Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    تمباکو اور منہ کا کینسر، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    آج سے دس سال پہلے جب میں نے ڈینٹل پریکٹس شروع کی تو تب سے اب تک روزانہ ھر قسم کے دانتوں کے مرض سے جڑے لوگوں کا چیک اپ کیا پہلے پہل سال میں ایک آدھ کیس ایسا آتا جس میں مریض کو منہ کے کینسر کا مرض لاحق ھوتا پھر یوں ھوا کہ کچھ عرصے سے اب قریبا روزانہ نھیں تو ایک آدھ دن چھوڑ کر مجھے ایسے مریضوں کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے اس خیال سے کہ شاید یہ اتفاق ھو میں نے اور بھی اپنے دوست ڈینٹل سرجنز سے اس بارے میں جانکاری لی انھوں نے بھی کچھ ایسے ھی پیٹرن کا ذکر کیا سول ھسپتال اور بڑے سرکاری اداروں میں تناسب انتہائ زیادہ ھوچکا ھے دو دن پہلے باغی ٹی وی سے برادرم ممتاز اعوان اور انکے ساتھیوں کو کینسر اور سیگرٹ نوشی پر کی ایک کمپیئن پر دیکھا تو سوچا اس ٹاپک پر میں بھی ضرور لکھوں
    کینسر کی کئی اقسام ھیں اور کئ وجوہات ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ idiopathic جسکو ھم کہتے کہ نامعلوم وجہ کہتے وہ ھے اسکے علاوہ tobacco یعنی تمباکو ھے radiation یعنی شعائیں arsenic food یعنی کیمیکل سے بنے کھانے ھی کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک ھے
    کینسر دو طرح کے ھوتے Benign یعنی نا پھیلنے والا اور Malignant یعنی پھیلنے والا دونوں ھی خطرناک ھیں مگر ملیگننٹ کینسر عمومی طور پر اگر فوری علاج نا کیا جائے تو وہ جان لیوا ثابت ھوسکتا میں اس کالم میں صرف منہ کے کینسرز پر ھی بات کرونگا کیونکہ میرا تعلق اس شعبے سے تو اسکو سمجھانا میری ڈومین میں ھی آتا منہ کے کینسر مختلف قسم کے ھوتے
    منہ کے فلور پر زبان پر ھونٹوں پر اوپر والی ھڈی پر نیچے والے جبڑے پر یہ مختلف ھوتے اور ھر ایک کی وجہ مختلف ھوتی
    سب سے زیادہ 90 فیصد جو منہ کا کینسر مریض کو لاحق ھوتا اسکو Squamous cell carcinoma کا نام دیا گیا یہ زیادہ تر زبان پر ملیگا اکثر زبان پر چھوٹے سے چھوٹا زخم بار بار چھیڑنے یا irritation سے اس کینسر میں تبدیل ھوجاتا اگر اس کینسر کا بروقت علاج نا کرایا جائے تو یہ جان لیوا ھوتا اکثر کیسز میں اسکو ختم کرنے لئے سرجری کرنی پڑتی جس میں جبڑے تک کو ریمو کرنا پڑسکتا

    منہ کی کوی بیماری ھو خدارا اسکو معمولی نا سمجھیں دانتوں کا چھوٹے سے چھوٹا انفیکشن کب بگڑ کر کینسر کی شکل اختیار کرلے کوئی نھین جانتا مریض کو جب یہ بتایا جاتا کہ کینسر کی کئ وجوہات میں سے ایک وجہ سگریٹ نوشی تمباکو نوشی پان گھٹکا چھالیہ ھے تو اس پر مریض ایک عذر دیتا کہ چھوڑ نھیں سکتے یا اتنی دنیا پیتی ھے انکو کیوں نھیں ھوتا اور ایک عذر کی گورنمنٹ اسکو بین کیوں نھیں کرتی

    تو پہلا عذر کے عادت نھیں جاتی تو یہ ایک حقیقت ھے کہ سگریٹ تمباکو ایک ایسا نشہ ھے جسکو چھوڑنا ناممکن نا سہی مگر مشکل ضرور ھے میں نے کئ لوگ دیکھے وہ کسی ایک بات پر مصمم ارادہ کرلیتے اور پھر پورا کرتے یہ کوی ھیرویئن چرس جیسا نشہ تو ھے نھین کہ اسکو چھوڑنے پر سائیڈ ایفکٹ میں بندا بیمار پڑجائے یا حالت غیر ھوجائے میرے پاس ایک مریض دانت صاف کرانے آیا میں نے پوچھا سگریٹ پیتے تو کہتا پیتا تھا روز دو ڈبیاں خالی کردیتا تھا مگر جب ایکبار بیٹے نے کہا پاپا مت پیئں مجھے اچھا نھیں لگتا تب سے چھوڑ دیا دس سال ھوگئے اس بات کو تو یہ مثال میں یہاں ان لوگوں کو دے رھا جو ارادہ کرنے کی نیت تو کرتے مگر حوصلہ نھیں کرپاتے اسی طرح ایک مریض میرے پاس آیا میں نے کہا سیگریٹ چھوڑ دو آج اکیلے علاج کرانے آئے ھو کل یہ نا ھو کسی سہارے سے علاج کرانے جاو تین سال بعد میرے پاس آیا کہتا ڈاکٹر صاحب آپکی اس بات نے دل میں چوٹ دی قسم کھائی کہ سیگریٹ نھیں پیئونگا

    تمباکو اصل میں جسم کے ٹیشوز کی لائٹنگ کی ساخت تبدیل کردیتا جس پر یہ کینسر با آسانی حملہ آور ھوجاتے تو یہ وہ دوسری وجہ کہ مجھے کیوں ھوگیا کا جواب ھے کہ ھر انسان کا دفاعی نظام کینسرز سیل کے مقابلے میں مختلف ھوتا کسی کو ایک سیگریٹ ھی موت کے دھانے لے جاسکتا تو کسی کئ ھزار ڈبیاں بھی کچھ نھیں کہتی کسی کو چند ھفتوں بعد مسئلہ بن جاتا تو خودکشی کرنے کی اس کوشش کو جاری رکھنا حماقت ھے تیسرا عذر کہ گورنمٹ کچھ کیوں نھیں کرتی تو یہ ایک واقعتا قابل فکر امر ھے کہ گورنمنٹ ھر سال سیگریٹ پر ٹیکس تو بڑھاتی جاری مگر اس پر پابندی نھین لگاری ھونا تو یہ چاھیئے ھر قسم کے تمباکو پر مکمل پابندی لگائ جائے مگر بہرکیف ایسا پوری دنیا میں کہیں نھین ھورا تو اسکا مطلب ھے کہ مشتری ھوشیار باش جر شخص احتیاط خود کرے دوسرا ھر شخص کو سوچنا چاھیئے کہ کوی اگر زھر بیچ رھا ھو تو کیا آپ وہ خریدلوگے آپ مفت بھی نھین خریدو گے تو پھر سیگریٹ پان گھٹکا چھالیہ کو چھوڑنے کا ارادہ کریں اور جان چھڑائیں اس عادت سے

    یہاں پر شاباش دیتا ھوں ایسی تمام این جی اوز فلاحی اداروں کا جو سگریٹ تمباکو کیخلاف اٹھ کھڑے ھوئے ھیں لوگوں میں شعور پیدا کر رھے ایسے میں باغی ٹی وی کی تعریف نہ کرنا صریحا زیادتی ھوگی

  • کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابوں کی اہمیت اور ضرورت کسی بھی دور میں ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ کتابیں ہماری بہترین دوست ہوتی ہیں۔ اور ہمیں سیر کرواتی ہیں معلومات کا بہترین ذریعہ ہے لیکن ہر شخص اس بات پر متفق ہے کہ مطالعہ کرنے سے علم و معلومات میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہر شخص مطالعہ نہیں کرتا البتہ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں وہ اس سے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں مطالعہ نہ کرنا بہت دیکھا جارہا ہے لوگوں میں کتب بینی کا شوق ختم ہوتا جا رہا ہے لوگ زیادہ محنت کرنے کے بجائے انٹرنیٹ سے معلامات حاصل کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں بعض لوگ اپنی ملازمت سے مطمئن ہوکر مطالعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تجارت پیشہ افراد اپنی کاروباری مصروفیات کا بہانہ بناتے ہیں اور جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر افراد بے ترتیب مطالعہ کرتے ہیں، کبھی کوئی کتاب اٹھالی، کبھی کوئی کتاب دیکھ لی، اس لئے مطالعہ کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر ۔ہم کتابوں کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں اس کے لئے ہمیں سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں کتابوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کتابیں پڑھنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، اور وہ فوائد زندگی بھر قائم رہ سکتے ہیں۔ وہ ابتدائی بچپن میں شروع ہوتے ہیں اور سینئر سالوں تک جاری رہتے ہیں۔ یہاں ایک مختصر وضاحت دی گئی ہے کہ کتابیں پڑھنا آپ کے دماغ کو اور آپ کے جسم کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔پڑھنا آپ کے ذہن کو لفظی طور پر بدل دیتا ہے۔ مصروف رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
    ایم آر آئی اسکین کا استعمال کرتے ہوئے ، محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پڑھنے میں دماغ میں سرکٹس اور سگنلز کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آپ کی پڑھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی جاتی ہے ، وہ نیٹ ورک بھی مضبوط اور زیادہ نفیس ہوتے جاتے ہیں۔
    کہانیاں جو کرداروں کی اندرونی زندگی کو دریافت کرتی ہیں – دوسروں کے جذبات اور عقائد کو سمجھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو طالب علم چھوٹی عمر سے باقاعدگی سے کتابیں پڑھتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ بڑی ذخیرہ الفاظ تیار کرتے ہیں۔

    کتابیں پڑھنے کے فوائد یہ آپ کی زندگی پر کس طرح مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔دماغ کو مضبوط کرتا ہےالفاظ کی تعمیر کرتا ہے۔علمی زوال کو روکتا ہےتناؤ کو کم کرتا ہےڈپریشن کو دور کرتا ہے۔
    اکثر کتابیں پڑھنے کے فوائد کو نہیں سمجھتے ، کچھ کہتے ہیں کہ یہ وقت کا ضیاع ہے ، کچھ اسے بورنگ سمجھتے ہیں ، اور بہت سی وجوہات کی بنا پر لوگ یقین رکھتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ذہنیت ہے کہ کتابیں پڑھنا اتنا مفید نہیں ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ، صرف ایک وقت کا ضیاع ، توانائی کا ضیاع ، تاہم حقیقت اس طرح کی ذہنیت کے برعکس ہے ، اس کی مختلف وجوہات ہیں کیوں کہ پڑھنا بہت اہم اور فائدہ مند ہے۔
    کتب بینی آپ کو نئی چیزوں ، نئے طریقوں ، نئی تفہیم ، نئی معلومات ، حالات کو سنبھالنے کے نئے طریقے اور ان کو حل کرنے کے نئے طریقوں سے روشناس کراتا ہے ، پڑھتے ہوئے آپ چیزوں کو مختلف نقطہ نظر سے سمجھتے ہیں ، اس سے آپ کو دنیا اور اپنے آپ کو ایک مختلف انداز میں سمجھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ، پڑھنے سے آپ کو اپنے مشاغل معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، اور آپ ایسی چیزوں کو دریافت کر سکتے ہیں جو بالآخر آپ کا کیریئر اور مستقبل میں کامیابی بن جاتی ہیں
    پڑھنا آپ کو اپنے آپ کو مختلف طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے ، یہ آپ کے ذہن کو کھولتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے میں مدد دیتا ہے ، اور آپ کو زندگی کے مختلف مثبت پہلوؤں کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اور دنیا کو زیادہ صحیح طریقے سے سمجھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ پڑھنا آپ کو ہوشیار بناتا ہے۔انسانی تہذیب کے ارتقاء داستان کتاب اور کتب خانوں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی یہ سب تاریخ ان کتابوں میں بند ہیں تحریروں اور دستاویزات کے ان ذخیروں کو جس جگہ محفوظ کیا گیا وہی کتب خانے کی ابتدائی شکل تھی۔
    کتب خانےپہلا اور اہم فائدہ مفت کتابیں مل جاتی ہے کتب خانے یعنی لائبریری کو کتابوں کا خزانہ کہنا غلط نہیں ہو گا جی ہاں! مفت کتابیں! ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ لائبریریاں آپ کو کتابیں بالکل مفت میں لینے دیتی ہیں۔ آپ کو کسی بھی کتاب کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو آپ ادھار لیتے ہیں۔ وہ لوگ جو شوق سے پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کتابیں بہت مہنگی ہوسکتی ہیں اور اگر آپ کوئی خریدنے جاتے ہیں تو آپ کی جیب میں بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک بار پڑھنے کے لیے کتابیں خریدنا حماقت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ آپ کو صرف ایک مہنگی کتاب کیوں خریدنی چاہیے تاکہ اسے بیکار بنا سکیں جب آپ اس کے ساتھ کام کر لیں۔ ہوشیار انتخاب کریں اور مقامی لائبریری کی طرف جائیں اور جتنی کتابیں آپ لے سکتے ہیں ادھار لیں۔ یہ بہت مفید بھی ہے کیونکہ آپ کے پاس کتابیں حاصل کرنے کی کوئی حد نہیں ہوگی اور آپ اس کے مکمل ہونے کے بعد اس کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور پڑھنے کے لیے ایک نئی کتاب حاصل کر سکتے ہیں۔ کتاب پڑھنے کی خواہش کو صرف اس لیے ختم نہ کریں کہ یہ مہنگی ہے۔ لائبریری کارڈ حاصل کریں اور لطف اٹھائیں۔
    ہر قسم کی کتابوں کی دستیابی۔ لائبریری کتابوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آپ کو یہاں ہر قسم کی کتابیں مل سکتی ہیں۔ مختلف نوع کی کتابیں جیسے سائنس فکشن ، افسانہ اور بہت کچھ لائبریری میں لوگوں کے لیے ادھار لینے کے لیے رکھا گیا ہے۔ آپ لائبریری میں موجود کتابوں کو بہت سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی تحقیق میں مدد کے لیے دیگر حوالہ کتابوں کے ساتھ مطالعہ کرنے میں مدد کے لیے ٹیکسٹ بکس استعمال کر سکتے ہیں۔ مختلف قسم کی کتابوں کی دستیابی آپ کی زندگی کو آسان بنا دے گی کیونکہ آپ کو پورے شہر میں کتابیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایک چھت تلے ہر چیز مل سکتی ہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • اپوزیشن حکومت کے اقدامات کو بدنام کرنا آسان سمجھتے ہیں    تحریر: زاہد کبدانی

    اپوزیشن حکومت کے اقدامات کو بدنام کرنا آسان سمجھتے ہیں  تحریر: زاہد کبدانی

    بدقسمتی سے یہ رجحان پاکستان میں زیادہ نمایاں ہے جہاں اپوزیشن قومی وجوہات کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بنائے گئے سیاسی بحرانوں کو بھڑکانے پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

    ایک مدت کے دوران حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ، کسی کو نقطہ آغاز اور فاصلے کو دیکھنا ہوگا جو طے کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے 2018 میں اقتدار سنبھالا تو معیشت کی حالت پر ایک دیانت دار اور متضاد نظر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکمل تباہی کا شکار تھی۔ حکومت کے پاس قرض ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے اور زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم تھے۔ اگر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین نے اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو بھرنے میں مدد نہ کی ہوتی تو پاکستان اپنے قرضوں میں نادہندہ ہو جاتا اور روپیہ ناقابل برداشت ڈوب جاتا۔ اس صورتحال نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے پر بھی مجبور کیا۔

    لہذا ، وزیر اعظم کے اس دعوے کو لے کر مشکل ہے کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا ، زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے ، محصولات کی وصولی 3800 ارب روپے تھی۔ اس کے مقابلے میں ، اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 1.8 بلین ڈالر ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر 27 بلین ڈالر کے آس پاس ہیں اور ٹیکس محصولات کی وصولی 4700 ارب روپے ہو گئی ہے۔ ترسیلات زر 29.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ، صنعت میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تعمیراتی شعبے میں سیمنٹ کی فروخت میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ زراعت میں کسانوں کو 1100 ارب روپے کی اضافی رقم گئی ہے۔

    فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح نیب کی جانب سے کرپٹ عناصر سے ریکوری میں زبردست بہتری آئی ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے ، 18 سالوں میں جسم کی جانب سے 299 ارب روپے کی وصولی کے مقابلے میں ، پی ٹی آئی حکومت کے تین سالوں میں بازیابی 519 ارب روپے رہی۔ تمام سابقہ ​​اعداد و شمار قابل تصدیق حقائق ہیں۔

    وراثت میں ملنے والی صورتحال اور کرونا وائرس کے حملے کی وجہ سے معیشت نے 2019-20 کے دوران 0.4 فیصد منفی شرح نمو درج کی تھی۔ پی ٹی آئی نے سال 2020-21 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 2.1 فیصد کا تصور کیا تھا جبکہ آئی ایم ایف نے شرح نمو 1.5 فیصد کے آس پاس کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن حقیقی شرح نمو 3.4 فیصد نکلی ، جس سے اپوزیشن نے یہ الزام لگایا کہ حکومت نے معیشت کے بہتر نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لیے اعداد و شمار کو دھوکہ دیا ہے۔ تاہم ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے حکومتی دعووں کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے سابقہ ​​اندازوں کو تبدیل کیا اور حکومت کی طرف سے اعلان کردہ اعداد و شمار کو دیکھا۔

    یہ کامیابی یقینی طور پر حکومت کی جانب سے زندگی بچانے اور معیشت کو لات مارنے کے درمیان توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی کی وجہ سے ہے۔ اس نے غریب خاندانوں کو 1200 ارب روپے نقد امداد فراہم کرنے کے علاوہ معیشت کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا اقدام تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دینا اور سرمایہ کاروں کے لیے مراعات کے پیکج کا اعلان تھا۔ تعمیراتی صنعت کم از کم 40 دیگر صنعتوں سے جڑی ہوئی ہے ، اور یہ بجا طور پر سوچا گیا تھا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کا ان صنعتوں پر کافی زیادہ اثر پڑے گا۔ اس سے کرونا وائرس کے منفی اثرات کو کم کرنے میں کافی حد تک مدد ملی۔

    حکومت غربت کے خاتمے کے لیے قابل اعتماد اقدامات کرنے میں بجا طور پر فخر کر سکتی ہے ، خاص طور پر احساس پروگرام جس کے تحت غریبوں کی مدد کے لیے 134 مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ کم لاگت والے گھر کی پہل حکومت کا ایک اور مثبت قدم ہے۔ غریب خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز کا اجراء اور احساس کیش امداد کے لیے بجٹ میں مختص رقم میں اضافہ 211 ارب روپے سے بڑھ کر 260 ارب روپے ہونے سے بھی حکومت کے حامی ادارے کے طور پر اس کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے لڑنے میں حکومت کا قابل رشک ریکارڈ بھی ہے۔ اس کے 10 ارب درخت لگانے اور نئے جنگلات بڑھانے کے پروگرام نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے۔

    پاکستان نے ان تین سالوں کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سفارتی کارروائی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس نے افغان صورتحال اور امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کو آسان بنانے اور تنازع کے افغان قیادت میں اور افغانی ملکیت کے حل کو فروغ دینے میں اس کے کردار کو بڑے پیمانے پر سراہا ہے۔ اب بھی ، یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی حمایت کو اکٹھا کرنے میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت تشکیل پائے اور ملک چار دہائیوں پرانے تنازعے کو الوداع کہتا ہے جس کا پڑوسی ممالک میں بھی اثر پڑا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے سب سے زیادہ آواز اٹھانے والے بھی رہے ہیں۔ یہ حکومت کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں ، بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کی غیر قانونی حیثیت کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو آگاہ کیا جائے۔ اس مسئلے کے بھارتی بیانیہ کو بھارت کا اندرونی معاملہ ماننے سے انکار کر دیا۔ مذکورہ بالا کے پیش نظر ، یہ محفوظ طریقے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ان تمام چیلنجوں پر قابو نہیں پایا ہوگا جن کا سامنا تھا ، لیکن یہ یقینی طور پر بہتر ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے پرچم بردار معیشت کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے ، کرونا وائرس، احتساب کے عمل اور خارجہ تعلقات کے انتظام کو مضبوط کریں۔

    @Z_Kubdani

  • تمباکو نوشی مضر صحت تحریر ہما عظیم

    تمباکو نوشی مضر صحت تحریر ہما عظیم

    آپ نے کٸی مرتبہ پڑھا ہو گا آپ پوری دنیا آپکی تو نہیں مگر کسی کے لیٸے آپ پوری پوری دنیا ہوتے ہو
    اور ایسا ہونا بےشک ہم سب کے لٸیے باعث فخر اور باعث خوشی ہوتا ہے۔
    پھر ہم امانت ہو جاتے ہیں اپنے چاہنے والوں گی ۔ان کی جو ہماری لمبی عمروں کی دعاٸیں کرتے ہیں۔ہماری صحت و تندرستی کے لٸیے ہر وقت دعا گو ہوتے ہیں۔اورچاہتے ہیں حتی الامکان باخدا راضی وہ ایک لمبا عرصہ ساتھ گزاریں۔
    پھر ہم ایسا کام شروع کردیں جس سے ہماری زندگی دن بدن کم ہوتی جاۓ ۔جسم میں بیماریاں حملہ کر دیں۔۔اور موت کی طرف بڑھتے قدموں میں تیزی آجاۓ تو یہ ہم اپنے ساتھ ہی نہیں اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بھی دشمنی کرتے۔
    جی ہاں جب کوٸی تمباکو نوشی کرتا ہے وہ اپنے صحت تو خراب کرتا ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےلوگوں کے ساتھ بھی غلط کرتا ہے۔انہیں خود جان کر دکھ دینے والے بات کرتا ہے۔ بلکل ایسے ہج جیسے سگریٹ کی ڈبی پر بڑے لفظوں سے لکھا ہوتا ہے مضر صحت ہے۔مگر اس وارننگ سے آنکھ بچا کر استعمال کی جاتی ہے۔ کیوں ۔۔؟
    کیوں کہ ہمیں خود سے پیارنہیں ہے۔اپنے پیاروںسے پیار نہیں ہے۔۔ ہر جگہ اویرنس دی جارہی ہوتی ہے تمباکو پھیپھڑوں کو ختم کرتا ہے۔دماغ کی آفزاٸش روکتاہے۔دل کے لٸیے نقصان دہ ہے۔بےشمار بیماریوں کے حملہ کرنے کے لٸیے جسم ایک آٸیڈیل کمزور جگہ بن جاتا ہے۔مگر تمباکو نوشی کرنے والے کسی صورت باز آتے نظر نہیں آتے۔
    آج کل تمباکو نوشی کے ساتھ مختلف قسم کےنشےمارکیٹ میں بطور فیشن آگۓ ہیں۔۔شیشہ ، آٸس نشہ وغیرہ۔ کوٸی ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہم خوشی خوشی تباہ ہونے چل پڑے ہیں۔
    صحت مند جسم انسان بطور نعمت عطا کیاجاتا ہے ۔
    اور ہم اس کوخود مضر صحت چیزوں کواستعمال کر کے بیمار کرتے ہیں۔۔کیا یہ امانت خیانت نہیں
    اپنے رب کج دی ہوٸی امانت میں خیانت
    اہنے ارد گرد جو بھی آپ کا پیارا تمباکو نوشی یا کسی بھی طرح کے فیشنی نشے کا عادی ہے۔اسے بتاٸیے خدارا اس لعنت سے چھٹکارا خاصل کیجیٸے آپ کی زندگی ہماری ضرورت ہے۔۔
    خود بھی اس لعنت سے بچیں اور اپنے پیاروں کو بھی اس لعنت سے چھٹکارا دلاٸیے۔
    اصل میں تمباکو میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کا نام ہے نکوٹین۔ اب آپ نکوٹین کسی بھی ذریعے سے لیں، خواہ سگریٹ، یا نسوار یا پان کا تمباکو وغیرہ۔ خون میں ملنے کے بعد چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ کے اعصاب تک پہنچ جاتی ہے. نکوٹین کے اثر سے ہمارا دماغ ڈوپامائن (dopamine) نام کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت اچھا احساس ہوتا ہے۔ جب بھی دماغ ڈوپامائن چھوڑتا ہے تو ہمیں بہت مزا آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کام کا اجر ملا ہے۔ یعنی دماغ کو یہ اشارہ جاتا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پئیں یا نسوار لیں یا پان کھائیں گے تو آپ دماغ محسوس کرے گا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ دماغ یہ جان بوجھ کر نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا وہ نکوٹین کے اثر کی وجہ سے کرتا ہے۔لیکن جلد ہی دماغ کو نکوٹین کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ آپ بار بار اس کو لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ لت ٹھیک ویسی ہی ہوتی ہے، جیسے کسی منشیات کی لت، مثلاً ہیروئن۔ نکوٹین کا نشہ اس قدر طاری ہوتا ہے کہ وہ آپ کے رویّے کو کنٹرول کرنے لگتا ہے۔ نہ لینے کی صورت میں جسم ٹوٹنا، چڑچڑا پن، کمزوری، بے چینی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ دماغ کی ساری توجہ نکوٹین حاصل کرنے کی طرف لگ جاتی ہے اور پورا جسم بیکار اور بے جان محسوس ہونے لگتا ہے
    بےشک جو عادی ہو چکے ہیں ان کے لٸیے آسان نہیں ہے۔مگر اگر ارادہ پختہ ہو انسان کیا نہیں کر سکتا
    جب آپ کسی کے لٸیے اپنی جان دے سکتے ہیں تو آپ اپنے پیاروں کے لٸیے اپنی جان بچا بھی تو سکتے ہیں۔
    اپنے آپ سے پیار کیجٸے اور تمباکو نوشی اور ہر طرح کے نشے کو اپنی زندگی سے دفع کیجٸیے۔

    @DimpleGilr_PTi

  • پبلسٹی کا جنون  تحریر حنا

    پبلسٹی کا جنون تحریر حنا

    بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی بات کی جاے ۔تو کئی سال قبل کی بات ہے کہ پہلے گھروں کا ماحول کم تعلیم یافتہ رہ کر بھی کیا خوب تھا.جب بچے جوتے پہن کر پاؤں کو گھسیٹ کر چلتے دکھائی دیتے تو ماں اُسے اِس حرکت پر سرزنش کرتی اور کہتی کہ اچھے بچے اس طرح نہیں چلا کرتے،اسی طرح زور زور سے ہنسنے،چیخنے چلانے سے منع کرتی،آہستہ بولنے کی ترغیب دیتی.اور دیگر آداب گھروں میں بچوں اور بچیوں کی تربیت کے لیے مائیں سکھاتی ہوئی نظر آتی تھیں،وہ اس مقولے پر عمل کرتی تھیں کہ کھلاو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی نگاہ سے ، یہی وجہ ہے کہ ان کی تربیت میں پروان چڑھنے والی اولاد اپنی اسی بہترین تربیت کی وجہ سے مثالی اولاد قرار پاتی تھی،ماں سے اولاد قرآن سیکھنے.دعائیں یاد کرنے.قصے کہانیاں وغیرہ سننے کی عادی تھی.اس طرح بچے طفلی مکتب کے زمانے سے ہی بچوں کے عالم شمار ہوتے.یومیہ تلاوتِ قرآن کا ماحول پابندی سے ہوتا.ان میں پھر دادا دادی اگر تلاوت کر رہے ہوتے تو بچے ان کی گود میں جا کر بیٹھتے اور قرآن سنتے.اِسی حسن تربیت اور ماحول سے بچے تربیت یافتہ ہو کر نکھرتے تھے.اسی طرح بچوں کے کھیل بھی نرالے ہوتے تھے۔اور اس کے برعکس آج دیکھا جاے تو آج کل
    پبلسٹی ۔مشہوری ہمارے معاشرے کا بڑھتا ہوا ناسور ہے ۔۔بچے سے لیکر بزرگ تک جس کے پاس ٹچ موبائل ہے ہر کسی کی یہ کوشش ہے کہ راتوں رات انٹرنیٹ کی دنیا میں مشہور ہوا جاے ۔اس مشہوری کے چکر میں اکثریت والدین اپنے کم عمر بچوں کا استعمال بھی کررہے ہیں ۔اگر ان کو کہا جاے کہ خدا کا واسطہ یار بچوں کے ننھے دماغوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرو ۔تو ان کے چمچے کہیں گے ۔۔کہ جناب یہ تو جلتا ہے بچے سے جلتے ہے ۔مطلب کہ آئنہ نہیں دیکھنا ۔الٹا طنزیہ کلام شروع ۔۔بچوں کے کچے ذہنوں کو استعمال کرنے والے جانتے نہیں کہ کل یہی بچے ان کے سامنے صرف تقاریر لمبے بھاشن ہی جھاڑیں گے ۔۔اخلاق خدمت کی ہرگز توقع نہ رکھیے گا ۔کیونکہ آپ نے بچوں کو صرف سکرین کے آگے بول کر لوگوں کو متاثر کرنا سکھایا ۔آپ نے ہجوم میں بچےکو سلام کرنا تو سکھایا لیکن گھر بزرگ نانا نانی دادا دادی سے ملنے کی بھی پابندی لگا دی ۔کہ نہیں وقت نہیں ہے ۔۔بہت مصروفیات ہے وڈیو بنانے میں ۔۔ہمارے ہاں بچوں کو فون لیپ ٹاپ آئ پیڈ دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم بہت ماڈرن ہے ۔۔ہمارے بچے بہت ماڈرن ہے ۔مطلب اپنی طرف سے یورپی گوروں کے بچوں کی نقل ۔لیکن آپ جانتے ہیں یورپی ملکوں میں بچوں کو فون نہیں دیتے ۔اگر دیتے ہیں تو والدین پر زمہ داری ہے کہ بچے پہ پوری نگرانی کی جاے ۔بچہ فون میں کچھ غلط تو نہیں سیکھ رہا ۔بچے کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھنا والدین کی زمہ داری میں ہوتا ہے اور یہ زمہ داری حکومت یا بچے کے سکول کی طرف سے بھی ہوتی ہے ۔۔لیکن ہم تو بچوں کو فون دے کر بچوں کی تربیت کرنا ہی بھول گے ۔ہمیں نہیں پتہ بچے فون میں کیا دیکھ رہے ۔کیا سیکھ رہے ہیں ۔یا پھر کم عمر بچے کسی غلط ایکٹویٹی کا حصہ تو نہیں بن گے ۔۔ہم خوش ہوتے ہیں بس اس بات پر دیکھو بچہ گیم کھیل کھیل کر انگریزی سیکھ گیا ۔دیکھ میرا بچہ کتنا لائق ہے مشکل سے مشکل اون لائن گیم کھیل لیتا ہے جیتتا بھی ہے لیکن کبھی غور کیا ۔وہی بچہ نماز پڑھتا ہے۔کیا اس بچے کو نماز پڑھنا آتی ہے ۔کیا اس بچے کو چھ کلمہ آتے ہیں ۔کیا اس بچے کے بولنے کے انداز میں بدتمیزی تو نہیں جھلک رہی ۔۔۔کیا بچہ چوبیس گھنٹے موبائل فون استعمال کر کر کہ نفسیاتی اور چڑا چڑا تو نہیں ہورہا ۔کیا بچہ اپنے فون کے بنا دو گھنٹے بھی رہ سکتا ہے ۔۔یہ تو ہم بھول ہی گے ۔۔ہم نے بچوں کو سکھایا کیا ۔صرف مشہور ہونا ۔۔کہ جتنا بولو گے اتنے لائک اتنا زیادہ پیسہ اتنا زیادہ تالی مارنے والا ہجوم ۔بچوں کی اچھی تربیت صرف والدین کے لیے اہم نہیں ۔بلکہ معاشرے کا ایک بہترین انسان بننانے کے لیے بھی اہم ہے ۔ایسا انسان جس پر ہر کوی ناز کرے ۔۔جو سڑک میں گرا پتھر ثابت نہ ہو بلکہ تپتے صحرا میں وہ دھوپ کی مانند درخت ہو جو اپنے اخلاق سے دوسروں کو چھاوں دے سکیں ۔حضور اکرم صلى الله عليه وسلم حضرت عبداللہ ابن عباس رضى الله تعالى عنه کو بچپن میں تعلیم فرماتے ہیں ”اے بچے! خدا کو یاد رکھ تو اس کو اپنے سامنے پائے گا، اور جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر اور جب تو مدد چاہے تو اللہ ہی سے مدد مانگ اور جان لے اس بات کو کہ اگر تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرلیں کہ تجھ کو کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کچھ نفع نہیں پہنچاسکتے جو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے اور اگر سب لوگ اس پر متفق ہوجائیں کہ تجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے جو اللہ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے۔(مشکوٰة شریف،ص:۴۵۳)
    پبلسٹی مشہوری کی بجاے بچپن سے ہی توحید کی بنیاد پر بچہ کی ذہن سازی کی جائے اور اس کا یقین اللہ کی ذات پر پختہ کرادیا جائے تو اس کے اثرات نمایاں محسوس ہوتے ہیں، توہمات سے اس کا دل ودماغ پاک رہتا ہے اس کے اندر غیرت اور خودداری آجاتی ہے اور بچپن میں بناہوا یقین دل میں پختگی کے ساتھ جم جاتا ہے۔
    ۔

  • بھارت پاکستان سے ایک بار پھر ہار گیا !!!.تحریر: نوید شیخ

    بھارت پاکستان سے ایک بار پھر ہار گیا !!!.تحریر: نوید شیخ

    افغانستان کے بارے عموما لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہاں پر امریکی ، اسکے اتحادیوں اور طالبان کے مابین ایک جنگ وجدل جاری تھی ۔ یعنی صرف دو حریف تھے ۔

    ۔ پر رکیں ۔ کہانی میں زرا twist ہے ۔ افغان سرزمین پر دو ممالک اور بھی تھے جو ایک دوسرے سے نبر آزما تھے ۔ ایک بھارت اور پاکستان ۔۔۔ ۔ سب سے پہلے اگر کسی دل میں یہ خیال ہے کہ بھارت افغانستان میں ڈولیپمنٹ کرنے کے لیے بیٹھا ہوا تھا ۔ وہاں ڈیم بننا اور انکی پارلیمنٹ کی بلڈنگ بننا، سڑکیں بننا ہی اسکا کام تھا ۔ تو میں اسکی سادگی پر ہنس ہی سکتا ہوں ۔

    ۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ اتنے شاید بھارتی افغانستان میں نہیں تھے ۔ مگر انکے کونسل خانے افغانستان کے ہر شہر میں تھے ۔ پھرشہر بھی وہ جو پاکستانی سرحد کے قریب ہوں ۔ بھارت کی چالوں بارے تو پاکستان کو پہلے ہی پتہ تھا ۔ اور ہمارا دفتر خارجہ اس بارے بھارت کو دنیا میں ایکسپوز بھی کرتا رہا ہے ۔ ٹی ٹی پی سے لے کر بی ایل اے اور اس جیسی دیگر تنظیموں ۔۔۔ ان کا سب کا ماسٹر مائنڈ بھارت تھا ۔ ۔ اب یہ جو آہ وبکا بھارت میں جاری ہے اسکی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ حقیقت میں پاکستان نے بھارت کو افغانستان میں چت کر دیا ہے ۔ ۔ اس وقت سہیل شاہین ہوں ، ذبیح اللہ مجاہد ہوں ، یا شہباب الدین دلاور سب بھارت کو باری باری اسکی افغانستان میں اوقات اس لیے دیکھا رہے ہیں ۔ کہ بھارت اب نئی گیم کھیلانا شروع ہوگیا ہے ۔

    ۔ بھارت اب دنیا کو یہ باور کروانے کے چکروں میں ہے کہ پاکستان اورافغان طالبان مل کر بھارت پر حملہ آور ہوں گے ۔ کبھی یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ مسعود اظہر طالبان سے ملے ہیں تو کبھی ان کو امر اللہ صلاح انقلابی لیڈر دیکھائی دینا شروع ہوجاتا ہے ۔ وجہ صرف ایک ہے ۔ جو طالبان نے کلیئر کر دی ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونا دیں گے ۔ اس کا دکھ سب سے زیادہ بھارت کو ہے ۔ ۔ یہ تین بلین ڈالرز کا اس کو اتنا دکھ نہیں ہے ۔ اصل سرمایہ کاری اس کی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے والی ڈوبی ہے ۔ ۔ اب یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دراصل بھارت افغان فورسز کو ٹریننگ دیتا ہی نہیں تھا ۔ یہ کرتے کچھ یوں تھے ۔ ان افغانوں کو electکرتے تھے جن کا تعلق پاکستان اور افغانستان دونوں سے ہوتا ۔ پھر انکو بھارت لے جا کر ۔ ان کو پاکستان کے خلاف کاروائیاں کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ۔ ذہن سازی کی جاتی ۔ اور جب کوئی ایسا مشن ہوتا تو ان کو افغانستان بھیج دیا جاتا ۔ اور یہ وہاں سے پاکستان پہنچ کر اپنا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچاتے ۔ اس میں امراللہ صالح نے بھارت کا پورا پورا ساتھ دیا ۔ کیونکہ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا ۔ یوں بھارتی ۔۔۔ را۔۔۔ اور این ڈی ایس کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کا مغربی بارڈر بھی destablizeکرنے میں لگی ہوئی تھی ۔ پر اب اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان اس امتحان میں بھی سرخرو ہوچکا ہے ۔ اس طرح ایک اور محاذ پر پاکستان نے بھارت کو شکست فاش دے دی ہے ۔

    ۔ یہ فتح بھی ان گمنام جوانوں اور سپاہیوں کے نام ہے جن کو کوئی نہیں جانتا ۔ کیونکہ یہ جنگ ٹینکوں اور طیاروں اتار کر نہیں لڑی گئی ۔ پس پردہ رہ کر کام کرنے والوں نے جیتی ہے ۔ یہ کام انٹیلی جنس ایجنسیز اور سفارت کاروں نے کیا ہے۔ ۔ اسی لیے کابل میں سابقہ ہندوستانی سفیر گوتم نے طالبان کے قبضے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ افغان چہرے کے ساتھ پاکستان کی پیش قدمی ہے۔۔ اب دنیا بھی اس بات کو مان رہی ہے کہ پاکستان کو اس جنگ میں فتح ملی ہے اور انڈیا افغانستان میں بیس سال لگا کر بہت لوگوں کی ذہن سازی کرکے 14 قونصل خانے کھول کر، ہزاروں افغان طالب علموں کو وظیفے دے کر اور سب سے زیادہ یہ کہ تین ارب ڈالر خرچ کرکے بھی ہار گیا ہے اور اب اس کی حکومت جو ایک سکتے کی کیفیت میں ہے۔ آئندہ کے لیے وہ راستے ڈھونڈ رہی ہے۔ ۔ پر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ ابھی مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوئی ہے ۔ اس وقت بھارت ان کوششوں میں ہے کہ کسی طرح ان ٹی ٹی پی والوں کو طالبان سے منحرف کرکے داعش کی چھتر چھایا میں لیا جائے ۔ اور پھر وہاں سے نئی گیم کا آغازکروایا جائے ۔

    ۔ جہاں طالبان اپنے آپ کو ایک سخت گیر ملیشیا سے زیادہ سیاسی قوت بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ اب انکے خلاف افغانستان کے اندر سے ہی نئی سازش رچی جارہی ہے ۔ جس میں
    ISIS-Kکو ایک ایسی طاقت بنانے کی کوشش جاری ہے ۔ جس میں TTP سمیت تمام طالبان مخالف طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا ۔ اگر یہ ہوجاتا ہے تو یہ خطے میں ایک اور نئے گھناونے کھیل کا آغاز ہے۔۔ حالانکہ دیکھا جائے تو افغانستان میں جنگ تو ختم ہوچکی ہے ۔ امن آچکا ہے ۔ اب یہ نئے سرے سے پھر سے جنگ کی شروعات کرنے کی کوشش کی جاری ہے ۔ ۔ جوبائیڈن بھی دنیا کو بتا رہا ہے کہ بہت زیادہ یہ اسلامک اسٹیٹ والے افغانستان میں آگئے ہیں۔ یہ اور حملے بھی کریں گے ۔ اس لیے ہم ڈرون حملے جاری رکھیں گے ۔ ۔ اب رک جائیں سوال یہ ہے کہ داعش یا اسلامک اسٹیٹ کو افغانستان میں چلا کون رہا ہے ۔ تو 8 اکتوبر 2020 کو فارن پالیسی میگزین نے لکھا تھا کہ انڈینز اور سینٹرل ایشیائی لوگ اسلامک اسٹیٹ کا نیا چہرہ ہیں۔۔ یہ لکھتا ہے کہ شام میں جاری عالمی جہادی تحریک میں بھی ہندوستانی اور وسطی ایشیائی لوگوں کا ایک اہم رول تھا۔۔ اقوام متحدہ کی جون کی رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا سے پہلے کچھ مہینوں میں آٹھ سے دس ہزار جہادی جنگجو وسط ایشیائی ریاستوں سے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ طالبان اور زیادہ تر اسلامی ریاست خراساں میں شامل ہوئے۔

    ۔ اب یاد کریں وہ اسٹوری جس میں بھارتی بینک دہشتگردی کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث نکلے تھے۔ پھر اجیت ڈول کے بیانات کو ملا لیں تو ساری کہانی آپکو خود سمجھ آجائے گی ۔ ۔ نئی گریٹ گیم شروع ہو چکی ہے ۔ یہ BRI اور greater euroasia partnership vs B3W بھی ہے ۔ اور روس چین ایران پاکستان بمقابلہ امریکہ نیٹو اور بھارت بھی ہے۔ ۔ دیکھا جائے تو اگر طالبان دیگر دہشت گرد گروہوں کو عالمی دہشت گردی سے نہیں روک پائے تو پھر عالمی طاقتیں وہی کریں گی جو داعش کے خلاف انہوں نے عراق اور شام میں 2014ء میں کیا۔ بوٹ زمین پہ رکھے جائیں نہ جائیں لیکن ہوائوں سے گولہ باری جاری رہ سکتی ہے۔

    ۔ اس لیے طالبان اور اُن کی تاریخ ساز فتح پھر واضح طور پر حملہ آور کا ہدف معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے کہ جب وہ فتح کے ثمر سمیٹ اور سنبھال رہے ہیں اور حکومت سازی کی شکل میں اپنی بےمثال عسکری، سیاسی اور سفارتی کامیابیوں کے بعد پُرامن اور مستحکم افغانستان کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔

    ۔ دشمن کا ارادہ مکمل بےنقاب ہے کہ انہیں یہ نہ کرنے دیا جائے اور پھر سے جنگ و جدل میں اُلجھا دیا جائے ۔ ۔ باوجود اس کے کہ وہ عام معافی کا اعلان کر چکے اور ان کی تبدیلی بھی واضح ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پُرامن افغانستان کے دشمن کی یہ آخری کوشش کتنی کامیاب ہوتی ہے؟ ۔ خدشات و خطرات تو بہت ہیں، کابل ایئرپورٹ حملوں کے بعد پورے افغانستان ہی نہیں خطے کے ممالک میں بھی تشویش کا درجہ پھر بہت بلند ہو گیا ہے۔۔ اس وقت ہم پاکستانیوں کو دعا کے ساتھ اپنی کوشش تو کرنی ہی ہے کہ بے پناہ مشتعل یا انتہائی مایوس ہو کر امریکی انتظامیہ، نیٹو اور خود طالبان کوئی غلط فیصلہ نہ کرلیں۔ ۔ اس حوالے سے پاکستان کے فیصلہ ساز ناصرف یہ کہ اپنی انفرادی صلاحیتوں کو مکمل بروئے کار لائیں بلکہ دوستوں کے اشتراک سے ’’پُرامن و مستحکم افغانستان‘‘ کے لئے سفارتی کوشش اور باہمی مذاکرات کو کامیاب کروایا جائے ۔ کوئی راہ نکالی جائے۔ بلیم گیم اور مہلک شک و شبہ سے بچا جائے۔۔ اِس مرتبہ پاکستان اپنی مرضی سے یہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ یاد رکھیں اسلام آباد پر کوئی کچھ مسلط نہیں کر سکتا بلکہ بڑے بڑے کرداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پاکستان سے تعاون لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔

    ۔ سانحہ کابل ایئر پورٹ کے حوالے سے امریکہ نے ہنگامی اور تشویشناک صورت حال میں پاکستان سے تعاون کی جو درخواست کی اور پاکستان نے اسے فوری تسلیم کرکے جو ہنگامی انتظامات کئے ہیں وہ دونوں ملکوں میں افغان مسئلے کی پیچیدگیوں کو طوالت سے پیدا ہونے والے باہمی اعتماد میں ہوئی کمی اور شک و شبہات کو دور کرنے میں معاون ہوں گے لیکن پاکستان کے شہروں کراچی، اسلام آباد، ملتان اور فیصل آباد میں امریکی فوجیوں یا شہریوں اور دوسرے غیر ملکیوں کی آمد اور ہوٹلز میں قیام کو محفوظ بنانا پاکستان کے لئے بڑا انتظامی چیلنج ہے۔

    ۔ خصوصاً داسو کے چینی انجینئروں پر ہلاکت خیز خود کش حملے، جوہر ٹائون کے بم دھماکے اور گوادر میں چینی ماہرین پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یہ سہولت اور مہمان نوازی ریاستِ پاکستان کے لئے چیلنج ہی نہیں ایک بڑا انتباہ بھی ہے۔ ۔ اس حوالے سے سارا انحصار صوبائی حکومتوں کے سیکورٹی انتظامات پر ہی نہیں خود وفاقی حکومت اور ہمارے سیکورٹی اداروں کو مکمل الرٹ رہنا ہوگا۔ ۔ فی الحال میرے خیال میں خطے کے تمام ممالک اگر مل کر رہے تو یہ داعشی دہشتگردی صرف وقتی چیلنج ہے اور انشاء اللہ اس پر جلد قابو پالیا جائے گا۔

  • تبدیلی سرکار کے تین سال   تحریر: احسان الحق

    تبدیلی سرکار کے تین سال تحریر: احسان الحق

    وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں. پاکستان میں حسب معمول اور حسب روایت حکومت اپنے کارناموں کی لمبی چوڑی فہرست عوام کے سامنے رکھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف ہمیشہ کی طرح حزب اختلاف حکومتی کارکردگی کی فہرست کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے حکومت کے کسی بھی دعوے اور کارکردگی کو ماننے سے انکاری ہے.

    ایک طرف تین سال کی تکمیل پر حکمراں جماعت نے اپنی گزشتہ تین سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھی ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف سب برا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہے. حقیقی تبدیلی یا کارکردگی کے حوالے سے عوام سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا.

    حزب اختلاف کے الزامات اور حزب اقتدار کے دعوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے عام پاکستانیوں کی نظر میں تبدیلی سرکار کے تین سالہ دور کا جائزہ لیتے ہیں. قرضوں میں ڈوبا ہوا اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے آپ ناقابل یقین معاشی اور اقتصادی ترقی کی امید نہیں کر سکتے. عمران خان صاحب انتخابی مہم کے دوران جن دعوؤں اور وعدوں کا بار بار ذکر کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مر جائیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، مگر مجبوراً انہیں یوٹرن لیتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا. صاحب اقتدار ہونے کے بعد وزیراعظم قومی خزانے اور قومی معیشت کی حالت دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے.

    پاکستان پہلے سے ہی اندرونی اور بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا تھا اور اب آئی ایم ایف کی سخت اور عوام دشمن شرائط ماننا پڑیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا. آئی ایم ایف کی شرائط میں سے نئے محصولات لاگو کرنا، پہلے سے موجود محصولات میں اضافہ کرنا اور بالخصوص بجلی کے نرخوں میں بتدریج اور مسلسل اضافہ کرنے جیسی مشکل اور سخت شرائط بھی تھیں، جنہیں ماننا پڑا. جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا.حکومتی دعوے کے مطابق جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو 9 ارب ڈالر کے غیر ملکی ریزرو تھے. 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جسے ہماری حکومت نے 10 سال کی کم ترین سطح پر لے آئی. کورونا کی وجہ سے اور کچھ عمران خان کو بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں نے عمران خان پر اعتماد کرتے ہوئے ریکارڈ زرمبادلہ پاکستان بھیجا.

    خیبر پختونخوا میں اپنے دور حکومت میں تحریک انصاف نے انصاف صحت کارڈ متعارف کروایا جس سے عام اور غریب عوام بہت مستفید ہوئی، عام انتخابات 2018 کے بعد وفاق اور پنجاب میں بھی حکومت سازی کے بعد تحریک انصاف نے صحت کارڈ کا دائرہ کار پنجاب بھر میں پھیلا دیا. میرے خیال میں عوام کے لئے سب بڑا تحفہ یا تبدیلی یہی صحت کارڈ ہے.

    1967 کے بعد پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا تھا جس کا ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے. لاکھوں اور کروڑوں ایکڑ زمین بنجر ہو گئی ہے اور مہنگے تیل سے مہنگی بجلی بھی بنانے پر مجبور ہیں، عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی بڑے ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کیا جن میں دیامیر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور، مہمند ڈیم، ہری پور پاور، کرم تنگی ڈیم اور سندھ بیراج قابل ذکر منصوبے ہیں.

    بے گھر اور لاوارث لوگوں کے لئے پناہ گاہیں بنائیں گئیں جن میں رہائش اور کھانے کا مناسب اہتمام کیا گیا ہے. میں ذاتی طور پر ان پناہ گاہوں کے حق میں نہیں. میرا خیال ہے کہ 100 بندوں کو پناہ گزین کرنے سے بہتر ہے کہ 10 بندوں کو روزگار پر لگایا جائے اور یہ 10 بندے 10 خاندانوں کے لئے کفیل ثابت ہو سکتے ہیں. اسی طرح غریب اور تنخواہ دار طبقے کے لئے سستے گھروں کو بھی متعارف کروایا گیا. کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوان نسل کو خود کفالت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے قرض سیکم بھی متعارف کروائی گئی. گزشتہ مالی سال 21-2020 میں ریکارڈ 4732 ارب کے محصولات اکٹھے کیے گئے اور آئندہ مالی سال 22-2021 کا ہدف پہلے سے بڑھا کر محصولات کا حجم 5800 ارب کر دیا گیا ہے. زیادہ محصولات اکٹھا کرنا اور آئندہ ہدف میں مزید اضافہ کرنا، اسکو معیشت کے لئے بہتر سمجھا جائے یا عوام پر محصولات کا مزید وزن اور دباؤ سمجھا جائے؟

    بہت اچھے کاموں میں سے ایک یہ بھی کارنامہ تبدیلی سرکار کے سر جاتا ہے کہ موجودہ حکومت نے سرکاری اور سرکاری اداروں کی زمینوں کو تجاوزات اور قبضوں سے واہ گزار کروایا. اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ ایکڑ جس کی مالیت 50 ارب روپے بنتی ہے کو واگزار کروایا گیا. محکمہ تعلیم نے بھی اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے خود کو دور جدید کے تقاضوں سے مزین کیا. ڈیجیٹل اور آن لائن سہولیات متعارف کروائیں. بہت سارے اسکولوں کو پرائمری سے مڈل اور مڈل سے سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری تک ترقی دی. احتساب اور انسداد رشوت کی مد میں اربوں روپے وصول اور ضبط کئے گئے. حکومتی اعداد وشمار کے مطابق نیب نے 535.783 ارب روپے وصول کئے جبکہ پنجاب انسداد کرپشن نے 225 ارب روپے وصول کئے. موجودہ حکومت نے وسیع پیمانے پر ملک بھر بلین ٹری کے تحت پاکستان کو سرسبز بناتے ہوئے اربوں درخت لگائے.

    یکساں نظام تعلیم کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں. یقیناً یہ کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے. کسی حد تک اردو کو عزت دینے میں عمران خان ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں. سابقہ حکومت کے مقابلے میں موجودہ حکومت نے ریکارڈ سڑکیں اور شاہراہیں تعمیر کیں، سابقہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں 645 کلومیٹرز کی ہائی ویز/موٹر ویز تعمیر کیں جبکہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے تین سال میں 1753 کلومیٹرز کی شاہراہیں مکمل کیں اور 6118 کلومیٹرز زیر تکمیل ہیں. تاریخ میں پہلی بار موجودہ حکومت نے سممدرپار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی بات کی اور پہلی بار الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کی بات کی. فی کس آمدن میں اضافہ ہوا اور قوت خرید میں 36.6 فیصد اضافہ ہوا. لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 14.4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا. ترسیلات زر میں ریکارڈ 29.4 ارب تک اضافہ ہوا.

    یقیناً یہ بھی عمران خان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کا اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ پاکستان میں کوئی کیمپ آفس نہیں. حکومت وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی اور بین الاقوامی دوروں میں سادگی کے ذریعے اربوں روپے کی قومی بچت کے دعوے بھی کرتی ہے.

    مہنگائی میں اضافہ ہوا، گھی 150 سے 335 فی کلو، چینی 55 روپے سے 110 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں. بجلی کے نرخ بھی تاریخ کے بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں. ادویات اور طبی سہولیات مہنگی ہوئی ہیں. پولیس اصلاحات کا وعدہ کیا تھا جو کہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا. عمران خان نے حکومت میں آتے ہی سرائیکی صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا. بہرکیف اگر مہنگائی کو نظرانداز کرتے ہوئے باقی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ حکومت کی کارکردگی نسبتاً تسلی بخش ہے.

    @mian_ihsaan

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ اول تحریر: محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ اول تحریر: محمد آصف شفیق

    الریاض سعودیہ میں تھائی لینڈ کی ایمبیسی  نے  سیاحوں کو سہولت دینے  کیلئے  ویزا پراسس میں  آسانی  کی تو میں  نے بھی سوچا کیوں نہ ہم بھی  تھائی لینڈ کا ویزہ لگوا لیں   اسی سلسلہ میں   معلومات کیلئے سب دوست احباب کو میسجز کر دئے  کہ جس  کے  پاس جو معلومات ہیں وہ شئر کریں   اور ڈاکومنٹس  کی تیاری  شروع کی 
    ایک عدد ایپلیکیشن فارم پر کرنا تھا اور  بیرون ملک مقیم ہونے کی وجہ سے ایگزٹ ری انٹری چاہئے  ہوتی ہے     اپنی  کمپنی سے تعارفی لیٹر اور تنخواہ کے لیٹر کی درخواست کی اور اس پر چیمبر اور کامرس سے تصدیق کروانی تھی  یہ سب مراحل الحمد للہ ایک ہفتہ میں مکمل ہوئے  ،  یہاں کا رہائشی  پرمٹ   گھر کا مستقل  پتہ اور  بینک کی تین ماہ کی   سٹیٹمنٹ بنیادی چیزیں  تھیں 
    تھائی لینڈ کے جس شہر میں سیر کیلئے جانا ہے وہاں پر کسی بھی ہوٹل کی بکنگ  اور  اتنے ہی دنوں کیلئے ہوائی جہاز کی ٹکٹ  کی بکنگ بھی چائیے  ہوتی ہے   ،  ویزہ پراسس کیلئے ان  سب  کیساتھ  ایمبیسی  کا وقت لینا پڑتا ہے  اور مطلوبہ وقت میں خود جاکر  اپلائی کرنا شرط ہے واپسی پر آپ  اپنی رسید کسی کے بھی ہاتھ  بھجوا کر  اپنا پاسپورٹ واپس لے  سکتے  ہیں
    میں نے بھی یہ سب کاغزات مکمل کئے  اور مطلوبہ  دن تھائی ایمبیسی  پہنچ  گیا  ، وہاں پہنچ کر پتا چلا جو فارم میں  اون لائن  پھر کر آیا ہوں وہ  اب کار آمد نہیں  رہا اس کے بدلے میں اب ہمیں  ہاتھ  سے  نیا فارم بھرنا ہوگا اور اس پر فریش تصویر بھی لگانی ہوگی اور  2 تصاویر انہیں اضافی بھی چاہئیں ہوں  گی 
    دوبارہ  سے وہیں بیٹھ کر سب معلومات کو جلدی جلدی  فارم  پر منتقل  کیا اور کچھ سوال و جواب کے بعد فیس کی ادائیگی  کے ساتھ ہی  ہماری  ویزہ کی درخواست قبول  کر لی گئی   ،    14 دن کا وقت دیا گیا کہ  آپکواطلاع دی جائے  گی اگر کوئی بھی مسعلہ ہوا تو،  بصورت  دیگر  رسید پر لکھی ہوئی  تاریخ  کو آپ آکر اپنا پاسپورٹ واپس لے  جانا
    ان ہی دنوں پاکستان چھٹی جانے کا ارادہ تھا تو سوچا اگر تھائی لینڈ کا ویزہ لگ گیا تو پاکستان  سے  ہی چکر لگا لیں  گے اسی بہانے  تھائی لینڈ بھی دیکھ لیں  گے اور کچھ بذنس یا جوب کے سلسلہ کا بھی پتا کرلیں  گے کہ وہاں جوب کی جاسکتی  یا اپنا بزنس اسٹارٹ کیا جاسکتا 
    خیر اللہ اللہ کر کے ہمارے دن مکمل ہوئے اور  دوبارہ اپنےپاسپورٹ  کی وصولی کیلئے  تھائی ایمبیسی  پہنچے  پاسپورٹ واپس لیا الحمد للہ ویزہ لگا ہوا تھا    تین ماہ کی سنگل انٹری سیاحتی ویزہ  جوکہ 17 اپریل  2018  سے   16 جولائی 2018 کے درمیان کبھی بھی استعمال کیا جاسکتا تھا
    9 جولائی کو کراچی سے تھائی لینڈ کے سفر کا فیصلہ کیا سب سے مناسب اور ڈائریکٹ فائٹ تھائی ائر لائین  کی تھی  ایک ہفتہ کیلئے ہوٹل بکنگ کروائی اور تھائی ائر کی ٹکٹ خریدی  اور  گھر سے اوبر منگوا کر سفر کا آغاز کیا  اوبر والا بھی کوئی شریف آدمی تھا اس  نے بھی بھانپ لیا کہ بندہ کراچی کا نہیں  لگتا اور مجھے بھی کوئی اندازہ  نہیں تھا بنے 330 اور اس ظالم  نے مجھ سے 1330 لے  لئے خیر  وہ تب پتا چلا جب اوبر کی طرف سے ای  میل موصول ہوئی اس وقت تک تو  میں جہاز میں سوار ہو چکا تھا   ، اللہ بھلا کرے اس انسان کا  ہزار روپے میں اس نے لاکھوں کا سبق  دے دیا
     بہر حال  جہاز میں نظر دوڑائی تو زیادہ تعداد اپنے پاکستانیوں کی تھی  اور کچھ لوگ   دوسرے ممالک کیلئے  ہونگ کانگ اور دوسرے ملک جانے کیلئے وہا ں تھوڑا قیام کر کے آگے جانے والے تھے اور کچھ  ہم  جیسے سیر و سیاحت کی غرض  سے   جانے  والے   ، فلائٹ اڑنے کے کچھ ہی  دیر بعد  اناونسمنٹ  ہوئی کے  باہر موسم شدید خراب ہے  اسلئے  اپنی اپنی  نشستوں پر بیٹھے  رہیں  اور  سیٹ بیلٹ باندھ کر رکھیں   ، تین بار ائر ہوسسٹس بیچاریاں  کھانا پیش کرنے کیلئے  اپنی ٹرالیاں لائیں  مگر ہر بار انہیں ناکامی ہوئی اور تقریباً 4 گھنٹے کا سفر  ایسے ہی گزرا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے شدید  جھٹکے  لگتے رہے اور اسی  طرح  ہلتے جہاز میں ہی کچھ نہ کچھ  کھا لیا  
    فلائٹ الحمد للہ اون ٹائم لینڈ ہوئی  جب باہر کا نظارہ دیکھا تو بارش کیساتھ ساتھ دھند دیکھ کر خیال آیا کہ شائد پھنس  گئے جیکٹ تو لائے ہی نہیں اور باہر لگ رہا شاید شدید سردی ہو ، جن لوگوں نے آگے جانا تھا سب نے اپنی اپنی جیکٹیں پکڑی ہوئی تھیں  جنہیں  میں نے حسرت بھری نگاہوں سے  دیکھا ، مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ڈھیٹ ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ، خیر پاکستان کی طرح انہوں نے بھی دور اتار دیا اور بس کے ذریعے  ائرپورٹ تک لائے ہمارے ساتھ ساتھ  کئی اور فلائٹس بھی آنے کی وجہ سے خوب رش ہوگیا چارو ناچار  ہم بھی لائن  میں لگ  گئے  ایک پیپر پھر دے دیا گیا اسے دو بار بھریں  ایک حصہ انہوں  نے  رکھ لیا ایک حصہ مجھے دے دیا اور ساتھ میں انگریزی میں کہا کہ یہ ضروری واپسی پر چاہئے ،  میں نے اسے تعویز کی طرح اپنے پرس میں سنبھال کر  رکھ لیا، امیگریشن کے فورا بعد وہاں  سے انٹر نیٹ اور فون کیلئے سم لی  ، گزشتہ سفروں نے تھوڑا بہت سکھا دیا ہے کہ جہاں بھی جاو اترتے ہی پہلا کام اپنے پاسپورٹ پر سم کارڈ لو تاکہ رابطے میں رہ سکو
    باہر نکل کر ٹیکسی والے سے سینٹر سٹی جانے کا پوچھا اس نے جو پیسے مانگے تو چکر سا آگیا جو دوست پہلے جا چکے تھے انہیں  میسج کیا کہ بھائی یہ حالات ہیں  انہیوں نے مشورہ دیا کہ ائر پورٹ کے نیچے میٹرو اسٹیشن  ہے وہاں سے ٹکٹ لو اور شہر پہنچ جاو ، بہترین  اور کم خرچ میٹرو ،جیسے جیسے اسٹیشن  آتے گئے رش میں اضافہ ہوتا رہا ایسا لگا جیسے  سب لوگ ہی میٹرو استعمال کرتے ہیں ، نوجوان بوڑھے سٹوڈنٹس سب لوگوں کو میٹرو ٹرین  استعمال کرتے دیکھا  انتہائی صاف ستھرا  ماحول  اور بہترین انتظام    ، خیر سینٹر سٹی پہنچ کر چیک کیا تو پتا چلا جو ہوٹل ہم نے بک کروایا ہے وہ آٹھ گھنٹے کی مسافت پر ہے  اور میٹرو سے نہیں جاسکتے آپکو  بس یا ٹیکسی پر جانا پڑے گا یہ سننتے ہیں  تھکن سے چور جسم نڈھال ہوگیا اور میں وہیں اسٹیشن پر ہی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ، تھوڑے اوسان بحال ہوئے  تو بکنگ ڈاٹ کام پر ہوٹل سرچ کیا اس وقت دوپہر کا وقت تھا قریب ہی ہوٹل مل  گیا  مگر چیک ان ٹائم چار بجے کا تھا  کریڈٹ کارڈسے  ادائیگی کی اور ہوٹل کی لوکیشن لگا کر پیدل ہی چل دیا   ، لگ تو قریب ہی رہا تھا مگر جب لوکیشن اون کی تو پتا چلا وہ  ڈرائیو آپشن پر تھا اور ہم پیدل   اللہ کا نام لیکر چل دئے گرمی اور ہوا بھی نمی کا تناسب بھی کچھ ایسا تھا کہ کچھ ہی دیر میں  سارے کپڑے پسینے  سے شرابور  ہوگئے  ،ہم نے بھی حوصلہ نہیں  ہارہ  اور ہوٹل کی طرف پیدل ہی والک جاری رکھی   کہ غلطی اپنی ہی تھی ہوٹل بکنگ کرتے ہوئے صرف سستا دیکھا سینٹر سٹی سے اسکا فاصلہ دیکھنا یاد نہ رہا تھا  ,

    @mmasief

  • مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت | تحریر :عدنان یوسفزئی

    مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت | تحریر :عدنان یوسفزئی

     سیرت کے لغوی معنی طریقہ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز کے ہیں۔

    مسلم و غیر مسلم ہر اس شخص کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہش مند ہے۔

    ہمارا ایمان ہے، کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک آنے والوں کے نبی ہیں۔قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں کے مسائل،معاملات مختلف ہیں۔

    کبھی لوگ امن کی حالت میں ہوتے ہیں تو کبھی جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں۔لوگوں کی ضروریات اور خواہشات مختلف ہیں۔یہ ضرورت اور خواہش روحانی بھی ہوتی ہیں،جسمانی بھی ہوتی ہیں اور نفسانی بھی ہوتی ہے۔

    ان مسائل کے حل کیلئے ایسے شخصیت کی ضرورت ہے جو ہم میں سے ہو اور وہ ایسا نظام دے جو قیامت تک کیلئے اور ہر ایک کیلئے ہو۔

    اس مقصد کیلئے سیرت طیبہ کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے کیونکہ حضور اکرم کے ذریعے اللہ تعالی نے قیامت تک کے آنے والے مسائل کا حل دیا ہے۔

    چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے "اور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے”.

    اللہ تعالٰیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول اور اطاعت رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے تاکہ آنحضرت کے احکامات اور دیگر اوامر و نواہی کے ساتھ ساتھ آپ کی پسند و ناپسند کا علم بھی ہو سکے۔

    دین اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے حوالے سے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے تاکہ ایک تو ہر مبلغ تبلیغ کے اس مسنون طریقہ کار سے آگاہ ہو جس پر عمل پیرا ہو کر آنحضرت ﷺ نے عرب کی کایا پلٹ دی اور دوسرا اس مطالعہ کے ذریعے مخاطب کو آنحضرت کے اسوہ حسنہ سے متعارف کروا کر اور موقع بہ موقع سیرت کے واقعات سُنا کر اسے متاثر کیا جا سکے۔

    سیرت طیبہ زندگی کےہر شعبہ میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ امن ہو یا جنگ،سفر ہو یا حضر،انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی،مسجد کا ماحول ہو یا بازار کا ماحول،گھریلو زندگی ہو یا باہر کی زندگی،تجارت ہو یا ملازمت،عبادات ہوں یا معاملات،خوشی ہو یا غمی، شادی ہو یا کوئی فوتیدگی ،معیشت ہو یا معاشرت غرض کوئی ایسی چیز نہیں جہاں سیرت پاک سے رہنمائی نہ ملتی ہو۔

    ہر باطل نظام کے خلاف سیرت طیبہ نے متبادل بہتر نظام پیش کیا ہے۔سود کے مقابلہ میں تجارت،کنونشنل بینکنگ کے مقابلہ میں اسلامی بینکنگ اس کی بہترین مثال ہے۔

    سیرت طیبہ ایک ایک مرحلہ پہ رہنمائی کرتی ہے۔ل مثال کے طور پہ جنگ کب کرنی ہے،کس سے کرنی ہے،جنگ سے پہلے کیا کرنا ہے،جنگ میں کیا کرنا ہے،جنگ بعد کیا کرنا ہے۔

    امن کہ حالات میں کیا کرنا ہے،امن کیلئے کس حد تک جایا جا سکتا ہے،

    سیرت کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ ہی نہیں بلکہ اہم دینی ضرورت ہے۔ غیر مسلم کا سیرت کے مطالعے کا مقصد ان حالات اور اسباب سے آگاہی ہوسکتی ہے جس کے ماتحت آنحضرت نے تئیس سال کے قلیل عرصے میں دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کردیا اور عرب کی جاہل اور اجڈ قوم سے ایک ایسی امت تیار کردی جس کے کارنامے انتہائی دلچسپ اور موجب صد حیرت ہیں۔و غیر مسلم جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بغض و عناد رکھتے ہیں۔

    ان کے مطالعہ سیرت کا مقصد اصل حقائق سے آگاہی حاصل کرکے انھی واقعات کو توڑ مروڑکر پیش کرنا اور حقیقت کے برعکس ان واقعات کو اپنے رنگ میں پیش کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

    جمع و تدوین سیرت کی مختصر تاریخ:

    محمد ﷺ کی ذات، آپ کی تعلیمات اور آپ کی حیات طیبہ کی جملہ معلومات آپ کے اصحاب، آپ کی ازواج اور دیگر اہل بیت کے پاس منتشر صورت میں موجود تھیں۔ چونکہ آپ بطور رسول اللہ ان سب کی توجہ کا مرکز تھے اس لیے یہ تمام اصحاب باہمی میل ملاپ اور گفت و شنید سے محمد ﷺ کی ذات گرامی سے متعلقہ مختلف قسم کی معلومات کا تبادلہ بھی کرتے جیسے کسی تازہ ترین وحی، کسی واقعہ یا کسی فرمان کا باہمی تبادلہ وغیرہ۔

    عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں سیرت لکھنے کا کام شروع ہوا۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگولیوتھ نے 1905ء میں آنحضور ﷺ کے حالات پر مبنی ایک کتاب Muhammad and the First Rise of Islam میں اعتراف کیا کہ ”حضرت محمدؐ کے سیرت نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کو ختم کرنا ناممکن ہے لیکن اس میں جگہ پانا باعث شرف ہے۔”

    اقوام متحدہ کے ثقافت و تہذیب اور تعلیم و تمدن سے متعلق ایک ذیلی ادارے یونیسکو کے چند سال پہلے کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق:”جس قدر کتب نبی اسلام کے بارے میں لکھی گئی ہیں اس کا عشر عشیر بھی کسی ایک شخصیت کے بارے میں نہیں لکھا گیا۔”

    کتب سیرت کی کثرت:1963ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں کتب سیرت کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں پیش کردہ کتب کی فہرست کالج نے شایع کی تھی۔ اس میں دنیا کی گیارہ زبانوں کی آٹھ سو سے زائد کتابیں مذکور ہیں۔

    سال 1975-1974ء میں حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں سیرت کانفرنس کے موقع پر ایک نمائش کتب سیرت منعقد کرائی جس میں موجود کتابوں کی تعداد تین ہزار سے متجاوز تھی۔

    ایک اور بین الاقوامی نمائش کتب سیرت میں صرف چودہویں صدی ہجری میں لکھی جانے والی کتب سیرت رکھی گئی تھیں جن کی تعداد چار ہزار سے متجاوز تھی۔

    بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے ارمغان حق کے نام سے دو جلدوں میں کتب سیرت کی ایک فہرست شایع کی تھی جس میں پندرہ زبانوں کی دو ہزار سے زائد کتابیں مذکورہ ہیں۔

    سیرت پر ہونے والا یہ کام نظم اور نثر دونوں میں دستیاب ہے۔ اگرچہ زیادہ کتب سیرت نثر میں ہی ہیں، تاہم مختلف زبانوں میں منظوم کتب سیرت بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور اگر صرف نعت کی کتابوں کو ہی لیا جائے تو ان کی فہرست پر بھی ایک رسالہ یا کتابچہ تیار ہوسکتا ہے۔

    سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ کرنے والے پر یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل میں یکجائی تھی، آپؐ کا ہر عمل آپؐ کے قول کے مطابق ہوتا تھا، یہ نہیں تھا کہ آپؐ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کا حکم فرماتے اور خود اس سے تہی دامن رہتے، بلکہ سب سے پہلے آپؐ ہی اس پر عمل پیرا ہوتے۔

    علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں غور و فکر کرنے والا لامحالہ اس کی تصدیق کرے گا کہ آپؐ کا ہر عمل آپؐ کے قول کے مطابق ہوتا تھا، اور وہ یقیناًیہ گواہی دے گا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اگر آپؐ کوئی معجزہ لے کر نہ آتے تب بھی آپؐ کی سیرتِ طیبہ آپؐ کی صداقت کے لیے کافی تھی۔ (ابن حزم۔ الممل و النحل:ج2، ص90)۔

    لہذا اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ سیرت طیبہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ کافروں کیلئے بھی مشعل راہ ہے۔

    ان سب مقاصد کے حصول کیلئے 

    مطالعہ سیرت نہایت ضروری ہے۔

    Twitter

    | @AdnaniYousafzai

  • بیوی کے جھگڑے سے بچنے کیلئے شوہر نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی

    بیوی کے جھگڑے سے بچنے کیلئے شوہر نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی

    نئی دہلی: بیوی کے جھگڑے سے خود کو بچانے کیلئے شوہر نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست گجرات میں بیوی کے غصے سے بچنے کے لیے شوہر نے گھر کے قریب پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی اور پھر پولیس کے سامنے گرفتاری بھی پیش کر دی۔

    کوئٹہ: دہشت گردوں کے خلاف آٔپریشن : 11 دہشت گرد ہلاک

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزم ڈیوچھاڈا سے جب واقعے کی تفصیلات جانیں تو ملزم کا کہنا تھا کہ وہ پولیس اسٹیشن کے عقبی علاقے میں رہائش پذیر ہے اس نے ایسا اپنے بیوی کے غصے سے بچنے کے لیے کیا اس کا اپنی بیوی سے پیسوں اور اخراجات کے معاملے پر اکثر جھگڑا رہتا تھا اور وہ ان روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ چکا تھا جن سے جان چھڑانے کے لیے اس نے یہ انوکھا اقدام اٹھایا-

    پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں دفعہ 436 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔