Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے     فواد چوہدری

    کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے فواد چوہدری

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا کی پانچویں بڑی طاقت ہیں اور ہم نے کشمیر کے لیے 4 جنگیں لڑی ہیں مقبوضہ کشمیر کے لیے ہر وقت جنگ کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی ملک نے کسی علاقے پر قبضہ نہیں کیا۔

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

    فواد چوہدری نے کہا کہ مودی آر ایس ایس کی سوچ کے مطابق چل رہے ہیں۔ آج سلامتی کونسل، یورپی یونین اور برطانوی پارلیمان میں کشمیر پر بات ہو رہی ہے۔

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم مسئلہ کشمیر دنیا کے سامنے اجاگر کیا کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے پاکستان کےعوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے صدر مملکت ، وزیراعظم

  • خاندانی نظام کا بگاڑ اور بچاؤ۔ تحریر: نصرت پروین

    خاندانی نظام کا بگاڑ اور بچاؤ۔ تحریر: نصرت پروین

    گزشتہ دنوں مشہور اداکارہ (صدف کنول) نے اے آروائی کے ایک پروگرام میں ازواجی زندگی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کہ شوہر کو شوہر سمجھیں اور ایک درجہ اوپر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں میاں کلچر ہے۔ میں نے شادی کی ہے میں اپنے شوہر کے جوتے بھی اٹھاؤں گی ان کے کپڑے بھی استری کروں گی اور ان کے کھانے پینے کا خیال بھی رکھوں گی۔انہوں نے کہا کہ وہ عورت کو مظلوم نہیں مضبوط سمجھتی ہیں۔ اس کے بعد سے فیمنزم لبرل مافیا کی طرف سے انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی کردار کشی کی گئی کیونکہ انہوں نے فیمنسٹس کی طرح "میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ لگا کر اپنا جسم غیر محرموں کو دکھانے کے گھناؤنے فعل سے انکاری ہو کر اچھی بیوی بننے کی کوشش کی۔ اب ان لبرل انٹیوں کی بات کرتے ہیں۔ یہ مذہب بیزار طبقہ نام نہاد مغرب نواز کلچر کا پیروکار ہے جو ایک عرصے سے معاشرے میں خاندانی نظام کو تباہ کرنے پہ تلا ہے۔ اور بعض روایتی گھرانوں کی لڑکیاں بھی اس پروپیگینڈہ کا شکار ہوتی نظر آرہی ہیں۔ یہ فحش اور عریاں قسم کی بےجا آزادی کے نعرے خاندانی نظام کے بگاڑ کا باعث ہیں۔ یہ بےلگام آزادی، فحش پوسٹرز اور آوارہ گردی معاشرتی انتشار کا باعث ہیں۔ یہ دوسروں کو اپنا جسم اپنی مرضی کے مطابق جینے کا درس دینے والی لبرل انٹیوں کے کھوکھلے نعرے ہیں۔ جن کی سڑکوں پر نمائش کی جاتی ہے۔ ماڈرن ازم (بے حیائی) کی طرف رغبت دلانے اور فیشن کے طور پر آزادی کے فحش نعرے لگانے والوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ اوراس فحش طرزِ معاشرت کی معراج یہ ہی سب کچھ ہے جس کے نعرے یہ لبرل انٹیاں لگاتی ہیں۔ یہ انہی جعلی دانشوروں کا بدبو دار لبرل طرزِ زندگی ہے جہاں ان کے انہی نعروں کی بدولت آئے روز ناجائز تعلقات اور تماشے بنے رہتے ہیں۔ ان لبرل مافیا کا اصل مقصد ہی خاندان کا بگاڑ اور مادر پدر آزادی ہے۔
    بات یہ ہے کہ معاشرے کی ترقی میں عورت کی خدمات سے انکاری کوئی نہیں۔ لیکن عورت کے حقیقی کردار کا تعین دینی اور معاشرتی اقدار کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔ مغربی حقوق کا تصور اسلام میں نہیں۔ کیونکہ اسلام عورت کو مغرب کی بے جا فحش آزادی کے سنگین نتائج سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کا نظام دیا ہے۔ مہذب اقوام مہذب معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور مہذب معاشرے کی بنیاد نکاح پر ہے۔ امام ابن القيم رحمه الله شادی کی ترغیب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ۱. اگر شادی کی اہمیت و فضیلت میں صرف نبی صلی الله علیه وسلم کا روز قیامت اپنی امت کو دیکھ کر خوش ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۲. موت کے بعد نیک عمل کا (بصورت صالح اولاد) جاری رہنا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۳. ایسی نسل جو الله کی وحدانیت اور نبی کی رسالت کی گواہی دیتی ہو، کا پیدا ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۴. محرمات سے آنکھوں کا جھک جانا اور شرمگاہ کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۵. کسی خاتون کی عصمت کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ میاں اور بیوی اپنی حاجت پوری کرتے ہیں، لذت اٹھاتے ہیں اور ان کی نیکیوں کے دفتر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
    ۶. مرد کا بیوی کے پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے اور کھانے پینے پر خرچ کرنے کا ثواب ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۷. اسلام اور اس کے ماننے والوں کا بڑھنا اور اسلام دشمنوں کا اس پر پیچ و تاب کھانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۸. بہت سی عبادات، جو تارکِ دنیا درویش نہیں بجا لا سکتا، کا بجا لانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۹. دل کا شہوانی قوت پر قابو پا کر دین و دنیا کیلیے نفع مند کاموں میں مشغول ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ کیونکہ دل کا شہوانی خیالات میں گِھر جانا، اور انسان کا اس سے چھٹکارے کی جد و جہد کرتے رہنا بہت سے مفید کام نہیں ہونے دیتا۔
    ۱۰. بیٹیوں کا، جن کی اس نے اچھی پرورش کی اور ان کی جدائی کا غم سہا، جہنم سے ڈھال بن جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۱۱. دو بچوں کا کم عمری میں فوت ہونا جو اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتے، ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔
    ۱۲. الله کی خصوصی مدد کا حاصل ہو جانا ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔ کیونکہ جن تین لوگوں کی اعانت الله کے ذمے ہے، اس میں ایک پاکیزگی کی خاطر نکاح کرنے والا بھی ہے۔”
    (بدائع الفوائد : 159/3)

    اسلام میں مرد اور عورت میں بحیثیت انسان کوئی فرق نہیں۔ اسلام میں دونوں کا درجہ مساوی ہے۔ دینی معاملات میں بھی دونوں الله کے سامنے جوابدہ ہیں۔ تاہم دونوں کو صلاحیتوں، فطرت اور جسم کے لحاظ سے الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ الله رب العزت نے مرد کو معاشی ذمہ داری سونپ کر قوام کا درجہ دیا ہے۔ مرد اور عورت دونوں کے مشترکہ حقوق ہیں۔ کچھ حقوق شوہر کے ہیں اور کچھ بیوی کے ہیں۔ بیوی کے حقوق شوہر کے فرض ہیں۔ اور شوہر کے حقوق بیوی کے فرض ہیں۔ شوہر بیوی کے درمیان محبت بھرا تعلق الله تعالی کی رحمت ہے۔ الله نے شوہر بیوی کے رشتے کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔
    وہ تمہارے لئے لباس ہیں تم ان کے لئے لباس ہو۔
    (سورہ بقرہ:187)
    اور اس طرح دونوں ایک دوسرے کے رازدار اور امین ہیں۔ رازداری میں خیانت نہیں ہونی چاہئیے۔ خوشگوار زندگی کے لئے سیدھی سچی کھری بات، بہت ضروری ہے۔ خیر خواہی سے باہمی اعتماد کی فضا ہوتی ہے۔
    رسول نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو۔
    (ترمذی:1162)
    رسول الله گھر کے کام کاج میں بیویوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے یہ مشترکہ حق ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے ہمارے معاشرے میں اس معاملے میں حقوق کی خلاف ورزی ہے مثال کے طور پر:
    الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم اپنے کپڑے خود دھو لیتے تھے۔ آج کے مرد کیا یہ کام کرتے ہیں؟
    آپ صلی الله علیہ وسلم پیوند خود لگا لیتے تھے آج کے مرد یہ کام نہیں کرتے۔
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جھاڑو لگا لیتے تھے آج کا مرد اس سے عار محسوس کرتاہے۔
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بکریوں کا دودھ خود نکالتے تھے۔ آج کا مرد یہ سارے کام نہیں کرتا۔

    تعلقات میں نرمی اختیار کرنی چائیے۔
    (صحیح مسلم:6602)
    ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ہاں عورت پر ظلم نہیں ہوتا۔ بلکل عورت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے لیکن یہ تاثر دینا کہ یہ معاشرے کی ہر عورت کی کہانی ہے لہذا معاشرے کی ہر عورت سڑکوں پہ نکل آئے۔ اپنے باپ، بھائی، شوہر بیٹے پر چلائے اور مغرب کی طرح بے جا آزادی، اور خودمختاری ہو۔ جو جی چاہے کرے، جہاں جس کے ساتھ چاہے جائے۔ پھر اس کے نتائج بھی ویسے ہی آتے ہیں۔ اب معاشرے میں آئے روز جنسی زیادتی کے جو واقعات اتنی شدت سے بڑھ رہے ہیں ان کا زیادہ ذمہ دار یہ لبرل طبقہ ہی ہے۔ اسلام نے جو حدود مرد اور عورت کے لئے متعین کی ہیں ان کو پھلانگ کر یہ خاندانی نظام کو تہس نہس کرنے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔
    باہمی ادب، اعتماد، خلوص، احترام، حدود و قیود، یہ خاندانی نظام میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گھر کا خوشگوار ماحول ، چہروں کا کھلا پن، شگفتگی، کام کی تھکن اتار دیتا ہے۔ یہ خاندانی نظام کی اہم ضرورت ہے جس کا دونوں کو خیال رکھنا چاہئیے شگفتگی صرف عورت کی طرف سے نہیں مرد کی طرف سے بھی ہونی چاہئیے یہ عجیب بات ہے کہ مرد گھر سے باہر جائے جب واپس آئے تو گھر والوں کے لئے بیزاری اور تھکن ہی ہو بیزاری، غصہ اور ڈانٹ ڈپٹ گھر والوں کے حصے میں آئے یا گھر والوں اور بچوں کے معاملات سے لا پرواہی یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ گھر والوں کا پہلا حق ہے کہ ان کے ساتھ شگفتگی کا معاملہ کیا جائے۔ بہترین خاندانی نظام کے لئے آپس کی بھلائی کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے۔
    یاد رکھیں کہ دنیا کی بہترین متاع عورت ہے۔ ایک اچھی بیوی شوہر کو مدِ مقابل نہیں بلکہ اپنا ساتھی سمجھتی ہے۔ صرف توجہ نہ چاہیں بلکہ توجہ شوہر کو بھی توجہ دیں۔شفقت کرنے والی، خیال کرنے والی بنیں۔
    الله کی نظر میں صالح عورت وہ ہے جو شوہر کی فرمانبردار ہو۔ اور اسکی غیر موجودگی میں اپنی عزت اور گھر کی حفاظت کرے۔ صالح عورت شکر گزار، اور مضبوط ہوتی ہے وہ کبھی بکھرتی نہیں اور نہ ہی اپنے خاندان کو بکھرنے دیتی ہے۔ دوسری جانب اسلام نے معاشی ذمہ داریاں مرد کو دے کر اسے سربراہ کی حیثیت دی ہے لہذا اسے اپنی تمام معاشی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو احسن طریقے پورا کرنا چاہیے۔ اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے ۔ مردوں میں بہترین وہی ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ اخلاق میں بہتر ہو۔ اس طرح ایک اچھے خاندان کی تشکیل میں دونوں اپنا کردار ادا کریں۔
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • فیفتھ جنریشن وارفیئر میں سوشل میڈیا اور ہمارا کردار  تحریر: سیرت فاطمہ

    فیفتھ جنریشن وارفیئر میں سوشل میڈیا اور ہمارا کردار تحریر: سیرت فاطمہ

    فیفتھ جنریشن وار فئیر بنیادی طور پر وہ غیر اعلانیہ جنگ ہے جس میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ اپنے ہی مُلک اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہو جائیں۔
    بیانیے کی اِس جنگ میں غلط معلومات کا پھیلاؤ ، سائبر حملے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگینڈہ کا فروغ وغیرہ یہ تمام فیفتھ جنریشن وارفئیر کے ٹولز ہیں۔ یعنی اِن کے ذریعے یہ وار لڑی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم اِسی وارفیئر کا شکار ہیں
    جس کی واضع مثال ہے کہ اِسی سال جنوری میں اینڈیں کرونیکلز کے نام سے یورپی یونین ڈیس انفو لیب رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ کس طرح ایک نیٹورک گزشتہ 15 سال سے 116 ممالک میں پانچ سو فیک میڈیا آؤٹلیٹس اور درجنوں فیک این جی اوز کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور پاکستان کے متعلق غلط خبریں پھیلانے کے محاز پر سرگرم تھا۔
    اِس نیٹورک کا مقصد یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان مخالف بیانیہ کا پھیلاؤ اور بھارت نواز بیانیہ کا فروغ تھا۔
    چند دوسری مثالوں میں فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بلوچستان، وزیرستان اور گلگت بلتستان کے متعلق فیک پروپیگنڈہ پھیلانا، CPEC کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پھیلانا اور پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے خلاف فیک احتجاج کی ویڈیوز اور مختلف خبروں کی فیک ایڈیٹڈ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونا شامل ہیں۔
    خوش قسمتی سے پاکستان کے محافظ اور ہر دم وطنِ عزیز کی خدمت میں سرگرمِ عمل رہنے والی سیکیورٹی ایجنسیز کی قربانیوں اور بروقت حکمتِ عملی کے باعث اینڈین کرونیکلز نامی پروپیگنڈہ مشینری پاکستان کو کوئی بڑا نقصان نا پہنچا سکی۔ مگر اِس کے باوجود یہ اور اِس طرح کی دوسری پروپیگنڈہ مشینریز متحرک ہیں اور ہر حد تک پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
    اِس پروپگنڈہ مشینری کا مقصد لوگوں کے نظریات کو یکسر بدل کر اُن میں وطن و اداروں مخالف جذبات پیدا کر کے اُنھیں اُن کے ہی مُلک کے خلاف کر دینا، پاکستان میں ہونے والے ہر اچھے کام میں کیڑے نکال کر پیش کرنا، CPEC جیسے اہم ترین منصوبے کے خلاف لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور لوگوں کی محرومیوں کا فائدہ اٹھا کر قوم پرستی کے جذبات کو منفی ہوا دے کر وطنِ عزیز سے ناراضگی یا نفرت پیدا کرنا شامل ہیں۔
    یعنی اِن تمام مثالوں سے یہ تو واضع ہو گیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا دراصل فیفتھ جنریشن وارفیئر کا میدان جنگ ہے۔ اور یہ باقی تمام میدانوں سے خطرناک ہے کیونکہ باقاعدہ جنگ میں آپ کو دشمن کے ہتھیاروں، تربیت اور طاقت کا اندازہ ہوتا ہے مگر فیفتھ جنریشن وارفیئر سے جڑے سوشل میڈیا کے جنگی میدان پر آپ کو دوست دشمن کا علم نہیں ہوتا۔ جانے انجانے میں لوگ پروپیگینڈہ کا شکار یا حصہ بن کر ایک غلط نظریہ اپنا لیتے ہیں جانے انجانے میں دشمن کی باتوں کو سچ ماننے لگتے ہیں۔ تاہم اب ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پاکستان کی مثبت تصویر دیکھانے، فیک نیوز کی روک تھام کرنے، دشمن کی چالوں کو پلٹنے اور وطنِ عزیز کے حق میں بہترین تجاویز پیش کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اِس سے فائدہ اٹھا کر مثبت کام لینے کی ضرورت ہے۔
    اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر نیوز، پوسٹ اور معلومات بغیر کسی تحقیق کے آگے شیئر کر دی جاتی ہے جِس کی وجہ سے جھوٹ اور غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔ کچھ نادان لوگ دانستہ و غیر دانستہ طور پر اِن غلط فہمیوں کا شکار ہو کر اداروں اور مُلک پر بے جا تنقید کرنے لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی غلط فہمی کو اور طول ملتا ہے۔ اور نتیجتاً ایک من گھڑت غلط افواہ ایک خبر کا روپ دھار لیتی ہے۔
    بلکل اِسی طرح وہ لوگ یا بچے جو سوشل میڈیا نیا نیا استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو جو کچھ بھی اُن کی نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے اُس کو سچ مان لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھی نا چاہتے ہوئے دشمن کے پروپیگنڈہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
    افسوس سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا سے متعلق سخت قوانین کا فقدان ہے مگر یہ وطنِ عزیز ہم سب کا ہے ہم سب اِس کا حصہ ہیں۔ اِس کی حفاظت کی زمہ داری ہم سب پر ہے لہذا قوم، صوبے، فرقے اور سیاسی پسندیدگی سے بالا تر ہو کر ہمیں صرف پاکستان کا مفاد سوچتے ہوئے کسی متنازع خبر، معلومات یا تحریر کو آگے شیئر کرنے سے پہلے تصدیق لازمی کرنی چاہیے۔
    ہم سب کا فرض ہے کہ دشمن کے وطن مخالفت پروپیگنڈہ کے آگے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہو جائیں نا صرف خود کو پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مشینری کا حصّہ بننے سے روکیں بلکہ اپنے بچوں، آس پاس کے لوگوں اور جاننے والوں کو بھی اِس سے آگاہ کریں۔ پاکستان کے محافظ اور ہمارے لیے جان کی بازی لگا دینے والے ہمارے سیکیورٹی اداروں کی سپورٹ کریں اور پاکستانیت کے فروغ کے ذریعے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دیکھائیں۔
    اللّٰہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    @FatimaSPak

  • پاکستان اور اووسیز پاکستانی  تحریر:سکندر ذوالقرنین

    پاکستان اور اووسیز پاکستانی تحریر:سکندر ذوالقرنین

    پاکستان اور سمندر پار پاکستانی کا تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں چند مہینوں سے پاکستان سے ہماری محبت کچھ لوگوں نے اپنے پیمانوں سے ناپنا شروع کر دی
    تھی ہماری محبت لازوال ہے

    جس کا ثبوت

    پچھلے چند مہینوں سے دے رہے ہیں ہیں ہماری صبح بھی پاکستان کے لیے دعا سے شروع ہوتی ہے پچھلے دس مہینوں سے دو ارب ڈالر بھیج رہے ہیں یہ پاکستان سے محبت نہیں تو اور کیا ہے کیونکہ اووسیز پاکستانیوں کو عمران خان پر اعتماد ہے اور اللہّ کرے عمران خان ہماری توقعات پر پورا اتریں

    یہاں ہر کوئی کروڑ پتی نہیں ہے زیادہ لوگ یہاں مزدوری کرتے ہیں اور اپنی فیملی سے دور ہیں ان کی صبح شام بھی پاکستان ہی ہیں

    یورپ آنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا سمجھنا چاہتا ہے یورپ والے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر آتے ہیں ان کا یہ سفر پاکستان سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد ایران

    اور ترکی کا یہ سفر انتہائی خطرناک ہوتا ہے یہاں دوران سفر کوئی کسی کا نہیں ہوتا سوائے اللہ کے کسی کو بھوک پیاس کی فکر نہیں ہوتی ہے بس منزل پرپہنچنے کا جنون ہوتا ہے

    دوران سفر کئی روز تک بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے اور سر پر چھت آسمان اور بستر زمین ہوتی ہیں میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے یہ بھی کوئی نہیں پتہ کہ کسی وقت کہیں سے بھی گولیاں سکتی ہے ترکی آنے پر بھی بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے

    ترکی آنے پر کہیں دنوں کا انتظار کیا جاتا ہے ہے کہ کوئی بڑا شپ آئے گا اور یہاں سے آگے لے جائے گا

    یونان پہنچنے کی امید ہوتی ہے اگر وہ خیر سے کوئی پہنچ جائے تو وہاں کی پولیس سیاسی پناہ گاہوں میں ڈال دیتے ہیں اور روٹی کے لئے لمبی لائنیں اور بہت ہی گندا سسٹم پایا جاتا ہے اگر کوئی کام مل جائیں تو اس کے مقدر اچھے

    اٹلی فرانس اور جرمنی میں آتے آتے بہت وقت لگ جاتا ہے اور کبھی کبھی تو کہیں یہاں پہنچ نہیں سکتے ۔ مطلب کے راستے میں ہی فوت ہو جاتے ہیں اور اپنے پچھلے خاندان کو ساری عمر کا رونا بھی دے جاتے ہیں
    دو ہزار پندرہ میں بہت آسانی ہوئی تھی کہتے ہیں ایک ماہ سے کم وقت میں بھی لوگ یہاں پہنچے ہیں

    اٹلی فرانس جرمنی پہنچ جانے پر بھی اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لیتی

    یہاں آ کر ایک نیا امتحان شروع ہوتا ہے ہے اور وہ ہی اپنے آپ کو لیگل کرنا

    اپنے آپ کو لیگل کروانے کے لیے کسی کے تو دو تین سال لگتے ہیں اور کئ کو تو دس سال تک کا عرصہ لگتاہے

    پچھلے چند مہینوں سے ہم پاکستانی سیاست میں بہت بحث رہے ہیں کہ ایک صاحب نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں پاکستانی سیاست کا کیا پتا حالانکہ موجودہ دور میں ان کے اپنے لیڈر بھی اوورسیز کی حیثیت سے لندن میں موجود ہیں پتہ نہیں انکو کیا خوف ہے

    ہمارے چند مطالبات ہیں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ضرور ملنا چاہیے ہمارے ایک موبائل فون پر ٹیکس کے بغیر لانے کی اجازت ہونی چاہیے کرونا سے پروازوں کا مسئلہ بہت چل رہا ہے اس کو فوری حل کرنا چاہیے
    وہاں پاکستان میں موجود اووسیز پاکستانیوں کے لیے ویکسین کا مسئلہ بہت زیادہ دیکھا جا رہا ہے اس کا بھی حل فوری طور پر کرنا چاہیے

    روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی سہولت بہت فائدہ مند ہے لیکن اکثر وہاں پیسے لیتے ہوئے بہت مسئلہ رہتا ہے جیسا کہ ایک دوست سعودی عرب میں رہتا ہے اس کی فیملی رقم لینے گئی تو کبھی ایک بینک والے دوسرے بینک اور دوسرے
    والے اسے واپس اسی بینک میں چکر لگواتے رہے
    ‏@sikander037
    #sikander

  • بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے       وزیراعظم عمران خان

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 2 سال ہو چکے ہیں بھارت کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے جغرافیائی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوم استحصال پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نےغیرقانونی تسلط برقراررکھنے کے لیے فوجی محاصرہ کیا اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق پر پابندیاں بھی عائد کردیں لیکن وہ کشمیریوں کے پختہ ارادوں کو متزلزل نہیں کرسکا۔

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے صدر مملکت ، وزیراعظم

    عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کومسلسل انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے بھارتی اقدامات کویکسرمسترد کیا ہے عالمی فورمزپربھارتی اقدامات پرکڑی تنقید کی گئی ہے پاکستان کشمیریوں کی قربانیوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے کشمیری حق خود ارادیت کے حصول کے لیے پرعزم جدوجہد کررہے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں واضح طور پر کہا کہ کشمیرکاز سے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں۔

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

  • طاقت کا غرور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے تحریر: شمسہ بتول

    کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ جہاں طاقت کا جاٸز استعمال معاشرے میں امن و سکوں اور عدل و انصاف کی فضا قاٸم کرتا وہیں طاقت کا ناجاٸز استعمال معاشرے کی بنیادوں کو کھوکلا کر دیتا اور معاشے کو تباہی ی طرف دھکیل دیتا اور بہت سی سماجی اور معاشرتی براٸیوں کا باعث بنتا۔ اگر طاقت کا نشہ سر چڑھ جاۓ تو انسان حیوان بن جاتا بے جا ظلم اور زیادتی حد سے بڑھنے لگتی اور یوں ظلم اور نا انصافی کا آغاز ہوتا اور اس طرح آمریت جنم لیتی جس میں تمام تر فیصلے ایک ہی شخص کرتا کسی دوسرے کو آزادی راۓ کا حق حاصل نہیں ہوتا
    اور باقی تمام لوگ اس کے تابع ہوتے اس کے ظلم اور طاقت سے ڈر کر کسی کو بھی اس سے سوال کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں جب کسی کو اقتدار ملتا ہے تو اقتدار پر قابض ہوتے ہی وہ خود کو خدا تصور کرنے لگتا وہ یہ بھول جاتا کہ اس نے عوام سے کیا کیا وعدے کیے تھے وہ صرف اپنی طاقت کے نشے میں دھت ہو جاتا نہ صرف اپنے فراٸض اور ذمہداریاں بھول جاتا بلکہ اخلاقیات کو بھی بالاۓ تک رکھ دیتا
    : طاقت کے غرور میں ڈوبا ہوا شخص کرپشن اوربدعنوانی اور دیگر جراٸم بڑے فخر سے سرانجام دیتا جیسے یہ اس کا حق ہو
    : اگر کوٸی وڈیرا ہے تو اپنے ملازموں پہ اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتا ہے ۔ غرض جس کے پاس بھی کوٸی منصب یا مقام آ جاۓ تو وہ دوسروں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے ۔ یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں طاقتور کو سراہا جاتا چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جرم کہلاتا ہے اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے سے ڈرایا جاتا دھمکایا جاتا ہے
    طاقت کی بنیاد پر انصاف بیچ دیا جاتا اور مظلوم خاموشی سے برداشت کرتا۔ اسے اپنے حق کی خاطر آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی اور مظلوم کی دادرسی کرنا طاقتور کی توہین سمجھی جاتی۔طاقت کے اس معیار نے ہمارے معاشرے کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ابھ بھی پہنچایا جا را رہا ہے۔
    تکبر کا حق صرف اللہ تعالی کا ہے ہم جیسے خاک کے پتلوں کو نہیں ہمارے پاس جو بھی ہے یہ سب اللہ کی عطا اور کرم ہے ہمارا کمال نہیں اس لیے اس عارضی طاقت کے نشے سے باہر نکلیں کیونکہ جو دینے پر قادر ہے وہ لینے پر بھی قادر ہے ۔ ایک دوسرے کو انسان سمجھ کر ایک دوسرے کے ساتھ احسن سلوک کریں
    اللہ کو عاجزی پسند ہے نہ کہ تکبر اور اکڑ۔ ہم مٹی کے بندے ہیں اور ایک دن مٹی ہی ہو جاٸیں گے اس لیے عاجزی اختیار کریں کسی کو حقیر یا کمتر نہ سمجھنا محض اس لیے کہ آپ کے پاس منصب یا دولت کی طاقت ہے۔
    ہم انسان جو کہ خاک کے پتلے ہیں اور ایک دن خاک ہو جاٸیں گے۔ لیکن پھر پتہ نہیں انسان میں اکڑ اور غرور کس چیز کا ہے۔ نہ تو انسان اپنی مرضی سے اس دنیا میں آیا نہ ہی ہمیشہ یہاں رہے گا مختصر یہ کہ نہ زندگی کا اعتبار اور نہ موت کا خبر اور اس دنیا میں آنے پہ بھی دوسرے غسل دیتے اور جانے پہ بھی دوسروں نے غسل دینا مگر پھر بھی طاقت کا یہ خطرناک نشہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا کیونکہ ہم نے خود طاقتور کو اسکی طاقت کے ناجاٸز استعمال کی شے دی اس کے ظلم پر خاموش رہ کر اور مظلوم کے ساتھ نہ کھڑے ہو کر۔ ہمارے اس دنیا میں آنے اور یہاں سے جانے میں صرف ایک ازان اور نماز کا فاصلہ ہے۔
    پھر پتہ نہیں انسان کس طاقت پہ تکبر کر کے انسانی اور اخلاقی اقدار سے خود کو گرا دیتا ہے?

    @b786_s

  • وار جنریشنز کیا ہے؟  تحریر: محمد اسعد لعل

    وار جنریشنز کیا ہے؟ تحریر: محمد اسعد لعل

    شروع سے ہی انسان کی جبلت میں لڑنا قبضہ کرنا شامل ہے۔اپنے لوگوں کے لیے اپنے مذہب کے لیےاپنے جذبات کے لیےاپنے اندر پیدا ہونے والی نفرت کے لیے وہ دوسرے انسان پر حملہ کرتا ہے۔گروہوں میں لڑنے لگا تو جنگیں شروع ہو گئیں۔ اب تک بڑی بڑی عظیم جنگیں ہو چکی ہیں۔اب جو جدید دور آیااُس میں پانچ جنریشنز بنائی گئیں جو جنگ کی اقسام ہیں۔دو جنگیں جب بھی ہوئی ان کے درمیانی وقفے کو امن کہتے ہیں، اور یہ وقت انسانوں کو بہت کم نصیب ہوا۔کیوں کہ جب سے دنیا بنی ہے جنگیں ہوتی چلی آ رہی ہیں۔اربوں انسان اب تک اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، بے شمار انسانیت کا قتل ہو چکا ہے۔انسانوں نے ہی انسانوں کو قتل کیا ہے۔اس کیے کہتے ہیں کہ انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
    فرسٹ جنریشن وار 1648 میں شروع ہوتی ہے۔اس وقت یورپ کے عیسائی آپس میں لڑ رہے تھے۔ اس دور میں مذہبی رہنماؤں کےکنٹرول میں فوجیں ہوا کرتی تھیں۔ چرچ فیصلہ کرتا تھا کہ کدھر حملہ کرنا ہے اور کیسے جنگ لڑنی ہے۔ آج کل پاکستان میں ترقی ڈرامہ ارطغرل بہت شوق سے دیکھا جا رہا ہے اس میں بھی کافی حد تک چرچ سے فوج کو کنٹرول کیا گیا ہے۔تب بادشاہ کٹپتلی کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔1648 میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مذہب کو انہوں نے جنگ سے الگ کر دیا۔فوجیں پھر ریاست اور ان کے حکمرانوں کے پاس چکی گئیں۔فوجیوں کو پہلی مرتبہ باقائدہ یونیفورم دیاگیا۔فوجی اور عام آدمی میں واضح فرق نظر آتا تھا۔ اس وقت پیدل فوج اور بنیادی ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑی جاتی تھی، یہ بنیادی ہتھیار تلوار، تیر اور نیزےیا ایسے ہی دیگر ہتھیار تھے۔فرسٹ جنریشن وار کے آخر میں بندوق کا استعمال بھی کیا گیا۔یہ بندوقیں آج کی جدید بندوقوں سے مختلف ہوا کرتی تھیں۔ اسے بہت مشکل سے استعمال کیا جاتا تھا۔تب جنگیں خالی میدانوں میں جا کر لڑی جاتی تھیں۔ اس دور میں فوجی جرنیل اپنی فوج کے ساتھ ہی میدانِ جنگ میں موجود ہوتے تھے ۔
    سیکنڈ جنریشن وارکا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔ اس جنریشن میں فرسٹ جنریشن وار کو موڈیفائی کیا گیا۔پہلے اگر بندوق کی رینج 10،20یا 50 میٹر تک تھی تو اب اس کی رینج 100،200یہاں تک کہ 500 میٹر تک ہو گئی تھی۔ فوجیں دور سے ہی اپنے دشمنوں پر حملہ کرتی تھی۔اب ان بندوقوں کو استعمال کرنا آسان ہو گیا تھا۔ان ہتھیاروں نے جنگ کا طریقہ کار ہی بدل دیا ۔اس دور میں ہی پہلی مرتبہ کیموفلج کپڑوں کا استعمال کیا گیا جسے فوجی پہن کر گردونواح کے مطابق خود کو ڈھال کر چھپ جاتے تھے۔فوج کو چھوٹے چھوٹے یونٹس میں بانٹ دیا گیا ۔جو جلدی حملہ کر کے چھپ جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ تھرڈ جنریشن وار میں بھی یہ طریقے استعمال کیے گے اور اب بھی یہ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
    گولہ باری ،ایٹم بم اور راکٹ بھی اسی دور کے آخر میں استعمال کیے گئے۔ جبکہ اس دور میں جرنیل فوجیوں کے ساتھ نہیں ہوتے تھے ،بلکہ محفوظ جگہ سے ریڈیو پر احکامات دیے جاتے تھے۔ اسی دور میں ہی پہلی بارکوڈ وارڈ استعمال کیے گئے تاکہ دشمن کو حکمتِ عملی کا پتہ نہ چل سکے۔
    امریکی سول وار ، سپینش سول وار اس کے علاوہ ایرن اور عراق کی جنگ 1980 سے 1988 تک سیکنڈ جنریشن وارکی مثالیں ہیں۔
    اب چلتے ہیں تھرڈ جنریشن وار کی طرف۔ تھرڈ جنریشن وار میں مزید جدت آ گئی۔اب صنعتی انقلاب بھی آ گیا تھا۔دنیا اور ٹیکنالوجی بہت آگے بڑھ چکی تھی۔جنگ لڑنے والے ممالک نے یہ محسوس کیا کہ رفتار کی بڑی اہمیت ہے۔جتنی تیزی سے آپ جاتے ہیں اور جتنا آپ سرپرائز دیتے ہیں اُتنا زیادہ آپ اچھا لڑ سکتے ہیں۔اس جنریشن نے تیزی سے حملہ کرنے کے لیے ٹینکس بنائے۔ ہیلی کاپٹراورجہاز بنائے جواوپر سے بم پھینکتے تھے ۔ خطرناک میزائل استعمال کیے گئے۔ تھرڈ جنریشن وار زیادہ خطرناک تھی ۔اس میں ایک آدمی سیکڑوں لوگوں کو مار سکتا تھا۔جس فوج کے پاس ٹیکنالوجی کم ہوتی تھی اس کا فائدہ دوسری افواج اُٹھا لیتی تھیں۔رفتارحد سے بڑھ چکی تھی،دنوں کے فاصلے گھنٹوں اور منٹوں میں طے ہونا شروع ہو گئے تھے۔
    پاکستان اور انڈیا کی جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں وہ سیکنڈ اور تھرڈ جنریشن وار فیئر کی جنگیں ہیں۔ کوریاکی جنگ،سوویت یونین ،امریکہ کی سرد جنگ ، اسرائیل اور عربوں کی جنگ اور افغانستان میں امریکہ کی جنگ تھرڈ جنریشن وار فیئر کی مثالیں ہیں ۔
    آج بھی اگر کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک سے بَراہِ راست لڑے گا تو تھرڈ جنریشن وار کو ہی استعمال کرے گا۔ اس وقت ترقی اور یونان کے درمیان جنگ کا خطرہ ہے اگر جنگ ہوئی تو یہ تھرڈ جنریشن وار ہی ہو گی۔
    اب دیکھتے ہیں کہ فورتھ جنریشن وار کیا ہے۔اس میں فوج اور عام عوام کے درمیان فرق ختم کر دیا جاتا ہے۔اس میں سیاست اور جنگ مکس ہو جاتی ہے۔ فورتھ جنریشن وار میں یہ کیا جاتا ہے کہ پروپیگنڈہ کے ذریعےسے،فنڈنگ کے ذریعے سے،لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ،لوگوں کی غربت ، محرومیوں اور ناانصافیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے،نوجوانوں کو گمراہ کر کے ایسا لٹریچر دیا جاتا ہےجس پر اُن کے جذبات بھڑکتے ہیں اور پھر وہ ایک ایسے گروہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو اپنی ہی ریاست کے خلاف جنگ کر دیتے ہیں یا پھر ایسا گروپ بن جاتا ہے جو کسی خاص مقصد کے تحت خاص قسم کے لوگوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔اس کو کہتے ہیں فورتھ جنریشن وارفیئر۔اس کا آغاز 1989 میں امریکہ نے اپنی شاطر ذہنیت کے ساتھ کیا تھا۔
    ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) فورتھ جنریشن وار کی مثال ہے جس نے پاکستان پر حملے کیے۔ایک وقت ایسا تھا کہ چالیس حملے ہوے پاکستان میں۔کبھی جی ایچ کیو پر حملہ کیا تو کبھی مساجد پر ،کبھی امام بارگاہ پر حملہ کیا تو کبھی بازاوں میں بم دھماکے۔یہ حملے فورتھ جنریشن وارفیئر کے حصہ تھے۔ٹی ٹی پی اور دوسرے گروہوں کو باقائدہ انڈیا ،اسرائیل اور سی آئی ای کی جانب سے فنڈنگ کی گئی۔
    فورتھ جنریشن وار فیئر میں آج تک صرف ایک ملک ہے جس نے یہ جنگ جیتی ہے باقی ساری ریاستیں ہاری ہیں ۔ جہاں جہاں یہ جنگ چھڑی کوئی اس کو نہیں جیت سکا سوائے ایک ملک کے اور وہ ملک ہے پاکستان۔اس میں پاکستان کا بہت نقصان بھی ہوا اور فورتھ جنریشن وار ہے ہی مسلمانون کے خلاف کیونکہ اسے امریکہ نے شروع کیا تھا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کے اور مسلمانوں کے خلاف شروع کیا۔لیکن پاکستان اس سےکامیابی کے ساتھ لڑا اور اپنی جیت ثابت کی۔
    یہ تو تھیں پہلی چار جنریشنز وار پانچوی بہت اہم ہے اس پر الگ سے تفصیل سے لکھوں گا اور انشاءاللہ بہت جلد آپ باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر پڑھ سکیں گے۔ تب تک کے لیے اَللہ نِگَہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • بے حیا ہمارا معاشرہ اور زمانہ جاہلیت  تحریر : فیصل اسلم

    بے حیا ہمارا معاشرہ اور زمانہ جاہلیت تحریر : فیصل اسلم

    اگر ہم تاریخ کا مطالع کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کے زمانہ جاہلیت یعنی نبی پاک ﷺ کی ولادت مبارکہ سے پہلے کے زمانے میں عربوں میں بے حیائی اور بے شرمی عام تھی مرد و عورت کے ناچ گانے سے محظوظ ہونا یہ سب اس وقت بھی عام تھا ۔
    عرب کے بڑے بڑے شعرا عورتوں کے نازیبا حرکتوں اور اداوں کا ذکر اپنی شاعری میں فخریہ کرتے تھے اور اسی طرح بعض لوگ باپ کے مرنے پر معاذاللّه باپ کی بیوی یعنی اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتے ۔ان کے علاوہ بھی بے شرمی و بے حیائی کی رسمیں ان میں عام تھیں الغرض جاہلیت کے معاشرے کا شرم و حیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا ۔
    لیکن جب ہمارے پیارے رسول ﷺ دنیا کو اپنی نورانی تعلیمات سے منور کرنے تشریف لائے تو آپ نے اپنی نگاہ حیا دار سے ایسا ماحول بنایا کے ہر طرف شرم و حیا کی روشنی پھیلنے لگی جناب عثمان رضی اللّه عنہ جیسے لوگ پیدا ہونے لگے جن کے بارے میں خود نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کے عثمان سے تو آسماں کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں
    اور اسی باحیاپرور ماحول کا نتیجہ تھا کے جب حضرت ام خلاد نامی صحابیہ کا بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا تو یہ اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات لینے باہر نکلیں تو اس وقت بھی اپنے چہرے پر نقاب ڈالنا نہیں بھولیں
    چہرے پر نقاب ڈال کے جب بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئیں تو اس پر کسی نے حیرت سے کہا اس وقت بھی با پردہ تو بی بی ام خلاد کہنے لگیں کے میں نے اپنا بیٹا ضرور کھویا ہے لیکن اپنی حیا نہیں کھوئی وہ اب بھی باقی ہے
    معلوم ہوا کے نبی پاکﷺ نے اپنے ماننے والوں پر شرم و حیا پر مبنی زبردست ماحول بنایا اور آج ہم دیکھتے ہیں کے شرم و حیا کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ لوگ جو شرمیلے ہوں فطرتی طور پر ان میں شرمیلا پن زیادہ ہو اور وہ اسکا اظہار کریں تو انکو طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں ایسوں کو یاد رکھنا چاہیے کے شرم و حیا ایک ایسی صفت ہے جو جتنی زیادہ ہو اتنا ہی خیر میں اضافہ ہوتا ہے اسلئے رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کےحیا صرف خیر ہی لاتی ہے

    اور ہمارے معاشرے میں گردش آیام یا شامت اعمال نے جس طرح آج مسلمانوں کو جس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے وہ کون سی آنکھ ہوگی جو ہماری زبوں حالی اور ذلّت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو مسلمانوں کی ذلّت و رسوائی ، خوارگی ، بدنامی ، بے عزتی و محرومی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کیا کل بھی مسلمانوں کے احوال و کوائف یہی تھے جو آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں
    انگریزی تہذیب ایک فتنا بار گھٹا بن کر افق عالم پر چھائی ہوئی ہے اور اکثر ممالک میں یورپی تہذیب ایک فتنہ اجتماعی و معاشرتی مفاسد و شرور کی آگ لگی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے کے یہ شرور وفتن کی لو پوری دنیا کو اپنے لپٹ میں لے لے گی اس میں شک نہیں کے ہمارا معاشرہ بری طرح بے حیائی کی لپٹ میں آچکا ہے فحاشی و عریانی کی تندو تیز ہوائیں شرم و حیا کی چادر کو تار تار کر رہی ہیں دور جدید کی خرافات نے غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے اس نام نہاد ترقی نے بے حیائی کو فیشن کا نام دے کر میڈیا کے ذریعے گھر گھر لا دیا ہے مغرب سے بے حیائی کی آنے والی آندھی تہذیب شرم و حیا کو ختم کرنے کے درپے ہے یہی وجہ ہے کے مسلم معاشرے میں بے حیائی و فحاشی کا چلن عام ہو رہا ہے
    اسکی بنیادی وجہ علم دین سے دوری ہے
    آج تفریح گاہوں میں بے حیائی کے مناظر عام ہو رہے ہیں اور مزید بڑھ رہے ہیں آج خواتین کی ایک تعداد ہے جو شرم و حیا کی چادر کو گھر میں رکھ کر بازاروں میں بے حیائی و بے شرمی کو فروغ دیتے ہوئے نظر آتیں ہیں اور پھر وہ مرد حضرات جنکی آنکھوں سے شرم و حیا کا سرمہ اڑچکا ہے وہ ایسیوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے نظر آتے ہیں پہلے تو فلم و ڈراموں کے حیا سوز منظر ٹی وی اور سینماؤں کی سکرینوں پر ہوتی تھی لیکن آج موبائل کی سہولت نے ان تک ہر کسی کی رسائی ممکن بنا دی ہے آج اجنبیہ اجنبی کے ساتھ اکیلی ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی حلانکے یہ حرام ہے
    آج اجنبی اور اجنبیہ باہم ملاقات کرتے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور مسکراتے نظر آتے ہیں آج شرعی پردے کو پورانے دور کی رواج میں شمار کیا جاتا ہے آج مسلمان عورت بینا پردے و حجاب کے بن سنور کے باہر باہر گھومنے میں فخر محسوس کرتی ہیں
    مرد و عورت دونوں نے اسلامی تعلیمات و شرم و حیا کو بھولا دیا ہے ہمارے اسلاف کیسے ہوتے تھے اسکی ایک مثال یہ ہے کے ایک زمانے کے مشہور اللّه کے ولی حضرت یونس بن یوسف جوان تھے اکثر مسجد میں وقت گزارا کرتے تھے ایک بار جب آپ مسجد سے گھر جا رہے تھے تو راستے میں آپکی نظر اچانک ایک عورت پر پڑی اور دل اس کی طرف مائل ہونے لگا پھر آپ نے شرمندہ ہو کر نظریں نیچی کرلیں اور پھر رب کی بارگاہ میں یہ دعا کی یا رب بے شک یہ آنکھیں جو تو نے دی بہت بڑی نعمت ہیں لیکن اب ان سے مجھے خطرہ محسوس ہو رہا ہے کے کہیں میں انکی وجہ سے ہلاکت میں نہ پڑ جاؤں اور عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں اے اللّه میری ان آنکھوں کی بینائی سلب کرلے پھر انکی دعا قبول ہوئی اور وہ بھری جوانی نابینا ہوگئے
    بے شک یہ ان بڑی ہستیوں کا کمال ہی ہے لیکن ہم بطور مسلمان اپنی نظروں کو ان کاموں سے روکیں جن سے بے شرمی و بے حیائی کا خطرہ محسوس ہو
    اس میں کوئی شک نہیں کے شرم و حیا ایک ایسا مضبوط حصار ہے جو ذلّت و رسوائی کے تمام کاموں سے بچاتا ہے اور جب کوئی شخص اس شرم و حیا کے دائرے کو توڑنے کی صرف کوشش بھی کرتا ہے تو مسلسل بے شرمی و بے حیائی و فحاشی کے کاموں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے یوں تو انسان میں بہت سی عادتیں اور اوصاف پاۓ جاتے ہیں لیکن شرم و حیا ایک ایسا وصف ہے کے اگر لب و لہجے و عادات و حرکات و اطوار سے یہ پاکیزہ وصف ختم ہوجاے تو تو بہت سی اچھی عادتوں اور بہت سے عمدہ اوصاف پر پانی پھر جاتا ہے دیگر نیک اوصاف شرم و حیا کا وصف ختم ہونے کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں اور ایسے خواتین و مرد دوسروں کے نظروں سے گر جاتے ہیں
    یاد رکھیں دکھ سکھ۔ خوشی غمی ۔ غصے اور شفقت سمیت بہت سے اور اوصاف جانوروں میں بھی پاۓ جاتے ہیں جبکے شرم و حیا ایک ایسی صفت ہے جو صرف انسانوں میں پائی جاتی ہے یہ جانوروں میں نہیں ہوتی تو انسان و جانور میں فرق شرم و حیا کے ذریعے ہی ہوتا ہے لہٰذا اگر کسی انسان میں سے شرم و حیا جاتی رہے تو اب اس میں اور جانور میں کچھ خاص فرق نہیں رہ جاتا اسلئے ہمارے دین نے شرم و حیا اپنانے کی بہت ترغیب دلائی ہے
    نبی و آخری رسول ﷺ کے کچھ ارشادات حیا ممتعلق درج ذیل ہے
    1)آپ ﷺ نے فرمایا
    بیشک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بگی اٹھا لیا جاتا ہے
    2) آپﷺ نے فرمایا
    بیشک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے
    3)آپﷺ نے ارشاد فرمایا
    بے حیائی جس چیز میں ہو اسکو عیب دار کردیتی ہے اور ہی جس چیز میں ہو اسکو زینت بخشتی ہے
    اللّه پاک ہمارے معاشرے سے بے حیائی و بےشرمی و فحاشی کی نحوست کو ختم فرما دے امین

    گناہوں سے بھرپور نامہ ہے میرا
    مجھے بخش دے کر کرم یا الہی

    @FsAslm7

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 01) تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 01) تحریر: محمداحمد

    ہمارے معاشرے میں لوگ صرف حکمرانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اپنے اندر کے شیطان کو نہیں دیکھتے اپنے اقدامات اور اعمال کو نہیں دیکھتے ہر وقت ہیرا پھیری انسان کا وطیرہ بن گیا ہے ٹھگی کرنا دھوکہ دے کر پیسہ کمانا ہم اچھا عمل سمجھتے ہیں یاد رکھیں جیسے ہم اور ہمارے اعمال ہوتے ہیں ویسے ہی ہم پر ہمارے حکمران ہوتے ہیں جیسے کہ

    دودھ میں پانی ملانا:
    لوگ دودھ میں پانی ملا دیتے ہیں کتنی ملاوٹ کرتے ہیں آپ سب جانتے ہیں کتنی مارکیٹیں بند ہوئی ہیں کتنے دفاتر آۓ روز بند ہوتے ہیں لیکن ملاوٹ کا سلسلہ نہیں رُک رہا اس ملاوٹ پہ کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی جہاں دودھ میں ملاوٹ پکڑی گئی ہے وہاں سے دودھ تلف کر دیتے ہیں اور انہیں جرمانہ کر دیتے ہیں یہ دَھندہ پھر شروع ہو جاتا ہے بعض جگہوں پر دودھ میں کیمکل کا استعمال بہت کیا جارہا یے جس میں ڈیٹرجنٹ ، صابن، یوریا، سوڈا وغیرہ استعمال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دل کے مرض اور کینسر جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں دودھ کو جانچنے کیلئے بہت سے طریقے ہیں جس کے بارے میں ہم سب کو پتہ ہونا ضروری ہے کہ جو دودھ ہم استعمال کر رہے ہیں کیا وہ بیماریوں سے پاک ہے کہ نہیں
    دودھ میں اگر کیمکل کا استعمال کیا ہوا ہے تو اس کو جانچنا بہت آسان ہے دودھ کو سونگھ کر بھی دودھ کی بُو سے پتہ لگ جاتا ہے اس کے علاوہ دودھ میں انگلیاں ڈبو کر چکناہٹ سے بھی پتہ لگ جاتا ہے اس میں کیمکل کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں خالص دودھ کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اگر خالص دودھ کو فریج میں رکھ دیں تو اگر ذائقہ بدل جاۓ اس کا مطلب اس میں ضرور ملاوٹ کی گئی ہے اس کے علاوہ دودھ کو چیک کرنے کیلئے ایک چمچ کھانے کا نمک اگر پانچ ملی لیٹر دودھ میں ملائیں اگر دودھ نہیں نیلا رنگ کر دیا تو اس کا مطلب ان میں ملاوٹ ہے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا کام ہر گاوں میں کیا جاتا ہے پھر بھی لوگ دھوکے بازی سے باز نہیں آتے اور ہمیشہ حکمرانوں کو کوستے نظر آتے ہیں اسی طرح شہد میں شیرے کا استعمال ہے

    شہد میں شیرے کا استعمال:
    شہد کے بہت سارے فوائد ہیں جس کے بارے میں قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اس میں شفا ہے انسانوں کیلئے”
    آج کل بازاروں میں بہت سے لوگ گھومتے نظر آتے ہیں کہ شہد لے لیں ایسے چال بازوں سے ہوشیار رہیں وہ ملاوٹ والا شہد بیچ رہے ہوتے ہیں ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ایک واقع ہوا ایک بوتل شہد لی وہ بھی ملاوٹ والی ۔ اس کے بعد مجھے شہد جانچنے کا شوق ہوا کہ کیسے چیک کر سکتے ہیں شہد اصل ہے یا ملاوٹ والا پتہ لگ جاتا ہے
    اگر کبھی بھی کو چھوٹ لگ جاۓ یا زخم ہوجاۓ تو شہد لگا کر دیکھیں اگر خون رک گیا تو شہد اصلی ہے ملاوٹ والا شہد ایک جگہ رُکے گا ہی نہیں (گاؤں میں اس طریقے کو عام استعمال کرتے ہیں)
    شہد کی اپنی خاص خوشبو ہوتی ہے جس کو سونگھ کہ بھی پتا لگا سکتا ہے اگر آپ شہد میں ایک ڈیلی نمک رگڑیں تو اصل شہد کی پہچان یہی ہے کہ اس شہد میں سے نمک کا ذائقہ نہیں آۓ گا شہد کا اپنا خاص ذائقہ ہوتا ہے قبض کی حالت میں بھی ہم لوگ رات کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں 2 چمچ اگر خالص شہد کے حل کر کے پی لیں تو پیٹ ٹھیک ہو جائے گا

    اب سوچیں اور بتائیں ملک میں اصل گڑ بڑ تو ہم کر رہے ہیں پھر ہم کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایسا کر رہے ہیں ویسا کر رہے ہیں لیکن انسان کو یاد رکھنا چاہیے جیسی عوام ویسے حکمران ۔ ہم سب اپنے کردار کو نہیں دیکھتے اپنے مفادات کی خاطر لوگوں کا گلا کاٹنے تک چلے جاتے ہیں
    اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح گھی کو کیمیکل سے لوگ تیار کر رہے ہیں اور اُس کے ساتھ مرغیوں کی انتڑیوں سے کیسے تیل تیار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انسانی زندگی متاثر ہو رہی ہے اسی وجہ سے اصل ملک میں اصل گڑ بڑ تو ہم کر رہے ہیں

    @JingoAlpha

  • شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مشاورت یا ٹریننگ کا سلسلہ  تحریر : ام سلمیٰ

    شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مشاورت یا ٹریننگ کا سلسلہ تحریر : ام سلمیٰ

    گو کے پاکستان میں یہ طریقا رائج نہں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اب یہ ضروری سمجھا جاتا ہے شادی کے بعد کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے یہ ایک نہایت آسان طریقہ ہے کے شادی سے پہلے دولہا اور دلہن کی ٹریننگ کی جائے اور ان کے اندر شادی سے متعلق جو سوال پیدا ہوں ان کو تفصیلی سمجھایا جائے.معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی ایک وجہ یہ بھی ہے.

    شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت یہ کیا ہے؟
    شادی کی توقعات کا تعین کرنے سے لے کر اس بات کا تعین کرنے تک کہ آیا آپ اور آپ کا ساتھی دونوں زندگی کے معاملات کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرتے ہوئے اپنے زندگی کے نئے معاملات کو کیا طرح آسانی سے سلجھائیں گے. خواہ وہ بچے پیدا کرنے کے بارے میں ہو یہ زندگی کے کسی بھی معاملے پر دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں یہ ایک صفے پے آسکتے ہیں،کوئی سوال حد سے باہر نہیں ہے۔ اس کے بارے میں اس طرح سوچیں کے جتنا آپ اپنے لیے اہم ہیں دوسرے کے بارے میں بھی ضرور جانیں اور جانیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی ، جتنی جلدی آپ کو اپنے ساتھی کے بارے میں آگاہی ہوگی اتنی آسان آپکی زندگی ہوگی.

    شادی سے پہلے کی مشاورت/ٹریننگ کیا ہے؟
    شادی سے پہلے کی مشاورت تھراپی کی ایک شکل ہے جو شادی سے پہلے ہوتی ہے۔ عام طور پر ، شادی سے پہلے کے ماہر / کونسلر جوڑے کے بارے ساری بتائیں جانیں کی کوشش کرتا ہے اور شادی کے بارے میں جو جوڑے / کپل اپنے تاثرات تاثرات سے آگاہ کرتے ہیں ہیں پھر کونسلر / ماہر ان کو ان کے دماغ میں آئے سوالات کو صحیح طرح انہیں سمجھتا ہے.

    شادی سے پہلے آپ ضرور اس سے متعلق مشورہ کریں کونسلر /ماہر سے اور آپ ہر وہ چیز شیئر کریں جس کی آپ توقع کر سکتے ہیں اگر آپ اپنے شادی جیسے بڑے دن سے پہلے ماہر سے مشاورت کریں تو یہ نہایت مفید ہے.

    مشورے کس سے کریں/ ماہر سے ملیں

    ایک لائسنس یافتہ سائیکو تھراپسٹ ، ریلیشن کوچ سے.

    1. آپ کی شادی کی توقعات اور کردار کے عقائد

    آپ کو ایک اندازہ ہو سکتا ہے کہ شادی کے بعد زندگی کیسی ہوتی ہے اور اس کا شراکت دار ہونے کا کیا مطلب ہے زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بد آپ کیسا محسوس کرتے ہیں اور کیا مختلف محسوس کرتے ہے۔ شادی کی مشاورت میں ، آپ پتہ چلے گا کے آپ شادی کو کیا سمجھتے ہیں اور دوسرے شادی کے بارے میں کیا تجربہ رکھتے ہیں۔ ماہر آپ سے اس کے بارے میں بات کریں گے کہ ہر شخص دوسرے سے کیا توقع کرتا ہے. آگر آپکو اپنے ساتھی سے توقع ہے تو وہ بھی کچھ توقع آپ سے رکھتا ہے.

    ماہر آپکو یے بھی گائیڈ کرتا ہے کے آپ کا ماضی آپ کے مستقبل کو کس طرح متاثر کرتا ہے شادی کے بعد
    کسی حد تک ، ہم سب اپنے ماحول کے عادی ہوتے ہیں، زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بعد دوسرے کو اچھی بری عادتوں کے ساتھ قبول کرنا ہوتا ہے جو کے وقت اور ماحول کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جاتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم خوبیوں کو منتقل کرتے ہیں اور پرانے تعلقات سے نئے تعلقات کو دوبارہ تخلیق کرتے ہیں ، اور ہمیشہ ایک دوسرے کی اچھی عادتوں کو اپنا لیتے ہیں.

    3. مستقبل کے تنازعات کو حل کرنے کے منصوبے۔
    ماہر آپکو یہ بھی سمجھاتا ہے کے "اگر کوئی جوڑا آزادانہ طور پر کسی بھی موضوع پر بات نہیں کر سکتا ، چاہے کتنا ہی ذاتی ہو یا مشکل تو اس کے لیے ایک اچھی زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے اچھی پر سکون زندگی کے لیے شادی شدہ جوڑے کا آپس میں مشاورت کرنا ضروری ہے، شادی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے شادی کی مشاورت اگر آپ مشورہ نہں کرنا چاہتے اپنے ساتھی کے ساتھ تو شادی کی کامیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں یے ایک اہم پہلو ہے.

    ماہر کے مطابق شادی میں خوش رہنے کا طریقہ
    4. پیسے کا مناسب انتظام۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ شادی کو آباد اور برباد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اس کے مناسب انتظام مستقبل میں ہونے والی مالی لڑائیوں کو روک سکتا ہے ، آپ شادی سے پہلے کی مشاورت میں اپنے پیسے کے تمام خیالات کو سامنے رکھیں گے۔ اور اپنے ساتھی اپنی سہی حالات سے صحیح طرح آ گا ه رکھیں ایک صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ایک کی پیسے کی کہانی ، ماضی اور حال کی مالی تاریخ اور مستقبل کے مشترکہ اہداف اور ارادوں کے بارے میں واضح ہونا جوڑے کو اس مشترکہ تعلقات کی خرابی سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔

    5. مباشرت / جنسی تعلق کے مسائل سے بچنا۔
    پیسے کی طرح ، مباشرت /جنسی تعلق انتہائی ذاتی ہے ، اور زیادہ تر جوڑے شادی کے کسی موقع پر مباشرت /جنسی تعلق کے مسائل میں پڑ جاتے ہیں.اس کے بارے میں بھی ماہر جوڑوں کو گائیڈ کرتا ہے.

    6. صحت مند ماحول کو فروغ دینا۔
    کھلی اور براہ راست بات چیت کسی بھی تعلق کے کلیدی اجزاء ہیں ، خاص طور پر اگر آپ اور آپ کے ساتھی کے پاس بات چیت کے مختلف طریقے ہیں۔ شادی سے پہلے کی مشاورت آپ کے انداز کو دریافت کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور وہ آپ کی شادی کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔اگر آپ کا ساتھی صحت مند ہے اور مناسب طریقے سے غصے کا اظہار کرتا ہے لیکن غصہ آپ کے لیے چار حرفی لفظ ہے تو پھر بات چیت میں ایک مسئلہ بن جائے گا۔تو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا نہایت اہم ہے.

    شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت آپکو کئی قسم کے مسائل سے بچا سکتی ہے آپ بچوں کے بارے میں بھی مشاورت کر سکتے ہیں شادی سے پہلے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کتنے بچے چاہتے ہیں اپنے ماہر سے بات کریں ، والدین کے شادی کے بعد کے انداز ، خاندانی میں ایک نئے فرد کی شمولیت اور بہت کچھ کے بارے میں بات کر سکتے ہیں اس زریعے سے جوڑوں کو مسائل کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کرنے میں ان کی اور ان کی شادی کو بہتر طور پر تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    @salmabhatti111