Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    ناسا نے سورج کے قریب سورج جیسا ہی 60 کروڑ سال پرانا ستارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی تی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ناسا کے ماہرین فلکیات نے ستارے کی تصدیق کی ہے جو دیکھنے میں سورج کی طرح لگتا ہے تاہم حجم میں اس سے چھوٹا ہے، کاپا 1 سیٹی نامی ستارے میں سورج کی طرح کا ہی درجہ حرارت اور روشنی پائی جاتی ہے۔

    ناسا کے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ستارہ سورج سے 600 سے 750 ملین سال چھوٹا ہے اس کا مطلب ہے کہ ماہرین اسے ایک نوجوان شمسی نظام کے تناسب کے طور پر استعمال کرکے نئی تحقیقات کر سکتے ہیں۔

    پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    ناسا کا کہنا ہے کہ ابتدائی نظام شمسی میں اربوں سال پیچھے جانا اور یہ دیکھنا ناممکن ہے کہ سورج کیسا تھا اور کب زمین پر پہلی بار زندگی کے آثار پیدا ہوئے۔ تاہم اس دریافت سے سائنسدانوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا کہ کیسے سورج سیاروں کے ماحول اور زمین پر زندگی کی نشوونما کا سبب بنتا ہے۔

    دوسری جانب محققین کا کہنا ہے کہ سائنس دان اس بات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ ہمارا سورج جب جوان تھا تو کیسا رہا ہوگا، اور اس نے کس طرح ہمارے سیارے کے ماحول اور زمین پر زندگی کی تشکیل کی ہوگی۔

    تحقیق میں ستارے سے نکلتی ہوئی کورونل ماس ایجیکشنز اور ہواؤں کا مطالعہ شامل ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ سورج کے اخراج سے زمین پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

    ملکی وے کہکشاں کے اندر 100 بلین سے زیادہ ستارے ہیں، جن میں سے دس میں سے ایک ہمارے اپنے ستارے کے سائز اور چمک کے برابر ہیں۔ان میں سے بہت سے ستارے ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی چھوٹے بچوں کی طرح، نوجوان ستارے بھی عمر کے حساب سے نشونما پاتے ہیں اوران کی خصوصیات میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں-

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • بہتر صحت کے لیے کھانا جینے کے لیے کھانا تحریر ام سلمیٰ

    کھانا کھائیں اور اچھا کھائیں اور جینے کے لیے کھائیں کھانے کے لیے نے جیئیں.ایسا آپکی صحت کو اچھا رکھنے کے لئے کہا جاتا ہے ، بیماریوں سے بچنے اور وزن کو برقرار رکھنے یا کم کرنے کے لیے کھانے کے انتخاب کے بارے میں آج کا بہترین طبی مشورہ ہے۔ یہ عام ہدایات ہیں جو زیادہ تر صحت مند لوگوں اپناتے ہیں اور ایک پر سکون زندگی گزارتے ہیں۔

    ہر روز جسمانی طور پر متحرک رکھیں اپنے آپ کو متحرک رکھنے کے لیے اپنی روزمرہ زندگی میں چہل قدمی کو اپنا معمول بنائیں صحت مند زندگی کے لیے یہ سب سے اہم ہے.یا اپنی زندگی میں کسی کھیل کا معمول بنا لیں ہفتے میں 5 دن دن میں کم از کم 30 منٹ کے لیے چہل قدمی کو معمول بنائیں اور پر زندگی کا لطف حاصل کریں۔
    صحت مند کھانا مسلسل توانائی فراہم کرتا ہے جس کی آپ کو جسمانی طور پر فعال رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    ورزش ، صحت مند کھانے ، آرام ، اور مقابلہ کرنے کی اچھی مہارتوں سے اپنے تناؤ کا انتظام کرنا سیکھیں۔
    صحت مند کھانے کی عادتیں بنائیں۔
    تصویر: صحت مند پھلوں کا ناشتہ رکھنے والا خاندان
    مختلف قسم کی سبزیاں کھائیں ، خاص طور پر گہری سبز ، سرخ اور نارنجی سبزیاں (ایک دن میں 3 یا اس سے زیادہ سرونگ)۔
    مختلف قسم کے پھل کھائیں (ایک دن میں 2 یا اس سے زیادہ سرونگ)۔
    سارا اناج ، ہائی فائبر بریڈز اور اناج (ایک دن میں 3 سے 6 سرونگ) کھائیں۔ بہتر یا پروسیس شدہ کاربوہائیڈریٹ کو کم یا ختم کریں آپ کی خوراک میں زیادہ تر اناج سارا اناج ہونا چاہیے۔
    چربی سے پاک یا کم چکنائی والا دودھ پائیں اور کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات کھائیں۔
    پروٹین کے مختلف قسم کے کم چربی والے ذرائع میں سے انتخاب کریں-بشمول انڈے ، پھلیاں ، مرغی بغیر جلد ، سمندری غذا ، دبلی پتلی گوشت ، نمکین گری دار میوے ، بیج اور سویا کی مصنوعات۔ اگر آپ گوشت کھاتے ہیں تو سفید گوشت سرخ گوشت سے کم از کم چار گنا زیادہ کھائیں۔
    جتنا ممکن ہو چربی کا استعمال کم کریں۔
    کھانے میں سبزیوں کا تیل (جیسے زیتون یا کینولا تیل) استعمال کریں۔
    نمک یا سوڈیم کا روزانہ استعمال کم کریں۔ 1،500 ملی گرام سے کم کریں۔ فی دن اگر آپ کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے ، یا ہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس یا دائمی گردوں کی بیماری ہے۔
    "جنک فوڈ” بازاری کھانے کے استعمال کو محدود کریں یا ختم کریں – ایسی غذائیں جن میں بہتر سفید آٹا ، ٹھوس چربی ، اضافی شکر اور سوڈیم زیادہ ہوں انکا استعمال بھی کم سے کم کریں.
    سوڈا اور چینی میں سے بنے دیگر مشروبات کا استعمال محدود کریں یا ختم کریں جن میں کیلوریز زیادہ ہیں اور ان میں کچھ یا کوئی غذائی اجزاء کوئی فائدے مند چیز نہیں ہیں۔
    اگر آپ مشروبات زیادہ پیتے ہیں تو اسے اعتدال میں رکھیں۔ کھانے کی اور اپنی پسند کی ہر چیز کے استعمال میں ہمیشہ اعتدال رکھیں اور ورزش کو معمول بنائیں ایک صحت مند زندگی کے لیے.

    @salmabhatti111

  • غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم آج میرا موضوع بہت سے دلخراش حقائق پہ مبنی ہے.
    معزز معاشروں میں استاد معمار قوم کہلاتا ہے.اس نسبت سے استاد کو وہ ادب اور وہ احترام میسر آتا ہے جو دیگر پروفیشنلز کو نہیں آتا.
    کہتے ہیں کہ ایک استاد ایک قوم بناتا ہے یہ وطن عزیز میں کہا تو جاتا ہے مگر مانا نہیں جاتا.
    پاکستان میں پرائیوٹ سکولز کی بھرمار ہے .اس کے دو اہم محرکات ہیں.پہلا یہ کہ گورنمنٹ سکولوں کا معیار تعلیم تا حال اس سطح تک نہیں پہنچ سکا جس تک سرمایہ دار اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں.دوسرا یہ کہ پرائیوٹ سکول میں امیر اور متوسط طبقے کے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں مگر اکثر اساتذہ تنگدستی کے باعث نوکری کے لیے مجبور ہو کر ان اداروں کا رخ کرتے ہیں.
    انکی اجرت ان کی تعلیم اور ان کی محنت کے مقابل ہر چند قلیل ہوتی ہے.
    کچھ پرائیوٹ سکولز برانڈ بن چکے ہیں.وہاں امکان کا کہ اساتذہ کو بہتر سہولیات میسر ہوں.
    مگر بہت سے سکولز مافیاز سے بد تر ہیں.اساتذہ کی محنت اور انکے بل پہ کروڑوں کماتے ہیں اور ان ہی اساتذہ کا استحصال کرتے ہیں.
    میں بات کر رہی ہوں ایسے پرائیوٹ سکولز کی جو اساتذہ کو چند ہزار تنخواہ دیتے ہیں.
    اس جدید مہنگے اور پر آشوب دور میں جہاں
    مزدور کی تنخواہ 900 فی یوم ہے اور مضحکہ خیزی دیکھیے معمار قوم کی یومیہ اجرت 350 روپے بنتی ہے
    اور گھی کی قیمت 350 فی کلو ہے..
    استاد کی 8 گھنٹے کام کی اجرت اور 350 روپے یومیہ؟
    اور ان کی محنت کا ثبوت ان پرائیوٹ سکولز کا معیار تعلیم اور بورڈ کلاسز کا رزلٹ ہے.
    پرائیوٹ سکول مالکان کے بڑھتے اثاثے اور اساتذہ کی بڑھتی مشکلات اس سسٹم کی ناانصافی کی داستان ہے.
    ان سکولوں میں مجبوراً اپنی معاشی ضروریات کے لیے پڑھانے والے اساتذہ کو حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی ضرورت ہے حکومت ان مافیاز کو دائرے میں لائے اور اساتذہ کی تنخواہیں ان کی بنیادی ضروریات زندگی تو پوری کرنے کا لائق ہوں.
    رہی بات حکومت کی رٹ کی تو جب حکومت پرائیوٹ سکولز کو تعطیلات کے لیے مجبور کر سکتی ہے .نصاب کے لیے امتحانات کے لیے مجبور کر سکتی ہے ..کرونا ویکسین کے لیے مجبور کر سکتی ہے تو حکومت پرائیویٹ سکول ٹیچرز کے حق کے لیے بھی مجبور کر سکتی ہے.

    ابھی حال ہی میں کرونا وباء کے دوران اساتذہ کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی جبکہ طلباء کو محض پہلے دو مہینے 20 فی صد ریلیف دیا گیا باقی پوری فیس وصول کی گئی.
    دو سال ہو گئے کسی طرح کا کوئی انکریمنٹ نہیں دیا گیا جبکہ فیسوں میں سالانہ اضافہ کیا گیا.
    اس طریقۂ واردات کے بعد ان کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا ان پئ چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا تو پرائیویٹ سکول اساتذہ کے مجرم ارباب اختیار ہوں گے.
    کیونکہ بطور شہری اساتذہ کی دادرسی حکومت کا فریضہ ہے.

    مالکان کے ہاتھ لمبے ہیں ایسوسیشنز کے نام پہ مافیاز ہیں.اساتذہ کے لیے ایسے فورمز اس لیے بھی کارگر نہیں کہ وہ گھروں سے بمشکل سکولوں تک پہنچ پاتے ہیں کورٹ کچہری نہیں کر سکتے.
    کیونکہ اس کے لیے ایک اور مافیا کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا.جس کے متحمل نہیں ہو سکتے.
    وزراء تعلیم کو ان کے ان فرائض سے آگہی کے لیے حکومتی دباؤ لازم ہے.
    یاد رکھئے معماران قوم کی قدر کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں.
    معماران قوم کا استحصال قوم پہ وبال ہے.

    @hsbuddy18

  • بیٹی کہہ کر پکارو  تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ

    بیٹی کہہ کر پکارو تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ

    بہو بھی مسکرانا چاہتی ھے
    اللہ تعالی نے والدین کیلیے بیٹی کو رحمت بنا کر بھیجا ھے
    یہ ننھی کلی جب کھل کر بڑی ھوتی ھے تو اسے اپنے والدین کا گھر نہ چاہتے ھوے بھی چھوڑنا پڑتا ھے اور ایک نیے گھر میں جانا پڑتا ھے یہ نہایت مشکل وقت ھوتا ھے جب ایک بچی اپنا گھر چھوڑ کر نیےگھر میں جاے لیکن یہ اللہ پاک کا فرمان ھے اور نکاح فرض ھے تو اسے ایک نیے گھر میں جانا پڑے گا جب وہ اپنے ھونے والے شوہر کے نکاح میں آتی ھے تو گھر بھی بدل جاتا ھے اور ساتھ میں رشتے بھی بدل جاتے ہیں
    جہاں اپنے والدین کے ساتھ شہزادی کی طرح رہنے والی اپنی بہن بھاییوں کےساتھ رھنے والی اب ایک نیے گھر میں نیے رشتوں کے ساتھ کے ساتھ رھے گی
    یہ کیسا پیارہ رشتہ ھے جو اللہ پاک نے بنایا ھے ایک کی بیٹی دوسرے کے گھر کی بہو بنتی ھے تو دوسرے کی بیٹی تیسرے گھر کی بہو بنتی ھے یہی وہ ھے جسے اللہ پاک نے اپنے والدین کیلیے رحمت بنایا اب کسی دوسرے گھر میں اللہ کی رحمت بن کر جارھی ھے
    لیکن
    کچھ گھروں میں ان کیلیے یہ بہو والا لقب بہت برا ثابت ھوتا ھے اور وہ جو اپنے والدین کے گھر میں ایک شہزادی تھی اب یہاں بہو ھے اور اس کے ساتھ سلوک میں بھی بہت تبدیلی آگی ھے بات بات پر طنز اچھا کام بھی کرے تب بھی طنز کیونکہ وہ کسی اور کی بیٹی ھے
    حالانکہ تمھاری بھی بیٹی کسی کی بہو ھے یا کبھی بنے گی تو اگر اسے بھی اسی طرح کا سامنا ھوا تو پھر تمھارے دل پر کیا گزرے گی اگر آپ اپنی بیٹی کو شہزادی کے روپ میں دیکھتے ھوتو پھر ضروری ھے کہ جو تمھاری بہو ھے اسے بھی وھی پیار اور سلوک دو جو تم اپنی بیٹی کو دیتے ھو بہو کو بھی اپنے گھر کی شہزادی بنا کر اپنی بیٹی بنا کر رکھو تاکہ تمھارے خاندان کیلیے آپ کی بہو رحمت بن سکے اور پھر تمھارے بڑھاپے میں بیٹی بن کر تمھاری خدمت کرے
    جب آپ کسی کی بیٹی کو جو اب آپ کی بہو اور تمھارے خاندان کی عزت بھی ھے اسے اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے تو وہ بھی آپ کو اپنے والدین کی طرح تمھاری خدمت کرے گی اور ہمیشہ آپ کو اپنی بیٹی کی کمی محسوس ھونے نہیں دے گی
    اور
    بہو کیلیے بھی ضروری ھے کہ جس طرح آپ اپنے والدین کی عزت و تکریم کرتی تھیں اپنے والدین کی شہزادی تھیں اپنے والدین کے سخت و نرم لہجے کو اپنی بہتری کیلیے ان کی باتوں کو اہمیت دیتی تھیں اپنے والدین کا کہا ھوا ہر لفظ تمھارے لیے تمھاری بہتری کیلیے تھا اسی طرح تمھارے شوہر کےوالدین کا بھی تمھارے اوپر اتنا حق ضرور ھے کہ وہ آپ کو اپنی بیٹی سمجھ کر اگر کچھ سخت و نرم لہجے میں بات کرتے ہیں اسی طرح سنو جس طرح آپ اپنے والدین کی بات سنتی تھیں
    اس طرح سے آپ کے گھرکے مسایل بھی حل ھوں گےاورناچاکیاں بھی پیدا نہیں ھوں گی
    آپ کو پھر ویسے ھی عزت ملے گی جیسے تمھارے والدین تمہیں دیتے تھےاگر آپ اپنے سسرال کو اپنے والدین کی طرح پیار اور خدمت کریں گیں تو یقینا وہ بھی آپ کو اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے
    اور آپ کے مقام اور عزت میں بھی کویی کمی نہیں آے گی اسی طرح پھر لازم اس کا بدلہ اللہ پاک آپ کو بھی دے گا جب آپ کی بہو بھی آپ کو اسی طرح عزت دے گی
    میری اللہ پاک سے دعا ھے کہ تمام بہن بیٹیوں کے نصیب اللہ اچھے کرے اور ساری پریشانیاں دور کرے .آمین

    بیٹی کہہ کر پکارو بہو بھی مسکرانہ چاہتی ھے
    @KHANKASPAHI1

  • انسانی دانتوں والی مچھلی کے انٹرنیٹ پر چرچے

    انسانی دانتوں والی مچھلی کے انٹرنیٹ پر چرچے

    امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایسی مچھلی پکڑی گئی ہے جس کے دانت حیران کن طور انسانی دانتوں جیسے دکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایک شخص نے مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال پھینکا کے اس دوران اس کے ہاتھ انسانی دانتوں والی مچھلی بھی آ گئی مذکورہ شخص نے مچھلی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔

    رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے مچھلی کو دیکھ کر کافی حیرت کا اظہار کیا گیا ہےمچھلی کی شناخت بطور شیپس ہیڈ فش ہوئی ہے مچھلی کا منہ بھیڑ جیسا نظر آتا ہے جب کہ یہ اپنا شکار پکڑنے کے لیے تہہ در تہہ موجود دانتوں کا استعمال کرتی ہے مچھلی کا نام بھیڑ کے منہ کی طرح دکھائی دینے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    رپورٹ کے مطابق عجیب الخلقت مچھلی پکڑنے والے مارٹن نامی شخص نے بتایا کہ وہ شیپس ہیڈ فش ہی پکڑنے آئے تھے جب ان کا سامنا انسانی دانتوں والی مچھلی سے ہوا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ مچھلی کو پکڑنے کا عمل کافی دلچسپ رہا جب کہ اس کا ذائقہ بھی کافی منفرد اور لذیذ تھا۔

  • خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ – جویریہ بتول

    خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ – جویریہ بتول

    خلیفۂ ثانی حضرت عمر ابنِ خطاب رضی اللّٰــــہ عنہ
    ✍🏻:جویریہ بتول

    مرادِ نبیﷺ تھا جو خود چل کر وہ آ گیا…
    آتے ہی کلمہ پڑھ کر غرورِ کفر پر چھا گیا…
    اِک حوصلہ دیا جس نے بے بس مسلمانوں کو…
    بیت اللّٰــــہ کے آنگن میں وہ نغمۂ توحید گا گیا…

    جس راستے عمر چلے، وہاں بھاگتا شیطان ہے…
    عمر کے دل کی خواہشوں پر اُترتا قرآن ہے…
    کوئی ہوتا بعد میرے گر نبی اس جہاں میں…
    ہوتا وہ فقط عمر،یہ پیارے نبیﷺ کا فرمان ہے…

    جس طرف بھی بڑھ گیا عمر آ گیا اِک انقلاب…
    ہر دیار میں چہار جانب اُبھرا اسلام کا آفتاب…
    قبلہ اول کےقابض دَنگ تھے دیکھ کر مردِ درویش…
    بن کر فاتح وہاں داخل ہوا تھا جب ابنِ خطاب…

    شرق سے غرب تک پھیل گئی تھی آسودگی…
    خلیفہ جاگتا تھا ،جب قوم پر چھاتی غنودگی…
    بچوں کے رونے پر بھی جو ہو جاتا تھا بے قرار…
    اُس گرم مزاج میں یوں رچی تھی عاجزی…

    اسلام کا اِک عظیم خادم سدا رہے گا میرا عمر…
    چکنا چُور کر دی جس نے کفر کی ہر سُو کمر…
    آج بھی دہل جاتے ہیں جس کے نام سے وہ دل…
    ڈریں جس کاثانی ہونےسے،تھا وہ تقویٰ کاپیکر…

    ہیں سسرِ نبیﷺ بھی وہ، جو ہیں دامادِ علی…
    کردار سدا تاریخ کے ورق پر ہے اُن کا جلی…
    اطاعتِ نبیﷺ میں تھی یوں زندگی گزاری…
    بعد شہادت کے جگہ نبی کے پہلو میں ملی…

    ذکرِ عمر جب بھی ہوا،سادگی پہ چشمِ نم ہوئی…
    کہ واسطے اسلام کے تھی جس کی گردن خم ہوئی…
    عمر کے کردار نے بھر دی مہک سانسوں میں…
    اِسی یقین میں زندگی اُن کی خوشی و غم ہوئی…!
    (رضی اللّٰــــہ عنہ).

  • کرونا وائرس سے لڑنا ہے تحریر: راحیلہ عقیل

    کرونا وائرس سے لڑنا ہے تحریر: راحیلہ عقیل

    2019 میں ایک وبا عام ہوئی جسکو کرونا وائرس کا نام دیا گیا ساری دنیا کو اس وائرس نے تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیا پاکستان میں فروری 2020 کرونا وائرس کے دو مریض سامنے آئے ان میں سے ایک مریض کراچی اور دوسرا وفاقی سے تھا دونوں مریض ایران کے سفر سے لوٹے تھے اس کے بعد تو جیسے کرونا نے سر اٹھا لیا اچانک کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی دیکھتے ہی دیکھتے پورا ملک کرونا کی لپیٹ میں آگیا عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ اگر حفاظتی تدابیر نہ اختیار کی گئیں تو جولائی کے وسط تک پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے اس کے بعد ان میں اضافہ ہوگا یا کمی واقعہ ہوگی وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے جو آج کافی حد تک درست ثابت ہوئی،
    ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈ بنائے گئے عوام کو آگاہی دی گئی ماسک پہنیں، غیر ضروری گھروں سے باہر نا نکلیں، ہاتھ بار بار دھوئیں،مگر وہ پاکستانی ہی کیا جو حکومتی اقدامات کو سنجیدہ لیں جوں جوں ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھتی گئی وہی آکسیجن کی کمی سامنے آئی دوسرے ممالک سے مدد ملی کرونا پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش ناکام ہوئی تب حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ لیا گیا، جن شہروں میں کیسز زیادہ رپورٹ ہوئے وہاں سخت لاک ڈاؤن لگایا گیا اس کے باوجود عوام نے اس وبا کو سنجیدہ نا لیا لاکھ پابندیوں کے باوجود گلی محلوں چھوٹے ہوٹلوں پر عوام کے ہجوم نظر آتے رہے، سخت لاک ڈاؤن میں اسکول ،کاروبار ، تو بند ہوئے مگر سیاسی سرگرمیاں اپنی عروج پر تھی حکومت جماعت ہو یا اپوزیشن سب نے اپنی سیاست کے لیے عوام کی جانوں سے کھیلا جلسے ہوتے رہے انتخابی مہم چلتی رہی یہی وہ خاص وجہ رہی جس نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کونسا وائرس ہے جو صرف شادیوں ہوٹلوں اسکولوں میں آتا ہے جلسوں میں نہیں، حالیہ کچھ دنوں میں کراچی میں 48 افراد کرونا سے انتقال کرگئے اس سے پہلے پنجاب میں 25 افراد ایک دن میں کرونا سے انتقال کرگئے تھے، ڈاکٹر کرونا مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یہ وہ وقت تھا جب ہمارے پاس ویکسین کی سہولت موجود نا تھی اب پاکستان میں ویکسین لگائی جارہی ہے بڑی تعداد میں لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں ہر شہر بلکہ اب تو ہر علاقے میں ویکسین کی سہولت موجود ہے،

    کچھ لوگ پوچھتے ہیں ویکسین لگوانے سے کرونا نہیں ہوگا؟

    جن لوگوں کو ویکسین لگی وہ بھی کرونا کا شکار ہوئے ہیں تو جناب اسکا جواب یہی ہے کرونا ہوگا مگر اسکی شدت اتنی تیز نا ہوگئی جو آپکی جان لے جاے آپ کے جسم میں وائرس سے لڑنے کی طاقت موجود ہوگئی جس سے آپ بہت جلدی اس وبا سے لڑ سکیں گے جبکہ ویکسین نا لگوانے والوں کو کافی تکلیف سے گزرنا ہوگا جس میں سانس کی کمی سب سے خطرناک ہوسکتی ہے جو آپکی جان لے جاے،

    دوسری جانب کچھ لوگ یہ بھی کہتے نظر آرہے "ویکسین نہیں ہے یہ ویکسین کے نام پر تجربہ ہورہا ہے "جس سے دو سالوں میں ویکیسن لگوانے والے مرجائیں گے خواتین بانجھ ہوجاہیں گئی مرد نا مرد ہوجاہیں یہ ساری من گھرٹ کہانیاں ہیں جو ہم میں سے ہی لوگوں کی بنائی گئی ہیں ہم میں موجود بہت سے لوگ آج بھی پولیو ویکسین کو نہیں مانتے یہ سلسلہ ایک عرصے سے چلا آرہا جو کبھی نہیں رکے گا، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش رکھی ہے جو ہماری حکومت عوام کے لیے کررہی ہے

    ویکسین لگوائیں یا نا لگوائیں یہ اپکا ذاتی عمل ہے کم از کم من گھڑت کہانیاں بناکر خود کو بہت بڑا سائنسدان سمجھ کر سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرکے عوام کو گمراہ نا کریں ایسی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف حکومت کو اداروں کو سختی سے نوٹس لینا چائیے جو عوام میں مایوسی خوف پھیلا رہے ہیں

    اگر اب بھی کوئی ویکسین نہیں لگواتا وہ اپنا اپنی فیملی کا زمہ دار خود ہوگا ایسا نا ہو ہسپتال میں آکسیجن نا ملے یا وقت پر ڈاکٹر موجود نا ہو سوچیے۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپنے قریبی ویکسین سینٹر جانے میں دیر نا کریں کیونکہ یہ وبا دروازہ بجاکر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر راحیلہ عقیل

  • اللہ تعالی ہی رازق ہے داتا ہے مالک ھے تحریر : حادیہ سرور

    اللہ تعالی ہی رازق ہے داتا ہے مالک ھے تحریر : حادیہ سرور

    ہمارے معاشرے میں لوگوں کو اس موضوع پر آگاہی ہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بہت ہمارے سادہ لوح بہن بھائی کھلی گمراہی کی طرف جا رہے ہیں۔
    اللہ تعالی ایک, اپنی ذات میں ایک, اپنی صفات میں ایک, وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔
    وہ ہی دینے والا ہے وہ ہی لینے والا ہے ۔
    لیکن انڈیا پاکستان میں افسوس کے ساتھ ہم نے اپنے حقیقی خالق و مالک کو چھوڑ کر ہندوٶں کا فرسودہ طریقہ اپنا لیا ہے ۔جس طرح کچھ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی انڈیا پاکستان میں کچھ لوگ قبروں کی پوجا کرنے لگے ہیں ۔
    کبھی ہم دیکھتے ہیں کچھ لوگ قبروں سے منتں مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں تو کبھی بیٹا مانگ رہے ہوتے ہیں تو کبھی نوکری تو کبھی کاروبار میں ترقی ۔اب بات یہ ہے جو ہمارا رب ہمارے دعا کرنے سے اتنا خوش ہوتا ہے جو ہمارا رب ہمارے سب سے قریب سننے والا ہے ہم سیدھا اس سے کیوں نہیں مانگتے ہیں !
    کیا وہ ہماری دعاوں کو نہیں سنے گا نعوذ باللہ کیا وہ ان کو قبول نہیں کرے گا !
    افسوس آج ہم نے حقیقی اللہ کو چھوڑ کر مصنوعی خدا بنا لیے جن کو کبھی داتا کہا جاتا ہے تو کبھی رب نواز تو کبھی بندہ نواز تو کبھی کیا ۔کبھی ہم دیکھتے ہیں سندھ میں ایک مزار پر حج شروع ہوجاتا ہے تو کبھی ہزاروں ایسے واقعات سامنے آتے ہیں ۔
    اب سوال یہ ہے وہ کون سی ایسی دعا ہے جو میرا رب نہیں سنتا ! وہ کون سی نعمت ہے جو نعوز باللہ ہمارا اللہ تعالی نہیں عطا کر سکتا جو ہم ان بت نما قبروں سے مانگتے ہیں!
    قران و حدیث انسان کی رہنمائی کےلیے بہترین نمونہ ہیں جن ہر عمل پیرا ہو کر ہر انسان اپنی زندگی سنوار سکتا ہے ۔
    لیکن افسوس ہمارا معاشرہ شرک و بدعات جیسی ایسی غلیظ رسم و رواج میں گر چکا ہے جو ہمارے ایمان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔
    آج کل ہمیں قران و حدیث پر عمل کرنے سے منع کیا جاتا منطقیں پیش کی جاتی فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔۔کہ کہیں یہ بچہ یا بچی سہی معنوں میں قران و حدیث پر چل کر یہ شرک و بدعات چھوڑ دے گا ۔
    ہمیں آج کل فقہ کی کتابوں میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ہم قران و حدیث کی بات کو ماننے سے کتراتے اتے ہیں ۔ہمیں پتہ ہوتا قران و حدیث سچ ہے لیکن ہمارے کچھ بھائی اور بہنیں قرانی و حدیث کے مقابلے میں فقہ کی منطقیں پیش کرتے ہیں ۔وہ صرف اس لیے کیوں کہ اگر انہوں نے قران و حدیث کو سچ مان لیا تو ان کا پورا فقہ سامنےآ جاۓ گا ۔ان کے بڑے بڑے علماء جنہوں نے سالوں سے اس قوم کو بے وقوف بنا کے رکھا ہوا ہے وہ بے نقاب ہو جائیں گے ۔۔
    آج کل بہت سے فقہ میں تقریباً چھ سال تک فقہ پڑھایا جاتا ہے جب بچے کا زہن فقہ پر پک جاتا ہے وہ اس ہی فقہ کو حق سچ مان لیتا ہے تو آخری ایک دو سال میں احادیث کی ساری کتابیِں سامنے رکھ دی جاتی ہیں ۔ جن کو بچے اتنے کم وقت میں سہی سے سمجھ نہیں سکتے اور بعد میں جب ان کے سامنے کوئی سہی احدیث بھی پیش کی جاتی ہے تو وہ اس کے مقابلے میں اپنے فقہ کو ترجیح دیتے ہیں ۔اس لیے ہمارا معاشرہ دن بدن شر و بدعات جیسی غلیظ رسم و رواج میں گرتا جا رہا ہے جو کہ ایک نہایت افسوس ناک بات ہے ۔اور جس کا عذاب نہایت درد ناک ہے ۔

    اللہ پاک سب کو قران و حدیث پر صیحح معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے

    ‎@iitx_Hadii

  • رشتہ ڈھونڈو مہم اور لڑکی کی زات کی تزلیل ؛ ‏تحریر :- محمد دانش

    ‏اسلام دین فطرت ہے اور  دین اسلام نے ہمیشہ  فطرت کے اصولوں اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ نکاح ایک سنت عمل ہے جسکا حکم اللّہ پاک نے دیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس سے متعلق قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے: 
    وَ اَنۡکِحُوا الۡاَیَامٰی مِنۡکُمۡ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنۡ عِبَادِکُمۡ وَ اِمَآئِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغۡنِہِمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ  وَاسِعٌ  عَلِیۡمٌ ﴿۳۲﴾
    تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح  کےہوں ان کا نکاح کر دو  اور اپنے نیک بخت غلام  اورلونڈیوں کا بھی  اگر وہ مفلس بھی ہوں گےتو اللہ تعالٰی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا  اللہ تعالٰی کشادگی والا  اورعلم والا ہے ۔ 
    اسکی عملی مثال ہمیں حضرت محمد صلی اللّہُ
    ‏علیہ وآلہ وسلم کی زندگی سے ملتی ہے اور آپ نے جابجا نکاح کے لئے اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے۔
    ‏عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : اَلنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ لَّمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ وَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ
    ‏عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح میری سنت ہے، جس نے میری سنت پر عمل نہیں کیا وہ مجھ سے نہیں، اور شادی کرو، کیوں کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ اور جس شخص کے پاس وسعت ہو وہ نکاح کرلے، اور جس شخص کے پاس گنجائش نہ ہو وہ روزے رکھے، کیوں کہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔

    حضرت ابو ایوب سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    چار چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت میں سے ہیں:
    حیا،خوشبو لگانا،مسواک کرنا اور نکاح ۔
    ‏ہمارے معاشرے میں اس سنت کو پورا کرنے کے لئے
    جو طریقہ اپنایا جا رہا ہے وہ انتہائی فرسودہ اور بوسیدہ ہے جب لڑکی  باشعور ہو جاتی ہے تو اسکو کو شادی کے بندھن میں باندھنے کے لئے رشتہ کی تلاش شروع ہو جاتی ہے اور اسکے لئے لڑکی کے گھر والوں کو روز مرہ کی دعوت اور نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے رشتہ دیکھنے کے لئے جانے والی خواتین کا رویہ لڑکی کے ساتھ اس طرح کا ہوتا ہے جس طرح منڈی میں کسی جانور کو خریدنے سے پہلے اختیار کیا جاتا ہے
    ‏ لڑکی کو انسان تو سمجھا ہی نہیں جاتا وہ سب کے لئے ایک کٹھ پتلی ہوتی ہے اس سب سے لڑکی کی عزت نفس ہر بار بہت مجروح ہوتی ہے اور اس کی زات کو زلت سہنی پڑتی ہے اسکے ساتھ ساتھ گھر والوں کو بھی  ہر بار اسی دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات تنگ آکر ماں باپ اس لڑکی کو جو کہ اللّہ کی طرف سے ایک رحمت ہے ، زحمت سمجھنا شروع کر دیتے ہیں
    ‏لڑکی دیکھنے کے لئے آنے والے لوگ تو اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہی ہیں لیکن  خود اس کے اپنے  گھر والے بھی اس کو بے زبان جانور سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ لڑکی سے اس کی مرضی جاننا بہت معیوب عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا اتنا بڑا اور اہم فیصلہ ایک بند کمرے میں طے ہوتا ہے جہاں اس کے علاوہ ماں باپ بہن بھائی سب موجود ہوتے ہیں اور لڑکی کی رضا جانے بغیر رشتہ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ اس اہم فیصلے کااختیار لڑکی اپنے والدین کو دیتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس سے بالکل ہی اس کی رضا نہ پوچھی جائے۔
    ‏لڑکی چاہے جتنی بھی تعلیم یافتہ ہو یا کسی بہت بڑے عہدہ پر جاب کر رہی ہو اس کو بھی شادی کے لئے ان تمام مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    ‏ جیسے لڑکی کی اپنی زات کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہے جبکہ  لڑکے کے لئے اسی معاشرے میں کوئی ایسی شرائط نہی اسکا لڑکا ہونا ہی اس کے  بہتر  ہونے کی دلیل ہے لیکن اسی معاشرے میں لڑکی کے لئے  شرائط کی ایک لسٹ بنائی جاتی ہے جیسا کہ وہ کتنا پڑھی ہے ، اسکا رنگ روپ کیسا ہے ، اسکا قد کاٹھ کیسا ہے ، اسکی انکھیں ، ناک ، کان، بال، چال ڈھال کیسی ہے  اور اگر وہ لڑکی نوکری پیشہ ہے تو وہ نوکری سرکاری ہے یا نہی یہ سوال بہت عام پوچھا جاتا ہے
    ‏جسکی وجہ سے والدین لڑکیوں کے اچھے رشتوں کے لئے بے حد پریشان رہتے ہیں اور ہمارے معاشرے نے شادی جیسی اس سنت کو بہت بیچیدہ بنا دیا ہے
    ‏اسلام میں شادی اتنی پیچیدہ نہیں ہے ۔خدارا! اس کو آسان بنائیے اور لڑکے والوں کو اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ انکے اپنے گھر میں بھی اگر بیٹی جیسی نعمت موجود ہے تو انکو بھی اس زحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسکے ساتھ ساتھ وہ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ وہ کسی کے گھر لڑکی کو دیکھنے گئے ہیں نہ کہ کوئی دعوت اڑانے۔
    ‏ہمارا دین ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ رشتہ کرتے وقت
    ‏ہمیں ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس بات کو یقنی بنانا چاہیے کہ لڑکی دیندار ہو، نیک ہو، گھر سنبھالنے والی ہو اور شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو رشتہ کر دینا چاہیے
    ‏لڑکی کے والدین کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ لڑکی سے بھی اس کی رضامندی پوچھی جائے
    ‏کیونکہ اللہ نے لڑکی کو یہ حق دیا ہےکہ لڑکی کی رضا کے بغیر رشتہ نہ کیا جائے اور
    ‏اس کی بہترین مثال اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم کی ہے جب انھوں نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سے حضرت علی کا رشتہ آنے پر ان کی مرضی پوچھی تھی
    ‏عَنْ أَبِي مُوْسَى ،أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: « إِذَا أَرَادَ الرَّجُلَ أَنْ يُّزَوِّجَ ابْنَتَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهَا » .
    ‏ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہے تو اس سے اجازت لے لے۔

    ‏بعض اوقات ہمارے معاشرہ میں اس رشتہ ڈھونڈو مہم کے کامیاب ہونے کے بعد جب خوش قسمتی سے رشتہ جڑنے کی طرف جاتا ہے تو لڑکی کے والدیںن پر جہیز نما لعنت کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جو کہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہے جب والدین خوش قسمتی سے  اپنے حساب سے لڑکی کا اچھا رشتہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں اپنی بیٹی کو رخصت کرنے کے لیے جہیز جیسے مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انکی جھکی ہوئی کمر ، بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے مزید جھک جاتی ہے۔
    ‏اسلام میں شادی کامقصد نمود و نمائش ہر گز نہیں ہے بلکہ شادی کا وآحد مقصد اولاد کی بہترین تربیت ہے۔اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ بات سمجھانی ہے۔
    ‏اللّہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور لوگوں کے درمیان آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے آمین۔

    ‏⁦‪@iEngrDani

  • ڈر کا بھیڑیا  تحریر: زبیر احمد

    ڈر کا بھیڑیا تحریر: زبیر احمد

    ہرن کے بھاگنے کی رفتار 85 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے جبکہ شیر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگتا ہے۔ اتنا تیز بھاگنے کے باوجود بھی ہرن شیر سے نہیں بچ پاتا اور شیر ہرن کا شکار کر ہی لیتا ہے.کیونکہ ہرن کے دل میں پکڑے جانے کا مارے جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ ہرن کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ بات بیٹھی ہوتی ہے کہ شیر اس سے زیادہ طاقتور ہے یہ مجھے مار سکتا ہے۔اس لئے وہ مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتا رہتا ہے اور اس کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ جب ہم ڈرتے ہیں تو اتنا بھی نہیں کرپاتے جتنا ہم آسانی سے کرسکتے ہیں۔ڈر ہمیں کمزور کردیتا ہے, ناکارہ بنا دیتا ہے۔ ہماری صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے۔ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ایک طالبعلم کو فیل ہونے کا ڈر ہوتا ہے امتحان میں کم نمبر آ گئے تو کیا ہوگا۔لوگوں کی باتوں کا ڈر ہوتا ہے والدین کی ناراضگی کا ڈر ہوتا ہے۔دوستوں، رشتہ داروں میں عزت کا جنازہ نکلنے کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ جب بھی کتاب لے کر پڑھنے کے لیے بیٹھتا ہے تو یہ سارے ڈر اور خدشات اس سے گھیر لیتے ہیں۔جب وہ ڈر ڈر کر پڑھے گا تو کیا خاک پڑھ پائے گا اسکے اندر کا خوف اس سے کبھی بھی اچھے مارکس نہیں لینے دے گا۔ جو کھلاڑی ڈرتا یے وہ کبھی اچھا نہیں کھیل سکتا جس کو آوٹ ہونے کا ڈر ہوگا اس کا دھیان کبھی کھیل کی طرف جائے گا ہی نہیں،اونچی شاٹ کھیلی تو کہیں آوٹ نہ ہوجاوں جو کھلاڑی یہ سوچے گا وہ کبھی چھکا نہیں مار پائے گا۔ڈر لگتا تو سب کو ہے لیکن سب لوگ نہیں ڈرتے کچھ لوگ ڈرتے ہیں اور کچھ لوگ اس ڈر پر قابو پا لیتے ہیں۔ ڈر پہ قابو پانا سیکھ جاتے ہیں اور وہی لوگ زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ ڈر پہ قابو پالیتے ہیں وہ ایسا کیا کرتے ہیں کیسے ایسا کرلیتے ہیں۔ناکامی کا ڈر اور کامیابی کا یقین دو بھیڑیے ہیں جو ہر انسان کے اندر موجود ہیں۔ ناکامی کا بھیڑیا ہمیں ڈراتا ہے کہ کہیں فیل نہ ہوجاوں فیل ہوگیا تو کیا ہوگا۔ یہ ناکامی کے ڈر کا بھیڑیا ہے اور دوسرا بھیڑیا کامیابی کا یقین دلاتا ہے کہ ضرور کامیاب ہونگے۔ حالات اتنے بھی برے نہیں تیاری اتنی بھی خراب نہیں فکر نہ کرو ہمت کرو۔ یہ بھیڑیے ہمارے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں بڑے ہوتے ہیں اور مرنے تک ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ناکامی کا ڈر ہمیشہ کامیابی کے یقین کے ساتھ لڑتا رہتا ہے اور کوئی ایک ہی ان میں سے جیت پاتا ہے۔ جیت ہمیشہ اس بھیڑیے کی ہوتی ہے جس کو ہم کھلاتے پلاتے رہتے ہیں جس کی پرورش کرتے ہیں جس کو پالتے ہیں جس کو طاقتور بناتے ہیں۔ ڈر کو پالیں گے تو ڈر جیت جائے گا اور یقین کو پالیں گے تو وہ ڈر کو چیر پھاڑ دے گا۔ ڈر کی سب سے اچھی خوراک ہوتی ہے اس کے بارے میں سوچتے رہنا اس کا ذکر کرتے رہنا اس سے ڈسکس کرتے رہنا اور یہی چیز ڈر کو طاقتور بناتی ہے۔ جب آپ کتاب لے کر بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ کہیں فیل نہ ہوجاوں تو آپ اپنے ڈر کے بھیڑیے کو کھانا کھلا رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ اپنے دوستوں سے بات کررہے ہوتے ہیں کہ کورس بہت زیادہ ہے اور وقت بہت کم رہ گیا ہے بہت مشکل ہے تو آپ ڈر کے بھیڑیے کو مضبوط اور طاقتور کررہے ہوتے ہیں جب آپ ڈر کو مضبوط کروگے پھر ڈر تو لگے گا۔
    ڈر سے جان چھڑانی ہے تو ناکامی اور ڈر کے بھیڑیے کو کھلانا پلانا بند کرنا ہوگا اس سے کمزور کرنا ہوگا۔ خود پر یقین رکھیں جو وقت برباد ہوگیا وہ تو گزر گیا ہے لیکن جو وقت آپ کے پاس ہے اسکو استعمال کریں۔ انسان کے ہاتھ میں کوشش کرنا ہے، نتیجے کا سوچنا چھوڑ دیں۔ اس بات پہ یقین رکھیں کہ کی گئی محنت کو خدا کبھی ضائع نہیں کرتا اس کا پورا پورا صلہ ضرور ملے گا.
    ناکام ہونے کا فیل ہونے کا سوچنے کیبجائے کامیاب ہونے کا سوچیں کیوں ڈریں کہ زندگی میں کیا ہوگا ہر لمحہ کیوں سوچیں کہ کچھ برا ہوگا۔ خود پر یقین کرکے چلیں تو ایک نہیں ہزار راستے آپ کے لیے کھل جاتے ہیں۔ مشکلوں سے ڈر کر کبھی ہمت نہ ہاریں بلکہ زندگی کو اپنے ہاتھوں سے سنواریں۔ جیتنا چاہیں گے تو جیت ملے گی ہار کا ڈر لے کر کبھی زندگی نہ گزاریں۔زندگی میں ہر روز کچھ نیا سیکھیں کچھ نیا کریں کچھ نیا سوچیں۔

    tweets @KharnalZ