Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یہ جو ہر شخص ماہر بنا ہوتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل  تحریر: علی خان

    یہ جو ہر شخص ماہر بنا ہوتا ہے، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل تحریر: علی خان

     

    قصہ پرمزاح ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی مزاج کا عکاس بھی ہے کہ کسی صاحب نظر کی محفل میں مجھ سے ایک بے صبرے صاحب جاپہنچے اور چار کتابوں کا ذکر کرکہ بولے حضرت مجھے مبارک دیں کہ یہ کتابیں پڑھ کر میں ابدال ہوگیا ہوں۔ صاحب محفل بولے مبارکباد کا نہیں بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ گوشت پوست کا انسان اب دال ہوگیا ہے۔ ان طالب حق کا یہ جواب سن کر کیا حال ہوا معلوم نہیں مگر ایسے شارٹ کٹ چاہے و دنیا کے لیے ہوں یا دین کے لیے تلاش کرنا گویا ہماری سرشت بن چکی ہے۔ 2 مہینوں میں میٹرک اور انٹر پاس کرنے کے دعوے تو پرانے ہوئے کہ اب رکشوں کے پیچھے 3 مہینے میں ڈاکٹر بنانے کے اشتہارات بھی عام سی بات لگنے لگی ہے۔ ایسا لالچ دینے والوں کا دھندا ہم جیسوں سے ہی چلتا ہے کہ ہمیں ہر کام میں ماہر بننا پسند ہے چاہے ہمارا اس سے تعلق ہو یا نا ہو۔ چار سو پھیلے ویب ٹی وی اور ان کے اینکرز بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ زبان سے کوئی تعلق لگاؤ ہو یا نا ہو۔ معلومات بے شک ساتھ کے محلے بارے بھی نہ ہو لیکن افغان جنگ اور عالمی حالات پر تبصرے میں یہ ماہرین کوئی کسر نہیں چھوڑتے.

    مریض کی عیادت کرنے جانے والا ہر شخص ایسے ایسے طبی مشوروں سے نوازتا ہے کہ بیمار انہیں سن کر مزید بیمار پڑ جاتا ہے۔ کسی کو قانونی کام پڑ جائے تو ہر آتا جاتا تعلق دار اسے دو چار قانون مشوروں سے ضرور نوازتا ہے اور ان میں اکثر مشورے طبی لحاظ سے ضرررساں اور قانونی حوالے سے قریب قریب جرائم  میں شمار ہوتے ہیں۔ کسی کے پکے کھانے میں نقص نکالنا اور اس بارے اپنے تئیں مفید مشورے دینا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ بچوں کی اچھی پرورش کے طریقے وہ خاتون بتاتی ہیں جن کی اپنی شادی نہیں ہوئی ہوتی۔   کسی کی شادی کا تمبو لگ رہا ہو یا قل خوانی کاکھانا طے کیا جارہا ہو۔ مفت کے مشورے دینے  والے کہیں موقع نہیں جانے دیتے۔ کسی کے بچے کا نام رکھنا ہو، مشورہ حاضر، سڑک پر جاتے اسٹینڈ اٹھانے کی دہائیاں دیتے، دوپٹہ سنبھالنے کی آوازیں لگاتے ہمارے ہی بھائی بندو ہوتے ہیں۔  کسی بھی موقعے پر خاموش رہنا شاید جرم سمجھا جاتا ہے۔ معاملہ  مزید خراب تب ہوتا ہے جب ایسے جعلی ماہر میدان عمل میں بھی آن پہنچتے ہیں اور اچھے خاصے کام کا بیڑا غرق کردیتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ مثالیں  ہر مرتبہ عید الاضحیٰ  پر ہمیں نظر آتی ہیں جب موسمی قصائی  کئی  افراد کی قربانی ہی ضائع کردیتے ہیں

    دیکھا دیکھی کے کاموں کا انجام تو یوں سا ہی ہوتا ہے کہ کسی گاؤں میں ایک اماں بی گلہڑ کے مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ تکلیف کے مارے دہائی دی تو راستے سے گزرتا اتائی آیا اور علاج کا یقین دلایا۔ اماں نے حامی بھری تو اتائی نے گردن پر کپڑا باندھ کر اوپر ہتھوڑا دے مارا۔ بوڑھی مریضہ جان سے گئیں تو دیہاتیوں نے جعلی طبیب کو جاپکڑا ۔ مار کھا کر طبیعت درست ہوئی تو بولا ساتھ کے گاؤں میں یہ ترکیب اونٹ کے گلے میں پھنسا تربوز نکالنے کو استعمال کی جاتی۔ وہاں سے مار کھا روانہ ہوا ۔ اگلی بستی میں ایک  شخص کو کھجور کے درخت پر پھنسے دیکھا کہ وہ اوپر تو جاپہنچا تھا لیکن  واپسی کی سمجھ نہ تھی۔ دانائی کا بھوت اتائی پر پھر سوار ہوااور آگے بڑھ مشورہ دیا کے اوپر رسی پھینکو  جو اوپر پھنسا شخص کمر میں باندھ لے۔ پھر مل کر دوسرے سرے پر زور لگاؤ۔  دیہاتیوں نے عمل کیا اور درخت پر پھنسا آدمی نیچے گر ا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اتائی نے پھر مار کھائی اور  وجہ یوں بتائی کہ ایک بار کسی جگہ ڈوبنے والے کو ایسے ہی بچایا گیا تھا۔ تو ایسے مشورے دینے اور لینے سے بچیں کہ جان لیوا ہوسکتے ہیں  ورنہ یوں ہی چلتا رہا تو  قصہ اپنا بھی عدم کی راہوں میں  لکھا جائےگا

    تحریر ؛ علی خان 

    @hidesidewithak

  • اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    ✨اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا✨
    قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں قوم کی تعمیر کے لیے تین رہنما اصول سکھائے تھے۔ وہ اصول اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط ہیں۔ انہوں نے تینوں میں سب سے زیادہ اہم اتحاد ہے اور بے شک اتحاد اجتماعی زندگی میں تیز اور دیرپا ترقی کے لیے سب سے قیمتی اصول ہے۔
    ایک قوم ان لوگوں کا مجموعہ ہے جو کسی خاص علاقے میں رہتے ہیں اور تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور قومی مفادات کی خاطر مشترکہ طور پر کوششیں کرتے ہیں۔ ملک و ملت کی خاطر یکجا ہو کر تمام تعصبات کو مٹا کر مل جل کر کوشش کرنی انہیں منظم بناتا ہے۔
    اتحاد و یکجہتی بہترین نظام زندگی کے طور پر اسلام کی عظمت اور پھیلاؤ کے لیے ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں نے خود کو ہندوؤں سے الگ کر دیا۔ لہذا ہماری بقا اور ترقی کا راز اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ پاکستان میں قومی اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہمارے طاقتور پڑوسی اور دشمن بھارت نے ابھی تک ہمارے آزاد وجود کو قبول نہیں کیا ہے اور ہر وقت ہمیں نقصان پہنچانے کے اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج خراب کرنے کے لیے کوٸی نہ کوٸی سازش کرتا رہتا ہے۔ کچھ دوسری طاقتیں بھی ہیں جو کسی نظریاتی ریاست کو اپنی سرحدوں کے قریب ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتی ہیں ۔ پاکستان کے دشمن ہمیشہ ملک میں قومی وحدت کو کمزور کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہماری اہم ضرورت ایک قوم کے طور پر اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا ہے جس نظریے پہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور قاٸد اعظم نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا ہم سب کو بحیثیت قوم اس نظریہ پر متحد ہونا ہے تا کہ بیرونی طاقتیں ہم پہ مسلط نہ ہو سکیں ہمیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ مزید وقت ضائع کیے بغیر ہمیں اپنے ملک میں اسلامی نظام زندگی متعارف کرانا چاہیے کیونکہ اسلام قومی وحدت اخوت اور مساوات پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے اسلام نے بھاٸی چارے کا ایک دوسرے سے حسن سلوک کا انسانیت کا اور بحیثیت قوم متحد ہونے کا درس دیا۔ اسلام سماجی انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے معاشرے کے ہر فرد کو حقوق دیے ہیں۔ اقلیتوں کو تحفظ دیا ہے ۔ اسلام معاشرے میں عدل وانصاف کا ضامن ہے۔
    اقبال رح نے فرمایا تھا: کہ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے💫 ۔ ہمیں اپنے اند بحیثیت قوم اتفاق اور بھاٸی چارے کی فضاء قاٸم کرنی ہے جو وطن عزیز کی بقا اور ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
    اس کے علاوہ ہمیں پاکستان میں جمہوریت اور نمائندہ حکومت کی کامیابی کے لیے ہم لوگوں کو حکومت کے معاملات میں شرکت کا احساس دلا کر انہیں محب وطن بنا سکتے ہیں پاکستان کے مساٸل کو حل کرنا یا اسکی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہم سب کو بھی مل جل کر اس کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا کرپشن ، رشوت ، بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
    علاقائی مسائل کو مرکزی حکومت کی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر حل کرنا چاہیے۔ زبان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسے تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ہماری زبان ہماری شناخت ہے اور ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچانے کا بہترین زریعہ ہے ۔
    مختلف صوبوں کے درمیان تجارتی اور سفری سہولیات بھی مہیا کی جائیں پریس ، سوشل میڈیااور ٹیلی ویژن بھی لوگوں کے نقطہ نظر کو ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہم ملک میں حقیقی معنوں میں قومی وحدت پیدا کریں گے تو ہم اپنے ملک کی سالمیت کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپس میں اتحاد و اتفاق قاٸم کرو گے تو تمام دشمنوں کو زیر کر سکو گے اور ترقی یافتہ قوم بن کے ابھرو گے مگر اگر آپس میں ہی الجھ جاٶ گے تو دشمن تمہیں نقصان پہنچاۓ گا ۔ہم سب اس ملت کے کے مقدر کا ستارا ہیں ایک قوم ہیں متحد رہیں تا کہ وطن عزیز مزید مضبوط ہو 😇
    شمسہ بتول
    @sbwords7

  • سوشل میڈیا کا استعمال ، تحریر:  راحیلہ عقیل

    سوشل میڈیا کا استعمال ، تحریر: راحیلہ عقیل

    کچھ سال پہلے تک سوشل میڈیا اتنا عام نہیں تھا لوگ صرف ضرورت کے تحت اسکا استعمال کرتے تھے آج ہر ہاتھ میں موبائل ہو اور اس میں سوشل میڈیا کااستعمال نا ہو ناممکن سی بات ہے اناڑی سے اناڑی بھی سوشل میڈیا پر بیٹھے گیانی بنے ہوتے ہیں تیزی سے ترقی کرتے دور میں جہاں ہر انسان خود کی پہچان بنانے کے لیے خود کو منوانے مقبول کرنے کے لیے اس کوشش میں رہتا ہے جو بھی خبر ویڈیو وائرل ہو پہلے ہمارے اکاؤنٹ سے ہوجاے ہمارے لائکس،فالورز بڑھ جائیں ہمارا نام ہوجاے چاہے پھر وہ خبر جھوٹی ہو یا نازیبا ویڈیوز ہر شخص خودنمائی چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ وقت ہی ایسا ہے یہاں گھروں میں ایک دوسرے کو ٹائم دینے کے بجائے کوشش ہوتی جلد از جلد کام ختم کرکے سوشل میڈیا پر وقت گزارا جائے گھروں میں بے سکون، وقت نا دینے کی شکایت، تعلیم پر توجہ نا دینا، کھانے پینے صحت کا خیال نا رکھنا، نیند پوری نا کرنا، یہ سب سوشل میڈیا کی مہربانی ہے ہم اس قدر عادی ہوچکے ہیں کے اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے وقت ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کے ہم اپنی نسلوں کو کیا ترغیب دے رہے ہیں یہی تو سیکھ رہے ہم سے بچے اور پھر ہم ہی شکایت کررہے ہوتے ہیں کے بچے بدتمیز ہورہے ہیں بات نہیں سنتے ہم نے ہی تو بچوں سے جان چھڑانے کے لیے انکے ہاتھوں میں موبائل دیے ہیں بچوں کو جس وقت کتابوں کی ماں باپ کی توجہ کی گھومنے پھرنے، لاڈ پیار کی ضرورت ہوتی ہم نے ساری زمہ داری ایک موبائل دلا کر پوری کردی ؟ سوچیے …….

    سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کا گند

    بہت سارے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال سیاسی طور پر کرتے ہیں وہ جماعت کی خوبیاں اور مخالف جماعتوں کی خامیاں گنواتے تھکتے نہیں، کافی بار سنا کے کچھ جماعتیں پیڈ ٹیمز سے کام کرواتی ہیں،گالیاں ، الزامات، دھمکیا، فوج مخالف بیانہ، یہ اکثر جعلی اکاؤنٹس سے ہوتا یا پھر دوسرے ممالک میں آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سکون سے فل اے سی روم میں بیٹھے لوگ یہ کام بخوبی سرانجام دیتے ہیں ظاہر ہے انکو ڈر خوف تو ہوتا نہیں، پیچھے رہ جاتے ہمدرد کارکنان وہ سارا دن ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں ہر طرح سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں رہتے کے کیسے اپنے رہنما کو پارسا ثابت کریں
    میرا ایک سوال ہے ان کارکنان سے ہمدردوں سے
    خدا نا کرے آپ مر گئے آپ کے جنازے پر آپکے رہنما آئیں گے؟ یا وہ دوست آپکے دکھ پریشانی میں آپکو حوصلہ دینگے ساتھ دینگے جن سے آپ سارا دن لڑائیاں کرتے ہوں اپنے رہنماؤں کے لیے ؟ خود فیصلہ کرلیں۔۔۔۔۔۔۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ
    آج کے دور میں سوشل میڈیا پاور ہے یہاں دس منٹ میں کسی کے ساتھ ہوئے ظلم پر آواز اٹھاکر حکمرانوں کو جگایا جاتا ہے ارادے ایکشن نا لیتے ہوں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اتنے مضبوط ہیں کہ وہ جانتے ہیں انکی آواز سنی جاے گی بلکہ کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی یہ مثبت پہلو یہ صحیح استعمال ہے کشمیر کی آزادی کی تحریک ہو یا بھارت کے کشمیر میں مظالم، افغانستان میں طالبان کی واپسی ہو یا امریکہ، بھارت کی چیخیں یہ سب ہمیں سوشل میڈیا سے پتہ چلتا ہے کہ کب کون کیا کررہا کہہ رہا ۔۔۔۔ آنے والے وقتوں میں سوشل میڈیا اک نیا رخ لے گا۔۔۔

    ٹک ٹاک
    ایسے ہی کچھ ایپس ایسی بھی ہیں جہاں سوائے گند، غلاظت،بے حیائی،فتنے کے سوا کچھ نہیں ٹک ٹاک” سب ہی جانتے ہیں ٹک ٹاکرز کے آئے روز نئے اسکینڈلز منظرعام پر آتے ہیں جس وجہ سے پاکستان میں فلحال ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔

    یوٹیوب
    یوٹیوب اچھی ایپ ہے اپنے حساب سے چاہیں تو پیسے کمانے کا زبردست طریقہ ہے گھر بیٹھے کافی کام کرتے ہیں لوگ اس پر خواتین کوکنگ، میکپ، سلائی کڑھائی، بیوٹی ٹپس اور بھی کافی چیزیں ہیں جن پر کام کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔
    ہر چیز کے اچھے برے پہلوں ہیں یہ سوچنا ہمارا کام ہے کے ہم نے خود اور اپنے بچوں کو اسکا استعمال کیسے کروانا ہے اور کس عمر میں انکے ہاتھوں میں فون دینے ہیں انکو آزادی دینی ہے ۔۔۔۔۔
    تحریر راحیلہ عقیل

  • واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری
    سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور اپلیکیشنز ہر چند ماہ بعد صارفین کی سہولت کے پیش نظر تبدیلیاں کرتی رہتی ہیں، اس مقصد کے لئے وہ مختلف قسم کے سرویز کراتی ہیں اور اپنے یوزر / صارفین سے آراء طلب کرتی ہیں کہ وہ کس قسم کے اپشن میں مزید بہتری چاہتے ہیں.

    سماجی رابطوں کی اپلیکیشن ‘واٹس ایپ’ کی نئی آنے والے اپ ڈیٹ میں کچھ نئی تبدیلیوں کا امکان متوقع ہے جن میں سب سے بڑی تبدیلی، واٹس ایپ پہ ساتھی سے اپنا last seen چھپانا ہے، جبکہ وہ اپکی contact list میں بھی موجود ہو. واٹس ایپ کی موجودہ اپ ڈیٹ تک ایسا کوئی فیچر یا آپشن متعارف نہیں کرایا گیا تھا کہ آپ ایسے شخص سے اپنا last seen چھپا سکتے ہوں جو آپ کی contact list میں موجود ہو. آپ کو ایسا کرنے کے لئے یا تو اس کا نمبر ڈیلیٹ کرنا پڑتا تھا یا پھر دوسرا آپشن بلاک کی صورت میں دستیاب تھا. مگر اب آپ اپنے موبائل میں محفوظ کردہ نمبرز سے بھی اپنا last seen چھپا سکتے ہیں.

    واٹس ایپ کا یہ فیچر کافی لوگوں کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے. بالخصوص ان لوگوں کے لئے جن کو بہت سارے لوگوں کے نمبر اپنے پاس save محفوظ رکھنے ہوتے ہیں.
    رپورٹ: مدثر حسین
    @mudassiradlaka

    خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز وائرل،بزدار سرکار کا بڑا حکم

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، 40 ملزمان کی عدالت پیشی

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی،71 سالہ بزرگ بھی گرفتار

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ایک اور ملزم کی ضمانت،شناخت پریڈ کب ہو گی؟

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی کیس ، پولیس نے سب کی دوڑیں لگوا دیں

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، ملزم کی درخواست ضمانت پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    مینار پاکستان، لڑکی سے دست درازی، عائشہ اکرم نے کتنے ملزمان کی شناخت کر لی؟

    مینار پاکستان، دست درازی،عائشہ اکرم نے کن ملزمان کی شناخت کی، نام سامنے آ گئے

    کس نے بلایا، کس نے چھیڑا، کس نے نازیبا حرکات کیں، سب سامنے آ گئے

  • ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش شروع کردی ہے جس میں صارفین اپنے فالو کرنے والوں کو ان فالو کر سکیں گے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق اب صارفین اپنی کسی فالور سے تنگ ہیں تو وہ بڑے آرام سے اسے اپنے فالورز کی لسٹ سے ہٹا سکیں گے جس کا نوٹیفکیشن بھی اس شخص کو موصول نہیں ہوگااس سے پہلے صارفین کے پاس ان فالو کا آپشن نہیں تھا بلکہ انہیں اس کے لیے اس مخصوص شخص کو بلاک کرنا پڑتا تھا۔

    ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر کا مذکورہ فیچر ابھی ویب ورژن پر صرف کچھ صارفین کے لیے دستیاب ہے، اس آپشن سے صارف آپ کی کسی بھی پوسٹ کو نہیں دیکھ سکیں گےاس فیچر کے استعمال کے لیے صارفین کو اپنی پروفائل میں فالورز میں جانا ہوگا اور وہاں تھری ڈاٹ آئیکن پر کلک کرنا ہوگا اور وہاں فالوور کو ہٹانے والے آپشن کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

    فیچر کے تحت ان فالو کرنے والوں کو نوٹیفیکشن نہیں بھیجا جائے گا جس سے اسے یہ پتہ چل سکے کہ وہ لسٹ سے نکالا جا چکا ہے لیکن اگر اسے یہ معلوم ہو جاتا ہے تو وہ دوبارہ فولو کر سکتا ہے۔

    طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان…

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    موسمیاتی تبدیلیوں سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی ساِنسی جریدے کی جانب سے نئی تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

    سائنسدانوں کے مطابق یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ہئیت میں ہونے والی اس تبدیلی سے جانوروں کو بقا حاصل ہو بھی رہی ہے یا نہیں لہٰذا اس تبدیلی کو مثبت نہیں بلکہ خطرے کی گھنٹی سمجھنا چاہیے، کہ موسمیاتی تبدیلی اتنے مختصر عرصے میں جانوروں کو جسمانی تبدیلی پر مجبور کررہی ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    کچھ ماہ قبل قازقستان میں جھیلوں اور قدرتی آثار پرمشتمل سیاحتی مقام پر ایک چٹان دریافت کی گئی تھی، جس سے 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال معلوم کیا جاسکتا ہےبین الاقوامی ماہرین نے اسے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ماضی سے مستقبل کے رازوں کو جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔

    سوئزرلینڈ کی لیوزین یونیورسٹی کے شارلوٹ پروڈ ہوم نے دعوی کیا کہ چارین گھاٹی کے مقام پر 80 میٹر طویل پتھریلا سلسلہ ہے، جہاں کلائمٹ چینج کا پانچ کروڑ سالہ ریکارڈ موجود ہے۔ ٹیم نے اسے نایاب جگہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر ایسے آثار کم ہی ملتے ہیں۔

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی…

  • چھ ماہ کے مولود بچے کا فیصلہ تحریر: احسان الحق

    مدینے میں ایک عورت کے ہاں شادی کے محض 6 ماہ بعد بچے کی پیدائش ہوئی حالانکہ عموماً شادی کے 9 ماہ بعد یا کم سے کم 7 ماہ بعد خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں. بچے کی پیدائش کا سن کر لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ 6 ماہ کے حمل کے بعد بچہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے. اسی وجہ سے لوگوں نے شک کرنا شروع کر دیا کہ یہ عورت حقوق زوجیت میں خیانت کی مرتکب ہوئی ہے. لوگوں نے الزامات لگانا شروع کر دئیے کہ یہ بچہ اس کے شوہر کا نہیں بلکہ یہ بچہ شادی سے پہلے کا ہے.

    امیرالمؤمنین خلیفہ ثانی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے پاس اس عورت کا مقدمہ پہنچا تو آپ نے ملزمہ کو طلب فرماتے ہوئے اس پر مقدمہ چلانے کے بعد رجم کرنے کی سزا کا حکم صادر فرمایا. دربار خلافت میں امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی موجود تھے. آپ حضرت علیؓ خلیفہ ثانی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے قاضی کے عہدے پر تھے. آپ نے امیرالمؤمنین کے عورت کو رجم کرنے کے فیصلے سے مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ

    "یہ عورت قابل سرزنش نہیں ہے. اس کے خلاف رجم کی سزا درست نہیں. اگر تم لوگ صرف اس لئے عورت کو گناہ گار سمجھ رہے ہو کہ بچہ شادی کے 6 ماہ بعد پیدا ہوا ہے تو اس وجہ سے عورت قابل سزا نہیں اور نہ ہی اس عورت پر یہ الزام عائد ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے حق میں مخلص نہیں ہے. یہ بچہ عورت کے شوہر کا ہے”

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا جواب سن کر لوگ تعجب کا شکار ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ کیسے؟

    آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے  سورہ "احقاف” کی آیت نمبر 15 کی تلاوت کرتے ہوئے لوگوں بتایا کہ

    "عورت کے حمل کا اور بچے کو دودھ چھڑانے کا عمل 30 ماہ کا ہے” (الاحقاف15)

    مطلب حمل اور رضاعت کی پوری مدت 30 ماہ یعنی 2 سال اور 6 ماہ ہے.

    اسی طرح سے سورہ بقرہ کی تلاوت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    "مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں” (البقرہ 233)

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق دودھ پلانے کی مدت دو سال یعنی 24 مہینے ہے اور حمل اور رضاعت کی کل مدت 30 ماہ ہے. ان 30 مہینوں میں سے 24 مہینے دودھ پلانے کے اور 6 مہینے حمل کے ہیں. لہذٰا اگر کوئی عورت 6 ماہ میں بچے کو جنم دے تو یہ بچہ اس کے شوہر کا ہوگا اور وہ عورت قابل سرزنش نہیں ہوگی.

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے علم اور آپکی ذہانت کی وجہ سے ایک عورت رجم ہوتے ہوتے بچ گئی.

    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ  حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے مزکورہ دونوں آیات سے اور سورہ لقمان کی آیت 14 سے یہ استدلال کیا ہے کہ وضع حمل کی کم سے کم مدت 6 ماہ ہے. 6 ماہ کے حمل کے بعد بچے کی پیدائش پر عورت کی سرزنش نہیں کی جاسکتی. حضرت علیؓ کا استنباط صحیح اور قوی ہے. اس دلیل اور رائے سے امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور دیگر اصحابِ رسولﷺ نے اتفاق کیا ہے.

    سلف صالحین کا یہ دستور تھا کہ نوعیت مسئلہ سمجھنے کے بعد اجتہاد کی بنیاد پر فیصلہ کرتے. اگر ان کے فیصلے کے خلاف قرآن مجید کی کوئی آیت یا حدیث پیش کی جاتی تو وہ فوراً اپنے فیصلے پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فیصلے کو ترجیح دینے میں بالکل پس و پیش نہیں کرتے تھے. مذکورہ بالا واقعہ اس حوالے سے بہترین مثال ہے.

    @mian_ihsaan

  • درختوں سے دوستی تحریر:فاروق زمان

    درختوں سے دوستی تحریر:فاروق زمان

    درخت ماحول دوست ہوتے ہیں, لیکن سب سے زیادہ، سب سے پہلے مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ہمارے دوست ہیں۔ بہت گہرے دوست۔ درختوں کی اہمیت سے زیادہ میں ان کی دوستی کا قائل ہوں۔ ہم بہت بار یہ سنتے ہیں کہ درخت لگائیں یہ فائدہ مند ہیں۔ ماحول کے بچاؤ کے لیے ضروری ہیں، لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں کہا سنا کہ آئیں درختوں کو دوست بنائیں۔ درخت لگانا، لگانے کی ترغیب دینا اور درختوں کو دوست بنانے میں بہت فرق ہے۔ درخت لگا دینے سے ہمارا کام پورا نہیں ہوتا، صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں بلکہ درختوں کی مکمل نگہداشت ضروری ہے۔ ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، ان جو وقت دینے کی ضرورت ہے۔
    جب میں چھوٹا تھا تو ایک دفعہ ہمارے سکول کے پرنسپل صاحب نے ہمیں اکھٹا کیا اور ہمیں پودے دیئے۔ ہم سب کو اپنے حصے کے پودے لگانے کے لیے کہا گیا۔ ہم نے ایسا ہی کیا ۔جب پودے لگ گیے تو پرنسپل صاحب نے کہا کہ جس جس بچے نے جو جو پودا لگایا ہے وہ اس کو (own) کر لے اور اس کو دوست بنا لے۔ یہ سب پودے آپ کے دوست ہیں، آپ کو دوستوں کی طرح ہی انہیں وقت دینا ہوگا۔ ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ انہیں پانی دینا ہوگا۔ ان کی گوڈی وغیرہ اور دیکھ بھال کرنی ہو گی۔ ہم سب بچوں کے لئے یہ بات نئی تھی۔ لیکن ہم سب پرجوش ہو گئے۔ ہم نے پودوں کو اپنا دوست مان لیا۔ اور ہم ویسے ہی کرنے لگے جیسے پرنسپل صاحب نے ہمیں کہا تھا۔ میں ہر روز سکول جاتے ہی اپنے لگائے ہوئے پودے کے پاس جاتا۔ پانی وغیرہ دیتا، اس سے باتیں کرتا رہتا اور اس کا خیال رکھتا، یہ ایسی ہی بات نہیں ہے۔ پودا توجہ اور روزانہ کی بنیاد پر خیال رکھے جانے سے نکھرتا چلا گیا۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ اس پر پھول اور پھل لگے گیں۔ پھل میٹھے اور سایہ ٹھنڈا ہو گا۔
    بچپن سے میرے اندر یہی بات بیٹھ گئی کہ درخت اور پودے ہمارے دوست ہیں۔ عام لوگوں کی طرح میں ان کے ساتھ بے جانوں والا سلوک نہیں کرتا تھا۔ لوگوں کی طرح مجھے پودوں سے پھول توڑتے ہوئے بہت زیادہ دکھ ہوتا اور میں ان سے بلاوجہ پھول نہ توڑتا اور مجھے ہمیشہ سے یہی دکھ ہوتا ہے کہ درختوں اور پودوں کے ساتھ جانداروں والا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا بڑی تعداد میں جنگل کے جنگل کاٹ دیے جاتے، میرے دوستوں کو کتنی تکلیف پہنچتی ہو گی جب مختلف اوزار سے ان کو کاٹا جاتا ہو گا۔  ضرورت کے لئے اگر کاٹنے پڑتے ہیں تو ان کی جگہ نئے درخت اور پودے بھی تو لگانے چاہیے۔
    پرندے، انسان اور جانور سب کی زندگی پودوں اور درختوں سے جڑی جڑی ہوئ ہے۔ درختوں پر پرندوں نے اتنے پیارے گھونسلے بنائے ہوتے ہیں۔ درختوں پر پرندوں اور چڑیوں کے آنے سے بہت رونق ہوتی ہے ۔
    ہمارے دوست ہمارے لئے بہت کچھ کرتے ہیں۔ پودے اور درجہ حرارت کم کرتے ہیں۔ فضا سے گیسوں کو جذب کرتے ہیں اور فضا کو صاف اور تروتازہ رکھتے ہیں۔ آلودگی کو دور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ برداشت کرتے ہیں۔گرمی کی حدت  اور سورج کی تپش برداشت کرتے ہیں، لیکن ہمیں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل دیتے ہیں۔
    درختوں سے سبزہ اور ہریالی ہوتی ہے۔ جو آنکھوں کو بہت بھلی محسوس ہوتی ہے، درختوں کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں میں عجیب سا سکون ملتا ہے، جیسے دوست نے دوست کو گلے سے لگا لیا ہو۔ درخت اور پودے خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ رنگ برنگے پھول بوٹے اور درخت بہت خوشنما لگتے ہیں، پھولوں کی خوشبو بہت دلفریب ہوتی ہے۔ درختوں اور پودوں سے حاصل کردہ پھول ہم اپنے جذبات واحساسات کے اظہار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کو پھولوں کے تحفے دیتے ہیں۔ مگر جن پودوں اور درختوں سے پھول حاصل کرتے ہیں ان کو ہم بے جان سمجھتے ہیں، ان کے لیے ہمارے دل میں کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہے ہم ان سے جانداروں والا سلوک  نہیں رکھتے،اور نہ ہی انھیں دوست سمجھتے ہیں۔
    ہم سوچتے ہیں درختوں کی آنکھیں نہیں ہیں، دماغ نہیں ہیں۔ اعضاء نہیں ہیں وہ حرکت نہیں کر سکتے۔ شاید یہی سوچ ہے جس کی وجہ سے ہم ان کو اندھا دھند کاٹتے ہیں۔ ہم ان کا خیال رکھنے کی بجائے فیکٹریوں کا فضلہ، گھروں اور دفاتر کا گند وغیرہ درختوں کے پاس پھینک دیتے ہیں تو وہ خود سانس نہیں لے سکتے،  ہوا کو کیسے سے صاف کریں گے۔ ہم ماحول اور درختوں کے دشمن خود ہیں۔ ہم درخت کاٹتے ہیں۔ پرندوں کے آشیانے تباہ کر دیتے ہیں۔
    ہمیں ماحول اور اپنے دوستوں کو بچانا ہو گا۔ ماحول اور انسان  دوست درختوں کو اپنا دوست مانا ہوگا ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ نہیں کہ بہت سے درخت لگانے کی مہمیں شروع کی جاتی ہیں لیکن پودے لگانے کے بعد ان کی صحیح نگہداشت نہیں کی جاتی اور خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ پانی وغیرہ نہیں دیا جاتا اور دیکھ بھال نہیں کی جاتی، نتیجتا وہ دھوپ کی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور مرجھا جاتے۔ گل سڑ جاتے ہیں اگر ان کو دوست سمجھا جائے ان کا خیال رکھا جاتا تو یقیناً ایسا نہ ہو۔
    اس کے علاوہ ہمیں ماحول دوست درخت لگانے کے شوق کوجنون بنانا ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے، ان سے محبت کا ثبوت دینا ہو گا۔ تاکہ ہمارے دوست ہمیں ہر طرف نظر آئیں۔ ہر طرف شادابی ہو۔ گھروں میں باغبانی کریں۔ شہر، محلے کی خالی جگہوں، پارکس وغیرہ میں پودے لگائیں۔
    ہمیں درخت اور پودے اگانے کے لیے شعور و آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ۔بچوں کو بھی شروع سے ماحول سے، درختوں سے محبت کرنا سکھائیں گے تو وہ ان کو دوست بنائیں گے۔  ہمیں انسانوں کے لیے درختوں کی محبت و اہمیت اور ماحول کے لئے ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔ درخت اور پودے لگا کر درختوں سے دوستی
    درخت ماحول دوست ہوتے ہیں, لیکن سب سے زیادہ، سب سے پہلے مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ہمارے دوست ہیں۔ بہت گہرے دوست۔ درختوں کی اہمیت سے زیادہ میں ان کی دوستی کا قائل ہوں۔ ہم بہت بار یہ سنتے ہیں کہ درخت لگائیں یہ فائدہ مند ہیں۔ ماحول کے بچاؤ کے لیے ضروری ہیں، لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں کہا سنا کہ آئیں درختوں کو دوست بنائیں۔ درخت لگانا، لگانے کی ترغیب دینا اور درختوں کو دوست بنانے میں بہت فرق ہے۔ درخت لگا دینے سے ہمارا کام پورا نہیں ہوتا، صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں بلکہ درختوں کی مکمل نگہداشت ضروری ہے۔ ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، ان جو وقت دینے کی ضرورت ہے۔
    جب میں چھوٹا تھا تو ایک دفعہ ہمارے سکول کے پرنسپل صاحب نے ہمیں اکھٹا کیا اور ہمیں پودے دیئے۔ ہم سب کو اپنے حصے کے پودے لگانے کے لیے کہا گیا۔ ہم نے ایسا ہی کیا ۔جب پودے لگ گیے تو پرنسپل صاحب نے کہا کہ جس جس بچے نے جو جو پودا لگایا ہے وہ اس کو (own) کر لے اور اس کو دوست بنا لے۔ یہ سب پودے آپ کے دوست ہیں، آپ کو دوستوں کی طرح ہی انہیں وقت دینا ہوگا۔ ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ انہیں پانی دینا ہوگا۔ ان کی گوڈی وغیرہ اور دیکھ بھال کرنی ہو گی۔ ہم سب بچوں کے لئے یہ بات نئی تھی۔ لیکن ہم سب پرجوش ہو گئے۔ ہم نے پودوں کو اپنا دوست مان لیا۔ اور ہم ویسے ہی کرنے لگے جیسے پرنسپل صاحب نے ہمیں کہا تھا۔ میں ہر روز سکول جاتے ہی اپنے لگائے ہوئے پودے کے پاس جاتا۔ پانی وغیرہ دیتا، اس سے باتیں کرتا رہتا اور اس کا خیال رکھتا، یہ ایسی ہی بات نہیں ہے۔ پودا توجہ اور روزانہ کی بنیاد پر خیال رکھے جانے سے نکھرتا چلا گیا۔ مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ اس پر پھول اور پھل لگے گیں۔ پھل میٹھے اور سایہ ٹھنڈا ہو گا۔
    بچپن سے میرے اندر یہی بات بیٹھ گئی کہ درخت اور پودے ہمارے دوست ہیں۔ عام لوگوں کی طرح میں ان کے ساتھ بے جانوں والا سلوک نہیں کرتا تھا۔ لوگوں کی طرح مجھے پودوں سے پھول توڑتے ہوئے بہت زیادہ دکھ ہوتا اور میں ان سے بلاوجہ پھول نہ توڑتا اور مجھے ہمیشہ سے یہی دکھ ہوتا ہے کہ درختوں اور پودوں کے ساتھ جانداروں والا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا بڑی تعداد میں جنگل کے جنگل کاٹ دیے جاتے، میرے دوستوں کو کتنی تکلیف پہنچتی ہو گی جب مختلف اوزار سے ان کو کاٹا جاتا ہو گا۔  ضرورت کے لئے اگر کاٹنے پڑتے ہیں تو ان کی جگہ نئے درخت اور پودے بھی تو لگانے چاہیے۔
    پرندے، انسان اور جانور سب کی زندگی پودوں اور درختوں سے جڑی جڑی ہوئ ہے۔ درختوں پر پرندوں نے اتنے پیارے گھونسلے بنائے ہوتے ہیں۔ درختوں پر پرندوں اور چڑیوں کے آنے سے بہت رونق ہوتی ہے ۔
    ہمارے دوست ہمارے لئے بہت کچھ کرتے ہیں۔ پودے اور درجہ حرارت کم کرتے ہیں۔ فضا سے گیسوں کو جذب کرتے ہیں اور فضا کو صاف اور تروتازہ رکھتے ہیں۔ آلودگی کو دور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ برداشت کرتے ہیں۔گرمی کی حدت  اور سورج کی تپش برداشت کرتے ہیں، لیکن ہمیں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل دیتے ہیں۔
    درختوں سے سبزہ اور ہریالی ہوتی ہے۔ جو آنکھوں کو بہت بھلی محسوس ہوتی ہے، درختوں کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں میں عجیب سا سکون ملتا ہے، جیسے دوست نے دوست کو گلے سے لگا لیا ہو۔ درخت اور پودے خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ رنگ برنگے پھول بوٹے اور درخت بہت خوشنما لگتے ہیں، پھولوں کی خوشبو بہت دلفریب ہوتی ہے۔ درختوں اور پودوں سے حاصل کردہ پھول ہم اپنے جذبات واحساسات کے اظہار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کو پھولوں کے تحفے دیتے ہیں۔ مگر جن پودوں اور درختوں سے پھول حاصل کرتے ہیں ان کو ہم بے جان سمجھتے ہیں، ان کے لیے ہمارے دل میں کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہے ہم ان سے جانداروں والا سلوک  نہیں رکھتے،اور نہ ہی انھیں دوست سمجھتے ہیں۔
    ہم سوچتے ہیں درختوں کی آنکھیں نہیں ہیں، دماغ نہیں ہیں۔ اعضاء نہیں ہیں وہ حرکت نہیں کر سکتے۔ شاید یہی سوچ ہے جس کی وجہ سے ہم ان کو اندھا دھند کاٹتے ہیں۔ ہم ان کا خیال رکھنے کی بجائے فیکٹریوں کا فضلہ، گھروں اور دفاتر کا گند وغیرہ درختوں کے پاس پھینک دیتے ہیں تو وہ خود سانس نہیں لے سکتے،  ہوا کو کیسے سے صاف کریں گے۔ ہم ماحول اور درختوں کے دشمن خود ہیں۔ ہم درخت کاٹتے ہیں۔ پرندوں کے آشیانے تباہ کر دیتے ہیں۔
    ہمیں ماحول اور اپنے دوستوں کو بچانا ہو گا۔ ماحول اور انسان  دوست درختوں کو اپنا دوست مانا ہوگا ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ نہیں کہ بہت سے درخت لگانے کی مہمیں شروع کی جاتی ہیں لیکن پودے لگانے کے بعد ان کی صحیح نگہداشت نہیں کی جاتی اور خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ پانی وغیرہ نہیں دیا جاتا اور دیکھ بھال نہیں کی جاتی، نتیجتا وہ دھوپ کی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور مرجھا جاتے۔ گل سڑ جاتے ہیں اگر ان کو دوست سمجھا جائے ان کا خیال رکھا جاتا تو یقیناً ایسا نہ ہو۔
    اس کے علاوہ ہمیں ماحول دوست درخت لگانے کے شوق کوجنون بنانا ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے، ان سے محبت کا ثبوت دینا ہو گا۔ تاکہ ہمارے دوست ہمیں ہر طرف نظر آئیں۔ ہر طرف شادابی ہو۔ گھروں میں باغبانی کریں۔ شہر، محلے کی خالی جگہوں، پارکس وغیرہ میں پودے لگائیں۔
    ہمیں درخت اور پودے اگانے کے لیے شعور و آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ۔بچوں کو بھی شروع سے ماحول سے، درختوں سے محبت کرنا سکھائیں گے تو وہ ان کو دوست بنائیں گے۔  ہمیں انسانوں کے لیے درختوں کی محبت و اہمیت اور ماحول کے لئے ضرورت کو سمجھنا چاہیے۔ درخت اور پودے لگا کر ان کی بہتر نگہداشت کرنی چاہیے۔ ان کا خیال رکھ کر سب سے بڑھ کر ان کو دوست بنا کر ہم انسان دوست ماحول میں سانس لے سکیں گے۔ان کی بہتر نگہداشت کرنی چاہیے۔ ان کا خیال رکھ کر سب سے بڑھ کر ان کو دوست بنا کر ہم انسان دوست ماحول میں سانس لے سکیں گے۔

    @FarooqZPTI

  • اقتدار کے تین سال  تحریر : سیف الرحمان

    اقتدار کے تین سال تحریر : سیف الرحمان

    وزیراعظم عمران خان کو اقتدار میں آئے تقریباتین سال مکمل ہو چکے۔   ان تین سالوں میں بہت سے امتحانات سے بھی گزرنا پڑا۔ بقول عمران خان سب سے مشکل مرحلہ آئی ایم ایف کے پاس قرض مانگنے جانے کا تھا کیونکہ اقتدار میں آنے سے پہلے خان صاحب نے قوم سے کہاتھا کہ وہ مر جائیں گے لیکن کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔لیکن سابقہ نااہل حکمرانوں نے جاتے جاتے جو بارودی سرنگیں نئی حکومت کیلئے بچھائی اس کا اندازہ خود وزیراعظم عمران خان کو بھی نہیں تھا۔ ن لیگ نے خزانہ خالی کر کے  ملک ڈیفالٹر ہونے کے قریب  چھوڑ دیا تھا۔ وہ تو اﷲ بھلا کرے دوست ممالک کا جنہوں نے بطور آکسیجن پاکستان کو پیسے اور آئل فراہم کیا۔ پھر آئی ایم ایف کی امداد بھی آ گئی۔ یوں زندگی کا پہیہ ایک بار پھر رواں ہوا۔

    اس وقت ملک میں یہ  تاثر  بھی ہے کہ عمران خان  ملک کے نظام میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں لاسکے۔ یہ بات اس تناظر میں  ٹھیک ہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آکر اپنے اختیارات کا  ناجائز استعمال کرتے ہوئے دولت نہیں بنائی۔ نہ نیا بنگلہ بنایا۔ نہ کوئی شوگر مل  لگائی۔ نہ بیرون ملک کوئی جائیدادخریدی۔نہ ہی رشتداروں کو اعلی حکومتی عہدوں پر بیٹھایا۔ نہ اپنے بیٹوں کو بیرون ملک پیسہ ٹرانسفر کیا اور نہ ہی کسی عربی سے اقامہ لے کر تنخواہ لی ۔ انکے قریبی ساتھی  اسد عمر، حماد اظہر  فواد چوہدری شاہ محمود قریشی   اور مراد سعید وغیرہ پر بھی اس قسم کا کوئی الزام نہیں ہے۔

    عمران خان کے اقتدار میں آنے سے پہلے  پاکستان کا شمار  ایسے ممالک میں کیا جاتا تھا  جہاں  اقتدار میں آنے کے بعد کرپشن فرض سمجھی جاتی تھی۔ قوم نے بھی کرپشن کو ذہنی طور پر تسلیم کر لیا تھا بلکہ بعض لوگ تو نعرے مارتے تھے کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے۔اب ایسے ماحول میں کسی ایسے شخص کا حکمران  بن جانا  جوذاتی طور پر نہ تو کرپٹ ہے اور نہ ہی  اس پر کسی قسم کا کوئی کرپشن کا چارج ہے ۔جس کو  ملک کی اعلی عدالتوں نے  صادق اور امین کہا ہے۔بعض لوگوں کیلئے حیرانگی اور  بعض کیلئےپریشانی تو بننے گی۔

     اگر دیکھا جائے تو یہ  بات اپنی جگہ  درست ہے کہ  سرکاری دفاتر میں  رشوت خوری میں  اس طرح کمی نہیں آسکی جس کا وعدہ خود عمران خان صاحب نے کیا تھا۔  عام آدمی اب بھی بیشتر کام بغیر رشوت  نہیں کروا سکتا۔تحریک انصاف کا منشور کرپشن فری پاکستان کی تکمیل عملی طور پر ابھی تک دیکھنے کو نہیں مل سکی۔ نیب  نے  ان تین برسوں میں سوا پانچ سو ارب روپے سے زیادہ کرپٹ افراد سے برآمد کئے اور قومی خزانہ میں جمع کروائے ۔آپ کو یاد ہو گاجب عمران خان نے حکومت بنائی تو بیوروکریسی نے  ایک سال تک عدم تعاون کا روّیہ اختیار کئے رکھا۔ وہ فائلوں  پر دستخط نہیں کرتے تھے۔ تمام کام التوا  اور سست روی کا شکار ہو رہے تھے۔ بیوروکریسی کا موقف تھا کہ وہ کوئی فیصلہ کریں گے تو  نیب انکو کرپشن کے الزام میں دَھر لے گا۔  پھرحکومت نے نیب قانون مین تبدیلی کی اورجس سرکاری افسر پر کوئی الزام ہواس کے خلاف پہلے صوبہ کا چیف سیکرٹری کاروائی کرے گا۔ اسکی منظوری کے بعد نیب اس پر ہاتھ ڈال سکے گا۔

    ایک بات  جس کا ذکر لازمی ہے وہ یہ کہ تبدیلی کے خلاف مزاحمت صرف سرکاری افسروں تک محدود نہیں  بلکہ وہ تمام گروہ  بھی شامل ہیں جنکے مفادات سابقہ نظام سے وابستہ ہیں۔ اگر آپ عدالتی ریفارمز کی طرف جائیں تو وکلاء اور ججز سامنے آ جاتے ہیں۔ عدالتی بائیکاٹ اور احتجاج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی جج کے احتساب کی بات کی جائے تو بینچ اور بار ڈھال بن جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  تحریک انصاف اب تک عدالتی اور قانونی نظام میں کوئی خاص تبدیلی  نہیں کی۔حالانکہ  مارچ میں ہونے والے سینٹ الیکشن کے بعد تحریک انصاف اور اسکے اتحادیوں کے پاس قومی اسمبلی اور سینٹ میں سادہ اکثریت ہے۔ حکومت چاہے تو کوئی  بھی قانون پارلیمان سے منظور کرواسکتی ہے۔ اگر سینٹ میں مزاحمت ہو تو یہ قومی اسمبلی اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکرقانون سازی کرسکتی ہے۔جب تک قانون کی بالا دستی نہیں ہو گی ملک ترقی  نہیں کر سکتا۔  تحریک انصاف کو چاہئے جوڈیشل سسٹم میں جلد از جلد ریفارمز لے کر آئے۔ عوام کو فوی ااور سستے انصاف کی فراہمی کیلئے نئی قانون سازی کی جائے۔ سالوں سال کیس چلنے کی بجائے 2-3ماہ میں کیس کے فیصلےکا وقت مقرر کیا جائے۔  اسی طرح پولیس ریفارمز بھی کی جائیں۔ ایف آئی آر سے لے کر تفتیش تک اور پھر جزا سزا تک تمام مراحل کی حد مقرر کی جائے۔ ایسے تمام پولیس آفیسر جو پیسے لے کر جھوٹی تفتیش کریں انکو بھی سزا کا قانون بنایا جائے۔  ایسے پولیس والے جو بغیر رشوت کام نہیں کرتے ان کیلئے جبری ریٹائر منٹ بطور سزا پنشن ضبط قانون لایا جائے۔جس دن پولیس اور عدلیہ سہی کام کرنا شروع ہو گئی آدھے مسئلے تو خود بخود ہی حل ہو جائیں گے۔

    اگر  معیشت پہ بات کی جائے تو اس کا حال فلحال اتنا تسلی بخش نہیں جتنا عوام امید لگائے بیٹھی تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ ہمارے ملک میں  خوشحال طبقہ ریاست کو پُورا ٹیکس نہیں دیتا۔ بڑے بڑے زمیندار جو کروڑ پتی، ارب پتی ہیں وہ ٹیکس نیٹ سے ہی باہر ہیں۔   ایک اندازے کے مطابق ساٹھ لاکھ سے زیادہ پرچون دُکاندار ہیں جو ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔ اگر ان   سب سے ٹیکس لینے کی بات کی جائے  تو یہ ہڑتالیں کرنے لگتے ہیں۔ حکومت  کے پاس سوائے گھٹنے ٹیکنے کوئی آپشن ہیں نہیں بچتا جبکہ حکومت کا نظام پہلے ہی قرضوں پر چل رہا ہے۔   اگر معیشت سہی کرنی ہے تو ٹیکس کے نظام میں بہتری لانا ہوگی۔ ایسے تمام لوگوں سے ٹیکس لیا جائے جو اس نیٹ ورک سے باہر ہیں یا ٹیکس چور ہیں۔ غریب کیلئے  بلواسطہ یا بلاواسطہ جتنا ممکن ہو کم سے کم ٹیکس رکھا جائے۔ 

     اگر وزیراعظم عمران خان واقعی نظام کی اصلاح چاہتے ہیں تو  انکو اپنے سیاسی مفادات  سے  بُلند ہوکر  جلد از جلد بولڈ اور دور اندیش فیصلے کرنا ہوں گے۔امیر لوگوں پر مضبوطی سے ہاتھ ڈالا کر ٹیکس وصول کیا جائے۔ غریب کے اوپر بلواسطہ یا بلاواسطہ  مذیدٹیکس نا لگائے جائیں۔ 

    اگر مہنگائی کی بات کی جائے تو ان تین سالوں میں پچاس سے ڈیڑھ سو فیصد تک مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں۔  بعض اشیاء کرونا کی وجہ مہنگی ہوئی جبکہ بعض اشیاء ملک میں موجود مافیاء کی ملی بھگت سے مہنگی ہوئی پڑی ہیں۔  اگر دیکھا جائے تو ان میں چینی گھی اور آٹا سر فہرست ہیں۔ چینی اس وقت 100روپے گھی 340روپے اور آٹا 60روپے کلو فروخت ہو رہا ہے  ۔  بجلی اور گیس کے بلوں کی بات کی جائے تو ان میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔   مہنگائی کنٹرول  نہ ہونے پہ  ہر ضلع کے ڈی سی کو پوچھا جائے۔ ناجائز منافع خوروں  کوسخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ ہر شاپ پر ریٹ لسٹ آویزا کی جائے۔ سرکاری نرخ نامے پہ اشیاء کی خریدو فروخت یقینی بنایا جائے۔ 

    اگر عمران خان صاحب مہنگائی پر قابو پا جاتے ہیں تو اگلے الیکشن میں تحریک انصاف  کو کوئی بھی دوبارہ اقتدار میں آنے سے نہیں روک پائے گا۔ خان صاحب نے جس طرح خارجہ امور میں  اپنا لوہا منوایا جس طرح بھارت کو عالمی سطح پر ایکسپوز کیا۔ جس طرح کشمیر کا مقدمہ لڑاامید کی جا سکتی ہے کہ اگلے دو سالوں میں  مہنگائی کے چیلنج  سے بھی نمٹ کر عوام کو  ریلیف دیں گے اور 2023کے  الیکشن میں بھرپور واپسی کریں گے۔ انشاءﷲ

    @saif__says

  • توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون (قسط دوم) تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد توبہ کر لیں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کریں۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے خود پر لازم کر رکھا ہے کہ وہ اپنے بندے کے اس رجوع کو قبول کر لے گا۔
    بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جس میں کوئی دوسرا بندہ بھی متاثر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں صرف زبان کی حد تک یا ارادے کی حد تک توبہ کر نا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کی تلافی کریں اور اس شخص سے معافی مانگیں۔ اگر آپ نے اس کا کوئی حق مار لیا ہے تو اس کو ادا کرنا ہو گا۔ اسی کو قرآن مجید اصلاح کرنے سے تعبیر کرتا ہے۔
    اصلاح کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آئندہ کے لیے آپ وہ کام نہیں کریں گے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو آپ نے غلطی کی ہے اس کی تلافی کریں گے۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے کسی خاتون کے مکان پر قبضہ کر لیا ہے، اب وہ شخص سوچتا ہے کہ اس نے یہ غلط کیا ہے اور وہ اپنے اس گناہ پر توبہ کر لیتا ہے لیکن مکان نہیں چھوڑتا۔۔۔۔ تو یہ توبہ نہیں ہوئی۔اُسے چاہیے کہ وہ توبہ کے ساتھ ساتھ مکان بھی خاتون کے حوالے کر کے اپنے گناہ کی تلافی کرے۔
    بعض ناقابلِ تلافی گناہ ہوتے ہیں جس میں سنگین صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ناقابلِ تلافی گناہ کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کو قتل کر دیا، وہ آدمی تو اب دنیا میں موجود نہیں رہا۔ اب اس سے جو کچھ معاملہ ہونا ہے وہ آخرت میں جا کر ہو گا۔ اس صورتحال میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آخرت میں معاف کرتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اُس وقت تو آپ کے پاس لینے اور دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہو گا، تو اس کا ازالہ کیسے ہو گا؟
    اس چیز کو حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پھر اُس کے کہنے پر آپ کو اپنی نیکیاں اس کے حصہ میں ڈالنی ہوں گی اور اس کی بُرائیاں اپنے کھاتے ہیں لینی پڑیں گی۔
    اسی طریقے سے اگر آپ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتے ہیں، کوئی ظلم کرتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب ازالے کی کوئی صورت موجود نہیں رہی ہے تو پھر آپ اس کے لیے استغفار کریں، اس کے اہل و عیال، اس کے رشتے دار اگر دنیا میں موجود ہیں تو ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کریں۔ یعنی ازالے کی کوئی نہ کوئی صورت آپ کو اختیار کرنی ہے۔ اگر اس کا بھی موقع نہ ملا تو یہ طے ہے کہ آخرت میں ہر حال میں اس شخص کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑے گا۔
    گناہوں کی دونوں صورتوں میں، ایک وہ جو خدا کی بارگاہ میں ہم سے سرزد ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو بندوں کے حقوق سے متعلق ہیں، تو خدا کی بارگاہ میں ہونے والے گناہوں سے بھی ہمیں ڈرنا چاہیے اس لیے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو پھر بھی غفور و رحیم ہے پر بندوں کے معاملے میں آپ کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا رویہ وہاں کیا ہو گا، اس لیے اس معاملے میں اور بھی زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
    کوئی شخص اگر بددیانتی کرتا ہے، خیانت کرتا ہے، کم تولتا ہے یا ملاوٹ کرتا ہے تو وہ اصل میں حقوق العباد کے متعلق گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ خدا کا بھی مجرم ہے اور اس بندے کا بھی مجرم ہے۔ ایک وہ خیانتیں ہیں جو فرد کی حیثیت سے ہوتی ہیں اور ایک وہ ہیں جو ریاست کی سطح پر ہوتی ہیں تو اس صورتحال میں خیانت کرنے والا پوری قوم کا مجرم بن جاتا ہے۔ اگر کسی نے قومی خزانے میں خیانت کی تو وہ پوری قوم کا جوابدہ ہو گا، پوری کی پوری قوم قیامت کے دن اس سے حساب لینے کا حق رکھتی ہے۔ اس وجہ سے حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ اس میں توبہ بھی کرنی ہو گی، گناہ کو چھوڑنا بھی ہو گا اور اس کی تلافی بھی کرنی ہو گی۔
    آپﷺ نے صحابہ کرام کو ایک روایت سنائی تھی، جس میں ایک شخص نے سو قتل کر دیے تھے۔ ظاہر ہے وہ جو سو مقتولین تھے ان سے اُس نے معافی نہیں مانگی تھی لیکن  اس نے اللہ سے سچے دل سے معافی مانگی تواللہ نے اسے معاف کر دیا تھا۔
    اس روایت میں بھی خدا کی معافی کی بات کی گئی ہے، یہ یاد رہے کہ بندے کی طرف سے خدا کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔ قتل کا جرم ایک ایسا جرم ہے جس میں انسان خدا کا بھی مجرم ٹھہرتا ہے، معاشرے کا بھی اور مقتول کا بھی مجرم ہوتا ہے۔ یہ معمولی جرم نہیں ہے اس لیے اس پر ابدی جہنم کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس کو ایک آسان سی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں قتل اتنا عام ہو گیا ہے کہ نہ مرنے والے کو پتا ہے کہ کیوں مر رہا ہے اور نہ مارنے والے کو پتا ہے کہ وہ کیوں مار رہا ہے۔
    یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں ایک فتنہ پیدا ہو جائے گا  تو صحابہ کرام نے پوچھا وہ کیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کا قتل جس میں نہ مارنے والے کو پتا ہو گا اور نہ مرنے والے کو پتا ہو گا۔
    ہمیں اب معلوم ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے تو ہمیں  توبہ کرنی چاہیے، اس بارے میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا توبہ کرنے کے لیے بھی کوئی مہلت دی گئی ہے؟
    اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں اور اللہ نے اپنے بندوں کو موت تک کی مہلت دی ہے کہ آپ کسی بھی وقت اپنے گناہوں کی بخشش کی دعا کر سکتے ہیں، لیکن اگر فوراً آپ نے اپنے گناہ کی توبہ کر لی ہے، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ آپ کی توبہ قبول کر لے گا، اور اگر آپ نے توبہ کرنے میں تاخیر کی ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اُسی آیات میں آگے فرمایا ہے کہ اگر موت تک موخر کر دیا ہے تو پھر اللہ توبہ قبول نہیں کریں گے۔ یعنی سقراطِ موت طاری ہو گئی ہے، آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ اب دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں، اس وقت اگر توبہ توبہ کا ورد شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ میں یہ توبہ قبول نہیں کروں گا۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ جو درمیان کا عرصہ ہے، یعنی  فوراً توبہ بھی نہیں کی اور موت تک بھی موخر نہیں کیا، لیکن درمیان میں کسی وقت اللہ نے توفیق دی اور رجوع کر لیا تو اس میں خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ یہ خاموشی خوف بھی پیدا کرتی ہے اور یہ خاموشی امید بھی پیدا کرتی ہے۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری توبہ قبول فرمائیں اور تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف کریں۔آمین
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal