Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گلوبل وارمنگ کے اثرات تحریر :شمسہ بتول

    گلوبل وارمنگ کے اثرات تحریر :شمسہ بتول

    آب و ہوا کی تبدیلی دورِ حاضر کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔اس جدید دور میں علاقاٸی اور موسمیاتی آب و ہوا میں بہت تیزی سے تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق انسان زمین کی آب و ہوا کو تبدیل کر رہے ہیں۔یہ تبدیلیاں اس زمین کے لوگوں ، ماحولیاتی نظاموں ، شہروں اور توانائی کے استعمال پر بہت زیادہ اثر ڈالیں گی اور یہ اثرات دنیا کے غریب ترین اور سب سے زیادہ پسماندہ طبقے کو محسوس ہوں گے جو ان علاقوں میں رہتے ہیں ۔جو آب و ہوا میں تبدیلیوں کے لیے حساس ہیں اور جن کی معاش کا انحصار ہی قدرتی وسائل پر ہے۔ سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے ، اور گلیشیٸر کے وسیع پیمانے پر پگھلنے سے دریاٶں میں طغیانی کا باعث بنتے ہیں ۔ زمین کی اوسط سطح پر ہوا کا درجہ حرارت 1900 کے بعد سے تقریبا °1.4 فارن ہاٸٹ بڑھ گیا ہے ۔اس میں زیادہ تر اضافہ 1970 کی دہائی کے وسط سے ہوا ہے اگرچہ دیگر مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک وسیع رینج مل کر گلوبل وارمنگ کے ناقابل یقین ثبوت فراہم کرتی ہے مگرتھرمامیٹر کے وسیع ریکارڈ سے ثبوت ملتے ہیں۔
    اس سے قبل ، سال 1998 سب سے زیادہ گرم اور 1990 کی دہائی ریکارڈ پر گرم ترین دہائی تھی لیکن سال 2015 نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور اس کے تقریبا ہر مہینے کو اب تک کا گرم ترین قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سطح زمین پہ پچھلے سو سالوں میں اور خاص طور پر پچھلی دو دہائیوں میں بے مثال شرح سے گرمی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ اسکی ایک بڑی وجہ درختوں کی کٹاٸی اور جنگلات میں تیزی سے کمی آنا بھی ہے جسکی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ان سرگرمیوں کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں جو درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی دو اہم وجوہات ہیں: قدرتی اور انسان وجوہات۔ زمین کی آب و ہوا قدرتی عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہے جیسے کہ آتش فشانی کا عمل ، شمسی پیداوار اور زمین کا مدار۔ انسانی سرگرمیاں جو آب و ہوا کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں ان میں جیواشم ایندھن جلانا اور جنگلات کی کٹاٸی، فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں وغیرہ۔
    زمین کی آب و ہوا متحرک ہے اور قدرتی چکر کے ذریعے مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ قدرتی تغیرات اور آب و ہوا کے اتار چڑھاؤ ہمیشہ زمین کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے کئی قدرتی عوامل ذمہ دار ہیں لیکن ان میں سے کچھ اہم براعظمی بہاؤ ، آتش فشاں ، سمندری دھارے ، زمین کا جھکاؤ وغیرہ جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔
    تقریبا 250 ملین سال پہلے ، تمام براعظموں نے ایک بڑی زمین کو بڑے پیمانے پر بنایا جس کو پینجیہ کہا جاتا ہے۔ پھر انہوں نے آہستہ آہستہ الگ ہونا شروع کیا اور الگ الگ براعظم بنائے۔ علیحدہ براعظمی زمینی عوام کی تشکیل نے سمندری دھاروں اور ہواؤں کے بہاؤ کو تبدیل کیا ، اور انٹارکٹیکا کو سولیٹ کیا۔براعظموں کا بہاؤ آج بھی جاری ہے ہمالیہ کی حد ہر سال تقریبا 1 ملی میٹر بڑھ رہی ہے کیونکہ ہندوستانی زمینی حصہ ایشیائی سرزمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔
    بڑے پیمانے پر ، آہستہ آہستہ لیکن مستقل موسمیاتی تبدیلی کی ایک اور قدرتی وجہ آتش فشانی سرگرمی ہے۔ جب آتش فشاں پھٹتا ہے تو یہ سلفر ڈائی آکسائیڈ (SO₂) پانی کے بخارات ، دھول اور راکھ کو فضا میں پھینک دیتا ہے۔ لاکھوں ٹن SO₂ ایک بڑے پھٹنے سے فضا کے اوپر والے درجے (سٹریٹوسفیئر) تک پہنچ سکتا ہے۔ گیسوں اور دھول کے ذرات سورج کی آنے والی کرنوں کو جزوی طور پر روکتے ہیں ، جو ٹھنڈک کا باعث بنتے ہیں۔ زیادہ شدت کے آتش فشاں پھٹنے سے زمین کی سطح تک پہنچنے والے شمسی ڈائیشن کی مقدار کو کم کیا جاسکتا ہے ، موسفٸر کی نچلی سطحوں میں درجہ حرارت کو کم کیا جاتا ہے (جسے ٹروپوسفیئر کہا جاتا ہے) ، اور ماحولیاتی گردش کے نمونوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
    جنوبی ایشیا میں ، سیلاب ، خوراک کی قلت ، اور جمود کا شکار معاشی ترقی صرف کچھ تباہ کن اثرات ہیں جو کہ ہم موسمیاتی تبدیلی میں اضافےکی وجہ سے محسوس کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیاں خاص طور پر سیلاب اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرے ، جنوبی ایشیائی ممالک پر شدید اثرات مرتب کر سکتے ہیں جن کی معیشتیں بنیادی طور پر زراعت ، قدرتی وسائل ، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اخراج میں اضافے کے بارے میں انتہائی معمولی مفروضوں کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے مستقبل کے اثرات دنیا بھر میں خاص طور پر جنوبی ایشیائی ممالک افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، بھارت ، مالدیپ ، نیپال پاکستان اور سری لنکا میں محسوس کیے جائیں گے۔
    ان خدشات کو کراچی میں گرمی کی ایک طویل لہر نے مزید تقویت دی جس نے سینکڑوں افراد کی جان لے لی۔ سائنسدانوں کے مطابق کچھ عرصے تک موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گرمی کی لہریں زیادہ اور شدید ہو جائیں گی۔
    اگر ہم گلوبل وارمنگ کے مسٸلےکو حل کرنا چاہتے ہیں توہمیں اپنے وسائل کو زیادہ مہارت سے استعمال کرنا سیکھنا ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہوں گے تا کہ درجہ حرارت میں شدید اضافہ کو روکا جا سکے۔ ہمیں توانائی کے ان ذرائع کو فروغ دینا ہو گا جن کے منفی اثرات کم سے کم ہوں۔

    @sbwords7

  • ملازمت پیشہ خواتین تحریر : خالد عمران خان

    ملازمت پیشہ خواتین تحریر : خالد عمران خان

    آج کے ترقی یافتہ دور میں ملازمت پیشہ خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، اگر ہم ملک پاکستان کی بات کریں تو یہاں خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دے رہی ہیں پاکستان میں بڑی تعداد میں خواتین ٹیچنگ، میڈیکل، بینکنگ، انجینئرنگ،اکاونٹنٹس اور پرائیوٹ ورکرز کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ہمارے ملک میں خواتین کی ایک بڑی تعداد زرائع ابلاغ سے بھی منسلک ھے جو اخبارات،رسائل،میڈیا چینلز اور شوبز سے منسلک ہیں خوش آئند بات یہ ھے کہ پاکستان میں ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں ھے جو خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں،ہمارے ہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون اپنا گھر اور جاب دونوں ذمہ داریوں بخوبی نبھا رہی ہیں،جہاں کچھ گھرانے ملازمت پیشہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں وہی ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنے والی عورت خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے اپنی گھریلو زمہ داریوں سے خود کو آزاد تصور کرتی ہے جو کہ انتہائی احمکانہ سوچ ہے، ایسے لوگ خواتین کو اپنی جہالت کی نظر کردیتے ہیں، خواتین کو نہ تعلیم دلوانے کے حق میں ہوتے ہیں بلکہ ساری عمر سسرال والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک بہترین نسل کی بنیاد رکھتی ہے جاہل زہنیت کے لوگ اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں، اس کے علاوہ ان گھرانوں کا بھی حال اچھا نہیں ھے جہاں ملازمت پیشہ خواتین  کو آزاد خیال اور گھر والوں کو دبا کر رکھنے والی تصور کیا جاتا ھے جبکہ اگر دیکھا جائے تو آجکل کے دور میں زیادہ جدوجہد ملازمت پیشہ خواتین ہی کررہی ہیں،بچوں کی مناسبت تعلیم و تربیت، ان کی شخصیت کی تکمیل، جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ کا سامنا اور ان کے تقاضے پورے کرنا یہ سب اسی زمرے میں آتا ھے۔اکثر خواتین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس قدرد مگن ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں، وہ مسلسل اپنے آرام و سکون کو نظر انداز کرکے اپنی فیملی کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کرتی ہیں۔
    اگرچہ مرد کو معاشی ذمہ داریوں کا منبہ قرار دیاجاتا ھے لیکن ملازمت پیشہ خواتین بھی اپنے مردوں کا یہ بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی گو کہ ملازمت پیشہ خواتین کو باہر نکل کر بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے لیکن انہیں مرد کے مقابلے میں دگنی مشقت کرنی پڑتی ھے، ٹرانسپورٹ کے مسائل،طویل اوقات کا سامنا کرکے گھر واپسی پر چہرے پر ناگوار شکن لائے بغیر اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں جت جانا واقعی ہی کسی محاذ سے کم نہیں ھے لیکن یہ کام وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بھرپور طریقے سے سرانجام دیتی ہیں،کبھی بھی کسی سے شکایت نہیں کرتیں اور گھر کے کام ہنسی خوشی اپنا فرض سمجھتے ہوئے کرتی ہیں اور معاشرتی کردار بھی بھرپور طریقے سے نبھاتی ہیں، لہذا اب یہ معاشرے کی زمہ داری ھے کہ وہ ایسی خواتین کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھیں،ان پر نکتہ چینی کرنے کی بجائے ان کے کردار کو سراہا جانا چاہیے،انہیں گھریلو ذمہ داریوں سے مبرا قرار دینا سراسر ان کے ساتھ زیادتی ھے ملازمت پیشہ خواتین معاشرے کا تاج ہیں ان کی عزت اور حفاظت یقیناً معاشرے کی ذمہ داری ھے۔
    پاکستان میں خواتین کے لئے گھر سے باہر نکل کر کام کرنا آسان نہیں ھے انہیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے مردوں میں شعور اجاگر کیا جانا چاہیے کہ بطور مسلمان ان پر خواتین کو ڈھانپنا کہنا ہی فرض نہیں بلکہ خود انہیں بھی نظریں نیچی کرنا ہوتی ہیں اور ملازمت پیشہ خواتین بھی ان کی پسندیدہ خواتین جیسی ہی ہوتی ہیں ان کا بھی اتنی ہی عزت و احترام کیا جانا چاہیے جتنا وہ اپنے گھر کی خواتین کا کرتے ہیں
    Written By : Khalid Imran Khan
    Twitter ID :@KhalidImranK

  • آبادی اور ترقی تحریر: فرح بیگم

    کسی بھی ملک کی معیشت کا تعلق اسکی آبادی سے ہوتا ہے ۔مرد اور عورت دونوں اسکا حصہ ہوتے ہیں ۔اگر آبادی بڑھنے کی رفتار ترقی کی رفتار سے زیادہ ہو تو بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ کیوں کہ آبادی زیادہ ہونے کی وجہہ سے بے روزگاری ،خوراک ،صحت ،تعلیم ،پانی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ باز جگہ پر عورتیں با اختیار نہیں ہوتی ہیں انکو تعلیم حاصل کرنے نہیں دیا جاتا انکو نوکری نہیں کرنے دی جاتی ، انکو بہت کم سہولتیں دی جاتی ہیں ۔انکو اپنے حق سے محرم کیا جاتا ہے یہ بھی ملک کو پستی میں دکیل دیتا ہے ۔ اگر ہم پاکستان پر نظر ڈالیں تو یہ واضع ہے کہ پاکستان کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے ۔جو ملکی کاموں میں مکمل حصہ نہیں لے پاتی جس کی وجہہ سے ہمارا ملک پستی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ پاکستان میں خواتین اپنا وقت بچے  سمبلنے میں لگا دیتی ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش کرنے میں گزار دیتی ہیں ۔ ملک کی آدھی آبادی کو ترقی اور معاشی کاموں سے الگ  رکھ کر اگے نہیں بڑھا  جا سکتا ۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی خواتین کو  مضبوط بنائیں۔ انکو بھی مردوں کی شانہ بشانہ رکھ کر ملک کے لیے کام کرنے دیں ۔ خواتین کی با اختیاری ایک طرف خواتین کو معاشی ،معاشرتی، سیاسی طور پر مضبوط رکھتی ہے ۔ انکی صحت اور زندگی کو محفوظ رکھتی ہے اور ملک کو بھی تحفظ فراہم کرتی ہے ۔
                        پاکستان زیادہ آبادی والے ملکوں میں چھٹے نمبر پر آتا ہے ۔پاکستان کی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے اور اس میں سالانہ 2 فیصد اضافہ ہو رہا ہے ۔آبادی کی جو بھی صورت حال ہو البتہ یہ طہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل سیدھا ہمارے ملک کی معیشت پر اثر انداز ہوں گے ۔ اب تو دیہی آبادی سے نوجوان نسل تیزی سے شہر کی طرف رجوع کر رہی ہے ۔ جس سے رہائش ، بے روزگاری ، اور دیگر مسائل پیدا ہونگے ۔بے روزگاری نہ صرف پرشان کن ہے بلک یہ نہ امیدی اور منشیات کی طرف بھی مائل کرتی ہے ۔ اور اگر انسان کو منشیات کی لت لگ جائے تو وہ اس سے مختلف  کاموں میں پڑ جاتا ہے جیسے چوری چکاری ، امن کی خرابی اور دہشت گردی وغیرہ ۔
                          ہمارا معاشرہ اب بھی مردوں کا معاشرہ ہے ۔جہاں مردوں کو انکی مرضی اور حاکمیت حاصل ہے ۔ خاص طور پر لڑکوں کو اب بھی اہمیت دی جاتی ہے کچھ گھرانے لڑکوں کی پیدائش کے لیے لڑکیوں کی لمبی لمبی لائن لگا دیتے ہیں ۔ اولاد کو اللہ تعالیٰ کی دین سمجھ کر بچوں کی لائن لگا دیتے ہیں اور یہی بڑھتی ہوئی آبادی ،بے روزگاری ،تعلیم کی کمی میں اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے اولاد اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے پر اسی خدا نے اعتدال کا حکم بھی دیا ہے انسان کو ۔زیادہ اولاد  ماں اور  بچے دونوں کے لیے ٹھیک نہیں ۔ اس سلسلے میں تعلیم بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور بچوں کی تعلیم کا ویسے بھی اولاد سی سیدھا تعلق ہوتا ہے ۔نیشنل انسٹیٹیوٹ اف پاپولیشن کے مطابق لڑکی جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہو گی اس کا گھرانہ اتنا ہی چھوٹا ہوگا ۔
                            ہمارے ملک میں بے روزگاری ،غربت، مہنگائی ،خوراک،صحت اور تعلیم کے بہت مسائل ہیں ۔ہسپتالوں میں مریضوں کی لمبی لائن لگی ہو ہیں ۔یہ بڑھتی ہوئی آبادی اور گاؤں سے آنے والے لوگوں کی وجہہ سے ضروریات نہ کافی ہیں ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہہ سی ہمارے ملک میں کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ ہیں ۔ زیادہ آبادی کو اجتماہی طور پر بھی خطرہ ہے جیسے بجلی ،گیس پانی فراہم کرنا بھی ایک اہم اور سنگین مسئلہ ہے ۔ جس کی وجہہ سے فیکٹری بند ہو رہی ہیں ،روزگار ختم ہو رہے ہیں اور پیداوار متاثر ہو رہی ہے ۔فیصلآباد جو کھبی پاکستان کا مانچسٹر بولا جاتا تھا اب وہاں کی صنعتیں بھی بند پڑھی ہیں ۔اس کی وجہہ سے ایک مزدور ، کارخانے اور ملک کی معیشت پر برا اثر ہوا ہے ۔گھروں کو گیس دینے کے لیے فیکٹریوں کی گیس بند کر دی گئی ہے ۔ لوگوں کو بھی فکر نہیں ہیں فیکٹری بند ہوتی ہے تو ہو ۔ مختلف منصوبے جیسے میٹرو ،اورینج ٹرین کی ہر گز ضرورت نہیں تھی لیکن اربوں روپے کے اس میگا پروجیکٹ کو کھڑا کیا گیا جب کہ ترقی ،صحت ،خوراک کے منصوبوں کو رد کر دیا گیا ۔
                         اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ملک کو ترقی پذیر ملک بنائیں۔ ہمیں چاہیے مرد اور عورت دونوں مل کر ملک کے لیے کام کریں اور اپنے ملک کو دیگر مسائل سے نکالیں اور اپنے ملک میں رہنے والوں کی ہر ضرورت پوری کریں ۔ اس میں حکومت کی بھی کچھ ذمہداری ہے کہ وہ مختلف منصوبے بنائیں اور اپنی عوام کو ریلیف مہیا کرے ۔تب ہی معاشرہ ترقی کرے گا ۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

    دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

    امریکا میں 30 سالوں سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا پینگوئن "موچیکا ” 31 سال کی عمر میں دنیا کو چھوڑ گیا پینگوئن کو عمر کی وجہ سے اپنے آخری وقت میں بینائی کا مسئلہ درپیش تھا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق "موچیکا ” کی ایک آنکھ میں موتیا اتر آیا تھا اور دوسری آنکھ بڑھاپے سے کمزور تھی لیکن سب سے بڑھ کر وہ چلنے سے بھی معذور ہو چکا تھا جب اسے تکلیف سے نجات نہ مل سکی تو چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اسے پرسکون موت دینے کا فیصلہ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق چڑیا گھر اور ایکوریم میں رہنے والے پینگوئنز میں سے یہ دنیا کا سب سے بزرگ نر پینگوئن تھا 1990 میں اپنی پیدائش کے بعد ہی موچیکا نے لوگوں سے پیار کرنا شروع کردیا وہ لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا تھا اور دوسرے پرندوں کی بجائے انسانی ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کے ساتھ رہنا پسند کرتا تھا۔


    لیکن اچانک اس کی صحت بگڑنے لگی ، اسے ادویات دینے کے ساتھ ساتھ لیزر تھراپی سے بھی گزارا گیا لیکن اس کی تکلیف کم نہ ہو سکی۔

    وائلڈ ہمبولڈ پینگوئنز عام طور پر 20 سال کی عمر کے بعد زندہ نہیں رہتے۔ اخبار کے لیے خبر چڑیا گھر سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، موچیکا برسوں کی "سست روی” کے بعد عمر سے متعلقہ کئی بیماریوں میں مبتلا تھی۔ عملہ اسے آرام دہ اور پرسکون اقدامات فراہم کر رہا تھا جیسے روزانہ میلوکسیکم کی خوراک ، ایک غیر سٹیرایڈیل اینٹی سوزش والی دوا ، اس کا پائیدار سمندری غذا ناشتہ اور لیزر تھراپی سیشن۔

    اوریگن چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق موچیکا کی موت کے بعد بھی ان پرندوں کو بچانے کی عالمی کوششیں جاری رہیں گی اس وقت ہمبولٹ نسل کے پینگوئن کے صرف 12000 جوڑے ہی بچے ہیں جو پیرو اور چلی کے ساحلوں پر پائے جاتے ہیں۔

  • کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات گزشتہ دنوں منعقد ہوئے اس انتخابات کے لئے تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے کراچی میں چھ کنٹونمنٹ بورڈز ہیں جن کو 42 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان 42نشستوں کے لیے 354 امیدوار کھڑے کیے گئے تھے۔ جن کے رجسٹر ووٹرز کی مجموعی تعداد 466،522 بنتتی ہے۔
    یہ معرکہ پاکستان تحریک انصاف نے چودہ سیٹوں کے ساتھ سر کر لیا جبکہ گیارہ سیٹوں کے ساتھ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔تیسرا نمبر آزاد امیدواروں نے چھ سیٹوں کے ساتھ حاصل کیا اس کے علاوہ جماعت اسلامی پانچ سیٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر اور ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ نواز تین تین سیٹوں سے پانچویں نمبر پر رہیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (CBC) کراچی کا سب سے زیادہ آبادی والا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جہاں کی مجموعی آبادی 305،938 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز 190،280 ہیں یہاں 10 وارڈوں میں 104 امیدوار میدان میں تھے۔پیپلز پارٹی چار،تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں نے دو دو نشستیں حاصل کیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ فیصل (CBF) دوسرا سب سے بڑا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جس کی زیادہ تر آبادی اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور ایک زمانے میں یہ علاقہ ایم کیوایم کا تصور کیا جاتا تھا یہاں کی مجموعی آبادی296،469 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹر 159،983 ہیں اس علاقے کو بھی 10 وارڈمیں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 88 امیدوار کونسلر کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔یہاں تحریک انصاف نے چھ ،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی،مسلم لیگ نواز اور آزاد امیدوار ایک ایک نششست حاصل کی۔
    علاوہ ازیں کنٹونمنٹ بورڈ ملیر کے دس واڈوں کے کونسلر کی نشستوں کے لیے 66 امیدوار میدان میں تھے یہاں کی مجموعی آبادی 139،052افراد پر مشتمل ہے جن میں صرف 36،447 افراد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔یہاں بھی پاکستان تحریک انصاف نے اپ سیٹ کیا اور پانچ نششستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے دو دو اور ایک سیٹ آزاد امیدوار نے حاصل کی۔
    کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈز میں پانچ وارڈ ہیں جن کی آبادی 57،745 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 21,424 ہے اور یہاں 49امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔مسلم لیگ نواز دو نشستوں پر اور ایم۔کیوایم،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک ایک نشستوں پرکامیاب ہوئے۔
    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ KCBکراچی کا قدیم کنٹونمنٹ علاقہ ہے یہاں کی مجموعی آبادی 68,877افراد پر مشتمل ہے اور رجسٹرڈ ووٹر 36,970ہیں اس علاقے کے پانچ واڈوں کے لئے 40امیدوار میں مقابلہ تھا اوریہاں ایم کیو ایم نے دو پیپلز پارٹی نے ایک جبکہ دو آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
    جزیرہ نما کنٹونمنٹ بورڈ منورہ کراچی کا سب سے چھوٹا کنٹونمنٹ بورڈ ہے جہاں صرف دو وارڈ ہیں جن میں7 امیدوار میدان میں تھے ، اس کی آبادی صرف 5،874 افراد پر مشتمل ہے اورجس میں سے صرف 3،544 افراد رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔
    یہاں کی دونوں نششستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئ۔
    تحریک انصاف وہ واحد جماعت تھی جس نے تمام 42 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ اگر قومی سیاست میں کامیابی کو مضبوط بنانا ہے تو گراس روٹ لیول پر بھی اپنا قبضہ پکا کرنا ہو گا اور رفتہ رفتہ تحریک انصاف اس میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ایم کیو ایم کے اندرونی انتشار کے بعد کراچی کی سیاست میں جو خلاء پیدا ہوگیا تھا اسے تحریک انصاف پر کرتی نظر آرہی ہے اور یہاں کا ووٹر مہنگائ پر شکایت تو کرتا نظر آتا ہے لیکن ووٹ صرف تحریک انصاف کو ہی دینا چاہتا ہے۔۔اللہ کرے کراچی کے ووٹرز تحریک انصاف اور عمران خان صاحب سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں وہ جلد پوری ہوں۔

    @Azizsiddiqui100

  • جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کی حالات  تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کی حالات تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ء۱۹۴۳ میں دیوبند کی اس سرزمین میں پیدا ہوئے جس سے پھوٹنے والے علم کے فواروں نے ایک دنیا کو سیراب کیا ،دس سال کی عمر میں اپ نے درسی نظامی کا آغاز کیا اور سترہ سال کی عمر میں اس کی تکمیل کرکے فارغ ہوئے ،تاہم انہوں نے درسی نظامی کی چند کلیوں پر قناعت نہیں کی ،بلکہ اس نصاب کےپڑھنے سے حاصل ہونے والی صلاحیت واستعداد کو علم کے مقفل دروازوں کی چابی سمجھ کر اسلام کے وسیع کتب خانے کی طرف بڑھے اور علوم کے بند دروازے وا کرتے رہے۰۰۰۰۰تاریخ کا مطالعہ کیا ،فقہ کو تعمق سے دیکھا ،تفسیر واصول تفسیر پر بار بار نظر ڈالی ،حدیث سے متعلقہ علوم کو محنت سے پڑھا اور ادب کی چاشنیاں چکھنے کیلئے راتوں جاگے۰۰۰۰۰۰۰ساتھ ساتھ عصری علوم کی طرف توجہ دی ،۱۹۵۸ میں پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کیا ،۱۹۶۴ میں کراچی یونیورسٹی سے بی،اے کا امتحان دیا ،۱۹۶۷ میں کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان دوسری پوزیشن اور ۱۹۷۰ میں ایم اے عربی کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پہلی پوزیشن لے کر پاس کیا ،جدید معاشیات کا مطالعہ کیا اور اس میں مہارت ہی نہیں مجتہدانہ بصیرت حاصل کی اور پاکستان کیطرح ہر مغرب زدہ ملک پر چھائی ہوئی انگریزوں کی وہ زبان سیکھی جس سے واقفیت ایک عالم دین کیلئے اس دور میں اسلام کےموثر تبلیغ کے نقطہ نظر سے ہن صرف استحسان بلکہ ضرورت کی حدود میں داخل ہے اور جس کو جنٹلمین طبقہ کسی انسان کی سعادت وقابلیت کی علامت ومعیار سمجھتا ہے اور یوں وہ قدیم وجدید ،دینی،دنیوی علوم کے ایسے سنگم بن گئے جس میں مختلف علوم کی حسین لہریں جمع ہیں.اردو ان کے اپنے گھر کی لونڈی ہے،عربی ان کے جیب کی گھڑی ہےاور انگریزی وہ ضرورت کے تحت لکھتے اور بولتے ہیں ،اللہ تعالی نے ان کے قلم کی غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہے،شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کی لکھی ہوئی مسلم شریف کی شہرہ افاق لیکن نامکمل شرخ "فتح المہلم” کا”تکملہ”لکھا اور ایسا لکھا کہ اگراور کچھ بھی نہ لکھتے تو یہ ان کی زندگی کی قیمت وصول کرنے کیلئے کافی تھا،اگر کسے مصنف کے حصے میں صرف یہی کتاب آجائے تو اس کو زندہ وجاوید بنادے۰

    ان کے علم ومطالعہ میں انہماک کو دیکھ کر کچھ ولمی حوصلہ ہونے لگتا ہے کہ کتابوں میں اہل علم کا جو وصف پڑھا ہے اس سے متصف کچھ لوگ ہماری اس فضا میں موجود ہیں جس میں ہم سانس لے رہے ہیں،وہ خود فرماتے ہیں:”روئے زمین پر لکھنا پڑھنا مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب وعزیز ہے اور ہر وقت کسی نہ کسی مسلہ میں میرا ذہن مشغول رہتا ہے۰”انہوں نے طلبہ سے اپنے ایک حالیہ خطاب میں فرمایا:

    "طلب علم نام ہے ایک نامٹنے والی پیاس کا ،میرے والد ماجد رح فرماتے تھے کہ طالب علم کی تعریف یہ ہے کہ جس کے دماغ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی مسلہ چکر کاٹ رہا ہو ،علم بڑی محنت اورطلب چاہتا ہے اور بڑی بے نیاز چیز ہے،محنت اور طلب کے بغیر ادمی کو وہ اپنا کوئی ذرہ بھی نہیں دیتا ،العلم لا یعطیک بعضہ حتی تعطیہ کلک طلب علم کا ذوق جب پیدا ہوجائے گا تو یقین رکھو اگر میں قسم کھاؤں تو حانث نہ ہوں گا کہ اس کائنات میں طلب علم سے زیادہ لذیذ چیز کوئی نہیں ،بشرطیکہ طلب علم کی حقیقت حاصل ہو،تمھہیں اپنا حال بتاتا ہوں ،عرصہ دراز سے ایسے حالات میں گرفتار ہوں کہ اس بات کو ترستا ہوں کہ مجھے مطالعہ کا وقت ملے ،پانچ منٹ بھی اگر نصیب ہوجاتے ہیں تو بڑی ہی حوشی ہوتی ہے۰۰۰۰جب میں نے دورہ پڑھا تھا تو پندرہ سال کی عمر تھی سولویں سال میں فراغت ہوئی تھی ،سبق کے علاوہ میرے اوقات کتب خانے میں گزرتے تھے،پڑھنے کے زمانے میں صحیح بخاری کیلئے عمدۃ القاری ،فتح الباری ،اور فیض الباری کا مطالعہ کیا کرتاتھا,مسلم شریف کیلئے فتح المہلم ،سنن ابی داؤد کیلئے بذل المجہود اور ترمذی شریف کیلئے کوکب الدری کامطالعہ کرتاتھا چونکہ اس کیلئے وقت چاہئے تھا اس لئے میں نے کسی طرح ناظم کتب خانہ کو اس بات پر راضی کرلیا تھا کہ دوپہر کے وقفہ میں وہ گھرچلے جایا کریں "اور باہر سے کنڈی لگا کر مجھے اندر بند کردیا کریں،چناچہ وہ باہر سے تالا لگا کر چلے جایا کرتے تھے اور میں اندر مطالعہ کرتا رہتا تھا ،دوران مطالعہ مذکورہ کتابیں تو پڑھتا ہی تھا،ساتھ ساتھ کتب خانہ کی ساری کتابوں کے متعلق یہ معلومات بھی ہوگئ تھیں کہ کونسی کتاب کس موضوع پر ہے اور کہاں ہے ،ناظم کتب خانہ کو جب کتاب نہیں ملتی تھی تو مجھے بلاتے اور میں انہیں بتادیتا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰مطالعہ کی وہ لذت مجھے آج بھی نہیں بھولتی۰۰۰۰۰۰۰تیس پینتیس سال سے ترمذی شریف پڑھارہا تھا اس لئے مطالعہ میں کوئی نہیں بات نہیں آتی تھی جب سے بخاری شریف کا سبق میرے پاس آیا تو مطالعہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس کے لئے اپنے اپ کو دوسرے کاموں سے فارغ کیا،اب دوبارہ وہ لذت لوٹ آئی ،ایسا لگتا ہے کہ وہ لذت مطالعہ گمشدہ متاع تھی،اب مل گئی،مطالعہ میں سبق پڑھانے کیلئے نہیں کرتا،مطالعہ کا شروع سے میرا حساب کتاب یہ ہے کہ بیچ میں جب کوئی بات اگئی،کوئی بھی سوال پیدا ہوگیاتو پھر مجھ سے ممکن نہیں ہےکہ میں آگے بڑھوں،جب تک مختلف مراجع میں اس کی تحقیق نہ کرلوں،چاہے وہ بات سبق میں بیان کرنے کی کی ہو،یا نہ ہو،میں اپ سے سچ کہت ہوں کہ اس سے زیادہ لذیذ چیز دنیا میں کوئی نہیں ہے،اللہ نے بہت لذتوں سے نوازا،دنیا کی لذتوں سے بھی بہت نوازا،اتنی کہ شاہد ہی کسی کو نصیب ہوئی ہوں لیکن جو لذت اس میں پائی وہ کسی میں نہیں ہے۰”

    وقت قدر اور راہ علم میں محنت کا جذبہ ان کو اپنے عظیم والد سے ورثہءمیں ملا ہے،جب کسی محفل ومجلس میں جاتے ہیں اور ابھی ان کے خطاب میں کچھ وقت باقی ہو،اس عرصے میں وہ تسبیح لے کر ذکر شروع کردیتے ہیں تاکہ یہ مختصر سا وقت بھی رائیگاں نہ جائے،سفر کے دوران بھی لکھنے پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں اور کوئی لمحہ ضائع جانے نہیں دیتے ،خود انہوں نے فرمایا______

    آسی پہ غنیمت ہیں تیری عمر کے لمحے 

    وہ کام کر اب،تجھ کو جو کرنا ہے یہاں آج

    اللہ تعالی حضرت کی عمر میں برکت دے اور ہم سب کو عمر کے لمحوں کن غنیمت جاننے اور آج کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۰امین۰

    ‎@Tareef1234

  • سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ فتح بیت المقدس تحریر: رانا محمد عامر خان 

    سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ فتح بیت المقدس تحریر: رانا محمد عامر خان 

    حطین میں کامیاب و کامرانی ہونے کے بعد ” القدس کی جانب راستہ بالکل واضح ہوچکا تھا اب یہ بات ممکن تھی کہ صلاح الدین

    اس کا قصد کرتے اور قدرے کوشش کر کے اس کو اپنے قبضے میں لے لیتے۔ لیکن اس نے عسکری نقطہ نگاہ سے اس کو دیکھا اور یہی

    بات اس کی اعلی شخصیت اور شان عبقریت کو نمایاں کر رہی ہے۔ اس نے یہ سوچا کہ القدس کو کئی شہروں کے درمیان واقع ہے

    اور ساحل سمندر پر صلیبیوں کے کئی مراکز قائم ہو چکے ہیں جہاں سے وہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بڑی آسانی سے قائم

    کر سکتے ہیں۔ خصوصا عیسائیوں کے وہ ممالک جو ارض فلسطین میں  صلیبی ناپاک وجود کو لاکھڑا کرنے میں چشموں کی حیثیت

    رکھتے تھے اسی لیے اس نے پہلے ساحلی صلیبی مراکز سے خلاصی پانے اور دوسرے  صلیبی قلعوں اور پناہ گاہوں پر قبضہ کرنے کا پختہ

     پروگرام بنایا۔ اس کے بعد وہ القدس کی طرف پیش قدمی کر کے اسے  فتح کر لے گا جب کہ اس صلیبی ناپاک وجود کی

    زندگی کی شریانوں کو وہ پہلے ہی کاٹ چکا ہو گا اس کے علاوہ ” عکا اور دو سرے ساحلی صلیبی قلعوں پر قبضہ کرنا بھی مصر اور شام

    کے مابین راستہ بھی بنادے گا جو اس کے ملک کے دونوں بازو شمار ہوتے تھے۔

    اس نے اپنے پروگرام کی تکمیل کے لیے عسکری اعتبار سے ہر طرح کی تیاریاں کیں- مجاہدین کو اپنے ہمرہ لیا- اور اپنے ذہن میں

    کھنچے ہوئے خطوط کو زمین پر کھنچنے کے لیے چل پڑا -حطین کی کامیابی کے بعد صرف چند ماہ ہی گذرنے پائے تھے کہ الله تعالی نے

    اسے مندرجہ ذیل شہروں اور قلعوں  پر فاتح نصیب فرمادی۔

    عکا, قیساریہ,حیفا, صفوریہ, معلیا’ شقیف ‘ الغولہ’  الطور’ سبطیہ’ نابلس’ مجدلیانہ’ یافا’ تبسین’ صیدا ‘ جبیل’ بیروت ‘حرفند’ عسقلان ‘ الرملہ’ الداروم’  غزہ ‘ یبنی’ بیت الحم ‘بیت الجبریل ‘   اور ان کے علاوہ ہر وہ چیز جو ان صلیبی بری فورسز کے

    پاس تھی۔

    جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ سب عظیم کامیابیاں اور بڑی بڑی فتوحات معرکہ حطین کے بعد ۵۸۳ ہجری میں صرف چند مہینوں کے دوران ہی پوری ہوگئی تھیں ۔ اس طرح بیت المقدس کوفتح کرنے کے لیے فضا مکمل طور پر ساز گار تھی- کام کو

    مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سلطان نے مصر سے اسلامی بحری بیڑے بھی منگوا لیے جو حسام الدین لو لو الحاجب( چمکدار ابرو والا ) کی زیر قیادت پہنچے-  جو اپنی جر أت و بسالت اور عظیم خطرناک کاموں میں بلا خوف و خطر کود جانے میں مشہور

    زمانہ تھا- اور مصائب المشورہ بھی تھا۔ اس نے بحر متوسط میں چکر لگانے شروع کر دیئے مخصوصا اس بات کا خیال رکھتے ہوئے

    کہ کہیں( یورپ کے ) فرنگی ساحل فلسطین تک پہچنے میں کامیاب نہ ہونے پائیں۔۔

    ۵۸۳ ہجری /5 رجب المرجب کو بروز اتوار القدس کے قریب آن اترا- اب اس نے بیت المقدس میں محصور عیسائیوں

    سے کہا کہ بغیر خونریزی اور کشت و خون کہ جسے کہ وہ اپنے مقدس مقام میں پسند نہیں کر تا اطاعت قبول کر لیں۔ لیکن جب انہوں نے اس کے جواب میں متکبرانہ انکار پیش کیا تو پھر سلطان حملہ کر کے اور نقب لگا کر اس کوفتح کرنے کی تدابیر کرنے

    لگا۔ اس مقصد کے لیے پانچ دن صرف اس کام میں گذر گئے۔ وہ بذات خود شہر کی دیواروں کے ارد گرد چکر لگاتا رہا کہ اس کا

    کوئی کمزور پہلو تلاش کر کے وہاں سے حملہ آور ہو سکے ۔ بالاآخر فیصلہ یہ ہوا کہ شمالی جہت سے حملہ ہی کر دے۔ چنانچہ ۲۰رجب کو

    اس نے اپنے لشکر کو اس جانب منتقل کر دیا اسی رات منجنیقیں نصب کروانا شروع کردیں-صبح ہونے سے قبل منجنیقیں لگ

    چکی تھیں بلکہ کام کر نے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار تھیں- تو اب انہوں نے اپنا کام شروع کر دیا۔۔۔۔۔

    دوسری طرف فرنگیوں نے فصیل کے اوپر اپنی مجانیق کو نصب کر دیا دونوں طرف سے پتھراؤ شروع ہو گیا تھا – فریقین کے

    مابین سخت ترین لڑائی ہو رہی تھی ۔ امام ابن الاثیر کے بقول ۔ ایک دیکھنے والے نے دیکھا کہ ہر ایک فریق اس لڑائی کو

    دین سمجھ کر لڑ رہا تھا اور یہ بات بھی ایسے ہی ہے کہ دین ہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر کو متحرک کرتی ہے- موت کو اسکا

    محبوب بنادیتی ہے- اپناسب کچھ اس پر لوٹا دینا اس کے لیے آسان ترین بنادیتی ہے- لوگوں کو اس بات کی ذرہ برابر بھی ضرورت نہ

    تھی کہ انہیں لڑنے مرنے موت کے دریا میں کودنے پر ابھارا جائے بلکہ شاید انہیں زبردستی بھی روکا جائے تو نہ رکتے-

    یکبارگی زور دار حمله

    پر انہیں جہادی و قتالی ایام میں سے ایک امیر عزالدین عیسی بن مالک جو مسلمان قائدین اور تحقین میں سے ایک تھا وہ شہید

    ہوگیا تو اس کے جام شہادت نوش کر تے ہی مسلمانوں کے جوش اور ولولے  میں ایک نیا رنگ پیدا ہوگیا تو انہوں نے یک بار

    ایسا حملہ کیا کہ فرنگیوں کے قدم اکھڑ گئے- کچھ مسلمان خندق عبور کر کے فصیل تک پہچنے میں کامیاب ہو گئے۔ دیوار توڑنے

    والے نقابوں نے شہر پناہ کو توڑنا شروع کر دیا- اس دوران دشمن کو دور رکھنے کے لیے مجانیق بلا توقف پتھراؤ کر رہی تھیں اور

    تیرانداز مسلسل تیروں کی موسلا دھار بارش برسارہے تھے تا کہ یہ  دیوار توڑنے والے اپنے مقاصد کو حاصل

    کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔۔۔۔۔ 

     *جان بخشی کی درخواستیں* 

    تو جب ان فرنگیوں کے دفاع کرنے والوں نے مسلمانوں کے حملے کی شدت ان کے ارادوں کی صداقت اور القدس رسول

    معظم مسلم کی معراج کی عارضی قیام گاہ کو چھڑوانے کی خاطر موت کو سینے لگانے کے جذبات کو دیکھا تو انہیں اپنی

    ہلاکت و بربادی کا یقین ہو گیا اور سوائے جان بخشی طلب کرنے کے کوئی چارہ نہ دیکھا تو وہ مذاکرات کرنے کے لیے مائل ہو گئے

                

                              Twitter ID @pakdefsd

  • عمر شریف پر سیاست (کدو کٹے گا تو سب میں بٹّے گا)  تحریر ؛ علی خان

    عمر شریف پر سیاست (کدو کٹے گا تو سب میں بٹّے گا) تحریر ؛ علی خان

     

    تصویر کے دو پہلو ۔ 

    زندہ قوموں کی پہچان میں ایک فن سے محبت بھی ہے،،،   کسی بھی دور میں مہذب معاشرے کی  ایک پہچان فن کاروں کی عزت و تکریم رہی ہے،،،  جدید دور کا مغر ب ہو یا  ماضی میں مغل سلطنت، فن کاروں کی قدر و منزلت  اور حوصلہ افزائی  و قدرشناسی  ان ریاستوں کا خاصہ  رہا ہے ،،،  یہ معاملہ ریاست تک محدود نہیں بلکہ  زندہ ضمیر عوام میں بھی یہ عادت بدرجہ اتم پائی جاتی  ہے،،،  اور ایسا ہونا بے جا نہیں کیونکہ فنکار ہی وہ ذریعہ ہے جو دنیا بھر میں اپنے ملک کا نام روشن کرتا ہے اور سافٹ امیج اُجاگر کرتا ہے،،، بہت سے ممالک میں تو شعبہ انٹرٹینمنٹ کو باقاعدہ انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے اور  حکومتی تحفظ بھی فراہم کیا جاتاہے ،،،  ہمسایہ ملک بھارت سب  سے بڑی مثال ہے کہ اسے دنیا بھر میں اپنی فلموں سے پہچان ملی اور بھارتی ثقافت دنیا بھر میں مقبول ہوئی،،، لیکن افسوس کہ وطن عزیز میں الٹی گنگا بہتی ہے،،، ہر مشہور فن کار، گلوکار اور کھلاڑی جب اپنی سار  ی زندگی اور سارا فن  قوم پر نچھاور کردیتا ہے تو اخیر عمر میں کسی کو فاقے نصیب ہوتے ہیں تو کوئی  علاج نہ ہونے کے باعث عدم سدھار جاتا ہے

    اس لمبی تمہید کی وجہ لیجنڈ ایکٹر عمر شریف  کی خراب طبیعت اور  اس پر بننے والا تماشا ہے ،،، عمر شریف نے جس کام کو ہاتھ ڈالا سونا کر دیا،،، مزاح کے بادشاہ نے  پاکستان کے علاوہ بھارت اور دنیا بھر میں  اپنے فن کا لوہا منوایا اور پاکستان کا سافٹ امیج متعارف کروایا  لیکن اب جب انہیں اس ملک کی، اس قوم کی اور اس حکومت کے ساتھ کی ضرورت ہے تو  عجیب سی بے حسی طاری نظر آرہی ہے ،،، اس عظیم فنکار کے نام پر باقاعدہ سیاست شروع ہوچکی  ہے،،، ریٹنگ کے لیے وسیم بادامی نے اپنے شو میں عمر شریف کی امداد کے لیے جو سرگرمی کی وہ پس پردہ زیادہ اچھے سے ہوسکتی تھی،،، اسی طرح دیگر فنکار اور ٹی وی اینکرز اگر ٹی وی پر واویلا کرنے کی بجائے سنجیدہ کوششیں کریں تو سب کے حصے میں شاید نہایت معقول رقم آئے جسے دے کر عمر شریف کا علاج ہوسکے 

    حکومتوں کی بات کریں تو معاملہ نشستن گفتن برخواستن  تک محدود ہے ،،، جب میڈیا میں معاملہ آیا تو وزیراعظم ہاؤس  کا ٹیلی فون حرکت میں آیا لیکن امید کے باوجود کچھ خاص پیش رفت نہ ہوسکی،،،  شہباز گل، فواد چودھری  نے ٹوئٹر پر بیان داغے تو  وزیراعلیٰ سندھ بھی  میدان میں آئے اور عمر شریف کو اثاثہ قرار دیتے ہوئے  سندھ حکومت کے پیچھے نہ ہٹنے کا بیان دے دیا،،،  یہ بیان دے کر مراد علی شاہ اسی امریکہ کی ٹکٹ کٹوا کر روانہ ہوگئے  اور بھول گئے کہ عمر شریف اسی  ملک  بھیجے جانے کے منتظر ہیں تاکہ انکا علاج ہوسکے،،، مطلب عمر شریف کا کدو کٹے گا تو سب میں بٹے گا چاہے  اس چکر میں مریض کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے،،، 

    یہاں کچھ حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض بھی سننے کو ملا کہ ساری عمر کمایا اور آخر عمر کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھا تو حضور والا فن کار اور صنعت کار میں یہی فرق ہوتا ہے کہ فن کار جیسے اپنا فن لٹاتا ہے ایسے ہی اسے دولت سنبھال خرچ کرنا نہیں آتی،،،  اگر یہ لوگ دو جمع دو چار اچھی طرح جانتے تو اسٹیج اور اسکرین پر اپنا ہی مذاق اڑا کر ہمیں تفریح مہیا نہ کرتے بلکہ   دماغ لڑا کر کوئی بڑی کرپشن کرتے اور پھر اسی پیسے میں سے کچھ خرچ کرکہ  صاف بچ جاتے اور معززسرمایہ کار کہلاتے

  • آپ بھی لکھاری بن سکتے ہیں  تحریر :۔فرزانہ شریف

    آپ بھی لکھاری بن سکتے ہیں تحریر :۔فرزانہ شریف

    اچھا لکھنے کے لیے آپ کا امیر ہونا۔خوبصورت ہونا یا کسی عہدے پر ہونا ضروری نہیں جیسا اس مالک پروردیگار نے بنایا بہت بہت خوبصورت بنایا اس کا ہر دم شکر بجالایا کریں آپ کو لکھنے کے لیے اپنی اندر سے صلاحیتی قوت کو خود ابھارنا ہوگا کچھ لوگوں کو اللہ کی طرف سے لکھنے کی صلاحیت گفٹ کی ہوئی ہوتی ہے کچھ لوگ اللہ کی دی ہوئی عقل سے اپنے اندر یہ صلاحیت تلاش کرلیتے ہیں اور اللہ کا نام لیکر لکھنا شروع کردیتے ہیں پھر وقت کے ساتھ ان کے قلم میں روانئ آنی شروع ہوجاتی ہے جب آپ کسی بھی ٹاپک پر لکھنا شروع کرتے ہیں سب سے پہلی بات نوٹ کرلیں۔۔آپکو پہلے اپنے دل ودماغ میں کہانی کا پلاٹ ترتیب دینا ہے اور جو خاکہ آپکے دماغ میں چل رہا ہوتا ہے اس کے مطابق آپ نے کرداروں کو لیکر چلنا ہوتا ہے پوری سٹوری میں دوسری بات ۔جس ٹاپک پر آپ لکھ رہے ہیں اس ٹاپک پرآپکی گرفت مضبوط ہونی چاہئیے اگر آپ کی گرفت کمزور ہوگی تو آپ اس سٹوری پر اچھا فوکس نہیں رکھ پائیں گے تو تحریر ذہنوں پر اچھا اثر نہیں چھوڑے گی اچھا لکھنے کے لیے آپکے پاس بہت ذیادہ معلومات ہونی چاہئیں جتنا ذیادہ آپکا مطالعہ وسیع اور معیاری ہوگا اتنا اچھا آپ لکھ پائیں گے اور اپنی لکھی ہوئی تحریر کے ضمن میں ہونے والے لوگوں کے سوالات کو اچھی طرح جواب بھی دے سکیں گے ورنہ کوئی بھی مضبوط دلیل کےساتھ آپکو لاجواب کردے گا اور آپ بے بسی سے ہاتھ ملتے رہ جاو گے اور شرمندگی الگ سے اٹھانی پڑے گی ۔۔۔
    آپ کی لکھی تحریر میں اتنی تاثیر ہونی چاہئیے کہ آپکو پڑھنے والا سٹوری کے کرداروں میں کھو جائے اس کے لیےپھر یہ ہی کہوں گی کہ آپکا اردو ادب میں حد درجے دلچسپی آپکے قلم کو چار چاند لگا دے گی کیونکہ آپکے الفاظ ہی آپکی شخصیت ہوتے ہیں ۔اور ایک شاندار شخصیت کے عامل فرد کے ساتھ بہترین الفاظ کا ساتھ بہت ضروری ہے۔۔۔۔
    ہمیشہ حق و سچ کے لیے اپنی آواز بلند کریں ۔حق سچ لکھیں کیوں کہ حق کی فتح ہے باطل مٹنے والی چیز ہے یہ پہلو آپکی شخصیت میں مزید اعتماد لاۓ گا ایک دفعہ آپ اس کوشش میں کامیاب ہوگے پھرآپ کا قلم کبھی سچ لکھنے سے ڈگمگائے گا نہیں۔۔
    معاشرے کی برائیاں آپ قلم سے لکھ کر لوگوں کو ان برائیوں کی روک تھام کرنے کے لیے اچھے مشورے دلائل کے ساتھ سمجھا سکتے ہیں بشرطیکہ آپکے لفظوں میں تاثیر ہو آپ کے الفاظ متاثر کن ہوں۔ کسی بات پر تنقید مہذب اور نرم الفاظ کے ساتھ کیجئے کیونکہ سخت الفاظ اتنے پراثر نہیں ہوتے جتنے نرم الفاظ سامنے والے انسان کے دل پر اثر چھوڑتے ہیں ۔”لکھنے والے پڑھنے والوں کے محتاج ہوتے ہیں” آپ کو پڑھنے والے جب تک ہیں آپ لکھ سکتے ہیں لہذا دوسروں کی پسندنا پسند کا خیال رکھنا ایک اچھے لکھاری کی خوبیوں میں شامل ہے ہمیشہ کردار میں ڈوب کر لکھیں کہ پڑھنے والا آپ کے لکھے ہوئے کرداروں کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہوا محسوس کرے ایسا میرے ساتھ ہوتا رہا ہے جب میں خواتین ۔شعاع پڑھتی تھی تو ایسے لگتا تھا میں ان کرداروں کے ساتھ چل رہی ہوں ۔اور اپنے دل میں ایک نقشہ سا بنا لیتی تھی کہ مصنفہ کسی کہانی کےکردار کی ہیروئن کی طرح ہی ہوگی ۔پھر وقت گزرا کافی مضنفات کو سوشل میڈیا پر دیکھا اور اپنی اس وقت کی سوچ پر ہنسی آئی کہ ہم کیسے مصنفہ کے الفاظ سے اس کی شخصیت کا اندازہ لگانے لگ جاتے ہیں یہ نہیں کہ وہ خوب صورت نہیں تھیں یا مجھے دھچکا لگا تھا انھیں دیکھ کر ۔ بات بس اتنی سی ہے کہ جیسا انسان اپنے ذہین میں خاکہ بنا لیتا ہے تو پھر اسی خاکے کے حساب سے دیکھتا ہے ۔اللہ کی بنائی ہر چیز خوب صورت ہے ہم اس کا کروڑ دفعہ شکر ادا کرتے ہیں اس نے ہمیں نہ صرف خوبصورت ۔خوب سیرت بنایا بلکہ متحاجی سے بھی بچا کر رکھا ہوا ہے یہ بس اس کی کرم نوازی ورنہ ہم پر کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے ہوئے ۔۔وہ دے کر بھی ازماتا ہے اور لےکر بھی اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ۔اللہ آزمائش اپنے پیاروں پر لاتا ہے تو وہ انسان اور اللہ کے قریب ہوجاتا ہے کیونکہ بظاہر وہ انسان کرب میں ہوتا ہے لیکن اس انسان پر اللہ کی خاص نظر ہوتی ہے اور اللہ اسے سجدے کی توفیق دے دیتا ہے اور جن سے ناراض ہوتا ہے ان کی رسی ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے وہ اس بات پر کبھی خوش نہ ہوں کہ وہ آسمان سے اتری کوئی الگ مخلوق ہیں ان کو ہر دم اللہ کی پکڑ سے بچ کر رہنا چاہئیے کیونکہ جب وہ رسی کھینچتا ہے تو انسان منہ کے بل گر جاتا ہےکہ پھر انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا ۔۔بس اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں اپنا قرب نصیب فرما دے ہم سب پر اپنی خاص کرم نوازی فرمائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنا خاص فضل فرمائے ہم پر اپنے کرم کی بارش فرما دے کہ پھر کوئی زوال ہمیں شیطان کے بہکاوے میں نہ لاسکے ۔۔آمین

  • رحم دل بھیڑئیے اور معصوم بکریاں تحریر زوہیب خٹک

    فیمنزم کی اصطلاح کا ہمارے معاشرے میں جنم نیا نیا ہوا ہے اس لیے زیادہ تر لوگ اس سے نا آشنا ہیں۔ اس تحریک کی تاریخ اٹھارویں صدی سے ملتی ہے جبکہ اس کا باقائدہ آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا جس میں خواتین کے لیے صحت تعلیم اور مردوں کے برابر تنخواہیں جیسے حقوق کے مطالبات سرِِفہرست تھے۔ انیسویں صدی کے آخر تک اس تحریک میں "اسقاطِ حمل، ہم جنس پرستی اور زنا بِل رضا” جیسے دیگر کئی قانونی حقوق کی مانگ بھی شامل ہوگئی۔ جس کی وجہ سے یہ تحریک اپنے اصل مقاصد سے بہت پیچھے رہ گئی اب اس تحریک کو یورپ جیسے آزاد معاشرے ہوں یا ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے دونوں میں ایک غیر سنجیدہ تحریک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    جہاں اس تحریک سے خواتین کو چند فائدے بھی ہوئے جیسا کہ جنسی درندگی کے خلاف سخت سزائوں کے قوانین بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام خواتین کا اعلیٰ سرکاری و نجی اداروں میں شمولیت اختیار کرنا۔ وہیں ساتھ ہی ساتھ مردوں سے نفرت پر مبنی نعرے ہم جنس پرستی اسقاطِ حمل اور زنا بِل رضا جیسے مطالبات نے اس تحریک کا بیڑا غرق کرنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔

    پاکستان میں اس تحریک کا روحِ رواں عورت مارچ والا لبرل طبقہ ہے جس کا مشہور نعرہ "میرا جسم میری مرضی” مغربی معاشرے میں "اسقاطِ حمل کے قانونی حقوق کی مانگ” سے درآمد کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر ایک مغربی مصنف "رابن سٹیونسن” کی کتاب بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے ۔ ہمارے ہاں اس تحریک میں اکثریت اُسی مغرب زدہ سوچ رکھنے والے مزہب بیزار لوگوں کی ہے۔ یہ طبقہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی مغربی طرز پر سیکولرزم کو فروغ دے کر ننگ دھڑنگ آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جس کا یہ سوشل میڈیا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر برملا اقرار بھی کرتے ہیں۔

    ہمارا معاشرہ جو مظبوط خاندانی نظام پر کھڑا ہے جہاں ماں بہن بیٹی بیوی بہو جیسے باوقار رشتے ہیں اس خاندانی نظام پر ضرب لگا کر ہمارے معاشرے میں بھی یہ عورت کو بے توقیر اور بے وقعت کرنا چاہتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق کی آڑ میں بیرونی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز "ایک رحم دل بھیڑئیے کا روپ دھارے ہوئے ہیں جو عورتوں کو چادر چار دیواری کے حفاظتی حصار سے باہر نکال کر جنگل کی رونقیں دکھا رہے ہیں تاکہ یہ جب چاہیں جیسے چاہئیں عورت کو اپنی ہوس کا شکار بنا سکیں۔

    جیسے تحریک طالبان پاکستان کا نعرہ شریعت کا نفاذ تھا لیکن اصل میں وہ کم عمر بچوں کی زہن سازی کر کہ انہیں جنت کے خواب دکھا کر بے قصور پاکستانیوں کا قتلِ عام کروا رہے تھے۔ ایسے ہی یہ دیسی فیمنسٹ طبقہ نعرے عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لگاتا ہے لیکن اصل میں یہ نوجوان نسل کی ذہنی اخلاقی دینی اور معاشرتی تباہی کر رہے ہیں۔

    جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئیے مل کر مظلوم عورتوں کے شرعی حقوق اور مجرموں کی شرعی سزاؤں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ تو یہ مذہب بیزار طبقہ اپنی اصلیت دکھا دیتا ہے۔اور ان کی اسلام سے نفرت اور بیزاری کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ آج مجھ جیسے چند لوگ اگر بابانگِ دہل ان کے مذموم مقاصد اور اس تحریک کے پسِ پردہ حقائق عوام پر آشکار کر رہے ہیں تو ہمیں شدت پسند دقیانوسی اور نا جانے کیسے کیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

    جان لیجیے کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے جس کا شروع میں ہی جڑ سے خاتمہ نا کیا جائے تو وہ پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اور پھر لا علاج ہو جاتا ہے اس سے پہلے کہ فیمنزم کا یہ مرض ہمارے معاشرے میں پھیل جائے اور پورے معاشرے کی ذہنی اخلاقی دینی اور معاشرتی موت واقع ہو جائے۔ ہم سب کو اس مرض کا موثر علاج کرنا ہوگا تاکہ ہمارا ملک جو نظریہ پاکستان کی بنیاد پر بنا تھا وہ اپنی اسلامی اقدار کے ساتھ قائم و دائم رہ سکے۔

    Twitter @zohaibofficialk