Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 6 ستمبر 1965ء کی جنگ  تحریر : اقصٰی صدیق

    6 ستمبر 1965ء کی جنگ تحریر : اقصٰی صدیق

    پاکستانی قوم ہر سال 6 ستمبر یومِ دفاع کو ایک قومی دن کےطور پر مناتی ہے، اس دن کو منائے جانے کا مقصد پاک بھارت جنگ 1965ء میں عسکری افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ہے۔
    اور دشمن کو بارآور کرانا ہے کہ ہماری افواج ہر مشکل گھڑی میں وطن عزیز کے تحفظ کی خاطر دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے۔
    6 ستمبر 1965ء کی جنگ میں شہادت بہت سوں کا مقدر ٹھہری اور بہت سے غازی بن کر لوٹے۔
    اس سلسلے میں سکولز، کالجز اور جامعات میں سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں اور ہمارے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ان کی وطن عزیز کے دفاع کی خاطر دی گئی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔پاکستان کی 67 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی اندرونی اور بیرونی دشمن نے وطن عزیز کو نقصان پہنچانا چاہا تو پاک فوج ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اس کے سامنے ڈٹ گئی ۔ میدان جنگ میں ہر فوجی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی جرأت مندی اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرے کہ پوری قوم اس پر فخر کر سکے۔
    آج بھی ہم میں سے ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع اور لازوال قربانیوں پر فخر کرتا ہے اور یقین و ایمان رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے۔
    افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہار روح کو گرما دیتا ہے، دل جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے اور ہمارے شہداء فوجی جوانوں کی لازوال قربانیوں کی داستانیں آنکھیں نم کردیتی ہیں۔ 6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ کا تذکرہ ہمارے دلوں کو ایمان ویقین کی طاقت اور جوش و جذبے سے لبریز کر دیتا ہے۔ گویا 6 ستمبر کا دن رہتی دنیا تک کبھی نا بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے۔
    6 ستمبر کی جنگ پاکستان اور بھارت کے مابین پہلی ایک عالمی جنگ تھی۔جس میں ہمسایہ ملک بھارت نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان پر لاہور کے اطراف سے حملہ کیا،
    لیکن یہ مملکت خداداد کو تباہ کرنے اور لاہور پر قبضہ جمانے کی محض ایک ناکام کوشش ثابت ہوئی، دشمن نے منہ کی کھائی۔
    آپریشن جبرالٹر اور مقبوضہ کشمیر تنازعہ اس جنگ کی بنیادی وجہ ہیں۔
    برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے ہی دونوں ممالک کے درمیان کافی پیچیدگیاں رہی ہیں۔جن میں سے سب سے اہم مسئلہ کشمیر تھا، تقسیمِ برصغیر پاک و ہند کے بعد ہی بھارت نے عالمی برادری کے سامنے کشمیر کی آزادی کے متعلق کیے گئے فیصلوں کی نا صرف خلاف ورزی کی بلکہ آزادی کے مؤقف کو دبانے کی بھرپور کوششیں کیں، اور بالآخر نندا کمیشن رپورٹ میں اپنی طاقت کا مؤقف استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔ بھارت کی جانب سے کی گئی یہ ناانصافی آج 73 برس گزرنے کے باوجود بھی حل طلب ہے،
    اور موجودہ دنوں کشمیر بھارتی سفاکیت و مظالم کا شکار ہے۔اور بھارت کشمیریوں کی آواز دبانے میں آج بھی ناکام ہے۔
    اس کے برعکس آپریشن جبرالٹر کے نتائج دونوں ممالک کے مابین مزید کشیدگی کا باعث بنے، اور 1965ء کی جنگ کو ہوا دی۔
    مسئلہ کشمیر تنازعہ اور اس کے بعد بھارت کا پاکستانی علاقے رن آف پر حملہ کرنا، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوابی کارروائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔
    اور اسی تناظر میں چونڈہ کے مقام پر جنگ ہوئی۔
    جنگی ساز و سامان سے لیس اور طاقت کے نشے میں دُھت بھارتی فوج نے لاہور پر حملہ کرنے کے بعد پاک فوج کی توجہ اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ افواج کے ساتھ سیالکوٹ کے اطراف میں حملہ شروع کر دیا۔
    لیکن پاک فوج کے نوجوان وطنِ عزیز کی سلامتی کی خاطر جسموں پر بم باندھے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور دشمن کے متعدد ٹینک تباہ کر ڈالے اور چونڈہ کے محاذ کو دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا،
    تاریخ میں اس جنگ( 1965ء) کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
    6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ میں پاک فضائیہ نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، پاک فضائیہ نے نہایت مستعدی سے کام لیا اور اس جنگ میں دشمن ملک بھارت کے 110 طیارے مار گرائے جبکہ صرف 19 پاکستانی طیارے ملکی دفاع کے کام آئے۔دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب 17 روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں دونوں ممالک اپنی اپنی فتح و کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید ملک کا دفاع کرتے ہوئے بہت بہادری سے دشمن کے حملوں کا جواب دے رہے تھے کہ دشمن ٹینک سے ایک گولہ ان کے سینے پر آ لگا اور وہ موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔ان کی اس بہادری پر حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا۔
    جنگ کے ان دنوں ملک تنزلی کا شکار تھا، دفاعی سامان اور افواج دونوں کی کمی تھی۔ لیکن قوت ایمانی سے سرشار قوم اور افواج نے دشمن کو گٹنیے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، غیور قوم نے اپنے ایمان، جوش اور جذبہ شہادت سے ثابت کیا کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی ہر ممکن صلاحیت رکھتی ہے، اور انشاءاللہ آئندہ بھی دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔کیوں کہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

    @_aqsasiddique

  • پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار)  تحریر فرقان اسلم

    پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار)  تحریر فرقان اسلم

    "علم ایک لازوال دولت ہے”

    ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب مسلہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ دو طرح کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔ چند پرائیویٹ ادارے اچھے بھی ہوتے ہیں۔ 

    ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔

    من مانی فیسیوں کا مطالبہ: 

    پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔

    سٹیشنری کا سامان : 

    اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔

    مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے

    مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے

    ان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

    یہاں پر ایک بات ذکر کرتا چلوں کہ چند نجی اسکول ایسے بھی ہیں جن کا معیار تعلیم بہت اچھا ہے مگر ایسے ادارے بہت کم ہیں۔ زیادہ تر لوگ ان کی فیس ادا نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کا ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور تمام طلباء کے لیے یکساں تعلیم کی فراہمی ناممکن ہوجاتی ہے۔

    والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین

    @RanaFurqan313

  • تمباکو نوشی اور کینسر    تحریر: ادیبہ

    تمباکو نوشی اور کینسر  تحریر: ادیبہ

     

    قارئین کرام، آج ہم بات کریں گے کہ تمباکو نوشی کینسر کے خطرے کو کیسے بڑھاتی ہے،جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی ایک انتہائی مہلک آلودگی پیدا کرتی ہےاور اسی آلودگی کی وجہ سے بہت سے امراض جنم لیتے ہیں۔ان امراض میں سے ایک مہلک مرض کینسر ہے۔عوام الناس میں بہت سے افراد ایسے ہوں گے جو آلودگی کے بارے میں اس حد تک نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ اس چیز کا تعین کر سکیں کہ کونسی چیز آلودگی کے زمرے میں آتی ہے۔آئیے! پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ درحقیقت آلودگی کیا ہے؟اگر سادہ الفاظ میں آلودگی کو بیان کیا جائے تو اس کا تعارف کچھ یوں ہوگا کہ آلودگی ماحول میں نقصان دہ مواد کا دوسرا نام ہے یہ اور یہی نقصان دہ مواد آلودگی کہلاتا ہے۔اگر سگریٹ نوشی کی بات کی جائے تو سگریٹ کے دھوئیں میں ہزاروں کیمیائی مادے ہوتے ہیں ان میں سے سینکڑوں نقصان دے ٹاکسن کے طور پر جانے جاتے ہیں اورحالیہ تحقیق کے مطابق ان سیکڑوں کیمیائی مادوں میں سے 65 فیصد سے زیادہ کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں سے بہت سارے زہریلے اور کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کی وجہ سے سگریٹ نوشی ماضی قریب میں کئی قسم کے کینسر کی قلیدی وجہ کے طور پر پہچانی جائے گی۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی جسم کے اندر اہم افعال کو بھی متاثر کرتی ہے جو کینسر کے خلاف جسم کی قوت مدافعت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مثال کے طور سگریٹ نوشی کرنے والے شخص کے جسم میں کسی بھی قسم کی سوزش ہونے کی صورت میں یہ سوزش بڑھتی چلی جاتی ہے جو کہ کینسر اور بہت سی دیگر بیماریوں کے خطرات کو جنم دیتی ہے۔حالیہ تحقیق کے مطابق عوامل کے اس امتزاج پر غور کرتے ہوئے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سگریٹ نوشی سرطان کے ابتدائی مرحلے سے کینسر کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔کیا سگریٹ پینے سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟ اور کتنا آئیے جانتے ہیں۔ کینسر پر ریسرچ کرنے والے ادارے کینسر ڈاٹ نیٹ کے ایک معتبر پروفیسر اینتھونے جے ایل برگ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کے زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کی بنیادی وجہ ہے لیکن جو بات کم مشہور اور عوام الناس میں کم لوگ جانتے ہیں وہ یہ کہ سگریٹ نوشی کئ دیگر اقسام کے کینسر کی وجہ بھی بنتی ہے، دیگر کینسر کی اقسام میں سرفہرست یہ ہیں: مثانے کا کینسر، گریوا کا کینسر، کولور کٹل کینسر، غذائی نالی کا کینسر، گردے کا کینسر، لاریجیل اور ہائپو فریجنل کینسر، جگر کا کینسر، لبلبے کا کینسر شامل ہیں۔مختصرا مندرجہ بالا تحقیق اور وجوہات کی بنا پر یہ کہنا غلط ہرگز نہ ہوگا کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت ہی مہلک ہے،حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے اور ہماری جو نوجوان نسل اس لت میں مبتلا ہو چکی ہے اسے جلد سے جلد ریہیبلیٹیشن سنٹرز میں منتقل کرے اور ان کی کاؤنسلنگ کرے تاکہ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کاربن ثابت ہوں۔اس کے علاوہ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ ایسے ادارے قائم کرے جو نچلی سطح پر رہتے ہوئے روزمرہ کی روٹین میں اس چیز کو مانیٹر کرے اور ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرے جو انسانوں کی زندگی کے لئے موت کا سامان تیار کر رہے ہیں۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام دنیاوی آفات و امراض سے محفوظ رکھے (آمین)

    @adibaarain

  • صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    امریکی کمپنی ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرز تنقید کے بعد مؤخر کردیئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی کمپنی ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکورٹی فیچرز متعارف کرایا تھا جس کے تحت فون پرنازیبا تصاویر بھیجنے یا آنے پر بچوں کے والدین کو اطلاع دی جائے گی۔

    نئے فیچر کے تحت کسی بھی آئی فون میں بچوں کی نازیبا تصاویر ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کو بھی خودکار طریقے سے آگاہ کردیا جائے گا۔ آئی فون کے نئے سیفٹی ٹولز متعارف کرادیئے گئے ہیں۔ یہ فیچرز ابتدائی طورپر امریکہ، پھر دنیا بھر میں دستیاب ہوں گے۔

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    ایپل کا کہنا تھا کہ نئے فیچرز نازیبا تصاویر بھیجنے یا وصول کرنے والے بچوں کی نگرانی اور ان کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے متعارف کرایا جائے گا لیکن صارفین کی جانب سے نئے فیچر پر تنقید کرنے کی وجہ سے کمپنی نے اپنے نئے فیچر کو مؤخر کردیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق گزشتہ روز کمپنی نے اپنے متنازع نئے اینٹی چائلڈ پورنوگرافی فیچر کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہےکمپنی نے یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے نئے فیچر پر تنقید کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی ایپل کے نئے فیچر کو تنقید کا نشانہ بناتے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ فیچر مستقبل میں جاسوسی کرنے کا زریعہ بن سکتا ہے۔

    ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشنز کا کہنا ہے کہ ایپل فون کے آپریٹنگ سسٹمز میں تبدیلی موبائل میں ممکنہ بیک ڈور بناتا ہے جس سے حکام اور مختلف گروہ صارفین کی جاسوسی کرسکتے ہیں۔

    پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ کس ملک کو…

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

     

    تھکے ہارے پیدل چلتے چلتے  گوگل میپ  کے سہارے ہوٹل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا    ہوٹل کے کاونٹر پر موجود عملے نے مسکراتے چہروں سے استقبال کیا  اور ریزرویشن کی  تفاصیل  طلب کی ہم نے بھی سب کچھ موبائل میں ہی  رکھا ہوا تھا  آنے کا مقصد پوچھا  بتا یا بزنس ٹرپ  ہے تو  آو بھگت میں کچھ زیادہ اضافہ  محسوس کیا  ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا اور ہال میں موجود  صوفے پر  بیٹھنے اور  کچھ  دیر انتظار کا کہا گیا 

    یہا ں  پہنچ کر پتا  چلا کہ چیک آوٹ کا وقت   دو بجے ہے اور  کمرہ تیار کرکے واپس ہمیں  چار بجے   تک ملے  گا  یعنی  پورے  چار گھنٹے  ہال میں  صوفہ پر  بیٹھ کا  چپ چاپ انتظار کرنا ہوگا کہ کب  چار بجیں  اور کب  ہمیں  اپنا کمرہ ملے    ، موسم وہاں کا کافی  گرم  تھا  اور ہوا میں  نمی کی وجہ سے  اے سی ہال  سے  باہر نکلتے  ہی پسینے  چھوٹنے  لگتے  میں نے بھی   صوفہ پر ہی دراز ہونامناسب سمجھا اور خاموشی سے   اپنی  باری کا انتظار شروع کردیا

    چار بجنے سے  پورے دس منٹ پہلے کمال  مہربانی کرتے ہوئے عملے نے   کارڈ تھما دیا اورہم نے  بھی لفٹ کی  راہ لی سارا ہی نظام ڈیجیٹل  تھا ہم  نے بھی پہلی بار کسی اچھے ہوٹل میں  رہائش  رکھی  تھی  لفٹ کھول لی مگر دو تین بار مختلف  بٹن  دبانے کے  بعد بھی جب  کچھ  نہ بنا تو چارو ناچار  باہر کھڑے  سیکیورٹی  گارڈ کو بتایا کہ بھائی  ساتویں  فلور پر کس طرح جائیں  اس نے  بھی کمال بے نیازی سے میرا کارڈ  لیا اور سینسر کے آگے کر کارڈ واپس کر کے  باہر نکل  گیا  تو ہمیں سمجھ آئی  کہ بھائی  آئندہ  یہ کرشماتی  کارڈ ہی کام  آئے گا ہر جگہ   ، ہوٹل کا محل وقوع بہت اچھا تھا   مین  بازار  صرف دس پندرہ منٹ میں  پیدل  جایا  جا سکتا تھا

      کراچی سے بینکاک مسلسل  پانچ گھنٹے کی نان سٹاپ فلائٹ اور موسم کی خرابی کی وجہ سے سارا راستہ بیلٹ باندھ  کر  گزارنے اور  ناہموار فلائٹ نے ٹھیک  ٹھاک  تھکا دیا تھا  اور اتر کر جیسے ہی  نیٹ کی سم لے لر موبائل اون کیا تو کراچی  اوبر پر سفر جو کہ تین  سو میں تھا اور اس ظالم نے تیرہ سو لے لئے  اس کی ای میل موصول ہونے سے تھکن  میں اضافہ ہو گیا  سب سے پہلے  گھر والوں کو خیریت سے پہنچنے  کی  خبر دی اور چینج کرکے  سونے کی تیاری  کی   ، ہر بندے میں اچھی  بری عادات  ہوتی ہیں  مجھ میں بھی ہیں  پینٹ شیلٹ کا استعمال صرف  دفتر اور سفر میں ہی کرتاہوں باقی اوقات میں  شلوار قمیض  پہننا ہی معمول وہاں پہنچ کر سب سے پہلے  قومی لباس پہنا اور  سو گئے  

    اچھا خاصا سونے کے بعد بھوک نے تنگ کیا تو چاروناچار  اٹھے نہا کر فریش ہوکر تیاری  کرنا چاہی کپڑے استری کرنے کیلئے ہیلپ لائن پر کال کی تو  فوراً ہی استری مہیا کردی گئی  کپڑے استری کئے  اور  اپنے پرانے تجربے کی روشنی میں ہوٹل  کی لوکیشن  ویٹس ایپ پر شئر کر لی  تاکہ  بوقت ضرورت کام آسکے پہلے   بھی ایک دفعہ سیر کو نکلے تھے تو ہوٹل کا راستہ بھول گئے تو کافی دوڑ دھوپ  کرنی پڑی تھی تب سے اب تک جہاں بھی جاتے ہیں  فوراً وہاں   کی لوکیشن  شئر کر لیتے ہیں  میں نے تو یہ معمول بنا لیا ہے جہاں جائیں   احتیاطاً ایسا کرلیں   نئی  جگہ نیا ملک  اور اکثر زبان  سے  نابلد ہونا ایک  بہت بڑا مسعلہ  ہوتا ہے  بندہ نہ سمجھا سکے نہ سمجھ سکے  تو مصیبت  بن جاتی 

    آجکل  سمارٹ فون نے نماز کے اوقات اور قبلہ  کے تعین میں  کافی آسانی کردی ہے ایسی کئی  ایپلیکیشنز موجود ہے جو  بہت مناسب ہیں ان حوالوں سے آپ دنیا میں جہاں کہیں بھی  جائیں آپکو نمازوں کے اقات  اور قبلہ کی   سمت کا سہی تعین   ہوجاتا ہے   ، نماز پڑھی اور کھانے کی تلاش میں  اندرون شہر پہنچے  مگرکافی تلاش  کے بعد فیصلہ کیا کہ  کے ایف سی سرچ کیا جائے اور مچھلی والا  برگر کھا کر گزارا کر لیا جائے تو اچھا  ہے   ، کچھ پیسے  میں   کراچی سے احتیاطاً تبدیل کروا کر تھائی کرنسی ساتھ لے گیا تھا مگر جس چیز نے وہاں سب  سے زیادہ  ساتھ دیا وہ  سعودیہ کا  کریڈٹ کارڈ  تھا جب چاہیں  جہاں  چاہیں استعمال کرلیں  جو بھائی  بہن  سیر کو جانا چاہیں میں انہیں  کہوں گا کہ سب کے پہلے کریڈٹ کارڈ  ضرور بنوائیں آجکل تو پاکستان میں بھی  کم و بیش سب  بینک یہ سہولت  دے  رہے  ہیں  مگر اس  حوالے سے فیصل بینک  بہت  اچھا ہے اس  کے ڈیبٹ کارڈ کو آ پ  کریڈٹ کارڈ کی طرح استعمال کر سکتے ہیں  جس کا تجرنہ میں نے بھی کیا  جب آخری ایام میں پیسے ختم ہوگئے تو میں نے  وہاں  سے  لوکل کرنسی  نکلوائی 

    پہلا دن تھا  کھانا کھا کر واپس ہوٹل آکر پھر سونے کو ہی ترجیح  دی  اگلے  دن صبح صبح اٹھ  کر شہر کا دورہ شروع کیا  تو پتا چلا کہ کراچی ہی نہیں  بلکہ  یہاں پر بھی دکانیں  دیر سے  کھلتی ہیں ناشتہ کیلئے  ایک شامی  ہوٹل والا مل گیا عربی  جاننے کی وجہ سے کافی آسانی ہو گئی وہ بھی خوش ہوگیا کہ چلو کوئی تو عربی بولنے سمجھنے والا آیا    اس طرح ہم نے اپنی سیر کا آغاز کیا  یہاں کی ساحلی پٹی دیکھنے کے قابل ہے  بہترین  لوکیشنز بہترین انتظامات   اور کم خرچ میں آپ  بھر پور سیر کر سکتے ہیں سیر و تفریح کیلئے آنے والوں میں بھارت اور سعودیہ کے افراد زیادہ نظر آئے  باقیوں  کی نسبت

    اب کچھ دن گزار کر ہم بھی راستوں سے مانوس ہوگئے تھے  اس لئے اپنی مرضی کاکھانا بھی مل رہا تھا اور مختلف مالز اور بڑی بڑی مارکیٹیں بھی گھوم  رہے تھے  بڑے بڑے  مالز اور مارکیٹوں کے لاسٹ فلور پر فوڑ سٹریٹ کا رواج یہاں  بھی ہے  کسی بھی بڑی مارکیٹ کے لاسٹ فلور پر جائیں تو فاسٹ فوڈ کے ساتھ ساتھ روائیتی  کھانا بھی آسانی سے مل  جاتا ہے  یہ سب  باتیں  کورونا کی  وبا سے  پہلے کی ہیں  اب کی صورتحال تو وہاں جانے والے ہی بتا پائیں  گے

    کپڑے  کے تھری پیس سوٹس سستے اور معیاری مل جاتے ہیں ان پر انڈین سرداروں کی اجارہ داری ہے ہر  دکان میں آپ کو انڈین سردار ہی ملیں  گے بڑے ہنس مکھ اور تعاون کرنے والے آپ  اپنی مرضی اور پسند کا کپڑہ  سلیکٹ کرلیں  درزی دکانوں میں ہی موجود  ہیں  اسی وقت سلائی کر دیتے  ہیں ،  اس کام کو فائدہ مند پایا اور بلیوں کی خوراک کے حوالے سے بھی آپ وہاں سے پاکستان لاکر فروخت کر سکتے ہیں

    بہر حال کچھ دن گزار کر واپسی کی راہ لی  سعودیہ سے صرف ایک ماہ کی چھٹی تھی اس دوران کئی اور کام بھی کرنے ہوتے  ہیں  واپسی ہوٹل والوں نے  صبح ہی آگاہ کر دیا کہ آپ جلد ہوٹل چھوڑ دیں  تو اچھاہے  ساتھ پوچھ بھی لیا کہ ٹیکسی منگوا دیں آپ کو   میں نے شکریہ ادا کیا کہ نہیں میں خود چلا جاوں  گا  ہوٹل سے میٹرو اسٹیشن  تک پیدل پہنچے میٹرو پینچ کر ائرپورٹ کا  ٹکٹ لیا اور اس طرح سستی میٹرو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے     ائر پورٹ وقت سے پہلے پہنچ گئے  بورڈنگ کیلئے آٹو میٹک مشینیں  لگی ہیں ہم نے بھی اپنا بورڈنگ پاس اشو کیا اور  ویٹنگ لاونج  میں جانے سے  پہلے  پھر سے  امیگریشن والے آپ کے پاسپورٹ کو سٹیمپ بھی کرتے ہیں اور جو پیپر وہاں پہنچنے پر بھرا  تھا وہ بھی مانگتے ہیں  ہم نے وہ پیپر تعویز کی طرح سنبھال رکھا تھا چار پانچ تہیں کھول کر پیش کردیا  امیگریشن آفیسر نے مسکرا کر وصول کیا تو سمجھ گیا کہ میری طرح دوسرے پاکستانی بھی شاید ایسا ہی کرتے ہوں  ، جو بھی  بیرون ملک سیر کو کم خرچ میں جانا چاہے اس کیلئے  تھائی لینڈ اچھی جگہ ہے 

    @mmasief

     

  • 1965 کی جنگ کے حالات و واقعات اور پاکستان کی فتوحات   تحریر: احسان الحق

    1965 کی جنگ کے حالات و واقعات اور پاکستان کی فتوحات تحریر: احسان الحق

    متحدہ ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کے ناپاک عزائم لئے بھارتی فوج اندھیرے میں چوروں کی طرح مغربی پاکستان فتح کرنے واہگہ بارڈر کے راستے لاہور میں گھسنا چاہتی تھی. بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چودھری نے اپنے ساتھیوں کو جمخانہ میں محفل شراب و شباب منانے کی نوید بھی سنا دی. بھارتیوں کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں سارے مغربی پاکستان پر قبضہ کر لیں گے. مگر ابتداء سے ہی بھارتی فوج کی ذلت آمیز شکست شروع ہو گئی جب ستلج رینجرز، گشتی پولیس اور چرواہوں نے 60 ہزار بھارتی فوجیوں کو گھنٹوں پیش قدمی سے روکے رکھا.

    ستمبر 1965 میں پاکستانی فوج نے بہادری اور جوانمردی کے ناقابل فراموش اور ناقابل یقین کارنامے سرانجام دیتے ہوئے دشمن فوج جو کہ تعداد اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان سے بڑی فوج تھی کو عبرت ناک شکست دی. اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی مداخلت سے 23 ستمبر 1965 کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا.

    کانگریس اور ہندو برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کے خلاف تھے. جب ان کی کوششوں اور سازشوں کے باوجود پاکستان کا قیام عمل میں آ چکا تھا تو انہوں نے ہر طریقے سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی. آگے بڑھنے سے پہلے قیام پاکستان کے دوران ہندوستانی اور کانگریسی راہنما پاکستان کے خلاف اپنے مکرو عزائم کا اظہار کرتے رہے.

    17 مئی 1947 لندن کے اخبار اکانومسٹ نے لکھا

    "کانگریس برصغیر کی تقسیم کو اس امید پر تسلیم کرے گی کہ یہ تقسیم بعد ازاں برصغیر کو اتحاد کی طرف لے جائے گی. کانگریس اب بھی برصغیر کی تقسیم کے خلاف ہے”

    3 جولائی 1947 کو ڈاکٹر شیام پرشاد مکھرجی نے کہا

    "ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہئے کہ پاکستان کو دوبارہ ہندوستان میں ضم کر لینا چاہئے اور یہ ہر قیمت پر ہو کر رہے گا”

    (دیوان چمن لعل 3 جولائی 1947)

    "اتحاد کا خواب دیکھنے والوں کو رنج پہنچا ہے، ہمیں امید ہے جلد یا بدیر دونوں ملکوں کا اتحاد ہو جائے گا” سردار پٹیل

    امرت بازار امر پتریکا. 16 اگست 1947

    15 اگست 1947 کو کلکتہ میں کانگریس کے صدر اچاریہ کا کہنا تھا کہ

    "کانگریس اور قوم متحدہ ہندوستان کے دعوے سے دستبردار نہیں ہوئے”

    نیشنل ہیرالڈ لکھنو کے 6 نومبر 1950 کے مطابق وی جی دیش پانڈے نے کہا کہ

    "ہمارا مقصد اکھنڈ بھارت میں ہندو راج قائم کرنا ہے”

    6 ستمبر کو جب اہل لاہور سو رہے تھے، چوروں کی طرح اندھیرے میں بھارتی فوج نے لاہور پر حملے کرنے کے لئے پاکستان میں داخل ہوئی اور واہگہ پر ایک فوجی چوکی پر قبضہ کر لیا. اس وقت گشتی پولیس، ستلج رینجرز اور ایک سرحدی دستہ معمول کی نگرانی اور گشت پر مامور تھا. 60 ہزار بھارتی فوجیوں کو ان مختصر نیم فوجی دستوں نے گھنٹوں تگنی کا ناچ نچوایا. بھارت کا خیال تھا کہ چوری چپکے لاہور پر قبضہ کر لے گا.

    بھارتی فوج کا خیال تھا کہ پاکستان اچانک اور چوری حملے کی تاب نہ لا سکے گا اور یوں مغربی پاکستان کو 72 گھنٹوں میں فتح کر لیں گے مگر پاک فضائیہ نے ان کے سارے ناپاک عزائم چند گھنٹوں میں خاک میں ملا دیئے. بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چودھری نے اپنے سپاہیوں کو لاہور جم خانہ میں ناشتہ کرنے اور محفل رقص برپا کرنے کی نوید بھی سنا دی تھی.

    صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے ولولہ انگیز تقریر کرتے ہوئے قوم اور جوانوں کے خون کو گرمایا اور کہا کہ”

    10 کروڑ عوام تیار ہو جائے، جس بلا نے تمہارے سروں پر سایہ ڈالا ہے اس کی موت اور تباہی یقینی ہے”

    پاک جوانوں کے پہلے ہی وار میں 800 بھارتی ہلاک ہوئے اور 10 ٹینک اور 50 گاڑیوں پر پاک فوج نے قبضہ کر لیا. پہلے ہی دن پاک شاہینوں نے 22 بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو مار گرایا. شدید خطرے کے باوجود پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے 13 طیاروں کو تباہ کیا گیا. اسی روز سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی اور فلائیٹ یونس حسن نے ہلواڑہ ہوائی اڈے پر زبردست حملہ کرتے ہوئے 5 طیاروں کو تباہ کیا مگر یہ دونوں شیر دل شاہین حملے میں شہید ہو گئے.

    1965 کی جنگ کے پہلے ہی روز بھارت بے تحاشا جانی، مالی اور فضائیہ کا نقصان کروا چکا تھا. بھارت کے تمام ناپاک عزائم خاک میں مل چکے تھے. اقوام متحدہ میں بھارتی لابی شروع سے ہی موجود اور مضبوط تھی. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے ہنگامی دورہ کرتے ہوئے 7 ستمبر 1965 کو راولپنڈی میں جنرل ایوب خان سے ملاقات کی اور جنگ بندی کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی. جناب صدر نے اوتھان کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا گہرائی، سختی اور تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بھارت کو ذمہ دار قرار دیا.

    7 ستمبر کو انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو ایوان صدر جکارتہ میں کہا کہ انڈونیشیائی حکومت اور عوام پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں. انڈونیشی طلبہ نے جکارتہ میں بھارتی سفارتخانے کے باہر بھرپور احتجاج کیا. صدر سوئکارنو نے پاکستان اور کشمیر پر 24 گھنٹوں میں کابینہ کے 3 ہنگامی اجلاس بلائے.

    بھارتی فضائیہ نے مغربی پاکستان کے پانچ شہروں، چاٹگام، جیسور، کریم ٹولا، لال منیر ہاٹ اور رنگ پور اور مغربی پاکستان کے 3 شہروں کراچی، سرگودھا اور راولپنڈی پر بمباری کی. مشرقی پاکستان کی فضائیہ نے بھی دشمن کو ذلیل کرتے ہوئے مجموعی طور پر اس کے 15 طیاروں کو تباہ کر دیا. 7 ستمبر کو مجموعی طور پر 31 بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو تباہ کیا گیا یوں 1 ستمبر سے 7 ستمبر کے دوران بھارتی فضائیہ کے تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد 60 ہو گئی تھی. اسی روز سرگودھا میں بھارتیوں نے پاک فضائیہ کے اڈوں پر ناکام حملے کی کوشش میں اپنا طیارہ بھی تباہ کروا بیٹھے.

    7 ستمبر 1965 کو شام 6 بجکر 5 منٹ پر دشمن کے 4 ایف6 ہنٹر اور ایک ایف104 طیارے سرگودھا کو نشانہ بنانے کے لئے آئے. پاکستان کے ایف86 طیاروں کی فارمیشن کے قائد سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم تھے. ایم ایم عالم کا پہلا نشانہ خطا گیا مگر فوراً ہی دوسرے نشانے سے ایک ہنٹر طیارے کو مار گرایا اور ایم ایم عالم نے اگلا وار کرتے ہوئے چند لمحات میں دشمن کے 4 ہنٹر طیاروں کو تباہ کر دیا.

    21 ستمبر کو بھارتی وزیر اعظم نے جنگ بندی کے لئے کہا کہ اگر پاکستان جنگ بندی کے لئے تیار ہو تو ہم بھی جنگ بندی کے لئے تیار ہیں.

     

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں پاکستان کو جنگ بندی کے لئے راضی کیا گیا. سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لئے ایک قرارداد پیش کی. وزیر خارجہ ذوالفقار علی نے اقوام متحدہ سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی. کہا کہ 18 سالوں سے تم لوگوں نے کشمیر اور مسئلہ کشمیر کو کھلونا سمجھا ہوا ہے.

    سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر ایوب خان نے 22 ستمبر کو اعلان کیا کہ 23 ستمبر صبح 3 بجے تک جنگ بندی ہو جائے گی اور اپنے جوانوں کو کہا کہ اپنی اپنی جگہوں پر ڈٹے رہیں. اس وقت تک گولی نہ چلائیں جب تک دشمن پہل نہ کرے.

    بھارت کے خلاف جنگ کی فتح پر 24 ستمبر کو ملک بھر میں یوم تشکر کے طور پر منایا گیا. ڈھاکہ، راولپنڈی، لاہور اور کراچی سمیت تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں نماز شکرانہ ادا کی گئی.

    غیر جانبدارانہ ذرائع اور اعداد وشمار کے مطابق بھارت کو فوجیوں کی تعداد، جنگی طیاروں، ٹینکرز کے علاوہ تمام جنگی سازو سامان میں برتری حاصل تھی.

    بھارتی فوج 700،000

    جنگی طیارے 700 سے زیادہ

    ٹینکرز 720 

    جبکہ پاکستان کی نمبرز کافی کم تھے

    فوج 260،000

    طیارے 280

    ٹینکرز 756

    جنگ کے اختتام پر بھارتی فوج کے 8200 فوجی ہلاک، 500 ٹینکس تباہ یا پاکستان کے قبضہ میں آ گئے. 110 سے 113 طیارے مارے گئے اور جبکہ پاکستان کے محض 19 طیاروں کا نقصان ہوا.

    @mian_ihsaan

  • سیگریٹ نوشی ایک لعنت ہے اسکو کیسے روکیں  تحریر    اکرام اللہ نسیم

    سیگریٹ نوشی ایک لعنت ہے اسکو کیسے روکیں تحریر    اکرام اللہ نسیم

    پاکستان کے طول وعرض میں سیگریٹ نوشی انتہائی درجے تک بڑھ گئی تقریبا ہر دوکان پر سیگریٹ با آسانی سے مل جاتا ہے یوں سمجھیں موت کا سامان ہر دوکان پر باآسانی مل جاتا ہے 

     چھوٹا ہو یا بڑا سیگریٹ نوشی کو صحت کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھتا بس جب من کیا سیگریٹ نکالا جلایا بغیر کسی ٹینشن کے سیگریٹ نوشی کی اور چل دئیے

    اب اس لعنت سے لوگوں کو بچانے کے لئے کون کون سی ترکیبوں کو عمل میں لاکر لوگوں کو اس لعنت سے بچائیں

    سب سے پہلے اسمبلی سے سیگریٹ نوشی کے خلاف ایسا سخت قانون پاس کیا جائے تاکہ لوگ اسکے چھوڑنے پر مجبور ہو رہ جائے تاکہ عوام اس لعنت سے بچ سکیں اور لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں

    جب اسمبلی سے اس کے بارے میں بل پاس ہوجائے گا جب پکڑ دھکڑ شروع ہوجائے گی تو سیگریٹ نوشی میں کافی حد تک کمی آجائے گی ان شاءاللہ

    اس میں سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ دوکانداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے چونکہ دوکانداروں کی تعداد معلوم ہوتی ہے جب گاہک کی تعداد معلوم نہیں ہوتی لہذا ریاستی ادارے دوکانداروں کے خلاف گھیرا تنگ کرے

    ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ محلے یا بازار  کے دوکانداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ اگر کسی بھی دوکاندار کے پاس سیگریٹ مل گئی یا کسی کو فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا اس بندے کا بائیکاٹ پورا محلہ کرے گا اور اس سے کوئی چیز بھی محلے والا نہیں خریدے گا

    نہ اسکے ساتھ کوئی تجارتی لین دین کرے گا کیونکہ یہ دوکاندار فساد کا جڑ ہے

    بعض علاقوں میں جرگے کا سسٹم رائج ہوتا ہے وہاں سیگریٹ نوشی کو روکنا اتنا مشکل نہیں ہوتا

    کیونکہ جو بات جرگے میں رکھ دی جاتی ہے پورا علاقہ پورا محلہ اس بات کی پابندی کرتا ہے

    یہ جرگہ سسٹم قبائلی علاقوں اور شمالی علاقوں میں اب بھی رائج ہے

    سیگریٹ نوشی کے روک تھام کے لئے والدین سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

    اگر والدین بچوں کی بچپن ہی میں ذہن سازی کریں کہ سیگریٹ کے یہ یہ نقصان ہیں اگر آپ سیگریٹ نوشی کرو گے تو آپ کے پھیپھڑے ختم ہو جائیں گے آپ سانس لینے کے قابل بھی نہیں رہیں گے 

    جب والدین بچپن سے یہی ذہن سازی کریں گے

    ممکن ہی نہیں کہ کل وہی بچہ بڑا ہو کر سیگریٹ نوشی کرے اور سیگریٹ نوشی جیسے لعنت کے ذریعے اپنے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے 

    انفرادی طور پر بھی اگر آپ کا کوئی دوست بھائی سیگریٹ نوشی کے بدترین لعنت میں مبتلاء ہیں اسے ترغیب دیں اور اسکو سیگریٹ نوشی جیسے لعنت سے بچانے کے لئے اپنی قوت خرچ کریں تاکہ پاکستان کا معاشرہ سیگریٹ نوشی جیسے بدترین لعنت سے بچ سکیں

    اگر کسی سگریٹ میں اس قسم کا تمباکو ہو کہ جس سے اعضاء رئیسہ دل و دماغ وغیرہ کو سخت نقصان پہونچتا ہو تو اس کا پینا ناجائز اور سخت مکروہ ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی اس کا ترک بہرحال احوط و بہتر ہے سگریٹ پینا "بلا ضرورت شوقیہ پینا مکروہ ہے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

    @realikramnaseem

  • کلدیپ نئیر اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کے درمیان ملاقات   تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    کلدیپ نئیر اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کے درمیان ملاقات تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    28 جنوری 1987 کی سہ پہر پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد کے علاقے E-7 میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اکیلے موجود تھے کہ جب سکیورٹی افسر نے چند مہمانوں کی آمد کی اطلاع دی۔

    سکیورٹی افسر نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بتایا کہ مہمانوں میں سے ایک کو وہ پہچانتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے معروف صحافی مشاہد حسین سید ہیں۔ جو اب سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے ممبر ہیں۔  ڈاکٹر خان نے سکیورٹی افسر سے کہا کہ مہمانوں کو اندر لے آئیں اور انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں۔

    ڈاکٹر عبد القدیر خان مہمانوں سے ملنے آئے تو مشاہد حسین سید نے دوسرے مہمان کا تعارف کلدیپ نیئر کے طور پر کرایا جو انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے مشہور صحافی تھے۔

    مشاہد حسین سید نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بتایا کہ کلدیپ نیئر میری شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان تشریف لائے ہیں۔ یہ تقریب اس ملاقات سے ایک ہفتے بعد ہونا تھی۔ چائے پیتے ہوئے ڈرائنگ روم میں موجود تینوں افراد کے درمیان انڈیا، پاکستان تعلقات، انڈین تاریخ اور ہندو مسلم تعلقات اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک کے موضوعات پر طویل بات ہوئی۔ پاکستان کا جوہری پروگرام حال ہی میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زیر نگرانی شروع ہو چکا تھا۔

    کلدیپ نیئر نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ‘میں سیالکوٹ سے ہوں اور اب نئی دہلی میں رہتا ہوں۔جوابا ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ میں بھوپال سے ہوں اور اب اسلام آباد میں رہتا ہوں۔’

    جب ان تینوں مہمانوں کی پاکستان کے جوہری پروگرام پر گفتگو شروع ہوئی تو کلدیپ نیئر کا کہنا تھا کہ ‘اگر پاکستان دس بم بنائے گا تو انڈیا ایک سو بم بنائے گا۔’ اس بات کے جواب میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ ‘اتنی بڑی تعداد میں بم بنانے کی ضرورت نہیں۔ تین یا چار ہی دونوں اطراف کے لیے کافی ہوں گے۔’

    ڈاکٹر عبد القدیر خان بتاتے ہیں کہ ‘میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا  کہ ہم اس قابل ہیں کہ مختصر ترین مدت میں بم بنا لیں۔’

    کلدیپ نیئر نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ ہونے والی اس غیر رسمی گفتگو کو انٹرویو بنا کر ‘لندن آبزور’ کو 20 ہزار پاونڈز میں بیچ دیا۔ یہ انٹرویو  نہیں تھا۔ یہ تو چائے پر ہونے والی محض ایک گپ شپ تھی۔’

    یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی تھی جب پاکستان اور انڈیا کی فوجیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے راجستھان اور پنجاب سیکٹرز میں عالمی سرحد پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا تھیں۔

    سرحد کے دونوں جانب حملہ کرنے والی بری افواج کے دستے جمے ہوئے تھے، فضائیہ ہائی الرٹ پر تھی جبکہ توپ خانے بھی سرحد کے قریب پہنچا دیاگیا تھا۔ اس بحران کو براس ٹیک (انڈین فوج کی جنگی مشق) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ ان انڈین جنگی مشقوں کا رُخ اور پیش قدمی پاکستان کی طرف ہے جو پاکستان کے سیاسی خلفشار کا شکار صوبہ سندھ پر بڑے حملے میں بدل سکتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کا جوہری پروگرام اپنے ابتدائی مراحل میں تھا اور پاکستان باقاعدہ جوہری حیثیت حاصل کرنے سے 12 سال دور تھا۔

    اس زمانے میں ‘براس ٹیک’ کو پاکستان کی سالمیت کے لیے سٹرٹیجک خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

    کلدیپ نیئر کے نام سے لندن آبزرور میں شائع ہونے انٹرویو میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے نام سے منسوب کرکے لکھا گیا کہ ‘کوئی ملک پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا اور نا ہی ہم تر نوالہ ہیں۔ ہم قائم رہنے کے لیے بنے ہیں اور کوئی شک میں نہ رہے کہ اگر ہماری بقا کو خطرہ ہوا تو ہم ایٹم بم چلا دیں گے۔’

    یہ بات بھی کلدیپ نئیر نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے منسوب کر کے لکھی کہ پاکستان نے ہتھیاروں میں استعمال کی سطح تک یورینیم کو افزودہ کر لیا ہے اور یہ کہ لیبارٹری میں اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔

    اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد سے پاکستان میں عوام اور میڈیا نے عام طور پر یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ کلدیپ نئیر کی خبر میں مخفی اس ‘جوہری دھمکی’ نے انڈیا کو پاکستان پر کوئی بڑا حملہ کرنے سے روکا تھا۔

    بی بی سی نے اپنے انٹرویو میں جب ڈاکٹر اے کیو خان سے استفسار کیا کہ کیا کلدیپ نئیر سے ان کی گفتگو سے متعلق اخباری خبر نے کشیدگی کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا؟ ان کا جواب تھا کہ ‘بالکل۔ ایسا ہوا۔ اس کشیدگی کے خاتمے کے پیچھے ایک اور وجہ بھی تھی۔’

    ‘زیادہ کردار ضیاء کی دھمکی نے ادا کیا جب وہ جے پور میں راجیو گاندھی سے ملے تھے جہاں وہ کرکٹ میچ دیکھنے گئے تھے۔ ضیاء نے راجیو سے کہا کہ اگر بھارتی فوج فوری واپس نہ ہوئی تو وہ جوہری حملے کا حکم دے دیں گے۔ راجیو اس پر گھبرا گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے بھارتی فوج کی فوری واپسی کا حکم دے دیا۔’

    ڈاکٹر عبد القدیر خان بتاتے ہیں کہ براس ٹیک سے چند ہفتے قبل انھوں نے جنرل ضیاء کو ایک تحریری پیغام بھجوایا تھا کہ پاکستان دس دن کے نوٹس پر جوہری بم بنانے کے قابل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘اس سے ضیاء کو راجیو گاندھی سے بات کرنے اور دھمکی دینے کا اعتماد ملا تھا۔’

    آج وہی ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان میں بڑی دشواری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، سرکاری سطح پر بھی انکو عوامی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور حالیہ دنوں میں وہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جن کو ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں داخل کر دیا گیا ہے۔ ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ ہیں کہ الله تعالٰی انکو جلد صحتیابی عطاء فرمائے تاکہ وہ مزید پاکستان کے لیے اچھے کام کر جائیں، جن سے آنے والی نئی نسلیں انکے کام سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

  • آخری معرکہ تحریر : سیف الرحمان

    افغانستان میں حالیہ تبدیلی اورافغانستان میں طالبان کی اشرف غنی اور اسکے اتحادیوں   کو شکستِ فاش دینا تاریخ میں  ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا اور یاد کیاجائے گا۔  امریکہ اب شاہد براہ راست  اس جنگ کا حصہ نا بننے لیکن ضرورت پڑنے پر  پراکسی وار جاری  رکھ سکتا ہے۔

    افغان جنگ میں بھارت سب سے بڑا لوزر نظر آتا ہے۔بھارت نے پاکستان دشمنی میں اپنے مورچے افغان سرزمین پر بنا ئے۔ وہاں  بیٹھ کر بھارت نے  BLAاور TTPجیسی دہشتگر تنظیمں بنائی اور پاکستان پر حملے کرواتا رہا۔  بھارت نے  افغانستان میں  اچھی خاصی سرمایہ کاری کی۔ افغان پارلیمنٹ کا سارا خرچہ بھارت نے اٹھایا۔ ڈیم بنایا۔ اس سب کا مقصد افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنا تھا لیکن طالبان کے آنے سے یہ سب کچھ مٹی میں مل گیا۔

    طالبان نے تقریبا 90فصد افغانستان سر زمین  بغیر جنگ کے ہی فتح کر لی لیکن وادی پنجشیر اب بھی احمد ولی مسعود کے پاس ہے۔ وادی پنجشیر اس وقت سار ی دنیا کی نظروں کا محور  بنا ہواہے۔ امن دشمن طاقتوں کی آخری امید بھی وادی پنجشیر ہی ہے۔ اگر طالبان یہ معرکہ بھی جیت گئے تو زمینی جنگ 100فیصد طالبان جیت جائیں گے۔

    تاجکستان کا وادی پنجشیر کی ہار جیت میں بہت اہم رول ہو گا۔  پنجشیر ایک طویل ، گہری اور پہاڑوں کے درمیان  وادی ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 120کلو میٹر بنتا ہے -یہ کابل کے جنوب مغرب سے شمال مشرق  میں واقع ہے۔ یہ اونچی پہاڑیوں کی چوٹیوں سے محفوظ ہے – یہ پہاڑ وادی سے 9،800 فٹ بلند ہیں ۔ تاریخی طور پر وادی پنجشیر کان کنی کے لیے بھی مشہور ہے۔وادی میں ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ افراد کے رہنے کی اطلاعات ہیں۔یہاں  ذیادہ طر لوگ دری بولتے ہیں جو کہ افغانستان کی اہم زبانوں میں سے ایک ہے اور تاجک نسل سے ہیں ۔

    اس وادی میں داخلے کیلئے ایک راستہ ہے جو ایک تنگ سڑک  ہے  ۔ یہ سڑک بڑے بڑے پتھریلے راستوں اور دریائے پنجشیر کے درمیان سے ہو کر نکلتی ہے۔ جس کو اگر بند کر دیا جائے تو  خوراک اور ادویات کی فراہمی بند ہو جائے گی۔   اب  وادی پنجشیر کے باسیوں کی زندگی کا دارومدار تاجکستان کے راستے خوراک ادویات  اسلحہ بارود پر منحصر رہ جاتاہے۔ طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پنجشیر میں بغاوت کا آغاز ہو گیا تو شمال کے صوبوں تک پھیل جائے گا۔اس لئے وادی پنجشیر کو حاصل کرنا طالبان کیلئے بہت ضروری ہے۔ 

    دوسری طرف تاجکستان میں بھارت کا اثرورسوخ  غیر معمولی نظر آتا ہے جس کی مثال بھارت کا  تاجکستان میں ایک فوجی اڈے کی موجودگی ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ دوشنبہ ہوائی اڈے کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں تو  وہاں بھارتی اداکاروں کی بڑی بڑی  تصاویر لگی نظر آتی ہیں۔اس سے تاجکستان اور بھارت دوستی کا پتہ چلتا ہے۔   پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بار بار تاجکستان کے دورے بھی کر رہے ہیں کہ کہیں بھارت کی دوستی کی وجہ سے تاجکستان افغان امن کی راہ میں روکاوٹ نہ بنے۔

    تاجک حکمران  یہ سمجھتے ہیں کہ اگر طالبان مستحکم ہو گئے اور اسلامی نظام نافذ کر لیا تو عین ممکن ہے کہ نشاہ اسلامیہ کی اسلامی تحریک islamic renaissance partyپھر سے نا سر اٹھانے لگ جائے۔ احمد مسعود کے بہت سے کمانڈروں کی حلاکتوں کی بھی تصدیق ہو رہی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے آدھے سے ذیادہ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور باقی پر پیش رفت  جاری ہے۔  عرب میڈیا کےمطابق طالبان نے  تاذہ دم دستے 3اگست کو وادی پنجشیر کی طرف روانہ کر دیئے ہیں۔ اس وقت پنجشیر میں موبائل اور انٹر نیٹ مکمل بند ہے ۔   بعض اطلاعات کے مطابق احمد مسعود اور امرﷲ صالح تاجکستان فرار ہو گئے ہیں۔  اگر ایسا ہے تو پنجشیر میں طالبان کی فتح کو کوئی بھی نہیں روک پائے گا۔   

    حال ہی میں بھارت کے ایک ریٹائر فوجی جس کا نام میجر گوروآریا ہے اس نے احمد مسعود کو مودی حکومت کی طرف سے ہر ماہ 200ارب دینے کی آفر کروائی۔ اس آفر کا  مقصد افغانستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروانا ہے۔ بھارت کی مثال اس وقت اس بزدل لومڑی  جیسی بنی ہوئی ہے جو چاہتی ہے کسی طرح کوئی شیر شکار کرے اور وہ اس مردہ گوشت پر جا کر منہ مار لے۔ لیکن حالات یکسر بدلے نظر آ رہے ہیں۔ شاہد بھارت کا یہ خواب کبھی پورا نا ہو پائے کیونکہ افغانستان میں  ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر لگ رہا ہے۔ امن و امان کی صورت حال بھی کافی بہتر نظر آ رہی ہے۔ طالبان کی   موجودہ  قیادت اس وقت کافی سمجھدار اور دور اندیش نظر آ  رہی ہے۔

    طالبان کے مطابق وادی پنجشیر کا حصول ان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہےوہ اس وادی کو ہر صورت فتح کریں گے۔ اس آخری معرکہ کی فتح افغان امن و امان  کیلئے بہت ضروری ہے۔ دوسری طرف طالبان نے باقاعدہ طور پر سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا بھی اظہار کر دیا ہے۔ طالبان کو افغانستان کا مستقبل نظر آ رہا ہے وہ کسی بھی قیمت پر وادی پنجشیر ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔  

    @saif__says

  • توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے اور ہر وقت اُس کا امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ آزمائش سے گزر رہے ہوتے ہیں تو غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور گناہ بھی سرزد ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ایک قانون دیا ہے۔ جب کوئی شخص  کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو فوراً اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔

    عام طور پر توبہ اور استغفار ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، اصل میں یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ توبہ کا مطلب ہے لوٹنا، یعنی مجھ سے ایک غلطی کا ارتکاب ہوا ہے، ایک گناہ سرزد ہوا ہے، میں اس کو چھوڑ کر صحیح راستے کی طرف آتا ہوں تو اس کو توبہ کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں اس کا مطلب لوٹنے کا ہے۔ یعنی آپ نے ایک گناہ کا کام کیا اور اس کو چھوڑ دیا، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا اور اب آپ وہ کام نہیں کریں گے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی شراب پیتا تھا اس نے کہا کہ میں آج کے بعد شراب نہیں پیوں گا، جھوٹ بولتا تھا اس نے کہا کہ آج کے بعد جھوٹ نہیں بولوں گا  تو یہ توبہ ہے۔

    استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہنا، بخشش کی دعا کرنا۔ عام طور پر توبہ اور استغفار ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ توبہ و استغفار اس لیے بھی ایک ساتھ بولے جاتے ہیں کہ جس وقت آدمی کسی گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو یہا ں ایک دوسری چیز یہ بھی ہے کہ اس نے گناہ کیا تو تھا، چنانچہ جو کچھ کیا ہے اس پر مغفرت چاہے گا، اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کرے گا۔ اس لیے یہ دونوں الفاظ ایک ساتھ بول لیے جاتے ہیں پر دونوں میں فرق ہے۔ دونوں الفاظ کو ملا کر ہم توبہ و استغفار کہہ رہے ہوتے ہیں، گویا دونوں باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ گناہ چھوڑ بھی دو اور اللہ سے مغفرت بھی طلب کرو۔

    صرف توبہ کا لفظ بول لینا توبہ نہیں ہے۔ توبہ کی حقیقت یہ ہےکہ آپ نے گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ اگر یہ کہہ دیں کہ میں نے توبہ کی ہے اور اس کا معنی یہ لیں کہ  میں نے توبہ کا لفظ بول دیا ہے تو یہ توبہ نہیں ہے۔

    اگر توبہ کا مطلب گناہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کو "تواب” کہنے سے کیا مراد ہو گا؟
    عربی زبان میں الفاظ اپنے فاعل کے لحاظ سے اپنے معنی تبدیل کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اللہ تعالیٰ کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جو آپ کے جذبہِ شکر گزاری کو قبول کرتا ہے، اور جب بندے کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب وہ جو شکر ادا کرتا ہے۔
    اسی طرح یہاں "تواب ” سے مرا د ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و برکت کے ساتھ آپ کی طرف آتا ہے، یعنی وہ جو آپ کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔

    قرآن مجید نے توبہ کا قانون بھی بتا دیا ہے۔ یعنی جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو آپ سب سے پہلے اس گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے پھر یہ کہ آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کا فیصلہ کریں گے اور اپنے ایمان کی تجدید کریں گے۔ جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے تو حقیقت میں وہ ایمان سے خالی ہو جاتا ہے، کیونکہ ایمان کے ساتھ گناہ کا ارتکاب نہیں ہو سکتا۔ آپﷺ نے اس لیے فرمایا کہ جب کوئی بدکاری کرتا ہے یا چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ قانونی لحاظ سے تو وہ مسلمان ہی شمار ہو گا لیکن وہ حقیقتِ ایمان سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب تک ایمان کی حقیقت کا شعور ہے تب تک آپ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر گناہ نہیں کر سکتے۔

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً اس پر توبہ کی جائے۔ گناہ کی ایک کیفیت ہوتی ہے جو انسان پر طاری ہو جاتی ہے، بالخصوص جنس سے متعلق جو گناہ ہیں ان میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ انسان جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔ باقی گناہوں میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک پردہ پڑ جاتا ہے اور اس میں آدمی کسی گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فوراً توبہ کر لی، یعنی جیسے ہی شعور بیدار ہوا، غفلت ختم ہوئی تو آپ بیدار ہو گئے اور آپ نے کہا کہ نہیں یہ گناہ میں آئندہ نہیں کروں گا، یہ وہ چیز ہے جس کے اوپر اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے کہ میں اس رجوع کو قبول کر لوں گا۔

    یہ قانون ان گناہوں کے بارے میں ہے جن کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہے، بعض ایسے معاملات بھی ہوتے ہیں جس میں کوئی دوسرہ بندہ بھی متاثر ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں توبہ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟
    اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ انشاءاللہ بہت جلد باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر میرے اگلے کالم میں آپ اس بارے میں  پڑھ سکیں گے۔ تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal