منشیات نشہ حرام ہے جو بعض اوقات موت کا سبب بنتی ہے ۔ اس کے ساتھ اسلام میں بھی ہمیں بتایا گیا ہے کہ نشہ حرام ہے ۔لیکن آج کل بچے لڑکیاں بزرگ سب اس نشے میں لگے ہووے ہیں کوی سگریٹ منہ میں رکھے وڈیو بنا رہا ہے تو کوی شراب کی بوتل پکڑے ٹک ٹاک پہ ناچ رہا ہے۔ آج کل جنریشن سگریٹ میں زہریلی سے زہریلی نشہ آور ادویات ملا کر پیتی ہے جو شراب کی ہی ایک قسم کہلاتی ہے اور جو انسانی جسم کے لیے نہایت نقصان دہ بھی ہوتی ہے ۔۔بچپن میں دادی سے سنتی تھی کہ نشہ لگانے والا پہلے آپکو خود اپنی جیب سے پیسے لگا کر نشہ کرواے گا ۔خود سے پیسے خرچ کر کہ آپ کو نشہ خرید کر دے گا ۔پھر دھیرے دھیرے جیسے نشے کی لت لگتی جاے گی ۔وہ آپ سے پیچھا چھڑاے گا..موت کے کنواں میں ہر کوی دھکیلتا ہے لیکن نکالتا کوی کوی ہے ۔۔نشہ آور چیزیں ہمارے سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں تک پہنچ گئ ہے ۔کہیں کوی سموسوں میں نشہ ڈال کر بیچتے پکڑا جاتا ہے تو کہیں کوی سکول میں کم عمر بچوں کو چیزوں میں نشہ کی ملاوٹ کر کہ ان کو وہ چیزیں کھلا رہا ہوتا ہے ۔درباروں مزاروں سڑکوں پہ بیٹھے نشئ لوگوں کی کبھی کہانیاں سنی ہے ان میں سے بیشتر اچھے خاندان سے ہوتے ہیں اور بیشتر کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ جی وہ دوست نے لگا دیا تھا نشہ پر یا ٹیچر نے یا انکل نے ۔۔لیکن نشہ کے عادی ان مجرموں کو مریضوں کو بطور پاکستانی شہری اور انسان ہونے کے ناطے نشہ کے اس کنویں سے ان کو ہم نے نکالنا ہے ۔۔افسوس اس بات ہے کہ آج کل والدین اولاد کی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دیتے ۔کہ ان کی اولاد کیا کررہی ہے ۔بیٹا بیٹی دروازہ بند کیے کس سے بات کررہے کیا کررہے ہیں کہیں کچھ غلط تو نہیں سکول بیگ شاپنگ بیگ چیک کرنا کہیں کسی غلط چیز میں تو نہیں پڑ گے ۔کہیں کچھ غلط تو نہیں کھا رہے کسی نشہ آور چیز میں تو نہیں پڑ گے۔نشہ کا عادی مجرم اس حد تک بے حس ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے ۔اپنی بیوی بچے بھی بیچ دیتا ہے گھر کا سامان پیسے زیور چوری کر کہ نشہ پورا کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے ۔اس کے لیے دین و دنیا سے کوی غرض نہیں ہوتی ۔اسے بس ایک ہی غرض ہوتی ہے اور وہ اپنا نشہ پورا کرنے کی پھر چاہے وہ کچھ بھی کرے کسی کا قتل یا کسی سے زناء یا کسی کو اغواء ۔غرض یہ کہ نشہ کا عادی اللہ کا تو نافرمان ہوتا ہی ہے ۔لیکن اپنے تمام حقوق العباد سے بھی لاپروہ ہو جاتا ہے بیوی بچوں کے اخراجات سے بچوں کی تعلیم سے والدین کی خدمت سے بچوں کے اچھے پہناوے سے ۔نشہ کا عادی انسان خود تو تڑپ تڑپ کر مرتا ہے لیکن بیوی بچوں کو بھی حالات کے رحم و کرم پر سسکتا چھوڑ جاتا ہے
۔۔منشیات کے عادی مجرموں کو مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کروایا دیا جاتا ہے ۔لیکن اکثریت کو مکمل علاج کے بعد پھر بھی آرام نہیں آتا وہ نشہ سے پھر بھی چھٹکارا نہیں پا سکتے ۔کیوں ۔کیونکہ وہاں بھی ان کو نشے کی سہولت مکمل دی جاتی ہے جس میں وہاں کا عملہ بھی شامل ہوتا ہے ۔ہسپتال ہوٹلوں پارکوں جیلوں ایسی جگہوں پر جہاں منشیات کے مریض ہوں وہاں منشیات فروخت کرنے والا بھی ضرور ہوتا ہے ۔سانپ کو مارنے کے لیے سانپ کے سر کو کچلا جاتا ہے اگر ہم نے منشیات کے خلاف اعلان جنگ کر ہی دیا ہے تو ہمیں اس سانپ کو ڈھونڈ کر کچلنا ہو گا جو وہاں تک پہنچ جاتا ہے جہاں قانون بھی اندھا ہوتا ہے ۔۔
منشيات کی مثال پڑوس میں لگی ہوئی آگ کی طرح ہے۔ آپ زیادہ دیر تک تماشا نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کا گھر جلد ہی اس آگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
اس آگ (منشیات) کو قابو کرنے کیلئے جلد از جلد آپ کو کچھ کرنا پڑے گا، ورنہ دیر ہو جائے گی۔۔
رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔
”لا تشرب الخمر فإنھا مفتاح کل شر”
”شراب مت پیو یقیناً یہ ہر برائی کی چابی ہے”۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ باب الخمر رقم ۳۳۷۱)
دوسری حدیث میں ہے۔
”کل مسکر حرام وما اسکر کیثرہ فقلیلہ حرام”
”ہر نشہ لانے والی شے حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لائے اسکی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے”۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ رقم ۳۳۹۲)
دونوں احادیث کے مطابق واضح طور پر شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے قرآن حکیم میں بھی شراب نوشی سے روکا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ تمام انسانیت کےلیے نبی بنائے گئے اور آپکی نبوت تا قیامت تک کےلئے ہے آپﷺ نے ہر ان خطرات سے امت کو آگاہ فرما دیا جس کے کرنے سے امت گمراہ اور راہ حق سے بہک جائے، شراب ایک ایسی لعنت ہے کہ جو اسکا عادی ہوتا ہے اسکے سامنے اسکی محرمات کی حرمت بھی برقرار نہیں رہتی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں ایک واقعہ بھی بیان فرمایا کہ ایک خوبصورت عورت نے اپنے پاس شراب رکھی اور ایک بچہ کو رکھا اور ایک شخص کو مجبور کیا کہ وہ تین میں سے ایک برائی کم سے کم ضرور کرے ، یا تو وہ اس عورت کے ساتھ بدکاری کرے ، یا اس بچہ کو قتل کر دے ، یاشراب پئے ، اس شخص نے سوچا کہ شراب پینا ان تینوں میں کمتر ہے ؛ چنانچہ اس نے شراب پی لی ؛ لیکن اس شراب نے بالآخر یہ دونوں گناہ بھی اس سے کرالئے ۔ ( نسائی : ۵۶۶۶)
حکومت پاکستان ملک بھر میں منشیات ڈیلر اور مافیا کے خلاف سرچ آپریشن کرے تاکہ آنے والی نوجوان نسل کو اس عذاب سے نجات اور چھٹکارا مل سکے۔
اور اس کے ساتھ ساتھ جو بھی منشیات کے کاروبار سے منسلک ہو یا خرید و فروخت میں ملوث ہو اس کو بھی عمر بھر قید یا پھانسی کی سزا کیلئےقانون سازی کی جائے۔
کیونکہ یہ نواجوان اور ان کے والدین کو جیتے جی مار دیتے ہیں۔
۔
Category: بلاگ
-

منشیات سے چھٹکارا تحریر حنا
-

سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سرکاری ملازمین کے لیے واٹس ایپ کی متبادل ایپلیکیشن تیار کر لی۔
باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ایپ سے متعلق وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے بتایا ہے کہ پاکستان میں اگلے چند ہفتوں کے بعد ہم بیپ ایپلیکیشن لانچ کرنے جارہے ہیں یہ ایپ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ہو گی اس ایپ کی دیکھ بھال این ٹی سی کریں گی، اس لیے یہ محفوظ ہو گی، یہ ایپ بن چکی ہے ٹرائل پر ہے، چند ہفتوں میں لانچ کر دی جائے گی۔
پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے اسلام آباد…
سید امین الحق کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں اس ایپ میں صرف ٹیکسٹ میسج کی سہولت ہو گی دوسرے مرحلے میں وائس اور ویڈیو کال کی سہولت بھی موجود ہو گی اس ایپ کو ابتدائی سٹیج میں صرف وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے لانچ کیا جائے گا۔
سرکاری ملازمین کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال ممنوع ، نوٹیفیکیشن جاری
واضح رہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی سرکاری ملازمین کو خط لکھ کر واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کا استعمال کرنے سے منع کیا تھا نوٹیفکیشن میں تمام سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا تھا کہ کسی ایک یا زائد ہدایات کی خلاف ورزی بددیانتی کے مترادف ہوگی اور غفلت برتنے والے ایسے سرکاری ملازم کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ ان حاضر سروس سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو اس سوشل میڈیا گروپ کے منتظم ہوں جس میں کسی طرح کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔
-

تمباکو نوشی مضر صحت ہے تحریر : ثناء شاہ
” پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
سمجھنا مت اس کو میری عادت
یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
میں تیری یادیں جلا رہا ہوں ”اللّٰه تعالی کی دی گئی نعمتوں میں سے سب سے انمول نعمت تندرستی ہے۔ تندرستی کو ہزار نعمت بھی کہا گیا ہے ۔ سگریٹ پینے والوں نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ اس دھکتے جلتے سگریٹ سے اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت بگاڑ رہے ہیں وہ اپنے وجود کو زہریلے دھویں کے حوالے کر کے نا صرف خود سے زیادتی کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ بیوی بچوں کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس جیتی جاگتی دنیا میں آنکھوں کے سامنے لاکھوں لوگ اس زہر قاتل کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں پھر بھی یہ لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔
سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹریسرچ کرنے سے سگریٹ پینے کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے جو پہلے کسی کے علم میں نہیں تھے۔ اس نشے سے صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں بلکہ اور اقسام کے دیگرکینسر کا بھی خطرہ ہے ان میں جگر اور بڑی آنت کے کینسر ، اندھا پن اور ذیابیطس جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں، ان میں بھی دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
"بی بی سی کے رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سائسندانوں نے طویل عرصے تک سگریٹ نوشی کرنے کے باوجود کچھ افراد کے پھیپھڑوں کے صحت مند رہنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے۔
50 ہزار سے زیادہ افراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ان افراد کے ڈی این اے میں مثبت تبدیلیوں کی وجہ سے پھیپھڑوں کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے اور یہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔میڈیکل ریسرچ کونسل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی موثر ادویات تیار کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
تاہم سائنسدانوں کے مطابق سگریٹ نوشی سے اجتناب کرنا ہی بہترین عمل ہے”۔
سگریٹ پینے والے کو سوچنا چاہیے کہ جلد یا بدیر اس نشے نے اسکے پورے جسم کو اپنے لپیٹ میں لے لینا ہے اور اسکا وجود نا صرف ناکارہ بلکہ دوسروں کے لئے بوجھ بنتا جاۓ گا اس کو پھیپھڑوں کے کینسر کے ساتھ ساتھ دوسری خطرناک بیماریوں کا بھی سامنا ہوگا تب انھیں احساس ہوگا کہ انھوں نے کس طرح بے دریغ اپنی زندگی ضائع کردی لیکن تب پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔
آئیں ملک کر انسانیت کو اس ناسور سے نجات دلوانے میں مدد کریں پاکستان کو سگریٹ نوشی سے پاک و صاف کریں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں ۔
کوشش میں برکت ہوتی ہے اور کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی ۔
-

6 ستمبر 1965ء کی جنگ تحریر : اقصٰی صدیق
پاکستانی قوم ہر سال 6 ستمبر یومِ دفاع کو ایک قومی دن کےطور پر مناتی ہے، اس دن کو منائے جانے کا مقصد پاک بھارت جنگ 1965ء میں عسکری افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ہے۔
اور دشمن کو بارآور کرانا ہے کہ ہماری افواج ہر مشکل گھڑی میں وطن عزیز کے تحفظ کی خاطر دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے۔
6 ستمبر 1965ء کی جنگ میں شہادت بہت سوں کا مقدر ٹھہری اور بہت سے غازی بن کر لوٹے۔
اس سلسلے میں سکولز، کالجز اور جامعات میں سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں اور ہمارے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ان کی وطن عزیز کے دفاع کی خاطر دی گئی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔پاکستان کی 67 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی اندرونی اور بیرونی دشمن نے وطن عزیز کو نقصان پہنچانا چاہا تو پاک فوج ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اس کے سامنے ڈٹ گئی ۔ میدان جنگ میں ہر فوجی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی جرأت مندی اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرے کہ پوری قوم اس پر فخر کر سکے۔
آج بھی ہم میں سے ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع اور لازوال قربانیوں پر فخر کرتا ہے اور یقین و ایمان رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے۔
افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہار روح کو گرما دیتا ہے، دل جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے اور ہمارے شہداء فوجی جوانوں کی لازوال قربانیوں کی داستانیں آنکھیں نم کردیتی ہیں۔ 6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ کا تذکرہ ہمارے دلوں کو ایمان ویقین کی طاقت اور جوش و جذبے سے لبریز کر دیتا ہے۔ گویا 6 ستمبر کا دن رہتی دنیا تک کبھی نا بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے۔
6 ستمبر کی جنگ پاکستان اور بھارت کے مابین پہلی ایک عالمی جنگ تھی۔جس میں ہمسایہ ملک بھارت نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان پر لاہور کے اطراف سے حملہ کیا،
لیکن یہ مملکت خداداد کو تباہ کرنے اور لاہور پر قبضہ جمانے کی محض ایک ناکام کوشش ثابت ہوئی، دشمن نے منہ کی کھائی۔
آپریشن جبرالٹر اور مقبوضہ کشمیر تنازعہ اس جنگ کی بنیادی وجہ ہیں۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے ہی دونوں ممالک کے درمیان کافی پیچیدگیاں رہی ہیں۔جن میں سے سب سے اہم مسئلہ کشمیر تھا، تقسیمِ برصغیر پاک و ہند کے بعد ہی بھارت نے عالمی برادری کے سامنے کشمیر کی آزادی کے متعلق کیے گئے فیصلوں کی نا صرف خلاف ورزی کی بلکہ آزادی کے مؤقف کو دبانے کی بھرپور کوششیں کیں، اور بالآخر نندا کمیشن رپورٹ میں اپنی طاقت کا مؤقف استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔ بھارت کی جانب سے کی گئی یہ ناانصافی آج 73 برس گزرنے کے باوجود بھی حل طلب ہے،
اور موجودہ دنوں کشمیر بھارتی سفاکیت و مظالم کا شکار ہے۔اور بھارت کشمیریوں کی آواز دبانے میں آج بھی ناکام ہے۔
اس کے برعکس آپریشن جبرالٹر کے نتائج دونوں ممالک کے مابین مزید کشیدگی کا باعث بنے، اور 1965ء کی جنگ کو ہوا دی۔
مسئلہ کشمیر تنازعہ اور اس کے بعد بھارت کا پاکستانی علاقے رن آف پر حملہ کرنا، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوابی کارروائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔
اور اسی تناظر میں چونڈہ کے مقام پر جنگ ہوئی۔
جنگی ساز و سامان سے لیس اور طاقت کے نشے میں دُھت بھارتی فوج نے لاہور پر حملہ کرنے کے بعد پاک فوج کی توجہ اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ افواج کے ساتھ سیالکوٹ کے اطراف میں حملہ شروع کر دیا۔
لیکن پاک فوج کے نوجوان وطنِ عزیز کی سلامتی کی خاطر جسموں پر بم باندھے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور دشمن کے متعدد ٹینک تباہ کر ڈالے اور چونڈہ کے محاذ کو دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا،
تاریخ میں اس جنگ( 1965ء) کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ میں پاک فضائیہ نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، پاک فضائیہ نے نہایت مستعدی سے کام لیا اور اس جنگ میں دشمن ملک بھارت کے 110 طیارے مار گرائے جبکہ صرف 19 پاکستانی طیارے ملکی دفاع کے کام آئے۔دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب 17 روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں دونوں ممالک اپنی اپنی فتح و کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
6 ستمبر 1965ء کی اس جنگ میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید ملک کا دفاع کرتے ہوئے بہت بہادری سے دشمن کے حملوں کا جواب دے رہے تھے کہ دشمن ٹینک سے ایک گولہ ان کے سینے پر آ لگا اور وہ موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔ان کی اس بہادری پر حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا۔
جنگ کے ان دنوں ملک تنزلی کا شکار تھا، دفاعی سامان اور افواج دونوں کی کمی تھی۔ لیکن قوت ایمانی سے سرشار قوم اور افواج نے دشمن کو گٹنیے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، غیور قوم نے اپنے ایمان، جوش اور جذبہ شہادت سے ثابت کیا کہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی ہر ممکن صلاحیت رکھتی ہے، اور انشاءاللہ آئندہ بھی دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔کیوں کہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔@_aqsasiddique
-

پرائیویٹ اسکولز کا تعلیمی نظام (ایک کاروبار) تحریر فرقان اسلم
"علم ایک لازوال دولت ہے”
ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب مسلہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ دو طرح کے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔ چند پرائیویٹ ادارے اچھے بھی ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔
من مانی فیسیوں کا مطالبہ:
پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔
سٹیشنری کا سامان :
اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔
مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے
مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے
ان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
یہاں پر ایک بات ذکر کرتا چلوں کہ چند نجی اسکول ایسے بھی ہیں جن کا معیار تعلیم بہت اچھا ہے مگر ایسے ادارے بہت کم ہیں۔ زیادہ تر لوگ ان کی فیس ادا نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کا ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور تمام طلباء کے لیے یکساں تعلیم کی فراہمی ناممکن ہوجاتی ہے۔
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین
@RanaFurqan313
-

تمباکو نوشی اور کینسر تحریر: ادیبہ
قارئین کرام، آج ہم بات کریں گے کہ تمباکو نوشی کینسر کے خطرے کو کیسے بڑھاتی ہے،جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی ایک انتہائی مہلک آلودگی پیدا کرتی ہےاور اسی آلودگی کی وجہ سے بہت سے امراض جنم لیتے ہیں۔ان امراض میں سے ایک مہلک مرض کینسر ہے۔عوام الناس میں بہت سے افراد ایسے ہوں گے جو آلودگی کے بارے میں اس حد تک نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ اس چیز کا تعین کر سکیں کہ کونسی چیز آلودگی کے زمرے میں آتی ہے۔آئیے! پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ درحقیقت آلودگی کیا ہے؟اگر سادہ الفاظ میں آلودگی کو بیان کیا جائے تو اس کا تعارف کچھ یوں ہوگا کہ آلودگی ماحول میں نقصان دہ مواد کا دوسرا نام ہے یہ اور یہی نقصان دہ مواد آلودگی کہلاتا ہے۔اگر سگریٹ نوشی کی بات کی جائے تو سگریٹ کے دھوئیں میں ہزاروں کیمیائی مادے ہوتے ہیں ان میں سے سینکڑوں نقصان دے ٹاکسن کے طور پر جانے جاتے ہیں اورحالیہ تحقیق کے مطابق ان سیکڑوں کیمیائی مادوں میں سے 65 فیصد سے زیادہ کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں سے بہت سارے زہریلے اور کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کی وجہ سے سگریٹ نوشی ماضی قریب میں کئی قسم کے کینسر کی قلیدی وجہ کے طور پر پہچانی جائے گی۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی جسم کے اندر اہم افعال کو بھی متاثر کرتی ہے جو کینسر کے خلاف جسم کی قوت مدافعت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مثال کے طور سگریٹ نوشی کرنے والے شخص کے جسم میں کسی بھی قسم کی سوزش ہونے کی صورت میں یہ سوزش بڑھتی چلی جاتی ہے جو کہ کینسر اور بہت سی دیگر بیماریوں کے خطرات کو جنم دیتی ہے۔حالیہ تحقیق کے مطابق عوامل کے اس امتزاج پر غور کرتے ہوئے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سگریٹ نوشی سرطان کے ابتدائی مرحلے سے کینسر کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔کیا سگریٹ پینے سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟ اور کتنا آئیے جانتے ہیں۔ کینسر پر ریسرچ کرنے والے ادارے کینسر ڈاٹ نیٹ کے ایک معتبر پروفیسر اینتھونے جے ایل برگ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کے زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کی بنیادی وجہ ہے لیکن جو بات کم مشہور اور عوام الناس میں کم لوگ جانتے ہیں وہ یہ کہ سگریٹ نوشی کئ دیگر اقسام کے کینسر کی وجہ بھی بنتی ہے، دیگر کینسر کی اقسام میں سرفہرست یہ ہیں: مثانے کا کینسر، گریوا کا کینسر، کولور کٹل کینسر، غذائی نالی کا کینسر، گردے کا کینسر، لاریجیل اور ہائپو فریجنل کینسر، جگر کا کینسر، لبلبے کا کینسر شامل ہیں۔مختصرا مندرجہ بالا تحقیق اور وجوہات کی بنا پر یہ کہنا غلط ہرگز نہ ہوگا کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے بہت ہی مہلک ہے،حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے اور ہماری جو نوجوان نسل اس لت میں مبتلا ہو چکی ہے اسے جلد سے جلد ریہیبلیٹیشن سنٹرز میں منتقل کرے اور ان کی کاؤنسلنگ کرے تاکہ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کاربن ثابت ہوں۔اس کے علاوہ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ ایسے ادارے قائم کرے جو نچلی سطح پر رہتے ہوئے روزمرہ کی روٹین میں اس چیز کو مانیٹر کرے اور ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرے جو انسانوں کی زندگی کے لئے موت کا سامان تیار کر رہے ہیں۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام دنیاوی آفات و امراض سے محفوظ رکھے (آمین)
@adibaarain
-

صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے
امریکی کمپنی ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرز تنقید کے بعد مؤخر کردیئے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی کمپنی ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکورٹی فیچرز متعارف کرایا تھا جس کے تحت فون پرنازیبا تصاویر بھیجنے یا آنے پر بچوں کے والدین کو اطلاع دی جائے گی۔
نئے فیچر کے تحت کسی بھی آئی فون میں بچوں کی نازیبا تصاویر ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کو بھی خودکار طریقے سے آگاہ کردیا جائے گا۔ آئی فون کے نئے سیفٹی ٹولز متعارف کرادیئے گئے ہیں۔ یہ فیچرز ابتدائی طورپر امریکہ، پھر دنیا بھر میں دستیاب ہوں گے۔
گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ
ایپل کا کہنا تھا کہ نئے فیچرز نازیبا تصاویر بھیجنے یا وصول کرنے والے بچوں کی نگرانی اور ان کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے متعارف کرایا جائے گا لیکن صارفین کی جانب سے نئے فیچر پر تنقید کرنے کی وجہ سے کمپنی نے اپنے نئے فیچر کو مؤخر کردیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق گزشتہ روز کمپنی نے اپنے متنازع نئے اینٹی چائلڈ پورنوگرافی فیچر کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہےکمپنی نے یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے نئے فیچر پر تنقید کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔
ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان
رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی ایپل کے نئے فیچر کو تنقید کا نشانہ بناتے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ فیچر مستقبل میں جاسوسی کرنے کا زریعہ بن سکتا ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشنز کا کہنا ہے کہ ایپل فون کے آپریٹنگ سسٹمز میں تبدیلی موبائل میں ممکنہ بیک ڈور بناتا ہے جس سے حکام اور مختلف گروہ صارفین کی جاسوسی کرسکتے ہیں۔
پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ کس ملک کو…
-

تھائی لینڈ کی سیر حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق
تھکے ہارے پیدل چلتے چلتے گوگل میپ کے سہارے ہوٹل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوٹل کے کاونٹر پر موجود عملے نے مسکراتے چہروں سے استقبال کیا اور ریزرویشن کی تفاصیل طلب کی ہم نے بھی سب کچھ موبائل میں ہی رکھا ہوا تھا آنے کا مقصد پوچھا بتا یا بزنس ٹرپ ہے تو آو بھگت میں کچھ زیادہ اضافہ محسوس کیا ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا اور ہال میں موجود صوفے پر بیٹھنے اور کچھ دیر انتظار کا کہا گیا
یہا ں پہنچ کر پتا چلا کہ چیک آوٹ کا وقت دو بجے ہے اور کمرہ تیار کرکے واپس ہمیں چار بجے تک ملے گا یعنی پورے چار گھنٹے ہال میں صوفہ پر بیٹھ کا چپ چاپ انتظار کرنا ہوگا کہ کب چار بجیں اور کب ہمیں اپنا کمرہ ملے ، موسم وہاں کا کافی گرم تھا اور ہوا میں نمی کی وجہ سے اے سی ہال سے باہر نکلتے ہی پسینے چھوٹنے لگتے میں نے بھی صوفہ پر ہی دراز ہونامناسب سمجھا اور خاموشی سے اپنی باری کا انتظار شروع کردیا
چار بجنے سے پورے دس منٹ پہلے کمال مہربانی کرتے ہوئے عملے نے کارڈ تھما دیا اورہم نے بھی لفٹ کی راہ لی سارا ہی نظام ڈیجیٹل تھا ہم نے بھی پہلی بار کسی اچھے ہوٹل میں رہائش رکھی تھی لفٹ کھول لی مگر دو تین بار مختلف بٹن دبانے کے بعد بھی جب کچھ نہ بنا تو چارو ناچار باہر کھڑے سیکیورٹی گارڈ کو بتایا کہ بھائی ساتویں فلور پر کس طرح جائیں اس نے بھی کمال بے نیازی سے میرا کارڈ لیا اور سینسر کے آگے کر کارڈ واپس کر کے باہر نکل گیا تو ہمیں سمجھ آئی کہ بھائی آئندہ یہ کرشماتی کارڈ ہی کام آئے گا ہر جگہ ، ہوٹل کا محل وقوع بہت اچھا تھا مین بازار صرف دس پندرہ منٹ میں پیدل جایا جا سکتا تھا
کراچی سے بینکاک مسلسل پانچ گھنٹے کی نان سٹاپ فلائٹ اور موسم کی خرابی کی وجہ سے سارا راستہ بیلٹ باندھ کر گزارنے اور ناہموار فلائٹ نے ٹھیک ٹھاک تھکا دیا تھا اور اتر کر جیسے ہی نیٹ کی سم لے لر موبائل اون کیا تو کراچی اوبر پر سفر جو کہ تین سو میں تھا اور اس ظالم نے تیرہ سو لے لئے اس کی ای میل موصول ہونے سے تھکن میں اضافہ ہو گیا سب سے پہلے گھر والوں کو خیریت سے پہنچنے کی خبر دی اور چینج کرکے سونے کی تیاری کی ، ہر بندے میں اچھی بری عادات ہوتی ہیں مجھ میں بھی ہیں پینٹ شیلٹ کا استعمال صرف دفتر اور سفر میں ہی کرتاہوں باقی اوقات میں شلوار قمیض پہننا ہی معمول وہاں پہنچ کر سب سے پہلے قومی لباس پہنا اور سو گئے
اچھا خاصا سونے کے بعد بھوک نے تنگ کیا تو چاروناچار اٹھے نہا کر فریش ہوکر تیاری کرنا چاہی کپڑے استری کرنے کیلئے ہیلپ لائن پر کال کی تو فوراً ہی استری مہیا کردی گئی کپڑے استری کئے اور اپنے پرانے تجربے کی روشنی میں ہوٹل کی لوکیشن ویٹس ایپ پر شئر کر لی تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے پہلے بھی ایک دفعہ سیر کو نکلے تھے تو ہوٹل کا راستہ بھول گئے تو کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑی تھی تب سے اب تک جہاں بھی جاتے ہیں فوراً وہاں کی لوکیشن شئر کر لیتے ہیں میں نے تو یہ معمول بنا لیا ہے جہاں جائیں احتیاطاً ایسا کرلیں نئی جگہ نیا ملک اور اکثر زبان سے نابلد ہونا ایک بہت بڑا مسعلہ ہوتا ہے بندہ نہ سمجھا سکے نہ سمجھ سکے تو مصیبت بن جاتی
آجکل سمارٹ فون نے نماز کے اوقات اور قبلہ کے تعین میں کافی آسانی کردی ہے ایسی کئی ایپلیکیشنز موجود ہے جو بہت مناسب ہیں ان حوالوں سے آپ دنیا میں جہاں کہیں بھی جائیں آپکو نمازوں کے اقات اور قبلہ کی سمت کا سہی تعین ہوجاتا ہے ، نماز پڑھی اور کھانے کی تلاش میں اندرون شہر پہنچے مگرکافی تلاش کے بعد فیصلہ کیا کہ کے ایف سی سرچ کیا جائے اور مچھلی والا برگر کھا کر گزارا کر لیا جائے تو اچھا ہے ، کچھ پیسے میں کراچی سے احتیاطاً تبدیل کروا کر تھائی کرنسی ساتھ لے گیا تھا مگر جس چیز نے وہاں سب سے زیادہ ساتھ دیا وہ سعودیہ کا کریڈٹ کارڈ تھا جب چاہیں جہاں چاہیں استعمال کرلیں جو بھائی بہن سیر کو جانا چاہیں میں انہیں کہوں گا کہ سب کے پہلے کریڈٹ کارڈ ضرور بنوائیں آجکل تو پاکستان میں بھی کم و بیش سب بینک یہ سہولت دے رہے ہیں مگر اس حوالے سے فیصل بینک بہت اچھا ہے اس کے ڈیبٹ کارڈ کو آ پ کریڈٹ کارڈ کی طرح استعمال کر سکتے ہیں جس کا تجرنہ میں نے بھی کیا جب آخری ایام میں پیسے ختم ہوگئے تو میں نے وہاں سے لوکل کرنسی نکلوائی
پہلا دن تھا کھانا کھا کر واپس ہوٹل آکر پھر سونے کو ہی ترجیح دی اگلے دن صبح صبح اٹھ کر شہر کا دورہ شروع کیا تو پتا چلا کہ کراچی ہی نہیں بلکہ یہاں پر بھی دکانیں دیر سے کھلتی ہیں ناشتہ کیلئے ایک شامی ہوٹل والا مل گیا عربی جاننے کی وجہ سے کافی آسانی ہو گئی وہ بھی خوش ہوگیا کہ چلو کوئی تو عربی بولنے سمجھنے والا آیا اس طرح ہم نے اپنی سیر کا آغاز کیا یہاں کی ساحلی پٹی دیکھنے کے قابل ہے بہترین لوکیشنز بہترین انتظامات اور کم خرچ میں آپ بھر پور سیر کر سکتے ہیں سیر و تفریح کیلئے آنے والوں میں بھارت اور سعودیہ کے افراد زیادہ نظر آئے باقیوں کی نسبت
اب کچھ دن گزار کر ہم بھی راستوں سے مانوس ہوگئے تھے اس لئے اپنی مرضی کاکھانا بھی مل رہا تھا اور مختلف مالز اور بڑی بڑی مارکیٹیں بھی گھوم رہے تھے بڑے بڑے مالز اور مارکیٹوں کے لاسٹ فلور پر فوڑ سٹریٹ کا رواج یہاں بھی ہے کسی بھی بڑی مارکیٹ کے لاسٹ فلور پر جائیں تو فاسٹ فوڈ کے ساتھ ساتھ روائیتی کھانا بھی آسانی سے مل جاتا ہے یہ سب باتیں کورونا کی وبا سے پہلے کی ہیں اب کی صورتحال تو وہاں جانے والے ہی بتا پائیں گے
کپڑے کے تھری پیس سوٹس سستے اور معیاری مل جاتے ہیں ان پر انڈین سرداروں کی اجارہ داری ہے ہر دکان میں آپ کو انڈین سردار ہی ملیں گے بڑے ہنس مکھ اور تعاون کرنے والے آپ اپنی مرضی اور پسند کا کپڑہ سلیکٹ کرلیں درزی دکانوں میں ہی موجود ہیں اسی وقت سلائی کر دیتے ہیں ، اس کام کو فائدہ مند پایا اور بلیوں کی خوراک کے حوالے سے بھی آپ وہاں سے پاکستان لاکر فروخت کر سکتے ہیں
بہر حال کچھ دن گزار کر واپسی کی راہ لی سعودیہ سے صرف ایک ماہ کی چھٹی تھی اس دوران کئی اور کام بھی کرنے ہوتے ہیں واپسی ہوٹل والوں نے صبح ہی آگاہ کر دیا کہ آپ جلد ہوٹل چھوڑ دیں تو اچھاہے ساتھ پوچھ بھی لیا کہ ٹیکسی منگوا دیں آپ کو میں نے شکریہ ادا کیا کہ نہیں میں خود چلا جاوں گا ہوٹل سے میٹرو اسٹیشن تک پیدل پہنچے میٹرو پینچ کر ائرپورٹ کا ٹکٹ لیا اور اس طرح سستی میٹرو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ائر پورٹ وقت سے پہلے پہنچ گئے بورڈنگ کیلئے آٹو میٹک مشینیں لگی ہیں ہم نے بھی اپنا بورڈنگ پاس اشو کیا اور ویٹنگ لاونج میں جانے سے پہلے پھر سے امیگریشن والے آپ کے پاسپورٹ کو سٹیمپ بھی کرتے ہیں اور جو پیپر وہاں پہنچنے پر بھرا تھا وہ بھی مانگتے ہیں ہم نے وہ پیپر تعویز کی طرح سنبھال رکھا تھا چار پانچ تہیں کھول کر پیش کردیا امیگریشن آفیسر نے مسکرا کر وصول کیا تو سمجھ گیا کہ میری طرح دوسرے پاکستانی بھی شاید ایسا ہی کرتے ہوں ، جو بھی بیرون ملک سیر کو کم خرچ میں جانا چاہے اس کیلئے تھائی لینڈ اچھی جگہ ہے
@mmasief
-

1965 کی جنگ کے حالات و واقعات اور پاکستان کی فتوحات تحریر: احسان الحق
متحدہ ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کے ناپاک عزائم لئے بھارتی فوج اندھیرے میں چوروں کی طرح مغربی پاکستان فتح کرنے واہگہ بارڈر کے راستے لاہور میں گھسنا چاہتی تھی. بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چودھری نے اپنے ساتھیوں کو جمخانہ میں محفل شراب و شباب منانے کی نوید بھی سنا دی. بھارتیوں کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں سارے مغربی پاکستان پر قبضہ کر لیں گے. مگر ابتداء سے ہی بھارتی فوج کی ذلت آمیز شکست شروع ہو گئی جب ستلج رینجرز، گشتی پولیس اور چرواہوں نے 60 ہزار بھارتی فوجیوں کو گھنٹوں پیش قدمی سے روکے رکھا.
ستمبر 1965 میں پاکستانی فوج نے بہادری اور جوانمردی کے ناقابل فراموش اور ناقابل یقین کارنامے سرانجام دیتے ہوئے دشمن فوج جو کہ تعداد اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان سے بڑی فوج تھی کو عبرت ناک شکست دی. اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی مداخلت سے 23 ستمبر 1965 کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا.
کانگریس اور ہندو برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کے خلاف تھے. جب ان کی کوششوں اور سازشوں کے باوجود پاکستان کا قیام عمل میں آ چکا تھا تو انہوں نے ہر طریقے سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی. آگے بڑھنے سے پہلے قیام پاکستان کے دوران ہندوستانی اور کانگریسی راہنما پاکستان کے خلاف اپنے مکرو عزائم کا اظہار کرتے رہے.
17 مئی 1947 لندن کے اخبار اکانومسٹ نے لکھا
"کانگریس برصغیر کی تقسیم کو اس امید پر تسلیم کرے گی کہ یہ تقسیم بعد ازاں برصغیر کو اتحاد کی طرف لے جائے گی. کانگریس اب بھی برصغیر کی تقسیم کے خلاف ہے”
3 جولائی 1947 کو ڈاکٹر شیام پرشاد مکھرجی نے کہا
"ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہئے کہ پاکستان کو دوبارہ ہندوستان میں ضم کر لینا چاہئے اور یہ ہر قیمت پر ہو کر رہے گا”
(دیوان چمن لعل 3 جولائی 1947)
"اتحاد کا خواب دیکھنے والوں کو رنج پہنچا ہے، ہمیں امید ہے جلد یا بدیر دونوں ملکوں کا اتحاد ہو جائے گا” سردار پٹیل
امرت بازار امر پتریکا. 16 اگست 1947
15 اگست 1947 کو کلکتہ میں کانگریس کے صدر اچاریہ کا کہنا تھا کہ
"کانگریس اور قوم متحدہ ہندوستان کے دعوے سے دستبردار نہیں ہوئے”
نیشنل ہیرالڈ لکھنو کے 6 نومبر 1950 کے مطابق وی جی دیش پانڈے نے کہا کہ
"ہمارا مقصد اکھنڈ بھارت میں ہندو راج قائم کرنا ہے”
6 ستمبر کو جب اہل لاہور سو رہے تھے، چوروں کی طرح اندھیرے میں بھارتی فوج نے لاہور پر حملے کرنے کے لئے پاکستان میں داخل ہوئی اور واہگہ پر ایک فوجی چوکی پر قبضہ کر لیا. اس وقت گشتی پولیس، ستلج رینجرز اور ایک سرحدی دستہ معمول کی نگرانی اور گشت پر مامور تھا. 60 ہزار بھارتی فوجیوں کو ان مختصر نیم فوجی دستوں نے گھنٹوں تگنی کا ناچ نچوایا. بھارت کا خیال تھا کہ چوری چپکے لاہور پر قبضہ کر لے گا.
بھارتی فوج کا خیال تھا کہ پاکستان اچانک اور چوری حملے کی تاب نہ لا سکے گا اور یوں مغربی پاکستان کو 72 گھنٹوں میں فتح کر لیں گے مگر پاک فضائیہ نے ان کے سارے ناپاک عزائم چند گھنٹوں میں خاک میں ملا دیئے. بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چودھری نے اپنے سپاہیوں کو لاہور جم خانہ میں ناشتہ کرنے اور محفل رقص برپا کرنے کی نوید بھی سنا دی تھی.
صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے ولولہ انگیز تقریر کرتے ہوئے قوم اور جوانوں کے خون کو گرمایا اور کہا کہ”
10 کروڑ عوام تیار ہو جائے، جس بلا نے تمہارے سروں پر سایہ ڈالا ہے اس کی موت اور تباہی یقینی ہے”
پاک جوانوں کے پہلے ہی وار میں 800 بھارتی ہلاک ہوئے اور 10 ٹینک اور 50 گاڑیوں پر پاک فوج نے قبضہ کر لیا. پہلے ہی دن پاک شاہینوں نے 22 بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو مار گرایا. شدید خطرے کے باوجود پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے 13 طیاروں کو تباہ کیا گیا. اسی روز سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی اور فلائیٹ یونس حسن نے ہلواڑہ ہوائی اڈے پر زبردست حملہ کرتے ہوئے 5 طیاروں کو تباہ کیا مگر یہ دونوں شیر دل شاہین حملے میں شہید ہو گئے.
1965 کی جنگ کے پہلے ہی روز بھارت بے تحاشا جانی، مالی اور فضائیہ کا نقصان کروا چکا تھا. بھارت کے تمام ناپاک عزائم خاک میں مل چکے تھے. اقوام متحدہ میں بھارتی لابی شروع سے ہی موجود اور مضبوط تھی. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اوتھان نے ہنگامی دورہ کرتے ہوئے 7 ستمبر 1965 کو راولپنڈی میں جنرل ایوب خان سے ملاقات کی اور جنگ بندی کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی. جناب صدر نے اوتھان کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا گہرائی، سختی اور تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بھارت کو ذمہ دار قرار دیا.
7 ستمبر کو انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو ایوان صدر جکارتہ میں کہا کہ انڈونیشیائی حکومت اور عوام پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں. انڈونیشی طلبہ نے جکارتہ میں بھارتی سفارتخانے کے باہر بھرپور احتجاج کیا. صدر سوئکارنو نے پاکستان اور کشمیر پر 24 گھنٹوں میں کابینہ کے 3 ہنگامی اجلاس بلائے.
بھارتی فضائیہ نے مغربی پاکستان کے پانچ شہروں، چاٹگام، جیسور، کریم ٹولا، لال منیر ہاٹ اور رنگ پور اور مغربی پاکستان کے 3 شہروں کراچی، سرگودھا اور راولپنڈی پر بمباری کی. مشرقی پاکستان کی فضائیہ نے بھی دشمن کو ذلیل کرتے ہوئے مجموعی طور پر اس کے 15 طیاروں کو تباہ کر دیا. 7 ستمبر کو مجموعی طور پر 31 بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو تباہ کیا گیا یوں 1 ستمبر سے 7 ستمبر کے دوران بھارتی فضائیہ کے تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد 60 ہو گئی تھی. اسی روز سرگودھا میں بھارتیوں نے پاک فضائیہ کے اڈوں پر ناکام حملے کی کوشش میں اپنا طیارہ بھی تباہ کروا بیٹھے.
7 ستمبر 1965 کو شام 6 بجکر 5 منٹ پر دشمن کے 4 ایف6 ہنٹر اور ایک ایف104 طیارے سرگودھا کو نشانہ بنانے کے لئے آئے. پاکستان کے ایف86 طیاروں کی فارمیشن کے قائد سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم تھے. ایم ایم عالم کا پہلا نشانہ خطا گیا مگر فوراً ہی دوسرے نشانے سے ایک ہنٹر طیارے کو مار گرایا اور ایم ایم عالم نے اگلا وار کرتے ہوئے چند لمحات میں دشمن کے 4 ہنٹر طیاروں کو تباہ کر دیا.
21 ستمبر کو بھارتی وزیر اعظم نے جنگ بندی کے لئے کہا کہ اگر پاکستان جنگ بندی کے لئے تیار ہو تو ہم بھی جنگ بندی کے لئے تیار ہیں.
22 ستمبر کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں پاکستان کو جنگ بندی کے لئے راضی کیا گیا. سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لئے ایک قرارداد پیش کی. وزیر خارجہ ذوالفقار علی نے اقوام متحدہ سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی. کہا کہ 18 سالوں سے تم لوگوں نے کشمیر اور مسئلہ کشمیر کو کھلونا سمجھا ہوا ہے.
سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر ایوب خان نے 22 ستمبر کو اعلان کیا کہ 23 ستمبر صبح 3 بجے تک جنگ بندی ہو جائے گی اور اپنے جوانوں کو کہا کہ اپنی اپنی جگہوں پر ڈٹے رہیں. اس وقت تک گولی نہ چلائیں جب تک دشمن پہل نہ کرے.
بھارت کے خلاف جنگ کی فتح پر 24 ستمبر کو ملک بھر میں یوم تشکر کے طور پر منایا گیا. ڈھاکہ، راولپنڈی، لاہور اور کراچی سمیت تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں نماز شکرانہ ادا کی گئی.
غیر جانبدارانہ ذرائع اور اعداد وشمار کے مطابق بھارت کو فوجیوں کی تعداد، جنگی طیاروں، ٹینکرز کے علاوہ تمام جنگی سازو سامان میں برتری حاصل تھی.
بھارتی فوج 700،000
جنگی طیارے 700 سے زیادہ
ٹینکرز 720
جبکہ پاکستان کی نمبرز کافی کم تھے
فوج 260،000
طیارے 280
ٹینکرز 756
جنگ کے اختتام پر بھارتی فوج کے 8200 فوجی ہلاک، 500 ٹینکس تباہ یا پاکستان کے قبضہ میں آ گئے. 110 سے 113 طیارے مارے گئے اور جبکہ پاکستان کے محض 19 طیاروں کا نقصان ہوا.
@mian_ihsaan
-

سیگریٹ نوشی ایک لعنت ہے اسکو کیسے روکیں تحریر اکرام اللہ نسیم
پاکستان کے طول وعرض میں سیگریٹ نوشی انتہائی درجے تک بڑھ گئی تقریبا ہر دوکان پر سیگریٹ با آسانی سے مل جاتا ہے یوں سمجھیں موت کا سامان ہر دوکان پر باآسانی مل جاتا ہے
چھوٹا ہو یا بڑا سیگریٹ نوشی کو صحت کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھتا بس جب من کیا سیگریٹ نکالا جلایا بغیر کسی ٹینشن کے سیگریٹ نوشی کی اور چل دئیے
اب اس لعنت سے لوگوں کو بچانے کے لئے کون کون سی ترکیبوں کو عمل میں لاکر لوگوں کو اس لعنت سے بچائیں
سب سے پہلے اسمبلی سے سیگریٹ نوشی کے خلاف ایسا سخت قانون پاس کیا جائے تاکہ لوگ اسکے چھوڑنے پر مجبور ہو رہ جائے تاکہ عوام اس لعنت سے بچ سکیں اور لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں
جب اسمبلی سے اس کے بارے میں بل پاس ہوجائے گا جب پکڑ دھکڑ شروع ہوجائے گی تو سیگریٹ نوشی میں کافی حد تک کمی آجائے گی ان شاءاللہ
اس میں سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ دوکانداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے چونکہ دوکانداروں کی تعداد معلوم ہوتی ہے جب گاہک کی تعداد معلوم نہیں ہوتی لہذا ریاستی ادارے دوکانداروں کے خلاف گھیرا تنگ کرے
ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ محلے یا بازار کے دوکانداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ اگر کسی بھی دوکاندار کے پاس سیگریٹ مل گئی یا کسی کو فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا اس بندے کا بائیکاٹ پورا محلہ کرے گا اور اس سے کوئی چیز بھی محلے والا نہیں خریدے گا
نہ اسکے ساتھ کوئی تجارتی لین دین کرے گا کیونکہ یہ دوکاندار فساد کا جڑ ہے
بعض علاقوں میں جرگے کا سسٹم رائج ہوتا ہے وہاں سیگریٹ نوشی کو روکنا اتنا مشکل نہیں ہوتا
کیونکہ جو بات جرگے میں رکھ دی جاتی ہے پورا علاقہ پورا محلہ اس بات کی پابندی کرتا ہے
یہ جرگہ سسٹم قبائلی علاقوں اور شمالی علاقوں میں اب بھی رائج ہے
سیگریٹ نوشی کے روک تھام کے لئے والدین سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں
اگر والدین بچوں کی بچپن ہی میں ذہن سازی کریں کہ سیگریٹ کے یہ یہ نقصان ہیں اگر آپ سیگریٹ نوشی کرو گے تو آپ کے پھیپھڑے ختم ہو جائیں گے آپ سانس لینے کے قابل بھی نہیں رہیں گے
جب والدین بچپن سے یہی ذہن سازی کریں گے
ممکن ہی نہیں کہ کل وہی بچہ بڑا ہو کر سیگریٹ نوشی کرے اور سیگریٹ نوشی جیسے لعنت کے ذریعے اپنے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے
انفرادی طور پر بھی اگر آپ کا کوئی دوست بھائی سیگریٹ نوشی کے بدترین لعنت میں مبتلاء ہیں اسے ترغیب دیں اور اسکو سیگریٹ نوشی جیسے لعنت سے بچانے کے لئے اپنی قوت خرچ کریں تاکہ پاکستان کا معاشرہ سیگریٹ نوشی جیسے بدترین لعنت سے بچ سکیں
اگر کسی سگریٹ میں اس قسم کا تمباکو ہو کہ جس سے اعضاء رئیسہ دل و دماغ وغیرہ کو سخت نقصان پہونچتا ہو تو اس کا پینا ناجائز اور سخت مکروہ ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی اس کا ترک بہرحال احوط و بہتر ہے سگریٹ پینا "بلا ضرورت شوقیہ پینا مکروہ ہے
ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل
@realikramnaseem