Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نوجوانوں میں بڑھتا ہو ٹک ٹاک کا جنون تحریر : علی حیدر

    نوجوانوں میں بڑھتا ہو ٹک ٹاک کا جنون تحریر : علی حیدر

    دور حاضر میں ٹیکنالوجی نے جہاں ایک طرف بنی نوع انسان کو آسانیاں اور آسائشیں فراہم کی ہیں وہاں اس کی وجہ سے ان گنت سماجی و معاشی مسائل بھی درپیش ہیں۔
    سوشئیل میڈیا ایپلیکیشنز کے حوالے سے اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایپلیکیشن رابطے کا آسان ذریعہ ہیں لیکن شہرت اور تفریح کے لئیے ایسی ایپلیکیشنز کا بے جا استعمال نہ صرف وقت کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے بلکہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کی بھی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔
    مشرقی تہذیب و کلچر اسلامی تعلیمات کی بہترین عکاس ہے اور یورپ کی تہذیب سے قطعی مختلف ہے لیکن ٹیکنالوجی نے دنیا کے فاصلوں کو مٹاتے ہوئے تمام تہذیبوں اور معاشروں کو ایک ہی مقام پہ لا کھڑا کیا ہے ۔
    ٹک ٹاک ایک سوشیل میڈیا ایپلیکیشن ہے دنیا بھر میں جس کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔
    ٹک ٹاک نامی ایپلیکیشن چائنہ کے ژانگ یمنگ نامی ایپ ڈویلپر نے 2016 میں بنائی۔ یہ لوگوں میں اتنی مقبول ہوئی کہ چند سالوں میں اس نے یوٹیوب اور فیس بک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔
    2018 میں ٹک ٹاک نے ایک اور شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن میوزیلکی کو 2 ارب ڈالر میں خرید لیا ۔
    ٹک ٹاک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس ایپلیکیشن کو پلے سٹور سے اب تک تقریباً ڈیڑھ بلین مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے ۔
    پاکستان میں ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد 3 کروڑ کے لگ بھگ ہے جبکہ بھارت میں ٹک ٹاک کے 13 کروڑ صارفین موجود ہیں۔
    ٹک ٹاک ایک شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن ہے ۔ جس کے صارفین نے 15 سیکنڈز پر محیط ویڈیو بنا کر اس پر اپلوڈ کرنا ہوتی ہے ۔
    نوجوانوں میں ٹک ٹاک کا بڑھتا ہوا جنون معاشرے میں نہ صرف بے راہ روی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ کچھ صارفین ٹک ٹاک کے ذرئعیے شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لئبے بے ہودہ اور فحش حرکات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
    ان نام و نہاد سوشئیل ایپلیکیشنز نے لوگوں کی سماجی ذندگیوں کو محدود کر دیا ہے۔ رشتے داروں اور عزیز و اقارب سے میل جول اور ان کے ساتھ تعلق داری مسدود ہو چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں قطع تعلقی اور معاشرتی نفرتیں اور کدورتیں عام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
    ٹک ٹاک کے صارفین میں مردوں سے ذیادہ تعداد عورتوں کی ہے ۔
    معاشرے میں ٹک ٹاک سے پھیلتی بے حیائی اور بے راہ روی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے متعدد بار اس ایپلیکیشن پر پابندی لگانی چاہی لیکن ہر بار سیکولر طبقہ آڑے آ گیا۔
    سیکولر طبقہ ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کو آزادی اظہار رائے پر پابندی لگائے جانے کے مترادف سمجھتا ہے۔
    ٹک ٹاک لوگوں کو اسلام سے متنفر کر رہی ہے چناچہ ہماری نوجوان نسل اسلامی تعلیمات میں عدم دلچسپی کا اظہار کر رہی ہے جس کے واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں۔
    ٹک ٹاک سے پھیلتی بے حیائی کو روکنے کے لئیے کسی مؤثر لاحئہ عمل کی شدید ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کی فحش حرکات کو محدود کیا جا سکے ۔
    ہمارے تعلیمی ادارے جن کو تحقیق و تصنیف کا مرکز و منبع ہونا چاہئبے تھا وہ بھی ٹک ٹاک کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے ۔ چناچہ تعلیمی اداروں میں ذیر تعلیم طلبہ ٹک ٹاک بنانے میں مصروف عمل ہیں۔
    کسی بھی انسان کی جوانی اس کی ذندگی کے اداور میں سب سے قیمتی وقت ہوتا ہے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے لئیے بہتر مستقبل کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان اپنے مستقبل سے بے فکر ایسی لغویات میں الجھے دکھائی دیتے ہیں جو قابل فکر اور باعث تشویش ہے۔
    قابل غور امر یہ بھی ہے کہ بے راہ روی کے ساتھ ساتھ ہمارے نوجوان بے ادب اور ذیادہ پر اعتماد ہو چکے ہیں جس میں ایسی ایپلیکیشنز کے استعمال کا بہت ہاتھ ہے۔

    اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور نشو نما , شہرت اور دولت کے حصول کے لئیے ٹک ٹاک کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز موجود ہیں جو ٹک ٹاک سے ذیادہ بہتر ہیں کیونکہ 15 سیکنڈز کی ویڈیو میں کیونکر کسی کی صلاحیتیں اجاگر ہو سکتی ہیں۔
    یوٹیوب اور فائیور جیسے پیشہ ورانہ پلیٹ فارمز پہ اپنی صلاحیتوں کو پیشے کے طور اپنا کر معاشرے کا کوئی بھی فرد نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا بہتر طور پہ اظہار کر سکتا ہے بلکہ ایک باعزت روزگار بھی حاصل کر سکتا ہے۔
    لیکن ہمارے نوجوان بغیر محنت کئیے اور کسی بھی ڈیجیٹل ہنر میں مہارت حاصل کئیے بغیر صرف 15 سیکنڈز کی ویڈیو کے ذرئعیے شہرت اور دولت حاصل کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔
    مغربی ممالک ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر چکے ہیں چناچہ ان کی تیار کردہ ایسی ایپلیکیشنز کو استعمال کرنے والے ہم ہی ہیں ۔ ہمیں چاہئیے کہ اپنے نوجوانوں میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کریں کہ صرف ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال شہرت , عزت اور دولت عطا نہیں کر سکتا بلکہ ہمیں ٹیکنالوجی میں خود مہارت حاصل کرنا ہو گی کیونکہ آخر وہ بھی تو ایک نوجوان تھا جس نے ایسی ایپلیکشن کو بنا کر دولت , عزت اور شہرت حاصل کی ۔
    دنیا میں اپنے وقار اور معیار کو بلند رکھنے کے لئیے اس امر کی ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے جدید پہلوؤں کے متعلق آگاہی دی جائے تاکہ ہمارے نوجوان اس ڈیحیٹل شعبہ ذندگی سے وابستہ ہو کر معاشرے کے باعزت اور باوقار شہری بن سکیں اور خرافات و بے ہودہ حرکات سے باز آ سکیں۔

    @alihaiderrr5

  • تکبر ایک معاشرتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    تکبر ایک معاشرتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    معاشرے میں پائی جانی والی معاشرتی بیماریوں میں تکبر بھی ایک معاشرتی بیماری ہے جو ہمارے معاشرے میں عام ہے اور اسے آجکل برا بھی نہیں سمجھا جاتا جبکہ تکبر ہمارےرب کو بالکل پسند نہیں ، متکبر شخص کا ٹھکانہ جہنم بتایا گیا ہے ، تکبر حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں کہ تکبر میری چادر ہے عظمت میرا ازار ہے پس جو کوئی مجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے گا میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔
    سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 699
    اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 15۝۞
    ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ۔(سورۃ السجدہ 15)
    وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۣ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 31؀
    اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا (اُن سے کہا جائے گا )، ’’ کیا میری آیات تم کو نہیں سنائی جاتی تھیں؟ مگر تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کر رہے ۔
    (سورۃ الجاثیہ 31)
    جبکہ تکبر کرنے والوں کیلئے آخرت میں بھی رسوائی ہی مقدر ہے
    وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَي النَّارِ ۭ اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا ۚ فَالْيَوْمَ تُجْـزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْـتَكْبِرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ 20؀ۧ
    پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : ’’ تم اپنے حصّے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لُطف تم نے اُٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا ۔(20سورۃ الاحقاف )حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اپنی ازار تکبر سے لٹکائے ہوئے جا رہا تھا کہ زمین میں دھنس گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 744
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر سے اپنے کپڑے کو لٹکائے گا قیامت کے دن خداوند تعالیٰ اس پر رحمت کی نظر سے نہ دیکھے گا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا میرے کپڑے کا ایک کونہ لٹک جاتا ہے ہاں میں اس کی نگہداشت رکھوں تو خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تم تکبر نہیں کرتے-صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 912

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑا کریں گی دوزخ کہے گی کہ میں متکبر اور ظالم لوگوں کے لئے مخصوص کردی گئی ہوں اور جنت کہے گی کہ مجھ کو کیا ہوگیا ہے کہ مجھ میں صرف کمزور اور حقیر لوگ داخل ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ کہ تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت کروں گا اور جہنم سے فرمائے گا کہ تو عذاب ہے میں تیرے ذریعہ سے جن بندوں کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے بھرنے کی ایک حد مقرر ہے لیکن دوزخ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا تو وہ کہے گی کہ بس بس اس وقت دوزخ بھر جائے گی اور ایک حصہ دوسرے حصہ سے مل کر سمٹ جائے گا اور اللہ بزرگ و برتر اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرتا اور جنت کے لئے اللہ تعالیٰ ایک دوسری مخلوق پیدا کرے گا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2058
    حارث بن وہب، خزاعی ؓسے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں وہ ہر کمزور اور حقیر ہے اگر اللہ پر کوئی قسم کھالے تو اللہ اس کو پورا کردے کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں وہ شریر مغرور اور تکبر والے لوگ ہیں
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2130
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو جنتی لوگ نہ بتا دوں وہ کمزور اور مظلوم ہیں، اگر وہ کسی بات پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ اسے پورا کر دیتا ہے اور دوزخ میں جانے والے مغرور اور سرکش اور متکبر لوگ ہیں۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1595
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جو تی بھی اچھی ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 266
    حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اور کوئی ایسا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 267

    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ اس آدمی کی طرف نظر نہیں فرمائے گا کہ جو آدمی اپنا کپڑا زمین پر متکبرانہ انداز میں گھسیٹ کر چلے۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 956

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی چلتے ہوئے جارہا تھا اسے اپنے سر کے بالوں اور دونوں چادروں سے اتراہٹ (یعنی تکبر)پیدا ہوئی تو اس آدمی کو فورا زمین میں دھنسا دیا گیا اور قیامت قائم ہونے تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 968
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ رب العزت آسمانوں کو لپیٹ لے گا پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ،زور والے(جابر)بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے کہاں ہیں پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں زور والے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے کہاں ہیں؟ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2550

    حضرت علی رضی اللہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی (ریشمی کپڑا) پہننے سے اور سرخ زین (پرسوار ہونے) سے (اس لیے کہ ان چیزوں سے آدمی متکبر ہوجاتا ہے کیونکہ یہ غرور و فخر کی چیزیں ہیں)۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 661
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور تکبر سے محفوظ رکھیں- آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    برصغیر پرپہلے مسلمان کے قدم رکھتے ہی نظریہ پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلم و ہندو ایک نہیں دو الگ الگ اقوام؛ یہ تفریق جنس، رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس نظریہ کی بنیاد پر ہے جس سے زیادہ مضبوط بنیاد روئے زمیں پر کوئی اور ہو نہیں سکتی اور وہ ہے لا الہ الا اللہ۔ یہی کلمہ نظریہ پاکستان کی روح ہے اور مسلمانان عالم کا ایمان بھی۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی اور اسی عقیدہ پر تاقیامت قائم دائم رہے گی ان شاءاللہ۔

    تقسیم ہند سے پہلے برصغیر میں مختلف قومیتیں آباد تھیں جن میں ہندوؤں کی غالب اکثریت تھی۔ جب تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی کبھی کوئی مسئلہ نہ ہوا کیونکہ دین اسلام رعایا کو مکمل مذہبی و معاشرتی آزادی دیتا۔ مسلم بادشاہت کے مختلف ادوار میں ہندو وزیروں مشیروں تک کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں مذہب و سماج کے معاملات میں پوری آزادی و خودمختاری حاصل تھی۔ لیکن انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ کرتے ساتھ ہی ہندوؤں کی صدیوں پرانی چھپی مسلم دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔ ہندو بنیے کی ازلی فطرت "بغل میں چھری منہ میں رام رام” پورے طور پر آشکار ہو گئی۔ تہذیب، طرز بودو باش، نظریاتی فکر، کردار و عبادات‘ طرز معاشرت و معیشت غرض ہر شعبہ میں اختلاف کھل کر سامنے آ گئے۔ صدیوں سے ایک ساتھ رہتی دو الگ قومیتوں میں کوئی ایک چیز بھی مشترک نہ رہی۔
     اس نازک صورتحال میں کچھ مسلم اکابر و رہبران نے مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے کی ٹھانی کیونکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ہندو بنیا نے اپنی مکاری و عیاری کے زریعے انگریز سرکار کو شیشے میں اتار لیا ہے اور تاج برطانیہ ہندو کو برصغیر کا اگلا حاکم تصور کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مربوط و منظم لائحہ عمل نہ اپنایا گیا تو مسلمانان برصغیر ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔ اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہو جہاں پر وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق آزادی سے زندگی بسرکرسکیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر سرکردہ رہنماؤں کی زیر قیادت انتھک جدوجہد کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن یہ تقسیم ہندوؤں نے کبھی دل سے قبول نہیں کی۔

    قائد اعظم کی بہترین حکمت عملی کی بدولت انگریز اور ہندو نے مسلمانوں کے الگ ملک کے مطالبے کو تسلیم تو کر لیا لیکن ساتھ ہی تقسیم کے دوران منافرت، منافقت، اور تشدد آمیز رویے سے وہ بیج بویا جس کا زہریلا پھل آج بھی بھارتی مسلمان کھانے پر مجبور ہیں۔ کئی بتوں کے پجاری منہ میں کئی زبانیں اور سینے میں بغض و نفرت بھرا دل رکھتے ہیں۔ وہ متعصب قوم جس کی بنیاد ہی چھوت چھات اور ذات پات پر رکھی گئی ہو وہ بھلا کیسے ایک خدا کو ماننے والوں کو برداشت کر سکتے؟ مکاری میں ید طولیٰ رکھنے والے، جن کی پوری سیاست جھوٹ ‘ فراڈ‘ وعدہ خلافی اور دھوکا دہی کی بنیاد پر قائم ہے وہ بے غرض کیسے کسی اور قوم کے ہمدرد ہو سکتے؟

     قائداعظم ؒ، ڈاکٹر علامہ اقبالؒ، نوابزادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، سرسید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر اور دیگر رہنما و رہبر اگر اپنی دور اندیشی اور بصیرت افروزی کی بدولت آج کے ہندوتوا نظریے کو نہ جانچتے تو ہمارا حال بھی بھارتی و کشمیری مسلمانوں سے مختلف نہ ہوتا۔ جن کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں نہ جان۔ نہ مذہبی آزادی ہے اور نہ ہی کوئی معاشرتی مقام۔ گنتی کے چند مسلمان فنکار ہیں جن کو بھارت سیکولرازم کا جھوٹا چہرہ دنیا کو دکھانے کیلئے عزت دیتا اور وہ فنکار بھی ہندو سرکار کو خوش کرنے چکر میں آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بن چکے ہیں۔ کبھی ہندو عورتوں سے شادی کرتے تو کبھی بتوں کو سجدہ کرتے۔ اس کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں سے ان کو مسلسل خطرہ رہتا۔

    آئیے مل کر سجدہ شکر ادا کریں اور جدوجہد آزادی کے علمبرداروں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کریں جن کی بدولت ہم آزاد مملکت کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

    بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
    جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

    @once_says

  • پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب امیدوار قبول کریں گے     وزیر اعظم عمران خان

    پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب امیدوار قبول کریں گے وزیر اعظم عمران خان

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آخر کار پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب فریق قبول کریں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنے ٹوئٹ میں ووٹنگ مشین چیک کرنے کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ہماری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سےپاکستان میں تیارکردہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینزکامعائنہ کیا-

    بھارت خود ساختہ جھوٹ گھڑنے اور حیلے بہانے تراشنے سے باز رہے ترجمان دفتر خارجہ

    وزیر اعظم نے لکھا کہ لیکٹرانک ووٹنگ مشینزکامعائنہ کرتے ہوئے بالآخریہ دکھائی دینے لگاہےکہ پاکستان میں ہمیں ایسےانتخابات میسر آئیں گےجن میں حصہ لینےوالےتمام امیدوار نتائج تسلیم کریں گے-


    وزیر اعظم نے اپنی ٹوئٹ میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز اور ان کی ٹیم کو مبارکباد بھی دی-

    یو اے ای حکومت سے ضروری ریپڈ ٹیسٹ کی بجائے اینٹیجن ٹیسٹ قبول کرنے کی درخواست کریں…

    این سی او سی کی تشکیل کے 500 دن مکمل ہونے پراسد عمر کی خصوصی ٹوئٹ

  • جَدوجہد  تحریر: افشین

    جَدوجہد تحریر: افشین

    ایسی سَرزَمین جس کے لیے ہمارے آباواجداد نے بہت قربانیاں دیں اور اپنے لہوُ دے کے ایک مملکت حاصل کی جس کو پاکستان کہتے ہیں عَلامہ اقبال مفٙکر پاکستان کے خواب کو مملکت پاکستان بنانے میں قائداعظم محمد علی جناح کی کوشش اور ہمارے تمام آباواَجداد کی قربانیاں شامل ہیں اسلام کا پرچم لہرانے ، آزادی سے جینے اور امن کا گہوارہ بنانے کے لیے یہ مٹی کا ٹکڑا حاصل کیا گیا یہ مٹی کا ٹکڑا ہمارے لیے اپنی جان سے بڑھ کے ہے اسکی حفاظت کے لیے تادم ہم لڑتے رہینگے کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھے گا ہم اسکی آنکھیں چیر دیں گے اپنی عبادت و فرائض انجام دینے اور ہندوؤں کے تسلط سے نکلنے کے لیے یہ وطن عزیز حاصل کیا گیا ہم اپنے شہداء اور آباواجداد کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے انگریزوں کے چُنگل سے نکلنے کے بعد ہم ہندووں کے زیر تسلط آجاتے اور ہمیشہ کے لئیے غلامی کی زنجیر میں جھکڑ دیے جاتے سانس لینا صرف جینا نہیں ہوتا ایک جَدوجہد کا نام جینا ہے اور یہی جَدوجہد وطن پاکستان کی صورت میں حاصل ہوئی. کوشش کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں آزادی کا سورج 14 اگَست 1947 کو طلوع ہوا اس جَدوجہد سے کتنے چہروں پہ مسکان آئی آزادی کیا ہے ؟اس گھڑی کے کارواں سے پوچھےجن کی انتھک کوشش جب پروان چڑھی تو کیا تاثرات تھے آنکھوں کی چمک بتاتی تھی کہ انکے لیے وطن عزیز حاصل کرنا کیا معنی رکھتا تھا وہ خود تو اب نہ رہے پر اپنی نسلوں کے لیے مثالِ جہاں بنے۔دنیا کی تاریخ میں سُنہرے حروف میں یہ سبق دے گئےکہ کیسے انسان کی کوشش اسکو کامیاب کرتی ہے جب تک کوشش نہ کی جائے کچھ حاصل نہیں.
    اس وقت سرمایہ تک درکار نہ تھا بے گھر افراد کے پاس کھانا پینا تک دستیاب نہ تھا کچھ کو چھت تک نصیب نہ تھی. درویشی سی حالت تھی جہاں پڑاوُ ڈال لیا حالات بہت ناسَازگار تھےآمدورَفت کے ذرائع تک موجود نہ تھے پر موجودہ دور میں رَبّ پاک کا کرم ہے اس ملک میں سب کچھ موجود ہے بس اس ملک کے غداروں کی وجہ سے حالات خراب رہتے ہیں ورنہ اب تک ترقی یافتہ ممالک میں پاکستان سرِفہرست ہوتا جس ملک کے لیے ہمارے آباواجداد نے جانوں کے نذرانے دیے اس ملک کو اسی میں موجود غداروں نے لوٹ لیا ہمیشہ اس ملک کو آپنوں سے نقصان پہنچا۔
    ہر سال ہم جشّنِ آزادی مناتے ہیں اور اپنے آباواجداد کی جَدوجہد کو سراہتے ہیں ۔ پہلے پہل آزادی کے دن جسم میں ایک روح جیسے پھونک دی جاتی ایک احساس سا پیدا ہوتا لہو میں آزادی کی ایک لہر دوڑتی جنون ہے آزادی ۔ پرواز ہے آزادی
    اب بھی جوش و خروش سے آزادی کی تقریب منائی جاتی ہے وطن سے محبت کبھی کم نہیں ہوسکتی جشن آزادی منانے کا انداز ضرور بدلہ ہے پر وطن پہ جانثار ہونے کے لیے لہو میں گرم جوشی اب بھی ویسی ہی موجود ہےحالات بدلتے گئے کارواں بڑھتا گیا بہت سے بُرے حالات آئے دہشت گردی، سیلاب، زلزلے جیسی مشکلات سے بھی سامنا کرنا پڑا پر میرے وطن کے جیالوں جانبازوں نے کبھی ہمت نہ ہاری ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کیا اور اپنی جدوجہد کو روکا نہیں اس ملک کے حالات جو کچھ لوٹیروں کی وجہ سے خراب ہیں ان حالات سے نکلنے کے لیے اس ملک کو اس قوم کے ہر فرد کی ضرورت ہے ہم سب مل کے اپنے ملک کو مضبوط بنانا ہے اپنی جَدوجہد جاری رکھنی ہے وطن حاصل تو کرلیا اب اس کو ترقی یافتہ ممالک میں سر فہرست لانا ہے اس ملک کے رکھوالے بنے اس دھرتی سے ہی ہمارا امن وایمان ہے۔

    #

    @Hu__rt7

  • محنت ایک ضروری چیز ہے  تحریر : ابراھیم

    محنت ایک ضروری چیز ہے تحریر : ابراھیم

    جو ہم سب کو زندگی میں درکار ہے۔ محنت کے بغیر عظمت حاصل کرنا ناممکن ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، ایک بیکار شخص کچھ حاصل نہیں کر سکتا اگر وہ بیٹھ کر کسی اور چیز کا انتظار کرنا چاہے۔ دوسری طرف ، جو مسلسل محنت کرتا رہتا ہے وہ یقینی طور پر زندگی میں کامیابی حاصل کرے گا محنت کی اہمیت۔
    محنت اہم ہے اور تاریخ نے اسے بار بار ثابت کیا ہے۔ عظیم ایڈیسن دن میں کئی گھنٹے کام کرتا تھا اور وہ اپنی لیبارٹری ٹیبل پر صرف اپنی کتابوں کے ساتھ اپنے تکیے کے طور پر سوتا تھا۔اسی طرح ہندوستان کے وزیر اعظم مرحوم پ. نہرو دن میں 17 گھنٹے اور ہفتے میں سات دن کام کرتے تھے۔ اس نے کسی چھٹی کا مزہ نہیں لیا۔ ہمارے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی نے ہمارے ملک کی آزادی کے لیے چوبیس گھنٹے کام کیا۔اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام لوگوں کی محنت کا نتیجہ نکلا۔ کسی کو محنت کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کو اپنے خوابوں کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں ، انسان کام کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ سٹیل کی طرح ، وہ استعمال میں چمکتا ہے اور آرام سے زنگ آلود ہوتا ہے۔اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام لوگوں کی محنت کا نتیجہ نکلا۔ کسی کو محنت کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کو اپنے خوابوں کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جب ہم زندگی میں سخت محنت کرتے ہیں تو ہم کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں اور کسی بھی رکاوٹ کو دور کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ، ہم یہ جان کر بھی بہتر زندگی گزار سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا سب کچھ دیا ہے اور جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں اس میں اپنی پوری کوشش کی ہے۔

    محنتی ہمارا کردار بناتا ہے کیونکہ ہم زیادہ نظم و ضبط اور توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ محنتسے ہم اپنے وقت اور وسائل کا انتظام کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات ہم کچھ چیزوں سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ہار ماننا آسان ہے۔
    ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ آسان چیز کبھی بھی کردار نہیں بناتا۔ محنتی ہمارے جسم میں دو اہم چیزیں بناتا ہے: پٹھوں اور کردار کیونکہ وہ دونوں چیزیں ایک ہی طرح سے تعمیر کی جاتی ہیں۔ محنت کا نتیجہ کامیابی نہیں ہے۔ یہ کردار ہے.

    محنتی ہمیں بہت سی چیزیں سکھاتا ہے، جیسے کچھ سیکھنا، کچھ بنانا اور کچھ بدلنا۔ ان تینوں کا ایک آخری نکتہ ہے: نتیجہ۔ بہت سے لوگ کامیابی کا خواب دیکھتے ہیں لیکن وہ ایسا کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے ہیں۔ اگر ہم کچھ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سخت محنت کرنی چاہئے کیونکہ سستی ہمیں وقت اور وسائل ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔
    بعض اوقات ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ محنتی کچھ پیدا کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے لئے سخت محنت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس صرف ایک چیز ہے جس کے لئے خوشی ہے: خود۔ اس کے باوجود ہمیں یہ سوچے بغیر دوسروں کو خوش کرنے کے لئے بھی سخت محنت کرنی چاہئے کہ اس کا کریڈٹ کس کو ملے گا۔ کیونکہ اگر ہم دوسروں کو خوش کرنے کے لئے سخت محنت کریں گے تو ہمارے پاس غیر متوقع طریقوں سے بدلے میں کچھ ہوگا۔ ہماری محنت کا نتیجہ احساس یا مصنوعات کی شکل میں ہوسکتا ہے۔ اس طرح، ہم دو فوائد حاصل کرتے ہیں: خوشی اور مصنوعات۔

    @kamboh292

  • بھیک مانگنا ایک گناہ ہے  تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک گناہ ہے تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    ایک دفعہ ایک غریب و مفلس شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے مدد طلب کی. حضور اکرم ﷺ اگر چاہتے تو اسکی مدد کرسکتے تھے خود یا پھر کسی صحابیؓ سے کہہ دیتے مدد کرنے کو. اگر پیغمبرِ اسلام ﷺ ایسا کرتے تو انکی وقتی مدد تو ہوجاتی لیکن دوسرے دن پھر اسکو ضرورت ہوتی اور انکو مانگنے کی عادت پڑ جاتی اس لئے ایسا کرنے کے بجائے پیغمبرِ اقدس ﷺ نے اس کے جسم پر لپٹے کمبل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ تمہارا اپنا ہے؟ اس نے جواب ہاں میں دیا. حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس سے وہ کمبل لیا اور بازار جا کر وہ بیچ دیا. اس سے جو رقم حاصل ہوا اس سے ایک کلہاڑی اور رسی خریدی اور جو تھوڑے بہت پیسے بچے وہ اس کے ہاتھ میں دئے اور فرمایا یہ کلہاڑی اور رسی لو اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لایا کرو اور وہ لکڑیاں بیچ کر اپنا کام چلایا کرو اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیگا.
    اسی طرح کی ایک مثال چینی زبان کا بھی ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی آئے اور ایک وقت کا کھانا مانگے تو اس کو ایک وقت کھانے کیلئے ایک مچھلی نہ دے بلکہ اسے ایک جال دو مچھلیاں پکڑنے کیلئے تا کہ وہ مچھلیاں پکڑے اور اپنی روزی روٹی کا بندوبست خود کرے.
    کتنی تعجب کی بات ہے چینیوں نے تو اس کہاوت پر عمل درآمد کرکے خود کو بامِ عروج پر پہنچا دیا اور دوسری طرف ہم اپنے پیغمبرِ اکرم ﷺ کی منشاء کے خلاف چندوں، بھیک اور مانگنے کے خوگر ہوگئے. بھیک مانگنا باقاعدہ ایک کاروبار بن گیا ہے نہ کہ ایک مجبوری اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جو کہ انتہائی تشویش کی بات ہے. لیکن کیا کرے ہم تو 10، 20، 50، 100 پکڑا کر جان چھڑا لیتے ہیں جو کہ دراصل یہ ہماری طرف سے اس کو پروان چڑھانے میں ہمارا کردار ہوتا ہے لیکن ہم اس پہلو کو سوچتے ہی نہیں.
    اور یہ کوئی شاذ و نادر نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ صرف عوامی سطح سے ممکن ہوتا ہے بلکہ ہماری حکومتیں بھی لوگوں کو عارضی امداد دے کر بھکاری بنا دیتی ہیں. ہماری پچھلی سے پچھلی حکومت نے تو اس کام کو اتنا بامِ عروج پر پہنچادیا تھا کہ سیدھے سیدھے اپنے کام کرنے والے اپنے ہاتھوں سے رزق حلال کمانے کا تصور ہی ختم ہوگیا تھا. اس حکومت نے اس رقم میں اور بھی اضافہ کر دیا. یہ اچھا اقدام بھی ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی مدد ہوگی اور وہ رزق کی تنگی سے بچینگے اس حد تک تو یہ درست ہے لیکن اس آڑ میں یہ پیسے 40 فیصد غیر مستحق لوگوں کی جیبوں میں جاتے ہیں جبکہ بعض جگہوں میں تو ایک ہی گھر کے دو دو، تین تین بندوں کو ملتے ہیں جو درحقیقت مستحقین کی حق تلفی کا باعث بنتا ہیں.
    اس سے اگر ایک طرف بے روزگاری، بے ہنری اور مانگنے کا رجحان بڑھا ہے تو دوسری جانب ایک اور خطرناک صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے. کچھ عرصے تک مفت کی کھانے والوں کو اس کی عادت پڑ جاتی ہے. پھر وہ کام کرنے کے بجائے تاک میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کچھ ہاتھ آسکتا ہے اور جب ہاتھ کچھ نہیں آتا تو ہیرا پھیری، چوری چکاری اور جرائم کی راہ پر نکل جاتے ہیں اور پورا معاشرہ اس کے جرائم کا شکار بن جاتا ہے.
    لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے معاشرے میں مفت کھانے اور مفت کھلانے کا یہ رجحان اتنا گہرا ہوگیا ہے کہ اس کو عیب کی بجائے ایک ہنر کا درجہ حاصل ہوگیا ہے. ہماری تباہی اور زوال کا باعث ہی یہ رجحان ہے.
    ہمیں اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا تا کہ آگے بڑھ کر اس کا سدباب کیا جاسکے. . ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو اس لت سے بچانا ہوگا تب ہی ہمارا معاشرہ اور ملک ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوگا. وگرنہ ہم ایسے ہی بھکاری رہینگے اور یہ لت نسل در نسل، پشت در پشت ہم میں منتقل ہوتی رہیگی. اور اقوام عالم میں ہماری کوئی عزت نہیں ہوگی. بلکہ ہماری پہچان ایک بھکاری قوم سے ہوگی.
    اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے کہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کرے.
    آمین
    *پاکستان زندہ باد*

    Twitter ID:
    @IjazPakistani

  • کشمیر: بھارتی استحصال اور ہندوتوا سرکار  تحریر: محمد بلال

    کشمیر: بھارتی استحصال اور ہندوتوا سرکار تحریر: محمد بلال

    5 اگست 2021، بھارت کے ذیرِ تسلط غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی لاک ڈاؤن کو دو سال مکمل ہوۓ۔ پاکستان کشمیری عوام پر ظلم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی کوشش ہمیشہ کرتا رہا ہے ، نہ صرف مخصوص دنوں پر بلکہ سالوں سے کر رہا ہے ۔ایک طرف ، کرونا 19 اور لاک ڈاؤن نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تباہ کر دیا اور لوگوں کے کاروبار کا صفایا کر دیا۔ وہیں، دوسری طرف کشمیر میں ، لاک ڈاؤن اور جبری محاصرہ پہلے ہی جاری ہے ،اور اب وبا کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ وبائی امراض کے باوجود بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کیا بلکہ غیر قانونی قابض افواج نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھی ہیں۔ 5 اگست کو پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے اس استحصال کے خلاف ایک آواز سے بولی ہے اور یہ آواز پوری دنیا میں سنائ گی ہے کیونکہ کشمیریوں اور پاکستانی عوام کا دل ایک ساتھ دھڑکتا ہے۔ جب بھی بھارت نے کشمیر میں ظلم کی نئی کہانی پیش کرنے کی کوشش کی ، پاکستانی عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ پایا گیا۔اس کے باوجود پاکستان ایک قدم آگے سوچ رہا ہے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ پاکستان علاقائی سلامتی کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے۔ جبکہ پوری دنیا آر ایس ایس اور بھارتی وزیراعظم مودی کی انتہا پسند ہندوتوا سوچ سے واقف ہے۔بین الاقوامی اداروں کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اس سوچ کا مقابلہ کرنے کے لیے آج بھارت کو بے نقاب کرنا اور بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ یہ سوچ نہ صرف ہندوستانی یا کشمیری مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔بھارتی ناجائز قابض افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ نوجوان اس کا بنیادی ہدف ہیں اور انہیں بھارت کے خفیہ ٹارچر سیلز میں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم ان نڈر نوجوانوں کے مقروض ہیں جو اپنی جانیں دیتے ہیں لیکن اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے بھارتی قابض افواج کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی گئی۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی شناخت مٹانے کی کوشش کی لیکن بری طرح ناکام رہی۔ بھارت نے سوچا کہ ایسا کرنے سے وہ کشمیریوں کو نفسیاتی اور قانونی طور پر محکوم کر دے گا ، لیکن وادی کے کسی مسلمان نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا۔بھارت ، مسلمانوں کا دشمن ، 1947 سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں کے ساتھ نہ صرف غیر انسانی سلوک کر رہا ہے ، بلکہ اس نے لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ "کشمیر تنازعہ” بھارت اور پاکستان کے درمیان ازلی دشمنی کا مرکزی نقطہ ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل ایک اس کی تشکیل کا مقصد بتاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی حقیقی روح کے مطابق ، "بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے اور اس مقصد کے لیے: امن کے لیے خطرات کی روک تھام اور ان کے خاتمے کے لیے موثر اجتماعی اقدامات کرنا”۔اس کے برعکس مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی میز پر سب سے پرانا معاملہ ہے جو حتمی حل کا منتظر ہے۔ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ بھارتی حکومت کو مظالم کے خاتمے کے لیے پابند کرے اور غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی محاصرہ ، مواصلات اور پابندیاں ختم کرنے کے لیے کہے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے ارادے سے متعارف کرائے گئے نئے ڈومیسائل قوانین کے بھارتی ایکٹ کو منسوخ کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کو 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کو کالعدم قرار دینا چاہیے۔ آئی آئی او جے کے میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔کیونکہ تنازعات کا پرامن حل اور انسانی حقوق اور وقار کا تحفظ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

    @Bilal_1947

  • بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومیں جنہوں نے خواتین کو علم کی روشنی سے محروم کیا وہ قومیں آباد نہیں ہوتیں، خواتین کو انکی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے،اور یہی خواتین تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کانام مختلف ڈیپارٹمنٹس میں روشن کرتے ہیں۔
    بلوچستان میں بھی اب خواتین کی بڑی تعداد مختلف شہروں اور قصبوں سے کوئٹہ میں اپنے خاندانوں سمیت صرف اس لئے مقیم ہیں کہ انہیں بنیادی تعلم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہ ہوں، لڑکیاں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیتی ہیں اور جبکہ بڑی تعداد میں لڑکیاں صوبہ کے مستند ادارے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں۔
    بلوچستان میں رہنا جہاں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے آسان اور پرامن نہیں۔
    سردار بہادر خان یونیورسٹی کی طالبہ نبیلا کے مطابق مجھے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (ایس بی کے ڈبلیو یو) میں داخلہ ملا جہاں 15 جون 2013 کو ایک دھماکہ ہوا ، جس نے یونیورسٹی بس کو نشانہ بنایا۔ لڑکیاں گھر جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس خوفناک واقعے نے یونیورسٹی کے 15 طالبات کو ہلاک کر دیا۔ میں نے اس کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ، کیونکہ ایس بی کے ڈبلیو یو صوبے کی واحد خواتین کی یونیورسٹی تھی اور لڑکیاں دور دراز علاقوں سے اپنی ڈگریاں مکمل کرنے آتی ہیں۔ اگرچہ مجھے 2015 میں داخلہ ملا، اس سفاکانہ واقعے کے دو سال بعد بھی میں کیمپس میں خوف محسوس کرتی تھی۔ یہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ تھا اور داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہم سیکھنے کے لیے اس یونیورسٹی میں ہونے سے نہیں ڈرتے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا اور اندر کا ماحول محفوظ محسوس کیا۔ لیکن کوئی اچانک یا بلند آواز ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ 2017 میں جب یونیورسٹی کی بسوں کو دوبارہ دھمکی دی گئی تو یونیورسٹی ایک ہفتے کے لیے بند تھی اور سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بسیں ایک مہینے تک نہیں چل سکیں۔ کسی نے صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بات نہیں کی۔ مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے پاس بلوچستان سے خبریں بلیک آؤٹ کرنے کی تاریخ تھی اس نے صوبے کے مسائل کو دبانے کے لیے کبھی ذمہ داری محسوس نہیں کی جیسے کہ یونیورسٹی کے طلباء خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور کیونکہ اس رویے کی وجہ سے اس نے صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ کبھی نہیں لی۔ اور اب ہر والدین خوفزدہ اور صدمے کا شکار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ دوپہر میں کبھی نہیں سوئیں جب تک کہ وہ مجھے یونیورسٹی سے واپسی پر نہ دیکھیں۔ اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی گریجویشن مکمل کروں۔ یہ میرے ہر کلاس فیلو کی کہانی تھی۔ ہمارے خاندان چاہتے تھے کہ ہم فارغ التحصیل ہوں ، ماضی کو بھول جائیں اور بہتر مستقبل کی امیدیں رکھیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی نے ہم سے بہت سی جانیں لی ہیں۔ ان کے خاندانوں کی خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔ باشندے خوف سے زندگی گزار رہے ہیں یقین نہیں ہے کہ محفوظ اور محفوظ مستقبل ممکن ہے۔ آئی ٹی یونیورسٹی کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں طالب علم مارے گئے، ہزارہ کوئلہ نکالنے والے مچھ میں ٹارگٹڈ حملے میں مارے گئے، اور سرینا ہوٹل کے احاطے میں حالیہ دھماکہ تمام مہلک واقعات ہیں جو سیکیورٹی کی نازک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ والدین یونیورسٹی میں داخل اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ والدین اب بھی جواب تلاش کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سیاستدان ، ریاست اور میڈیا جو اس مسئلے پر خاموش ہے۔ ہم اب بھی خوف میں رہتے ہیں یقین نہیں ہے کہ ہماری مستقبل کیا ہے۔ کیونکہ سیکورٹی کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ہمیں اب بھی امید ہے کہ اقتدار میں رہنے والے ان لوگوں کی حالت زار پر توجہ دیں گے جو مسلسل خوف میں رہتے ہیں کہ ان بچوں کے ساتھ کچھ خطرناک ہو سکتا ہے جنہیں ہر روز تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے لیکن یہ تب تک نہیں ہوگا جب تک اقتدار میں رہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور اس مرحلے میں ہم صرف چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
    حکومت پاکستان اور سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ بلوچستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تحفظ فراہم کی جائے تاکہ ہماری خواتین اپنی تعلیم مکمل کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اور کل کو اگر کسی بھی جگہ انہیں مشکل وقت پیش آئے تو وہ تعلیم کی شعور رکھنے کی وجہ سے اس مشکل کا حل نکال سکے۔
    @iHUSB

  • ایثار ایک نایاب صفت :تحریر  عینی سحر

    ایثار ایک نایاب صفت :تحریر عینی سحر

    اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا بھی ہے محنت و مشقت اور اپنے سکون آسائشوں اور خواہشوں کیلئے جدوجہد کرتا ہے لیکن ایثار اپنی ذات کی پس پشت ڈالتے ہوۓ دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا نام ہے ایک ایسی قربانی جو بے لوث ہوکر صرف کسی کی مدد کرنے کیلئے دی جاۓ

    معروف دانشور مرحوم اشفاق احمد فرماتے تھے ایثار یہ نہیں کے تم کسی کو کھانا کھلا دو بلکے ایثار یہ ہے کے جب تم کو خود بھی بہت بھوک لگی ہو اور تم وہ کھانا کسی ضرورتمند کو کھلا دو
    بقول انکے بابا جی فرماتے ہیں درد وہ ہوتا ہے جو ہمیں دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر ہو ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی محسوس ہوتا ہے
    ایثار میں قربانی پنہاں ہے کے انسان اپنی ضرورتوں کو فراموش کرکے دوسروں کی ضرورت کوپورا کرنے کو ترجیح دے تاکے مخلوق خدا کا بھلا ہوسکے
    ہمارے لیے ایثار کی سب سے بڑی مثال تو ہمارے والدین ہیں جو خود تکلیفیں اٹھا کر اپنی اولاد کو پالتے ہیں جنھیں یہ خواہش ہوتی ہے کے انکے بچوں کو کوئی کمی نہ ہو اچھا کھانا کھلانے سے لیکر کھلونوں تک اولاد کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں آجکل کے مہنگے تعلیمی نظام میں والدین خود کو محنت و مشقت میں ڈال کر اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھے اور مہنگے سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں ، کتابوں ، یونیفارم اور ٹیوشن تک ہر قسم کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کمر بستہ رہتے ہیں
    والدین کے ایثار ہی کی یہ ایک مثال ہے کے عید پر اگر ماں باپ خود نئے کپڑے سلوا نہ سکیں پھر بھی وہ اپنے بچوں کیلئے ہر طرح کے جدید کپڑے اور جوتے خرید کر انھیں خوشیاں دینے کی کوشش کرتے ہیں

    دوسری جانب ہم فرمانبردار اولاد کے ایثار کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے جو جوان ہوکر اپنے والدین کاسہارا بنتے ہیں اور اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر والدین کی خدمت میں کوتاہی نہیں کرتے

    ہماری اسلامی تاریخ ایثار کی مثالوں سے بھری پڑی ہے ، جن میں سے ایک مشہور جنگ کا واقعہ ہے جب کئی صحابی میدان جنگ میں زخمی تھے اور پانی مانگ رہے تھے ایسے میں ایک شخص پانی کی چھاگل لیے ایک زخمی کے پاس پہنچتا ہے تو قریب ہی ایک اور زخمی بھی کراہتے ہوۓ پانی مانگتا ہے پہلے صحابی نے کہا کے جاکر پہلے اسکوپانی دے دو ، وہ شخص اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسکے پہلو میں بھی ایک زخمی پانی پانی پکارتا ہے تو وہ بھی کہتا ہے جاکر اسے پہلے پانی پلا دو ، جب وہ شخص اس آدمی کے پاس پہنچتا ہے تو وہ شہید ہو چکا ہوتا ہے وہ واپس پہلے والے کے پاس آتا ہے لیکن وہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہوتے ہیں ایسے میں وہ پہلے زخمی کے پاس پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے وہ بھی شہید ہو چکے ہوتے ہیں

    ایثار و قربانی کی یہ ایک عظیم مثال ہے کے جان کنی کے عالم میں بھی ان عظیم ہستیوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر دوسرے کی مدد کرنا چاہی ، ایسا حوصلہ ہمت اور رب کی خوشنودی کا جذبہ انتہائی عظیم ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے

    سورۃ الحشر ،آیت نمبر 9میں اللہ نے فرمایا ہے: ’’ وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود فاقہ سے ہوں اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘
    بے شک ایسی قربانی سب سے بڑھ کر ہے جس میں انسان اپنی ذات کی بجاۓ دوسروں کی مدد کرنے کو ترجیج دے

    ہمارے معاشرے میں بے حسی کے ڈیرے ہیں جہاں جائیداد , مال و دولت کیلئے بھائی بھائی کی جان کا دشمن بنا بیٹھا ہے بہنوں کوانکے جائز ورثے سے محروم رکھا جارہا ہے ، پڑوسیوں کی خبر نہیں کے انکے گھر میں کھانا ہے یا فاقہ ہے ، دکھلاوے کی دوڑ میں ہم ایثار و قربانی کی روایتوں کو بھول چکے ہیں

    اس معاشرے کو مجموعی طور پر تنزلی سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کے ہم اپنی اصلاح کریں ، خودغرضی لالچ جیسی مہلک اخلاقی بیماریوں سے نجات حاصل کر کے مخلوق خدا کی خدمت کرکے ہی ہم عظیم ہستیوں کی عظیم مثالوں کی پیروی کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں
    ایثار و قربانی مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں