Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تنہا رہا جائے یا احباب میں؟  تحریر: محمد وقاص

    تنہا رہا جائے یا احباب میں؟ تحریر: محمد وقاص

    یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب زیادہ تر لوگ بیرونی عوامل یا رجحانات کو دیکھ کر دیتے ہیں۔ شوشل میڈیا پر آپ کہیں بھی سیر کر آئیں تقریبا تمام لوگ دوسروں کی آراء کو ہوبہو فروغ دیتے دکھائی دیں گے یا لوگوں کے رویوں پر مکمل منحصر ہو کر رد عمل دیں گے۔ نتیجے کے طور پر وہ دونوں انتہائی اقدام میں سے ایک کو اپنا لیتے ہیں۔ یا تو بالکل اکیلے رہنا یا ہر وقت دوست احباب میں۔ معاشرے میں موجود تمام لوگ جن سے آپ لین دین رکھتے ہوں سب کے حقوق ہیں جن کے تحت وہ اہمیت اور توجہ کے مستحق ہیں۔ دوست احباب کے علاوہ آپ کا اپنا کنبہ ہے جسکو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔  ان تمام تر صورتحال میں آپکو ایک سوچ کے تحت معاملات کو دیکھنا چاہیے۔

    میری رائے میں اس سوال کا جواب کسی بیرونی رجحان یا عوامل کا براہ راست محتاج نہیں۔

    اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور یہ اعزاز اسکو عقل وشعور کی بدولت حاصل ہے جس کے زریعے وہ صحیح اور غلط میں فرق جان سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو مختلف جزبات بھی عطا کیے ہیں جسکا اظہار اسکے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان جزبات کی کیفیات تھوڑے سے وقت میں تیزی سے بدلتی رہتی ہیں۔ بالکل پرندے کےاس پر کی مانند جو ہوا کی لہروں کے ساتھ الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ ایک لمحے انسان کچھ سوچتا ہے اور اسکے اگلے ہی لمحے انسان کا مزاج کسی اور نقطہءنظر کا حامی ہو جاتا ہے۔ انسان کو جو چیز جانوروں سے ممتاز کرتی ہے وہ اسکا اپنے جزبات پر ضبط اور انکو قابو میں رکھنے کی صلاحیت ہے۔ اور یہ صلاحیت اسکو عقل عطا کرتی ہے۔ کسی بھی پریشانی یا مصیبت میں جب انسان تزبزب کا شکار ہوتا ہے تو اپنی عقل کی توانائیوں کو بروئے کار لاتا ہے اور اس کا سدباب تلاش کرتا ہے۔ جو سوال میں نے شروع میں پوچھا اس کے جواب کا اشارہ تو مل ہی چکا ہو گا اب تک۔

    کوئی بھی انتہائی قدم کسی صورت آپکو زیب نہیں دے گا کہ ساری زندگی اسی کو اپنائے معاشرے میں رہ سکیں۔

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ معاشرے میں موجود تمام افراد سے اسکا کسی نہ کسی صورت تعلق واسطہ ضرور ہوتا ہے۔ ان سب سے انسان اپنے آپ کو لاتعلق نہیں کہہ سکتا۔ کوئی آپ کا رشتہ دار، کوئی دوست یا کوئی ہمسایہ ہو گا۔ سب کے حقوق ہیں جن کی ادائیگی شریعت نے آپ پر لاگو کی ہے۔ معاشرے سے کٹ کر انسان اپنی بقا بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ تمام بدلتے رجحانات اور جدید تقاضوں پر نظر رکھنا ایک ناگزیر امر بن چکا ہے۔ دنیا حیرت انگیز تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اس انقلابی ترقی کے فوائد اور نقصانات سے باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔ تاکہ ان چیزوں کے برے اثرات سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔ لہزا معاشرے کیساتھ جڑے رہنا چاہیے۔ 

    کچھ لوگوں کے بارے میں چیزیں بالکل واضح ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے گھر والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے سوائے اس کے کہ انکا کوئی حکم احکام الہی سے متصادم ۔ اسی طرح برے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے آپ کو منع کیا گیا ہے۔ 

    ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جن کا میں خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا۔ ان لوگوں کی ذہنی کیفیت پر تعجب ہوتا ہے جو خواہ مخواہ خود کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ دنیا کی مشقت اور وحشت کو اپنے زہن واعصاب پر اس قدر حاوی کر لیتے ہیں کہ ان کے نزدیک سب کچھ ناممکن ہو جاتا ہے۔ مایوسی کو اپنی دھن سمجھ کر اسمیں رہتے ہیں۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں ان حضرات کی جو افسانوی دنیا کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ حقیقت کو اپنانے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ جو فلموں، ڈراموں یا افسانوی تحاریر میں دیکھتے پڑھتے ہیں اسکو اپنی حقیقی زندگی سے تشبیہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ یہ محض خیالی پلاؤ ہوتے ہیں جنکی رنگینیوں اور چاشت کا سہارا وہ سست اور کمزور لوگ لیتے ہیں جو مشقت کرنے سے کتراتے ہیں۔ کوئی بھی چیز بغیر محنت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ایسے ناکام لوگ بجائے محنت کرنے کے دنیا سے گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ساری دنیا بے وفا اور ظالم ہے۔ اس قسم کی تنہائی بھی سراسر بے وقوفی ہے۔

    غوروفکر کرنے کیلیے تنہائی بہترین ہے۔ البتہ ایک مخصوص وقت اور مقصد کا تعین لازمی ہے۔ قرآن پاک میں سورتہ الحدید کی ستائیسویں آیت میں اللہ تعالی نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو خود سے ایسی چیزیں ایجاد کرکے اپنے آپ کو مشقت اور قید و تنہائی کی اذیت میں ڈال دیتے ہیں جو اللہ تعالی نے ان پر فرض ہی نہیں کی تھیں۔ اس قسم کی تنہائی بھی بلاجواز کہلائے گی جسکا حاصل محض معاشرے سے دوری کے سوا کچھ نہ گا۔

    کچھ لوگ وہ ہیں جو ہر وقت دوست احباب کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ اسی رفاقت میں اپنے والدین اور گھر والوں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ اپنے دسترخوان کو دوستوں کی محفل سے بارونق رکھنا لمبی عمر پانے کا راز ہے۔ مگر دوسری طرف آپ کو خیال رکھنا ہو گا کہ آپ اپنے گھر والوں اور دوسرے وابستہ لوگوں کے حقوق سلب نہیں کر رہے۔ سب کے حقوق ہیں جنکی ادائیگی آپ پر فرض ہے۔ 

    دونوں انتہائی اقدام لمبے عرصے کے لیے کارگر ثابت نہ ہوں گے۔ نہ تو آپ کے لیے ہمیشہ تنہا رہنا کارگر ثابت ہوگا اور نہ ہی ہر وقت دوستوں میں رہنا درست ہو۔ لمبے عرصے کے لیے آپ کو ان دونوں انتہائی اقدام میں اعتدال لانا ہوگا۔ چیزوں کو سمجھ بوجھ کر انکی اہمیت کے مطابق وقت دیں۔ بلاشبہ عقل آپ کو استعمال کرنے کیلیے عطا کی گئ ہے۔ المختصر تنہائی اور رفاقت میں توازن کیساتھ چلنا بہترین انتخاب ہوگا۔

  • پیغام حسینیت اور ہمارا اتباع تحریر:محمد طیب ریاض۔

    "اسلام زندہ ہوتا ہے، ہر کربلا کے بعد”۔ یہ فقرہ ہم بچپن سے سنتے آئے اور انشاءاللہ ہمیشہ سنتے رہیں گے، یعنی اگر حسین رضی اللہ عنہ تب قربانی دیکر اسلام کو نہ بچاتے تو آج اسلام زندہ نہ ہوتا۔ مگر ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اسکا مفہوم اسکا مطلب سمجھنے کی کوشش کی کہ "کیسے”؟

    ہم سب آج تک سنتے آئے کہ حضرت نوح علیہ السلام آدم ثانی ہیں اور انسانوں کو نشاط ثانی ملی۔ مگر یہ ہوا کیسے تھا، کیوں ایسا کہا جاتا؟

    وہ اس لئے کہ جب طوفان نوح آیا تو ساری زمین اوپر نیچے سے پانی برسنے اور ابلنے کی وجہ سے زیر آب آگئی اور جتنی بنی نوع اس دنیا پر موجود تھی سب غرق ہوگئی ماسوائے ان مخصوص جنس کے جوڑوں کے جو نوح علیہ السلام کی کشتی پر سوار ہوکر بچ رہے پھر انہی سے آگے دوبارہ زندگی کا ارتقاء ہوا اور نسل انسانی کی نشاط ثانیہ ہوئی۔

    اسی طرح کربلا میں اسلام کی نشاط ثانیہ ہوئی۔ یعنی نعوزبااللہ اسلام کربلا سے پہلے مردہ نہیں تھا مگر دوبارہ زندہ اسطرح ہوا کہ اگر حسین ابن علی رضی اللہ عنہ یزید کے جبر اور ہوس اقتدار کے آگے سر جھکا دیتے، نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہوئے اس بدبخت کی سب خلاف اسلام عادات و حرکات پر چشم پوشی فرمالیتے تو کون رہتا اٹھنے والا۔ چونکہ تب سب سے قابل احترام و باعث تقلید شخصیت آپ تھے تو ہرکوئی جواز بناتا کہ جب نواسہ رسول کو اعتراض نہیں تو تم میں کون ہوتے یزید کی بیعت سے انکاری ہونیوالے۔

    جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نصیحت فرمائی کہ اے فاطمہ یہ نہ سمجھنے کہ اس نسبت سے آخرت میں فلاح پاجاؤ گی کہ نبی کی بیٹی مگر اپنے اعمال کے بل بوتے نجات ملیگی۔ اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بلند مرتبہ کے پیچھے وجہ نواسہ رسول کی نسبت ہی نہیں بلکہ انکی قربانی بھی اس درجہ بلند پایا تھی۔

    انکو پتہ تھا کہ اب اسلام کی بقاء کا دارومدار میرے فیصلہ پر ہے تو انہوں نے اسلام کی بقاء کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

    اگر یہ قربانی نہ ہوتی تو آج ظلم کیخلاف حق کیلئے کھڑے ہونیکا کا کوئی رواج نہ ہوتا۔ سب کہتے نواسہ رسول کمپرومائز کرسکتا نعوزبااللہ جو جنت کے سردار ہیں تو ہمیں کیا مسئلہ۔ یہ وہ ناقابل تردید حقیقت ہے جس پر اسلام کی حیات ثانیہ کی بنیاد ہے۔

    اور یہی پیغام حسینیت ہے کہ سر کٹوانا آسان لگے، گھر لٹانا آسان لگے مگر باطل کے سامنے ہتھیار ڈالنا، سرنگوں ہونا یا مصلحت پسندی کا شکار ہونا ناممکن لگے۔ حق کیلئے باطل کے سامنے ڈٹ جانا، نماز نہ چھوڑنا چاہے سر تیغ دشمن کے نیچے ہو اور مصلح میدان جنگ ہی کیوں نہ ہو، سجدہ کرنا اس خدائے واحد کے سامنے، جھکنا تو اسی کے سامنے چاہے سر ہی کٹ رہا ہو، قرآن کو زبان سے الگ نہ کرنا چاہے سر نیزے پر ہی کیوں نہ ہو۔

    تو کیا آج ہم پیغام حسینیت کی اتباع کررہے؟ انہوں نے بھوک پیاس سہی حق کیلئے مگر ہم ان دنوں میں دنیا کی ہر نعمت کا ذائقہ چکھتے، انہوں نے میدان جنگ میں نماز نہ چھوڑی اور ہم پھولوں کی سیج پر بھی نہیں پڑھتے۔ انہوں نے نیزے پر قرآن پڑھا ہم نے غلاف میں بند کردیا، انہوں نے صرف اللہ تبارک کے حضور سرنگوں ہوکر سجدہ کیا اور ہم کس کس در پر ماتھا ٹیکتے۔

    کیا اسلام میں تشبیہات ممنوع نئیں یا وہ دی گئی قربانی اس مقصد کی حامل تھی؟ 

    لہذا آئیے اصل پیغام حسینیت کی طرف چلیں۔ اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے صراط مستقیم کی۔ آمین

    TwitterID: @tayyabriaz764 

  • تمباکو نوشی سے صحت کو لاحق خطرات تحریر: محمد انور

    تمباکو نوشی سے صحت کو لاحق خطرات تحریر: محمد انور

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن منانے مقصد انسانی صحت کو لاحق خطرات اور اس کے مضر اثرات کے متعلق عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔31 مئی کے دن دنیابھر کی طرح پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی محکمہ صحت اور مختلف سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام تمباکو نوشی کیخلاف سیمینارز،واکس اور مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں مقررین تمباکو نوشی کی تباہ کاریوں سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں۔ عالمی ماہرین صحت کے مطابق تمباکو نوشی دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے بعداموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا بھرکی ایک ارب سے زائدآبادی سگریٹ و تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک شخص موت کو گلے لگا رہا ہے ، ا س طرح دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جن میں سے تقریباً چھ لاکھ سے زیادہ افراد ایسے ہوتے ہیں جو خود تمباکونوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکونوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے خطرناک دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں سگریٹ و تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

    سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھناتمام تر عادات انتہائی خطرناک ہیں۔ سگریٹ میں موجود نکوٹین انسان کے اعصاب پراس طرح سوار ہوتی ہے کہ وہ سگریٹ پئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تمباکو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح بڑھادیتا ہے جس کی وجہ سے نشہ کی عادت پڑ تی ہے۔ یہ کیمیکل خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو تمباکو مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے۔ تمباکو نوشی بہت آہستگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو کئی سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات کا علم ہی نہیں ہوپاتا، اور جب یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہوچکا ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے ،جن میں برونکائٹس (COPD) اور ایفی زیما (Emphysema) قابل ذکر ہیں۔ ایفی زیما میں پھیپھڑوں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اس سے سانس لینے میں شدید دشواری اور انفیکشن یعنی نمونیہ ہونے کاخطرہ رہتا ہے۔ اس حالت میں پھیپھڑوں کے ٹشو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں جس سے مریض کو شدید کھانسی اور دمہ کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔

    تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ (ہارٹ اٹیک) ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ تمباکو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے، اس طرح دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کا باعث بنتاہے۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے اور ہیمرج سٹروک ( Stroke Hemorrhagic ) جس میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں، کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ تمباکونوشی کا سب سے زیادہ اورخطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے، پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ تمباکو نوش ہوتے ہیں۔ آپ جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی بریسٹ کینسر ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ اسی طرح سگریٹ و تمباکو نوشی منہ ،گلا، خوراک کی نالی کے کینسر، معدہ ، جگر ،مثانہ ،لبلبہ اور گردے کا کینسرکا باعث بنتا ہے۔ سگریٹ نوش کی طرح اس کے گھر اور ساتھ کام کرنے والوں میں بھی سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے ان بیماریوں کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

    اگر سگریٹ نوش کی بات کی جائے تو یہ فقط اپنی زندگی کے لیے خطرہ نہیں بنتا بلکہ اس کی وجہ سے دوسروں کی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ پا کستان میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، حکومت کی جانب سے 17 سال سے سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی کا قانون نافذہے، اور حکومت نے انسداد تمباکو نوشی کے لئے سگریٹ کے پیکیٹ پر رنگین تصویری تنبیہی پیغامات بھی پرنٹ کروا دیئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تمباکو و سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، انسداد تمباکو و سگریٹ نوشی کے لئے مذید سخت اقدامات اور قوانین پر سنجیدگی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ جبکہ مضمرات سے آگاہی کے باوجود سگریٹ نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد پڑھے لکھے طبقے مثلاً وکلاء ، ڈاکٹرز، صحافی ، پولیس افسران و انجینئرز جیسے پیشوں سے وابستہ افراد کی ہے، جو مزید افراد کو سگریٹ نوش بنانے کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں۔ تمباکو سے بننے والا سگریٹ انسان کے اپنے ہاتھوں بنا ایسا زہر قاتل ہے جو انسان کی تمام ترقوتوں اور صلاحیتوں کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔ جبکہ انسان کس قدر قیمتی ہے ، اس کی قدر و قیمت کا خود اسے اندازہ ہی نہیں ۔ تمباکو نوشی کیخلاف عالمی دن کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ سگریٹ و تمباکو نوشی کی پیشکش سے انکار کریں گے ، اور سگریٹ نوش افراد سکریٹ و تمباکو نوشی کو عادت کو ترک کرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں گے۔

    @AK_Anwar_Khan

  • رنگیلاالیکشن کمیشن  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    لگتا ہے الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ انتخابات ،نئی انتخابی اصلاحات اور اوورسیز پاکستانیوں کے حق راۓ دہی کے خلاف دم ٹھونک کے میدان میں آگیا ہے۔

    الیکٹرونک ووٹننگ مشین کے خلاف قائمہ کمیٹی میں پیش کئے 37 اعتراضات ،اعتراضات کم اور لطیفے زیادہ لگتے ہیں۔

    خاص طور پر یہ اعتراض تو تاریخی پزیرائ کا باعث بن چُکا ہے۔جس میں الیکشن کمیشن نے کچھ زیادہ ہی دور کی کوڑی لاتے ہوۓ کہا کہ اس مشین کو ایلفی ڈال کر جام کیا جا سکتا ہے۔اس اعتراض پر تو اگرارسطو بھی زندہ ہوتا تو شائد خود کُشی کو ترجیح دیتا۔

    کل سے اس ایلفی والی بات کو لیکر الیکشن کمیشن کی جو دُرگت سوشل میڈیا پر بن رہی ہے،وہ شائد اس کمیشن خور کمیشن کے لئے کافی ہو۔

    ایلفی کی بحیثیت ایک پراڈکٹ کے،جتنی مشہوری کمیشن والوں نے کروادی ہے،اتنی شائد وہ کروڑوں کے اشتہارات چھپوا کر بھی نہ کر پاتے۔

    ایلفی والے ماوراۓ عقل اعتراض کے علاوہ دیگر اعتراضات بی اسی طرح چُوں چُوں کا مُربہ ہی ہیں۔

    ان اعتراضات کو تو اعتراض براۓ اعتراض کہنا بھی مناسب نہیں لگتا۔

    کسی ایک اعتراض میں بھی عقل و شعور کی ہلکی سی رمق بھی نہیں ہے۔

    بس لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے کسی کے اشارے پر کھیل تماشا کیا جا رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن میں بیٹھی کٹھ پُتلیوں کی ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں،

    سب کو پتہ ہے۔یہ گٹھ جوڑ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

    اس گٹھ جوڑ کو خونی لبرلز کی حمایت سب کچھ واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔

    الیکشن کمیشن اپنی پوری توانائیاں اس بات پہ صرف کر رہا ہے کہ کسی طرح آئندہ انتخابات کو شفاف انعقاد سے روک کر اسی دقیانوسی طریقے سے منعقد کروایا جاۓ،

    جس میں مُردے بھی ووٹ ڈالنے آجاتے ہیں۔

    پرانے سسٹم میں جعلی ووٹوں کا اندراج اب کوئ راز والی بات نہیں۔

    پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پی پی امیدواران بیس سے پچیس ہزار بوگس ووٹوں کا تحفہ لیکر گھر سے نکلتے ہیں،

    جس کے بعد انہیں مدمقابل امیدوار تو ہرانے کی پوزیشن میں آہی نہیں سکتا،

    ہاں اگر بدقسمتی آڑے آجاۓ تو الگ بات۔

    کمیشن نے صرف الیکٹرونک ووٹننگ مشین میں ٹانگ نہیں اڑائ ہوئ بلکہ انتخابی اصلاحات کی شدید مخالفت کا بیڑہ بھی اُٹھارکھا ہے۔

    کمیشن اس وقت ن لیگ ،پی پی اور فضل الرحمن کی جماعت کی طرح پی ڈی ایم کا باقاعدہ حصہ نظر آتا ہے۔

    انوکھے لاڈلے کمیشن کی ایک اور ضد یہ بھی ہے کہ حکومتی کوششوں کے برعکس اوورسیز پاکستانیوں کو بھی حق راۓ دہی سے محروم رکھا جاۓ۔

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،جنہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان ملک کا اثاثہ کہتے نہیں تھکتے،

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،

    جن کے بھیجے گئے زرمبادلہ کے باعث ملک معیشت کا پہیہ رواں دواں ہے۔

    جبکہ کمیشن والے ان سے سوتیلی ماں والا سلوک کرنے پر تُلے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کو تو بس اتنا کسی نے بتا دیا ہے کہ اگر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا جاۓ تو پی ٹی آئ کو فائدہ ہوگا،

    کیونکہ بعض تجزیوں کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کے وژن کی حامی ہے۔

    اسی ایک مفروضے کی بدولت کمیشن والے سر دھڑ کی بازی لگاۓ ہوۓ ہیں کہ کسی طرح بھی،

    اوورسیز پاکستانیوں کو اس حق سے محروم رکھ کر ن لیگ اور پی پی کو اس سیاسی نقصان سے بچایا جاۓ۔

    الیکشن کمیشن کے 37 اعتراضات میں نہ تو کوئ ٹھوس دلیل ہے اور نہ ہی کوئ ایسی وجہ،

    جو الیکٹرونک ووٹننگ مشین کی افادیت کو کم کر سکے۔

    پاکستان میں روایت بن چکی ہے کہ ہر الیکشن میں ہارنے والا نہ تو اپنی شکست تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی آئندہ پانچ سال وہ جیتنے والے کو دلجمعی سے کام کرنے دیتا ہے۔

    دھاندلی کا رونا روتے روتے پانچ سال گزر جاتے ہیں اور پھر نئے رونے دھونے کی بنیاد رکھنے کے لئے نئے بوگس،غیر شفاف اور ایک اور متنازعہ انتخابات کا انعقاد کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ سارا گورکھ دھندا الیکشن کمیشن کی چھتر چھایا میں ہوتا ہے۔

    پھر بھی وہ دھاندلی زدہ الیکشن کروانے پر بضد ہے۔

    سب کچھ جانتے بوجھتے ہوۓ بھی وہ انجان بنے بیٹھے ہیں۔

    وہ بے قرار ہو کر پیچ وتاب کھاۓ جا رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات بھی اُن کے آقاؤوں کی خواہش کے عین مطابق کرواۓ جا سکیں،

    اتنی بے قراری ظاہر ہے،

    بے سبب تو نہیں ہوتی،

    جاننے والے اس بے قراری کا سبب جانتے بھی ہیں اور اس سبب کو دور کرنےکی تدبیر کرنا بھی جانتے ہیں۔

    اس تدبیر کا استعمال الیکشن کمیشن کے مکمل ایکسپوز ہونے کے بعد یقینا” کیا بھی جاۓ گا،

    کیونکہ ملک کی تقدیر زیادہ دیر ان کمیشنوں کی نظر نہیں کی جا سکتی۔

    پہلے ہی بہت دیر ہو چُکی،

    مُلک کا ہر ادارہ تباہ کیا جا چُکا۔

    اگر مُلک کو چلانا ہے تو ان کمیشنوں کو ہر صورت راہ راست پہ لانا ہو گا۔

    ان سے بغیر کمیشنوں کے فرائض سرانجام دلوانا ہوں گے۔

    انکی مادر پدر آزادی نے ان کے پیٹ تو بھر دئے ہیں مگر ملک کی جڑیں کھوکھلا کر دی ہیں۔

    الیکشن کمیشن جیسے اداروں کی زور زبردستیوں،

    من مانیوں اور بدمعاشیوں سے لگتا ہے کہ ملک ان جیسے اداروں کا ماتحت ہے نا کہ یہ ادارے اس ملک کے ماتحت۔

    ہر بار متنازعہ انتخابات کی شرمناک تاریخ رکھنے کے باوجود الیکشن کمیشن اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    بے شمار اور بے حساب لعن طعن کے باوجود کمیشن اپنا قبلہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    مگر اب یہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

    اس قسم کے جانبدار کمیشنوں اور مافیاز کو مزید اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    اب ان اداروں کو قانون کے تابع لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہی وہ وقت ہے،

    جب ان بگڑوں تگڑوں کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔اداروں کا اس وقت ایک پیج پر ہونا اس ملک کی خوش قسمتی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس ملک کو بنانا سٹیٹ بنانے والوں کو نتھ ڈالنی چاہیے۔

    عمران خان اللہ کے بعد اس ملک کے محب وطن عوام کی آخری امید ہے۔

    اگر عمران خان کے دور میں یہ بوسیدہ نظام درست نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا،

    خدانخواستہ بالخصوص اگر ن لیگ یا پی پی برسر اقتدار آگئیں تو اس بوسیدہ نظام کے ٹھیک ہونے کی اُمید ہمیشہ کے لئے دم توڑ جاۓ گی،

    پھر یہ نظام سدھرنے کے بجاۓ مزید اُجڑے گا،

    کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں بذات خود اس بوسیدہ اور فرسودہ نظام کی معمار ہیں۔

    یہ کمیشن نما مافیاز انہیں کے لگاۓ ہوۓ ہوۓ بُوٹے ہیں۔

    ان پارٹیوں نے خود انہیں حرام کھلا کھلا کے ایسے کمیشنوں کی آبیاری کر رکھی ہے۔

    اپنے ہاتھوں سے لگاۓ گئے پودے کون اپنے ہاتھوں سے تلف کرتا ہے؟

    خاص طور پر کرپشن کے وہ پودے،

    جو ان کی کرپشن پر شجر سایہ دار کی طرح چھاؤں بنا کے رکھتے ہوں #

    تحریر ۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    مقام نسواں- شمع محفل یا چراغِ خانہ تحریر: سید غازی علی زیدی


    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

    عورت ہمیشہ سے مظلوم، تحقیر و تذلیل کا شکار، نہ کوئی عزت نہ کوئی مقام۔ یہود و نصاری ہوں یا رومی و شامی، مصری ہوں یا ہندی، عرب کے صحرا سے یورپ کے درباروں تک ہر جگہ عورت کی حیثیت ایک لونڈی سے زیادہ نہ تھی۔ کبھی جانوروں کے مول اس سے زیادہ لگتے تو کبھی اچھوت سمجھی جاتی، کبھی شیطانی روح کہلاتی تو کبھی ستی کردی جاتی۔ غرض آمد اسلام سے پہلے عورت کے سرے سے جینے پر ہی قدغن تھی۔ کہیں پیدائش کیساتھ ہی زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا تو کہیں شمع محفل بنا کر مردوں کی نشاطِ طبع کا سامان کیا جاتا، کہیں مال وراثت کی صورت بٹتی تو کہیں سربازار لٹتی، کہیں گروی رکھوا کر پامال کی جاتی تو کہیں جوے میں ہار دی جاتی، غرض دنیا کی سب سے حقیر ترین شے عورت تھی۔

    مرد کا راج
    سر کا تاج
    سہما وجود
    رسموں کی قیود
    ظلم و ستم مقدر
    جیون فقط صبر
    کچلی ہوئی ذات
    ہر حال میں مات
    لیکن پھر رحمت للعالمین ﷺ کی آمد نے سسکتی، بلکتی عورت کی زندگی کو منور کر دیا۔ وہ کرلاتی مخلوق جو سانس بھی اپنی مرضی سے نہیں لے سکتی تھی اس کو وہ وقار و سربلندی بخشی جو اس کا جائز حق تھا۔ پیروں کی جوتی سمجھی جانے والی کے پاؤں تلے جنت رکھ دی۔ بیٹی کو نحوست کی جگہ رحمت بنا دیا، ذلت سمجھنے والوں کیلئے بہن باعث تکریم بنا دی گئی اور آدھا ایمان ہی بیوی سے مکمل کروادیا گیا۔شمع محفل کو گھر کی زینت بنا کرعورت کے ہر رشتے کو افتخار بخشا گیا۔ قرآن پاک کی پوری ایک سورت کا نام النساء رکھ کر تاقیامت خواتین کے مرتبے کا تعین کر دیا گیا۔ وراثت سے لیکر معاشرت تک کے تمام حقوق و فرائض متعین کردیے گئے۔ اور زمانہ جاہلیت کی تمام ظالمانہ رسوم و رواج کا مکمل خاتمہ کر کے اسے عظمت کا نمونہ بنادیا گیا۔
    اسلام نے فرعون کی بیوی کا درجہ جنت کی سردار کا کر دیا۔ حضرت مریم ؑ کی پاکدامنی پر پوری سورت اتاری گئی۔ قرآن مجید میں حضرت زینب ؓ کے خلع کے حق کو تسلیم کرکے نبی ﷺ سے نکاح کا شرف بخشا گیا، حضرت عائشہ ؓ کی برأت کیلئے آیات کا نزول ہوا اور تاقیامت عورت کی عصمت و عفت پربہتان طرازی کرنے والوں کیلئے قانون بنا دیا گیا۔ مرد کو عورت کا ولی مقرر کر کے عورت کو ہر طرح کی معاشی زمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا۔
    یہ اسلام ہی تھا جس نے عورت کو ایک کمتر مخلوق کے درجے سے نکال کر بطور انسان مردکے برابر رتبہ دیا۔
    لیکن صد افسوس کہ آج کا ترقی پسند مرد خواہ مشرقی ہو یا مغرب کا پروردہ، جو خود کو تہذیب یافتہ و انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتا، خواتین کو ان کا جائز حق دینے سے خائف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہیں عورت تیزاب گردی کا شکار ہے تو کہیں بدترین گھریلو تشدد کا، ماڈرن ازم کے باوجود آج بھی بیٹی کی پیدائش پر ناگواری ظاہر کی جاتی اور بیوی کو پیر کی جوتی سمجھا جاتا۔ پوری دنیا میں خطرناک حد تک بڑھتے عصمت فروشی، آبرو ریزی، جنسی ہراسگی اور صنفی امتیازی سلوک کے واقعات اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ جدیدیت کے نام پر عورت کا استحصال کیا جارہا۔ ستم ظریفی یہ کہ اکثر خواتین کے حقوق کے چمپئن ہی ان گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوتے۔ چوراہوں پر عورت مارچ کے بینر اٹھائے یہ مرد حضرات گھر کی چار دیواری میں بیوی کو معمولی بات پر دھنک کر رکھ دیتے۔ بڑی بڑی این جی اوز عورت کے حقوق کی بحالی کیلئے فنڈز تو حاصل کرلیتی ہیں لیکن اپنی خواتین ورکرز کو جائز تنخواہیں تک نہیں دیتی۔ تیزاب گردی پر فلم بنا کر آسکر ایوارڈ لینے والی خاتون نے خود سب سے زیادہ متاثرہ عورت کا استحصال کیا۔ لیکن اگر کوئی ان امور پر آواز اٹھائے تو اس پر بنیاد پرستی اور پدرسری کا الزام لگادیا جاتا۔
    آزادی نسواں اور فیمینزم کا راگ الاپتے یہ لوگ صرف مغربی تعصب کی تقلید میں اسلام کو عورت کی ترقی کا دشمن سمجھتے۔ ان کا ہر ہر نعرہ اسلام کیخلاف ہوتا۔ حالانکہ اگر یہ صحیح معنوں میں اسلام سے واقف ہوتے تو جان لیتے کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے۔ پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے والے نہیں جانتے کہ پردہ عورت کی عزت کا محافظ اور وقار کا باعث ہے۔ اسلامی تعلیمات کیخلاف دشنام طرازی کرتے یہ لوگ بھول جاتے کہ ترویج اسلام میں خواتین کا نمایاں کردار رہا ہے۔
    حضرت خدیجہ ؓکی اخلاقی و مالی مدد نے اسلام کوابتدائی مشکل ترین دنوں میں سہارا دیا۔ ان کا درجہ اتنا بلند کہ خود باری تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے زریعے سلام کہلوایا۔ غزوات میں مسلم خواتین کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تلوار بازی سے مرہم پٹی تک ہر مرحلے میں مردوں کے قدم بقدم رہیں۔ حق گوئی و بیباکی، جرآت و شجاعت، ذہانت و فراست ازدواج مطہرات و صحابیات کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔ ایک بیٹی کو اللّٰہ نے وہ مرتبہ دیا کہ نبی پاک ﷺ کی تاقیامت مبارک ترین نسل حضرت فاطمتہ الزہرا ؓ کی بابرکت آغوش کی بدولت ہے۔ یزید کے دربار میں حضرت زینب ؓ کی للکار جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کی بہترین مثال ہے۔ سائنس، طب، فقہ، ادب، تاریخ، اقتصادیات غرض کونسا ایسا شعبہ زندگی ہے جس میں ہمیں ماہر ترین مسلم خواتین نہیں ملتی ہیں۔ ہم مسلمانوں کی ستم ظریفی کہ ہم نے اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کی حامل مسلم خواتین کو چھوڑ کر دو ٹکے کی اخلاق باختہ ماڈلز کو آئیڈیل بنا لیا ہے۔ ہندوؤں سے متاثرہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کم عقل اور صرف گھریلو کام کاج تک محدود سمجھا جانے لگا۔ نتیجتاً ہمارے اسلاف کے شاندار کارنامے سیرت کی کتابوں تک محدود ہو گئے۔ مزید برآں جو پردہ عورت کی عصمت کا محافظ تھا اسے عورت کی ترقی کا سب سے بڑا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ پروپیگنڈہ کی ایسی ہوا چلی کہ اچھے خاصے سمجھدار لوگ اس کے دام میں آ گئے۔ یہاں تک کہ اسلام کی اصل روح اور تعلیمات سے واقف اور اس پر عمل کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔
    ابھی بھی وقت ہے خدارا سنبھل جائیں۔ خدا سے بڑا نہ کوئی خیرخواہ ہوسکتا نہ معلم۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہونے کے ناطے ہمیشہ گمراہی کے گھنگور اندھیروں کیطرف ہی لے جائے گا جس کا انجام دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی۔ شیطان کے چیلے مسحور کن نعروں اور رنگین نظاروں کی مدد سے سبز باغ دکھا کر بے حیائی کی راہ پر گامزن کررہے اور ہماری خواتین بلا سوچ سمجھ کے اپنی جنت چھوڑ کر بازار کی زینت بن رہی ہیں۔ جائز مطالبات اور حرام کاری کے فروغ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدارا ان دونوں کو آپس میں نہ ملائیں ورنہ عورت کی مظلومیت کی داستانیں تو ختم نہ ہوں گی لیکن بے حیائی و فحاشی میں ضرور اضافہ ہوگا جس کا انجام بلآخر معاشرے کی بربادی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشاد پاک ہم سب کیلئے مشعل راہ بھی ہے اور تنبیہ بھی؛
    ”تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ، اور تم میں سب سے بہتر ہے وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔”
    کیا اس کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا کہ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ نہیں ہے؟
    ‎@once_says

  • خواہشات کی تکمیل میں سکون کی تلاش تحریر:- محمد دانش

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے  میرے ارمان لیکن پھر بھی کم  نکلے ۔

    انسان ازل سے سکون قلب حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے اور اس کو یہ ہی لگتا ہے کہ خواہشات کی تکمیل اس کو سکون قلب دے گی اور وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے انتھک محنت کرتا ہے جب وہ اپنا مقصد اور اپنی خواہش کو پورا کر لیتا ہے تو وہ اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اس نے سکون حاصل کر لیا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا وہ کچھ وقت تو خوش اور مطمئن ہوتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ پھر بے چین ہوجاتا ہے کیونکہ خواہشات کی تکمیل میں سکون نہیں ہے۔جیسا کہ
    بچپن سے ہمیں لگتا تھا کہ ہم بڑے ہو جائیں گے تو زندگی سب سے زیادہ پرسکون ہوگی پھر جب بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ بچپن کی زندگی ہی تو سب سے زیادہ پرسکون زندگی تھی جس میں نہ کوئی ٹینشن، نہ کوئی پروبلم ، نہ کوئی زمہ داریاں ۔
    میری اپنی زندگی میں ایسا کئی بار ہوا ہے میں شدت سے خواہش کرتا تھا کہ میرا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہوجائے اس خواہش اور مقصد کو پورا کرنے کے لئے میں نے دن رات محنت کی رشتے داروں سے لا تعلق رہا اور نہ کسی خوشی غمی میں شامل ہو سکا صرف اور صرف میڈکل کالج میں داخلے کی خواہش کو اہم جانا بالاآخر وہ دن میری زندگی میں آہی گیا جس کے کئے میں نے زندگی کے بارہ سال محنت کی اور ہر چیز کو فراموش کر دیا ۔
    وہ میری زندگی کا انتہائی بہترین دن تھا جب مجھے پتہ چلا کہ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں ہوگیا ہے میں بےحد خوش تھا اتنا کہ جیسے میں نے دنیا فتح کر لی لیکن جب میں نے کالج جانا شروع کیا تو وہ خوشی جس کو پانے کے لئے میں نے سب کچھ فراموش کر دیا تھا، تھوڑے ہی وقت میں مدھم پڑنے لگی تھی اور پھر میرے اندر کچھ نئی خواہشات نے جنم لیااور میرے دل کا سکون ختم ہونے لگا حالانکہ یہ میری بچپن کی خواہش تھی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تو وقتی سکون تھا اصل سکون تو اس میں تھا ہی نہیں۔
    انسان اپنی زندگی کا بیشتر حصہ خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے گزار دیتا ہے جوانی میں اچھامقام پانے کے لئے صحت گنوا دیتا ہے اور بڑھاپے میں صحت مند ہونے کی خواہش میں پیسہ گنواتا ہے ان سب میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ سکون قلب تو اللّہ کی یاد اور ذکر میں ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللّہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں

    اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ
    یاد رکھو اللّہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے
    (سورہ الرعد آیت نمبر 28)
    اللّہ نے اپنے ذکر میں سکون اور اطمینان رکھا اور انسان اس اپنی خواہشات میں ڈھونڈتا ہے
    اس سے میں نے اپنی زندگی میں یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے خواہش کرنا اور اسکی تکمیل کے لئے کوشش کرنا کوئی غلط بات نہی ہے لیکن ان خواہشات کی تکمیل سے سکون قلب کی توقع رکھنا غلط بات ہے کیونکہ دائمی سکون صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی اللّہ پاک اور اسکے رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارینگے تو ہمیں چاہیے ہم اس آخرت کی فکر کریں جو حقیقی زندگی ہے جس کا کوئی اختتام نہی ہے اور اپنے آپکو اس عارضی دنیا کے جنجال سے نکالیں کیونکہ یہ دنیا صرف ایک امتحان گاہ ہے
    اللّہ پاک ہمیں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @iEngrDani

  • والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    والدین کی ذمہ داری تحریر : فرح بیگم

    بچے اپنے والدین کے انداز سے ہی متاثر ہوتے ہیں ۔اس طرح ہم لوگ بھی اپنے بچوں کی پرورش بھی اپنے ماں باپ کی طرح کرتے ہیں ۔ بچوں کی پرورش میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ہمیں چاہیئے کہ ہمیں اچھے ماں باپ بننے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔اس سے معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ جیسے والدین تربیت دیں گے بچے اسی طرح ماحول کو اپنائیں گے ،اسی طرح کی سوسائٹی کو اپنائیں گے ۔
    آپ لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہونگے کے ہم سب اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے اور ان کو آزادی بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی من چاہے چیزیں کریں، پر ایک وقت آتا ہے کہ ہم اس حد کو پار کر دیتے ہیں اور پھر ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں ۔اور اس وقت سمجھ نہیں آتا کے کیا جائے ۔ جو کے سراسر غلط ہے ۔ہمیں اپنے بچوں کو ایک حد تک پیار، آزادی اور لاڈ دینا چاہیئے کیونکہ یہی پیار اور لاڈ بچے کو بگھاڑ بھی دیتا اور کھبی کھبی کھبی سنوار بھی دیتا ہے ۔ اور ان کی حدود کا تعین خود ماں باپ کو ہی کرنا چاہیئے ۔اب آپ کے ذہن میں سوال آئےگا کے "پیار کی حد کا تعین کیسے کیا جائے؟” تو جواب یہ ہے کے آپکو اپنا کردار بہتر کرنا ہوگا کیونکہ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں ۔ تو پھر جیسا والدین کا سلوک ،اخلاق اور رہن سہن ہو گا تو بچے وہی سیکھیں گے اور اپنائیں گے ۔
    کچھ عرصہ پہلے جاپان میں ایک سروے کیا گیا اور کچھ لوگو کے انٹرویو لیے گے تو اس سروے کے مطابق والدین اور بچوں میں رابطہ بہت کم ہے ۔ اور والدین کا رویہ بچوں کے لیے بہت نرم بھی ہے ۔ ساتھ ہی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک چوتھائی نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا برتاؤ بچوں کو لے کر بہت سخت ہے ۔ یہ بات صرف مشرقی ممالک تک ہی
    محدود نہیں ہے ۔اس وجہہ سے بچوں اور والدین میں دوستی کا رشتہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
    والدین کو یہ بھی چاہیئے کہ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی بھی ان پر مسلط نہ کرے۔ انکو بات بات پر نہ ٹوکا کریں ۔ انکے ہر موڈ کو تسلم کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کے تمام جذبات اور احساسات کو قبول کرنا چاہیئے تا کے جب ہم انکو غصہ کریں تو وہ پریشان نہ ہو اور اپنا دل چھوٹا نہ کریں۔ والدین کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ اسکا بچہ ہار وقت خوش رہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ ماہر نفسايات کے مطابق یہ ہے کہ آپ کا بچہ ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا اس لئے والدین کا فرض ہے کہ بچے کے ہر موڈ کو قبول کرے اور اسکو مجبور نہ کرے کے وہ اسکی وجہ بتاۓ۔ کیونکہ اس سے انکا موڈ اور خراب ہو جائے گا اور یہ لازم ہے کہ وہ پھر اپنے ،والدین سے باتمیزی کریں۔
    آپ(والدین) اپنے بچے کا انسانی عکس ہوتے ہیں ۔ہم اپنے بچوں کے ساتھ جو بھی بتاؤ کرتے ہیں وہی بتاؤ انکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔اگر والدین کچھ اپنے بچے کو سمجھنا چاھتے ہیں تو وہ ان کو ہنسی مزاق میں اس بات کا ذکر کریں اور سمجھیں۔ کوشش کریں جب ملیں ان سے تو ہمیشہ خوشی سے ملیں۔ لیکن اگر آپ کے بچے کا رویہ برا ہے اور وہ آپکو اپنے اس رویہ سے کچھ محسوس یا کچھ بتانا چاہتا ہے تو آپکو اصل مطلب تلاش کرنا چاہیئے پھر اسکو حل کرنے کے لیے انکی مدد کریں ۔

    Twittet ID: @iam_farha

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر:اریب فاطمہ

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا،  تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

  • بدلنا تو پڑے گا ہی”  تحریر؛ ارباز رضا بُھٹہ

    بدلنا تو پڑے گا ہی” تحریر؛ ارباز رضا بُھٹہ

    اس وقت اگر دیکھا جائے تو ہمارے چھوٹے سے چھوٹے بچے کے ذہن میں بھی یہ بات بٹھا کر رکھ دی گئی ہے کہ مغربی اقوام خصوصاً ان کے لیڈرز جو کہ خود کو دنیا پر مزید اوپر کرنے اور مسلمانوں کو دن بدن نیچا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ہمارے سخت مخالف ہیں اور روز بروز سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ خدانخواستہ میں اس بات کا انکاری نہیں ہوں اور نہ ہی یہ سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ ٹھیک کر رہے ہیں۔

    اس وقت بات اس انداز سے بچوں کے آگے پیش کرنی چاہیے کہ دیکھو! جب تک ہمارے پاس طاقت و اقتدار، علم اور مستقبل کی بہترین پلاننگ رہی تب تک تو ہم نے بھی کھل کر ان لوگوں کی دھلائی کی۔ اس بات میں شک نہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ادوار کے علاوہ بھی چند ادوار میں بہترین انداز سے غیر مسلموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا گیا مگر بات زیادہ تر بادشاہوں کے ادوار پر ہو رہی ہے۔ جس بادشاہ کا جتنا بس چلا اس نے اتنا ہی خود کا یعنی مسلمانوں کا اور غیر مسلموں کا نقصان کیا۔ خود خزانے سمیٹے اور غریبوں کو دن بدن قریب تر کر دیا گیا۔ تمام آسائشیں خود کے لیے حاصل کی اگر عوام کو دیا بھی تو ناتلافی نقصان۔ خیراس بات کا خلاصہ میں چند انہی جملوں میں کرنا چاہوں گا کہ جب حقیقی اسلام جو کہ خدا اور اس کے رسول کا تھا درباری اسلام میں تبدیل ہوا تب ہی ایسےمسائل نے جنم لیا جن کی وجہ سے ہم دن بدن بستی میں چلے گئے۔

    یہ بات تاریخ کے اوراق میں قلم بند ہے کہ جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کے چمٹے سے تشبیہ دی جاتی تھیں اور انہیں بدروحوں کو نکالنے کے لیے سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی۔ اس وقت عراق میں مسلمان جدید کیمسٹری اور ادویات کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ جہاں ابن سینا ایسی کتاب لکھ رہا تھا جسے اکیسویں صدی میں پڑھا جانا تھا۔ دوسری جانب جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے آگے چل کر "بائبل” کا خطاب ملنا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ ان درباری بادشاہوں کے اسلام کی وجہ سے جس میں صرف اور صرف ظلم و ستم کو آگے کر کے دکھایا گیا ساتھ ہی ان ادوار میں وہ بکے ہوئے مولوی جنہوں نے اسلام اور بادشاہت کے نظام کو باہم ملا کر رکھ دیا دن بدن مسلمانوں کے زوال کا باعث بنے۔ ایک بات میں اکثر سوچتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارک جو کہ ظاہری طور پر صرف 63 برس تھی اس میں بھی صرف 23 سال کے عرصے میں اسلام بےحد پھیلا وہ بھی عمل اور اخلاق سے۔ مگر اس وقت سے اب تک اگر اسلام پھیلا بھی ہے تو کس ratio سے؟

    ​ خیر اگر ہم اپنے بچوں کو بغیر کسی کی پرواہ کیے یہی بتا دیں بیٹا جب تک ہمارے پاس قوت و طاقت علم کی بدولت تھی ہم نے ترقی کی اور دوسری اقوام کو اسلام کی جانب اخلاقی طور پر دعوت دینے کی بجائے ہم نے ڈنڈے کے زور پر کام کیا۔ یہاں میں بادشاہوں کے اسلام کے بات کر رہا ہوں نہ کہ اولیائے کرام کے پھیلائے گئے اسلام کی۔ مگر جب ہم سے یہی سب چیزیں ختم ہوئی جب ہم نے بھی بو علی سینا اور جابر بن حیان کے دور کے یورپی لوگوں کے جیسے کام شروع کر دیے یعنی مختلف بیماریوں کو ہم نے تعویذ و جادو اور دم و درود پر رکھ لیا بنا ان کا علاج کیے اور وہ ہمارے بزرگوں والا کام( یعنی سائنس کی مدد سے علاج) کرنے لگے تو انہوں نے مزید دریافتیں کی اور سائنس کو ترقی دی۔ تب انہوں نے نہ ہی دن دیکھا نہ رات، نہ ہی عراق و شام اور نہ ہی افغانستان و پاکستان انہوں نے ہمیں ہر لحاظ سے پستی کی جانب دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی اور کیا کہنے ہم نے بھی جانب پستی ہی جانا پسند فرمایا۔ اس لیے ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارا کوئی حال نہیں ہے ہم ظاہری طور پر بدلنا چاہتے ہیں مگر اندرونی طور پر پستی کو پسند کیے ہوئے ہیں اور اس سے نکلنا تو دور کی بات ہم نکلنے کا سوچتے تک نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم مار کھا رہے ہیں اور کھاتے رہیں گے۔ ہماری دنیا میں کہیں عزت نہیں ہو گی چاہے وہ ہمیں اپنے مقاصد کی خاطر کھلائیں یا پھر دہشت گرد کہ کر مار دیں ان کی مرضی ہے۔ اس میں ہم بےبس ہیں۔ اس لیے جب تک ہم نہیں بدلیں گے جب تک تعلیمی میدان میں آگے نہیں چلے جاتے تب تک ہر ملک، شہر اور گلی میں مسلمان ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔

    @Haider_Arbaz_01

  • زندگی ایک مختصر سفر تحریر:ثمرہ مصطفی

    زندگی کیا ہے؟یہ زندگی ایک کتاب کی طرح ہوتی ھے، بالکل ایک بند کتاب کی طرح، جسے جب پڑھنے کے لئے کھولا جائے تو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کس صفحے میں ہنسی اور خوشی ملنے والی ھے اور کہاں غم اور آنسو…. لیکن دعا سے تقدیریں بدل جاتی ہیں اور ہاں کسی کے چہرے پر مت جائیں کیونکہ ہر انسان ایک بند کتاب کی مانند ھے جس کے سرورق پر کچھ اور جبکہ اندرونی صفحات پر کچھ اور تحریر ہوتا ھے۔ زندگی ایک سفر ہے جسکی منزل موت ہے۔ہر انسان کا اپنا مقصد ہوتا ہے لیکن کسی کو اپنا مقصد یاد نہیں شاید اسی وجہ سے ہر کوٸی الجھن کا شکارہے۔ہر کوٸی محنت کررہا ہے لیکن اچھے مسقبل کیلے نہیں بلکہ دوسرے  کو نیچا دکھانے کیلے اسی لیےتو محنت کرنے کا باوجود بھی کامیابی نہیں ملتی۔اور پھر ساری زندگی اپنے رب سے شکوہ کرتے رہتے ہیں ۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دوسروں سے متاثر ہوتے ہیں ان جیسا بننا چاہتے ہیں لیکن ان جیسی محنت نہیں کرتے کیونکہ ہم ظاہر دیکھتے ہیں باطن نہیں۔ہم اس بات کو سوچنا ضروری ہی نہیں سمجھتے کہ جس شخص کی زندگی سے ہم متاثر ہورہے ہیں اسنے کتنی محنت کی ہوگی۔ہرانسان کی زندگی مختلف ہوتی ہے۔جو دوسرا ہے وہ اپ کبھی نہیں بن سکتے اگر زندگی میں سکون چاہتے ہیں تو اپنی زندگی کا مقصد پہچانیں۔  زندگی نے دنیا میں کسی سے وفا نہیں کی،ساری دنیا کے لوگوں کو دھوکہ دے چکی ہےاور کیا پتہ زندگی کی کس راہ پر ہماری زندگی آہستہ ہوجاۓاور موت ہمیں آن لے۔ایسی زندگی کا کیا بھروسہ جو طوفانوں میں چراغ کی طرح جلے اور موت کا انتظارکیوں نہ کریں جو آندھی کی طرح ہمارے پیچھے ہے۔رسولﷺنے فرمایا جب شیطان مردود ہوا تو اسنے کہااے پاک پروردگار تیری عزت کی قسم تیرے بندوں کو ہمیشہ بہکاتا رہوں گا جب تک  انکے جسموں میں انکی روحیں رہیں گی، اللہ پاک  نے  فرمایا مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی اور اپنے اعلیٰ رتبے کی جب تک وہ مجھ سے توبہ کرتے رہیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔زندگی انسان کا سب سے طویل سفراور سب سے مختصر سفر ہے یزندگی ایک خواب ہے جو خوبصورت بھی ہوسکتا ہے اور بھیانک بھی ۔زندگی ایک خوشی بھی ہے اور اذیت بھی ۔زندگی کہ کئی روپ ہیں یہ کبھی سراب ہے کبھی گلاب ہے تو کبھی عذاب ہے زندگی-اس زندگی سے انسان کو ہر طرح کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ اس کی تلاش میں یہ بھول جاتا ہے کہ یہ زندگی ایک پھول کی مانند ہے جواپنی شاخ سے جدا ہوکر مرجھاجاۓ گی۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم زندگی کی حقیقت جانتے تو ہیں لیکن جان بوجھ کر حقیقت سے نظریں چرا لیتے ہیں اور  زندگی کی حقیقت کو ماننے  سے انکار کر دیتے ہیں لیکن حقیقت تو حقیقت ہے جب سامنے آتی ہے تو پھر ہم انسان ہی حیران و پریشان اور ہراساں  ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنے اندر حقیقت کو جاننے کے ساتھ ساتھ ماننے کا ظرف بھی پیدا کر لیں اور زندگی کی حقیقت سے نظریں نہ چرائیں تو پھر ہر قسم کے حقائق کا بڑی بہادری و جرات مندی سے سامنا کر سکتے ہیں بجائے یہ کہ حقیقت کو سامنے پا کر  حیرانی و پریشانی کا مظاہرہ کرنے کی بجاۓ  زندگی کی حقیقت پر غور  کریں تو اس حیرانی و پریشانی کی کیفیت سے آزاد ہو سکتے ہیں-میری دعا ہے کہ خداوند تعالٰی ہماری زندگیوں میں سکون  اور  خوشیاں عطا فرمائے۔ غموں اور دکھوں سے محفوظ رکھے۔ ہماری جاٸز دلی خواہشات کو پورا فرمائے۔

    @Samra_Mustafa_