Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پیش بندی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    دوستوں اب ہم دجالی دورمیں قدم رکھ چکے ہیں،یہ دجالی دورآنے والے دنوں میں ہمیں بہت کچھ نیا دکھائے گا ایک کرونا ہی دکھا کر پوری دنیا کو کیسا گھما دیا گیا ہے جس کا ادراک تو ہو جکا ہو گا اور ابھی تک دنیا کو کچھ سمجھ نہیں آپارہا ہے کہ کیا کرے۔بالکل اسی طرح آگےآنے والے دور کے فتنے اس سے بھی زیادہ سخت ہونگے اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے ایک توتمام حالات آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں دوسرا یہ کہ ان سب حالات کی خبر ہمارے سرکار دو عالم نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پہلے ہی دے چکے ہیں کہ یہ سب ہو کر رہے گا، اب بچے گا وہی جو چوکنا ہو گا، دانشمندی اور ایمان و عمل کو اختیار کرے گا.اس لیے اب ایمانی، جسمانی، روحانی اور اعصابی مضبوطی بہت ضروری ہے، اگر زندہ رہنا ہے اور ان تمام فتنوں سے بچنا ہے تو اب ذرا جاگ جائیں…!
    اپنے بچوں کو آنے والے دور کے لیے تیار کریں…
    جسمانی طور پر، ذہنی طور پر اور روحانی طور پر بھی…
    ان کو اردو انگریزی اور عربی زبان لازمی طور پر سکھائیں، اسلامی تاریخ اور تہذیب کے بارے میں مکمل آگاہ کریں ،مزہبی طور پر مضبوط بنائیں اوراپنے بچوں کو لازماً ہنر سکھائیں، کوئی نہ کوئی ہاتھ کا کام جو ان کو مصروف بھی رکھے اور جس سے آنے والے وقت میں یہ کارامد ہو سکیں۔
    جیسے سلطان عبد الحمید ثانی جوسلطنت عثمانیہ کے 34ویں فرماں روا تھے لیکن وہ ایک بڑھئ کا ہنر جانتے تھے۔انہوں نے ذاتی طور پر کچھ اعلی معیار کا فرنیچر تیار کیا تھا ، جسے آج بھی استنبول کے یلدز محل ، سیل کوسکو اور بییلربی محل میں دیکھا جاسکتا ہے اسی طرح محی الدین اورنگزیب عالمگیر سلطنت مغلیہ کےچھٹے فرمانروا تھے۔ان کے پاس خطاطی کا ہنر تھا انہوں نے متعدد قرآن پاک کے نسخے تحریر کیے۔ اس کے علاوہ انبیاء کی زندگی پر نظر ڈالیں
    حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اولاً کپڑا سازی کا کام کِیا کرتے تھے پھرکھیتی باڑی کرنے لگے۔حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام لکڑی کا پیشہ اپنائے ہوئے تھے حضرت اِدْرِیْس عَلَیْہِ السَّلَام درزی گری، حضرت ہُود و صالح عَلَیْہِمَاالسَّلَام تجارت،حضرت اِبراہیم و لُوط عَلَیْہِمَا السَّلَام کھیتی باڑی اور حضرت شُعَیْب عَلَیْہِ السَّلَام جانور پالتے تھے۔اسی طرح حضرت مُوسیٰ کَلِیۡمُ اللہ بکریاں چراتے،حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام زِرَہ(جنگ میں استعمال ہونےوالا فولاد کا جالی دار کرتا) بناتے،حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام پوری دنیا کے بادشاہ ہونے کے باوجود پنکھے اور زنبیلیں بنانے کا فن جانتے تھےاورہمارے پیارےآقا احمدِ مُجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے تجارت کواپنی ذات ِ بابرکت سے شرف بخشاتھا گویا
    اب ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج سے نکل کر نوکریاں تلاش کرنے کا دور ختم ہوگیا۔اپنے اجداد کی طرح ہنر مند ہونے کی ضرورت ہے
    بہت سے لوگ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا دوبارہ پرانی ڈگر پر واپس چلی جائے گی ایسا بالکل نہیں ہوگا اب آپ ہوش میں آ جائیں دنیا بدل گئی ہے، اب دنیا دوبارہ اس ڈگر پہ کبھی نہیں لوٹے گی..
    اپنے بچوں کی جسمانی اور ذہنی طور پر لازماً ایسی تربیت کریں کہ مشکل اور نامساعد حالات میں وہ برداشت کرنے کے قابل ہوں، جس طرح اسکاوٹ یا کیڈٹ کی تربیت ہوتی ہےبالکل ویسے ہی جنگل میں خیمہ لگانا، آگ جلانا، کھانے پکانا، شکار کرنا اور ہتھیار چلانا۔ساری صلاحیتیں آپ کے بچے میں بدرجہ اتم موجود ہونی چاہئے۔گو کہ آج کل ہمارے بچے بہت ہی آرام طلب اور نازک ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں بچوں کو ایسا تعلیمی نظام دینا ہوگا جیسے ماضی میں دیا جاتا تھا جب بچوں کو دین اور ادب کے ساتھ ہنر بھی سکھایاجاتا تھا، تمام مسلمان اپنے ہاتھوں میں مخصوص ہنر رکھتے تھے اور ہاتھ سے کام کرتے تھے…
    کوئی لوہے کا کام جانتا تو کوئی لکڑی کا، کوئی کپڑا بناتا تو کوئی چمڑے کا، کوئی مرغبانی کرتا تو کوئی گلہ بانی یا کاشتکاری.کا بلکہ انکی کاسٹ بھی ان کے پیشے سے ہی منسوب ہوتی تھی۔اس زمانے میں کسی کو نوکری تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی سب ہنر مند تھے۔یاد رکھئےآپ کی ہنر مندی ہی آپ کو کامیاب بناسکتی ہے اور خود کفالت تک لے جاسکتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کے ملک کو ہر نعمت سے نوازا ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔دوستوں! جو آپ کے پاس ہے اس سے ہی استفادہ کرنے کی عادت ڈالیں اور کوشش کریں کہ غیر ضروری درآمد نہ کی جائے زندگی کو سادہ اور آسان بنانے کی کوشش کریں اور اپنی ہنر مندی کی بدولت اپنے منفرد کام کو دنیا کو برامد کرنے کی کوشش کریں تاکہ ملک میں زر مبادلہ آسکے۔دوستوں یاد رکھنا ایک وقت آئیگا سب کو اپنے وطن واپس لوٹنا پڑے گا کوئ ملک کسی دوسرے ملک کے شہری کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا عملی مظاہرہ شروع بھی ہو چکا ہے تو بہتر یہ نہیں ہے کہ ہم پہلے سے ہی پیش بندی کر لیں۔سب ایک ساتھ بھائ چارگی سے اللہ کے دئے گئے وسائل سے استفادہ کریں ۔اسراف نہ کریں۔سادگی کو شعار بنالیں۔اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے کی عادت بنا لیں۔اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔

    @Azizsiddiqui100

  • تعمیر پاکستان کا مقصد سمجھییے تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    تعمیر پاکستان کا مقصد سمجھییے تحریر : انجنیئیر مدثر حسین

    لفظ پاکستان بولنے سے جیسے اپنائیت کا احساس آ جاے جیسے روح کو تازگی مل جاے.
    لیکن کیا ہم عملی طور پر اس کی قدر کر رہے ہیں. کیا ہمارے اعمال اس بات کی سے اس بات کی اکاسی ہوتی ہے؟ کیا پاکستان حاصل کرنے کا مقصد بھی ہم عملاً پورا کر رہے ہیں؟
    پاکستان جس کے لیے ماؤں نے اپنے لعل کٹواے، بہنوں نے اپنے بھائی گنواے. باپ نے اپنا بڑھاپے کا سہارا کھویا. بیٹی کے سر کا سایا گیا تو بیوی کا سہاگ. اتنی قربانیاں پاکستان کے لیے دے دی گئیں لیکن 75 سال میں ہم قوم ایک مہذب نا بن سکے. ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ رائیگاں کر دیا گیا. پاکستان مملکت تو مل گئ لیکن ہم اس کی صحیح قدر نا کر سکے. یہ کیسی آزادی ہے جہاں بچیوں کا ریپ کیا جاے، رکشے میں جاتی بچیوں کے ساتھ دست درازی اور بے حرمتی. دوسری جانب عورتیں نیم برہنہ لباس پہن کر خود پر فخر محسوس کریں اور اسے آزادی اظہارِ رائے کا نام دین، کسی کی بہن بیٹی کی عزت اجاڑنا اپنا سٹیٹس سمجھا جائے، کسی کو نوکری دے کر اس اپنا غلام سمجھا جائے، کسی کی مدد کر کے اسکی غریبی یا تنگدستی کا مزاق اپنے کیمرے کی آنکھ میں بند کیا جاے پھر اس کی تشہیر سے خود کو خدا ترس باآور کرایا جائے. کیا یہ مقصد تھا قیام پاکستان کا؟
    کیا ہم بحیثیت پاکستانی پاکستان کا حق ادا کر پا رہے ہیں.
    ہاے افسوس!
    ہم نے ملاوٹ کا بازار گرم کر رکھے، اپنے ساتھ والے کو دھوکا دے کر فخر سے سینہ چوڑا کرتے اور خود کو عقلمند اور اسے بےوقوف ثابت کرتے. کمزور کا حق کھا کر اپنے آپ کو طاقتور ثابت کرتے ہیں لیکن یہ ہم اسطرح پاکستانی ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے.خدارا ہوش کے ناخن لیجئیے پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ہم اپنا اخلاق اچھا بنائیں اپنا کردار اچھا بنائیں تاکہ دنیا میں اپنا کھویا وقار بحیثیت قوم دوبارہ حاصل کر سکیں
    قائد اعظم محمد علی جناح کے منشور کو سمجھیں ایمان اتحاد اور تنظیم سے اپنے پاکستان کے رنگوں کو دوبارہ تازگی بخشیں. دین کی سربلندی کے لیے اپنے کردار کو عملی نمونہ بنا کر ایک مثال بنا کر معاشرے میں پیش کریں تاکہ پاکستانی اور سچے مسلمان کی حقیقی معنوں میں پہچان ہو سکے. ہمیں آج خود سے عہد کرنا ہے. پاکستان اور اسلام سے وفا کرنی ہے خود کو بدلنا ہے اور اپنی ایک نئی پہچان بنانی ہے جو کہ حصول پاکستان اور اسلامی تہذیب کی اصل بنیاد ہے.
    ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ تعالی’علیہ نے ہمیں نا صرف یہ تحفہ پاکستان عطا کیا بلکہ ہمیں جینے کا سلیقہ بھی بتا کر گئے ہیں آج ان کے فرامین کو فراموش کر ہے ہم مذید پستی کا شکار ہو چکے ہیں ہمیں خود کو پہچاننا ہو گا آج کی تحریر میں میں ان کے فرامین کو دوبارہ شامل کروں گا.
    قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی کے ایک جلسے میں 28 دسمبر 1947 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے* ”
    پھر لاہور کے ایک جلسے میں 30 اکتوبر 1947 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی* ”
    پھر 15 جون 1948 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی ، بلوچی ، بنگالی ، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے* ”
    11 اگست کو قانون ساز اسمبلی میں ارشاد فرمایا.” *انصاف اور مساوات میرے رہنماء اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔* ”
    1944 میں مسلم یونیورسٹی یونین میں خطاب کیا اور فرمایا
    ” *دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں۔* ”
    چٹاگانگ کے جلسے میں 23 مارچ 1940 کو فرمایا. ” *پاکستان کی داستان ‘ اس کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول‘ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے رہنماء رہے گی کہ کس عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔*”
    ڈھاکہ جلسے میں خطاب 21 مارچ 1948 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا. ” *یہ آپ کا اختیار ہے کہ کسی حکومت کو طاقت عطاکریں یا برطرف کردیں لیکن اس کے لئے ہجوم کا طریقہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ آپ کو اپنی طاقت کا استعمال سیکھنے کے لئے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ اگر آپ کسی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں توآئین آپ کو مذکورہ حکومت برطرف کرنے کا اختیاردیتا ہے لہذا آئینی طریقے سے ہی یہ عمل انجام پذیر دیا جاناچاہئے۔* ” یہی وہ کامیابی کے راست ہیں جو اس قوم کو عمل کرنے سے بدل سکتے ہے ہمیں انہیں سمجھ کر ان پر عملی طور پر خود کو ڈھالنا ہوگا
    کیونکہ شاعر. مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا
    *افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*

    @EngrMuddsairH

  • عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    عورت تحفظ کارڈ اور ہم سادہ لوح پاکستانی تحریر:بینیش عباس

    واقعہ مینار پاکستان_خود کو مشہور کرنے کے لئے رچایا گیا ایک فلاپ ڈرامہ لیکن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب۔

    تواجہ لینی تھی لے لی۔۔۔ ہمدردیاں سمیٹنی تھیں سمیٹ لیں۔۔۔ اور اس سے بھی بڑا ہدف۔۔۔ وطن عزیز کو ایک غیر محفوظ ملک مشہور کرنے کے لئے بھارتی میڈیا سے مدد پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا اور اس سب میں ساتھ دیا عورت کے نام نہاد خیر خواہ صحافیوں یاسر شامی اور اقرارالحسن نے۔

    اس واقعہ سے پہلے عائشہ نامی خاتون کو ایک پرائیوٹ پارٹی سنگر کے طور پر بھی اکا دکا لوگ جانتے تھے اور میں سٹریم میڈیا پہ تو اس کا کوئی نام جانتا تھا نہ کام، لیکن اب ہر جگہ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کی بات ہو رہی ہے جیسا وہ چاہتی تھی۔ جیسے ہی ٹک ٹاکر والی ویڈیو وائرل ہوئی سارے پاکستانیوں نے رنج وغم میں مبتلا ہو کر جسٹس فار عائشہ،تمام مرد جنسی کتے ہیں اور عورت کے تحفظ پر ٹینڈز کی بھرمار کر دی تقریبا” آدھے پاکستانيوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيتيں ختم ہوگئیں حالانکہ کفن پہن کر مرنے کا ڈرامہ، شوہر کے جھوٹی موت کی خبر اور اپنی ہی پورن ویڈیوز لیک جیسے سٹنٹس تو ہم ماضی میں دیکھ ہی چکے ہیں لیکن بحثیت قوم ہماری یاداشت بہے کمزور ہے۔

    عائشہ کے لئے انصاف مانگنے والے اور اس واقعہ پر بیٹی نہ ہونے پر خدا کا شکر ادا کرنے والے نام نہاد عزت دار اور غیرجانبدار صحافی نے یہ اس پلانٹڈ انٹرویو میں یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ کیا اس خاتون نے پبلک پلیس پر ایک اجتماع اکٹھا کرنے کے لئے لوکل گورنمنٹ سے اسکی اجازت لی؟ اگر ہاں تو اس حادثے میں ذمہ داران (لوکل۔سیکورٹی) کی کوتاہی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ اور اگر نہیں تو پھر خاتون نے کس مقصد کے تحت اس اجتماع کو خفیہ رکھ کر لوگوں کو جمع کیا؟ اور بےغیر اجازت 400 بندہ اکٹھا ہونے، اور اس طوفان بدتمیزی کے باوجود اگر مینار پاکستان کی سیکیورٹی حرکت میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ کیا یہ خاموشی بھی اس ڈرامے کا حصہ تھی یا ڈیپارٹمنٹ کی ستو مارکہ کوتاہی ہے کہ اس کو علم ہی نہ ہو سکا اور قوم کی بیٹی بنی ایک خاتون وہاں جلسہ کرتی 400 لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی؟ اس کے والدین نے اسکی اجازت کیسے دی ؟ اسکی ماں کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ بیٹی کہاں کہاں گھوم پھر کے آ رہی ہے ؟ اس کے دوست کون لوگ ہیں؟ کس کے ساتھ کام کر رہی ہے؟کام کی نوعیت کیا ہے؟ کام ٹھیک ہے یا غلط؟ یہ تمام سوالات ایک طرف کیا خاتون سے صرف یہ پوچھا کہ گیا اس 400 مردوں کے ہمراہ ایک نامحرم مرد کی بانہوں کے حصار میں مارچ کرتی یہ تنہا قوم کی بیٹی وہاں کیا کر رہی تھی؟ کیا عائشہ کے والدین نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ اسکی بیٹی مرد ہے یا عورت ۔۔۔ عورت ہے تو مردوں کے بیچ کیا کرنے گئی تھی، اگر مرد نما عورت ہے تو مردوں سے کیا گلہ؟ عرض یہ کہ اس کے والدین کے صلاح سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہ مادیت پرستی کی اس دوڑ میں پیسہ کمانے کا شارٹ کٹ یہی ہے کہ ملک میں عورت کارڈ کو لے کر تحفظ کے لئے ننگ دین و ننگ ملت ہو جاو میں پوری وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کچھ عرصہ بعد یہ ڈرامہ کوین ٹی وی کے مختلف اشتہاروں میں اور ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر مردوں کے خلاف بکواس کرتی نظر آئے گی 8 مارچ کے منصوبے پر کام کر رہی ہوگی، اس کا پری ٹریلر تو مغربی لباس میں ناچتے پبلک ویڈیوز کے بعد خاتون کا حجاب میں ایک نجی چینل کو دیا گیا بے پناہ جھوٹوں پہ مشتمل بوگس انٹرویو ہے۔

    مختصر یہ کہ یہ ایک رچا رچایا ڈرامہ تھا جو بہت سے لوگوں معلوم ہوا کچھ جو باقی انجان بننے پھیر رہے ہیں وہ یا تو معلومات محدود رکھتے ہیں یا لبرلستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں جرم ہو وہاں مرد اور عورت کا تفریق نہیں ہے جرم دیکھا جاتا ہے اور اس حساب سے اس کی سزا کا تعین ہمارے رب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں 8 مارچ کی منصوبہ پر کام ہو رہا ہو صرف مرد کو جانور ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے سارا جھگڑا ہی اسی بات پر ہے ۔ جن جرائم کا ذکر اکثر تحریروں میں مرد ناقابل بھروسہ اور جانور ثابت کرنے پر ہے میرا ذاتی موقف یہ ہے کہ انکو عبرت ناک سزا دی جائے اور سزا بھی ایسی جگہ جہاں سے ساری دنیا دیکھ سکے اور عبرت پکڑے (لیکن پھر یہی ٹولہ ان سزاؤں کے قانون بننے پہ مخالفت کرتا نظر آتا ہے) لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کی مرد بھروسہ مند نہیں۔
    یہی مرد باپ کی شکل میں تو فرشتہ ۔
    بھائی کی شکل میں تو محافظ۔
    خاوند کی شکل میں ہو تو بیوی کی چھوٹی سی دنیا کا شہنشاہ۔
    بیٹے کی شکل میں تو مان۔
    پوتے کی شکل میں ہو تو محبت ۔
    اور کتنے مجبوب رشتے ہیں جو اس مرد ذات سے وابستہ ہیں۔
    ہاں اگر مرد بوائے فرینڈ کی شکل میں یہ بھیڑیا ہے جس سے ہمارا مذہب ہمیں منع کرتا ہے۔۔۔نہیں تو لاہور جی سی یونیورسٹی جیسا پروپوزل دیکھنے کو ملے گا، یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ کی بچے کی پیدائش سے موت، نور مقدم جیسے دردناک قتل وغیرہ جیسے واقعات روز رونما ہونگے۔ اور ملکی غیرت و حمیت کو سوالیہ نشان بنایا جاتا رہےگا۔

    جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی "غیر محفوظ عورت” کا فتنہ اٹھا تھا جس کو وقتی طور پر دبا لیا گیا وطن عزیز کی دن دگنی ترقی اور جیوپولیٹک اینڈ اسٹریٹجک پوزیشن کے باعث بڑھتی ہوئی مقبولیت عالمی سطح پر تنہا رہ جانے والے بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتی بےچینی کو صاف ظاہر کرتی ہے، سپر پاور شفٹ پر بنتے ایک نئے پاور بلاک پر امریکہ مہاراج کے پاس بھی اور کوئی ہتھیار نہیں بچا کہ پاکستان کو لگام ڈال سکے تو ایسے موقع پر اس قسم کے ایک آدھ واقعات کا رونما کو جانا انہونی نہیں ہے کہ عورت کارڈ ہی تو جس پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنی مداخلت کر کے من مرضی کے حالات کے لئے راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

    ضرورت اس امر ہے کہ متعلقہ ادارے اس گھناونے کھیل کے مہروں (کھلاڑی اور لکھاری) کو حراست میں لے کر اس کی تحقیق کریں، محض عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے چند افسروں کا تبادلہ یا معطلی کافی نہیں ہے، معاملے کی جڑ تک پہنچیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر بتایا جائے کہ اس کھیل کے مہروں کی ڈوریاں کہاں ملتی ہیں؟ بحثیت قوم ہمیں اپنے فرض کو پہچانتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے یوں سوچے سمجھے منصوبوں پر کامن ٹرینڈ پہ تاثرات کو چھوڑنا ہوگا کہ لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیئے اس ملک کو چند لوگوں کے ذاتی مفاد کے لئے یرغمال ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    اللہ ہم سب کی حفاظت کرے اور ملک پاکستان کا امن قائم رکھے۔ آمین

    @BetaGirl__

  • کسانوں کا معاشی قتل تحریر-محسن ریاض

    کسانوں کا معاشی قتل تحریر-محسن ریاض


    کسی بھی ملک کی ترقی میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان کو ایک زرعی ملک کی حثیئت سے جانا جاتا ہے اس وقت پاکستان کی چالیس فیصد لیبر زراعت کے شعبے میں اور باقی دوسرے تمام شعبوں سے منسلک ہے کسی ملک کی ترقی کا ماپنے کے لیے جی ڈی پی کو دیکھا جاتا ہے یعنی یہ ملک معاشی لحاظ سے کتنی ترقی کر رہا ہے اس وقت پاکستان کی جی ڈی پی میں بیس فیصد حصہ زراعت کا ہے یعنی یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے مگر اس شعبے کو ہر دور حکومت میں نظر انداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کسان بدحال سے بدحال ہوتا گیا اور سرمایہ دارکا سرمایہ زیادہ سے زیادہ ہوتا گیا -پاکستان میں جو اہم فصلیں کاشت کی جاتی ہیں ان میں کپاس، گندم ، چاول اور مکئی شامل ہیں کپاس کے لیے جنوبی پنجاب کی آب وہوا موزوں ترین تھی اور یہاں سے بہت زیادہ مقدار میں کاٹن پیدا کی جاتی تھی مگر گزشتہ ادوار کی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے شوگر ملوں کو اس علاقے میں شفٹ کر دیا گیا اور جب کسانوں نے دیکھا کہ انہیں اس فصل میں مناسب مصاوضہ مل رہا ہے تو انہوں نے گنے کی فصل لگانا شروع کر دی اور اس طرح یہاں سے ایک لحاظ سے کپاس کی فصل کو تقریباً ترک کر دیا گیا حالانکہ ارباب اختیار کو چاہیے تھا کہ اس علاقے کو کاٹن زون ڈکلئیر کرتے اور شوگر ملوں کو یہاں منتقل ہونے سے روکتے مگر شائد ان کی ملی بھگت شامل تھی اس کے بعد گندم کی فصل کا ذکر کرتے ہیں جس میں پاکستان کچھ عرصہ پہلے تکا خودکفیل تھا مگر گزشتہ سال سے ناقص انتظامات کی وجہ سے اس کا بحران پیدا ہو رہا ہے اس کی ایک وجہ تو نااہلی اور بد انتظامی ہے جس کی وجہ سے بحران پیدا ہوا اور دوسری اہم وجہ مناسب معاوضہ نہ ملنا اور فصل پر زیادہ اخراجات ہونا ہے اسی لیے کسان دلبرداشتہ ہو کر اپنی زمینیں بیچ رہے ہیں جس کی وجہ سے کاشتکاری کے لیے زمین کی کمی ہو رہی ہے اور اس پر ہاوسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں اس سے ملک میں کسی بھی فصل کی اوسط کم ہو رہی ہے اور ہمیں اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے جس سے ملکی ترقی کی رفتار سست ہے اس کے بعد مکئی کی فصل کی جانب آتے ہیں سارا سال اس کی قیمت پندرہ سو روپے کے قریب ہوتی ہے مگر جب کسانوں سے خریدنے کا اقت آتا ہے تو اس کو قیمت گر کر سات سو کے قریب آ جاتی ہے کیونکہ کسان کے پاس تو اتنا سرمایہ نہیں ہوتا اس نے یہ فصل بیچ کر اگلی فصل کاشت کرنی ہوتی ہے لہذا سارا منافع سرمایہ دار لے جاتے ہیں – اس کے بعد چاول کی فصل کی جانب آتے جو کہ ملکی زراعت میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ اس کو ملکی ضروریات پورا کرنے کے بعد بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے مگر اس میں بھی کسان کو خون پسینے کی کمائی کی صورت میں چند ٹکے ہی میسر آتے ہیں اس فصل کو پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہی اور ڈیزل کو موجودہ قیمت ۱۲۰ روپے کے قریب ہے جس کی وجہ سے کسان کی کمائی کا ایک بڑا حصہ اس میں خرچ ہو جاتا ہے اس کے بعد کھادوں کا نمبر آتا ہے موجودہ حکومت نے کسانوں کے لیے سبسڈی کا آغاز کیا ہے مگر اس کا طریقہ کا بہت پیچیدہ ہے جس کے لیے کارڈ کا اجرا کروانا پڑتا ہے مگر اکثر لوگ اس سے ناواقف ہیں اور وہ اس آفر سے محروم ہیں اس کے علاوہ کھاد کی موجودہ قیمت چھ ہزار تک پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے اس دور حکومت میں تو کسانوں کی خوشحالی کا کوئی امکان نہیں-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    مرد ہمارے ساٸبان اور محافظ ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    ہمارے معاشرے کی لبرلز خواتین مرد کے سخت روپ کو ہی دکھاتی اور کہتی ہے کہ مرد میں خامیاں ہی خامیاں نمایاں کی جاتی ہیں۔ میرا کہنا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ، جہاں ہمارے معاشرے میں مرد برے ہیں وہاں کچھ خواتین بھی ہیں۔ جہاں خواتین دکھ ، درد سہتی ہیں ، وہاں ہمارے معاشرے میں مرد کو بھی بہت سے دکھ ، درد جھیلنے پڑتے ہیں جس کا وہ بعض اوقات اظہار بھی نہیں کرتا اور مجھے خواتین کی نسبت مرد کچھ اس لیے بھی زیادہ مظلوم و معصوم لگتا ہے کہ اس بیچارے کو ہم رونے کا حق بھی نہیں دیتے۔ وہ جتنا مرضی ٹوٹ جائے زمانے کی ہر غلط بات کو چپ چاپ سہتا ہے کیونکہ اسے مضبوط دکھنا ہوتا شاید یہی وجہ ہے کہ خاتون کی نسبت مردوں کو زیادہ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔ وہ مرد حضرات ہی ہوتا ہے جو اپنے سے وابستہ لوگوں کیلٸے صبح سے رات تک زمانے کی خاک چھانتا ہے۔ میں نے ایک مرد کو اپنے خاندان کے لیے زمانے کی جھڑکیں کھاتے دیکھا اور اپنے گھر چلانے کیلٸے دن رات ہلکان ہوتے دیکھا ہے۔۔

    مرد والد کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا محافظ اور سائبان ہے۔ والد جو زمانے کی ہر تلخی کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتا مگر اپنے بچوں کو ہمیشہ زمانے کی تلخیوں و دشواریوں کا احساس تک نہیں ہونے دیتا ۔ جانے کیوں نام نہاد حقوق نسواں کی تنظیموں اور لبرلز کو مرد کا یہ روپ نظر نہیں آتا۔ مرد بھائی کی صورت میں تحفظ کی ایسی دیوار جسے کوئی گرا نہیں سکتے۔ یہی مرد جب بیٹا ہو تو والدین کیلٸے سہارا بن جاتا ہے، اگر یہی مرد شوہر کے روپ میں ہو تو بیوی کی ڈھال بن جاتا ہے ۔۔

    مرد کو اگر اس لئے برا بھلا کہا جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی بہن ، بیٹی پہ کوئی گندی نظر نہ پڑے وہ چاہتا ہے کہ اس کی بہن ، بیٹی زمانے کی ہر مکاریوں اور چالاکیوں سے بچے ، وہ چاہتا ہے کہ زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے اس کا پالا نہ پڑے ۔ یقین کریں یہ مرد دنیا کا سب سے بہترین مرد ہے۔ یقین نہیں آتا تو مغربی معاشرے کی کسی بھی خاتون سے پوچھ لیں۔

    یہ لبرل ازم کے چکر میں خواتین خود ہی اپنا نقصان کر رہی ہے۔ یہ لبرلز جان بوجھ کے مرد حضرات کی برابری کے چکر میں خود کو ہلکان کر رہی ہے۔ جان بوجھ کے تحفظ کی چھت سے نکل کر جسے آزادی سمجھ کے گلے لگا رہی ہے وہ آزادی نہیں غلامی ہے۔

    خواتین کو گھر کی ذمے داری دی گئی ہے مرد حضرات کو باہر کی کیونکہ مرد عورت کی نسبت زیادہ طاقت ور اور سمجھدار ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔کیونکہ اس صورت میں مجھے بھی مردوں کے ساتھ بسوں میں لٹک کر سفر کرنا پڑسکتا۔ میں اتنی مضبوط نہیں ہوں کہ اینٹیں، سیمنٹ اٹھا کر 10 گھنٹے مزدوری کروں کبھی بجلی کے کھمبوں پہ سخت گرمی میں لٹک کہ ان کی مرمت کروں۔ میں اتنی مضبوط نہیں کہ باہر کی دنیا کا مقابلہ کرسکوں ، یا زمانے کی تلخیوں اور مصاٸب کو برداشت کر سکوں ۔۔ یہ سب کام ایک مرد ہی کرسکتا ہے عورت نہیں۔

    میں اتنا کرسکتی ہوں کہ مشکل وقت میں اپنے خاندان کو پال سکتی ہوں لیکن جب میرے پاس کما کر کھلانے والا ہوگا تو پھر اپنے گھر سے نکلنا سراسر میری کم عقلی ہے ۔ جب اللہ رب العزت نے مجھے مرد کی صورت میں سائبان و محافظ دیا ہے تو میں کیوں زمانے کی خاک چھانوں۔

    کبھی بیٹھ کر سوچیں لبرلز خواتین کیا مرد حضرات ، آپ کے والد محترم ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کے کوئی حقوق نہیں ؟ کیا ان کے ساتھ کبھی کہیں کوئی انصافی نہیں ہوئی ؟ اپنے بھائی کو دیکھیں جب آپ کا بھاٸی جو گھر میں سب سے بڑا ہو اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی خوشی کیلئے انھیں پڑھانے لکھانے کیلئے اپنے خوابوں کو اپنے ہاتھوں سے روندتا ہے اور اپنی ساری زندگی بہن بھائیوں نام کر دیتا ہے .کبھی آپ نے ایسے اپنے بڑے بھائی کیلٸے کچھ لکھا ، کچھ پڑھا ؟ کیا کبھی ان کے حق میں کوئی ریلی نکلی ؟ کبھی کوئی فلم یا کوئی ڈرامہ ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر تخلیق کیا؟

    وہ جو آپ کے والد محترم اور شوہر کے ساتھ چلتی ہیں تو آپ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتیں ہیں ۔ آپ اپنے ساتھ چھوٹے بھائی کو لے جاتی ہے مارکيٹ اور خود کو محفوظ سمجھتی ہے کہ میرا بھائی ساتھ ہے ، پھر انکی شدید مخالفت میں لکھا ہوٸے الفاظ کیسے پڑھ لیتی ہے ؟ انکے بارے میں ہوئی تلخ باتیں کیسے سن لیتی ہے۔۔

    آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ مرد حضرات کے ہر روپ کا احترام کریں کیونکہ یہ میرے دین اسلام نے یہی سکھایا ہے

     

                            

    Mahrukh Azam

    Mahrukh Azam is a  Freelancer, journalist Columnist. ,She is associated with many leading digital media sites in   Pakistan To find out more about him visit his twitter @AriesMaha_

     

    https://twitter.com/AriesMaha_

     

  • ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے  تحریر:محمد جاوید حقانی

    ‏دنیاء کی حقیقت کوڑے پر نظر آتی ہے تحریر:محمد جاوید حقانی

    امام غزالی رحمۃ اللہ الباری پانچویں صدی ہجری کے بالاتفاق مجدد مانے جاتے ہیں ۔
    آپ کی شخصیت کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں
    آج تک امام غزالی کی شخصیت کو پڑھا اور پرکھا جاتا ہے
    انکی ذات گرامی پہ تبصرے تجزئیے کیئے جاتے ہیں۔
    امام غزالی نے بہترین زندگی جینے کا فلسفہ بہت ہی مختصر الفاظ میں بیان فرمایا ہے
    آپ کئی کتابیں تصنیف کیں
    ان کتابوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں
    آج کے ترقی یافتہ یورپ نے بھی "فلسفہ” امام غزالی سے سیکھا۔
    آپ ایک کتاب "تبلیغ دین” میں دنیاء کی حقیقت کے موضوع پر لکھتے ہیں۔
    حدیث پاک میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک کوڑے کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا جہاں مردوں کی کھوپڑیاں اور نجاست غلاظت کے ڈھیر اور بوسیدہ ہڈیاں اور پھٹے پرانے کپڑے پڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرمایا۔
    دیکھو او ہریرہ یہ ہے دنیاء کی حقیقت ایک وقت وہ تھا کہ ان کھوپڑیوں میں بھی تمہاری طرح امیدیں، آرزوئیں، جوش میں تھیں اور حرص و حوس سے لبریز تھیں اور آج کس حال میں کوڑے پر پڑی ہیں یہ چند روز میں خاک ہوجائیں گی اور ان کا پتہ و نشان بھی نہ رہے گا۔
    اور یہ دیکھو یہ غلاظت و فضلہ جو تم کونظر آرہا ہے یہ تمہاری غذاء ہے جس سے پیٹ کوبھرنے میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ایک دن تھا کہ رنگ برنگے کھانے کی شکل میں یہ تمہارے پیٹ میں تھا اور آج یہاں کوڑے کے ڈھیر پر کس گندگی کی حالت میں پڑا ہوا ہے کہ لوگ اس کی بدبو سے بھاگتے گھنیاتے ہیں دیکھو یہی پرانے چھیتڑے کسی وقت تمہاری چمک و دمک والے لباس تھے
    اور آج انہیں ہوائیں ادھر ادھر اڑائے پھر رہی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔
    اور یہ دیکھو! یہ ہڈیاں کسی دن سواری کے جانور اور مویشی تھے جن پر جان دیتے اور قتل و قتال کیا کرتے تھے۔

    اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) یہ دنیاء کی حقیقت ہے
    جس کا قابل عبرت انجام دنیاء میں ظاہر ہوگیا۔
    پس! جس کو رونا ہو روئے۔۔۔۔۔
    اس حدیث پاک کے بعد امام غزالی مزید لکھتے ہیں۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک دن دنیاء کی حقیقت منکشف ہوئی انہوں نے دیکھا کہ ایک بد صورت بڑھیا بناؤ سنگھار کئے ہوئے زیور و پوشاک پہنے ہوئے بنی ٹھنی بیٹھی ہے۔
    آپ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے بڑھیا توں کتنے لوگوں سے نکاح کر چکی ہے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ بے شمار لوگوں سے۔
    آپ نے پوچھا کہ ان شوہروں کا انتقال ہوچکا یا تجھے طلاق دے چکے؟
    بڑھیا نے جواب دیا کہ طلاق کی ہمت کس کو ہوتی ہے میں نے سب کومار ڈالا۔۔۔
    یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تیرے موجودہ شوہر پر افسوس ہے کہ جسے تیرے سابقہ شوہروں کے انجام سے عبرت نہیں۔۔۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ الباری تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    مسلمانوں!
    سمبھل جاؤ اور ہوشیار ہوجاؤ اور جان لو کہ یہ دنیاء بڑی بے وفاء ہے اس سے بچو
    اس کا جادو ہاروت و ماروت ( دو فرشتے ہیں جن پر جادو نازل ہوا) کے سحر سے زیادہ اور جلد اثر کرتا ہے اگر سے پرانا نمک جو کی روٹی کے ساتھ کھا کر اور ٹاٹ پہن کر زندگی گزارو گے تب بھی گزر جائیگی مگر آخرت کی فکر کرو کہ وہاں کی رتی برابر نعمت کا نہ ملنا بھی بڑی تکلیف کا باعث ہے۔
    اس سے آگے امام غزالی رحمۃ اللہ اسی موضوع جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں
    بعض لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا بدن کتنا ہی مصروف رہے مگر ہمارا دل دنیاء کی محبت سے خالی رہتا ہے
    یاد رکھو!
    یہ شیطانی وسوسہ ہے بھلا کوئی شخص دریا میں چلے اور پاؤں نہ بیگے یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔
    اگر تم کو دنیاء کی طلب ہوگی اور ضرورت سے زیادہ دنیاء کمانے کی تدبیریں کرنے لگو گے تو ضروری بات ہے کہ پریشان رہو گے اور دین کو ہاتھ سے کھو بیٹھو گے۔
    یہ بھی جان لو کہ دنیاء کی حرص کبھی ختم نہ ہوگی
    اور اسکی طلب ہمیشہ بڑھتی رہے گی
    کیونکہ دنیاء کی مثال سمندر کے کھارے پانی جیسی ہے جتنا پیو گے اتنی ہی پیاس بڑھتی جائیگی۔۔۔
    ‎@JavaidHaqqani

  • تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    تعلیم ضروری ہے تحریر: محمد عدنان شاہد

    رابرٹ موگابے نے کہاتھا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسے باور کرائیں گے کہ "تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے، جب ہم گھرے ہوۓ ہوں غریب گر یجویٹس اور امیر بد معاشوں سے” اور ہم یہ باور کرانے میں نا کام ہو گئےہیں۔ آج نو جوان نسل کی سوچ یہ ہے کہ سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری نہیں مل سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی سوچ میری بھی ہے۔ لیکن ایک عرصے تک میں اس سوچ میں بتلارہا کہ اگر یہ سچ ہے اور تعلیم ہی میابی کی کنجی نہیں ہے تو پھر لوگ اس کو دھڑا دھڑ حاصل کیوں کرنے میں لگے ہیں۔

    ہمارے کالج، یو نیورسٹیاں بھری ہوئی کیوں ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ ہے کام چوری ان کو یہ لگتا ہے کہ اگر یہ لوگ یونیورسٹی نہیں آئیں گے تو ان کے ماں باپ ان کو محنت مزدوری پر لگا دیں گے، اور یہ لوگ اپنی جوانی کو موج مستی میں گزارنا چاہتے ہیں۔ مطلب ان میں احساس ذمہ داری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری وجہ امید ہے ان کو لگتا ہے کہ ہمارا ملک ایک دن ضرور ہماری قدر کرے گا۔ اس امید میں ایسے لوگ دن رات محنت کرر ہے ہیں اور محنت بھی ضائع نہیں جاتی۔ لیکن یہی محنت انہیں ایک امتحان میں ڈال دیتی ہے وہ امتحان ایک شکارگاہ ہوتی ہے جہاں ان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ شکار بنو یا شکاری بن جاؤ لیکن اس امتحان میں کا میابی ان دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں ملتی۔

    اس امتحان میں کا میاب وہی ہے جو نہ شکار بنتا ہے نہ ہی شکاری ایسے لوگ بس جی رہے ہوتے ہیں اور بس موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں موقع ملا وہاں اس سے فائدہ اٹھایا آسان الفاظ میں سمجھاؤں تووہ اس سسٹم کے ڈسے ہوۓ لوگ ہیں جو شکار بن چکے ہیں، اور ڈسنے والے شکاری ہیں لیکن اس سسٹم سے لڑنے والے لوگ وہ ہیں جو موقع پرست لوگ ہوتے ہیں جو موقع ملتے ہی اس سٹم پر کاری ضرب مارتے ہیں اور لو ہے کوتلوار بنانے کے لئے اس پر ضرب مارنی ہی پڑتے ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں داخل نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ٹھونسے جاتے ہیں کیوں کہ تعلیمی اداروں کی تعداد کم ہے۔

    بدقسمتی سے ن لیگ کے دور میں سڑکوں پر توجہ دی گئی نا کہ تعلیم پر اب اللّه کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت تعلیم پر خاطر خواہ توجہ دے رہی ہے۔

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب تک لوگوں میں شعور نہیں ہوگا کہ ان سڑکوں اور آمد ورفت کا استعمال کیسے کرنا ہے تب تک اسے بنانے کا کیا
    فائدہ لائسنس ان لوگوں کے پاس نہیں ہوتا ہیلمٹ یہ لوگ نہیں پہنتے، اشارے یہ توڑے ہیں ایسے میں کیا ضرورت ان سڑکوں کی؟ اس کی جگہ تعلیمی ادارے بنیں تا کہ عوام کو شعور آئے۔

    اسی بات پر تھوڑی اور نظر ڈالتے ہیں ہمارے ملک میں احتجاج جب تک پر تشدد نہ ہو اس وقت تک احتجاجیوں کو کوئی منہ نہیں لگا تا اس لئے ہمارے ملک میں احتجاج پر تشدد ہو جاتے ہیں بدقسمتی سے احتجاج کرنے والے لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوں تو دل اور بھی زیادہ دکھتا ہے۔

    بس اصل بات یہ ہے کہ تعلیم بہت ضروری ہے کیوں کہ تعلیم ہوگی تو ہی شعور آئے گا تعلیم کے بغیر شعور ممکن ہی نہیں ہے اور رہی بات سفارش اور رشوت کے بغیر نوکری حاصل کرنے کی تو اس کا ایک ہی حل ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ میں قابلیت ہے اور آپ نے سہی معنوں میں تعلیم حاصل کی ہے تو آپ کو کسی سفارش کرانے کی یا رشوت دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

    اور سہی معنوں میں تعلیم تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب ہم یونیورسٹیز میں جا کر اپنا اصل مقصد نا بھولیں اور اپنا فوکس صرف تعلیم پر رکھیں نا کہ آوارہ گردی کرنے پر، اگر ہم ایسا کر گئے تو ہم ایک باشعور قوم بن سکتے ہیں اور خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    @RealPahore

  • اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام  تحریر:ناصرہ فیصل

    اسلام اور معاشرے میں پردے کا مقام تحریر:ناصرہ فیصل

    حجاب کے معاملے میں مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراء ہیں۔ جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے؟
    عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے اور ہمیں سختی سے اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنی چاہیے اور اسے سختی سے ہی لاگو کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے

    ۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار اس مذہب کے قانون پر عمل کرتے ہیں اور دین اسلام تو سچا دین ہے اس لیے اسے ماننے والوں پر فرض ہے کہ وہ اس کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ سب اس بات سے آگاہ ہیں کہہ اسلام سے پہلے عورت کا معاشرے میں کیا مقام تھا؟ اسے جس قدر عزت اسلام نے دی، کسی اور مذہب نے نہیں دی اور پردہ کرنا تو عورت کی عظمت ہے اس لیے اس کا اصل مقام اور عزت پردہ کرنے میں ہے۔
    پردے کے بارے میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کرنا صرف عورتوں پر لازم نہیں بلکہ مردوں کو بھی پردہ کرنے حکم دیا گیا ہے۔ ”سورۃ النور” کی آیت نمبر 30 میں ﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے” مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں”۔ … اور ایک مرد کو دو عورتوں کے درمیان چلنے سے بھی منع فرمایا ہے۔

    مرد کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھی عورت پر دوسری نگاہ ڈالے، نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’”’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘”‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055۔

    قرآنی تعلیمات سب سے پہلے مردوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کہلاتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

    قرآن پاک میں ایک جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے””
    خواتین کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جائے گا۔
    خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے”‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181

    ہمیں مغربی ممالک سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کو محض ایک نمائش کی چیز بنا کر رکھ دیا ہے جسے کسی بھی وقت استعمال کر کے پھینکا جا سکتا ہے۔
    اگر کوئی خاتون حجاب اوڑھنا نہیں چاہتی تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن لِللہ حجاب کا تمسخر مت اڑائیےحجاب بہت ضروری ہے کیونکہ جب خواتین حجاب کے بغیر گھر سے نکلتی ہیں تو لوگ انہیں بری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے ’زنا‘ جیسی برائی جنم لیتی ہے۔
    دیکھئے! لفظ ’عورت‘ کے معنی بھی چھپانے والی چیز ہے۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بات اچھی نہ لگے تو یہ آپ کا ذہن ہے، اسلام تو بہرحال یہی کہتا ہے۔
    قرآن میں اللہ نے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور حکمِ خدا بجا لانا فرض ہوتا ہےاگر مغربی مالک کو حجاب اتنا ہی برا لگتا ہے تو گرجا گھروں کی ننز کے حجاب اوڑھنے پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتے اور یہ امتیاز صرف مسلمان خواتین کے ساتھ کیوں ہے؟

    اسلام نے کبھی کسی چیز پر جبر نہیں کیا لیکن دینِ فطرت ہونے کی بدولت یہ معاشرے میں اخلاقی توازن قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ حجاب پاکیزگی اور اخلاقیات کی علامت ہے اور اس کا ثبوت دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیت میں بھی ملتا ہے۔
    حجاب اُمہات المومنین کی سنت ہے اس لئے اس کا اوڑھنا بہت افضل ہے لیکن اسلام نے ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی عبادات جیسا کہ تقویٰ پر بھی زور دیا ہے اس لئے صرف پہننا ہی افضل نہیں اس کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام کسی اختیاری چیز پر پابندی عائد نہیں کرتا البتہ اچھے اور برے کی تمیز ضرور سکھاتا ہے۔ حجاب اوڑھنے اور نہ اوڑھنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے بلک ہ اسے ایک اختیاری عمل کے طور پر معاشروں میں رائج کرنا چاہئے۔
    اکبر الٰہ آبادی کیا خوب فرما گئے:

    "”بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
    اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
    پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
    کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا "”
    تحریر:ناصرہ فیصل
    @NiniYmz

  • نبی رحمت ﷺ  پر وحی کا حصہ  دوم  تحریر:محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا حصہ دوم تحریر:محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
    حضرت عروہ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی میرے پاس گھنٹے کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے اور جب میں اسے یاد کر لیتا ہوں جو اس نے کہا تو وہ حالت مجھ سے دور ہو جاتی ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے سخت سردی کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھا پھر جب وحی موقوف ہو جاتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2

    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے کھنڈروں میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی ایک چھڑی کو زمین پر ٹکا کر چلتے تھے کہ یہود کے کچھ لوگوں پر آپ گذرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کی بابت سوال کرو، اس پر بعض نے کہا کہ نہ پوچھو، مبادا اس میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو تم کو بری معلوم ہو پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم ضرور آپ ﷺسے پوچھیں گے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ نے سکوت فرمایا (ابن مسعودؓ کہتے ہیں) میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپﷺ پر وحی آرہی ہے، لہذا میں کھڑا ہو گیا، پھر جب وہ حالت آپﷺ سے دور ہوئی، تو آپﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85؀ (ترجمہ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو ’’یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔‘‘ (تمہیں تو تھوڑا ہی سا علم عطا ہوا ہے)(85سورۃ بنی اسرائیل )
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (بعد نبوت) تیرہ سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں دس سال رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال ہوگیاصحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1083
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ٹھہرے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی (حالت میں) دس سال (مدینہ میں گزارے) اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تھا۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1136
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان کو حرکت دیتے اور سفیان نے بیان کیا کہ اس سے آپﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ 16؀ۭ) اے نبی ﷺ ! اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو ! (16سورۃ القیٰمہ ) یہ آیات نازل فرمائیں
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو اس کے مثل (معجزات) دیئے گئے ہیں جس قدر لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو چیز دی گئی ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے اس لئے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2217
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپﷺ کی وفات سے پہلے متواتر وحی بھیجی یہاں تک کہ آپ کی آخری عمر میں پہلے کے اعتبار سے وحی کثرت سے آنے لگی پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2218
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا کہ آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی، اور حکم دیا گیا کہ کعبہ کی طرف رخ کریں، اس لئے تم لوگ کعبہ کی طرف منہ پھیر لو، اس وقت ان لوگوں کا رخ شام کی طرف تھا، چنانچہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2157
    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے معجزے عطا کئے گئے ہیں جو اسی جیسے دوسرے انبیاء علیہم السلام کو بھی عطا کئے گئے اور لوگ ان پر ایمان لائے اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ وحی الہی یعنی قرآن مجید ہے کہ اور کوئی نبی اس معجزہ میں میرا شریک نہیں کہ اس جیسا معجزہ اسے ملا ہو اور مجھے امید ہے کہ میری پیروی کرنے والوں کی تعداد دوسرے انیباء علیہم السلام کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے قیامت کے دن زیادہ ہوگی۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 385
    حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میں مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 256
    اے رب کریم ہمیں نبی مہربانﷺ پر اترنے والے آپ کے پیغامات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنا دے
    آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک :  تحریر محمد جاوید

    (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید

    یہاں مراد وہ حق ہے جیس کو نقصان پہنچنے سے تمام افراد معاشرہ کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے اور جیس کے محفوظ رہنے سے تمام حقوق کے محفوظ رہنے کا راستہ نکلتا ہے ۔ یہ حق ملت اسلامیہ کی سر براہی کا حق حکمرانی کا قیادت کی legitimacy کا پرابلم ہے ۔ حکمرانی اور قیادت کے پرابلم پر امت مسلمہ آج سے چودہ سو سال پہلے جیس انتشار کا شکار ہوئی اس کو آج تک سمیٹ نہیں سکی ۔ امام حسین کے بعد ملوكيت، بادشاہت اور بعد ازآں غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوۓ حلانکہ امام حسین کی قربانیوں کا مقصد امت کی اصلاح اور انسانوں کے حقوق کی حفاظت تھا۔
    امام امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور اپنے اپنے اباؤ اجداد کی پیروی ہے۔”
    جیسا کہ crisis of legitimacy کا مسلہ ابھی بھی پاکستان کے علاوہ کافی مسلم ممالک میں پایا جاتا ہے یعنی عوام کے مرضی کے بنا کسی بھی بہانے یا حربے سے اقتدار پہ قبضہ کرنا اور اسی بحران کا سامنا امام حسین کو بھی کرنا پڑاتھا ۔
    شہادت حسين اثبات حق اور باطل کی داستان ہے اور یہ سادہ و رنگین داستان صرف اہل اسلام کی نہیں پوری انسانیت کی جنگ بن چکی ہے اور حق و باطل کی کشمکش میں ایک بین الااقوامی علامت بن چکی ہے۔
    اس علامت کو کہیں شاعری میں استعمال کیا گیا اور کہیں ڈرامہ اور دوسرے ثقافتی و تہذیبی مظاہروں میں ۔آپ نے عزاداروں کے محفلوں میں اور ماتم گساروں کے جلوسوں میں خطیبوں کے وعظوں اور شاعروں کے مرثیوں میں اس علامت کو بڑے موثر طور پر استعمال ہوتے دیکھا اور سنا ہوگا۔
    امام حسین کا نام ہر مسلمان کے لئے قابل احترام ہے لیکن طاقت اور جبر کے اشتراک واتحاد کی بنیاد پر حکومت کرنے والے مسلمان ہونے کے باوجود حسینی شعور سے وابستہ علامتوں کو گوارہ نہیں کر سکتے اور تاریخ شاہد ہے کہ حسینی شعور یعنی انقلابی شعور بیدار ہو جائے تو پھر اسے اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ۔ کسی سہارے یا سہارے کے وعدے کے بغیر۔ حسینی شعور کسی مادی وسيلے یا اعانت کا منتظر نہیں رہتا۔ وہ خود ہی بھڑکتا اور ارد گرد کے سارے ماحول کو اپنی روشنی اور تپش سے زندگی اور حرارت بخشتا ہے۔ وہ اپنی بشارت آپ ہے اور یقین کیجے پاکستان کے مسلمانوں کی رگ وپے میں خون کی طرح گردش کرنے والے حسینی شعور کو اب ہمہ وقت بیدار اور نگران رہنے کی ضرورت ہے۔
    بے خبری میں ان کے حقوق پر کئی شب خون مارے جا چکے ہیں اور مزید کا بھی خطرہ ہے استعماری طاقتوں کے گدھ ہمارے منڈیروں پر بیٹھے اپنے پر پھڑپھڑاتے رہتے ہیں ۔ امام حسین حرمت ضمیر کے محافظ اور انسانی حقوق کے چمپین تھا اور یہ چمپین انسانیت کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ضمیر ہو کر امر ہو گئے۔
    یزید دولت شہرت اور ٹھاٹھ باٹھ کا خواہش مند تھا اور اپنی اس خواہش تکمیل کے لئے اسے ظالموں کی ہوائے نفسانی کے بند مزاروں میں محبوس ہو جانا پڑا۔
    امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید ہوئے جب وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ تھا جس نے ایک لازوال اثر چھوڑا۔
    شہادت حسین تو انسان کو یہ سیکھاتی ہے کہ ماضی کے گہوارے، حال کے دائرے اور وقت کے جالے کو توڑ کر نئی منزلوں اور نئے جہانوں کی طرف کیونکر بڑھا جاسکتا ہے ۔ آج امام حسین واقعتا” وقت کے پیمانوں یعنی ماضی وحال کے تمام جال توڑ کر دائمی اور لازوال عظمتوں سے ہمکنار ہو چکا ہے اور ہر عہد کے اجتمائی ضمیر اور شعور کا امین اور رفیق بن چکا ہے۔
    امام حسین خون میں دوڑنے والی ایک غیرت ہے۔ ایک ادارہ ہے۔ امام حسین جانتے تھے کہ مجھے شہید ہونا ہے۔ امام اس لئے گئے تاکہ حق کا علم بلند ہو۔ حسینؓ وہ مینار ہے جو اتنی بلندی پر قائم ہے کہ قیامت تک امت کے لئے روشنی دیتا رہے گا۔ حق و باطل کی جنگ ہمیشہ جاری رہی ہے اور آج بھی جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ غدار ہر جگہ ہیں، شام اور کوفہ ہر جگہ ہیں۔
     حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں حق و صداقت کی جہاں ایک تاریخ رقم کی وہاں انہوں نے اسلام کی بقا کی ضمانت بھی اپنے لہو سے دی۔ ہم نے جس نظریے کے تحت پاکستان بنایا ، اس نظریے کو زندہ کرنا ہے اور نوجوان نسل کو اس نظریے سے اچھی طرح آگاہ کرنا ہے اور اس کی اصلیت کا یقین دلانا بھی ہماری ذمداری ہے اگر اسا کرتے ہیں تو تو یقیناً ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان اشعار پر بات ختم کرتا ہوں  

    دیتی رہے گی درس شہادت حسینؓ کی  ۔۔۔ آزادیِ حیات کا یہ سرمدی اصول 

    کٹ جائے چڑھ کے سر ترا نیزے کی نوک پر ۔۔۔ لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول
    امام حسین کی شہادت تاقیامت تک یاد رکھاجائے گا اور بحثیت مسلمان ہماری کمیابی کی ضمانت بھی فلسفہ حسینیت میں ہمارے اندر حسینی شعور کا ہونا بہت ضروری ہے پھر ہم عدل وانصاف حق وہ باطل کو پرکھنے کے قابل ہو جائینگے۔
    امام کو پتا تھا اسے شہید کر دیا جائے گا مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے کیوں کہ عدل وانصاف اور اسلام کی سر بلندی بہت ضروری تھی تبھی امام حسین نے اپنی جان کی پروا نہیں کیا اور اتنی بڑی قربانی دے دی جو قیامت تک یاد رکھا جاے گا۔ 
    آسان نہیں ہے معرفت راز کربلا
    دل حق شناس دیدہ بیدار چائے
    @I_MJawed