Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ادھورے خط  تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    ادھورے خط تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    السلام علیکم!

    آج گرمی اپنے شباب پر ہے اپنے تمام تر جاہ و جاللال کے ساتھ ، گرم کر دینے کے عمل سے ، گرمی کی اتنی شدت اور میرا بوائلر  روم سب سے گرم ہے۔ اتنی شدید گرمی میں میرا بوائلر  روم جہنم کا ایک گوشہ معلوم ہوتا ہے ۔اور جب بوائلر  روم کے اندر جانا پڑتا ہے تو گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اور پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔جسے  پچلھے سال کیمسٹری لیب میں کیمسٹری کے پریکٹیکل کرنے میں آتا تھا ۔

      اتنی گرمی کے باوجود لیب کوٹ پہننا ضروری ہوتا لیب کوٹ جلتی ہوئی گیس جلاتی ہوئی دھوپ اور لیب کی بند کھڑکیاں ،لڑکیوں کے لال ہوتے سرخ سیب کی طرح رخسار ،ماتھوں پر بالوں کا لٹ کی صورت میں ٹھہر  جانا کتنا بھلا لگتا تھا۔

      مجے یہاں کی گرمی دیکھ کر وہ سب یاد أگیا

      کیمسٹری لیب، فزکس لیب ( Y) بس کا سفر،  اور تم  لوگوں کو بہت گرمی محسوس ہوتی تھی اور  مجے مزہ آتا تھا   یہاں بھی لوگوں کو گرمی محسوس ہوتی ہے اور میں لطف اندوز ہوتا ہوں کیونک میری فطرت  میں گرمی سردی ،خزاں، بہار ہر  موسم لطف اندوز ہونے کی عادت ہے۔

      

    ١٩مَی 1993ء

    اوپر کی سطور میں تقریبا” ١٥ دن پہلے لکھ چکا ہوں ۔١٨ مئی کو تمہارا خط مجے ملا حالات سے اگاہی ہوئی میں تم لوگوں کے خطوط کا ہی انتظار کر رہا تھا اسد کا رویہ قابلٔ افسوس تھا کہ اس نے خط تم لوگوں کو تک نہ پہنچاۓ۔

     تمہارا خط مجے مل گیا تھا۔ افسوس ہے کہ تم نے پنسل سے لکھا ہے خط لکھنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ خط لکھنا ایک مہذب  کام ہے تم لوگ کب اپنا آپ مکمل کرو گے توقیر ، تم سب جتنے بھی ہو میرے حلقہ احباب  میں ، کام  میں اپنی زندگی کے  اصل رخ دیکھنا جانتے ہو کیا اسا ممکن نہیں ہے کہ میں اپنے ملنے والوں سے تم دوستوں کی تعریف کرتا ہوں ممکن ہے ان کو لگتا  ہو کہ میرے دوست عام راستوں پر چلنے کے عادی نہیں ہیں۔ اور تم لوگ ہو کہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جاتے ہو  جس سے میری ناک چڑھ کر ماتھے سے جا لگتی ہے۔ بھلا سوچو میری چڑھی ہوئی ناک دیکھ لاہور والے کیا  سوچیں  گے۔ 

     کچھ تو خیال کرو خیر چھوڑو ان باتوں کو کہیں ایسا نہ ہو کہ خط اپنی باتوں کی نذر  ہو جاۓ۔

    ہاں میں پنجاب کا رہنے والا پنجاب کا پنجابی ہوں  مجے اکثر جامعہ ملیہ کالج کا  کلاس روم پریکٹیکل  لیب یاد آتا ہے۔خاص طور پر ان گرمیوں  میں جو آج کل لاہور پر مسلط ہے ۔

     پچھلے سال کراچی میں بھی  شدید گرمی تھی۔اندازہ پریکٹیکل کرنے کے دوران یا  Y بس کا سفر کرنے  پر ہوتا تھا۔یا چند  جو ہماری کلاس میں گوری چٹی لڑکیوں کے سرخ ہوتے ہوۓ گالوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا۔

    یہ وہ باتیں ہیں جو میں اکثر یہاں اپنے بوائلر  روم میں بیٹھ کر سوچتا ہوں کیونکہ یہاں سوچنے اور لکھنے کے علاوہ کچھ اور کام نہیں ہوتا عجیب نوکری ہے پندرہ دن ہو گئے ہیں ،آتا ہوں ، سوچتا ہوں شام چار بجے گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہوں۔اور  رات گئے تک آوارہ گردی کرتا ہوں اور صبح پھر ڈیوٹی پر آ کر سو جاتا ہوں۔

    ویسے مجھے یہ اپنی ڈیوٹی بہت اچھی لگتی ہے۔کیونکہ اس ڈیوٹی کی وجہ سے میں صبح سورج کے ساتھ خواب سے حقیقت کی طرف طلوع ہوتا ہوں۔یعنی صبح ٥ بجے اور مغرب کی طرف جاتی رات دیکھتا ہوں۔اور مشرق سے دبے پاؤں آتی  خوشگوار صبح دیکھتا ہوں۔جب میں پہلی بار اٹھا تو کچھ پہر انکشاب ہوا کہ سورج میرے گھر سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر رہتا ہے۔

    رات تمہارا خط ملا اور آج میری ماں نے دو پراٹھے اور آلو ٹماٹر کے ساتھ بھون کر مجھے دیے لے بیٹھ جا۔دوپہر جب بھوک لگے تو باہر سے کھانے کی بجائے یہ کھانا۔میں نے کھایا۔مجھے انڈوں کا صفر یاد آیا۔میں آپ ہی آپ مسکرا پڑا۔پھر تمہیں خط کا جواب دینے بیٹھ گیا۔

    پرسوں والے دن مجھے بتانا جب رزلٹ آئے ، اور پرسوں والا  دن ہمارے کالج کی چھت پر رہتا  ہے۔تمہیں اتنا نہیں پتا تمہاری غفلت پر افسوس ہے لیکن نظر بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔پرنسپل کو نظر آتا ہے۔یا اسحاق  کو۔ پنسل  سے لکھنے والوں کو تو بالکل نظر نہیں آتا۔اور نہ ہی انگلش ٹیچر کو نظر آتا ہے۔اور کل ٹیکنیکل کالج کی چھت پر رہتا ہے۔ اور سورج میرے گھر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔

    آہ یہ چیزیں تمھیں نظر نہیں آیئں گیں ۔

    آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں۔

    اچھے اور پیارے لڑکے۔

    اؤ چند لمحوں ، چند سالوں ، چند صدیوں کے لئے میرے پاس آؤ۔

    میرے قریب بیٹھو

    میں تمہیں کچھ سمجھاؤں میں تمہں ایک سچی اور کھڑی لیہ پر لگاؤں۔اور تم سمجو گے ان حقیقتوں کو جو بہت  اکلیت میں ہیں۔جن تک ہر دور میں چند انسان پہنچ پاتے ہیں ۔ سب زندہ ہیں ، سب مردے ہیں مرے ہوۓ۔ آؤ پیارے میرے پاس بیٹھو۔تم محسوس کرو گے جو مر چکے ہیں۔وہ موجود ہیں۔اور جو زندہ ہیں۔وہ کہی چلے گئے ہیں جو مر جاتے ہیں وہ اپنے وجود میں آ جاتے ہیں۔اور زندہ غائب ہو جاتے ہیں۔ہا۔ہا۔ہا۔تم نہ سمجھ پاؤ گے۔کیونکہ تم محض ایک سایہ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔جو ہوتا ہے لیکن  کچھ نہیں کرتا۔

    تم کیا کرتے ہو؟کیا کیا ہےآج تک؟ جو گزر گۓ وہ کچھ کر گۓ۔ جو کچھ گزار رہے ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔اور تم_____۔

    تم کو اپنی ذات کا نہیں پتہ__ محض ایک ساۓ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔آؤ ۔ گھبراؤ مت۔اٹھ کھڑے ہو۔ابھی سفر بہت لمبا ہے۔اور کھٹن۔اور تم مسافر۔

    اب تک ان راستوں پر چلتے آۓ ہو۔جو پامال ہو چکے ہیں۔جن پر کتنے ہی انسان محض کیڑے مکوڑے کی طرح سفر کرتے ہیں۔اور تم بھی ان میں محض ایک کیڑے کی حیثیت رکھتے ہو۔

    اب بھی وقت ہے۔چھوڑو ان پامال راستوں کو۔آو۔ ادھر آؤ ۔اس وحشت میں۔پر منظر جنگل میں۔اس وادی میں۔نیلی جھیل کے کنارے۔جہاں کئی  انسان کے قدم اب تک نہیں پہنچ سکے ۔  آؤ سفر اب بھی طویل ہے۔ اور بالکل اجنبی۔نئ راہوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہو۔عام انسانوں کی صف میں سے نکل آؤ ۔پھر دیکھو تم کو یہ انسان محض سایوں کی طرح نظر آئے گے۔اور سائے کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟

    گرمی نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے لیکن میں ___

    سب کنٹین کی طرف جا رہے  ہیں کھانے کے لئے میں بھی جاؤں گا اب کچھ ہی دیر بعد۔شہتوت کی چھاؤں میں شیخ کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھاؤں گا۔شہتوت کی چھاوں بہت سکون بخش ہے۔کھانے کے بعد ٹھنڈا پانی ‏پیؤنگا۔سکون سے آنکھیں بند کروں گا گرمی سے پیاری کوئل کی صدا سنوں  گا۔چڑیوں کی چوں ۔چوں اور کوؤں کی کائیں کائیں۔

     سورج جادوگر ہے پیارے۔

      

     @Ishaqbaig___

     

  • چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے انسانی معاشرے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سگریٹ نوشی کے کئی جسمانی اور ذہنی نقصانات سےواقف ہونے کے باوجود سگریٹ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ، سگریٹ نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر مکمل قابو پانے کے لیے  بہت  سی تحریرلکھی جاچکی ہیں اور
    حکومت نے تمباکو نوشی کے خاتمے کیلئے کئی اقدامات کئے، اس کے نقصانات سے آگاہ کیا ، لیکن سگریٹ نوشوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی

    سگریٹ باظاہر دیکھنے میں ایک چھوٹی سی شے ہے مگر جان لیوا امراض اور بےشمار نقصانات کا موجب ہیں۔سگریٹ میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جسے نکوٹین کہتے ہیں جب ایک فرد سگریٹ کا دھواں اپنے اندر کھینچتے ہیں تو اپنے پھیپھڑوں کی تہیں اس دھوئیں سے نکوٹین لینا شروع کر دیتی ہیں، چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ پر حاوی ہوجاتا ہے، جس کے بعد ہمارا دماغ ڈوپامائن نامی کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت تسکين ملتی ہے اور ، ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے والا ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو خوشی ، تسکين اور راحت فراہم کرتا ہے

    ڈوپاماٸن ڈوپاماٸن کیمیکل خوشی کے حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو سگریٹ اور اس میں شامل ہونے والا نکوٹین مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان تمام عادات کو چھوڑنا کسی بھی فرد کے لئے بہت کٹھن ہوتا ہے کیونکہ انسانی جسم میں نکوٹین کی کمی سے متاثرین افراد کی طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے، نکوٹین کی اسی طاقت کا بھرپور فاٸدہ اٹھایا جاتا ہے سگریٹ بنانے والی كمپنياں اسی عادی کے بدولت نوجوان نسل کو سگریٹ کی لت لگوا دیتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان اور مرض کی حقیقت بھی چھپاتی ہیں

    سگریٹ نوشی بہت آہستگی کے ساتھ انسانی جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو چند سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات سے ناآشنا ہوتاہے اور جب یہ نقصانات رونما ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک انسانی جسم سگریٹ کے جان لیوا نشے کا مکمل طور پر عادی بن جاتا ہے اور متاثرہ شخص کو سگریٹ سے جان چھڑانا بہت دشوار ہو جاتا ہے

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک فرد موت کی گہری نیند سورہا ہے، اس طرح دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔سگریٹ نوشی سے متاثرہ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ سگریٹ اور اسکے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب جسمانی و ذہنی صحت کیلئے نہایت نقصان ہے اور پچاس سے زائد ایسے زہریلے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو مختلف سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس کیوجہ سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کا موجب بنتاہے۔ سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہیمرج سٹروک ہوجاتاہے جودماغ میں موجود خون کی شریانیں کا پھٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا سب سے زیادہ اور خطرناک و سنگین نقصان انکے پھیپھڑوں کو ہوتا ہے، کیونکہ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افرا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔ ایک انسان جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا سرطان ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے متاثرہ افراد سانس کی بیماریوں ،ہارٹ اٹیک ،فالج، اسٹروک ہیمرج ، گلا، پھیپھڑے کا، خوراک کی نالی ، معدہ، دانتوں، جگر، گردے، مثانہ، لبلبہ اور گردے کے سرطان کا موجب بنتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا پچاس فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے اور فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کی متاثرہ خواتین دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر ، جگر ، گردے معدہ، مثانہ لبلبہ کے سرطان کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات مرد سے پچیس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگر پاکستان کےمستقبل کو بچانا چاہتے ہیں تو سگریٹ نوشی پر روک تھام پر سختی سے عمل کیا جاٸے۔ والدین سے التماس گزارش ہے کہ اپنےبچوں کو سگریٹ نوشی جیسے لت سے دور رکھے اور متاثرہ افراد کو چھٹکارا حاصل کرنے میں انکی مدد کریں۔ متاثرہ انسان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح اور مستی کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ہمارے بچوں کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے

    ‎@HamxaSiddiqi

  • گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلائزیشن دنیا کے خیالات ، مصنوعات اور ثقافت کے دیگر پہلوؤں کے تبادلے کے ذریعے مختلف قوموں کے لوگوں ، کمپنیوں اور حکومتوں کا بین الاقوامی انضمام ہے۔ یہ جغرافیائی حدود کو پسماندہ کرتا ہے اور ایک انتہائی مربوط دنیا بناتا ہے۔ انجن ، ٹیلی کمیونیکیشن اور حال ہی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی ٹیکنالوجیز کے متعارف ہونے سے ، دنیا معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کے باہمی انحصار کی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے اور ایک گلوبل ولیج بن گٸی ہے۔ گلوبلاٸزیشن کی وجہ سے بہت سی تبدیلیاں جیسے کہ آبادیاتی تبدیلیاں ، مواصلات اور ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز میں بہتری ، سرمایہ داری اور معاشی لبرلائزیشن ، ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزیشن وغیرہ شامل ہیں۔
    ادارہ جاتی یا دوسری صورت میں ، ‘گلوبلائزیشن پوری دنیا کے لوگوں کی زندگیوں پر کثیر اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ نہ صرف علاقوں کی معاشیات کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی ثقافتی ، سیاسی اور سماجی معاملات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ، دنیا کا طاقت کا ڈھانچہ یورپیوں سے امریکیوں کی طرف منتقل ہوا ، اور اقتدار بہت کم قوموں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے دنیا بھر
    میں طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین زیادہ خلیج پیدا کی۔ لہذا ، اس دور کے بعد گلوبلائزیشن کے اثرات ہم آہنگ نہیں تھے۔ پوری دنیا میں ، اس نے ہر خطے کو مختلف طریقے سے متاثر کیا اور پاکستان بھی مختلف نہیں ہے۔ دیگر تمام اقوام کی طرح اس پر بھی معاشی اور ثقافتی طور پر اثر پڑا ہے۔
    معاشی طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے پاس محدود وسائل ہیں محدود وساٸل اور موجودہ وساٸل کا بہتر طور پہ استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ہماری معیشت بہت کمزور ہے۔ نظریاتی طور پر ، لبرلائزیشن ، گلوبلائزیشن کا ایک اور بنیادی اصول ، ایک ایسا عمل ہے جس کا مقصد بالآخر مقابلہ کی حوصلہ افزائی ، معیار کو بہتر بنانے اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے ایکسپورٹ مارکیٹ کو منافع بخش بنانا ہے۔ عالمی تجارتی برآمدات میں پاکستان کا حصہ گر گیا ہے۔ دوسری طرف امپورٹ لبرلائزیشن ایک بتدریج عمل ہے جہاں 1990 کی دہائی سے درآمدی ٹیرف کی شرح میں کمی کا رجحان نظر آتا ہے جس سے درآمد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہےجبکہ ہمیں ایسی پالیسیز بنانی تھی کہ ہماری درآمدات کم سے کم ہوں ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایسی پالیسیاں اتنی کارآمد ثابت نہیں ہوئیں۔ ملک کا تجارتی توازن مزید وسیع ہو گیا ہے اور اس عمل کے دوران بہت سی گھریلو صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ گھریلو صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح1990-1981کے دوران اوسط% 3.5 فیصد سے بڑھ کر 2015 میں %6.0 فیصد ہو گئی۔
    پاکستان کی غربت پچھلے سالوں میں 2002 میں 36 فیصد سے کم ہو کر2011 میں11 فیصد ہو گئی تھی لیکن پچھلے کچھ سالوں میں غربت اور بے روزگاری اوربین الاقوامی قرضے میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
    ، گلوبلائزیشن کا خیال ترقی پذیر ممالک میں پھیلنے سے پہلے ، یہ صرف یورپ ، شمالی امریکہ اور جاپان میں تھا۔ ان تینوں بلاکس کے پاس پالیسیوں کو مربوط کرنے اور عالمی اقتصادی منڈیوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار تھا۔ بالآخر ، ترقی یافتہ ممالک سے چھوٹے سرمایہ کی منتقلی کی وجہ سے ، عالمگیریت نے عدم مساوات کو بڑھایا۔ دنیا کے اس سماجی ، جسمانی اور ثقافتی تانے بانے ، آبادیاتی تبدیلیوں ، شہریاری ، ثقافتی اثرات اور استحصالی ہتھکنڈوں نے دنیا کو مثبت اور منفی دونوں طرح متاثر کیا۔منڈیوں کی لبرلائزیشن کے خیال نے مقامی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سامان ، مزدور ، خیالات اور خدمات کی آزاد نقل و حرکت کا راستہ دیا۔ نتیجے کے طور پر ، جیسے جیسے مقابلہ بڑھتا گیا ، ملک میں مزید تعلیمی اور پیشہ ور ادارے ابھرے اور تعلیم کا معیار بہتر ہوا۔لیکن ابھی بھی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک مکمل طور پر گلوبلاٸزیشن سے فاٸدہ اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ گلوبلائزیشن سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو سیاسی استحکام ، جمہوریت کے استحکام اور اپنی پالیسیوں کے تسلسل پر مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
    پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو کہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کوریج کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔

    @b786_s

  • تمباکو سے پاک نوجوان قوم کا روشن مستقبل    تحریر: محمد اختر

    تمباکو سے پاک نوجوان قوم کا روشن مستقبل  تحریر: محمد اختر

    تمباکو نوشی کا استعمال کرنے والے  84 ممالک میں پاکستان  54 ویں نمبر پر ہے۔پاکستان ڈیموگرافک ہیلتھ سروے کے مطابق 46 فیصد مرد اور 5.7 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ یہ عادت زیادہ تر پاکستان کے نوجوانوں اور کسانوں میں پائی جاتی ہے، اور تمباکو نوشی ملک میں صحت کے مختلف مسائل اور اموات کا ذمہ دار ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں میں صحت کے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔قارئین کرام! جب میں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو حالیہ تحیقی رپورٹ تلاش کرنے کی غرض سے جب جانچ پڑتال کی تو نومبر، 2008 جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کیجانب سے شائع کردا یک رپورٹ کا جائزہ لیا۔ اس رپورٹ کے مطابقپاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تمباکو نوشی کا پھیلاؤ مردوں میں 36 فیصد اور خواتین میں 9 فیصد ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں بالخصوص یونیورسٹی کے طلباء میں تمباکو نوشی کا پھیلاؤ 15 فیصد ہے جن میں اکثریت مرد تمباکو نوشی کرنے والوں کی ہے۔ تقریبا، 1200 بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔آئیے! اب یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کے تمباکو سے پاک نوجوان کیوں ضروری ہیں اور اکثرانسان تمباکونوشی کی طرف کب مائل ہوتا ہے۔تمباکو نوشی استعمال کرنے والوں کی بڑی اکثریت وہ ہوتی ہے جب وہ کم عمری میں پہلی بارسگریٹ نو شی کرتے ہیں۔در حقیقت، پاکستانمیں ہر روز، 18 سال سے کم عمر کے سینکڑو ں سے زیادہ لوگ اپنا پہلا سگریٹ پیتے ہیں، اور کئی نوجوان بالغ باقاعدہ تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کے لیے بہت زیادہ سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلموں، میوزک ویڈیوز اور اشتہارات میں تمباکو نوشی تمباکو کے استعمال کو سماجی اصول کے طور پر پیش کیا جاتاہے، بچوں کو سگریٹ نوشی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، جب ان کے والدین یا ساتھی تمباکو استعمال کرتے ہیں تو انکا تمباکو نوشبننے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاو ہ نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کو متاثر کرنے والے دیگر عواملبھی  شامل ہیں: جیسے کہ کم معاشی حیثیت۔والدین کی توجہ کا فقدان۔احساسے کم تری کا شکار ہونا۔والدین یا خاندان میں تمباکو نوشی معیوب نا سمجھا جانا۔ خیال رہے، تمباکو نوشی کا اثر نہ صرف فوری طور پر ایک نوجوان کی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کا مستقبل پر بھی اس کے اثرات مرتکب ہوتے ہیں۔ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کرنے والوں میں بالغوں کے مقابلے میں نیکوٹین کے نشے کی شدید سطح پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ تمباکو کا استعمال جاری رہتا ہے۔ جہا ں تمباکو نوشی ماحول میں آلودگی کا سبب بنتی ہے وہیں انفرادی طور پر نیکوٹین خون کی شریانوں کو تنگ کرتا ہے، بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سانس کی قلت، دمہ اور سانس کی بیماریا ں کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں پیدا ہوتی ہیں۔ صحت کے اثرات کے علاوہ، تمباکو نوشی کے بہت سے منفی سماجی اثرات بھی ہیں۔ یہ بالوں اور کپڑوں کو بدبو دار بناتی ہے، دانتوں کو داغ دار کرتی ہے اور سانس کی بدبو پیدا کر تی ہے۔ اور دھواں نہ چھوڑنے والا تمباکو پھٹے ہونٹوں، زخموں اور منہ میں خون بہنے کا باعث بنتا ہے۔آخر میں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے تمباکو کے استعمال کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ میرے نقطہ نظرمیں تمباکو کی روک تھام پاکستان کے نوجوانوں کی صحت اور مستقبل کے لیے انتہای ضروری ہے۔ تمباکو کی روک تھام میں و الدین، اسکول اور کمیونٹی کے تمام افراد بچے کے فیصلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم انہیں مختلف طریقوں سے سگریٹ نوشی کے خطرات سے بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔والدین کو اپنے بچوں سے تمباکو کے خطرات کے بارے میں براہ راست بات کرنی چاہیے۔والدین کا رویہ اور جذبات بہت اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ آپ کا بچہ تمباکو نوشی کرتا ہے یا نہیں۔اگر آپ کے بچے کے دوست ہیں جو تمباکو نوشی کرتے ہیں تو ساتھیوں کے دباؤ سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں بات کریں۔اسکول طلباء کو تمباکو کی تعلیم اور تمباکو نوشی سے بچاؤ کے شدید نقصانات سے آگاہی دیں۔بطور والدین جو تمباکو نوشی کرتے ہیں تو وہ چھوڑنے کی کوشش کریں۔ جب آپ چھوڑ رہے ہو، اپنے بچے کی موجودگی میں تمباکو کا استعمال نہ کریں اور اسے وہاں نہ چھوڑیں جہاں وہ آسانی سے اس تک رسائی حاصل کر سکے۔والدین کی حیثیت سے، آپ کے رویوں اور آراء کا آپ کے بچے کے رویے پر زبردست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمباکو کے خطرات کے بارے میں اپنے بچوں سے بات کرنا ضروری ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر اور قابلتحسین ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا ادارہ باغی ٹی ویجس نے تمباکو نوشی کیخلاف بھرپور مٰہم جوئی کی۔ بطور نوجوان طالب علم اور مضمون نگارمجھے اس ادارہ کا سب سے اچھا پہلو یہ لگا کہ انہوں نے نوجوان لکھاریوں کو ایک مثبت سرگرمی  میں مشغول کیا اور ایک قومی سطح پر اس مسئلہ کو اجاگر کیا۔

    @MAkhter_

  • تمباکو نوشی منہ کا کینسر، نوٹ کے باوجود بھی سیگریٹ نوشی نہ رک سکی۔ تحریر: ملک رمضان اسراء

    یقینا ہر خاص و عام اس بات سے تو کم از کم مکمل طور پر آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے۔ اور سگریٹ پینے سے منہ کا کینسر بھی ہو سکتا ہے جہاں پڑھے لکھے لوگوں کیلئے سیگریٹ کے ڈبہ پر "تمباکو نوشی منہ کا کینسر” جیسا نوٹ لکھا گیا وہی غیر تعلیم یافتہ کو اس سے آگاہ کرنے کیلئے منہ پر کینسر کی ایک عدد تصویر ظاہر کی گئی لیکن پھر بھی سیگریٹ نوشی کیوں نہ رکی؟ اسی وجہ کو جاننے کیلئے میں نے ایک سگریٹ نوش محمد خان سے بات کی جو پچھلے تیس سالوں سے سیگریٹ نوشی کے عادی ہیں اور ان کے مطابق وہ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم دو عدد سگریٹ پاکٹ پی جاتے ہیں۔ محمد خان کی عمر اس وقت پچاس سے اوپر ہے اور انہوں نے بتایا کہ میں نے تقریبا بیس سال کی عمر سے سگریٹ نوشی کرنا شروع کی تھی اور ابتدا میں تو ایسے ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر پی لیا کرتا تھا مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ عادت مجبوری بن گئی اور حالت ایسی ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں نہ اڑاوں تو ذہنی طور پر چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہوں حالانکہ مجھے بہت زیادہ کھانسی آتی ہے لیکن ڈاکٹرز کے منع کرنے کے باوجود بھی میں اپنی اس بری عادت سے جان نہیں چھڑا پارہا۔ جب میں نے محمد خان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش نہیں کی تو انہوں نے جواب دیا کئی کئی ماہ تک سگریٹ کو چھوا تک نہیں اور میں نے محسوس کیا کہ مجھے سانس لینے سمیت جسم میں بہت بہتر تبدیلی محسوس ہوئی لیکن پھر مجھے پیٹ میں گیس اور اس طرح کی شکایت ہوئی تو میں نے ایک دوست سے سگریٹ مانگی اسے پیتے ہی آرام آگیا اب میرا وہم تھا یا کچھ اور لیکن مجھے اسی وقت آرام آگیا اور سب سے بڑا مسئلہ مجھے ذہنی طور پر سکون تو محسوس ہوا مگر چچڑا پن بڑھ گیا جسکی وجہ سے گھر میں بات بات پر بچوں کے ساتھ غصہ آجانا لہذا سوچا بس خیر ہے زندگی جب تک ہے تب تک ہی جینا ہے لیکن میری وجہ سے باقی گھر والوں کا سکون خراب نہ ہو۔ اور میں نے بہت کوشش کی کہ سگریٹ ترک کردوں مگر یہ بری عادت چھوٹنے کا نام نہیں لیتی لہذا میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ جوانی کے جوش میں دیکھا دیکھی میں کسی بھی بری عادت میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ ابتدا میں تو آپ کا یہ شوق ہوگا مگر پھر ساری زندگی کا روگ بن جائے گا۔

    اسٹاپ سموکنگ لندن کی ایک رپورٹ کے مطابق "سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ روز بروز اور ہر ہفتہ بعد، آپ کے جسم اور دماغ میں اچھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ آپ کی جسمانی حالت بہتر اور بحال ہوجاتی ہے، آپ بہتر نظر آنے لگتے ہیں، آپ خود کو زیادہ توانا اور صحت مند محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ بارہ گھنٹے سگریٹ ترک کرتے ہیں تو آپ کا جسم سگریٹ میں پائے جانے والے کاربن مونو آکسائڈ کو جسم سے نکال دیتا ہے۔ سطح معمول پر آ جاتی ہے اور آپ کی آکسیجن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ ایک پورا دن مطلب چوبیس گھنٹے سگریٹ نوشی ترک کرنے سے آپ کا بلڈ پریشر گرتا ہے آپ کے دوران خون میں بہتری آ جاتی ہے۔ اس طرح آپ سگریٹ نوشی کے باعث اپنے ہائی بلڈ پریشر، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے کو کم کر دیتے ہیں۔

    ایک ماہ سگریٹ نوشی ترک کرنے سے جیسے ہی آپ کے پھیپھڑے ٹھیک طور سے کام کرنے لگتے ہیں تو آپ کو کھانسی اور سانس کی دشواری میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر آپ کو ورزش اور کام کرنا بھی آسان لگتا ہے۔ اور اگر آپ نو ماہ سگریٹ سے دور رہتے ہیں تو اس وقت تک آپ کے پھیپھڑے کافی حد تک صحتیاب ہوچکے ہوں گے۔ آپ کے پھیپھڑوں کے اندر سیلیا ( باریک بالوں کی مانند ریشہ) سگریٹ کے دھویں کے مضر اثرات سے مکمل طورپر صحتیاب ہو چکا ہوگا اور جب آپ کو سگریٹ چھوڑے ہوئے ایک سال ہو جائے گا تو آپ کو کارونری ہارٹ ڈیزیز (دل کی بیماریوں) کا خطرہ نصف ہو جائے گا۔ جس کی مزید کمی ہونا جاری رہے گی۔ جبکہ پانچ سال سگریٹ نوشی نہ کرنے سے آپ کی آرٹیریز اور خون کی شریانیں صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ مکمل طور سے کھلنے لگتی ہیں۔ اس طرح آپ، اپنے فالج اور جماد خون کے خطرے کو، کم کر دیتے ہیں اور دس سال کی عمر کے بعد آپ کے پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے کے امکانات نصف رہ جاتے ہیں اور منہ، گلے یا لبلبے کے کینسر کا امکان انتہائی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پندرہ سال بعد آپ کے دل کی بیماری یا لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات اتنے ہی رہ جاتے ہیں جتنے سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کے ہوتے ہیں۔ اور ٹھیک بیس سال کی پابندی کے بعد تمباکو نوشی سے متعلقہ وجوہات جیسے پھیپھڑوں کی بیماری یا کینسر سے مرنے کا خطرہ اب اتنا ہی کم ہوتا ہے، جیسے کسی نے اپنی زندگی میں کبھی سگریٹ پی ہی نہ ہو۔

  • ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا ہے جس میں ٹوئٹرصارفین اپنے سبسکرائبرز کے لیے شیئر کیے گئے مواد کے پیسے وصول کرسکیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین یہ طے کر سکتے ہیں کہ ان کی ٹوئٹس صرف سپرفالوورز کی ٹائم لائنز پر نظر آئیں گی جنہوں نے انہیں سبسکرائب کیا ہوگا سپر فالوورز کی شناخت ان کے نام کے نیچے نظر آنے والے ایک بیج کے ذریعے ہوگی جب وہ کسی بھی ٹوئٹ کا جواب دیں گے۔

    نئے فیچر کا اعلان فروری میں کیا گیا تھا اور اب یہ فیچر آئی او ایس ٹوئٹر کی ایپ پر دستیاب ہے ، اسےامریکہ اور کینیڈا میں لوگوں کے ایک ٹیسٹ گروپ تک محدود کیا گیا ہےٹوئٹر اس فیچر کو آئندہ ہفتوں میں دیگر ممالک میں بھی آئی او ایس پر فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے بعد میں یہ اینڈرائیڈ اور ویب پر بھی دستیاب ہوگا۔

    ٹوئٹر کے مطابق سپر فالووز صارفین ماہانہ بنیادوں پر 3، 5 یا 10 ڈالر اسٹرائپ سے ہونے والی ادائیگی کے ذریعے وصول کرسکتے ہیں تھرڈ پارٹی فیس کے صارفین سبسکرپشن سے 97 فیصد آمدنی کماسکتے ہیں جب تک وہ 50 ہزار ڈالر کی لائف ٹائم مونیٹائزیشن تک نہیں پہنچ جاتے۔اس حد کو عبور کرنے کے بعد 80 فیصد تک آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔

    اس سے قبل ٹویٹر نے کہا تھا کہ وہ ایک حفاظتی فیچر لانچ کرے گا جو صارفین کو نقصان دہ زبان استعمال کرنے یا بلائے گئے جوابات بھیجنے کے لیے سات دن کے لیے اکاؤنٹس کو عارضی طور پر بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    ایک بار جب سیفٹی موڈ آن ہوجاتا ہے ، ٹویٹر کے سسٹم ٹویٹ کے مواد کو چیک کریں گے تاکہ منفی مصروفیت کے امکان اور مصنف اور جواب دہندہ کے مابین تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ کمپنی نے کہا کہ جن اکاؤنٹس کے ساتھ اکثر بات چیت ہوتی ہے وہ خودکار طور پر بلاک نہیں ہوں گے ، کیونکہ یہ موجودہ تعلقات کو مدنظر رکھتا ہے۔

    کمپنی نے کہا ، “ہم چاہتے ہیں کہ ٹویٹر پر لوگ صحت مندانہ گفتگو سے لطف اندوز ہوں ، لہذا ہم حد سے زیادہ اور ناپسندیدہ بات چیت کو محدود کر رہے ہیں جو ان گفتگو کو روک سکتی ہے۔”

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

  • طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان میں آ گیا

    طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان میں آ گیا

    گوگل نے افغان حکومت کے نامعلوم تعداد میں ای میل اکاؤنٹس بند کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق افغانستان کا کنڑول سنبھالنے کے بعد اگرچہ طالبان نے سابقہ حکومت میں شامل عہدیداروں اور ان سے تعاون کرنے والے ہم وطنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا لیکن برطانوی خبر رساں ایجنسی ” روئٹرز” کا کہنا ہے کہ طالبان سابق افغان حکومت میں شامل عہدیداروں کے ای میل اکاؤنٹس تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    جمعے کو ایک بیان میں گوگل الفابیٹ انکارپوریٹڈ نے بتایا کہ کمپنی افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی کہ افغان حکومت کے ای میل اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب سابق افغان حکومت کے ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ طالبان سابق حکام کی ای میلز تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں طالبان نے گذشتہ ماہ ان سے کہا تھا کہ وہ اس وزارت کے سرورز پر موجود ڈیٹا کو محفوظ کریں جس کے لیے وہ کام کرتے تھےاگر میں ایسا کرتا ہوں تو وہ سابقہ وزارت کے ڈیٹا اور سرکاری مواصلات تک رسائی حاصل کر لیں گے۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد…

    سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدے دار نے بتایا کہ انہوں نے طالبان کے اس حکم کی تعمیل نہیں کی اور اب وہ روپوش ہیں۔

    عوامی طور پر دستیاب میل ایکسچینجر ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً دو درجن افغان حکومتی اداروں نے سرکاری ای میلز کے لیے گوگل سرورز کا استعمال کیا جن میں وزارت خزانہ، وزارت صنعت، اعلیٰ تعلیم اور معدنیات کی وزارتیں شامل ہیں کچھ مقامی حکومتوں کی طرح افغانستان کے صدارتی پروٹوکول کا دفتر بھی گوگل اکاؤنٹس استعمال کرتا رہا ہے۔

    سرکاری ڈیٹا بیس اور ای میلز سابق انتظامیہ کے ملازمین، سابق وزرا، سرکاری ٹھیکے داروں، قبائلی اتحادیوں اور غیر ملکی شراکت داروں کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

  • منشیات سے چھٹکارا تحریر حنا

    منشیات سے چھٹکارا تحریر حنا

    منشیات نشہ حرام ہے جو بعض اوقات موت کا سبب بنتی ہے ۔ اس کے ساتھ اسلام میں بھی ہمیں بتایا گیا ہے کہ نشہ حرام ہے ۔لیکن آج کل بچے لڑکیاں بزرگ سب اس نشے میں لگے ہووے ہیں کوی سگریٹ منہ میں رکھے وڈیو بنا رہا ہے تو کوی شراب کی بوتل پکڑے ٹک ٹاک پہ ناچ رہا ہے۔ آج کل جنریشن سگریٹ میں زہریلی سے زہریلی نشہ آور ادویات ملا کر پیتی ہے جو شراب کی ہی ایک قسم کہلاتی ہے اور جو انسانی جسم کے لیے نہایت نقصان دہ بھی ہوتی ہے ۔۔بچپن میں دادی سے سنتی تھی کہ نشہ لگانے والا پہلے آپکو خود اپنی جیب سے پیسے لگا کر نشہ کرواے گا ۔خود سے پیسے خرچ کر کہ آپ کو نشہ خرید کر دے گا ۔پھر دھیرے دھیرے جیسے نشے کی لت لگتی جاے گی ۔وہ آپ سے پیچھا چھڑاے گا..موت کے کنواں میں ہر کوی دھکیلتا ہے لیکن نکالتا کوی کوی ہے ۔۔نشہ آور چیزیں ہمارے سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں تک پہنچ گئ ہے ۔کہیں کوی سموسوں میں نشہ ڈال کر بیچتے پکڑا جاتا ہے تو کہیں کوی سکول میں کم عمر بچوں کو چیزوں میں نشہ کی ملاوٹ کر کہ ان کو وہ چیزیں کھلا رہا ہوتا ہے ۔درباروں مزاروں سڑکوں پہ بیٹھے نشئ لوگوں کی کبھی کہانیاں سنی ہے ان میں سے بیشتر اچھے خاندان سے ہوتے ہیں اور بیشتر کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ جی وہ دوست نے لگا دیا تھا نشہ پر یا ٹیچر نے یا انکل نے ۔۔لیکن نشہ کے عادی ان مجرموں کو مریضوں کو بطور پاکستانی شہری اور انسان ہونے کے ناطے نشہ کے اس کنویں سے ان کو ہم نے نکالنا ہے ۔۔افسوس اس بات ہے کہ آج کل والدین اولاد کی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دیتے ۔کہ ان کی اولاد کیا کررہی ہے ۔بیٹا بیٹی دروازہ بند کیے کس سے بات کررہے کیا کررہے ہیں کہیں کچھ غلط تو نہیں سکول بیگ شاپنگ بیگ چیک کرنا کہیں کسی غلط چیز میں تو نہیں پڑ گے ۔کہیں کچھ غلط تو نہیں کھا رہے کسی نشہ آور چیز میں تو نہیں پڑ گے۔نشہ کا عادی مجرم اس حد تک بے حس ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے ۔اپنی بیوی بچے بھی بیچ دیتا ہے گھر کا سامان پیسے زیور چوری کر کہ نشہ پورا کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے ۔اس کے لیے دین و دنیا سے کوی غرض نہیں ہوتی ۔اسے بس ایک ہی غرض ہوتی ہے اور وہ اپنا نشہ پورا کرنے کی پھر چاہے وہ کچھ بھی کرے کسی کا قتل یا کسی سے زناء یا کسی کو اغواء ۔غرض یہ کہ نشہ کا عادی اللہ کا تو نافرمان ہوتا ہی ہے ۔لیکن اپنے تمام حقوق العباد سے بھی لاپروہ ہو جاتا ہے بیوی بچوں کے اخراجات سے بچوں کی تعلیم سے والدین کی خدمت سے بچوں کے اچھے پہناوے سے ۔نشہ کا عادی انسان خود تو تڑپ تڑپ کر مرتا ہے لیکن بیوی بچوں کو بھی حالات کے رحم و کرم پر سسکتا چھوڑ جاتا ہے
    ۔۔منشیات کے عادی مجرموں کو مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کروایا دیا جاتا ہے ۔لیکن اکثریت کو مکمل علاج کے بعد پھر بھی آرام نہیں آتا وہ نشہ سے پھر بھی چھٹکارا نہیں پا سکتے ۔کیوں ۔کیونکہ وہاں بھی ان کو نشے کی سہولت مکمل دی جاتی ہے جس میں وہاں کا عملہ بھی شامل ہوتا ہے ۔ہسپتال ہوٹلوں پارکوں جیلوں ایسی جگہوں پر جہاں منشیات کے مریض ہوں وہاں منشیات فروخت کرنے والا بھی ضرور ہوتا ہے ۔سانپ کو مارنے کے لیے سانپ کے سر کو کچلا جاتا ہے اگر ہم نے منشیات کے خلاف اعلان جنگ کر ہی دیا ہے تو ہمیں اس سانپ کو ڈھونڈ کر کچلنا ہو گا جو وہاں تک پہنچ جاتا ہے جہاں قانون بھی اندھا ہوتا ہے ۔۔
    منشيات کی مثال پڑوس میں لگی ہوئی آگ کی طرح ہے۔ آپ زیادہ دیر تک تماشا نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کا گھر جلد ہی اس آگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
    اس آگ (منشیات) کو قابو کرنے کیلئے جلد از جلد آپ کو کچھ کرنا پڑے گا، ورنہ دیر ہو جائے گی۔۔
    رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔
    ”لا تشرب الخمر فإنھا مفتاح کل شر”
    ”شراب مت پیو یقیناً یہ ہر برائی کی چابی ہے”۔
    (سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ باب الخمر رقم ۳۳۷۱)
    دوسری حدیث میں ہے۔
    ”کل مسکر حرام وما اسکر کیثرہ فقلیلہ حرام”
    ”ہر نشہ لانے والی شے حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لائے اسکی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے”۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ رقم ۳۳۹۲)
    دونوں احادیث کے مطابق واضح طور پر شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے قرآن حکیم میں بھی شراب نوشی سے روکا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ تمام انسانیت کےلیے نبی بنائے گئے اور آپکی نبوت تا قیامت تک کےلئے ہے آپﷺ نے ہر ان خطرات سے امت کو آگاہ فرما دیا جس کے کرنے سے امت گمراہ اور راہ حق سے بہک جائے، شراب ایک ایسی لعنت ہے کہ جو اسکا عادی ہوتا ہے اسکے سامنے اسکی محرمات کی حرمت بھی برقرار نہیں رہتی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں ایک واقعہ بھی بیان فرمایا کہ ایک خوبصورت عورت نے اپنے پاس شراب رکھی اور ایک بچہ کو رکھا اور ایک شخص کو مجبور کیا کہ وہ تین میں سے ایک برائی کم سے کم ضرور کرے ، یا تو وہ اس عورت کے ساتھ بدکاری کرے ، یا اس بچہ کو قتل کر دے ، یاشراب پئے ، اس شخص نے سوچا کہ شراب پینا ان تینوں میں کمتر ہے ؛ چنانچہ اس نے شراب پی لی ؛ لیکن اس شراب نے بالآخر یہ دونوں گناہ بھی اس سے کرالئے ۔ ( نسائی : ۵۶۶۶)
    حکومت پاکستان ملک بھر میں منشیات ڈیلر اور مافیا کے خلاف سرچ آپریشن کرے تاکہ آنے والی نوجوان نسل کو اس عذاب سے نجات اور چھٹکارا مل سکے۔
    اور اس کے ساتھ ساتھ جو بھی منشیات کے کاروبار سے منسلک ہو یا خرید و فروخت میں ملوث ہو اس کو بھی عمر بھر قید یا پھانسی کی سزا کیلئےقانون سازی کی جائے۔
    کیونکہ یہ نواجوان اور ان کے والدین کو جیتے جی مار دیتے ہیں۔
    ۔

  • سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

    وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سرکاری ملازمین کے لیے واٹس ایپ کی متبادل ایپلیکیشن تیار کر لی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ایپ سے متعلق وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے بتایا ہے کہ پاکستان میں اگلے چند ہفتوں کے بعد ہم بیپ ایپلیکیشن لانچ کرنے جارہے ہیں یہ ایپ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ہو گی اس ایپ کی دیکھ بھال این ٹی سی کریں گی، اس لیے یہ محفوظ ہو گی، یہ ایپ بن چکی ہے ٹرائل پر ہے، چند ہفتوں میں لانچ کر دی جائے گی۔

    پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے اسلام آباد…

    سید امین الحق کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں اس ایپ میں صرف ٹیکسٹ میسج کی سہولت ہو گی دوسرے مرحلے میں وائس اور ویڈیو کال کی سہولت بھی موجود ہو گی اس ایپ کو ابتدائی سٹیج میں صرف وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے لانچ کیا جائے گا۔

    سرکاری ملازمین کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال ممنوع ، نوٹیفیکیشن جاری

    واضح رہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی سرکاری ملازمین کو خط لکھ کر واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کا استعمال کرنے سے منع کیا تھا نوٹیفکیشن میں تمام سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا تھا کہ کسی ایک یا زائد ہدایات کی خلاف ورزی بددیانتی کے مترادف ہوگی اور غفلت برتنے والے ایسے سرکاری ملازم کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ ان حاضر سروس سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو اس سوشل میڈیا گروپ کے منتظم ہوں جس میں کسی طرح کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔

  • تمباکو نوشی مضر صحت ہے  تحریر : ثناء شاہ

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر : ثناء شاہ

    ” پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
    پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
    تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
    میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
    سمجھنا مت اس کو میری عادت
    یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
    یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
    میں تیری یادیں جلا رہا ہوں ”

    اللّٰه تعالی کی دی گئی نعمتوں میں سے سب سے انمول نعمت تندرستی ہے۔ تندرستی کو ہزار نعمت بھی کہا گیا ہے ۔ سگریٹ پینے والوں نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ اس دھکتے جلتے سگریٹ سے اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت بگاڑ رہے ہیں وہ اپنے وجود کو زہریلے دھویں کے حوالے کر کے نا صرف خود سے زیادتی کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ بیوی بچوں کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس جیتی جاگتی دنیا میں آنکھوں کے سامنے لاکھوں لوگ اس زہر قاتل کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں پھر بھی یہ لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔

    سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    ریسرچ کرنے سے سگریٹ پینے کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے جو پہلے کسی کے علم میں نہیں تھے۔ اس نشے سے صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں بلکہ اور اقسام کے دیگرکینسر کا بھی خطرہ ہے ان میں جگر اور بڑی آنت کے کینسر ، اندھا پن اور ذیابیطس جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
    جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں، ان میں بھی دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    "بی بی سی کے رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سائسندانوں نے طویل عرصے تک سگریٹ نوشی کرنے کے باوجود کچھ افراد کے پھیپھڑوں کے صحت مند رہنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے۔
    50 ہزار سے زیادہ افراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ان افراد کے ڈی این اے میں مثبت تبدیلیوں کی وجہ سے پھیپھڑوں کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے اور یہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

    میڈیکل ریسرچ کونسل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی موثر ادویات تیار کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کے مطابق سگریٹ نوشی سے اجتناب کرنا ہی بہترین عمل ہے”۔

    سگریٹ پینے والے کو سوچنا چاہیے کہ جلد یا بدیر اس نشے نے اسکے پورے جسم کو اپنے لپیٹ میں لے لینا ہے اور اسکا وجود نا صرف ناکارہ بلکہ دوسروں کے لئے بوجھ بنتا جاۓ گا اس کو پھیپھڑوں کے کینسر کے ساتھ ساتھ دوسری خطرناک بیماریوں کا بھی سامنا ہوگا تب انھیں احساس ہوگا کہ انھوں نے کس طرح بے دریغ اپنی زندگی ضائع کردی لیکن تب پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔

    آئیں ملک کر انسانیت کو اس ناسور سے نجات دلوانے میں مدد کریں پاکستان کو سگریٹ نوشی سے پاک و صاف کریں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں ۔

    کوشش میں برکت ہوتی ہے اور کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ۔