Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فواد عالم نے معروف بھارتی بلے بازوں کو پیچھے چھوڑ دیا

    فواد عالم نے معروف بھارتی بلے بازوں کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاکستانی کرکٹر فواد عالم نے اپنے کیرئیر کی پانچویں سنچری بنا کر کوہلی ٹنڈولکر، گنگولی اور گاواسکر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری سکور کر کے فواد عالم ایشیا میں سب سے کم اننگز میں 5 سنچریز بنانے والے بیٹسمین بن گئےہیں، انہوں نے یہ اعزاز 22 اننگز میں حاصل کیا۔

    بھارت کے چتیشور پجارا نے 24 اننگز میں 5 ٹیسٹ سنچریز بنا رکھی ہیں جبکہ ساروو گنگولی اور سنیل گاواسکر 5 سینچریاں 25 اننگز کھیل کے بنا سکے۔ اور ان کا اس فہرست میں تیسرا اور چوتھا نمبر ہےجب کہ پاکستان کی طرف سے یونس خان 28 اننگز میں یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں-

    فواد عالم نے ٹیسٹ کرکٹ میں تقریباً ایک سال قبل واپسی کی اور اب تک وہ چار سنچریز بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ سچنریز نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بنائی ہیں۔

    پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں فواد عالم

    فواد عالم نے جنوبی افریقہ کے خلاف 109، نیوزی لینڈ کے خلاف 102، زمبابوے کے خلاف 140 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

    واضح رہے کہ اس حوالے سے قومی کرکٹر فواد عالم کا کہنا تھا کہ پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ہ آج کی سنچری اپنے والدین کے نام کرتا ہوں میچ سے پہلے والدہ سے فون پر بات ہوئی تھی ماں نے کہا تھا کہ اس میچ میں تم سنچری بناؤ گےوالد کی بھی خواہش تھی کہ ویسٹ انڈیز میں سنچری اسکور کروں ماں کی دعا ساتھ ہو تو ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے-

    فواد عالم کا کہنا تھا کہ وکٹ آسان تھی نہ موسم، میچ کے پہلے روز گرمی اور حبس بہت زیادہ تھا اللہ جب دیتا ہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ اپنے والد سے متاثر ہوا ہوں زندگی میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے مگر میرے والد نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا خوش قسمت ہوں کہ مشکل وقت میں میرے اہلخانہ نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیاوالد ہمیشہ کہتے تھے کہ لگے رہو تمہارا وقت ضرور آئے گا-

  • حالات حاضرہ اور افضل سراج صاحب کی شاعری تحریر: مجاہد حسین

    خبر: تبدیلی کے تین سال، غریب عوام کے لئے ظلم کی تین صدیاں، شہباز شریف۔
    تبصرہ: اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے لیکن کیا جناب بتانا پسند کریں گے کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
    کیا آپ نے اپنے تیس سالہ عہد سلطانی میں کوئی ایک ادارہ ایسا چھوڑا جو منافع دے رہا ہو؟ کیا کبھی آپ نے اتنا ٹیکس اکٹھا کیا جتنا خود کے لئے پیسے اور کک بیکس؟ میٹرو بس اور اونج ٹرین جیسے ذہر بھرے لقمے حکومت کے گلے میں ڈال کے چلے گئے جو نہ نگلے جا رہے ہیں نہ تھوکے جا رہے ہیں اور حکومت ہر سال اربوں روپے ڈال کے خالی بسیں بھی چلا رہی ہے اور ان کا قرض بھی دے رہی ہے۔ آپ لوگوں کے لئے ہوئے قرض چکانے کے لئے حکومت کے پاس مہنگائی اور ٹیکس لگانے کے علاوہ کیا راستہ تھا؟؟
    لیکن آپ کو احساس پروگرام، کامیاب جوان پروگرام، بلین ٹری سونامی، کوئی بھوکا نہ سوئے، پناہ گاہیں اور لنگر خانے نظر نہیں آئیں گے جو غریب کا پیٹ پھرتے ہیں۔ تف ہے آپ کی سوچ پر۔

    خبر: جسٹس قاضی فائز عیسی سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر بن گئے، اخباری ذرائع
    تبصرہ: آپ کو بتاتے چلیں کہ موصوف پر اوقات (آمدن) سے زائد اثاثے بنانے کا کیس اور منی ٹریل پیش نہ کر سکنے کا ٹرائل سپریم جوڈیشل کونسل میں ہی چل رہا تھا، اب جبکہ موصوف خود بھی اس کونسل کا حصہ بن بیٹھے ہیں تو بھولی عوام کا اس ملک کے عدالتی نظام پہ اور بھی یقین مضبوط ہو گیا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ جیسی بلی کو دودھ کی رکھوالی سونپ دی گئی ہو۔ سب کہیں سبحان اللہ

    خبر: ججوں اور بیوروکریٹس کو قرعہ اندازی سے ملنے والے پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
    تبصرہ: یقین نہیں آ رہا کہ ایسا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ سے سامنے آ رہا ہے اور اتنے حیران کن ریمارکس سن کے طبیعت حیران پریشان ہو گئی ہے۔ جج صاحب فرماتے ہیں کہ اس تقسیم میں "کرپشن اور جرائم” میں سزا پانے والے ججوں کو بھی پلاٹ ملے۔ چلیں آج اتنا تو سمجھ میں آیا کہ اس ملک کے منصف بھی راشی اور جرائم پیشہ ہیں۔ پھر یہاں انصاف کی امید لگانا کہاں کی دانشمندی ہوئی؟

    خبر: سعودی عرب میں سکیورٹی اہلکار کے قاتل کا سر قلم، اخباری ذرائع
    تبصرہ: جرائم کی روک تھام تب تک ممکن نہیں جب تک جزا و سزا کا نظام پوری طرح کاآمد نہ ہو۔ جب یہ خبر پڑھی تو میرے ذہن میں پاکستانی نظام انصاف گھعمنے لگا جہاں سینکڑوں لوگوں کے قتل میں ملوث عزیر بلوچ عدم ثبوت کی بنا پر رہائی پاتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک سیاستدان دن دیہاڑے ڈیوٹی دیتے ایک سرکاری پولیس والے کو نشے کی حاکت میں اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیتا ہے لیکن عدالت اسے بھی ضمانت پہ رہا کر دیتی ہے۔ ایک امریکی دن دیاڑے تین پاکستانیوں کو گولی سے بھون دیتا ہے لیکن ہم "قوم کے وسیع تر مفاد میں” اسے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں۔ جہاں چند سیاستدان ملک کی جڑیں کھوکھلی کر ڈالتے لیکن عدالتیں انہیں چھٹی کے دن بھی ضمانتیں دیتی دکھائی دیتی ہیں۔
    جناب من! جب تک بنیادی انصاف کا نظام بہتر نہیں ہوگا، آپ ایسے ہی ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔

    اور اب افضل سراج صاحب کی ایک غزل:

    ‏اِدھر ہے آنکھ چوکهٹ پر، اُدھر ہیں کان آہٹ پر
    لگی رہتی ہے سارا دن، یہ میری جان آہٹ پر

    ترے آنے سے پہلے ہی، تجهے پہچان لیتا ہے
    مہکنے خود ہی لگتا ہے، مرا دالان آہٹ پر

    اسے کہنا کسی لمحے، وہاں کی بهی خبر لے لے
    جہاں وہ بهول آیا ہے، کسی کے کان آہٹ پر

    ‏بہت مانوس ہیں تم سے، مرے گهر کی سبھی چیزیں
    چہک اٹهتے ہیں پردے، کهڑکیاں، گلدان آہٹ پر

    بڑی حسرت سے تکتے ہیں تمهاری راہ دن بهر یہ
    لگے رہتے ہیں دروازے، دریچے، لان آہٹ پر

    بنا سلوٹ کے بستر پر پڑی بے جان آنکهوں میں
    چمک اٹهتے ہیں پل بهر میں کئی ارمان آہٹ پر

    ‏ڈیوڑهی، صحن، خلوت خانہ، پائیں باغ، بیٹھک تک
    چہکتی پهرتی ہے گهر بهر میں اک مسکان آہٹ پر

    کشن، فٹ میٹ، ٹیبل، کرسیاں، قالین، ترپائی
    امڈ آتی ہے ہر شے میں انوکهی شان آہٹ پر

    ہمہ تن گوش ہیں کمرے، سراپا شوق دروازے
    کوئی دیکهے کہ ملتا ہے انبہیں کیا مان آہٹ پر

    ‏یہی ہے وقت آنے کا، بڑی بےتاب دهڑکن ہے
    "نکلتی جا رہی ہے لمحہ لمحہ جان آہٹ پر”

    ٹهٹهرتا رات دن افضل میں سُونے گهر میں رہتا ہوں
    بهڑک اٹهتا ہے سینے میں اک آتش دان آہٹ پر

    آخر میں آج کا شعر:

    وہ مجھے روز بلاتا ہے تماشے کے لئے
    روز میں خاک اڑاتا ہوا آ جاتا ہوں

    @Being_Faani

  • آخر پردہ ہی کیوں ضروری ہے؟

    آخر پردہ ہی کیوں ضروری ہے؟

    انسان جہاں پہاڑوں سے زیادہ مضبوط وہاں پہ ایک تنکے سے زیادہ کمزور بھی ہے۔
    اللہ نے انسان کو جوڑے کی صورت پیدا کیا مرد اور عورت۔ پھر ان میں ایک دوسرے کیلئے راحت اور سکون رکھا یعنی انکو ایک دوسرے کے سکون کا ذریعہ بنایا۔
    جب دونوں عاقل بالغ ہو جائیں تو نکاح کریں اور حلال طریقے سے ایک دوسرے سے راحت حاصل کریں۔ اس کے علاوہ اسلام نے ہر طریقے اور کام کو حرام قرارا دیا جس سے جنسی تسکین کا سامان پیدا کیا جائے۔
    اللہ نے انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس کا شرعی حل بھی ساتھ دے کر دنیا میں بھیجا۔ سیدھا راستہ دکھانے کیلئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ ہر پیغمبر نے اللہ کی طرف سے دیے گئے احکامات کو بخوبی احسن طریقے سے اپنی قوم تک پہنچایا۔
    ہماری رہنمائی کیلئے اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اور دنیا کے ہر کام کی تعلیم دی اور اللہ کی طرف سے دیے گئے احکامات کو قول اور فعل سے امت تک پہنچایا۔
    ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری تعلیمات انسانیت اور ایک اچھے معاشرے کا بقاء ثابت ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دین اسلام پوری انسانیت اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے اور اسکی بقاء کا ضامن ایک خوبصورت تحفے کے طور پر دیا۔
    اسلام کے آنے کے بعد انسانیت کی ایک بہترین صورت سامنے آئی۔ انسان کو جینے کا شعور اور زندگی گزارنے کیلئے ایک بہترین راستہ عطا کیا۔
    اسلام کا ہر حکم ہر طریقہ معاشرے اور انسانیت کی خوبصورتی کا ضامن ہے۔
    اسلام کے آ جانے سے معاشرے سے جھوٹ فراڈ سود جیسی بیماریوں کو ختم کرنے کے احکامات آئے جس سے معاشرہ میں اخلاقی توازن آیا۔ اسلام نے حلال اور حرام کی تمیز سکھائی اور جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے انسان کو انسان کی طرح زندگی گزارنے کا شعور اور سلیقہ سکھایا۔
    اسلام نے سکھایا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے تو کیوں نہ پھر وہ ایسے کام۔کرے جس سے وہ سب سے منفرد اور ممتاز نظر ائے۔
    اسلام کے آ جانے سے عورت کو جینے اور زندہ رہنے کا حق دیا گیا ورنہ اسلام سے پہلے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی اس کو دفنا دیا کرتے تھے۔ بیٹی کی پیدائش کو باعث شرم اور ذلت سمجھا جاتا تھا اور نحوست مانا جاتا تھا لہذا پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔
    اسلام کے آتے ہیں اس فرسودہ اور غیر انسانی روایت کو ختم کر دیا گیا بلکہ اللہ کے عذاب کا سبب بتایا گیا اور بیٹی کو اللہ کی رحمت کا نام دیا گیا۔ عورت کے مقام کو سمجھایا گیا اور لوگوں کو عورت کے ہر روپ کی قدر و منزلت سمجھائی گئی۔
    ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی بیٹی کو اللہ۔کی رحمت کہا گیا عورت کے حقوق مقرر کیے گئے عورت کو جائیداد میں حق دار قرار دیا۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی اور عظیم درسگاہ بنا دیا گیا ماں کے پیار کو بچے کیلئے شفا بنا دیا ماں کی دعاوں کو اولاد کی کامیابی کا ضامن کہا ماں باپ کی نافرمانی سے روکا گیا سخت وعیدیں سنائی گئیں۔
    جہاں عورت کو یہ وقار اور رتبہ دیا وہاں پہ اس کو اپنی حفاظت کیلئے کچھ تعلیمات دی گئیں جن کا مقصد عورت کی حفاظت اور اس کو پاک دامن رکھنا ہے۔ وہ تعلیمات دی گئیں جن سے عورت کی عزت کو چار چاند لگ گئے اور عورت کا مقام عزت اور رتبہ اور بڑھ گیا۔
    اسلام نے عورت کو اپنا جسم چھپانے کی تعلیم دی تاکہ اس پہ کسی کی بری نظر نہ پڑے اور ساتھ ہی مردوں کو حکم دے دیا کہ وہ کسی غیر محرم عورت کی طرف نظر نہ اٹھائیں یہاں یہ قید مرد اور عورت دونوں کے لئے ہے کہ دونوں اپنی نظروں کی حفاظت کریں۔ مرد کو عورت کی طرف دیکھنے سے منع کر دیا۔ اور عورت کو اپنے جسم کو چھپانے کا حکم دے دیا۔ تاکہ کسی کی نظر اگر پڑے بھی تو پردے کی وجہ سے کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو۔
    پردہ عورت کی حفاظت کا ضامن ہے اس کا لباس ہی ایسا ہو گھر سے باہر نکلتے وقت کہ اس پہ کسی کی نظر رک نہ پائے کسی کو یہ پتا نہ چلے کہ یہ کس عمر کی عورت جا رہی ہے؟
    انسان کمزور ہے گناہ کی طرف جلد مائل ہو جاتا ہے پھر شیطان بھی انسان کے ساتھ ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ دونوں مرد اور عورت اپنی نظروں کی حفاظت کریں نظریں جھکا کہ چلیں تاکہ کوئی بھی فتنہ انکے دل و دماغ میں داخل نہ ہو۔
    کرنے اور کہنے کو یہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں پردہ کرنا اور نظریں جھکانا لیکن یقین جانیں برائی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی یہی دو چیزیں ہیں۔
    جب نظریں نہیں جھکیں گی تو لازمی حرام کی طرف بھی نظر جائے گی اور اگر پردہ نہیں ہو گا تو لازمی بات ہے کہ خرابی پیدا ہو گی۔
    انسانی کمزوریاں غالب آ جائیں گیں۔
    آج جو کچھ ہمارے ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے مردوں کی بڑی تعداد کا بناو سنگھار غیر محرم لڑکیوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ہوتا ہے اور اس طرح کچھ عورتوں کے بناو سنگھار کا مقصد بھی صرف غیر مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے تو اس صورت میں ہمارا معاشرہ کس سمت جائے گا؟
    اسلام قوانین کا احترام کسی کے دل میں نہیں ہے تو معاشرے سے یہ ناسور کیسے ختم ہو گا؟
    دور جدید میں جہاں انٹرنیٹ نے ہماری زندگی میں بےشمار سہولتیں لائیں وہاں کچھ مصیبتیں بھی ہمارے گلے پڑیں جنہوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ آج دیکھا جائے معاشرے میں جنسی درندگی کے بڑھتے واقعات کا ایک سبب یہ انٹرنیٹ بھی ہے۔
    اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کروائیں دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے لیکن دینی تعلیم فرض ہے۔ اس فرض کو اچھے طریقے سے نبھائیں اور بچوں کا انسان بنائیں وحشی درندے نہیں جو ماوں بہنوں کی عزت کے محافظ ہوں عزتوں کو تار تار کرنے والے جانور نہیں۔
    اللہ ہماری ماوں بہنوں کو شرم و حیا کی دولت سے مالا مال فرمائے۔
    ﺁﻣــــــــــــــــــﻴﻦ ﻳَﺎ ﺭَﺏَّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِـــــــــﻴْﻦ
    https://twitter.com/Emerging_PAK_B?s=09

  • عورت اور معاشرہ تحریر: فروا نزیر

    عورت اور معاشرہ تحریر: فروا نزیر

    عورت کو ہمارے معاشرے میں بہت اہم مقام حاصل ہے جب بھی عورت کا نام لیا جائے تو ایک خوبصورت احساس دل میں جاگ جاتا ہے جیسے یہ کسی قابل محترم ہستی سے بڑھ کر کوئی اور چیز ہے۔
    یہ عورت ماں بہن بیوی کے روپ میں دیکھی جاتی ہے جس میں ہمارا ایک گھر نہیں بلکہ پورا خاندان سنبھالنا اس ایک عورت کے ذمہ ہوتا ہے۔ اگر ہم اسلام میں عورت کے مقام کی بات کریں تو شایدہی دنیا میں ایسا کوئی مذہب ہو جہاں عورت کو اتنی زیادہ عزت اور وقار حاصل ہوگا اور نہ ہی کسی معاشرے میں عورت کو اتنے زیادہ حقوق دیے گئے جتنے اسلام میں عورت کو حقوق حاصل ہیں۔
    اگر ہم مغرب کی بات کریں تو ہمارے معاشرے میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جس میں مغرب کی عورت اسلام میں عورت کے حقوق اور عزت و مرتبہ کو دیکھ کر اسلام قبول کر چکی ہیں۔
    اسلام کے ابتدائی دور سے آج کے جدید دور تک عورت کو ہر طرح کی آزادی دی گئی ہے

    کیا عورت نے اپنی آزادی کا ٹھیک استعمال کیا؟
    جو عزت اور آزادی اس عورت کو دی گئی کیا عورت نے اس کا مثبت استعمال کیا؟
    افسوس کے ساتھ میں ان باتوں کا جواب ہاں میں نہیں دے سکتی
    عورت کو گھر کی زینت کہا گیا ہے اس کو دنیا کی تمام آسائشیں اس کے گھر میں میں دیے جانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عورت کسی بھی قسم کی مشکلات کا شکار نہ ہو اور باہردنیا کی گندی نظر کا شکار نہ ہو۔ عورت کو مردوں سے زیادہ حقوق دیے گئے تاکہ اس کو معاشرے میں کبھی خود کو کمتر محسوس ہونے کا خیال آئے

    لیکن معذرت کے ساتھ آج کل کے جدید دور میں عورت اپنے حقوق کا غلط استعمال کرتی دکھائی دے رہی ہے اسلام میں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا تاکہ اپنی قیمتی چیز کو بری نگاہ سے بچا کے رکھا جائے کیا عورت پردے میں رہی؟
    نہیں نہیں بلکہ ہمارے میڈیا چینلز ز پے جب تک عورت کو دکھاہا نہیں جاتا تب تک آپ کی چیز نہیں بکے گی۔

    ایک صابن کے کمرشل سے لے کر کر مردوں کے شیونگ بلیڈ تک عورت کو دکھایا جاتا ہے
    چائے کے کمرشل میں عورت کا ناچ گانا اتنا ضروری کر دیا گیا ہے جیسے چائے میں چینی
    کیا یہ ضروری ہے عورت کو ماڈل بنا کر دکھایا جائے؟
    ہم مردوں کو کیوں نہیں کسی صابن کے کمرشل میں ایسے دکھاتے جیسے عورت کے جسم کی نمائش کی جاتی ہے۔
    یہ تمام چیزیں ہمارے معاشرے میں گھر بیٹھے بچوں اور بچیوں کی تربیت کو بگاڑنے میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بچے جو چیز ٹی وی پر دیکھتے ہیں اسی چیز کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں
    اسی طرح اگر ہم ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کو دیکھیں اس میں ہر دوسرے گھر میں لڑکی کو گھر سے بھاگ جانے اور بسا بسایا گھر اجاڑ کے دوسرے مرد کے ساتھ شادی کرنے کا دکھایا جارہا ہے کیا یہ چیزیں ہمارے معاشرے میں مثبت اثرات مرتب کر رہی ہیں؟
    نہیں ہرگز نہیں یہ چیزیں ہمارے معاشرے میں بیہودگی کو کو شہ دے رہی ہیں خدارا میرا ان تمام چیزوں سے خود کو دور رکھیں
    یہ غلط چیزیں ہمارے معاشرے کے ساتھ ساتھ آ نے والی نسلوں کو بھی تباہ کر دیں گی۔
    باقی حقیقت آپ کے سامنے ہے میرا مقصد عورت پر تنقید کرنا نہیں صرف اپنا مقام یاد دلانا ہے۔اللہ تعالی نے عورت کو پاکیزہ بنایا اور ہمارا مقام بہت بلند رکھا گیا ہے۔
    قدر کیجئے اپنی اور خود کو سنبھال کے رکھیے۔
    خدا ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین

  • خنجراب کی جغرافیائی اہمیت تحریر:خالد عمران خان

    خنجراب کی جغرافیائی اہمیت تحریر:خالد عمران خان

    پاکستان بے پناہ جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہے دنیا کی تین بڑی سپرپاورز انحصار کرتی ہیں خوبصورت علاقوں اور مقامات کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں اہم مقام رکھتا ھے آج کی تحریر پاکستان کے اہم علاقے ” خنجراب” سے متعلق ھے۔۔۔

    خنجراب کیا ھے؟
    خنجراب پاکستان کے شمال میں واقع سرسبز میدان،ہرے بھرے کھیت،باغات،میٹھے پانی کے چشموں، بے پناہ قدرتی خوبصورتی،وسائل اور معدنیات سے مالامال ایک مقام شمار مواقع موجود ہیں۔ یہاں بلند وبالا برف پوش ،وسیع و عریض پہاڑی سلسلوں کے علاوہ بے شمارسرسبز میدان، گلیشیئرز، آب شاریں، چشموں کی جھیلیں اور ہری بھری وادیاں دعوتِ نظارہ دینے کو موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے سیاح اور کوہ پیماء قدرت کے اس عظیم الشان شاہکار کو دیکھنے کے لئے اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

    درہ خنجراب کی جغرافیائی اہمیت

    درّہ خنجراب، سلسلہ کوہ قراقرم میں ایک بلند پہاڑی درّہ ہے، جس کی بلندی 4693 میٹر یا 15397 فٹ ہے۔ پاکستان اور چین کو آپس میں ملانے والے اس درّے کو (world’s roof) یعنی دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔درہ خنجراب ایک اہم فوجی مصلحتی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان کے بہترین دوست چین کو ملانے والا خنجراب پاس بھی واقع ہے اس کے علاوہ 952 کلومیٹر تک پھیلی طویل پاک چائنہ بارڈر کی لمبائی ہے چین کے ساتھ ہونے والی تمام تجارت خنجراب پاس کے زریعے ہی ہوتی ھے۔

    خنجراب اور شاہراہ قراقرم

    قراقرم (قومی شاہراہ ) پاکستان کو چین سے ملانے کا زمینی ذریعہ ہے۔ اسے قراقرم ہائی وے اور شاہراہ ریشم بھی کہتے ہیں۔ یہ دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کرتی ہے۔ درہ خنجراب کے مقام پر سطح سمندر سے اس کی بلندی 4693 میٹر ہے۔ یہ چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے شمالی علاقوں سے ملاتی ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ ہے۔

    خنجراب پاکستان کے لئے انتہائی اہم ھے مستقبل قریب میں یہ علاقہ علاقہ تجارت کے لئے اہم "گیٹ وے” تصور کیا جائے گا اس علاقے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر اہم اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ بھرپور فائدہ حاصل کیا جاسکے دنیا بھر کے ممالک ایسے جغرافیائی محل وقوع رکھنے والے اپنے علاقوں پر اربوں ڈالر خرچ کرکے ان کو دنیا بھر میں اسٹیبلش کروا کر بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اگر کوئی بھی حکومت بہتری کے اقدامات کرتی ھے تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم آج بھی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔سیاسی قیادت کو ملکی بقاء اور ترقی کے لئے مل بیٹھ کر سوچ بچار کرکے اقدامات کرنے چاہئیں اور سب سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے یہی ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز ہے اور یہی ہمارے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا پاکستان کے لئے سب کو ایک قوم بن کر سوچنا ہوگا۔
    Written By : Khalid Imran Khan
    Twitter ID :‎@KhalidImranK

  • ماحولياتی آلودگی ایک سنگین مسلہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ماحولياتی آلودگی ایک سنگین مسلہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    آلودگی کا لغوی معنی اس چیز کی موجودگی ہے جو نقصان دہ ہے یا ماحول پر برا اثر ڈالتی ہے۔ آلودگی قدرتی ماحول میں منفی تبدیلیوں کا اسباب بن سکتی ہے۔ صاف ستھری فضا اور تازی ہوا ہماری بنیادی ضرورتوں میں ایک ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی زمینی فضا کو کافی حد تک نقصان پہنچاتی ہے اور اسکے نتیجے میں منفی ماحول زندگی کیلٸے نقصان دہ نہیں ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہمارا موجودہ رہہن سہن ہے ۔ اس سے کچھ ایسی نقصان دہ تبدیلیاں ہوئی ہیں جو ہمارے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔ آلودگی کی اہم وجہ بہت مختلف قسم کے فضلہ مواد ہیں۔ آلودگی ماحول اور ماحولیاتی نظام کے توازن میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ ترقی اور جدیدیت نے آلودگی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے اور اس نے مختلف انسانی بیماریوں کو جنم دیا ہے اور سب سے المنگ بات یہ ہے کہ اس سےگلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان دنیا کا وہ خوش قسمت ملک ہے، جسے قدرت نے حسین وادیوں، اونچے کُہساروں، سمندر، بندرگاہوں،صحراؤں، اور وسیع میدانی خطّوں سے نوازا ہے، لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارا ملک بدترین ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہے، جس سے شہریوں کی صحت بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    عالمی ادارے صحت کا کہنا ہے، پاکستان کا شمار ایشیا کے آلودہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ اوربھی ہےکہ لوگ ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں.

    پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضاف، بنیادی خوراک اور رہائش کی طلب میں اضافے کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی تیز ہوگئی ہے۔ انسانوں کے ذریعہ پھیلائی ہوئی زہریلی گیس جیسے کہ، کاربن مونو آکسائڈ مٹی ، ہوا اور پانی کی آلودگی کا سب سے بڑی وجہ ہے۔

    پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان، خصوصاً پنجاب کی فضا میں اسموگ کا مسلہ بہت ہی سنگین ہوگیا ہے اور ان علاقوں میں رہنے واے لوگ سانس کے مسئلہ کا شکار ہوجاتے ہیں ، ان کے پھیپھڑے بھی اس آلودگی سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ نیز، ملک کے دیگر شہروں، جیسے کراچی، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، کوئٹہ اور پشاور میں بھی فضائی آلودگی کی مقدار بین الاقوامی معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ فضائی آلودگی سے نہ صرف فصلوں بلکہ درختوں پر انتہائی بُرے اثرات مُرتب ہورہے ہیں

    لہذا پاکستان کے بڑے بڑے شہروں پر نظر ڈالیں، تو ہر جگہ گندگی غلاظت ، اور کوڑے کرکٹ کے اَنبار نظر آتے ہیں۔ پولیتھین بیگز، سیوریج لائن بلاک کا سبب بنتے ہیں، جس کیوجہ سے نالوں کا پانی روڈز پر پھیل جاتا ہے اور اُن پر بیٹھنے والی مادھوں مکّھیاں اور دیگر رینگے والے حشرات مختلف بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ پھر ملک پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا سبب دھواں پھیلانے والے کارخانے بھی ہیں، جن پر کوئی حکومتی محکمہ ایکشن نہیں لیتا ہے.

    اگرچہ حکومتیں ان مسائل سے نمٹنے کیلٸے بھرپور کوششیں کررہی ہیں۔ البتہ، پاکستانی عوام پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کوششوں میں حکومتیں کا ساتھ دیں کہ ماحولیاتی آلودگی کسی ایک کا نہیں،بلکہ ہم سب کا سنگین مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

    ‎@JahantabSiddiqi

  • پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں    فواد عالم

    پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں فواد عالم

    قومی کرکٹر فواد عالم کا کہنا ہے کہ پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    باغی ٹی وی : فواد عالم نے کہا کہ ہمارا ہدف ویسٹ انڈیز کو جلد از جلد آؤٹ کرنا ہے کل میزبان ٹیم کو کم سے کم رنز پر آؤٹ کردیا تو میچ جیتنے کی پوزیشن میں ہوں گے-

    قومی کرکٹر نے کہا کہ آج کی سنچری اپنے والدین کے نام کرتا ہوں میچ سے پہلے والدہ سے فون پر بات ہوئی تھی ماں نے کہا تھا کہ اس میچ میں تم سنچری بناؤ گےوالد کی بھی خواہش تھی کہ ویسٹ انڈیز میں سنچری اسکور کروں ماں کی دعا ساتھ ہو تو ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے-

    مکہ مکرمہ: غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہوگی

    فواد عالم کا کہنا تھا کہ وکٹ آسان تھی نہ موسم، میچ کے پہلے روز گرمی اور حبس بہت زیادہ تھا اللہ جب دیتا ہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے پانچ مختلف ممالک میں سنچریاں بنانے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ اپنے والد سے متاثر ہوا ہوں زندگی میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے مگر میرے والد نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا خوش قسمت ہوں کہ مشکل وقت میں میرے اہلخانہ نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیاوالد ہمیشہ کہتے تھے کہ لگے رہو تمہارا وقت ضرور آئے گا-

    سینچری کو سیلیبریٹ کرنے کے حوالے سے فواد عالم نے کہا کہ یہ سلیبیریشن اسٹائل ترکش ڈرامہ ارطغرل غازی سے متاثر ہوکر اپنایا ہے یہ سلیبیریش اسٹائل اظہر علی کے ساتھ طے کیا تھا ہم دونوں نے سینچری بنانے پر یہ اسٹائل اپنانے کا فیصلہ کررکھا ہے-

    واضح رہے کہ جمیکا ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 9 کھلاڑی آؤٹ 302 رنز پر ڈکلیئر کردی فواد عالم نے کیریئر کی پانچویں سنچری بنائی، وہ 124 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

    پاکستان کی جانب سے بابراعظم 75، محمد رضوان 31 اور فہیم اشرف 26 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

    ویسٹ انڈیز کی طرف سے کیماروچ اور جیڈن سیلز نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ جیسن ہولڈر کے حصے میں 2 وکٹیں آئیں 302 رن کے جواب میں تیسرے دن کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کے 39 رنز پر 3 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے ہیں، دو وکٹیں شاہین شاہ آفریدی نے لیں جبکہ ایک کھلاڑی کو فہیم اشرف نے آؤٹ کیا۔

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ پنجم   ) تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ پنجم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    جون 2016 میں پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر اثاثے چھپانے کی بناء پر نااہلی کی درخواست دائر کر دی۔ اور یہی سے اگر کہا جاۓ تو نواز شریف کے اختتام کا آغاز ہوگیا تھا

    اس کے سے لے کر سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف ،جماعت اسلامی ،پاکستان عوامی تحریک ،اور عوامی مسلم لیگ نے سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے خلاف کئی پٹیشنز دائر کی گئیں
    تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ایک بار پھر کرپشن کے خلاف اپنے ساتھیوں کو بھر پور احتجاج جاری رکھنے کا کہا اور پھرعمران خان نے کرپشن کے خلاف ایک اور طویل دھرنے کا تصور پیش کیا جسے ‘اسلام آباد لاک ڈاؤن’ کا نام دیا گیا۔
    مگر یہ دھرنا دینے کی نوبت اس لئے نہ آئی کیوں کہہ اس دھرنا سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ نے پاناما گیٹ پر پٹیشنز کی سماعت کی اور الزامات کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز طلب کیے۔
    اس کے بعد باقاعدہ طور پر اس کیس کی سماعت ہونی شروع ہوگئ پاناما کی کہانی آخر کار 6 جولائی 2018 کو اس وقت اختتام پزیر ہوئی جب احتساب عدالت نے نواز شریف، اور ان کی بیٹی مریم نواز، اور داماد کیپٹن صفدر کو کرپشن کرنے پر نااہل کر دیا اور جیل بھیج دیا۔

    پانامہ لیکس کے مقدمہ اور فیصلے کے درمیان کئ سیاستدان مقدمات کی زد میں آۓ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر بھی ن لیگ کے حنیف عباسی کی طرف سے نااہلی کے لئے پیٹیشن دائر کی گئ جس کی لمبی سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کے خلاف دسمبر 2017 میں کیس خارج کر دیا جبکہ ان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین نااہل قرار پائے۔

    عمران خان نے 2018 میں اپنی تیسری شادی بشریٰ بی بی سے کر لی۔ بشریٰ بی بی پاک پتن سے تعلق رکھتی ہیں اور عمران خان دو سال سے ان کے پاس باقاعدگی سے جایا کرتے تھے۔ یہ شادی لاہور میں سادگی سے ہوئی۔
    پھر الیکشن قریب آگیا اور آخر کار کپتان عمران خان کی مخنت رنگ لے آئی اور 25 جولائی کے عام انتخابات میں پاکستان کو بے مثال انداز میں قومی اسمبلی کی 116 نشستیں حاصل ہوئیں۔ عمران خان نی پانچ سیٹوں پر الیکشن لڑا اور پانچوں نشستوں سے کامیاب ہوئے کپتان کی اس کامیابھی کے بعد دیگر جماعتیں بوکھلا گئ اور انتخابات کو بغیر کسی ثبوت کے پورے کے پورے الیکشن کو ہی دھاندلی زدہ قرار دے دیا
    قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے اور مخصوص نشستوں پر اپنے امیدواروں کو نامزد کرنے، اور عمران خان اور دو دیگر ارکانِ قومی اسمبلی کی جیتی گئی اضافی نشستیں خالی کرنے کے بعد ان کا نمبر 152 تک پہنچ گیا۔
    پارٹی کے اس وقت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے پارٹی کو 180 سے زائد ارکانِ قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔
    اگر مقبولیت کی بات کی جاۓ تو جیسے ہی انتخابات کے نتائج آنے شروع ہوئے تھے اور پی ٹی آئی اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی تھی تو عمران خان کو ‘اگلا وزیرِ اعظم’ کہا جانے لگا تھا جبکہ پارٹی سربراہ عمران خان نے انتخابات کے اگلے دن ہی ایک فاتحانہ تقریر بھی بنی گالہ سی کی تھی
    اور اگر اس تقریر کی بات کی جاۓ تو وہ عمران خان کی یادگار تقریروں میں سے ایک تقریر تھی جس میں انہوں نے ثابت کیا تھا کہہ وہ ایک حقیقی رہنماء ہیں اپنی تقریر میں انہوں نے بہت ساری تاریخی باتیں کی جس میں سے ایک عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا، "میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں سیاست میں کیوں آیا۔ میں سیاست سے کچھ لینے نہیں آیا اور نہ سیاست مجھے کچھ دے سکتی ہی ۔ میں صرف پاکستان کو وہ ملک بنانا چاہتا تھا جس کا خواب میرے رہنما قائدِ اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔”

    اللہ پاک ارض پاک کو قائد اعظم محمد علی جناح کے رہنماء اصولوں پر چلنے کی توفیق دے

    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • عورت ماں، بہین اور بیٹی ہے۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    عورت ماں، بہین اور بیٹی ہے۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    دل ہے کہ ماننے کو تیار ہی نہیں ابھی چند دن پہلے جو صوبہ پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں ہوا مینار پاکستان میں عائشہ نامی ٹک ٹوکر لڑکی کے ساتھ جو واقعہ ہوا یہ واقعہ قابل مذمت ہے اللہ پاک نہ کریں ایسا واقعہ کسی کے ساتھ ہو
    میرے لیے اس واقعہ پر یقین کرنا انتہائی مشکل ترین ہے۔ یہ اس شہر کا واقعہ ہے جہاں کے لوگ زندہ دلانے لاہور کہلاتے ہیں۔ میرا دل و دماغ یہ ماننے کو ہر گز تیار نہیں ہے کہ چار سو مردوں نے ایک اکیلی وہ بھی نہتی لڑکی کے ساتھ زیادتی کر دی
    یہ کیسے ممکن ہے کہ چار سو کے چار سو ہی ایک ہی کام میں لگے ہوں۔

    دیکھنے اور سننے میں تو یہ آتا ہے کہ آج بھی اگر اس قوم کی ماں، بہین ، بیٹی کو دو لڑکے راہ چلتے چھیڑ دیں تو دو سو بھائی اور اس قوم کے بیٹے ان دو لڑکوں کی وہ ٹھکائ شروع کرتے ہیں کہ انہیں وہاں سے دم دبا کے بھاگنا ہی پڑھتا ہے۔ اور ایسے موقعوں پر ہر راہ گیر بھائی بن کر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کرتے ہیں۔کوئی خاتون اگر مذاق میں بھی یہ کہہ دے کہ اس لڑکے نے مجھے چھیڑا ہے تو اس قوم کے بیٹے پھر نہ آو دیکھتے ہیں نہ تاو بنا تصدیق کے ہی یہ بھائی اس لڑکی کی بات کو سچ مانتے ہوئے لڑکے پر اپنے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دینگے ایک اور بات جانے اتنے جلدی یہ سب بھائی اکھٹے کیسے ہو جاتے ہیں کہ ایک ہجوم سا بن جاتا ہے۔اور پھر جب تک پولیس نہ پہنچ جائے وہ لڑکا ہجوم سے پٹتا ہی رہتا ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ ہم پاکستانی بہت جزباتی لوگ ہیں جو کبھی بھی کسی بھی واقعہ کی بنیادی وجہ کو تلاش نہیں کرتے شاخوں پر چھولتے رہیں گے مگر بیماری کو جڑ سے نہیں پکڑیں گے۔
    اگر چار سو لڑکوں نے ایسا کیا ہے تو ہرگز ان کی طرف داری نہیں کی جاسکتی بلکہ ان کا یہ عمل انتہائ قابل مزمت ہے

    مگر دوسری طرف یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ لڑکی وہاں مینار پاکستان پے کیا کر رہی تھی؟ یہ ٹک ٹوک اور مختلف لائیو اپس کی ایپلی کیشن کیسے عورت کو ایک نمائشی آلہ بنائےچلی جارہی ہیں۔ اور میری بہنوں کیا ہو گیا ہے تم کو عورت ہے کہ نمائش بنتی جا رہی ہے۔چند لائک اور فالوورز کے چکر میں سرئے عام ، پارک میں ، چلتی سڑک پر ، اسی معاشرے کے مردوں کے ہجوم میں یہ دوپٹہ اتار دینا ، باریک اور تنگ لباس پہن کر کے رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیو بنانا۔ایسی سستی شہرت حاصل کرنے کی چکر میں آپ کو عزت سے ہاتھ تو دھونا ہی پڑیں گے ۔محترم حریم شاہ بنیں گی تو مولوی عبدالقوی تو پھر ہر جگہ مل ہی جائیں گے۔ شہد کو کھولا رکھنے سے مکھیاں تو اس پے بیٹھیں گی۔

    وہ لڑکے بھی قابل لعنت ہیں جو اس گندے فعل کے مرتکب ہوئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان کے لئے بھی اس ٹک ٹوک ایپلی کیشن نےتو اخلاقیات کا جنازہ ہی نکال رکھا ہے۔
    میں حکومت وقت سے اپیل کروں گا کہ ایسی اپس فوری طور پر پاکستان میں بند کی جانی چاہئیں۔
    ایسی خواتین جن کو گھر یا خاندان کی عزت کا کوئی خیال نہیں ہے وہ اپنے ہاتھ یا پیر دکھا کر بکواس اور بےہودہ جملوں کا استعمال کرلیتی ہیں ۔ کبھی آپ ان لڑکیوں کی ان ویڈیوز پر کمنٹس پڑھ لیں تو اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے رہ جائیں گے ۔یہ سب ہو کیا ہورہا ہے؟؟؟

    قارئین عورت کی اتنی تزلیل کہ وہ ایک مارکیٹنگ ٹول بن کے رہ گئی ہے ۔یاد رکھیں عورت ماں، بہین ،بیٹی اور پھر ایک بیوی ہے۔ایک اچھی ماں ہی معاشرے کی نشوونما کر سکتی ہے ۔ایک ماں نے ہی ہماری آنے والی نسل کو سنوارنا ہے۔ اپنی پرورش سےہماری اقداراور رواج کو نئ نسل میں منتقل کرنا ہے ۔ ذرہ سوچیئے گا ضرور کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ کس طرف جا رہے ہیں ہم؟ کیا ہم خود ہی اس معاشرے میں جنسی بے راہ روی اور فریسٹریشن کو جنم نہیں دے رہے؟

    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے پر رحم کرے ۔اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو۔آمین ثم آمین

    @No1Hasham

  • ماحولیاتی آلودگی اور اس کے اسباب تحریر: سحر عارف

    ماحولیاتی آلودگی اور اس کے اسباب تحریر: سحر عارف

    آج پوری دنیا ماحولیاتی آلودگی کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ کیا امیر اور کیا غریب ممالک سب کے سب ہی اس کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ امیر ممالک دولت کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے اور یقیناً وہ وقت دور نہیں جب وہ اس میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کرلیں گے۔ دوسری طرف آتے ہیں غریب ممالک جن کے پاس اتنی دولت نہیں ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے کوئی بڑے بڑے اور مہنگے مہنگے اقدامات کر سکیں۔

    پھر یہی وجہ ہے کہ غریب ممالک ہی سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کی بھی بہت سی اقسام ہیں جیسے کہ پانی کی آلودگی، فضائی آلودگی، زمینی آلودگی اور شود کی آلودگی وغیرہ۔ اگر بات کی جائے فضائی آلودگی کی تو اس میں پچھلے ایک دو سالوں میں بہت حد تک کمی آئی ہے۔

    کیوں کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس حوالے سے اقتدار سنبھالتے ہی توجہ فرماتے ہوئے اقدامات شروع کر دیے تھے۔ اپنی عوام کی صحیح رہنمائی کرنے اور انہیں فضائی آلودگی کی بڑھتی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کا مشورہ دیا اور خود مہم کا آغاز بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اب پچھلے کئی سالوں کی نسبت فضائی آلودگی میں کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔

    پھر پانی کی آلودگی اس وقت ملک میں پائی جانے والی ماحولیاتی آلودگی کی ایک اور قسم ہے۔ جس کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا جاسکا اور اسی وجہ سے پاکستان کی آبی مخلوق بہت حد تک نقصان اٹھا چکی ہیں۔ پانی کی آلودگی کی بڑی وجہ کارخانوں سے نکلتا گندہ تیل اور زہریلا مادہ ہے۔

    جنہیں پانی میں بہا دیا جاتا ہے اور پھر وہی آبی مخلوق اور سی فوڈ کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ شور کی آلودگی بھی ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ہے جس کی وجہ سے معاشرہ اچھا خاصا بے سکونی کا شکار ہے۔ شود کی آلودگی کی وجوہات یہ ہیں کہ بڑی گاڑیوں پر لگا اونچا ہارن جس کے بجنے سے ہر انسان اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کے علاؤہ وہ لوگ سب سے زیادہ اس آلودگی سے اثر انداز ہوتے ہیں جن کی رہائش موسیقی کے علاقوں میں ہو یا جو دیہاتوں میں رہتے ہیں۔

    جہاں کھیتوں میں ہل چلانے کے ساتھ ساتھ کسان اونچی آواز میں گانے لگا دیتا ہے۔ خود تو اس سے لطف اندوز ہورہا ہوتا ہے پر باقیوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا یے۔ یہی وجہ ہے آج کل لوگ بہت تیزی سے ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کی چوتھی قسم ہے زمینی آلودگی ہے اس قسم کی آلودگی میں مزید مٹی اور کھانے کی آلودگی شامل ہیں۔ مٹی کو آلودہ کرنے میں بھی انسان کا ہی سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔

    جو ہر گندہ مادہ اور کیمیائی تغیرات مٹی میں شامل کردیتا ہے۔ پھر کھانے کی آلودگی تو آج سب سے زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ آج ہر کوئی کھانے پینے کی اشیاء میں کھلم کھلی ملاوٹ کر کے کھانے کو خوراک کو انسانی صحت کے لیے زہر آلود بنا رہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان کو پیش آنے والے مسائل کی ایک وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔ اسی لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے ماحول کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک دو شخص سے ممکن نہیں اب پوری قوم کو یکجان ہونا ہوگا۔

    @SeharSulehri