Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بے لگام بڑھتی ہوئی مہنگائی تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    بے لگام بڑھتی ہوئی مہنگائی تحریر:محمّد اسحاق بیگ

    جس طرح آئے دن ہر چیز کے ریٹ بڑھ رہے ہیں ہیں جیسے کہ بجٹ 2021 سے 2022 میں میں جتنی بھی زیادہ کھانے پینے والی ضرویات کی اشیاء ہیں ان کے اوپر پر بہت زیادہ ٹیکس لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے غریب کا جینا محال ہو گیا ہے ہے خان صاحب غریب کی استعمال ہونے والی اشیاء کے ریٹس کو کم کرنا چاہیے تاکہ غریب سکون کی زندگی بسر کر سکے
    ہر جگہ پہ کہیں تاجر پریشان ہیں تو کہیں عوام پریشان اور کہیں گورنمنٹ پریشان ہے لیکن اس کا حل تلاش کرنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ اگر مہنگائی بہت زیادہ ہو رہی ہے تو اس کو روکنے کے لیے حکومت وقت کو چاہیے کہ اس کا حل کرے اس کی روک تھام کے لیے کوئی کام کریں تاکہ جو رشوت خوری لے کر اپنا کام صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دے رہے ان کی وجہ سے مہنگائی بہت زیادہ ہو رہی ہے ایک شخص جو ایمانداری سے سے اپنا روپیہ پیسہ جمع کرکے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتا ہے اور ایک شخص جو دن رات رشوت خوری جھوٹ فراڈ لگا کر دھوکے بازی دے کر پیسے کماتا ہے جو معاشرے کیلئے بھی بے سکونی کی علامت ہے
    پچھلے دنوں وزیراعظم نے خود شکوہ کیا کہ جو تنخواہ انہیں ملتی ہے اِس میں گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا ہے تو غریب آدمی کا کیا حال ہوتا ہوگا جس کے گھر میں 4 یا 5 لوگ کھانے والے ہیں وہ کیسے زندگی بسر کرتا ہے جو کماتا ہے وہ 2 وقت کی روٹی کھاتا ہے جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کے اسکول کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے
    ایسے لوگ بھی معاشرے میں عام پاۓ جاتے ہیں جن کا شیوہ ہی لوگوں کو تنگ کرنا اور حرام روزی بچوں کو کھلانا جیسا کہ خورد ونوش کی ایشیاء سستے داموں لاکر منہ مانگے پیسے وصول کرنا جھوٹ اور فراڈ سے چیزوں کو بیچنا جس طرح ہر چیز میں ملاوٹ استعمال کی جا رہی ہے اسی طرح تاجروں میں غریب آدمی کی زندگی کو اجیرن کیا ہوا ہے وزیراعظم نے پیسہ بنانے کے لئے مہنگائی کرنے والے مافیا کو کیفر کردار تک پہنچانے کا جو عہد کیا ہے وہ لائق تحسین ہے مگر اِس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ مصنوعی ہے یا اصلی؟
    تاجروں کو چاہیے جو خورد ونوش ایشیاء کو زیادہ غیر متوازن ہوکر نہ تو اس قدر قیمتوں کو اتنا بلند کر دو کہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو اور نہ ہی اس قدر نیچا کر دو کہ مارکیٹ سے خورد ونوش کی ایشیاء ملنا ہی محال نہ ہو جاۓ اور وہ کارخانے اور فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور نہ ہو جائیں تو جہاں ایک طرف مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو تو دوسری طرف بیروزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو جائے اس نظام میں نچلی سطح پر بھی قیمتوں میں کمی بیشی کا ایک ایسا سلسلہ جاری رہتا ہے جو عام آدمی کیلئے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ہمارے ملک میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے پرائس کنٹرول کمیشن کے نام پر ہزاروں اہلکاروں پر مشتمل ایک محکمہ قائم ہے، اس محکمے کا کام خورد و نوش اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ مگر یہ محکمہ بھی مکمل ناکام ہے کیونکہ نااہل افسران میڈیا ٹاک کیلئے موجود ہوتے ہیں مگر عوام کیلئے نہیں

    عوام کو آج دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں، غربت کا یہ عالم ہے کہ پہلے لوگ اپنے بچوں کو فروخت کیا کرتے تھے مگر اب بچے خود ہی بھوک سے مررہے ہیں۔ آج لوگوں کے حالات زندگی اس جگہ پر آچکی ہے کہ دس روپے کی چینی اور پانچ روپے کی پتی خرید کر صبح کا ناشتہ کررہے ہیں۔ کئی گھرانے تو اس سے بھی محروم ہیں ہماری حکومت وقت سے گزارش ہے اس مہنگائی پر قابو پایا جاۓ اگر مہنگائی مصنوعی ہے تو اس کےلئے کوئی اقدامات اٹھاۓ جانے چاہیے اگر ملکی سطح پہ ایسے ہے تو جو غریب کی ضروریات کی روزمرہ کی ایشیاء کے دام کرنے چاہیے تاکہ غریب آسانی سے ان ایشیاء کو خرید سکے

    ‎@Ishaqbaig___

  • یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے تحریر: ناصرہ فیصل

    یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے تحریر: ناصرہ فیصل

    ہم سب اپنی روزمرہ کی زندگی میں مصروف ہیں، جہاں ہم دفتر کے کاموں، گھریلو کام کاج، دعوتوں، گھومنے پھرنے، پرسکون نیند لینے میں مصروف عمل ہیں اور ہمیں کوئی فکر نہیں کے کیسے ہم ایک آزاد ملک میں آزادی سے اپنی زندگی آرام و سکون سے گزار رہے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ ہم کن لوگوں کی وجہ سے یہ سب اتنی آسانی سے انجواۓ کر پاتے ہیں۔ ہاں جی ہماری پاک آرمی ، جسکے جوان دن رات ہماری حفاظت کرتے ہیں ،اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں تاکہ ہم لوگ پرسکون نیند سو سکیں، جو اپنی آرام دہ زندگی چھوڑ کر خود کو بے سکون کرتے ہیں تاکہ ہم پرسکون رہ سکیں، جو اپنی خوشیوں کی پرواہ نہیں کرتے تاکہ ہم خوش رہ سکیں، جو نا صرف اپنے خاندان کا بلکہ پوری قوم کا درد اپنے سینے میں رکھتے ہیں، جو اپنی ماؤں سے ہزاروں میل دور اس لیے رہتے ہیں کہ باقی سب کی مائیں اطمینان سے رہ سکیں، جو اپنی نئی نویلی دلہن کو اس لیے اکیلا چھوڑ کرچلے جاتے ہیں تاکہ باقی سب جوڑے ہنسی خوشی رہ سکیں، جو اپنی زندگی تک قربان کر ڈالتے ہیں تاکہ ہم سب محفوظ و مطمئن زندگی گزار سکیں۔ یہ ہیں ہماری پاک افواج کے بہادر سپوت ،جن کو سلیوٹ کرنا ہم سب پر فرض کی طرح ہونا چاہیے۔ کیونکہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں ، اُن کے احسان مانتی ہیں اور انکو بلند مقام اور درجہ دیتی ہیں.

    وہ لوگ جو انکے سینے پر لگے بیجز پر ہی نظر رکھتے ہیں ، ان بیجز کے پیچھے چھپی قربانیوں اور داستانوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ وہ جن کو صرف انکا پروٹوکول نظر آتا ہے اس پروٹوکول تک پہنچنے کی انکی لمبی جدوجہد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ وہ جو انکو دی گئی سہولیات پر انگلی اٹھاتے ہیں انکی قلیل تنخواہوں کے بارے میں نہیں جانتے۔ اور جو انکے بڑے گھروں کو دیکھتے ہیں پر یہ نہی جانتے کے کیسے ہر 6 مہینے سال دو سال بعد انکو اپنا بوریا بستر باندھ کر کوچ کرنا پڑتا ہے۔

    یہ اپنے لیے نہی جیتے بلکہ انکی جدوجہد، پیار، کوششیں، دیکھ بھال، وقت، دن رات حتٰی کہ انکی زندگیاں بھی صرف پاکستانی قوم کے لیے ہیں۔ یہ خاکی وردی انکو دن رات کی انتھک محنت اور کٹھن مراحل سے گزرنے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے لیکن یہ ثابت قدم رہتے ہیں پیچھے نہی ہٹتے۔ میدان جنگ میں بھی یہ صرف آگے بڑھنے کی لگن رکھ کر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اپنے وسیع سینوں پر گولیاں کھاتے ہیں، پیچھے مڑ کر دیکھتے بھی نہیں۔ اور وہ یہ سب اتنی آسانی سے کیسے کر جاتے ہیں؟ کبھی سوچا ہے؟ وہ یہ اس لیے کر پاتے ہیں کیونکہ وہ اس دھرتی سے، یہاں کے لوگوں سے، یہاں کی مٹّی سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارا فخر ، ہمارا مان ہیں۔ انکی وجہ سے کسی دشمن میں ہمت نہیں کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ بھی سکے۔
    پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ برّی برّی طاقتوں نے اپنے مذموم ارادوں میں ہمیشہ شکست کھائی کیونکہ ہماری پاک فوج کے جوان اور اسکے جانباز ہمہ وقت اس سرزمین کی حفاظت کے لیے چاق وچوبند ہیں۔ آج ہر کوئی پاکستان کی فوج کا معترف ہے کیونکہ اس فوج نے ہر میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں اور خود کو ثابت کیا ہے۔ اسی لیے پاکستان آرمی کو دنیا کی بہترین افواج میں گردانا جاتا ہے۔ اور یہ اعزاز انہوں نے ایسے ہی حاصل نہیں کر لیا۔ اسکے لیے انہوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔اپنے آپ کو قربان کیا ہے۔ کتنے بیشمار شہیدوں کا لہو شامل ہے اس گلستاں کی آرائش میں۔ کتنی ماؤں کی گود اُجڑی ہے، کتنی سہاگنوں کے سہاگ اُجڑے ہیں، کتنی بچوں کے سر سے انکے والد کاسایہ چھینا گیا ہے تو یہ چمن بسا ہے اور یہاں پر بہار ہے۔

    الحمدللہ پاکستان ایک نیوکلیئر پاور ہے۔ جو کہ پاکستان آرمی کی بہت بڑی طاقت ہے۔ اسی کی وجہ سے بھارت جیسے بڑے ملک کی ہمت نہیں کے وہ آنکھ اٹھا کر پاکستان کی طرف دیکھ بھی سکے۔۔ اسی وجہ سے بھارت ہمیشہ پیٹھ پیچھے وار کرتا ہے پر ہماری آئی ایس آئی ہمیشہ اسکے ہر وار کو ناکام بنا دیتی ہے۔
    پاکستان کا بچہ بچہ اپنی افواج سے بےپناہ پیار کرتا ہے۔ انکی قدر کرتا ہے ۔ اور اسی لیے دن رات اپنی افواج کے دفاع کیلئے تیار رہتا ہے۔
    علّامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے ہی بہادر ، نڈر اور بلند حوصلہ جوانوں کے متعلق فرمایا تھا،

    "”یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
    جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
    دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
    سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
    دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
    عجب چیز ہے لذت آشنائی
    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی "”

    پاک فوج زندہ باد۔
    پاکستان پائندہ باد۔

    ‎@NiniYmz

  • میں اور میری امی جان تحریر ۔  فرزانہ نیازی

    میں اور میری امی جان تحریر ۔ فرزانہ نیازی


    آج میں آپ کو اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہوں زندگی میں میں نے جو چاہا وہ ملا خود کو بہت خوش نصیب بھی سمجھتی ہوں پر کہیں سے بدنصیب بھی ہوں شاید آپ کی آنکھ میں آنسو بھی آجائیں میرے الفاظ سن کر میں اپنی امی سے بہت محبت کرتی تھی مجھے لگتا تھا میں مر جاؤں گئی اگر امی مجھے ایک منٹ بھی مجھ سے دور رہی تو ہمیشہ اپنی امی سے یہ شکایت رہی کہ وہ مجھ سے زیادہ بھائی سے پیار کرتیں ہیں امی کے ساتھ سونے کی بات آئی تو دونوں کی ضد میں جیت بھائی کی ہوئی لیکن میرا بھائی میری جان تھا
    کھانا کھلانے کی باری آتی تو پھر سے وہی ضد،اور جیت پھر بھائی کی
    تب میں ناراض ہوتی تو امی مجھے ہمیشہ یہی کہتیں تھیں
    بیٹیاں ضد نہیں کرتی ہوتی وہ بات مانتی اچھی لگتی ہیں ایک دن مجھ سے وعدہ لیا اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گئی
    اس وقت میں سوچتی تھی پتا نہیں امی ایسا کیوں بول رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی انکی باتیں بس یہی سوچتی تھی بات نہیں مانوں گی
    میں بہت ضدی ہوتی گئی کسی کی نہیں سنتی سب کی لاڈلی تھی امی میرے لیے بہت پریشان ہوتیں اور کہتیں تھیں
    اس لڑکی میں پارہ بھرا ہے نچلا بیٹھنا اسے آتا ہی نہیں
    پتا نہیں زندگی میں کیسے چلے گی
    وہ گھر میں لڑکیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتی تھی امی کہتی تھی
    میں ان کو پڑھاتی ہوں یہ میرے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں گی
    میں نے کبھی نہیں سوچا کہ صدقہ جاریہ کیا ہوتا ہے
    مسجد سے کسی کے فوت ہو جانے کا اعلان سنتیں تو فورا کام چھوڑ چھاڑ قرآن پاک لے کر بیٹھ جاتیں میں پوچھتی
    اپکو کیا پتہ کون فوت ہوا ہےاور فوت ہونے والے کو کیا پتہ آپ کون ہیں
    تو کہتیں
    الله کو تو پتہ ہے نہ پھر جب میں کسی کو ایصال ثواب کروں گی تو ہی تو کوئی مجھے بھی کرے گا
    مجھے انکی باتوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی میں صرف 8 سال کی تھی انہوں نے کبھی اپنے حق میں کچھ نہیں بولا
    خاموشی
    یہ انکا معمول رہا ہر مہینہ کے شروع میں چاول بنا کر مدرسہ کے بچوں کو کھلاتی تھی
    تو بہت پیار سے کہتیں
    یہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں الله کے باغ کے پھولاس لیے انہیں کھلاتی ہوں
    وہ ایسی ہی تھیں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی ہر تکلیف خاموشی اور صبر سے برداشت کر لیتیں تھیں پر وہ بیمار رہنے لگی ایک دن میں سکول میں تھی واپس آئی تو امی نہیں تھی مجھے چھوڑ کر اپنے گھر نانو پاس چلی گئی جب کہ میں دادا جان دادو جان کی لاڈلی تھی میں ادھر کی رہتی تھی کبھی نہیں گئی نانو گھر امی وہاں 2 دن رہی 3 دن کی صبح وہ اللہ کے پاس چلی گئی جب ہمیں پتا چلا تو مجھے یقین ہی ہوا پہلے بس دل بند ہو رہا تھا سوچ سوچ کر پھر پتا نہیں کیا ہوا جب امی سامنے تھی تھی تو بلکل نہیں روئی بلکے بھائیوں کو سنبھال لیا بابا ہمیں دیکھ کر بہت روتے تھے نانو صدمے سے اپنے حوش و حواس کھو بیٹی وہ وقت آج بھی یاد ہے مجھے آج میں 22 سال کی ہو گئی ہوں پورے خاندان کو یہی لگتا میرے بغیر کچھ میں اپنے بھائیوں بابا کیلئے سب کچھ ہوں دل میں اس بات کا افسوس ہے امی مل نہیں پائی دعا ہے اللّٰہ پاک امی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ایک چھوٹی سی نصیحت ہے جو لوگ مجھے پڑھ رہے ہیں اپنی کی قدر کریں زندگی شاید آپ کی ہو پر آپکی ماں شاید بہت ہی کم رہا گئی ہو جتنا ہو سکے وقت دیا کریں انھیں ۔۔!!!
    ‎@Miss__niazi

  • تمباکو نوشی” کےخلاف "جہاد” میں اتحادکی ضرورت تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    تمباکو نوشی” کےخلاف "جہاد” میں اتحادکی ضرورت تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    تمباکو کا پودا ایک سالانہ فصل دینے والا پودا ہےجسے فصل اترنے کے ساتھ ہی سوکھنے کے لئے چھوڑ دیاجاتا ہے سوکھنے کے دوران اس میں کئ طرح کے کیمیائ عمل وقوع پزیر ہوتے ہیں اس کے بعد سوکھے پتوں سے تمباکو حاصل کیاجاتا ہے یہ عام طور پر ہلکے نشہ آور خصوصیات رکھنے والی شہ شمار کی جاتی ہے۔ تمباکو دوا کےلئے، کیڑے مارنے کے لیے اور بعض ادویات میں نکوٹین کی جزو کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ لیکن جب یی تمباکو انسان سگریٹ، نسوار ،پان اورگٹکے کی شکل میں استعمال کرتا ہے تو مضر صحت بن جاتا ہے۔ کیوبا، چین اور امریکہ سب سے زیادہ تمباکو پیدا کرنے والے ممالک ہیں جبکہ پاکستان کا شمار بھی دنیا کےاعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتاہے۔
    پوری دنیا کےطبی ماہرین اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے نظام کو تباہ کردیتی ہے تمباکو نوشی سے نوجوانی میں اموات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی سے سالانہ ایک لاکھ سے ذائد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ اموات پھیپھڑوں کے کینسر، اسٹروک، دل کی شریانوں کے تنگ ہونے، اور مختلف امراضِ قلب کی وجہ سے ہوتی ہیں اس کےعلاوہ یہ عادت سانس کی بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔
    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 40 لاکھ ایسے بچے ہیں جو 13 سے 15سال کی عمر میں ہونے کے باوجود تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال بھی کررہی ہے۔اوریہ بات باعث تشویش ہے کہ پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔
    ایک سروے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے 19 فیصد لوگ ایسے ہیں جو 18سال کی عمر میں ہی تمباکو کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ مردوں میں سگریٹ نوشی 32 فیصد اور خواتین میں 5.7 فیصد تمباکو استعمال کرتی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں خواتین ثقافتی اور معاشرتی طور پر سگریٹ سے اجتناب کرتی ہیں کیونکہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کی سگریٹ نوشی معیوب سمجھی جاتی ہے لیکن اس صورتحال میں بھی خواتین کی یہ شرح باعث تشویش ہے قابل فکربات یہ ہے کہ پاکستان میں نوجوانی سے قبل ہی اکثر بچے تمباکو استعمال کرنے لگتے ہیں۔
    پوری دنیا تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے شور تو مچارہی ہے اور اس ضمن میں قانون سازی بھی ہو رہی ہے جنمیں سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی اور ٹیکسوں میں اضافہ نمایاں ہیں اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جو کمپنی سگریٹ بنا رہی ہیں وہ یی اس کے پیکٹ پر یہ فقرہ درج کرتی ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے” ۔مزکورہ تمام اقدامات کے بعد بھی تمباکو نوشی کے تدارک میں کوئ پیش رفت دکھائ نہیں دیتی بلکہ اس مضر صحت شہ کو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی دیکھنے میں ارہا ہے۔گو کہ دنیا میں تمباکو نوشی روکنے کے لئے بظاہر تو سارے اقدامات ہوتے نظر آتے ہیں لیکن بادئ النظر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیا اس مضر صحت شہ۔کی روک تھام کے لئے ضروری نہیں اس انڈسٹری ہی کو بند کر دیا جائے لیکن ایسا کیا نہیں جاسکتا کیونکہ تمام بڑی کمپنیاں مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں اور باقاعدہ بین القوامی مافیا اس کو تحفظ دیتی ہے سب سے تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ بطور مسلمان ہم خود مبینہ طور پرتمباکو نوشی کے خلاف اب تک کوئ متفقہ فتوئ لانے میں کامیاب نہ ہو سکے ہیں اب تک مختلف مکاتب فکر کے مفتیوں کے مختلف فتوے سامنےآ چکے ہیں جن کے درمیان بھی اختلاف نظر آتا ہےکچھ تمباکو نوشی کو حرام، کچھ مکروہ اور کچھ اس کو مباح کہتے ہیں۔
    دوستوں کسی بھی فقہیء اور فکری اختلاف کے باوجود میری رائے میں اب تک محترم مفتی صاحبزادہ بدر عالم جان صاحب کا درج زیل فتوئ تمباکو نوشی کو حرام قرار دینے کے لئے کافی ہے اس لئے آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں کہ
    "شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات”۔
    مفتی صاحبزادہ بدر عالم جان” دارالافتاء” سے وابسطہ ہیں جو تحریک منہاج القرآن کا آن لائن پراجیکٹ ہے، جس کے ذریعے عوام الناس کو دین کی معلومات قرآن و سنت کی روشنی میں فتووں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں ۔مفتی صاحب فتوی نمبر1079میں بہت تفصیلی وضاحت دیتے ہیں!
    "تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے جس کے عادی افراد کے جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ جیسا کہ سگریٹ کی ہر ڈبی پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ ‘مضر صحت ہے’ اور وزارتِ صحت کی طرف سے خبردار بھی کیا گیا ہوتا ہے۔ کسی چیز کے مضر صحت ہونے کی اس سے بڑی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ اسے بنانے والے خود ہی اس پر لکھ دیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پھر بھی جو اس کو استعمال کرے گا اسے کون سمجھدار کہے گا؟ جدید طب سے ثابت ہے کہ تمباکو و سیگریٹ نوشی، پان، گٹکا، نسوار اور اس قبیل کی دیگر اشیاء کینسر، دمہ اور ٹی بی وغیرہ جیسی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہیں، اور ہماری دانست میں مضر صحت ہونے کی بنا پر ان کا استعمال شرعاً ممنوع ہے۔ قرآنِ مجید میں ﷲ تعالیٰ کا واضح حکم ہے:

    وَلَا تُلْقُوْا بِيْدِيْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ ﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ.

    اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بے شک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے۔

    البقرة، 2: 195

    وہ زہر جو فوری اثر کرے اور انسان کی جان لے لے اور وہ زہر جو رفتہ رفتہ اور بتدریج انسان کی جان لے جسے (Slow Poision) کہا جاتا ہے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے، دونوں شریعت کی نظرمیں حرام ہیں۔ بلاشبہ سگریٹ کا شمار (Slow Poision) کے زمرے میں کیا جاسکتا ہے جو بتدریج انسان کی جان لیتا ہے۔ تمباکو نوشی اور سگریٹ کی ہلاکت خیزی سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر خود کو ہلاک کرے۔ ارشاد ہے:

    وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا.

    اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔

    النساء، 4: 29

    اسی وجہ سے فقہائے اسلام نے ہر اس چیز کو جس کا کھانا ضرر رساں ہو اسے حرام ہے قرار دیا ہے۔

    علاوہ ازیں تمباکو و سگریٹ نوشی میں جسمانی، مالی اور نفسیاتی نقصان بھی ہے۔ سگریٹ نوش رفتہ رفتہ سگریٹ کا اس قدر عادی ہو جا تا ہے کہ وہ اس کا غلام بن کر رہ جا تا ہے، وہ چاہتے ہوئے بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا، اگر سگریٹ نہ ملے تو اس کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔

    ان سب نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری رائے ہے کہ سگریٹ نوشی حرام ہے۔اس میں ایک دو نہیں بلکہ کئی نقصانات ہیں، اور ان کے مقابلہ میں فائدہ کچھ بھی نہیں ہے۔

    واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔”

    مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

    تحریر
    عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    @Azizsiddiqui100

  • تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    تمباکو نوشی کا مطلب اپنی ہی زندگی سے دشمنی تحریر: سحر عارف

    اس وقت ملک میں موجود مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ تمباکو نوشی بھی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے استعمال میں ایک سنگین حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ جیسے کہ ہم سب باخوبی واقف ہیں کہ ہمارے اسلام میں نشے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو بہکائے، اس کی بری عادت بن جائے، جو اس کی جان کو ہلاکت میں ڈالے نشہ ہی تو ہے جو ہم سب مسلمانوں پر حرام یے۔

    اسی طرح تمباکو نوشی ایک ایسا نشہ ہے جو ہمارے معاشرے میں اس طرح سے پھیل رہا ہے جیسے جنگل میں لگی آگ پھیلتی یے۔ اس نشے سے سب سے زیادہ ہماری نوجوان نسل متاثر ہورہی یے۔ نوجوان لڑکے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے شوق کے متبادل اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    بلکہ اب تو لڑکیاں بھی بہت حد تک اس کی لپیٹ میں آچکی ہیں۔ پر افسوس وہ جان کر بھی انجام بنے ہوئے ہیں کہ جس چیز کو وہ اپنے شوق اور تفریح کے لیے استعمال کررہے ہیں درحقیقت وہ ان کے لیے کتنی جان لیوا ہے۔ تمباکو نوش یہ سب باتیں جانتے ہوئے بھی کہ ہم ہلاکت کے گڑھے میں جارہے ہیں تمباکو نوشی کا استعمال اور زور وشور سے کرتے ہیں۔

    جبکہ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالٰی نے واضح حکم دیا ہے:
    "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بےشک اللّٰہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے”
    (البقرہ 195:2)

    پھر ایک جگہ اور ارشاد ہوا ہے:
    "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بےشک اللّٰہ تم پر مہربان ہے”
    (النساء 29:4)
    اگر غور کیا جائے تو اس بات میں کوئی دورائے ہے ہی نہیں کہ ہر وہ انسان جو تمباکو نوشی کرتا ہے وہ جان بوجھ کر اپنی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے کیونکہ سگریٹ کی ہر ڈبیا پر واضح طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہوتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” یعنی خود سگریٹ بنانے اور بیچنے والے آپ کو چیخ چیخ کر بتارہے ہوتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

    پھر بھی اگر لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں تو وہ خود ہی اپنی جانوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں بلکہ اگر میں ایسا کیوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کا یہ کہنا ہے جب کوئی تمباکو نوش کسی دوسرے فرد کے ساتھ بیٹھ کر سگریٹ نوش کررہا ہوتا ہے تو اس سے خود سگریٹ پینے والے کو کم نقصان ہوتا ہے اور جو شخص اس کے آس پاس موجود ہوتا ہے وہ سگریٹ کے دھوئیں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے ہر سال ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اترتے ہیں اور کروڑوں افراد اس کی وجہ سے کئی کئی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں مثلاً دل، پھیپھڑوں، کینسر اور زیابطیس وغیرہ جیسی بیماریاں زیادہ تر اس کے سبب پھیل رہی ہیں۔ اب یہاں چند سوالات اٹھتے ہیں۔ آخر کو تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ابھی تک کسی قسم کے کوئی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ آخر کب تک ہزاروں قیمتی جانیں یوں ہی ضائع ہوتی رہیں گی؟ ہماری نوجوان نسلیں کب تک اپنی زندگیاں اپنے ہی ہاتھوں برباد کرتی رہیں گی؟

    @SeharSulehri

  • تمباکو نوشی معاشرہ میں زہر کی حثیت رکھتا ہے  تحریر چوہدری عطا محمد

    تمباکو نوشی معاشرہ میں زہر کی حثیت رکھتا ہے تحریر چوہدری عطا محمد

    آج اگر ہم اپنے اردگرد زرا غور کریں تو سینکڑوں نہی ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں لوگ تمباکو نوشی کرتے نظر آئیں گے اور اگر ہم ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن کی رپورٹ دیکھیں تو سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں آپ حیران ہوں گے یہ سن کر کہہ تقریباً چھ لاکھ لوگ خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ وہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں اگر اسی رپورٹ کے تناظر میں ہم دیکھیں تو پورے اقوام عالم میں تقریباً سو کروڈ سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں تقریباً زیادہ تعداد ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی ہے اگر ہم ارض پاک پاکستان کی بات کریں تو ہمارے ہاں بھی تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسکی ایک بڑی وجہ ہمارے بچے اور نوجوان نسل اس کا شکار ہو رہی ہے کچھ فیشن سمجھ کر سگریٹ پیتے اور کچھ کو سگریٹ کی لت کالجز اور یونیورسٹی میں لگ جاتی
    ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی سے ان بچوں اور نوجوانوں کے اخلاق پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے عام نارمل جسم میں تمباکو نوشی سے نشہ یا خمار سا پیدا ہوتا جو لگاتار سگریٹ نوشی کرنے والوں کو ٹی بی جیسی موضی مرض میں مبتلا کر دیتا تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اگر طبی ماہرین کی بات کو دیکھیں تو ان کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے یعنی سگریٹ نوشی کرنے والا ہر شخص اپنی اوسط عمر سے تقریباً پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ میں تقریباً چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء ہیں
    ہمارے ہاں جس سے بھی تمباکو نوشی ترک کرنے کا کہا جاۓ وہ کہتا اب بہت دیر ہو چکی ہے ہم تو کافی عرصہ سے سگریٹ نوشی کر رہے ہیں ایسا کہنا بلکل بھی غلط ہے تمباکو نوشی ترک کر کے ہم نہ صرف خود کو کافی حد تک بہت سی موضی مرض سے بچا سکتے ہیں بلکہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی خراب ہونے اور ہمارے دھواں سے جو دوسروں کو نقصان ہوتا ہے ان سب کو بھی سگریٹ نوشی ترک کر کے بچا سکتے
    سگریٹ نوشی معاشرے کے لئے ایک زہر ہے اور آپ سگریٹ نوشی چھوڑ کر ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں
    شروع میں چند دن آپ کو سگریٹ چھوڑنے سے الجھن ہوگی اور آپ سگرٹ چھوڑنےکے بعد،کچھ لوگ تھوڑے دن کے لیے اچھا محسوس نہیں کرتے۔  لیکن عام طور پریہ جلدی ٹھیک ھو جاتا ھے
    شرعی لحاظ اور اگر اسلام کی بات کریں تو علماء حضرات سگریٹ نوشی سے منع کرنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں تمباکو نوشی کو حرام قرار دیتے ہیں اسکی بڑی وجہ وہ ان جان لیوا بیماریوں کو بتاتے ہیں جو عام انسان کی بنسبت تمباکو نوشی کرنے والوں کو کئی گنا زیادہ لگتی
    تمباکو نوشی جیسی لعنت سے جان چھڑانے کے لئے سب سے پہلے والدین اساتزہ اور پھر معاشرہ کو مل کر اس کے لئے آواز اٹھانی ہوگی جب ہر مکتبہ فکر کے لوگ اس سے جان چھڑانے کا پکا ارادہ کر لئے گے اور آواز اٹھائیں گے تو پھر حکومت وقت جو اس وقت اس اہم مسلہ پر سوئی ہوئی ہے جاگ جاۓ گی اور اسکے روک تھام کے لئے اقدامات کرے گی جن میں سب سے پہلے پبلک مقامات بس سٹینڈ پارکس بینک سرکاری آفس کالج سکول ہاسٹل یونیورسٹی پبلک ٹرانسپورٹ مثلاً ریل گاڑی بس رکشہ سب میں سگریٹ نوشی سختی سے منع ہو
    اور حکومت اس پر سخت قوانین بناۓ بھاری جرمانے لگاۓ اس سے کافی حد تک سگریٹ نوشی میں کمی واقع ہو سکتی ہے
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • میں بھی تو انسان ہوں۔ صحرا میں سسکتی زندگی  تحریر بشارت حسین ایوب۔

    میں بھی تو انسان ہوں۔ صحرا میں سسکتی زندگی تحریر بشارت حسین ایوب۔

    میں بھی انسان ہوں۔
    زندگی اک جبر مسلسل ہے۔ اک سانس کو چلانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کرنی پڑتی ہیں۔ اس راہ میں کچھ بہت آگے نکل جاتے ہیں ترقی کی جیسے ساری راہیں طے کر جاتے ہیں مشکلات پہ قابو پا لیتے ہیں اور کچھ دوسروں پہ اپنی تکالیف کا وزن ڈال کر انکی راحتیں لے کر زندگی کی راہوں پہ چل نکلتے ہیں۔
    جس طرح انسانی جسم کو زندہ رہنے کیلئے آکسیجن کی ضرورت ہے اسی طرح اس کو صاف پانی اور متوازن غذا کی بھی ضرورت ہے۔
    اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک پانی جیسی نعمت سے مالا مال ہے لیکن پھر بھی یہاں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں پانی بلکل بھی میسر نہیں۔ ایسے علاقوں میں نہ تو آج تک گورنمنٹ لوگوں کو یہ سہولیات دے سکی اور نہ وہاں کے باسی خود اپنے لیے پانی کا کوئی خاطر خواہ بندوبست کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے مکین آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے تقریبا صدی مکمل ہونے کو ہے لیکن وہاں ان علاقوں میں زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات تک میسر نہ ہو سکیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں وہاں کے باشندوں کی خوراک ، صحت ، تعلیم ، رہن سہن ، بودوباش اور پینے کے صاف پانی کے مسائل اج تک کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ کون آئے گا جو انکے ان مسائل کو حل کرے گا؟
    کون آئے گا جو ان کے دکھوں کا مداوا کرے گا؟
    کون ہے جو انکے درد کو بانٹے گا؟ کون ہے جو ان کو جینے کا حق دے گا؟
    کیا انکو جینے کا کوئی حق نہیں؟
    انسانی ضروریات کی بنیادی سہولیات کون مہیا کرے گا انکو؟
    کیسے وہ اپنی زندگی گزارتے ہیں ان کو دیکھ کر ہر ذی شعور انسان کو ترس آتا ہے۔ ان کے پینے کے پانی کا انحصار بھی بارشوں کے جمع شدہ تالابوں اور جوہڑوں پہ ہوتا ہے جو کہ بارش ہونے پہ بھر جاتے ہیں اور پھر وہیں سے جانور پانی پیتے ہیں وہیں سے وہاں کے رہنے والے لوگ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرتے ہیں۔ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ کا انسان ایسا پانی پی رہا ہے جو کہ عام استعمال کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ لیکن کیا کریں کس کو پکاریں انکی آواز نیسلے پینے والوں کے کانوں تک کہاں پہنچتی ہے؟
    ہزاروں لوگ سالانہ خشک سالی سے مر جاتے ہیں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پانی جوہڑوں اور تالابوں سے خشک ہو جاتا لوگ پیاس سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں تو کچھ حکومتی نمائندے اپنے گناہوں پہ پردہ ڈالنے اور اپنا ووٹ بچانے کیلئے کچھ کھانے پینے کی اشیاء لے کر وہاں پہنچ جاتے ہیں کچھ تصویریں بنا کر اور کچھ ویڈیو بنا کر اپنے مخلص ہونے کا ثبوت دے آتے ہیں۔
    لیکن ان کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں۔
    ہر سال ہزاروں لوگ گندے پانی کے استعمال سے مختلف جان لیوا وبا کا شکار ہو جاتے ہیں کچھ اس میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں اور کچھ ان وباوں سے معذور ہو جاتے ہیں۔ آخر یہ امتیازی سلوک کیوں؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا انکو یہ حق حاصل نہیں کہ انکو بھی عام لوگوں کی طرح سہولیات زندگی دی جائیں؟
    یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہماری سوچ انفرادی نہیں اجتماعی ہو گی۔ آج ہر ایک کو اپنی زندگی اپنی خوشی اور اپنی سہولتوں کا خیال ہے ہم ان لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں یہ سوچ کر شاید کہ ہم تو خوش ہیں ہمیں تو پرابلم نہیں۔ لیکن انکی آواز تو بن سکتے ہیں ان کی بات کو حاکم وقت تک تو پہنچا سکتے ہیں سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے پھر بھی ہم خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ وہاں زندگی کی کوئی دوسری سہولت نہیں انٹرنیٹ نہیں موبائل سروس نہیں لوگ احتجاج نہیں کر سکتے لوگ اپنے ہی غموں میں ڈوبے ہیں لیکن ہم تو آزاد ہیں ان کی آواز بن سکتے ہیں انکے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں تو پھر ہم خاموش کیوں ہیں؟
    ہم حکومت وقت سے ان لوگوں کی زندگیوں کا حساب کیوں نہیں مانگتے؟
    وہ بھی انسان ہیں ہماری طرح جینا انکا بھی بنیادی حق ہے انکے جذبات بھی ہماری طرح ہیں ان کے دلوں میں بھی وطن اور اپنوں کی محبت ہے وہ بھی پاکستانی ہیں وہ بھی محب وطن ہیں وہ بھی وطن پہ جان دینے کو اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں۔
    ہم تکالیف میں گھرتے ہیں تو وہ بھی اس کا درد محسوس کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان کا درد کیوں نہیں محسوس ہوتا؟ آخر کیوں؟

    Writer
    https://twitter.com/Emerging_PAK_B?s=09

  • شکر گزاری ایک نعمت ہے  تحریر محمد جاوید:

    شکر گزاری ایک نعمت ہے تحریر محمد جاوید:

    ” اگر تم شکر کروگے تو میں تمیں اور دونگا !”
    (القران )
    شکر ایک عام انسانی اور اسلامی صفت ہے ہمیں ہر حال میں اللّه کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ شکر گزاری کے بارے میں اللّه فرماتے ہیں کہ جو شخص جیس نعمت پہ شکر ادا کرے گا میں اسے وہ نعمت اور زیادہ دونگا، در حقیقت احساس کا نام ہے یہ زبان سے نہیں اپنے عمل سے ھوگا۔ احساسات عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک آدمی بہت سارا مل وہ دولت اكهٹا کرتا ہے اسے بانٹتا نہیں ہے اور کہتا ہے کہ شکر ہے ،شکر ہے تو وہ آدمی اصل میں شکر کرنے والا نہیں کہلاے گا۔ کیوں کہ کنجوس آدمی مال اكهٹا کرتا ہے اور استعمال کوئی اور کرتا ہے ہم زندگی میں بہت سارا مال اكهٹا کرتے اور کہتے ہیں یہ ہمارا ہے ۔ ذرا سوچیے کیا یہ شکر گزاری ہے ؟ نہیں یہ شکر گزاری نہیں!
    شکر گزاری کا مطلب یہ ہے کہ اللّه پاک نے جو دیا ہے وہ اللّه کی راہ میں استعمال ہو ۔ شکر گزاری کا ایک اچھا طریقہ یہ بھی ہے کہ جو اللّه نے دیا اسے اللّه کے راہ میں خرچ کریں غريبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں جو نعمتیں اللّه نے دیا ہے انہیں دوسروں میں بنٹنا شروع کریں۔
    اپنے روے سے اپنے انداز سے شکر گزار بنیں کیوں کہ عمل سے پتا چلتا ہے کہ بندہ کتنا شکر گزار ہے جو دوسروں کا خیال نہیں رکھتا ہو جو دوسروں کا درد احساس نہیں رکھتا ہو جو دوسروں کو اپنے رزق میں شامل نہیں کرتا ہوں وہ بندہ شکر گزار نہیں بن سکتا۔ بہت ساری چیزیں اور وجود ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتی اور نہ انہیں چھوا جا سکتا مگر ہماری کامیابی اور ترقی میں ان کا بہت کردار ہوتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں پہ شکر ادا کرنا چائے۔
    ہر حال میں ہر بات پہ ہر چیز پہ اللّه کا شکر ادا کرنا چائے مثلا یہ کہ یا اللّه تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ نے مجھ سیکھنے کا شوق دیا اگر سيكهنے کا شوق نہیں دیا ہوتا تو میں علم حاصل نہیں کر پاتا۔
    اے اللّه اگر مجھ شکر گزار بندہ نہ بنایا ہوتا تو آج میری زندگی میں اتنے محبت کرنے والے لوگ نہ ہوتے۔ میں اسکا شکر ادا کرتا ہوں۔
    اے اللّه مجھے آپ پہ یقین ہے کہ آپ میرے مالک ہے۔ میں اس پہ شکر ادا کرہا ہوں۔
    اے اللّه میری زندگی میں انے والے ہر مشکل کو آپ نے حل کیا مجھ اس پہ شکر ہے ۔
    اے اللّه مجھ صحت دی مجھ اس پہ شکر ہے۔
    اے اللّه مجھ دی ہوئی ہر نعمت کا میں شکر ادا کرتا ہوں۔
    اے اللّه مجھ ہمت دی کہ میں آپکے مخلوق کی مدد کر سکو مجھ اس پہ شکر ہے ۔ یہ میرے اندر احساس ہے مجھ اس بات پہ شکر ہے ۔
    یا اللّه مجھ کوئی جسمانی اپا ہیج نہیں دیا مجھ اس پہ شکر ہے ۔
    اے اللّه میں آپکے کون کون سی نعمت پہ شکر ادا کروں میں جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے ۔
    دنیا میں گلا کرنا شکایات بہت آسان ہے مگر شکر کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں شکر گزاری کو شامل کرتے ہیں شکر گزاری کا جذبہ لے کر اتے ہیں اور شکر گزار بنتے ہیں تو پھر ہماری زندگی بدلے گی اور ہمیں اطمینان قلب بھی نصیب ہوگا۔
    ہر وقت اللّه کا شکر ادا کرنا ہے۔ وہ تمام لوگ جو ہماری زندگی میں خوش قسمتی بن کر آئے، وہ تمام چیزیں جو ہمیں گفٹ کی شکل میں ملیں، وہ تمام چیزیں جن پر ہمارا حق نہیں قدرت نے پھر بھی ہمیں دیا انکا شکر ادا کرنا ضروری ہے اور اگر ہم شکر ادا کرتیں تو اللّه پاک ان سب نوازشات میں اور برکت ڈال دیتا ہے ہمارے کام آسان ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے اور راحت مل جاتی ہے۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا ہمارے سارے مسلے حل ہو جاتے ہماری تمام مشکلات دور ہو جاتی ہے اور زندگی میں سکون اجاتا ہے۔
    اسلیے تو اللّه پاک نے کہاں ہے جتنا شکر ادا کرو گے اتنا دونگا۔
    ہم اپنی زندگی میں اپنی ذات اور ارد گرد کے چیزوں کا حالات واقعات کا اور رشتوں کا جايزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ ان گنت نعمتں اللّه نے دیا ہے جن کا شکر ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
    اور اگر ہم شکر ادا نہیں کرتے نا شکرے بن جاتے تو جو دیا ہے وہ بھی اللّه واپس چھين لیتا ہے اسلیے ہر وقت ہر حال اس خالق کا شکر ادا کرنا چائے۔
    یہ بات عام طور پر مشاہدے میں آئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں وہ لوگ جو شکر ادا نہیں کرتے ان کی زبان میں ہمیشہ گلے شکوے رھتے اور ہمیشہ منفی سوچتے ہیں۔ اسے لوگ زندگی میں کبھی خوش نہیں رہتے بس ہمیشہ اسی ناشکری اور منفی سوچوں میں ایک دن اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
    اور وہ لوگ کامیاب ہو ہو جاتے ہیں جو ہمیشہ اللّه پاک کی دی ہوئی ہر نعمت پہ شکر ادا كرتیں ہیں۔
    اس لئے ہمیں چائے جو اللّه نے دیا اس پہ ہو کر اللّه کا شکر ادا کریں اور جو نہیں ہے اس پہ صبر کریں پھر زندگی پرسکون گزرے گی اور اطمینان قلب نصیب ہوگا ۔
    اس خوبصورت بات کے ساتھ اس کالم کو اختتام کرنا چاہونگا عمل کرو گے تو زندگی پرسکون گزرے گی۔
    اگر آپ وہ چاہتے جو آپ کے پاس نہیں ہے تو اس چاہت کو ختم کرو اور اسے چاہنا شروع کرو جو آپ کے پاس موجود ہے زندگی کے بہت سارے پرابلمز ختم ہو جائینگے۔
    @I_MJawed

  • آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان

    آخر پولیس بھی تو ہماری ہے تحریر : سیف الرحمان

    کسی بھی معاشرے کو سدھانے کیلئے مختلف قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد معاشرے میں موجود جرائم کو روکنا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوتا ہے۔ یہ قوانین ہمارے منتخب ارکان اسمبلی پارلیمنٹ میں بیٹھ بناتے ہیں۔ جب کوئی بھی قانون متفقہ طور پر یا اکثریت رائے سے منظور ہو جاتا ہے تو اس کی پاسداری ملک میں رہنے والے تمام افراد پر لازم ہو جاتی ہے ۔ قانون کی عمل داری یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست کی رٹ کو بحال رکھنے کیلئے دنیا بھر میں ایک منعظم نظام رائج ہے۔ اس نظام میں مختلف سکیورٹی اور سو لین ادارے کام کرتے ہیں۔ ان تمام اداروں میں ایک ادارہ پولیس کا بھی ہے۔
    پولیس ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے وہ عزت و احترام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ پولیس رشوت کے نام پر غنڈہ گردی ہے۔ اب یہاں سوال بنتا ہے کہ رشوت کے نام پر کرپشن تو ہر ادارے میں ہو رہی ہے لیکن پھر پولیس ہی ذیادہ بدنام کیوں؟
    آپ سیاستدانوں کو دیکھ لیں کتنی کرپشن کر رہے ہیں۔ آپ ججز کی مثالیں دیکھ لیں۔ آپ اعلی بیوروکریسی کو دیکھ لیں۔ کرپشن اور رشوت خوری تو ہر جگہ کسی نا کسی شکل میں موجود ہے لیکن ان تمام کے جرائم کو لے کر سارے ادارے کو بدنام تو نہیں کیا جاتا جبکہ پولیس میں چند گنتی کے لوگوں کی وجہ سے ساری پولیس فورس کو ہی کیوں مشکوک نظر وں سے دیکھا جاتا ہے؟
    پولیس پر عوام کا عدم اعتمام کسی ایک صوبہ یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں ۔ یہ سارے ملک میں ایک جیسا ہے۔اس کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آئی شاہد سیاستدانوں کا پولیس جیسے پروفیشنل ادارے پر اثررسوخ ہو سکتا ہے یا پھر میرٹ کی بجائے سفارشی کلچر بھی اسکی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔
    اگر چاروں صوبوں کی پولیس کو ہم الگ الگ درجہ بندی یا کارکردگی کی بنیاد پر پرکھیں تو اس حساب سے پختون خواہ کی پولیس نے پہلے کی نسبت عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساخت کافی حد تک بحال کی ہے۔ اس کا سارا کریٹ مرحوم IGKPKناصر دورانی اور سابقہ وزیر اعلی پختون خواہ پرویز خٹک صاحب کو جاتا ہے ۔ پختون خواہ پولیس اس وقت چاروں صوبوں کی پولیس کیلئے رول ماڈل ہے۔ گو کہ ابھی بھی وہ معیار نہیں جس کو ہم جدید تقاضوں سے لیس کہہ سکیں بہرحال رشوت خوری اور غنڈا گردی کے اعتبار سے کافی بہتری آئی ہے۔
    اگر ہم پنجاب پولیس کو دیکھیں اس میں کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پنجاب پولیس کوسابقہ حکمرانوں نے مخالفین کے منہ بند کروانے اور مخالفین کو ماورائے عدالت قتل کروانے کیلئے بہت استعمال کیا۔ ان اقدام نے پنجاب پولیس کو بطور ادارہ بہت نقصان پہنچایا۔آپ 2014 ماڈل ٹاؤن واقعہ ہی دیکھ لیں۔جس طرح حاملہ خواتین کو گولیاں ماری گئی دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس واقعہ کو مکمل سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ ایسے واقعات اداروں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
    اس وقت پنجاب حکومت کو پنجاب پولیس میں بہتری کاچیلنج درپیش ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے منشور میں عدل وانصاف اور اداروں کو سیاسی اثرورسوخ سے آذا کرنا تھا۔ پنجاب پولیس رشوت خوری ۔غنڈا گردی۔ ماورائے عدالت قتل اور سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے بہت بدنام ہو چکی۔یہ اقدام شاہد %10فیصد لوگ کرتے ہوں گے لیکن انکی وجہ سے ساری پنجاب پولیس کو لوگ مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بزدار حکومت اگر اس چیلنج سے نکل گئی تو تاریخ ان کو سنہرے حروف میں یاد رکھے گی۔ آئی جی پنجاب پولیس کی بہتری کیلئے دن رات محنت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کافی حد تک بہتری نظر آ بھی رہی ہے۔ جس کی مثال حالیہ دنوں میں مینار پاکستان کا واقعہ ہو یا رکشہ میں بیٹھی مسافر خواتین سے بدسلوکی پنحاب پولیس نے چند گھنٹوں میں انتہائی مہارت اور پروفیشنل طریقہ سے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جس پر وہ شاباش کی مستحق ہے۔
    اگر سندھ پولیس کو دیکھا جائے تو ایک ہی بات ذہین میں آتی ہے بھتہ اورسیاسی غلام اور رشوت خور۔ میرا کئی بار کراچی آنا جانا ہوا۔ یقین کریں وہاں پہنج کر اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہوں۔ آپ راؤ انوار کا کیس دیکھ لیں کیسے بے دردی سے اس نے نقیبﷲ مصود کو قتل کیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق 2011سے 2018کے بھیچ راؤ انوار نے تقریبا 444لوگوں کا encounterکیا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں اس بندے کی وجہ سے سندھ پولیس کتنی بدنام ہوئی ہے۔
    سندھ پولیس سیاسی اثر رسوخ کے زیر اعتاب سمجھی جاتی ہے۔ میرٹ کا فقدان اور سیاسی قیادت کی شہانہ طرز حکمرانی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ سندھ پولیس کو معیاری پولیس نابننے دینے کی ایک بڑی وجہ کرپشن ہے۔ سندھ میں پولیس جیسے ادارے کو جان بوجھ کر مفلوج رکھا جا رہا ہے۔ یہاں سندھ پولیس کی بجائے سیاسی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا۔ جب تک سندھ حکومت پولیس کو ٹھیک نہیں ہونے دے گی یہ ممکن ہی نہیں کوئی اعلی افسر اسے ٹھیک کر سکے۔
    اسلام آباد پولیس اس وقت دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے۔ بعض لوگ انکے معیار پر بھی انگلیاں اٹھاتے نظر آتے ہیں لیکن کیپٹل پولیس عالمی معیار اور دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرتی نظر آتی ہے اور اسکی ایک اہم وجہ پولیس فورس میں میرٹ اور پڑھے لکھے جوانوں کی شمولیت ہے۔ چند عرصہ پہلے حکومت نے اسلام آباد پولیس کی یونیفارم میں خفیہ کیمرے لگانے کا کہا تھا ۔ اگر یہی معیار سارے پاکستان میں رکھا جائے تو انشاءاﷲ ہماری ساری پولیس بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر میرٹ پر بھرتیاں اور پڑھے لکھے لوگوں کو پولیس فورس میں لایا جائے۔ جدید تقاضوں کو دیکھتے ہوئے انکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اعلی معیار کی ٹرینگ دی جائے۔ پرانے تھانہ کچہری کلچر کو بلکل ختم کیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق FIRسے لے کر کیس کے میرٹ تک ٹریس ایبل بنایا جائے تو کوئی شک نہیں ہماری پولیسنگ کا معیار عالمی معیار جیسا بن جائے۔ اس سارے پراسس میں حکومت وقت کا بہت اہم رول ہے۔
    یہاں ان شہداء کو سلام پیش نا کرنا بھی ذیادتی ہو گی جنہوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ا ﷲ تعالی انکی مغفرت فرمائے اور ان سب کے اہل خانہ کو صبرو جمیل عطا فرمائے۔ آمین
    آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر پولیس اور عوام کے بھیچ فاصلے کم کرنے ہیں تو پولیس کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا۔ دوستانہ ماحول میں عوام سے بات کرنی پڑے گی۔ عوام کو احساس دلانا ہو گا کہ پولیس ان کی محافظ ہے دشمن نہیں۔ پولیس کا اولین کام بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ عوام کو بھی اپنے محافظوں کی عزت کرنی چاہئے۔ ان کے لئے بھی میڈیا کوریج اور سرکاری سطح پر انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہر سال ایک دن پولیس کے نام سے قومی سطح پر منایا جائے۔ سکولوں کالجوں میں پولیس بارے بچوں کو بتایا جائے۔ شہداء کی فیملیز کو آنر کیا جائے۔ ان کو بھی معاشرے میں اسی عزت و احترام سے ملا جائے جیسا باقی اداروں کیلئے ہم رکھتے ہیں۔ کیونکہ آخر پولیس بھی تو اپنی ہی ہے۔
    شہد تم سے یہ کہہ رہے ہیں____لہو ہمارا بھلا نا دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشوں___لہو ہمارا بھلا نا دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے___خدا کے ہاں سرخروں ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نباہ چلے ہیں________تم عہد اپنا بھلا نا دینا
    @saif__says

  • محبت رسول کے تقاضے| تحریر :عدنان یوسفزئی

    محبت رسول کے تقاضے| تحریر :عدنان یوسفزئی

    اس سے پہلے وہ شاہ حبشہ، نجاشی کے دربار میں جاتا رہا تھا، روم کے کے بادشاہ قیصر کے محل میں بھی پہنچا تھا اور ایران کے بادشاہ کسری کے پاس بھی سفیر بن کے جاچکا تھا ۔

    یہی وجہ تھی کہ اہل مکہ کو اس کی فراست، سفارت اور معاملہ فہمی پر ناز تھا ۔وہ اسے اپنی، کسی بھی بڑی سے بڑی مشکل سے بچنے کے لئے کوئی راہ نکالنے کی ذمہ داری سونپ سکتے تھے ۔

    یہ اہل مکہ کا ایک دانا، جہاں دیدہ اور تجربہ کار سردار، عروہ بن مسعود تھا ۔یہ بعد میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے(رضی الله تعالیٰ عنہ) ان پر انہیں مکمل اعتماد تھا ۔ماضی کی طرح، اج بھی ایک مشکل گتھی سلجھانے کے لئے، مکہ والوں نے انہیں میدان میں اتارنے کا عزم کیا ۔

    یہ میدان، مکہ مکرمہ سے انیس میل کے فاصلے پر واقع تھا ۔اس میدان کو حدیبیہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہاں رحمت دو عالم صلی الله عليه وسلم، اپنے صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ موجود تھے،۔اپ صلی الله عليه وسلم مدینہ منورہ سے عمرہ کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عروہ بن مسعود نے اپنے جان نثاروں کے درمیان گھرا ہوا دیکھا تو عجب منظر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان یوں لگ رہے تھے جیسے روشنی کے حلقے کے درمیان چاند ہو۔

    عروہ بن مسعود نے یہ منظر دیکھا تو متآثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، انہوں نے جہاں مذاکرات کئے، وہیں حالات کا بغور جائزہ بھی لیتےرہے۔ وہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، اور حیران کیوں نہ ہوتے، یہاں انہیں وہ کچھ دکھ رہا تھا، جو قیصر وکسری کے دربار میں بھی دیکھنے کو نہ ملا وہ کیا تھا ؟

    وہ بتاتے ہیں کہ میں نے دیکھا ؛
    جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماء مستعمل ،وضو کا پانی آپ کے جان نثار نیچے نہیں گرنے دیتے، اسےہاتتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے ہیں۔

    حد تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آب دہن کو زمین ترستی ہے لیکن آپ کے عشاق اسے زمین پر گرنے نہیں دیتے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گفتگو کرتے ہیں تو ہر سو سناٹا چھا جاتا ہے، آپ کے یہ عقیدت مند ہمہ تن گوش رہتے ہیں۔
    آپ کی ہر ہدایت کو سنا اور مانا جاتا ہے بلکہ آپ کے اشارہ ابرو کو بھی سمجھا اور مانا جاتا ہے.
    آپ کی حد درجہ تعظیم کی جاتی ہے۔

    یوں کہہ لیجیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد موجود ھدایت کے ان روش ستاروں اور جان نثاروں میں سے ہر ایک کی یہ کوشش رہتی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ فدا ہو جاؤں، اس فدا کاری کو وہ اپنے لیے دونوں جہانوں کے لیے باعث فخر اور ذریعہ نجات سمجھتا۔

    واپسی پر جب عروہ نے کفار کے سامنے آنکھوں دیکھے حال کی منظر کشی کی تو کچھ ہیچ پیچ کرنے کے بعد، آخر کار انہیں اپنے جذبات سے بالا تر ہو کر سوچنا پڑا. نتیجے کے طور پر باہم مصالحت ہوئی۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ والہانہ محبت کا اظہار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے سامنے اپنی آوازوں کا پست رکھنا اور آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں لپکنا، ہمیں عشق و محبت کے قرینے اور تقاضے بتاتا ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعویٰ محبت تو محبت کا محض ایک دعویٰ ہی ہے، جب تک ہم اپنے عمل اور اطاعت رسول سے اپنے اس دعوے پر دلیل پیش نہیں کرتے، اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

    محض عمل اور اتباع بھی کمال ایمان کے لیے کافی نہیں ہے، جب تک تسلیم ورضا نہ ہو۔سورۃ نساء کی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا ایمان اس وقت تک کے لیے غیر معتبر ہے، جب تک ہم اپنی عملی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف یہ کہ حکم تسلیم کر لیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں ۔

    سورہ احزاب کی ایک آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے کسی معاملے میں فیصلہ فرما دینے کے بعد، ہمیں کوئی اختیار نہیں رہتا۔

    غرض ایک سچے مؤمن اور حقیقی محب کی شان یہی ہے کہ وہ آقا نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاں اظہارِ محبت کرے، وہاں ۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت بھی رکھے،
    آپ کی عظمت کو بھی جانے،
    آپ کے فیصلوں کا احترام بھی کرے،
    آپ کی اطاعت و اتباع بھی کرے،
    اور وقت آنے پر آپ پر جان و تن فدا بھی کرے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جہاں ہم سے یہ تقاضے کرتی ہے وہیں ہم سے یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ ہم اغیار کے طور طریقے چھوڑ دیں، بدعات کا ارتکاب نہ کریں
    اور شریعت کے مقابلے میں اپنی خواہشات کی اتباع نہ کریں۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai