Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏جنسی زیادتیوں کو روکنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت کے احکامات ہیں تحریر اکرام اللہ نسیم

    ‏جنسی زیادتیوں کو روکنے کا بہترین طریقہ قرآن اور سنت کے احکامات ہیں تحریر اکرام اللہ نسیم

    اللہ رب العزت کا ہم سب پاکستانیوں پر بہت بڑا کرم ہے
    کہ اللہ رب عزت نے ہمیں پاکستان جیسے آزاد ملک میں پیدا کیا جہاں ہر قسم کے مذہبی اعمال ایک مسلمان آزادی سے ادا کرتا ہے جس پر ہم رب کریم کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہیں
    اب ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بے حیائی اور درندگی کا طوفان اٹھا ہے اور وہ بے حیائی کا درندگی کا طوفان جنسی زیادتیوں کی صورت میں پاکستان کے طول وعرض میں بہت تیزی سے پھیل چکا
    اب اسکے روک تھام کے لئے ہر شعبے سے وابستہ رہنے والا قاضی ہو یا قاری ہو
    خطیب ہو یا ادیب ہو صحافی ہو یا سپاہی ہو ڈاکٹر ہو یا کرکٹر سیاستدان ہو یا قانون دان ہو جنرل ہو یا کرنل فقیر ہو یا امیر ان سب کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ جنسی زیادتیوں کے روک تھام کے لئے آگے بڑھے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ معاشرہ انسانوں کا معاشرہ لگے حیوانوں کا نہیں
    اب آئیں آپ کے سامنے صرف ایک شہر کا ریکارڈ رکھتے ہیں کہ
    رواں برس پاکستان کے دل لاہور میں زیادتی کے 369 کیس سامنے آئے جس میں کسی بھی ایک ملزم کو سزا نہیں ہوئی
    اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ جنسی زیادتیوں میں ملوث افراد کو نہ سزا دی جاتی ہے نہ انکو بھاری جرمانہ کیا جاتا
    اگر واقعتاً پاکستان کے باسی اور اسکے تمام ادارے پاکستان میں جنسی زیادتیوں کو روکنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے قرآن اور احادیث مبارکہ میں جو احکامات زانیہ عورت اور زانی مرد کے لئے ہیں اسکو عمل میں لایا جائے جسطرح کے قرآن مجید میں ہے
    الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ

    جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔
    یہاں اس آیت میں زانیہ اور زانی کے ساتھ نرمی کرنے سے واضح منع کیا گیا ہے
    ملک پاکستان میں زانی اور زانیہ کا قانون نرمی پر مبنی ہے اس نرمی کا اندازہ آپ لاہور میں 369 جنسی زیادتیوں کے کیسز سے لے سکتے ہیں کہ اسمیں سے کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی
    اور آئے روز جنسی زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے
    جب تک اللہ رب العزت کے نازل کردہ احکامات ملک پاکستان کا قانون نہیں بن جاتے جنسی زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوگا کمی نہیں ہوگی
    جنسی زیادتی میں شامل دو چار لوگوں کو اگر ڈی چوک میں کھڑا کرکے شرعی سزا دی جائے اور اسکو تمام ٹی وی چینلز پر لائیو دیکھا جائے
    اس سے لوگوں کے دلوں میں خوف آجائے گا کہ اسکی اتنی بڑی سزا ہے جب دل میں۔ خوف پیدا ہوجائے تو انسانی فطرت ہے کہ جس جگہ میں اسکو خوف ہو وہ اس کام سے رک جاتا ہے
    مگر بدقسمتی سے ایک اسلامی ملک کے اندر اسلام کے مطابق سزا کا نفاذ نہیں جنسی زیادتیوں میں ملوث درندے کبھی قبر سے عورت کا میت نکال کر کبھی چھ سال کی بچی کو کبھی دس کی بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
    ‎@realikramnaseem ٹویٹر ہینڈل

  • مینٹل ہیلتھ  تحریر: خالد عمران خان

    مینٹل ہیلتھ تحریر: خالد عمران خان

    ذہنی پسماندگی ہمارے ہاں بڑھتی چلی جارہی ھے اور سب سے بڑی جہالت یہ ھے کہ ہمارے ہاں زہنی مرض کو بیماری سمجھنے کی بجائے لوگ دیگر عوامل کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ جہالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ھے کہ زہنی مریض کو اکثر جنات کے زیر اثر قرار دے دیا جاتا ھے جس کی وجہ سے زہنی مریض کو باقاعدہ علاج کی بجائے پیری فقیری کے چکروں میں ڈال دیا ھے جاتا ھے جو کہ انتہا درجے کی جہالت کا واضع ثبوت ھے۔

    اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے بہت سے ایسے معاشروں اور تہذیبوں کی مثالیں آتی ہیں جس سے ہمیں پتہ چلتا ھے کہ بہت سے معاشرے اور تہذیبیں گردش وقت میں گم ہوگئیں، ہمارے معاشرے میں جو دن بہ دن بگاڑ سامنے آرہا ھے اس میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی رویوں کا خوفناک حد تک بگاڑ ھے جو کہ تشویش کی بات ھے۔اب اگر ہم ایشائی ممالک کا تجزیہ کرتے ہیں تو اول تو زیادہ تر کو زہنی امراض سے آگاہی ہی نہیں ھے بالفرض اگر معلوم ہو بھی جائے تو ہمارے ہاں چیزوں کو چھپانے کا رواج عام ھے یہاں لوگ زہنی امراض کو چھپا کر رکھتے ہیں، زہنی امراض کو باعث شرمندگی قرار دیا جاتا ھے اگر نوجوانوں میں یہ مسئلہ ہو تو اس لئے بھی خفیہ رکھا جاتا ھے کہ اگر کسی کو پتہ چل جاتا ھے ان کی زینی بیماری کا تو بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں اور اہم مسئلہ یہ کہ ان کی شادی بھی ناممکن ہوجائے گی۔ اصل میں ڈپریشن کے لئے کوئی مخصوص لفظ نہیں ھے اس سے متاثرہ لوگوں کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ھے کہ انہیں زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا ھے۔ عالمی ادارہ صحت اپنی ایک رپورٹ میں بتاتا ھے کہ دنیا بھر میں تقریباً 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی بیماری میں مبتلا ہیں۔ذندگی کے سہل پسند معاملات نے انسانی جسم کو خاصا متاثر کیا ھے وہیں ہمارے معاشرتی رویوں نے غربت پر بہت گہرا اثر ڈالا ھے اسی وجہ سے پیچدہ ذہنی مسائل جنم لینا شروع ہوگئے ہیں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ھے کہ روزمرہ کے معمولات جیسے کہ کسی کی زندگی میں غم و خوشی یا خوف وغیرہ کی کوئی ظاہری وجہ وقع پذیر نہ ہونے کے باوجود دماغ میں کیمیکلز عدم توازن کے باعث ایک انسانی دماغ ان تمام کیفیات میں مبتلا ہوسکتا ھے۔

    ایسے مواقعوں پر ضروری ھے کہ ذہنی مرض میں مبتلا مریض کی مکمل کونسلنگ کروائی جائے تاکہ مریض کے طرز زندگی اور سوچ میں مثبت تبدیلی لائی جاسکے اس کے علاوہ ذہنی مریض کے تجویز کردہ ادویات بھی عصبی کیمیائی مادوں کو واپس اپنی جگہ پر لانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
    دنیا بھر میں اس وقت زہنی ڈپریشن دنیا بھر میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ھے کچھ افراد اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں کہ خودکشی تک کرلیتے خصوصاً نوجوانوں میں یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ھے گزشتہ کچھ واقعات ایسے بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ امتحانات میں ناکامی کے خوف کی وجہ سے طلباء نے خودکشی جیسا انتہائی اقدام اٹھایا، ایک محتاط اندازے کے مطابق آدھے سے ذیادہ زہنی مریضوں کی عمر چودہ سال سے شروع ہوتی ھے محکمہ صحت کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ھے کہ پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک فرد زہنی مرض میں مبتلاء ھے۔
    طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ زہنی امراض کے تدارک کے لئے یہ ضروری ھے کہ عوام میں علاج معالجہ کے ساتھ اس بیماری سے متعلق شعور بھی اجاگر کیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ھے کہ زیادہ تر ہمارے ہاں زہنی امراض کا علاج کروانے سے کتراتے نظر آتے ہیں، انسان خواہ کتنا ہی اندر سے مضبوط کیوں نہ ہو یہ بیماری کسی کو بھی لاحق ہوسکتی ھے زہنی مریض خاص طور پر خصوصی توجہ کا مستحق ہوتا ھے، خاص توجہ سے ہی ایسے مریض واپس نارمل زندگی کی طرف آسکتے ہیں نا کہ ہنسی مذاق اڑانے سے اسی لئے اگر خدانخواستہ کسی کے گھر میں بھی کوئی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ھے تو اس کے لئے یہ ضروری ھے کہ ایسے مریضوں کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آئیں جائیں تاکہ وہ جلد صحتیاب ہوکر معاشرے کے معزز شہری بن سکیں

    Twitter ID :‎@KhalidImranK

  • ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت   تحریر زاہد کبدانی

    ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت تحریر زاہد کبدانی

    یہ کہنا کہ تعلیم اہم ہے ایک چھوٹی سی بات ہے۔ تعلیم کسی کی زندگی کو بہتر بنانے کا ہتھیار ہے۔ یہ شاید کسی کی زندگی بدلنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ بچے کی تعلیم گھر سے شروع ہوتی ہے۔ یہ زندگی بھر کا عمل ہے جو موت کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ تعلیم یقینی طور پر کسی فرد کی زندگی کے معیار کا تعین کرتی ہے۔ تعلیم کسی کے علم ، مہارت کو بہتر بناتی ہے اور شخصیت اور رویہ کو ترقی دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم لوگوں کے روزگار کے مواقع کو متاثر کرتی ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کو شاید اچھی ملازمت ملنے کا امکان ہے۔ تعلیم کی اہمیت پر اس مضمون میں ، ہم آپ کو زندگی اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بتائیں گے۔

    سب سے پہلے ، تعلیم پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سکھاتی ہے۔ پڑھنا اور لکھنا تعلیم کا پہلا قدم ہے۔ زیادہ تر معلومات لکھ کر کی جاتی ہیں۔ لہذا ، لکھنے کی مہارت کی کمی کا مطلب ہے کہ بہت سی معلومات سے محروم رہنا۔ اس کے نتیجے میں تعلیم لوگوں کو خواندہ بناتی ہے۔

    سب سے بڑھ کر ، روزگار کے لیے تعلیم انتہائی ضروری ہے۔ یہ یقینی طور پر مہذب زندگی گزارنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ یہ ایک اعلی تنخواہ والی ملازمت کی مہارت کی وجہ سے ہے جو تعلیم فراہم کرتی ہے۔ جب تعلیم کی بات آتی ہے تو غیر تعلیم یافتہ لوگ بہت بڑے نقصان میں ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے غریب لوگ تعلیم کی مدد سے اپنی زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔

    بہتر مواصلات تعلیم میں ایک اور کردار ہے۔ تعلیم انسان کی تقریر کو بہتر اور بہتر بناتی ہے۔ مزید برآں ، افراد تعلیم کے ساتھ رابطے کے دوسرے ذرائع کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

    تعلیم ایک فرد کو ٹیکنالوجی کا بہتر صارف بناتی ہے۔ تعلیم یقینی طور پر ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ضروری تکنیکی مہارت فراہم کرتی ہے۔ لہذا ، تعلیم کے بغیر ، جدید مشینوں کو سنبھالنا شاید مشکل ہوگا۔

    لوگ تعلیم کی مدد سے زیادہ بالغ ہو جاتے ہیں۔ نفاست تعلیم یافتہ لوگوں کی زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر ، تعلیم افراد کو نظم و ضبط کی قدر سکھاتی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی وقت کی قدر کو زیادہ سمجھتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگوں کے لیے وقت پیسے کے برابر ہے۔

    آخر میں ، تعلیم افراد کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے خیالات کا موثر انداز میں اظہار کر سکیں۔ تعلیم یافتہ افراد اپنی رائے کو واضح انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔ لہذا ، پڑھے لکھے لوگ لوگوں کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے کا امکان رکھتے ہیں۔

    معاشرے میں تعلیم 

    سب سے پہلے ، تعلیم معاشرے میں علم پھیلانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ شاید تعلیم کا سب سے قابل ذکر پہلو ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرے میں علم کی تیزی سے تبلیغ ہوتی ہے۔ مزید برآں ، تعلیم کے ذریعہ نسل سے دوسری نسل میں علم کی منتقلی ہوتی ہے۔

    تعلیم ٹیکنالوجی کی ترقی اور اختراع میں مدد دیتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعلیم جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی ٹیکنالوجی پھیلے گی۔ جنگی سازوسامان ، ادویات ، کمپیوٹرز میں اہم پیش رفت تعلیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    نتیجہ

    تعلیم اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔ یہ یقینی طور پر اچھی زندگی کی امید ہے۔ تعلیم اس سیارے پر ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس حق سے انکار کرنا برائی ہے۔ ان پڑھ نوجوان انسانیت کے لیے بدترین چیز ہے۔ سب سے بڑھ کر ، تمام ممالک کی حکومتوں کو تعلیم کو پھیلانا یقینی بنانا چاہیے۔

    @Z_Kubdani

  • ادھورے خط  تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    ادھورے خط تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    السلام علیکم!

    آج گرمی اپنے شباب پر ہے اپنے تمام تر جاہ و جاللال کے ساتھ ، گرم کر دینے کے عمل سے ، گرمی کی اتنی شدت اور میرا بوائلر  روم سب سے گرم ہے۔ اتنی شدید گرمی میں میرا بوائلر  روم جہنم کا ایک گوشہ معلوم ہوتا ہے ۔اور جب بوائلر  روم کے اندر جانا پڑتا ہے تو گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اور پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔جسے  پچلھے سال کیمسٹری لیب میں کیمسٹری کے پریکٹیکل کرنے میں آتا تھا ۔

      اتنی گرمی کے باوجود لیب کوٹ پہننا ضروری ہوتا لیب کوٹ جلتی ہوئی گیس جلاتی ہوئی دھوپ اور لیب کی بند کھڑکیاں ،لڑکیوں کے لال ہوتے سرخ سیب کی طرح رخسار ،ماتھوں پر بالوں کا لٹ کی صورت میں ٹھہر  جانا کتنا بھلا لگتا تھا۔

      مجے یہاں کی گرمی دیکھ کر وہ سب یاد أگیا

      کیمسٹری لیب، فزکس لیب ( Y) بس کا سفر،  اور تم  لوگوں کو بہت گرمی محسوس ہوتی تھی اور  مجے مزہ آتا تھا   یہاں بھی لوگوں کو گرمی محسوس ہوتی ہے اور میں لطف اندوز ہوتا ہوں کیونک میری فطرت  میں گرمی سردی ،خزاں، بہار ہر  موسم لطف اندوز ہونے کی عادت ہے۔

      

    ١٩مَی 1993ء

    اوپر کی سطور میں تقریبا” ١٥ دن پہلے لکھ چکا ہوں ۔١٨ مئی کو تمہارا خط مجے ملا حالات سے اگاہی ہوئی میں تم لوگوں کے خطوط کا ہی انتظار کر رہا تھا اسد کا رویہ قابلٔ افسوس تھا کہ اس نے خط تم لوگوں کو تک نہ پہنچاۓ۔

     تمہارا خط مجے مل گیا تھا۔ افسوس ہے کہ تم نے پنسل سے لکھا ہے خط لکھنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ خط لکھنا ایک مہذب  کام ہے تم لوگ کب اپنا آپ مکمل کرو گے توقیر ، تم سب جتنے بھی ہو میرے حلقہ احباب  میں ، کام  میں اپنی زندگی کے  اصل رخ دیکھنا جانتے ہو کیا اسا ممکن نہیں ہے کہ میں اپنے ملنے والوں سے تم دوستوں کی تعریف کرتا ہوں ممکن ہے ان کو لگتا  ہو کہ میرے دوست عام راستوں پر چلنے کے عادی نہیں ہیں۔ اور تم لوگ ہو کہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جاتے ہو  جس سے میری ناک چڑھ کر ماتھے سے جا لگتی ہے۔ بھلا سوچو میری چڑھی ہوئی ناک دیکھ لاہور والے کیا  سوچیں  گے۔ 

     کچھ تو خیال کرو خیر چھوڑو ان باتوں کو کہیں ایسا نہ ہو کہ خط اپنی باتوں کی نذر  ہو جاۓ۔

    ہاں میں پنجاب کا رہنے والا پنجاب کا پنجابی ہوں  مجے اکثر جامعہ ملیہ کالج کا  کلاس روم پریکٹیکل  لیب یاد آتا ہے۔خاص طور پر ان گرمیوں  میں جو آج کل لاہور پر مسلط ہے ۔

     پچھلے سال کراچی میں بھی  شدید گرمی تھی۔اندازہ پریکٹیکل کرنے کے دوران یا  Y بس کا سفر کرنے  پر ہوتا تھا۔یا چند  جو ہماری کلاس میں گوری چٹی لڑکیوں کے سرخ ہوتے ہوۓ گالوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا۔

    یہ وہ باتیں ہیں جو میں اکثر یہاں اپنے بوائلر  روم میں بیٹھ کر سوچتا ہوں کیونکہ یہاں سوچنے اور لکھنے کے علاوہ کچھ اور کام نہیں ہوتا عجیب نوکری ہے پندرہ دن ہو گئے ہیں ،آتا ہوں ، سوچتا ہوں شام چار بجے گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہوں۔اور  رات گئے تک آوارہ گردی کرتا ہوں اور صبح پھر ڈیوٹی پر آ کر سو جاتا ہوں۔

    ویسے مجھے یہ اپنی ڈیوٹی بہت اچھی لگتی ہے۔کیونکہ اس ڈیوٹی کی وجہ سے میں صبح سورج کے ساتھ خواب سے حقیقت کی طرف طلوع ہوتا ہوں۔یعنی صبح ٥ بجے اور مغرب کی طرف جاتی رات دیکھتا ہوں۔اور مشرق سے دبے پاؤں آتی  خوشگوار صبح دیکھتا ہوں۔جب میں پہلی بار اٹھا تو کچھ پہر انکشاب ہوا کہ سورج میرے گھر سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر رہتا ہے۔

    رات تمہارا خط ملا اور آج میری ماں نے دو پراٹھے اور آلو ٹماٹر کے ساتھ بھون کر مجھے دیے لے بیٹھ جا۔دوپہر جب بھوک لگے تو باہر سے کھانے کی بجائے یہ کھانا۔میں نے کھایا۔مجھے انڈوں کا صفر یاد آیا۔میں آپ ہی آپ مسکرا پڑا۔پھر تمہیں خط کا جواب دینے بیٹھ گیا۔

    پرسوں والے دن مجھے بتانا جب رزلٹ آئے ، اور پرسوں والا  دن ہمارے کالج کی چھت پر رہتا  ہے۔تمہیں اتنا نہیں پتا تمہاری غفلت پر افسوس ہے لیکن نظر بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔پرنسپل کو نظر آتا ہے۔یا اسحاق  کو۔ پنسل  سے لکھنے والوں کو تو بالکل نظر نہیں آتا۔اور نہ ہی انگلش ٹیچر کو نظر آتا ہے۔اور کل ٹیکنیکل کالج کی چھت پر رہتا ہے۔ اور سورج میرے گھر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔

    آہ یہ چیزیں تمھیں نظر نہیں آیئں گیں ۔

    آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں۔

    اچھے اور پیارے لڑکے۔

    اؤ چند لمحوں ، چند سالوں ، چند صدیوں کے لئے میرے پاس آؤ۔

    میرے قریب بیٹھو

    میں تمہیں کچھ سمجھاؤں میں تمہں ایک سچی اور کھڑی لیہ پر لگاؤں۔اور تم سمجو گے ان حقیقتوں کو جو بہت  اکلیت میں ہیں۔جن تک ہر دور میں چند انسان پہنچ پاتے ہیں ۔ سب زندہ ہیں ، سب مردے ہیں مرے ہوۓ۔ آؤ پیارے میرے پاس بیٹھو۔تم محسوس کرو گے جو مر چکے ہیں۔وہ موجود ہیں۔اور جو زندہ ہیں۔وہ کہی چلے گئے ہیں جو مر جاتے ہیں وہ اپنے وجود میں آ جاتے ہیں۔اور زندہ غائب ہو جاتے ہیں۔ہا۔ہا۔ہا۔تم نہ سمجھ پاؤ گے۔کیونکہ تم محض ایک سایہ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔جو ہوتا ہے لیکن  کچھ نہیں کرتا۔

    تم کیا کرتے ہو؟کیا کیا ہےآج تک؟ جو گزر گۓ وہ کچھ کر گۓ۔ جو کچھ گزار رہے ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔اور تم_____۔

    تم کو اپنی ذات کا نہیں پتہ__ محض ایک ساۓ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔آؤ ۔ گھبراؤ مت۔اٹھ کھڑے ہو۔ابھی سفر بہت لمبا ہے۔اور کھٹن۔اور تم مسافر۔

    اب تک ان راستوں پر چلتے آۓ ہو۔جو پامال ہو چکے ہیں۔جن پر کتنے ہی انسان محض کیڑے مکوڑے کی طرح سفر کرتے ہیں۔اور تم بھی ان میں محض ایک کیڑے کی حیثیت رکھتے ہو۔

    اب بھی وقت ہے۔چھوڑو ان پامال راستوں کو۔آو۔ ادھر آؤ ۔اس وحشت میں۔پر منظر جنگل میں۔اس وادی میں۔نیلی جھیل کے کنارے۔جہاں کئی  انسان کے قدم اب تک نہیں پہنچ سکے ۔  آؤ سفر اب بھی طویل ہے۔ اور بالکل اجنبی۔نئ راہوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہو۔عام انسانوں کی صف میں سے نکل آؤ ۔پھر دیکھو تم کو یہ انسان محض سایوں کی طرح نظر آئے گے۔اور سائے کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟

    گرمی نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے لیکن میں ___

    سب کنٹین کی طرف جا رہے  ہیں کھانے کے لئے میں بھی جاؤں گا اب کچھ ہی دیر بعد۔شہتوت کی چھاؤں میں شیخ کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھاؤں گا۔شہتوت کی چھاوں بہت سکون بخش ہے۔کھانے کے بعد ٹھنڈا پانی ‏پیؤنگا۔سکون سے آنکھیں بند کروں گا گرمی سے پیاری کوئل کی صدا سنوں  گا۔چڑیوں کی چوں ۔چوں اور کوؤں کی کائیں کائیں۔

     سورج جادوگر ہے پیارے۔

      

     @Ishaqbaig___

     

  • چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے انسانی معاشرے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سگریٹ نوشی کے کئی جسمانی اور ذہنی نقصانات سےواقف ہونے کے باوجود سگریٹ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ، سگریٹ نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر مکمل قابو پانے کے لیے  بہت  سی تحریرلکھی جاچکی ہیں اور
    حکومت نے تمباکو نوشی کے خاتمے کیلئے کئی اقدامات کئے، اس کے نقصانات سے آگاہ کیا ، لیکن سگریٹ نوشوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی

    سگریٹ باظاہر دیکھنے میں ایک چھوٹی سی شے ہے مگر جان لیوا امراض اور بےشمار نقصانات کا موجب ہیں۔سگریٹ میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جسے نکوٹین کہتے ہیں جب ایک فرد سگریٹ کا دھواں اپنے اندر کھینچتے ہیں تو اپنے پھیپھڑوں کی تہیں اس دھوئیں سے نکوٹین لینا شروع کر دیتی ہیں، چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ پر حاوی ہوجاتا ہے، جس کے بعد ہمارا دماغ ڈوپامائن نامی کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت تسکين ملتی ہے اور ، ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے والا ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو خوشی ، تسکين اور راحت فراہم کرتا ہے

    ڈوپاماٸن ڈوپاماٸن کیمیکل خوشی کے حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو سگریٹ اور اس میں شامل ہونے والا نکوٹین مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان تمام عادات کو چھوڑنا کسی بھی فرد کے لئے بہت کٹھن ہوتا ہے کیونکہ انسانی جسم میں نکوٹین کی کمی سے متاثرین افراد کی طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے، نکوٹین کی اسی طاقت کا بھرپور فاٸدہ اٹھایا جاتا ہے سگریٹ بنانے والی كمپنياں اسی عادی کے بدولت نوجوان نسل کو سگریٹ کی لت لگوا دیتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان اور مرض کی حقیقت بھی چھپاتی ہیں

    سگریٹ نوشی بہت آہستگی کے ساتھ انسانی جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو چند سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات سے ناآشنا ہوتاہے اور جب یہ نقصانات رونما ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک انسانی جسم سگریٹ کے جان لیوا نشے کا مکمل طور پر عادی بن جاتا ہے اور متاثرہ شخص کو سگریٹ سے جان چھڑانا بہت دشوار ہو جاتا ہے

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک فرد موت کی گہری نیند سورہا ہے، اس طرح دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔سگریٹ نوشی سے متاثرہ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ سگریٹ اور اسکے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب جسمانی و ذہنی صحت کیلئے نہایت نقصان ہے اور پچاس سے زائد ایسے زہریلے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو مختلف سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس کیوجہ سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کا موجب بنتاہے۔ سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہیمرج سٹروک ہوجاتاہے جودماغ میں موجود خون کی شریانیں کا پھٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے

    سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا سب سے زیادہ اور خطرناک و سنگین نقصان انکے پھیپھڑوں کو ہوتا ہے، کیونکہ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افرا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔ ایک انسان جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا سرطان ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے متاثرہ افراد سانس کی بیماریوں ،ہارٹ اٹیک ،فالج، اسٹروک ہیمرج ، گلا، پھیپھڑے کا، خوراک کی نالی ، معدہ، دانتوں، جگر، گردے، مثانہ، لبلبہ اور گردے کے سرطان کا موجب بنتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا پچاس فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے اور فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کی متاثرہ خواتین دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر ، جگر ، گردے معدہ، مثانہ لبلبہ کے سرطان کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات مرد سے پچیس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگر پاکستان کےمستقبل کو بچانا چاہتے ہیں تو سگریٹ نوشی پر روک تھام پر سختی سے عمل کیا جاٸے۔ والدین سے التماس گزارش ہے کہ اپنےبچوں کو سگریٹ نوشی جیسے لت سے دور رکھے اور متاثرہ افراد کو چھٹکارا حاصل کرنے میں انکی مدد کریں۔ متاثرہ انسان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح اور مستی کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ہمارے بچوں کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے

    ‎@HamxaSiddiqi

  • گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلاٸزیشن کے اثرات تحریر: شمسہ بتول

    گلوبلائزیشن دنیا کے خیالات ، مصنوعات اور ثقافت کے دیگر پہلوؤں کے تبادلے کے ذریعے مختلف قوموں کے لوگوں ، کمپنیوں اور حکومتوں کا بین الاقوامی انضمام ہے۔ یہ جغرافیائی حدود کو پسماندہ کرتا ہے اور ایک انتہائی مربوط دنیا بناتا ہے۔ انجن ، ٹیلی کمیونیکیشن اور حال ہی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی ٹیکنالوجیز کے متعارف ہونے سے ، دنیا معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کے باہمی انحصار کی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے اور ایک گلوبل ولیج بن گٸی ہے۔ گلوبلاٸزیشن کی وجہ سے بہت سی تبدیلیاں جیسے کہ آبادیاتی تبدیلیاں ، مواصلات اور ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجیز میں بہتری ، سرمایہ داری اور معاشی لبرلائزیشن ، ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزیشن وغیرہ شامل ہیں۔
    ادارہ جاتی یا دوسری صورت میں ، ‘گلوبلائزیشن پوری دنیا کے لوگوں کی زندگیوں پر کثیر اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ نہ صرف علاقوں کی معاشیات کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی ثقافتی ، سیاسی اور سماجی معاملات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ، دنیا کا طاقت کا ڈھانچہ یورپیوں سے امریکیوں کی طرف منتقل ہوا ، اور اقتدار بہت کم قوموں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے دنیا بھر
    میں طاقت کی حرکیات میں تبدیلی نے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین زیادہ خلیج پیدا کی۔ لہذا ، اس دور کے بعد گلوبلائزیشن کے اثرات ہم آہنگ نہیں تھے۔ پوری دنیا میں ، اس نے ہر خطے کو مختلف طریقے سے متاثر کیا اور پاکستان بھی مختلف نہیں ہے۔ دیگر تمام اقوام کی طرح اس پر بھی معاشی اور ثقافتی طور پر اثر پڑا ہے۔
    معاشی طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے پاس محدود وسائل ہیں محدود وساٸل اور موجودہ وساٸل کا بہتر طور پہ استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ہماری معیشت بہت کمزور ہے۔ نظریاتی طور پر ، لبرلائزیشن ، گلوبلائزیشن کا ایک اور بنیادی اصول ، ایک ایسا عمل ہے جس کا مقصد بالآخر مقابلہ کی حوصلہ افزائی ، معیار کو بہتر بنانے اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے ایکسپورٹ مارکیٹ کو منافع بخش بنانا ہے۔ عالمی تجارتی برآمدات میں پاکستان کا حصہ گر گیا ہے۔ دوسری طرف امپورٹ لبرلائزیشن ایک بتدریج عمل ہے جہاں 1990 کی دہائی سے درآمدی ٹیرف کی شرح میں کمی کا رجحان نظر آتا ہے جس سے درآمد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہےجبکہ ہمیں ایسی پالیسیز بنانی تھی کہ ہماری درآمدات کم سے کم ہوں ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایسی پالیسیاں اتنی کارآمد ثابت نہیں ہوئیں۔ ملک کا تجارتی توازن مزید وسیع ہو گیا ہے اور اس عمل کے دوران بہت سی گھریلو صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ گھریلو صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح بڑھ گئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح1990-1981کے دوران اوسط% 3.5 فیصد سے بڑھ کر 2015 میں %6.0 فیصد ہو گئی۔
    پاکستان کی غربت پچھلے سالوں میں 2002 میں 36 فیصد سے کم ہو کر2011 میں11 فیصد ہو گئی تھی لیکن پچھلے کچھ سالوں میں غربت اور بے روزگاری اوربین الاقوامی قرضے میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
    ، گلوبلائزیشن کا خیال ترقی پذیر ممالک میں پھیلنے سے پہلے ، یہ صرف یورپ ، شمالی امریکہ اور جاپان میں تھا۔ ان تینوں بلاکس کے پاس پالیسیوں کو مربوط کرنے اور عالمی اقتصادی منڈیوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار تھا۔ بالآخر ، ترقی یافتہ ممالک سے چھوٹے سرمایہ کی منتقلی کی وجہ سے ، عالمگیریت نے عدم مساوات کو بڑھایا۔ دنیا کے اس سماجی ، جسمانی اور ثقافتی تانے بانے ، آبادیاتی تبدیلیوں ، شہریاری ، ثقافتی اثرات اور استحصالی ہتھکنڈوں نے دنیا کو مثبت اور منفی دونوں طرح متاثر کیا۔منڈیوں کی لبرلائزیشن کے خیال نے مقامی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سامان ، مزدور ، خیالات اور خدمات کی آزاد نقل و حرکت کا راستہ دیا۔ نتیجے کے طور پر ، جیسے جیسے مقابلہ بڑھتا گیا ، ملک میں مزید تعلیمی اور پیشہ ور ادارے ابھرے اور تعلیم کا معیار بہتر ہوا۔لیکن ابھی بھی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک مکمل طور پر گلوبلاٸزیشن سے فاٸدہ اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ گلوبلائزیشن سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو سیاسی استحکام ، جمہوریت کے استحکام اور اپنی پالیسیوں کے تسلسل پر مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
    پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو کہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کوریج کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔

    @b786_s

  • تمباکو سے پاک نوجوان قوم کا روشن مستقبل    تحریر: محمد اختر

    تمباکو سے پاک نوجوان قوم کا روشن مستقبل  تحریر: محمد اختر

    تمباکو نوشی کا استعمال کرنے والے  84 ممالک میں پاکستان  54 ویں نمبر پر ہے۔پاکستان ڈیموگرافک ہیلتھ سروے کے مطابق 46 فیصد مرد اور 5.7 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ یہ عادت زیادہ تر پاکستان کے نوجوانوں اور کسانوں میں پائی جاتی ہے، اور تمباکو نوشی ملک میں صحت کے مختلف مسائل اور اموات کا ذمہ دار ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں میں صحت کے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔قارئین کرام! جب میں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو حالیہ تحیقی رپورٹ تلاش کرنے کی غرض سے جب جانچ پڑتال کی تو نومبر، 2008 جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کیجانب سے شائع کردا یک رپورٹ کا جائزہ لیا۔ اس رپورٹ کے مطابقپاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تمباکو نوشی کا پھیلاؤ مردوں میں 36 فیصد اور خواتین میں 9 فیصد ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں بالخصوص یونیورسٹی کے طلباء میں تمباکو نوشی کا پھیلاؤ 15 فیصد ہے جن میں اکثریت مرد تمباکو نوشی کرنے والوں کی ہے۔ تقریبا، 1200 بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔آئیے! اب یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کے تمباکو سے پاک نوجوان کیوں ضروری ہیں اور اکثرانسان تمباکونوشی کی طرف کب مائل ہوتا ہے۔تمباکو نوشی استعمال کرنے والوں کی بڑی اکثریت وہ ہوتی ہے جب وہ کم عمری میں پہلی بارسگریٹ نو شی کرتے ہیں۔در حقیقت، پاکستانمیں ہر روز، 18 سال سے کم عمر کے سینکڑو ں سے زیادہ لوگ اپنا پہلا سگریٹ پیتے ہیں، اور کئی نوجوان بالغ باقاعدہ تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کے لیے بہت زیادہ سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلموں، میوزک ویڈیوز اور اشتہارات میں تمباکو نوشی تمباکو کے استعمال کو سماجی اصول کے طور پر پیش کیا جاتاہے، بچوں کو سگریٹ نوشی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، جب ان کے والدین یا ساتھی تمباکو استعمال کرتے ہیں تو انکا تمباکو نوشبننے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاو ہ نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کو متاثر کرنے والے دیگر عواملبھی  شامل ہیں: جیسے کہ کم معاشی حیثیت۔والدین کی توجہ کا فقدان۔احساسے کم تری کا شکار ہونا۔والدین یا خاندان میں تمباکو نوشی معیوب نا سمجھا جانا۔ خیال رہے، تمباکو نوشی کا اثر نہ صرف فوری طور پر ایک نوجوان کی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کا مستقبل پر بھی اس کے اثرات مرتکب ہوتے ہیں۔ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کرنے والوں میں بالغوں کے مقابلے میں نیکوٹین کے نشے کی شدید سطح پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ تمباکو کا استعمال جاری رہتا ہے۔ جہا ں تمباکو نوشی ماحول میں آلودگی کا سبب بنتی ہے وہیں انفرادی طور پر نیکوٹین خون کی شریانوں کو تنگ کرتا ہے، بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سانس کی قلت، دمہ اور سانس کی بیماریا ں کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں پیدا ہوتی ہیں۔ صحت کے اثرات کے علاوہ، تمباکو نوشی کے بہت سے منفی سماجی اثرات بھی ہیں۔ یہ بالوں اور کپڑوں کو بدبو دار بناتی ہے، دانتوں کو داغ دار کرتی ہے اور سانس کی بدبو پیدا کر تی ہے۔ اور دھواں نہ چھوڑنے والا تمباکو پھٹے ہونٹوں، زخموں اور منہ میں خون بہنے کا باعث بنتا ہے۔آخر میں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے تمباکو کے استعمال کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ میرے نقطہ نظرمیں تمباکو کی روک تھام پاکستان کے نوجوانوں کی صحت اور مستقبل کے لیے انتہای ضروری ہے۔ تمباکو کی روک تھام میں و الدین، اسکول اور کمیونٹی کے تمام افراد بچے کے فیصلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم انہیں مختلف طریقوں سے سگریٹ نوشی کے خطرات سے بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔والدین کو اپنے بچوں سے تمباکو کے خطرات کے بارے میں براہ راست بات کرنی چاہیے۔والدین کا رویہ اور جذبات بہت اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ آپ کا بچہ تمباکو نوشی کرتا ہے یا نہیں۔اگر آپ کے بچے کے دوست ہیں جو تمباکو نوشی کرتے ہیں تو ساتھیوں کے دباؤ سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں بات کریں۔اسکول طلباء کو تمباکو کی تعلیم اور تمباکو نوشی سے بچاؤ کے شدید نقصانات سے آگاہی دیں۔بطور والدین جو تمباکو نوشی کرتے ہیں تو وہ چھوڑنے کی کوشش کریں۔ جب آپ چھوڑ رہے ہو، اپنے بچے کی موجودگی میں تمباکو کا استعمال نہ کریں اور اسے وہاں نہ چھوڑیں جہاں وہ آسانی سے اس تک رسائی حاصل کر سکے۔والدین کی حیثیت سے، آپ کے رویوں اور آراء کا آپ کے بچے کے رویے پر زبردست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمباکو کے خطرات کے بارے میں اپنے بچوں سے بات کرنا ضروری ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر اور قابلتحسین ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا ادارہ باغی ٹی ویجس نے تمباکو نوشی کیخلاف بھرپور مٰہم جوئی کی۔ بطور نوجوان طالب علم اور مضمون نگارمجھے اس ادارہ کا سب سے اچھا پہلو یہ لگا کہ انہوں نے نوجوان لکھاریوں کو ایک مثبت سرگرمی  میں مشغول کیا اور ایک قومی سطح پر اس مسئلہ کو اجاگر کیا۔

    @MAkhter_

  • تمباکو نوشی منہ کا کینسر، نوٹ کے باوجود بھی سیگریٹ نوشی نہ رک سکی۔ تحریر: ملک رمضان اسراء

    یقینا ہر خاص و عام اس بات سے تو کم از کم مکمل طور پر آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے۔ اور سگریٹ پینے سے منہ کا کینسر بھی ہو سکتا ہے جہاں پڑھے لکھے لوگوں کیلئے سیگریٹ کے ڈبہ پر "تمباکو نوشی منہ کا کینسر” جیسا نوٹ لکھا گیا وہی غیر تعلیم یافتہ کو اس سے آگاہ کرنے کیلئے منہ پر کینسر کی ایک عدد تصویر ظاہر کی گئی لیکن پھر بھی سیگریٹ نوشی کیوں نہ رکی؟ اسی وجہ کو جاننے کیلئے میں نے ایک سگریٹ نوش محمد خان سے بات کی جو پچھلے تیس سالوں سے سیگریٹ نوشی کے عادی ہیں اور ان کے مطابق وہ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم دو عدد سگریٹ پاکٹ پی جاتے ہیں۔ محمد خان کی عمر اس وقت پچاس سے اوپر ہے اور انہوں نے بتایا کہ میں نے تقریبا بیس سال کی عمر سے سگریٹ نوشی کرنا شروع کی تھی اور ابتدا میں تو ایسے ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر پی لیا کرتا تھا مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ عادت مجبوری بن گئی اور حالت ایسی ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں نہ اڑاوں تو ذہنی طور پر چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہوں حالانکہ مجھے بہت زیادہ کھانسی آتی ہے لیکن ڈاکٹرز کے منع کرنے کے باوجود بھی میں اپنی اس بری عادت سے جان نہیں چھڑا پارہا۔ جب میں نے محمد خان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش نہیں کی تو انہوں نے جواب دیا کئی کئی ماہ تک سگریٹ کو چھوا تک نہیں اور میں نے محسوس کیا کہ مجھے سانس لینے سمیت جسم میں بہت بہتر تبدیلی محسوس ہوئی لیکن پھر مجھے پیٹ میں گیس اور اس طرح کی شکایت ہوئی تو میں نے ایک دوست سے سگریٹ مانگی اسے پیتے ہی آرام آگیا اب میرا وہم تھا یا کچھ اور لیکن مجھے اسی وقت آرام آگیا اور سب سے بڑا مسئلہ مجھے ذہنی طور پر سکون تو محسوس ہوا مگر چچڑا پن بڑھ گیا جسکی وجہ سے گھر میں بات بات پر بچوں کے ساتھ غصہ آجانا لہذا سوچا بس خیر ہے زندگی جب تک ہے تب تک ہی جینا ہے لیکن میری وجہ سے باقی گھر والوں کا سکون خراب نہ ہو۔ اور میں نے بہت کوشش کی کہ سگریٹ ترک کردوں مگر یہ بری عادت چھوٹنے کا نام نہیں لیتی لہذا میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ جوانی کے جوش میں دیکھا دیکھی میں کسی بھی بری عادت میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ ابتدا میں تو آپ کا یہ شوق ہوگا مگر پھر ساری زندگی کا روگ بن جائے گا۔

    اسٹاپ سموکنگ لندن کی ایک رپورٹ کے مطابق "سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ روز بروز اور ہر ہفتہ بعد، آپ کے جسم اور دماغ میں اچھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ آپ کی جسمانی حالت بہتر اور بحال ہوجاتی ہے، آپ بہتر نظر آنے لگتے ہیں، آپ خود کو زیادہ توانا اور صحت مند محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ بارہ گھنٹے سگریٹ ترک کرتے ہیں تو آپ کا جسم سگریٹ میں پائے جانے والے کاربن مونو آکسائڈ کو جسم سے نکال دیتا ہے۔ سطح معمول پر آ جاتی ہے اور آپ کی آکسیجن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ ایک پورا دن مطلب چوبیس گھنٹے سگریٹ نوشی ترک کرنے سے آپ کا بلڈ پریشر گرتا ہے آپ کے دوران خون میں بہتری آ جاتی ہے۔ اس طرح آپ سگریٹ نوشی کے باعث اپنے ہائی بلڈ پریشر، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے کو کم کر دیتے ہیں۔

    ایک ماہ سگریٹ نوشی ترک کرنے سے جیسے ہی آپ کے پھیپھڑے ٹھیک طور سے کام کرنے لگتے ہیں تو آپ کو کھانسی اور سانس کی دشواری میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر آپ کو ورزش اور کام کرنا بھی آسان لگتا ہے۔ اور اگر آپ نو ماہ سگریٹ سے دور رہتے ہیں تو اس وقت تک آپ کے پھیپھڑے کافی حد تک صحتیاب ہوچکے ہوں گے۔ آپ کے پھیپھڑوں کے اندر سیلیا ( باریک بالوں کی مانند ریشہ) سگریٹ کے دھویں کے مضر اثرات سے مکمل طورپر صحتیاب ہو چکا ہوگا اور جب آپ کو سگریٹ چھوڑے ہوئے ایک سال ہو جائے گا تو آپ کو کارونری ہارٹ ڈیزیز (دل کی بیماریوں) کا خطرہ نصف ہو جائے گا۔ جس کی مزید کمی ہونا جاری رہے گی۔ جبکہ پانچ سال سگریٹ نوشی نہ کرنے سے آپ کی آرٹیریز اور خون کی شریانیں صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ مکمل طور سے کھلنے لگتی ہیں۔ اس طرح آپ، اپنے فالج اور جماد خون کے خطرے کو، کم کر دیتے ہیں اور دس سال کی عمر کے بعد آپ کے پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے کے امکانات نصف رہ جاتے ہیں اور منہ، گلے یا لبلبے کے کینسر کا امکان انتہائی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پندرہ سال بعد آپ کے دل کی بیماری یا لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات اتنے ہی رہ جاتے ہیں جتنے سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کے ہوتے ہیں۔ اور ٹھیک بیس سال کی پابندی کے بعد تمباکو نوشی سے متعلقہ وجوہات جیسے پھیپھڑوں کی بیماری یا کینسر سے مرنے کا خطرہ اب اتنا ہی کم ہوتا ہے، جیسے کسی نے اپنی زندگی میں کبھی سگریٹ پی ہی نہ ہو۔

  • ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا ہے جس میں ٹوئٹرصارفین اپنے سبسکرائبرز کے لیے شیئر کیے گئے مواد کے پیسے وصول کرسکیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین یہ طے کر سکتے ہیں کہ ان کی ٹوئٹس صرف سپرفالوورز کی ٹائم لائنز پر نظر آئیں گی جنہوں نے انہیں سبسکرائب کیا ہوگا سپر فالوورز کی شناخت ان کے نام کے نیچے نظر آنے والے ایک بیج کے ذریعے ہوگی جب وہ کسی بھی ٹوئٹ کا جواب دیں گے۔

    نئے فیچر کا اعلان فروری میں کیا گیا تھا اور اب یہ فیچر آئی او ایس ٹوئٹر کی ایپ پر دستیاب ہے ، اسےامریکہ اور کینیڈا میں لوگوں کے ایک ٹیسٹ گروپ تک محدود کیا گیا ہےٹوئٹر اس فیچر کو آئندہ ہفتوں میں دیگر ممالک میں بھی آئی او ایس پر فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے بعد میں یہ اینڈرائیڈ اور ویب پر بھی دستیاب ہوگا۔

    ٹوئٹر کے مطابق سپر فالووز صارفین ماہانہ بنیادوں پر 3، 5 یا 10 ڈالر اسٹرائپ سے ہونے والی ادائیگی کے ذریعے وصول کرسکتے ہیں تھرڈ پارٹی فیس کے صارفین سبسکرپشن سے 97 فیصد آمدنی کماسکتے ہیں جب تک وہ 50 ہزار ڈالر کی لائف ٹائم مونیٹائزیشن تک نہیں پہنچ جاتے۔اس حد کو عبور کرنے کے بعد 80 فیصد تک آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔

    اس سے قبل ٹویٹر نے کہا تھا کہ وہ ایک حفاظتی فیچر لانچ کرے گا جو صارفین کو نقصان دہ زبان استعمال کرنے یا بلائے گئے جوابات بھیجنے کے لیے سات دن کے لیے اکاؤنٹس کو عارضی طور پر بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    ایک بار جب سیفٹی موڈ آن ہوجاتا ہے ، ٹویٹر کے سسٹم ٹویٹ کے مواد کو چیک کریں گے تاکہ منفی مصروفیت کے امکان اور مصنف اور جواب دہندہ کے مابین تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ کمپنی نے کہا کہ جن اکاؤنٹس کے ساتھ اکثر بات چیت ہوتی ہے وہ خودکار طور پر بلاک نہیں ہوں گے ، کیونکہ یہ موجودہ تعلقات کو مدنظر رکھتا ہے۔

    کمپنی نے کہا ، “ہم چاہتے ہیں کہ ٹویٹر پر لوگ صحت مندانہ گفتگو سے لطف اندوز ہوں ، لہذا ہم حد سے زیادہ اور ناپسندیدہ بات چیت کو محدود کر رہے ہیں جو ان گفتگو کو روک سکتی ہے۔”

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

  • طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان میں آ گیا

    طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان میں آ گیا

    گوگل نے افغان حکومت کے نامعلوم تعداد میں ای میل اکاؤنٹس بند کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق افغانستان کا کنڑول سنبھالنے کے بعد اگرچہ طالبان نے سابقہ حکومت میں شامل عہدیداروں اور ان سے تعاون کرنے والے ہم وطنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا لیکن برطانوی خبر رساں ایجنسی ” روئٹرز” کا کہنا ہے کہ طالبان سابق افغان حکومت میں شامل عہدیداروں کے ای میل اکاؤنٹس تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    جمعے کو ایک بیان میں گوگل الفابیٹ انکارپوریٹڈ نے بتایا کہ کمپنی افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی کہ افغان حکومت کے ای میل اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب سابق افغان حکومت کے ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ طالبان سابق حکام کی ای میلز تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں طالبان نے گذشتہ ماہ ان سے کہا تھا کہ وہ اس وزارت کے سرورز پر موجود ڈیٹا کو محفوظ کریں جس کے لیے وہ کام کرتے تھےاگر میں ایسا کرتا ہوں تو وہ سابقہ وزارت کے ڈیٹا اور سرکاری مواصلات تک رسائی حاصل کر لیں گے۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد…

    سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدے دار نے بتایا کہ انہوں نے طالبان کے اس حکم کی تعمیل نہیں کی اور اب وہ روپوش ہیں۔

    عوامی طور پر دستیاب میل ایکسچینجر ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً دو درجن افغان حکومتی اداروں نے سرکاری ای میلز کے لیے گوگل سرورز کا استعمال کیا جن میں وزارت خزانہ، وزارت صنعت، اعلیٰ تعلیم اور معدنیات کی وزارتیں شامل ہیں کچھ مقامی حکومتوں کی طرح افغانستان کے صدارتی پروٹوکول کا دفتر بھی گوگل اکاؤنٹس استعمال کرتا رہا ہے۔

    سرکاری ڈیٹا بیس اور ای میلز سابق انتظامیہ کے ملازمین، سابق وزرا، سرکاری ٹھیکے داروں، قبائلی اتحادیوں اور غیر ملکی شراکت داروں کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان