Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت تحریر: فروا نذیر

    چائلڈ لیبر ایک لعنت تحریر: فروا نذیر

    بچے فرشتوں کا دوسرا روپ اور اللہ کی خاص رحمت ہوتے ہیں۔ والدین کیلیے اولاد نعمت ہوتی ہے اللہ پاک نے بچے سے لے کر بوڑھے تک ہر انسان کو خاص الخاص بنایا ہے۔
    ہر انسان کو کسی نہ کسی مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔

    آج میں ان چھوٹے بچوں کی بات کرنا چاہوں گی جو معاشرتی نا انصافیوں اور اس ظالم معاشرے کی سرمایہ دارانہ روشوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور بچپن سے ہی ہاتھوں میں قلم کی جگہ ہتھوڑی اور کندھوں پہ سکول بیگ کی جگہ بیلچہ اٹھا لیتے ہیں۔
    کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو یہ چاہے کہ میں بچپن سے ہی کمانا شروع کردوں۔
    ہر گھر میں حالات مختلف ہوتے ہیں
    اللہ پاک کیلیے سب انسان برابر ہیں لیکن اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ کسی کو کم دیئے تو کسی کو زیادہ۔
    اللہ لے کر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی آزماتا ہے۔

    اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف۔
    ہمارے معاشرے میں معاشرتی ناانصافیاں شروع سے چلتی آ رہی ہیں۔
    گو کہ آج کل کے دور میں زندگی گزارنا آسان نہیں ہے پیسہ ایک ضرورت بن چکی ہے۔ اس لئے ہر شخص کو اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لئے زر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم، راشن، ادویات، اور دیگر روزمرہ کی بنیادی ضروریات پیسوں کے بغیر نہیں مل سکتیں۔
    جن بچوں کو اچھی تعلیم اور مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں مزدوری پر لگا دیا جاتا ہے
    آخر کیوں۔۔۔؟؟
    صرف اور صرف پیسے کیلیے!!!!!

    انسان کا اچھی اور بہترین زندگی گزارنا حق ہے۔ اور ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ اس کی اولاد پڑھے لکھے اور ترقی کرے۔
    کیونکہ ایک بچے کیلیے تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن ایسی کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر بچوں کو تعلیمی اداروں کی بجائے فیکٹریوں اور کارخانوں میں داخل کر دیا جاتا ہے؟ حالانکہ بچوں کی تعلیم اور صحت کی ذمہ داری تو ریاست کی ہوتی ہے۔
    جب ہم بغور جائزہ لیں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ جن حکمرانوں کو ہم نے اپنے اور ملک کے بھلے اور مفاد کے لئے منتخب کیا تھا ہمارے اصل دشمن ہی وہی نکلے۔ حکمرانوں کی اپنی تجوریاں تو بھری رہیں لیکن عوام ے گھروں کی چارپائیاں بھی بک گئیں۔ حکمرانوں کی اولاد تو یورپ اور دوبئی میں عیاشی کرتی رہی لیکن عوام کی اولاد سڑکوں پہ آ گئی۔
    یہی دو طبقاتی نظریہ ہی قوموں کی کمزوری کی وجہ ہوتا ہے۔
    بچے قوموں کا مستقبل ہوتے ہیں اور کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اس قوم کے ہونہار بچوں پہ منحصر ہوتا ہے۔ جس قوم کے بچے ہی سڑکوں پہ ہوں اس قوم کا مستقبل کیا ہو گا۔
    معاشرتی نا انصافیوں کا شکار بچے جب معاشرے میں کہیں کام کرتے نظر آتے ہیں تو لوگ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔
    میرا اس موضوع پر تحریر لکھنے کا یہی مقصد ہے کہ جہاں چھوٹے بچے ورکرز ہیں کام کر رہے ہیں ان کو حقارت سے نہ دیکھیں اور انکی مزدوری وقت پر دیں تاکہ وہ تعلیم کو چھوڑ کر جس مقصد کیلیے کما رہے ہیں وہ پورا ہو سکے اور وہ سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔
    آپ سب سے بھی جتنا ہو سکے ایسے مظلوم بچوں کی مدد کریں تاکہ اگر ممکن ہو سکے تو وہ ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کر سکیں۔۔۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا فرمائے اور ہر آزمائش میں سرخرو کریں

    آمین ثمہ آمین

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم
    ہمارا خیال یہ تھا کہ ہم صبح سویرے ہی کالام کا سفر شروع کریں گے لیکن تھکاوٹ کے باعث یہ جلدی ممکن نا ہو سکا اور ہمیں منیگورہ سے کالام تک نکلنے نکلتے 1 بج گیا۔ کالام تک روڈز خوبصورت اور محفوظ تھا بس ایک دو جگہ پر ہمیں تھوڑی بہت مشکل پیش آئی باقی سفر اچھا رہا۔ ایک دو جگہ رکنے کی وجہ سے ہم کالام شام تک پہنچے۔ اب وہاں ہوٹل کی چوائس میں مشکل پیش آئی کیونکہ ہم میں سے اکثریت دریائے سوات کے قریب ٹھہرنا چاہتے تھے جبکہ بچہ پارٹی جھولے اور سلائڈز والے ہوٹل کا انتخاب کیے بیٹھے۔ خیر لیا ہم نے پھر دریائے سوات کے رخ والا۔ پہلی بار یوں دریا کے قریب ٹھہرنا اور سونے کا تجربہ ہوا۔ سامان سیٹ کمروں میں کیا اور کچھ سستانے لگے۔ پھر ایک چکر بازار کا لگایاوہاں عجیب سی خاموشی تھی مطلب عورتوں کا رش تو دور کی بات عورت نظر ہی نہیں ارہی تھی۔ کچھ دکانیں کھلی تھیں اور ڈرائی فروٹ مارکیٹ بہت بڑی تھی۔ وہیں سے گھومتے پھرتے میں اپنا پاؤں زخمی کروا بیٹھی۔ خیر پھر ہم "کمال” ہوٹل گئے وہ دریا کے کنارے تھا کھانا کھایا وہاں البتہ بہت بڑی تعداد لوگوں کی دیکھی جن میں خواتین، مرد، بوڑھے، بچے سب شامل تھے۔ کھانے کا زائقہ بہت زبردست تھا۔ سروس اچھی تھی۔ اور بل بھی مناسب تھا۔ یہاں بھی مجھے مقدار، زائقہ، معیار اور ریٹ نے کافی متاثر کیا۔ کھانے کے بعد ایک چکر پھر بازار کا لگایا تب زرا گہماگہمی تھی۔ لوگ گھوم رہے تھے کہیں کوئی خوف کا شائبہ تک نا تھا۔ لگتا نہیں تھا کہ چند سال پہلے تک یہ سارا علاقہ خوف کی علامت تھا۔ سکون اور خوشگوار ماحول میں مجھے وہ تمام لوگ یاد آئے جو قربان ہوئے اس آمن کو لانے کے لیے۔ مقامی آبادی سے لے کر افواج پاکستان کے جوانوں تک۔ کیونکہ انہیں کے خون سے ہوا ہے یہ چمن آباد۔ الله پاک اسے دشمن سے محفوظ رکھے۔ امین ثمہ آمین۔ واپسی پے سب باہر رک گئے جبکہ میں ہوٹل واپس اگئی ٹیرس پر چائے منگوائی اور دریا کے شور کو سنا محسوس کیا۔ اسکی لہریں ایسی بپھری ہوئی تھیں جیسے کسی چیز کا کسی بات کا شدید غصہ ہو۔ جیسے ابھی سب کو لے ڈوبیں گی۔ بہا کے کہیں دور لے جائیں گی۔ ان لہروں کو دیکھتے ہوئے اور ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتے ہوئے آپ عجیب دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ جہاں صرف آپکی زات ہوتی ہے ماضی کے دکھ حال کے چیلنجز اور مستقبل کی پلاننگ سبھی شامل ہوتے ہیں۔ مجھے ان لہروں کی نظر ہو جانے والے وہ نوجوان بھی یاد آئےجنہیں یہ لہریں بہا کے لے گئیں مجھے ناطق لکھنوی کا شعر یاد ایا وہاں بیٹھے لہروں کا شور سنتے

    "کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

    جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے”

    سمندر کسطرح خاموشی سے بہتا ہے۔ پرسکون سا۔ اسکی لہریں اسکا شور اف الله۔ سب کی واپسی تقریباً ایک بجے ہوئی لیکن ہم سب پھر وہیں ٹیرس پر بیٹھے رہے تقریباً تین بجے تک پھر کمروں میں گئے وہاں نیند کا ایسے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسے ہم گھروں میں سوتے ہیں۔ کیونکہ پھر اگلے دن کی تیاری اور پروگرام کی ترتیب سونے کہاں دیتی ہے۔ اگلے دن ہم نے "اوشو” جنگل جانا تھا وہ بھی بہت خوبصورت جگہ ہے جب ہم پہنچے ناشتہ کرنے کے بعد تو کئی لوگوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے۔ جھولے تھے گھڑ سواری اور اونٹ کی سواری بھی تھی۔ لیکن ہم اس سے پہلے اگے "کارگل” جھیل پرچلے گئے ہمارا سامنا دو بچوں سے ہوا ایک کا نام صابر تھا عمر یہی کوئی آٹھ دس تھی۔ نشانہ بازی کے لیے غبارے تھے اس کے پاس بچوں نے نشانے لیے اور تصاویر بنائیں لیکن وہ بچے ہمارے ساتھ رہے "اوشو” سے لے کر "جھیل” تک۔ اس بچے کی خدمت اور اپنے رویے پر میں بہت شرمندہ ہوں۔ واقعہ بتاتی ہوں ہوا کیا۔ صابر نے کہا کہ ہم آپکو جھیل تک لے جاتے ہیں ڈرائیور نے اسےگاڑی میں بیٹھا لیکن میں نے یہ کہہ کر اتار دیا کہ علاقہ محفوظ لگ تو رہا ہے لیکن پھر بھی اتنا اعتبار مناسب نہیں ہے اگر بچہ خود کہہ دے کہ یہ لوگ مجھے آغواہ کر کے لے جارہے ہیں تو ہم کیا کریں گے۔ اس لیے اگر انہوں نے انا ہوا تو خود اجائیں گے ہم ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ اتار دیا انہیں اور خود چلے گئے کافی اگے جانے کے بعد پتہ چلا کہ گاڑی چونکہ بڑی ہے تو اس لیے نہیں جاسکتی سڑک تنگ ہے جانا ممکن نہیں پیدل جانا ہوگا بس ہم پھر مسجد کے قریب گاڑی کھڑی کی اور اگے پیدل نکل گئے۔ جب تک ہم لوگ پہنچے صابر اور اسکا دوست پہنچ چکے تھے وہاں چھوٹے کیری ڈبے ٹائپ اسانی سے چلتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر بھی بچے ہمارے چھوٹے چھوٹے کام کرتے رہے۔ پہنچ کے یاد آیا کہ آموں کی پیٹیاں تو ہم گاڑی میں ہی بھول آئے سگنل وہاں تھے نہیں کیا کرتے کچھ سمجھ نا آئی تو صابر نے کہا ہم جاتا ہے لے کر اتا ہے۔ کسی سے لفٹ لے کر گیا اورپندرہ منٹ میں آم ہمارے پاس تھے۔ کیا ٹھنڈا پانی تھا جھیل کا۔ بہت مزا آیا۔ دریا کی لہریں وہاں بھی یونہی شور کررہی تھیں۔ لکھا ہوا تھا کہ پتھروں پر بیٹھ کر تصاویر بنوانے سے گریز کریں۔ کیونکہ بہاؤ بہت تیز ہے۔
    جاری

  • یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب.  تحریر: احسان الحق

    یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب. تحریر: احسان الحق

    یوم جمعہ افضل الایام اور سید الایام ہے. جمعہ کا دن تمام ایام کا سردار اور تمام ایام سے افضل دن ہے. جمعہ کی نماز ہم پر فرض ہے. اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ کی آیت نمبر 62 میں فرمایا "اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور اپنی تجارت بند کر دو”. اذان سننے کے بعد کاروبار جاری رکھنا حرام ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جمعہ ترک کرنے سے بعض آ جائیں ورنہ بغیر عذر کے جمعہ ترک کرنے والوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیں گے اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے.

    یوم جمعہ کی بہت بڑی فضیلت ہے. یوم جمعہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا. جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں داخل فرمایا. اسی دن یعنی جمعہ کے دن ہی آپ آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا گیا. جمعہ کے دن ہی قیامت قائم ہوگی.

    جمعہ کے آداب اور سنتوں کے متعلق احادیث میں تفصیل موجود ہے. جمعہ کے دن ہر مسلمان پر غسل کرنا واجب ہے. جمعہ کے دن تمام مسلمانوں کو غسل کا خاص اہتمام کرنا چاہئے. ناخن تراشنے چاہیئں. دستیاب کپڑوں میں سے سب سے عمدہ لباس کا انتخاب کرنا چاہئے. تیل اور خوشبو اگر دستیاب ہو تو ان کا استعمال کرنا چاہئے. جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرتا ہے اور چل کر پہلی فرصت میں مسجد میں پہنچتا ایسے شخص کے لئے اونٹ کی قربانی کا اجر ہے. دوسرے وقت میں جانے والے کے لئے ایک گائے، تیسری گھڑی میں جانے والے کے لئے سینگ والے مینڈھے کی قربانی کا اجر ملے گا. چوتھے نمبر پر جانے والے کے لئے ایک مرغی کی قربانی کا ثواب ہے اور سب سے آخر میں جانے والے کے لئے ایک مرغی کے انڈے برابر ثواب ہے. خطبہ جمعہ شروع ہوتے ہی فرشتے رجسٹر بند کر کے خطبہ سننا شروع کر دیتے ہیں.

    مسجد میں داخل ہونے کے بعد جتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ہو اتنی نوافل پڑھ لیں. خطبہ شروع ہونے کے بعد 2 رکعات نفل لازمی ادا کرنی چاہیئں. لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلانگنا چاہئے ہاں اگر آگے جگہ خالی ہو تو پھر پہلے اگلی صفوں میں بیٹھنا مناسب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ خلوص نیت، خاموشی اور توجہ سے خطبہ جمعہ سنتا ہے تو اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک کے درمیان ہفتے بھر کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کوئی کبیرہ گناہ نہ ہو. ارشاد نبویؐ ہے کہ خطبہ شروع ہونے کے بعد اگر کسی نے کسی دوسرے بندے کو گفتگو کرنے سے منع کرنے کے لئے صرف اتنا کہا کہ خاموش ہو جاؤ تو یہ بھی لغو بات ہے اور لغو بات کرنے والے کا جمعہ نہیں.

    جمعہ کے روز کرنے والے کاموں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والا انتہائی اہم اور افضل کام ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو. آپ لوگوں کے درود مجھ تک پہنچائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن میں ان لوگوں کی شفاعت کروں گا جو کثرت سے درود بھیجتے ہیں. جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہئے. جو بندہ سورہ کہف کی تلاوت کرتا ہے تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لئے ایک نور چمکتا رہتا ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ جمعہ کے لئے آنے والے شخص کے ہر ایک قدم کے بدلے ایک سال کی تہجد اور ایک سال کے روزوں کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں.

    @mian_ihsaan

  • کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    سردار عبدالقیوم نیازی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ کہا کہہ لوگ شیروانی اور واسکٹ سلاتے ہیں مجھے تو وزیز اعظم بننے کی خبر کاغزات نامزدگی والے دن صبح کو ہوئی اور مجھے فون آیا کہہ آپ وزیز اعظم کے لئے کاغزات جمع کروایں اگر بات کی جاۓ اپوزیشن کی تو اس نے تو تنقید کرنی ہی تھی جو بھی نام سامنے آتا اس پر تنقید اپوزیشن تو لازمی سی بات ہے کرے گی اگر تنویر الیاس صاحب کا نام آتا تو کہنا تھا اے ٹی ایم مشین کو وزیز اعظم بنا دیا اگر بیریسٹر سلطان کو بناتے تو کہنا تھا وہی پرانی بوتل میں نہی شراب اپوزیشن کا کام تو تنقید ہے اس نے تو کرنے ہی تھی اچنبے کی بات تو یہ ہے سردار عثمان بزادر کی طرح ہمارے میڈیا کے چند بڑے ناموں نے بھی حلف برادری کی تقریب کے فورا بعد سردار عبدالقیوم پر اپنی تنقید کے نشتر برسا دئیے کسی نے کہا کہہ یہ اولیاء اللہ اور درباروں عقیدت مند ہیں اس لئے ان کانام چنا گیا کسی نے کہا ان کانام ع سے شروع ہوتا ہے کسی نے ان کے حلقہ کے نمبر کا زکر کیا کسی نے پختون اور قبیلہ کا زکر کیا جس کو جو ملا اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی میرے خیال میں جو بلکل ہی زیادتی پر مبنی تنقید ہے ہمارے میڈیا کو معلوم ہونا کہہ سردار عبدالقیوم نے کشمیر کے حلقہ سے الیکشن لڑا اور وہ کامیاب ہوۓ اور پورے کشمیر کے کسی بھی حلقہ سے ایم ایل اے کا کامیاب امیدوار ویز اعظم بننے کا مستحق ہوتا ہے بے جا تنقید سے اس حلقہ کی عوام اور پورے کشمیر کی عوام میں اختلاف پیدا نہیں کرنا چائیے تھا میڈیا کا جو سوال بنتا ہے وہ ہے اگر سردار عبدلقیوم پر کوئی کرپشن کیسز ہے تو اسکو ہائی لائیٹ کرے وگرنہ بے جا تنقید غیر مناسب ہے
    سردار عبدلقیوم صاحب کے لیے بہت سے چیلنج ہوں گے اپوزیشن میں سابقہ وزیز اعظم اور اپنی پارٹی کے اندر بھی سابقہ وزیز اعظم اور بھی بہت سے نامور نام ہیں اب سردار عبدالقیوم کس طرح اپنی پارٹی اور اپوزیشن کو لے کر چلتے ہیں یہ بھی ان کا امتحان ہوگا اگر تو سردار عبدلقیوم کشمیر کے مسائل کو حل کرنے جن میں بلدیاتی نظام نہیں ہے بے روزگاری ہے اور عوام کے صحت و انصاف بچوں کی پڑھائی کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو اپوزیشن اور میڈیا دونوں کے منہ ہی کشمیر کی عوام بند کر دے گی اگر سردار عبدالقیوم اپنے کپتان عمران خان کے ویثرن کو آگے لے کر چلتے ہیں تو پھر اپنے کپتان کی مکمل حمایت ان کو حاصل ہوگی اور وہ اپنی کرسی پر مضبوطی سے کام کر سکیں گے جو بات زبان ذدہ عام ہے ان کے بارے میں وہ تو بہت اچھی ہے کہہ سردار عبدالقیوم انتہائی نفیس اور سادہ طبعیت انسان ہیں وہ اپوزیشن اور پارٹی کو بہت اچھے سے ڈیل کریں گے اگر اس میں بھی کامیابھی ملتی ہے تو آئندہ آنے والے سالوں میں کشمیر میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک بڑھے گا اور حقیقی تبدیلی جس کا تحریک انصاف کے چئیر مین ویز اعظم پاکستان جناب عمران خان نے دیکھا ہے وہ پورا ہوگا ان شاءاللہ
    ہماری دعا ہے سردار عبدالقیوم صاحب کو اللہ پاک حقیقی معنوں میں ہمارے کشمیری عوام کے حقوق کی آواز ملک کے اندر بھی اور بیرون ملک بھی اٹھانے کی توفیق عطا فرماۓ اور ساتھ میں کشمیر کی عوام کے مسائل کو بھی حل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین۔ ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • مقصد آزادی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مقصد آزادی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    پاکستان اللہ رب العزت کا دیا ہوا ایسا معجزہ ہے. جسے کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے 74 سال گزر چکے. اللی رب العالمین نے اس خطہ پاکستان کو خوب خوب نعمتوں سے نوازہ ہے اور اس پر مزید یہ کہ اسے کفر کی للکار کو زیر کرنے کی لیے افرادی قوت، جزبہ جہاد اور ایٹمی طاقت بنا دیا. مسلمانوں کی ترجمانی کرتا یہ خطہ پاکستان ملت اسلامیہ کے ماتھے پر بڑی شان سے طاقت اور جرات کا تاج بن کر سجا ہوا ہے. ملت اسلامیہ کو جب بھی ضرورت پڑی مدد کے لیے پاکستان کی طرح نگاہ اٹھائی جاتی ہے. یہ سب اللہ رب العزت کی خطہ پاکستان پر کی گئی عنایتیں ہیں. یہ میرے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کے 1400 سال سے بھی قبل اس کی پیشن گوئی کی ہند سے اظہارِ محبت کیا.

    پھر اسے آزاد کرانے والے پیدا بھی کیے. اس کو سر بلند کرنے والوں کو پیدا کیا. یہ سب میرے رب کریم کی عطا اور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا روحانی فیض ہے.

    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا خواب ان کی کوشش پھر ان کی تعلیمات سے سوئی ہوئی امت کو جو امید نو ملی اسی کو لے کر اللہ رب العزت کی توفیق سے مرد قلندر بابا اولیاء پیر جماعت علی شاہ کی قیادت میں جوق در جوق طلبہ کے لشکر قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ تعالی’علیہ کے ساتھ ملنا. پھر ماؤں کا بچوں کے دلوں میں جزبہ آزادی اور جہاد پیدا کرنا. یہ سب میرے رب العالمین کا احسان عظیم ہے.
    سلام ان ماوں کو جنہوں نے اپنے لعل زبح کروا لیے لیکن تحریک آزادی پر سمجھوتہ نا کیا. سلام ان بہنوں بیٹیوں پر جن کی بے حرمتی کی گئی لیکن آزادی کا علم ہاتھ سے نا چھوڑا.
    ارادے جن کے پختہ ہوں نگاہ جن کی خدا پر ہو
    طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے.
    پاکستان بن تو گیا لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی اسے ڈھول باجوں کو لیے اصل مقصد کو پیچھے چھوڑ کر یہ قوم اپنے بڑوں کی قربانی کو رائیگاں کرتی دکھائی دے گی.
    پاکستان کا مقصد تو لا الہ الا اللہ ہے آنے والی نسلیں چونکہ اسی کھیل تماشے کی منتظر ہوتی ہیں وہ اس کے فیوض برکات سے ناواقف دکھائی دیتی ہیں. جن کے بزرگ آج بھی اپنوں کی قربانیاں یاد رکھتے ہیں وہ اس دن کو صوم و صلوات کرتے اور اپنے پیاروں کے حق میں دعا کرتے دکھائی دیتے ہیں.
    سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو اس حوالے سے خصوصی کردار ادا کرنا چاہیے. جشن آزادی کے دن اس کے لیے دی گئی قربانیوں سے آنے والی نسلوں کو متعارف کرایا جاے. تاکہ کھیل تماشوں گانے باجوں سے ہٹ کر صحیح معنوں میں اس دن کا حق ادا کیا جا سکے.
    روح اقبالیات آج بھی پاکستان کی ترقی کے لئے بھرپور معاون ثابت ہو سکتی ہیں. پاکستان کو آج بھی ان فلسفوں کی ضرورت ہے جنہوں نے تحریک آزادی میں بھرپور ساتھ دیا.
    خدارا مخلص ہو جائیں پاکستان کو آج بھی جزبہ آزادی کی ضرورت ہے
    *افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*
    پاکستان اس وقت قرض و پابندیوں کی جس دلدل میں پھنس چکا ہے. اس سے نکلنے کا واحد راستہ مخلصی ہے.
    اپنے وطن اپنے پیارے پاکستان سے مخلص ہو جائیں. عشق_ وطن ایمان کا حصہ ہے. اس سے محبت کا اظہار کریں اور اپنے گھروں میں بچوں کو قیام پاکستان اور شعور قربانی کا درس سمجھانے کا اہتمام کریں. صوم و صلوات کے ساتھ اس مبارک دن کا آغاز کریں اور جن لوگوں نے اس وطن کے لیے جان مال عزت کی قربانی دی ان کو خراج تحسین پیش کیجئے.

    @EngrMuddsairH

  • اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں تحریر: سحر عارف

    اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں تحریر: سحر عارف

    کشمیر کا نام سنتے ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں جنت کا نوشہ کھیچا چلا جاتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے بچپن میں ہمیشہ بڑوں کو کہتے سنا تھا کہ اگر جنت دیکھنی ہے تو کشمیر دیکھ لو۔ کشمیر کی خوبصورتی دیکھنے کے بعد بالکل ایسا لگتا ہے جیسے جنت کا ایک ٹکڑا زمین پر اتر آیا ہو۔

    اس میں پھیلا سبزہ، وہاں کے آبشار، یہاں تک کہ چرند پرند، درخت، پہاڑ نیز ہر چیز میں اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آج بھی کشمیر ایسا ہی ہے؟

    آج تو اسی جنت میں آئے روز خون کی ندیاں بہتی ہیں۔ بھارت کی گیدڑ فوج وہاں کی ماؤں بہنوں کی عصمت دری کرتی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں ان کی حوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ مائیں اپنے لخت جگر اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھتی ہیں۔

    یہاں تک بھارت کی ظالم فوج سے تو وہاں کے بچے تک محفوظ نہیں ہیں۔ اگر بچے گھروں سے باہر نکلیں تو ان کی آنکھیں پیلٹ گن سے چھلنی کر دی جاتی ہیں۔

    پر افسوس صد افسوس کہ پوری دنیا خاموش تماشائی بنے بیٹھی ہے۔ اس دنیا میں اگر یہی سلوک چار پانچ جانوروں کے ساتھ ہو تو یقین جانے یہ جو لوگ آج اپنے منہ سی کے اور آنکھوں میں پٹیاں باندھ کے اندھے بنے بیٹھے ہیں یہی لوگ "جانوروں کے حقوق” کھول کے بیٹھ جائیں گے۔ ان کے لیے ریلیاں بھی نکلیں گی اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    پر ان کے منہ سے کشمیر کے جائز حق میں ایک لفظ بھی نہیں پاتا۔ کیا کشمیری ان کی نظر میں جانوروں سے بھی بدتر ہیں؟ کہ یہ دنیا اور اقوام متحدہ صرف تماشا دیکھے چلے جارہے ہیں۔ آخر کو کوئی بھارت کو اس ظلم و بربریت پر روکتا کیوں نہیں؟ آخر کب تک کشمیری اس قدر ظلم و بربریت سہتے رہیں گے؟

    اب تو کم از کم اقوام متحدہ کو معاملے کی طرف جھنجھوڑنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد کشمیر کے حق میں فیصلہ ہو اور ہمارے کشمیری بہن بھائی ہندوستان کے چنگل سے نکل کر آزادی کا سورج دیکھیں اور ان کی آنے والے نسلیں آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں۔

    @SeharSulehri

  • قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    قارئین آج کا موضوع خاص بچوں کے لیے ہے قرآن مجید
    تو بچوں اللہ تعالٰی نے چار رسول بھیجے جو اللہ تعالٰی کی کتابیں لائے۔ جس میں تورات حضرت موسی علیہ السلام ، زبور حضرت داؤد علیہ السلام اور انجیل حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب اللہ تعالٰی کی کتابیں ہیں۔ چوتھی اور آخری کتاب قران مجید جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی اس کے احکامات پر قیامت تک عمل ہو گا۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلی اخلاق کا کامل نمونہ ہیں۔ اخلاق کے معنی ہیں عادات۔ یہ آچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی ، جسے کہ سچ بولنا آچھے اور جھوٹ بولنا برے اخلاق میں شامل ہے۔ جب بھی کسی کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ دراصل اس کے اخلاق کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے آچھے لوگوں سے مل کر معاشرہ اور قوم مضبوط ہوتے ہیں۔ اسی طرح خراب اخلاق والے لوگوں سے معاشرہ اور قومیں فنا ہوتی ہیں۔

    پیارے بچو۔ پچھلی کتابیں ایک تو خاص زمانے کے لوگوں کے لیے تھیں ، دوسرے ان کے ماننے والوں نے جو احکامات اپنی مرضی کے خلاف سمجھے ان کو بدل ڈالا ، جس کی وجہ سے اب یہ کتابیں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں۔

    قرآن مجید کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے۔ ضابطہ حیات کا مطلب ہے زندگی کے بارے میں ایسے احکامات جو سادہ ، آسان ، سچے اور مکمل ہوں۔ زندگی کا کوئی معاملہ ایسا نہیں جس کے بارے میں حکم قرآن مجید میں موجود نہ ہو۔ یہ عربی زبان میں 27 رمضان کی شب قدر میں نازل ہونا شروع ہوا اور تقریبا 23 سال کی مدت میں مکمل ہوا۔ اس کی فضیلت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس میں آج تک کسی قسم کی بھی تبدیلی نہیں ہو سکی اور نہ ہو سکے گی۔ یہ قیامت تک اپنی اصلی حالت میں قائم رہے گا کیونکہ اللہ تعالٰی فرمایا ہے

    بے شک یہ ذکر ہم نے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    سورہ الحجر۔آیت نمبر 9

    قرآن مجید کا ادب و احترام ہم سب پر لازم ہے یعنی اس کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا اس کا ادب ہے۔قرآن مجید میں انسان اور کائنات کی تخلیق کے بارئے میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اسے حفظ کر رکھا ہے۔اور آئندہ بھی حفظ قرآن کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ ان شاء اللہ

    اللہ پاک پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

    @RajaArshad56

  • خودار قوم  تحریر  : راجہ حشام صادق

    خودار قوم تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں وہی قومیں اپنی منزل تک پہنچی ہیں جنہوں نے پوری خلوص نیت سے جدوجہد کی ہے ان قوموں کا مقدر کامیابی بنی ایسی قومیں جن میں اتحاد تھا جنہوں نے قومی غیرت کا مظاہرہ کیا اپنے اصولوں پر گھٹی رہیں اور خوداری پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا ۔

    ہم بہت سی ایسی قوموں کی تاریخ پڑھتے ہیں اور مثال بھی دیتے ہیں جن قوموں نے اپنے سے زیادہ طاقتور دشمن کا مقابلہ کیا ان پر پابندیاں بھی لگیں انہوں نے پابندیوں کا سامنا بھی کیا لیکن وہ ایک قوم بن کر چٹان کی ماند ڈٹے رہے ایسی قوموں میں ایک ترک قوم بھی ہے جنہوں نے بہت مشکل حالات کا ایک قوم بن کر سامنا کیا مختلف پابندیوں کے باوجود وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔

    اس قوم کی یکجہتی ، اتحاد کو کوئی ختم نہ کر سکا آج وہی ترک قوم دنیا کے سامنے ایک عظیم قوم بن کر ابھر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم آج تک وہ قوم نہ بن سکے جس کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح نے جدوجہد کی اور ایک الگ ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس ریاست کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا۔

    کہتے ہیں جب منزل سامنے ہو تو اس کے حصول کے لئے یکجہتی ، اتحاد اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس دنیا کے کسی بھی معاشرے کے اندر تبدیلی لانے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ قربانیاں بھی دینی پڑھتی ہیں اور یہ قربانی پوری قوم دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہم سمجھتے ہیں انفرادی طور پر ہم اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہیں۔ بھلا ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ اپنے حصے کی شمع روشن کیئے بغیر کیسے ممکن ہے کہ کسی قوم کی تقدیر بدلی جا سکے۔ ہونا تو یوں چاہیے کہ سب سے پہلے ہمیں ایک دیانتدار قوم بننا چاہیئے شاید اس کے لیے ہم تیار نہیں۔

    ہم سب کو خوداحتسابی کے عمل سے گزرنا ہے اپنی سمت کو درست کرنا ہے ایک شخص اگر خود کو بدلتا ہے تو اس کے بعد اس کا خاندان بدلتا ہے۔ گلی محلے کے لوگوں میں یہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے اس طرح یہ پورے معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد بن جاتی ہے۔مگر ہماری قوم اس سے بےخبر بغیر جدوجہد کے خود کو بدلے بغیر اگر معاشرے کے اندر تبدیلی کے منتظر ہیں تو پھر تو اللہ ہی حافظ ہے یہ تو جہالت اور خود کو دھوکا دینے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

    عزیز ہم وطنوں ہمیں قومی غیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا چند برس کی مشکلات ہیں اس کے بعد آسانی ہو گی ہم ایک عظیم قوم بن کر اس دنیا کے سامنے آئیں گے خود سے عہد کرنا ہوگا کہ سب سے پہلے اپنے اندر مثبت تبدیلی لانی ہے اس تبدیلی کے بعد شخصیت سے متاثر ہو کر لوگ خود کو بدلیں ایک دن پورے معاشرے میں تبدیلی نظر آئے گی۔ان شاء اللہ

    یاد رکھیں منزل جتنی حسین ہوتی ہے اس کا راستہ اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ منزل کے حصول کے لئے قربانیاں دینی پڑیں تو گریز نہ کریں گے ہم تاریخ نے ہمیشہ حق کے راستے پر چل کر مشکلات سے ٹکرانے والوں کو یاد رکھتی ہے۔ جس دن خوداحتسابی کا عمل ہمارے اندر شروع ہو جائے گا تو پھر ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

    اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • اخلاقیات اور معاشرہ  تحریر: فاروق زمان

    اخلاقیات اور معاشرہ تحریر: فاروق زمان

    اخلاقیات انسان کی عادات واطوار کے معیار کا نام ہے۔ وہ سلوک اور طرز عمل جو معاشرے میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ اخلاقیات کسی بھی معاشرے کا حسن ہے، ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلامی معاشرت رکھتا ہے، اسلام میں اخلاقیات کو بہت اہمیت حاصل ہے، اخلاقیات اور تعلیمات، اسلام کے دو بنیادی ستون ہیں۔ قرآن و حدیث میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اخلاقیات کا درس قرآن کریم کی بنیادی تعلیمات ہیں۔
    نبی کریم ص نے اپنے آپ کو اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ اور اخلاقیات کی تکمیل کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "میرے نزدیک تم میں سے محبوب شخص وہ ہے، جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔” (بخآری)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "بے شک مومن کے اعمال میں سے سب سے وزنی چیز حسن اخلاق ہے۔”
    اپنے اخلاق کو بہتر بنانا ہم سب کا فرض ہے۔ ہم جو بھی علم حاصل کرتے ہیں اس کا بنیادی مقصد اخلاق سیکھنا اور ان کو بہتر بنانا ہے۔ قرآن و سنت اور دنیاوی تعلیم سے اخلاق سیکھ کر معاشرے میں ہم ان کا پرچار کرتے ہیں۔
    احسان، ایثار، حسن معاملات، عاجزی و انکساری، کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، محبت و احترام کے ساتھ پیش آنا، عزت و تکریم دینا، تمیز و تہذیب کے ساتھ گفتگو کرنا، مہربانی کرنا، سچ بولنا، ایمانداری اور دیانتداری کو اپنا وصف بنانا، عملی برداشت کا مظاہرہ کرنا، یہ سب اخلاقیات ہے۔ بے شک حسن اخلاق کے زریعے ہی انسان دلوں کو تسخیر کر سکتا ہے۔ اخلاقیات کی وجہ سے ہی انسان اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق ہے۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کا معاشرہ محض جانوروں کا گروہ ہے۔ جب تک انسان میں اخلاقیات زندہ رہتی ہے، وہ انسان رہتا ہے، اس میں اچھائی کا مادہ باقی رہتا ہے، جب اس کے اخلاق تباہ ہوتے ہیں تو وہ درندہ بن جاتا ہے، اخلاق کے خاتمے سے برائی اور بے حیائ جنم لیتی ہے۔ معاشرہ بدحالی کا شکار ہو کر انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہتا اور انسانیت نت نئے مسائل سے دوچار رہتی ہے۔

    انسان کو چاہیے کہ بہتر اخلاق کو اپنائے اور اخلاقیات کو زندہ رکھے۔ انسان کہلانے کا اصل حقدار وہی ہے جو خود کو، اپنی عقل کو، اپنے تمام معاملات کو حسن اخلاق کے تابع کرے۔ منفی رویوں اور جذبات سے خود کو دور کر لے ان کا مثبت جواب دے، اگر کوئی برا سلوک روا رکھے تو اپنا اخلاق تباہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کو مثبت توانائی سے جواب دینا چاہیے اور اخلاق سے قاءیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ بہتر سلوک کر کے اچھیء مثال قائم کرنی چاہیے۔ اس کی دیکھا دیکھی معاشرے کے دوسرے فرد بھی حسن اخلاق کے قاءیل ہوں گے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ، کوئی تمہیں گالی دے تو تم اسے دعا دو۔ اس کے کے برے عمل کا اچھے عمل سے جواب دو، یہ یقیناً اس پر اثر انگیز ہو گا۔ اور اس کے سدھار کاء سبب بنے گا۔
    اخلاقیات معاشرے میں رہنے والے کسی بھی شخص کی انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی زندگی میں اہمیت کی حامل ہے۔اچھے اخلاق کا حامل شخص زاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میںر کامیاب ہوتا ہے، پسند کیا جاتا ہے۔ عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ بلا شبہ بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہی انسانیت ہے اور قابلء ستائش ہے۔ انسان کی زندگی کے روزمرہ کے بہت سے معاملات اچھے اخلاق کو اپنانے سے بہتر ہے ہو سکتے ہیں، اور زندگی میں سکون آ سکتا ہے۔

    آج کے دور میں لوگ بہت شدت پسند مزاج کے کے حامل ہیں۔ لوگوں کے اخلاق تباہ ہو چکے ہیں، اخلاقیات عنقا ہو گئی ہے جھوٹ، لالچ، بد دیانتی، مفاد پرستی، گالم گلوچ، لڑائی جھگڑا، قتل و غارتگری ، کینہ و حسد، بغض، تکبر خود غرضی، رشوت و سفارش، ملاوٹ، کرپشن و بدعنوانی، غرض یہ کہ ہم من حیث القوم اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اسے معاشرے میں رہتے ہوئے ہم کیسے مہزب کہلا سکتے ہیں، کیسے اخلاقیات کا درس دے سکتے ہیں۔ ہمیں اس اخلاقی انحطاط سے نکلنا ہو گا۔ ایسے میں عملی اخلاقیات کی بہت ضرورت و اہمیت ہے۔ ہمیں اچھے اخلاق اپنا کر ان کا پرچار کرنا ہو گا، خود کو بہتر اخلاق سے پیراستہ کر کے اخلاق کا درس عام کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق اور حسن سلوک سے ہی بہتر معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے۔

    @FarooqZPTI

  • سی پیک گوادر پاکستان کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ؟   تحریر :زاہد كبدانی

    سی پیک گوادر پاکستان کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ؟ تحریر :زاہد كبدانی

    چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) ملک کے لئے ایک اہم سنگ میل کے طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ یہ تفویض چین میں گوادر کی بندرگاہ کے راستے بحیرہ عرب میں شامل ہوگی۔ سی پیک اس وقت باسٹھ ارب کی مالیت کا ہے اور پورے ملک میں اس کو تیار کیا جارہا ہے ، جس میں تیز رفتار بس کی پیش کش اور موٹر ویز شامل ہیں۔
    سی پیک پاکستان کے لیے ایک گیم چینجر ہے پاکستان کی ملٹی نیشنل کمپنیاں بڑے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کریں گی۔ پاکستان کی معاشی حالت اچھی ہوگی ۔کارخانوں کو فروغ ملے گا جس سے یہ ہوگا کہ لوگوں کو روزگار ملے گا
    بجلی کی پیداوار زیادہ ہوگی جس سے ہر پاور پلانٹ لگیں گے اور ڈیمز بنے گے جس سے وہ وہ علاقے جہاں بجلی نہیں ہے ان علاقوں میں بجلی مہیا کی جائے گی ۔
    جس ملک میں بجلی کی پیداوار اچھی ہوتی ہے وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔
    پاکستان معاشی لحاظ سے طاقتور ہو جائے گا گوادر پورٹ پر نقل و حمل آسانی سے۔ ہوا کرے کی زراعت کو فروغ ملے گا 25 ملین ٹن کے حساب سے پاکستان ایکسپورٹ کر پائے گا
    پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ، بلوچستان ماضی میں دہشت گردی کے حملوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لیکن اب ، وہاں کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور صوبہ سماجی و اقتصادی ترقی کے مراحل میں ہے۔ اس صوبے کے عوام نے ایک ایسی حکومت منتخب کی ہے جو سی پیک کی مدد سے اس علاقے کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ گوادر کی بندرگاہ تجارت کا مرکز بن جائے گی اور جو لوگ کم تعلیم یافتہ ہیں ان کو بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمت ملے گی۔
    گوادر میں ایک میگا آئل سٹی بنایا جارہا ہے جو خلیجی ممالک سے درآمد شدہ تیل ذخیرہ کرنے اور اسے چین منتقل کرنے کے لئے استعمال ہوگا۔ مغربی روٹ کے مقابلے ، جس میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگتا ہے ، اس نئے راستے کو چین کو تیل پہنچانے میں صرف ایک ہفتہ لگے گا۔ اس کے علاوہ خواتین کو بھی ملک کی ترقی میں حصہ لینے کا موقع ملے گا اور ان کے خواب پورے ہوں گے۔ تھر کے عوام کے لئے یہ تبدیلی پہلے ہی نظر آرہی ہے ، جہاں تھر کول پاور پروجیکٹ میں بہت سی خواتین کو ملازمت دی گئی ہے۔

    اس سے پہلے تھر پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ علاقہ تھا اور اگرچہ ابھی ابھی بہت کام کرنا باقی ہے لیکن چین کے تعاون سے اب وہاں لوگوں کی زندگیاں بحال ہو رہی ہیں۔ مالیاتی بحران کے تاریک بادلوں نے ملکی معیشت کو ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور پاکستانی روپے کی قدر دن بدن گرتی جارہی ہے۔ ایسی مشکل صورتحال میں چین نے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کا ہاتھ تھام لیا ہے تاکہ ملک اپنے دونوں پاؤں پر کھڑا ہوسکے۔
    بلاشبہ ، خوشحالی کے ساتھ ساتھ خطے میں گیم چینجر کی حیثیت سے بھی ثابت ہوگا۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور اب ، دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ چینی حکومت کے بیلٹ اور روڈ اقدامات کے سبب پاکستان علاقائی معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا کھلاڑی بن گیا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف ٹریڈنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کی آمدنی ہوگی بلکہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، سائنس اینڈ ٹکنالوجی ، بجلی کی پیداوار ، نقل و حمل ، ریلوے ، زراعت ، سیاحت اور بہت سارے دیگر وسائل کے ذریعے ہزاروں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ عہدیداروں کے مطابق ، پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے ملک بھر میں خصوصی معاشی زون کی تعمیر ، سی پی ای سی کے ایک بڑے منصوبے میں سے ایک ہے۔ سی پی ای سی کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد ، بہت سے دوسرے ممالک نے بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی معاشی زونوں کی تعمیر کا کام زوروں پر ہے ، اس زون کی تکمیل سے پورے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ سی پی ای سی کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد ، بہت سے دوسرے ممالک نے بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی معاشی زونوں کی تعمیر کا کام زوروں پر ہے ، اس زون کی تکمیل سے پورے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ دریں اثنا ، سی پی ای سی اتھارٹی کے چیئرمین جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزیر اعظم کا جنوبی بلوچستان کی ترقی کا خواب حقیقت بنتا جارہا ہے۔ جنوبی بلوچستان میں ، سی پی ای سی کے تحت سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی جارہی ہے۔ عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ باسیما خضدار ہائی وے پر 60 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ ہوشاب آواران روڈ پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ شاہراہوں کی تعمیر سے شمال سے گوادر تک رسائی آسان ہوگی۔ سفر کو آسان اور تیز تر بنانے کے لئے ، پشاور سے کراچی تک ایم ایل ون لائن کی توسیع اور تعمیر نو کا آغاز ہو رہا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ اس قلت کو دور کرنے کے لئے توانائی میں 22 میں سے 9 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اگلے مرحلے میں صنعت و زراعت ، سماجی اور معاشی شعبوں کی ترقی اور گوادر نیو سٹی پر بھی کام کیا جائے گا۔ سی پی ای سی مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات پانا ممکن بنائے گا۔ سی پی ای سی کا ہر پروجیکٹ لوگوں کی بڑی تعداد میں ذرائع آمدنی سے وابستہ ہے۔ سی پی ای سی کی تکمیل کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس میگا پروجیکٹ کے ذریعے پاکستان کو اقتصادی راہداری کا درجہ حاصل ہوگا.

    @Z_Kubdani