Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایک  لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    ایک لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    ملکِ پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں میں خاتون کے ساتھ ظلم و جبر، بدسلوگی ، ہراساں کرنے ،قتل کرنے کی کوشش، اجتماعی زیادتی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    نور مقدم، ماہم ، کنول ، قرة العین اور صاٸمہ کے واقعات کی آگ ابھی ٹھنڈی نہ ہوئی کہ کم سن بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات نے سانسیں روک لیں، کبھی بُرقعے میں ملبوس سر تا پا ڈھکی عورتیں پامال ہوئیں، تو کبھی قبروں سے نکال کر خواتین کے ساتھ زیادتی کی گٸی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تین ماہ کی بچیوں سے لے کر بڑی عُمر تک کی خواتین تک کو نہیں بخشا گیا۔

    حال ہی میں یوم آزادی کے موقع پر دل دہلا دینے والے عاٸشہ اکرام کے واقعہ نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دل سوز واقعہ پاکستان کے شہر لاہور میں پیش آیا۔ چودہ اگست کو شام ساڑھے چھ بجے عاٸشہ اکرام اور اپنے دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم چار سو اوباش اور درندے صفت ٹولے نے عاٸشہ اور انکے ساتھیوں پر حملہ کردیا۔ لڑکی کو ہراساں کیا اور اسکے کے ساتھ کھینچا تانی کی گٸی ۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام اس بیٹی کے کپڑے تک پھاڑےگٸے اور اسے ہوا میں اچھالتے رہے ۔

    عاٸشہ اور اس کے ساتھیوں نے درندے صفت مردوں کے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران انتظاميہ کی جانب سے مینار پاکستان کے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن جانوروں نے جنگلے کو پھلانگ کر اس لڑکی کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی ہر پاکستانی دل گرفتہ ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟ یہ کیسے جانور ہیں ، درندگی پر اتر آئے ہیں

    معذرت کے ساتھ چار سو مردوں میں ایک بھی مرد ایسا نہ تھا جو عاٸشہ کی مدد کرسکتا ۔ اپنی بہن سمجھ کر اسکی عزت و آبرو کی حفاظت کرتاہے ، اس کا محافظ بنتا اور اس کو بچاتا مگر افسوس کے ساتھ ان چار سو نا مردوں کی، آٹھ سو آنکھیں میں حیا نہیں تھی کہ کیسی بہن، بیٹی کے ساتھ یہ ہوتے دیکھ رہے تھے خدا نہ کریں اس کی جگہ ان کی بہن، بیٹی ہوتی تو کیا یہ سب اسی طرح تماشا دیکھتے

    آٹھ سو ہاتھوں میں سے کوئی بچانے کے لیے آگے نہیں آیا۔ کسی کی مرد کی روح نہیں کانپی، کسی کی زبان نے اپنے ساتھی کو کچھ نہیں کہا کہ یہ بھی ہماری بیٹی ہے ، ہماری بہن ہے اسکے ساتھ ایسا وحیشانہ سلوک نہ کروں سب درندوں کو ایک موقع ملا اور سب نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔

     سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین پر ہونے والے ظلم و جبر پر معاشرہ خاموش کیوں ہے؟ عورت خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو، بیٹی ہو، یا معاشرے کی کوئی بھی عورت، ہمارے اسلام میں اسے ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا اور مردوں کو ان کے ادب و احترام کا حکم دیا گیا ہے

    خود نبیِ کریم  ﷺ  نے بھی عورتوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی ،بہترین برتاوٴ ، اچھی معاشرت کی تاکید فرمائی ہے ، حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں ، اورمیں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہو ۔ترمذی

    درندگی کا یہ واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔حکومت سے اپیل ہے کہ انسانیت سوز درندگی کے واقعہ میں ملوث چار سو ملزم کو ایسی عبرتناک سزادی جائے جو رہتی دنیا تک یاد رہے۔ تاکہ کیسی کی بہن بیٹی کی عزت یوں سرعام تار تار نہ ہو ۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    فیس بک نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے تاہم اب طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بھی بلاک کرنے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ کمپنی کو پابندیوں کی امریکی پالیسی پر عمل کرنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب فیس بک ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی قوانین کے تحت طالبان پر پابندی عائد ہے جس پر ان کے اکاؤنٹس بلاک کردیئے ہیں۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ لوٹ مار اور تشدد کی شکایات کے لیے بنائی گئی طالبان کی واٹس ایپ ہاٹ لائن کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ طالبان کےنام سے بنائے گئے آفیشل اکاونٹس بھی بلاک کیے گئے ہیں۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر طالبان سے متعلق تمام مواد پر پابندی عائد کی تھی فیس بک کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ ایپلی کیشن نے اپنے پلیٹ فارمز سے طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ وہ طالبان کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں اس لیے اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ٹیم مخصوص کی گئی ہے طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

  • عورت اور معاشرہ  تحریر:  خدیجہ نقوی

    عورت اور معاشرہ تحریر: خدیجہ نقوی

    ‏ایک سوال قانون نافذ کرنے والے _اداروں سے
    ایک سوال حکومت وقت سے
    ایک سوال مردوں سے
    بس ایک سوال۔۔۔۔_
    کیا پاکستان میں عورت اتنی سستی ھے؟
    آج صبح واک سے واپسی ہوئ تو حسب معمول گھر آتے ہی پہلا کام موبائل پہ مختلف ایپز کو چیک کرنا واٹس ایپ، فیس بک کے بعد باری آئ ٹیوٹر کی جہاں #minarepakistan ٹرینڈنگ تھا مجھے لگا کہ یقیناً کوئی مثبت چیز ھی ہو گی بس جزبہ حب الوطنی ٹھاٹھے مارنے لگا اور میں نے سوچا کیوں نہ اسے چیک کیا جاۓ اور دو چار ٹویٹس کر کہ شہیدوں میں اپنا نام بھی لکھوا دیاجاۓ
    مگر جیسے ہی ٹرینڈ اوپن کیا میں تو جیسے چکرا کہ رہ گئ کہ مسمات عائشہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی نے مانو میرے پیروں تلے سے زمین نکال دی ہو۔ ایک اکاؤنٹ نے تو باقاعدہ ویڈیو ہی پوسٹ کی تھی۔
    اس واقعے پہ لوگوں کے ملے جلے خیالات کومنٹس میں موجود تھے کوئ اظہار ہمدردی کر رہا تھا تو کوئی سراپا احتجاج اس کے ساتھ کچھ لوگ لڑکی کو قصور وار مان رہے تھے۔ ایک دو اکاؤنٹس نے لڑکی کا بیک گراؤنڈ ھی غلط ثابت کر دیا کہ لڑکی تو ٹک ٹاک بناتی تھی۔ تنگ لباس پہنا ہوا تھا۔ چار سو بندوں میں یہ کرنے کیا گئ تھی وغیرہ وغیرہ
    ایک حد تک تو آپ کی سب باتیں ٹھیک ھیں مگر میرا سوال اس معاشرے سے یہ ہے کہ کیا اگر ایک لڑکی tiktok بنتی ہے تنگ لباس پہنتی ہے اپنی مرضی سے گھر سے باہر آتی جاتی ہے تو کیا وہ مال غنیمت ہے اسکی کوئی عزت نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ جو بھی ہوا وہ ٹھیک تھا صرف اس وجہ سے کے وہ یہ سب کام کر رّہی تھی۔
    میرا دین تو سراپا رحمت ہے اگر کوئی بھٹک جائے تو دین میں تو اس کے لیے بھی واپسی کا راستہ ہے دین میں تو آسانی ہے، رحم ہے عفو درگذر ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان کن اقدار کے پیروں کار بن گئے ہیں جس دین میں سب سے زیادہ تلقین نفس پر قابو کرنے پر دی گئی ہے وہاں روز بروز زینب، نور،عائشہ جیسے کیس کہاں سے نمودار ہو رہے ہیں؟ کیا کوئ جواب ہے ہمارے پاس؟ کیا اس واقعے کو دیکھنے اور سننے کے بعد وہ لڑکیاں جو تعلیم، روزگار کی غرض سے گھروں سے باہر نکلتی ہیں ان کے ماں باپ انکی واپسی تک سولی پے لٹکے نہیں رہیں گے۔
    اسلام نے انبیاء نے ہماری زندگی ہمارا دین بہت آسان بنایا ہے پھر ہم یہ کس کی پیروی کر رہی ہیں؟کیا ہم ایک قوم ہیں؟ کیا ہم ایک سلجھا ہوا معاشرہ ہیں؟ کیا ہم اشراف المخلوقات ہیں؟ ذرا سوچیے۔۔۔۔
    @KhadijaNaqvi01
    Twitter handle

  • ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    جابر رضي الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ( تم عورتوں کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو ، 14 اگست 1947 کا دن پاکستانیوں کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے.آزادی کا دن ۔کہ اس دن پاکستان آزاد ہوا تھا ۔۔ہمیشہ 14 اگست نہایت پرامن طریقے سے منائ جاتی ہے ۔۔اس بار کیا ہوا۔ایک عورت 14 اگست کو شام چار اور پانچ بجے کے درمیان اقبال پارک جاتی لے وہاں وڈیو بناتی ہے کہ وہاں پر موجود لوگ اس ٹک ٹاکر کہ گرد جمع ہو گے اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو ہراس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس لڑکی کو جہاں ہاتھ لگتا ہے لگاتے ہے وڈیو وائرل ہوتی رہی ۔اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ایف آئ آر کاٹی جاتی ہے اب ہو گی قانونی کاروائ۔
    جب معاشرہ بے لگام ہو ۔تربیت کا فقدان ہو جہاں مفتی عزیز اور قوی جیسے کردار ۔اور وہ سکول ماسٹر حو سو بچوں سے زنا کر کہ بھی جیل میں سکون سے روٹی پانی کھا اور ٹی وی دیکھ رہا ہو ۔وہاں کی جنریشن قانون سے ڈریں گی یا مجرموں کے جرم سے شے پاے گی؟
    جہاں قانون کے رکھوالے منصف حاکم وقت سب کے سب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھ بند کیے بیٹھے ہوں ۔۔وہاں جنریشن قانون سے ڈرے گی؟ جہاں قانون پر عمل تو ہو لیکن سوشل میڈیا پر وڈیو اور تصاویر وائرل کروانے کے بعد ۔۔جہاں انصاف لینا ہو تو خود کے ساتھ ہووی بغیرتیوں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنا پڑے ۔۔جہاں اپنے حق کے لیے لڑنا ہو تو چار پانچ ٹھڑکی مردوں کا ساتھ چاہیے جو تمھارے حق کے لیے بھرے بازار میں تمھیں پاک دامن کہ سکے ۔۔کیا وہاں کی نسل قانون سے ڈرے گی؟ جہاں عدالتوں میں بیٹھے جج اور تھانوں میں بیٹھے ایس ایچ او تھانیدار کو جسم بیچ کر انصاف لینا پڑے ۔کیا وہاں کی عوام قانون سے ڈرے گی ؟
    اس لڑکی کی غلطی پتہ کیا تھی ۔کہ وہ ٹک ٹاکر ہے ۔کیا ٹک ٹاکر ہونا اتنا غلط ہے کہ چار سو بھیڑیہ تاک لگاے بیٹھا تھا ۔۔جب کہ یہ چار سو بھیڑیا خود بھی ٹک ٹاکر ہے ٹک ٹاک پر موجود ہے. ٹک ٹاکر کو اچھے سے پسند کرتا ہے۔اس ہجوم کا دوغلا پن تو دیکھو کہ یہ ہجوم میں شاید ہی کبھی پانچ وقت نماز بھی پڑھی ہو ۔شاید زندگی میں کبھی سچ بولا ہو ۔شاید کہ اپنی بہنوں کو کبھی پردہ کروایا ہو.اس ہجوم کی غیرت ایک اکیلی تنہا عورت کو دیکھ کر جاگی ۔۔کہ بس اسے چھوڑنا نہیں وہ ٹک ٹاکر ہے ۔۔یورپ جانے کے یہ سارے خواہش مند پاکستانیوں کو ایک پتے کی بات بتاتی ہوں کہ یورپ میں عورت ننگی الف ننگی بھی سڑک پر جارہی ہو ۔اس ننگی عورت کو تاک لگاے کوی دیکھتا ہے وہ بھی وہاں کے قانون کے مطابق ہراسمنٹ کہلاتی ہے.چاہے وہ عورت اپنی مرضی سے کہیں بھی کسی بھی مرد ساتھ جاے ۔۔۔لیکن کسی اجنبی کا اسے چھیڑنا تکنا ہراسمنٹ کہلاتا ہے ۔دوسری طرف میرے اسلامی جہموریہ پاکستان میں دین کے ٹھیکدار رات رات بھر لڑکیوں سے موبائل فون پر زنا کرتے تب ان کو غیرت نہیں آتی ۔ان کو دھمکیاں دے کر ان سے انھی کے گھر کا سامان چوری کرواتے ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اپنے دوستوں سے ملنے کا کہتے. ورنہ وڈیو تصاویر لیک کر دوں گا ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اس بھیڑیے نما ہجوم کی غیرت ایک اکیلی عورت پر جاگی ۔اس عورت پر جس کا ان سے کوی سروکار نہیں ۔۔ابے شیطان کے چیلوں تجھ پر فرض ہے پردہ کروانا اپنی ماں بیوی بیٹی بہن کو ۔۔صرف ان چار عورتوں کی زمہ داری ہے تیرے پر ۔پر توں گھر کے فرائض چھوڑ کر گلی کا آوارہ کتا بن کر اجنبی عورتوں نامحرم عورتوں پر لال ٹپکاے بیٹھا ہے. وہ ننگی بھی ہوتی تجھ پر تب بھی نامحرم تھی حرام تھی ۔۔ہر مرد کی اب روح کانپ رہی ہے ہر مرد اب آگ بگولہ ہے مینار پاکستان والے اس واقعے پر۔۔مرد اگر ایسے ہوتے ہیں تو وہ چار سو مرد کون تھے ۔۔پھر ان کی بات شروع ہوتی ہے گھر کہ مرد سے کہ مرد اگر برا ہے تو تمھارے گھر کا مرد بھی برا ہوگا تمھارے گھر مرد نہیں پھر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہے ۔دل کرتا ان جنگلی بھیڑیوں کے منہ سے زبان نوچ لوں کہ تمھارے جیسے گلی کے آوارہ کتوں کے منہ سے ہمارے باپ بھائ کا زکر اچھا نہیں لگتا ۔مرد ایک عظیم چیز ہے اس کی سب سے بڑی مثال میرا باپ ہے. بھائ ہے تو تحفظ کا احساس ہے ۔۔۔تم اگر بھیڑیے نامرد ہو تو اس میں ہمارے باپ بھائ کا کیا قصور ۔۔جنھوں نے کبھی کسی عورت کی طرف آنکھ کر نہیں دیکھا ۔۔تمھیں بھیڑیا اور نامرد کہنا چاہیے تاکہ تم جیسے غلیظ کیڑوں کی وجہ سے ہمارے گھر کہ مرد بدنام نہ ہوں ۔۔
    آخر میں بات کروں گی عورت کی.مزار قائد پر ان دنوں صرف مرد حضرات جاتے ہیں مطلب ان چھٹیوں میں وہاں صرف مرد حضرات کا رش ہوتا ہے وہ بھی مزدور طبقے کا عام تعطیلات میں مزار قائد مینار پاکستان بلکہ چڑیا گھر تک میں خواتین کے جانے والا نہیں ہوتا۔پھر کیوں شامت بلوانے پہنچ گئ وہ بھی لاہور۔وہاں تو یہ حال ہے کہ برقعے والی عورت تک کو بھی چھیڑتے ہیں عام لڑکی گزر رہی ہو کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نوچنے کی حوس سے دیکھنے لگ جاتے ۔ تو وہاں کی مقامی عورتیں کیسے اس بات سے انجان ہوں گی ۔یہ عورت ٹک ٹاک مووی بناتے خودی اس ہجوم میں گھس گئ ۔جہاں پورا لاہور اور آس پاس کے علاقے کے مکین جانتے کہ وہاں ان دنوں عورتوں کو نہیں جانا چاہیے ۔۔چاہے کوی ٹک ٹاکر ہو چاہے کوی مدارس میں پڑھاتی برقعہ پوش عالمہ ۔باقی یہاں اکثریت مرد حضرات موقع نہیں چھوڑتے ۔

  • "کیا ہم صرف برے ہیں” تحریر: شاہ زیب

    آپ نے اکثر سنا ہوگا پاکستانی ہیں ہی ایسے ان کا کچھ نہیں ہو سکتا پاکستانی ہوں اور دو نمبری نہ کریں’ ہو ہی نہیں سکتا اس قوم نے کبھی بھی ٹھیک نہیں ہونا
    اور اس طرح کی بیشمار باتیں ایسی باتیں کرنے والوں سے میرا سوال ہے کہ آپ ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی برائی ہی کیوں کرتے ہیں ہر قوم میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں باقی لوگوں کی اچھائی دیکھتے اور سراہتے ہوئے آپ پاکستان کی برائی ہی کیوں دیکھاتے ہیں پاکستان میں اگر کیسی کو کوئی بھی مشکل ہوتی ہے تو لوگ بنا جان پہچان کہ بھی اس شخص کی مدد کر دیتے ہیں اگر کیسی کا ایکسیڈینٹ ہو جاتا ہے تو لوگ اپنا کام چھوڑ کر پہلے اس کو ہاسپٹل لے کر جاتے ہیں
    اگر کسی کے مالی حالات بھی خراب ہوتے ہیں تو اپنا خرچ محدود کر کے سب سے پہلے اس کی مدد کرتے ہیں.
    وہ ملک ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی ہر طرح کی مدد اپنا فرض سمجھ کر کرتے ہیں، جہاں سب کی بیٹیاں سانجھیاں ہیں ، جہاں کوئی کسی مشکل میں ہو تو اس کو ان حالات سے سب مل کر نکالتے ہیں، نہ کے مغربی ممالک کے سوکالڈ پڑھے لکھے لوگوں کی طرح اپنے کام سے کام رکھتے ہیں یہ وہ ملک ہے جہاں لوگ سالانہ کروڑوں میں قرار دیتے ہیں اپنی استطاعت سے بڑھ کر اپنے ہم وطنوں کی مدد کرتے ہیں ۔
    سوال یہ ہے کہ یہ مٹھی بھر لوگ صرف ہمیں ہماری برائی ہی کیوں دکھاتے ہیں اگر سو لوگوں نے اچھا کام کیا اور ایک نے برا تو یہ کبھی اس سو لوگوں کا ذکر نہیں کریں گے ہاں اس ایک کا نہ صرف زکر کریں گے بلکہ جتنا ممکن ہو سکے گا اس کی تشہیر بھی کریں گے
    کیونکہ ان کا مقصد ہی ایک ہے اور وہ ہے پاکستان کو بُرا دکھانا.
    وہ لوگ جو دوسرے معاشروں کی مثالیں دیتے ہوئے نہیں تھکتے ان کو چاہیے کہ اپنی تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں اور سمجھیں اگر آپ میں اتنا ظرف نہیں ہے کہ آپ پاکستان اور پاکستانی عوام کی تعریف کر سکیں تو برائے مہربانی اپنے یہ فارمولات بھی اپنے تک رکھیں کیوں کہ پاکستانی عوام جیسی بہترین عوام کہیں نہیں ہمیں بس اپنی اچھائی دیکھنے کی ضرورت ہے

    ‎@shahzeb___

  • ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا اس خطے کو امن کا پیغام  ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں تحریر: صائمہ رحمان

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا اس خطے کو امن کا پیغام ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں تحریر: صائمہ رحمان

    پاکستانی نیوز چینلز پر پہلی بار ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی براہ راست پریس کانفرنس میں کہا کہ 20 سال جنگ کے بعد افغان طالبان نے افغانستان کی سر زمین کو آزاد کروا لیا۔نااہل افغان حکومت آخرتک جنگ کی بات کرتی رہی اب چاہتےہیں ایسانظام بنےجس میں تمام طبقےکےلوگ شامل ہوں ہم نے11دن میں پورےافغانستان کوفتح کیاہے۔ سیاسی نظام پرکام جاری ہے جلداعلان کردیاجائےگا۔ یہ صرف ہماری ہی نہیں بلکے پوری وقم کی فتح ہے آزادی ہر قوم کا حق ہے آزادی افغان عوام کا بھی بنیادی حق ہے افغانستان میں تمام غیرملکیوں کورہنےکاحق بھی ہے احترام کرتےہیں ہمارا کابل میں ‏داخل ہونےکاکوئی ارادہ نہیں تھا لیکن کرپٹ حکمران وقت سےپہلےبھاگے نکلےلوٹ مارہوئی توکابل میں ‏داخل ہوئے ہم لوگوں کی حفاظت کیلئےمجبوری میں کابل میں داخل ہوئے طالبان نہیں چاہتےکہ افغانستان میں جنگ جاری رہے.
    ‏ عام معافی کااعلان افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں کرنےدیں گے ۔ خواتین کو شرعی حدود کے مطابق کام کرنے دیا جائے گا خواتین کسی بھی معاشرےکااہم جزہوتی ہیں ان کااحترام کرتےہیں۔ خواتین کوشریعت اورقانون کےمطابق مکمل حقوق دینگے۔
    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی مفادات کے خلاف کوئی چیز نشر نہ کی جائے یہ بھی ایک تجویز دی گئی کابل میں سفارتخانوں اورگرین زون کومحفوظ بنایا جائے گا پڑوسی ممالک کو بھی ہمارےاصولوں کا احترام کرناچاہیِے ہماری افغان عوام سےکوئی دشمنی نہیں اسلامی امارت افغانستان میں ‏سیاسی نظام کی تشکیل کیلئےمشاورت جاری ہے چاہتےہیں ایسانظام بنےجس میں تمام طبقےکےلوگ ‏شامل ہوں ہم نے11دن میں پورےافغانستان کوفتح کیاہے ہم تکبرکی بات نہیں کرتےامن کی بات ‏کرتے ہیں۔ کسی سےذاتی دشمنی نہیں چاہتے کےکابل میں داخل ہونےکےبعدکسی کوتکلیف نہیں پہنچائی گئی یقین دلاتے ہیں عوام کےجان ومال کی حفاظت کی جائےگی افغانستان کوقبضےسےآزادکرانےپرفخرمحسوس کرتے ہیں
    افغانستان کوحق ہےکہ وہ قانون بنائےجواقدارکےمطابق ہوافغانستان کی تعمیرمیں بین الاقوامی برادری تعاون کرے ایسی حکومت تشکیل دی جائےگی جو عوام کی خدمت کرےافغان عوام اب افغانستان میں مثبت تبدیلی دیکھیں گےہم نےافغانستان کاکنٹرول سنبھال چکے ہیں اورجنگ ختم کر چکے ہیں اب ہم سب مل کر ایک متحدہ افغانستان چاہتےہیں اب عہدکر چکے ہیں افغان سرزمین دوسروں کےخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے میڈیاکوعوام کی اقداریااسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہو گی۔ افغان سرزمین کو آزادکرانا ہمارابڑاہدف تھا جو پورا ہوا۔
    میڈیاآزادہےتمام ادارےاپنی سرگرمیاں جاری رکھیں ہماری تین تجاویزہیں،غیرجانبداری ہونی چاہیے نشریات اسلامی اقدارسےمتصادم نہیں ہونی چاہئیں قومی مفادات کےخلاف کوئی چیزنشرنہ کی جائےمعاشی ترقی کےحصول کوشش کی جائے گی انفرااسٹرکچرکی تعمیرکیلئےکام کیا جائے گا۔ روس چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ہم اپنی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہیں آنے والے دنوں میں افغانستان منشیات سےپاک ملک ہوگا حکومت کےقیام کےبعدہی افغانستان کےجھنڈےکافیصلہ ہوگا۔

    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • اللہ سے مضبوط تعلق دل کے سکون کا ذریعہ تحریر:تسمیہ یعقوب

    اللہ سے مضبوط تعلق دل کے سکون کا ذریعہ تحریر:تسمیہ یعقوب

    آج کے اس مصروف دور میں ہر انسان مختلف قسم کی پریشاینیوں اور بے خینیوں سے دو چار ہے۔ وہ زندگی کی اس دوڑ میں ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اتنے ساتھ لوگوں کو خوش رکھ سکے اور خود بھی ذہنی سکوں حاصل کرے۔۔۔۔۔۔
    لیکن افسوس انسان اس کوشش میں ناکام ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہی نہیں ہے کہ سکون کیا ہے اور وہ اسے کیسے حاصل کرے۔
    اس بے سکونی اور بے چینی کی وجہ سے وہ آئے دن مشکلات میں گھرتا ہی چلا جاتا ہے۔ اتنوں سے دوری اختیار کرلیتا ہے، اپنے دوستوں سے علیحدہ ہو جاتا ہے حتی کہ اپنے عستے بستے گھر کو اجاڑ بیٹھتا ہے۔۔ اور آہستہ آہستہ وہ خود کشی کی طرف جا پہنچتا ہے۔ اس کی زندگی کی کمائی اس کو ذرا برابر بھی سکون نہیں دے پاتے۔۔۔۔
    امام غزالی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ : "بندے کی اپنے رب سے دوری بندے کو بندے سے دور کر دیتی ہے۔
    لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سکون کس چیز میں ہے؟؟ جب اس دنیا کی آسائشیں سکون نہ دے سکی ۔۔ اس دنا کی کوئی رشتہ سکون نہ دے سکا تو آخر وہ کیا ہے جس سے سکون حاصل ہو۔۔۔۔ وہ کیا ہے جو زندگی میں مشکل سے مشکل حالات میں ڈگمگانے نہ دے؟؟
    وہ صرف اللہ کی طرف رجوع ہے۔۔۔۔ وہ اللہ سے ربط قائم کرنا ہے۔۔۔۔ وہ اللہ کی کتاب احکامات کو مضبوطی سے تھام لینا ہے۔۔
    پھر چاہے زندگی میں کوئی بھی حالات ہوں، زندگی کی ایسی مشکلات ہوں کہ جینا بھی دو بھر ہو تو جینا مشکل نہیں لگتا ۔۔۔ کیوں اللہ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ وہ اپنے نیک بندے کےلیے ہر مشکل راستہ آسان کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔۔
    اللہ سے تعلق استوار کرنا کیا ہے؟؟
    اللہ سے تعلق استوار کرنا یہ ہے کہ اس کے احکام ماننا، اس کا ہر ہر حکم بجا لانا، اس کی عبادت میں خود کو مصروف کر لینا، اپنے روز مرہ کے کاموں میں اللہ کی احکام کے خلاف نہ جانا، اور کیسی بھی پریشانی ہو، کیسی بھی مشکل ہو اس کو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے برداشت کرنا۔۔۔۔۔
    اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
    اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(28)
    "جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ، سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں "۔
    یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ یونہی اللّٰہ تعالیٰ کی یاد محبت ِ الٰہی اور قرب ِ الٰہی کا عظیم ذریعہ ہے اور یہ چیزیں بھی دلوں کے قرار کا سبب ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ بھی کہا جائے تو یقینا درست ہوگا کہ ذکرِ الٰہی کی طبعی تاثیر بھی دلوں کا قرار ہے ، اسی لئے پریشان حال آدمی جب پریشانی میں اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تواس کے دل کو قرار آنا شروع ہوجاتا ہے ،یونہی قرآن بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس کے دلائل دلوں سے شکوک و شبہات دور کرکے چین دیتے ہیں ، یونہی دعا بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس سے بھی حاجتمندوں کو سکون ملتا ہے اور اسمائے الٰہی اور عظمتِ الٰہی کا تذکرہ بھی ذِکْرُ اللّٰہ ہے اور اس سے بھی محبانِ خدا کے دلوں کو چین ملتا ہے۔
    اللہ رب العالمین نے قرآن کریم کے اندر سورہ زخرف میں فرمایا :
    "وَمَن یَعْشُ عَن ذِکْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَیِّضْ لَهُ شَیْطَانًا فَھُوَ لَهُ قَرِینٌ.
    ” اور جو کوئی رحمان کے ذکر سے منہ موڑتا ہے، اس پر ہم ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں، جو اس کا ساتھی بنا رہتا ہے۔ ( سورہ زخرف : 36)
    ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، اس کے احکامات پر عمل کریں، اس کے ذکر و اذکار سے اپنی زبان تر رکھیں، بندوں کے حقوق کی مکمل رعایت کریں، مشکل و پریشانی کے لمحات میں بھی خوش و خرم رہنا سیکھیں، غم و الم کی چادر اوڑھ کر بیماریوں کو دعوت نہ دیں، ورنہ تندرست و توانا ہونے کے باوجود بھی ہسپتالوں کے چکر کاٹیں گے، فراغت و خوش حالی کے باوجود بھی قلبی راحت و سکون سے محروم ہوکر ذہنی و نفسیاتی اذیتیں ہمارا جینا دوبھر کر دیں گی۔ اللہ ہمیں سکون کی دولت سے مالا مال کرے۔۔آمین!

    Twitter ID: @T7__G

  • واقعہ کربلا- ایک نظریاتی فتح کی داستان تحریر : حسن ساجد

    واقعہ کربلا- ایک نظریاتی فتح کی داستان تحریر : حسن ساجد

    ماہ محرم الحرام کو اسلام سمیت تمام مذاہب اور تاریخ عالم میں خاص فضیلت و احترام حاصل ہے۔ یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عربوں سمیت تمام اقوام عالم اس ماہ کی حرمت اور تقدیس و احترام کا خیال رکھتی تھیں۔ یوں تو محرم الحرام کا سارا مہینہ ہی تقدیس و احترام اور بڑی فضیلت والا ہے مگر یوم عاشورہ کو فضیلت و احترام میں باقی ایام پر امتیاز حاصل ہے۔ یوم عاشورہ کو ابدی اہمیت و فضیلت واقعہ کربلا کے بعد نصیب ہوئی جب سن 61 ہجری میں عاشورہ کے روز نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشہ بتول پسر حیدر کرار حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی مختصر سپاہ سمیت خاک کربلا پر اپنے مقدس و معطر لہو سے داستان عشق و وفا رقم کی۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے 72 جانثاروں کی شہادت تاریخ انسانی کا وہ نادر و نایاب واقعہ ہے جس سے کائنات میں موجود ہر شے متاثر ہوئی۔ انسان و حیوان، زمین و آسمان، شمس و قمر، بحر و بر، برگ و ثمر، کوہ و دمن، چرند پرند الغرض ہر ذی روح اور ہر مظہر قدرت پر اس عظیم واقعہ نے ان مٹ نقوش ثبت کیے۔ یہ واقعہ کربلا کے تاریخ عالم پر گہرے نقوش کا اثر پے کہ آج چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی امام عالی مقام، آپ کے اہل خانہ اور آپ کے اصحاب کا تذکرہ کرتے ہوئے ہماری آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔
    قربانی، ایفائے عہد، صبر و استقامت، بندگی، بردباری، سخاوت و فیاضی، عزم و استقلال، حق گوئی و شجاعت اور رضائے الہی پر راضی ہوجانے کا جو عملی مظاہرہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے کیا تاریخ انسانی اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
    سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ و علیہ السلام نے جس ثابت قدمی سے راہ حق پر کاربندی کا مظاہرہ کیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہو کر بھی تاریخ میں "زندہ باد” ہیں اور یزید آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا سر تن سے جدا کرکے بھی "مردہ باد” ہے۔
    اس صورت حال میں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے جانثاروں نے میدان کربلا میں راہ حق پر اپنی جانیں قربان کرکے بےمثل و لازوال نظریاتی فتح حاصل کی۔ میدان کربلا میں حضرت امام نے یہ ایسی شاندار اور لازوال فتح اپنے نام کی کہ جس کا سکہ آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بدستور رائج ہے۔ واقعہ کربلا اقوام عالم کو علی الاعلان یہ پیغام دے رہا ہے کہ ظلم و بربریت کا دور مختصر اور باطل نظریات کی جیت وقتی، ناپائدار اور زوال پذیر ہے جبکہ حق کی حکمرانی ابدی اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔
    واقعہ کربلا کا بغور مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یزید نے امام عالی مقام کو آپ کے خاندان اور اصحاب سمیت بے دردی سے شہید کرکے خود کو فاتح اور خلیفہ برحق ثابت کرنے کی جو مذموم کوشش کی وہ کسی صورت برگ و ثمر بار نہ ہوسکی۔ الٹا اس کی وہ وقتی جیت ہی اس کی ابدی شکست و رسوالی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی کیونکہ امام عالی مقام شہید ہو کر بھی لوگوں کے دلوں پر حق و صداقت کا عظیم منارہ بن کر راج کر رہے ہیں جبکہ یزید بظاہر جنگ جیت کر بھی ازلی ذلت و رسوائی اور نجاست کی علامت بن کر رہ گیا۔ یہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی تا ابد قائم رہنے والی نظریاتی فتح کا نتیجہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد حق و باطل کو حسینیت و یزیدیت کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے جہاں حسینیت کو حق و سچ اور صراط مستقیم کے معیار کے طور پر جانا جاتا ہے جبکہ یزیدیت کو ظلم، بغض، بزدلی اور باطل نظریات کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
    میرے نزدیک واقعہ کربلا ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو اپنے اندر نوع انسانی کے لیے ان گنت سبق آموز پیغامات چھپائے ہوئے ہیں۔ جن پر غور وفکر کی آج کے دور میں بے حد ضرورت ہے۔
    واقعہ کربلا سے منسلک سب سے اہم سبق میرے نزدیک یہ ہے کہ اللہ رب العزت امتحان اور آزمائش کے لیے ہمیشہ سے ہی اپنے متقی، برگزیدہ، محبوب اور مقرب بندوں کا انتخاب کرتا ہے جب کہ ظالم کی رسی عذاب الہی کا شکار ہوکر تباہ و برباد ہونے تک دراز ہے۔

    کلمہ حق ظالم و جابر حکمران کے سامنے بلند کرنا اور احکام خداوندی پر کسی صورت سمجھوتا نہ کرنا چاہے جان، مال، اولاد اور آبرو قربان ہو جائے. یہ واقعہ کربلا سے منسلک دوسرا بڑا سبق ہے اور یہی اصل حسینیت ہے کہ ہم اپنی زندگی میں حق پر قائم ہوجائیں اور ہم صراط مستقیم پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہیں چاہیے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی و علیہ السلام کی زندگی اور آپ کی شہادت ایک مکمل اور جامع فلسفہ حیات ہے۔ آپ نے اپنی زندگی اور شہادت کے ذریعے رضائے الہی، صبر و استقامت اور عزم و وفا کی لازوال مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ اللہ پاک ہمیں فلسفہ شہادت امام حسین کی اصل روح کو سمجھنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔
    اللہ رب العزت ہمیں غم امام حسین رضی اللہ تعالی و علیہ السلام کو زندگی میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ سیرت و تعلیمات حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی و علیہ السلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قلندر لاہوری مرشد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے اس شعر پر اختتام
    حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
    بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

    Twitter Handle: @DSI786

  • 15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز

    15 اگست 2021 ،اسلام کی فتح مبارک تحریر۔۔۔ امِ فائز

    طالبان پشتون کا لفظ ہے جس کے معنی طلبہ کے ہیں۔۔ ایمان و عزم کی یہ تاریخ بہت طویل یے۔۔
    امریکہ کے افغانستان قبضے سے پہلے یہاں روس نے 1978 میں قبضہ جمانے کی کوشش کی۔ جسکے نتیجے میں 1979 میں افغانیوں نے اسکے خلاف علان جہاد کیا ۔ اس جہاد میں پاکستان کی آئی ایس آئی ، فوج اور پاکستانی عوام بھی شامل ہوئے۔ یہ جنگ 1990 میں ختم ہوئی اور روس بہت سے ٹکروں میں تقسیم ہوگیا۔ مجاہدین نے اپنا ملک صلیبی تسلط سے آزاد کروا لیا ۔ بل آخر 1995 میں باقاعدہ *ملا محمد عمر* نے اسلامی شریعت کا نفاذ کیا اور افغانستان کے امیر مقرر ہوئے۔ 5 سال یہاں اسلامی قانون کے تحت ملک چلایا گیا۔ عوام خوشحال ہوئی ۔ برائی و بےحیائی سے افغانیوں نے چھٹکارا حاصل کیا۔عدل و انصاف نے معاشرے کو خوبصورت بنانا شروع کیا۔

    مگر امریکہ کو اپنی سپر پاور بننے کے راستے میں افغانستان کانٹے کی طرح چھبنے لگا۔۔۔۔۔ چونکہ اللہ کا نظام ہی وہ واحد نظام تھا جو طاغوت کیلئے خطرہ ہو سکتا تھا۔ جبکہ امریکہ اسرائیل نیو ورلڈ آڈر کی تیاری کر رہے تھے ۔

    افغانستان میں زبردستی گھسنے کیلئے انکو ایک جواز چاہیے تھا جو وہ دنیا کو پیش کر سکیں۔
    2001 میں امریکہ نے 9 ستمبر کا جعلی ڈرامہ رچایا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو دہشتگرد دکھا کر پوری یورپی یونین، انڈیا اور ترکی کو شامل کیا ۔ نیٹو کے نام پر کم و بیش 30 ممالک کی اتحادی فوجیں اکٹھی کرکے افغانستان میں زبردستی اتار دیں اور کہا کہ افغانستان میں دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد ہیں جن سے ساری دنیا کے امن کو اور خاص کر امریکہ کی سالمیت کو خطرہ ہے۔۔۔

    ملا عمر اپنے طالبان کیساتھ غاروں میں پناہ گزین ہوئے اور گوریلا جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
    پاکستان میں اس وقت مشرف دور تھا ۔ ریاستی پالیسی بدل گئی۔۔ پاکستان کے فضائی اڈے استعمال کرکے افغانستان پر ڈرون حملے کیے گئے۔ نیٹو کی سپلائی، اسلحہ پاکستان سے جاتا رہا۔
    20 سال کی ایک طویل اور عصاب شکن جنگ کے بعد بل آخر 15 اگست 2021 کو افغان طالبان مکمل طور پر افغانستان کو امریکی تسلط سے چھڑانے میں کامیاب ہوئے۔
    اس سے پہلے حال ہی میں پاکستان نے امریکہ کو اپنے فضائی اڈے مزید دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر امریکہ بات چیت پر آگیا کہ طالبان کیساتھ جنگ بندی کرکے مفاہمت کا راستہ نکالا جائے ۔ جس میں اقتدار امریکہ کی کٹ پتلی حکومت اشرف غنی کے ہاتھ رہے ۔ طالبان کی طرف سے ہمیشہ ایک شرط رکھی گئی کہ افغانستان میں جمہوریت نہیں شریعت نافذ ہوگی تو وہ جنگ بندی کریں گے ورنہ نہیں۔ اس پر طاغوت کبھی سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا۔ آخر کار دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی، جدید جنگی ساز و سامان اور پورے طاغوت کی اجتماعی طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی اور انتہائی زلت و رسوائی کے عالم میں وہاں سے فرار ہوئی۔ 20 سالہ طویل جدوجہد اور لاکھوں شہدا کی قربانیاں دے کر افغان مجاہدین اللہ رسول کی مدد سے کامیاب ہوئے ۔۔۔
    *واضح رھے کہ اس فتح کی پیشنگوٸی آج سے17سال قبل 2005 ٕسے پہلے کی گئی۔ جب شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کی زبانی یہ بات پتا چلی کہ ملا محمد عمر کو خواب میں سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ ملا محمد عمر کے مطابق سرکار دو عالم ﷺ کی جانب سے انہیں ایمان کیساتھ ڈٹے رہنے کی ہدایت فرمائی گئی۔*
    طالبان تعداد میں صرف 75 ہزار اور افغان آرمی ساڑے تین لاکھ ۔۔۔۔ مگر اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور کم تعداد والے کثیر تعداد والوں پر اپنے ایمان اور توکل کی بنا پر غالب آگئے۔

    یہاں ایک اور طرف توجہ دلانی درکار ہے۔ ملا عبدالغنی جو اس وقت افغانستان کے صدر بن چکے ہیں، ماضی میں پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بے وفائی کا شکار ہوئے۔ پرویز مشرف نے انکو گرفتار کرکے پاکستانی جیل میں ڈالا۔۔۔ آج دونوں کا انجام دنیا نے دیکھ لیا۔۔ طاغوت کی خاطر لڑنے والا زلت و رسوائی کی زندگی گزار رہا اور پاکستان کی زمین اس پر حرام ہوچکی یے۔ جبکہ دوسری طرح اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کی سربلندی کی خاطر صعوبتیں برداشت کرنے والا آج کس شان و شوکت کیساتھ اپنے ملک کا صدر بن گیا۔۔۔

    ہم موجودہ پاکستان حکومت کو بھی تنبیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی پر ناجائز ظلم و جبر کرنا بند کریں۔۔ اور شریعت ِ محمدی کے نفاذ کے عمل کو وطنِ پاکستان میں یقینی بنائیں۔ ورنہ حق تو آیا ہی غالب ہونے کیلئے ہے۔ اسکی راہ میں جو بھی حائل ہوا۔ مولا علی کرم اللہ وجہہ کے فرمان کے مطابق حق اسکی کمر خود توڑ کر رکھ دیتا یے۔
    *اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسہ*
    *ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارہ*
    *عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تیری*
    *مرے درویش ! خلافت ہے جہاں گیر تری*
    *ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری*
    *تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری*

    **
    *@2convincing*

  • معراج ِ دین حُسین علیہ السلام     تحریر : محمد شفیق

    معراج ِ دین حُسین علیہ السلام تحریر : محمد شفیق

    تمام تعریفیں اس ذات کے لیے جو وحدہٗ لاشریک ہے۔ جس کی ذات و صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ جو یکتا اور واحد ہے۔ جو اتنا خوبصورت ہے کہ کوئی آنکھ اس کی تجلی برداشت نہیں کر سکتی۔ سوائے اس کے جس آنکھ کو وہ چاہے۔
    اور کروڑوں بار درود و سلام ہو محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔
    ہمارے نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تک اسلامی تعلیمات پہنچانے کے لئے بہت ساری تکلیف برداشت کیں۔ ایسی تکالیف جن کو سہنا ایک عام انسان کے بس سے باہر ہے لیکن وہ تو رحمت اللعالمین اور خدا کے محبوب ہیں۔اور یہ زبان ان کی تعریف کرنے سے قاصر اور یہ قلم لکھنے سے معذور ہے۔

    جب لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لئے بہت ساری تکالیف برداشت کی ہیں بدلے میں آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں کچھ ایسا بولیں کہ ہم اس کا کچھ نہ کچھ بدلہ اتار سکیں۔ تب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی
    قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى
    کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت (اہل بیت)کی مودت (تو چاہیئے)

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مودت ہوتی کیا ہے۔۔۔؟
    کسی کی عظمت کے اعتراف کی بنا پر اس سے اخلاص اور پیار، محبت، پرخلوص دوستی، مخلصانہ اور بے غرض محبت مودت کہلاتا ہے
    اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہم کس حد تک ان سے مودت کا حق ادا کر رہے ہیں
    محرم حسینؑ سے منسوب نہیں ہے پورا اسلام ہی حسینؑ سے منسوب ہے لیکن چلو اس ایک مہینے میں ہی کچھ ان کی یاد سے دل کو آباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    محرم میں ہم امام حسینؑ کو کتنا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یہ میرا مجھ سمیت آپ سب سے سوال ہے
    جواب آئے گا بالکل بھی نہیں۔۔۔۔

    آپ کی روز مرہ زندگی میں کتنی تبدیلی آئی ہے ؟
    کیونکہ یہ دن خاص طور پر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہیں۔ یہاں یہ چیز بھی قابل ذکر ہے کہ ان کی یاد میں صرف آنسو ہی بہادو تو اس سے یہ حق ادا ہوتا ؟ بلکہ حسینؑ کے فلسفے کو سمجھنے کی ضرورت ہے حسینؑ کی فکر کو حسینؑ کی سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ جو کہ ہم کوشش بھی نہیں کرتے۔
    حسینؑ کا فلسفہ انقلاب کسی خاص منطقہ اور زمانہ کے لئے خاص نہیں ہیں بلکہ رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں کو یاد خدا پیغمبران خدا کے پاکیزہ مکتب اور فکری واصولی اقتدار کو زندہ کیا۔ حقیقت میں آپ ہرقرن کے روشن ضمیر لوگوں کے رہنما اور رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
    آپ کا منشور باطل خداؤں کی نفی اور ذات الہی کا اقرار ہے
    امام حسین کا ہر باضمیر اور حریت پسند انسان کی گردن پر حق ہے کہ آپ کے مشن کو زندہ وتابندہ رکھا جائے اور یہ ہم تب ہی کرسکیں گے جب تک امام حسینؑ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

    بقول علامہ اقبال
    کربلا کی ریت پر سویا ہوا ہے دیکھ لو
    مسجدوں میں ڈھونڈتے ہو کون سے اسلام کو

    اگر حسینؑ کو سمجھو گے تو تب ہی اپکی مسجد میں بھی اسلام ہو گا اپکی روح میں اپکی زندگی میں بھی اسلام ہوگا
    فرمان مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ
    ” میرا حسینؑ کشتی نجات ہے۔۔۔! نوح کے سفینے کی مانند ہے چراغِ مصباح و ہدایت ہے

    ایک اور جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حسینؑ کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے خدا کو تکلیف دی۔ اور حسینؑ کو بھلا کے ہم رسولؐ کو تکلیف ہی تو دے رہے ہیں۔۔۔۔

    کبھی رسولؐ کے کاندھے پر کبھی نوک سناں پر
    حسینؑ آپ کو جب بھی دیکھا سربلند دیکھا

    حسین کو ماننے کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں بلکہ انسان ہونا ضروری ہے حسین محسن انسانیت ہیں۔ جس نے اپنا سب کچھ لٹا کر صرف اسلام نہیں بلکہ انسانیت بچائی۔ ایک غیرت مند قوم کبھی اپنے محسن کو نہیں بھولتی۔

    ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے حسینؑ کے فلسفہ حیات کو کس حد تک یاد رکھا ہوا۔

    یہ دن نواسہ رسولؐ سے خاص طور پر منسوب ہیں اسلیے شیعہ سنی سے بالاتر ہوکر سوچیے
    اگر رسولؑ سے محبت ہے تو پھر حسین سے محبت کیوں نہیں حسینؑ کی یاد سے یہ دل غافل کیوں ہیں۔ اتنا یاد رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں میرے بیٹے حسنؑ اور حسینؑ جنت کے سردار ہیں اگر تمہارے دل میں ان کی محبت موجود نہیں ہے تو کس منہ سے جنت کی خواہش رکھتے ہو۔
    کیونکہ کسی بھی علاقے کا جو سردار ہوتا ہے اس کی اجازت کے بغیر اس علاقے میں داخل نہیں ہوا جاسکتا تو سردار کو جانے بغیر اس کے علاقے کی حدود میں کیسے داخل ہو سکو گے۔ یہ سرداری کائنات رسول نےانکو سونپ دی ہے۔ تو ان کو راضی کیے بغیر ہم جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتے۔ جنت میں جانا تو دور کی بات ہے

    حسین کے ذکر سے روح کو سرور ملتا ہے
    اس نام کو لکھنے سے قلم کو غرور ملتا ہے
    اس کی تعریف میں کیا لکھوں گی شاہی
    جس کو سوچنے سے ہی کوہ طور ملتا ہے

    بحثیت ایک باشعور انسان اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اس مہینے میں فرقہ واریت پر اکسانے والے تمام لوگوں کی مذمت کی جائے۔ فرقہ واریت کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی کوئی یہ اچھا اخلاقی عمل ہے ۔اہل بیت ہوں یا صحابہ اکرام سب ہی واجب الاحترام ہیں
    ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں اور دینی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کریں

    @Ik_fan01