Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کلدیپ نئیر اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کے درمیان ملاقات   تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    کلدیپ نئیر اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کے درمیان ملاقات تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    28 جنوری 1987 کی سہ پہر پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد کے علاقے E-7 میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اکیلے موجود تھے کہ جب سکیورٹی افسر نے چند مہمانوں کی آمد کی اطلاع دی۔

    سکیورٹی افسر نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بتایا کہ مہمانوں میں سے ایک کو وہ پہچانتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے معروف صحافی مشاہد حسین سید ہیں۔ جو اب سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے ممبر ہیں۔  ڈاکٹر خان نے سکیورٹی افسر سے کہا کہ مہمانوں کو اندر لے آئیں اور انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں۔

    ڈاکٹر عبد القدیر خان مہمانوں سے ملنے آئے تو مشاہد حسین سید نے دوسرے مہمان کا تعارف کلدیپ نیئر کے طور پر کرایا جو انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے مشہور صحافی تھے۔

    مشاہد حسین سید نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بتایا کہ کلدیپ نیئر میری شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان تشریف لائے ہیں۔ یہ تقریب اس ملاقات سے ایک ہفتے بعد ہونا تھی۔ چائے پیتے ہوئے ڈرائنگ روم میں موجود تینوں افراد کے درمیان انڈیا، پاکستان تعلقات، انڈین تاریخ اور ہندو مسلم تعلقات اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک کے موضوعات پر طویل بات ہوئی۔ پاکستان کا جوہری پروگرام حال ہی میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زیر نگرانی شروع ہو چکا تھا۔

    کلدیپ نیئر نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ‘میں سیالکوٹ سے ہوں اور اب نئی دہلی میں رہتا ہوں۔جوابا ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ میں بھوپال سے ہوں اور اب اسلام آباد میں رہتا ہوں۔’

    جب ان تینوں مہمانوں کی پاکستان کے جوہری پروگرام پر گفتگو شروع ہوئی تو کلدیپ نیئر کا کہنا تھا کہ ‘اگر پاکستان دس بم بنائے گا تو انڈیا ایک سو بم بنائے گا۔’ اس بات کے جواب میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ ‘اتنی بڑی تعداد میں بم بنانے کی ضرورت نہیں۔ تین یا چار ہی دونوں اطراف کے لیے کافی ہوں گے۔’

    ڈاکٹر عبد القدیر خان بتاتے ہیں کہ ‘میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا  کہ ہم اس قابل ہیں کہ مختصر ترین مدت میں بم بنا لیں۔’

    کلدیپ نیئر نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ ہونے والی اس غیر رسمی گفتگو کو انٹرویو بنا کر ‘لندن آبزور’ کو 20 ہزار پاونڈز میں بیچ دیا۔ یہ انٹرویو  نہیں تھا۔ یہ تو چائے پر ہونے والی محض ایک گپ شپ تھی۔’

    یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی تھی جب پاکستان اور انڈیا کی فوجیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے راجستھان اور پنجاب سیکٹرز میں عالمی سرحد پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا تھیں۔

    سرحد کے دونوں جانب حملہ کرنے والی بری افواج کے دستے جمے ہوئے تھے، فضائیہ ہائی الرٹ پر تھی جبکہ توپ خانے بھی سرحد کے قریب پہنچا دیاگیا تھا۔ اس بحران کو براس ٹیک (انڈین فوج کی جنگی مشق) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ ان انڈین جنگی مشقوں کا رُخ اور پیش قدمی پاکستان کی طرف ہے جو پاکستان کے سیاسی خلفشار کا شکار صوبہ سندھ پر بڑے حملے میں بدل سکتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کا جوہری پروگرام اپنے ابتدائی مراحل میں تھا اور پاکستان باقاعدہ جوہری حیثیت حاصل کرنے سے 12 سال دور تھا۔

    اس زمانے میں ‘براس ٹیک’ کو پاکستان کی سالمیت کے لیے سٹرٹیجک خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

    کلدیپ نیئر کے نام سے لندن آبزرور میں شائع ہونے انٹرویو میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے نام سے منسوب کرکے لکھا گیا کہ ‘کوئی ملک پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا اور نا ہی ہم تر نوالہ ہیں۔ ہم قائم رہنے کے لیے بنے ہیں اور کوئی شک میں نہ رہے کہ اگر ہماری بقا کو خطرہ ہوا تو ہم ایٹم بم چلا دیں گے۔’

    یہ بات بھی کلدیپ نئیر نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے منسوب کر کے لکھی کہ پاکستان نے ہتھیاروں میں استعمال کی سطح تک یورینیم کو افزودہ کر لیا ہے اور یہ کہ لیبارٹری میں اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔

    اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد سے پاکستان میں عوام اور میڈیا نے عام طور پر یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ کلدیپ نئیر کی خبر میں مخفی اس ‘جوہری دھمکی’ نے انڈیا کو پاکستان پر کوئی بڑا حملہ کرنے سے روکا تھا۔

    بی بی سی نے اپنے انٹرویو میں جب ڈاکٹر اے کیو خان سے استفسار کیا کہ کیا کلدیپ نئیر سے ان کی گفتگو سے متعلق اخباری خبر نے کشیدگی کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا؟ ان کا جواب تھا کہ ‘بالکل۔ ایسا ہوا۔ اس کشیدگی کے خاتمے کے پیچھے ایک اور وجہ بھی تھی۔’

    ‘زیادہ کردار ضیاء کی دھمکی نے ادا کیا جب وہ جے پور میں راجیو گاندھی سے ملے تھے جہاں وہ کرکٹ میچ دیکھنے گئے تھے۔ ضیاء نے راجیو سے کہا کہ اگر بھارتی فوج فوری واپس نہ ہوئی تو وہ جوہری حملے کا حکم دے دیں گے۔ راجیو اس پر گھبرا گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے بھارتی فوج کی فوری واپسی کا حکم دے دیا۔’

    ڈاکٹر عبد القدیر خان بتاتے ہیں کہ براس ٹیک سے چند ہفتے قبل انھوں نے جنرل ضیاء کو ایک تحریری پیغام بھجوایا تھا کہ پاکستان دس دن کے نوٹس پر جوہری بم بنانے کے قابل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘اس سے ضیاء کو راجیو گاندھی سے بات کرنے اور دھمکی دینے کا اعتماد ملا تھا۔’

    آج وہی ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان میں بڑی دشواری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، سرکاری سطح پر بھی انکو عوامی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور حالیہ دنوں میں وہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جن کو ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں داخل کر دیا گیا ہے۔ ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ ہیں کہ الله تعالٰی انکو جلد صحتیابی عطاء فرمائے تاکہ وہ مزید پاکستان کے لیے اچھے کام کر جائیں، جن سے آنے والی نئی نسلیں انکے کام سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

  • آخری معرکہ تحریر : سیف الرحمان

    افغانستان میں حالیہ تبدیلی اورافغانستان میں طالبان کی اشرف غنی اور اسکے اتحادیوں   کو شکستِ فاش دینا تاریخ میں  ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا اور یاد کیاجائے گا۔  امریکہ اب شاہد براہ راست  اس جنگ کا حصہ نا بننے لیکن ضرورت پڑنے پر  پراکسی وار جاری  رکھ سکتا ہے۔

    افغان جنگ میں بھارت سب سے بڑا لوزر نظر آتا ہے۔بھارت نے پاکستان دشمنی میں اپنے مورچے افغان سرزمین پر بنا ئے۔ وہاں  بیٹھ کر بھارت نے  BLAاور TTPجیسی دہشتگر تنظیمں بنائی اور پاکستان پر حملے کرواتا رہا۔  بھارت نے  افغانستان میں  اچھی خاصی سرمایہ کاری کی۔ افغان پارلیمنٹ کا سارا خرچہ بھارت نے اٹھایا۔ ڈیم بنایا۔ اس سب کا مقصد افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنا تھا لیکن طالبان کے آنے سے یہ سب کچھ مٹی میں مل گیا۔

    طالبان نے تقریبا 90فصد افغانستان سر زمین  بغیر جنگ کے ہی فتح کر لی لیکن وادی پنجشیر اب بھی احمد ولی مسعود کے پاس ہے۔ وادی پنجشیر اس وقت سار ی دنیا کی نظروں کا محور  بنا ہواہے۔ امن دشمن طاقتوں کی آخری امید بھی وادی پنجشیر ہی ہے۔ اگر طالبان یہ معرکہ بھی جیت گئے تو زمینی جنگ 100فیصد طالبان جیت جائیں گے۔

    تاجکستان کا وادی پنجشیر کی ہار جیت میں بہت اہم رول ہو گا۔  پنجشیر ایک طویل ، گہری اور پہاڑوں کے درمیان  وادی ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 120کلو میٹر بنتا ہے -یہ کابل کے جنوب مغرب سے شمال مشرق  میں واقع ہے۔ یہ اونچی پہاڑیوں کی چوٹیوں سے محفوظ ہے – یہ پہاڑ وادی سے 9،800 فٹ بلند ہیں ۔ تاریخی طور پر وادی پنجشیر کان کنی کے لیے بھی مشہور ہے۔وادی میں ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ افراد کے رہنے کی اطلاعات ہیں۔یہاں  ذیادہ طر لوگ دری بولتے ہیں جو کہ افغانستان کی اہم زبانوں میں سے ایک ہے اور تاجک نسل سے ہیں ۔

    اس وادی میں داخلے کیلئے ایک راستہ ہے جو ایک تنگ سڑک  ہے  ۔ یہ سڑک بڑے بڑے پتھریلے راستوں اور دریائے پنجشیر کے درمیان سے ہو کر نکلتی ہے۔ جس کو اگر بند کر دیا جائے تو  خوراک اور ادویات کی فراہمی بند ہو جائے گی۔   اب  وادی پنجشیر کے باسیوں کی زندگی کا دارومدار تاجکستان کے راستے خوراک ادویات  اسلحہ بارود پر منحصر رہ جاتاہے۔ طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پنجشیر میں بغاوت کا آغاز ہو گیا تو شمال کے صوبوں تک پھیل جائے گا۔اس لئے وادی پنجشیر کو حاصل کرنا طالبان کیلئے بہت ضروری ہے۔ 

    دوسری طرف تاجکستان میں بھارت کا اثرورسوخ  غیر معمولی نظر آتا ہے جس کی مثال بھارت کا  تاجکستان میں ایک فوجی اڈے کی موجودگی ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ دوشنبہ ہوائی اڈے کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں تو  وہاں بھارتی اداکاروں کی بڑی بڑی  تصاویر لگی نظر آتی ہیں۔اس سے تاجکستان اور بھارت دوستی کا پتہ چلتا ہے۔   پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بار بار تاجکستان کے دورے بھی کر رہے ہیں کہ کہیں بھارت کی دوستی کی وجہ سے تاجکستان افغان امن کی راہ میں روکاوٹ نہ بنے۔

    تاجک حکمران  یہ سمجھتے ہیں کہ اگر طالبان مستحکم ہو گئے اور اسلامی نظام نافذ کر لیا تو عین ممکن ہے کہ نشاہ اسلامیہ کی اسلامی تحریک islamic renaissance partyپھر سے نا سر اٹھانے لگ جائے۔ احمد مسعود کے بہت سے کمانڈروں کی حلاکتوں کی بھی تصدیق ہو رہی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے آدھے سے ذیادہ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور باقی پر پیش رفت  جاری ہے۔  عرب میڈیا کےمطابق طالبان نے  تاذہ دم دستے 3اگست کو وادی پنجشیر کی طرف روانہ کر دیئے ہیں۔ اس وقت پنجشیر میں موبائل اور انٹر نیٹ مکمل بند ہے ۔   بعض اطلاعات کے مطابق احمد مسعود اور امرﷲ صالح تاجکستان فرار ہو گئے ہیں۔  اگر ایسا ہے تو پنجشیر میں طالبان کی فتح کو کوئی بھی نہیں روک پائے گا۔   

    حال ہی میں بھارت کے ایک ریٹائر فوجی جس کا نام میجر گوروآریا ہے اس نے احمد مسعود کو مودی حکومت کی طرف سے ہر ماہ 200ارب دینے کی آفر کروائی۔ اس آفر کا  مقصد افغانستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروانا ہے۔ بھارت کی مثال اس وقت اس بزدل لومڑی  جیسی بنی ہوئی ہے جو چاہتی ہے کسی طرح کوئی شیر شکار کرے اور وہ اس مردہ گوشت پر جا کر منہ مار لے۔ لیکن حالات یکسر بدلے نظر آ رہے ہیں۔ شاہد بھارت کا یہ خواب کبھی پورا نا ہو پائے کیونکہ افغانستان میں  ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر لگ رہا ہے۔ امن و امان کی صورت حال بھی کافی بہتر نظر آ رہی ہے۔ طالبان کی   موجودہ  قیادت اس وقت کافی سمجھدار اور دور اندیش نظر آ  رہی ہے۔

    طالبان کے مطابق وادی پنجشیر کا حصول ان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہےوہ اس وادی کو ہر صورت فتح کریں گے۔ اس آخری معرکہ کی فتح افغان امن و امان  کیلئے بہت ضروری ہے۔ دوسری طرف طالبان نے باقاعدہ طور پر سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا بھی اظہار کر دیا ہے۔ طالبان کو افغانستان کا مستقبل نظر آ رہا ہے وہ کسی بھی قیمت پر وادی پنجشیر ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔  

    @saif__says

  • توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    توبہ کا قانون۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں انسان کو آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے اور ہر وقت اُس کا امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جب آپ آزمائش سے گزر رہے ہوتے ہیں تو غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور گناہ بھی سرزد ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ایک قانون دیا ہے۔ جب کوئی شخص  کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو فوراً اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔

    عام طور پر توبہ اور استغفار ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، اصل میں یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ توبہ کا مطلب ہے لوٹنا، یعنی مجھ سے ایک غلطی کا ارتکاب ہوا ہے، ایک گناہ سرزد ہوا ہے، میں اس کو چھوڑ کر صحیح راستے کی طرف آتا ہوں تو اس کو توبہ کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں اس کا مطلب لوٹنے کا ہے۔ یعنی آپ نے ایک گناہ کا کام کیا اور اس کو چھوڑ دیا، اپنی اصلاح کا فیصلہ کر لیا اور اب آپ وہ کام نہیں کریں گے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی شراب پیتا تھا اس نے کہا کہ میں آج کے بعد شراب نہیں پیوں گا، جھوٹ بولتا تھا اس نے کہا کہ آج کے بعد جھوٹ نہیں بولوں گا  تو یہ توبہ ہے۔

    استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہنا، بخشش کی دعا کرنا۔ عام طور پر توبہ اور استغفار ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ توبہ و استغفار اس لیے بھی ایک ساتھ بولے جاتے ہیں کہ جس وقت آدمی کسی گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو یہا ں ایک دوسری چیز یہ بھی ہے کہ اس نے گناہ کیا تو تھا، چنانچہ جو کچھ کیا ہے اس پر مغفرت چاہے گا، اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کرے گا۔ اس لیے یہ دونوں الفاظ ایک ساتھ بول لیے جاتے ہیں پر دونوں میں فرق ہے۔ دونوں الفاظ کو ملا کر ہم توبہ و استغفار کہہ رہے ہوتے ہیں، گویا دونوں باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ گناہ چھوڑ بھی دو اور اللہ سے مغفرت بھی طلب کرو۔

    صرف توبہ کا لفظ بول لینا توبہ نہیں ہے۔ توبہ کی حقیقت یہ ہےکہ آپ نے گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ اگر یہ کہہ دیں کہ میں نے توبہ کی ہے اور اس کا معنی یہ لیں کہ  میں نے توبہ کا لفظ بول دیا ہے تو یہ توبہ نہیں ہے۔

    اگر توبہ کا مطلب گناہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کو "تواب” کہنے سے کیا مراد ہو گا؟
    عربی زبان میں الفاظ اپنے فاعل کے لحاظ سے اپنے معنی تبدیل کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اللہ تعالیٰ کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جو آپ کے جذبہِ شکر گزاری کو قبول کرتا ہے، اور جب بندے کے لیے شاکر کا لفظ استعمال کریں گے تو اس کا مطلب وہ جو شکر ادا کرتا ہے۔
    اسی طرح یہاں "تواب ” سے مرا د ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و برکت کے ساتھ آپ کی طرف آتا ہے، یعنی وہ جو آپ کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔

    قرآن مجید نے توبہ کا قانون بھی بتا دیا ہے۔ یعنی جب آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو آپ سب سے پہلے اس گناہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کریں گے پھر یہ کہ آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کا فیصلہ کریں گے اور اپنے ایمان کی تجدید کریں گے۔ جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے تو حقیقت میں وہ ایمان سے خالی ہو جاتا ہے، کیونکہ ایمان کے ساتھ گناہ کا ارتکاب نہیں ہو سکتا۔ آپﷺ نے اس لیے فرمایا کہ جب کوئی بدکاری کرتا ہے یا چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ قانونی لحاظ سے تو وہ مسلمان ہی شمار ہو گا لیکن وہ حقیقتِ ایمان سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب تک ایمان کی حقیقت کا شعور ہے تب تک آپ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر گناہ نہیں کر سکتے۔

    توبہ کے قانون میں ہے کہ جب کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً اس پر توبہ کی جائے۔ گناہ کی ایک کیفیت ہوتی ہے جو انسان پر طاری ہو جاتی ہے، بالخصوص جنس سے متعلق جو گناہ ہیں ان میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ انسان جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔ باقی گناہوں میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک پردہ پڑ جاتا ہے اور اس میں آدمی کسی گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فوراً توبہ کر لی، یعنی جیسے ہی شعور بیدار ہوا، غفلت ختم ہوئی تو آپ بیدار ہو گئے اور آپ نے کہا کہ نہیں یہ گناہ میں آئندہ نہیں کروں گا، یہ وہ چیز ہے جس کے اوپر اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے کہ میں اس رجوع کو قبول کر لوں گا۔

    یہ قانون ان گناہوں کے بارے میں ہے جن کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہے، بعض ایسے معاملات بھی ہوتے ہیں جس میں کوئی دوسرہ بندہ بھی متاثر ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں توبہ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟
    اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ انشاءاللہ بہت جلد باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر میرے اگلے کالم میں آپ اس بارے میں  پڑھ سکیں گے۔ تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • ہمارے خود ساختہ معیارات تحریر: صبیحہ ابراہیم

    ہمارے خود ساختہ معیارات تحریر: صبیحہ ابراہیم

    ٹیلی ویژن دیکھیں یا اخبارات سوشل میڈیا کھولیں تو سامنے ایک جیسی خبریں گردش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔جنسی تشدد ،جسمانی تشدد ،قتل اور ایسی بہت سی خبر رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہیں۔۔ایسا کیوں ہے؟ کون سی چیز ہے جس نے انسان کو انسان کے مرتبے سے گرا دیا اور حیوان بننے پر مجبور کر دیا ہے؟بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ان میں سے ایک وجہ ہمارا خودساختہ معیار ہے۔جس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں اور اس چیز کا شکار بھی ہو خود ہیں۔ہم ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جہاں انسانوں کا رہنا مشکل ہے۔جہاں لوگ روٹی کپڑے سے تنگ اور پریشان تھے اب اس بات سے پریشان ہیں کہ باہر جائیں گے تو باعزت زندہ واپس آئیں گے بھی کہ نہیں۔۔جہاں بچے ماؤں کے ساتھ محفوظ محسوس کرتے تھے اب ماٸیں ہی قومی شاہراہ پر محفوظ نہیں ہیں۔یہ اتنی شرم ناک بات ہے کہ لکھتے ہوئے قلم بھی لرز جاۓ۔۔ان سب کی وجہ ہمارا خودساختہ معیار ہے ہم نے خود کو brandsاورstandard میں اس قدر الجھا لیا ہے کہ اب ہم اس کے شکنجے میں جکڑے جاچکے ہیں۔ نکاح سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہم نے اس سنت کو خود سے گلے کا پھندا بنا لیا ہے۔آج کے دور میں سب سے آسان چیز زنا اور سب سے مشکل چیز نکاح ہے اور اس حقیقت سے جتنی بھی نظریں چرائی جائیں حقیقت تو یہی ہے اور نکاح کو مشکل بنانے والے بھی ہم خود ہیں ہم نے نکاح کے نام سے اتنے لوازمات جوڑ لئے ہیں کہ جب تک لاکھوں جمع نہ ہوں تو سنت پوری نہیں کر سکتے۔اور دوسری وجہ تربیت ہے والدین زمانے کی بھاگ دوڑ میں اس قدر مصروف ہو چکے ہیں کہ انہیں اولاد کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ایسے گھروں سے نکلے ہوئے بچے جنہیں اچھے برے کی تمیز نہ سکھائی جائے حلال اور حرام میں فرق نہ سکھایا جائے تو ان کے لئے کوئی بھی گناہ ، گناہ ہی نہیں ہوتا۔انہیں رشتوں کے تقدس کا پتہ ہی نہیں ہوتا بچے کی سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے جب درسگاہ میں وہ گرم جوشی ہی نہیں اور وقت کی قلت ہوگئی تو بچے بھی معاشرے کے لیے ناسور ہوں گے۔۔اور تیسری وجہ ہماری بے وجہ کی خواہشات ہیں ہم نے اپنی خواہشات کو بے لگام کیا ہوا ہے کہ خواہشات کے سامنے حلال اور حرام کا فرق نہیں کر پاتے۔کہاوت ہے کہ” چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں“لیکن اب ہمیں چادر کے چھوٹے اور بڑے ہونے سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں گھر کی خواتین۔جنہیں پتہ ہونے کے باوجود کے گھر کے سربراہ کی کمائ اتنی نہیں ہے کہ وہ بے جا خواہشات پوری کرسکیں لیکن پھر بھی وہ سب چاہیے جو امیر لوگ بآسانی خرید سکتے ہیں۔مڈل کلاس طبقے نے خود کو brandsاورstandard کی دوڑ میں خود شامل کیا ہے سارا دن کام کرکے شام کو تھکا ہارا گھر آنے والا مزدور جب حالات کا رونا روتی اور غربت کو کوستی عورت کو دیکھے گا تو دماغی بے سکونی کا مریض بنے گا۔جس کے نتیجے میں پھر ان کی درندگی کی خبریں ہم روز سنتے ہیں۔ہمیں بحیثیت مسلمان رب کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔بہتری کی کوشش کرتے رہنا چاہیے لیکن حلال اور حرام کی تمیز کے ساتھ۔اور دوسری طرف بچوں کی تربیت پر توجہ کی ضرورت ہے خدارا اپنے بچوں کو انسان بنائیں۔انہیں انسان کی مکمل تعریف عملی طور پر کرکے بتائیں۔انہیں عورت کا مرتبہ سمجھاٸیں۔انہیں مردکا وقار بتائیں۔اچھا انسان بنائیں۔اور والدین سے گزارش ہے کہ ذات پات امیری غریبی کے دوہرے معیار سے نکل آئیں۔دوسری ذات میں یا غریب گھر میں شادی کرنا زنا سے بہت افضل ہے۔۔ذات پات کے چکر میں بچوں کو پنکھے سے لٹکنےاور حرام موت مرنے سے بچائیں۔نکاح کو عام کریں رزق کا وعدہ میرے رب کا ہے۔اس بات پر یقین رکھیں وہ بھوکا نہیں سونے دے گاہم لوگ ہی اب اس معاشرے کو پھر سے انسانی معاشرہ بنا سکتے ہیں ورنہ رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔

    (سٹی: صادق آباد)

  • محبتوں کےاسیر(قیدی )بے آبرو تحریر:افشین

    محبتوں کےاسیر(قیدی )بے آبرو تحریر:افشین

    رشتوں کے تَقّدس کو پامال کرنا عزت دینے کے بجائے بدنام کرنا ۔
    اس دور کی نوجوان نسل یہ سمجھ نہیں پاتی کہ پیار محبت عشق ہوتا کیا ہے؟ کسی سے دو چار باتیں کر کے انکو لگتا ہے محبت ہوگئ یا کسی کی خوبصورتی، کردار ،بول چال کو دیکھ کے اس سے محبت ہوگئ ۔پیار کیا ہے محبت کیا ہے ؟ عشق کیا ہے ؟ اس احساس کو سمجھنے کے بجائے انکو ہر دوسرے تیسرے انسان میں دلچسپی ہورہی ہوتی ہے۔ دل پھینک نہیں ہونا چاہیے۔ پیار کی ایک حد ہوتی ہے ۔پیار اور محبت کا جذبہ دونوں میں واضع فرق ہے ۔ محبت جس سے ہوجائے اس انسان کو کسی سے بانٹا نہیں جا سکتا اسکی ہر ادا سے محبت ہو جاتی ہے وہ کچھ برا بھی کرے پھر بھی آپکو اچھا لگے گا ۔ آپ اسکا خیال رکھتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں اسکو ہر خوشی دیں۔محبت کی بھی حدود ہوتی ہیں کچھ محبتوں میں جنون بھی شامل ہوجاتا ہے اور جنونیت خطرناک ہوتی ہے ۔ محبت بھروسے کا نام ہے شک بھی بلاوجہ پیدا نہیں ہوتا تیسرا انسان دو انسانوں کے درمیان جب نظر آنے لگے اور اپنی حدود پار کر رہا ہو پھر شک بھی تب ہی پیدا ہوتا ہے کھونے کا ڈر انسان کو شک تک لے جاتا ہے محبت پاکیزہ رشتہ ہے مگر نوجوان نسل اس رشتے کو بے آبرو کر رکھا ہے۔ محبت ہے تو ملنے آجاو محبت ہے تو یہ کرو وہ کرو ناجائز کام کرواتےہیں کیا یہ محبت ہیں؟؟ نہیں یہ محبت نہیں حوس ہے یہ بات بھی درست ہے کہ محبت میں قربت خود بخود ہوجاتی ہے پر انسان خود پہ قابو رکھے اپنی محبت کو بے آبرو نا کرے ۔ محبت کے نام پہ بہت سی لڑکیوں کو بے آبرو کردیا جاتا ہے جب نکاح نہیں کرسکتے زنا بھی مت کریں ۔ یہ کیسی محبتیں ہیں؟؟ محبت تو عزت دینے کانام ہے کوشش کی جاتی ہے جس سے محبت ہو اسکو عزت دی جائے بے آبرو نا کیا جائے ۔ زمانے بھر میں محبت کو رسوا کرنے والے محبت کے طلب گار ہو ہی نہیں سکتے۔ محبت نہ تو وقت گزاری کا نام ہے نا ضرورت کا ۔لازمی نہیں جن سے محبت ہو انکو پا لیا جائے سچی محبتیں میں زیادہ ادھوری ہی دیکھی ہیں ۔ جو نہیں مل پاتے انکو میں ایکدوسرے کے نام پہ جیتے دیکھامحبت تب کرنا جب عزت دینا سیکھ جائیں نام کی محبتیں بے آبرو کر دیتی ہیں۔ محبت کے نام پہ نا جائز کام کروائے جاتے ہیں اگر آج آپ کسی کے ساتھ برا کریں گے آپ کے حصے میں بھی وہی کچھ آئےگا ۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں بہن بھائی کے رشتے کو بھی بے آبرو کر رکھا ہے کہتے بہن ہیں پھر نیت خراب رکھتے ہیں۔ بہن کہنا مطلب گھر میں موجود بہنوں جیسی عزت دو صرف منہ سے بہن کہنے والے اور بعد میں کچھ اور کہہ دینے والے بے شرم ہوتے ہیں پاک رشتوں کو بے آبرو کرنے والے عزت دار نہیں ہوسکتے حدود میں رہنا سیکھے جس کو بہن بولا ہے اسکو دل سے عزت دیں بہن کو دوست کہنا اور پھر حدود پار کرنا ہمارا مذہب اسلام تو ایسے نہیں سیکھاتا عزت دار لڑکیوں کے لیے میرا پیغام ہے ایسے مردوں سے دور رہیں ۔ اور مرد حضرات برائے مہربانی کسی کو بے آبرو ناکریں نا محبت کے نام پہ نا کسی اور جھانسے میں ۔
    محبت کرنے والا تم سے نکاح کرے گا اگر کسی مجبوری میں یہ ممکن نہیں پھر بھی وہ تم کو بے آبرو نہیں کرے گا ۔
    ایسے مرد حضرات پہ ہرگز یقین کر کے اپنی دہلیز پار مت کرنا جن کو عزت دینا نہ آتی ہو داغ کا دھبہ عورت کے کردار پہ ہی لگتا ہے چاہے قصور ہو یا نہ ہو ۔ اپنی عزت اللّلہ کے بعد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔کسی بھی نا محرم رشتے پہ اندھا بھروسہ کر کے خود کو نقصان نہ پہنچائیں ۔کچھ مرد حضرات آپکو بہت عزت دیں گے پھر وہی تمھاری عزت کو داغ دار کر دیں گے اکیلے ملنا حد سے زیادہ خطرناک ہے بہت سے واقعات رونماں ہوتے دیکھے ہیں عزت دینے والا کوئی نا جائز مطالبہ نہیں کرتا ۔ عورت کا ہمارے معاشرے میں محبت کرنا بھی گناہ ہے جبکہ مرد جو بھی کرئے اسکی عزت پہ داغ نہیں لگتا کیونکہ وہ مرد ہے ۔
    اسیر محبت میں نہ کر خود کو رسوا ۔ توڑ دے وہ زنجیر جس میں توں ہے جھکڑا۔
    بناصرف اسی کو توں اپنا جو سیکھائے عزت میں کیسے رکھتے ہیں مان اپنا ۔

    @Hu__rt7

  • گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔  تحریر زولفقار علی۔

    گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ تحریر زولفقار علی۔

    بدھ مت نے ہندو مذہب سے جنم لیا اور ہندوستان نے دنیا کو یہ مذہب دیا۔ سال 563 قبل مسیح میں سدھودنا سے پیدا ہونے والا بیٹا۔ اس کا نام سدھارتھا تھا اور بعد میں اسے گوتم بدھ کہا جانے لگا۔ اسوکا جس نے برصغیر پر C 268 سے 232 قبل مسیح تک حکومت کی بدھ مت قبول کیا اور ایک پرجوش بدھسٹ بن گیا۔ اس کی تبدیلی کے بعد اس نے بدھ مت کو سرکاری مذہب کے طور پر اپنا لیا۔ اس نے پڑوسی ممالک میں مشنری بھیجے اور یہ اشوک (269-232 بی سی) کے زمانے میں تھا جب خانقاہوں اور ستوپوں جیسی عمارتیں کھڑی کی گئیں اور پتھروں پر بدھ کی تصاویر بھی بنائی گئیں۔ اشوک کے زمانے میں جس نے گلگت اور کشمیر کے درمیان راستہ کھولا اور گلگت بدھ مت اور بدھ بھکشوؤں کا مرکز بن گیا۔.یہ شاہراہ ریشم تھی جو بدھ مت کو ہندوستان سے چین لے گئی۔ بدھ مت پہلی صدی عیسوی میں چین پہنچا۔ شہنشاہ منگ تی کے زمانے میں مختلف ایلچی بھارت بھیجے گئے تھے تاکہ بدھ مت سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اس وقت کے دوران حجاج چین سے اپنے اصل ماخذ ، صحیفوں اور مقدس مقامات کی تلاش میں ہندوستان جانے لگے اور شاہراہ ریشم کے ذریعے مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے قراقرم کو عبور کیا اور پامیر گندھارا سے گزرتا ہے کیونکہ یہ بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے دوسری مقدس سرزمین تھی۔گندھارا بدھ مت سیکھنے کی جگہ بن گیا۔ گندھارا اور کشمیر سے بدھ مت گلگت اور سکردو میں داخل ہوا۔ بدھ مت تقریبا 200 C اور 100AD یا C150BC کے درمیان گلگت آیا۔ جان بڈلوفا کے مطابق بدھ مت کے نروان کے بعد تقریبا 150bc قبل مسیح یا تین سو سال بعد اس خطے میں آیا۔ کچھ مشہور چینی زائرین/راہبوں کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ انہوں نے گلگت کے ذریعے اڈیان (سوات) کا دورہ کیا ہے۔
    یہ شاہراہ ریشم تھی جو بدھ مت کو ہندوستان سے چین لے گئی۔ بدھ مت پہلی صدی عیسوی میں چین پہنچا۔ شہنشاہ منگ تی کے زمانے میں مختلف ایلچی بھارت بھیجے گئے تھے تاکہ بدھ مت سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اس وقت کے دوران زائرین نے اپنے اصل ماخذ ، صحیفوں اور مقدس مقامات کی تلاش میں چین سے ہندوستان کا سفر شروع کیا اور شاہراہ ریشم کے ذریعے مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔فا ہین نے اپنا سفر 400 عیسوی کو شروع کیا اور گلگت کے راستے ٹولی (چلاس کی وادی دریل) سے اڈیان (سوات) میں داخل ہوا۔ اس نے گلگت اور آس پاس کے علاقوں میں بدھ مت کو پھلتا پھولتا پایا۔ سانگ یون تاشکورگن سے مسگر گاؤں میں داخل ہوا (ہنزہ) اڈیان (سوات) اور گندھارا گیا۔ ایک اور چینی مسافر اور راہب چی مونگ نے پامیر پار کیا گلگت کا سفر کیا اور برزیل پاس سے کشمیر میں داخل ہوا۔ ایک اور چینی راہب فو ینگ نے پامیر سے یہی راستہ اختیار کیا۔ آٹھویں صدی کے آخر میں حاجی ایلچی وو کانگ نے یاسین اور گلگت کے راستے پر چل کر انڈس اور اڈان تک رسائی حاصل کی۔ گلگت روٹ برصغیر اور چین کے درمیان ایک اہم رابطہ تھا۔ منٹاکا ، کلک ، قراقرم ، درکوٹ ، بروگھیل اور پامیر پاس برصغیر کے داخلی راستوں پر تھے۔ چٹان کندہ کاری اور نقش و نگار شاہراہ قراقرم کے ساتھ شتیال (کوہستان ، کے پی کے) سے چلاس (گلگت بلتستان) تک پھر گلگت اور ہنزہ ندیوں کے سنگم پر مرکوز ہیں۔ کچھ نقش و نگار جدید زمانے تک پہلی صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔
    جاری ہے

  • وزیراعظم آزاد کشمیر کی آرمی چیف سے ملاقات

    وزیراعظم آزاد کشمیر کی آرمی چیف سے ملاقات

    سردار عبدالقیوم نیازی ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر (اے جے اینڈ کے) نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی صورتحال بشمول مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی یکطرفہ اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے سید علی گیلانی کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے ان کی تاریخی اور بے لوث جدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا آرمی چیف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو فوج کی مکمل حمایت اور کشمیر کاز اور کشمیری عوام کے ساتھ وابستگی کا یقین دلایا۔

    پاکستان میں کورونا کے باعث مزید 79 اموات

    ملاقات میں آرمی چیف نے وزیراعظم (اے جے اینڈ کے) کو ان کی نئی تقرری سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کشمیر کے خطے کی خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی نےآزاد کشمیر میں سلامتی اور ترقی کے لیے فوج کی شراکت کو سراہا۔

  • خوش رہیں اور خوشی پھیلائیں تحریر:نثاراحمد


    خوش رہو اور خوشی پھیلاؤ یہ ایک ایسا فارمولا ہے جس پر عمل کیا جائے تو بہت ساری پریشانیوں کا خاتمہ ہمارے معاشرے سے خود بخود ختم ہو جائے گا۔ دنیا کا ہر انسان خوشی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ بعض کو دوسروں کی مدد کرنے میں خوشی ملتی ہے تو بعض کو دولت وثروت میں، غرضیکہ مختلف مختلف چیزوں سے بنی نوع انسان کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مگر ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ ہماری خوشی کا راستہ کسی کا دل توڑتے ہوئے تو نہیں گزر رہا۔ مثلاً اگر کسی کی خوشی دولت حاصل کرنے میں ہے تو ٹھیک ہے، لیکن دولت صحیح طریقے سے حاصل کرنا چاہیے نہ کہ کسی غریب کا مال غصب کرکے کیوں کہ آپ کے چند سکوں کی وجہ سے کسی غریب کا پورا گھر تباہ ہو سکتا ہے۔
    غصب کیے ہوئے ان چند سکوں سے آپ کو وقتی خوشی تو حاصل ہو سکتی ہے لیکن دایمی نہیں۔ کیوں کہ اس غریب کے دل سے نکلی ہوئی آہ آپ کے پورے وجود کو تہ و بالا کر دے گی یوں ہی جب ہم جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو طرح طرح کی گھناؤنی چیزوں میں خوشی تلاش کرتے ہیں، جو در اصل نفس کی پیروی ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ہے دوسرے کا مذاق کے نام پر دل آزاری کرنا عام طور پر چند دوستوں کے ایک گروپ میں کسی کو منتخب کر کے اس کی خوب دل آزاری کی جاتی ہے اور اس کو مذاق کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو اصل میں مذاق نہیں دل شکنی ہوتا ہے۔ کیوں کہ مزاح تو وہ ہوتا ہے جو دل کو برا نہ لگے۔ کسی کا دل ریزہ ریزہ کر دینے کو مزاح نہیں دل آزاری کہتے ہیں۔
    اس طرح کسی کا مذاق بنا کر لہو و لعب کے طور پر دل دکھا کر ہم خود تو خوش ہو جاتے ہیں، لیکن جس کا مذاق بنایا جا رہا ہے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ کیوں کہ اگر دریا میں پتھر مارا جاۓ تو ہم اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ پتھر کتنی گہرائی میں گیا ہے بسا اوقات بعض لوگوں کی اس مذموم حرکت کی وجہ سے پریشان ہو کر کئی لوگ ذہنی بیماری کا شکار ہو کر خود کشی جیسے قبیح فعل کا اقدام بھی کر لیتے ہیں۔ لہذا ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ہماری خوشی کا راستہ کسی کے دل کو چھلنی کرتے ہوئے نہ گزرے۔ قرآن و حدیث میں دوسروں کی دل آزاری کرنے سے سخت منع کیا گیا ہے چناں چہ قرآن پاک میں ہے اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کیے ستاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے ۔(پ،۲۲ الاحزاب) اور حدیث پاک میں ہے تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کروگے۔
    اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاج کا حامل بنایا ہے۔ کوئی سخت مزاج ہوتا ہے تو کوئی نرم مزاج۔ کوئی چڑچڑا تو کوئی پر سکون۔ اسی طرح قوت برداشت بھی انسانوں میں مختلف طور پر ہوتا ہے۔ کسی میں زیادہ تو کسی میں کم جس میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ ہر جگہ فٹ ہو جاتا ہے لیکن جس میں کم ہوتی ہے اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور زیادہ تر وہ تنہائی میں رہنا پسند کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے ذہنی بیماری depression کا شکار ہو جاتا ہے عام طور پر لوگ اس موضوع پر گفت و شنید سے پرہیز کرتے ہیں اور اسے برا گمان کرتے ہیں جو کہ غلط ہے دیگر بیماریوں کی طرح depression بھی ایک بیماری ہے جس کے شکار بہت سارے لوگ ہو جاتے ہیں اور treatment احتیاطی تدابیر کے بعد بالکل ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں ہمارے آس پاس میں بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو depression کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن اپنی پریشانی کسی کے سامنے پیش نہیں کرتے اگر آپ کو کوئی ایسا شخص ملے تو اس کا خاص خیال رکھیں اس سے باتیں کریں اس سے نکلنے میں اس کی مدد کریں ہندوستان میں روز بہت سارے لوگ ذہنی بیماری ڈپریشن کی وجہ سے اپنی جان تلف کر لیتے ہیں۔ جس کے قصوروار ہم سب ہیں اگر ہم ایسے لوگوں کی مدد کریں ان کی باتیں سنیں ان کی درد پر مرہم رکھنے کی کوشش کریں تو بہت ساری جانیں ہم تلف ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
    اگر اصل خوشی کی بات کی جائے تو وہ دوسروں کو خوش کرنے میں ہے کیوں کہ اگر آپ کسی کی ہونٹوں پر مسکان کی وجہ بن رہے ہیں تو واقعی آپ ایک بہترین انسان ہیں خواہ وہ مدد کے ذریعہ ہو،دل جوئی کے ذریعہ ہو، خدمت کے ذریعہ ہو یا کسی بھی طرح سے ہو کیوں کہ جس دن ہم دوسروں کی خوشی سے خوش ہونے کا ہنر سیکھ لیں گے اس دن خوشی ہمارے دامن سے ایسے لپٹ جائے گی کہ ہم چاہ کر بھی اسے خود سے جدا نہیں کر پائیں گے۔
    انسان اور خصوصاً مسلمان ہونے کے لحاظ سے ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم دوسروں کی راحت کا خاص خیال رکھیں مشکل حالات میں دوسروں کے کام آئیں کسی بھی حال میں کسی کو تکلیف نہ دیں دوسروں کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اپنے باہمی تعلقات ملنساری،نرمی حسن اخلاق خیر خواہی اور عاجزی پر استوار کریں۔ معاشرے میں شفقت و محبت،ہمدردی، بھائی چارہ کو فروغ دینے کی کوشش کریں اسلام نے ہمیں انہی چیزوں کا حکم دیا ہے بے جا شدت ، لوگوں کی دل آزاری، سختی، لڑائی جھگڑا، نفرت و عداوت،بغض و کینہ اور ان جیسے تمام امور سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا آئیے آج سے ہم سب یہ عہد کرتے ہیں کہ خوش رہیں گے اور خوشی پھیلائیں گے۔اپنے ملنے جلنے والے دوست و احباب کا خاص خیال رکھیں گے اور ان کی باتیں سن کر ان کی پریشانیوں کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

    ‎@Nysar7

  • دھوکہ منڈی ڈاٹ کام تحریر ؛ علی خان

    دھوکہ منڈی ڈاٹ کام تحریر ؛ علی خان

    ڈبا تو آرڈر کردہ کواڈ کاپٹر یعنی ڈرون کا ہی تھا لیکن  اس کے اندر  کاغذ بھرے ہوئے تھے ۔ منظر تھا سوشل میڈیا پر موجود ویڈیو کا جس میں گلگت سے تعلق  رکھنے والے تین بچے پاکستان کی سب سے بڑی آن لائن شاپنگ سائٹ سے منگوائے جانے والے ڈرون کی "ان باکسنگ "کررہے تھے ۔  بچوں نے ویڈیو شروع تو جوش اور ولولے سے کی لیکن اختتام پر خالی ڈبہ دیکھ انکے منہ اتر  سے گئے۔ ننھے ولاگر کے الفاظ  "فراڈ ہے یہ سب” اس المیے کی نشاندہی کررہے تھے جو ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی وجود میں آیا تھا۔ آن لائن فراڈ کا یہ کیس کس طرح اختتام پذیر ہوا اور ویڈیو وائرل ہونے پر کمپنی کی جانب سے  بچوں کو تحفے  دے کر کیسے اپنے ساکھ بہتر کرنے کی کوشش کی گئی وہ ایک علیحدہ قصہ ہے

    یہ تو حال ہے پاکستان کی سب سے بڑی اور ملٹی نیشنل کمپنی کی ملکیت سائٹ کا جہاں داد رسی کا کچھ موقع موجود ہوتا ہے۔ دوسری جانب  کسی بھی آن لائن  اسٹور ، ویب سائٹ یا  اپیلی کیشن سے خریدی کسی چیز میں کوئی خرابی نکل آئے ، وہ چیز جعلی نکل آئے یا پھر ڈبا خالی ہی نکل آئے تو پھر صبر کرنا ہی واحد حل رہتا ہے۔ دنیا بھر میں آن لائن  شاپنگ کی ویب سائٹس اور اسٹوروں پر کڑے قوائد و ضوابط لاگو ہوتے ہیں۔ ٹیکس نظام سے منسلک ہونے کے باعث خرید و فروخت کا ریکارڈ  قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس بھی ہوتا ہےلیکن وطن عزیز میں تو پھر "سب چلتا ہے”

    سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور ایلیکشنز  مصنوعات کے اشتہارات سے بھری ہوتی ہیں۔ یہاں کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، اشیائے ضروریہ، اشیائےتعیش،  الیکترک سے الیکٹرانک اور سکیورٹی سے سجاوٹ تک ہر قسم کی مصنوعات ملتی ہیں۔ ان کے درمیان ہی فراڈ کرنے والے افراد موجود ہوتے ہیں۔ ایسی فراڈ ویب سائٹس  اور ویب پیجز کا نام اور ڈیزائن معروف سائٹس اور پیجز سے مشابہ رکھا جاتا ہے۔اصل مصنوعات کی تصاویر ایڈٹ کرکے لگائی جاتی ہیں تو صارف دھوکا کھا جاتاہے ۔ دیدہ زیب ڈیزائن والی گھڑی صارف تک پہنچنے پر  50 روپے درجن والی نکلتی ہے۔  خوبصورت شرٹ لنڈے کا مال نکلتی ہے اور چمڑے کا بیلٹ گھٹیا پلاسٹک کا پٹا ہوتا ہے

    یہ فراڈ اور دو نمبری کا سلسلہ یہیں نہیں رکھتا بلکہ زیادہ کمائی کے لالچ میں  ایسے فراڈئیے بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی یہ دھندا شروع کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور  ملک و قوم کے نام کو بٹا لگاتے ہیں۔ انہی وجوہات کے بنا پر بہت سی آن لائن ادائیگی کی کمپنیاں آج بھی پاکستان کا رخ کرنے سے کتراتی ہیں۔ اس سب فراڈ میں کچھ سہولت کورئیر کمپنیاں بھی فراہم کرتی ہیں جو بغیر اتے پتے کے مشکوک پیکٹ صارف تک پہنچاتی ہیں اور کیش آن ڈیلیوری کرنے والا صارف بعد میں سر پیٹنے کے سوا کچھ نہیں کرپاتا۔  ایسے فراڈ عموماً سیکڑوں  اور ہزاروں میں کیے جاتے ہیں تاکہ صارف قابل برداشت   ہونے کے باعث نقصان پر صبر کرلے اور قانونی چارہ جوئی نہ کرے۔ اگر کوئی کوشش کربھی لے تو رقم کم ہونے کے باعث قانون نافذ کرنے والے ادارے ذمہ دار تک پہنچنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے

    اس میں کوئی شک نہیں کہ آن لائن کاروبار سے کرونا میں  معیشت کا پہیا رواں رکھنے میں مدد ملی ہے اور   مصروف افراد کو بازار جانے کی زحمت سے چھٹکارا ملا ہے۔ خواتین گھر بیٹھے ہر چیز آرڈر پر منگوا سکتی ہیں  اور  بہت سی  مشکلات سے بچ جاتی ہیں۔  لیکن یہ سب سہولیات اور آسانیاں حاصل کرنے میں آن لائن فراڈئیے  بڑی رکاوٹ ہیں ۔ اس کے سدباب میں صارف تنظیموں کو بیدار ی مہم شروع کرنے  کی ضرورت ہےتاکہ ہر آن لائن کاروبار کی رجسٹریشن اور کا سلسلہ شروع ہوسکے۔ صارفین بھی خریداری کرتے وقت کم قیمت یا  پرکشش فیچرز کے جھانسے میں نہ آئیں اور ویب سائٹ یا سیلر کے اصلی ہونے کی تسلی کرنے کے بعد ہی آرڈر کریں۔  فراڈ ہونے کی صورت میں فراڈ کرنے والےشخص کا نہ صرف اکاونٹ بند کروایا جائے بلکہ سزا  اور جرمانہ بھی ہونا چاہیے۔ رقم کم ہو یا زیادہ،  فراڈ کو فراڈ ہی سمجھا جائے تاکہ ایسے عناصر کا سدباب ہو اور صارفین مکمل اعتماد کے ساتھ ٹیکنالوجی کی نعمت کافائدہ اٹھا سکیں

     

    @hidesidewithak

  • سوشل میڈیا اور قومی ذمہ داری تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سوشل میڈیا اور قومی ذمہ داری تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

     
    یہ بات ایک حقیقت بن چکی ہے کہ دور جدید میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ اب سوشل میڈیابعض مقامات پر کسی بھی خبر سے متعلق پہلا ذریعہ تصور کیا جانے لگا ہے۔یہاں تک کہ مین اسٹریم میڈیا اور نیوز چینلز بھی سوشل میڈیا کو بطور پرایمری سورس استعمال کرر ہے ہیں۔ زمانہ کی تبدیلیوں اور گلوبل ولیج کے تصور کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے معاشروں پر اپنے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس بات میں کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ عالمی استعمار کی ایک کوشش یہ بھی رہی ہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق سافٹ وئیرز اور نت نئی ایپلیکیشنز کی ایجاد کے پس پردہ مقاصد میں دنیا کی قوموں اور اذہان کو کنٹرول کرناہے۔حقیقت یہی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عالمی استعماری نظام اور قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ دنیا کی دیگر قومیں ان کے سامنے محکوم رہیں۔عالمی استعمار کا سب سے بڑا ہدف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو بطور آلہ یا ہتھیار استعمال کر کے یہ جاننا چاہتا ہے کہ دنیا کی دیگر اقوام کے سوچنے کا طرز کیا ہے؟ یا یہ کہ اقوام کا طرز تفکر کیا ہے اور اسے استعماری قوتیں اپنے مفادات کے لئے کس طرح تبدیل کر سکتی ہیں۔اس مقالہ میں نہ تو سوشل میڈیا کے فوائد کی لسٹ بیان کی جا سکتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے استعمال کے نقصانات کی فہرست بیان کرنا مقصود ہے۔
    موجودہ حالات کے تناظر میں کہ جب پاکستان ایک ایسے حساس دور سے گزر رہا ہے کہ جب اندرونی اور بیرونی دشمن ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی موقع بھی ہاتھ سے خالی نہ جانے دیا جائے۔ ایک طرف عالمی استعمار بالخصوص امریکی نظام حکومت ہے کہ جس کا مقصد ہمیشہ سے پاکستان جیسے ممالک کو کمزور کرنا ہی رہا ہے تا کہ اس بہانے سے ہی پاکستان اور ایسے دیگر ممالک پر براہ راست فوجی تسلط یا بالواسطہ تسلط حاصل رہے۔لہذا امریکہ پاکستان کا ایک ایسادشمن ہے کہ جس نے دوست کا لباس پہن رکھا ہے۔امریکہ کے ساتھ ساتھ اس کی ناجائز اولاد اسرائیل ہے کہ جس کا نظریاتی دشمن ہی پاکستان ہے۔ اب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ اہداف کا جائزہ لیا جائے تو دونوں کے لئے ہی پاکستان مہم ہے۔ دونوں ہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ان کا اثر ونفوذ بڑھ جائے۔ ویسے تو امریکہ اور اسرائیل کے پاکستان کے خلاف کئی ایک مذموم عزائم ہیں لیکن ایک سب سے بڑا ناپاک منصوبہ جس کے لئے ہمیشہ دونوں ہی سرگرم عمل رہتے ہیں وہ مسلم دنیا میں پاکستان کی طاقتور اور باصلاحیت افواج کو کمزور کرنا ہے۔ ماضی میں لکھے گئے کئی ایک مقالہ جات میں اس کی تفصیلات بھی بیان کی جا چکی ہیں۔ امریکہ سمیت اسرائیل اور دیگر دشمن طاقتیں یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ کسی بھی مسلم دنیا کے مضبوط ملک کو اگر کمزور کرنا ہے یا اس کے خلاف سازش کرنا ہے تو پہلے اس کے سب سے مضبوط اور آہنی ستون یعنی فوج پرحملہ کیا جائے۔ موجودہ دور میں حملہ سے مراد کوئی فوجی اور عسکری حملہ نہیں ہے بلکہ ایسا حملہ ہے کہ جس کے ذریعہ لوگوں کے اذہان کو تبدیل کیا جائے۔لوگوں کے دلوں میں اپنے ہی وطن کی افواج اور رکھوالوں کے خلاف زہر گھول دیا جائے تا کہ جب دشمن کاری ضرب لگانے کے لئے تیاری کرے تو اس ضرب کو روکنے والی فرنٹ لائن قوت ہی ناکارہ ہو چکی ہو۔ یہی کام امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کی حواریوں نے مسلم دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص شام، عراق، لیبیا اور مصر سمیت دیگر ممالک میں انجام دیا اوربعد ازاں اپنے من پسند عزائم کی تکمیل کو پروان چڑھایا۔
    حالیہ دور میں دشمن اپنے اسی منصوبہ کی تکمیل کے لئے سب سے زیادہ جس ہتھیار کا استعمال کر رہاہے وہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔سوشل میڈیا پر نوجوانوں ک اذہان کو خراب کرنے اور انہیں اپنے ہی ملک و قوم اور افواج کے مقابلہ پر لا کھڑا کرنے کے لئے جو ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے وہ سوشل میڈیا ہی ہے۔اسی سوشل میڈیا پر بھارت، یورپی ممالک اور کچھ عرب ممالک سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ یہ منفی پراپیگنڈا ایسے اوقات میں شدت اختیار کر لیتا ہے جب ملک ک ی اندرونی سیکورٹی سے متعلق حالات تبدییل ہو رہے ہوتے ہیں۔یا اس طرح کہہ لیجئے کہ جب سیکورٹی فورسز غیر ملکی ایماء پر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کے خلاف کاری ضرب لگانا شروع کرتے ہیں تو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے، لسانی اختالافات کو ہوادینے سمیت افواج پاکستان کے خلاف منفی اور غلیظ زبان کا استعمال کرنے میں یورپی ممالک سمیت بھارت، دبئی اور کچھ عرب ممالک سے نیٹ ورکنگ کے تانے بانے ملتے ہیں۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی ماضی کی حکومت ہو یا موجودہ حکومت ہو ابھی تک ملک کے اندر سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جب بھی سوشل میڈیا کے بارے میں کنٹرول کرنے کی بات کی جاتی ہے تو سوشل میڈیا کے موجد مغربی ممالک سب سے پہلے پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر حملہ جیسے نعروں کا واویلا شروع کرتے ہیں۔حالانکہ خود ان مغربی ممالک کی حالت دیکھی جائے تو وہاں سی این این جیسے خود کے نیوز چینل کو بھی بند کر دیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی آزادی اظہار پر قد غن کا نعرہ بلند کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔
    دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جن ممالک سے پاکستان میں آگ بھڑکانے کی سرگرمیاں نظر آتی ہیں خود ان ممالک کی حکومتوں نے اپنے ملک کی اندرونی سیکورٹی صورتحال کو بہتر رکھنے کے لئے کئی ایک رکاوٹی نظام متعارف کروا رکھے ہیں۔ خود بھارت کی بات کریں تو بھارت میں کسی بھی سوشل میڈیا کے سافٹ وئیر اور ایپلیکیشن کے ادارے کو اس وقت تک بھارت میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ جب تک اس کمپنی کا آفس بھارت کے اندر سے کام نہ کرے اور اس کمپنی کا ایک نمائندہ بھارت میں موجود نہ ہو۔ اسی طرح عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دیگر چند عرب ممالک میں سوشل میڈیا کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد ہیں۔باہر سے جانے والے مسافر یا عارضی طور پر رہائش رکھنے والے باقاعدگی سے کسی بھی طرح کا سافٹ وئیر آزادانہ استعمال نہیں کر سکتے۔
    ان تمام باتوں کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ معاشرہ کو جدید طرز فکر س ے دور کر دیا جائے یا سوشل میڈیا کا استعمال نہ کیا جائے۔البتہ ان باتوں کو بیان کرنے کے اہم مقاصد میں سب سے پہلا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان او ر ذی شعور طبقہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کو عاقلانہ انداز میں استعمال کرے اور نیچے دوسروں لوگوں تک اس کی ترغیب دے۔ اسی طرح ان باتوں کو بیان کرنے کا دوسرا اور سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ سوشل میڈیا کو مادر پدر آزاد رکھنے کی بجائے اپنے قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ضروری پابندیاں یا کچھ روک تھام کی ضرورت ہو تو ایسے اقدامات سے ہر گز گریز نہ کیا جائے۔دور جدید کے سیاسی نظام کا یہ تقاضہ ہے کہ ہر ملک اور ریاست اپنے قومی اور مشترکہ مفاد کے لئے ایسی پالیسیوں کو ترتیب دیتے ہیں کہ جو ریاست کے مفاد اور عوامی مفاد میں ہو۔ اس کام کے لئے اگر وقتی طور پر قانون سازی کی ضرورت بھی ہو تو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کی جائے۔ان اقدامات سے جہاں معاشرے میں بڑھتے ہوئے بگاڑ کو روکنے میں مدد حاصل ہو گی وہاں ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی مدد بھی ہو گی کہ جو فرنٹ لائن پر نہ صرف عسکری جہاد میں مصروف عمل ہیں بلکہ سرحدوں کے اندر بھی دشمن کی گھناؤنی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے دن رات چوکس رہتے ہوئے خدمات انجام دیتے ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور عوام الناس کو با شعور کرنا ہر ذی شعور پاکستانی شہری کی قومی ذمہ داری ہے اور ہم سب کو مل کر اس قومی ذمہ داری کو انجام دینا ہو گا اور وطن عزیز کے لئے ایک روشن مستقبل کی بنیاد ڈالنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔