Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حب وطنی کی خواہش تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    حب وطنی کی خواہش تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    حب وطن کے معنی ہیں اپنے وطن سے محبت کرنا اور وطن کی بھلائ اور بہتری کے لئے کوشاں رہنا یہ ایک قدرتی جزبہ یے جو پیدائشی طور پر ہر شخص کی جبلت میں شامل یے جومرتے دم تک اس کے ساتھ رہے گا اس جزبے کا نام محبت یے انسیت ہے ۔جو لوگ کسی ایک ہی مخصوص مقام یا مخصوص حدود اربعہ میں رہتے ہیں وہ ان کا وطن کہلاتایے۔۔ہس اپنے وطن سے اور اپنےوطن والوں سے محبت ایک قدرتی امر ہے ۔۔اگر یہ باہمی محبت ٹوٹ جائے تو دنیا والوں کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔۔
    حب الوطن ایمان کا حصہ ہے اور اس کی صحیح قدرو قیمت کا اندازہ ویی شخص کر سکتا یے جو اپنے وطن سے دور اپنے بچوں کی خوشیوں کی خاطر
    غریب الوطنی میں دھکے کھا رہا ہو انسان کسی دوسرے ملک میں خواہ کتنا ہی ترقی کر لے اور کتنا ہی امیر کبیر ہو جائے اور وہاں کام کے عیوض بھلے کتنا ہی خوشحال کیوں نہ ہو جائے پھر بھی وطن کی یاد اسے بے چین کر دیتی یے وطن کی زمین کا ایک ایک زرہ اسے تڑپاتا ہےاسے اپنا گھر۔ محلہ۔ گلی۔ دوست سب یاد آتے رہتے ہیں اس ماحول سے مانوسیت کے سبب پیارجاگتا رہتا ہے اسے وہیں راحت ملتی ہے اس کی نگاییں وہیں لگی رہتی ہیں چایے گاوں ہو یا قصبہ یا شہر اور چاہے کچے گھر ہوں یا پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے بچپن کے دوست۔۔ وطن کی حقیقی محبت کا تقاضہ ہے کہ انسان اپنے ہم وطنوں کی خیر خواہی اور فلاح بہبود کے لٙئے دل و جان سے کوشش کرے ۔کوئ بھی ایسا کام نہ کرے جس سے ملک کی بدنامی ہو اور ہمہ وقت ملک میں ہر سطح پر بہتری کی کوشش جاری رکھنی چاہئے یہاں تک کے ملک میں ہونے والے انتخابات میں بھی ایماندار اور مخلص لوگوں کا چناو کرے اور اپنی ذات سے ملک کی معاشرتی اور معاشی وسائل کو ترقی دے۔۔کوشش کرے کہ زاتی اغراض سے بے نیاز رہے۔۔ وطن کے دشمنوں کے خلاف صف آراء ہوکر اپنا خون بہانے سے بھی دریغ نہ کرے کیونکہ جس ملک کے باشندوں میں حب الوطنی کا جزبہ پورا یے وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے اسکی صنعت و حرفت ترقی کرتی یے اور دوسرے ممالک میں اس کا اعتبار بڑھتا ہے۔
    وطن سے مجبت نہ کرنے والا شخص غدار یے۔بعض اوقات ایک وطن فروش غدار کی غلطی کا خمیازہ تمام قوم کو بھگتنا ہوتا ہےماضی میں کئ مثالیں موجود ہیں جیسے”میر جعفر” نواب سراج الدولہ کی فوج میں ایک سردار تھا۔ بعد میں ترقی کرتے ہوئے سپہ سالار کے عہدے تک پہنچ گیا یہ نہایت بد فطرت آدمی تھا۔ اس کی نگاہیں تخت بنگال پر تھیں اس نے نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے ان کی شکست اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا جس کے بعد بنگال پر انگریزوں کا عملاً قبضہ ہو گیا اب اس ایک شخص کی غداری نے پورے بنگال پر انگریزوں کا قبضہ کروا دیا ۔اسی طرح کی ایک تاریخی مثال "میر صادق” ہے جوریاست حیدرآباد دکن کا ایک شہری تھا۔ یہ ٹیپو سلطان کا معتمد خاص تھامیر صادق کے بارے میں یہ مصدقہ بات ہے کہ اس نے ٹیپو سلطان سے غداری کی اور سلطنت برطانیہ کا ساتھ دیا اس کی ہی سازشوں سے "شیر میسور” کو جام شہادت پینی پڑی اور پوری قوم شکست خوردہ ہوئ۔
    حکیم الامت، علامہ محمد اقبال اپنے ایک فارسی شعر میں کہتے ہیں !
    "جعفر از بنگال و صادق از دکن،ننگِ ملت، ننگِ دین، ننگِ وطن”
    یعنی بنگال کا جعفر اور دکن کا صادق ملت اسلامیہ کیلئے باعث ننگ ، دین اسلامی کے لئے باعث عار اور وطن کے لئے باعثِ شرم ہیں۔
    اسی طرح کے میر جعفر اور میر صادق آج بھی آپ کو ملیں گے جو رہتے تو پاکستان میں ہیں لیکن کام وہ اپنے ملک دشمن آقاوں کے لئے کرتے ہیں جن کا یہ کام ہے کہ اس ملک کی محب وطن قوتوں کو سبوتاژ کرتے رہنا ۔۔کیا ہمارے سامنے ماضی کی حکومتوں کا کردار نہیں ہے جن کے ایک ایک عمل نے پوری دنیا میں ملک کی عزت و توقیر کو نقصان پہنچایااورہمیں ایک مفلس اور مقروض ملک بنا کے رکھ دیا اور اب جب کہ کوئ محب وطن قیادت آئ ہے تو اسے بھی اپنے منفی پروپیگنڈے کی بھینٹ چڑھا کر دشمن کے بیانیہ کو فروغ دے رہے ہیں۔۔
    ۔یاد رکھو دوستو
    حب وطن کا نتیجہ آزادی اور جمہوریت ہے حب الوطنی ایک آگ ہے جب وہ بھڑکتی ہے تو انسان تن من دھن اور اہل و عیال کی بھی پرواہ نہی کرتااور دیوانہ وار وطن عزیز پر نثار ہو جاتا ہے اور انسان کا دل شجاعت اور بہادری کے جزبے سے لبریز ہو جاتا ہے کاش ہم پاکستانی اس جزبہ کو اپنائیں اور ملک وقوم کی بہتری کے لئے شب وروز ایک کر دیں اور اپنی صفوں سے غدار وطن کا صفایا کر نے کے ساتھ ساتھ ملک سے ہر اخلاقی بیماری کا خاتمہ کریں تاکہ پاکستان اتنا مضبوط ہو جائے کہ پاکستان کے دشمن بری نظر اٹھانے کی بھی جراءت نہ کر سکیں اور ہمارا ملک خوشحال اور مضبوط ممالک میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔

    @Azizsiddiqui100

  • منشیات ایک زہر قاتل ہے تحریر:شمسہ بتول

    منشیات ایک زہر قاتل ہے تحریر:شمسہ بتول

    منشیات ایک زہر ہے جو کسی بھی قوم کی تباہی کے لیے کافی ہے۔منشیات کا استعمال کوئی نئی چیز نہیں ہے ، بلکہ یہ صدیوں سے عمل میں ہے منشیات ایک ناسور ہے جو کسی بھی قوم کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔ جدید دور میں منشیات ، تمباکو نوشی ، آٸس وغیرہ یہ تمام چیزیں سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں ۔ وہ تمام چیزیں ہیں جو بیزاری کی کیفیت پیدا کرتی ہیں وہ بھی ایک قسم کا نشہ ہے جیسے ہیروئن ، چرس ، الکوحل چارس ، نیند کی گولیاں وغیرہ۔
    پاکستان میں منشیات کی لت بڑھ رہی ہے۔ لوگ خاص طور پر ہمارے ملک میں ان کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ہمارے کالجز اور یونیورسیٹیز میں بھی کہیں نہ کہیں بہت سے سٹوڈنٹس انکا شکار ہو چکے ہیں اور اپنا مستقبل برباد کر رہے ہیں لیکن اگر یہ سب روکنے کے لیے ابھی سے اقدامات نہ کیے گۓ تو مستقبل میں مزید خطرناک نتاٸج سامنے آٸیں گے ۔ ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق، پاکستان میں ہیروئن کے عادی لوگوں کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر گٸی ہے جن میں زیادہ تر ہماری نوجوان نسل ہے ۔ صورتحال انتہائی تشویشناک اور غیر یقینی ہو گئی ہے۔
    ایک رپورٹ کے مطابق جب سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ تمباکو نوشی یا ڈرگز وغیرہ کا استعمال کیوں کرتے تو انکا جواب تھا کہ ہم ٹینشن اور ذہنی دباٶ سے نکلنے کے لیے ایسا کرتے لیکن دور حاضر میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں میں بھی منشیات کا استعمال ہو رہا ہے ایسے بہت سے کیسیز سامنے آٸیں ہیں نشہ میں مبتلا افراد کے بقول کہ ان کے لیے اس کے بغیر زندہ زندہ رہنا مشکل ہے ۔ نوجوان لڑکے منشیات کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ ان سب کی وجوہات بالکل واضح ہیں بے. روزگاری ، غربت ، استحصال ، خاندانی جھگڑے ، ناانصافی اور مایوسی کشیدگی میں اضافہ کی وجہ سے وہ اس راہ پہ چل پڑتےہیں ۔ یہ تمام مسائل انہیں ذہنی تناؤ کو دور کرنے کے لیے نشہ آور ادویات کے استعمال پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ منشیات انہیں عارضی اطمینان دیتی ہیں۔مگر رفتہ رفتہ وہ ان کے اندر سرایت کر جاتی جو کہ ایک زہر قاتل ثابت ہوتیں۔
    ماضی کے مقابلے میں ہمارے ملک میں ہر قسم کی ادویات آسانی سے دستیاب ہیں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے مافیا بہت آسانی سے اس زہر کو نوجوان نسل میں پھیلا رہا ہے۔ ڈرگ پیڈیارس ، اینٹی نارکوٹکس اور بہت سے کرپٹ لوگوں کی ملی بھگت سے ، نشہ آور چیزیں بے خوف فروخت کرتے ہیں یہ ان تمام غداروں کے لیے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے جو یہ منشیات فروخت کرتے ہیں۔ جسم اور روح پر ان منشیات کا اثر سحر انگیز ہے۔ یہ ہمارے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ سب سے پہلے یہ تپ دق (ٹی بی) کا سبب بنتا ہے۔ یہ کسی شخص کی عزت اور وقار کو کم کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے ہنسی کا سامان بن جاتا ہے۔ تیسرا ، منشیات کا عادی مجرم ، ڈاکو اور چور بن جاتا ہے۔ وہ منشیات حاصل کرنے کے لیے پیسے یا کوئی اور چیز چوری کرسکتا ہے کیونکہ اس کے لیے ایک دفعہ اس نشے کی لت لگ جانے کے بعد دوبارہ اس سے نکلنا بہت مشکل ہو جاتا وہ اپنا نشہ حاصل کرنے کے لیے حلال حرام اور صحیح اور غلط کے تمام فرق بھول جاتا ہے جو صرف اس کی زات کے لیے نہیں بلکہ اس کے ارد گرد کے افراد اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ منشیات کا سب سے اہم نقصان یہ ہے کہ یہ دوسری قوموں اور ملکوں کی نظر میں کسی ملک اور قوم کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    لہذا اس نازک صورتحال میں منشیات کے ہر قسم کے استعمال کو کچلنا بہت ضروری ہے۔ اسے کچلنے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ میڈیا کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے بڑے پیمانے پر میڈیا کو اس برائی کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنی چاہیے۔ کھیلوں ، سیاحت جیسی صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے ۔ والدین کو چوکس رہنا چاہیے اور اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے ان سے بات چیت کرنی چاہیے ایک دوسرے سے معاملات ڈسکس کرنے چاہیں۔ ان تمام اقدامات کے علاوہ سرکاری سطح پر بھی منشیات فروشی کو سختی سے کنٹرول کیا جانا چاہیے جو بھی ان میں شامل ہوں ان کے خلاف سخت کارواٸی عمل میں لاٸی جاۓ تا کہ دوسرے لوگ اس طرح کے کاموں میں نہ پڑے اور نشے سے چھٹکارا پانے کے لیے جو ادارے بناٸیں گے ہیں وہاں پہ بہتر اننتظامات کو ہر ممکن یقینی بنایا جاۓ بچوں میں سکول ، کالجز اور یونیورسیٹیز میں اس سے متعلق شعور اجاگر کیا جاۓان سب اقدامات کی بدولت ہی ہم اپنے معاشرے کو منشیات کی لت کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔

    @b786_s

  • پاکستان میں شہری کاری کا عمل   تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں شہری کاری کا عمل تحریر: زاہد کبدانی

    شہری کاری ایک عالمی رجحان ہے جس میں مختلف ممالک دیہی شہری نقل مکانی کے مختلف نرخوں اور نمونوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ پوری دنیا ایک شہری مرکز میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں پچھلے چند دہائیوں کے دوران زیادہ تر لوگ بڑے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ ہر قوم ، ہر شہر ، ہر فرد کسی نہ کسی طرح اس عمل میں شامل ہے۔ وسط صدی سے پہلے ، شہری ترقی زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک تک محدود تھی لیکن تب سے یہ ترقی پذیر ممالک میں پھیل چکی ہے۔ اب دنیا کے تقریبا تمام ترقی پذیر ممالک شہری کاری کے تیز عمل کا سامنا کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں ایشیا پیسیفک خطے میں شہری آبادی کی ایک معتدل سطح ہے ، دونوں کی بنیاد پر ، شہری کاری کی سطح اور شہری ترقی۔ تاہم جنوبی ایشیائی ممالک میں شہری علاقوں میں رہنے والوں میں پاکستان کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ اعداد و شمار 1 میں ، ہم شہری کاری کی سطح دیکھ سکتے ہیں جو آبادی کے سنس پر مبنی ہیں۔ سال 2005 شہری آبادی کی 35 فیصد کی تخمینی قیمت ظاہر کرتا ہے۔ 1951 سے 1998 کے دوران شہری آبادی 17.4 فیصد سے بڑھ کر 32.5 فیصد ہوگئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2030 تک آدھی آبادی شہری مراکز میں رہائش پذیر ہوگی۔

    بڑے پیمانے پر شہری کاری پرانے ڈھانچے کو توڑ رہی ہے جو ہمارے معاشرے میں بنیادی انقلاب کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان میں اربنائزیشن کی ترقی اربوں نئے شہریوں کی خواہشات اور امیدوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ایک سائیکلیکل عمل ہے جس کا ایک ملک تجربہ کرتا ہے کیونکہ یہ ایک زرعی سے ایک صنعتی معاشرے کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ معاشی طور پر پسماندہ علاقوں سے ہجرت کر کے ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں بہتر مواقع پیش کیے جاتے ہیں۔ چاروں صوبوں کے درمیان شہری آبادی پھیلا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ شہری صوبہ سندھ (کراچی اور حیدرآباد) ہے جس کے بعد پنجاب (لاہور ، فیصل آباد اور پنڈی) ہے جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا سب سے کم شہری ہے۔ قدرتی اضافہ (آبادی میں اضافہ) اور دیہی شہری نقل مکانی شہری ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ شہری کاری صنعتی کاری کا بہترین امتحان ہے ، پاکستان کی صورت میں شہری کاری معاشی ترقی سے باہر نکل گئی ہے۔ زیادہ شہری کاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ شہری سے دیہاتی کی طرف ‘کھینچنے’ کے مقابلے میں دیہی سے شہریوں میں زیادہ ‘دھکا’ ہے۔ بڑھتی ہوئی شہری کاری کے ساتھ مل کر ‘لائیو ایبلٹی رینکنگ’ میں اضافہ ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ تاہم موجودہ منظر نامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا تو ‘لائیو ایبلٹی رینکنگ’ بہت کم ہو جائے گی۔ مسئلے کی سنگینی کو جانتے ہوئے ، اس کی تشویش سماجی سائنسدانوں اور حکومت پاکستان کے درمیان بڑھ رہی ہے کہ وہ شہری علاقوں کے محدود وسائل پر بڑھتے ہوئے بوجھ کی وجہ سے ان شہروں کی پائیدار ترقی کے لیے اصلاحی اقدامات کرے۔

    معیشت میں دیہی شہری نقل مکانی کی اہمیت

    انسان دوسرے جانداروں کی طرح ہیں جو اپنے اعمال کی ضمنی مصنوعات سے اپنے ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں۔ جب تک آبادی کم تھی ، ماحول ان تبدیلیوں کا انتظام کرنے کے قابل تھا۔ تاہم پاکستان کے معاملے میں ، ماحولیاتی تباہی خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔

    پچھلے 60 سالوں میں ، معاشی ترقی کے عمل نے متعدد تبدیلیاں لائی ہیں اور اس عمل کا سب سے اہم عنصر دیہی سے شہری نقل مکانی ہے۔ یہ بڑے شہروں اور دیہاتوں کے چہرے بدل رہا ہے۔ اس کے مزید بڑھنے کی توقع ہے حالانکہ بہت سے شہر پہلے ہی سنترپتی مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مزید آبادی سب کو بنیادی خدمات کی فراہمی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ کراچی ، لاہور ، فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں اثرات کی شدت انتہائی اہم ہے جہاں شہری ادارے ان مسائل کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔

    بڑے شہری خوابوں میں سے ایک ٹھوس کچرے کا انتظام ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت کی کمی اور مناسب ضیاع کو ٹھکانے لگانے کی وجہ سے ، 40 فیصد فضلہ اٹھایا نہیں جاتا اور گلیوں میں سڑتا رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، زیادہ سے زیادہ لوگ ہوا اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ ماحولیاتی توازن کے لیے اہم سبز اور کھلی جگہ کا کھانا بھی ماحول کو خراب کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ہوا ماحول کے معیار کو کنٹرول کرتی ہے۔ پاکستان میں ہوا اتنی آلودہ ہے کہ اسے ننگی آنکھوں سے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

    تاریخی عمارت اب نہیں دیکھی جا سکتی اور یہاں تک کہ محفوظ یادگاروں میں بھی توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ دیہی شہری نقل مکانی کے حوالے سے کوئی بھی ترقیاتی ایجنسیوں کے کام کو مربوط نہیں کرتا۔

    پاکستان میں شہری تباہی کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیوریج کا کوئی مناسب نظام نہیں ہے ، سڑکوں پر ٹریفک سنگین حادثات کا باعث بنتی ہے ، شہری مراکز میں جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ہر ممکن جگہ پر گندگی دیکھی جا سکتی ہے۔ حکومت محدود وسائل کی وجہ سے سستی قیمتوں پر سیکورٹی ، پرائمری/سیکنڈری تعلیم کے اچھے معیار اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ، نجی شعبہ اس طرح کے کردار ادا کرنے کے لیے آگے آیا ہے لیکن سماجی انصاف کی قیمت پر ، کیونکہ پیش کی جانے والی خدمات بہت مہنگی ہیں اور صرف ایک چھوٹا سا حصہ اسے برداشت کرنے کے قابل ہے۔

    مثالی صورت حال دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان لوگوں کی مساوی تقسیم ہوگی۔ تاہم ، مہاجرین بہتر معاشی اور تعلیمی مواقع اور بہتر معیار زندگی کے ساتھ شہری زندگی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کو موجودہ آبادیاتی رجحان کو چیک کرنے کے لیے سختی سے سوچنا چاہیے۔ اربنائزیشن زور سے چیخ رہی ہے ، مداخلت کی التجا کر رہی ہے۔

    @Z_Kubdani

  • تمباکو نوشی اور پاکستان  تحریر: عتیق الرحمن

    تمباکو نوشی اور پاکستان تحریر: عتیق الرحمن

    تمباکو نوشی موت کی ایک اہم وجہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کا استعمال اس وقت دنیا بھر میں دس میں سے ایک بالغ کی موت کا ذمہ دار ہے اور ہر سال تقریبا million 5 ملین اموات ہورہی ہیں ۔ مزید یہ کہ ، جب تک حالات تبدیل نہیں ہوتے ، 25 سالوں میں سالانہ اموات کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔ لاکھوں لوگ قبل از وقت تمباکو سے متعلقہ بیماریاں پیدا کریں گے جو دائمی معذوری کا باعث بنتے ہیں۔ 1،2 سگریٹ پینے والے افراد پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے کے 12 گنا زیادہ ، کورونری دل کی بیماری کے دو سے چار گنا زیادہ ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔ فالج ، اور پھیپھڑوں کی بیماری سے مرنے کا امکان 10 گنا زیادہ بڑھ چکا ہے
    پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تمباکو نوشی کا پھیلاؤ مردوں میں 36 فیصد اور خواتین میں 9 فیصد ہے۔ پاکستان میں نوجوان بالغوں خصوصا یونیورسٹی کے طلباء میں تمباکو نوشی کا پھیلاؤ 15 فیصد ہے جس میں اکثریت مرد تمباکو نوشی کرنے والوں کی ہے۔ یہ ملک کو آہستہ آہستہ صحت مند افرادی قوت سے محروم کر رہا ہے اور پہلے سے زیادہ بدحال صحت کے شعبے میں بیماری کا بوجھ بڑھا رہا ہے۔ نوجوانوں کے سگریٹ نوشی شروع کرنے کی وجہ پیچیدہ اور کثیر جہتی ہے۔ اس میں حیاتیاتی ، جینیاتی ، نفسیاتی ، معاشی اور معاشرتی متغیرات کا ایک میزبان شامل ہے۔ بلاشبہ سب سے زیادہ تبدیل کرنے والے عوامل سماجی اور ماحولیاتی نوعیت کے ہیں ، بشمول والدین ، ​​بہن بھائیوں ، دوستوں اور عام لوگوں کے تمباکو نوشی کی نمائش۔
    والدین کے سگریٹ نوشی کے رویے نہ صرف نوجوانوں کے آغاز میں بلکہ ان کی سگریٹ نوشی کی عادتوں کو بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے پائے گئے ہیں۔ تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کم از کم ایک سگریٹ نوشی کرنے والے والدین کے بچوں میں تمباکو نوشی کے اعلی درجے تک بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ، ان بچوں کے مقابلے میں جن کے والدین سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔
    متعدد مصنفین نے مشاہدہ کیا ہے کہ ایک نوجوان کا تمباکو نوشی کرنے کا فیصلہ ساتھیوں کے تمباکو نوشی کے طرز عمل سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ ، دوسرے متغیرات کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد بھی۔
    نجی اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کی نمائش تمباکو کے استعمال کی ابتدا ، دیکھ بھال اور بندش کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اور تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں چھوڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جنہوں نے کام کیا ہو یا ایسے مقامات پر رہتے ہو جہاں تمباکو نوشی کی کوئی پابندی نہ ہو۔ جیسے کہ نیکوٹین متبادل مصنوعات وغیرہ جہاں کم میسر ہوں وہاں کے نوجوان تمباکو نوشی کم پائے گئے ہیں
    کراچی یونیورسٹی میں کروائے گئے ایک سروے کا مقصد یونیورسٹی طلباء کی منتخب آبادی کے درمیان سگریٹ نوشی کے پھیلاؤ کے بارے میں ابتدائی تخمینہ فراہم کرنا اور تمباکو کے استعمال اور خاندان کے تمباکو نوشی کی عادات ، گھر میں تمباکو نوشی سمیت مختلف سماجی عوامل کے درمیان ممکنہ تعلقات کو تلاش کرنا تھا۔ مفت عوامی مقامات اور سگریٹ نوشی کے خاتمے کے پروگرامز کا مشاہدہ کرنا تھا

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت سے تمباکو ، شیشہ اور دیگر خطرناک نشہ آور اشیاء کے خلاف عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا بھی کہاہے۔ اس کے جواب میں پاکستان کی دارالحکومت انتظامیہ نے دارالحکومت اسلام آباد کو تمباکو نوشی سے پاک شہر بنانے کی کوششوں کا اعلان کیا۔ یہ اقدام کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے ، تمباکو کنٹرول قوانین کے بارے میں آگاہی اور نفاذ کے ذریعے ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے: "ہم اس اقدام کو سراہتے ہیں کیونکہ اس سے لوگوں کی صحت کی دیکھ بھال میں بہتری آئے گی”۔ انہوں نے خان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مستقبل میں تمباکو کنٹرول کو مضبوط کرے ، خاص طور پر ڈبلیو ایچ او ایم پی اوور کے اقدامات پر عملدرآمد کے ساتھ تمباکو کے ٹیکس میں اضافہ ، تمباکو کے پیک پر بڑے سائز کی تصویری وارننگ ، اور تمباکو کی تشہیر ، تشہیر اور کفالت پر پابندی سے لوگوں میں سوچ پیدا کی جاسکے گی اور کافی حد تک ممکن ہے کہ آئندہ نسل تمباکو نوشی کے نقصانات سے اگاہ ہوجائے اور اس لعنت سے دور رہیں

    @AtiqPTI_1

  • تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات تحریر: ناصرہ فیصل

    تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات تحریر: ناصرہ فیصل

    آپ جس طرح اور جس طریقے سے بھی تمباکو کا استعمال کریں یقین مانیں یہ آپکی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، کسی بھی قسم کے تمباکو میں کوئی ایسی چیز نہیں جو صحت کے لیے اچھی ہو، ایسٹون اور ٹار سے لے کر نیکوٹین اور کاربن مونو آکسائڈ تک، کہیں کوئی محفوظ اور صحت بخش اجزاء نہی ہیں تمباکو میں۔ اور جو دھواں ہم اپنے اندر لے کر جاتے ہیں وہ صرف ہمارے پھیپھڑوں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
    تمباکو نوشی سے ہمارے جسم کے افعال میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ لمبے عرصے تک رہنے والے اثرات بھی جسم میں رونما ہو سکتے ہیں۔ جہاں تمباکو نوشی سے آنے والے سالوں میں بہت سی بیماریوں کے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے وہاں ہمارا جسم دن بدن بہت سی مختلف بیماریوں کی آماجگاہ بنتا چلا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی سے نا صرف ہم خود کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں بلکہ نادانستہ طور پر ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی بیماریوں کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو بھی اس دھویں میں سانس لے گا جو تمباکو نوشی کرنے والا باہر نکالتا ہے، تو اس پر تمباکو نوشی کرنے والے سے زیادہ اثر ہوتا ہے اس دھویں کا اور یوں نہ چاہتے ہوئے بھی تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے خود کو دو چار پائے گا۔ بچے خاص طور پر اس دھویں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور بچوں میں بچپن سے ہی سانس اور دل کی مختلف بیماریاں پیدا ہی سکتی ہیں۔
    تمباکو نوشی چاہے سگریٹ کی شکل میں ہو یا سگار، پائپ، حقه اور شیشہ کی شکل میں ، اسکے مضر اثرات سے آپ بچ نہیں سکتے۔ تمام صورتوں میں یہ مضر صحت ہے۔ سگریٹ میں تقریباً چھ سو مختلف اجزاء پائے جاتے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر سگار اور حقے میں بھی پائے جاتے ہیں. جب ان اجزاء کو جلایا جاتا ہے تو ان سے سات ہزار سے زیادہ کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر زہریلے ہوتے ہیں اور کم از کم انہتر سرطان پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں کی شرح اموات ، تمباکو نوشی نہ کرنے والوں سے 3 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ تمباکو نوشی کے اثرات فوری ظاہر نہ بھی ہوں تو اس سے پیدا ہونے ولی پیچیدگیاں اور نقصان سالہا سال تک آپکے ساتھ رہینگے۔ لیکن ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ اگر آپ تمباکو نوشی چھوڑ دیں تو ان میں سے بیشتر اثرات کو واپس کیا جا سکتا ہے۔ تمباکو کا ایک جزو نیکوٹین ہے جو کے نشہ آور ہے اور اسی کی وجہ سے تمباکو نوشی چھوڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، نیکوٹین سے انسان کے موڈ پر بڑا اثر پڑتا ہے، نیکوٹین انسان کے دماغ میں سیکنڈز میں پہنچ کر انسان کو چست کرتا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر میں اسکا اثر زائل ہونے پر انسان تھکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے اور اسکو مزید کی طلب ہونے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے اپنے آس پاس کے لوگوں پر خامخواہ غصّہ اور چڑچڑاپن ظاہر کرنے لگتا ہے۔۔ نیکوٹین سے دوری آپکی علمی کام پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس سے آپ چڑچڑے، مایوس اور اداس محسوس کرنے لگیں گے۔ اور آپکو شدید سر درد اور سونے میں مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں۔
    جو دھواں ہم اپنے اندر لے کر جا رہے ہوتے ہیں تمباکو نوشی کے ذریعے وہ براہِ راست ہمارے پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے بہت سی سانس کی تکالیف ہو سکتی ہیں۔ اس سے ہمارے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں اور پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
    تمباکو نوشی چھوڑنے سے تھوڑے وقت کے لیے سانس میں مسئلہ اور ریشہ پیدا ہونے کی تکالیف ہی سکتی ہیں کیونکہ ہمارے پھیپھڑے خود کو واپس صحتمند حالت میں لے کر کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی چھوڑنے پر زیادہ مقدار میں ریشہ پیدا ہونا اس بات کی نشانی ہوتا ہے کے اب آپ کے پھیپھڑوں نے صحیح طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔۔
    تمباکو نوشی سے ہمارا قلبی نظام بری طرح سے متاثر ہوتا ہے۔ اس سے ہماری خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں جس سے جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ اس سے خون کی شریانیں پتلی ہو جاتی ہیں جس سے فشار خون زیادہ ہو جاتا ہے اور اس سے دل کی مختلف بیماریاں ہی سکتی ہیں اور دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔
    ذرا سوچئے ہم اپنے پیاروں کو کتنی تکلیف اور پریشانی سے گزارتے ہیں اپنی ان تمام بیماریوں کی وجہ سے ، جنکو ہم آسانی سے خود سے دور رکھ سکتے ہیں تمباکو نوشی نہ کر کے۔
    اسکے ساتھ ساتھ یہ جلد کے کینسر کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ اس سے ہمارے ہاتھوں پاؤں کے ناخن بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں، اس سے دانتوں اور بالوں پر بھی مختلف قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    یاد رکھیے صحت اللہ کی دی ہوئی ایک بہت برّی نعمت ہے اسکو ایسی فضول چیزوں میں ضایع مت کریں۔ خود کو اور اپنے آس پاس رہنے والے آپکے پیاروں کو اسکے مضر اثرات سے بچائیں۔ تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔ صحت مند انسان ہی ایک صحت مند معاشرہ بنائے میں فعال ہو سکتے ہیں۔ خود کو صحت مند رکھیے، اپنے گھر والوں کے لیے ، اپنے لئے۔۔

    @NiniYmz

  • سیگریٹ نوشی روح کا کینسر تحریر : فرزانہ شریف

    سیگریٹ نوشی روح کا کینسر تحریر : فرزانہ شریف

    مجھے بچپن سے ہی سگریٹ کی خوشبو اچھی نہیں لگتی تھی عجیب سی دم گھٹتی سی سانس روکتی ہوئی سی ۔ناخوشگوار سی۔۔پھر جوں جوں بڑی ہوتی گی اس کے بارے میں جاننا شروع کیا تو خوفناک انکشاف ہوتا گیا کہ کس قدر یہ جان لیوا نشہ ہے جو انسان کو سلو سلو انداز سے اندر سے کاٹنا نوچنا شروع کردیتا ہے اور سگریٹ نوشی کرنے والا وقتی سکون حاصل کرنے کے لیے یہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ کتنے گھاٹے کا سودا کررہا ہوتا ہے یہ زہر نہ صرف خود اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے بلکہ انجانے میں اپنی نسلوں کو بھی اس تباہی میں شامل کرلیتا اپنی نسلوں میں بھی یہ زیر بانٹ رہا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کرنے والا سمجھتا ہے بس وہ خود سگریٹ پیتا ہے تو باقی گھر والے اس نقصان سے بچے ہوئے ہیں تو وہ بچے ہوئے نہیں ہوتے چھوٹے بچوں سے لیکر اس کی بیوی بہین بھائی ۔ والدین اس دھویں سے متاثر ہورہے ہوتے ہیں اتنا ہی ان کے پھیپھڑوں پر اثر پڑرہا ہوتا ہے جتنا سگریٹ نوشی کرنے والے کے پھیپھڑوں پر۔۔یہ نشے کی پہلی سیڑھی ہے یہاں سے ہی انسان کی تبائی کی بنیاد پڑتی ہے سگریٹ کا عادی انسان اس نشے کا اتنا عادی ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اس سے پھر اور کوئی بھاری نشے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے لا شعوری میں کہ نسوار گھٹکا سے ہوتا ہوا ایک دن خدانخواستہ ہیروئن تک بھی رسائی حاصل کرلیتا ہے اسے لگتا ہے یہ بھی سگریٹ کی طرح سکون دے گی لیکن پھر انسان کی واپسی کے سب راستے بند ہوجاتے ہیں انسان اپنی تباہی کو خود انتظام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کی منزل پھر اندھیرے راستوں اور موت کی وادی کے سوا کوئی منزل نہیں رہتی میں نے نشے کے لیے تڑپتے ہوئے لوگوں کو دیکھا گھر باربیچتے ہوئے دیکھا زلیل رسوا ہوتے دیکھا نہ صرف اس نشئی کو بلکہ اس کی فیملی کو نا حق زلیل ہوتے دیکھا صرف ایک انسان کے نشے کی لت سے پورا خاندان اجڑ جاتا ہے میں سوچتی ہوں گورنمنٹ اس زہر سے اپنی عوام کو کیوں نہیں بچا رہی کیوں ایسے سخت اقدامات نہیں کررہی کہ اس زیر سے ہم کم سے کم اپنی آنے والی نسلوں کو بچا سکیں ۔۔
    سگریٹ نوشی کرنے والا انسان اپنے پیسے کو اپنی صحت کو اس نشے میں جھونک رہا ہوتا ہے ایک سگریٹ پینے والا بندہ صرف اتنا حساب لگا لے ایک سال میں اس نے کتنے لاکھ روپے اس سگریٹ میں جھونک دیے اور بدلے میں کیا حاصل کیا اپنے پھیپڑے ختم کروا دیے جس کے بنا انسان سانس بھی نہیں لے سکتا اور آخر ایک دن اس کی ذندگی ختم ہوجاتی ہے اس نشے سے ۔۔
    بقول شاعر کے ۔۔زندگی کے رستے کیسے ہیں یہاں .ہر جوان رُوح کو گھُن لگا ہوا ہے اور کچھ لوگ اپنی وقتی ٹینشن کو دور کرنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لےکر ایک ہی نشست میں آدھی ڈبی سگریٹ نوش کرجاتے ہیں یہ جانے بنا کہ یہ سگریٹ اپ کی ٹینشن دور نہیں کررہے بلکہ آپکو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنے جارہے ہوتے ہیں آپ کو اندر سے کھوکھلا کررہے ہیں اور یہ سگریٹ نوش انسان کی خود غرضی ہی تو ہے کہ اپنے پیاروں کو ازلی جدائی کا دکھ دے جاتے ہیں موت کو گلے لگاجاتے ہیں۔۔!!
    صرف پاکستان کی گورنمنٹ ہی نہیں بلکہ یورپین ممالک بھی سگریٹ کی ڈبی پر سگریٹ نوشی کےخوفناک انجام کی پیکچر لگا کر بس اپنا فرض پورا کردیتے ہیں عوام کو یہ آگاہی نہیں دیتے کہ معاشرے میں یہ کینسر پھیل رہا ہے لوگ اس سے نفسیاتی اور ذہنی طور پر بھی متاثر ہورہے ہیں اس کی روک تھام کے لیے آج تک کوئی مہم نہیں چلائی گی کہ لوگوں کو اس کے نقصانات کی آگاہی ہو پہلی دفعہ باغی ٹی وی اور جناب ممتاز صاحب اور ان کے دیگر ساتھیوں نےاس پر آواز اٹھائی ہے اب ہر پاکستانی کو چاہئیےان کی آواز میں شامل ہوکر ان کی آواز کو اور مضبوط بنانا ہوگا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسل اس زہر سے بچ سکے۔۔۔۔
    وزیراعظم عمران خان کو چاہئیے کھانے پینے کی عام چیزیں سستی کردیں اور اس کے بدلے میں سگریٹ اتنے مہنگے کر دے کہ عام آدمی کی پہنچ سے ایسے ہی دور ہوجائیں جیسے نون لیگ کی حکومت میں غریب مظلوم کو انصاف ملنا مشکل بلکہ ناممکن تھا ۔۔
    اللہ باغی ٹی وی اور اس کے عملے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے جو پاکستان میں اپنا مثبت کردار ادا کررہے ہیں حق سچ کی آواز مبشر لقمان ۔جناب ممتاز حیدر صاحب اور ان کا تمام سٹاف ۔۔۔

  • عمران خان کے تین سال اور انتخابی وعدے تحریر:حسان خان

    عمران خان کے تین سال اور انتخابی وعدے تحریر:حسان خان

    25 جولائی 2018 کی رات جب دیر گئے تک انتخابی نتائج واضح پو گئے تو عوام کی اکثریت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ 23 سال کی طویل جدوجہد کے بعد بلآخر تحریک انصاف کے الیکشن میں کامیاب اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی
    پھر دن آیا 18 اگست کا جب عمران خان قومی اسمبلی سے 178 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے 29 اپریل 2018 لاہور جلسے میں قوم سے 11 وعدوں پر مبنی اپنا منشور پیش کیا تھا۔ آج ہم جائزہ لینگے وہ وعدے کیا تھے اور تین سالوں میں ان میں سے کتنے وعدے پورے ہوئے

    عمران خان کا پہلا وعدہ یکساں نصابِ تعلیم کا تھا جس پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے سوائے سندھ کے باقی تمام صوبے ایک نصابِ تعلیم پر متفق ہو چکے ہیں اور 2 اگست 2021 سے تمام سکولوں میں نافذ ہو چکا ہے۔ یوں پہلا وعدہ بااحسن طریق پورا ہوا

    عمران خان کا دوسرا وعدہ صحت کے متعلق تھا اور اس ضمن میں عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے وہ کر دکھایا ہے جو بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک بھی نہیں کرپائے یعنی صحت سہولت کارڈ کے زریعے تمام آبادی کو فی خاندان سالانہ 10 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس پنجاب کے دو ڈویژن ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان کے شہریوں کو بھی یہ سہولت میسر آ گئی ہے 2023 تک یہ سلسلہ سارے پنجاب تک وسیع کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی عوام کیلئے بھی صحت کارڈ کا اعلان کر رکھا ہے۔ یوں دوسرا وعدہ بھی پورا ہوا

    تیسرا وعدہ ٹیکس کلکشن کے متعلق تھا ، ٹیکس اصلاحات کی وجہ سے سال 2020-21 میں ریکارڈ 4732 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوا یوں تیسرا وعدہ بھی پورا ہوا

    چوتھا وعدہ تھا کرپشن کے متعلق ، عمران خان کی حکومت میں نیب نے کھل کر بڑے چھوٹے اپنے پرائے چوروں کے خلاف کاروائیاں کیں۔ سال 2017 سے 2021 تک نیب نے چوروں سے 528 ارب روپے کی ڈائریکٹ اور انڈائریکٹ ریکوریاں کیں۔ کرپشن پر عمران خان نے کوئی کمپرومائز نہیں کیا بارحا کہتے رہے چاہے میری حکومت چلی جائے مگر کسی چور کو این ار او نہیں دونگا۔۔ یہ وعدہ بھی اچھی طرح نبھایا گیا

    پانچواں وعدہ ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری کے متعلق تھا جہاں سی پیک سے لے کر ایمازون تک کثیر سرمایہ پاکستان آ رہا ہے موبائل فون کمپنیاں پاکستان آ رہی ہیں روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے زریعے بیرون ملک پاکستانی کثیر سرمایہ پاکستان بھیج رہے ہیں یوں یہ وعدہ بھی اچھے سے نبھایا گیا

    چھٹا وعدہ ٹیکنیکل تعلیم اور کم آمدن والے طبقے کیلئے گھروں کے متعلق تھا۔ حکومت نے ای روزگار سکیم کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم سے مستفید کیا جا رہا ہے اسکے علاوہ سی پیک کے تحت ٹیکنیکل کالجز کی تعمیر سے مقامی لوگوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی جا رہی ہے یوں یہ وعدہ بھی وفا ہوا جبکہ کم آمدن والے افراد کیلئے نیاپاکستان ہاوسنگ سکیم شروع ہوئی جس کے تحت پنجاب میں منظورشدہ 24,404 پراجیکٹس جنکی مالیت 373 ارب روپے ہے اس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا جبکہ سندھ میں 267 ارب روپے سے 8736 پراجیکٹس ، کے پی میں 74 ارب مالیت کے 4839 پراجیکٹس اور اسلام آباد میں 175 ارب روپے سے 5986 پراجیکٹس پر کام شروع ہو چکا ہے

    ساتواں وعدہ سیاحت کے متعلق تھا جس میں پاکستان نے اس حد تک ترقی کی کہ مشہور امریکی جریدے نے سال 2020 کیلئے پاکستان کو سیاحت کیلئے بہترین قرار دے دیا کروںا بندشوں کے باوجود اندرون ملک سیاحت بھی پورے عروج پر جا پہنچی ہے وزیراعظم خود مختلف سیاحتی مقامات کا وزٹ کر کے انکی تشہیر کرتے پائے جاتے ہیں یوں یہ وعدہ بھی وفا ہوا

    آٹھواں وعدہ زراعت کے متعلق تھا جہاں کسانوں کو کسان کارڈ کا اجراء کیا گیا جس سے کھاد ، بیجوں اور زرعی آلات پر سبسڈی ڈائریکٹ کسان کے اکاونٹ میں پہنچا کرے گی ، حکومت نے گندم اور کپاس کی امدادی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا جس سے کسان خوشحال ہوا اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ ہوا

    نواں وعدہ بلدیات کے متعلق تھا اس میدان میں بھی تحریک انصاف ایک شاندار بلدیاتی نظام لے کر آ رہی ہے جس سے پنجاب کا 33٪ ترقیاتی بجٹ بلدیاتی اداروں کو دیا جائے گا۔ الیکشنز بھی جلد متوقع ہیں

    دسواں وعدہ ماحولیات کے متعلق تھا جہاں پاکستان دنیا کو ماحولیات کے شعبے میں لیڈ کر رہا ہے ، پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ بلین ٹری سونامی منصوبے سے متاثر ہو کر سعودیہ عرب بھی ایسا منصوبہ شروع کرنا چاہ رہا ہے عمران خان کے #Clean Green Pakistan وژن کے تحت پوری قوم اپنا مستقبل سرسبز کرنے کیلئے گلی گلی درخت لگا رہی ہے یوں یہ وعدہ بہت زیادہ نبھایا گیا

    گیارواں وعدہ عدالتی ریفارمز کے متعلق تھا یہاں حکومت مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ بوسیدہ عدالتی نظام جوں کا توں بلکہ مزید مخدوش حالت میں ہے اس حوالے سے حکومت کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

  • طالبان نے آزادی مارچ سے بہت سیکھا موجودہ حکومت جمہوریت اور سیاستدانوں کو بے توقیر کرنے کے لئے لانچ کی گئی  تحریر اکرام اللہ نسیم

    طالبان نے آزادی مارچ سے بہت سیکھا موجودہ حکومت جمہوریت اور سیاستدانوں کو بے توقیر کرنے کے لئے لانچ کی گئی تحریر اکرام اللہ نسیم

    پاکستان کے 2018 کے جنرل الیکشن کے چنتخب نتائج جب جب منظر عام پر آگئے سیاست دانوں نے فوراً سے پہلے چنتخب نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جہاں جہاں دیگر سیاستدان نے اس چنتخب نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا وہاں جمعیت علمائے اسلام اور پی ڈی ایم کے موجودہ سربراہ قائد ابن قائد مولانا فضل الرحمان صاحب نے اس نتائج کو یکسر مسترد کرکے اے پی سی بلائی گئی اسی اے پی سی میں موجودہ حکومت کے اتحادی ایم کیو ایم دیگر اتحادی جماعتیں بھی شریک تھی اور 25 جولائی 2018 کے انتخابات کو تاریخ کا دھاندلی زدہ انتخابات کہا گیا
    اور اسی اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان صاحب نے تمام پارٹیوں کو یہ تجویز بھی دی کہ کوئی بھی پارٹی اپنے منتخب نمائندوں کو اسمبلی میں حلف اٹھانے کے نہ بھیجیں اس تجویز پر اے پی سی میں موجود تمام جماعتوں نے اتفاق کیا سوائے مسلم لیگ ن کے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حلف اٹھانے کے بعد جن دو پارٹیوں نے مولانا فضل الرحمان صاحب کے تجویز کو رد کیا تھا اتفاق سے دونوں پارٹیاں آج تک پچھتا رہی ہے باقی کوئی پارٹی نہیں پچھتائی کہ ہمیں حلف نہیں اٹھانا چاہیے تھا بلکہ خود اس بات کا اعتراف سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کرچکے ہیں کہ ہم نے غلطی کہ مولانا فضل الرحمان صاحب کے تجویز پر عمل نہیں کیا چونکہ یہ حکومت جمہوریت اور سیاستدانوں کو بے توقیر کرنے کے لئے لانچ کی گئی تھی عمران حکومت نے نیب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری بہن پریال تالپور شاہ صاحب اور دیگر ہم فکر ساتھی مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی احسن اقبال خواجہ آصف موجودہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ویگر ہم فکر ساتھیوں کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے بند کیا اور تو اور جن پر نیب کے مقدمات لاگو نہیں ہو سکتے تھے انپر ہیروئن ڈالی گئی جو کہ بعد میں ثابت نہ ہوسکی مریم نواز شریف کے کمرے کا دروازہ توڑ کر چادر چاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا
    یہ سب کچھ جو کیا گیا کسی کو نیب کے ذریعے گھسیٹنا
    کسی پر ہیروئن ڈالنا کسی کے چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنا یہ سب سیاست دانوں کی بے توقیری کے لئے کیا گیا تاکہ عام آدمی کی نظر میں سیاستدان بے وقعت ہو جائے عام آدمی کا بھروسہ سیاستدان سے اٹھ جائے
    سیاستدانوں کی عزت اور وقار کو بحال کرنے کے لئے اور عام آدمی کو سیاستدانوں کے ساتھ وابستہ رکھنے کے لئے کہ اس فانی دنیا میں آپ کا غم خوار آپکے دکھ بانٹنے والا سیاست دان ہی ہوسکتا ہے یہ امید دلانے کےلئے مولانا فضل الرحمان صاحب نے ملک گیر 15 ملین مارچ کا انعقاد کیا گیا ہر ایک ملین مارچ دوسرے سے لاجواب و شاندار تھا جو حکومت اور ریاست کے درد سر سے کم نہ تھا
    پھر آخر کار جب جمعیت علمائے اسلام نے آزادی مارچ کا اعلان کیا اور آزادی مارچ کا پڑاؤ اسلام آباد کو قرار دیا پاکستان کے طول و عرض سے جب قافلے روانہ ہوتے ہیں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب سکھر سے قافلے کی قیادت کرتے ہیں قافلہ سکھر سے چند کلومیٹر سفر کرتا ہے ایمبولینس کی گاڑی آتی مولانا راشدسومرو صاحب خود مائیک پکڑ کر انصار الاسلام کے رضاکاروں کو آواز دیتے ہیں ایمبولینس کو راستہ دو انصار الاسلام کے رضاکار فوراً سے پہلے راستہ بنا لیتے ہیں یہ ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے اسکو لاکھوں کی تعداد میں دیکھا گیا
    جب یہی قافلہ دوسروں قافلوں سے ملتا سمندر کا شکل اختیار کرتا ہوا پاکستان کے دل لاہور پہنچتا ہے
    ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے جمعیت علمائے اسلام کے پروانے ایک طرف احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں دوسری طرف میٹرو بس سروس چل رہی
    یہ ویڈیو قومی چینلز اور سوشل لاکھوں کی تعداد میں دیکھی گئی اسی کیساتھ ساتھ یہ انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بن گئی ہر بندے نے اس احتجاج کو سراہا
    یہ قافلہ ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل تھا کراچی سے لیکر اسلام آباد پہنچا کسی قسم کا توڑ پھوڑ نہ کیمرے کی آنکھ نے دیکھا نہ ہی انسان کے آنکھ نے جب قافلہ اپنے منزل مقصود پر پہنچ گیا وہاں 13دن تک دھرنا جاری رہا وہاں غریدہ فاروقی صاحبہ جو صحافی ہے بھی انٹرویوز لینے پہنچ گئی یہ غریدہ فاروقی عمران خان کے دھرنے میں بغیر چادر کے رپورٹنگ کرتی تھی مگر دھرنے کے ماحول نے اسے چادر اوڑھنے پر مجبور کردیا جنکی تصاویر آن دی ریکارڈ ہیں
    بلکہ وہاں ایک صحافی رپورٹر رپورٹنگ کررہی تھی کہ تیز ہوا اور بارش کی وجہ سے وہ گیلی ہو رہی تھی تو انصار الاسلام کے رضاکار آگے بڑھیں اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کے سر پر چادر چڑھا یہ منظر بھی میڈیا پر خوب وائرل ہوا اور لوگوں نے سراہا
    اب کراچی سے اسلام آباد اور پھر آزادی مارچ دھرنے کے 13 دن گواہی دیتے ہیں کہ مولویوں سے زیادہ پرامن لوگ دنیا میں نہیں پائے جاتے
    جب لوگوں نے اس احتجاج کو سراہا تو طالبان بھی تو یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے انہوں نے بھی پرامن طور طریقے عمل میں لائے اور پورے افغانستان پر قبضہ کرلیا نہ قتل غارت گردی دیکھنے کو ملی نہ وہاں پر ابھی عورت کو رپورٹنگ سے منع کیا جارہا ہے نہ ہی داڑھی نہ رکھنے والوں پر سختی کی جارہی ہے نہ ہی بچیوں کو تعلیم سے روکا جارہے بلکہ وہاں عورتیں اپنی اپنی جاب کے لئے بھی جاتے ہوئے نظر آتی ہے

  • بھارت؛ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ایک غیر ذمہ دار ریاست   تحریر: محمد اختر

    بھارت؛ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ایک غیر ذمہ دار ریاست تحریر: محمد اختر

    ”اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 39 کے تحت، یہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بنتا ہے، اگر کوئی ملک اپنے تحفظاتی اقدامات کے مطابق نہیں پایا جاتا”۔اس کے برعکس، جب بین الاقوامی امن کی بات آتی ہے تو بھارت کو ایک غیر ذمہ دار ریاست کے طور پرسرِفہرست آتا ہے۔  قارئین کرام! حالیہ روز بھارتی سی آی ڈی کی جانب سے  انتہائی حساس تابکار مواد کی برآمدگی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔5 مئی 2021 کو بھارتی ریاست مہاراشٹر میں دو غیر مجاز افراد سے سات کلو گرام سے زائد قدرتی یورینیم کی ضبطی نے اس انتہائی حساس تابکار مواد پر ریاست کے کنٹرول کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ضبط شدہ یورینیم انتہائی تابکار اور خالص تھا۔ جب سے ہندوستان ایک ایٹمی ریاست بن چکا ہے، اجتماعی اور انفرادی یورینیم چوری اور اسمگلنگ کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جو کہ بھارت کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک جوہریہتھیاروں کی ریاست کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ ملک میں ہندوتوا کے دہشت گردوں اور آر ایس ایس کے ہزاروں دہشت گرد مراکز چلائے جا رہے ہیں جنہیں شاکا کہا جاتا ہے۔ آئیے! اس ضمن میں ماضی کے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں، واضح رہے اس ٹائم لائن میں صرف وہ واقعات شامل ہیں جہاں کم از کم ایک کلو گرام تابکار مادے کا سائز تھا، اور رپورٹ کیا گیا۔ 1994 میں، میگھالیہ پولیس نے ڈومیاسیٹ ریجن میں چار سمگلروں کے ایک گروہ سے دو اور نصف کلو گرام یورینیم ضبط کیا۔ 1998 میں پولیس نے ایک اپوزیشن سیاستدان کو گرفتار کیا جس کے پاس سو کلو گرام سے زیادہ یورینیم تھا جبکہ اسی سال سی بی آئی نے تامل ناڈو میں نو کلو گرام سے زائد جوہری مواد کے ساتھ ایک گروہ کو پکڑ لیا۔لوک سبھا کی رپورٹ کے مطابق، 1995 سے 1998 کے درمیان ہندوستانی ایٹمی توانائی کے کارخانوں میں 147 حادثات یا سیکورٹی سے متعلق واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 28 شدید نوعیت کے تھے اور ان میں سے نو ایٹمی بجلی گھروں میں ہوئے۔2008 میں، پولیس نے انڈیا-ا نیپال بارڈر کے ساتھ ضلع سپول میں چار کلو گرام یورینیم ضبط کیا۔ 2009 میں، تین مجرموں کو پانچ کلو گرام یورینیم کے غیر قانونی قبضے کے لیے گرفتار کیا گیا۔ 2016 میں، مشرقی ہندوستان میں ایک مضبوط تحقیقاتی مرکز سے تابکار مواد کا ایک کنٹینر چوری ہو گیا تھا، اور اسی سال ایک اور واقعہ رونما ہوا تھا، تھانے میں دو افراد سے تقریبا نو کلو گرام یورینیم پکڑا گیا تھا۔2018 میں، ایک یورینیم اسمگلنگ ریکیٹ کولکتہ پولیس نے ایک کلو ریڈیو ایکٹیو مٹیریل کے ساتھ پکڑا اور اب، یورینیم چوری پرکمزور ریاستی کنٹرول کے تسلسل میں، حالیہ برس اوربڑا واقعہ 05 مئی 2021 کو پیش آیا، جس کے تحت ایک بڑا سکیورٹی حادثہ پیش آیا۔ ماہرین کے مطابق، دہشت گرد تابکار مواد کو کسی بھی روایتی ہتھیار کے ساتھ جوڑ کر دھماکہ کرتے ہیں، جسے ”گندا بم” کہا جاتا ہے۔ اگرچہ گندے بم دھماکے سے ہونے والا نقصان ایٹم بم جتنا بڑا نہیں ہوگا، لیکن بمباری کے مقام اور اس کے آس پاس تابکاری اور طویل آلودگی کے امکانات ہوں گے۔یہ ایک حقیقت ہے، بی جے پی حکومت کو انتہا پسندوں کی پشت پناہی حاصل ہے اور ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، بھارت کے اندر جوہری پھیلاؤ کے تمام واقعات کی تحقیقات کی ضرورت ہے، آئی اے ای اے کو یورینیم کو کاروبار کے طور پر لانے کے بھارت کے اس نئے رجحان کے بارے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ اشیاء، نجی ڈیلروں کی طرف سے کھلے عام تجارت کی جا رہی ہیں۔اس طرح کے واقعات کی روشنی میں، بھارت میں ایٹمی پروگرام غیر ذمہ دار اور ناتجربہ کار شہریوں اور انتہا پسند حکومت کے ہاتھ میں ہے جو آر ایس ایس کے زیر انتظام ہے جو پاکستان کے بقایاجوہری تحفظ اور سیکورٹی ریکارڈ کے برعکس ان کے غیر اخلاقی مقاصد ہیں۔بین الاقوامی اداروں کو یہ لازمی قرار دینا چاہیے کہ جب تک بھارت جوہری مو اد کو سختی سے کنٹرول نہیں کرتا، اسے جوہری مواد کے پھیلاؤ میں شریک سمجھا جائے گا۔ اس طرح کے کمزورریاستی کنٹرول سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کو ایک ذمہ دار جوہری طاقت بننے کے لیے عملی طور پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔بھارت کو اپنے جوہری پلانٹس کی داخلی سلامتی کو بڑھا کر اپنی ساکھ کو ثابت کرنا ہوگا اور ایٹمی پھیلاؤ پر سزا بڑھا کر سخت قانون سازی بھی کرنی ہوگی۔ ابھی تک، ہندوستان کاجوہری  تحفظ اور سکیورٹی ریکارڈ زیادہ متاثر کن نہیں ہے۔کمزور ریاستی کنٹرول، جیسا کہ تازہ ترین 250.5 گرام تابکار دھاتی کیلیفورنیم کی ضبطی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان تاحال جوہری مواد کے تحفظ کو یقینی بنانے میں بری طرح ناکام ہے مزید یہ کہ  بھارت اب بھی ایک غیر ذمہ دار جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے۔ قارئین! یہاں زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بھارت کے  جوہری ہتھیار ایک غیر ذمہ دارانہ شدت پسند حکومت کے ہاتھ میں ہے جوکہ خطہ کے امن کو تباہ کرسکتی ہے۔ ہندوستانی ریاست کو جوہری مواد کو کنٹرول کرنا چاہیے ورنہ ان کی اسمگلنگ میں ملوث سمجھا 

    جا ئیگا۔ تاہم، ”یہ حقیقت سے بہت دور ہے۔مذکورہ بالہ حقائق کے تناظر میں یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ بھارت اس خطے کے امن کی راہ میں ایک ناسور مرض کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ آج یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ سیکولر آئینوں میں غیر سیکولر حکومتیں علاقائی سلامتی کے حوالے سے مختلف مخمصے پیدا کرتی ہیں۔اس لیے بین الاقوامی اداروں کو بھارتی خطرات پر قابو پانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ دنیا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بھارت خطے کی واحد جوہری ریاست نہیں ہے۔ بھارت کی جانب سے کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ کارروائی جوہری  ممالک کے مابین قیامت خیز تباہی کا باعث بنے گی جس کے دیرپا تابکاری نتائج نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا پر مرتکب ہونگے۔

    @MAkhter_

  • آج سے ٹھیک 42 برس قبل  تحریر:  عائشہ خان

    آج سے ٹھیک 42 برس قبل تحریر: عائشہ خان

    آج سے ٹھیک 42 برس قبل سوویت یونین کی فوجوں نے 27 دسمبر 1979ء کو افغانستان میں اپنی فوجیں اتار کر صدر امین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔۔ اسکے بعد کیا ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔۔ دیکھنے والوں نے بتایا کہ کیسے افغان فوجی وردیوں میں ملبوس روسی خفیہ ادارے (کے۔جی۔بی اور جی۔آر۔یو) کے کمانڈوز نے اپنے خفیہ ٹھکانوں سے نکل کر صدارتی محل سمیت کابل کی اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے افغان صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کیا۔۔ روس، جس کی خام خیالی تھی کہ اسکے فوجی دستے چند ماہ کے اندر اندر گرم پانیوں تک قبضہ کر لیں گے وہ 9 سال 2 ماہ بعد 15فروری 1989ء کو اس وقت حیرتان پل عبور کرکے سوویت یونین پہنچے جب دنیا کی دوسری سپر پاور اپنے آخری دموں پر تھی۔۔۔ 

    اس دور میں پاکستان کا جو کردار رہا اسے دنیا چاہ کر بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ روسی فوجوں کا افغانستان میں قبرستان بنانے والوں میں جو نام سرِ فہرست تھا وہی نام آج (اپنی موت کے چھے برس بعد بھی) امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد پھر سے ہر اک کی زباں پر ہے۔۔۔ 

    وہ امریکہ جو اکتوبر 2001ء میں بڑی گرج برس کے ساتھ طالبان کو صفحہ ہستی سے مٹانے چلا تھا بیس برس تک اپنے فوجی جوانوں کو تابوتوں میں بند کر کر کے واپس وطن بھیجتا رہا اور بالآخر 31 اگست 2021ء کو جب امریکہ پوری طرح افغانستان سے اپنے فوجی دستوں کا انخلاء مکمل کرے گا تب تک افغان طالبان کو افغانستان میں حکومت بنائے ہوئے پورے دو ہفتے گزر گئے ہونگے۔۔۔

    بہت سے عناصر جو اب بھی صورتحال کو سنگین بنا کر افغانستان کے حالات سے متعلق پوری دنیا میں افراتفری کی سی تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس وقت آپریشن کے لیے جو واحد مدد فراہم کرنے والی ائیر لائن افغانستان میں فعال ہے وہ پاکستان ائیر لائن ہے۔۔ 

    جی ہاں، 24 اگست 2021ء کو پوری دنیا کی نظریں انخلاء کیلئے کیے جانے والے اس آپریشن پر تھیں جسکو پاکستان لیڈ کر رہا تھا۔ وہی پاکستان جس پر چند دن پہلے سینکشنز لگوانے کیلئے نادان اور بھٹکے ہوئے مسلمان بھائی کفار کے ساتھ ملکر ایڑی چوٹی ایک کر رہے تھے۔۔ ظاہر ہے یہ چند مٹھی بھر غدار پوری افغان قوم کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے خاص کر ہمارے وہ افغان بھائی جنھوں نے ٹی۔ٹی۔پی جیسی غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی دہشت گرد تنظیم کو کبھی سپورٹ نہ کیا تھا۔ ٹی۔ٹی۔پی وہ دہشتگرد تنظیم تھی جس نے پاکستان میں اس وقت دہشتگردی کی کاروائیاں کیں جب امریکہ افغانستان میں تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ریاست پاکستان کے خلاف کفر کے فتوے دینے والوں سے لاتعلقی اختیار کرنے والے افغان طالبان سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کیوں اور کیسے خطرہ ہو سکتا ہے جبکہ انہوں نے تو خود جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہوا ہے۔۔

    تاریخ گواہ ہے کہ انسانی ہمدردی اور بھائی چارے کی بنیاد پر پاکستان نے ہمیشہ افغان مہاجرین کو تہہ دل سے اپنایا اور انکی ہر ممکن مدد کی۔۔ آج خطے میں امن کی خاطر پاکستان ایک بار پھر سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت جب امریکہ کے زیر کنٹرول حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تباہ کن مناظر دیکھے گئے اور کم از کم 20 ہلاکتیں ہوائی اڈے کے اندر اور اس کے ارد گرد ملک سے فرار ہونے کی کوششوں اور بھگدڑ میں ہوئیں جبکہ پہلے ہی افغانستان میں قبضے کے بعد طالبان کی عام معافی کا اعلان ہو چکا تھا۔ اسکے باوجود جب افراتفری اور خوف نے کابل ہوائی اڈے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) بین الاقوامی برادری کے لیے انخلاء کی کارروائیوں کا مرکز بن کر ابھری۔ پی آئی اے نے گزشتہ ہفتے کے دوران افغانستان سے 2 ہزار افراد کو ہوائی جہاز کے ذریعے افغانستان سے منتقل کیا ہے۔ جن مسافروں کا ذکر ابھی کیا ان میں سے بیشتر غیر ملکی مسافر (بشمول بین الاقوامی مالیات فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے عہدیدار ، سفارت کار ، صحافی اور سیاسی رہنما) تھے

     

    کہتے ہیں تعریف وہ جو دشمن بھی کرنے پر مجبور ہو جائے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے افغان دارالحکومت سے اپنے عملے کو نکالنے میں پاکستان کی غیر معمولی مدد کو سراہا جو ان سب بے قدروں اور نا شکروں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو ابھی چند ہی دن پہلے گلہ پھاڑ پھاڑ کر پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کی مانگ کر رہے تھے۔

     پاکستان میں موجود جرمن سفیر برنہارڈ شلاگیک نے بھی پی آئی اے کی کوششوں کو سراہا اور افغانستان سے جرمن شہریوں اور عملے کو باحفاظت نکالنے پر شکریہ ادا کیا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ سب جو پل پل پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے تھے وہ ان خبروں پر چپ سادھے ہوئے کیوں ہیں؟ غیروں سے تو کوئی گلہ نہیں مگر ہمارے اپنے کہاں ہیں؟ کیا فوج اور بغض عمران خان میں پاکستان کی جانب سے اس ایک اور بہترین اقدام پر آپ فخر محسوس نہیں کرینگے؟

     پی آئی اے کی کارروائیوں پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ، یورپی یونین (ای۔یو) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے۔ڈی۔بی) نے بھی ایئر لائن سے اپنے ملازمین کو افغانستان سے نکالنے کی درخواست کی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ خبر ہمارے نام نہاد صحافیوں کے ایک خاص فرقے میں بریکنگ نیوز نہ بن سکی؟

     

    آج جب پی آئی اے بین الاقوامی برادری کے لیے افغانستان سے غیر ملکیوں کے محفوظ انخلاء کی امید بن گئی ہے تو اس پر فخر محسوس کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے رہنما نظر کیوں نہیں آ رہے؟ کیا یہاں صرف انکی جانب سے منفی باتیں ہی پروموٹ کی جائیں گی؟ مثبت بات کہنے میں اتنی جھجھک کیوں؟

    کچھ تو بولو میاں ہوا کیا ہے

    اس قدر خامشی وجہ کیا ہے

    @AyshaKhanTweets