت کا کوئ خوف نہیں یہ تو بس اس وطن کیلیے جیتے ہیں اور شہید ہونا ایک اعزاز سمجھتےہیں… یہی وہ بے خوفی ہے جو انکی فتح کی ضامن یے کہ ایک مسلمان کیلیے شہادت کے مرتبے پر فائز ہونا تو ایک بہت بڑا اعزاز ہے جسکی تمنا عمر ابن خطاب رض جیسے صحابی نے کی…

    اے میرے وطن کے پاسبانوں
    تم اس وطن کے ماتھے کا جھومر ہو
    تم اس وطن کا قابل فخر سرمایہ ہو

    @timazer_K

  • تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    سگریٹ پینے سے جسم پر کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک سائنسی تحقیق کے مطابق، سگریٹ پینے سے تمباکو کے استعمال سے منسلک نہیں بلکہ ان تمام وجوہات سے مرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سگریٹ پینے سے نظام تنفس، گردش کا نظام، تولیدی نظام، جلد اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں اور اس سے بہت سے مختلف کینسروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔استحریر میں سگریٹ پینے سے کچھ ممکنہ اثرات دیکھتے ہیں۔1. پھیپھڑوں کو نقصان۔سگریٹ پینا پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ایک شخص نہ صرف نیکوٹین بلکہ مختلف قسم کے اضافی اور ٹاکسن کیمیکلز میں سانس لیتا ہے۔سگریٹ پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں خاطر خواہ اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ خطرہ مردوں کے لیے 25 گنا اور خواتین کے لیے 25.7 گنا زیادہ ہے۔2. دل کی بیماری سگریٹ پینا دل، خون کی شریانوں اور خون کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور ٹار کسی شخص کے ایتھروسکلروسیس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جو خون کی رگوں میں تختی کی تعمیر ہے۔ یہ تعمیر خون کے بہاؤ کو محدود کرتا ہے اور خطرناک رکاوٹوں کا باعث بن سکتا ہے۔3. بانجھ پن کے مسائل۔سگریٹ پینا عورت کے تولیدی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور حاملہ ہونا زیادہ مشکل بنا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تمباکو اور سگریٹ میں موجود دیگر کیمیکل ہارمون کی سطح کو متاثر کرتے ہیں۔4. حمل کی پیچیدگیوں کا خطرہ۔ایکٹوپک حمل کے خطرے میں اضافہ،بچے کے پیدائشی وزن میں کمی، قبل از وقت ترسیل کے خطرے میں اضافہ، جنین کے پھیپھڑوں، دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کو نقصان پہنچانا۔اچانک بچوں کی موت کے سنڈروم کے خطرے میں اضافہ۔5. ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ۔ ایک بین الاقوامی ادارہے کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی نشوونما کا خطرہ 30-40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔6. کمزور مدافعتی نظام۔سگریٹ نوشی انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے وہ بیماری کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔یہاں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کروناوائرس ایک موذی وبا ہے جو انسان کے پھیپھڑوں اورمدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کے نتیجے میں اسیے افراد جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔7. بینائی کے مسائل۔سگریٹ پینا آنکھوں کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے، بشمول موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط کا زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ لہٰزا، ہر انسان کو چاہیے وہ سیگریٹ نوشی جیسی لعنت سے دور رہ کر آپنے اور آپنے چاہنے والوں کا خیال رکھے۔

  • کیا طلباء کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی ملنی چاہیے؟   تحریر زاہد کبدانی

    کیا طلباء کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی ملنی چاہیے؟ تحریر زاہد کبدانی

    کلاس روم کا ماحول آج کے بچوں سے واقف ہے اس ماحول سے بہت مختلف ہے جو ان کے والدین نے تجربہ کیا تھا جب وہ طالب علم تھے۔ ان میں سے بہت سی تبدیلیوں کا پتہ ٹیکنالوجی سے لگایا جا سکتا ہے ، جس کی آہستہ آہستہ گزشتہ کئی سالوں سے سکول اور اس کے کلاس روم میں بڑھتی ہوئی موجودگی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی نے نہ صرف بچوں کے لیے کلاس روم کے تجربے کو تبدیل کیا ہے ، بلکہ انٹرنیٹ کا بہت زیادہ شکریہ ، ٹیکنالوجی نے بچوں کے گھر میں اسکول کا کام کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔ اگرچہ ایک ممکنہ طور پر قیمتی سیکھنے کا آلہ ہے ، انٹرنیٹ یہاں تک کہ آج کے طلباء کے لیے کئی مسائل پیدا کرتا ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کے غیر شعوری استعمال کی بات کرتے ہیں تو بچے اور طالب علم سب سے پہلے سب کے ذہن میں آتے ہیں۔ اگر کوئی بالغ ٹیکنالوجی نقصان دہ طریقے سے استعمال کرتا ہے تو ہم اسے "بے ہوشی” کے بجائے "انتخاب” کہیں گے۔ لیکن یہ بچوں کے لیے مختلف ہے کیونکہ وہ عام طور پر ان ممکنہ مضر اثرات سے آگاہ نہیں ہوتے جو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ، ہم والدین اور بڑوں کے لیے ٹیکنالوجی کے ممکنہ مثبت اور منفی اثرات کے بارے میں کچھ یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں۔ یہ تحریر طلباء کے لیے ٹیکنالوجی کی اہمیت ، اس کے مثبت اور منفی اثرات پر کچھ روشنی ڈالے گی۔

    پہلا سوال جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ: ٹیکنالوجی کا بچوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ جواب سادہ ہے: کمپیوٹر ، اسمارٹ فون ، ٹیبلٹ ، ٹیلی ویژن ، جدید کھلونے اور اسی طرح کی تمام تکنیکی مصنوعات جو بچوں کے لیے دلچسپ ہوں گی۔ بچوں کے لیے ٹیکنالوجی یہ سب کچھ ہے۔

     1 انٹرنیٹ کی اہمیت۔

    انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک بہت ہی معروف رجحان ہے۔ کالج میں ہر طالب علم طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کے بارے میں بات کرتا ہے۔ تاہم ، ان میں سے بیشتر کو انٹرنیٹ مقامات کی گہرائی کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے ، جیسے کہ یہ کتنا مفید ہے اور جب آپ اسے استعمال کریں گے۔ انٹرنیٹ نے مواصلات ، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں بھی بہت سی تبدیلیاں اور پیش رفت کی ہے۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک استاد کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ طلباء انٹرنیٹ کو فوری استعمال کے لیے معلومات اور معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جن کی انہیں پراجیکٹس ، اسائنمنٹس یا اپنے مضامین کے لیے ضرورت ہے۔ طالب علموں کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کے خلاف تنقیدوں اور بحثوں کے باوجود ، یہ اب بھی ان کی زندگیوں اور مجموعی طور پر تعلیمی دنیا میں ترقی اور ترقی میں معاون ہے۔

    اسے کسی وقفے یا وقت کی ضرورت نہیں ہے:

    انٹرنیٹ کی دنیا ہمیشہ متحرک رہتی ہے اور یہ کبھی وقفہ یا وقت نہیں لیتی۔ یہ حقیقت طالب علموں کو اپنی اسائنمنٹس ، ریسرچ پروجیکٹس اور کسی بھی وقت کام کرنے کے قابل بناتی ہے جو ان کے مطابق ہو۔ اس سے قطع نظر کہ اگر آپ مدد یا پڑھنے کے لیے کوئی رپورٹ ڈھونڈ رہے ہیں ، آپ اسے گوگل کے ذریعے انٹرنیٹ پر چوبیس گھنٹے تلاش کر سکتے ہیں۔۔

    2- ذہنی مہارت کی ترقی:

    طالب علموں کے لیے دماغی ورزشیں اس کے جسمانی مواد تک محدود ہیں۔ وہ بچہ جس کے گھر میں کئی مختلف انٹیلی جنس گیمز یا مشقیں ہوتی ہیں اسے ایک ہی ورزش بار بار کرنا پڑتی ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے اب اور بھی بہت سے مواقع ہیں۔ ان بچوں کے لیے میموری گیمز جو اپنی یادداشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ان بچوں کے لیے توجہ کھیل جو اپنی حراستی اور توجہ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ان بچوں کے لیے بصری کھیل جو اپنی بصری بینائی اور مہارت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور بہت کچھ آج تک آپ کی انگلی پر ہیں۔ لہذا ، ٹیکنالوجی ان بچوں کے لیے کارآمد ہے جو اپنے کمپیوٹر یا ٹیبلٹ کو کار یا موٹر سائیکل کی دوڑ کھیلنے کے بجائے دماغی کھیل کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک اہم خلفشار بھی بن سکتا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس آسانی سے اور جلدی سے بچوں کو ان کے سکول کے کام سے ہٹا سکتی ہیں ، ان کا قیمتی وقت ضائع کر کے انہیں اپنی پڑھائی کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ، انٹرنیٹ نے دنیا بھر کے طلباء کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ثابت کیا ہے۔ لیکن ان طالب علموں کو اس بات کی نشاندہی کرنی چاہیے کہ انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے فوائد اور نقصانات ہیں جب کہ اپنے کیریئر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت صرف مذکورہ بالا فوائد تک محدود نہیں ہے۔ تاہم ، والدین کو یہ یقینی بنانے کے لیے چوکس رہنا ہوگا کہ ان کے بچے انٹرنیٹ کا استعمال علم اور کیریئر کی ترقی کے لیے کر رہے ہیں۔ بعض معاملات میں ، طالب علم تفریحی مقاصد کے لیے اس کا غلط استعمال بھی کر سکتے ہیں ، مثال کے طور پر ، سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنا۔ انٹرنیٹ طلباء کے لیے تعلیم کے تمام پہلوؤں میں اہم ہے۔ یہ طالب علموں کے لیے ایک استاد کے طور پر کام کرتا ہے۔ انٹرنیٹ نے تعلیمی حرکیات اور اس کے انجام دینے اور کام کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ اب کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر اسائنمنٹس انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اداروں میں آن لائن لائبریریوں سے بھی ممکن ہے۔ لہذا ، بچوں کے نقطہ نظر سے اس موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے ، ہمیں صنعتی مشینوں ، طبی آلات یا جنگی مواد کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، 

    @Z_Kubdani

  • موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی  بیماری   تحریر : فرح بیگم

    موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی بیماری تحریر : فرح بیگم

    موبائل فونز کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان خود کو بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے ڈاکٹرز کا مشورہ یہ ہے کہ موبائل فونز کا زیادہ استعمال ذہنی دباؤ ، پریشانی ، دل کی بیماری ،سر درد ، نظر کا کمزور ہونا اور دوسری بیماریوں کا سبب ہے۔ لوگ کام کرتے ،کھاتے، چلتے پھرتے، ڈرائیونگ کرتے وقت استعمال کرتے ہیں ۔ بشتر احاثات سڑک پر موبائل فون کے استعمال کرنے سے ہوتے ہیں ۔ البتہ گاڑی چلاتے وقت موبائل یوز کرنا کسی کی جان لینے کے برابر ہے ۔ زیادہ موبائل فون کا استعمال نوجوان نسل میں بہت اہم پایا جاتا ہے۔ سم فرنچائز کے دیے گۓ پیکجز ،فری کالز،فری ایس ایم اس آفرز نوجوان نسل کو خراب کر رہی ہے ۔سری سری رات کال پر باتیں کرنا ،ویڈیو گیمز کھیلنا ، سوشل میڈیا کا بے جاں استعمال صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے ۔
    موبائل کے استعمال سے تعلیم پر بھی گہرا اثر پڑھتا ہے ۔بچے اپنا زیادہ وقت موبائل فون پر لگاتے ہیں جس کا سیدھا اثر بچوں کی پڑھائی پر ہوتا ہے نا وہ ٹیسٹ میں دل لگا کر محنت کرتے ہیں نا پاس ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر تعلیم حاصل کرنا چاھتے ہیں تو موبائل کے استعمال سے پرہیز کرنا ہوگا ۔ جس کالج اور یونیورسٹی میں موبائل فون لے کر جانے میں پابندی نہیں ہوتی وہاں بعض اوقات طالب علم لیکچر کی دوران ایس ایم ایس یا ویڈیو گیمز کھیلتے نظر اتے ہیں ۔موبائل فون سے فحاشی کا کافی حد تک اصافہ ہوا ہے ۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہو یا ہوئی بھی اپپ ، اس سے بچے بہت بگڑ گے ہیں ۔ پہلے آپ نے سنا ہوگا چوری ہوئی ہے ، یا كیڈناپپینگ ہوئی ہے لیکن آج کل یہ سب چیزیں آنلاین موبائل فون کے ذریغے ہو رہی ہیں ۔ یہاں تک کے بلیک میالینگ بھی کھلے عام جاری ہے ۔اس کی وجہہ سے کرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ جس میں مختلف وارداتیں شامل ہیں ۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات اس قدر بڑھ گۓ ہیں کہ گننا مشکل ہے ۔
    موبائل فون کے حوالے سے اور بھی بہت نقصانات ہیں جو کے معاشرے میں بہت واضح ہیں اور لوگ انکو جھیل رہے ہیں لیکن اگر ہمیں ان نقصانات سے بچانے کے لیے ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہہ سے ہم اس ضرورت کی چیز کو استعمال تو کریں پر وہ بھی ایک حد تک ، اور اس معاشرے پر جو اثرات پڑھے گے اس کو بھی کم کر سکیں۔
    اب ہم سب والدین کی ذمداری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل دینے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ انکو موبائل کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو یہ دیکھ لیں کے وہ اسکا استعمال کس طرح ،کب اور کیسے کر رہے ہیں ۔ بچوں کی غیر موجودگی میں انکے موبائل فون کو دیکھیں اور چیک کریں کہ وہ اس کا استعمال غلط تو نہیں کر رہے ہیں ۔ بچوں کی خفاظت اب والدین پر لازم ہے۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • ملا محمد عمر کون تھے ؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    ملا محمد عمر کون تھے ؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    ملاعمر کا شمار 90 کی دہائی کے طاقتور ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے انھوں نے 1996 میں افغانستان میں طالبان حکومت قائم کی تاہم ان کی زندگی کے کئی پہلو پوشیدہ اور خفیہ رہے
    ٹویٹر پر ایک صارف کی جانب سے ملاعمر سے متعلق معلومات بتائی گئی ہیں انھوں نے ان معلومات کے لیے تین کتابوں کا حوالہ دیا ہے ان کتابوں میں ایلکس اور فیلکس کی کتاب این اینیمی وی کریٹڈ دی میتھ آف دی طالبان القاعدہ مرجر ان افغانستان، احمد رشید کی کتاب طالبان ملیٹنٹ اسلام اور کرسٹوفر اینڈریو اور وسیلی مٹروکھن کی کتاب دی ورلڈ واز گوئنگ اوور وے شامل ہے
    ملاعمر کی پیدائش سن 1959 میں ہوئی۔

    قندھار کے نزدیک نودیھ گاؤں میں ان کا خاندان انتہائی غریب تھا جو کھیتی باڑی کے پیشے سے وابستہ تھا اُن کا تعلق ہوتک قبیلے سے تھا جو پشتونوں کی غلزئی شاخ سے تعلق رکھتے تھے
    افغان جہاد شروع ہونے کے بعد، سن 1980 کی دہائی میں ان کا خاندان ارزگان صوبے منتقل ہوگیا روزگار کی تلاش میں ملا عمر قندھار آئے اور میوند ضلع کے سنگیسار گاؤں میں مدرسہ کھولا انھوں نے حزب اسلامی میں شمولیت اختیار کی اورنیک محمد کی سرپرستی میں نجیب اللہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔
    ایک حوالے کے مطابق 1994 میں انھوں نے ظالم جنگجوؤں کےخلاف اہم کارروائی کی طسنگیسار کے پڑوسی علاقے سے کچھ افراد نے ملا عمر سے شکایت کی کہ جنگجو کمانڈر نے دو کم عمر لڑکیوں کو اغوا کرلیا ہے اور ان کے ساتھ کئی بار ریپ کیا گیا ہے ملا عمر نے 30 طالبان کا گروپ تشکیل دیا جن کے پاس صرف16 رائفلز تھیں انھوں نے جنگجوؤں کے اڈے پر حملہ کرکے لڑکیوں کو آزاد کروایا اور جنگجوؤں کو ٹینک کی توپ سے پھانسی پر لٹکادیا
    کچھ عرصے بعد ایک بچے سے بدفعلی کے لیے دو کمانڈرزکی قندھار میں شدید لڑائی ہوئی جس میں متعدد شہری بھی مارے گئے ملاعمر کے گروپ نے بچے کو آزاد کروایا ان تمام تر کارروائیوں کے بعد لوگوں نے ملا عمر کو اپنا مسیحا سمجھنا شروع کردیا اور یوں اپنے مسائل کے حل کے لیے اِن کے پاس آنے لگے
    گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان لڑائی نےافغان عوام کو شدید متاثر کیا احمد شاہ مسعود کے شمالی اتحاد نے ابتدا میں ملا عمر کو طالبان تحریک کے لیے 10 لاکھ ڈالر نقد دئیے
    کچھ عرصے بعد اسپن بولدک میں طالبان نے اسلحہ کے بڑے ذخیرے پر قبصہ کرلیا جو تین ڈویژنز کے لیے کافی تھا۔
    طالبان نے چند ماہ میں افغانستان کے 31 صوبوں میں سے 12 صوبوں پر قبضہ کرلیا 4 اپریل 1996 کو طالبان نے ملا عمر کو امیرالمومنین نامزد کردیا قندھار کی ایک عمارت کی چھت پر ملا عمر چوغے میں خود کو لپیٹے جب سامنے آئے تو نیچے موجود افراد نے امیر المومینین کے نعرے لگانا شروع کردئیے ان کی نجی زندگی سے متعلق بھی بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں بتایا گیا ہے کہ دوران جنگ وہ 4 بار زخمی ہوئے اور ایک بار ان کی سیدھی آنکھ زخمی ہوئی جس کے بعد ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی ملا عمر ساڑھے 6 فٹ لمبے اور مناسب جسامت رکھتے تھے پاکستان نے جب 1998 میں ایٹمی دھماکے کئے تو ملا عمر اور طالبان کی جانب سے اس کو سراہا گیا اور پاکستان پر کسی بھی حملے کو افغانستان پر حملے سے تشبیہ دی گئی نائین الیون کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملا عمر نے امریکا کے خلاف حملوں کی مخالفت کی تھی انھوں نے سب سے پہلے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کی مذمت کی اور افغان طالبان کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگے انھوں نے کہا تھا کہ خود مختار عدالت اس واقعے میں اسامہ بن لادن کا ہاتھ ہونے کی تحقیقات کرے تاہم امریکی صدر جارج بش نے افغانستان پر حملہ کردیا
    سال 2001 کے بعد ملا عمر اپنی موت تک افغانستان سے باہر نہیں گئے انھوں نے طالبان کے امور اپنے ساتھی ملا عبید اللہ کے سپرد کردئیے اور خود زابل صوبے چلے گئے جہاں وہ اپنے ڈرائیور کے گھر میں روپوش رہے ایک بار امریکی فورسز نے اس گھر پر چھاپہ مارا لیکن وہ ملا عمر کے خفیہ کمرے تک نہیں پہنچ سکے۔
    امریکی فورسز نے جب اس علاقے میں اپنا مستقل فوجی اڈہ قائم کیا تو ملا عمر نے اس مکان کو چھوڑ دیا اور وہ سیورے کے علاقے میں منتقل ہوگئے ملا عمر کا مکان امریکا کے چھوٹے فوجی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر تھا وہ 9 برس اپنی موت تک اس علاقے میں رہے۔
    اللّه پاک حضرت محمد ملا عمر رح کے درجات بلند عطا فرمائے اور انکو جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔

    @SyedUmair95
    @suhailshaheen1

  • دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد آپ کے مسوڑھے میں پھنسے ہوئے پاپ کارن سے لیکر ٹوٹے ہوئے دانت یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ تک کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے۔کچھ دانتوں میں درد عارضی طور پر ھوتا مگر دانتوں کے شدید درد کو دانتوں کے پیشہ ور ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ درد کی جو بھی وجہ ہو اس کو حل کیا جائے۔آج کے کالم میں بتانے کی کوشش کرونگا کے دانتوں کے درد کی وجہ یہ ھوتا کیسے اور اس مناسبت سے اسکا حل و علاج کیا ھونا چاھیئے۔
    دانت کے درد کی ساری وجوہات میں سے چند درج ذیل ھیں
    1۔دانتوں میں کیڑا لگنا
    2۔دانت کا فریکچر ھونا
    3۔ٹوٹی یا خراب فلنگ یعنی بھرائی کا ھونا
    4۔مسوڑوں کا انفیکشن ھونا
    5۔نئے دانت کا بالخصوص عقل داڑھ کا نکلنا
    6۔دانتوں کو رگڑنا گرائنڈ کرنا
    7۔کوی بھی ایسی بیماری یا وجہ جس سے دانت کا کمزور پڑ جانا
    اب آتے ھیں دانت کا درد ھوتا کیسے ھے یہ بات تو صاف ھے کے دانت بذات خود ایک بے جان ھڈی ھے جسکو ٹھنڈا گرم لگنا یا درد کا ھونا ناقابل فہم ھے تو پھر دانت میں کوئی مسئلہ ھو تو درد کیوں ھوتا ھے؟ سنسیٹویٹی کیوں محسوس ھوتی ھے؟اسکی وجہ ھے دانتوں میں موجود Pulp یعنی پلپ یہاں موجود ھوتی تمام innervation عام لفظوں میں ناڑ یعنی nerve supply پس یہی وہ چیز ھے جسکو جب کوی چھیڑخانی ھو تو سردی بھی لگے گی اور گرمی بھی کسی قسم کی انجری ھوی تو درد بھی ھوگا اسکو سمجھنے لئے بتاتا ھوں ایک مریض شدید دانت درد میں آیا اسکا علاج کرنے لئے ٹیکا لگایا جگہ سن ھوگئی دانت کا درد وقتی طور پر غائب ھوگیا یہ درد کیوں غائب ھوا؟ دانت وھی انفیکشن وھی پر تو درد کیسے غائب وہ اسلئے کہ جو ناڑ درد کی زد میں تھی وہ دانت کے اندر pulp میں موجود تھی اور جب وہ سن ھوئی تو درد وقتی غائب ھوگیا یہ pulp دانت کا ڈیفنس سسٹم ھے درد کی شدت جہاں مریض کو سکون سے بیٹھنے نھیں دیتی وھی وہ مریض لئے باعث نعمت بھی ھے کہ اگر یہ محسوس نا ھو اور انفیکشن بڑھتا جائے تو نا صرف دانت بلکہ کئ کیسز میں جبڑا تک لپیٹ میں آجاتا ھے۔

    دانت کے درد کی شدت ایک معمولی سنسناہٹ سے لیکر دل کی تکلیف سے زیادہ تک ھوتی ھے اس شدت کا تعلق بھی اسکی وجوہات میں پوشیدہ ھے دانتوں کے درد دو طرح کے ھوتے ایک درد کو ھم Acute Pain کہتے یہ اچانک ھوتا شدید ترین ھوتا اور فوری علاج بھی مکمل غائب بھی ھوجاتا دوسرا chronic pain کہلاتا یہ پرانا انفیکشن پرانا درد کہلاتا یہ شدت میں کم کسی خاص وقت زیادہ اور کبھی کبھی ھوتا یہ دیر سے ختم ھوتا اکثر دانت کے نکلوانے کیبعد ھی جاکر اس درد کا خاتمہ ھوتا یہ وہ کیسز ھوتے جن کا بگاڑ شوکت خانم ھسپتال جیسے اداروں طرف رخ کرواتے اسکے علاوہ ایک درد جسکو Referred Pain کہتے یعنی ھو کسی اور دانت میں رھا مگر محسوس کسی اور جگہ ھورا ھوتا کہلاتا دانتوں کے درد کا کوی خاص وقت نھیں ھوتا اکثر لوگ جو دانتوں کے مسائل میں گرے ھوتے وہ مجھ سے جب شکایت کرتے انکو رات کے وقت شدید درد ھوتا تو میں انکو سمجھانے لئے بتاتا وہ اسلئے کہ رات کو منہ زیادہ خشک ھوتا تو ایسے میں بیکٹریا کو اپنا پراجیکٹ باآسانی کرنے کو ریلاکس ماحول مل جاتا اسلئے رات سونے سے پہلے نیم گرم پانی نمک ڈال کلی لازمی کریں بہرحال وجوہات کئ تو علاج بھی کئ موجود ھیں انفیکشن ھے کیڑا لگ گیا ھے آدھا ٹوٹ گیا فریکچف ھوگیا تو دانت کا روٹ کینال کرائیں زیادہ خراب ھونے کی صورت نکلوا دیں مسوڑوں کا انفیکشن ھے تو دانت صاف کرائیں ماؤتھ واش توتھ پیسٹ استعمال کریں دانت گرائنڈ کرتے تو اسکے پیچھے جو وجوہات ھیں انکو دور کریں Bells Palsy یا Trigeminal Nuralgia مخصوص nerves کی بیماری ھوتی اسکی وجہ سے منہ میں دانتوں میں شدت کا درد ھوتا یہ باقی دانتوں کے درد سے مختلف اس طرح ھوتا کہ یہ کسی خاص عمل سے ایک دم شروع ھوتا انتہائ شدید ھوتا مگر جلد ختم ھوجاتا جبکہ دانت کا اپنا درد جب ھوا دیر تک رھتا ساتھ کئ کیسزز میں ٹھنڈا گرم بھی ساتھ لگ رھا ھوتا کوی نا کوی دانت کیڑا لگا ھوا ضرور ھوتا اسکا علاج دوائیوں سے لیکر جو ناڑھ زد میں آئی اسکی سرجری تک ھوتا ھے دانتوں کے درد میں وقتی طور انفیکشن کنٹرول لئے دوائیاں دی جاتی اکثر کیسز میں میٹرونیڈازول المعروف flagyl دی جاتی تو مریض کہتا کہ یہ دو معدے لئے ھے تو انکو بتانے لئے کہ کہ antibiotic کوی بھی ھو وہ کسی جسم کے حصے لئے نھیں وہ ھمیشہ مخصوص بیکٹریا لئے ھوتی اب وہ بیکٹیریا اگر منہ میں ھوں یا معدے میں اگر وہ ایک خاص قسم کے ھیں تو دوائ بھی وھی ھوگی درد انفیکشنز کی دوائیاں بھی مختلف ھوتی اس سے اکثر مریض معدے میں جلن اور درد کی شکایت کرتے اسکے لئے معدے کے لئے بھی Antacid ساتھ دیا کرتے گھریلو ٹوٹکوں کے طور پر اکثر لوگ لونگ کا تیل cotton پر لگا کر دانت کے اندر رکھتے نیم گرم پانی میں نمک ڈالکر کلی کرتے اور اسی طرح لہسن کو پیس کر پانی نکال کر cotton ساتھ لگا کر دانت میں رکھ لیتے اس سے وقتی آرام آجاتا

    الغرض دانتوں کے کئی مسائل اور وجوہات کی بنا پر دانتوں میں درد نکل آتا ھے جنکا سدباب بروقت تشخیص اور علاج سے ممکن ھے کسی بھی طور پر کسی درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا بڑی پریشانی اور تکلیف کا باعث بن سکتا ایسی تمام پریشانیوں سے بچنے لئے ڈینٹل سرجن کو لازم چیک کرواکر علاج کرانا بڑی پریشانی و تکلیف سے نجات کا باعث بن سکتا ھے

  • لٹل ڈریگن، ایم ایم عالم  تحریر : اقصٰی صدیق

    لٹل ڈریگن، ایم ایم عالم تحریر : اقصٰی صدیق

    ایم ایم عالم 6 جولائی 1935ء کولکتہ کے ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ 11 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے، آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم 1951 ء گورنمنٹ ہائی سکول ڈھاکہ میں مکمل کی۔
    1952 ء میں پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی، اور 2 اکتوبر 1953 ء کو انہیں کمیشن دیا گیا۔
    ایم ایم عالم کو بچپن ہی سے پائلٹ بننے کا شوق تھا جبکہ ان کے والد انہیں سی ایس ایس آفیسر بنانا چاہتے تھے۔
    فورس میں شامل ہونا ان کا خواب تھا، سو اس خواب کی تعبیر کے لیے انہوں نے لڑائی کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی۔
    جب ہندوستان کی تقسیم ہو رہی تھی اور مسلمانوں پر ہندوؤں کے حملوں اور مظالم کی خبریں آ رہی تھیں، اس دور میں ایم ایم عالم اپنے پاس اپنی حفاظت کے لیے چاقو رکھتے تھے۔
    قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد ان کا خاندان پاکستان آگیا۔ ایم ایم عالم اپنے خاندان کے پہلے فرد تھے جنہوں نے ایئرفورس جوائن کی۔
    1965 ء میں وہ سرگودھا ائیر بیس میں تعینات تھے کہ بھارتی ائیر فورس نے حملہ کر دیا۔
    اس موقع پر ملک کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے 5 جہاز مار گرائے، جبکہ پہلے 30 سیکنڈ میں 4 بھارتی طیاروں کو گرانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
    1965ء کی اس جنگ میں ان کی جرأت و بہادری کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
    یہی کارنامہ ان کی وجہ شہرت بنا اور اسی بناء پر انہیں ستارہ جرأت کے اعزاز سے نوازا گیا۔جبکہ اسی وجہ سے انہیں” لٹل ڈریگن” بھی کہا جاتا ہے۔
    1965ء کی جنگ کے بعد ایم ایم عالم سوویت افغان جنگ میں بھی شریک رہے اور 1982 ء میں ائیر کموڈور کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔اور ان کا زیادہ تر رجحان دین کی طرف ہو گیا۔انہوں نے خود کو تبلیغِ اسلام کے لیے وقف کر دیا۔
    اوائل عمر ہی سے ایم ایم عالم کو کتب بینی کا شوق تھا۔کتابیں جمع کرنا اور پڑھنا ان کا مشغلہ اور جنون تھا۔
    ایم ایم عالم کی خدمات کے اعتراف میں گلبرگ لاہور کی ایک سڑک کو ” ایم ایم عالم روڈ” کا نام بھی دیا گیا۔
    اپنے گھر اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں سنبھالنے اور انہیں معاشرے کے مفید اور قابل افراد بنانے کے لیے ایم ایم عالم نے شادی نہیں کی۔
    ایم ایم عالم کی بھرپور کوشش اور محنت کے بدولت ہی ان کے چھوٹے بھائیوں نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔
    ایم ایم عالم کے ایک بھائی شاہد عالم معاشیات کے استاد، جبکہ دوسرے بھائی ماہر طبیعیات تھے۔
    ایم ایم عالم نے اپنے ائیر فورس کیرئیر کے دوران بہت سے کورسز کیے، ان میں فائٹر کنورژن کورس، فائٹر لیڈر کورس، پی اے ایف اسٹاف کالج کورس، امریکہ سے اورینٹیشن ٹریننگ کورس اور برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز کا کورس شامل ہے۔
    ایم ایم عالم کے نام سے مشہور ائیر کموڈور (ریٹائرڈ) محمد محمود عالم طویل علالت کے بعد بالآخر 18 مارچ 2013 ء کو 78 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
    ایم ایم عالم 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے ہیرو قرار پائے۔
    ان کی اسی جرأت و بہادری سے متاثر ہو کر ہزاروں نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔
    ایم ایم عالم نے اسی اسپتال میں دم توڑا، جہاں وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے زیرِ علاج تھے۔
    ایم ایم عالم کافی عرصہ سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے، تاہم عمر کے آخری حصے میں ان کی صحت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔
    اُن کی نماز جنازہ مسرور بیس میں ادا کی گئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے چند شاندار برس گزارے تھے۔
    بعد ازاں انہیں مسرور ائیر بیس ہی میں واقع شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
    ایم ایم عالم اپنی جرات بہادری سے فضائیہ کی تاریخ کا نیا باب رقم کر گئے۔

    @_aqsasiddique

  • شہدائے وطن کو سلام!     تحریر: ایمان ملک 

    شہدائے وطن کو سلام!     تحریر: ایمان ملک 

     
    امن و امان  دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر قیمتی چیز ہے کیونکہ جنگ و جدل اور خون خرابے والے ماحول میں نا تو کوئی اپنی خوشیوں سے لطف و اندوز ہو سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی زندگی چین سے جی سکتا ہے۔ مگر پاکستان  کے باسیوں نے سنہ2007 سے سنہ 2018 تک کا وقت بڑی مشکل سے گزار، جب مساجد سے لیکر اسکول، جامعات، پارکس، ائیر بیسز سے لیکر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر و اورانکی ٹرانسپورٹ سروس  تک غیر محفوظ ہو گئی تھی۔ جب عسکری اہلکاروں کو خاکی یونیفارم دفاتر میں جاکر پہننے کے احکامات تھے ، جب ہمارے فوجی قافلے پاکستان کی ہی سڑکوں پر خون میں نہلا دیئے جاتے تھے، جب ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلا جاتا تھا، جب دہشت گرد پاکستان کے شہروں، قصبوں ، گلی محلوں میں روپ بدل کر گھل مل کر رہنے لگے تھے اور موقع ملتے ہی ہمارے پیٹھ پر وار کردیتے تھے، جب فوج کے لیے دوست ، دشمن، اپنے اور پرائے میں فرق کرنا محال ہو گیا تھا اور جب پاک فوج کے بیٹے ہر روز شہادتیں پیش کر رہے تھے۔۔۔!!! 

    اگر پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اس وقت ہمت و حوصلے کا مظاہرہ نہ کرتے اور امریکہ اور نیٹو افواج کی طرح اپنے لاتعداد فوجیوں کی شہادتوں سے خائف ہو جاتے تو آج پاکستان کی بھی صورتحال افغانستان سے مختلف نہ ہوتی۔ واضح رہے کہ فتوحات قربانیاں مانگتی ہیں اور جو قومیں یہ دینے سے گریز کرتی ہیں ناکامی کی ذلت ان کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔  

    پاکستانی فوج دنیا کی وہ واحد فوج ہے جسکےافسران اپنے جوانوں سے بھی آگے بڑھ کر لڑتے ہیں اور اپنی فوج کو فتح کی موٹیویشن دیتے ہیں۔ اسی لئے پاک فوج کےافسران کی شہادتوں کا تناسب جوانوں کے مقابلے میں دینا میں سب سے زیادہ ہے۔ مگر شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں گے کہ شہید کی جان کی قربانی کےعلاوہ اس کے لواحقین کی انگنت قربانیاں بھی اس عظیم مشن کا حصہ ہیں  جسکےعزم کے تحت ہم یوم شہداء مناتے ہیں۔ یہ ہمارے پیاروں کے لہو سے  کی گئی آبیاری کا ہی نتیجہ ہے کہ آج آپ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ اپنی ہر خوشی منا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان سے دہشت گردوں کو شکستِ فاش ہو چکی ہے۔ مگر اُدھر شہداء کے لواحقین کی زندگیاں بے رنگ و بے محل ہو گئیں ہیں۔ ہروقت اب اپنے پیارے شہید بیٹوں/ بھائیوں کی یاد ہی محض ان کا مقدر ہے۔

    جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انہی شہداء  کے لواحقین کے پُر زور اصرار پر 30 اپریل کو پاک فوج میں بطور یوم شہداء  کے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر سنہ 2015 میں بغیر شہداء کے لواحقین کو اعتماد میں لیے، کہ جنکے اصرار پر جنرل کیانی نے یہ دن مختص کیا تھا اسے جنرل راحیل شریف نے ختم کر دیا گیا۔ اور یوں 6 ستمبر کو ہی یوم دفاع کے ساتھ ساتھ  یوم شہداء بھی منایا جانے لگا۔ اور ملک بھر سے شہداء کے لواحقین بنا رینکس کی تفریق کے مرکزی اور اپنے ملحقہ کینٹس کی تقریبات میں شریک ہونے لگے۔ مگر کچھ عرصہ بعد اس پالیسی کو بھی بدل دیا گیا۔ اب اس یوم شہداء کی تقریب میں تمام شہداء کے لواحقین کو مدعو نہیں کیا جاتا بلکہ جو ہمارے فوجی بھائی اسی سال میں شہید ہوتے ہیں صرف انکے اہلخانہ اور نشان حیدر رکھنے والے شہداء کے خاندان اس مرکزی تقریب میں شریک ہوتے ہیں،

    ریاست کو اپنی پالیسی بدلنے کا حق حاصل ہے مگر میری گزارش صرف اتنی سی ہے کہ بھلے ہی ہمارے پیاروں کو ہم سے بچھڑے سالوں بیت گئے ہوں مگر ہم میں سے کوئی بھی اپنے پیاروں کو نہیں بھولا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے زخم مندمل ہونے کی بجائے اور گہرے ہو گئے ہیں۔ پاک فوج ہماری شہداء کی فیملی ہے اسے بلاتفریق سب شہداء کو اسی طرح یاد رکھنا چاہیئے  اور مرکزی تقریب میں مدعو کرنا چاہیئے جس کا سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہم سےعہد کیا تھا۔ اگر جی ایچ کیو میں منعقد کی جانے والی مرکزی تقریب ہمارے شہداء کی یاد میں منائی جاتی ہے، تو پھر ماضی کی طرح تمام شہداء کے لواحقین کو گزشتہ 2 سالوں سے کیوں نہیں بلایا جارہا؟ اس کے برعکس یہ تقریب سیاستدانوں، میڈیا کے لوگوں ، فنکاروں، نام نہاد لبراٹیوں سے کھچا کھچ بھری دکھائی دیتی ہے جو اگلے ہی روز اپنے اپنے ٹویٹر ہینڈلز سے فوج مخالف ٹرینڈز میں ٹویٹ داغ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔!!! 

           اپنوں کو کھونے کا درد وہی جانتا ہے جس نے اپنے کسی بھی پیارے کو وطن کے دفاع کے عظیم مقصد کے تحت قربان کر دیا ہو۔ اس لئے میں وثوق سے کہ سکتی ہوں کہ آپ سب اس تکلیف کا ایک فیصد بھی محسوس نہیں کرسکتے جس سے شہداء کے لواحقین گزرتے ہیں۔ میں آپ سب، بشمول تمام ریاستی اداروں سے ملتمس ہوں کہ ہمارے شہداء کو یاد رکھیں، چاہے سالوں ہی کیوں نہ بیت جائیں انہی کبھی بھولیں نہیں۔ کیونکہ آپ اور آپکے بچوں کی جانب بڑھنے والی 22 گولیوں کو تو صرف میرے بڑے بھائی لیفٹینینٹ فیض سلطان ملک شہید نے تنہا اپنے سینے پر روک لیا تھا۔۔۔اور گمنام نجانے کتنے ہیروز ہیں کتنے پاکستان کے بیٹے ہیں واللہ اعلم۔۔۔!!! 
    آخر میں میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک فوج کو تمام دشمنوں کے مقابلے میں فتح نصیب کرے اور اس کے وقار میں بے پناہ اضافہ کرے۔ اور ہمارا پیارا ملک پاکستان ہمارے شہداء کے پاک لہو کے طفیل دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے آمین ثمہ آمین 
    پاک فوج زندہ باد 
    پاکستان پائندہ باد 
    ایمان ملک