Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حضرت امام حسین اور اہل بیت  تحریر : ماریہ بلوچ

    حضرت امام حسین اور اہل بیت تحریر : ماریہ بلوچ

    محرم الحرام نئے اسلامی سال کا پہلا مہینہ۔اللہ نے امت مسلمہ کی جھولی میں محرم کو ڈالا ، میرے نبی محمد ﷺ کو چاند کا سال عطاء فرمایا۔اس لیے کہ چاند کبھی غروب نہیں ہوتا اکثر لوگوں نے دن میں بھی چاند باقی رہتا ہے۔
    محرم الحرام کا ‏مہینہ ازل سے مقدس چلا آرہا ہے۔محرم میں آدم علیہ السلام توبہ قبول ہوئی۔ اماں ,ابا (حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ہوا علیہ السلام ) کی  ملاقات ہوئی 10محرم میدان عرفات میں، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر جا کر محفوظ ہوگئی حضرت موسی علیہ السلام نے سمندر پار کیا اور فرعون ‏اسی سمندر میں غرق ہو گیا ( راستے نہیں رہبر بچاتے ہیں ) حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی ملی۔
    لمبی فہرست ہے محرم کے واقعات کی پھر سب سے آخر میں واقعہ کربلا نواسہ رسول ﷺ جگر گوشہ بتول فرزند علی مرتضیٰ جناب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ، علیہا السلام ، اہل بیت ‏اور آپ کے ساتھیوں کی دل چیر دینے والے شہادت۔ یہ واقعہ ایسا ہوا کہ باقی تمام واقعات پر چھا گیا۔
    اسبابِ کربلا
    یہ حق و باطل کا معرکہ تھا، جھوٹ اور سچ کا مقابلہ تھا ، ظلم اور عدل کا ٹکڑاو تھا ، خیر اور شر کی لڑائی تھی دو شخصیات کی لڑائی نہیں تھی دو نظریات کا تصادم تھا یہ اقتدار کی ‏جنگ نہیں تھی حقدار کی جنگ تھی۔
    شخصیات کا تعارف و حوالہ
    یذید ظلم کا استعارہ ہے حضرت حسین ابن علی علیہ السلام امن کی علامت ہیں۔ یذید جبر کا پتلا ہے حسین رضی اللہ تعالی عنہ صبر کا پیکر ہیں۔
    یذید اپنی بد دینت فطرت اور اپنی تپ ناہموار کے ‏باعث دینا پر ذلت و رسوائی ظلم و جبر جوہ و ذیادتی کی علامت بن کر ابھرا ، حسین ابن علی علیہ السلام حق و صداقت کا نشان بن کر ابھرے اور رہتی دنیا تک کر لوگوں کے لیے عظیم الشان مثال چھوڑ گئے۔
    یذید بن معاویہ باہدل کی بیٹی محسون کا ناپاک بیٹا اور دوسری طرف حسین رسول ﷺ کی لاڈلی
    ‏فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ کا شہزادہ تھا ، یذید دمشق کے اطراف میں سرجون اور جریر اختل جیسے اوباشوں کے جھرمٹ میں پل کے جوان ہوا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کے گھر کا دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا ۔ یذید نشے میں دھت ہوکر نمازیں چھوڑ دینا ہے حسین کی کربلا کے اندر بھی نماز تہجد قضا نہ ہوئی ‏یذید نے ایک مرتبہ زندگی میں حج کیا اور شراب کے مٹکے ساتھ لیکر آیا ،اختل اور دیگر گویوں اور مغنیوں کو اپنے ساتھ رکھا تاکہ سفر آسانی سے کٹ جائے حسین ابن علی رض نے 25 حج سواری ہونے کے باوجود پیدل کیے۔یذید کے اندر زمانہ کی ہر برائی تھی بدکاری شراب نوشی وہ شریعت بیضا کا مذاق اڑاتا تھا ‏دوسری طرف امام حسین رض کا دودھ جنت کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ کا تھا آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ کی رگوں میں خون علی ابن طالب کا تھا آپ کے دوست عبداللہ ابن عباس تھے ، عبداللہ ابن عمر اور عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللّٰہ تعالیٰ تھے۔ یذید شراب نوشی کرتا رہا جوا کھیلتا رہا ‏اور آپ رضی اللہ تعالیٰ مسجد نبوی کے منمبر پر حضور ﷺ کے پہلوؤں میں بیٹھتے تھے۔
    یذید شام کا حکمران بنا اور مدینہ کے حکمران کو اپنی بیت کی دعوت دے رہا مدینے کے گورنر کو پیغام بھیجا اس نے پیغام امام حسین رضی اللہ تعالی تک پہنچایا گیا کہ یذید کہتا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ۔‏یذید حج بیت اللہ کے بعد مدینہ طیبہ آیا اور شراب کی ایک مجلس بپا کی ،حضرت امام حسین علیہ السلام جب وہاں پہنچے تو شراب کی بد بو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کیسی بو ہے تو یذید بولا کہ یہ شام میں بنتی ہے ایک جام یذید نے پیتے ہوئے دوسرا جام حضرت امام حسین کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ابا ‏عبداللہ لیجئے
    حسین ابن علی نے کیا میں اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تو یذید عشقیہ اشعار پڑھنے لگا جب حضرت امام حسین ؓ کی شراب نوشی کا منظر اپنے ہاتھ سے دیکھ چکے تھے تو یذید کے پلید ہاتھ پر امام حسین ؓ کا پاک ہاتھ کیسے آتا۔
    حضرت محمد ﷺ کی محبت کا عالم
    آپ ﷺ کی سید زادوں ‏سے محبت کے بیشمار واقعات ہیں ۔آپ محمد ﷺ نے اپنے بچوں کو سینوں سے لگایا ان کے ہونٹ چومے ان کو گود میں کھلایا ان کو کندھوں پر بٹھایا ان کو پشت پر بھٹا کر سواری دی ان کے لیے سجدوں کو طول دیا۔
    سیدنا حسن ابن علی اور سیدنا حسین ابن علی ؓدونوں سید زادے دنیا میں’’ ریحا نۃ الرسول‘‘ تھے ‏حسنین کریمہ ؓ صرف ہمارے نبی محمد ﷺ اور سید زادوں کے والدین ہی نہیں بلکہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ، خالائیں ، رشتے دار مہاجرین اور انصار اصحاب اکرام غرض کہ بچہ بوڑھا جوان مرد عورت ہر کوئی ان کی ایک ایک ادا پر دل وجان سے فدا تھے۔ سیدنا حسن و حسین علیہ السلام اُن خوش قسمت نفوس میں
    ‏سے تھے جن کی تربیت خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ ان کو ہمیشہ لقمۂ حلال ہی کھانے کو ملا۔
    زمانے نے وہ منظر بھی دیکھا حسنین کریمین حجرہ فاطمہ سے نکلتے ہیں کم عمری کی وجہ سے کبھی گرتے کبھی سنبھلتے ہیں آپ ﷺ خطبہ چھوڑ کر شہزادوں کو گود میں اٹھا لیتے ہیں۔ ‏حضرت عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ حضور ﷺ سجدے میں تھے اور سجدہ اتنا طویل ہو گیا ہمیں لگا یا تو وحی کا نزول ہو رہا ہے یا پھر اللہ کا حکم آ گیا اور اللہ کے محبوب کی روح قبض کرلی گئی لیکن میں نے جب سر اٹھا کر کن آنکھیوں سے دیکھا تو کیا منظر تھا کہ حسین ابن علی حضور ﷺ کی پشت پر ‏بیٹھے ہوئے اور میرے آقا ﷺ سجدے کو طول دے رہے ہیں اللہ اکبر اللہ اکبر حسین کے لیے پیغمبر کے سجدوں کو طول دیا جارہا ہے۔
    وہ منظر بھی دنیا نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے مبارک کندھوں پر حسین ابن علی رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ بیٹھے ہیں حضور کی زلفوں کو پکڑا ہوا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ‏دیکھ کے کہتے ہیں واہ واہ کیسی سواری میسر آئی ہے حسین ابن علی کو تو میرے آقا محمد ﷺ مسکرا کے کہتے ہیں عمر سواری دیکھتے ہو سوار بھی تو دیکھو
    ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا
    ( آپ ﷺ کے دونوں پہلوؤں سے حسنین کریمین لپٹے ہوئے تھے )
    ” یہ میرے بیٹے ہیں یہ میری بیٹی کے بیٹے ہیں میں ‏سے پیار کرتا ہوں اے اللہ تم بھی ان سے پیار کر اور جو ان سے پیارے کرے اس سے بھی پیار کر
    ایک جگہ فرمایا
    حسین کا رونا مجھے دکھ دیتا ہے
    حضرت حذیفہ بن یمان رضہ اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
    حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا! حذیفہ سنو ابھی ابھی ایک فرشتہ آیا ہے جو اس سے قبل دھرتی پر ‏نہیں آیا آج پہلی مرتبہ اللہ سے اجازت لے کے دو کام کرنے آیا ایک تو مجھے سلام کرنے آیا ہے اور دوسرا خوشخبری دینے آیا ہے کہ آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔
    ان واقعات کو بیان کرنے میں تو کئی نشستیں بیت جائیں مختصر یہ ‏آپ ﷺ نے ان کی محبت کا درس دیا ان کے پیار کا سبق پڑھایا۔ کہا کہ ان سے پیار کرنے والا مجھ سے پیار کرتا ہے اور ان سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھتا ہے۔
    آپ ﷺ نے حسین ابن علی کو اپنی زبان کا لعاب دہن دے کر کے وہ شیریں رحمت دے کر کہ وہ کوثر و تسلیم سے پاکیزہ تر آب رحمت عطا کر کے ان ‏ان کی ہمیشہ کے لیے ان کی پیاس بھجا دیں تاکہ کل کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں حسین ابن علی کو پیاس کی شدت تنگ نہ کرے اور پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے ۔اتنے نازوں سے پالے ہوئے حسین کو ان محبتوں سے پالے ہوئے حسین ابن علی کو امتحان بھی اتنے بڑے درپیش تھے۔ ‏یاری تیری سونا پر آزمائشاں تیری اگ
    سونا پرکھیا جاندیاں اہے نال اگاں تے لگ

    جتنا بڑا شخص ہوتا ہے اتنی بڑی آزمائشیں بھی ہوتی ہیں۔پیغمبر رحمت کی آغوش میں کھیلنے والا حجرہ فاطمہ کا جانشین رسول ﷺ کے مصلی کا وارث حضرت امام حسین علیہ سلام بن علی بن ابو طالب۔
    عنوان : امام حسین اور اہل بیت

    Twitter handle: @ShezM__

  • شہادت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تحریر:سید عمیر شیرازی

    شہادت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ تحریر:سید عمیر شیرازی

    قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے
    وہ لوگ جو میرے راستے میں قتل کر دیے جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم ان کی زندگی سمجھ نہیں سکتے دوسری جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں
    وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل کر دیے گئے ہیں انہیں مردہ گمان بھی نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس سے انہیں رزق ملتا ہے،
    شہداء اپنی فانی زندگیوں کو قربان کر کے ابدی حیات پاتے ہیں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت بہت بڑی فضیلت والی شہادت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہ محرم اور خصوصا "یوم عاشورہ” کو فضیلت بخشی گئی ہے۔
    اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مرتبے پر فائز کیا
    حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو ٹھنڈا کیا،حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی سے اتارا،حضرت موسی علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی،
    حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی واپس آئی،حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا،حضرت یوسف علیہ السلام قید سے آزاد ہوئے۔۔
    اس حوالے سے یوم عاشوراء کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس روز کا روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے
    واقعہ کربلا اسلامی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ ہے جہاں انسان کی عقل کام کرنا چھوڑ جاتی ہے کیسے نواسہ رسولﷺ کی آل پر ظلم کیا گیا بڑے بچے بزرگوں سب کو شہید کرکے،
    حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیشہ اپنی قوم کا ساتھ نبھایا لیکن آپؓ کی صفوں میں ابن سباء لعنتی کی نسل نے گھر جمادیا اور آپؓ کو دھوکے سے میدان کربلا بلایا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ بات چیت کے لئے گئے لیکن شاید اللّه کو کچھ اور منظور تھا آپؓ کی شہادت کا وقت قریب سے قریب تر تھا آپؓ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ سفر پر آئے اور آپؓ پر راستے میں بھی ظلم کی داستان نا ختم ہوئی لیکن اسکے باوجود حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ واپسی کے لئے نہیں پلٹے بلکے حق پر قائم رہے۔

    رجب ٦٠ ھ ہجری میں جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کے بعد یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عتبہ لکھا کہ حسین ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے فوری طور پر بعیت لےلو اور جب تک وہ بعیت نہ کریں انہیں مت چھوڑو،
    حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ تشریف لے گئے آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یزید مسلمانوں کی امامت و سیادت کہ ہرگز لائق نہیں تھا بلکہ فاسق و فاجر،شرابی اور ظالم تھا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو (کوفیوں) نے متعدد خطوط لکھے اور کئی قاصد بھیجے کے آپ کوفے آئیں ہمارا کوئی امام نہیں ہم آپ سے بعیت کریں گے۔
    خطوط کی تعداد اس قدر تھی کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ سمجھا کہ مجھ پر ان کی رہنمائی کے لئے اور انہیں فاسق و فاجر کی بعیت سے بچانے کے لئے جانا ضروری ہو گیا ہے،
    حالات سے آگاہی کے لیے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کو کوفہ بھیجا جن کے ہاتھ پر بے شمار لوگوں نے آپ کی بیعت کرلی لیکن جب ابن زیاد نے دھمکیاں دی تو (کوفی) اپنی بعیت سے پھر گے اور مسلم بن عقیل رضی اللہ شہید کر دیئے گئے۔۔
    جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت اور (اہل کوفہ) کی بے وفائی کی خبر اس وقت ملی جب آپؓ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے
    مختصر یہ ہے کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے میں بچے خواتین اور مرد ملا کر (بیاسی 82) نفوس تھے جو کہ جنگ کے ارادے سے بھی نہیں آئے تھے ان کے مقابلے کے لیے یزیدی فوج بائیس ہزار سوار پیادہ مسلح افراد پر مشتمل تھے اور اس کے باوجود ظالموں نے (اہل بیت اطہارؓ) پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا تین دن کے بھوکے پیاسے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے 18 اہل بیتؓ اور دیگر چون 54 جاں نثاروں کے ہمراہ دس محرم الحرام ٦١ ھ میدان کربلا میں شہید کر دیے گئے۔
    اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اہل بیت اور صحابہ کی سچی محبت کرنے والا بنا دے اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا مقصد سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا کامل ایمان والا بنا دے
    آمین ثم آمین

    @SyedUmair95

  • افغان طالبان فاتح، جنگ بندی کا اعلان ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغان طالبان فاتح، جنگ بندی کا اعلان ، تحریر:صائمہ رحمان

    افغانستان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم ترین ملک ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے ، مشترکہ اعتقاد اور باہمی دلچسپی پاکستان کے افغانستان کی طرف رکاوٹ بننےکے بنیادی عوامل ہیں۔ یہ جنوب اور وسطی ایشیا پر مشتمل مجموعی سڑکوں پر محل وقوع ہے جو پاکستان کے لئے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    تاہم ، افغانستان کے اندرونی اور بیرونی مفادات کی بنا پر عدم تعاون کا رویہ خاص طور پر سرد جنگ کے نتیجے میں افغانستان کی ترقی کا رخ موڑ گیا۔ افغانستان پر طالبان کی حکمرانی کے چار سالوں کے بعد ، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کبھی بھی مستثنیٰ نہیں تھے

    جس کی گہری جڑیں تاریخی روابط ، روایتی وابستگی ، معاشرتی تفاوت کی مماثلت ، مشترکہ مذہبی شناخت ، نسلی ثقافتی غلامی اور اسٹریٹجک شراکت داری سبھی تقسیم ہند سے قبل کے برصغیر کے زمانے کی ہیں۔ اس کے باوجود ، تقسیم کے بعد کی علاقائی حرکات اور برطانوی راج اور افغانستان کے مابین امور کی میراث میں ، دونوں کے مابین دوطرفہ تعلقات ہیں ، جس میں اتار چڑھاؤ نمایاں ہے۔ پھر بھی لوگوں سے لوگوں کی سطح پر وابستگی اور گرمجوشی اگر عام نہیں تو عام طور پر خوشگوار رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد ، امریکہ کی سربراہی میں بین الاقوامی اتحاد نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس نے طالبان کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور تب سے ہی افغانستان کا سیاسی چہرہ اوورٹ جبر اور خفیہ سازشوں کے ذریعے سنبھال لیا گیا۔

    15 اگست کو افغان طالبان نے 22 صوبوں پر کنڑول حاصل کرنے کے بعد کابل کا گھیراو کیا طالبان نے زیر قبضہ صوبوں میں محکمہ انٹیلی جنس ، گورنر کا دفاتر، پولیس ہیڈ کواٹرز اور مقامی جیلوں پر کنٹرول حاصل کیا ساتھ ہی واشنگٹن نے امریکی سفارت خانے کو تمام اہم اور حساس دستاویزات کو تلف کردینے کا حکم بھی دیا اور سٹاف کو بحفاظت نکالنے کے لئے اپنے فوجی ائیر پورٹ پر تعینات بھی کئے۔پینٹا گون کے سیکرٹری اطلاعات جان کربی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال بہت خراب ہے ہم طالبان کی تیز رفتار پیس قدمی سے پریشان ہیں۔

    امن اقتدار کی منتقلی کے معاہدے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی اپنی ٹیم اور اہلخانہ کے ساتھ ہمراہ ملک سے فرار ہو ئےطالبان کی کابل شہر میں انٹری ہوتے ہی افراتفری پھیل گئی طالبان قیادت نے لوٹ مار روکنے کے لئے اور امن وا مان قائم کرنے کےلئے اپنے کمانڈرز اور جنگجووں کو تعینات کر دیا۔20 سال بعد قبضہ کرنے کے ساتھ ہی افغانستان میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا ترجمان سہیل شاہین نے بیان میں کہا طالبان کو ہدایت دی گئی کہ بغیر اجازت گھروں میں داخل نا ہوا جائے کسی کی جان ، مال اور عزت کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ افغانستان میں 16 اگست کی صبح صدرارتی محل میں سورت النصر کی تلاوت اور دورد شریف کا ورد بھی کیا گیا ساتھ ہی افغان طالبان نے سرکاری ٹی وی پر نشریات میں شہریوں سے پر امن رہنے کو کہا کابل ائیر پورٹ سے تمام پروازیں منسوخ کر دی ۔

    ائیر پورٹ پر موجود عینی شاہدین کے مطابق کابل ائیر پورٹ میں ہزاروں کی تعداد میں افراد موجود تھے جو کابل چھوڑنے کی وجہ سے جہازوں میں سوار ہونے کی کوشش کرتے رہے اور تین نوجوان ایک G17 طیارے کے پہیوں یا سامان رکھنے والے خانے میں چمٹ گئے جس کی وجہ سے ان کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔روس چین ایران نے طالبان حکومت کا خیر مقدم کیا اور دوستانہ تعلقات کا اعلان کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستا ن پر افغانستان کی صورتحال کا اثرا کیا ہو گا اپنا بارڈر سکیور کرنے کا ہوم ورک مکمل کر چکا ہے ٹی ٹی پی یا تو ختم ہوجائے گی ضم ہو جائے گی آنے والے دن پاکستان کے لیے بہتری زیادہ اور خطرات کم ہیں اشرف غنی کے ملک سے فرار اور طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی ‏صورتحال پر پاکستان نے پالیسی بیان جاری کیا طالبان لیڈر شپ کو کامیابی مل چکی ہے پاکستان اب کیا اقدامات کرے گا۔

    امریکہ کا افغانستان سے چلا جانا پورے خطے پاکستان روس چین کے لیے ایک امید اور خوشخبری اعلان ہے بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتا رہا کس طرح بھارت افغانستان میں امن کو نقصان پہنچاتا رہا .

    طالبان کے کنڑول کے بعد کابل کی صورتحال اب کنٹرول ہو رہی ہے اب امریکہ کی فوجی شکست اور اس کے انخلاء کو افغانستان میں زندگی ، سلامتی اور پائیدار امن کی بحالی کا موقع بننا چاہیے افغانستان میں استحکام کی بحالی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور ایران چاہتا ہے پڑوسی اور برادر ملک کی وجہ سے افغانستان میں تمام گروہ قومی معاہدہ تشکیل دیں۔ طالبان 2001 کے بعد سے اب تک اپنی سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں یہ وہ طالبان ہیں یہ جارحانہ انداز میں پیش قدمی کرنے اور ملک کو واپس لینے کی صلاصیت رکھتے ہیں امریکہ نے جدید ترین فوجی سازوسامان ، 3لاکھ مضبوط افواج اور ایک فضائی قوت پر اربوں ڈالر خرچ کِیے جو کہ طالبان کے پاس نہیں تھے لیکن پھر فتح ان کی ہوئی ۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • مثبت  رویہ اور برتاؤ اچھی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے: تحریر محمد جاوید

    مثبت رویہ اور برتاؤ اچھی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے: تحریر محمد جاوید

    اپنے ہر دن کا آغاز پرسکون شکر گزار رويہ سے کرو تمہارا پورا دن خوشگوار اور کامیاب گزرے گا۔
    انسانی روايے کو تبدیل کرنے میں مختلف عوامل کار فرما ہوتے ہیں ان عوامل کی وجہ سے ایک انسان کا رويہ دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے اور ہر انسان کے روايے میں ان عوامل کا کردار نمایا ہوتا ہے۔
    ان عوامل میں سب سے پہلے علم ہے جو کسی بھی انسان کا برتاؤ میں بہتری لانے میں اہم ہے اور لاعلمی انسان کے برتاؤ میں منفی تبدیلی لاتی ہے اسلیے علم کے بدولت ہمارے برتاؤ بنتا ہے اسلیے بہتر ہے علم حاصل کریں اور معاشرے کا ایک اچھا انسان بننے کی کوشش کریں اور دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔
    دوسرا اہم پہلو ہماری سوچ ہے جیسی ہماری سوچ ہوگی ویسا برتاؤ ہوگا اگر سوچ مثبت ہے تو برتاؤ مثبت ہوگا اور اگر سوچ منفی ہے تو برتاؤ منفی ہوگا ۔ اسلیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ میں مثبت خیالات لایے تاکہ ہمارا برتاؤمثبت ہوگا اور معاشرے کے لے ایک کارآمد شہری بن سکے تیسرا اہم جز جو ہمارا برتاؤ بناتا ہے وہ ہمارا ذاتی تجربہ ہوتا جن لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑتا جہاں ہم کام کرتے ان کے برتاؤ کی وجہ سے بھی ہمارا behavior میں تبدیلی آجاتی ہے ۔انسان کے ذاتی تجربات کی وجہ سے بھی ان کے برتاؤ میں تبدیلی آجاتی ہے۔ بےاحتیاطی کی وجہ سے کسی بندے کو حادثہ ہو جاتا ہے تو آیندہ وہ احتیاط کرنا شروع کر دیتا ہے اور یہ ذاتی تجربہ اس کے برتاؤ میں تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا کرتی ۔
    برتاؤ میں تبدیلی کا سب سے اہم عنصر ہماری تربیت، خاندان اور معاشرہ ہوتا ہے جیسا کہ جیس ماحول میں ہم رہتے اور جہاں ہماری پرورش ہوئی ہو اس ماحول کے اثر کی وجہ سے ہمارا برتاؤ ہمارا رویہ اس پہ انحصار کرتا ہے۔ برتاؤ میں مورثی عنصر بھی شامل ہوتا ہے ۔ برتاؤ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہوتے اسکو قبول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ جن اخلاقیات اور اقدار کا شب وہ روز سامنا ہوتا گھر میں خاندان میں اور معاشرے میں تو وہ اقدار اور اخلاقیات کے اصول ہمارے برتاؤ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر اچھے ماحول میں اچھی تربیت ہوئی ہو تو مثبت برتاؤ کا سامنا ہوتا اور اگر ماحول اور تربيت میں مثبت باتوں کی کمی ہو تو ہماری شخصیت میں منفی رویہ اور برتاؤ غالب آجاتا ہے ۔
    ہر انسان کے رویہ اور برتاؤ اسکی تربيت کے بارے میں بتاتا ہے کہ کسے اسکی تربيت ہوئی ہے۔ آدمی کا برتاؤ اس کے ماں باپ اسکا گھر اور اسکے فیملی کا پتا بتا دیتا ہے کہ کسے اسکی تربيت ہوئی یعنی گھر بار کے شرافت اور جہالت کا پتا بتا دیتا ہے۔ حضور ﷺ کے حدیث کا مفہوم ہے کہ والدین کی طرف سے اولاد کو سب سے اچھا تحفہ انکی بہترين تربيت ہے۔
    پس یہ ضروری ہے کہ ہمارا برتاؤ دوسرے لوگوں کے لے ہمیشہ سے مثبت ہونا چائے اور ہمیں اپنے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا چائے اگر ہم علم حاصل کرینگے تو اچھے اور برے کی تمیز ہمارے شخصیت میں آجائے گی اور پھر ہمارا برتاؤ مثبت ہوگا۔ انسان چائے تو اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلی لے آسکتا ہے اس کے لے سب سے پہلے اس کے لئے ضروری ہے کہ علم حاصل کریں اور دوسرا اپنے دوستوں میں ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جو اپنے مثبت اخلاق اور برتاؤ کی وجہ سے معاشرہ میں اچھی پہچان کے حامل ہو۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی منفی چیزوں کو مثبت چیزوں میں تبدیل کر دیں اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے ان منفی باتوں کا بنیاد تلاش کریں اور ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔ جب بھی کوئی آپ کے روئے پہ تنقید کرتا ہے تو اسے چلنج کیجے اور اس منفی رویے کی وجہ تلاش کریں پھر اس میں مثبت تبدیلی لانا بہت آسان ہوگا اور اسی طرح آپ اپنے روئے میں مثبت تبدیلی لاکر اپنی شخصیت میں بہتری لاسکتے ہیں۔ یہی مثبت رویہ ہوتا جیس کی وجہ سے آپ کا معاشرے میں ایک مقام ہوتا لوگ آپ کے اخلاقی اقدار کی مثالیں دینا شروع کر دیتے اور لوگ معاشرے میں آپکو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اسلیے ضروری ہے کہ ہم اپنا رویہ برتاؤ ہمیشہ مثبت رکھیں۔
    @I_MJawed

  • کابل کی فضاوں سے تحریر: عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کابل کی فضاوں سے تحریر: عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کابل پر طالبان کے قبضے کے ساتھ ہی دو عشروں سے جاری امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ دنیا اس طویل ترین جنگ میں انسانی ہلاکتوں اور لاگت کا تو اندازہ لگا سکتی ہے لیکن خطے میں اس جنگ کےاثرات کااندازہ لگانا نا ممکن ہوگا۔اکتوبر 2001سے اپریل2021 تک جاری اس جنگ کے دوران جو جانی اور مالی نقصان ہوا اس سے امریکہ نے کیا احداف حاصل کئے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے بظاہر دیکھا جائے تو ان بیس سالہ جنگ میں کبھی بھی طالبان کمزور نظر نہیں آئے جوں جوں سختی بڑھی مزاحمت بھی بڑھتی چلی گئ۔
    بہر حال اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ طالبان کابل میں داخل ہوچکے ہیں اور کابل سمیت مکمل افغانستان کو بغیرکسی مزاہمت کے فتح کر کے صدارتی محل کا مکمل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں جبکہ اشرف غنی اپنے ساتھیوں سمیت تاجکستان فرار ہو چکے ہیں۔ طالبان نے فوری طور پرعبداللہ عبداللہ،حامد کرزئ اور گلبدین حکمت یار پر مشتمل ایک تین رکنی رابطہ کونسل بنا دی ہے جو کہ اقتدار کی منتقلی کے لئے اقدامات کرے گی۔
    امریکی فورسز نے کابل ائر پورٹ کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جبکہ امریکی سفارتخانہ ائر پورٹ منتقل ہو چکا ہے اور ضروری دستاویزات نظر آتش کی جا چکی ہیں علاوہ ازیں دیگر یورپی ممالک کا سفارتی عملہ بھی کابل ائر پورٹ پہنچ رہا ہے جہاں سے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکے گا۔اس ساری صورتحال میں امریکہ نے اشرف غنی سے کہ دیا ہے کہ آپ افغانستان کی سیکیورٹی میں ناکام رہے اس لئے اب ہم اپنی فورسز آپ کو نہیں دے سکتے آپ یہاں کے معاملات خود دیکھیں ہمارا کوئی تعلق نہیں اس کے علاوہ اپنے امریکی شہریوں کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر افغانستان چھوڑ دیں جبکہ نوزائدہ افغان رابطہ کونسل نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی قومی ائر لائن کے زریعہ کابل ائر پورٹ پر پھنسے ہوئے افراد کی محفوظ مقام پر منتقلی میں افغانستان کی مدد کرے اور پاکستان نے ان برےحالات میں بھی افغانستان کو مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائ اور قومی ائر لائن کی پروازوں نے اڑان بھرنی بھی شروع کر دی ۔
    بھارت کا قونصل خانہ بند پڑا ہے انکا ماسٹر صدر اشرف غنی ساتھیوں سمیت مفرور ہے جو بھارتی ایماء پر پاکستان پر طرح طرح کے الزام لگاتا رہا،نہ بھارتی اسلحہ کام آیا نہ فوجی اور انٹلی جینس تربیت نہ پیسہ اور تو اور بھارتی مزموم سازشوں سے پاکستان کو مزاکرات سے دور رکھا جارہا تھا لیکن قدرت کا کرشمہ دیکھیں کہ ہر طرف افرا تفریح کا سماں ہے لیکن پھر بھی فوری طور پر افغانی وفد پاکستان سے مزاکرات کرنے پہنچ رہا ہے اور بھارت میں ان کے یوم آزادی پر سوگ کا سماں ہے بھارتی میڈیا کی چیخیں پوری دنیا سن رہی ہے۔
    اس ساری صورتحال میں میں سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ‏طالبان نے اپنی فتح کے ساتھ ہی عام معافی کااعلان کیاہے۔جنگجووں کو منع کیا ہے کہ مخالفین کی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں اور سفارتی عملہ اور انکی فیملی اور جو افغانی وہاں کام بھی کرتے تھے کسی کو کوئ گزند نہ پہنچائ جائے۔ ان کا یہ عمل سنت نبوی کے عین مطابق ہےجو ہمارے حضورﷺ نے فتح مکہ کےموقع پر کیا ۔اللہ تعالی سے یہ ہی دعا ہے کہ خطہ کا امن بحال ہو افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان بھی پر امن رہے گا کیونکہ اس پورے خطے کو اس کوریڈور سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔

    تحریر: عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    @Azizsiddiqui100

  • بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد کشمیر کے 28 ویں صدر منتخب

    بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد کشمیر کے 28 ویں صدر منتخب

    مظفر آباد: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوگئے اس طرح وہ آزاد کشمیر کے 28 ویں صدر بن گئے-

    باغی ٹی وی :پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو بطور صدر آزاد کشمیر نامزد کیا تھا اور اب وہ آزاد کشمیر کے 28 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے 34 ووٹ حاصل کیےمتحدہ اپوزیشن کے امیدوار میاں عبدالوحید نے 16 ووٹ حاصل کیے۔

    بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا تعلق جاٹ قبیلے سے ہے اور ان کے والد چوہدری نور حسین مرحوم سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں آزاد کشمیر کے مشیر تعلیم رہے ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود آزاد مسلم کانفرنس، آزاد جموں و کشمیر لبریشن لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر، پیپلز مسلم لیگ کے صدر رہ چکے ہیں اور اس وقت پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر ہیں۔

    بیرسٹر سلطان محمود نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1983 میں برطانیہ کو خیرباد کہہ کر آزاد مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا، انہوں نے 1985 میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے پہلے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہو گئے۔

    بیرسٹر سلطان محمود نے مجموعی طور پر 11 مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے وہ 9 میں کامیاب قرار پائے اور 2 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    بیرسٹر سلطان محمود کو پہلی شکست 1991 میں مسلم کانفرنس کے سابق وزیر ارشد محمود غازی مرحوم کے مقابلے میں ہوئی جبکہ دوسری مرتبہ وہ 2016 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار اور سابق وزیر چوہدری محمد سعید کے مقابلے میں ناکام ہوئے تھے۔

    بیرسٹر سلطان محمود 1996ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی حکومت میں وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئے جبکہ وہ آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ پارٹیاں بدلنے کا اعزاز رکھنے کیساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں واحد سیاستدان ہیں جو 9 مرتبہ میرپور کے حلقہ ایل اے 3 سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔

    خیال رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے بھی تحریک انصاف کے امیدواروں میں شامل تھے تاہم وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کیلئے سردار عبدالقیوم نیازی کو نامزد کیا اور وہ 33 ووٹ لے کر وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئے۔

  • ماں کی نافرمانی کا عبرتناک واقعہ تحریر:محمد سدیس خان

    ماں کی نافرمانی کا عبرتناک واقعہ تحریر:محمد سدیس خان

    والدین میں سے ماں کا حق اور درجہ زیادہ ہے۔ اس لیے اس کی نافرمانی دنیا ہی میں برا انجام دکھا دیتی ہے۔ ذیل کے واقعہ کو بغور سنو اور میرے پیغام کے طور پر قبول کرو۔
    ایک نوجوان کو حج کا شوق ہوا اس کی ماں اس کو سفر کی اجازت نہ دیتی تھی چنانچہ وہ بدون اجازت ہی کے حج کو چلا گیا۔
    راستہ میں چوروں نے اسے پکڑا اور سارا مال اور اس کازادوراحلہ سب چھین لیا اور اس کے دونوں ہاتھ پاؤں کاٹ کر وہیں راستہ پر چھوڑ دیا۔
    بیت اللہ کے مؤذن کو خواب میں اشارہ غیبی ہوا کہ اٹھو اور فلاں جنگل میں جاکر فلاں جوان کی خبر لو کہ مجھ کو اس پر رحم آتا ہے ( یعنی اس نے گو ایک بڑی غلطی کی ہے مگر چونکہ میرے ہی دربار میں آرہا تھا اس لیے مجھے بھی اس کی خاطر منظور ہے) چنانچہ وہ مؤذن نیند سے بیدار ہوا اور بتائے ہوئے جنگل کی جانب روانہ ہوگیا۔
    وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک نوجوان پڑا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ وپیر کٹے ہوئے ہیں اس نے پوچھا کہ اے شخص یہ تیرا کیا حال ہے؟
    اس نے کہا میں نے والدین سے اجازت لیئے بغیر راہ کعبہ میں قدم رکھا اس لئے میرا حال یہ ہوا جو تیرے سامنے ہے تاکہ بندگان خدا کو عبرت ہوکہ والدین کا بڑا حق ہے ان کی اجازت کے بغیر حج کے لیے بھی جانے میں ایسا معاملہ پیش آتا ہے چہ جائیکہ ان کو ناحق ایذاء دینا اور برا بھلا کہنا اس کا تو انجام کار بہت ہی برا ہے۔
    یہ سن کر اس مؤذن نے کہا کہ خیر جو ہوا سو ہوا اب سے توبہ کرو۔ اس نے صدق دل سے توبہ کی اور مؤذن سے درخواست کی کہ مجھ کو میرے ماں کے پاس پہنچا دے تا کہ اس کو راضی کروں اور جس طرح سے ایک بار حماقت کرکے اپنے سفر حج کو کھوٹا کیا ہے اور ہاتھ پاؤں سے محروم ہوگیا ہوں ایسا نہ ہو کہ دم آخر ایمان سے ہی محروم ہو جاؤں اور سفر آخرت کو کھوٹا کرلوں۔
    مؤذن نے یہ سن کر اس کو اٹھایا اور اس کے وطن لے جاکر اس کے ماں کے دروازہ کے پاس اس کو بٹھادیا اور خود واپس ہوگیا۔
    اس کی ماں اندر بیٹھی تھی جوان نے سنا کہ وہ یوں دعاء کررہی تھی کہ الہی میں نہیں جانتی کہ اس سفر میں میرے بچے کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا کیونکہ وہ بغیر میری اجازت کے چلا گیا ہے۔ اب تو اسکو مجھ تک پہنچا دے کہ میرا دل اس کے لیے بے قرار ہے۔
    جوان بھی ماں کے ان کلمات کو سن کر بلبلا گیا اور اپنے کٹے ہاتھ سے دروازہ کھٹکھٹایا ، ماں اندر سے بولی کہ ارے یہ کون ہے جو بیوی اور غمزدہ کے دروازہ کو کھٹکھٹایا رہا ہے۔
    پھر خیال کیا کہ شاید کوئی میرے مسافر بچے کی خبر ہی لایا ہو یہ خیال کرکے اٹھ کر باہر آئی دیکھا کہ ایک غریب فقیر سا آدمی بیٹھا ہوا ہے کہا کہ اے مسافر غریب آگے آ! اگر تجھ کو روٹی کی ضرورت ہوتو میں روٹی دوں۔
    اس نے کہا میں روٹی کیسے لوں میرے تو ہاتھ ہی نہیں ہیں اس نے کہا اچھا ذرا آگے آ! کہا آؤں کس طرح میرے تو پاؤں بھی نہیں ہیں۔
    اس غریب کی یہ بات سن کر بیوہ کو اس پر بہت ترس آیا کہا اے جوان غریب! تیری آواز تو میرے بیٹے سے بہت ملتی جلتی ہے۔
    چنانچہ وہ دوڑ کر چراغ لائی اور آگے پیچھے سے اس کا منہ دیکھنے لگی۔ اس کو دیکھ کر اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوئی، وہ کہتی جاتی تھی کہ تیرے ہی طرح میرا بھی ایک بچہ تھا بغیر میری اجازت کے وہ حج کے لیے چلا گیا ہے میں نہیں کہہ سکتی کہ سفر میں اس کا کیا حال ہوا۔
    ماں کے منہ سے یہ کلمات سن کر وہ جوان صبر نہ کرسکا اور پھوٹ کررونے لگا اور کہا اے ماں وہ بیٹا تیرا میں ہی ہوں، تیری حق تلفی میں نے کی اس کا یہ انجام ہوا۔ ماں نے جب یہ سنا تو ایک ہائے کی اور بیہوش ہوگئی۔
    تھوڑی دیر بعد جب ہوش آیا تو آسمان کی جانب منہ کیا اور دعاء کی کہ الہیٰ! تو نے اس کو کیے کی سزادی اور ادب دیا لیکن پروردگار اس کو ہلاک نہ کی جیو اور ایمان کی سعادت سے اسے محروم نہ رکھنا۔
    غرض اس واقعہ کے بیان سے یہ ہے کہ تم سمجھو کہ ماں باپ کی خوشی عجیب چیز ہے اور ان کی نافرمانی بہت ہی وبال کی چیز ہے۔
    Twitter : @msudais0

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر  حصہ اوّل  تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر حصہ اوّل تحریر چوہدری عطا محمد

    ارض پاک اسلامی جہموریہ پاکستان کے 22وزیز اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی نے آج سے تقریباً 24سال سے کچھ قبل اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اب پاکستان کے 22 وزیرِ اعظم جناب عمران احمد خان نیازی 5 اکتوبر 1952 کو پنجاب کے خوبصورت شہر میانوالی کے ایک نیازی پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ عمران خان کا کا خاندان بعد میں لاہور میں مقیم ہوگیا جہاں انہوں نے اپنی جوانی لڑکپن کا زیادہ تر حصہ گزارا۔
    اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور چار بہنوں کا لاڈلا بھائی زرا طبعیت میں تیز مزاج کہا جاتا تھا عمران احمد خان نیازی سے ہمیشہ ہی اس بارے میں جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ اس کی تردید کرتے ہی نظر آتے ہیں عمران خان صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہہ وہ لڑکپن میں شرمیلی طبعیت کے مالک ہوتے تھے اور اکثر اوقات اپنے آپ میں ہی رئیتے تھے سکول کے دور سے ہی عمران خان کو کرکٹ سے کافی لگاؤ تھا
    اس کی ایک وجہ ان کا تعلق ایک بہت اچھے عظیم کرکٹ گھرانے سے تھا ان کے دو کزن جو ننھیالی تھے جاوید برکی اور ماجد خان آکسفورڈ سے پڑھے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی بھی کر چکے تھے
    عمران احمد خان نیازی نے ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی پھر کیتھڈرل اور پھر برطانیہ میں رائل گرامر سکول میں تعلیم حاصل کی

    اس کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفورڈ میں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی برقرار رکھا اسی وجہ سے وہ 1974 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی بنے
    شروع میں تو اپنے کالج کے لئے ہی کھیلتے رہے بعد میں انگلش کاؤنٹی ورسسٹر کے لئے کھیلتے رہے پاکستان کے لئے قومی کرکٹ ٹیم کا پہلا میچ تقریباً 18 سال کی عمر میں 1971 میں برمنگھم میں کھیلا اپنی مخنت اور کرکٹ سے لگن کیوجہ سے جلد ہی قومی ٹیم میں مستقل اپنی جگہ بنا لی
    اےک بہترین آل راؤنڈر کی طرح تمام شعبوں بیٹنگ فیلڈنگ اور خصوصا باؤلنگ میں سوئنگ کیوجہ سے ٹیم کے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہوۓ

    پاکستان کو 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ کی پہلی اور اےک یاد گار فتح دلوانے کے بعد عمران خان نے اپنے اسپوٹس کریئر کے عروج پر کرکٹ چھوڑ دی۔
    اس وقت تک وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 362 وکٹیں حاصل کر چکے تھے اور 3807 رنز بھی بنا چکے تھے۔
    زندگی کا کافی عرصہ گزارنے کیوجہ سے عمران احمد خان نیازی کو کچھ مشہور شخصیات اور ایکسپرٹ ان کو مشرق اور مغرب کا بہترین امتزاج’ کہتے ہیں۔

    1987 میں جب عمران خان نے پاکستان کو انڈیا کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز جتوائی تواس وقت ارض پاک کے صدر اور فوجی جنرل ضیاء الحق نے انہیں اپنی قائم کردہ پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل) میں نہ کہ صرف شمولیت کی دعوت دی بلکہ ساتھ پارٹی میں عہدے کی پیشکش کی۔ جسے عمران خان نے شائستگی سے یہ پیشکش رد کردی۔
    1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے اپنی حقیقی ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان ایک سرگرم فلاحی شخصیت کی شکل میں ابھر کر سامنے آۓ سیاست اور فلاحی زندگی پر بات جاری رہے گی حصہ دوم میں
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • درس کربلا تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    درس کربلا تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد واقعہ کربلا تاریخ کی اولین قربانیوں میں سے ایک ایسی قربانی ہے جو اپنے پچھلے واقعات کی طرح بہت سی باتیں تاریخ کے اوراق میں؛ قم کر گیا.
    حق کے لیے قربانی کا سلسلہ ازل سے چلتا آ رہا ہے لیکن یہ قربانی اپنی نوعیت کی الگ ہی قربانی ہے. جس میں جدائی قربانی _ یوسف کی طرح عارضی جدائی کا امتحان کا درد یا بیٹے کی گردن کی جگہ دنبہ کی قربانی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں سارا کنبہ اللّٰہ کریم کی راہ میں نچھاور کر دیا گیا. بلاشبہ موضوع اتنا حساس ہے کہ کسی بھی واقع کی حقیقت میں کمی یا موازنہ مقصود نہیں صرف اور صرف قربانی کی تاریخ سمجھانے کے لیے ان واقعات کا تزکرہ کیا گیا ہے.
    اس قربانی کے واقعات تو اکثر ملتے ہیں لیکن اس سے سبق کیا ملتا ہے اس بات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے. کیونکہ کسی بھی مقصد کے بنا قربانی کو سمجھنا اس کی اصل کو رائیگاں کر جاتا ہے جو کہ صریح غلط ہے. اور اس قربانی کی ادب کی خلاف بھی ہے.
    یہاں سے جو سوالات اٹھتے ہیں ان میں سے ایک کا تزکرہ کرتے ہیں
    قربانی کی انتہا کیا ہے؟
    جب دین کو ضرورت ہو تو انسان کی سب سے پہلی ترجیح اسلام کی روایات اور احکامات کی تکریم ہے. من و عن ان لر سر تسلیم خم کا جزبہ ہے. جس سفاکیت سے کنبہ اہل بیعت رضوان اللہ علیہم اجمعین کو باری باری شہید کیا گیا یہ اس بات کی علی الاعلان گواہی ہے دین کی حفاظت کے لیے اپنے وجود سے منسلک ہر رشتے کا درد بھی سینے پر سہنا پڑے سہا جاے لیکن دین سے کسی صورت انحراف نا کیا جاے. جناب نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ میدان کربلا میں کر دکھایا ایک ایک کر کہ جان سے پیارے نچھاور ہوتے رہے لیکن شعائر اسلام سے ایک انچ بھی مصالحتی پالیسی نہیں اپنای. بس جو احکام رب العالمین ہیں اور اس میں جو حدود ہیں انہیں پر قائم رہنے کا درس دیا.
    قربان جائیں تربیت نسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تربیت سیدہ فاطمہ الزہراء اور شجاعت حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیا خوبصورت تربیت گاہ تھی دو پھول دونوں دین پر ایک سے بڑھ کر ایک نچھاور ہوے لیکن دین اسلام پر آنچ نہ آنے دی. عشق اپنی پہچان رکھتا ہے. جب رب العالمین سے ہو جائے تو پھر کربلا میں کٹتے جگر کے ٹکڑے بھی رب العالمین کے حضور عاجزا پیش کر دیے جاتے ہیں.اس قربانی سے ہمیں ایک درس یہ بھی ملتا ہے کر زندگی کا اختتام بھی بندگی رب العالمین پر ہو. لب پر قرآن کریم کے الفاظ ہوں اور سر رب العالمین کی بندگی میں ہو. واہ کیا کمال عشق تھا کتنی خوبصورتی سے اپنے رب العالمین سے وفا کر گیا. پہلے ایک ایک کر کے کنبہ لٹایا پھر اپنے سینے پر زخم کھاے اور جب جان نکل رہی زکر اللہ کریم کی سب سے پیارے کلام کا سر اسی کے سامنے سجدے میں اور دل میں عشقِ رب العالمین کا سمندر لیے عشقِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ؛ للہ رب العالمین کے حضور پیش کیا گیا.اس عظیم قربانی سے ملنے والے درس کو آج سمجھنے کی ضرورت ہے. کہ جب حکم رب العالمین آ جاے تو مال جان اولاد سب کی حیثیت ثانوی اور دین اسلام کی سر بلندی اولین ترجیح ہونی چاہیے. زندگی آخری دموں پر آ جاے تب بھی دل میں چراغ عشق رب العالمین روشن تعلیمات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے جسم کا رواں رواں معطر ہو سر رب العالمین کے ہر حکم پر تسلیم خم ہو اور رعح پرواز کر جاے.

    @EngrMuddsairH

  • ملک میں بڑھتی مہنگائی، پر قصور وار کون؟ تحریر: سحر عارف

    ملک میں بڑھتی مہنگائی، پر قصور وار کون؟ تحریر: سحر عارف

    عوام کو درپیش مسائل کی ایک وجہ مہنگائی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کافی حد تک پریشانی کا شکار ہیں۔ ہر چیز کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی یے۔ ایک غریب کے لیے تو زندگی حقیقتا تنگ ہوچکی ہے۔ مہنگائی کے ستائے عوام موجودہ حکومت سے ناخوش ہیں۔ لیکن یہاں کچھ باتیں سمجھنے کی بھی ہیں کہ مہنگائی کی اصل وجہ کیا یے؟

    کیا صرف حکومت اکیلی قصور وار ہے یا کسی اور کا بھی ہاتھ ہے؟ تو دیکھیں مہنگائی جیسی بیماری تو شروع ہی سے اس خطے میں رہی ہے۔

    بس پچھلے کچھ سالوں سے اس میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ پر کیا کسی نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی؟ تو پھر سنیں موجودہ حکومت سے قبل جو چوروں اور لٹیروں کا ٹبر ملک پر حکومت کررہا تھا اس نے اس حد تک باہر کے ممالک سے قرضے لیے کہ آج پاکستان اس نہج پر پہنچ چکا ہے جس کی غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔

    غیر ملکی قرضے لے لے کر باہر اپنی ناجائز جائیدادیں بناتے رہے اور یہاں پاکستان کی غریب عوام کو بےوقوف۔ آج اگر پاکستان میں ہر چھوٹی بڑی چیز پہ ٹیکس لگا ہے تو صرف اس لیے کہ ملک پر چڑھا قرضہ اتارا جاسکے۔

    کیونکہ دنیا میں کبھی بھی وہ قوم اور ملک صحیح معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ قرضے کے بوجھ تلے دبا ہو۔ اب خود ہی اندازہ لگا لیں کہ اگر آپ نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی غیر سے قرضہ لیا ہو تو کیا آپ کبھی اس شخص کے سامنے کھل کر اس کے خلاف حق سچ بات کہہ سکتے ہیں؟

    نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس وقت آپ اس کے مقروض ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال پاکستان کی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ خود تو دو وقت کی روٹی کھا کر بھی گزارا کر لیا جائے لیکن جلد از جلد اپنے ملک کو قرضے کے بوجھ سے آزادی حاصل کروایں۔ اسی وجہ سے حکومت نے جب ہر چیز پر ٹیکس لگایا تو پاکستان مہنگائی سے دوچار ہوا۔

    پھر رہی سہی کسر چور مافیا نے پوری کردی۔ اب حکومت کی طرف سے جس چیز کی جتنی قیمت رکھی گئی ہے دکاندار اس سے کہیں زیادہ قیمت میں وہ چیز فروخت کرتے ہیں۔ تو پھر جناب ملک میں بڑھتی مہنگائی کے قصور وار کسی حد تک ہم بھی ہیں جو خاموشی سادھتے ہوئے وہ چیزیں خرید لیتے ہیں بجائے اس کے کہ ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔

    @SeharSulehri