Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مفتی صاحب سے متاثر ایک چھوٹی سی کاوش تحریر راحیلہ عقیل

    مفتی، عالم سنتے ہی اکثر لوگوں کے دماغ میں ایک خاکہ بن جاتا ہے جیسے کہ یہ تو بہت سخت مزاج ہونگے، غصہ کرتے ہونگے، بیوی بچوں پر سختی کرتے ہونگے، راستے میں کہیں مل گئے تو پکڑ کر مسجد لے جائیں گے ایسے ہی بہت سے خیالات لوگوں کے دماغ میں آجاتے ہیں ایسے میں مفتی طارق مسعود صاحب بلکل الگ شخصیت، اندازبیان، کے ساتھ دنیا میں مقبول ہوئے

    طارق مسعود دیوبند مکتب فکر سے وابستہ پاکستانی عالمِ دین، تبلیغی جماعت سے وابستہ، جامع مسجد الفلاحیہ نارتھ کراچی سیکٹر 10 میں پندرہ سالوں سے امام ہیں، بطور مہمان اکثر پاکستانی ٹیلیوژن چینلز پر بطور اسکالر مدعو کیے جاتے ہیں اور اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بھی کافی مقبول ہیں

    "مفتی صاحب نے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں ،انکی کتاب "ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت کیوں” جو 2015 میں لکھی کافی مقبول ہوئی وہ اپنے بیانات میں دوسری تیسری شادی کی ترغیب دیتے دکھائی دیتے ہیں اور ساتھ ہی انکے فائدے بھی بتاتے ہیں،
    ان کے شادیوں والے بیانات پر اکثر ہی وہ سوشل میڈیا پر کبھی تعریف کبھی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، مفتی صاحب پر میمز بھی بنتی وہ ہمیشہ ہنس کر ٹال جاتے بلکہ بہت بار وہ خود مسکرا کر ان میمز کا ذکر کرتے ہیں،

    2015 کے بعد انکے ویڈیو بیانات جاری ہونا شروع ہوئے اس سے پہلے انکے آڈیو بیانات جاری ہوتے تھے اب 2021 میں انکے چاہنے والوں کی انکو سنے دیکھنے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے مفتی صاحب نوجوان نسل میں بہت تیزی سے مقبول ہورہے ہیں انکا ہنسی مزاح سے بھرپور بیان نوجوان کو اسلام کی طرف راغب کررہا ہے بقول مفتی صاحب نے انکے شادیوں والے بیانات سے متاثر ہوکر کافی مردوں نے طلاق شدہ خواتین، بچوں والی خواتین سے دوسری تیسری شادیاں کی ہیں، ایک طرف جہاں مفتی صاحب سے مرد حضرات خوش دکھائی دیتے وہی بہت ساری خواتین انکے بیانات سے غصہ ہوتی ہیں "اب آپ خود سمجھدار ہیں کیوں”

    مفتی صاحب کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں انکو دنبےکی چربی میں بنے کھانے انتہائی پسند ہیں ہوٹل کے پراٹھے ہوں یا بریانی اکثر انسے تعریف سنے کو ملتی ہے
    ہمیں لگتا ہے مفتی ہیں تو بس عبادت میں لگے ہونگے دنیا میں کیا ہورہا کیا چل رہا انکو کیا لینا دینا ” لیکن ایسا بلکل نہیں مفتی صاحب عوامی مسائل پر بات کرتے ہیں حکومت کی تعریف یا کبھی ہلکی پھلکی تفریح میں جائز تنقید بھی کرجاتے ہیں انکی شخصیت کے بہت سارے پہلو ہیں انکو تیراکی گھڑسواری ، مچھلیاں پکڑنا، ورزش کرنا پسند ہے جب وقت ملتا ہے وہ یہ شوق پورے کرتے نظر آتے ہیں وہ کہتے لوگ حیران ہوتے مفتی صاحب یہ کیا کررہے ” ارے بھئی مفتی ہیں تو کیا خود کو صحت مند رکھنا بھی ضروری ہے
    "بقول مفتی صاحب کے وہ کبھی ایک آدھی سگریٹ بھی پی لیتے تھے اب اس بات پر مجھ پر فتویٰ نا لگانا یہ انکے ایک بیان میں ہی سنا تھا،

    مفتی طارق مسعود صاحب نوجوان نسل کے لیے ایک راہ ہیں جو دین و دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ بیلنس کرکے چل رہے ہیں انکے مزاح سے پھرپور بیانات ہوں یا لطیفے وہ اپنی بات ایسے انداز میں بیان کرتے کے سنے والا بور بھی نہیں ہوتا اور بات دماغ میں گھر جاتی ہے

    بہت سارے علماء صرف مذہب پر بات کرتے نظر آتے انکا سارا فوکس انسان کو کیسے اللہ کا بندہ بنایا جائے اس پر رہتا جبکہ مفتی صاحب کو ہم نے عوامی مسائل لوگوں کے عام مسئلوں پر بات کرتے سنا ہے دیکھا ہے وہ بچوں کی تربیت ہو، غصہ کرنا شور شرابا تیز آواز میں بات کرنا، میاں بیوی میں محبت، والدین کا احترام، جلدی سونا اٹھنا، لڑکیوں کی شادی ، بچوں کو کس عمر میں اکیلا سلایا جائے، بیوی کو خوش رکھنا اسکے حقوق، نوجوانوں کی گرل فرینڈز کے رونے ہی کیوں نا ہوں مفتی صاحب ایسے موضوعات پر بڑے واضح بیانات دیتے ہیں جس میں وہ اپنا ذاتی تجربہ بھی شامل رکھتے کیونکہ انکی تین زوجہ ہیں وہ بخوبی انکے حقوق پورے کرتے بلکہ دوسری تیسری شادی کی خواہش رکھنے والوں کو سب سے اہم بات یہی سمجھائی جاتی کہ بیویوں کے حقوق پورے کرنے ہیں چاہے پھر دو کرو یا چار۔۔۔۔۔۔

    "میں ذاتی طور پر مفتی صاحب کے بیانات سنتی ہوں انکے بیان سن کر انسان ریلیکس ہوجاتا ہے ورنا اکثر علماء کے بیانات ایسے ہوتے جنکو سن کر لگتا ہم بہت گناہ گار ہیں سیدھے جہنم میں جائینگے ایسا خوف ایسا وہم دل میں بیٹھ جاتا کے سیدھا وضو کرکے نماز کے لیے کھڑا ہوجاے بندہ اور مانگ لے اپنے گناہوں کی معافی
    خیر چلیں یہ تو چھوٹی سی مذاق ہوئی امید کرتی ہوں ہماری جذباتی قوم میرے اس چھوٹے سے کالم میں انجانے میں ہوئی کسی غلطی پر فتویٰ جاری نہیں کرے گی مفتی صاحب کی اسلام کے لیے جو کاوشیں ہیں اس سے آپ سب بخوبی واقف ہیں اللہ پاک انکو مزید ہمت دے کامیابی دے اور ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے ہم سب ایک دوسرے کو برداشت کرکے معاف کرسکیں

  • والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    والدین و اولاد کے حقوق و فرائض تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    اولاد سے حق مانگتے ہیں مگر اس سے پہلے فرائض کا ادا کرنا نہایت اہم امر ہے۔جو آج والدین ہیں وہ کل خود اولاد تھے، جو آج اولاد ہیں وہ کل والدین ہونگے۔ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ وقت کا چکر ہے، اگر حق کل چاہئیے تو آج حقوق ادا کریں اور اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی مت کریں۔

    پہلی بات تو سمجھنے کی ہے کہ اولاد ہے کیا؟ کیا آپ ان پر ولی ہیں یا ان کے آقا؟ کیا آپ ان کے مالک ہیں یا رکھوالے؟ اولاد اللہ نے عطا فرمائی ہے، والدین کو کچھ اہم ذمہ داریاں دے کر ان کو ولی کیا۔باپ کو فقط دو فرائض دیے گئے۔
    1۔ بہترین نام رکھو۔
    2۔ بہترین تعلیم و تربیت کرو۔
    "بہترین” ہر شخص کی استطاعت اور معاشی و معاشرتی حیثیت سے مشروط ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات تو ہے کہ انسان دوسرے انسان کا آقا نہ بنے اور اولاد کو ایک امانت مان کر انکی بہترین حفاظت کرے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر انکی تربیت کا اہتمام کرے۔

    معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے، اگر لوگ ایک دوسرے سے شاکی رہنے لگیں تو معاشرے میں بے حسی، ابتری اور ایک دوسرے سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

    آج کل ہمارا معاشرہ بھی اسی ابتری کا شکار ہے اور ہر شخص دوسرے سے نالاں نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کا تو پتا ہے مگر ہم نے اپنے فرائض بُھلا دیے ہیں۔ ہم برملا یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ادا نہیں کیے جاتے لیکن ہم خود اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں۔ گھر کی چار دیواری سے لے کر محلے اور پھر ملکی سطح پر ایک خود غرضی اور بے حسی کی فضا مسلط ہے۔

    افسوس! قربانی، ایثار، وفا اور محبت کے اسباق ہم نے فراموش کر دیے ہیں۔ گھر کی چار دیواری میں والدین اولاد سے اور اولاد والدین سے، بہن بھائیوں سے اور بھائی بہنوں سے، بیوی شوہر سے اور شوہر بیوی سے نالاں ہے۔ ہمسائے، ہمسائے سے، رشتے دار رشتے داروں سے، استاد شاگرد سے، شاگر د استاد سے، عوام حکم رانوں سے اور حکم ران عوام سے غرض ہر شخص دوسرے سے بے زار ہے۔ ساتھ رہنا، نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق نبھانا محض مجبوری ہے۔
    والدین کہتے ہیں اولاد ہماری نافرمانی کرتی ہے ہماری نگہہ داشت نہیں کرتی، ہمارا کہنا نہیں مانتی، ہمارا حق ادا نہیں کرتی، ہم نے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ان کی خواہشات پوری کیں مگر ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں، انہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، معاشرے میں باعزت روزگار کے لیے پیٹ کاٹ کر تعلیم دلائی مگر اب شادی بیاہ جیسے معاملات میں ہمیں چھوڑ کر دوسروں کو اولیت دیتی اور ہماری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

    اولاد کا کہنا ہے ماں باپ ہم سے محبت نہیں کرتے، ہمیں پیدا کیا اچھی پرورش کی، تعلیم دلائی یہ ان کا فرض تھا مگر ہمارے والدین ہم پر اب ہر وقت احسان جتاتے ہیں، ہم جوان ہوچکے ہیں انہیں اپنی لڑائی جھگڑے سے فرصت نہیں، ماں باپ کی ہر وقت کی لڑائی کی وجہ سے ہمارا گھر آنے کو دل نہیں چاہتا، گھر میں سکون نام کو نہیں، ہمیں اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے جب ہم نابالغ تھے تو ان کی ہر بات مانی اب ہم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر ہمیں تھوڑی سی بھی آزادی میسر نہیں، ہم کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے، یہاں تک اپنی پسند سے مضمون کا انتخاب بھی نہیں کرسکتے۔ والدین ہمیں رشتے داروں اور دوستوں کے سامنے ڈانٹتے ہیں۔

    اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں اپنے حق کی بات تو کرتے ہیں مگر فرائض دونوں بُھول چکے ہیں۔ انسان کو زمانے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات بالکل سچ ہے جو کل فیشن تھا وہ آج تبدیل ہو چکا ہے، والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں سے محبّت کریں، ان کی اچھی تربیّت کریں، انہیں اچھی تعلیم دلائیں، جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کی شادی کرائیں، ان سے دوستانہ سلوک کریں، کچھ ان کی مانیں اور کچھ اپنی منوائیں تاکہ انہیں احساس ہوکہ والدین کے نزدیک ان کی اہمیت ہے۔ کسی کے سامنے انہیں ڈانٹیں نہیں، لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ اکثر بچے والدین کی آپس کی ناچاقی سے اور دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو پُرسکون ماحول دیں۔ زمانے کی تبدیلی کے مطابق جینے کا حق دیں تاکہ بچے معاشرے کے مفید رکن بن سکیں۔ پرانی روایات کوجدید دور سے ہم آہنگ کریں تا کہ بچے اسے اپنانے میں عار محسوس نہ کریں۔ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    ایسے والدین جو اپنے فرائض کو اچھی طرح سے سر انجام دیتے ہیں وہی جنّت میں گھر بنانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ گالی گلوچ، مار پیٹ اور اپنے فرائض کو درست طریقے سے انجام نہ دینے والے والدین سے جنّت بھی روٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں ان کی حکم عدولی نہ کریں اگر کسی بات پر اختلاف ہے تو آرام اور تحمّل سے اپنی بات سمجھائیں ان کو وقت دیں اور یہ باور کرائیں کہ والدین ان پر بوجھ نہیں بل کہ والدین کے دم سے ان کے گھر میں برکت ہے۔

    اﷲ تعالیٰ اپنے حقوق میں پہلوتہی تو معاف کر دے گا مگر اس انسان کو اُس وقت معافی نہیں جب تک وہ انسان اُسے معاف نہ کرے جس کا اُس نے دل دکھایا ہو۔ ہمیں اپنے فرائض اور حقوق کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ ہم اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

  • جمعرات بھری مراد تحریر:م۔م۔مغلؔ

    چھ ہزار سال قبل کا ایک غیر ارادی عمل جس نے چار کروڑ انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں، دروغ برگردنِ راوی کے مصداق ہمارا ذاتی طور پراس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کہتے ہیں ایک شخص راستہ بھٹک کر جنگل کی سمت نکل گیا، ابتدا میں تو اسے کسی شے کا خوف نہ تھا مگر چلتے چلتے جوں جوں جنگل گھنا اور مہیب ہوتا گیا اس کے اعصاب پر عجیب خوف سا طاری ہوتا گیا، جنگلی جانوروں کی آوازیں اور پرندوں کی چہکار فضا میں پرکیف نغمے گھول رہے تھے، اچانک بندروں کی ایک ٹولی نے اپنے ہم شکل کو دیکھا تو جوق در جوق زیارت کو جمع ہونے لگے اور خوخیا کر باقی ماندہ برادری کو دعوتِ نظارہ دینے لگے، بیچارہ بھٹکا ہوا شہر باسی ان بن باسیوں کی جانب سے پڑنے والی اس اچانک افتاد پر گھبرا کر بیٹھ گیا، بندروں نے سہمے ڈرے شخص کی گھبراہٹ کا فائدہ فیض کے ضرب المثل مصرع کی گردان کرتے ہوئے خوب اٹھایا، ۔۔۔۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

    اب کیا تھا کبھی ایک بندر شاخوں پر جھولتا ہوا نیچے اترا اور بیچارے کے سر پر دھول جما کر یہ جا اور وہ جا تو کبھی دوسرا، باقی بندروں کو تو جیسے کورونا کے لاک ڈاؤن کی فراغت کے ایام جیسا ایک مشغلہ سا مل گیا، باری باری بندر جھولتے لپکتے اور دھول جما کر پھدکتے ناچتے خوخیاتے۔۔ اس بساطِ دھماچوکٹری میں ایک نوجوان بندر نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور بھٹکے ہوئے شخص کا سامان اٹھا لیا اور چھلانگ مار کر درخت کی اونچی شاخ پر جا براجمان ہوا، مفلوک الحال شخص نےاس ناگہانی پر گھبرا کر جوتا اتارا اور نوجوان بندر کو دے مارا، شومئی قسمت جوتا درخت کی شاخ میں الجھ گیا، نوجوان بندر نے اس حرکت کا بھی خوب فائدہ لیا اور شاخ پر ہی رقص کرنا منھ چڑانا شروع کردیا، طیش میں آکر راہ سے گم کردہ شخص نےجذبات سے مغلوب ہوکر دوسرا جوتا بھی کھینچ مارا، جو نوجوان بندر کے رخسار کا بوسہ لینے کے بعد اسی شاخ پر جا مصلوب ہوا، اب ایک کو پڑی تو باقی بندروں کے ہوش ٹھکانے آئے یوں بندروں کی ٹولی خوخیاتے ہوئے فرار ہوگئی، راہ گم کردہ ضعیف شخص وہیں درخت کے نیچے تھک ہار کر سو رہا۔۔۔شنید ہے پھٹے کپڑوں میں ملبوس بھوک کے ہاتھوں مجبور مکان سے بے نیاز وہ شخص وہیں پڑے پڑے دنیا سے رخصت ہوگیا، موسموں نے اس کی لاش پر پتے گرائے ، وقت نے دھول اوڑھائی یوں مفلوک الحالی کی قدرتی قبر زمین کے سینے پر نقش ہوگئی، بعد ازں بھٹک بھٹک کر جنگل آنے والے اسی راستے سے گزرتے تو درخت پر لٹکے جوتے دیکھ کر ٹوٹکے کے طور پر اپنے جوتے بھی درخت کی شاخوں پر آویزاں کرنے لگے کہ کسی مراد کی شاخ کو پھل لگ جائے، ایک وقت وہ آیا کہ درخت پرپتوں کی بجائے جوتے ہی نظر آنے لگے ، کرتے کرتے جنگل شہر میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔۔۔ کہتے ہیں مفلوک الحال شخص کی قبر پر حاضری دینےکے بعد جنگل کے ٹمبر مافیا اور اس کی اولاد بعد ازاں سیاسیات کے کارزار کی جانب چل پڑی، قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ وہی جنگل ہے جس پر ٹمبر مافیا کی نسلیں راج کرتی ہیں، چھ ہزر سال قدیم تہذیب کا چسکا ایسا لگا کہ اب اس شخص کی اولادیں اس جنگل نمابھٹوستان یا بھوتستان صوبے کی حکومت کوجوتوں والا شجر سمجھ بیٹھی ہیں اب اس جنگل میں مفلوک الحال شخص کی قبر کی بجائے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان خاندان کے جدِ امجد کی قبر موجود ہے۔۔۔

    قصہ کوتاہ انسان کے بنائے ہوئے جراثیمی ہتھیار نے جہاں اقوامِ عالم کو پریشانی سے دوچار کیا ہے وہیں ایشیا کے ملک پاکستان میں شامل سندھ کی حکومت کی موج مستی اور عیاشی کا سامان ہوگیا، بالخصوص پاکستان کے سب سے بڑے اور دنیا کے تیرہویں بڑے شہر کراچی پر نام نہاد جمہوری عفریت نے اپنے دانت ایسے گاڑ رکھے ہیں جیسے ڈریکولا فلموں کے کردار سندھ کا رخ کرچکے ہوں۔۔۔ ۲۰۱۸ کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دے کر جو گناہ کراچی کے عوام نے کمایا ہے اس کی پاداش میں اس نام نہاد جمہوری بھوت نے شہر کو آسیب زدہ بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر گزشتہ مسلسل تیرہ برس سے مسلط سندھ سرکار عوام الناس سے روٹی کپڑا مکان نہ صرف چھین رکھا ہے بلکہ پانی بجلی صحت صفائی کے معاملات سے لا تعلق ہوکر اپنی جیبیں بھرنے پر زور دیا ہوا ہے، اقتدار کی روشنیاں صرف ذوالفقار علی بھٹو کے مزار اورمزار کے احاطے تک محدود ہیں، صوبے بھر میں حقیقی طور پر دیکھا جائے تو کتوں کا راج ہے جو جب چاہے کسی کو بھی کاٹ کھاتے ہیں بچوں کو بھنبھوڑ لیتے ہیں، ۔۔۔امن امان کی صورتحال کے بارے میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ صوبہ بدامنی چوری ڈکیتی قتل کی اس نہج پر ہے جہاں قانون صرف کھسیانی ہی ہنسی ہنس کر رہ جاتا ہے۔۔۔ کورونا وبا کے نام پر سندھ کے باقی شہروں سے بڑھ کر پورے کراچی بالخصوص ضلع وسطی میں بسنے والوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کرنے کی روش شہر میں لسانی عصبیت کا شاخسانہ ہے، بغور مشاہدہ ہے کہٍ اندرون سندھ میں اور کراچی میں افغان کوئٹہ وال ہوٹلوں اور چائے خانوں کے لیے نرمی جبکہ دیگر قومیتوں والے علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی نفری زیادہ تعینات ہے، وہ پولیس جسے کسی ہنگامی صورت میں مددگار پر کال کی جائے تو حیلے بہانے پیٹرول ڈیزل نہ ہونا یا موبائلوں کی کمی یا پھر نفری کی کمی کا رونا ہوتا ہے وہی پولیس فلمی انداز سے مخصوص علاقوں میں تھوک پرچون چھابڑی والوں پر پل پڑتی ہے، جیب گرم کرنا تو خیر ضمنی سی بات ہے وہ توا ٓپ سب جانتے ہی ہیں۔۔۔

    کورونا اور اس کی ویکسین پر سوال شکوک و شبہات تو اول روز سے ہی جاری ہیں مگر یہ بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والے کسی ایک سوال کا جواب نہیں سکے، ایسا نہیں کہ یہ سوالات صرف پاکستان میں اٹھائے جاتے ہیں، دنیا بھر میں کورونا نامی وبا اور اس کے مخصوص ایجنڈے کے تحت معیشت تباہ کرنے کا جو سلسلہ جاری ہے، کورونا اگر تو ایک وبا ہے تو وبا کے سدِ باب کے لیے علمائے کرام کو کیوں آگاہی پروگرام میں استعمال نہیں کیا گیا، پھر یہ کہ یہ وبا ایک مخصوص فرقے کے لیے کیوں تباہ کن نہیں ہے۔۔۔ ہر دوسرے شہری کے لب پر یہی شکوہ ہوتا ہے کہ ملک کی اکثریتی مذہبی عقیدرت رکھنے والوں اور ان کے مذہبی تہواروں پر کورونا کی اچانک لہر آجاتی ہے مگر جیسے ہی مؤخر الذکر مذہبی عقیدہ رکھنے والوں کے تہوار آتے ہیں اچانک لاک ڈاؤن ختم کردیا جاتا ہے اور کورونا نامی مہلک وبا اپنا مال اسباب سمیٹ کر رخصت ہوجاتی ہے، ریاست یا صوبے پر حکمران طبقے کو اس دوہرے رویے پر وضاحت دینا ضروری ہے، وگرنہ یہ سلسلہ یوں ہی جارہی رہے گا اور کورونا سے بچنے کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہی رہے گا، سب سے معاشی گڑھ کراچی پر تیس سال سے محرومی کا عفریت قابض ہے، کبھی ہڑتالیں کبھی قتل و غارت گری کے نام پر نچوڑا گیا، اب رہی سہی کسر کورونا کی وبا کے نام پر لاک ڈاؤن لگا کر پوری کی جارہی ہے، مراد علیشاہ کسی دن اچانک خوابِ گرانی سے جاگتے ہیں اور لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیتے ہیں،پیشگی کوئی حکمت عملی ہوتی ہی نہیں، سندھ سرکار نے نہ تو خاطر خواہ ویکسینیشن سینٹرز بنائے اور نہ ہی عملہ متعین کیا، عوام دشمن فیصلے کرتے ہوئے سندھ سرکا ر نے ایک لمحے کو نہ سوچا کہ وفاق کے تحت قائم ویکسینیشن سینٹر پر اچانک عوام الناس دھاوا بول دیں گے تو عملے کے اعتبارعددی ونفری اکثریت کم پڑ جائے گی، اور وہی ہوا کہ سب سے بڑے ویکسینیشن کے مرکز ایکسپو سینٹر میں چھ چھ گھنٹے قطاروں کی کھڑے گرمی کے مارے بھوکے پیاسے عوام ٹوٹ پر پڑتے نتیجہ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور عملہ نے ویکسینیشن کا عمل روکا دیا، میڈیا میں خبریں آنے پر سندھ سرکار نے اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک اور پریس کانفرنس کی اور لاک ڈاؤن میں نام نہاد نرمی کا اعلان کردیا، بہر کیف پولیس کی کمائی کا سلسلہ نہ رک سکا اور کھانے پینے کے مراکز کو استثنا ہونے کے باوجود جبراً بند کیا جاتا رہا،۔۔۔۔ نو روز کے غیر اعلانیہ کرفیو کی صورتحال نے صرف کراچی کو ۴۵۰ ارب کا نقصان پہنچایا، عام دیہاڑی دار طبقہ اور اشیائے خردونوش کی قیمتوں میں بے بہا اضافہ اور اس کے ردِ عمل میں ہونے والے نقصانات کا تو تخمینہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔۔ کورونا کے خلاف ایکشن تو سندھ حکومت نے کیا لینا تھا ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک ہزار کروڑ روپے کی خردبرد کا معاملہ سامنے آیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔۔ یہ تو رہی صرف کورونا کی باتیں جو دیگ کے ایک چاول سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی، آڈٹ رپورٹ کے مطابق ۱۶ کروڑ روپے مالیت کی گندم ذخیرہ کرنےکا محض کرایہ ایک ارب بتیس کروڑ روپے ہے۔۔ نچلی سطح پر دیکھا جائے تو بلدیہ نے اپنے نائب قاصد کو دفتری کام کے لیے ایک لاکھ بیالیس ہزار روپے مالیت کی سائیکل دلا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنے کی کوشش کی ہے یاد رہے یہ عام سی سائیکل صوبے بھر کی کسی بھی دکان سے نو ہزار روپے میں باآسانی مل جاتی ہے۔۔۔۔

    سندھ سرکار جس کا حالیہ مسلسل حکومت کا دورانیہ تیرہ سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے کی کارکردگی دیکھی جائے اور معزز عدالت کے فیصلے کی روشنی میں دیکھا جائے تو سندھ پر مطلقا کتوں کا راج ہے آئے دن آوارہ کتے بچوں اور بڑوں کو کاٹ کھاتے ہیں کسی ہسپتال میں سگ گزیدگی سے بچاؤ کے انجیکشن موجود نہیں، نجی ہسپتالوں میں موجود ہیں مگر وہی بات کہ کتے نے مفت کاٹا اور ڈاکٹر پیسے لے کر کاٹے گا، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پینےکا صاف پانی تک دستیاب نہیں ہے، عیدِ قرباں کے جانوروں کی آلائشیں تا حال جابجا موجو د ہیں تعفن انسانی دماغوں کر مزاج پوچھتا پھرتا ہے،۔۔۔اٹھارہویں ترمیم ( جس کا مقصد اختیارات کو صوبوں کے حوالے کرکے وسائل کی نچلی سطح پر تقسیم تھا )کی باڑ قائم کرنے کے بعد صوبے کے عوام کے جان و مال کی حفاظت، صحت صفائی ستھرائی، کاروبار کے لیے موافق ماحول فراہم کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر صرف نعرے لگانے اور اپنا تسلط قائم رکھنے کے علاوہ سندھ سرکار نے کچھ نہیں کیا، کراچی کے ووٹرز سے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی اور وفاق میں قائم حکومت کے نمائندوں کو ووٹ دے کر ایوان میں پہنچایا، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے لے کر بارش کے بعد ہونے والی سیلابی صورتحال کسی شعبہ میں بھی سندھ حکومت کا حصہ صفر ہے، وفاق نے انسانی ہمددری اور اپنے ووٹروں کی لاج رکھنے کے لیے وفاقی صوابدیدی فنڈز کا اجرا کیا جس سے دہائیوں سے نظر انداز تباہ حال شہرمیں آٹے میں نمک برابر ہی کام ہوسکا ہے، قارئینِ کرام کسی بھی ملک کسی بھی ریاست کسی بھی حکومت نے جب جب کوئی قانون بنایا اور اس پر عمل درآمد کیا اس کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہوتی ہے، جبکہ سندھ میں مقتدر نمائندے جمعرات بھری مراد کے نعرے لگاتے خیر و عافیت سے قانون کوعوام کی زندگیاں اجیرن کرنے کے استعمال کرتےہیں،سندھ بالخصوص کراچی کے عوام میں احساسِ محرومی بڑھتی چلی جارہی ہے، عام آدمی کو اس بات کے قطعا غرض نہیں ہے کہ کوئی اٹھارہوئیں انیسویں یا بیسویں ترمیم کی ان کے بنیادی انسانی شہری حقوق کے سروں پر لٹک رہی ہے، عوام حالیہ حکومتی دورانیہ کا ستر فیصد عرصہ قید و بند کی صعوبتوں کی طرح جھیل چکی ہے اور وفاق سے متقاضی ہے کہ سندھ کے عوام کو نامرادی کے عفریت سے بچایا جائے۔۔۔ الخ

  • ماؤں کی تاریخ میں ایک روشن مثال…. حضرت ہاجرہ  تحریر :اقصٰی صدیق

    ماؤں کی تاریخ میں ایک روشن مثال…. حضرت ہاجرہ تحریر :اقصٰی صدیق

    "ماں” پیکر ہے لازوال شفقت و محبت، وفا اور بے مثال قربانی کا!
    اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر حیثیت میں عزت و عظمت عطا کی۔
    دنیا کی پوری تاریخ ایسی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتی، جو ماں کی مثال سے بڑھ کر ہو۔یہ ماں کی ممتا اور ماں ہی کا جگر ہے جو اپنی اولاد کے لیے بڑی سے بڑی آزمائش اور تکلیف برداشت کر لیتی ہے۔ماں کی خدمت اس کے خلوص اور اس کے ایثار و قربانی کے جذبے کا کوئی نعم البدل نہیں۔
    کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
    "ماں ایک احساس ہے جو فطرت کے لطیف ترین جذبوں کو لباس اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔جس طرح دنیا کی ہر زبان کے حروف تہجی کی ابتداء الف سے ہوتی ہے، بالکل اسی طرح محبت کی انتہا اور ابتداء لفظ ماں سے ہوتی ہے۔
    ” ماں کا دل موم کی مانند ہوتا ہے جو اولاد کی محبت میں پگھل جاتا ہے "۔ (بحوالہ : ڈاکٹر محمود الرحمن /ماں کی عظمت)
    محبت، شفقت، خلوص اور ایثار و قربانی یہی وہ جذبہ ہے جو ہر وقت اور ہر دم بچوں پر سایہ اور ڈھال بنا رہتا۔ماں اولاد کے ہر دکھ، ہر مصیبت اور ہر تکلیف میں سایہ رحمت اور سائبان بنی نظر آتی ہے، ہر دکھ سہہ کر اولاد کو راحت پہنچاتی ہے۔
    لفظ "ماں ” کے تین حروف "م” ” ا” اور” ن ” کا مجموعہ ایثار و محبت سے بنا ہے۔
    "م” محبت کا پیکر، "ا” ایثار اور "ن” کی اساس ناز ہے۔ لفظوں کا یہ مجموعہ ماں شفقت و محبت اس کا شیوہ، ایثار اس کا ایمان اور اولاد پر ناز اس کی کمزوری ہے۔
    اگر انسانیت کی پوری تاریخ دیکھی جائے اور ماں کی محبت احترام، تقدس اور ایثار کا جائزہ لیا جائے تو حضرت ہاجرہ ؑ کا کردار بے مثل، بے پناہ محبت اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نگہداشت کا کوئی اور واقعہ اتنا تاریخ ساز اور منفرد نظر نہیں آئے گا۔
    اگر ماؤں کی تاریخ مرتب کی جائے تو صرف حضرت ہاجرہ ؑ کا تذکرہ اس پورے تذکرے پر اس طرح حاوی ہو جائے گا کہ دوسری تمام مائیں اس کی قربانی اور محبت سے فیض یاب ہوتی نظر آئیں گی۔
    عرب کا تپتا ہوا صحرا، دور دور تک کوئی سبزہ نہیں، آگ کی مانند چٹانیں اور پہاڑیاں، جن پر نگاہ ڈالنے سے آنکھوں میں بھی تپش اور جلن سی محسوس ہونے لگے۔
    تو اس آگ اَگلتی ہوئی وادی میں انسانی وجود کا تصور اور وہ بھی کیسے انسان، ایک شیر خوار بچہ اور اس کی ماں جسے صنفِ نازک کہا جاتا ہے، اس میں اس طرح بیٹھے ہوں جنہیں اپنے پروردگار کی قدرت پر پورا ایمان و یقین ہو۔شریکِ حیات، روٹی کے چند ٹکڑے اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھ کر واپس جا رہا ہو۔
    ہاجرہ ؑ پوچھ رہی ہوں کہ اے ابراہیم علیہ السلام یہ سب کیا کر رہے ہو۔ روٹی کے چند ٹکڑوں اور پانی کے ایک مشکیزہ پر ہم کیسے گزارہ کریں گے، اور پھر اس کے بعد ہمارا کیا ہوگا۔
    اور وہ یہ کہتے ہوئے جا رہے ہوں کہ اللہ پر بھروسہ رکھو، اور میں اسی کے حکم سے تم دونوں کو یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
    ماں کا صبر و شکر دیکھنے کے قابل ہے، اپنی پرواہ نہیں کرتی بلکہ بچے کی معصوم صورت پر نظر ڈال کر اللہ کے آگے سر جھکا لیتی ہے، اس وقت ماں کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی؟
    ماں کی ممتا تڑپ رہی ہو مگر وہ پیکر تسلیم و رضا بنی اپنے جگر گوشے کو سینے سے لگائے ہوئے قدرت خداوندی کے کرشمے کی منتظر ہے۔
    آخر کار وہی ہوا پانی کا ایک مشکیزہ آخری قطرے بھی اپنے اندر سے انڈیل کر اپنی بے چارگی کا اظہار کر رہا ہے۔ شرم کے مارے آنکھیں خشک ہو گئی ہیں، مشکیزہ اپنی بے چارگی اور بے بسی پر افسردہ ہے۔
    کاش! اس وقت ندامت کے کچھ آنسو ہی مشکیزہ سے نکل پڑتے کہ معصوم کی جان بچ جاتی۔
    حضرت ہاجرہ ؑ بے چین اور بے قرار ہو جاتی ہیں، پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتی ہیں، لیکن کہیں پانی موجود نہیں اور بچے کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ بچے کو لیے سوچتی ہیں کہ پانی کہاں سے لاؤں۔
    سامنے ایک پہاڑی نظر آتی ہے سوچتی ہیں کہ اس پر چڑھ کر دور کہیں نظر دوڑائیں شاید کہیں پانی نظر آ جائے۔صفا پر جاتی ہیں پانی نظر نہیں آتا، تھوڑی دور ایک اور پہاڑی نظر آ رہی ہے جو صفا کے سامنے ہے، دوڑتی ہیں اور اس پہاڑی پر جا کر نظر دوڑاتی ہیں۔
    اس طرح صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کی دوڑ ہو رہی ہے۔
    ادھر اللہ رب العزت فرشتوں کو حکم دے رہا ہے کہ دیکھو، غور کرو اس ماں کی محبت کی یہ ادا ہمیں تمام امت مسلمہ کے لیے فرض کرنا ہے۔میں آنے والی نسلوں کو تاقیامت یوں ہی بے قرار دوڑتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔
    اس کے بعد ہی ماں کی بے قراری پر اللہ رب العزت کی رحمت کو جوش آتا ہے اور اچانک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کی رگڑ سے پتھر کا دل موم ہو جاتا ہے۔آبِ شیریں کا چشمہ ابل پڑتا ہے، جس میں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے، یہ پانی نہیں بلکہ آبِ حیات تھا۔
    صرف ان ماں بیٹے کے لیے نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کے لیے تھا، جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو پڑھنے کا عہد کیا۔
    حضرت ہاجرہ ؑ زم زم کہہ کر اسے روکتی ہیں، اور بچے کو یہ پانی پلا کر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتی ہیں۔
    مینڈھ باندھ کر پانی کو روک لیا گیا ہے، خوش نوا پرندے پانی کی تلاش میں ادھر آتے ہیں، قبیلہ جرہم پرندوں کو اڑاتا ہوا دیکھ کر آ کر یہیں قیام کر لیتا ہے۔
    یہ قبیلہ شاید اسی لیے آیا تھا کہ ان ماں بیٹے کی نگہداشت کر سکے۔
    درحقیقت ماں کی محبت اور قربانی کا یہ واقعہ تاریخ کے صفحات میں اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ ہر صفحے سے ماں کا تصور اس طرح ابھرتا ہے، کہ آدمی ماں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں سوچ سکتا۔

    @_aqsasiddique

  • زِندَگی تحریر:افشین

    زِندَگی تحریر:افشین

    زِندگی وہ پھول ہے جو اپنی خوشبوں سے چاروں اِطراف کو مہکا دیتا ہے پھول میں اگرچہ کانٹے بھی موجود ہوتے ہیں پر وہ بھی پھول کا حصہ ہیں ۔ جیسے تکلیفیں ،آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں ۔ زندگی اس سفر کا نام ہے جو مسافروں کی بھیڑ میں طے کیا جائے پر منزل پہ تنہا پہنچا جائے ۔ ہماری زندگی اس کتاب کی مانند ہے جو لکھ دی گئ ہے لکھنے والا رَبّ پاک ہے۔ ہماری زندگی کی کتاب کو پڑھنے والا ہر کوئی نہیں ہوتا کچھ ادھورا پڑھ کے چھوڑ دیتے ہیں کچھ مکمل اور کچھ پَرکھ کے اپنی رائے خود ہی قائم کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ مطلب یہ کتاب دلچسپ نہیں لہذا پڑھنی ہی نہیں ۔ کچھ لوگ پڑھ کے بھی سمجھ نہیں پاتے ۔زندگی خوابوں کا افسانہ ہے جس میں خواب تو بہت ہیں مگر ادھورے ۔زندگی وہ حقیقت ہے جس میں کڑواہٹ بھی ہے پھر سچائی سے بھری ہوئی ہےزندگی نعمتِ خدا ہے خوشیاں غم سب اسکا حصہ ہیں ۔زندگی ان لوگوں کے لیے حسِیں سفر کی مانند ہے جو یہ سوچتے ہیں یہ لطف اندوز ہونے کے لیے ہے اور وہ اپنی زندگی بہترین انداز میں جیتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے لیے زندگی تلخ ہے جو زندگی کو با مقصد جینا چاہتے ہیں کچھ خواب بناتے ہیں انکی تکمیل کے لیے ہر طرح کے حالات سے لڑتے ہیں مشکلات جھیلتے ہیں ۔زندگی بہت کچھ کھونے اور پانے کا نام ہے ۔ زندگی سب کے لیے آسان نہیں ہوتی ۔کچھ جی لیتے ہیں اور کچھ کو یہ زندگی تھکا دیتی ہے ۔ زندگی سانس لینے اور رکنے تک کا نام ہے ۔ زندگی ایک امتحان ہے جیسے پاس ہونے کے لیے محنت اور کوشش درکار ہے، ایسے ہی زندگی کے امتحان بھی کوئی آسان نہیں ہوتے کچھ پانے کے لیے کوشش کی جاتی ہے اور کوشش اور محنت سے پھل ملتا ہے ۔زندگی کے اس سفر میں صبر ایک اہم جُزو ہےصبر و تحمل سے ہی زندگی کا سفر آسانی سے طے کیا جاسکتا ہے۔ اگر اللّلہ پاک کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پہ چلیں گے تو کامیابی آپکے قدم چومے گی راہ بھٹکنے پہ دنیا و آخرت میں سزا منتخب ہے ۔دوسروں کی زندگی آسان بنائیں تاکہ آپکی زندگی کے سب کانٹے خود بخود ہٹ جائیں ۔زندگی رنگوں سے بھری ہے اپنے اردگرد دیکھے ہر طرف رنگ بکھرے پڑے ہیں ۔ ان رنگوں کو سمٹ کے اپنی بے رنگ زندگی میں رنگ بھر لیں ۔ زندگی کو جینا سیکھیے ہمت نہ ہاریں ۔انسان چرند پرند جانور سب کو زندگی دینے والا ایک رِبّ العزت ہی ہے جس اس دنیا کو بنایا اورسب کی تخلیق کی ۔ وہ جب چاہے زندگی لے لے اور جس کو جتنی چاہے زندگی دے دے ۔یوں تو ہر طرف لوگوں کا میلا ہے پھر بھی انسان اکیلا ہے دنیا میں آئے بھی اکیلے ہی تھے جانا بھی اکیلا ہی ہے ۔ پھر کیا گلے شکوے رضائے الٰہی ربِ کائنات کے فیصلوں پہ خوش رہیں۔ اپنی زندگی کو نعمتِ خدا سمجھیں اور اسکو حالات سے تنگ آ کے ختم کرنے کے بجائے مقابلہ کریں اور رَبّ پاک کا شکر ادا کریں کیونکہ زندگی کانٹوں کی سیج ضرور ہے پر یہی کانٹے پھولوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہیں ۔زندہ رہنے کے لیے ہوا پانی غذا اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ انسان جی تو رہے ہوتے ہیں مگر انکا کہنا ہے ہم بس زندہ ہیں۔ زندگی گزر رہی ہے انکے لفظوں میں مایوسی ٹپک رہی ہوتی ہے مطلب انکا جسم ہوا پانی خوراک آکسیجن سب لے رہا ہے پھر بھی وہ خود کو مردہ تصور کر رہے ہوتے ہیں ۔ صرف جسم کا زندہ ہونا ضروری نہیں روح کا زندہ ہونا بھی لازم ہےزندگی گزارنے اور جینے میں بہت فرق ہے ۔اپنی روح کو زندہ رکھے اور اللّلہ پاک پہ سب چھوڑ دیں اللّلہ پاک کے فیصلوں پہ خوش رہے مایوسی زندگی کو دشوار بنا دیتی ہے پُر امید رہیں۔ خوش رہے ۔ دوسروں میں خوشیاں بانٹ کے خود بھی جئیں، خود سے پیار کریں ۔ یہ زندگی بہت قیمتی ہے اسکی قدر کریں۔

    @Hu__rt7

  • پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے تحریر کاوش لطیف

    ایک شخص کو کہا جائے میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں وہ شخص کی بھی آپ کے لیے احساس فیلنگ ہو لیکن کسی کی مداخلت کرنے سے حالانکہ دوسرے کی غلطی بھی نہ ہو وہ پھر بھی چھوڑ جائے اس شخص نے مداخلت کا نہ کہا ہو اس کو پتہ بھی نہ ہو اس کے پیٹھ پیچھے کیا چل رہا ہے لیکن اگلا شخص آپ سے بھی ناراض ہو جائے تو یا تو پہلے دور جانا چاہتا ہوگا بس موقع نہیں مل رہا ہوگا یا اس کے قریبی دوست نے کہا ہوگا مداخلت کا بہانہ بنا کر وہ ساتھ چھوڑ جائے جو کہ میں مانتا ہوں کہ مداخلت کرنا بھی غلط ہے کوئی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ہمارے درمیان یہ مداخلت کر رہا ہے لیکن اس کو بھی سوچنا چاہیے رشتے ایسی باتوں پر ختم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو لوگ نبھانا چاہتے ہیں تو وہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں نبھا جاتے ہیں جو نہیں نبھانا چاہتے ان کےلئے صرف ایک بہانہ کافی ہے چھوڑ کر جانے کے لئے

    زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے ہر صفحے پر ہماری مرضی کی کہانی نہیں لکھی ہوتی لیکن ہر صفحہ ہمیں پڑھنا ہی پڑتا ہے کسی کو اپنی جان سے زیادہ چاہنے کا انعام درد اور آنسوؤں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اس لیے اپنی راتیں ان کے لئے خراب کرنا چھوڑ دو جن کو یہ بھی پروا نہیں کہ تم صبح اٹھو گے بھی کہ نہیں یہ مطلبی زمانہ ہے نفرتوں کا قہر ہے یہ دنیا دکھاتی شہد ہے اور پیلاتی زہر ہے

    انسان نے اگر زندگی میں دھوکا نہیں کھایا تو جان لو کہ زندگی میں سے کچھ سمجھا ہی نہیں یہ دنیا بھی بڑی عجیب ہے یہاں مطلب کی بات تو ہر کوئی سمجھتا ہے پر بات کا مطلب کوئی نہیں سمجھتا یہاں پر لوگ محفل میں بد نام اور منہ میں سلام کرتے ہیں

    ہم نے اپنی سی بہت کی وہ نہیں پگھلا کبھی اس کے ہونٹوں پر بہانے تھے بہانے ہی رہے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ رشتہ دھیرے دھیرے ہی ختم ہوتا ہے بس پتا اچانک چلتا ہے

    ہیرے کو پرکھنا ہے تو تو اندھیرے کا انتظار کروں کیوں کہ دھوپ میں تو کانچ کے ٹکڑے بھی چمکنا شروع ہو جاتے ہیں

    اپنی زندگی کا یہ اصول بناؤ کہ جتنا آپ کے پاس ہے اس سے کم دکھاؤ اور جتنا آپ جانتے ہیں اس سے کم بولو سفر کا مزا لینا ہے تو سامان کم رکھوں اور اگر زندگی کا مزہ لینا ہے تو ارمان کم رکھو کیوں کہ کبھی نہیں سنا کہ انسان کو اس کی عاجزی لے ڈوبی انسان کو ہمیشہ اس کا تکبر ہی لے ڈوبتا ہے

    جیسے ایک چھوٹا سا چھید پوری ناؤ کو ڈبو دیتا ہے ویسے ہی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بہت بڑے بڑے نقصان کروا دیتی ہے

    آسمانوں کو زمینوں سے ملانے والے جھوٹے ہوتے ہیں تقدیر بتانے والے اب تو رشتہ ہی برے وقتوں میں مر جاتا ہے پہلے مر جاتے تھے رشتوں کو نبھانے والے جو تیرے عیب بتاتا ہے اسے مت کھونا اب کہاں ملتے ہیں آئینہ دکھانے والے

    پیار اور پرندے کو ہمیشہ کھلا چھوڑ دینا چاہیے اگر لوٹ کر آیا تو آپ کا اگر نہ آیا تو آپ کا تھا ہی نہیں کسی بھی رشتے میں بھروسا ہونا ضروری ہے پیار کرنے سے بھی زیادہ ضروری ہے اس لیے اپنا پیار ہمیشہ اس کے لئے سنبھال کے رکھوں جس سے اس کی قدر ہو

    زندگی میں جو گزر گیا ہے اسے پیچھے مڑ کر مت دیکھو ورنہ جو ملنے والا ہے اسے بھی آپ کھو دو گے زندگی میں ہمیشہ دلوں کو جیتنے کا مقصد رکھنا ورنہ دنیا جیت کر بھی تو سکندر بھی خالی ہاتھ گیا تھا پیسے کمائیں یا نہ کمائیں لیکن دعائیں ضرور کمانا کیونکہ پھر جھونپڑی میں محل جیسا سکون ملے گا

    @k__Latif

  • سگریٹ و تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    سگریٹ و تمباکو نوشی کے نقصانات تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    آج کل نوجوان نسل میں تمباکو و سگریٹ نوشی کا رجحان دن بدن بڑھتی جارہا ہے ہماری نوجوان نسل کی صحت کے لیے تمباکو و سگریٹ ایک ناقابل یقین حد تک نقصان دہ ہے اگر آپ اپنے تمباکو کو سگار ، یا حقے سے تبدیل کرکے خود کو تسلیاں دیتے ہیں یہ آپ کی صحت پر کیسی بھی خطرات کا موحب نہیں تو یہ آپ کی احمقانہ سوچ ہے

    سگریٹ و تمباکو میں تقریبا چھ سو سے زائد اجزاء شامل ہیں ، جن میں سے بہت سے سگار اور حقے میں بھی مل سکتے ہیں۔جب یہ اجزاء جل جاتے ہیں تو ،سات ہزار کے قریب انتہائی مضر صحت کیمیائی مادے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ ان میں سے بہت سے کیمیکل زہریلے ہیں اور ان میں سے کم از کم 69 کینسر سے منسلک ہیں۔.

    اس کے برعکس سگریٹ میں موجود تمباکو کے اندر جو کیمیائی جزو دراصل جو سب خطرناک اور متاثر کن سرطان کاباعث بنتا ہے وہ نکوٹن کہلاتا ہے۔ تاہم نکوٹن کے علاوہ بھی تقریبا چار ہزار قسم کے دوسرے کیمیائی اجزا سگریٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ جو نہ صرف زہریلا اور متاثر کن اثر رکھتے ہیں بلکہ کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ تقریبا ساٹھ اجزا کینسر کا محرک ہیں۔ جن میں زہر آلود کیمیائی اجزاء کے نام کاربن مونو آکسائیڈ، ٹار، بینزیں، کیڈمیم، امونیا، ایسی ٹلڈ یٹائیڈ، نائیٹروسوامانٹین وغیرہ شامل ہیں۔

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ اسے تمباکو نوشی کیسے کرتے ہیں ، تمباکو آپ کی صحت کے لئے خطرناک ہے۔. کسی بھی تمباکو کی مصنوعات میں ایسیٹون اور ٹار سے لے کر نیکوٹین اور کاربن مونو آکسائڈ تک کوئی محفوظ مادہ نہیں ہے۔. آپ جو مادہ سانس لیتے ہیں وہ صرف آپ کے پھیپھڑوں کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔. وہ آپ کے پورے جسم کو متاثر کرسکتے ہیں۔.

    سگریٹ و تمباکو نوشی بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے جیسے قلبی امراض (سی وی ڈی) ، پھیپھڑوں اور کینسر کی دیگر اقسام اور سانس لینے میں دشواری کے علاوہ گردے، مثانہ، حلق، سانس کی نالی، نرخرہ، پیٹ اور غذا کی نالی کا کینسر بھی تمباکو نوشی کے سبب ہو سکتے ہیں نوجوان نسل بھی اپنے والدین کی سگریٹ نوشی کی سزا بھگتتی ہے۔ کم وزن کا بچہ پیدا ہونا، وقت سے پہلے بچہ کی پیداٸش ہو جانا، مرا ہوا بچہ پیدا ہونا، سڈ یعنی اچانک ہی کسی بچے کا پیدا ہوتے ہی مر جانا ۔

    سگریٹ و تمباکو نوشی جسم میں مختلف قسم کی جاری پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے ، نیز آپ کے جسمانی نظام پر طویل مدتی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔. اگرچہ تمباکو نوشی کئی سالوں میں آپ کے مختلف قسم کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتی ہے ، لیکن جسمانی اثرات میں سے کچھ فوری طور پر ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ، ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے 128،000 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔. ایک رپورٹ کے مطابق ، پاکستان کے 19.1٪ (23.9 ملین) بالغ سگریٹ نوشی میں مشغول ہیں ، جس میں 31.8٪ مرد اور 5.8٪ خواتین شامل ہیں ، جو روزانہ کی بنیاد پر تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتی ہیں۔. شہری علاقوں میں 10٪ کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں تمباکو نوشی کرنے والوں کا تناسب 3.9٪ ہے۔. اکثر ، تمباکو نوشی تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے واقف ہوتے ہیں لیکن وہ سگریٹ میں نیکوٹین کے عادی ہونے کی وجہ سے اس کو چھوڑ نہیں سکتے ہیں۔.

    سگریٹ نوشی نہ صرف تمباکو نوشی کرنے والوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کرنے والوں کو بھی نقصان ہوتا ہے جو غیر فعال سگریٹ نوشی کے ذریعہ اس دھواں کو کھاتے رہتے ہیں۔.

    حکومت پاکستان کو خاص طور پر یونیورسٹیوں میں نوجوانوں میں سگریٹ و تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لئے جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔. حکومت سگریٹ و تمباکو پر ٹیکس بڑھا دے یا فروخت کی قیمتوں میں اضافہ کرے۔. طویل مدت تک ، پاکستان میں تمباکو کمپنیوں پر پابندی عائد کی جانی چاہئے۔. اس عادت کو قابو کرنے کے لئے خاص طور پر دیہی علاقوں میں تمباکو نوشی کے خلاف مختلف آگاہی پروگراموں کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔. مذکورہ بالا اقدامات کرکے حکومت بہت ساری جانیں بچا سکے گی۔.

    ضروری ہے کہ ہم آنے والی نوجوان نسلوں کیلٸے سگریٹ و تمباکو نوشی کے خلاف متحرک ہو جائیں۔ اور ان اپنی نسل نو کو سگریٹ و تمباکو چھوڑنے میں مدد دیں جو اس لت کا شکار ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی مہم کا حصہ بنائیں۔ اور انہیں سگریٹ اور تمباکو کے جان لیوا مرض سے بچاسکے۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • زندگی ، غیر متوقع لمحات کا خوبصورت مجموعہ  تحریر :جہانتاب احمد صدیقی

    زندگی ، غیر متوقع لمحات کا خوبصورت مجموعہ تحریر :جہانتاب احمد صدیقی


    ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ خوش رہے۔ صحت مند رہے، اسے کسی قسم کی رنج و ملال نہ ہو۔ مگر زندگی غیر متوقع لمحات کا خوبصورت مجموعہ ہے، اگر زندگی میں سبھی چیزوں پر غور کیا جاٸیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی غیر متوقع لمحات کا ایک دلکش و خوبصورت مجموعہ ہے۔

    زندگی کے غیر متوقع رفتار کو کیسی بھی لمحے سے جوڑنے کی کوشش کرنے کے بجائے ، زندگی کو غیر متوقع طور پر اور خوبصورت لمحات کے ساتھ گزارا جاٸیں کیونکہ زندگی میں اتار اور چڑھاؤ ، اچھے اور برے دن ، کامیابیاں اور ناکامیابیاں کا مجموعہ ہے ۔ یہ ساری چیزیں زندگ کا حصہ ہیں ، کبھی ماضی کی تلخ یادیں تو کبھی مستقبل کی فکر یہ سب زندگی کا حصہ ہے

    زندگی میں آپ کے سامنے بہت سے غیر متوقع چیلنجز آئیں گے، بہتر انسان وہ ہی ہے جو چیلنج کو کامیابی میں بدل دے کیونکہ ہم کبھی نہیں جان پائیں گے کہ ہمارے لئے زندگی کا کیا ذخیرہ ہے ، لیکن ہم اس حقیقت پر قائم رہ سکتے ہیں کہ مستقبل میں ماضی کی نسبت اس سے کہیں بہتر چیزیں ہیں۔.

    ہماری زندگی کے دوران ، ہم ناکام ہونے جا رہے ہیں ، لیکن ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ ہمارے حقیقی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔. اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم واقعتا کون ہیں اور ثابت قدم رہنے اور آگے بڑھتے رہنے کے لئے اپنی طاقت کی جانچ کرتے ہیں۔.

    ایک بار جب آپ چٹان کے نیچے سے ٹکراتے ہیں تو صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے ، اور سرنگ کے آخر میں روشنی کا ماضی میں رہنے سے کہیں زیادہ انعام ہوتا ہے۔. جب آپ آخر کار کامیاب ہوجاتے ہیں تو آپ کو جو احساس ہوتا ہے وہ اپنے آپ پر افسوس اور ہار ماننے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔.

    ایسا لگتا ہے جب کوئی آپ کو کبھی بھی ہار نہ ماننے کے لئے کہتا ہے ، لیکن آپ اس جملے کے حقیقی معنی کو نہیں سمجھتے جب تک کہ آپ کو ایسی صورتحال میں نہ ڈال دیا جائے جو حقیقت میں اس کی پاسداری کرنے کی آپ کی صلاحیت کی جانچ کرے۔

    ناکامی ایک ایسی چیز ہے جس سے ہم سب کو نپٹنا پڑتا ہے ، کچھ جلد سے جلد ہوجائیں گے اور کچھ کو یہ محسوس ہوگا کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کثرت سے ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔. آپ گیم جیتنے والی شاٹ سے محروم ہوجاتے ہیں یا آپ نوکری کا انٹرویو اڑا دیتے ہیں۔. یہ حالات آپ کے خود اعتماد کو کم کرتے ہیں اور آپ کے سامنے جو مثبت رویہ تھا وہ ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔.

    میں نے اپنی زندگی میں بہت سے کھوٹے سکوں کو چلتے اور بہت سے ڈگری ہولڈرز کو رسوا ٕ ہوتے دیکھا ہے۔زندگی میں اوروں کے لیے دروازہ بنیں دیوار نہیں، کوشش و محنت کریں اور زندگی اپنی میں حرکت جاری رکھیں، زندگی میں آپ کیلٸے اعتماد ،ہمت ، جنون محنت و لگن اور آپ کی ساکھ سب سے اہم ہوتی ہیں۔ کبھی نہیں سنا کہ کسی انسان کو عاجزی لے ڈوبی ہو مگر تکبر و غرور سے ڈوبنے والے بہت دیکھے اس لیے متکبر نہ بنیں بالکل عاجز بنیں ۔

    زندگی کی خوبصورتی غیر متوقع واقعات میں ہی ہے ، اگر زندگی میں سب ہماری منصوبہ بندی کے مطابق ہو تو اس میں کوئی مزہ نہیں کیونکہ زندگی کامیابیاں اور ناکامیاں، دکھ سکھ کا زیور ہے کیونکہ جب زندگی میں وہ سب ہوتا ہے ،جس کا ہم نے سوچا نہیں ہوتا، تو اس سے ہماری زندگی ایک نئی ڈگر پر چل پڑتی ہے اور پھر ہم نئے سرے سے ان حالات کے مطابق منصوبہ بندی کرنے لگ جاتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرتے ہیں اور ایسے کرتے کرتے ہماری زندگی تمام ہو جاتی ہے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • انگلش ۔دوست یا دشمن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    ہم پی آئ اے کی فلائیٹ پر چھ لوگ محو سفر تھے،

    یہ فلائیٹ اسلام آباد سے ابو ظہبی جا رہی تھی،

    ہم 6لوگوں کاتعلق ایک ہی شہر سے تھا۔

    اتفاق سے ہم ایک ہی کمپنی کے ورک ویزوں پر وہاں جا رہے تھے۔

    مزید اتفاق یہ کہ ہم سب کا جاب بھی ایک ہی تھا۔

    ہم سب قدرے گھبراۓ ہوۓ بھی تھے کہ نہ جانے وہاں پہنچ کر ہم کلک کر پائیں گے یا نہیں؟

    ہمارے اس گروپ میں ہم سب کی فنی تعلیم تو برابر تھی۔

    مگر تجربے کے لحاظ سے میں اُن سب سےپیچھے تھا۔

    میرا کام کا تجربہ اُن سب سے کم تھا۔

    اس لحاظ سے میری گھبراہٹ کا ان سے زیادہ ہونا فطری تھا۔

    یہ چیز مجھے مسلسل پریشان کیے جا رہی تھی۔

    پورے سفر میں طرح طرح کے خیالات آتے رہے،

    کیونکہ ایک تو ویزہ بہت مہنگا خریدا تھا تو دوسرا فیملی کی بہت زیادہ توقعات بھی ہم سب سے وابستہ تھیں۔

    شام کے وقت ہم جونہی ابوظہبی 

    ائیر پورٹ پر لینڈ ہوۓ تو دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئیں کہ اب نجانے کیا ہو؟

    نہ جانے کن حالات سے گزرنا پڑے؟

    ائیر پورٹ سے لینے ہمارا ایک مشترکہ دوست آیا ہوا تھا۔

    اُسکی لش پش کرتی نئی گاڑی،

    ہاتھ میں گولڈ لیف کا سگریٹ اور آنکھوں میں رے بین کا چشمہ دیکھ کر ہم سب کے دلوں میں بھی حسرت جاگی کہ نہ جانے کتنے کٹھن مرحلوں کے بعد ہم بھی اسی طرح کی شان وشوکت کے حامل ہوں گے؟

    مگر ابھی کہاں؟

    ابھی تو عشق کے کئی امتحاں باقی تھے۔

    دوست کی رہاشگاہ پررات جیسے تیسے کروٹیں بدلتے گزری۔

    اگلی صبح اُٹھ کر بے دلی سے ناشتہ زہر مار کیا،

    کیونکہ مستقبل کو لیکر زہنی طور پر 

    بے یقینی کی سے کیفیت تھی۔

    جس کے باعث کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا!

    اگلی صبح کپنی کے ہیڈ آفس گئے تو انہوں نے میڈیکل وغیرہ کے لئے ایک دن بعد آنے کو کہا،

    یوں کرتے کراتے چند دنوں بعد ہمیں ایک ورک سائیٹ پر جانے کا پروانہ تھما دیا گیا۔

    کمپنی ڈرائیور کے ہمراہ ہم سب دوست متحدہ عرب امارات کے شہر العین جا پہنچے،

    جہاں پہ ہمارا پراجیکٹ تھا۔

    مجھے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شاکر نامی شخص کے کمرے میں رکھا گیا۔

    شاکر بھائ انتہائ ملنسار اور تعاون کرنے والے شخص تھے۔

    اُن کے ساتھ ٹائم کافی اچھا گزرا۔

    اگلی صبح ہمیں بس کے زریعے پراجیکٹ کے سائیٹ آفس پہنچایا گیا،جہاں ہماری ملاقات ہمارے فلسطینی پراجیکٹ مینیجر انجینئر فتحی سے کروائ گئی۔

    انجینئر فتحی پہلی ہی ملاقات میں کافی سخت آدمی لگا۔

    اُس نے ملاقات کے شروع ہی میں بتا دیا کہ ہمارا اس پراجیکٹ پر رہنا کنسلٹنٹ کمپنی کے ریذیڈینٹ انجینئر مصر سے تعلق رکھنے والے امریکن  پاسپورٹ ہولڈراللہ دین میکاوی کے انٹرویو پر انحصار کرے گا!

    یہ سُنتے ہی تقریبا” ہم سب ہی کے اوسان خطا ہو گئے کہ پتہ نہیں اس انٹرویو میں کیا پوچھا جاۓ گا؟

    پتہ نہیں کتنے مشکل سوالات ہوں گے؟

    یہ سب باتیں ہمیں اگلی صبح تک مضطرب رکھنے کے لئے کافی تھیں۔

    رات رہائشی کیمپ میں واپسی پر شاکر بھائ سے اس انٹرویو کی بابت استفسار کیا،

    مگر انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ آئیڈیا نہیں کہ انٹرویو کیسا ہو گا؟

    کیونکہ بقول شاکر بھائ کے۔

    یہ انٹرویوز کا سلسلہ ابھی ہی شروع ہوا ہے۔

    پہلے تو بغیر انٹرویو کے ہی ڈیوٹی پر لگا دیا جاتا تھا۔

    یہ سُن کر اپنی قسمت پر اور زیادہ افسوس ہونے لگا کہ

    یااللہ ہم سے کونسی غلطی ہوئ ہے کہ جب ہم نے آنا تھا تو انٹرویو پروگرام بھی شروع ہونا تھا۔

    کاش ہم بھی اسی وقت آجاتے جب بغیر انٹرویوزکے نیا پار چڑھ جاتی تھی۔

    مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا،

    سواۓ انٹرویو والی پُل صراط سے گزرنے کے۔

    انٹرویو سے پہلی والی اس رات ہم سب دوستوں نے ڈائریاں کھول کر کچھ نوٹس اور تھیوری و فارمولوں وغیرہ کا مطالعہ کیا مگر شومئی قسمت کہ انٹرویو کے پریشر کے باعث کچھ نیا زہن میں جانے کے بجاۓ پرانا بھی نکلتا محسوس ہوا۔

    خیر کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے،

    بالاخر انٹرویو کی فیصلہ کُن گھڑی آن پہنچی۔

    انٹرویو کے لئے ہم سب کو باری باری اسی کنسلٹنٹ ریذیڈینٹ انجینئر اللہ دین میکاوی کے کمرے میں بھیجا گیا۔

    میری باری پر جونہی میں کمرہ میں داخل ہوا تو سلام دعا کے فورا” بعد میکاوی سر نے مجھے کہا کہ 

    :لگتا ہے مسٹر بخاری کہ آپ کی نیند پوری نہیں ہوئ؟

    یہ سُن کر میرے تو جیسے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے،

    مجھے لگا کہ یہ بندہ بڑا تیز ہے،

    اس نے میری ہڑبڑاہٹ ہی سے اندازہ لگا لیا ہے کہ مجھ میں تجربے کی کمی ہے۔

    خیر جوں توں کر کے یہ ایک گھنٹہ طویل انٹرویو اختتام پزیر ہوا۔

    انٹرویو کے دوران میکاوی سر نے مجھے دس منٹ کا چاۓ پینے کے لئے وقفہ دیا تو میں نے سُکھ کا سانس لیا۔

    ان غنیمت دس منٹوں میں چاۓ کا تو حلق سے اترنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا،

    تاہم اس وقت کو میں نے اپنی سانسیں بحال کرنے اور چہرے پر تھوڑا بہت اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف کیا۔

    دس منٹ کے وقفے کے بعد جب میں دوبارہ انٹرویو کے لئے کمرے میں گیا تو میری کیفیت کچھ اچھی تھی،کیونکہ انٹرویو کے پہلے مرحلے میں مجھے کچھ ان جانا سا حوصلہ ملا تھا۔

    میرے بعد ہم سب چھ کے چھ دوستوں کے انٹرویو مکمل کراۓ گئے۔

    انٹرویو کے خاتمے کے بعد میکاوی سر نے ہم سب کو کہا کہ اب تم چلے جاؤ اور اپنی اپنی نیند پوری کرو۔

    میں کل تک انٹرویو کے رزلٹس سے آپ کے پراجیکٹ مینیجر کو آگاہ کر دوں گا۔

    ہم سب شکریہ ادا کر کے ایکبار پھر کمپنی کیمپ میں واپس آگئے۔

    اگلی رات ہم سب کے لئے پچھلی راتوں سے بھی بھاری تھی،

    کیونکہ اگلے دن ہماری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

    اگلی صبح ہم سب کے کیرئر کے لئے بہت ہی اہم تھی۔

    بس یوں سمجھیے کہ یہ رات بھی کانٹوں پر ہی گزری،

    نیند تو جیسے کوسوں دور تھی۔

    کروٹیں بدلتے بدلتے رات گزری اور صبح پھر ہم سائیٹ آفس جا پہنچے۔

    کچھ دیر انتظار کے بعد ہمیں ہمارے پی ایم نے اپنے دفتر بُلایا اور انٹرویوز کے رزلٹ کے بارے میں بتاتے ہوۓ ہوۓ جو انکشاف کیا،

    وہ سواۓ میرے ،

    باقی سب کے لئے بہت ہی شاکنگ تھا۔

    میکاوی سر نے صرف مجھے کامیاب قرار دیا تھا،

    کیونکہ بقول اُن کے،

    میں ان کے سوالوں کے زبانی اور تحریری جواب دینے میں کافی حد تک کامیاب رہا تھا۔

    اگرچہ ان میں پچاس فیصد جواب تو غلط تھے مگر میں ان کے سوالوں کے جواب میں بے تکان بولتا رہا اور جب انہوں نے لکھنے کا کہا تو میں لکھنے میں بھی کامیاب رہا۔

    بتاتا چلوں کہ ہمارے یہ انٹرویوز انگلش زبان میں تھے۔

    اور میری اکیڈمک کوالیفیکیشن دوسرے دوستوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے انگلش میں جواب دیتے وقت کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئ۔

    جبکہ باقی دوستوں کا ہاتھ انگلش میں بہت تنگ تھا،

    جیسا کہ ہم میں سے اکثر پاکستانیوں کے ساتھ یہ مشکل رہتی ہے۔

    وہ  سب میکاوی سر کے زیادہ تر سوالات اس وجہ سے سمجھ ہی نہیں پاۓ کیونکہ یہ سوالات انگریزی زبان میں پوچھے گئے تھے۔

    میرا فیلڈ کا تجربہ اُن سب سے کم تھا،

    ٹیکنیکی طور پروہ سب مجھ سے اچھے پروفیشنل تھے۔

    مگر کمزور انگلش کی وجہ سے مار کھا گئے۔

    انٹرویو کی ناکامی سے میرے اُن دوستوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،

    کیونکہ پہلے تین مہینے ہم سب کا پروبیشن پیریڈ چل رہا تھا،

    جس میں کمپنی کے پاس ورکرز کو اپنی توقعات پر پورا نہ اترنے کے باعث تادیبی کاروائ کااختیار ہوتاہے۔

    میرے ان دوستوں کے پیکیج بھی تبدیل کئے گئے،

    انکی تنخواہوں میں چالیس فیصد تک کمی کر کے دوسری سائیٹ پر ٹرانسفر کر دیا گیا۔وہاں بھی انکی مشکلات کم نہ ہوسکیں اور وہ لمبا عرصہ جدوجہد میں رہے۔

    میں انگلش پر قدرے عبور اور اپنی خوش قسمتی سے اکیلا آدمی تھا،

    جو اسی پراجیکٹ پر سروائیو کر گیا،

    جس کے لئے ہمیں پاکستان سے لایا گیا تھا۔

    میں تقریبا” پراجیکٹ کے اختتام تک وہیں رہا اور الحمدللہ پراجیکٹ کی  کامیاب تکمیل میں بھرپور حصہ ڈالا۔

    اس زاتی تجربے اور مشاہدے کو آپ کے گوش گزارنے پر مجھے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس بیان نےمجبور کیا،جس میں انہوں نے چند روزانگلش زبان کے بارے میں کچھ ناپسندیدگی کا تاثر دیا۔

    مجھے وزیر اعظم کے اس بیان سے جزوی طور پر اختلاف ہے،

    ہم انگلش سے دور نہیں رہ سکتے،

    ایسا کرنے سے ہم دنیا سے دور ہو جائیں گے،

    انگلش بیرون ملک خصوصا” گلف میں نوکریوں کے لئے اہم ترین ٹُول ہے۔

    اس پر عبور حاصل کرنا بہت اہم اور ضروری ہے،

    ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم جو کہنا چاہ رہے ہوں،

    ہم ان کی بات اس تناظر میں سمجھ نہ پاۓ ہوں۔

    تاہم ہو سکتاہے کہ عمران خان کا مدعا یہ ہو کہ انگلش نہ آنے کی وجہ سے اپنے آپ کو احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔

    یہ بات وزن رکھتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کو اتنا ہی اہم سمجھیں،

    جتنا گورے اپنی بات کو سمجھتے ہیں۔

    مگر انگلش ایک انٹرنیشنل زبان ہے،

    اسے سیکھنا ہمارے بچوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

    بیرون ملک کام کرنے کے لئے یہ زبان انکی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    اسلئے انگلش کی بطور زبان ،

    قدروقیمت سے انکار ممکن ہی نہیں۔

    کیا پتہ آپکی فیلڈ میں ٹیکنیکل تجربے کی کمی کو انگلش زبان دور کر کے اسی طرح قسمت کا دروازہ کھول دے۔

    جس طرح مجھ پر اللہ پاک نے اپنا کرم کیا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ  تحریر: خالد عمران خان

    اولاد کی تربیت کا آسان طریقہ تحریر: خالد عمران خان

    آجکل کے دور میں جب دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دن با دن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے ایسے وقت میں ماں باپ اپنی مصروفیات کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کے لیے پریشان ہیں بہت آسان طریقے کار کو اپنا کر آپ بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں.

    بچوں کو دین کے بارے میں سیکھانا سب سے اہم ہے جب اذان سنتے ہی آپ ٹیلی ویژن بند کر دیتے ہیں اور فورا نماز کے لئے تّیاری کرتے ہیں تو عنقریب آپ اپنے اس طرز عمل سے اپنے بچوں کو نماز کا پابند بنانے کا طریقہ سیکھا دیں گے جب بچے ماں باپ کو نماز پڑھتا دیکھتے ہیں جب بچے اور ازان کا احترام کرتا دیکھتے ہیں تو بچے آپ سے سیکھتے ھیں وہ نماز کے بھی پابند بنتے ہیں اور ازان کے وقت ازان کو احترام سے سنتے ہیں.

    جب آپ گھر میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے سب کو سلام کرتے ہیں تو بچے بھی آپکی یہ عادت اپنا لیتے ہیں بچے آپ کے عادت کو خاص طور پر دیکھتے ہیں اور اور لازمی اپنے والدین کی عادات اپنانے کی کوشش کرتے ہیں.

    والدین خاص طور اس بات کا خیال رکھیں کے جس رویئے سے وہ اپنے بڑوں سے پیش آتے ہیں اسّی طرح جب آپ اپنے والدین کا احترام کر تے ہے تو اپنے بچوں کے سامنے اور ان کے ہاتھوں کو بوسا دیتے ہیں تو آپ کے بچے آپکے اس عمل سے ماں باپ کی عزت کرنا سیکھتے ہیں اور وہ آپ سے عزت آی پیش آتے ہیں.

    جب والدین یہ میاں بیوی مختلف کام کاج میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو اس سے آپ کے بچے بھی سیکھتے ہیں اور ایک
    دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا سیکھتے ہیں اس طرح کی چیزیں وہ بچپن سے ہی سیکھ رہے ہوتے ہیں تو لازمی آپ ان باتوں کا خیال رکھیں اور اپنے رویے گھر میں خاص طور پر ٹھیک رکھیں۔بچوں کے سامنے خاص طور پر کسی قسم کے جھگڑے سے دور رکھیں ایسا کوئی عمل ان کے سامنے نہ کریں تاکہ ان میں بھی اس طرح کی عادت نہ پڑے۔

    جو ماں باپ نماز اور تلاوت قرآن کی پابند ہو تو اسے دیکھ کر اس کی بچے بھی نماز اور
    تلاوت قرآن کی پابند بنیں گے.

    جو ماں باپ گھر میں مُحبت کا ماحول رکھتے ہیں باہمی اتفاق و مفاہمت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اپنی اولاد کے سامنے لڑائی جھگڑا اور بلند آواز سے بات نہیں کرتے تو ان کے بچے گھر سے ماں باپ سے بہن بھائیوں سے محبت کرنے والے، اپنے اِرد گرد کے لوگو کے ساتھ الفت و محبت اور باہمی اتفاق ومفاہمت سے زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں.

    7- جو والدین اپنے رشتے داروں سے نرمی برتے ہیں کر اپنے عزیز و اقارب کی عزت کرتے ہیں تو ان کی اولاد بھی اس سے نرمی اور حسن سلوک سیکھتی ہے۔

    جو والدین آپس میں با ہمی مشورے سے مختلف امور میں ایک دوسرے سے رائے لیتے ہیں اور بچوں سے بھی راۓ مشورے لیتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کر تے ہیں اور اپنے بچوں کی رائے کا بھی احترام کر تے ہے تو اس سے بھی ان کے بچوں میں بھی باہمی راۓ مشورے اور مثبت رویہ اپنانے کی عادت پیدا ہوتی ہے آسان اور چھوٹے چھوٹے سے طریقے اپنا کر آپ اپنے گھر کا ماحول بہتر کر سکتے ہیں.

    Twitter handle
    @KhalidImranK