صحت کے شعبے میں ہونے والی جدید سائنسی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ تمباکو نوشی، پان، گٹکا، نسوار اور اس طرح کی دیگر نشہ آور اشیا کینسر، دمہ اور ٹی بی جیسی کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مضر صحت ہونے کی بنا پر ان کا استعمال شرعی طور پر بھی ممنوع ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی کا واضح حکم ہے۔ "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے۔”(البقر، 2: 195)
وہ زہر جو فوری اثر کرے اور انسان کی جان لے اور وہ زہر جو رفتہ رفتہ اور بتدریج انسان کی جان لے جسے (Slow Poision) کہا جاتا ہے، دونوں کے بارے میں ایک ہی حکم ہے اور شرعی اعتبار سے دونوں حرام ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی کا شمار (Slow Poision) کے زمرے میں کیا جاسکتا ہے جو بتدریج انسان کی جان لیتا ہے۔ تمباکو نوشی کی ہلاکت خیزی سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر خود کو ہلاک کرے۔ ارشاد باری تعالی ہے، "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔” (النسا، 4: 29)
اللہ تعالی کے احکامات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں انسانی صحت کے لئے کسی بھی نقصان دہ چیز کا استعمال حرام ہے جبکہ تمباکو نوشی میں جسمانی، مالی اور نفسیاتی نقصان بھی ہے۔ماہرین کے مطابق تمباکو کے استعمال سے نکلنے والے دھوئیں میں تقریباسات ہزار کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جن میں سے ڈھائی سو کے قریب انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوسرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے دل کادورہ اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ تمباکو نوشی سے پندرہ مختلف اقسام کی بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پھیپھڑوں کا سرطان سرِ فہرست ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریبا نوے فی صد افراد تمباکو نوشی کرنے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں نوش ہوتے ہیں۔ ملک بھر کے اسپتالوں میں آنے والے چالیس فی صد مرد مریض تمباکو نوشی سے ہونے والے کیمسر کی مختلف اقسام کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں دوسرا سب سے زیاد ہ پایا جانے والا کینسر منہ کا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔اسی طرح تمباکو نوشی منہ، گلے، خوراک کی نالی، معدے، جگر، مثانے، لبلبے اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی تمام اقسام،بشمول سگریٹ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کھانا مثلا پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا سب کچھ ہی انسانی صحت کے لئے خطرناک ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے ضروری ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کی مہم جارحانہ طور پر چلائی جائے جس میں حکومت، عوام،ذرائع ابلاغ ،تاجربرادری، اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا بھرپور حصہ لیں۔ اسکول کے نصاب میں تمباکو نوشی کے نقصانات اور دیگر سماجی برائیوں کے بارے میں مضامین شامل کرنے چاہئیں تاکہ بچے بچپن ہی سے ان اہم معلومات سے آگاہ ہوں اور وہ اپنے والدین، رشتے داروں اور محلے داروں کو مجبور کرسکیں کہ وہ یہ عادات ترک کردیں۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے 19 فی صد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 32 فی صد اور خواتین میں تمباکو کے استعمال کی شرح 5.7فی صد بتائی جاتی ہے۔ مگر نوجوانی سے قبل ہی اکثر بچے تمباکو استعمال کرنے لگتے ہیں۔پاکستان میں سگریٹ کا استعمال معیشت اور صحت کے شعبے پر بوجھ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایسے بچے ہیں جو 13 سے 15سال کی عمر میں ہونے کے باوجود تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد الیکٹرک سگریٹ کا استعمال بھی کررہی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی کی عادت ہر برس ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد کی جانیں لے لیتی ہے جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج معالجے کی لاگت اور تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات سے ہونے والے نقصان کی صورت میں ملک کو کروڑوں روپے کا خسارہ ہر سال برداشت کرنا پرتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے عام افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے ان کے لئے سگریٹ کے دھوئیں سے بچنے کی کوئی محفوظ جگہ نہیں کیونکہ ملک کی کل آبادی کا 72.5فی صد حصہ یعنی 16.8ملین افراد جو بند عمارتوں اور کمروں میں کام کرتے ہیں، انہیں سگریٹ نوشی کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ کل آبادی کا 86فی صدحصہ یعنی 49.2ملین افراد ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں سگریٹ کے دھوئیں کا سامنا کرتے ہیں جبکہ 76.2فی صد افراد کو عوامی ٹرانسپورٹ میں سگریٹ کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہیں۔37.8 فی صدنوجوان(عمر 13تا15 برس)کو عوامی مقامات پر سگریٹ کے دھوئیں سے خطرات لاحق ہیں جبکہ 21فی صدنوجوان اپنے گھروں میں غیر فعال سگریٹ نوشی کا سامنا کرتے ہیں۔تمباکو نوشی انسانی صحت کے لئے مہلک ہے اور اس کے عادی افراد میں سے کم از کم نصف موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔پاکستان میں ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد ہر برس تمباکو سے متعلق امراض کے سبب انتقال کرجاتے ہیں جو کل اموات کا نو فی صد ہے۔ غیر متعدی بیماریاں جن میں کینسر، عملِ تنفس کی شدیدبیماریاں اور دل کی بیماریاں بھی ذیادہ تر تمباکو کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ تمباکو نوشی سے معاشرے پر بہت ذیادہ مالی بوجھ بھی پڑتا ہے ترقی پذیر اور زیادہ گنجان آباد ممالک میں بہت زیادہ معاشی مواقع ضائع ہوجاتے ہیں کیوں کہ تمباکو سے متعلق اموات عمر کے فائدہ مند سالوں یعنی 30 سے 69 برس کے دوران واقع ہوتی ہیں۔پاکستان میں ایک سگریٹ نوش روزانہ اوسط قومی آمدن کا3.7 فی صددس سستے ترین سگریٹ کی خریداری پرصرف کردیتا ہے اور یوں اربوں روپے ہر سال دھوئیں کی نظر ہو جاتے ہیں۔ جبکہ غریب افراد اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ تمباکو نوشی پر ضائع کر دیتے ہیں یعنی وہ بنیادی انسانی ضروریات،مثلا خوراک،رہائش،تعلیم اور صحت کے بجائے یہ رقم تمباکوپر خرچ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے خاندان کی غربت میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، ایک جانب قیمتی وسائل تمباکو نوشی کی وجہ سے ضائع ہوتے ہیں تو دوسری جانب تمباکو استعمال کرنے والے بیماریوں کے زیادہ خطرات کی زد میں رہتے ہیں، سرطان، امراض قلب،سانس کے امراض یا تمباکو نوشی سے متعلق دیگر امراض کی وجہ سے وقت سے پہلے ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ مرنے والے تمباکو نوش افراد کے متبادل کے طور پر سگریٹ اور دوسری نشہ آور اشیاء بیچنے والی کمپنیوں اور افراد کا ٹارگٹ نوجوان نسل بنتی ہے تاکہ ذیادہ عرصے تک کے لئے انہیں (گاہک) میسر ہوں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق روزانہ 15 برس سے کم عمرکے 1200بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔ہمیں یہ یاد رکھناچاہئے کہ انسانوں کے لئے تمباکو کسی بھی وجہ سے کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔اس کی کوئی غذائی اہمیت ہے اور نہ ہی یہ اپنے استعمال کرنے والے کو کوئی صحت بخش فوائد فراہم کرتا ہے۔یہ ان کے اضطراب ،دبائو،غربت اور غذائیت کی کمی میں اضافہ کرکے صرف اور صرف ان کے مسائل اور مشکلات بڑھاتا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ملک کی معیشت اور ماحول کو تباہ کرتا ہے۔اگرہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان ہی ہماری ترقی کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو حکومت کو ملک میں تمباکو نوشی کا رجحان کم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔اس ضمن میں بچوں کو متبادل گاہک بننے سے بچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اگر یہ کام موثر انداز میں کرلیا جائے تو اگلے دس تاپندرہ برس میں ملک میں کوئی بھی تمباکو کا دھواں اڑانے والا نہیں ہوگا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو پربھاری ٹیکس لگانا تمباکو نوشی کے رجحان پر قابو پانے میں سب سے زیادہ موثرعمل ثابت ہواہے۔دیگر ترقی پذیر ممالک کے برعکس پاکستان میں اب بھی دنیا بھر کے مقابلے میں تمباکو کی مصنوعات سستی ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کا استعمال کم کرنے کے لئے حکومت کو ہرسال اس پرٹیکس میں کم از کم تیس فی صد تک اضافہ کرنا چاہئے۔ایک اور مطالعہ تجویز کرتا ہے کہ سگریٹ کے نرخ میں تیس فی صد کا اضافہ اس کے استعمال میں 33 فی صد تک کمی لاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ایک برس میں اڑتالیس ارب روپے کی بچت ہوسکے گی۔یہ ہمارے لئے فیصلے کی گھڑی ہے کہ کیاہم اپنے لوگوں کو اسی طرح مرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں،اپنی معیشت پر ہر برس اربوں روپے کا علاج معالجے کا بوجھ ڈالتے رہنا چاہتے ہیں، اپنے بچوں کو اسی طرح یتیم اور بے آسرا ہوتے اور ان کا مستقبل تاریک ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اورکیا ملک کی پیداواری صلاحیت اسی طرح تباہ ہونے دیں گے؟آج ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے کی اشد ضرورت ہے۔
Category: بلاگ
-

تمباکو نوشی،کھلے عام دستیاب سستی موت، نوجوان نسل کو بچانے کے لئے اقدامات ناگزیر ورنہ نتائج بھیانک تحریر: محمد مستنصر
-

پاکستان تحریک انصاف۔۔.۔پیوستہ رہ شجر سے۔۔ امید بہار رکھ! تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ
تاریخ عالم کی ورق گردانی کی جائے تو عزم و استقلال کی جتنی ولولہ انگیز داستانیں آپ کو ملیں گی ان کے پس منظر میں کوئ نہ کوئ نظریہ ہی کارفرما ہی نظر آئیگا کیونکہ نظریہ ہی وہ قوت ہے جو کسی تہزیب کو جنم دیتا ہے نظریہ ہی کسی انقلاب کے لئے تحریک کی حیثیت رکھتا ہے۔اور نظریہ ہی کسی فرد یا قوت کے فکر کے انداز ،دستور حیات اور نظام زندگی کا ترجمان ہوتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا قیام بھی ایک نظریہ کا ہی مرہون منت ہے۔جو کرپشن کے خاتمے اور یکساں انصاف پر قائم ہے۔یہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے جس کی بنیاد کسی نظریہ پر قائم ہے اور نظریہ بھی ایسا جو اسٹیٹس کو کے خاتمے میں سرکرداں نظر آئے۔تحریک انصاف کی تاریخ پچیس سالہ جدوجہد پر محیط ہے ان پچیس برسوں میں پارٹی نے بڑے اتار چڑھاو دیکھے لیکن مرد آہن جناب عمران خان کے عزم و حوصلے کو سلام ہے جو تمام تر مسائل ،منفی پروپیگنڈہ اور مبینہ سازشوں کے باوجود آہستہ آہستہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ایک طویل جہد مسلسل کے بعد 2018کےقومی انتخابات میں اس جماعت نے واضع کامیابی حاصل کی۔تحریک انصاف کی حکومت میں آنے کے ابتدائ ایام تو بہت ہی کٹھن رہے۔جب خان صاحب نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک معاشی طور پر ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، وزیر اعظم عمران خان نے بہترین سفارت کاری کے زریعہ دوست ممالک کی حمایت حاصل کی اور بگڑے ہوئےخارجہ تعلقات کو بہتربنانے میں کامیاب ہوئے۔۔ سعودی عرب، قطر اور چین کی جانب سے معاشی امداد کا حصول ممکن بنایا اور ملک کو ڑیفالٹ ہونے سے بچایا۔۔
حکومتی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے ساتھ ساتھ فاٹا کا انضمام بھی انکی تاریخی کامیابی ہے اس کے علاوہ ان کی سادگی اور کفایت شعاری مہم نے حکومت کو ایک نئ جہت دی ، کرپشن پر کریک ڈاؤن کیا گو کہ قانونی موشگافیوں میں وہ نتائج نہیں مل پائے جس طرح کےانصاف کی توقع کی جارہی تھی،صحت انصاف کارڈ، غربت کے خاتمے کے پروگرام، ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے شجر کاری مہم،ٹیکس نظام میں اصلاحات اور کئی دیگر کامیابیابیاں ہیں جو نو زائدہ حکومت کے حصے میں آئیں۔ اس کے علاوہ کرتارپور راہداری کو کھولنا اور وزیر اعظم کی جانب سے غربت کے خاتمے کے منصوبے ’احساس‘ اور بے گھر افراد کے لیے ’پناہ گاہ‘ اور کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت بلا سود قرضوں کی تقسیم ۔یکساں تعلیمی نصاب جیسے پروگرام کے انعقاد بھی قابل ستائش رہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے تین سالہ دور میں ہر ہر موقع پر اس عزم کااعادہ کیا کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گےاور اس کی کوشش بھی کر رہےہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اچانک آنے والی کورونا وبا کے نے پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا جس کے باعث دنیا کو نہ صرف بے روزگاری اور غربت میں اضافہ دیکھنے کو ملا بلکہ عوام کو مہنگائی کے طوفان کا بھی سامنا رہا اور پاکستان بھی اس مشکل وقت سے گزرا لیکن پاکستان کا شمار ان چند خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں بہترین حکومتی پالیسیوں نے اور اللہ کے فضل و کرم سے یہ وبا نہ صرف کم رہی بلکہ اس پر کافی حد تک قابو بھی پا لیا گیا اور حکومت کی کامیاب پالیسی کو نہ صرف پوری دنیا نےسراہا بلکہ عالمی ادارہ صحت نے تو دنیا کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان سے سیکھے کہ اس نے کس طرح کرونا کا مقابلہ کیا اور اپنی معیشت بھی بچائ۔
گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے تین سالہ کارکردگی پر ایک رنگارنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا اس تقریب میں خان صاحب کا کہنا تھاکہ
” تبدیلی کا راستہ انتہائی کٹھن ہے، کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ ہے نہ کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن سکتا ہے، حکومت ملی تو ہماری ٹیم ناتجربہ کار تھی، ملک دیوالیہ ہونے والا تھا، آج زرمبادلہ کے ذخائر 29 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، 4700 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جارہا ہے، سیمنٹ کی فروخت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، موٹر سائیکلیں، گاڑیاں اور ٹریکٹر ریکارڈ تعداد میں بیچی گئیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خوشحال ہو رہے ہیں‘‘۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے تین سالہ دور کی کامیابی کے اعداد و شمار کچھ بھی ہوں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے جس انداز میں امریکہ کو فوجی اڈہ نہ دینے کا اعلان کیا اور افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے معاملہ پر جو جراءت مندانہ فیصلے کئے انہیں قوم نے بہت پسند کیا اور جس طرح آزاد کشمیر انتخابات میں حزب مخالف کے منفی پروپیگنڈہ کو اپنے ایک ہی خطاب میں سبو تاژ کیا اور بعد ازاں وہاں ایک بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی جس کے باعث حزب اختلاف کی جانب سے چلائ جانے والی تمام تر حکومت مخالف تحریکوں پر پانی پھر گیا۔
دوستوں تحریک انصاف کی حکومت کی تین سالہ کاکردگی کا نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن اس حکومت نے ہمیں ایک ایسی باعزت اور قابل فخرقوم بنا دیا ہے جو کسی بھی عالمی طاقت سے نہ مرعوب ہو ر ہی ہے اور نہ ہی اپنی سالمیت پر آنچ آنے دے رہی ہے خود عمران خان کا کہنا ہے کہ جس کے پاس لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ کی طاقت ہو اس قوم کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں سوائے اللہ کے۔
اسٹیٹس کو کے اس نظام میں جہاں ہر سطح پر کرپٹ اورماہر ترین دھندے باز سیاست دان ہوں۔اور تیس سال سے بٹھائے گئےان کے آلہ کار خواہ وہ ببیوروکریسی میں ہوں یا کسی اور ادارے میں اور اس کے علاوہ محلاتی سازشیں بھی عروج پر ہوں تو ایسی صورتحال میں حکومت کاتین سال پورے کر لینا بھی کسی معجزے سے کم نہی۔@Azizsiddiqui100
-

سگریٹ نوشی کے نقصانات تحریر سید محمد مدنی
میں اپنی بات ہی سیدھی یہاں سے شروع کروں گا کہ سگریٹ کے ڈبیہ پر لکھا ہوتا ہے کہ خبردار سگریٹ نوشی نقصان دہ ہے مگر پی بھی دبا کے جاتی ہے اور تو اور ہم اکثر اپنے بچوں سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بیٹا زرا فلاں کی دکان سے جا کر سگریٹ تو لے آؤ اور یہیں سے ہم اپنی جان کی تباہی تو کر ہی رہے ہوتے ہیں ساتھ بچے کو سگریٹ لینے بھیج کر اسے بھی یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ تم بھی اسے استعمال کرو.
اب سوال یہ پیدا ہوتا کے کہ بچہ کس وقت اور کیسے میں سگریٹ استعمال کرے گا تو محترم قارئین بچے کو کبھی بھی موقع مل سکتا ہے جبکہ میں جیسا کہ آپ کو اپنے سابقہ کالمز میں بتا چکا ہوں کہ باہر رہ کر آیا تو وہاں بچوں کے ہاتھ سگریٹ بھیجنا ہے ہی ممنوع سختی ہے اور ہم یہاں دن میں نا جانے کتنی بار دکان سے بچوں سے سگریٹ منگواتے ہیں.
سگریٹ پہلی بار پینے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کے آپ سگریٹ کے بغیر نہیں رہ سکیں گے کہنے کا مطلب ہے کہ ابتداء ہی انسانی جان کی تباہی کا انجام بن جاتی ہے لوگ آپ کو شروع شروع میں زور دیتے ہیں کہ یار پیو کچھ نہیں ہوتا اور آپ وہ سگریٹ پہلی بار پیتے ہیں پھر دوسری بار اور پھر اس کی لت پڑ جانے کے بعد اس سے جان چھڑانا نا ممکن ہو جاتا ہے.
سگریٹ نوشی سے متعلق ہمارے ہاں کئی کیمپینگ چلیں بہت کچھ ہؤا مگر بات ہے کے ترک کردینا جو مشکل تو ضرور ہے مگر نامکن نہیں.
اس کو ترک کرنے کے لئے آپ کی نفسیات اور اپنی طاقت چاہئے ہوتی ہے اور دنیا میں ضی ایسے افرد بھی ہیں جنھوں نے بہت مشکل کے بعد سگریٹ نوشی چھوڑی اور پھر ہاتھ نہیں لگایا.
سگریٹ نوشی آپ کے پھیپڑے کو پھیپھڑوں کا کینسر بناتی ہے غرض جسم کو کھوکھلا کرتی ہے اور خطرناک بات یہ ہے کہ اس کا معلوم آپ کو اس وقت چلتا ہے جب آپ اس کے بغیر رہ نہیں سکتے اور یہ اندر ہی اندر آپ جو جلاتی رہتی ہے.
میں نے کئی ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ سگریٹ کچھ نہیں کہتی اگر کچھ نہیں کہتی تو پھر چھوٹے بچے کو بھی کیوں نہیں پلا دیتے اس پر انکار کیوں کرتے ہیں.
جب سگریٹ جلتا ہے تو کینسر پلتا ہے جیسی کئی مہم بھی چلائی گئیں جس کا مقصد خاص طور پر نوجوانوں کو اس جان لیوا عادت سے دور رکھنا تھا.
سگریٹ دھوئیں میں کوئی سات ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں ڈھائی سو کے قریب انسانی صحت کیلئے نہایت نقصان دہ ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہیں جو کینسر کی وجہ بنتے ہیں اس کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوتی جاتی ہیں اور پھر ہارٹ اٹیک کا خطرہ رہتا ہے اس کے علاوہ اس دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس بھی ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے تمباکو نوشی سے تقریباً ١٥ قسم کی مختلف قسم کی بیماریاں بھی پھیلتی ہیں.
پاکستان میں زیادہ تر کینسر منہ کا کینسر ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے یہ منہ، گلا، خوراک کی نالی، معدہ، جگر، مثانہ اور گردے کے کینسرکا باعث بھی بن سکتی ہے.
ہم اپنی زندگی جو کے ﷲ کی ایک نعمت ہے کے پیچھے خود سے پڑے ہیں آئیے اس سے پیار کریں اور سگریٹ نوشی ہمیشہ کے لئے ترک کریں.
Twitter Id @ M1Pak
-

ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت تحریر: زاہد کبدانی
ٹیکنالوجی پر اس تحریک میں ، ہم اس بات پر بات کرنے جا رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کیا ہے ، اس کے استعمال کیا ہیں ، اور یہ بھی کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے؟ سب سے پہلے ، ٹیکنالوجی سے مراد مشینری بنانے ، مانیٹر کرنے اور ڈیزائن کرنے کے لیے تکنیکی اور سائنسی علم کا استعمال ہے۔ نیز ، ٹیکنالوجی انسانوں کی مدد کرنے والے دوسرے سامان بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ٹیکنالوجی پر مضمون – ایک فائدہ یا فائدہ؟
ماہرین برسوں سے اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ، ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایک طویل راستہ طے کیا لیکن اس کے منفی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کئی سالوں میں تکنیکی ترقی نے آلودگی میں شدید اضافہ کیا ہے۔ نیز ، آلودگی صحت کے بہت سے مسائل کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، اس نے لوگوں کو جوڑنے کے بجائے معاشرے سے کاٹ دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر ، اس نے مزدور طبقے سے بہت سی نوکریاں چھین لی ہیں۔
چونکہ وہ مکمل طور پر مختلف شعبے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ نیز ، یہ سائنس کی شراکت کی وجہ سے ہے ہم نئی جدت پیدا کر سکتے ہیں اور نئے تکنیکی اوزار بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، لیبارٹریوں میں کی جانے والی تحقیق ٹیکنالوجیز کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری طرف ، ٹیکنالوجی سائنس کے ایجنڈے کو بڑھا دیتی ہے۔
ہماری زندگی کا اہم حصہ۔
باقاعدگی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ نیز ، نئی ٹیکنالوجیز مارکیٹ میں طوفان برپا کر رہی ہیں اور لوگ وقت کے ساتھ ان کی عادت ڈال رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ، تکنیکی ترقی قوموں کی ترقی اور ترقی کا باعث بنی ہے۔
ٹیکنالوجی کا منفی پہلو۔
اگرچہ ٹیکنالوجی ایک اچھی چیز ہے ، ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بھی دو پہلو ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ یہاں ٹیکنالوجی کے کچھ منفی پہلو ہیں جن پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں۔
آلودگی۔
نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ صنعت کاری بڑھتی ہے جو ہوا ، پانی ، مٹی اور شور جیسے بہت سے آلودگیوں کو جنم دیتی ہے۔ نیز ، وہ جانوروں ، پرندوں اور انسانوں میں صحت سے متعلق کئی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
قدرتی وسائل کا ختم ہونا۔
نئی ٹیکنالوجی کے لیے نئے وسائل درکار ہوتے ہیں جس کے لیے توازن بگڑ جاتا ہے۔ بالآخر ، یہ قدرتی وسائل کے زیادہ استحصال کا باعث بنے گا جو بالآخر فطرت کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔
بے روزگاری۔
ایک مشین بہت سے کارکنوں کی جگہ لے سکتی ہے۔ نیز ، مشینیں بغیر کسی رکے کئی گھنٹوں یا دنوں تک مسلسل رفتار سے کام کر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے ، بہت سے مزدوروں نے اپنی نوکری کھو دی جو بالآخر بے روزگاری میں اضافہ کرتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی اقسام۔
عام طور پر ، ہم ٹیکنالوجی کا ایک ہی پیمانے پر فیصلہ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ، ٹیکنالوجی مختلف اقسام میں تقسیم ہے۔ اس میں انفارمیشن ، تخلیقی ، صنعتی، تخلیقی اور بھی بہت کچھ شامل ہے۔ آئیے ان ٹیکنالوجیز پر مختصر بحث کریں۔
صنعتی ٹیکنالوجی۔
یہ ٹیکنالوجی مشینوں کی تیاری کے لیے انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کو منظم کرتی ہے۔ نیز ، یہ پیداواری عمل کو آسان اور آسان بنا دیتا ہے۔
تخلیقی ٹیکنالوجی۔
اس عمل میں آرٹ ، اشتہارات اور پروڈکٹ ڈیزائن شامل ہیں جو سافٹ وئیر کی مدد سے بنائے جاتے ہیں۔ نیز ، اس میں تھری ڈی پرنٹرز ، ورچوئل رئیلٹی ، کمپیوٹر گرافکس اور دیگر پہننے کے قابل ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی
اس ٹیکنالوجی میں معلومات بھیجنے ، وصول کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر کا استعمال شامل ہے۔ انٹرنیٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بہترین مثال ہے۔
آج ہر وہ چیز جو ہم اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں وہ ٹیکنالوجی کا تحفہ ہے اور جس کے بغیر ہم اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نیز ، ہم ان حقائق سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس سے ہمارے اردگرد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ٹیکنالوجی پر مضمون پر عمومی سوالات
Q.1 انفارمیشن ٹیکنالوجی کیا ہے؟
یہ ٹیکنالوجی کی ایک شکل ہے جو مطالعے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر سسٹم استعمال کرتی ہے۔ نیز ، وہ ڈیٹا بھیجتے ، بازیافت کرتے اور محفوظ کرتے ہیں۔
Q.2 کیا ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے؟
نہیں ، ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں جب تک کہ اس کا صحیح استعمال نہ ہو۔ لیکن ، ٹیکنالوجی کا
غلط استعمال نقصان دہ اور مہلک ہو سکتا ہے۔
@Z_Kubdani
-

آلو کی فتح یا لاہوریوں کی شکست؟ تحریر ؛ علی خان
جب تک سموسے میں آلو رہے گا پٹنہ بہار میں لالو رہے گا”،،، بھارتی ریاست بہار میں لگایا جانے والا یہ نعرہ کسی زمانے میں گویا یقین بن گیا تھا،،، پھر حالات بدلے اور بہار سے لالو پرساد نکل گئے،،، اب سموسے میں آلو کی لازم موجودگی بھی خطرے میں پڑتی نظر آرہی ہے،،، چکن سموسہ، قیمہ سموسہ اور سبزی سموسہ تو پرانی باتیں ہوگئیں اب تو نوڈلز سموسہ اور مشروم سموسمہ جیسی تراکیب نے آلو کو چیلنج کردیا ہے،،، لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں کیوں کہ آلو نے ایک اور ڈش میں اپنی جگہ پکی کرلی ہے اور وہ ہے بریانی
یہ یقین مجھے اس وقت ہوا جب لاہور میں جگہ جگہ کراچی کے نام سے منسوب بریانی شاپس کھلیں اور آلو والی بریانی مقبولیت حاصل کرگئی،،، اس سے قبل کھانوں پر لاہور اور کراچی کی بحث ایسی ہی تھی جیسی اردو کی گرامر بارے دلی ، دکن اور لکھنؤ کی،،، لاہور والوں کو بریانی میں آلو کی موجودگی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ،،، کراچی کی بریانی کو پلاو کا نام دیا جاتا تھا تو کراچی والے لاہوریوں کو ذائقوں سے ناآشنائی کا طعنہ دینے سے نہیں چوکتے تھے،،، کراچی میں پودینے کی چٹنی آج بھی سموسے کا لازم جزو ہے تو دوسری جانب لاہور میں چنے اور میٹھی چٹنی کے بغیر سموسے کو سموسہ نہیں مانا جاتا ،،، لیکن اب شاید لاہور یوں کو کراچی کےپکوان پسند آنےلگے ہیں،،، صرف آلو والی بریانی ہی نہیں ، بن کباب اور بڑا پاؤ جیسے کھابے بھی لاہور میں نظر آرہے ہیں،،، تو کیا واقعی لاہوریوں کو کھانوں میں کراچی والوں سے مات دے ڈالی ہے یا یہ کوئی "ہور گل اے”
کہتے ہیں شوہر کے دل کا راستہ معدے سے ہوکر جاتا ہے،،، یہ کہاوت لاہوریوں میں مرد، عورت، بیوی، شوہر ، شادی شدہ کنوارے سب پر لاگو ہوتی ہے،،، اچھے کھانے کے لیے لاہور والوں کو مریخ کا پتا بھی دیا جائے تو شاید اسی چکر میں راکٹ بھی بنا ڈالیں،،، کچھ لاہوری دوستوں کا ٹائم ٹیبل کھانے کے حساب سے سیٹ ہوتا ہے،،، چائے رس کھا کر کام پر جانا ہے،،، 10 بجے پائے کلچے کھانے ہیں اور لسی پینی ہے،،، 12 بجے دوپہر کا کھانا کھانا ہے،،، 3 بجے سہ پہر چائے پینی ہے،،، 5 بجے گھر آکر فروٹ چاٹ دہی بھلے کھالینے ہیں،،، 7 بجے کھانا کھانا ہے،،، 8 بجے دوستوں کے ساتھ میٹھا کھا کر یا چائے پی کر 9 بجے سو جانا تاکہ اگلی صبح جلدی اٹھ کر چائے ناشتہ ہوسکے
لاہوریوں کا یہی مزاج شاید کراچی کے کھانوں کو یہاں مقبول کررہا ہے اور یہ صرف کراچی ہی نہیں ہر شہر کے کھابے ہیں جو آپکو لاہور میں مقبول ہوتے نظر آئیں گے،،، قصوری فالودہ، تندوری چائے ، شنواری کڑاہی جیسے بے تحاشہ کھانے ہیں جنہیں لاہوریوں نے نہ صرف چکھا بلکہ پوری طرح اپنا لیا،،، لیکن کچھ خانہ خرابوں نے اسکا ناجائز فائدہ اٹھایا اور زیادہ کمائی کے لالچ میں کہیں ملاوٹ تو کہیں گوشت ہی بدل ڈالا ،،، انہی کم بختوں کی وجہ سے سار سال گوشت خوری کرنےوالے لاہور والوں کو صرف عید پر بکرے اور گائے کا گوشت کھانے کے طعنے ملتے رہے،،، اب اگر ہم سارا قصور نری بدنامی کو دیں تو بھی غلط ہوگا کیونکہ لاہوریوں نے اصل کے بعد نقل کی بھی خوب پذیرائی کی اور ملتے جلتے ناموں والے جعل سازوں کا کام بھی چمکا دیا،،، آج اسی وجہ سے بھیا کے نام سے بیسوں دکانیں ملتی ہیں لیکن کباب میں ذائقہ غائب ہوتا ہے،،، تندوری چائے کے نام پر ہر گلی محلے میں چائے خانے کھل گئے لیکن ذائقے کا یہاں بھی فقدان نظر آتا ہے،،، تو یہ لاہوریوں کا بڑا دل ہے جو ہر کھابے کو بھی اپنا کر دیسی کردیتے ہیں اس کو انکی مات قرار دینا شاید انصاف نہیں ،،، خیر یہ بحث تو چلتی رہے گی آئیے سب مل کر آلو کو بریانی میں جگہ پکی ہونے پر مبارکباد دیں،،، تو ” جب تک کھابے چالو رہیں گے۔۔۔ بریانی میں لازم آلو رہیں گے@hidesidewithak
-
تو ہمارا کیا انجام ہوگا؟ تحریر : سید مصدق شاہ
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے گی جسے روشن خدا کرے
ہم نے بزرگوں سے ایک واقعہ سن رکھا تھا کہ ایک ملک کے بادشاہ نے اپنی رعایا پروری، انصاف، عقلمندی اور ایمانداری سے اپنی رعایا کا دل جیت رکھا تھا مگر جب عالم پناہ بوڑھے ہو گئے تو بڑھاپے کے سبب ان کی صحت جواب دے گئی عوام بہت فکر مند رہنے لگے سارے ملک میں یہ بحث چھڑ گئی اس نیک رحمدل اور عقلمند بادشاہ کے بعد ان کا جانشین کون ہوگا؟
کیوں کہ ان کے بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی بادشاہ حضور بھی اپنی بیماری کی صعوبتوں سے مایوس ہوچکے تھے انھوں نے اپنے لئے شاہی قبرستان میں قبر بھی کھدوا رکھی تھی ان کے وزراء اور امراء کی بے چینی دیکھ کر بادشاہ نے کافی غوروفکر کے بعد یہ اعلان کیا کہ ویسے ہماری سلطنت میں بہت سارے قابل ہستیاں ہیں جو اس منصب کے لئے موزوں ہیں اگر جانشین کا تقرر کا اعلان کرے تو بہت سارے امیدوار اپنی نامزدگی داخل کریں گے پھر ان میں کسی ایک کا انتخاب کرنا مشکل ہوجائے گا لہذا انتخاب کے مسئلہ کو حل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ امیدواروں پر ایک شرط مقرر کی جائے جو کوئی یہ شرط پوری کریگا اسے بادشاہ کا جانشین مقرر کر دیا جائے گا
بادشاہ کا یہ اعلان سننا تھا کہ عوام و خاص میں یہ تجسس پیدا ہو گیا کہ وہ کیا شرط ہے جسے پورا کرنے والے کو اس منصب کا حقدار بنایا جائے گا ایک دن بادشاہ نے اس شرط کا اعلان کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔
شرط یہ تھی کہ جو بھی شخص بادشاہ کے لیے کھودی گئی قبر میں ایک رات سو کر ائے گا اسے عالم پناہ اپنا جانشین مقرر کریں گے
اس شرط کو سن کر سبھی امیدواروں کے پسینے چھوٹ گئے سب پر سکتا طاری ہو گیا سبھی وزراء اور امراء پرچہ امیدواری داخل کرنے سے کترانے لگے
جب یہ بادشاہ کے جانشین کے انتخاب اور بادشاہ کے شرط والی خبر ایک نہایت ہی مفلس اور غریب شخص تک پہنچی تو وہ سوچنے لگا "ویسے میری ساری زندگی مفلسی میں بسر ہو گئے اب بادشاہ بننے کا ایک سنہری موقع ہاتھ آیا وہ کیوں نا میں اس سے فائدہ اٹھاؤ؟
قبر میں سونے کے ایک رات ہی کی تو بات ہے”۔
ویسے سب اس شرط سے اس لیے خوفزدہ تھے کہ جب قبر میں وہ جائیں گے تو دو فرشتے سوال جواب کے لئے حاضر ہونگے اور ان کی ساری زندگی کی نیکیوں اور گناہوں کا حساب لیا جائے گا اور انہوں نے دنیا میں دولت کو جمع کرنے کے لئے جائز و ناجائز طریقوں سے جو کچھ حلال اورحرام کی کمائی کی ہے اس کی پائی پائی کا ان کو جواب دینا پڑے گا
اس غریب نے سوچا کہ ” میں تو ایک مفلس غریب انسان ہوں مجھ سے تو کوئی سوال جواب کی نوبت نہیں آئے گی میرے پاس تو مخض ایک مریل گدھے کے سوا کچھ بھی نہیں تو فرشتے کیا پوچھ لیں گے؟
چلو ایک رات ہی کی تو بات ہے جیسے تیسے کہیں بھی گزر ہی جائے گی”
وہ اس امید پر حوصلہ پاکر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور بادشاہ کی شرط پوری کرنے کا اپنا ارادہ ظاہر کیا تو بادشاہیوں کو حکم دیا کہ انہیں بادشاہ کے لیے کھودی گئی خالی قبر میں ایک رات سونے کے لئے لے جائیں
اور جب یہ بادشاہ سلامت کی شرط پوری کر لیں تو انہیں دربار میں حاضر کیا جائے تاکہ انہیں بادشاہ کا جانشین مقرر کیا جاسکے
سارا ملک اس غریب کی جرات پر حیران تھا الغرض اسے قبرستان لے جایا گیا اور بادشاہ کے لیے کھودی گئی اس خالی قبر میں سلا دیا اوپر تختے جوڑ دیے گئے اور ہوا کے لیے تھوڑی جگہ چھوڑ کر باقی قبر کو بند کر دیا گیا
جیسے ہی سپاہی اس غریب کو دفن کرکے قبر سے چالیس قدم دور نکلے قبر کا منظر ہی بدل گیا حسب دستور قبر میں دو فرشتے جرح کرنے کے لئے حاضر ہو گئے انہوں نے پہلے اس سے کچھ دینی و معلوماتی سوالات پوچھے وہ ان سب سوالات کے جوابات دینے میں کامیاب رہا تو فرشتے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے وہ انہیں ایسے گھورنے لگا کہ گویا پوچھ رہا ہے کہ اب کیا کر لو گے؟
میں نے تمہارے سارے سوالات کے جوابات تو دے دیے چلو اس اکیلے نکٹھو گدھے کے بارے میں کیا پوچھ لوگے؟ پوچھو پوچھو
جب فرشتوں نے اس سے اس کے گدھے کے متعلق سوالات کا آغاز کیا تو اس کی خلاف توقع اتنے سوال پوچھے گئے کہ وہ جواب دیتے دیتے تھک کر چور ہو گیا اس کی زندگی میں اب تک جو اس سے غلطی ہوئی ان میں سارے غلطیاں اس کے گدھے کے ساتھ اس کے برتاؤ اور اس کے ساتھ کی گئی بدسلوکی کو لے کر ہوئی تھی جب سے اس نے اس گدھے کو اپنے گھر لایا تب سے اب تک اس سے جو غلطیاں ہوئیں ان میں سے ایک ایک غلطی پر اسے سو سو کوڑے لگائے گئے اس طرح صبح تک ہزاروں کوڑے اس کو کھانے پڑے اس نے کبھی خواب و خیال میں بھی یہ سوچا نہیں تھا کہ مخض ایک گدھے کو رکھنے پر اسے اتنے سارے سوالات کے جوابات دینے پڑیں گے اور جن کی پاداش میں اسے اتنے سارے کوڑے لگائے جائیں گے جن سے وہ ادھ مرا ہوگیا وہ گدھے کو رکھنے اور اس کے ساتھ کی گئی غلطیوں اور ظلم کو جب فرشتوں نے ایک ایک کرکے گنایا تو اپنے لاپرواہیوں پر گڑگڑا کر توبہ کرنے لگا
صبح جب فرشتے واپس چلے گئے تو وہ سوچنے لگا کہ محض ایک گدھے کو رکھنے پر اس کی یہ نوبت ہوئی تو ملک کا بادشاہ بن جانے پر اس پر ساری رعایا کی ذمہ داری واجب ہوگی تب اسے فرشتے اور کتنے لاکھ سوال کرینگے؟
یہ سوچ کر وہ اتنا خوفزدہ ہوا کہ بادشاہت سے توبہ کرنے لگا حکم کے مطابق صبح بادشاہ کے سپاہی اسے قبر سے نکال کر دربار میں پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو قبر کو جیسے ہی انہوں نے کھولا وہ غریب قبر سے نکل کر جنگل کی طرف دوڑنے لگا
سب تعجب سے اسے دیکھنے لگے سپاہی اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑ لگانے لگے تو وہ دوڑتے دوڑتے کہہ رہا تھا :”معاف کیجیے بادشاہت تو کیا مجھے اب یہ گدھے کا بچہ بھی نہیں چاہیے”
پیارے دوستوں !
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہر انسان مرنے کے بعد قبر میں فرشتوں کے سوال جواب کے منظر کو یاد کرے گا تو زندگی کا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھے گا اس کے سامنے بادشاہت بھی رکھ دیں تو اس سوال جواب اور قبر کے عذاب سے ڈر کر اسے بھی قبول نہیں کرے گا
تو پھر چھوٹے چھوٹے فائدے کے مقابل اتنا بڑا رسک کیوں مول لینا ہے؟
مگر آج قبر کے عذاب کو ہم بھلا بیٹھے ہیں قدم قدم پر ہم سے غلطیاں سرزد ہورہی ہیں تو ہمارا انجام کیا ہوگا؟
Tweeter id Handel @SyedmusaddiqSy4
-

قائد کا پاکستان اور ہمارا رویہ تحریر چوہدری عطا محمد
جس جوش اور جزبہ کے ساتھ ہم ہر سال 25دسمبر کو بانی پاکستان ملت کے پاسبان باباۓ قوم قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کا یوم پیدائش مناتے ہیں کبھی ہم نے یہ بھی سوچا ہے کہہ باباۓ قوم کے جو افکار تھے ان پر کتنا عمل کرتے ہیں ان افکار کو کس حد تک بحیثیت قوم اپناۓ ہوۓ ہیں
زرا غور کریں تاریخ پر باباۓ قوم نے قیام پاکستان کے لئے جس ہمت و بہادری کے ساتھ مقدمہ لڑا اقوام عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی تاریخ کے اوراق سے ہمیں ملتا ہے کہہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوۓ باباۓ قوم نے کہا کہہ آپ کا تعلق کسی بھی نسل یا مزئیب سے ہو سکتا ہے یہ آپ سب کا زاتی معاملہ ہے اس سے ریاست یعنی اسلامی جہموریہ پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے باباۓ قوم نے فرمایا میری بات کا یقین کریں کہہ پاکستان اس سے پہلے کا آزاد ہو کا ہوتا اگر ہم نسل فرقہ رنگ اقلیت کے چکر میں نہ پڑتے تو ہمیں اپنی اس تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا
اسلامی جہموریہ پاکستان یعنی ریاست آپ کو مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کے مکمل حقوق دینے کی پابند ہے ساتھ انہوں نے کہا کہہ پاکستان کے تمام۔ ہریوں کو مکمل آزادی کے ساتھ اپنے مزائیب اور عقیدوں کے ساتھ اپنی عبادت گاہوں میں جاکر اپنی اپنی عبادات کرنے کی بھی مکمل آزادی ہے
باباۓ قوم نے کہا تھا کہہ ریاست اسلامی جہموریہ پاکستان ایک نئی جہموری ریاست ہوگی اور اس میں سب سے زیادہ طاقت کا منبہ عوام ہوگی اگر ہم باباۓ قوم کی اس وقت کی تقاریر اور افکار پڑھ اور سن لیں سمجھ لیں تو یقین جانیں آج بھی اسلامی جہموریہ پاکستان کو ترقی کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی بیشک
باباۓ قوم کے بعد آنے والے تمام لیڈران نے اپنے نعرہ کی حد تک تو باباۓ قوم کے افکار کو درست کا اور ان پر عمل کرنے کا اپنے آنے والے الیکشن میں منشور دیا لیکن زمینی ہماری بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کسی حکمران نے ایسی کوئی سوچ بھی نہیں پائی جاتی
باباۓ قوم کے زمانہ میں وزراء چاۓ اور بسکٹ کے پیسے بھی اپنی جیب سے ادا کرتے تھے اور آج کے موجودہ وزراء تو دور کی بات ایک وزیز کی پورے کا پورا قبیلہ سرکاری گاڑیاں بنگلے سیکورٹی پروٹوکول انجاۓ کرتا نظر آتا ہے
اگر ہم آج کے اسلامی جہموریہ پاکستان کے وزیز اعظم کی بات کریں تو وہ جب سے جس دن سے سیاست میں آۓ انہوں نے اپوزیشن سے لے کر وزیز اعظم کے تین سال پورے کرنے تک اپنی زات کی حد تو تو بہت کوشش کی لیکن ان کی کابینہ میں اور مشیر ان اور وزارء میں آج بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جن کا باباۓ قوم کے نظریہ افکار سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں
مجھ سے ہم سب کو فخر ہے اپنے پاکستانی ہونے پر اور ہم ہر موقع پر سب ہی یہی کہتے نظر آتے ہیں کہہ اے قائد اعظم تیرا احسان ہے تیرا احسان ہے
لیکن آج بھی ہم احسان تو مانتے ہیں لیکن باباۓ قوم کے فرمودات کو بلاۓ طاق میں نہیں لیتے پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ہم سب نے بحیثیت قوم باباۓ قوم کے فرمودات کو سمجھ لر پوری ایمانداری اور نیک نیتی سے ان رہنماء اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہوں گے ملک کی ترقی مشکل ہے ہم یہ تمام زمہ داری اپنے حکمرانوں پر نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی اس زمہ داری سے اس طرح جان چھڑا سکتے ہیں
اللہ تعالی ہمیں باباۓ قوم اور اپنے آباؤ اجداد جہنوں نے بہت سے تکالیف اور اپنے خون کی ندیاں بہا کر ہمیں یہ آزاد اسلامی ریاست پاکستان کی شکل میں تحفہ دیا اس کی حفاظت اور سلامتی پر اپنی جان بھی ضرورت پڑنے پر قربان کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمینپاکستان ہمیشہ زندہ باد
تحریر چوہدری عطا محمد
@ChAttaMuhNatt
-

موٹروے واقعہ اور معاشرتی تضاد .تحریر: فروا نزیر
خدا کا جتنا شکر ادا کیا جاتا اتنا ہی کم تھا ،ورنہ ایسی انہونی ہونے کی امید نہیں تھی ،اتنا بڑا ،پیچیدہ اور انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ اگراتنی جلدی حل ہو جائے،تواس پر زیادہ نہیں ،دو چار نفل شکرانے کے تو بنتے ہیں ۔ مذہب کو دقیانوسی معاملہ قرار دینے والی دیسی لبرل مارکہ خواتین مشروب مغرب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بلاشبہ اسے خواتین کی جیت قرار دینے میں حق بجانب تھیں، سی سی پی او صاحب کامعافی مانگنا ایک اہم واقعہ تھا ۔جس کے بعد جرم خود بخود ختم ہوجانے تھے ،اگر نہ بھی ہوتے تو مضائقہ نہیں بس یہ نہ کہتے کہ آدھی رات کو گھر سے نکلتے وقت خواتین گاڑی کا تیل چیک کرلیا کریں تاکہ راستے میں پریشانی نہ ہوکیونکہ اس سے خواتین کی آزادی متاثرہوتی ہے۔
بچوں کے سامنے ماں کے ساتھ زیادتی کی ہولناک واردات دراصل وہ مسئلہ تھا جس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرور ت تھی ،مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کیلئے مربوط کوششوں کا یہ نقطہ آغا ز ہو سکتا تھا ، بدقسمتی سے مگر ہر ایک نے اسے اپنے ذاتی و گروہی مفاد کیلئے استعمال کیا ۔کون نہیں جانتا کہ نئے سی سی پی او کی تعیناتی کی سب سے زیادہ کس کو پریشانی تھی،وہ کون سی قومی سطح کی سیاسی جماعت تھی جس نے کھل کر ایک شہر کی حد تک محدود تعیناتی کی مخالفت کی ،آخر کچھ تووجہ ہے کہ ایک بے ضرر بیان کو متاثرہ خاتون پر الزام کے مترادف قرار دے کر بھرپور مہم چلائی گئی ،ٹویٹر پر ہیش ٹیگز بنائے اور چلائے گئے ،احتجاج اور میڈیا اینکرز کے ذریعے سی سی پی او کو ہٹانے کے مطالبے کو تقویت دی گئی ،یہی مطالبہ درخواست کی شکل میں عدالت تک بھی پہنچا دیا گیا اور غالب گمان کے عین مطابق وہ درخواست سماعت کیلئے منظور بھی کر لی گئی ۔ سب جانتے ہیں قانون کی تشریح ایک مخصو ص خاندان کے حوالے سے جس طرح لاہور میں ہوتی ہے وہ کہیں نہیں ہو سکتی ۔ ملز م تو پکڑے گئے،سزا بھی ہوگئی ،مگر ایسے واقعات کا تدارک نہیں ہوا ،قصورمیں زینب کے واقعے میں بھی تو مجرم کو سزا دی گئی تو کیا اس کے بعد یہ جرم ہونا بند ہوگیا ؟صرف پنجاب میں ایک سال کے دوران زیادتی کے 2ہزار اور اجتماعی زیادتی کے سو سے زیادہ واقعات ہوئے ،یہ واقعات اس وقت تک ہوتے رہیں گے،جب تک اس کی جڑکو نہیں اکھاڑ پھینکا جاتا، اس کی جڑیں بھی دوسرے جرائم کی طرح ہماری معاشی ،سماجی،معاشرتی ناانصافیوں سے پھوٹتی ہیں،تونسہ شریف میں بھی بچوں کے سامنے ماں کے ساتھ زیادتی کی گئی اورملزموں کی ضمانت ہو گئی،لیکن اس حوالے سے نہ تو سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنے ،چینلز پر پروگرام ہوئے اورنہ ہی میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی خواتین کو اس مظلوم عورت کا کچھ خیال آیا ،اس کے کرب کو کسی نے محسوس نہیں کیا کیونکہ وہ ایک نچلے طبقے کی خاتون تھی۔آپ کو سوشل میڈیا پر اشرافیہ کی خواتین بار بار کہتی نظر آئیں کہ خاتون کی تصاویر اور نام شیئر نہ کیا جائے ،جوکہ ایک اچھی بات ہے مگر کیا یہ حساسیت قصور کی زینب کے والدین کے حوالے سے دیکھی گئی ؟پریس کانفرنس میں بٹھا کر اس کے سامنے جس بے شرمی کیساتھ ہنسی مذاق کیا گیا ،اس پر کسی کو خیال آیا کہ ان کی بھی کوئی عزت ہے ،ان کا نام اور شناخت بھی چھپانی چاہیے ،سب نے مذکورہ خاندان کو ان کی عزت کی پرواہ کئے بغیر اپنے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا
-

دبئی: گاڑی کی نمبر پلیٹ 16 کروڑ میں نیلام
دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ روز کاروں کی خصوصی نمبر پلیٹس کی نیلامی کی گئی-
باغی ٹی وی :دبئی میں کاروں کی خصوصی نمبر پلیٹس کیلئے 36 ملین درہم سے زائد کی بولیاں لگائی گئیں، نیلامی میں دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی(آر ٹی اے) نے سو قسم کی ڈبل، ٹرپل، چار گنا اور پانچ اعداد والے نمبروں کی بولیاں لگوائیں۔
جس میں خصوصی نمبر پلیٹس کی نیلامی میں ای ففٹی فائیو نمبر کی پلیٹ 16 کروڑ میں فروخت ہو گئی ہے ڈبلیو 29 کی دو اعشاریہ پانچ ملین درہم جبکہ ایکس 35 کی بولی دو اعشاریہ چار ملین درہم کی رہی۔
لاہور: بلیاں پالنے پر نوجوان خاتون پر اپنے ہی گھر والوں نے تیزاب پھینک دیا
عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ، آر ٹی اے نے ہوٹل مینجمنٹ کے تعاون سے نیلامی کے مقام پر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں۔ نیلامی میں محدود نشستیں لگائی گئی تھیں اور بولی کی جسٹریشن بھی ہال ہی میں کی جا رہی تھی۔
اس سے قبل 2019 میں شارجہ میں نمبر پلیٹ 36 لاکھ 10ہزار درہم میں فروخت ہوئی کاروں کی منفرد نمبر پلیٹس مجموعی طور پر ایک کروڑ 34 لاکھ 95 ہزار درہم میں نیلام ہوئیں تھیں-
-

ابتدائی تعلیم میں مختلف زبانیں سیکھنے کی اہمیت۔ تحریر: محمد اسعد لعل
کسی بھی تعلیمی نظام میں پہلے بارہ سال اصل میں معاشرہ تعلیم دیتا ہے۔ اس میں ایک قوم اپنا علم، اپنی میراث منتقل کرتی ہے اور وہ ضروری صلاحیت پیدا کرتی ہے تاکہ بچہ جب شعور کی عمر کو پہنچے تو وہ اپنے فیصلے خود کر سکے اور اپنے میدان کے انتخاب میں بھی آسانی محسوس کرے۔
یہ جو بارہ سال کی تعلیم ہوتی ہے اس میں ایک بہت بڑا ٖ فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ بچوں کو زبانیں کون سی پڑھانی ہیں، کیونکہ زبان علم کا دروازہ ہے۔ اس میں بڑے سادہ اصول ہیں، یعنی آپ کو اپنی تعلیم کی ابتدا اپنی زبان سے کرنی چاہیے۔ اپنی زبان کا مطلب ہے وہ جو آپ کی ماں بولتی ہے، وہ جو آپ کے گھر میں بولی جاتی ہے۔ گھر کی اور تعلیم کی زبان کو ابتدا میں بالکل مشترک ہونا چاہیے۔ اس پر دنیا بھر میں اہلِ علم کا اتفاق ہے۔
ایک بچے کو پہلے ہی مرحلے میں زبانوں کے تصادم میں نہیں ڈال سکتے۔ بچہ اپنی زبان اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے۔ جب وہ ایک زبان سیکھ لیتا ہے تو اُس سے آپ تعلیم کی ابتدا کر لیں۔ اس کے بعد مختلف زبانیں اس کو سکھانی چاہئیں۔ اس میں بھی ایک تدریج رکھی جاتی ہے، یعنی یہ نہیں ہے کہ آپ پہلی جماعت ہی سے بچے کو کسی ایک زبان میں صحت کے ساتھ بولنے یا لکھنے کی تربیت دینے سے پہلے اس کے اندر ایک خلجان پیدا کر دیں ۔ایک تدریج کے ساتھ زبانوں سے تعارف کروایا جاتا ہے۔
یہ اس اصول پر ہوتا ہے کہ رابطے کی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ رابطے کی زبان بعض اوقات کوئی قومی زبان بن جاتی ہے۔مثال کے طور پر ہمارے ہاں لوگ پشتو بھی بولتے ہیں، سندھ، بلوچی، سرائیکی اور پنجابی بھی بولتے ہیں لیکن ان کے ہاں رابطے کی زبان کی حیثیت اردو کو حاصل ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم اردو کو قومی زبان بھی کہتے ہیں۔ رابطےکی زبان سیکھنا بہت ضروری ہے۔
اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا اب ایک ویلج بن چکی ہے، دنیا میں مختلف جگہوں پر علوم پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ ایک ہی جگہ پر نہیں رہتے بلکہ آپ کو آگے بھی بڑھنا ہوتا ہے، تعلیم کے لیے بھی دوسری جگہوں پر ہجرت کرنی ہوتی ہے تو آپ عالمی سطح پر انتخاب کرتے ہیں کہ رابطے کی زبان کیا ہو سکتی ہے۔
ہمارے ہاں ایک خاص پسِ منظر کی وجہ سے انگریزی زبان عالمی رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ دنیا میں اور بھی بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں، برحال کوئی ایک زبان آپ بین الاقوامی رابطے کی حیثیت سے سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔
آپ کا مذہب اسلام ،ہندومت یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کے مذہب کی زبان جس میں آپ کی مذہبی کتاب ہے، مذہبی علم ہے تو وہ بھی کوئی زبان ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں وہ مذہبی زبان عربی ہے، تو اس وجہ سے عربی زبان سیکھنا بھی ضروری ہے۔
اس میں ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ ایک زبان آپ اس مقصد کے لیے سکھاتے ہیں کہ بچہ اس کو بولے گا بھی، اس کو سمجھے گا بھی، پڑھے گا بھی اور لکھے گا بھی۔۔۔۔ جب کہ کچھ زبانیں آپ اس مقصد سے سکھاتے ہیں کہ علوم تک رسائی ہو جائے۔ میرے نزدیک عربی زبان کو اس مقصد کے لیے سکھانا ضروری نہیں ہے کہ لوگ اس کو لکھیں اور بولیں، بلکہ صرف اس کو سمجھ سکیں یہی کافی ہے۔ تاکہ اللہ کی کتاب جس کو وہ ماننے والے ہیں اس کو براہِ راست پڑھ سکیں اور اس کو خود سے سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔
بچوں پر کوئی دباؤ نہ بڑھے اس لیے عربی زبان کا نصاب ہی اس طرح بنانا چاہیے کہ وہ پہلے مرحلے میں بچے کو وہ ضروری چیزیں سکھانے کا باعث بن جائے جو ایک مسلمان بچے کی ہمہ وقت ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اس نے نماز پڑھنی ہے، کوئی دعا کرنی ہے یا اپنے پیغمبر کی کچھ بتائی ہوئی چیزوں کو دہرانا ہے۔ یہ بہت معمولی چیزیں ہیں اور بچے بہت آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے لیے ریڈر کی حیثیت باتدریج قرآن بن جائے، یہاں تک کہ وہ بارہویں سال تک پہنچتے پہنچتے قرآن مجید پورا کا پورا سمجھ کر پڑھ لے جس طرح ایک انگریزی زبان کا ریڈر پڑھتا ہے۔ یعنی ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن سے وابستہ ہوجائے۔
اور یہ جو باقی چیزیں اسلامیات وغیرہ نصاب میں شامل کر کے بچوں پر بوجھ ڈالا ہوا ہے وہ ختم کر دینی چاہئیں۔ ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف چیزوں کو علمی طور پر جاننا، تاریخ سے واقف ہونا یا مسلمانوں کی تاریخ سے واقف ہونا یہ سب کچھ بعد میں آدمی کر لے گا۔ تاریخ بھی اگر پڑھانی ہے تو اس کو تاریخ کے طور پر پڑھائیے، اُس کو مذہبی چیز بنا کر نہ پڑھائیے۔
twitter.com/iamAsadLal
@iamAsadLal