Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سگریٹ نوشی کے نقصانات .تحریر:ارم شہزادی

    سگریٹ نوشی کے نقصانات .تحریر:ارم رائے

    زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک خوبصورت نعمت ہے اور یہ نعمت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اسے بھرپور طریقے سے جیئیں، اب یہ لوگوں کا رویہ مختلف ہوتا ہے کہ اس کو کیسے بھر پور جینا ہے کیونکہ لفظ بھرپور کی تعریف سب کی اپنی اپنی ہے۔ کچھ لوگ اسے اللہ کی یاد میں کھو کر اسکے زکر سے لطف اندوز ہوکر جیتے ہیں تو کوئی ماڈرنزم کے نام پر مختلف بری عادات میں کھو کر جیتے ہیں۔ اللہ کی یاد میں گزاری زندگی نا صرف دنیا کے لیے بھرپور ہوتی ہے بلکہ آخرت میں بھی اجر و ثواب کی حقدار بنتی ہے جبکہ دنیوی عیش وعشرت میں کھو کر اور بری عادات میں کھو کر زندگی تو خراب ہوتی ہی ہے آخرت بھی برباد ہوتی ہے۔ ان بہت ساری معاشرتی برائیوں یا بری عادات میں ایک عادت سگریٹ نوشی تمباکو نوشی کی ہے جو ناصرف آپکی زندگی خراب کرتی ہے صحت خراب کرتی ہے بلکہ اپکی آخرت بھی خراب کرتی ہے کیونکہ یہ نشہ ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ پھر اسکا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ یہ نا صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو برباد کرتی ہے بلکہ آس پاس لوگوں کو بھی بیمار کرتی ہے ماحول الودہ کرتی ہے۔ ماحول کی الودگی ٹریفک کی وجہ سے پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہے ساتھ اپنے ہاتھ سے دھواں سانس کے زریعے خود پھیپھڑوں میں اتارنا ہے۔ بلکہ ساتھ بیٹھے لوگوں کے اندر میں دھواں ٹرانسفر کرنا ہے۔ اس معاشرتی برائی کے معاشرتی پہلو الگ ہیں مذہبی الگ ہیں اور صحتی الگ ہیں۔ پہلے اسکے معاشرتی پہلو پر نظر ڈالیں تو ہمیں آج ایک بڑی تعداد اس میں مبتلاء نظر اتی ہے پھر بدقسمتی سے اس بچے ٹین ایج بچے تو شامل ہو ہی رہے ہیں ساتھ لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد اس، میں مبتلاء ہوچکی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے، ہمارا رہن سہن ہمارا معاشرتی ماحول ہمیں اس چیز کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اور پھر ہمارا ماحول ہمارے مذہب سے جڑا ہے اور ہمارے مذہب میں تمباکو نوشی کی گنجائش ہی نہیں نکلتی ہے کیونکہ یہ نشہ میں شمار ہوتا ہے اور نشہ حرام ہے مذہب اسلام میں۔ قران شریف میں نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی الله عليه والہ وسلم حلال پاکیزہ طیب چیزوں کو حلال ٹھہراتے اور خبیث و ناپاک اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مکمل مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام غلط اشیاء جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوں حرام و ناجائز ہیں۔ اور سگریٹ کے بارے میں تو طے شدہ بات ہے کہ یہ انتہائی مہلک اور مضر صحت ہے۔،سگریٹ کا بینادی عنصر تمباکو ہے جو بنگسن کی نسل سے ایک نباتات ہے جسے کھانے سے جانور بھی اجتناب کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے سگریٹ میں بھر کر وہی زیر انسان خود اپنے ہاتھوں سے پھانکتا ہے۔اور اس کے مسلسل اور زیادہ استعمال کی وجہ سے انسان میں کئی نفسیاتی و جسمانی امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے باوجود معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اسے استعمال کرتا ہے۔اس رجحان کو کم کرنے کے لیے کئی رسالے مقالے اور سیمنارز ہوتے رہے کئی ممالک نے اس ہر پابندی بھی لگائی لیکن مکمل عملدرآمد نہیں کروا سکے۔ ایک اندزے کے مطابق تقریباً 6لاکھ سے زائد افراد اسکی وجہ سے موت کا شکار ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اسی طرح غیر فعال تمباکو نوشی کے سبب ایک لاکھ پینسٹھ ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے 40فیصد بچوں اور 33فیصد مردوں جبکہ 35 فیصد خواتین کی صحت کے گوناگوں خطرات لاحق ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں کی زد میں آکر امراض قلب میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 3لاکھ 79ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ایک لاکھ65 ہزار افراد سانس کی نالی کے انفیکشن جبکہ36 ہزار دمہ کے امراض اور 21ہزار 4سو پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلاء ہیں۔ تمباکو میں موجود نیکوٹین جیسا زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلرز کو بری طرح متاثر کرتا ہے، نیکوٹین سے دل پھیپھڑے کے امراض کے علاوہ اعصابی امراض بھی جنم لے رہے ہیں اور خواتین میں اسکے استعمال کی وجہ سے ماں بننے کی صلاحیت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ڈاکٹر فہیم جو کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال میں ہوتے ہیں انکا کہنا ہے کہ شوکت خانم نا صرف کینسر کا علاج کررہا ہے بلکہ سگریٹ کے دھوئیں سے ہونے والے منہ کے کینسر انتڑیوں کے کینسر اور پھیپھڑوں کے کینسر کے بچاؤ کے لیے باقاعدہ مہم چلاتا ہے آگاہی فراہم کرتا ہے بچاؤ کے طریقے بتاتا ہے۔ اور اس سال کورونا میں ہونے والی اموات میں زیادہ وہ لوگ شامل تھے جو کسی نا کسی طرح تمباکو کے عادی تھے کیونکہ کورونا کا بھی براہ راست اثر پھیپھڑوں پر ہوتا ہے اور جو پھیپھڑے پہلے ہی تمباکونوشی کے عادی تھے اور کمزور ہوچکے تھے ان پر جلدی اثر ہوا۔ڈاکٹر فہیم کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ سگریٹ یا تمباکو کے دھوئیں میں تقریباََ سات ہزار کیمیکل ہوتے ہیں جن میں آڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہوتے ہیں اور پچاس سے زائد ایسےکیمیکل ہیں جو کینسر ک باعث بنتے ہیں۔ دھوئیں سے دل کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں سے منہ کا کینسر گلے کا کینسر اور خوراک کی نالی کے کینسر سر فہرست ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے متفقہ طور پر کینسر اور دل کی بیماریوں کو 54فیصد تمباکو کے دھوئیں کا باعث قرار دیا ہے۔ دھوئیں سے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں اور بالاخر ہارٹ اٹیک تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے بچا کیسے جائے؟ حکومت ایسے پروگرام شروع کرے جس، میں عوام، میڈیا، بزنس کمیونٹی، سکول، کالج، یونیورسٹی کے طلباء بھر پور حصہ لیں۔نصاب میں اسکے نقصانات کو شامل کیا جائے اسے ایک سماجی برائی کے طور پر معاشرے میں متعارف کروایا جائے، عوام کو بتایا جائے کہ بیشک سگریٹ کے لیے کتنے ہی اچھے کمرشل بنیں لیکن آخر میں ساتھ ہمیشہ لکھا ہوتا ہے کہ "خبردار تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت”۔ اس کے اخلاقی مذہبی اور صحت کےنقصانات کے حوالے سے آگہی دی جائے اس سے بچاؤ کے حوالے سے تجاویز دی جائیں صحت مند سرگرمیوں کے لیے راہ ہموار کی جائے کھیلوں کو زندگی کا حصہ بنایا جائے خوارک کو صحت مند بنایا جائے تاکہ اس سماجی برائی کے صحت پر مضر اثرات کو کنٹرول کیا جاسکے اور ختم کیا جاسکے
    جزاک اللہ
    تحقیق وتحریر
    @irumrae

  • عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    عزت نفس اور خود اعتمادی. تحریر:صائمہ رحمان

    خود اعتمادی خود پر پختہ یقین کا نام ہے یہ سماجی اور نفسیاتی تفہیم ہے۔ خود اعتمادی اس حالت کو کہتے ہیں جہاں فرد بھرپور اعتماد کی کیفیت میں رہتاہے ۔ خود اعتمادی کے لیے اہم عناصر میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت،عمل کرنے کی صلاحیت اور قوت ہوتی ہے خود اعتمادی ایک ایساجوہر ہے جو خود اعتماد شخص کے ذہن میں ایسی صفات پیدا کردیتا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل کام بھی آسان سمجھنے لگتا ہے اور اس کو مکمل کرنے لئے آخری حد تک اپنی کوشش کرتا ہےاور وہ ہر ذمہ داری کو قبول کرنے اور اس کے نبھانے میں کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کرتا۔ایسے شخص کا چہرہ پر کشش، جازب نظر، گفتار بامعنی اور شخصیت پروقار ہوتی ہے
    یہ خوبی انسان کے بہترین اوصاف میں شمار کی جاتی ہے جس کو خود پر اعتماد ہو وہ انسان اپنی منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے اور اس کے آگے حائل ہونے والی رکاوٹوں سے نہیں ڈرتا ۔خود پر اعتماد کرنے والے لوگ نا صرف زندگی کے ہر میداں کامیاب ہوتے ہیں یہی خود اعتمادی ان کو مضبوط کرتی ہے۔
    خود اعتماد انسان کو اپنے کام اپنی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے مخالف حالات سے ان کے اداروں پر کچھ اثر نہیں پڑتا وہ اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے ہم جیت جائے گے۔ ایسا انسان اپنی خود اعتمادی سے اپنی تقدیرخود بناتا ہے ہار کر بھی جیت کی تلاش میں رہتا ہے خود اعتماد شخص شیشے کی طرح شفافءت پسند ہوتا ہے وہ ناکامی کے بعد بھی اپنی کامیابی کی طرف امید سے دیکھتا ہے ۔

    خود اعتماد شخص ہمیشہ عزت نفس کا قائل ہوتا ہے بہت سے بے بس انسانوں کی خود اعتمادی نے ان کو زندگی میں بلندی تک پہنچا دیا ہے بطور ایک باشعور خود اعتماد اور عزت نفس رکھنے والا شخص ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں اپنی موجودگی کی کوئی اچھی وجہ بنے رہے۔ ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں ہماری عزت برقرار رہے اور انہی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی عزت کو ہم اپنی قدر جانتے ہیں جو شخص خود اعتماد ہوتا ہے وہ عزت نفس کا بھی قائل ہوتا ہے۔
    اپنے اندر خود اعتمادی کیسے بھال کی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا احساس کریں۔ بعض اوقات ایسی چیزوں پر توجہ دیناآسان ہوتی ہے جنہیں آپ حاصل نہ کر سکے ہوں بہ نسبت ان چیزوں کے جو آپ حاصل کر چکے ہیں۔ ایسی چیزوں پر دھیان دے کر جو آپ حاصل نہیں کر سکے آپ آسانی سے اپنا اعتماد کھو سکتے ہیں۔ اپنی زندگی میں مثبت رہیں۔ مثبت سوچے اچھا سوچے ہر کسی کی کچھ خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خوبیوں پر توجہ رکھیں۔ اپنی خوبیوں کا ادراک ہانا چائیے اور اپنی صلاحیتوں کو اپنی خوبیوں کے مطابق ڈھالا جا ئے تو آپ کی خود اعتمادی میں اضافے کا ہوتا ہے اور عزت نفس پیدا ہو گی۔خود اعتمادی ایک ایساوصف ہے جس کے بغیرکوئی بھی خواہ وہ کتنی بھی خوبیوں کا مالک کیوں نہ ہو، کامیاب نہیں ہو سکتا۔ خوداعتمادی ایک صحت مند شخصیت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہےخود اعتمادی ہو توزندگی خوشگوار بن جاتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے کامیابی کی بلند ترین منزلوں کو حاص کرنا آسان ہوتا ہے۔
    آخر میں، اپنی خود اعتمادی کی تعمیر کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرتی رہنی چاہیے اور چھوٹا موٹا خطرہ مول لیتے ہوئے ایسے کام کرنے چاہیئں ہار نہیں منانی چائیے ہار کر بھی جیت کی کوشش جاری رکھنی چاہیئے ایسے کام جو ہم نے پہلے کبھی نہیں کیے ہوتے۔ ہر نئے کام کے اندر ایک چیلنج پوشیدہ ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے چیلنجوں کی وجہ چاہے ہم اس کام کو کرنے میں ناکام رہیں، لیکن ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • فرانس کے سابق فٹبالر 40 سال کوما میں رہنے کے بعد چل بسے

    فرانس کے سابق فٹبالر 40 سال کوما میں رہنے کے بعد چل بسے

    پیرس: افرانس کے سابق فٹبالرجواں پیئرے ایڈمز 40 سال کوما میں رہنے کے بعد 73 سال کی عمر میں انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق جواں پیئرے ایڈمز نے 70 کی دہائی میں 22 بین الاقوامی میچوں میں حصہ لیا تھاآنجہانی فٹبال 1982 میں اس وقت کوما میں چلے گئے تھے جب ان کے گٹھنے کا معمولی آپریشن کرنے کے لیے اینستھیزیسٹ نے غلطی کی تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اینستھیزیسٹ نے اس دن غلطی یہ کی تھی کہ ایڈمز کے لیے اپنے ایک ٹرینی کو چھوڑ دیا تھا کیونکہ اسپتال کے عملے کی ہڑتال کے باعث ان پر 8 دیگر مریضوں کی بھی ذمہ داری تھی۔

    آنجہانی فٹبالر کے کوما میں جانے کی وجہ سے مقدمہ درج ہوا تھا اور 90 کی دہائی میں دونوں پر فرد جرم عائد کی گی تھی۔ عدالت کی جانب سے دونوں کو ایک ماہ کی سزا دی گئی تھی اور 890 ڈالرز کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

    کوما میں جانے والے فٹبالر نے 15 ماہ اسپتال میں گزارے تھے جس کے بعد ان کی دیکھ بھال کی تمام ذمہ داری اہلیہ برنیڈیٹ نے ادا کی تھی۔

    آنجہانی فٹبالر کے دو بیٹے ہیں ان کی بیوہ نے 2016 میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسپتال نے ان سے کبھی معذرت تک کرنے کی زحمت نہیں کی۔

  • خواتین اساتذہ کے مسائل تحریر: آصف گوہر

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے بتع کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے مزر‏.‏ کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے
    صحیح بخاری 6124
    مہذب معاشروں میں قوانین اور پالیسیاں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لئے بنائی جاتیں ہیں اور جن قوانیں میں لچک نہیں ہوتی وہ ٹوٹ جایا کرتے ہیں ۔
    چند روز قبل ماریہ احسان الہی کی ٹویٹ نظر سے گزری نفس مضمون کچھ یوں تھا ۔
    "‏‎میں ایک ایسی ٹیچر کو جانتی ہوں جن کا مس کیریج ہوگیا اپنی جاب کی وجہ سے وہ روزانہ 46 km ایک طرف کا سفر کرتی تھی اسکول کے لیے نتیجتاً انہیں طلاق کا سامنا کرنا پڑا”
    پڑھ کر دل پسیج کر رہ گیا کہ ملازمت ہنستا بستا گھر کے ٹوٹنے کا سبب بنا۔
    ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں ۔جنسی درندوں کی بہتات میں خواتین کا ملازمت کے لئے نکلنا جان جوکھم میں ڈالنےسے کم نہیں ۔
    سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ بہت ساری خواتین تنگ آکر ملازمت چھوڑ دیتی ہیں جس سے انکو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ خانگی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔
    پچھلے ماہ روالپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں
    اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچیں
    موجودہ پنجاب حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کئ انقلابی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ جس میں اساتذہ کے تبادلوں کے نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے اساتذہ گھر بیٹھے اپنی ٹرانسفر کے لئے اپلائی کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود خواتین اساتذہ کو خواہش کی جگہ ٹرانسفرز کے راہ میں کئ طرح کی رکاوٹیں حائل ہیں سیٹیں خالی نہیں یا وہ اپنے موجودہ سکول میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اپلائی ہی نہیں کر سکتیں ۔
    میں نے خود پنجاب کے دوردراز شہروں سے ٹرانسفر کے لئے آئی خواتین اساتذہ کو لاہور سیکرٹریٹ میں پریشان حال دیکھا جن کے پاس تعلقات اور تگڑی سفارش ہوتی ہے انکی ایکسٹریم ہارڈشپ کے تحت ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔
    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور ڈاکٹر مراد راس سے التماس ہے کہ
    خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے اور خواتین اساتذہ کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور جواتین اساتذہ کو ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے ہر ڈسٹرکٹس میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں جن کاچیف ایگزیکٹو آفیسرز کو بخوبی علم ہے ۔
    روزگار کے لئے سو سو کلومیٹر روز کا سفر اذیت ناک ہوتا ہے خانگی زندگی کو برباد کر دیتا ہے۔ اپنے بچے مطلوبہ توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
    آسانیاں پیدا کریں اور گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔
    @Educarepak

  • ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    11، 12، 13، 14، 15، 20،  22، 23،  25 ، 43، 45،  91، ، 93،9، 94۔۔۔۔ جیو اسٹار، نیا وقت، اچھا وقت، ، اے آر زیڈ، سماں،  میری جنگ، تیری جنگ، کرائم کنٹرول، اینٹی کرپشن، اینٹی کرائم۔ دوستو  ابتدائی حروف سے نہ سہی ، الفاظ کی گردان سے تو آپ کی سمجھ میں کچھ نہ کچھ معاملہ تو آہی گیا ہوگا،،، جی ہاں یہ وطن عزیز میں پھیلی اس نئی وبا یعنی ویب ٹی وی  میں سے چند ایک کے نام ہیں۔ اب میں انہیں وبا کیوں کہہ رہاہوں اسکا کچھ قصہ ہوجائے۔ پاکستان میں اکیسویں صدی کی ابتداء کے ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا تیزی سے پھلا پھولا، ایک کے بعد ایک سیٹلائٹ ٹی وی چینلز  منظر عام پر آئے۔  ہر لمحہ بریکنگ نیوز کی دوڑ نے عوام کے لیے نئی مصروفیت کا سامان کیا۔ ریٹنگ کے چکر میں ان چینلز کی  خبریں بعض اوقات ڈرامے سے بھی زیادہ سنسنی لیے  ہوتیں،،، صاف ستھرے چمکدار اسٹوڈیوز میں بیٹھے نیوز کاسٹرز اور اینکرز کو فنکاروں سے زیادہ شہرت ملنے لگی۔ ترقی کے خواہش مند ہر نوجوان کا دل اینکرنگ کو مچلنے لگا لیکن کیا کیجئے کہ ایک انار سو بیمار کے مصداق چند ایک چینلز تھے اور انکے کچھ درجن اینکرز۔ ٹی وی میزبان بننا مقابلے کا امتحان پاس کرنے سے زیادہ کٹھن اور قسمت کا کھیل سمجھا جانے لگا اور ہزاروں امیدواران میں سے کچھ حسد اور کچھ رشک کرتے رہ گئے۔

    ان سب من ہی من میں تیار اینکرز اور  صحافیوں نے قسمت کا لکھا جان کر صبر کرلیا تھا کہ اسمارٹ فون کی آمد سے ایک نیا در  وا ہوگیا،،،  موبائل یا کمپیوٹرز میں ایڈیٹنگ سافٹ وئیر انسٹال کریں،،، دیوار پر ایک رنگ کا کپڑا لگائیں،،، کسی بھی موضوع پر ویڈیو ریکارڈ کریں اور اس کی ایڈیٹنگ کرکے پس منظر میں اسٹوڈیو بنا لیں،،، آپکا چینل تیار ہوگیا،،، شروع میں یہ چینل مقبول بھی ہوئے کیونکہ غیر روایتی انداز میں کام کرنے والے یہ چینلز پیمرا اور دیگر حکومتی کنڑول سے آزاد تھے ۔ یہاں بغیر کسی رکاوٹ کے حکومت پر تنقید ممکن تھی اور لائیو نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ شدہ ہر اسٹوری چلانا ممکن تھا،،، روایتی میڈیا کے تربیت یافتہ صحافیوں کا  شروع کردہ یہ سلسلہ جب غیر تربیت یافتہ، کم پڑھے لکھے اور دیہاڑی دار صحافیوں تک پہنچا تو وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوا کہ الامان۔

    خود کو صحافی کہلانے والی یہ مخلوق معروف چینلز سے مشابہ لوگو اٹھائے  ہر چھوٹے بڑے شہروں کی گلی محلوں، دفاتر ، دکانوں اور فیکٹری کارخانوں پر یلغار کرتی نظر آتی ہے۔ خبر لینے کے بہانے یہ حضرات جب کسی تاجر کے پاس جاتے ہیں تو مفت جلیبیاں یا پکوڑے نہ ملنے پر  بھی ناراض ہوجاتے ہیں۔ یہ غصہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اسی دکاندار کو دکھانے اور پیسے اینٹھنے پر ہی ختم ہوتا ہے،  ہر آتے جاتے عام و خاص کے سامنے منہ میں گھسیڑنے کی حد  تک مائیک دے ڈالنا اور اپنے بے تکے سوالات کا جواب مانگنا یہ صحافی اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ کسی کی نجی زندگی اور قانونی و غیر قانونی کافرق ان  کو بالکل نہیں معلوم ہوتا۔ سارا دن صحافت کے نام پر بھتہ خوری کےبعد شام کو یہی  فیس بکی اور یوٹیوبی "سینئر صحافی  "ہر مسئلے کا طوق  حکومت کے گلے ڈال کر  خود ہاتھ جھاڑ پرے  ہولیتے ہیں۔

    حکومت کی دیگر پالیسیوں پر لاکھ اختلاف  سہی لیکن ایسے بے مہار چینلز اور منہ پھاڑ صحافیوں کا قبلہ درست کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ ایسے گلی محلے کے چینلز کی رجسٹریشن وقت کی ضرورت ہے،،، اس امر کے لیے مالکان کی اہلیت  اور شہرت  کو مدنظر بھی نہایت اہم ہوگا ورنہ میڈیا کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہ ہو ان لفافی صحافیوں کے چکر میں حقیقی صحافی اور میڈیا سے وابستہ دیگر کارکن اپنی عزت بچانے کو شعبے کو خیرآباد کہہ دیں اور  پھر میڈیا کے نام پر ان  بہروپیوں کے کرتب ہی باقی بچیں

    @hidesidewithak

  • یوم دفاع پاکستان  تحریر: تماضر خنساء

    یوم دفاع پاکستان تحریر: تماضر خنساء

    چھ ستمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ
    یادگار دن جب پاک فوج کے جوانوں نے اس پاک وطن کی طرف بڑھنے والے ناپاک قدموں کو روند ڈالا تھا…
    وہ چھ ستمبر کا دن تھا جب انڈیا نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لاہور پر قبضہ کرنے کا ارادہ کیا… انڈین آفیسرز بہت خوش تھے اسی لیے کچھ زیادہ ہی پر اعتماد بھی تھے…. ان کا ارادہ تھا کہ واہگہ بارڈر سے پاکستان پر حملہ کرکے وہ باآسانی لاہور پر قبضہ کرلیں گے… صرف یہی نہیں بلکہ وہیں ان کا جشن منانے کا بھی ارادہ تھا.. وہ بے چارے لاہور میں ناشتہ کرنے کے خواہشمند تھے…
    بھارت کی یہ چھوٹی سی خواہش تو پوری نہ ہوسکی مگر پاکستانی سپاہ نے انڈیا کے ماتھے پہ شکست کا وہ جھومر سجایا کہ جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا…
    وہ آئے تو ناشتہ کرنے تھے مگر پاک فوج نے انکو زندگی بھر کا ناشتہ بھلادیا …
    بھارتی فوج کا وہ کمانڈر انچیف جس نے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانے میں شراب پی کر اپنی فتح کا جشن منائیں گے پاک فوج کے سپوتوں نے اسکو ایسا طمانچہ رسید کیا کہ اسکے بعد سے تاریخ میں کسی بھی انڈین نے فوجی نے پاکستان کی چائے سے زیادہ کی فرمائش نہیں کی ….
    رات 3:45 پہ واہگہ بارڈر کی طرف سے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے طاقت کے نشے میں چور ہو کر حملہ کردیا …پھر آسمان نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ کس طرح پاک فوج کے نڈر جانبازوں نے اپنے جسموں سے بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنا ڈالا اور اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی
    جبرالٹر آپریشن کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی.اسی نتیجے میں جنگی جنون میں مبتلا اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کو کھلم کھلا دھمکی دے ڈالی تھی کہ ” اب ہم اپنی مرضی سے اپنا من پسند محاذ کھولیں گے ".بھارت کی ہمیشہ سے یہی روش رہی ہے.
    موسم برسات ٹینکوں کی نقل و حرکت کیلیے ایک رکاوٹ ہوتا ہے اور فوجی نقل و حرکت بھی اس وقت سست روی کا شکار ہوجاتی ہے . موسم برسات کے ختم ہوتے ہی بھارت نے سیالکوٹ، قصور اور لاہور تین جانب سے پاکستان پہ حملہ کردیا . بھارت کامنصوبہ تھا کہ حملہ اس قدر اچانک اور فوری ہو کہ پاک فوج سنبھل ہی نہ پائے، مگر افسوس وہ لوگ پاک فوج کو سمجھ ہی نہ پائے اور پھر پاکستان کے قابل سپوتوں نے وہ معرکے سر انجام دیے کہ دنیا دنگ رہ گئ، بھارتی فوج نے لاہور سے حملہ کرکے ہڈیارہ گاؤں پر قبضہ کرلیا ،جواب میں پاک فوج نے دشمن کو نو گھنٹے کامیابی سے وہیں روکے رکھا اور یہی وقت تھا پاک فوج کے سنبھل جانے کا اور بھارتی فوج ڈگمگا کر رہ گئ …بی آر بی نہر بھارتی فوج کیلیےمضبوط دیوار بن گئ
    یہ معرکہ شہید میجر عزیز بھٹی نے سر انجام دیا اور شہادت سے سرفراز ہوئے…
    اگلے دو دن پاک فوج نے بھارت کے علاقے میں آٹھ کلو میٹر تک پیش قدمی کی اور قصبہ کھیم کرن پہ پاکستان کا پرچم لہرادیا جس کے جواب میں جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے اپنے ٹینک اس جنگ میں جھونک دیے ،اس محاذ پر دوسری جنگ عظیم کےبعد ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ ہوئ ،اس جنگ میں فرسٹ انڈین آرمر ڈویژن بھی شامل تھا جسکے باعث پاک فوج پہ یہاں دباؤ بڑھ گیا تو پاک فوج کے جوانوں نے اپنے جسموں سے بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ٹینکوں کا قبرستان بنادیا، اسی کے ساتھ پاک فضائیہ بھی حرکت میں آگئ اور یوں چونڈہ کے مقام پر بھارتی پیش قدمی روک دی گئ… آج بھی چونڈہ کے مقام پر وہ ٹینک نصب ہے جسے بھارتی چھوڑ کر بھاگے تھے.
    بھارت میں چونڈہ کا مقام انکے ٹینکوں کی قبر کے نام سے” جانا جاتا ہے ”
    پھر پاک فضائیہ نے اپنے جوہر دکھائے اور بھارتی اڈوں کو بہت نقصان پہنچایا اسی میں پاک فوج کے دو ہواباز رفیقی اور یونس حسن شہید ہوگئے.. پھر اسکے بعد بھارتی فضائیہ کی کوئ قابل ذکر کارکردگی دیکھنے میں نہیں آئ اور یہیں دوسری طرف پاکستان کےقابل فخر سپوت ایم ایم عالم نے بھارت کے چار ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مارگرائے جس نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑڈالی..
    جہاں بری اور فضائ فوج نے دشمن کو مارگرایا وہیں بحری فوج نے بھی اپنے جوہر دکھائے اور بھارت کے دوارکا نامی اڈے کو تباہ کردیا دوسری طرف پاک بحریہ کی آبدوز غازی” نے بھارتی بحری جنگی جہاز ککری بھی تباہ کردیااس سے بھارتی بحریہ کی بھی کمر ٹوٹ گئ اور اسی کی بدولت کراچی محفوظ رہا.. یہ یاد گار جنگ تیئس ستمبر کو ختم ہوئ اور اپنے ساتھ ساتھ بھارت کے ماتھے پہ شکست کا کلنک چھوڑگئ اور پاکستان کی فتح ساری دنیا نے دیکھی….
    چھ ستمبر کی جنگ کے بعد سے بھارت نے کبھی پاکستان سے آمنے سامنے جنگ کی ہمت نہ کی ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کر کے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے…
    ہر سال پاکستان میں چھ ستمبر کی اس جنگ کو یاد کیا جاتا ہے جس میں بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا…
    یہ وہ دن ہے کہ جب دنیا نے دیکھا کہ ایک کمزور ملک نے کسطرح جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو شکست دی…
    اسی فتح اور پاکستان کے مضبوط دفاع کی مناسبت سے اس دن کو یوم دفاعِ پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
    یہی وہ یادگار دن ہے جب پاک فوج کے جانبازوں نے اس ملک کی خاطر اپنی جانوں کی بازیاں کھیلیں اور اپنے رب کے حضور سرخرو ہوگئے… آج بھی پاکستان کا ہر ایک جوان پہلے سے زیادہ نڈر اور بہادر ہےانکو موت کا کوئ خوف نہیں یہ تو بس اس وطن کیلیے جیتے ہیں اور شہید ہونا ایک اعزاز سمجھتےہیں… یہی وہ بے خوفی ہے جو انکی فتح کی ضامن یے کہ ایک مسلمان کیلیے شہادت کے مرتبے پر فائز ہونا تو ایک بہت بڑا اعزاز ہے جسکی تمنا عمر ابن خطاب رض جیسے صحابی نے کی…

    اے میرے وطن کے پاسبانوں
    تم اس وطن کے ماتھے کا جھومر ہو
    تم اس وطن کا قابل فخر سرمایہ ہو

    @timazer_K

  • تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    سگریٹ پینے سے جسم پر کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک سائنسی تحقیق کے مطابق، سگریٹ پینے سے تمباکو کے استعمال سے منسلک نہیں بلکہ ان تمام وجوہات سے مرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سگریٹ پینے سے نظام تنفس، گردش کا نظام، تولیدی نظام، جلد اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں اور اس سے بہت سے مختلف کینسروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔استحریر میں سگریٹ پینے سے کچھ ممکنہ اثرات دیکھتے ہیں۔1. پھیپھڑوں کو نقصان۔سگریٹ پینا پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ایک شخص نہ صرف نیکوٹین بلکہ مختلف قسم کے اضافی اور ٹاکسن کیمیکلز میں سانس لیتا ہے۔سگریٹ پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں خاطر خواہ اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ خطرہ مردوں کے لیے 25 گنا اور خواتین کے لیے 25.7 گنا زیادہ ہے۔2. دل کی بیماری سگریٹ پینا دل، خون کی شریانوں اور خون کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور ٹار کسی شخص کے ایتھروسکلروسیس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جو خون کی رگوں میں تختی کی تعمیر ہے۔ یہ تعمیر خون کے بہاؤ کو محدود کرتا ہے اور خطرناک رکاوٹوں کا باعث بن سکتا ہے۔3. بانجھ پن کے مسائل۔سگریٹ پینا عورت کے تولیدی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور حاملہ ہونا زیادہ مشکل بنا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تمباکو اور سگریٹ میں موجود دیگر کیمیکل ہارمون کی سطح کو متاثر کرتے ہیں۔4. حمل کی پیچیدگیوں کا خطرہ۔ایکٹوپک حمل کے خطرے میں اضافہ،بچے کے پیدائشی وزن میں کمی، قبل از وقت ترسیل کے خطرے میں اضافہ، جنین کے پھیپھڑوں، دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کو نقصان پہنچانا۔اچانک بچوں کی موت کے سنڈروم کے خطرے میں اضافہ۔5. ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ۔ ایک بین الاقوامی ادارہے کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی نشوونما کا خطرہ 30-40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔6. کمزور مدافعتی نظام۔سگریٹ نوشی انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے وہ بیماری کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔یہاں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کروناوائرس ایک موذی وبا ہے جو انسان کے پھیپھڑوں اورمدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کے نتیجے میں اسیے افراد جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔7. بینائی کے مسائل۔سگریٹ پینا آنکھوں کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے، بشمول موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط کا زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ لہٰزا، ہر انسان کو چاہیے وہ سیگریٹ نوشی جیسی لعنت سے دور رہ کر آپنے اور آپنے چاہنے والوں کا خیال رکھے۔

  • کیا طلباء کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی ملنی چاہیے؟   تحریر زاہد کبدانی

    کیا طلباء کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی ملنی چاہیے؟ تحریر زاہد کبدانی

    کلاس روم کا ماحول آج کے بچوں سے واقف ہے اس ماحول سے بہت مختلف ہے جو ان کے والدین نے تجربہ کیا تھا جب وہ طالب علم تھے۔ ان میں سے بہت سی تبدیلیوں کا پتہ ٹیکنالوجی سے لگایا جا سکتا ہے ، جس کی آہستہ آہستہ گزشتہ کئی سالوں سے سکول اور اس کے کلاس روم میں بڑھتی ہوئی موجودگی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی نے نہ صرف بچوں کے لیے کلاس روم کے تجربے کو تبدیل کیا ہے ، بلکہ انٹرنیٹ کا بہت زیادہ شکریہ ، ٹیکنالوجی نے بچوں کے گھر میں اسکول کا کام کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔ اگرچہ ایک ممکنہ طور پر قیمتی سیکھنے کا آلہ ہے ، انٹرنیٹ یہاں تک کہ آج کے طلباء کے لیے کئی مسائل پیدا کرتا ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کے غیر شعوری استعمال کی بات کرتے ہیں تو بچے اور طالب علم سب سے پہلے سب کے ذہن میں آتے ہیں۔ اگر کوئی بالغ ٹیکنالوجی نقصان دہ طریقے سے استعمال کرتا ہے تو ہم اسے "بے ہوشی” کے بجائے "انتخاب” کہیں گے۔ لیکن یہ بچوں کے لیے مختلف ہے کیونکہ وہ عام طور پر ان ممکنہ مضر اثرات سے آگاہ نہیں ہوتے جو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ، ہم والدین اور بڑوں کے لیے ٹیکنالوجی کے ممکنہ مثبت اور منفی اثرات کے بارے میں کچھ یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں۔ یہ تحریر طلباء کے لیے ٹیکنالوجی کی اہمیت ، اس کے مثبت اور منفی اثرات پر کچھ روشنی ڈالے گی۔

    پہلا سوال جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ: ٹیکنالوجی کا بچوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ جواب سادہ ہے: کمپیوٹر ، اسمارٹ فون ، ٹیبلٹ ، ٹیلی ویژن ، جدید کھلونے اور اسی طرح کی تمام تکنیکی مصنوعات جو بچوں کے لیے دلچسپ ہوں گی۔ بچوں کے لیے ٹیکنالوجی یہ سب کچھ ہے۔

     1 انٹرنیٹ کی اہمیت۔

    انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک بہت ہی معروف رجحان ہے۔ کالج میں ہر طالب علم طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کے بارے میں بات کرتا ہے۔ تاہم ، ان میں سے بیشتر کو انٹرنیٹ مقامات کی گہرائی کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے ، جیسے کہ یہ کتنا مفید ہے اور جب آپ اسے استعمال کریں گے۔ انٹرنیٹ نے مواصلات ، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں بھی بہت سی تبدیلیاں اور پیش رفت کی ہے۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک استاد کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ طلباء انٹرنیٹ کو فوری استعمال کے لیے معلومات اور معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جن کی انہیں پراجیکٹس ، اسائنمنٹس یا اپنے مضامین کے لیے ضرورت ہے۔ طالب علموں کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کے خلاف تنقیدوں اور بحثوں کے باوجود ، یہ اب بھی ان کی زندگیوں اور مجموعی طور پر تعلیمی دنیا میں ترقی اور ترقی میں معاون ہے۔

    اسے کسی وقفے یا وقت کی ضرورت نہیں ہے:

    انٹرنیٹ کی دنیا ہمیشہ متحرک رہتی ہے اور یہ کبھی وقفہ یا وقت نہیں لیتی۔ یہ حقیقت طالب علموں کو اپنی اسائنمنٹس ، ریسرچ پروجیکٹس اور کسی بھی وقت کام کرنے کے قابل بناتی ہے جو ان کے مطابق ہو۔ اس سے قطع نظر کہ اگر آپ مدد یا پڑھنے کے لیے کوئی رپورٹ ڈھونڈ رہے ہیں ، آپ اسے گوگل کے ذریعے انٹرنیٹ پر چوبیس گھنٹے تلاش کر سکتے ہیں۔۔

    2- ذہنی مہارت کی ترقی:

    طالب علموں کے لیے دماغی ورزشیں اس کے جسمانی مواد تک محدود ہیں۔ وہ بچہ جس کے گھر میں کئی مختلف انٹیلی جنس گیمز یا مشقیں ہوتی ہیں اسے ایک ہی ورزش بار بار کرنا پڑتی ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے اب اور بھی بہت سے مواقع ہیں۔ ان بچوں کے لیے میموری گیمز جو اپنی یادداشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ان بچوں کے لیے توجہ کھیل جو اپنی حراستی اور توجہ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ، ان بچوں کے لیے بصری کھیل جو اپنی بصری بینائی اور مہارت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور بہت کچھ آج تک آپ کی انگلی پر ہیں۔ لہذا ، ٹیکنالوجی ان بچوں کے لیے کارآمد ہے جو اپنے کمپیوٹر یا ٹیبلٹ کو کار یا موٹر سائیکل کی دوڑ کھیلنے کے بجائے دماغی کھیل کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    انٹرنیٹ طلباء کے لیے ایک اہم خلفشار بھی بن سکتا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس آسانی سے اور جلدی سے بچوں کو ان کے سکول کے کام سے ہٹا سکتی ہیں ، ان کا قیمتی وقت ضائع کر کے انہیں اپنی پڑھائی کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ، انٹرنیٹ نے دنیا بھر کے طلباء کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ثابت کیا ہے۔ لیکن ان طالب علموں کو اس بات کی نشاندہی کرنی چاہیے کہ انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے فوائد اور نقصانات ہیں جب کہ اپنے کیریئر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت صرف مذکورہ بالا فوائد تک محدود نہیں ہے۔ تاہم ، والدین کو یہ یقینی بنانے کے لیے چوکس رہنا ہوگا کہ ان کے بچے انٹرنیٹ کا استعمال علم اور کیریئر کی ترقی کے لیے کر رہے ہیں۔ بعض معاملات میں ، طالب علم تفریحی مقاصد کے لیے اس کا غلط استعمال بھی کر سکتے ہیں ، مثال کے طور پر ، سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنا۔ انٹرنیٹ طلباء کے لیے تعلیم کے تمام پہلوؤں میں اہم ہے۔ یہ طالب علموں کے لیے ایک استاد کے طور پر کام کرتا ہے۔ انٹرنیٹ نے تعلیمی حرکیات اور اس کے انجام دینے اور کام کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ اب کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر اسائنمنٹس انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اداروں میں آن لائن لائبریریوں سے بھی ممکن ہے۔ لہذا ، بچوں کے نقطہ نظر سے اس موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے ، ہمیں صنعتی مشینوں ، طبی آلات یا جنگی مواد کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، 

    @Z_Kubdani

  • موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی  بیماری   تحریر : فرح بیگم

    موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی بیماری تحریر : فرح بیگم

    موبائل فونز کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان خود کو بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے ڈاکٹرز کا مشورہ یہ ہے کہ موبائل فونز کا زیادہ استعمال ذہنی دباؤ ، پریشانی ، دل کی بیماری ،سر درد ، نظر کا کمزور ہونا اور دوسری بیماریوں کا سبب ہے۔ لوگ کام کرتے ،کھاتے، چلتے پھرتے، ڈرائیونگ کرتے وقت استعمال کرتے ہیں ۔ بشتر احاثات سڑک پر موبائل فون کے استعمال کرنے سے ہوتے ہیں ۔ البتہ گاڑی چلاتے وقت موبائل یوز کرنا کسی کی جان لینے کے برابر ہے ۔ زیادہ موبائل فون کا استعمال نوجوان نسل میں بہت اہم پایا جاتا ہے۔ سم فرنچائز کے دیے گۓ پیکجز ،فری کالز،فری ایس ایم اس آفرز نوجوان نسل کو خراب کر رہی ہے ۔سری سری رات کال پر باتیں کرنا ،ویڈیو گیمز کھیلنا ، سوشل میڈیا کا بے جاں استعمال صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے ۔
    موبائل کے استعمال سے تعلیم پر بھی گہرا اثر پڑھتا ہے ۔بچے اپنا زیادہ وقت موبائل فون پر لگاتے ہیں جس کا سیدھا اثر بچوں کی پڑھائی پر ہوتا ہے نا وہ ٹیسٹ میں دل لگا کر محنت کرتے ہیں نا پاس ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر تعلیم حاصل کرنا چاھتے ہیں تو موبائل کے استعمال سے پرہیز کرنا ہوگا ۔ جس کالج اور یونیورسٹی میں موبائل فون لے کر جانے میں پابندی نہیں ہوتی وہاں بعض اوقات طالب علم لیکچر کی دوران ایس ایم ایس یا ویڈیو گیمز کھیلتے نظر اتے ہیں ۔موبائل فون سے فحاشی کا کافی حد تک اصافہ ہوا ہے ۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہو یا ہوئی بھی اپپ ، اس سے بچے بہت بگڑ گے ہیں ۔ پہلے آپ نے سنا ہوگا چوری ہوئی ہے ، یا كیڈناپپینگ ہوئی ہے لیکن آج کل یہ سب چیزیں آنلاین موبائل فون کے ذریغے ہو رہی ہیں ۔ یہاں تک کے بلیک میالینگ بھی کھلے عام جاری ہے ۔اس کی وجہہ سے کرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ جس میں مختلف وارداتیں شامل ہیں ۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات اس قدر بڑھ گۓ ہیں کہ گننا مشکل ہے ۔
    موبائل فون کے حوالے سے اور بھی بہت نقصانات ہیں جو کے معاشرے میں بہت واضح ہیں اور لوگ انکو جھیل رہے ہیں لیکن اگر ہمیں ان نقصانات سے بچانے کے لیے ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہہ سے ہم اس ضرورت کی چیز کو استعمال تو کریں پر وہ بھی ایک حد تک ، اور اس معاشرے پر جو اثرات پڑھے گے اس کو بھی کم کر سکیں۔
    اب ہم سب والدین کی ذمداری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل دینے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ انکو موبائل کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو یہ دیکھ لیں کے وہ اسکا استعمال کس طرح ،کب اور کیسے کر رہے ہیں ۔ بچوں کی غیر موجودگی میں انکے موبائل فون کو دیکھیں اور چیک کریں کہ وہ اس کا استعمال غلط تو نہیں کر رہے ہیں ۔ بچوں کی خفاظت اب والدین پر لازم ہے۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • ملا محمد عمر کون تھے ؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    ملا محمد عمر کون تھے ؟ تحریر:سید عمیر شیرازی

    ملاعمر کا شمار 90 کی دہائی کے طاقتور ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے انھوں نے 1996 میں افغانستان میں طالبان حکومت قائم کی تاہم ان کی زندگی کے کئی پہلو پوشیدہ اور خفیہ رہے
    ٹویٹر پر ایک صارف کی جانب سے ملاعمر سے متعلق معلومات بتائی گئی ہیں انھوں نے ان معلومات کے لیے تین کتابوں کا حوالہ دیا ہے ان کتابوں میں ایلکس اور فیلکس کی کتاب این اینیمی وی کریٹڈ دی میتھ آف دی طالبان القاعدہ مرجر ان افغانستان، احمد رشید کی کتاب طالبان ملیٹنٹ اسلام اور کرسٹوفر اینڈریو اور وسیلی مٹروکھن کی کتاب دی ورلڈ واز گوئنگ اوور وے شامل ہے
    ملاعمر کی پیدائش سن 1959 میں ہوئی۔

    قندھار کے نزدیک نودیھ گاؤں میں ان کا خاندان انتہائی غریب تھا جو کھیتی باڑی کے پیشے سے وابستہ تھا اُن کا تعلق ہوتک قبیلے سے تھا جو پشتونوں کی غلزئی شاخ سے تعلق رکھتے تھے
    افغان جہاد شروع ہونے کے بعد، سن 1980 کی دہائی میں ان کا خاندان ارزگان صوبے منتقل ہوگیا روزگار کی تلاش میں ملا عمر قندھار آئے اور میوند ضلع کے سنگیسار گاؤں میں مدرسہ کھولا انھوں نے حزب اسلامی میں شمولیت اختیار کی اورنیک محمد کی سرپرستی میں نجیب اللہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔
    ایک حوالے کے مطابق 1994 میں انھوں نے ظالم جنگجوؤں کےخلاف اہم کارروائی کی طسنگیسار کے پڑوسی علاقے سے کچھ افراد نے ملا عمر سے شکایت کی کہ جنگجو کمانڈر نے دو کم عمر لڑکیوں کو اغوا کرلیا ہے اور ان کے ساتھ کئی بار ریپ کیا گیا ہے ملا عمر نے 30 طالبان کا گروپ تشکیل دیا جن کے پاس صرف16 رائفلز تھیں انھوں نے جنگجوؤں کے اڈے پر حملہ کرکے لڑکیوں کو آزاد کروایا اور جنگجوؤں کو ٹینک کی توپ سے پھانسی پر لٹکادیا
    کچھ عرصے بعد ایک بچے سے بدفعلی کے لیے دو کمانڈرزکی قندھار میں شدید لڑائی ہوئی جس میں متعدد شہری بھی مارے گئے ملاعمر کے گروپ نے بچے کو آزاد کروایا ان تمام تر کارروائیوں کے بعد لوگوں نے ملا عمر کو اپنا مسیحا سمجھنا شروع کردیا اور یوں اپنے مسائل کے حل کے لیے اِن کے پاس آنے لگے
    گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے درمیان لڑائی نےافغان عوام کو شدید متاثر کیا احمد شاہ مسعود کے شمالی اتحاد نے ابتدا میں ملا عمر کو طالبان تحریک کے لیے 10 لاکھ ڈالر نقد دئیے
    کچھ عرصے بعد اسپن بولدک میں طالبان نے اسلحہ کے بڑے ذخیرے پر قبصہ کرلیا جو تین ڈویژنز کے لیے کافی تھا۔
    طالبان نے چند ماہ میں افغانستان کے 31 صوبوں میں سے 12 صوبوں پر قبضہ کرلیا 4 اپریل 1996 کو طالبان نے ملا عمر کو امیرالمومنین نامزد کردیا قندھار کی ایک عمارت کی چھت پر ملا عمر چوغے میں خود کو لپیٹے جب سامنے آئے تو نیچے موجود افراد نے امیر المومینین کے نعرے لگانا شروع کردئیے ان کی نجی زندگی سے متعلق بھی بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں بتایا گیا ہے کہ دوران جنگ وہ 4 بار زخمی ہوئے اور ایک بار ان کی سیدھی آنکھ زخمی ہوئی جس کے بعد ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی ملا عمر ساڑھے 6 فٹ لمبے اور مناسب جسامت رکھتے تھے پاکستان نے جب 1998 میں ایٹمی دھماکے کئے تو ملا عمر اور طالبان کی جانب سے اس کو سراہا گیا اور پاکستان پر کسی بھی حملے کو افغانستان پر حملے سے تشبیہ دی گئی نائین الیون کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملا عمر نے امریکا کے خلاف حملوں کی مخالفت کی تھی انھوں نے سب سے پہلے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کی مذمت کی اور افغان طالبان کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگے انھوں نے کہا تھا کہ خود مختار عدالت اس واقعے میں اسامہ بن لادن کا ہاتھ ہونے کی تحقیقات کرے تاہم امریکی صدر جارج بش نے افغانستان پر حملہ کردیا
    سال 2001 کے بعد ملا عمر اپنی موت تک افغانستان سے باہر نہیں گئے انھوں نے طالبان کے امور اپنے ساتھی ملا عبید اللہ کے سپرد کردئیے اور خود زابل صوبے چلے گئے جہاں وہ اپنے ڈرائیور کے گھر میں روپوش رہے ایک بار امریکی فورسز نے اس گھر پر چھاپہ مارا لیکن وہ ملا عمر کے خفیہ کمرے تک نہیں پہنچ سکے۔
    امریکی فورسز نے جب اس علاقے میں اپنا مستقل فوجی اڈہ قائم کیا تو ملا عمر نے اس مکان کو چھوڑ دیا اور وہ سیورے کے علاقے میں منتقل ہوگئے ملا عمر کا مکان امریکا کے چھوٹے فوجی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر تھا وہ 9 برس اپنی موت تک اس علاقے میں رہے۔
    اللّه پاک حضرت محمد ملا عمر رح کے درجات بلند عطا فرمائے اور انکو جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔

    @SyedUmair95
    @suhailshaheen1