Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امید زندگی ہے تحریر: صائمہ ستار

    امید زندگی ہے تحریر: صائمہ ستار

    نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے

    اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

    زندگی عروج و زوال کا ایک مسلسل سفر ہے.دکھ سکھ,کامیابی ناکامی زندگی کا حصہ ہیں. جہاں زندگی بہت سے خوش کن لمحات دیتی وہے وہیں آزمائشیں بھی لازمی ہیں.
    امید وہ قیمتی سرمایہ ہے جو آخری سانس تک انسان کو زندگی کے اس تھکا دینے والے سفر میں آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم رکھتا ہے.انسان فطری طور پر بہت جلد باز واقع ہوا ہے.اسے سب کچھ اپنے مطابق چاہیے ہوتا اور جب کوئ خلافِ توقع صورتحال پیش آتی ہے تو بجائے حوصلے سے آزمائش کا مقابلہ کرنے کے تھوڑی سی کو شش کے بعد مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے. امید انسان کو وقار اور خود داری کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتی ہے جبکہ نا امیدی اور منفی خیالات کسی بھی امتحان کا مقابلہ کرنے سے پہلے ہی انسان کے ہار جانے کی وجہ بنتے ہیں. نا امیدی مسلئے کے نظر آنے والے ممکنہ حل کو بھی دھندلا دیتی ہے اور انسان کو محض انھیرا نظر آتا ہے جبکہ ذرا سی مثبت سوچ اور امید کا چراخ نا مسائد حالات سے نکلنے کے لیے روشنی کا باعث بنتے ہیں.مثبت سوچ اور طرز عمل زندگی کے ہر لمحے کا تقاضا ہے. وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اسکا کوئ بھی رنگ اٹل نہیں ہوتا. اگر مشکل ہو تو اسکے بعد آسانی کے رنگ کے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں.حالات جس قدر بھی مشکل ہوں,آزمائش کی رات جتنی بھی لمبی اور سیاہ ہو ایک روشن صبح ہر شب کا مقدر ہے. حقیقت یہ ہے کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان والوں کا امتحان ہیں. جتنا ایمان زیادہ ہو آزمائش بھی اتنی بڑی ہوتی ہے اور اسکا اجر بھی اتنا ہی زیادہ.راہگزارِ حیات میں آنے والے کٹھن لمحات انسان کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خود سے وابستہ لوگوں کی پہچان بھی کروا جاتے ہیں.مخلص اور مطلبی لوگوں کی پہچان مشکل وقت میں ہی ہوتی ہے. حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دنیاوی سہاروں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید رکھنی چاہیے. اسلام میں مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے. مومن کبھی اپنے رب کی رحمت سے نامید نہیں ہوتا.
    قرآن میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے،
    ’’ اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو امید وہ (کفار) نہیں رکھتے‘‘۔(سورہ النساء ،104 )
    لہذا مثبت گمان/امید رکھنا ایک مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا بھی ہے. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جیسا میرا بندہ میرے متعلق گمان کرے گا مجھے ویسا ہی پائے گا. لہذا ہمیں چاہیے کہ اس ذات پر جو محض ایک "کُن”سے تقدیر بدل دینے پر قادر ہے زندگی کے ہر معاملے میں بہتری کا گمان رکھیں.امید رحمت کا دوسرا نام ہے خدا پر یقین رکھنے والا رحمت پر یقین رکھتا ہے”
    معاشرے میں منفی سوچ کا زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے خود کشی کی شر ح بھی ہر مسلسل بڑھ رہی.یہ ناامیدی کی آخری حد ہے جب انسان کو زندگی کا خاتمہ اپنے مسائل کا واحد حل نظر آتا ہے.زندگی میں جب کسی موڑ پے لگے کہ آپ بہت مایوس ھو یا آپ کو لگے کہ کچھ بھی آپ کے حق میں نہیں ھے تو اک نظر دوڑا کے دیکھیں جو آپ کے پاس موجود ھے. جنکو اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور امید اور مثبت سوچ جیسی نعمت سے نوزا ہے انہیں چاہیے کہ زندگی سے مایوس لوگوں کے لیے امید کی کرن بنیں. بعض اوقات انسان کا ایک مثبت لفظ, چند حوصلہ افزاء جملے کسی میں زندگی کی ایک نئی روح پھونکنے اور دل کے بدلنے کا باعث بنتے ہیں. امید افزاء الفاظ جو کسی کو جینے کی ایک نئی امنگ دیں یہ بھی ایک صدقہ ہے.کبھی کبھی زندگی میں ایسے موڑ بھی آتے ہیں کہ آگے کا کؤی راستہ نہیں اور واپسی کا کوئی تصور نہیں ہوتا پھر معجزے ہوتے ہیں”کن فیکون” سے تقدیر بدل جاتی ہے لیکن صبر اور اللہ پر ایمان، بھروسہ شرط ہے۔
    امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں” کل کا دن آج سے بہتر ھو گا ” انشااللہ
    @SMA___23

  • کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ:  راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ: راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    مظفر آباد : کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے افتتاحی میچ میں مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی کی زیر قیادت راولا کوٹ ہاکس نے میرپور رائلز کو 43 رنز سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ ہاکس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنائے۔ احمد شہزاد 69، بسم اللہ خان 59 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ میرپور رائلز کے عماد بٹ نے 3 وکٹیں حاصل کیں راولا کوٹ ہاکس کے بسم اللہ خان کو میچ آف دی میچ قرار دیا گیا۔

    195 رنز کے ہدف میں میرپور رائلز نے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 151 رنز بنائے میرپور رائلز کی جانب سے شعیب ملک 74 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

    گزشتہ روز کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہوئی جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، جس کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے ایونٹ کی رنگارنگ تقریب میں پیراگلائیڈنگ کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔

    کشمیر پریمیئر لیگ ،افتتاحی تقریب کی تیاریاں مکمل

    کشمیر پریمیئر لیگ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز تیمور خان نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس لیگ کے حوالے سے خواب 2018 میں دیکھا تھا اور 2019 میں اس حوالے سے حکومت سے بات کی۔

    جنوبی افریقی کرکٹر ہرشل گبز بھارت کی دھمکیوں کے باوجود مظفر آباد پہنچ گئے ہیں ہرشل گبز کے پی ایل میں اوور سیز واریئرز کی نمائندگی کریں گے۔

    ٹوکیو اولمپکس: پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مظفرآباد میں کے پی ایل کا آغاز ہوگیا ہے،لیگ کا فائنل 17 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں مظفر آباد ٹائیگرز ،میرپور رائلز، راولاکوٹ ہاکس، کوٹلی پینتھرز، باغ اسٹالینز اور اوور سیز واریئرز شامل ہیں ایونٹ جو 6 اگست سے شروع ہونے والا ہے ، اس میں شاہد آفریدی ، شاداب خان ، عماد وسیم اور دیگر اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔

    کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں،ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

  • ریاکاری اور دکھاوا روح کے دشمن . تحریر:  زہراء مرزا

    ریاکاری اور دکھاوا روح کے دشمن . تحریر: زہراء مرزا

    ریاکاری بہت ساری خباثتوں کی ماں ہے، ممتاز نظر آنے کی دھن، خبروں میں رہنا، فضول خرچی، تکبر اور اس جیسے دیگر بیماریوں کی بنیادی وجہ ریاکاری ہے.

    ممتاز نظر آنے کی دھن جب سر پر سوار ہو جائے تو انسان وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے جو کوئی ذی شعور انسان سوچ بھی نہیں سکتا. انسان کی نفسیات پر یہ چیز اس قدر بری طرح اثرانداز ہوتی ہے کہ انسان اچھی سے اچھی چیز میں نقص نکالنے لگتا ہے. اپنے معاشرے اور اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے. ممتاز نظر آنے کا بخار جب سر چڑھ جاتا ہے تو انسان اپنی تہذیب تمدن ثقافت کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کو بھی بائی پاس کر دیتا ہے. کسی فلم ڈرامہ یا ماڈرن سوسائٹی کا اثر لے کر آجکل لوگ منفرد نظر آنے کی خاطر انگریزی کے ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جو پنجابی یا اردو میں ادا کیے جائیں تو کسی بھی شخص کے لیے ناقابل برداشت ہوں، ایسا لباس ذیب تن کرتے ہیں کہ جو نہ تو ہماری معاشرتی روایات کا عکاس ہوتا ہے نہ ہی مذہبی، بلکہ بسا اوقات انسان ایک کارٹون کی مانند نظر آنے لگاتا. ایسا انسان اپنی ذات سے بھی مطمئن نہیں ہوتا. اور ہر وقت ایک ٹراما میں رہتا ہے.

    ریاکاری ایک ایسی بیماری ہے جو آپکو فضول خرچ بناتی ہے.
    میری گاڑی باقیوں سے اچھی ہو. میرا لباس میری بیٹھک، میری پارٹیز میری ڈریسنگ یہ سب ایسا ہونا چاہیے کہ دیکھنے والا عش عش کر اٹھے. اپنے الیٹ لائف سٹائل کو مینٹین کرنے کے لیے جب وسائل کم پڑتے ہیں تو انسان جائز و ناجائز کی تمیز کو بھولنا شروع کر دیتا ہے. چور رستوں سے رقم کما کر اپنا شملا بلند رکھنا اور خود کو امیر اور سپیریر مخلوق ثابت کرنا اس کی مجبوری ہوتی ہے. ریاکار شخص کو ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں اس کی ناک نہ لگ جائے. اپنی ناک بچانے کی سعی کرتے کرتے وہ رب کے عطا کردہ وسائل کا بے جا استعمال کرتا ہے. اور معاشرے کے کمزور طبقے کی حق تلفی کرتا ہے. ریاکار انسان جب فضول خرچی میں تجاوز کرتا ہے تو غریب انسان کی عزت نفس کو قتل کرتا ہے. معاشرے میں طبقاتی تقسیم کی وجہ بنتا ہے. یہ عوامل معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیتے ہیں.

    ریاکاری تکبر کی جانب لے جانے والی موٹر وے ہے. جونہی انسان ریاکاری کی جانب چلا اس کی منزل تکبر ٹھہرے گی. ایسا شخص اپنے سے زیادہ مالدار سے حسد اور اپنے سے کم مالدار سے نفرت کرنے لگتا ہے. تکبر کا مارا انسان ہمیشہ اپنے سے امیر اور زیادہ اثر والوں سے تعلق استوار کرتا ہے. تاکہ معاشرے میں اسے ممتاز سمجھا جائے. اور جب اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک ممتاز شخصیت ہے تو وہ اپنے سے نیچلے طبقے کی نہ صرف تضحیک کرتا ہے بلکہ انہیں انسان سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے. ایسا فرد تکبر کی آگ میں اس قدر جلتا ہے کہ اپنے تمام تعلقات کو ختم کر دیتا ہے. اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے. تکبر کا مارا شخص عزت دینے سے محروم ہو جاتا ہے. یوں ایسے شخص سے محنت کرنے والے کم ہو جاتے ہیں.

    ریاکاری جب معاشرے کا چلن بننے لگے تو نفرتیں عام ہونے لگتی ہیں.، طبقاتی تقسیم کو ہوا ملتی ہے، کرائم ریشو بڑھنے لگتی ہے، اعتماد کی فضا ختم ہونے لگتی ہے. جہالت کے بادل گہرے ہونے لگتے ہیں.

    اگر ہم معاشرے کو حقیقی معنوں میں تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذات سے ریاکاری کو نکال پھینکنا ہوگا. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم ایک جیسے انسان ہیں، کسی کے غریب یا امیر ہونے میں اس کا کوئی کمال نہیں. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مالک کی تقسیم ہے. اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ اہم یا دوسرے غیر اہم ہیں.

    @zaramiirza

  • عدم برداشت تحریر: مجاہد حسین

    عدم برداشت تحریر: مجاہد حسین

    آج کے تیز رفتاز دور میں جب انسان ترقی کی منازل طے کرتا جا رہا ہے وہاں دوسری طرف اس نے اپنے آپ کو اس قدر مصروف کر لیا ہے کہ اپنے اردگرد ہونے والے معاملات اور حالات سے آگاہی تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے دوستوں رشتہ داروں سے میل جول اب نہایت قلیل ہو گیا ہے۔ اس کے کئی معاشرتی نقصانات تو ہیں ہی لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان اس کی اپنی شخصیت کو ہو رہا ہے۔
    کام کی بہتات اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر نے اس میں چڑچڑا پن اور بے حسی جیسی خصلتیں پیدا کر دیی ہیں۔ چڑچڑا پن اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ وہ کام کے دوران ہونے والی باتوں کا اثر ذائل نہیں کر پاتا اور بلآخر اس کا اثر اس کے گھر والوں، بیوی اور بچوں پر بھی پڑتا ہے جس کی وجہ سے خاندان کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دوسرے لوگ بھی اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔ عدم برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کو بھی اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں ورنہ بات جھگڑے اور فساد تک پہنچ جاتی ہے۔
    جب بھی عدم برداشت کی بات آتی ہے تو مجھے ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ یہ پچھلے سال رمضان کا واقعہ ہے۔ میں نے اللہ کے حکم سے رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا۔ بس میں سیٹ بک کروائی اور مقررہ دن کو ایجنسی میں پہنچ گیا۔ عصر کے بعد ہمارے شہر (الجبیل) سے گاڑیاں نکلا کرتی تھیں۔ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو معلوم ہوا کہ ڈرائیور بھی کوئی پاکستانی ہے۔ سوچا خوب بیتے گی لیکن کیا معلوم تھا کہ تھوڑی دیر بعد کیا تماشہ ہونے والا ہے۔ ڈرائیور صاحب بس میں داخل ہوتے ہی بلند آواز میں گویا ہوئے کہ بس میں کسی کو کچھ بھی کھانے کی اجازت نہیں ہے، جس نے کچھ کھانا ہے باہر جا کے کھا لے۔ ہمارے لئے یہ پہلا تجربہ تھا کہ کوئی ڈرائیور ایسا اعلان کرے حالانکہ اس نے ہر سیٹ کے ساتھ کچرا ڈالنے کے لئے ایک ایک پلاسٹک بیگ بھی لگا رکھا تھا۔ خیر، عصر کے بعد گاڑیاں قافلے کی صورت میں مقررہ مقام سے روانہ ہوئیں اور تقریباً دو گھنٹے بعد ایک پیٹرول پمپ پہ افتار کے لئے رک گئیں۔ سب لوگوں نے روزہ افتار کیا نمازیں (مغرب اور عشا اکٹھی) پڑھیں اور گاڑی میں بیٹھنا شروع ہو گئے۔ ایک مصری شخص، جو ڈرائیور کے عین پیچھے والی سیٹ پہ بیٹھا تھا وہ اپنے لئے کافی لے آیا اور سکون سے پینے لگا۔ اتنے میں ڈرائیور صاحب آئے اور آتے ہی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اس سے کافی کا گلاس چھینا اور دروازے سے باہر جاتا کیا۔ مصری پریشانی سے بولا بھائی میرا 25 ریال کا کپ تھا اور میں تو کچرا بھی نہیں پھینک رہا لیکن یہ کیا طریقہ ہے؟
    اتنے میں ڈرائیور صاحب بولے جس کا ترجمہ ہے کہ "تم مجھے پنگالی یا ہندوستانی مت سمجھو،میں پاکستانہ ہوں اور میں تمہیں مزہ چکھا دوں گا” بس اس بات کا سننا تھا کہ اگلے جوان کے خون نے بھی جوش مارا اور اس نے ڈرائیور کے جو اس کے تقریباً اوپر ہی چڑھ دوڑا تھا پیچھے دھکیلا۔ یہ منظر اس ڈرائیور کے چند مزید رشتہ دار (ڈرائیورز) بھی دیکھ رہے تھے اور وہ سب کے سب مصری شخص پہ ایسے ٹوٹ پڑے جیسے بھوکے شادی کا کھانا کھلنے پہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس مار دھاڑ میں بیچارے مصری کی پانچ چھے گھونسے اور کافی سارے ٹھڈے پڑ گئے۔ لوگوں کی مداخلت پہ معاملہ ٹھنڈا ہوا اور مصری آنسو پونچھتے ہوئے بس سے اتر کر پیٹرول پمپ کی طرف بڑھ گیا۔
    چند لمحوں بعد وہ ایک پولیس والے کے ساتھ سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ پولیس والے نے اپنی کار ہماری گاڑی کے سامنے لا کر کھڑی کر دی اور تحقیقات شروع ہو گئیں۔ وہ چند شیر جوان جو تھوڑی دیر پہلے اس ڈرائیور کے ساتھ مل کے مصری کو مار رہے تھے آہستہ آہستہ اپنی گاڑیاں نکال کر فرار ہو گئے۔ وہ ڈرائیور جو تھوڑی دیر پہلے پھنے خان بنا ہوا تھا اب معذرتوں پہ آ چکا تھا۔ پولیس والے سے الگ معافی مانگی جا رہی تھی، مصری کے الگ پاؤں پکڑے جا رہے تھے۔ اور ہم سب تین گھنٹے تک ایک نہ کردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے تھے۔ بالآخر بس کے لوگوں اور چند مصری اور سوڈانی مسافروں کی مداخلت سے مصری معاملہ رفع دفع کرنے پہ راضی ہوا اور راضی نامے پہ دستخط کرنے کے بعد ڈرائیور کی جان چھوٹی۔
    اس سارے معاملے کے بعد اکثر لوگوں کو نقصان یہ ہوا کہ ان کے عمرہ کے پرمٹ تین گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے ایکسپائر ہو چکے تھے۔
    کیا ہی اچھا ہوتا کہ ڈرائیور پیار سے اسے کہتا بھائی آپ کافی باہر پی لو ابھی گاڑی رکی ہوئی ہے تو ایک تو یہ تاخیر نہ ہوتی دوسرا ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے نہ جھکتے۔ یاد رہے، جب بھی ہم علی الاعلان کوئی غلطی یا کوئی گناہ کرتے ہیں وہ ناصرف ہمارے لئے بدنامی کا باعث بنتا ہے بلکہ ہم سے منسلک تمام لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے برداشت کرنا سیکھیں تاکہ شرمندگی سے محفوظ رہا جا سکے۔

    @Being_Faani

  • اساتذہ کے تجربے اور تعلیم کا معیار ۔  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ کے تجربے اور تعلیم کا معیار ۔ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    گزشتہ دو دہائیوں کے دوران معیاری تشخیص اور بعد میں شریک ممالک کی درجہ بندی میں طالب علموں کی کارکردگی کا بین الاقوامی موازنہ نے عوامی اور سیاسی اضطراب کو جنم دیا ہے ، جس کی وجہ سے اسکول کے طلباء کی تعلیمی کامیابی پر اثر انداز ہونے والے عوامل پر شدید توجہ دی گئی ہے ۔ 20 سالوں میں جب سے او ای سی ڈی کا پروگرام برائے بین الاقوامی طلباء کی تشخیص (PISA) شروع ہوئی ہے ، توجہ طلبہ کے حصول میں ایکوئٹی سے بدل کر رشتہ دار اور مطلق کارکردگی دونوں میں کمی کی طرف گئی ہے ، جس کی وجہ سے تدریس اور "اساتذہ کے معیار” کی جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا ہے . توجہ میں یہ تبدیلی دعووں کے ذریعے آگے بڑھائی گئی ہے کہ "طلباء کی کارکردگی کے پیمانوں میں 40 فیصد سے زیادہ بقایا تغیرات (طلباء کے پس منظر اور انٹیک کی خصوصیات کے مطابق) کلاس/اساتذہ کی سطح پر ہے” ۔ قومی معیاری تشخیص کے نظام میں طالب علم کی کامیابی کی بنیاد پر اساتذہ کی تاثیر کے ویلیو ایڈڈ ماڈلز کی ترقی کے ذریعے اساتذہ کی جانچ میں اضافہ ، اساتذہ کے پیشہ ورانہ معیارات اور سرٹیفیکیشن کی ترقی اور نگرانی کے لیے قانونی اتھارٹیز کا قیام ، اور باضابطہ معائنوں کی بحالی ہوی۔ 2009 کے بعد سے ، ایجو ٹورزم-جہاں سیاستدانوں ، پرنسپلوں اور اساتذہ کے وفود اپنی کامیابی سے سیکھنے کی امید پر بین الاقوامی لیگ ٹیبل کے اوپری حصے میں تعلیمی نظام کا دورہ کرتے ہیں-"فن لینڈ کے معجزے” سے "ایشین ٹائیگرز” کی طرف بڑھ گئے ہیں۔ سنگاپور ، ہانگ کانگ ، جنوبی کوریا اور شنگھائی، دلچسپی ریاضی کی تدریس کے لیے "ریاضی کی مہارت” رہی ہے ، جسے انگلینڈ میں دو بے ترتیب کنٹرول ٹرائلز کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا جس میں 90 پرائمری اسکول اور 50 سیکنڈری سکول شامل تھے نیز خبروں کی سرخیاں بنانا کلاس روم شور اور خرابی کے لحاظ سے سسٹم کے مابین اختلافات کی اطلاع ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آسٹریلیا جیسے کم درجہ والے ممالک میں اساتذہ رویے کے انتظام میں ناقص ہیں ۔ ٹیچنگ اینڈ لرننگ انٹرنیشنل سروے (TALIS) کے دھندلے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجربہ کار بمقابلہ نوسکھئیے اساتذہ کے لیے زیادہ سکور ظاہر کرتے ہیں کہ ابتدائی کیریئر اساتذہ کم مؤثر ہوتے ہیں ، اس انتباہ کے باوجود کہ ابتدائی اساتذہ زیادہ چیلنجنگ سکولوں کے لیے غیر متناسب طور پر مختص کیے جاتے ہیں۔ سکروٹنی اس وقت سے نظام کی سطح کے اثرات مثلا اسکول کی فنڈنگ ​​میں عدم مساوات اور مسابقتی اسکول مارکیٹوں کے ذریعہ انجینئر کردہ سماجی علیحدگی کے ذریعے فوائد/نقصان کا ارتکاز-اساتذہ کی تیاری کی تاثیر ہے ۔ یونیورسٹی کی ابتدائی ٹیچر ایجوکیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ بہت زیادہ نظریاتی اور ناکافی طور پر اساتذہ کو کلاس روم کے عملی حقائق کے لیے تیار کررہا ہے یہ تنقید خاص طور پر رویے کے انتظام کے حوالے سے شدید ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں مسئلہ ہے ، یا کیا ابتدائی اساتذہ زیادہ تجربہ کار اساتذہ کے مقابلے میں رویے کے انتظام میں کم موثر ہیں۔ آئی ٹی ای اور "اساتذہ کے معیار” کو جوڑنے کا اثر یہ ہے کہ یہ گریجویٹ یا ابتدائی اساتذہ کو "مسئلہ” کے طور پر فریم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ، حل کی ترقی کو فریم کرتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ، آئی ٹی ای اور اس سے پیدا ہونے والے گریجویٹس پر ایک محدود توجہ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسکول کی تعلیم کو متاثر کرنے والے مسائل کی اصل نوعیت اور وسعت کا پتہ نہیں چلتا اور حل نہیں ہوتا ، جبکہ دیگر کو ان کی اصل یا عملی اہمیت سے باہر بڑھایا جاتا ہے۔ آئی ٹی ای کا خسارہ خاص طور پر آسٹریلیا میں نمایاں ہے ، جہاں یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن نے 1990 کی دہائی میں ٹیچرس کالج کی جگہ لی اور جہاں زیادہ تر پریکٹس کرنے والے اساتذہ اب ڈگری کے اہل ہیں۔ آسٹریلیا میں معیاری تدریس کے "مسئلے” کے حالیہ حل نے بنیادی طور پر یونیورسٹی کے اساتذہ کی تعلیم اور آئی ٹی ای گریجویٹس کے معیار پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں پر اب دباؤ ہے کہ وہ "کلاس روم کے لیے تیار” گریجویٹ تیار کریں تاکہ ان کے کورس کے مواد کے زیادہ سے زیادہ نسخے رسمی منظوری کے عمل کے ذریعے ہوں ۔ 2016 میں ، مثال کے طور پر ، اساتذہ کی تعلیم کے طلباء کی خواندگی اور اعداد کی صلاحیت کا بیرونی جائزہ آسٹریلوی حکومت نے گریجویشن کی شرط کے طور پر متعارف کرایا تاکہ "گریجویشن کرنے والے اساتذہ کی مہارتوں پر اعتماد میں اضافہ” کو یقینی بنایا جا سکے۔ اساتذہ کی تعلیم کے طالب علموں کے لیے گریجویشن کی مزید رکاوٹ ، جو 2018 میں متعارف کرائی گئی اور یونیورسٹی ٹیچر ایجوکیشن پروگرامز کی منظوری سے منسلک ہے ، ٹیچر پرفارمنس اسسمنٹ (ٹی پی اے) کی کامیاب تکمیل ہے۔ طلباء کی تعلیم پر اثر پڑتا ہے اور اساتذہ کے لیے آسٹریلوی پیشہ ورانہ معیارات سے وابستہ ہے ۔
    مزید ، اور جیسا کہ یونیورسٹی آئی ٹی ای انٹری سکور کی ناکافی یا دوسری صورت میں بحث جاری ہے ، ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں آسٹریلیا کے سب سے بڑے تعلیمی نظام کی ذمہ دار حکومت نے لازمی قرار دیا ہے کہ گریجویٹس کو مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ گریجویشن کے بعد بطور استاد رجسٹر ہونے کے لیے ایک نفسیاتی امتحان میں اعلیٰ ذہانت اور کریڈٹ گریڈ پوائنٹ اوسط کو برقرار رکھیں – بشمول آئی ٹی ای میں تھیوری پیشہ ورانہ تجربے میں اضافہ اور استحقاق کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی پروفیشنل سٹینڈرڈ فار ٹیچنگ میں "اسٹیج” اپروچ ، جو کہ گریجویٹ ، ماہر ، اعلی تکمیل ، اور لیڈ پریڈ کی پیش گوئی نہ صرف اس مفروضے پر کی جاتی ہے کہ گریجویٹ اور ماہر کے درمیان فرق ہے ، بلکہ یہ کہ تجربے اور تدریسی معیار کے درمیان مثبت رشتہ ہے۔ تاہم ، یہ تمام اصلاحات اس دعوے کی تائید کے لیے کسی تجرباتی ثبوت کی فراہمی کے بغیر ہوئی ہیں کہ ابتدائی اساتذہ اساتذہ کے مقابلے میں کم اہل ہیں جن کا تجربہ زیادہ سال ہے ، خاص طور پر رویے کے انتظام میں۔ یہ تجرباتی شواہد کی محدود دستیابی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور اس وجہ سے کہ جو ثبوت موجود ہیں وہ مخلوط ہیں۔ تدریسی معیار کا سب سے عام بالواسطہ پیمانہ معیاری تشخیص میں طالب علم کی کارکردگی ہے اور اس تحقیق کے نتائج ملے جلے ہیں۔ کچھ شواہد موجود ہیں کہ اساتذہ کے برسوں کے تجربے کا طالب علم کے نتائج پر بہت کم یا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔ ایک بار پھر ، یہ ثبوت واضح نہیں ہے ، یہ تجویز کرتا ہے کہ تجربے کا کچھ اثر ہے لیکن یہ محدود ہے اور مجموعی نہیں۔ مثال کے طور پر ، قومی اور بین الاقوامی سیاق و سباق میں کچھ تحقیق تجربے کے لیے ابتدائی اثر کا ثبوت فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے اساتذہ کی جلد اصلاح ہوتی ہے ، لیکن یہ انجمن میدان میں ان کی ابتدائی ایڈجسٹمنٹ کے بعد زوال پذیر ہوتی ہے ۔ اسی طرح ، فلوریڈا ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے دستیاب اعداد و شمار پر شمالی امریکہ کے ایک بڑے مطالعے میں ، 4 سے 8 گریڈ کے 84،031 اساتذہ ، چنگوس اور پیٹرسن (2011) نے پایا کہ اساتذہ عام طور پر ریاضی پڑھنے کے شعبوں میں زیادہ موثر ہو جاتے ہیں۔ فیلڈ میں ابتدائی منتقلی (خاص طور پر پہلے سال کے بعد) ، لیکن چار یا پانچ سال کے بعد پلیٹاوس یا کمی کا تجربہ کرنے کے لیے واپسی۔ ایک اور شمالی امریکہ کے مطالعہ میں 300 اساتذہ پر پینل ڈیٹا اور 10،000 طلبہ کے لیے معیاری ٹیسٹ اسکور کا استعمال کرتے ہوئے ، (2010) میں ریاضی کی گنتی کے لیے پہلے دو سالوں میں ، اور پہلے 10 سالوں میں اساتذہ کے تجربے کا ایک چھوٹا لیکن مثبت اثر پایا۔ الفاظ اور پڑھنے کی سمجھ کے لیے تجربہ شمالی امریکہ میں اسی طرح کی ایک تحقیق میں 3 سے 7 گریڈ کے 3000 سے زائد اسکولوں میں نصف ملین سے زائد طلباء کا ڈیٹا شامل ہے ، ریاضی میں طالب علموں کے نتائج پر تدریس کے تجربے اور اساتذہ کے پڑھائی کے پہلے سال میں پڑھنے پر مثبت اثر پایا۔ تاہم ، یہ اثرات پیشے میں منتقلی کے ابتدائی دور سے آگے جاری نہیں رہے۔ اساتذہ کے برسوں کے تجربے اور تعلیم کے معیار سے بالواسطہ اقدامات (مثال کے طور پر ، طالب علموں کی کارکردگی) کے مابین وابستگی کے ثبوت بڑی حد تک ملے جلے ہیں اور معیار کے پیش گو کے طور پر تجربے کی اہمیت کے حوالے سے واضح نتائج کی تجویز نہیں کرتے ہیں۔ . ادب نے تدریسی معیار کے زیادہ براہ راست اشارے ، خاص طور پر کلاس روم مینجمنٹ کے شعبوں میں اساتذہ کے مشاہدہ کردہ کلاس روم کے طرز عمل ، طلباء کے لیے سماجی معاونت ، اور ہدایات دی ۔ اکثر حوالہ دی گئی رپورٹوں کے پیش نظر کہ نوسکھئیے اساتذہ کلاس روم مینجمنٹ میں چیلنجوں کی وضاحت کرتے ہیں اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تجربے کے بڑھتے ہوئے سال اس ڈومین میں بہتر کارکردگی کا باعث بن سکتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اساتذہ کی اصل کلاس روم کی بات چیت کی جانچ پڑتال تجربے اور کارکردگی کے مابین روابط کو سمجھنے کی کوششوں میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ مزید برآں ، یہ دیکھتے ہوئے کہ طلباء کے ساتھ تعاملات طلباء پر اساتذہ کے اثر و رسوخ کا سب سے براہ راست اور قریب ترین اشارہ ہیں ، ان تعاملات کا مشاہدہ تعلیمی معیار کا ایک اہم اشارہ ہے۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق  تحریر: آصف گوہر

    پاکستان میں غیرمسلموں کے حقوق تحریر: آصف گوہر

    عمر رضی اللہ عنہ نے ( وفات سے تھوڑی دیر پہلے ) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ذمیوں سے ) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔
    صحیح بخاری 3052۔
    قائد اعظم رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ
    ” آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”
    اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کو ذمی کہا جاتا ہے یعنی غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اسلام غیرمسلموں کے جان و مال اور مذہبی آزادی کا محافظ ہے۔ پاکستان کی بات کریں تو اقلیتوں کے حقوق بانی پاکستان نے بڑے واشگاف الفاط میں بیان کئے ہیں اسی لئے ہمارے ہاں کی اقلیتیں دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ محفوظ اور مطمئن ہیں یہاں پر تعلیمی اداروں ہستالوں پولیس دفاع اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں اقلیتی افراد اعلی عہدوں پر گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں نوجوان اپنے مخصوص کوٹہ کے علاوہ اوپن میرٹ پر بھی اپلائی کرسکتے ہیں ۔تعلیمی اداروں میں اسلامیات کا مضمون پڑھنے یا نہ پڑھنے کی مکمل آزادی ہے کہ اقلیتی طلباء اسلامیات کی بجائے اپنی مرضی سے اخلاقیات کا مضمون پڑھ سکتے ہیں۔
    پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اقلیتی برادری کے افراد اپنی مرضی سے جو چاہیں کاروبار اور تجارت کرسکتے ہیں کوئی روک ٹوک نہیں ۔ پاکستان میں بھارت کی طرح کسی منظم یا بےقابو گروہ کو اقلیتی افراد پر تشدد کرنے کی اجازت یا جرآت نہیں ۔
    چند انفرادی واقعات جو کہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں جوکہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کے ماضی میں ہوئے ہیں ان پر فوری قانون حرکت میں آتا ہے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔
    دو روز پہلے رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں ہندو برادری کی عبادت گاہ پر مقامی لوگوں کے حملہ کا دلخراش واقعہ پیش جیسے ہی واقع کی خبر بریک ہوئی فوری وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے پولیس اور رینجرز کو بلاتفریق کاروائی کی ہدایت کی اور ڈی پی او سے رپورٹ طلب کی ڈی پی او خود جائے حادثہ پر پہنچے چند گھنٹوں میں ایف آئی آر درج کر دی گئ اور اگلی ہی صبح مندر کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام شروع کردیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے جان و مال کی ذمہ داری حکومت پر ہے کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا ۔
    وزیر اعظم عمران خان نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور آئی جی پنجاب پولیس کو ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔
    یہ واقعہ سنگین اور دلخراش جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس کو پاکستان کے خلاف کئ طرح سے استعمال کیا جاتا ہے اہل عناد کو پروپیگنڈے کا موقع ملتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم ہو رہے ہیں اقلیتں یہاں پر غیر محفوظ ہیں اور ساتھ ہی مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ تنقید بنایا جاتا ہے۔
    چھوٹے واقعات کو بڑا رنگ دیا جاتا ہے امریکی محکمہ خارجہ اور انسانی حقوق بھی کود پڑتا ہے اور پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی خوب کوشش کی جاتی ہے ۔
    لیکن یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہاں پر اقلیتیں خوشحال اور اپنی مذہبی رسومات عبادت میں مکمل آزاد ہیں ہرسال بھارت اور پوری دنیا سے سکھ اور ہندو برادری کے افراد ہزاروں کی تعداد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آتے ہیں اور پوری آزادی کے ساتھ پاکستان میں ہرجگہ آتے جاتے ہیں اور پاکستانی عوام بھی ان کی بھرپور آو بھگت اور عزت افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جس سے پاکستان کے خلاف پروپیگینڈے کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اور یہ ہمیشہ کی طرح ناکام اور نامراد رہتے ہیں اور انشاءاللہ رہیں گے۔ @Educarepak

  • ذہنی غلام   تحریر : نواب فیصل اعوان

    ذہنی غلام تحریر : نواب فیصل اعوان

    ہم ذہنی غلام ہیں ۔
    ہمارے ذہن میں ایک بات فیڈ کر دی جاتی ہے کہ اپنے تعلقات وسیع رکھو جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا تعلق ہر فیلڈ کے بندے کے ساتھ ہونا لازم ہے ۔
    پاکستان میں جو شخص چمچہ گیری کرنا جانتا ہے وہ شخص کامیاب ہے ۔
    دوسرے لفظوں میں تعلقات سے مراد ہے کہ آپ کس حد تک چمچہ گیری کر سکتے ہو ۔
    ایک شخص اپنے علاقے میں اپنی دھاک بٹھانے کیلۓ کسی سیاستدان کو اپنے ہاں زور زبردستی دعوت دے ڈالے گا ہر کسی کو ڈھول کی تھاپ پہ رقص کرتے ہوۓ بتاۓ گا کہ جی وہ فلاں وڈیرہ ، خان ، جام ، ملک یا نواب اس کے ہاں آ رہا ہے دعوت کے انتظامات کیۓ جاٸیں گے ۔
    وہ سیاسی یا دوسرے لفظوں میں امیر یا ہاٸ فاٸ شخص بھی آ دھمکے گا علاقہ پورا امڈ آۓ گا جیسے مریخ سے کوٸ ایلین اترا ہو ۔
    اس شخص نے اپنے علاقے میں بینرز فلیکس لگا لگا علاقے کا حشر نشر کر دینا ہوتا کہ جی ویلکم یا جی آیاں نوں فلاں ابن فلاں ۔
    الغرض کے خوشامد کے ایسے ایسے جتن کرے گا کہ اللہ امان ۔
    علاقے میں بتا رکھا ہوگا کہ فلاں تو اس کا لنگوٹیا یار ہے وہی شخص دعوت پہ خطاب کرتے ہوۓ اپنے لنگوٹیۓ یار کا نام دو چار بار پوچھ ہی لے گا کہ کیا نام ہے بھلا آپ کا ۔
    عزت اور ذلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے کسی انسان سے تعلق رکھنا یا نہ رکھنا کوٸ معنی نہیں رکھتا ہاں اگر معنی رکھتا ہے تو انسان کو اس کی حیثیت کے مطابق چادر پہ پاٶں پھیلانا ۔
    ہم اس قدر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں گر گیۓ ہیں کہ ہم ذہنی غلام بن چکے ہیں ہم ظاہری ٹپ ٹاپ کو اہمیت دینے والے اگر صحیح معنوں میں خود پہ محنت کریں تو ایک روز وہ معیار بنا جاٸیں گے کہ ہمیں لوگوں کو دکھانے کیلۓ زور زبردستی کسی کو دعوت نہیں دینی پڑیگی بلکہ لوگ خود سے پوچھتے پوچھتے ہمارے ہاں مہمان ہونے ہیں ۔
    ہمیں اس ذہنی غلامی سے اس سوچ سے چھٹکارہ پانا چاہیۓ ۔
    اگر ہم سب کے بارے میں یکساں سوچ رکھتے ہیں اور اپنے بارے علیحدہ تو یہ بھی غلط ہے ۔
    خود کو طورم خان سمجھ کے اوروں کو نیچ یا بدتر سمجھنا جیسے وہ کوٸ شودر ہوں اور آپ پاک ذات تو یہ نظریہ بھی سراسر غلط ہے ۔
    اپنے بارے میں لوگوں کا نظریہ تبدیل کرنے کو یہ چاپلوسی یا چمچہ گیری والے کام نہیں رہے گیۓ اگر حقیقی معنوں میں چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری عزت دل سے کریں نہ کہ تمہاری ظاہری پھوت پھات سے تو ایسے میں خود میں عاجزی لاٶ ۔
    لوگوں کے بارے میں اچھے خیالات رکھو ۔
    دوسروں کو نیچ یا کمتر نہ سمجھو ۔
    دوسروں کی عزت و نفس کا خاص خیال رکھو ۔
    ایسا کام کرو جو ظاہری خوشامد نہ ہو بلکہ اس میں انسانیت کی بھلاٸ ہو ۔
    اگر دل سے اوروں کے ساتھ مخلصی سے کھڑے ہو گے تو یہ زور زبردستی کے تعلقات تمہاری مخلصی دیکھ کر تم سے خوشگوار ہو جاٸیں گے ۔
    لازم نہیں ہے کہ زندگی گزارنے کیلۓ بڑے لوگوں تک رساٸ ہو تو اچھا ہے یاد رکھو
    چاپلوسی اور کسی کی چمچہ گیری سے بہتر ہے کہ اپنا ایک رتبہ اور پہچان بناٶ کہ لوگ تمہاری چاپلوسی اور چمچہ گیری کریں نہ کہ تم ۔

  • جشن آزادی اور ہم اور مقصد آزادی  تحریر : فیصل اسلم

    جشن آزادی اور ہم اور مقصد آزادی تحریر : فیصل اسلم

    اسلامی جمہوریہ پاکستان یہ چودہ اگست 1947 میں آزاد ہوا
    کئی لاکھ مسلمان اس آزادی میں قربان ہوئے لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی ہمارے بزرگوں نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکے ہمارے بزرگ ایسی جاہ پناہ چاھتے تھے کے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کرسکیں کے ایک الگ قوم کی حیثیت سے رہیں جہاں ہم دوسری قوموں کی تہذیب و عکدار یہ ہماری زندگیوں میں داخل نہ ہوجاے
    یہ وہ مقاصد ہیں جس میں ایک الگ ریاست آی الگ مملکت آی ہمیں نصیب ہوا کے مسلمان یہاں پر اسلامی زندگی آزادی کے ساتھ گزاریں یہاں پر اب اک سوال پیدا ہوگا کے اسلامی زندگی کیا ہے میں نے جب سے شعور پایا ہے اس وقت سے اگر میں پاکستان کی صورت حال دیکھتا ہوں اور مقصد آزادی کو دیکھتا ہوں تو میری سوچ کچھ مختلف چلی جاتی ہے ہمارا ملکی کلچر اور ہمارا زندگی گزارنے کا جو انداز ہے وہ اور مقصد آزادی ان دونوں میں نمایا فرق نظر آرہا ہے بیشک اس میں کوئی شک نہیں کے جب سے پاکستان بنا اور آج تک اس ملک میں یعنی ہمارے پاکستان میں مساجد کی تعداد ہزاروں میں بڑھی ہیں دنیا میں سب سے زیادہ حافظ قران پاکستان میں ہے کہتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ چندہ دینے والی قوم وہ پاکستانی ہے لیکن اگر میں احتساب کرنے جاتا ہوں معاشرے کا عوام کا اگر میں قومی انداز دیکھنا چاہتا ہوں تو میں یہ دیکھتا ہوں کے ہماری قوم کے اندر ہمارے اندر ہماری اسلامی طرز زندگی کتنی ہے ہمارے کمانے کا انداز کتنا اسلامی ہے ہماری شادی بیاہ کا انداز کتنا اسلامی ہے ہماری گویا کے کہیں طرز ا زندگی ایسی ہیں مغربی اور دوسری قوموں کے انداز ہمارے کردار میں داخل ہوگیا اور یہ سراسر اس کے منافی ہے جو ہمارا اور ہمارے شہیدوں کا مقصد آزادی تھا اگر میں کہتا ہوں کے مساجد تعداد بڑھی ہیں تو بد قسمتی کے ساتھ ہمارے ملک میں سینماؤں کی تعداد بڑھی ہیں کیا شراب خانوں کی تعداد نہیں بڑھی کیا جوۓ کی تعداد نہیں بڑھی ایک اسلامی ریاست میں جوۓ کےاڈے کا کیا کام آپ پاکستان پر کچھ الزام نہ ڈالیں میرے ملک کو کچھ نہ کہیں اپنے آپ کو کہیں میں خراب ہوں اگر اسلامی انداز زندگی ہوتا اگر اسلامی نظام حیات ہوتا سہی معنوں میں اسکی روح کے ساتھ تو بدکاری کے واقعات کم ہوتے اسلامی زندگی یہ ہے کے اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں سبب یہ نہیں کے ہم دوسری قوموں کے ساتھ رهتے ہیں نہیں دوسری قوموں کا انداز زندگی ٹی وی کی اسکرین کے ذریعے آج ہمارے گھر کے اندر داخل ہے انکی تقریبات کا انداز انکی دعوتوں کا انداز ان کے تہواروں کا انداز مختلف انداز مختلف قوموں کے مختلف مذاہب کے انداز زندگی آج ہمارے گھر کے ٹی وی اسکرین و موبائل اسکرینوں پر ہم اور ہماری نسلیں دیکھ رہی ہیں ہم کس انداز سے بچ کر پاکستان آزاد کروا کر لاے تھے کے ہماری نسلوں کو سنّتوں اعمال و اقدام و روایت یاد نہیں ہے لیکن غیر مسلموں کے انداز و اعمال و فیشن یاد رہتا ہے ہم کس مقصد آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں اگر ہم حدیثوں کا مطالع کرتے ہیں تو کیا یہ گانا موسیقی بے حیائی بے پردگی مرد و عورتوں کا ساتھ گھومنا پھیرنا اے یوم آزادی منانے والوں میں آپ سے پوچھتا ہوں جس اللّه و رسول ﷺ کی مدد سے یہ ملک پاکستان اسلامی جمہوریہ آزاد ہوا یہ سود کیسے آگیا ہمارے معاشرے کے اندر اللّه اور اس کے رسول ﷺ کی جس کام سے لڑائی ہے ہم اس کام میں کیسے مبتلا ہوگئے کیا یہ سود کھانے کے لئے پاکستان آزاد ہوا تھا مقصد آزادی میں جو سب بنیادی چیز جو میں عرض کرونگا وہ یہ ہے کے اپنی قوم کو یہ سود کی نحوست سے پاک ہونا پڑے گا مقصد جو آزادی کا تھا کے ہم یہاں اسلامی طرز پر زندگی گزرنا چاھتے ہیں اور ہمارا طرز زندگی اسلامی کتنا رہ گیا انداز یوم آزادی منانا استغفرالله پینے والے شرابیں پی کر ناچ کر کھود کر گانے گا کر موسیقی بجا کر ارہے خدا کے اگے سجدہ کر کے یوم آزادی مناتے ہیں یہ چیزیں تو قوموں کو برباد کردیتی ہیں اپنے آپکو سہی معنوں میں ایک مسلمان و پاکستانی بنایں اپنے مقصد آزادی کو یاد کر کے اللّه کا شکر ادا کریں نہ کے ناچ کر شیطان کی پیروی کر کے جشن ا آزادی منانا آزادی منانا نہیں اپنی جہالت کا اظہار کرنا کہلاتا ہے
    جشن آزادی میں اللّه کا شکر ادا کریں شکرانے کے نوافل پڑھیں اللّه کو راضی کرنے والے کام بڑھا دیں خیر خیرات کریں بھلائی کے کاموں میں بڑھ کر حصّہ لیں مسلمانوں کے کی مدد کریں تا کے انکو راحت ملے جو آزاد ہوتا ہے وہ شکر گزار ہوتا ہے کے کسی قید سے آزاد ہوا تو وہ شکر گزار بنے گا آزاد کس نے کیا ہمیں دشمنوں کی غلامی سے غیر مسلموں کی غلامی سے اللّه نے آزاد کیا تو اللّه کو راضی کرنے والے کام کر کے ہی اللّه کا شکر ادا کریں اپنے وطن عزیز کی تعمیر میں بڑھ چڑ کے حصّہ ملاؤ پاکستان کے خلاف بولنے والوں کو جواب دو اگر جواب نہیں دے سکتے تو انکو دل میں ہی برا جانو اور یاد رکھو
    پاکستان اللّه کے رازوں میں سے ایک راز ہے اسکی قدر کرو اسکی آزادی کی قدر کرو ان سے نفرت کرو جو آپ کے پاک ملک سے نفرت کرتے ہیں اور اپنی پاک آرمی کی ہمیشہ حمایت کرو کسی بھی سیاسی پارٹی سے آپ ہوں لیکن سب سے پہلے اپنے ملک پاکستان کو ہی رکھو کیوں کے آپ اب جس مقام پر ہو وہ اسی پاک ملک کی وجہ سے ہو اپنے ملک سے پیار کرنا میرے نبی کی سنّت ہے اس ملک پاکستان کی بنیادوں میں شہیدوں کا خون ہے اس خون کی قدر کرو اپنے ملک پاکستان کے ہر اک حصّے سے پیار کرو آپ کا ہر عمل اسلام و پاکستان کے لئے ہونا چاہیے چاہے آپکو کوئی پسند کرے یا نہیں بس یاد رکھو آپکو اپکا رب دیکھ رہا ہے آخرت میں لوگوں نے نہیں اللّه نے ہی آپ سے آپ کے اعمال کا حساب لینا ہے اسلئے لوگوں سے ڈرنا بند کرو اور اسلام و پاکستان کے لئے ہی کام کرو جہاں بھی ہو جیسے بھی ہو بس اسلام و پاکستان کے لئے ہی اپنے دل و دماغ کو حاضر رکھو تیار رکھو جب موقع ملے تو اسلام و پاکستان کے لئے اپنی جان دینے سے بھی گریز نہ کرو اپکا خون اگر اسلام و پاکستان کے لئے بہا تو ہوسکتا ہے یہی خون آپ کی بخشش کا سبب بن جائے لہٰذا یاد رکھو آپ کچھ نہیں لیکن آپ کے اعمال بہت کچھ ہوسکتے ہیں جس سے آپ کی اور آپ کی نسلوں کو اسکا فائدہ مل سکتا ہے اللّه حافظ

    @FsAslm7

  • کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں، ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

    کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں، ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

    کشمیر پریمیئر لیگ کے انعقاد سے قبل بھارت کی بوکھلاہٹ اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو دھمکیاں کام نہ آئیں-

    باغی ٹی وی : جنوبی افریقی کرکتر ہرشل گبز بھارت کی دھمکیوں کے باوجود مظفر آباد پہنچ گئے ہیں ہرشل گبز کے پی ایل میں اوور سیز واریئرز کی نمائندگی کریں گے۔

    رشل گبز کے انکشافات نے بھارتی مکرو چہرے کو بے نقاب کر دیا مشعال ملک

    اس سے قبل ہرشل گبز نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں بتایا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ مجھے دھمکی دے رہا ہے، بی سی سی آئی غیرضروری طور پر پاکستان کے ساتھ اپنا سیاسی ایجنڈا بیچ میں لارہاہے اور مجھے کے پی ایل ٹی ٹوئنٹی میں کھیلنے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    ہرشل گبز نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ بی سی سی آئی کی جانب سے مجھےدھمکی دی جارہی ہے کہ بھارت میں انٹری کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

    بھارتی سازشیں ناکام، معروف سری لنکن کھلاڑی نے کشمیر پریمیئر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مظفرآباد میں کے پی ایل کا آغاز ہوگیا ہے،لیگ کا فائنل 17 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں مظفر آباد ٹائیگرز ،میرپور رائلز، راولاکوٹ ہاکس، کوٹلی پینتھرز، باغ اسٹالینز اور اوور سیز واریئرز شامل ہیں ایونٹ جو 6 اگست سے شروع ہونے والا ہے ، اس میں شاہد آفریدی ، شاداب خان ، عماد وسیم اور دیگر اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔

    کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارتی سازشیں، معروف ساؤتھ افریقن کھلاڑی بھارت پر پھٹ پڑے

    یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کشمیر لیگ کا حصہ بنے تو ان پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند کردئیے جائیں گے بعد ازاں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے کہا کہ وہ کے پی ایل ٹورنامنٹ کو تسلیم نہ کرے۔

    کشمیر پریمئیرلیگ : پی سی بی بھارتی کرکٹ بورڈ کی مداخلت پر برہم

    کشمیر پریمئیر لیگ: خوفزدہ بھارت نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھ دیا

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا ،غیر ملکی کھلاڑیوں کا کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت کا فیصلہ

  • ٹوکیو اولمپکس:  پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے

    ٹوکیو اولمپکس: پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے

    ٹوکیو اولمپکس : پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جیولین تھرو کے مقابلے میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کا بھارت کے تھرور نیرج چوپڑا کے ساتھ سخت مقابلہ متوقع ہے جیولین تھرو(نیزہ بازی) کے فائنل مقابلے آج پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بجے شروع ہوں گے۔

    ارشد ندیم کے اولمپک فائنل میں پہنچنے پر شوبز شخصیات کی مبارکباد

    ارشد ندیم کی کامیابی کے لیے پوری قوم دعاگو ہے اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کررہی ہے۔

    واضح رہے کہ ارشد ندیم نے 85.16 میٹر کے فاصلے پر جیولن پھینک کر گروپ بی میں پہلی پوزیشن حاصل کی جس کے بعد وہ اولمپکس ایونٹ کے فائنل تک پہنچنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ بن گئے –

    ارشد ندیم پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے

    پاکستانی ایتھلیٹ کی جانب سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیے جانے پر 4 اگست کو وہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی رہے اور سیاسی و سماجی اور شوبز شخصیات کی جانب سے تعریفیں اور خوشی کا اظہار کیا گیا تھا-

    ٹوکیواولمپکس :ارشد ندیم نےعمدہ کارکردگی سے پاکستانیوں کا سرفخر سے بلند کر دیا…

    ارشد ندیم کی بدولت پاکستان 29 سال بعد اولمپکس میڈل جیتنے کیلئے پُرامید ہے…

    ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب