Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کرکٹ اور ناکام بھارت  تحریر : احسن وقار خان

    کرکٹ اور ناکام بھارت تحریر : احسن وقار خان

    کرکٹ جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے لیکن بھارت جو اس وقت آر ایس ایس کی آڈیالوجی کے تحت ہٹلر مودی کے قبضے میں ہے اس کھیل کو بھی اپنے ناپاک عزائم سے بگاڑنا چاہتا ہے ۔
    کشمیر میں سجے اس کرکٹ کے میلے کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا اس بھارت نے ۔کھلاڑیوں کو دھمکیاں دیں ۔آئی سی سی کو دھمکیاں اور بھی بہت کچھ لیکن ایک دفعہ پھر اس کو منہ کی کھانا پڑی ۔اج کرکٹ جیت گئی،عوام جیت گئی مودی ہار گیا ۔

    بھارت ناکام ہو گیا ۔ کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں کرکٹ کا میلہ سج گیا ۔
    کشمیر پریمیئر لیگ پر بھارتیوں کی چیخیں پاکستان کی فتح کا ثبوت ہیں ۔۔۔ ۔۔

    کشمیر لیگ منقعد کرانے پر گورنمنٹ کو پورا کریڈٹ دینا چاہیے۔۔۔مجھے معلوم ہے میرے کچھ ہم وطن کہیں گے کہ گورنمنٹ نے کشمیر بیچ دیا,اس لیگ سے کیا ہو گا۔۔
    جو شور بھارت میں مچا ہوا وہ بتا رہا کیا ہو گا ۔
    ایونٹ کو ختم کرانے کیلیے بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، غیرملکی پلیئرز کو شرکت سے روکنے کی سرتوڑ کوشش ہوئی، اس مقصد کیلیے متعلقہ بورڈز پر دباؤ بھی ڈالا گیا،

    ایونٹ کو رکوانے کیلیے آئی سی سی کا دروازہ تک کھٹکھٹایا گیا، تاہم وہاں پر بھی اسے منہ کی کھانا پڑی، بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کا پہلا میچ منعقد ہونے کو تیار ہے۔

    جس طرح ہمیشہ بھارت کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس دفعہ بھی یہی حال ہوا اور رہتی دنیا تک یہی حال رہے گا ۔۔ انشا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • مظلوم کشمیری، لاک ڈائون اور کورونا .تحریر: محمد مستنصر

    مظلوم کشمیری، لاک ڈائون اور کورونا .تحریر: محمد مستنصر

    یوں تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر ہندو تسلط اور جبر کا آغاز 1925 سے ہی ہوگیا تھا جب 77 فیصد مسلم اکثریتی آبادی والے علاقے پر ہندو راجہ کو بطور حکمران مسلط کر دیا گیا تھا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی سراپا احتجاج کشمیری مسلمانوں کی طرف سے آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا جس کو دبانے کے لئے 1930 سے لیکر آج تک ہندوئوں کی طرف سے نہتے اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم وستم کا ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرادادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کے ساتھ گذشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیری مسلمانوں کے لئے ہر دن مشکل ترین ثابت ہوا۔ بھارتی قابض فورسز کی طرف سے عورتوں کے ساتھ ذیادتی، کشمیری نوجوانوں کا قتل عام، پیلٹ گن کے ظالمانہ استعمال سے بچوں کو نابینا کیا جانا اور بوڑھوں کی بے حرمتی تو معمول کی بات تھی ہی تاہم گذشتہ دو سالوں کے دوران جس طرح مودی سرکار نے کشمیری مسلمانوں کو اذیت اور دکھ درد میں مبتلا کررکھا ہے اسکی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ دنیا کے مہذب معاشرے تو اپنی حکومتوں کی طرف سے کورونا وائرس کے پیش نظر 2020 کے اوائل میں لاک ڈائون کا شکار ہوئے تاہم کشمیری مسلمان جہاں ایک طرف اگست 2019 سے مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش، ہسپتالوں کی بندش، انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں سمیت لاک ڈائون کا شکار تھے تو وہیں کورونا وبا کے پیش نظر لگائے جانیوالے لاک ڈائون کی وجہ سے مظلوم کشمیری دوہری پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی پہلے ہی کمی تھی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 3 ہزار 8 سو 66 شہریوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر تعینات تھا جبکہ دوسری طرف مودی سرکار کی طرف سے کشمیریوں کی زندگی مشکل بنانے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لئے 14 لوگوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات کیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 18 مارچ 2020 کو سامنے آیا جب ایک خاتون میں مہلک وائرس کی موجودگی پائی گئی جس کے بعد سے اب تک کورونا وائرس کے 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد کیس سامنے آچکے ہیں جبکہ 43 سو سے زائد اموات بھی ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ ذرائع آمدورفت اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث جہاں عام شہریوں، ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کورونا وبا سے بچائو کے حوالے سے تازہ ترین معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہا۔ کورونا وبا کے دوران جہاں دنیا کے باقی ممالک میں صحت کے حوالے سے جدید ترین سہولیات کی فراہمی پر کام کی رفتار کو تیز تر کر دیا گیا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات ہی نہ ہونے کے برابر تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 27 ہزار مریضوں کے لئے اوسطا ایک انتہائی نگہداشت کا بیڈ فراہم تھا جبکہ مقبوضہ وادی کے صرف ایک ضلع میں چار لاکھ مریضوں کے لئے 6 وینٹی لیٹرز فراہم کئے گئے تاہم طبی عملہ تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ وینٹی لیٹرز بھی استعمال میں نہ لائے جا سکے۔ کورونا وائرس کے پیش نظر جب بھارت میں صورتحال تشویش ناک ہوئی تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو آکسیجن گیس کی فراہمی معطل کر دی گئی جس کا خمیازہ مظلوم کشمیریوں کو ہی بھگتنا پڑا۔ کورونا وائرس نے پہلے سے تباہ حال مقبوضہ وادی کی معیشت کو بھی بری طرح متاثر کیا،

    لاک ڈائون، کرفیو، ذرائع آمدو رفت کی بندش کے باعث مقبوضہ وادی میں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہی جس کا براہ راست منفی اثر عام کشمیریوں کی معاشی حالت پر پڑا۔ اعداد وشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2020 صرف 525 سیاحوں نے مقبوضہ وادی کا رخ کیا جبکہ اگست اور ستمبر 2019 میں 14 ہزار 6 سو سیاح جنت نظیر وادی پہنچے یاد رہے کہ یہ تعداد سال 2018 کے مقابلے میں 90 فیصد کم ہے۔ کورونا وبا کے دوران جہاں باقی دنیا میں بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے آنلائن کلاسز کا سلسلہ شروع ہوا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش اور مخصوص علاقوں میں صرف 2G انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے باعث جہاں آنلائن کلاسز کی صورت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری نہیں رہ سکیں وہیں "ورک فرام ہوم” کی سہولت سے بھی عام کشمیری محروم رہے۔ مظلوم کشمیریوں کے لئے کورونا لاک ڈائون کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ آزادی کے متوالے کشمیری مسلمان گذشتہ سات دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر سہہ رہے ہیں تاہم ہر کشمیری نوجوان، بوڑھے، بچے اور خاتون کا حوصلہ ماند نہیں پڑا۔ کشمیری مسلمان آج بھی پر امید ہیں کہ کل کا سورج آزادی کی نوید لیکر طلوع ہو گا اور انہیں بھارتی تسلط سے جلد نجات ملے گی۔

    @MustansarPK

  • تھوڑی سی برداشت   تحریر : شاہ زیب

    تھوڑی سی برداشت تحریر : شاہ زیب

    زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے ہم محنت کرتے ہیں، کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مقام حاصل کرلیتے ہیں۔
    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زندگی میں ایک اور چیز بھی بڑی اہم ہے جسے ہم تقریباً فراموش کر چکے ہیں۔
    بات ہو رہی ہے برداشت کی
    جی ہاں وہ ہی برداشت جو بطور معاشرہ
    بطور قوم
    بطور مسلمان
    ہم کہیں کھو چکے ہیں۔ آج کل ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر مقابلہ بازی میں مصروف ہے۔
    کسی نے ایک لفظ بھی ناپسندیدہ کہہ دیا تو ہم پر جیسے فرض ہو گیا اس کو بڑھ کر جواب دینا۔
    اگر کوئی ہمارے کسی کام یا بات پر تنقید کر دے تو ہم ایک منٹ رک کر یہ نہیں غور کرتے کہ واقعی اس نے یہ بات ٹھیک کی یا نہیں، ہمارے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟
    ہم فوراً سے غصہ کر کے اس بات کا دگنا جواب دیتے ہیں۔ کیا ہو اگر ہم اس کی بات سن کر، اس پر غور کر کے خود کو بہتر کر لیں۔
    ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اس کو دکھاوا کہا جائے گا ( کیا آپ لوگ اس انسان کی نیت کو ﷲ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں؟)
    اگر کوئی خوش ہے تو لوگ اس کو دیکھ کر بجائے خوش ہونے کے اس پر تنقید کریں گے۔
    کیا آپ اس کی خوشی میں خوش نہیں ہوسکتے؟
    چلیں اگر آپ ایسا نہیں بھی کرسکتے تو کم از کم اس کی خوشی برداشت کر لیں اور اس کو اپنے زہر سے غارت نہ کریں۔
    کسی کی خوشی میں، یا کسی کے غم میں اس کا ساتھ دینا یا پھر آپ کو یہ ناگوار گزرے تو برداشت سے کام لینا۔
    اس سے نہ صرف آپ کی زندگی میں سکون آۓ گا بلکہ معاشرے میں بھی تبدیلی آۓ گی۔
    جب آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت کرنا شروع کر دیں گے تو ایک بہترین انسان بن کر سامنے آئیں گے۔
    اس کے سب سے پہلے آپ پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، پھر آپ کے ارد گرد رہنے والوں لوگوں پر۔
    جب وہ لوگ آپ کے اچھے رویے سے متاثر ہوں گے تو وہ بھی آپ جیسا بننے کی کوشش کریں گے۔
    اور اس طرح آہستہ آہستہ ہم بطور معاشرہ ایک مہذب معاشرہ بنیں گے۔ جس میں برداشت ہو گی۔
    جو چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑک کر بڑی بڑی لڑائیاں نہیں کریں گے۔
    اور جب ہم ان چھوٹی باتوں سے آگے بڑھیں گے تو یقیناً ایک کامیاب قوم بنیں گے جو تبھی ممکن ہے جب ہم تھوڑی سی برداشت سے کام لینا شروع کریں گے۔

    ‎@shahzeb___

  • پاکستان! سستا یا مہنگا؟  تحریر: احسان الحق

    پاکستان! سستا یا مہنگا؟ تحریر: احسان الحق

    کچھ دن پہلے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سستا ملک ہے مگر اعدادوشمار کچھ اور بتاتے ہیں. جناب وزیراعظم کے دعوے اور اعدادوشمار میں کافی تضاد ہے. موجودہ حکومت پر عوام اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سب سے زیادہ مہنگائی کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے. حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے. بلکہ آئے روز حکومتی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے. گھی فی کلو کی قیمت 155 سے 310 سے 320 روپے ہو چکی ہے.

    پاکستان میں ہمیشہ اشیاء کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں. ابھی یہ تحریر لکھتے وقت نیوز چینل کے ٹکر پر میری نظر پڑی کہ گھریلو استعمال کے گیس سیلنڈر کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ہے. شاید کبھی کسی چیز کی قیمت گری ہو. خصوصاً اشیائے خوردونوش کے نرخ ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں. ایک عام پاکستانی کے لئے اشیائے خوردونوش کی خریداری ایک چیلنج سے کم نہیں. ملک میں اگر پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو تمام بکنے والی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں جن کا دور دور تک پیٹرول سے کوئی تعلق نہیں ہوتا. اگر ڈالر کی قیمت بڑھ جائے تو بھی تمام اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں. پیٹرول اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے سبزیوں، دودھ، ادویات اور تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا کیا تعلق؟

    عالمی بینک کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے. غربت 4.4 فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد ہو گئی ہے. اس سلسلے میں دو ڈالرز یومیہ سے کم قوت خرید کو پیمانہ بنایا گیا ہے. پاکستان میں تقریبا 20 لاکھ سے زائد افراد انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں. پاکستان میں غربت کا تناسب 39.3 فیصد ہے. متوسط طبقے سے نچلے طبقے کی یومیہ آمدنی 3.2 ڈالر ہے. متوسط طبقے کی آمدنی 5.5 ڈالرز یومیہ ہے. یہ تو ہو گئی عالمی بینک کے اعدادوشمار کی بات، اب حکومت کے اپنے اعدادوشمار بھی دیکھ لیں. حکومت کے اپنے سرکاری ادارے کی جانب سے کیے گئے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈ سروے کے مطابق انتہائی کسمپرسی کے شکار گھروں کی تعداد 7.24 فیصد سے بڑھ کر 11.94 فیصد ہو گئی ہے. غذائی قلت کا شکار آبادی کی شرح 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے. معاشی صورتحال میں بہتری والے گھرانوں کی شرح 16.48 فیصد سے کم ہو کر12.7 فیصد تک آ گئی ہے.

    مہنگائی کے علاوہ ٹیکسوں کے ذریعے بھی عوام پر بوجھ اور دباؤ بڑھایا جا رہا ہے. سرکاری آمدنی کا بڑا ذریعہ بل واسطہ محصولات ہیں جس کے اثرات امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر بہت زیادہ پڑ رہے ہیں. رواں مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں 62.5 فیصد ٹیکس وصولی کسٹمز اور فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس سے حاصل کی جائے گی، جبکہ بقیہ 37.5 فیصد براہ راست محصولات سے وصول کیے جائیں گے. بجٹ دستاویزات کے مطابق پچھلے مالی سال میں بل واسطہ محصولات تقریباً 2.50 فیصد کم تھا.

    سرکاری محصولات کی مد میں آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ پٹرولیم لیوی ہے جو کہ غریب اور دیہاڑی دار طبقے پر سراسر زیادتی ہے. ایک طرف 5 کروڑ روپے والی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے والا اور دوسری طرف موٹر سائیکل میں ایک لیٹر پیٹرول ڈلوانے والا دیہاڑی دار بندہ برابر کا ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں. پیٹرولیم لیوی کا غریبوں پر فوری اور براہ راست اثر پڑتا ہے. پیٹرولیم لیوی میں بھی موجودہ حکومت ہر سال اضافہ کر رہی ہے. 2019-20ء میں 260 ارب روپے سے 73 فیصد اضافہ کر کے اس مد میں 450 ارب روپے حاصل کئے گئے تھے جبکہ موجودہ سال اس میں مزید 160 ارب روپے کا اضافہ کر کے 610 ارب روپے ٹیکس وصولی کا اندازہ لگایا گیا ہے.

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بہتر معیار زندگی گزارنے والے ملکوں میں پاکستان کا نمبر 154واں ہے. یو این ڈی پی کی اپریل 2021ء میں آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طاقتور لوگ قانون میں موجود خامیوں کو اپنے فوائد کے لیے استعمال کرتے ہیں. اقوام متحدہ کے تجزیئے کے مطابق پاکستان میں صرف مالی اور معاشی حوالے سے طاقتور لوگ مستفید نہیں ہو رہے بلکہ امیر اور طاقتور کی دنیا اور ہے اور عام پاکستانی اور کمزور کی دنیا اور ہے. طاقتور لوگ کمزور لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں.

    @mian_ihsaan

  • لا زوال قربانیوں کی داستان حصہ دوم  تحریر  : راجہ ارشد

    لا زوال قربانیوں کی داستان حصہ دوم تحریر : راجہ ارشد

    ۔
    ہزاروں پھول سے چہرے جھلس کے خاک ہوئے
    بھری بہار میں اس طرح اپنا باغ جلا
    ملی نہیں ہے ہمیں ارض پاک تحفے میں
    جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا

    جدوجہد آزادی کی قربانیوں کا سلسلی یہیں ختم نہی ہوجاتا بلکہ یہاں سے بھارتی سفاکیت کی اس داستان کا آغاز ہوتا ہے جہاں پہ انسانیت بھی شرمسار ہے ۔ جب پاکستان بنا تو مسلمانوں نے ہجرت کرنی شروع کی تو نہتے مسلمانوں کو گاجر ، مولی کی طرح کاٹا گیا ، ماوں ، بہنوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا ،بزرگوں نے کانپتے ہاتھوں سے جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھائیں ،ماؤں نے دودھ کیلیے بلکتے شیر خواروں کے گلے اپنے ہاتھوں سے گھونٹے دیئے تاکہ ان کی آواز سے ہمارے دوسرے مسافروں کی جان خطرہ نہ ہو بہنوں ،بیٹیوں نے عزتوں کی پامالی کے ڈر سے کنویں میں چھلانگیں لگا کر اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کیا۔

    مال و دودلت ، زر ، زیور ،گھر بار عزتیں لٹائیں قافلوں نے جب سرزمیں پاکستان پر پہ پہنچے تو عجب منظر تھا ،آنکھوں سے اشک رواں تھے ،وطن کی مٹی کو چومتے جاتے اور ایک ہی بات کہتے جاتے

    پاکستان کا مطلب کیا ،لاالہ اللہ

    آج پاکستان کو بنے 74 سال بیت گئے لیکن قربانیوں کی یہ لا زوال داستاں آج بھی تازہ ہے اور ہر زبان پر ہے اس تحریر میں یہاں تک پہنچتے میرا قلم کئ بار رکا ،میرے اشک ہیں کہ روکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ میں بارہا یہ سوچنے پہ مجبور ہوا کہ کیا ہم اس آزادی کا حق نبھا رہے ہیں ؟
    کیا جس مقصد کے لیے یہ مملکت خداد حاصل کیا گیا ہم اس مقصد میں عمل کر رہے ہیں؟

    ہم آج آزادی مبارک تو کہتے ہیں لیکن شاید اس کے مفہوم کو نہیں پہچانتے ،ہم گاڑیوں پہ پاکستانی جھنڈا تو لگاتے ہیں لیکن اسی گاڈی میں گانا انڈیا کا سون رہے ہوتے ہیں . ہمارے لیے پاکستان کی بنی چیزیں گھٹیاں اور غیر میعاری کیوں ہیں ؟
    وہ بھارت جس نے ہمارے نہتے مسلمانوں کو قتل کیا ہمارے کچھ حکمران انہیں سے دوستانے نبھاتے نظر آتے ہیں ۔
    ہمیں یہ سمجھنے کی اشاعت ضرورت ہے کہ پاکستان صرف زمیں کا اک ٹکڑا نہیں اک نام نہیں بلکہ پاکستان دو قومی نظریہ کی سر خروئ کا نام ہے ۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان تو اک گوشہ عافیت کا نام ہے
    پاکستان کاہر زرہ اسلامی روائتوں کا آمین ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جسکا عشق ہمارے لہوں میں شامل ہے۔

    وطن سے محبت تو ایمان ہوتی ہے یہ ملک ہمارے آباو اجداد کی وفائ کا صلہ ہے ۔اسے ہم نے ہی سنوارنا ہے
    اس کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ملجل کر کام کرنا ہے۔جب ہم ملکر صدق دل سے کوشش کریں گے تو پھر بنے گا ایک خوشحال پاکستان۔

    آخر میں علامہ محمد اقبال کا یہ شعر بڑا یاد آ رہا ہے۔کہ

    یہاں جو پھول کھِلے، وہ کھِلا رہے صدیوں
    یہاں خِزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    خدا کرے کہ مرے اِک بھی ہم وطن کے لئے
    حیات جُرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو​

    @RajaArshad56

  • شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    یہ سوال ہر سمجھدار شخص کے گمان کو متاثر کرتا ہو گا. احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رب العالمین کے قرآن سے جو اسباق اور رمضان کی برکتیں اور انعامات کا جہاں زکر کیا گیا وہیں یہ انعام بھی دیا گیا کہ انسان کو برائی میں مبتلا کرنے والا اس کا سب سے بڑا دشمن جو کہ شیطان ہے کو رمضان جکڑ دیا جاتا ہے اس کے باوجود انسان گناہ سے کیوں بچ نہیں پاتا؟
    دراصل وجہ یہ ہے کہ جب انسان طلب جنون کے درجے کو عبور کرتے اور بڑھتے بڑھتے ہوس کے درجے پر پہنچ جاتی ہے تو اس کی نظر میں حال و حرام کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اور یہ کام انسان کے اندر موجود اسکا نفس کرتا ہے وہ شیطان کی ہدایات پر عمل کر کے اس کام کو بخوبی انجام دیتا ہے
    طریقہ واردات یہ ہے کہ جب
    انسان کسی چیز کو حاصل کرنے کی طلب رکھتا ہے اور وہ طلب کی حد اور طلب کے درجے تک رہتی ہے تب تک معاملات ٹھیک رہتے ہیں۔ پھر شیطان اپنا کام دکھاتا ہے اور انسان کے نفس کو بہکاتا ہے جس سے اس کی سوچ میں حسد کی فضا قائم ہونے لگتی ہے اور وہ اس کی طلب کی اس حد کو نیا رنگ دینے لگتی ہے۔ بربادی کا سفر تب شروع ہو جاتا ہے اور انسان اچھائی کا راستہ بھولنے لگتا ہے اور طلب کے ہر ممکن حصول کے لیے شیطانی سمجھاے گئے راستوں سے اپنےحسد کی آگ بجھانے میں لگ جاتا ہے اور طلب کی تکمیل کے لئے ہر اچھا برا عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ جب حسد کی آگ مزید عروج پکڑتی ہے تو نفس اسی طلب کو ہوس میں بدل دیتا ہے اور اسطرح انسان الله کی رحمت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اور شیطان کی مسلسل دی جانے والی وسوسوں پر عمل کرتے کرتے جھوٹ، دھوکہ دہی، حق تلفی، ظلم، زیادتی، ملاوٹ جیسی بے پناہ لعنتوں کو اپناتے ہوئے خون ریزی تک کرنے سے گریز نہیں کرتا. اس وجہ سے رمضان میں شیطان تو جکڑا ہوتا ہے لیکن انسان کے اندر موجود شیطان کا تربیت کردہ نفس انسان کے اندر رہتے ہوئے شیطان کے بتائے ہوئے طریقوں وسوسوں اور تدبیروں پر عمل احسن طریقے سے جاری رکھتا ہے۔ زرہ سوچئے غلطی کس جگہ ہوئی؟ انسان اللہ کہ رحمت سے دور کب اور کیسے ہو گیا؟
    جب شیطان نے انسان کی جائز خواہش اور ضرورت کی طلب میں اضافہ کیا۔ نتیجتاً اب شیطان کی غیر موجودگی میں بھی انسان گناہ میں مبتلا ہے۔ شیطان انسان کی طلب بڑھاتے بڑھاتے اسے ہوس کے درجے تک لے آیا اور انسان نے اپنے نفس کو شیطان کے رحم کرم پر چھوڑے رکھا. خدارا شیطان کی پہلی چال کو سمجھیں اور اسے ناکام بنائیں اپنے نفس کو شیطان کے چنگل میں پھنسنے سے بچائیں.
    اس کے بہت سے طریقے اور بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں جن میں الله کی راہ میں خرچ کرنا اول درجہ کی نیکیوں میں سے نیکی ہے۔ جب انسان اپنی طلب پر کسی کی ضرورت کو فوقیت دیتا ہے تو انسان کی طلب میں کمی آتی ہے اور سخاوت کا پہلو عروج پر آتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو انسان کو بخیل اور کنجوس ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ دولت طاقت شہرت اور ہوس جیسے نشے کو حاوی ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ اور یہ اعمال الله کریم کے پسندیدہ کاموں میں سے ہیں۔ اللہ کی زات بہت کریم ہے اور اپنی مخلوق کے ساتھ احساس والا معاملہ کرنے والے کو پسند فرماتا ہے۔ دوسروں کے احساس کرنے والا یہ عمل شیطان اور نفس کے خلاف بھرپور جہاد کا کام کرتا ہے۔ جس سے انسان اللہ کی رحمت کے حصار میں رہتا ہے۔
    خدارا شیطانی کاموں اور تدبیروں سے اجتناب کریں اپنی طلب کو ہوس بننے سے بچائیں یہی کامیابی کی کنجی ہے

    @EngrMuddsairH

  • حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    **

    عورت رب العزت کی سب سے پیاری مخلوق ہے اور ایک مومن عورت تو بالکل انمول موتی کی مانند ہے۔ اس میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت سی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اسلام نے عورت کو اگر پردے کا حکم دیا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے جیسے ہم اپنی سب سے خوبصورت چیز کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی اور اسے دیکھ نا سکے اور وہ ہمیشہ محفوظ رہے تو ٹھیک اسی طرح عورت کو بھی اللّٰہ نے پردے کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔

    ایسے ہی مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو انمول سمجھتے ہوئے اللّٰہ کے ہر حکم کی تعمیل کرے اور اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرے۔

    اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام سے قبل عورت ذات کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں پیدا ہوتی تو باعثِ ذلت اور باعثِ شرمندگی سمجھ کر انھیں زندہ درگور کردیا جاتا۔ انھیں گھروں سے باہر نکلیں تک کی آزادی نا تھی۔ یہاں تک کہ عورت ذات کی عصمت تک محفوظ نہیں تھی۔

    پھر ایسے میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہوئی جو پوری کائنات کے لیے رحمت العالمین بن کر آئے۔ آپ کی آمد سے عورتوں کو ان کے حقوق ملے۔ یہ اللہ کا دین ہی تو ہے جس نے عورت کو ہر روپ میں الگ مقام اور حیثیت دی ہے۔

    اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر کی وفادار ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے”۔ عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ فرمایا گیا: "جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سیکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے”.

    بےشک اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا اور اسے عورت ہونے کا اصل مقام اور عزت بخشی۔ اللّٰہ پاک نے قرآن پاک میں عورتوں کے وہ تمام حقوق بیان کیے ہیں جو کسی بھی اور مذہب میں نہیں ملتے اور نہ ہی ان مذاہب کی کسی کتاب میں ملتے ہیں۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن پاک میں بھی مردوں کی نسبت عورتوں کا ذکر زیادہ بار آیا ہے۔

    اسی طرح اسلام نے عورت کو بےشمار حقوق سے بھی نوازا ہے۔ شوہر کے انتخاب سے لے کر آزادی رائے تک کے تمام حقوق عورت کو حاصل ہیں وہ جب چاہے اپنے ان تمام حقوق کو استعمال کرسکتی ہے۔ جہاں اسلام نے اتنے حقوق دیے ہیں وہاں عورتوں کے لیے کچھ حدیں بھی مقرر کی ہیں جس کا مقصد صرف عورت کی حفاظت ہے۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سے قبل کسی عورت کو ایسے کوئی حقوق حاصل نہیں تھے یا یوں کہوں کے حقوق جیسے لفظ تک سے کوئی بھی عورت واقف نہیں تھی کیونکہ اس وقت یہ لفظ ان کے لیے شاید بنا ہی نہیں تھا۔ مگر اسلام نے عورت کو یہ تمام حقوق دیے۔ لیکن افسوس سے یہ بات کہنی پڑے گی کہ ان تمام حقوق کے بعد بھی آج کے دور میں مسلمان عورت پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف چل پڑی ہے۔ وہ اپنا وہ مقام جو اسلام نے اسے دیا ہے اپنے ہاتھوں سے خود ہی ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہے اور مغربی ممالک کی پیروی کررہی ہے۔

    آج کے دور میں جب کچھ عورتیں آزادی کے نام پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی ہیں تو بہت افسوس ہوتا۔ بھئ کون سا جسم؟ کون سی مرضی؟ یہ جسم بھی تو اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو کچھ بھی ممکن نہیں۔ اگر اس ذات کی مرضی نہ ہوتو ہم اپنے جسم کے کسی ایک حصّے کو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں سکتے۔ ایسی عورتوں کو جو خود عورت ذات کو تماشا بنا رہی ہیں پکڑ کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللّٰہ کی بنائ ہوئ حدیں صرف ہماری حفاظت کے لیے ہیں اگر اللّٰہ نے مرد کو ایک درجہ بلند دیا ہے تو اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے اور عورت کو چاہیے کہ مردوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ چلیں۔ تاکہ ایک پرامن معاشرہ وجود میں آئے۔

    @SeharSulehri

  • وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ تحریر چوہدری عطا محمد

    جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے تمام لیڈران اور ان کی پارٹی کسی کے منشور میں بھی ریاست مدینہ کا زکر نہیں کیا گیا پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور اسلامی جہموریہ پاکستان کے وزیز اعظم جناب عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ اپنے ہر خطاب انٹرویو میں ہر جگہ ریاست مدینہ کی بات کرتے نظر آتے ہیں ریاست مدینہ ہے کیا ہمارے آقا دوجہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخِ انسانیت کی 23سالہ قلیل ترین مدت میں جو عظیم الشان انقلاب برپا کیا وہ اپنی نوعیت ، کیفیت، جدوجہد اور نتائج کے اعتبار سے اتنا حیران کن ہے کہ اس کی نظیر اقوام عالم میں کہیں موجود نہیں ہے۔ جب ہم ریاست مدینہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ معاشرہ جس میں خدا ترسی، ہمدردی، اخوت، مساوات، بھائی چارہ آخرت پر ایمان کی جواب دہی، نیکی اور خیرخواہی کا جزبہ پیدا ہو جائیں۔ ظالم اور جابر حکام کی بجائے خدا ترس اور نیک سچا ایماندار محب وطن اور اپنے لوگوں سے پیار کرنے والا حاکم میسر آجائے اور جانب غریب کے لئے ایک قانون اور غریب کے لئے علیحدہ قانون نہ ہو بلکہ انسانیت کے لئے انصاف پر مبنی غیر جانب دار قوانین کا رائج ہو تو پھر اسی راستہ پر چلنے کو حقیقی طور پر ریاست مدینہ کے نقشہ قدم پر چلنا کہا جا سکتا ہے جہاں تک ہمارے معاشرہ کی بات کی جاۓ تو زرا ہمیں خود کا بھی جائزہ لینا ہوگا
    ہمارے کچھ لوگ ریاست مدینہ کی بات پر وزیز اعظم پر تنز کے نشتر بھی برساتے ہیں اگر ہم بحیثیت قوم اپنی بات کریں تو رشوت ،ملاوٹ ،ظلم وجبر ،زنا ،بے حیائی جھوٹ اور منافقت ،ناپ تول میں کمی ،والدین سے گستاخی کے عوامل ہم سب میں عام پاۓ جاتے ہیں لیکن وزیز اعظم سے ہم ریاست مدینہ کی امید لگاۓ بیٹھے ہیں کیا ہمارے یہ جو عمال اوپر بتاۓ ہیں جن کو ہم سر عام کرتے نظر آتے ہیں اپنے ان عوامل کے ساتھ چپکے کریں اور خود کو نہ بدلیں تو کسی بھی حکمران کی موجودگی اور ریاستی قوانین کی موجودگی میں ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ۔۔؟تو اسکا جواب ہے بلکل بھی نہیں ریاست مدینہ کے لئے جہاں حکمران کی سوچ ریاست مدینہ والی ہونی چاہئے وہاں پر ہمیں ایک قوم کی حثیت سے بھی خوداپنی سوچ اور اپنے عمل بدلنے ہوں ہماری سوچ ریاست مدینہ کے لئے کیسی ہونی چائیے وہ ان شاءاللہ نیکسٹ پارٹ میں اس کا زکر کریں گے
    اللہ پاک ہم سب کو ریاست مدینہ کو صیح سمجھنے اور ریاست مدینہ کی سوچ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • کرونا وبا اور معاشی جنگ  تحریر  : راجہ حشام صادق

    کرونا وبا اور معاشی جنگ تحریر : راجہ حشام صادق

    اس وقت پوری دنیا میں کرفیو کی طرح کا ماحول ہے دنیا کو اس وقت ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس کے لیے کسی ملک نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی تھی۔اس جنگ کا آغاز تو چین سے ہوا مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس نے ساری دنیا کو لپیٹ میں لیا وہ ایک وبا ہے جس کا نام ہے کرونا۔

    کرونا کے بعد جو شروع ہوتی ہے اس کا نام ہے معاشی جنگ دنیا بہترین ہتھیاروں کی تیاری اور مقابلے کی دوڑ میں یہ بھول چکی تھی کہ ایک اورجنگ بھی شروع ہونے جا رہی ہے جس جنگ کی نوعیت بہت خطرناک ہو گی اور آج اس جنگ کا سامنا دنیا کا ہر امیر اور کمزور ملک کر رہا ہے۔ کرونا وبا کے آنے کے بعد سے اس جنگ کا آغاز ہو وہ جنگ معاشی جنگ ہے اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج امیر ممالک خوفزدہ ہیں ان کو ڈر ہے کہ کہیں ان کے لوگ بھوک اور غربت سے مر ہی نہ جائیں ۔خود کو سپرپاور سمجھنے والے ایک ایسے بحران کا شکار ہو گے کہ ان کے بنائے گئے جدید میزائل اور اسلحہ بھوک ختم کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔

    قارئین ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری کہ اللہ تعالٰی کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔جو لوگ اسلحہ اور پٹرول کو اپنی طاقت سمجھتے تھے جن کے پاس پٹرول کے ذخائر تھے۔ کیا ہوا ان ممالک کی معیشت کیوں دن با دن نیچے آتی جا رہی ہے۔اب بھی وقت ہے اجتماعی تور پر توبہ کا۔کشمیر اور فلسطین کے مسلمان جس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اللہ پاک نے ایک ہی جھٹکے میں پوری دنیا کو بتا دیا کہ کرفیو اور لاک ڈون میں کیا ہوتا ہے ۔ سچ ہی کہتے ہیں جب خود پے بنے تو احساس تب ہی ہوتا ہے۔ لیکن شاید ابھی تک دنیا خو سمجھ نہیں آئی ابھی تو چوتھی لہر آئی ہے خدانخواستہ اگر اسی طرح پانچویں، اور پھر چل سو چل چلتا رہا تو پوری دنیا تو ویسے ہی ختم ہو جانی ہے۔

    دنیا کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہو گی لیکن کھانے کے لئے بھیک مانگے پر بھی کوئی ایک لقمہ نہ دے سکے گا ہر طرف بھوک ہو گی اس بھوک کو ختم کرنے کے لئے تم جنگ کرنا بھی چاہو گے تو بھی ناکامی ہو گے۔ آج تک اس جنگ سے لڑنے کا کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا دنیا میں ابھرتی بہترین معاشی طاقتیں بھی مفلوج ہو چکی ہیں یاد رکھیں اس جنگ میں صرف چند ممالک تباہ نہیں ہوں گے دنیا کی سب سے زیادہ تباہ کن جنگ ہو گی ۔

    اس جنگ کے بعد شاید آنے والی نسلیں ہم سے زیادہ خوشحال ہوں ان کے لئے ایٹم سے زیادہ ضروری اپنی عوام کی بھوک اور غربت ختم کرنا ضروری ہو گا۔ اس دنیا نے جتنی سرمایہ کاری اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کی ہے یہی غربت کے خاتمے کے لئے کرتی تو ایسے وقت کا مقابلہ بہتر طرح سے کر سکتے تھے۔ ایک وبا نے آج پوری دنیا کو گھروں کے اندر محصور کر کے رکھ دیا ہے ۔

    دعا ہے یا رب العالمین ہم سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھنا ۔اور ہمارے مضلوم کشمیری اور فلسطینی بہین بھائیوں کی مدد فرمانا ۔آمین ثم آمین

    @No1Hasham

  • ٹوکیو اولمپکس:دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی

    ٹوکیو اولمپکس:دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی

    ٹوکیو اولمپکس :دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا کینیڈین فٹبالر نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ بنا دی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹوکیو اولمپکس میں گزشتہ روز خواتین کا فائنل فٹبال میچ سویڈن اور کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس میں خواجہ سرا کوئین نے گول کر کے اپنے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا اور تاریخ رقم کر دی۔

    رپورٹس کے مطابق خواتین کا فٹبال میچ کینیڈا اور سوئیڈن کے درمیان برابر ہو گیا تھا تاہم میچ کا فیصلہ پینلتی ککس پر ہوا اور خواجہ سرا کوئین نے گول کر کے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔

    ٹوکیو اولمپکس: پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے

    خیال رہے کہ 25 سالہ کینیڈین خواجہ سرا فٹبالر کوئین نے 2014 میں کینیڈین ٹیم میں ڈیبیو کیا تھا اور 2016 کے ریو گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا تاہم گزشتہ سال خواجہ سرا کے طور پر سامنے آئے-

    دوسری جانب آج پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے یولین تھرو کے مقابلے میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کا بھارت کے تھرور نیرج چوپڑا کے ساتھ سخت مقابلہ متوقع ہے جیولین تھرو(نیزہ بازی) کے فائنل مقابلے آج پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بجے شروع ہوں گے۔