Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 6ستمبر یوم دفاع پاکستان ۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا بقلم : عمر ہمدانی

    6ستمبر یوم دفاع پاکستان ۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا بقلم : عمر ہمدانی

    6 ستمبر ہر سال یوم دفاع پاکستان کے طورپر ملک بھر میں قومی دن کے طورپر منایا جاتا ہے،یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج پاکستان کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے اس دن شہداء پاکستان اور غازیوں کی بے مثال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اس کا مقصد پاکستان کے دفاع اور ملک پاک کی عسکری طاقت کو مضبوط کرنا اور ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے احسن طریقے سے نمٹا جاسکے ۔

    6 ستمبر ملک بھر میں سکول ،کالجز ،جامعات کے علاوہ تمام سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتاہے اور بھارت کی اس شکست و پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے،ہر محب وطن پاکستانی اپنے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتاہے اور یہ یقین رکھتاہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے ۔

    6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نا بھولنے والا قابل فخر دن ہے جب پاکستان سے کئی گنا بڑے ملک ہندوستان نے کئی گنا افرادی قوت اور دفاعی وسائل کے ساتھ کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں یہ منصوبہ بنایا کہ وہ لاہور پر قبضہ کر کے لاہور جمخانہ کلب میں فتح کا جشن منائیں گے لیکن انہیں کیا معلوم کہ پاکستانی فوج اور فضائیہ دشمن کی چالاکیوں اور حملوں کامنہ توڑ جواب دینے کیلئے ہر وقت مستعدرہتی ہے، اس غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملے کا پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم مٹی میں مل گئے اور ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر بھی شرمندگی اٹھانی پڑی اور یہ ہمیشہ ہی ایسا ہوا جب جب ملک کے دشمنوں نے پاکستان میں فسادات برپا کرنا چاہے حملہ کرنا چاہاتو افواج پاکستان نے ہمیشہ ملک دشمن قوتوں کے عزائم مٹی میں ملا دیئے اور پاکستان کی بہادر افواج کے جوانوں نے اپنی چھاتیوں پر بم باندھ کر ان کے درجنوں ٹینکوں کو تباہ کر دیا اور دشمن کے حملہ کو اپنے عزائم اور لازوال قربانیوں کے ساتھ ناکام کر دیا ۔

    6 ستمبر مسلم امہ کی فتح کا جنم دن ہے جب دشمن نے پاکستان کے شیر دل جوانوں کو للکارا تب کون جانتا تھا کہ صبح کا سورج آزمائش کا سبب بنے گا ماءوں کے لال ان سے جدا ہو جائیں گے ،خواتین کے سہاگ اجڑ جائیں گے ،بچوں کے سروں سے سائبان اٹھ جائیں گے لیکن سلام پاک فوج و فضائیہ کے ان جوانوں کو جنہوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا مگراس پاک مٹی پر آنچ نہ آنے دی اور آنے والی نسل کیلئے مشعل راہ بن گئے ۔

    6 ستمبر کا دن ہ میں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یاد رکھیں کہ آزادی کی حفاظت اللہ پر بھروسہ اپنے وطن عزیز سے بے پناہ محبت اور دفاع وطن کی قربانیوں کے جذبے سے ہوتی ہے ،پاک بھارت کی اس جنگ نے ثابت کیا کہ ہمیشہ ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی جنگیں لڑتی ہیں اور جیتتی ہیں پاکستان پر خدا کی رحمت باد نسیم کی طرح سایہ فگن ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ پاکستان زندہ باد ۔ ۔ ۔ پاک فوج پائندہ باد

  • وہ شعلے اپنے لہو سے بُجها دئیے تم نے – تحریر یاسر اقبال خان

    وہ شعلے اپنے لہو سے بُجها دئیے تم نے – تحریر یاسر اقبال خان

    برصغیر کے تقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان دو الگ الگ ملکوں کی صورت میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے۔ بھارت شروع دن سے پاکستان کی مخالفت کرتا آرہا تھا۔ 1947 سے لے کر بھارت کے پاکستان سے نفرت میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھا۔ کشمیر میں پاک فوج کے ہاتھوں مسلسل پسپائی کے بعد بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ چھپکے سے بنا دیا۔ 6 ستمبر 1965ء کی رات کو پاکستان میں حملے کیلئے داخل ہوتے وقت بھارت اپنے طاقت کے نشے میں اتنا مغرور ہوگیا تھا کہ بھارتی فوج کے ایک جنرل جینتو ناتھ چودھری نے اپنے سپاہیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم صبح لاہور کے جم خانہ میں شراب پییں گے اور ناشتہ کریں گے۔

    6 ستمبر 1965ء کی آدھی رات کو صبح ہونے سے 3 گھنٹے پہلے بھارت نے رات کے اندھیرے میں بغیر اعلان کے پاکستان پر حملہ کردیا اور اپنے طاقت کے نشے میں پاکستان پر رات کے وقت جنگ مسلط کردی۔ بھارت کے فوج نے رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور اور قصور کے محاذوں پر حملہ کیا۔ 6 ستمبر 1965ء کو پاکستان کے صدر نے ایک تاریخی خطاب سے قوم کو جنگ کی اطلاع ریڈیو پاکستان پر اپنے تقریر میں دی۔ اپنے خطاب میں ایسا جوش اور ولولہ پیدا کیا کہ ملک کا ہر فرد اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔ اپنے خطاب میں صدر ایوب خان نے قوم سے کہا کہ "میرے عزیز ہم وطنوں 10 کروڑ پاکستانیوں کے امتحان کا وقت آپہنچا ہے ہندستانی فوج نے پاکستان کے علاقے پر لاہور کی جانب سے حملہ کیا ہے بھارتی حکمران شروع سے پاکستان کے وجود سے نفرت کرتے تھے ہندوستانی حمکران شاید یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے” صدر ایوب کے اس جذباتی تقریر پر پاکستانی قوم متحد ہوکر اپنی دفاع کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہوگئی۔

    6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے سب سے پہلے لاہور میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکامی دشمن کا مقدر تھی۔ پاک افواج نے دشمن کو واگہ بارڈر کے ساتھ ہی طاقتور مزاحمت سے لاہور شہر میں انے نہ دیا اور دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔ بھارتی فوج نے کھیم کرن کے مقام سے قصور میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن بھارت کو یہ کوشش مہنگی پڑی۔ پاک فوج نے نہ صرف اس پیش قدمی کو ناکام بنایا بلکہ جوابی کروائی کرتے ہوئے بھارتی افواج کو سرحد پار جا کر کھیم کرن تک دهكیل دیا۔ پاک فوج اور پاک فضائیہ نے بھارتی حملے کا لاہور کی محاز پر لڑتے ہوئے روک دیا جس سے بھارتی حملہ آوروں کو بھاری جانی نقصان ہوا۔ پاک فضائیہ نے بھارتی علاقے میں پٹھان کوٹ، ادم پور اور ہلواڑہ ایئر بیسس پر انتہائی کامیاب حملے کئے۔ پاک فضائیہ کی اس کاروائی میں دشمن کے درجنوں طیارے تباہ ہوئے ان حملوں نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ دی۔ 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ نے نہ صرف بھارتی پیش قدمی کو کراچی کی بندرگاہ پر روکا بلکہ بھارت میں جا کر دوارکا کے مقام پر بھارتی طیاروں اور ریڈر سسٹم کو تباہ کر کے بھارتی افواج کا غرور مٹی کردیا۔ پوری قوم اور مسلح افواج نے اپنے سے چھ گنا بڑی بھارتی فوج کو پاکستان پر حملے کا زبردست جواب دیا کہ دنیا پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جرت اور قوم کے جذبہ حب الوطنی پر حیران رہ گئی۔ 

     7/8 ستمبر 1965ء کی رات مکار و بزدل بھارتی فوج نے لاہور کے محاذ سے پاکستانی فوج کی توجہ ہٹانے کیلئے سیالکوٹ کے ایک مقام چھونڈہ پر 600 سے زائد  ٹینکوں، 400 توپوں اور ایک لاکھ سے زائد فوج کے ساتھ حملہ کردیا تاریخ اس حملے کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کا سب سے بڑا حملہ قرار دیتی ہے۔ پاک فوج نے چھونڈہ میں ہی ان ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا اور پاک فوج کے جوانوں نے سینوں پر بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کو تباہ کیا اور مادر وطن کیلئے جام شہادت نوش کیا۔ بھارت کو بھاری قیمت چکا کر دم دبا کر واپس بھاگنا پڑا۔ بھارتی فوج رات کے اندھیرے میں چھونڈہ گھس تو گئی لیکن پھر چھونڈہ کے عوام نے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کی ایسی دھولائی کی کہ چھونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔ 

    میجر عزیز بھٹی شہید 1965ء کے جنگ کے ایک ہیرو ہے جو لاہور کے قریب برکی سیکٹر پر مسلسل 5 دن اور 5 راتیں جاگتے رہے اور دشمن کے سامنے دیوار بن کر اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے رہے۔ دشمن کا مقابلا کرتے ہوئے اس نے اپنی جان دے کر پاکستان کی حفاظت کی۔ میجر عزیز بھٹی شہید کو اس کی بہادری پر نشان حیدر سے نوازا گیا۔ بھارت جو ستمبر 1965ء کی جنگ میں پاکستان کو آگ لگانے آیا تھا پاکستان کے مسلح افواج نے بھارت کے ٹینکوں اور توپوں سے برستے آگ کے شعلے اپنے لہوں سے بجھا کر اس پاک وطن کی حفاظت کی۔ پاک فوج کے نوجوانوں نے شہادتیں پا کر پاکستان کو دشمن کے قبضے میں جانے سے بچایا اور دشمن کو شکست سے دوچار کردیا۔ ستمبر 1965ء کے شہیدوں اور غازیوں کی یاد میں پاکستان میں 56 واں یوم دفاع پاکستان بنایا جا رہا ہے۔

     لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو 

    وه شعلے اپنے لہو سے بُجها دئیے تم نے

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے        ازقلم :غنی محمود قصوری

    یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے ازقلم :غنی محمود قصوری

    یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    6 ستمبر کو ہر سال شہداء 1965 کی یاد میں یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے

    اس دن ہمارے بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا صبح کا ناشتہ لاہور جا کر کرینگے
    اس دن پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ جنگیں بڑی فوج،زیادہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ جذبہ ایمانی سے لڑی جاتی ہے

    دشمن نے لاہور پہنچنا اتنا آسان سمجھ لیا تھا جیسے خالہ گھر جانا ہو
    دشمن نے اچانک پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے قوم سے اپنے خطاب میں پُراعتماد آواز میں کہا
    پاکستان کے 10 کروڑ عوام جن کے دل لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آواز کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کر دی جائیں

    اور پھر دنیا نے بھارت کی رسوائی کا خوب تماشہ دیکھا
    محض 72 گھنٹوں میں ہی دشمن کی ایسی ٹھکائی کی گئی کہ دشمن نے اقوام عالم سے جنگ بندی کی فریاد کی

    ہمارے بزدل دشمن نے چونڈہ کے محاذ پر 600 ٹینکوں کے ساتھ حملہ کیا مگر افواج پاکستان نے اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا

    واہگہ بارڈر ،بی آر بی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے جبکہ اس کے قریب ترین محاذ
    قصور میں داخل ہونے کیلئے دشمن نے کھیم کرن سے بھرپور حملہ کیا تاہم افواج پاکستان نے دشمن کو نا صرف پیچھے دھکیلا بلکہ اس کے کئی کلومیٹر علاقے پر قبضہ بھی کر لیا

    پاک فضائیہ نے ایسی تاریخ رقم کی کہ دنیا آج بھی ایم ایم عالم رحمۃ اللہ علیہ کے کارنامے پر حیران ہے انہوں نے دشمن کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی

    پاکستان نیوی نے دشمن کے علاقے میں جا کر چیلنج کیا پاکستانی پی این ایس مہران نے دشمن کے پانیوں میں پہنچ کر ایسی ڈھاک بٹھائی کہ بزدل دشمن کے بحری جہاز اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگ نکلے

    اس دن کی فتح پاکستانیوں کی جذبہ ایمانی اور حب الوطنی تھی جیسا کہ فرمان نبوی ہے

    مفہوم حدیث ﷺ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں
    اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے

    اس حدیث کے مطابق پوری قوم نے درد محسوس کیا اور دشمن کر ڈٹ کر مقابلہ کیا
    مگر کیا اب بھی اس قوم میں یہی جذبہ موجود ہے ؟

    جی الحمدللہ چاہے جتنے بھی حالات آئے اس قوم کا جذبہ مانند نہیں ہوا
    دشمن نے اس جذبے کو مانند کرنے کیلئے ہمارے اندر صوبائی،علاقائی،لسانی،دینی اختلافات ڈالنے کی ہزار بار کوشش کی مگر بفضل تعالی وہ ہر بار ناکام رہا اور رہے گا بھی کیونکہ یہ خطہ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے اس کی بنیادوں میں شہداء کا لہو شامل ہے

    احادیث نبویہ میں ہندوستان کے جہاد کا ذکر کثرت سے موجود ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے دور حکومت میں ہندوستان پر مہم جوئی کا آغاز ہو چکا تھا
    فضیلت جہاد ہند پر ایک حدیث پیش خدمت ہے

    یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    6 ستمبر کو ہر سال شہداء 1965 کی یاد میں یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے

    اس دن ہمارے بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا صبح کا ناشتہ لاہور جا کر کرینگے
    اس دن پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ جنگیں بڑی فوج،زیادہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ جذبہ ایمانی سے لڑی جاتی ہے

    دشمن نے لاہور پہنچنا اتنا آسان سمجھ لیا تھا جیسے خالہ گھر جانا ہو
    دشمن نے اچانک پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے قوم سے اپنے خطاب میں پُراعتماد آواز میں کہا
    پاکستان کے 10 کروڑ عوام جن کے دل لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آواز کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کر دی جائیں

    اور پھر دنیا نے بھارت کی رسوائی کا خوب تماشہ دیکھا
    محض 72 گھنٹوں میں ہی دشمن کی ایسی ٹھکائی کی گئی کہ دشمن نے اقوام عالم سے جنگ بندی کی فریاد کی

    ہمارے بزدل دشمن نے چونڈہ کے محاذ پر 600 ٹینکوں کے ساتھ حملہ کیا مگر افواج پاکستان نے اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا

    واہگہ بارڈر ،بی آر بی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے جبکہ اس کے قریب ترین محاذ
    قصور میں داخل ہونے کیلئے دشمن نے کھیم کرن سے بھرپور حملہ کیا تاہم افواج پاکستان نے دشمن کو نا صرف پیچھے دھکیلا بلکہ اس کے کئی کلومیٹر علاقے پر قبضہ بھی کر لیا

    پاک فضائیہ نے ایسی تاریخ رقم کی کہ دنیا آج بھی ایم ایم عالم رحمۃ اللہ علیہ کے کارنامے پر حیران ہے انہوں نے دشمن کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی

    پاکستان نیوی نے دشمن کے علاقے میں جا کر چیلنج کیا پاکستانی پی این ایس مہران نے دشمن کے پانیوں میں پہنچ کر ایسی ڈھاک بٹھائی کہ بزدل دشمن کے بحری جہاز اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگ نکلے

    اس دن کی فتح پاکستانیوں کے جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کے بدولت تھی جیسا کہ فرمان نبوی ہے

    مفہوم حدیث ﷺ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں
    اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے

    اس حدیث کے مطابق پوری قوم نے درد محسوس کیا اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا
    مگر کیا اب بھی اس قوم میں یہی جذبہ موجود ہے ؟جی الحمدللہ چاہے جتنے بھی برے حالات آئے اس قوم کا جذبہ مانند نہیں ہوا –

    تاہم دشمن نے اس جذبے کو مانند کرنے کیلئے ہمارے اندر صوبائی،علاقائی،لسانی،دینی اختلافات ڈالنے کی ہزار بار کوشش کی مگر بفضل تعالی وہ ہر بار ناکام رہا اور رہے گا بھی کیونکہ یہ خطہ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے اس کی بنیادوں میں شہداء کا لہو شامل ہے-

  • دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی خواہش ہے کہ وہ لمبے عرصے تک جئیں اس حوالے سے ارب پتی جیف بیزوس اور یوری ملنر ایسی بائیوٹیکنالوجی فرم کو فنڈز دے رہے ہیں جس کا مقصد عمر کو بڑھانا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق الٹس نامی لیب کے لیے امریکہ اور برطانیہ میں 270 ملین ڈالر اکٹھے کیے گئے ہیں تاکہ جانوروں اور ممکنہ طور پر انسانوں میں سیل ری پروگرومنگ ٹیکنالوجی کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    پروگرام میں ایک جاپانی ڈاکٹر شنیا یاماناکا بھی شامل ہیں جنہوں نے سیل ریپروگرامنگ میں تحقیق کی اور انہیں اس تحقیق کے لیے 2012 کا نوبل انعام دیا گیا۔

    انہوں نے دریافت کیا کہ خلیوں میں صرف چار مخصوص پروٹینز کو شامل کرکے انہیں دوبارہ پرانی حالت میں واپس لایا جاسکتا ہے جو جانوروں کو نئی زندگی کی طرف لاسکتے ہیں2016 میں بھی ایسی ہی تحقیق میں ایک سیل بنایا گیا تھا جس کا تجربہ چوہوں پر کیا گیا، جس کے مثبت اثرات دیکھے گئے تھے۔

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی صرف خلیوں کو جوان نہیں بناتی، بلکہ انہیں سٹیم سیلز میں تبدیل کر کے ان کے کردار کو بھی بدل دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں پر آزمانا اب بھی بہت خطرناک ہے۔

  • وزیراعظم ہاؤس  میں کفایت شعاری،تحریر:ام سلمیٰ

    وزیراعظم ہاؤس میں کفایت شعاری،تحریر:ام سلمیٰ

    کبھی سنا کسی کو فکر ہوئی ہو کے وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کتنے ہیں عجیب سا سوال ہے ؟
    کوئی وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات کی بھی فکر کر رہا ہے قائد اعظم کے بعد.

    عمران خان کی قیادت والی حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت میں کفایت شعاری کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس کے 49 فیصد اور وزیراعظم آفس کے 29 فیصد اخراجات کو کم کیا ہے اب تک. سابقہ ​​حکومتوں کے ساتھ اخراجات کا موازنہ کرتے ہوئے دستاویز پر اگر روشنی ڈالی جائے تو آپکو وزیر اعظم اور صدر بلکے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے علاوہ کیمپ آفس بھی ملیں گے ان سابقہ حکومتوں کے اخراجات میں یہ تمام کیمپ آفس بھی شامل ہیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری کے دو کیمپ دفاتر تھے جن کی قیمت تقریبا 3.6 ارب روپے تھی.

    دوسری طرف ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لیے رائے ونڈ کیمپ آفس پر حکومت کو 4.3 ارب روپے خرچ ہوئے. جبکہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اپنے دو کیمپ دفاتر کے لیے 572 ملین روپے استعمال کیے.

    سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پانچ کیمپ دفاتر پر 570 ملین روپے خرچ کیے جبکہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کے پاس کوئی کیمپ آفس نہیں ہے یہ بھی انہونی رہی جب حکومت ان کیمپ آفس کے بغیر چل سکتی ہے تو کیوں عوام کا پیسہ اس طرح کے اخراجات میں استعمال ہو؟ سرکاری دستاویزات یہ بھی بتاتی ہیں کہ آصف علی زرداری نے اپنے دو کیمپ دفاتر پر 3.6 ارب روپے خرچ کیے ، جبکہ 245 سرکاری گاڑیاں اور 656 سیکیورٹی اہلکار بھی ان کے ساتھ تعینات تھے۔

    دستاویزات کے مطابق نواز شریف نے رائے ونڈ کو اپنا کیمپ آفس بنایا اور سیکیورٹی کے لیے 2،717 پولیس اہلکار تعینات کیے ، جس سے قومی خزانے کو 4.3 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

    2018 میں 590 ملین روپے سے 2020 میں 280 ملین روپے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات 2018 میں 590 ملین روپے تھے جو 2019 میں 339 ملین روپے اور 2020 میں 280 ملین روپے رہ گئے۔ پی ایم او کے اخراجات جو 2018 میں 514 ملین روپے تھے ، 2019 میں 305 ملین روپے اور 2020 میں 334 ملین روپے رہ گئے۔

    دستاویزات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کا سالانہ اخراجات 180 ملین روپے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس سے کوئی صوابدیدی گرانٹ ، گفٹ اور کیش ایوارڈ نہیں دیا۔سب کو سرکاری کھاتے میں جمع کروا دیا جو کے وہ بہت کم قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتے تھے سب کو نیلامی پے لگوا دیا.

    سرکاری دورے اورعمران خان کی کفایت شعاری
    پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 48 سرکاری دورے کیے جن پر سرکاری خرچہ 572 ملین روپے آیا جبکہ ان کے جانشین راجہ پرویز اشرف نے 9 سرکاری دورے کیے جن کی مالیت 107 ملین روپے تھی۔ جب کے نواز شریف نے 92 سرکاری دورے کیے جن پر قومی خزانے کو 1.8 ارب روپے لاگت آئی جبکہ ان کے جانشین شاہد خاقان عباسی نے 19 سرکاری دورے کیے جن پر 260 ملین روپے خرچ ہوئے۔

    دوسری طرف ، وزیر اعظم عمران خان نے 26 سرکاری دورے کیے پی ٹی آئی حکومت کی کفایت شعاری مہم میں پی ایم او کے اخراجات 46 ملین روپے رہ گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے حکومتوں کے اخراجات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ مالی سال میں 218 ملین روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم صرف 46 ملین روپے استعمال کیے گئے.سب سے اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب نے اس پے توجہ دی پاکستان تحریک انصاف کی زیرقیادت وفاقی حکومت کی کفایت شعاری مہم نے قومی خزانے کو لاکھوں روپے بچانے میں مدد کی ہے۔

    ایک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ خرچ آدھے سے بھی کم کر دیا اخراجات کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ مالی سال میں 218 ملین روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم ، صرف 46 ملین روپے استعمال ہوئے۔ اسی طرح سرکاری دوروں کی مدد میں خرچ ہونے والے قومی خزانے کو بھی مختص بجٹ میں سے 10 ملین روپے کی کافی رقم بچائے گئے.

    اس کے علاوہ ، تفریح ​​اور تحائف کے عنوان کے تحت بجٹ میں واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے جو کہ 1.5 ملین روپے سے صرف 1000 تک ہے۔ وزیر اعظم کے دورے کے اخراجات میں ایک اور بڑے پیمانے پر کمی دیکھی گئی۔ ایک نا قابل یقین کمی 20 ملین روپے کے مختص بجٹ کے مقابلے میں صرف 1.2 ملین روپے خرچ کیے گئے۔

    عمران خان نے ثابت کیا سوچ آجائے تو سب کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے ثابت کیا کے قومی خزانے کا غلط استعمال نہں ہونے دیں گے اس کے ثبوت آپ کے سامنے ہیں.

    @aworrior888

  • ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    ہمارے معاشرے میں خواتین کا کردار اور بنیادی حقوق .تحریر:صائمہ رحمان

    سوال یہ ہے کہ آج مسلم ممالک میں معاشرے میں خواتین کا کردار کیا ہے؟ زندگی کے کن شعبوں میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا خواتین کے کردار میں تبدیلی آرہی ہے خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ ہے۔ اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ کیونکہ ہم خواتین معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں ہمیں خود اپنے دفاع کے لئے کھڑا ہونا ہوگااور اس معاشرے میں اپنے آپ کو منوانا ہوگا کہ ہم ہی ہیں جو اس معاشرے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

    کسی بھی ملک یا ریاست کی تعمیر و معاشی ترقی میں خواتین کا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ اسی طرح خواتین کو بااختیار بنا دیا جائے تو پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ہمارے ملک میں خواتین اپنی جہدِ مسلسل پر گامزن ہیں اور آج بھی انہیں لاتعداد مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین کے آگے بڑھنے میں صرف نقل وحرکت کی پابندیاں ہی حائل نہیں بلکہ انہیں اجرتوں کے شدید فرق کا مسئلہ بھی درپیش ہے خواتین کے حقوق کو ہمارے ہاں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت پر حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہے کہ موثر پروگرام اور پالیساں وضع کی جائیں اور ان کا نفاذ کیا جائے۔ اس کے علاوہ جو قوانین پہلے سے نافذ ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال میں بہتری لانا بھی انتہائی ضروری ہے۔۔ خواتین کے حقوق کے لئے جنگ جاری رکھنی ہو گی خواتین کے حقوق کے لیے ہمیں نہ صرف قوانین کے ذریعے عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرتے ہوئے جدوجہد کرنی ہوگی یہ ہمارا چیلنج ہے اور خواتین کو امتیازی سلوک اور بدسلوکی کے خلاف جنگ ہم سب کو آگے بڑھ کر لینی ہو گی ہم خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کو خود پہچانا ہوگا

    آج کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور ملک کے بہترین اداروں میں اپنا کردار ادا کر رہی آج کی عورت بدل چکی ہے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں برابری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے ذریعے خواتین کے لئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہین پاکستان کے آئین میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت
    بھی دی گئی ہے لیکن ان قوانین کے عملدرآمد کے مسائل کی وجہ سے خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں عورتوں کے کون کون سے حقوق شامل ہیں اور خواتین ان قواتین سے
    کیسے اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں اور ان حقوق کی پامالی کرنے پر مجرم کن سزاؤں کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کافی جہگوں پر دیکھا گیا ہے کہ خاص کر پسماندہ علاقوں میں خواتین کو اکثر جائیداد سے بے دخل کردیا جاتا ہے اور ان کو ان کا شرعی اور قانونی حق سے محروم رکھا جاتا۔ ہے لیکن پاکستان کا آئین اس بارے میں بالکل واضح طور پر عورتوں کو ان کا جائیداد میں حق دیا جائے۔
    ہراساں کرنے پینل کوڈ کہ مطابق یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی کوشش کرے، جس میں ایسےجملے بولے جائے، جو خاتون کو تکلیف پہچائے یا اس کو ہراساں کرے، ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے ایسے خواہ یہ گھر میں ہوں یا دفاتر میں، ایسا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔وہ تمام خواتین جو ان حالات سے گزرنے کے بجائے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے قانونی ذرائع سے انصاف طلب کریں

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں زندگی گزارنے والے سید علی گیلانی 92 سال کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اگر انہیں شہید سید علی گیلانی کہا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ جدوجہد میں تھے، وہ کشمیر کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ انہوں نے نظر بندیوں، جیلوں اور قیدوں میں گزارا۔ ان کی آواز بوڑھی ہو گئی تھی، کمزور ہو گئی تھی لیکن اب بھی ان کے الفاظ میں گرج موجود تھی۔ ان کی آنکھوں میں جو آزادی کا خواب تھا وہ انشاءاللہ ضرور پورا ہو گا۔

    ان کی ایک ویڈیو نظر کے سامنے سے گزری جس میں وہ ایک دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔ پورے کشمیر میں لاک ڈاؤن لگا ہوا تھا، کشمیریوں پر ظلم کیا جا رہا تھا، ان کا حق چھینا جا رہا تھا، شہید کیا جا رہا تھا، گھر گھر تلاشی ہو رہی تھی، بھارتی فورسز کشمیریوں سے بدتمیزی کر رہی تھیں، اُس وقت انہوں نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا کہ "دروازہ کھولو، دیکھو تمہاری جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے۔” یہ آواز ہمیشہ بھارت کے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ اس عمر میں ان کی آواز بوڑھی ہو چکی تھی لیکن ان کے الفاظ میں جو طاقت تھی وہ آج بھی پوری وادی میں گونج رہی ہے۔

    سید علی گیلانی بڑے عرصے سے علیل تھے، نظر بند بھی تھے اور سمجھوتہ بھی نہیں کر رہے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تدفین سب سے بڑا سوال تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کی تدفین سری نگر کے شہدا کے قبرستان میں کی جائے۔ لیکن بھارتیوں نے ان کی یہ خواہش بھی پوری نہ ہونے دی۔ بھارتی ڈر گئے تھے کہ اگر سید علی گیلانی کی میت کو اُٹھا کر وہاں تک لے جایا گیا تو پورا کشمیر میت کے ساتھ باہر نکل آئے گا، لوگوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا اور یہ تحریک دوبارہ زور پکڑ لے گی۔ 

    اس لیے پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا۔ جگہ جگہ خاردار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ ان کی رہائش گاہ پر بہت بڑی تعداد میں نفری پہنچ گئی۔ ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ جھگڑا کیا گیا، اور اُن کی تدفین زبردستی اُن کے گھر کے قریب ہی قبرستان میں کروائی گئی۔ ایک جسدِ خاکی سے بھارت اتنا زیادہ ڈر گیا کہ انہوں نے پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا، انہوں نے پورے کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر دیا کہ لوگ کہیں باہر نہ آ جائیں۔ لیکن یہ تو ہو گا، اور یہ انشاءاللہ آپ کو ہوتا ہوا نظر آئے گا۔

    کشمیر کے لوگ آج نہ صرف سراپائے احتجاج ہیں بلکہ سوگ میں ہیں۔ پاکستان نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ وزیراعظم اور صدرِ پاکستان نے فوری طور پر ردِ عمل دیا۔ سید علی گیلانی کشمیریوں کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ تھے۔ پاکستان کے ساتھ کشمیر کو جوڑنے کے حوالے سے ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تمام وہ راستے اختیار کیے جس سے کشمیریوں کو ان کا حق دلوایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے سیاست کر کے دیکھی اور وہ کئی دفعہ جیتے، لیکن ان کی پارٹی کو کبھی بھی اکثریت میں نہیں آنے دیا گیا۔ کیوں کے بھارتی حکومتیں ان سے کہتی تھیں کہ ہمارے ساتھ سمجھوتہ کر لیں ہم آپ کی کشمیر میں حکومت بنوا دیں گے، لیکن سید علی گیلانی نے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کشمیریوں کو کبھی دھوکہ نہیں دیا۔ پھر سیاست چھوڑی اور حُریت میں آ گئے۔ آزادی کی تحریک میں کام کرتے رہے۔ بلآخر ان کا نعرہ پورے کشمیر میں گونجنے لگا کہ "کشمیر بنے گا پاکستان” ۔

    ایک اور ویڈیو ان کی مقبول ہو رہی ہے جس میں وہ بہت زوردار آواز میں کہتے ہیں کہ "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ ان کے یہ الفاظ وادی میں گونج رہے ہیں۔

    سید علی گیلانی کا ایک بہت اہم سٹیٹمنٹ جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انہوں نے پوری دنیا کو مخاطب کر تے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سب یونہی خاموش رہے اور ہم سب مار دیے گئے تو اللہ کے حضور آپ سب کو جوابدہ ہونا پڑے گا، کیوں کے بھارت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی شروع کرنے جا رہا ہے، اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے”۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی میں یہ ثابت کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے، کشمیریوں کو دھوکہ نہیں دیں گے اور کبھی آزادی کا سودا نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے کشمیریوں نے بہت سے لوگوں کو موقع دیا، یعنی شیخ عبداللہ کو سر پہ اُٹھایا، اتنی عزت دی لیکن اس نے انڈیا گورنمنٹ سے معاہدہ کر لیا اور کشمیر کا حکمران بن کے موجیں کیں۔

    سید علی گیلانی کا ایک دوسرا قول جس پر وہ ساری زندگی کھرے اُترے، انہوں نے کہا کہ "بھارت اپنی ساری دولت ہمارے قدموں میں ڈال دے اور ہماری سڑکوں پر تارکول کی بجائے سونا بچھا دے تو تب بھی ایک شہید کے خون کی قیمت نہیں چکا سکتا۔

    یہ ایک عظیم مجاہد کی داستان ہے، جو ساری زندگی اپنی آنکھوں میں آزادی کا خواب لے کر جیتے رہے، نعرے لگاتے رہے کہ ” کشمیر بنےگا پاکستان”، "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ انہوں نے جو خواب دیکھے وہ خواب انشاءاللہ ضرور پورے ہوں گے۔

    ان کے جانے کا غم کبھی کم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سید علی گیلانی کے درجات بلند کریں اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائیں۔ (آمین)

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • تمباکو نوشی تحریر: صلاح الدین

    تمباکو نوشی تحریر: صلاح الدین

    دنیا  بھر میں سب زیادہ تعداد میں فروخت ہونے والی اشیاء میں سے ایک سگریٹ بھی ہے۔تمباکو نوشی کی عادت بعد میں دیگر منشّیات مثلاً چرس ، ہیروئن ، شیشہ وغیرہ کے استعمال کا سبب بن جاتی ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی باقی منشیات کی جانب پہلا قدم کہلائی جا سکتی ہے۔

    روزانہ سینکڑوں لوگ تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ وبا ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

    نوجوان کسی بھی ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے شروع سے ہی ان پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں سکول سے ہی نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک کافی حد تک تمباکو نوشی پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے انتہائی مضر ہے, تمباکو نوشی سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور دمہ جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو کہ آگے جا کر انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بھی رہتا ہے عام لوگوں کے مقابلے میں تمباکو نوشی لوگوں کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کی وجہ سے تمباکو نوش تو متاثر ہوتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ رہنے والے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر تمباکو کے دھوئیں سے بچے بہت متاثر ہوتے ہیں ان میں دمہ اور دوسری متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو سوچنا چاہیے انکی اس بری عادت کا ان کی صحت پر تو برا اثر ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ اس کے عزیز بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو نوش افراد کو چاہیے جتنا جلدی ممکن ہو اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل کریں۔

    حکومتی سطح پر تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی جانب سے کوئی خاص آگہی مہم نہیں شروع کی گئی جس سے اس وبا کو کم کرنے میں کوئی مدد مل سکے۔ اس لیے انسداد تمباکو نوشی کی مہم چلانی چاہیے جس میں معاشرے کے سب طبقات، می ڈیا وغیرہ کو بھی بھر پور حصہ لینا چاہیے۔ سکول اور کالج کے نصاب میں انسداد تمباکو نوشی کے متعلق مضمون ہونا چاہیے جس میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں مکمل آگاہی ہو تاکہ انہیں شروع سے ہی تمباکو نوشی جیسی بری عادت سے دور رکھا جا سکے۔ 

    بسوں، مارکیٹس، دفاتر اور عوامی جگہوں پر تمباکو نوشی کی سختی سے ممانعت ہو تاکہ اردگرد کے لوگوں کو تمباکو کے دھوئیں سے محفوظ بنایا جا سکے اور جو کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اس کو جرمانہ اور قید کی سزا ہونی چاہیے۔ 

    سماجی رابطوں کی مختلف ایپس ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام وغیرہ پر بھی تمباکو نوشی کے خلاف بہترین مہم چلائی جا سکتی ہے اس لیے آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنے ملک سے تمباکو نوشی کی وبا کو کم کرنے میں اپنی پوری کوشش کریں گے۔

  • لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 

    لاقانونیت بڑھتے جرائم تحریر: محمد انور 


    قانون سازی کی بات کی جائے تو وطن عزیز میں آئے روز نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بڑھتے جرائم کو روکا جائے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے

    پاکستان میں اگر کوئی نچلے طبقے کا شخص جرائم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آتے ہیں اور بلاخوف مجرم کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا ھے تو جو کہ خوش آئند عمل ہے۔

    لیکن جب کوئی بااثر شخصیات کسی غریب پر ظلم کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ان وڈیروں اور جاگیرداروں کو گھر بیٹھے ریلیف فراہم کرتے ہیں جس سے معاشرے میں غریب کی عزت مجروح ہوتی ہے اور بااثر شخصیات اپنی طاقت سے عوام پر ظلم کرنے کو ہی اپنی عظمت سمجھتے ہیں

    پاکستان میں چاروں صوبوں کی بات کی جائے تو ہر صوبے میں الگ قسم پائی جاتی ہیں پنجاب میں اگر کوئی نیا قانون پاس کیا جاتا ہے تو طاقت وار لوگوں کی پشت پناہی کرنے والے صحافی نیے قانون کو متنازع بنانے شروع ہو جاتے ہیں

    دوسری جانب وطن عزیز میں سب سے زیادہ سندھ میں لاقانونیت دیکھی جاتی ہے جہاں ملک کا چیف جسٹس موقع سے شراب برآمد کر لیتے ہیں اور چند گھنٹوں میں وہ شراب کی بوتلیں شہید میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ جس سے شراب برآمد ہوئی وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ھے

    سوچیں جہاں ملک کا چیف جسٹس کچھ نہیں کر سکے مجرم بااثر ھے تو وہاں میرے اور آپ جیسے لوگوں کو کیا انصاف فراہم کیا جائے گا انصاف تو دور کی بات الٹا تذلیل کی جاتی ہیں

    پاکستان عدلیہ کا شمار دنیا کی درجہ بندی سے دیکھا جائے تو کسی سے چھپا ڈھاکا نہیں ایک سو اٹھائیس میں سے ایک سو بیسویں نمبر آتا ہے اگر پاکستان میں عدلیہ آزاد اور انصاف پر مبنی فیصلے صادر کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہیں۔ بڑھتے جرائم کی ایک وجہ مہنگائی ، غربت ، بےروزگاری کے ساتھ ساتھ بےحیائی بھی معاشرے میں بڑھتے جرائم کا اسبب بن رہی ہے۔

    جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں بچوں سے زیادتی کے حالیہ واقعات دیکھیں جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں آئے روز کسی معصوم سے زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اسب لاقانونیت ھے ایسا قانون نافذ کیا جائے جس سے دوسرے کو سزا کا خوف ہو۔

    اس کے ساتھ ساتھ جو کیسیز انڈرٹرائیل ھے مجرموں کو کڑی سے کڑی سزائیں دی جائے تاکہ کہ دوسرے لوگوں کو علم ہے یہاں طاقت وار اور غریب کے لئے ایک قانون ھے اور اداروں کو بھی چاہیے اس میں بااثر شخصیات کو کسی بھی کیس میں رعایت نہیں دی جائے اور جب کوئی بااثر افراد کسی کیس میں اپنی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کریں پہلے اس کا احتساب کیا جائے کہیں ایسا تو ہو رہا بیرون دُشمنوں کے پیروکار کے طور پر تو ملک کو کمزور کرنے کی سازش میں ملوث نہ ہو۔

    @AK_Anwar_Khan

  • جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو  جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی   تحریر: امبر سیف 

    جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی  تحریر: امبر سیف 

    ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس وجہ سے اداس نہیں  ہوتے ہیں کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے بلکہ اس وجہ سے بھی اداس ہوتے ہیں کہ ہماری بیٹی تو پیدا ہوئی ہے جو ہمارے گھر کی رحمت ہے لیکن جب یہ بڑی ہو گی تو جہیز نہ دینے کی وجہ سے کنوارہ نہ رہ جائے گی۔۔۔۔۔۔

    آپ کو پتا ہے جو باپ جہیز میں فرنیچر دیتا ہے وہ کس طرح قرضے میں ڈوب کے یہ خریدتا ہے؟ اس فرنیچر کی پالش اتر جاتی ہے لیکن اس باپ کا قرضہ نہیں اترتا۔جہیز کے پیسے جمع کرتے کرتے ایک باپ لوگوں کے آگے بک جاتا ہے اس معاشرے میں بیٹیاں جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔پتہ چلتا ہے ساس نے تیل ڈال کے آگ لگا دی،آگ کیوں لگائی کیوں کہ وہ جہیز میں کچھ نہیں لے کے آئی۔کچھ لڑکیوں کی طلاق ہو جاتی ہے صرف جہیز نہ دینے کی وجہ سے۔جہیز نے لوگوں کے گھر تباہ کر دیئے لیکن آج بھی یہ مسلہ حل نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے.ہم لوگ اپنے بچوں کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ زندگی میں اتنا کما سکیں کہ اس انتظار میں نہ رہیں ۔کب ہماری شادی ہو گی کب لڑکی اپنے ساتھ کار،اےسی،فرنیچر اور گھر کی ایک ایک چیز لے کے آئے گی۔

    ماں بیٹے کے پیدا ہوتے ہی یہ سوچنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ جب بڑا ہو گا اس کی شادی ایک ایسے گھر میں کروں گی جہاں لڑکی بھی خوبصورت ہو اور اپنے ساتھ جہیز میں بھی سب کچھ لے کے آئے اور یہ سوچ بیٹے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے

    لیکن جب بیٹے کی شادی ہوتی ہے اور وہ جہیز میں وہ سب نہیں لاتی جو اس نے سوچا ہوتا ہے تو پھر شروع ہو جاتی ہیں لڑائیاں۔ جس میں لڑکی جو اپنے ساتھ بہت سے خواب لے کے آتی ہے کہ کب میری شادی ہو گی اور کب میں نئے گھر میں نئے لوگوں کو اپنا بنائوں گی۔لیکن اس کی سوچ یہ نہیں ہوتی کہ جہیز نہ لانے کی وجہ سے اسے کن تکلیفوں سے گزرنا پڑے گا۔سسرال والے اسے حقیر کیڑے سے بھی کم سمجھتے ہیں۔

    اب اس لڑکی کی زندگی کو دیکھ کر بہت سے ماں باپ ڈر جاتے ہیں کہ اگر ہم نے بھی اپنی بیٹی کو کچھ نہ دیا تو ہماری بیٹی کی زندگی بھی اسی عذاب سے گزرے گی۔باپ اپنی بیٹی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے خود کو قرضے میں ڈبو لیتا ہے۔بہت سے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی جہیز بنانا شروع کر دیتے ہیں اور ساری زندگی ان کی چیزیں جمع کرنے میں گزر جاتی ہے۔ماں باپ ساری زندگی یہ ہی سوچتے رہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کی سسرال میں عزت ہو اسے کسی کا طعنہ سننے کو نہ ملے۔ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ ہم جتنا بیٹی کو دیں گے بیٹی کے سسرال والے اس کا اتنا خیال رکھیں گے،اس کے آگے پیچھے پھریں گے۔اس سب کی جگہ میں وہ ان لوگوں کی عادت خراب کر دیتے ہیں۔اسی طرح کچھ لوگ اتنے کمظرف ہوتے ہیں جو شادی میں جو جہیز ہوتا ہے وہ تو ایک طرف لیکن شادی کے کچھ دیر بعد اس کی ڈیماند بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔وہ لوگ کاروبار کا بہانہ بنا کر پیسے لینا شروع کر دیتے ہیں کہ اپنے باپ سے بولو میری مدد کریں مجھے کاروبار کرنا ہے اور اگر تم پیسے لائو گی تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے،تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی۔

    کبھی کار کی فرمائش کبھی موبائل کی اور کبھی گھر کی اور ضرورت کی چیزوں کی۔وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جو جہیز آیا ابھی تو اس کا قرضہ بھی نہیں اترا اور نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر انسان اپنے جسم کا حصہ انہیں دے رہا ہے کہ باقی اس کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔شادی کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ روز نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس کے بدلے میں لڑکی کے ماں باپ اس ڈر سے یہ ساری فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہماری بیٹی کو طلاق نہ ہو جائے یا اسے گھر سے نہ نکال دیں۔

    اس کا حل کیا ہے؟کیسے ہم اس جہیز جیسی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں؟ ہر انسان جب خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھے کہ لوگ کیسے کہ لوگ کیسے جہیز اکھٹا کرتے ہیں،کیسے قرض کے نیچے دب کر اپنی بیٹی کی کھوکھلی خوشیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔یہ ہم سب نے سوچنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنائیں کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے وہ کسی کی بیٹی اس وجہ سے نہ لے کہ اسے جہیز میں بہت کچھ ملنا ہے۔وہ یہ سوچے کہ لڑکی کی تربیت اچھی ہوئی ہے،وہ اچھے خاندان سے ہے،پڑھی لکھی ہے اور اسے یہ یقین ہو کہ زندگی کی ساری خوشیاں دینا اس کا فرض ہے نہ کہ اس کے ماں باپ کا۔

    ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا

    کتنی نامراد ہے یہ رسم جہیز بھی  

    twitter.com/Ambersaif3