Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    جنسی جرائم کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے، تحریر:ذیشان علی

    حال ہی میں جنسی جرائم کے بہت سے واقعات رونما ہوئے اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،
    کچھ دن پہلے پیرودھائی کا واقعہ ایک مدرسہ کی طالبہ کو استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانا بنایا گیا،
    اس کی والدہ کے مطابق مدرسہ والوں نے گھر فون کر کے کہا کہ ان کی بیٹی مدرسے میں بے ہوش ہو گئی ہے اسے آ کے لے جائیں، والدین جب بیٹی کو گھر واپس لائے تو بیٹی نے ماں سے کہا کہ اسے استاد نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور وہ پہلے بھی کئی مرتبہ میرے ساتھ نازیبا حرکات کر چکا ہے،
    ایسے میں پولیس استاد کو پکڑتی استاد نے عدالت سے 30 آگست تک عبوری ضمانت منظور کروا لی،
    یہ نا سمجھ آنے والی بات ہے کہ ایسے افراد کو کیسے رعایت دی جاتی ہے لیکن حیرت کی بات بھی نہیں ہم قانون اور انصاف کے معاملے میں بہت سستی سے کام لیتے ہیں خاص کرکے جب کسی غریب کو انصاف فراہم کرنا ہو،
    اور حال ہی ایک اور خبر سننے کو ملی کہ 65 سالہ شخص نے سات سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی ہے،
    دیکھئے ذرا غور تو کیجئے کہ 65 سالہ شخص نے سات سال کی بچی کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنا دیا ایسے لوگوں کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے جو معصوموں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں میں تو کہتا ہوں انہیں معاشرے میں عبرت کا نشان بنا دیا جائے لیکن میں اکیلا کیا کروں جب تک یہ سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کے لیے سخت سے سخت قانون اور اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوتا شاید تب تک ان جرائم میں اضافہ ہوتا رہے گا،
    ہمیں ملک بھر روزانہ ایسے بیسوں واقعات سننے کو ملتے ہیں یہ تو وہ واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں تم میڈیا تک یا آس پاس کے محلے تک یا پولیس تک نہیں پہنچ سکتے ہمارا ہاں ایک اور دستور ہے جو بہت زیادہ عام ہے کہ اگر کسی بیٹی کی عزت چلی بھی جائے تو گھر والے اپنی عزت بچانے کے لیے اس واقعے کو دبا دیتے ہیں کہ پورے خاندان میں ہماری بدنامی ہوگی اور بیٹی کو خاموش کرو دیتے ہیں،
    اس میں اس بچاری کا تو کوئی قصور نہیں وہ تو معصوم تھی اور رہے گی اس میں ایسے درندوں کا قصور ہے جو معاشرے میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں خاندان اور گھر والوں کی طرف سے سخت ردعمل ان لوگوں کی عقل کو ٹھکانے لگا سکتا ہے بیٹی کی عزت چلے جانے پر خاموشی ایسے درندے اور بھیڑیوں کو مزید طاقت گویا حوصلہ فراہم کرتی ہے کہ چلو کوئی بات نہیں کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ظلم کریں گے وہ بھی خاموش ہو جائیں گے، یہ لوگ کڑی سے کڑی سزا کے مستحق ہیں اور ان لوگوں کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،
    کم سے کم انہیں معاشرے کے آداب تو سکھانے چاہیے کہ کسی کی بیٹی کسی کی بہن اپنی بہن اور بیٹی جیسی ہے جو ظلم وہ کوئی اپنی بہن کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا وہ ظلم کسی دوسرے کی بہن کے ساتھ کیوں کرے،
    اور ایک اور خبر کے متعلق بات کروں گا جو سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں رپورٹ ہوئی ڈکیتی کرنے والوں نے اس خاتون کے تمام اہل خانہ کے سامنے ایک عورت کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنایا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ظلم یہ درندگی ایک تو ان کے گھر میں گھس کے ان کا مال لوٹا دوسرا ان کی عزت بھی لوٹ لی،
    یہ ہو کیا رہا ہمارے ہاں کون ایسے واقعات کو ہونے سے روکے گا؟ ریاست کو ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر قانون سازی کرنی پڑے گی میری اپنی رائے ہے کہ ایسے ظلم کرنے والوں کو کم سے کم موت کی سزا مختص کرنی چاہیے،
    اور انہیں موت کی سزا بھی ایسی عبرتناک دینی چاہیے انہیں پھانسی دے کر چوکوں اور چوراہوں میں لٹکا دیا جائے ان کی لاشیں چوکوں اور چوراہوں میں لٹکی رہیں جب تک ان کا گوشت چیل کوے نوچ نوچ کر کھا نا لیں،
    ان کے اہل خانہ کے لیے بھی عبرت ہو جو ایسے درندوں کی پشت پناہی کرتے ہیں انہیں ایسے کام کرنے سے روکتے نہیں جب وہ قانون کی گرفت میں آئیں تو انہیں بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں،
    جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم اہل خانہ کے علم ہوتے ہیں مگر وہ انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتے،
    دعا ہے کہ ہمارا معاشرہ ہمارا ملک ایسے جرائم سے پاک ہو جائے جو ہماری تباہی کا سبب بن سکتے ہیں،

    @zsh_ali

  • دیکھ ٹک اپنے گریبان میں منہ ڈال کے!!! تحریر ؛ علی خان

    سال رواں بھی قوم نے یوم آزادی مکمل جوش و خروش سے منایا۔ اس سے قبل یوم پاکستان، یوم یکجہتی کشمیر، یوم استحصال کشمیر اور دیگر کئی قومی دن بھی اس جوش و خروش سے منائے گئے۔، آزادی کا یہ ولولہ نہایت خوش کن ہونے کے ساتھ ایسے سوال چھوڑ گیا کہ جو کئی سال سے پوچھے جارہے لیکن جواب یا تو ملتا نہیں اور اگر ملے تو تشنگی باقی رہتی ہے ،، ہر ذی شعور ذہن یہ ضرور یہ سوچتا ہے کہ کیونکر یہ قوم آزادی کی ساڑھے سات دہائیوں بعد بھی دنیا میں وہ مقام نہیں حاصل کرسکی کہ جسکا خواب اسکے بانیان دیکھتے تھے؟؟؟کیوں وطن عزیز کا شمار ترقی پذیر یا کچھ صورتوں میں پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے؟؟؟ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایسے ان گنت سوالات ہیں جو اذہان میں گونجتے ہیں
    وطن عزیز میں ان مسائل کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا روایت بن گئی ہے۔ لیکن شاید حکومتوں اور حکمرانو ں کا شکوہ کرتے، انکی جانب انگلی اٹھاتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک شہری یہ بھول جاتا ہے کہ باقی چار انگلیوں کا رخ اپنی ہی جانب ہے۔ آئیے کچھ دیر کے لیے خود احتسابی کرتے ہوئے ایمانداری ان سب خرابیوں اور مسائل میں اپنا حصہ تلاش کرتے ہیں۔ پہلی ذمہ داری جس سے عوام غفلت برتتے ہیں وہ انتخابات میں ووٹ دالنے کا عمل ہے۔ ہر قسم کے انتخابات میں ایماندار، تعلیم یافتہ، عوامی مسائل کا شعور رکھنے والے امیدواروں کی جگہ ذات برادری، ذاتی فائدے، تعلق داری اور تھانے کچہری میں مدد جیسے امور کو مد نظر رکھ کر امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں اسی نمائندے سے مسائل حل نہ کرنے، بدمعاشی اور ترقیاتی کام نہ کروانے جیسے شکوے سامنے آتے ہیں
    یہاں ایک اور دلچسپ دلیل دی جاتی ہے کہ مسائل کی اصل ذمہ دار تو نوکر شاہی المعروف بیوروکریسی ہے جو سرکاری و حکومتی ڈھانچے کا مستقل حصہ ہے۔ انکے انتخاب میں تو عوام کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔ حضور والا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ جب بھی ہمارا واسطہ کسی سرکاری ادارے یا اہلکار سے پڑتا ہے تو ہم کتنی بار اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ریلوے ٹکٹ خریدنے سے لے کر ریلوے پھاٹک تک کہیں بھی انتظار ہمیں گوارہ نہیں ہوتا۔ لائن توڑ کرشناختی کارڈ، ڈومیسائل پاسپورٹ بنوانا، بل بھرنا، بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا، ٹکٹ خریدنا گویا من حیث القوم ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کاموں کے لیے رشوت دینے والے، سفارش ڈلوانے والے اور کسی بڑے افسر کا حوالہ دینے والے بھی ہم ہی ہوتے ہیں
    یہ لاقانونیت اور بے حسی صرف انفرادی سطح پر نہیں پائی جاتی بلکہ پیشے ذات برادری کی بنیاد پر اسکا تحفظ بھی کیا جاتا ہے۔ بار وکلا کی قانون شکنی کا محافظ بن جاتا ہے۔ کم تولنے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب تاجر کی مدد کے لیے انجمن آڑھتیان اور تاجران میدان میں آجاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ ہر شعبے، ہر شہر غرضیکہ چہار سو پھیلا ہوا ہے
    قصہ مختصر یہ کہ اگر ہمیں اس ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا ہے تو ابتدا خود سے ہی کرنا ہوگی۔ ووٹ ایمانداری سے ڈالنا ہوگا۔ خود کو برائیوں سے دور کرنا ہوگا۔ رشوت کی بجائے قانون کی ماننا ہوگی۔ اس سرزمین کو اپنے گھر کی طرح صاف رکھنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ جس روز ہماری اکثریت اس پر عمل پیرا ہوگئی تو یقین مانیے حکمرانوں پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر ہمارا یہی وطیرہ رہا تو بقول شاعر
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

    تحریر ؛ علی خان
    @hidesidewithak

  • زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے تحریر :شفقت سجاد دشتی

    زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے تحریر :شفقت سجاد دشتی

     

    تاجر و دکاندار اور سرمایہ دار ہمیشہ حساب وکتاب اور بازار کا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں لگے رہتے ہیں، اگر ایسا نہ کریں تو دیوالیہ ہو جائیں اور ان کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا، ہماری زندگی ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے جو کہ ایک دکان کے سامان سے کہیں بڑھ کر قیمتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ اچھے اور پسندیدہ طریقے سے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکیھا جائے، اپنے وقت کو بہترین اور مفید ترین اور اولی ترین کاموں میں صرف کیا جائے،

    اس سے پہلے کہ قیامت میں ہمارا حساب لیا جائے، ہم خود جائزہ لیں، محاسبہ کریں اور اپنے کاموں، فرصتوں اور اعمال کے نقاد بنیں۔

    حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: عباد اللہ زنواانفسکم من قبل ان تو زنوا و حاسبو ھا من قبل ان تحاسبوا: 

    اللہ کے بندو، اپنے نفوس کا وزن خود کرو اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال کا وزن کیا جائے اور اپنا محاسبہ خود کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔

    ہم اپنی عمر کے شب و روز اور فرصت کے لمحات کے سوالوں کے ذمہ دار اور جوابدہ ہیں کہ یہ سب بطور امانت ہمارے اختیار میں دیئے گئے ہیں اور ایک دن اس بارے میں کہ ہم نے کس طرح سے ان کو صرف کیا ہے ہم سے سوال کیا جائے گا، امام علی علیہ السلام نے فرمایا، من حاسب نفسہ ربح و من غفل عنہ خسر، جو اپنا خود محاسبہ کرے اس نے فائدہ حاصل کیا اور جو اپنے آپ سے غافل رہے گا اس نے نقصان اٹھایا۔

    محاسبہ نفس۔ سبب بنتا ہے کہ خطاؤں، گناہوں و نامناسب اعمال اور گزشتہ غفلتوں اور اپنی زندگی کے خسارے کو ہم پہچان سکیں اور پھر انکی تلافی کی بھرپور کوشش کریں۔ زمانے کے شب وروز سے ہمارا سرد و گرم اور نفع و نقصان وابستہ ہے، عمر و جوانی ونشاط اور سلامتی کو وقت دیتے ہیں، لیکن ان کے بدلے میں کیا حاصل کرتے ہیں؟ فائدہ حاصل کرتے ہیں یا نقصان؟  نیکی و ہدایت میں اضافہ ہو رہا ہے یا گمراہی وتاریکی میں جا رہے ہیں؟  کمال کی طرف جا رہے ہیں یا پستی کی طرف؟ ہم اپنی عمر کا عظیم الشان سرمایہ کس چیز کی خاطر خرچ کر رہے ہیں؟

    زندگی ایک زراعت کی مانند ہے فصلِ جب کٹے گی تب معلوم ہو گا کہ ہم نے کیا بویا اور کیا کاٹا ہے۔ ضروری ہے کہ زندگی کے خزانے میں کیا ہے؟ 

    اس بارے میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا، کماتزرع تحصد، جو بویا ہے وہی کاٹو گے۔

    اگر محاسبہ کرنے کو اپنا معمول بنا لیں تو بعد والے نقصانات سے بچ سکتے ہیں آب شیریں کو صحرا میں پھینک کر ضائع نہیں کیا جاتا، اسی طرح زندگی کے قیمتی اوقات کو بیہودہ صرف کرنا ایسے ہی ہے جیسے آب شیریں کو صحرا میں ضائع کیا ہو، جو اپنی عمر کا حساب نہیں رکھتا وہ اپنے آپ کو ضائع کر دیتا ہے۔ جب عمل کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے، پھر وہ حسرت و غم سے کہتا ہے۔ بہت افسوس کہ جب عمر گزر چکی تب اس کا معنی میں سمجھا ہوں۔ میری عمر تین روز کی مانند،اس ترتیب سے گزر گئی۔

    بچپن کھیل کود میں، جوانی اوباشی و عیاشی میں، پیری غفلت و حسرت میں۔

    امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں اہل ذکر و معرفت انسانوں کی تعریف کرتے ہیں اور ان کے حالات کی خصوصیات اور ان کے کاموں کا محاسبہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں، ان کو دیکھو، اپنے دفتر و کتاب عمل کو کھول کر اس میں غور وفکر سے کام لیتے ہوئے، اپنی چھوٹی بڑی کوتاہیوں اور خامیوں پر نظر ڈال رہے ہیں۔ 

    ۔یہ محاسبہ ذات ہے۔

    اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر ان لوگوں میں شمار ہو گا کہ جن کی عمر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، ایک حصہ امید کا اور دوسرا حسرت و یاس کا۔ پس ہر  چیز میں حساب کرنا لازم بھی ہے اور مفید بھی۔ 

     

    @balouch_shafqat

  • اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    اہلبیتؓ سے محبت تحریر:سید عمیر شیرازی 

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اللہ تبارک و تعالی سے محبت کرو ان کی نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا کیں اور مجھ سے اللہ تبارک وتعالی کی محبت کے سبب محبت کرو اور میرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔”

    (بحوالہ جامع ترمذی حدیث نمبر 3789)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیتؓ سے محبت کے بارے میں امت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اہل بیتؓ سے محبت ہم مسلمانوں کے ایمان کا لازمی جزو ہے

    حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں میرے بعد جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے،ایک ان میں دوسری سے عظیم تر ہے وہ ایک تو اللّه کی کتاب ہے اور اللہ تعالی کی آسمان سے زمین کی طرف پھیلی ہوئی رسی ہے، اور دوسری میری اولاد میرے گھر والے ہیں اور وہ الگ الگ نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس آپہنچں گے پس تم لوگ سوچ لو کہ تم میرے بعد ان سے کیا معاملہ کرتے ہو اور کیسے پیش آتے ہو۔

    (حوالہ حدیث کی کتاب ترمذی)

    اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کی طرف اپنی امت کو توجہ دلائی ہے اور اپنے 

     اہل کے حقوق بھی یاد دلائے ہیں اور اہل بیت کی فضیلت و عظمت بیان فرمادی ہے کہ تم لوگ میری نسبت کے خیال سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں جتنا زیادہ سرگرم رہو گے اور ان کی ہر طرح خبر گیری میں جتنا حصہ لوگے تو اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمھیں دنیا و آخرت میں خیر و عافیت نصیب ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایسے ہی ہے جیسے کوئی شفیق باپ دم رخصت پر اپنی اولاد کے بارے میں وصیحت کرتا ہے کہ یہ میں اپنی اولاد کو چھوڑ کر جا رہا ہوں تم ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا،

    اور یہ دونوں الگ الگ نہیں ہوگی یعنی قیامت کے تمام مراحل پر ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور اہل بیت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ رہے گا کہیں بھی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں مل کر میرے پاس حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گی اور دنیا میں جس جس نے ان دونوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کیے ہوں گے اس اس کا نام لے کر میرے سامنے شکریہ کرے گی اور پھر میں بدلہ میں ان سب کے ساتھ نہایت اچھا سلوک اور احسان کروں گا اور اللہ تعالی بھی ان سب کو کامل جزا اور انعام عطا فرمائیں گے اور جن لوگوں نے دنیا میں ان دونوں کے حق تلافی کی ہوگی ان دونوں کے ساتھ کفران نعمت کیا ہوگا ان کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔

    پس تم سوچ لو یعنی میں نے ان دونوں کی حیثیت واہمیت تمہارے سامنے واضح کر دی ہے اب تمھیں خود احتساب کرنا ہے کہ ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور میرے اہل بیت کے ساتھ تم کیا معاملہ کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک تقاضا ہے کہ اہل بیت سے محبت ہو جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اللہ کی محبت کے بنا پر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی بنا پر میرے اہل بیت یعنی میرے گھرانے کے افراد سے محبت کرو (بحوالہ ترمذی) اور اہل بیت بھی وہ کہ جن کے متعلق اللہ تعالی صحیفہ آخر میں ان کی طہارت و پاکیزگی کا اس طرح اعلان فرماتا ہے:

    "اے پیغمبر کے گھر والو! اللہ تو بس یہی منظور ہے تم سے ہر طرح کی گندگی کو دور کردے اور تمہیں ایسا پاک صاف کردے جیسا کہ پاک صاف کرنے کا حق ہوتا ہے۔” (الاحزاب 33) 

    وہ اہل بیت جن کی فضیلت کعبے کا دروازہ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا:

    دیکھو! میرے اہل بیت کی مثال تم میں کشتی نوح کی سی ہے جو اس میں سوار ہوا وہ بچ گیا اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا (بحوالہ مسند احمد)

    اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو اس کشتی میں سوار فرما دے جو کہ ہماری فلاح و بقا کا ذریعہ ہے اور یا اللہ ہمیں ہلاکت سے محفوظ فرما دے اور اہلبیتؓ کی ہمارے دلوں میں صحیح عقیدت و احترام نصیب عطا فرمائے آمین۔

    @SyedUmair95

  • سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی زندگی سے اہم کیوں؟ تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جو لوگ کہتے ہیں کہ سگریٹ کی لت اگر ایک دفعہ لگ جاۓ تو چھوڑی نہیں جا سکتی۔

    میرے خیال سے وہ غلط کہتے ہیں۔

    یہ خیالات اُن لوگوں کے تو ہو سکتے ہیں،

     جو کمزور قوت فیصلہ کا شکار ہوں۔

    مگر جن لوگوں کو اپنی قوت ارادی یا

    Will power 

    پر یقین ہوتا ہے،

    وہ ایسا نہیں سمجھتے ہیں۔

    مضبوط قوت ارادی سے اس گورکھ دھندے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    جب بھی آپ سگریٹ نوشی ترک کریں گے،

    شروع شروع میں آپ بے چینی سی محسوس کریں گے۔

    اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی دوسرے کام میں مصروف کر لیں،

    اپنا دھیان سگریٹ سے ہٹا کر کچھ ایسا سوچنا شروع کر دیں،

    جو آپ کو سگریٹ کی طلب سے دور لے جاۓ۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ رمضان المبارک میں کئی چین سموکر قسم کے لوگ بھی روزے رکھتے ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہر پانچ دس منٹس کے بعد سگریٹ پھونکنے کے عادی ہوتے ہیں،

    وہ روزے کی وجہ سے گھنٹوں،پہروں اس مُوذی لت سے دور رہتے ہیں۔

    بے شک رمضان المبارک چونکہ ایک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہوتا ہے،

    اسی وجہ سے بندے کے ساتھ روزے کی حالت میں خداۓ بزرگ و برتر کا خاص کرم شامل حال رہتا ہے،

    جو سگریٹ نوشی کے عادی افراد کو بھی صبر عطا کر دیتا ہے۔

    مگر اسکے ساتھ ساتھ انسان کی اپنی فیصلہ کرنے کی قوت یعنی قوت ارادی کا مرکزی طور پر عمل دخل ضرورہوتا ہے۔

    انسان کو اللہ پاک نے 

    اشرف المخلوقات بنایا ہے۔

    وہ اگر چاہے تو اپنی مستقل مزاجی اور فیصلوں پر ڈٹ جانے کی صلاحیت سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

    ایسے میں سگریٹ نوشی ترک کرنا کونسی بڑی بات ہے؟

    سگریٹ چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ تک شائد آپ کبھی کبھار مضطرب ہونے کے عمل سے گُزریں۔

    مگر یہ کیفیت میرے پروردگار نے چاہا توآہستہ آہستہ ختم ہوتی جاۓ گی۔

    اس جان لیوا عادت سے چھٹکارے کے بعد آپ اپنے اندر ایک نئی سرشاری محسوس کرنے لگیں گے۔

    آپ اپنے آپ کو پہلے سے کہیں بہتر چاک و چوبند،تازہ اورترو توانا پانے لگیں گے۔

    سگریٹ سے نجات پانے کے بعد آپ کے پاس کچھ ایکسٹرا رقم بھی بچنا شروع ہو جاۓ گی۔

    سگریٹ چھوڑنے سے آپکی زندگی سے کئی ادویات بھی خود بخود کم ہونا یا ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں،

    جو رقم بچنے کا زریعہ بنتا ہے۔

    آپ اس بچی ہوئ رقم سے چاہیں تو اپنے بچوں،ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے پھل وغیرہ یا کچھ اور قسم کے تحائف بھی گھر لاسکتے ہیں۔

    ایسا کرتے وقت آپ اُن لذتوں اور خوشگوار ساعتوں سے آشناس ہوں گے،

    جو منحوس سگریٹ نے آپ کو کبھی نہیں دی ہوں گی۔

    سگریٹ چھوڑنے کے لئے مصمم ارادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

    اپنے کئے گئے فیصلے کے آگے اپنے آپ کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیں۔

    سگریٹ چھوڑیں تو ایسا چھوڑیں کے آپ کے ہاتھ میں کبھی یہ بدبُو دار چیز نظر نہ آۓ۔

    سگریٹ نوش حضرات کو خود تو اس کی گندی بدبُو  محسوس بھی نہیں ہوتی،

    مگر جب وہ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں ،

    جو سموکر نہیں ہوتا،

    تو ایسے افراد کو طبیعت پہ سخت گراں گزرنے والی یہ ناگوار بُو ضرور محسوس ہوتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ مروت کے مارے اپنی ناگواری کا اظہار نہ کریں۔

    مگر اس لت کی وجہ سےآپ کی شخصیت ان کے نزدیک پسندیدہ ترین نہیں رہتی،

    وہ لوگ آپ سے ملاقات کو بوجھ سمجھ کر کر تو لیتے ہیں،

    مگر دل سے وہ آپ کے جلدجانے کی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں۔اُنہیں آپ سے مجبورا” ملنا پڑتا ہے،

     انہیں اندر سے کراہت کے باوجود بعض دفعہ آپ کواپنے فرائض منصبی  کی بدولت برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    انتہائ معذرت کے ساتھ یہ میرا زاتی تجربہ ہے کہ میں جب بھی کبھی کسی ایسے شخص سے ملوں جو سگریٹ پیتا ہو تو میری کوشش ہوتی ہے کہ جلد باۓ باۓ کے لمحات نصیب ہوں۔

    میرا اس پر اختیار نہیں،کئی دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی سگریٹ کے دھوئیں اور بُو سے الرجی ہے۔

    ان باتوں کے علاوہ ایک سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی اوسط” آپکی عمر دس سال کم کر دیتی ہے،

    کیا یہ بہت بڑا المیہ نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا چراغ گُل کرنے کے درپے ہوتے ہیں،؟

    کیا یہ بیوقوفی کی انتہا نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں،

    اپنے خون پسینے کی کمائ سے موت خرید رہے ہوتے ہیں ؟

    ایک اور سائینسی ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی ،دل،سانس،بلڈ پریشرشوگر اور کئی قسم کے سرطان کے علاوہ مردوں میں جنسی قوت میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے،

    جبکہ سگریٹ نوش خواتین دوران حمل کئی بیماریوں،

    بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی اور لاغر و بیمار بچوں کی ولادت جیسے مسائل سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

    سگریٹ نوشی کے بارے میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ عادت آپ کو غیر محسوس طریقے سے ایک خوشگوار زندگی سے دور کرتی جاتی ہے۔

    آپ سگریٹ پی پی کر آپ اپنے آپ کو ایک ایسے دلدلی کنوئیں میں گرا رہے ہوتے ہیں،

    جس سے نکلنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دشوار تر ہوتا جاتا ہے۔

    قبل اس کے وہ جان لیوا اور ہمارے پیاروں کے لئے وہ مشکل گھڑی آن پہنچے۔

    اپنا فیصلہ ابھی کیجیے !

    ابھی جناب اعلی

    بلکل اسی گھڑی کہ 

    آپ نے اللہ پاک کی دی گئی زندگی جیسی عظیم نعمت کو سگریٹ نوشی کی نظر نہیں ہونے دینا۔

    ابھی فیصلہ کیجیے !

    اور اُس فیصلے پر ڈٹ جائیے ایک 

    مرد آہن کی طرح !#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    بدعائے محبت تحریر بسمہ ملک

    (گزشتہ کیساتھ پیوستہ)
    ضروری نہیں ہم جس سے محبت کرے اس سے ہماری شادی بھی ہو جائے جائے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جس سے ہماری شادی ہو گئی اس سے ہمیں محبت بھی ہو جائے محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں اور کچھ خاص انسان بھی میں جانتی تھی کہ عادی کسی لالچ میں مجھ سے محبت نہیں کرتا کتا مگر کسی بھی بات پہ سہی
    مجھے تو اس کو ذلیل ہی کرنا تھا تھا
    اس کے بعد جب مجھے موقع ملا میں نے اسے خوب بےعزت کیا
    میں نے زندگی میں کوئی دکھ نہیں دیکھا تھا
    تھا شاید اس لیے مجھے کسی کے دکھ کا احساس بھی نہیں تھا
    میں بہت بے حس تھی
    دولت کی فراوانی نے مجھ میں تکبر، انا اور نخرہ حد سے زیادہ تھا
    پھر ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے کہہ کر اسے یونی میں بے عزت کرایا
    میری دوست اس کی محبت اور غربت پہ طنز کرتی رہی عادی نے سب ہمت سے سنا اور فقط اتنا کہا تھا کہ کزن۔۔۔۔۔۔!!!
    کسی کی محبت کا مذاق نہیں اڑاتے اگلا بندہ اپنی محبت میں واقعہ سچا اور مخلص ہے تو محبت کی بد دعا لگ جاتی ہے مذاق اڑانے والوں کا ایک دن اپنا مذاق بن سکتا
    اور ہم نے اس بات پر بھی اس کا خوب مذاق اڑایا تھا میرا یونی میں آخری سال تھا ابو کو میرے لیے ایک لڑکا پسند آگیا
    اعلی تعلیم یافتہ اور امیر ترین گھرانا تھا ان کی بھی ہماری طرح فیکٹریاں اور دیگر کاروبار تھا
    لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے اور پسند کر گئے ہمارے گھر والوں کو بھی لڑکا پسند آگیا
    منگنی کی تاریخ مقرر کردی گئی منگنی سے ایک دن پہلے ہی عادی بہانہ بنا کر اپنے گاؤں چلا گیا شاید اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مجھے کسی اور کے نام ہوتے دیکھ سکتا وہ تین چار دن بعد واپس آیا
    اس کے آتے ہی میں نے اسے اپنے منگیتر سعد کی تصویر دکھائے اور کہا کہ دیکھو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے محبت کی جاتی ہے اور جو کسی قابل بھی ہوتے ہیں
    یہ سب میں نے فقط اسے جلانے کے لئے کہا تھا اسے تڑپانے کا ایک نیا طریقہ میرے ہاتھ آ گیا تھا
    میں جان بوجھ کر موبائل کان سے لگا کر عادی کے قریب سے گزرتی قدرے اونچی آواز میں نہیں جانو جان وغیرہ کہتی ہاں یار میں جانتی ہوں تو میرے لئے جان بھی دے سکتے ہو سعد مجھے جتاتا رہتا تھا کہ میں اسے بے حد پسند ہو اور وہ میرے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے
    کمال کا حوصلہ تھا عادی کا بھی اس نے کبھی مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا تھا بس کبھی کوئی شعر سنا دیتا یا پھر دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے رکھتا پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ میری ایک ٹانگ میں مستقل درد رہنے لگا بہت علاج کرایا ملک اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھایا مگر کسی کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا
    ایک دن پڑوسن امی سے کہہ رہی تھی کہ نوش کو کسی عامل کے پاس لے جاؤ ہو سکتا ہے کسی نے کوئی جادو ٹونہ کرا دیا ہوگا پتہ کسی نے کالا جادو گرا دیا ہو پڑوسن کی امی سے کالا جادو کا سن کر میرے ذہن میں پہلا خیال یہی عادی کا آیا تھا اور ضرور اسی کمینے نے حسد میں ایسا کیا ہوگا مجھے اپنی طرف مائل کرنے کے لئے میرے دماغ نے کہا تھا
    اور میں بنا سوچے سمجھے اس بات پر ایمان لے آئی تھی میری عادی سے نفرت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا تھا اب میں اسے اپنے گھر سے ذلیل کرکے نکالنے کا بہانہ ڈھونڈ نے لگی میں اب اس کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی
    چھ سات ماہ کے بعد ٹانگ کا درد ختم ہو گیا تھا مگر بے تحاشہ پین کلر کھانے سے میرے گردے ناکارہ ہوگئے تھے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ دونوں گردے ختم ہیں نکالنے پڑیں گے کہیں سے ایک گردے کا بندوبست کر لیجئے
    گردہ خریدنا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں تھا مگر مجھے یقین تھا کہ میرا منگیتر سعد مجھے اپنا ایک گردہ دے گا وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ وہ میرے لئے جان دے سکتا ہے
    ابو نے اپنے جاننے والوں سے بات کی کہ وہ جتنے پیسوں میں بھی ہو سکے کہیں سے ایک گردے کا انتظام کریں
    سعد میرے لئے بہت پریشان تھا
    مجھے یقین تھا کہ وہ کہے گا نوشی میری جان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
    میں ابھی زندہ ہوں میں دوں گا اپنا گردہ تمھیں
    مگر سعد نے ایسی کوئی بات نہیں کی سعد نے اتنا ضرور کہا تھا کہ پریشان نہیں ہونا
    ہم کوشش کر رہے ہیں جلد ہی کوئی انتظام ہو جائے گا
    پھر
    میں نے ایک رات فون پر خود ہی اسے کہہ دیا کہ جانی اپنا ایک گردہ مجھے دے دو نا ۔۔۔؟؟؟
    میں نے بڑے مان سے کہا تھا مجھے یقین تھا کہ سعد کہے گا کہ گردہ کیا چیز ہے تم جان بھی مانگو تو حاضر ہیں
    سعد کچھ پل کے لیے چپ ہو گیا تھا

    نوشی یار۔۔۔۔۔ میں تمہیں کیسے اپنا گردہ دے سکتا ہوں۔۔۔؟
    کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے کہا
    تو میرے مان اور بھروسے کا محل زمین بوس ہوگیا
    دو دن بعد مجھے ہسپتال داخل کرلیا گیا گردے کا انتظام ہو گیا تھا
    مجھے پتا تھا ابو کروڑوں خرچ کر کے بھی گردے کا انتظام کر لیتے اور انہوں نے لیا تھا
    جب سے میری ٹانگ میں درد شروع ہوا تھا عادی بہت پریشان رہنے لگا تھا
    مگر میں جانتی تھی وہ مجھے صرف دکھانے کے لئے پریشان ہونے کا ڈرامہ کرتا تھا تاکہ مجھے اس پہ شک نہ ہو ورنہ اندر سے تو یہ بہت خوش ہوگا

    پھر میرے گردوں کے ناکارہ ہونے کا سن کر تو مزید پریشان ہو گیا تھا
    شاید اس نے جو عمل مجھ سے کرایا تھا اسے اس کی اس حد تک توقع نہیں تھی۔۔۔؟
    عادی میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھے تسلی دی تھی
    کہ پریشان نہیں ہونا اللہ بہتر کرے گا
    مجھے اس کی شکل سے بھی الجھن ہونے لگی تھیں میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ کچھ دیر بیٹھا رہا میں نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا پھر وہ خود ہی اٹھ کر چلاگیا
    آپریشن کامیاب ہوا تھا ہسپتال میں سعد اور اس کے گھر والے میرے عیادت کو آئے تھے
    عادی تو پہلے دن سے ہی ہسپتال میں تھا وہ میرے لئے سفید پھول لے کر آیا تھا وہ جانتا تھا کہ مجھے سفید پھول بہت پسند ہے مگر میں نے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لیے اس کے لائے پھولوں کو اسی کے سامنے توڑ کر پھینک دیا تھا
    میں جس حال میں تھی اس کا ذمہ دار عادی ہی تھا اگرچہ میرے پاس اس کا ثبوت نہیں تھا مگر عادی کے سوا اور کوئی ایسا نہیں تھا جو مجھ سے انتقام لینا چاہتا ہوں میری ہر بےعزتی کو اس میسنے انسان نے ہنس کر اسی لئے سہا تھا کہ بعد میں وہ مجھے روتا ہوا دیکھے گا
    عادی نے اپنے لائی بھولوں کا حشر دیکھ کر بس اتنا ہی کہا تھا
    کزن یار غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا بلاوجہ کسی سے اتنی نفرت بھی نہ کرو کہ آپ کی نفرت سے کسی کے دل پر لگے زخم بعد میں آپ کے لئے ناسو بن جائے
    عادی کہ الفاظ سے مجھے لگا جیسے وہ مجھے جاتا رہا ہوں کے مجھے اس حال تک لانے والا وہی ہے
    میں ہسپتال سے گھر آئی تو عادی کی امی یعنی میری مما نے مجھ سے ملنے آئیں یہ دو تین بار پہلے بھی میری عیادت کو آ چکی تھیں
    کچھ ہی دنوں میں میں مکمل ٹھیک ہو چکی تھی مجھے بس ایسے موقع کی تلاش تھی کہ عادی کو سب کی نظروں میں ذلیل کرکے اس گھر سے نکلو سکوں ۔ اس نے مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ایک دن مجھے اچانک ہی ایک شیطانی خیال سوجھا

    ہمارے گھر کام کرنے ایک بیس بائیس سال کی لڑکی آتی تھی میں نے اسے 10ہزار دیا اور کہا میں تمہیں جو کچھ کہونگی وہی سب ابو کے پوچھنے پر ان کے سامنے دوہرا دینا
    دس ہزار کی رقم دیکھ کر وہ فورا تیار ہو گئی تھی میں نے رات کو ابو کے کان بھر دی ہے کہ کام کرنے والی لڑکی نے کہا ہے کہ وہ یہاں کام نہیں کرے گی
    جب تک عادی اس گھر میں ہے
    کیونکہ وہ اسے پیسے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ رات گزارنے کا کہتا ہے
    دو تین بار تو اس نے دست درازی بھی کی ہے اگلے دن کام والے آئی تو میں اسے ابو کے پاس لے گئی اس نے بھی وہی کچھ کہا جو میں رات کو ابو کو بتا چکی تھی
    ابو نے عادی سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا اور اسے بلایا اور گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا
    عادی ہکا بکا رہ گیا تھا تم نے ہم پر نیکی کی اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو مرضی کرتے پھرو
    ابو نے عادی سے کہا میں نے کیا کیا ہے۔۔۔؟
    عادی نے سوال کیا تھا
    تم نے جو کچھ کیا وہ کوئی بے شرم اور بے غیرت ہی کر سکتا ہے اس سے پہلے کے ابو کچھ بولتے میں نے عادی کو جواب دیا تم بس اور اس گھر سے دفع ہو جاؤ میں نے بڑی بڑی اکڑسے اس سے کہا
    عادی نے مزید کچھ نہ پوچھا اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور چپ چاپ گھر سے نکل گیا
    جانے سے پہلے وہ مجھے کہہ گیا تھا
    نوشی۔۔۔۔!!! مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس حد تک چلے جاؤ گے کیونکہ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کو یہاں سے نکلوانے میں میرا ہاتھ ہے
    میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا
    عادی نے کہا
    تو میں نے ہنس کر تکبر سے کہا تھا تم سے معافی کون مانگ رہا ہے۔۔۔۔؟
    اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور چلا گیا
    (جاری ہے)

    @BismaMalik890

  • سگریٹ نوشی اور شعرو ادب تحریر :سیدہ ام حبیبہ

    سگریٹ نوشی اور شعرو ادب تحریر :سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم تمباکو نوشی پہ متعدد مضامین اور تحقیقات نظر سے گزریں ہر تحریر میں تمباکو نوشی کو مضر صحت لکھا گیا.
    مگر کیا کہنے ان شعراء کے ان کانٹینٹ کریٹرز کے جنہوں نے سگریٹ نوشی کو مضر صحت تو لکھا مگر اس کے نقصانات کو اسقدر رومانوی انداز میں بیان کیا اور پردے پر دکھایا کہ دیکھنے والے کو سب بھول گیا مگر انگلیوں میں سگریٹ دبائے وجاہت سے بھرپور ہیرو یاد رہ گیا.
    شعراء حضرات کے ہاں سگریٹ کچھ یوں ہے

    کمرے میں پھیلتا سگریٹ کا دھواں
    میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا
    کفیل آزرامروہوی

    سگرٹیں چائے دھواں رات گئے تک بحثیں
    اور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے
    والی آسی

    گریباں چاک دھواں جام ہاتھ میں سگریٹ
    شبِ فراق عجب حال میں پڑا ہوں میں
    ہاشم رضا جلالپوری
    اور شاعر افضل خان تو باقاعدہ ایک غزل لکھ بیٹھے سگریٹ کی شان میں
    نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ
    میں تجھکو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ

    الغرض انصاف ادب و سخن پہ بھی سگریٹ کا دھواں اپنے نشانات چھوڑنے سے باز نہ آیا
    اگر کبھی کسی طالبعلم کو تمباکو کے مضر صحت ہونے پہ لیکچر دینا چاہا بھی تو اس نے اقبال کے آخری ایام کا تذکرہ کر دیا کہ جی علی بخش تو ان کو حقہ دیا کرتا تھا وہ بھی تو پکے مومن تھے اب بندہ کیا کہے اردو ادب سگریٹ اور اقبال اور ہماری گہری خاموشی.
    اب اس جملے سے ادب میں سگریٹ کی اہمیت کا اندازہ لگائیے
    مشرف عالم ذوقی صاحب فرماتے ہیں

    "سگریٹ اور چائے میں ان دو بڑی عادتوں کا غلام ہوں”

    سگریٹ اور غمگین زندگی کا تو پوچھئے مت

    سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگا
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    کسی فلم یا ڈرامے کے ہیرو کو غمگین ہونے کے بعد سگریٹ یا شراب پینا گویا حکایت ہو گئی
    اور ہو بھی کیوں نہ پہلے دس بار اقساط میں ہیرو کے ساتھ انسیت اور ہمدردی کے جذبات ابھارے جاتے ہیں اور ہیرو کی عادات سے مرعوب کیا جاتا ہے
    ہیرو کی دس اچھی عادتوں کا قائل ناظر کیا اس کی گیارہویں بری عادت کو برا گردانے گا؟

    امیرانہ زندگی کا کون ہواہشمند نہ ہوگا.ہمارا ادب ہمارا میڈیا سگریٹ نوشی کو اتنا جاذب اور پرکشش بنا کر پیش کرتا ہے کہ نوجوان نسل ان ہیروز کو ان شعراء کو آئیڈیلائز کرتے ہوئے بھی اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں.

    تمباکو نوشی کے خلاف ہر مہم ناکامیاب اس لیے رہ رہی ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف ایک دن منایا جاتا ہے اور اس کے استعمال پہ سارا سال اشتہار اور اشعار چلتے ہیں.
    کاروبار صحت پہ سبقت لے جاتا ہے سگریٹ کو انڈسٹری کہہ کر پلا جھاڑ لیا جاتا ہے. گھر کے گھر تباہ ہو گئے اس انڈسٹری کے ہوتے ہوئے.
    دنیا میں ایسی کمپنیاں ہیں جو سگریٹ نوشی کرنے والوں کو نوکریاں نہیں دیتیں.بہت سے مقامات پہ سگریٹ نوشی ممنوع ہے.
    اگر روک تھام کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں تو ممکن ہے چند سالوں میں یہ لعنت ختم کی جا سکے.
    ابھی حال ہی میں کرونا ویکسین لگانے پہ جس طرح مجبور کیا گیا اسی طرح ہر ادارے میں اگر میڈیکل ریپورٹ لازمی قرار دی جائے سگریٹ نوشی کرنے والے اور نشے کے عادی ملازمتوں سے برطرف کیا جائے اور بھرتی کے قوانین میں بھی یہ شق شامل کر لی جائے.یہ ایک ناممکن تجویز ہے لیکن اگر چاہت ہو تو کیا نہیں ممکن.
    اور سگریٹ کو رومانوی انداز میں پیش کرنے والے ہیروز اس سے ہونے والی بربادی بھی بیان کرتے ہیں
    مگر وہ بربادی سبق آموز انداز میں بیان نہیں کی جاتی.

    خدا سے دعا ہے کہ ہم تمباکو نوشی اور دیگر منشیات کے خلاف حقیقی معنوں میں اقدامات کریں محض دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا.

    سگریٹ پہ میرا پسندیدہ شعر

    میری بھی کیوں خراب کی مٹی
    جاتے جاتے بتا تو دے سگریٹ

    اور ہم سب جانتے ہیں سگریٹ کچھ نہیں بتائے گا قارئین بتائیں گے کہ یہ تحریر کا حد تک حقیقت رکھتی ہے آپکی آراء کی منتظر

    @Hsbuddy18

  • پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے     اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے اسلام آباد ہائیکورٹ

    معروف چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کر لی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا، 4 صفحات پرمشتمل تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے ٹک ٹاک پر پابندی کا کوئی مناسب جواز پیش نہیں کر سکا، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے وکیل نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ ٹک ٹاک پابندی کا معاملہ کابینہ کے سامنے نہیں رکھا ٹک ٹاک پر ٹیکنالوجی کے دوسرے ذرائع سے رسائی ممکن ہے، ٹاک ٹاک پر پابندی اس لیے بھی غیر موثر ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع سے رسائی ہو سکتی ہے۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ جب یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک فیصد افراد ٹک ٹاک کاغلط استعمال کررہے ہیں تو سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی حل نہیں، سوسائٹی میں تنزلی کی علامت کو سوشل میڈیا سائٹس پر موجود مواد سے نہیں ملایا جا سکتا، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی نے سوسائٹی میں بہت سے چیلنج سامنے لائے۔

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    حکمنامے کے مطابق عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق حکومتی پالیسی کیا ہے، پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ پی ٹی اے 20 ستمبر کو وفاقی حکومت کی پالیسی سے متعلق رپورٹ پیش کرے۔

    ایئر لنک کمیونیکیشن کا پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او بنانے کا منصوبہ

  • نور  بھی  کسی  گھر  کی  آنکھ  کا  تارا  تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ تحریر:راؤ اویس مہتاب

    آج کل کے ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں انسان کا Exposure اتنا ہو گیا ہے کہ چھ سال کے بچے کو آج اتنا پتا ہے جو ساٹھ سال کے بزرگ کو نہیں پتا اور ہر لمحہ خبر اور دنیا میں پے در پے ہونے والی زیادتی کی خبروں نے اس حد تک ناظرین کے دماغوں کو بے حس کر دیا ہے کہ اللہ کی پناہ۔۔ کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے۔ ہم اسے کے بارے میں ایک لمحہ سوچتے ہیں اور پھر آگے چل پڑتے ہیں۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
    لیکن ان انکشافات پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں تھوڑا سا آپ کے ضمیر کو جھنجوڑنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں نور مقد م صرف ایک کیس نہیں ہے بلکہ ایک جیتی جاگتی اور ہنستی کھیلتی لڑکی کا نام تھا۔ لوگ کہتے ہیں نور مقدم کیس پر تو مٹی ڈل گئی ہے۔ عائشہ کا کیس آگیا ہے، لاری اڈا چنگچی والا واقعہ پیش آ چکا ہے۔وہاڑی سے آنے والی ماں اور بیٹی کی لاہور میں دن دیہاڑے آبرو ریزی ہو چکی ہے۔
    اب تو یہ کیس پرانا ہو گیا ہے۔ نہیں نور مقدم کا کیس اس وقت تک پرانا نہیں ہو گا جب تک ظالم درندے کو پھانسی اور اس کے سہولت کاروں کو سزا نہیں ہو جاتی۔ اس ظالم درندے کو کس نے اتنی ہمت دی کہ اس نے ایک معصوم کا سر تن سے جدا کر دیا۔ کس کی شہ پر ، کس طاقت کے نشے میں وہ اتنا مطلق العنان سوچ کا مالک ہو گیا تھا کہ اس نے ایک بچی کو ذبحہ کر ڈالا۔ کیا اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد کیسے اس صورتحال سے نکلے گا۔ وہ کیسے اپنے آپ کو پھانسی کے پھندے سے بچائے گا۔ یقینا سوچا ہو گا لیکن پھر اس نے یہ بھی سوچا ہو گا کہ میرے بابا اسے سنبھال لیں گے۔ ان کے پاس ایسے لوگ ہیں جو لاش کو ٹھکانے لگانے کی کابلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کوئی مسئلہ نہیں میں نور کو ختم کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھاوں گا۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا کہ نور بھی کسی گھر کی آنکھ کا تارا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ سب کی لاڈلی تھی ۔
    23 october کو یعنی قتل کے تین ماہ بعد جب اس کی سالگرہ اآئے گی تو اسکے گھر والے اور دوست اسے یاد کر کے کتنا روٴیں گے۔ وہ نور مقدم جو جہاں جاتی تھی اپنی ملنساری سے دل جیت لیتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا اپنے دوستوں کے لیے شوق سے لے جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو ہر روز اپنے والد کو پھل کاٹ کر دیتی تھی۔وہ نور مقدم جو مہمان آنے کی صورت میں آپنی ماں کی مدد کرتی تھی۔وہ نور مقدم جو اآپنے والدیں کے ساتھ ہر رشتے دار کے گھر جاتی تھی۔وہ نور مقدم جو اپنی بڑی بہن سے آٹھ نو سال چھوٹی ہونے کے باوجود اس کی بہترین دوست تھی وہ نور مقدم جو اپنے بھانجے کی بہترین دوست تھی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے، کئی کئی گھنٹے اس کے ساتھ کھیلتی تھی۔وہ نور مقدم جو دنیا بھر میں گھومنے کے باوجود پاکستان سے پیار کرتی تھی اور پاکستان میں رہنا چاہتی تھی اور بیرون ملک اپنے رشتہ داروں کو بھی پاکستان میں رہنے کی ترغیب دیتی تھی۔وہ نور مقدم جسے پینٹنگ کا شوق تھا اور اس کے ہاتھ سے بنائی ہوئی پینٹنگ آج بھی اس کے گھر میں لگی ہوئی ہیں۔وہ نور مقدم جو کسی کو بھی دکھی دیکھ کر غمگین ہو جاتی تھی اور دوسروں کو Comfortable کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور یہی چیز اس کی جان لے گئی۔
    ایک منٹ کے لیے رکیں اور سوچین نور کی کتنی عادتیں ہماری بیٹیوں سے مشترک تھی اگر آپ ایک دفعہ بھی نور سے ملے ہوتے تو آپ کو نور میں اپنی بیٹی نظر آتی۔۔کیا ہم اپنی بیٹی کے قاتلوں کو اس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں۔ نہیں بلکل نہیں۔نور قدم کیس کے حوالے سے میں مسلسل آپ کو اپ ڈیٹ دیتا آرہا ہوں۔
    اورہر روز ایک نئی گتھی جہاں سلجھتی ہے وہاں کئی گتھیاں الجھ جاتی ہیں۔اس وقت نور مقدم کیس میں درندے ظاہر جعفر اس کے والدین، تین نوکر سمیت پانچ اہلکار تھراپی ورکس کے اور چھٹا مالک گرفتار ہے۔بائیس سے زائد لوگوں کے بیانات قلم بند کروائے جا چکے ہیں۔ DNAFinger prints سمیت کئی فرانزک آچکے ہیں جبکہ لیپ ٹاپ کا فرانزک بقایا ہے۔ آج نور مقدم کو قتل ہوئے ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے لیکن بدقسمتی سے درندے ظاہر جعفر کے فون کے ڈیٹا کا کچھ اتا پتا نہیں آخری اطلاع کے مطابق وہ ایف آئی اے کے حوالے کیا جا چکا ہے اور اس کی سکرین ٹوٹی ہوئی ہے۔
    ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت ایک دفعہ ریجکٹ ہو چکی ہے اور دوسری دفعہ کے لیے وہ مناسب وقت کے انتظار میں ہیں ۔ وہ اس وقت کے انتظار میں ہیں کہ قوم اس بچی کو بھولے اور وہ کرپٹ سسٹم کو اپنی مرضی کے مطابق گھمائیں۔اور تو اور تھراپی ورکس کا مالک طاہر ظہور اب معصوم بننے کی کوشش کر رہا ہے
    وہ کہتا ہے کہ میں تو موقعہ واردات پر گیا ہی نہیں، میں تو معصوم ہوں۔ میری عمر 73 سال ہے اور میں شوگر، دل اور کڈنی کے امراض میں مبتلا ہوں۔ کوئی اس ظالم آدمی سے پوچھے کے ایک تہتر سال کے بوڑھے کو پارٹیاں کروانا زیب دیتا ہے۔ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنے ملازم بھجوائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قتل کا پتا چلنے کے باوجود حقائق کو پولیس سے چھپائے۔کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ملازم امجد پر مجرم کے حملوں کو روڈ ایکسیڈینٹ بنا دے۔ کیا ایک تہتر سال کے بوڑھے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ڈگر ی نہ ہونے کے باوجود۔ جعلی تھراپی ورکس چلائے اور لوگوں کے بچوں کے علاج کی بجائے انہیں مزید عذاب میں مبتلا کروا دے۔ یہ پاکستان میں اشرافیہ کا وطیرہ ہے ظلم کرتے ہیں زیادتیاں کرتے ہیں ، ملک کی دولت لوٹتے ہیں اور جب قانون کا شکنجہ گردن پر پڑتا ہے تو فورا معصوم بن جاتے ہیں۔تھراپی ورکس کے مالک طاہر کے وکیل فرماتے ہیں کہ میرے موکل کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے ایسا جرم کیا ہے کہ انہیں جیل میں رکھا جائے۔
    واہ کیا بات ہے۔۔۔ سبحان تیری قدرت
    لاشیں ٹھکانے لگانے والے آج اپنا جرم پوچھ رہے ہیں ، قاتل درندے کو مشکل صورتحال سے نکالنے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔ حقائق کو مسخ کرنے اور چھپانے والے اپنا جرم پوچھ رہے ہیں۔اور تو اور زخمی امجد جو تھراپی روکس کے لیے کام کرتا ہے، اور قاتل اور مقتول کو سب سے پہلے دیکھتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ اس کیس کا سب سے بہترین گواہ ہے۔
    اسی نے پولیس کو فون کر کے بتایا۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پتا ہی نہیں چلا کہ فون کس نے کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بتانے والے نے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی تھی۔ ورنہ پولیس کو اطلاع دینے والوں کے تو فون نمبر سے لے کر شناختی کارڈ تک کا پوچھ لیا جاتا ہے۔ اور جو شخص یہ دعوی کر رہا ہے کہ اس نے پولیس کو بتایا وہی ہسپتال میں اپنے زخمی ہونے کی وجوہات چھپا رہا ہے۔ وہی کہہ رہا ہے کہ میرا روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ اس وقت کیوں اس نے یہاں تک کہ ہسپتال سے حقائق چھپائے تاکہ اسے شامل تفتیش کر کے کہیں ظالم درندے کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے۔ امجد پر یقینا طاہر کا پریشر ہو گا کہ وہ حقائق چھپائے تاکہ اس کے کلائنٹ پر کوئی مشکل نہ اآئے۔ اور بات یہ ہے کہ اگر امجد کو گواہ بنا لیا گیا۔ جو اب تک ان کا کردار رہا ہے اگر اس نے آگے جا کر یہ کہہ دیا کہ وہاں ظاہر کے علاوہ بھی نقاب پوش لوگ تھے۔ اور وہ کھڑکی سے بھاگ گئے تو سارا کیس وہیں تباہ ہو جائے گا۔
    کہ نور مقدم کیس کے چشم دید گواہ نے جو دیکھا وہ بتا دیا اور کیس کا رخ ہی تبدیل ہو گیا۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی صورت حقائق چھپانے والوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔
    طاہر کا کردار اس کیس میں بہت اہم ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر قاتل درندے کا وٹس ایپ ڈیٹا ریکور کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اور ہر وٹس ایپ اکاونٹ کا
    Back up
    بھی ہوتا ہے جسے بڑے آرام سے فون نمبر کی مدد سے کسی بھی فون پر ریکور کیا جا سکتا ہے۔ اگر پولیس یہ کرنے میں ناکام رہی جو کہ بہت ہی آسان کام ہے تو سمجھ لیں کہ کافی لوگوں کو بچالیا گیا ہے۔
    تھراپی ورکس کے بارے میں میں واحد شخص نہیں ہوں جو تشویش میں مبتلا ہو اس جعلی ڈاکٹر کو لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعا ئیں دے رہے ہیں۔ اور کئی نے تو اس کے خلاف کیس بھی کیا ہوا ہے۔ایک بلکل اسی طرح کا کیسTherapy Works & Tahir Zahoor Ahmed کے خلاف Dec 2020میں کیا گیا Civil Suit 1080/20
    تھا جو Sr. Civil Judge South, Karachi کی عدالت میں آج بھی پینڈنگ پڑا ہے۔ اور رہی بات تھراپی ورکس کے جعلی این او سی کی۔ یہاں پر نہ صرف مریضوں کو لوٹا جاتا ہے بلکہ طالب علموں کو بھی چونا لگایا جاتا ہے۔ جو لوگ بھی یہاں سے بھاری معاوضہ دے کر کو رس کرتے ہیں انہیں شائد ہی کبھی سرٹیفیکیٹ ملا ہو۔

  • رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپس آگئے ہیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے 36 سالہ رونالڈو کی کلب واپسی کی تصدیق کر دی گئی ہے رونالڈو کو ساڑھے چار ارب روپے تنخواہ ملے گی اور یہ معاہدہ 2 سال کے لیے طے ہوا ہے۔

    رونالڈو اس وقت پرتگال میں موجود ہیں جہاں وہ طبی معائنے کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں گے رونالڈو نے یووینٹس کی طرف سے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مانچسٹریونائیٹڈ اور یووینٹس کے درمیان ٹرانسفر ڈیل پر اتفاق ہوگیا۔

    پرتگال سے تعلق رکھنے والے رونالڈو اس سے پہلے بھی مانچسٹر یونائیٹڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

    اس سے قبل اطالوی کلب جوانٹس کے مینجر نے اعلان کیا تھا کہ اسٹار فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو جوئنٹس کی طرف سے مزید نہیں کھیلیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جووئنٹس کے منیجر ماسیمیلانو الیگری نے کہا تھا کہ رونالڈو کو کل کے میچ میں شامل نہیں کیا جائے گا رونالڈو نے کلب کی ترقی کیلئے کردار اد ا کیا، اس کیلئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔