Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏اللّٰه تعالیٰ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے  تحریر: محمد معوّذ

    ‏اللّٰه تعالیٰ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے تحریر: محمد معوّذ

    عقل و دانش کا امتحان آپ میں سے بعض لوگ تو ایسے سیدھے سادھے ہوتے ہیں جو ہر کس و ناکس کو دوست بنا لیتے ہیں ، اور کبھی دوست بناتے وقت آدمی کو پرکھتے نہیں کہ وہ واقعہ میں دوست بنانے کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔ ایسے لوگ دوستی میں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں اور بعد میں ان کو بڑی مایوسیوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ لیکن جوعقل مند لوگ ہیں وہ جن لوگوں سے ملتے ہیں ان کو خوب پرکھ کر ہرطریقے سے جانچ پڑتال کر کے دیکھتے ہیں ، پھر جو کوئی ان میں سے سچا مخلص ، وفادار آدمی ملتا ہے صرف اسی کو دوست بناتے ہیں ، اور بے کار آدمیوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں ۔
    اللّه تعالی سب سے بڑھ کرحیم ودانا ہے ۔ اس سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کواپنا دوست بنا لے گا ، اپنی پارٹی میں شامل کر لے گا اور اپنے دربار میں عزت اور قربت کی جگہ دے گا ۔ جب انسانوں کی دانائی و عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بغیر جانے اور پرکھنے کسی کو دوست نہیں بناتے تو اللّٰه ، جو ساری دانائیوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے ، ناتمکن ہے کہ وہ جانچنے اور پرکھنے کے بغیر ہر ایک کو اپنی دوستی کا مرتبہ بخش دے ۔ یہ کروڑوں انسان جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں ، جن میں ہر قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں ،
    اچھے اور برے ، سب کے سب اس قابل نہیں ہو سکتے کہ اللّٰه کی اس پارٹی میں ، اس حزب اللّٰه میں شامل کر لیے جائیں جیسے اللّٰه تعالیٰ دنیا میں اپنی خلافت کا مرتبہ اور آخرت میں تقرب کا مقام عطا کرنا چاہتا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کمال درجہ حکمت کے ساتھ چند امتحان ، چند آزمائشیں ، چند معیار جانچنے اور پرکھنے کے لیے مقرر کر دیے ہیں کہ انسانوں میں سے جو کوئی ان پر پورا اترے ، وہ تو اللّٰه کی پارٹی میں آجائے اور جو ان پر پورا نہ اترے خود بخود اس پارٹی سے الگ ہو کر رہ جائے ، اور وہ خود بھی جان لے کہ میں اس پارٹی میں شامل ہونے کے قابل نہیں ہوں ۔
    یہ معیار کیا ہیں ؟ اللّٰه تعالیٰ چونکہ حکیم و دانا ہے اس لیے سب سے پہلا امتحان وہ آدمی کی حکمت و دانائی کا ہی لیتا ہے ۔ یہ دیکھتا ہے کہ اس میں سمجھ بوجھ بھی ہے یا نہیں ؟ نرا احمق تونہیں ہے ؟ اس لیے کہ جاہل اور بے وقوف کبھی دانا و حکیم کا دوست نہیں بن سکتا ۔ جو شخص اللّٰه کی نشانیوں کو دیکھ کر پہچان لے کہ وہی میرا مالک اور خالق ہے ، اس کے سوا کوئی معبود،کوئی پروردگار، کوئی دعائیں سننے والا اور مدد کرنے والانہیں ہے ، اور جوشخص اللّٰه کے کلام کو سن کر جان لے کہ یہ میرے مالک ہی کا کلام ہے کسی اور کا کلام نہیں ہوسکتا ، اور جوشخص سچے نبی اور جھوٹے مدعیوں کی زندگی ، ان کے اخلاق ، ان کے معاملات ، ان کی تعلیمات ، ان کے کارناموں کے فرق کو ٹھیک ٹھیک سمجھے اور پہچان جاۓ کہ نبوت کا دعوی کرنے والوں میں سے فلاں ذات پاک تو حقیقت میں خدا کی طرف سے ہدایت بخشنے کے لیے آئی ہے ، اور فلاں دجّال ہے ، دھوکا دینے والا ہے ۔ ایسا شخص دانائی کے امتحان میں پاس ہو جاتا ہے ، اور اس کو انسانوں کی بھیڑ بھاڑ سے الگ کر کے اللّٰه تعالیٰ اپنے پارٹی کے منتخب امیدواروں میں شامل کر لیتا ہے ، باقی لوگ جو پہلے ہی امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جدھر چاہیں بھٹکتے پھریں ۔

    ‎@muhammadmoawaz_

  • مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں      آرمی چیف

    مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں-

    باغی ٹی وی : ڈی جی آئی ایس پی آر کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یوم استحصال کے حوالے سے سلسلہ وار ٹوئٹس کی گئیں ٹوئٹر پیغام میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیرانسانی فوجی محاصرہ جاری ہے اور مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں جبری تبدیلی کی جا رہی ہے۔


    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی بحران پیدا ہو چکا ہے۔

    کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے فواد چوہدری

    انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تنازعہ کشمیر کا حل ضروری ہے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال نے علاقائی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔


    آرمی چیف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی جبر جاری ہے کشمیر کے تنازعے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

  • عشق تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    عشق تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

     عشق محبت میں تجاوز کرنے کو کہتے ہیں
     یعنی جب محبت شدت احتیار کر لے اور قوی ہوجائے تو اس کو عشق کہا جاتا ہے ۔
     محبت کی انتہاء عشق ہے اور محبت دراصل میں ” طبیعت کا کسی سے شے کی طرف مائل ہونا ، اس سے لذت حاصل
    “کرنا اور اسکو حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا نام محبت ہے
    اور جب یہ میلان پختہ اور قوی ہو جائے اسکو عشق کہتے ہیں
    “عشق دراصل محبت کا آخری درجہ ہے”
    عشق جب ہو جائےتو پھر اسکی کوئی انتہا نہیں رہتی ہے

    بقول شاعر ۔۔!۔
    تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری
      میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

    عشق ایک ایسی بیماری ہے جو جس کو لگ جاتی ہے پھر وہ بیمارِ عشق اس کی شفاء نہیں چاہتا بلکہ وہ اس بیماری میں مزید ترقی چاہتا ہے۔
    یہ بیماری تمام بیماروں سے جدا ہے۔ کیونکہ جب کوئی دوسری بیماری لاحق ہوتی ہے تو بیمار کو مرنے کا وہم رہتا ہے وہ اس کا علاج  کرواتا ہے ۔ اپنی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے دعائیں مانگتا ہے لیکن یہ واحد بیمار ہے جس میں بیمار مزید ترقی کےلیے دعائیں مانگتا ہے۔

    ایک اللہ والے نے عشق کے متعلق فرماتے ہے کہ:۔
    عشق اک ایسا دریا ہے جس کی انتہا نہیں اور نہ کوئی اسکی کی گہرائی اور تہہ تک پہنچ سکتا ہے ، جس نے اس دریا میں غوطہ لگایا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں سیر کرتا رہے گا اور ہر گھڑی نیچے ہوتا جائے گا اس کا اوپر ابھرنے کا کوئی امکان نہیں اس کا نہ کبھی پتہ چلے گا اور نہ کبھی وہ دریا کی گہرائی تک پہنچے گا اور جسکو معشوق تک پہنچنے کے بعد قرار آ گیا اسے عشق نہ سمجھو اسے  ”ہوس“  کہو۔   عشق وہ ہے کہ جتنا معشوق سے قربت ہوتی جائے اور اس سے میل جول بڑھتا جائے عشق کی آگ تیز تر ہوتی جائے۔
    (اللہ کے عاشقوں کی عاشقی کا منظر  ص ٢٧)

     عشق دو طرح کے ہیں ایک کو عشقِ مجازی اور دوسرے کو عشقِ حقیقی کہتے ہیں
    دل سے غیراللہ کو خالی کر کے اللہ کی یاد بسانے کا نام عشق حقیقی ہے۔  اور دل میں غیر اللہ کی یاد بسا کر اللہ کی یاد سے غافل ہو جانے کا نام عشقِ مجازی ہے۔
    عشق مجازی حرام ہے اور اللہ کا عذاب ہے ۔جس میں پڑھ کر انسان اپنی دونوں جہانوں کی زندگی تباہ و برباد کر دیتا ہے نہ وہ دنیا کی زندگی میں چین، سکوں، راحت حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی زندگی میں چین، سکوں، راحت مل سکے گا۔
    کیونکہ جو عاشق ہوتا ہے اس کا دل ہر وقت یادِ معشوق میں رہتا ہے اپنے معشوق کی یاد سے ذرا بھی غافل نہیں رہتا اس کو ہر جانب اپنا معشوق ہی نظر آتا ہے اور اس وجہ سے وہ یاد خدا سے غافل ہو جاتا ہے خدا کی یاد اس کے دل سے نکل جاتی ہے۔

    کسی نے مجنوں سے پوچھا۔۔۔! کہ
    تمھارا نام کیا ہے ۔؟  ”بولا لیلی“ ۔
    کسی نے کہا کہ لیلی مر گئی ۔ اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔؟
    وہ تو میرے دل میں ہے ، میں ہی لیلی ہوں

    آج کل کتنے عاشق  ، مجنوں اپنے دلوں میں اپنی اپنی لیلی کا چہرہ بسائے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں  اور اپنے دلوں کو یادِ خدا سے غافل کیا ہوا ہے جس خدا نے ان کو زندگی دی ماں کے پیٹ میں نو ماہ حفاظت کے ساتھ رکھا اور پھر اس اندھیرے سے نکال کر دنیا کے روشنی میں لایا اور عنقریب ایک وقت آنے والا ہے کہ دنیا سے رخصتی ہونا ہے اور قبر کے پیٹ میں چلے جانا ہے وہاں دل کی بات زبان پر جاری ہوگی ۔

    ترجمہ:۔
       اور سینوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کیا جائے گا
    (سورت العادیات)

    جو لوگ عشق مجازی میں مبتلا ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
    اک اللہ والے فرماتے ہیں کہ عشق مجازی اک عذاب ہے اگر کسی کو مردود کرنا ہو تو اللہ اس کو عشق مجازی میں مبتلا کر دیتا ہے
    ایک بہت بڑے اللہ والے تھے چالیس سال تک ایک مسجد میں موذن رہے مسجد میں آذانیں دیتے رہے اک دفعہ آذان دے رہے تھے اور مسجد کے پہلو میں ایک عیسائی کا گھر تھا اور چھت سے اس کی بیٹی کو دیکھ لیا بس اس کی عشق میں مبتلا ہو کر اس کے گھر چلے گئے 
    اور اسی کے عشق میں پہلے اسلام چھوڑا اسی کے کہنے پہ خنذیر کا گوشت کھایا اور شراب پی اور اس کے نشہ میں چھت پہ چڑھا اور وہاں سے گھر کر مردار کی موت دنیا سے چلے گے۔

    اس کے بر عکس عشق حقیقی رحمت اور اللہ کا خصوصی انعام ہوتا ہے۔
    غیر اللہ کو اپنے دل سے نکال کر اپنے رب کی یاد کو دل میں بسانے کا نام عشق حقیقی ہے۔
    اللہ اپنے خاص بندے کو اس  نعمت سے نوازتے ہیں ۔ اللہ کا اپنے ان بندوں پر خصوصی کرم ہوتا ہے کہ اپنی محبت کا خزینہ ان کو دیا ہے ۔
    اپنی نفسیانی خواہشات کو اللہ کے لیے ترک کرنا اور  ہر حال میں اپنے اللہ کے حکم کو پورا کرنے کا نام عشقِ الہی ہے۔
     ترجمہ :
    “اور جو ایمان لانے والے ہیں وہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں”
    (القران)
     اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے عاشق اللہ کو ہر حال میں چاہتے ہیں۔  ہر حال میں ان کے دل و زبان پر یادِ الہی رہتی ہے۔ 
     حضرت بلال رض ایسے عشق ِ حقیقی اور حبیبی مستفرق تھے کہ امیہ بن خلف اور اس کے آدمی  ان پر بہت ظلم کیا کرتے دوپہر کے وقت ان کو تپتی ہوئی ریت پہ لٹایا جاتا اور سینے پر بڑا پتھر رکھا جاتا تانکہ یہ ہل نہ سکے اور ان کے اردگرد آگ لگا دی جاتی اور ان کے جسم کو نوکیلے کانٹے سے نوچتے تھے ۔  تیز  آگ کی تپش کی وجہ سے حضرت بلال رض کا کلیجہ منہ کو آ جاتا اور کافروں کی چاہت تھی کی وہ اپنے دین سے ہٹ جائیں ان سے ایک ہی سوال کرتے بتا تیرا رب کون ہے ؟
    جواب میں آپ رض  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!۔
    احد ۔۔۔۔۔۔۔۔احد ۔۔۔۔۔احد۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا مستانہ نعرہ لگاتے تھے۔۔
    اللہ کے ہاں  پھر ان کا ایسا مقام بنا کہ مکہ کی گلیوں میں چلتے تھے  اور قدموں کی آہٹ عرش پہ سنائی دیتی تھی۔ جو شحض عشق الہی میں مبتلا ہو گا اللہ کی مدد اور نصرت ہمیشہ اس کے ساتھ ہو گی ۔  ہمارے جسم کے تمام اعضاء عشقِ الہی اور عشق ِ حبیبی  میں مبتلا ہوں ۔  یہ بیماری ہمارے سارے جسم میں پھیلی ہو۔ اس کے اثرات جسم کے ہر اعضاء پر ہوں ۔ ہماری آنکھیں عشق الہی میں مبتلا ہو ، ہماری زبان ،  ہمارے کان ، ہاتھ اور ہمارا دل  یعنی جسم کا ہر اعضاء عشق ِ الہی میں مبتلا ہو جائے۔ کان سے وہ سنیں جو اللہ کا حکم ہو وہ نہ سنیں جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہو۔ آنکھ سے وہ دیکھیں جس کا حکم ہو اور ہماری نظر ادھر نہ اٹھے جہاں پہ اٹھانے سے اللہ اور اللہ کے رسول نے منع کیا ہے۔۔
    فرمایا……!
       نظر شیطان کے تیروں میں سے اک تیر ہے جس چیز پہ پڑتی ہے اس کا عکس دل میں آ جاتا ہے۔
    اگر ہم اس کو غلط استعمال کریں گے تو غلط اور گندے قسم کے عکس ہمارے دل میں آئیں گے۔ اور جو جگہ گندہ ہو جائے وہاں پاک چیز نہیں رکھی جاتی تو دل میں خدا رہتا ہے اگر دل گندہ ہوا تو اللہ کی ذات دل میں کیسے آئے گی۔  اور  اپنے دل کو ہر وقت یادِ الہی میں ہمیشہ مشغول رکھنا چاہیے تانکہ کینہ ، بخض ، حسد جیسی مہلک بیماروں سے دل کو بچایا جائے۔ ۔
    جب ہم اللہ کی مان کر زندگی گزاریں گے  (عشقِ الہی)  تو ہماری دنیا بھی بنے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ اللہ والے اک لمحہ بھی یاد الہی سے غافل نہیں رہتے اور ان کو اس میں سکون ملتا ہے۔

    کتنی تسکین ہے وابستہ تیرے نام کے ساتھ
    نیند کانٹوں پہ بھی آجاتی ہے آرام کے ساتھ

    عشق الہی جس کو عطا ہو جائے تو دنیا کی پھر ساری دولت ، طاقت ساری خوشیوں کو وہ ترک کر دیتا ہے۔ اس کو پھر دنیا کے غم میں بھی مزہ آتا ہے ۔ یہ عاشق بظاہر  غم زدہ  ہوں گے لیکن ان کے دلوں  میں سکون ہوتا ہے اور دنیا دار بظاہر خوشحال نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ان کے دل بے چین اور ٹوٹے ہوتے ہیں۔
    اللہ ہم سب کو عشق الہی عطا کرے۔

    @EKohee

  • مظلوم کی فریاد تحریر : بشارت حسین

    مظلوم کی فریاد تحریر : بشارت حسین

    کہا جاتا ہے کہ مظلوم کے دل سے نکلی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔
    ظالم سماج ہر چہرہ دکھی ہے انسان ہی انسان کا دشمن بنا پھرتا ہے۔ دولت مند کی گردن غروروتکبر سے اکڑی ہوئی ہے سر اٹھا کر ایسے چلتے جیسے زمین پہ ہر شے انکی ماتحت ہے۔
    کہیں گاوں کا وڈیرہ سسٹم غریب کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے تو کہیں پولیس کے بھیس میں چھپی کالی بھیڑیں انسانیت سے عاری کمزور طبقے کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔
    کسی کو کوئی خوف خدا نہیں کسی کو یہ یاد نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے انکے مظالم کو۔ مظلوم کی فریاد کو مظلوم کے دل سے نکلے تیر کو جو کہ محو سفر ہے کب ظالم اور اسکی خوشیوں کے درمیان حائل ہو جائے معلوم نہیں۔
    سب کچھ بھولا ہوا ہے ہر سبق انسانیت کا بھولے ہوئے ہیں کچھ بھی نہیں یاد۔
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا انسانیت کا درس ہمارے پلے نہیں پڑا اس کو محض انکی زندگی کی خوبصورتی اور اعلی اخلاق کی تعریف تک محدود کر دیا۔
    اب کہاں جائیں وہ مظلوم؟
    کس سے اپنی فریاد کریں؟ کس کو اپنی آپ بیتی سنائیں؟ کس کو بتائیں کہ انکی بھوک کو کس طرح انکی کمزوری بنا کر ان سے نیچ کام کروائے گئے؟
    کہاں ہے وہ عدالتی نظام جس میں مظلوم کی دادرسی کی جاتی تھی۔ جہاں مظلوم کو انصاف ملتا تھا ظالم کو سزائیں دی جاتی تھیں۔ لوگ عبرت پکڑتے تھے ظالم ظلم کرنے سے ڈرتا تھا۔ اب معاشرے میں یہ خوف کہاں؟ اب تو آزادی ہے کچھ بھی کر لو سب بازار میں خرید و فروخت کی طرح بک رہا ہے انصاف بک جاتا ہے گواہ بک جاتے لوگوں کی خوشیاں، غم سب کی بولی لگ جاتی کوئی پوچھنے والا نہیں۔
    طاقتور اور دولت مند کو انصاف بھی ملتا ہے چھوٹیں بھی مل جاتی انکے قرضے بھی معاف ہو جاتے ہیں
    لیکن
    غریب کو کیا ملتا ہے تھانے کچہریوں کے چکر ؟
    پولیس کی جھڑکیں عدالتوں کے چکر لمبی تاریخیں اور آخر میں جب سب بک جاتا ہے تو عدم ثبوت کی بنا پر مجرم بری اور مظلوم کی عزت نیلام ہو جاتی ہے۔
    آخر ایسا کیوں اور کب تک؟
    والدین اپنی بچی کیلئے اچھا رشتہ تلاش کرتے ہیں بڑی چھان بین کے بعد رشتے طے ہوتے ہیں خوشیاں منائی جاتی ہیں مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ جہیز کیلئے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر دی جاتی ہے بچی کو خوش دیکھنے کیلئے آنے والا وقت اس کا اچھا گزرے ہر چیز لائی جاتی ہے پیسے کم پڑ جائیں تو قرض لیا جاتا ہے حتی کہ کچھ اپنا قیمتی سرمایا مکان تک گروی رکھ دیا جاتا ہے بیچ دیا جاتا ہے۔
    لیکن جب شادی ہو جاتی ہے تو وہ لڑکی سسرال میں ایسے جاتی ہے جیسے کسی خطرناک جیل میں کوئی خطرناک قیدی پہنچ گیا ہو اسکی زندگی کو عذاب بنا دیا جاتا ہے خاموشی سے ظلم سہتی ہے والدین کو بھی پتا نہیں چلتا کہ بچی کو کس جانور سے باندھا ہے انھوں نے۔
    آنے والا کل اچھا ہو گا اس امید سے وہ اپنے دن گزارتی ہے رو لیتی ہے چھپ کر صبر کر لیتی ہے لیکن جب یہ ظلم بڑھ جاتا ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو آخر دل سے ایک آہ ایک تیر نکلتا ہے پھر اس قید خانے کا ہر باسی ہر ظالم اپنے انجام کی طرف جاتا ہے۔
    طاقتور طاقت کے نشے سے چور اپنے ظلم کی داستانیں رقم کر رہا۔
    سیاستدانوں کی اپنی بدمعاشیاں ہیں آخر مظلوم کہاں جائے پھر کس سے انصاف مانگے؟
    ظلم کا دورانیہ لمبا ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ظالم کو اللہ کی طرف سے چھوٹ نہیں ہو سکتی رسی ڈھیلی ہو سکتی ہے لیکن وہ دیکھتا ہے اور جب وقت آ جاتا ہے تو کھینچ لی جاتی ہے رسی پھر سب کچھ ڈھیر ہو جاتا ۔
    کمزور اور طاقتور سب کو اللہ نے پیدا کیا اس نے یہ سب انسان کی آزمائش کیلئے رکھا کون کس طرف چلتا ہے کون اپنی طاقت کا جائز استعمال کرتا ہے اور کون ناجائز استعمال کرتا ہے۔
    آخر طاقت ختم ہو جاتی ہے جب محتاج کر دیا جاتا ہے پھر سب سمجھ آ جاتی ہے لیں وقت گزر چکا ہوتا۔
    دولت، طاقت اور عہدے سب عارضی ہیں دائمی کچھ نہیں ہمیشہ رہنے والی ذات اللہ کی ہے انصاف اس کے ہاں نہیں بکتا نہ سفارشیں کام آتی ہیں نہ خاندانی برتریاں
    وہاں انصاف ہوتا ہے مظلوم کی اپنی جاتی ہے ظالم پکڑ میں آ جاتا ہے پھر سب یاد کروایا جاتا ہے جو بھولا ہوتا ہے۔
    اولاد جب نافرمان ہو جاتی ہے جوانی میں آ کر وہ اپنے خون کی گرمی کی وجہ سے یہ بھول جاتے ہیں کہ انکے والدین کا جسم کا خون انکی زندگی بناتے بناتے ٹھنڈا ہوا ہے جب والدین کو کہتے ہیں کہ تم نے ہمارے لیے کیا کیا تو پھر
    والدین کے دل پہ کیا گزرتی ہے کیسے وہ سنبھالتے ہیں خود کو؟
    برداشت کرتے ہیں وہ بچے کے اس ظلم کو بھی کہ کہیں ہماری آہ نہ لگ جائے لیکن جب برداشت ختم ہو جاتی ہے اور ظلم بڑھ جاتا ہے بات بات پہ ان کو طعنے ملتے ہیں رسوا کیا جاتا ہے تو آخر انکے حصے میں بھی یہ عذاب لکھ دیا جاتا ہے وہ بھی اپنے کیے کو بھگتنا شروع ہو جاتے ہیں
    کیوں کہ اب انکی زندگی میں والدین کی آہ کا تیر لگ چکا ہوتا ہے انکی خوشیوں میں ایک زہر آلودہ آہ شامل پو جاتی ہے۔
    زندگی انکیلئے بوجھل ہو جاتی ہے خوشیاں روٹھ جاتی ہیں
    پھر سمجھ آتی ہے لیکن دیر ہو جاتی ہے بہت دور ہو جاتا ہے سب کچھ بہت دور۔
    اللہ نے اگر دولت دے دی طاقت دے دی عہدہ دے دیا تو یہ سب اللہ کا انعام ہے اس کا شکر ادا کرو۔
    اس کا اصل شکر یہ ہے کہ اس کو اسکی مخلوق کی بھلائی کیلئے استعمال کرو
    نہ کہ مخلوق کو بتاو کہ میں ہی سب کچھ ہوں۔
    نہیں ایسا نہیں سب کچھ اللہ کا ہے اس نے جس کو دیا آزمانے کیلئے دیا وہ لے بھی سکتا کسی اور کو بھی دے سکتا ہے
    بس جب تمہیں دیا تو پھر یاد رکھنا کہ وہ لوگوں کی آہوں کا سبب نہ ہو بلکہ دعاوں کا سبب
    Live_with_honor @

  • سفر نامہ   تحریر: اسامہ اسلام

    سفر نامہ تحریر: اسامہ اسلام

    یہ تقریباً سن 2015 کی بات ہے. رمضان کا مہینہ ختم ہونے والا تھا .سب لوگ عید کی تیاریوں میں مگن تھے. ہم نے تو اپنی تیاری مکمل کر لی تھی لیکن جو مشکل کام تھا وہ رہتا تھا اور وہ کام تھا یہ فیصلہ کرنا کہ عید میں گھومنے کہاں جائینگے.
    میں اور میرے دوست فرمان جنہیں ہم پیار سے "مانے” بلاتے ہیں اور عابد جس کا لقب "گل” ہے ,ہر وقت بیٹھے مشورے کرتے.
    عید گزری لیکن ہم فیصلہ نہ کرپائے کہ کہا جانا ہے, آخرکار میں معمول کے مطابق گھر سے نکلا, اپنی موٹرسائیکل نکالی اور اپنے دوستوں کو لینے ان کے گھر پہنچا.
    گیٹ کے سامنے ہارن بجائی تو صاحبان خوابِ غفلت سے بیدار ہوئے نشیلی آنکھوں کے ساتھ باہر آئے.
    خیر جو بھی ہوا, یم نے اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں. ہم نے نوشہرہ کی طرف رُخ کیا , جب نوشہرہ پہنچے تو لوگوں سے پوچھا کہ یہاں پر کوئی سیر کرنے کی جگہ بتائے. ایک بندے نے "بہادر بابا” کے مزار کا نام لیا. یہ نوشہرہ سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے. ہمارا کیا تھا, جوان تھے, خون میں مستی تھی اور کھلے پرندوں کی طرح ہوا جس طرف لے جاتی, ہم چلے جاتے. ایک موٹرسائیکل پر تین بندوں نے "بہادر بابا” کے مزار کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا.
    گرمی کی جھلسا دینے والی لہریں جب ہمارے گالوں سے ٹکراتی تو دل سے پتہ بتانے والے کے لیے بد دعائیں نکلتی اور ان بد دعاؤں میں اضافہ تب ہوتا جب ان پہاڑی رستوں سے گزرتے گزرتے موٹرسائیکل کسی کھڈے میں گر جاتا. ہم نے راستے میں اپنا خوب مزاق اڑایا لیکن ساتھ ساتھ ہمارے منہ سے کچھ ایسے نازیبہ الفاظ بھی نکلے تھے جس کا تذکرہ میں کرنے والا ہوں.
    کوئی کہتا کہ "بہادر بابا کو اتنی دور آنے کی کیا ضرورت تھی” تو کوئی کہتا کہ "وہ بیل پر سوار ہو کر آئے تھے” (استغفراللہ) اللہ معاف کرے .
    جب ہم وہاں پہنچے تو ١۲ بج چکے تھے.میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں موٹرسائیکل ایک جگہ پر کھڑی کر کے آتا ہوں. میں ٣ منٹ کے لیے گیا اور جب واپس آیا تو میرے دوست غائب تھے. میں نے یہاں وہاں ہر جگہ دیکھا لیکن ان کا کوئی نام و نشان نہ تھا. ہم نیچھے تھے اور مزار پہاڑی کے اوپر تھا. میں نے اس شدید گرمی میں تقریباً ۷ سے ۸ چکر کاٹے , اوپر گیا مزار پر , پھر نیچھے آیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ ہجوم اتنا تھا کہ اسے ڈھونڈنا محال تھا.
    جس طرح میں ان کو ڈھونڈ رہا تھا , اسی طرح وہ بھی میں تلاش میں جگہ جگہ بٹک رہے تھے.
    چونکہ ہم کم عمر تھے اور ایک دوسرے کو ایسی جگہ کھونا جو کہ ہمارے گھر سے کافی دور تھا , کافی پریشان کن تھا. جی کر رہا تھا کہ یہاں چیخ چیخ کر رو لوں.
    آخر کار جب ٣ بج گئے تو میں نیچھے ایک پہاڑی کے سائے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا . میرے سامنے ہماری وہ ساری باتیں آنے لگی جو ہم نے راستے میں "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی.
    میں نے اسی وقت جلدی سے توبہ کیا کہ ہو سکتا ہے ہمیں ان باتوں کی سزا مل رہی ہو جو ہم نے "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی, یہ تو اللہ کے ولی ہے, اللہ کے خاص بندے .
    میں انہی سوچو میں گم تھا کہ میری کانوں میں فرمان کی آواز پڑی جو کہی دور سے مجھے پکار رہا تھا.
    اس آواز نے مجھے انتہائی گہرے سوچ سے بیدار کیا, جب میں نے "مانے” اور "گل” کو دیکھا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی, میں اپنے جزبات پر قابو پائے بغیر ان کی طرف بھاگا اور جٹ سے دونوں کو گلے لگا کر خوب رویا.
    اس کے بعد دوستوں کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے ساتھ یہ عہد کیا کہ آج کے بعد کبھی بھی کسی اللہ کے ولی کے بارے میں کچھ غلط نہیں کہیں گے.
    پھر موٹرسائیکل پر سوار ہو کر واپس پہنچے تو رات کے ۸ بج چکے تھے. رات کا کھانا ساتھ میں کھایا, اس کے بعد اپنا خوب مزاق اڑایا اور اپنے اپنے گھر کو چلے گئے.

  • تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے      عارف علوی

    تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور کشمیر کی آزادی تک پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے میں آج کے روز تبدیلی کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈوگرا راج کی زیادتی آج تک جاری رکھی لیکن کشمیر کی آزادی تک پاکستان چین سے نہیں بیٹھے گا وزیر اعظم عمران خان نے دنیا بھر میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

    مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی انسانی زندگیوں میں فرق ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں ہر شخص آزاد ہے اور میڈیا بھی آزاد ی سے کام کر رہا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی عوام پر مظالم جاری ہیں اور ہزاروں کشمیری شہید کیے گئے کشمیریوں کے منہ پیلٹ گن سے چھلنی کیے گئے۔

    کشمیر میں ہزراوں بہنیں بیٹیاں مائیں بیوہ ہوئیں ہیں اور یہ زیادتی آج بھی جاری ہے ہے اقوام متحدہ نے میری کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے وعدہ کیا تھا حق رائے دہی کا حق ہے آپ کے پاس وہ استعمال ہو گا مگر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا خاموش ہونے لگی مگر میرا کشمیر خاموش نہیں ہو سکتا-

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

    انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا ہر بچہ آزادای کا سپاہی بن جاتا ہے پیدا ہوتے ہی ظلم کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے آزادی کی بات کرتا ہے یندوستانی کتنی تعداد میں وہاں ہیں وہ دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ ظلم و ستم اور زیادتی کی وجہ سے وہاں ہیں اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں کہ وہ وہاں ہو-

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی طرف جو آزاد کشمیر کا حصہ ہیں وہ پر امن آپ نے ہمیشہ دیکھا میڈیا آزاد ہے وہاں جانے کے لئے لوگ آزادی سے رہتے ہیں وہاں پر لیکن مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں ہے بہانے بہانے سے کرفیو لگتا ہے مقبوضہ کشمیر میں لیکن کشمیری آزادی کی آواز اور آزادی کا جھنڈا پھر بھی اٹھاتے ہیں-

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور کشمیر کی آزادی تک پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری اکثریت ختم کرنا چاہتا ہے اور 40 ہزار بیرونی افراد کو ڈومیسائل جاری کر دیئے ہیں۔ بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے اور بھارت سے 5 اگست کے اقدامات واپس لینے تک مذاکرات نہیں ہوں گے شہدائے کشمیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

  • یوم استحصال کشمیر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال  تحریر:  عمر ہمدانی

    یوم استحصال کشمیر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال تحریر: عمر ہمدانی

    آج وادی کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 732 دن یعنی دو سال مکمل ہونے جارہے ہیں،آج پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے مکار مودی گورنمنٹ نے کشمیریوں کو ایک زندہ لاش کی مانند سمجھ رکھا ہے، مودی سرکار نے آرٹیکل 370 ختم کر کے مظلوم کشمیریوں کے حق خودرادیت پر حملہ کیاآخر کیوں؟کس بنیاد پر مظلوم کشمیریوں کے حق خودرادیت پر حملہ کیا کیا کسی قوم سے اس کے حق چھین لینا ان کو قیدو بند کر دینا اتنا آسان کام ہے؟ہم کب تک خاموش ہاتھ پہ ہاتھ دھرے آنکھوں پر پٹیاں باندھے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے غیرت مند اور بہادر کشمیری قوم نے اپنے حق خودرادیت کیلئے کیا کچھ نہیں کیا؟ لاکھوں ماؤں نے اپنے لال اس آزادی کی تحریک پر قربان کر دیئے،بچوں نے اپنی آنکھوں کی بینائی تک کھو دی،کئی بیویوں نے اپنے سرتاج اس تحریک پر قربان کر دیئے اور آج بھی غیور کشمیری قوم بھارت کے ظلم و بربریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے کھیلی گئی خون کی ہولی پر انسانیت کانپ اٹھی لیکن سلام کشمیر کے ان نوجوانوں پر جنہوں نے پیلٹ گنز اور بکتر بند گاڑیوں کا مقابلہ پتھروں سے کیا تاجروں نے اپنی تجارت اس تحریک آزادی پر قربان کر دی،طالب علموں نے اپنی ڈگریاں اس تحریک آزادی پر قربان کر دی اور سلام کشمیر کی ان ماؤں بہنوں پر جنہوں نے حجاب میں رہ کر بھارت کے ظلم و بربریت کا مقابلہ پتھروں سے کیامسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ان پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا پاکستان بھی تسلسل سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا آرہا ہے سال 2019 میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنایا تھامودی سرکار نے 5 اگست 2019 کو کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر کے ان کی خصوصی حیثیت کو ختم کیابھارت نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کشمیر میں بسانے کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا جس پر پوری دنیا سے کشمیریوں کے حق خودرادیت کیلئے آوازیں اٹھ رہی ہیں،بھارت کے ان ناپاک عزائم سے یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت میں اضافہ ہواہے میری گزارش ہے گورنمنٹ آف پاکستان سے کہ یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں اور اس دن کو قومی سطح پر یوم استحصال کشمیر کے طوپر منایا جائے، سرکاری و نجی سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جائے عوام گھروں سے باہر نکلیں اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اپنا کردار ادا کریں نوجوانان پاکستان اس تحریک کا حصہ بنیں سوشل میڈیا صارفین بھی بھارت کے وادی کشمیر میں ظلم و بربریت کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • سوشل میڈیا ایک رنگین فتنہ تحریر: حیأ انبساط

    سوشل میڈیا ایک رنگین فتنہ تحریر: حیأ انبساط

    ‏کل سوشل میڈیا پہ ایک تصویر نظر سے گزری جس میں لگ بھگ ۱۲ سال کی بچی اپنے ہی ہم عمر بچے کے ساتھ اس کا بازو تھامے اس انداز سے کھڑی تھی جیسے نیأ شادی شدہ جوڑا اپنی شادی کی پہلی دعوت پہ تیار ہوکے واٹس ایپ سٹیٹس اپڈیٹ کرنے کیلئے تصاویر بنواتا ہے

    ‏اس تصویر کو دیکھ کے تعجب ہوا اور شرم بھی آئی کہ اس عمر میں ہمارا کسی شادی کی تقریب میں اگر کبھی جانے کا اتفاق ہو جاتا تو امّی کے ساتھ والی کرسی سے اُٹھنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی اور اگر کبھی کوئی خالہ پھوپھو وغیرہ تعریف کر دیتیں کہ بھئی تم تو بہت پیاری ہوگئی ہو تو شرم کے بجائے شرمندگی سے امی کے پیچھے منہ چھپانے کی کوشش کی جاتی تھی

    ‏آجکل کی نئی نسل کو یہ خوداعتمادی ( یا بےحیائی میں طے نہیں کر پا رہی ہوں ) اسمارٹ فون کے کھلے اور بے دریغ استعمال سے آئی ہے جس پہ چار چاند لاک ڈاؤن کے بعد سے ہونے والے آن لائن تدریسی انتظام نے لگائے ہیں۔ معصوم مائیں تین وقت کے کھانے کی تیاری میں مصروف رہتی ہیں اور فارغ ہونے پر تین ہی مشہور چینلز کے واہیات ڈراموں کی فکروں میں گھلتی دیکھائی دیتی ہیں اس بات سے بےخبر کے انکی اولادیں اپنی ہی فلموں کی تکمیل میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

    ‏لیکچرز کی فراہمی کیلئے اسکول کے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں سے ہی ساتھی طلبات کے نمبر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی معلومات بھی تبدیل کی جاتی ہیں دوستی کے نام پہ جو آجکل کے بچے کرتے دیکھائی دے رہے ہیں اس سے ان کے گھروالوں کے علاوہ باقی ساری دنیا واقف نظر آتی ہے ۔ تصاویر کے تبادلے سے لے کر رات گئے تک فون پہ گفتگو والے کچھ ہفتوں کے عشق کے بعد ان بچوں کا بریک اپ بھی ہوتا ہے اور دکھ بھرے اسٹیٹس بھی لگائے جاتے ہیں اور دو چار دنوں بعد ہی ایک نئی سہیلی انکی فوٹو لائک کرتی دیکھائی دیتی ہیں ۔

    ‏جبکہ تعلیم کا حال ان تمام سرگرمیوں کے برعکس ہے ۰ میں چونکہ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوں اسلیئے قریبی مشاہدہ تحریر کر رہی ہوں حال ہی میں ہونے والے سالانہ امتحانات میں ذہین سے ذہین طلبہ کی کارکردگی قابل افسوس تھی اور اوسط درجے کے طلبأ کا حال قابلِ رحم تھا ، ایک دو کو تو اپنے اسکول کے نام کی ہجّے تک بھول گئی تھی

    ‏اس تمام واقعات و حالات کا تذکرہ کرنے کا مقصد قوم کے معماروں کی اصلاح کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ہمیں نہیں معلوم کے یہ آنلائن تعلیمی نظام کب تک جاری رکھا جائے گا لیکن بحیثیت والدین ہماری اولین ترجیح اپنی اولاد کی اصلاح اور انکی عادات و سکنات سے باخبر رہنا ہے ۔ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف نہیں لیکن اسکے غلط استعمال کے ضرور خلاف ہوں اپنے بچوں کو اسمارٹ فون کے بجائے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹز دلوائیں ، کمپیوٹر گھر میں ایسی جگہ رکھا جائے کہ آتے جاتے گھروالوں کی نظر اسکرین پہ جا سکے اسطرح بچوں کو بھی خوف ہوگا کہ ہماری سرگرمیوں سے گھر کے افراد واقف ہیں اور وہ کسی غلط سمت میں نہیں سوچیں گے ۔اس کے علاوہ ہفتہ کے اختتام پہ چھٹی والے دن والد صاحب صرف ایک گھنٹہ نکال کر پورے ہفتے کیا پڑھایا گیا اور انکے بچے نے کیا سیکھا ، اگر اس بارے میں اپنے بچوں سے بازپرس کر لیا کریں تو یقین کریں وہ پیسے جو آپ اپنے بچوں کی فیس بھرنے میں صرف کر رہے ہیں وہ وصول ہو جائیں گے ۔

    ‏ چیک اینڈ بیلینس کا ہونا ہر معاملے میں بےحد ضروری ہے کیونکہ آجکل جس تیزی سے یہ رنگین فتنہ جسکا نام سوشل میڈیا ہے ہماری نئی نسل کو بےراہروی کا راستہ دیکھا رہا ہے تو ایسے ماحول میں اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرنا انکو صحیح غلط کی واضح تعلیم دینا ماں باپ کی ہی ذمہ دای ہے۔ یاد رکھیئے آپ سے دنیا کے بعد آخرت میں بھی اولاد کی تربیت سے متعلق سوال کیا جائے گا تو کیا خیال ہے اس معاشرے کے ساتھ اللّٰہ کو بھی جواب دینے کی تیاری کیوں نا آج سے ہی شروع کردیں ؟

    @HaayaSays

  • مقصدِ حَیات تحریر:افشین

    ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے جسکو پورا کرنے کے لیے وہ دن رات کوشاں رہتا ہے اس دنیا میں کوئی بھی انسان بغیر مقصد کے نہیں بھیجا گیا. بس ضروری یہ ہے کہ ہمیں اپنے مقصدِ حیات کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے چھوٹے بچے کو پڑھائی کا شوق اور کچھ بننے کی اُمَنگ مثلاً ڈاکٹر،انجینیئر اور بہت سے شعبے ہیں جو وہ چاہے بن جائے پر اپنے مقصدِ حیات کو پانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہےکچھ لوگ اپنے مقصدِ حیات سے لا علم رہتے ہیں اور بے مقصد زندگی گزار کے چلے جاتے ہیں کچھ لوگوں کا مقصد دوسروں کو خُوشیاں دینا اور دوسروں کے لیے جینا ہوتا ہے ایسے لوگ ہی حقیقی زندگی کے ہیرو ہوتے ہیں ایسی بہت سے مثالیں پاکستان کی تاریخ اور دورِحاضر میں موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اور مال ومتاع دوسروں کی امداد میں وقف کردی ایسی شخصیات کا نام ہمیشہ سب کے لیے قابل احترام رہتا ہے اور کتابوں کے اوراق میں نمایاں مثال کے طور پہ لکھا جاتا ہے اور ہماری آنے والی نسلیں اس سے متاثر ہو کے ان جیسا بننے کی خواہش کرتی ہیں.
    جس شعبے میں ہماری دلچسپی ہو اس شعبے میں جانے کے لیے ہم کوشاں رہتے ہیں پر اچھا انسان بننے میں اگر اتنی محنت کریں تو دین و دنیا میں سرخرو رہیں.
    اپنے مقصدِ حیات کو سب سے پہلے جاننے پھر پانے کی کوشش کریں بغیر مقصد کے جینا کوئی جینا نہیں جیسے ارطغرل غازی نے اپنے جینے کا ایک مقصد بنایا اور اس کے لیے کتنی قربانیاں دیں ایسے بہت سے نیک اور بہادر لوگ ہمیشہ کی حیات پا گئے کیونکہ انہوں نے خود سے زیادہ دوسروں کا سوچا خودغرضی کی زندگی آپکو سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں دیتی سر اٹھا کے جئیں جیسے قابل محترم ایدھی صاحب نے اپنی ساری زندگی دوسروں کی خدمت میں وقف کی اور جاتے بھی انکے چہرے پہ مُسکراہٹ تھی اور اپنی انکھوں سے کسی کی اندھیری زندگی میں روشنیاں بکھیر گئے ایسی مثال قابل رشک ہے ایسی قابل محترم شخصیات قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں ایسی شخصیات سے ہی تو قومیں آباد ہے اگر دوسروں کا سوچنے والے ناں رہیں تو خود غرض لوگ تو ایک دوسرے کو نوچ کھائیں. آپ سب کی زندگی کا بھی ایک مقصد ہے اور جب تک سانس رواں رہے مقصد کی تکمیل کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے تاکہ زندگی میں اتنا اطمینان رہے کہ ہم کچھ تو کیا ہے. ایک لڑکی کی جب شادی ہو جاتی ہے وہ سمجھتی ہے بس مقصد ختم ہوگیا مگر شادی کے بعد گھر کو جنت بنانا اور بچوں کی اچھی تربیت کر کے قوم کو اچھے بیٹے دینا ان کو یہ سیکھانا کہ دوسروں کے لیے جینا اور سب کو خوشیاں دینے والے بننا یہ بھی ایک مقصد ہی ہوتا ہے کسی کو بھی اللّه پاک بے مقصد نہیں بھیجا !ایک لاچار انسان یا معذور انسان جب اس دنیا میں رونقیں دیکھتا ہے سب کو کچھ نا کچھ کرتے دیکھتا ہے اس کے دل میں بھی ایک خواہش اُبھرتی ہے کہ میں بھی ایسے کام کروں اکثر خود کو بے مقصد سمجھ لیتے ہیں جیسے کہ میں خود اسکی مثال ہوں مجھے بھی لگا میں اس دنیا میں ویسے آگئ کوئی مقصد نہیں کچھ کر نہیں سکتی پر اللہ پاک بھیجا ہے ضرور مرنے سے پہلے ایسا کچھ کر جاوں گی کہ دنیا کی نظر میں نا سہی اللّه کے آگے سرخرو ہوجاوں گی انشااللّه
    کہنا یہ چاہتی ہوں اپنی زندگی کا مقصد بنائیں خوشیاں بکھیریں !! ناں کہ خوشیاں چھیننے والے بنیں اور ہمت نہ ہاریں اللّه پاک آپکو سب دیا طاقت دی مکمل انسان بنایا آپ دوسروں کا سہارا بنیں انکی آدھوری سے زندگی میں دیے کی مانند اُجالا کریں ۔ تاکہ آپ سب بھی عظیم شخصیات کی طرح مقصد حیات پا لیں !!

    "شمع کی مانند بنیں چاروں اطراف روشنی بکھیر کے خود پگھل جاتی ہے ”

  • کپتان کا پاکستان تحریر:  فرزانہ شریف

    کپتان کا پاکستان تحریر: فرزانہ شریف

    عمران خان کے راستے کے سارے کانٹے دور هورهے هیں لیکن ٹف ٹائم پهر بهی ملے گا
    مرا هاتهی بهی سوا لاکھ کا هوتا هے پی پی پی تقریبا مر چکی نون لیگ آخری دم پر ہے میاں صاحب دوسرے الطاف حسین بن چکے ہیں لندن سے دہائیاں دے رہے ہیں "مجھے کیوں نکالا "اور بیٹی کشمیر الیکشن کی ہار کے بعد قومے میں جاچکی ہے میدان بالکل خالی ہے اب خان صاحب کے پاس سنہری موقع ہے اس قوم کی تقدیر بدلنے کا اور اللہ کے حکم سے اب وہ وقت دور نہیں جب ہم اوورسیز پاکستانی اپنے سبز پاسپورٹ پر فخر کیا کریں گے لوگوں کو فخر سے بتایا کریں گے کہ ہم عمران خان کے پاکستان کے شہری ہیں
    اللہ عمران خان کے ارادوں میں مزید پختگی عطا کرے ، اور ملک کی باگ ڈور اسی طرح اگلے پندرہ سالوں تک سنبھالے رکھنے کی اہلیت پیدا کیے رکھے اس ملک کو اب سچ میں کسی دیانتدار حکمران کی ضرورت تھی ، نوجوان نسل کے نمائندے کو موقع دینے میں کوئی حرج نہیں ،،لیکن سینئیر لوگوں کو ذیادہ موقع دینا چاہئیے ملک کی خدمت کا اس لیے کہ ان کا تجربہ ذیادہ وسیع ہے پیپلز پارٹی نون لیگ کی طرح نہیں کہ جن کے پارٹی ورکرز کو سیاست میں 40۔40 سال ہوچکے اور کل کے بچوں کے پیچھے ہاتھ باندھ کے کھڑے ہیں ۔ایک بات تو اب طے ہے کہ
    خان صاحب نے اس قوم کا جگا دیا ہے کہ تمہارے خون پسنے کی کمائی پر کیسے ڈاکہ ڈالا ہے ان چور کرپٹ سیاستدانوں نے اور الحمدللہ
    قوم.میں اب اتنا شعور آگیا ہے کہ اب کوئی بھی کرپٹ سیاست دان عزت کی زندگی نہیں جی سکے گا
    اس ملک کو تنزلی سے ترقی کی طرف لےجانا "شائد عمران خان ” کے ہاتھوں ہی لکھا ہو ا تھا ،سو اللہ نے خان صاحب کو چن لیا تھا قوم کی خدمت کے لیے خان صاحب کی اپنی قوم سے وفاداری پر کوئی بھی محب وطن کبھی شک کر بھی نہیں سکتاجس طرح ایک باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ میرا بیٹا بڑا آدمی بن جائے، ٹھیک اس طرح عمران خان کی بھی یہی کوشش ہے کہ پاکستانی قوم ایک عظیم قوم بن جائے صرف ایک اور دور حکومت خان صاحب کو مل گیا تو دنیا میں پاکستانی قوم کا ایک نام ہوگا،اورعمران خان پاکستانی قوم کو پوری دنیا کے قوموں کے مقابلے میں کھڑا کردے گا، ” امید پر دنیا قائم ہے ” سو
    ” پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ ”
    اللہ کا ساتھ رہا تو خان صاحب اگلے تین سالوں میں ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کروا کر چھوڑیں گے لوگ سچ میں باہر سے نوکریاں کرنے پاکستان آیا کریں گے ان شاءاللہ
    یہ میرا دعوی ہے۔ ♥️♥️♥️✌️✌️✌️

    @Farzana99587398