Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریاستِ مدینہ تحریر: سلمان الیاس

    ریاستِ مدینہ تحریر: سلمان الیاس

    ‏ریاستِ مدینہ وہ اسلامی فلاحی ریاست تھی جو ٭حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭کی قائدانہ صلاحیتوں کا ایک نمونہ تھا ۔جنہیں بنانے اور قائم رکھنے میں بہت سے "اصحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین "نے اپنی جانیں قربان کی تھی۔

    اور ایک ایسا ریاست قائم کیا تھا ۔جو اسلام کا ایک قلعہ تھا جہاں کے حکمران اور رعایہ اللہ سے ڈرنے والے تھے
    جہاں انصاف ہر امیر غریب مسلم غیر مسلم کے لئے یکسا تھا۔ہر کسی کو مذہبی آذادی تھی مظلوم کے لئے ایک مضبوط پنا گاہ تھی ۔ظالم کے لئے ایک دھشت کی علامت تھی ۔جہاں انسان تو کیا جانور پر بھی کوئی ظلم نہیں کرسکتا تھا

    ریاست مدینہ کے لوگ والدین کے نافرمان نہیں تھے
    وہاں والدین کی فرمانبرداری کروانے کے لئے اسمبلی میں قانون نہیں بنتی تھی
    وہاں کوئی شیلٹر ہومز نہیں تھے بلکہ ہر کوئی والدین کی خدمت کرنا سعادت سمجھتے تھے
    وہاں بہنوں کو اپنے حقوق لینے کے لئے عدالتوں اور تھانوں کے چکر نہیں لگانے پڑھتے بلکہ خود مل جاتے تھے
    وہاں بیوی کو معلوم تھا کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر ہوتا
    اور خاوند اپنی بیوی سے اچھے اخلاق اور نرمی کا برتاؤ کرتا اور اپنی وسعت کے مطابق اسے وہ اشیاء پیش کرتا جو اس کے لئے محبت اور الفت کا باعث ہوتا

    وہاں بیوہ اور یتیم کا حق نہیں مارا جاتا
    کاروبار میں دھوکا اور فراڈ روکنے کے لئے وہاں کسی محکمہ کی ضرورت نہیں تھی بلکہ لوگ خود اللہ سے ڈرنے والے تھے
    کسی کا پڑوسی بھوکا نہیں سوتا تھا کیونکہ پڑوسیوں کے حقوق وہ لوگ جانتے تھے

    بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت مظلوم کا ساتھ اور ظالم کا ہاتھ روکنا ان کا دستور تھا

    وہاں انسانی حقوق کے لئے کوئی تنظیم نہیں تھی پھر بھی ہر انسان کو اپنا حق پورا ملتا تھا

    وہاں پر سیاسی اختلاف پر کسی بے گناہ کو قتل نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ انکو معلوم تھا ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے
    معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں سوچنا بھی وہ لوگ گناہ سمجھتے تھے کرنا تو دور

    انکے اخلاق ایسے تھے جو زیادہ تر غیر مسلم انکے اخلاق کی وجہ سے مسلمان ہوجاتے تھے ۔کیونکہ انکو معلوم تھا حقوق اللہ تو اللہ چاھے معاف بھی کردے پر حقوق العباد کی کوئی معافی نہیں جب تک وہ انسان معاف نہ کرے
    وہاں پر مولوی صاحبان ممبر رسول سے فرقہ واریت کو ہوا نہیں دیتے تھے بلکہ لوگوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد بیان کرتے تھے
    وہاں کوئی فرقہ نہیں تھا بس صرف مسلمان تھے

    وہاں علماء کرام کی عزت کی جاتی تھی کیونکہ علماء عملی تھے۔لوگ انکی عمل سے سیکھتے تھے

    ان لوگوں کے پاس ہماری طرح سہولیات نہیں تھے موبائیل ٹیلی فون انٹرنیٹ وغیرہ
    لیکن پھر بھی اپنوں سے با خبر رہتے تھے
    اور
    سب سے بڑی بات وہ لوگ پڑھنا لکھنا کم جانتے تھے مگر جاہل نہیں تھے

    ایسے اور بھی بہت سی باتییں ہے پر لکھنا مشکل ہے

    اب ہم لوگوں میں سے کتنے ہے جو ان سب باتوں پر پورے اترتے ہے کیونکہ جب سے پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانے کی بات کی ہے ۔جہاں بھی پاکستان میں کچھ غلط ہوتا ہے
    لوگ اسکی ویڈیو یا تصویر سوشل میڈیا پر ڈال کر ساتھ لکھتے ہے یہ ہے ریاستِ مدینہ اور اچھے کام کرنے پر ایسا نہیں کرتے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ لوگ انجانے میں یا جان بھوجھ کر ریاستِ مدینہ کا مذاق کیوں اڑا رہے ہے یہ ایک انتہائی افسوسناک عمل ہے

    اب حکومت کا نعرہ سیاسی تھا یا حقیقی اس بحث میں نہیں جاتا
    لیکن پاکستانی قوم کا کیا کردار ہے ریاستِ مدینہ میں جو کہ صرف حکومت کا کام تو نہیں ہے سب سے بڑی ذمہ داری اور بڑا کردار اس میں ہمارا ہی ہے
    اپنے گریبان میں جھانک کر سوچئے گا ضرور۔۔!

    پہلے خود کو بدلے ارگرد سب کچھ خود بخود بدل جائیگی
    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال اپنی حالت کے بدلنے کا

    🌷خوش رھے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے🌷

    ٹویٹر
    ‎@Salmanjani12

  • سندھ لاک ڈاون۔ تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    سندھ لاک ڈاون۔ تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    جب سے کووڈ آیا ہے اس وقت سے مسلسل سندھ گورنمنٹ اپنی من مانی کر رہی ہے۔
    ایک طرف سندھ گورنمنٹ پیپلزپارٹی کا نعرہ ہے روٹی کپڑا اور مکان تو دوسری طرف وہ خود ہی اپنے نعرے کی نفی کرتی نظر آرھی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں کووڈ کے شروع دنوں میں ہی اسمارٹ لاک ڈاون متعارف کروایا تھا، جس کو پوری دنیا میں سراہا گیا۔ اور نہ صرف سراہا گیا بلکہ ساتھ ہی اس کو کئی اور ملکوں نے اپنے اپنے ملک میں نافذ بھی کیا۔
    کووڈ کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت خراب ھوئی اور کئی ملک تو بہت ہی زیادہ قرضدار ھو گئے۔ پر الحمدللہ پاکستان کی معیشت بڑھی وجہ صرف اور صرف اسمارٹ لاک ڈاون تھی۔
    وزیراعظم عمران خان نے شروع سے پالیسی رکھی کے مکمل لاک ڈاون نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان میں غریب دھاڑی دار طبقہ زیادہ ہے اور وزیراعظم کا کہنا تھا کے مکمل لاک ڈاون کی وجہ سے غریب بھوک سے ہی مر جائے گا۔ اس لیے پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاون کیا گیا۔

    https://twitter.com/alwaystalat/status/1422357964241899520?s=19

    لیکن سندھ گورنمنٹ شروع سے ہی پی ٹی آئی گورنمنٹ کے خلاف بضد سندھ میں مکمل لاک ڈاون کرتی رھی۔ جس کی وجہ سے آج کراچی کی عوام تڑپ اٹھی۔ آآل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس کے موقع پر فیضان راوت اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور تقریر کے دوران ہی آبدیدہ ھو گئے۔انکا کہنا تھا کے ھم گاڑی بیچ چکے ھم گھر بیچ چکے اب اور کیا بیچیں بتاو۔کیا اب ھم خود کو بیچ دیں۔روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں سے سوال کرتے ھوئے فیضان صاحب نے پوچھا۔

    اگر ابھی بھٹو زندہ ہوتا یا بینظیر زندہ ہوتی تو کیا وہ یہ سب کرنے دیتی۔۔۔ نہیں نہ کیونکہ پیپلز پارٹی جس کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان تھا وہ اب زندہ نہیں اس لیے سندھ حکومت اپنی من مانی کر رہی ہے۔
    جو غریب رکشہ چلا کے یا ریڑھی لگا کے ہر روز اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتا ہے اس پر کیا گزرتی ہو گی۔
    لیکن ان سب باتوں کے باوجود سندھ حکومت اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔

    @alwaystalat

  • ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات   تحریر: محمد بلال

    ‏انسان کی عظمت سے متعلق قرآنی تعلیمات تحریر: محمد بلال

    قرآن انسانوں کی عظمت پر بہت زور دیتا ہے چاہے ان کی جنس یا نسل ہو یا حیثیت۔قرآن پاک میں فرمانِ مبارکہ ہے کہ: ”ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے، انہیں خشکی اور سمندر میں نقل و حمل کی سہولت دی ہے، انہیں اچھی اور پاک چیزوں کی فراہمی کے لیے دی ہے، اور ان کو ہماری تخلیق کے ایک بڑے حصے کے اوپر خاص احسانات سے نوازا ہے۔” (قرآن 17:70) وقار حقوق اور فرائض پر مشتمل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان ایک خالق کے ذریعہ برابر بنائے گئے ہیں، اور کوئی بھی اپنی پیدائش یا خاندان یا قبیلے کی بنیاد پر دوسرے سے برتر نہیں ہے۔ یہ صرف الہی ہے جو صرف یہ فیصلہ کرنے والا ہے کہ دوسرے کے وقار کو قبول کرتے ہوئے اس کی باوقار حیثیت پر کس نے عمل کیا۔وقار کا یہ بھی مطلب ہے کہ انسان کو زندگی کا حق ہے، مذہب کی آزادی کا حق، طرز زندگی کی آزادی کا حق، مزدوری کا حق، تحفظ کا حق اور خاندان کا حق محفوظ ہے.قرآن پاک میں اس چیز کی ممانعت کی گئی ہے کہ لوگ دوسروں کو ان کے رنگ، جنس یا مذہب کی وجہ سے ان حقوق سے محروم رکھیں۔ قرآن پاک ایک پر دوسرے کو ترجیح نہیں دیتا۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ صرف مسلمان یا جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ عزت یا حقوق کے مستحق ہیں جو وقار سے وابستہ ہیں۔ یہ ایک وسیع اصطلاح میں بات کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو ان کے وقار سے انکار کرے جو خدا کا دیا ہوا حق ہے۔کچھ عرصہ پہلے، دنیا کو اس قرآنی پیغام کی صداقت کو سمجھنے میں دشواری تھی۔ لوگوں کو ان کی نسل یا جنس یا حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا اور مذہبی اسکالر اور سیاسی ماہرین ان امتیازی سلوک کا جواز فراہم کر رہے تھے۔وقار کے اس انکار کا ایک کلاسک معاملہ ہندوستان میں پایا جا سکتا ہے جہاں مذہبی صحیفے کے مطابق لوگوں کے ایک گروہ کو ایک خاص سماجی گروہ میں ان کی پیدائش کی وجہ سے کم ذات یا اچھوت کے طور پر درجہ بندی کیا گیا تھا۔اگرچہ، بھارت نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے کہ اس کے آئین میں اور قانونی طور پر اس طرح کا امتیازی سلوک قابل سزا ہے، پھر بھی یہ ملک میں بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ آج دنیا میں کوئی بھی نسل، مذہب، جنس وغیرہ کی بنیاد پر علیحدگی اور امتیازی سلوک کی دلیل نہیں دے سکتا۔دنیا نے انسانیت کے وقار کے قرآنی پیغام کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ پیغام آج کے دور جدید میں پہلے سے کہیں زیادہ ذیرِبحث ہے، قطع نظر اس کے کہ مسلمان اس پر عمل کریں یا نہ کریں کیونکہ یہ یقینی طور پر تمام عقیدے کے لوگوں کو سب کے انسانی وقار کے دفاع میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ تیسرا قرآنی پیغام جو بڑے پیمانے پر انسانیت سے متعلق ہے، اس کا قدرتی وسائل کی آفاقی پر زور ہے۔ زمین، سمندر، آسمان کا پانی اور ہوا سب کے فائدے کے لیے ہیں۔ کوئی بھی ان کے خصوصی استعمال کے لیے ان کی اجارہ داری نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ان وسائل تک ان کی رسائی کو دوسروں کو دیے گئے حقوق سے انکار کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔اس طرح قرآن کہتا ہے، ”وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے” (قرآن 2:29) مندجہ بالا مختصر مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں بطور مسلمان ہر انسان کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا چاہیے
    ‎@Bilal_1947

  • ارشد ندیم پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے

    ارشد ندیم پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے

    ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو مقابلوں کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

    باغی ٹی وی : پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے کوالیفائنگ مقابلے میں اپنی شاندار پرفارمنس سے قوم کے دل جیت لیے پاکستانی جیولین تھرور کی اولمپکس میں شاندار کارکردگی کا ہر کوئی معترف دکھائی دے رہا ہے۔

    یہاں تک کہ ہیش ٹیگ ارشد ندیم ٹوئٹر پر ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ٹاپ ٹرینڈ پر ہے جبکہ پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر دوسرے نمبر پر ارشد ندیم کا کھیل ’جویلین تھرو‘ ٹرینڈ کررہا ہے جس میں لوگ ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی پر انہیں مبارکباد دے رہے ہی اور فائنل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں-

    ٹوکیواولمپکس:پاکستان کے ارشد ندیم فائنل راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب

    سوشل میڈیا پر ارشد ندیم کی بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا کے ہمراہ سر جوڑے ایشن گیمز 2018 کی ایک تصویر بھی زیر گردش ہے گروپ اے میں شامل بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا 86 اعشاریہ چھ پانچ کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہیں جبکہ ارشد ندیم 85 اعشاریہ ایک چھ کی تھرو کے ساتھ گروپ بی میں پہلی پوزیشن پر ہیں۔


    https://twitter.com/LukakuBackToCFC/status/1422741092655583236?s=20

    ٹوکیواولمپکس :ارشد ندیم نےعمدہ کارکردگی سے پاکستانیوں کا سرفخر سے بلند کر دیا…

  • طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی

    طلاق کی اصل وجہ اور نقصان تحریر:واجد علی

    ‏پرانے زمانے میں طلاق کی شرح کم اور آج کل روز بروز بڑھتی جارہی ھے تو کوٸی بیوی کو بد زبان، بد اخلاق، نافرمان، کہتا ھے، لیکن یہ ایسا ہر گز نہیں ھے اس کی ایک وجہ بیوی کےحقوق اور دوسری وجہ بچوں کے مرضی کے بغیر شادی کرنا، آج کل تعلیم بہت عام ہو چکی ہے ہر عورت تعلیم یافتہ اور باشعور ہے ہر عورت اپنےحقوق جانتی ہے، لیکن بہت سے مرد ایسے ھے جو بیوی کے حقوق سے نا واقف ہیں، وہ بیوی کو اسکا حق تو دے نہیں سکتے لیکن بیوی کی توجہ چاہتا ہیں اوربیوی سے نوکرانیوں کی طرح خدمت کرواتے ہیں ، لیکن عورت اپنے حق پر ڈٹی رہتی ھے، مرد کو توجہ نہیں دیتی، تو یہ مرد کی انا کا مسلہ بن جاتا ھے اور مرد جزبات میں آکے ایسا فیصلہ کرتا ھے. جزبات کے فیصلوں کے نتاٸج بہت سنگین ہوتے ھیں، بات دشمنی تک بھی جا سکتی ھے، اور دشمنی میں دو خاندانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ھے۔ اگر مرد ایسے فیصلے کرنے سے پہلے جزبات سے نہیں صبر سے کام لے اور بیوی کو اپنا حق وقت پر دیا جاۓ تو بہت نقصان سے بچ سکتے ہیں ۔طلاق کا نقصان صرف عورت کو نہیں بلکہ مرد کو اور بچوں کو بھی ہوتا ہے۔عورت کو طلاق کے بعد یا تو بدکردار کہہ دیا جاتا ہے یا معاشرے میں اس کی رسواٸی ہوتی ہےلیکن مرد کے لٸے یہ خاندانی دشمنی کا جواز بھی ہو سکتی ہے اور بچوں کی تربیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔کیونکہ بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے بچوں کی تربیت ماں کے گود میں ہوتی ہےاور صرف والدین ہی ھیں جو بچوں کو اچھی تربیت دے سکتے ھیں ایسے فیصلوں سے بچوں کا مستقبل بھی برباد ہوتا ھے۔ بہت سے لوگ کہتے ھیں یہ کاغذی رشتہ ہے ایسا رشتہ ٹوٹ بھی سکتا ھے۔ نکاح سنت ھے (حدیث مفہوم ھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری سنت سے منہ موڑے اس کا مجھ سے کوٸی تعلق نہیں اس کے حوالے سے فیصلے جذبات میں نہیں بلکہ حوصلے اور تحمل سے کرو ۔بیوی کو سمجھو کہ وہ کیا چاہتی ہے، بیوی کو پیار اور عزت دو۔ عورت صرف عزت اور پیار کی بھوکی ہوتی ہے اور کسی چیز کی بھی نہیں ۔بیوی کبھی بھی شوہر کا نقصان نہیں چاہتی۔
    ایسے لوگ بھی ہیں جن کی طلاق کی وجہ دوسری شادی ہوتی ہے تو کہتے ہیں اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ھے۔ بےشک اسلام میں چار بیویوں کی اجازت ہے لیکن اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ پہلی والی کو طلاق دو ۔یہ شرط بھی نہیں ہے کہ دوسری شادی یا تیسری شادی کسی کنواری لڑکی سے کرو۔ چار کی اجازت ھے لیکن اس میں طلاق یافتہ عورتیں، بیوہ عورتیں ،عمر میں بڑی یا چھوٹی عورتیں سے شادی کرنے کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ان کو انکی زندگی گزارنے میں جو بنیادی ضرورتیں درکار ہیں فراہم ہو سکیں۔شرط یہ بھی ہےکہ سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہٸیے۔ میرا اس تحریر کا صرف یہ مقصد ہے کہ یہ فلمی اور ڈراماٸی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی کی طرف آٶ ۔ایک چھوٹی سی بات کو اپنی انا کا مسلہ مت بناٶ۔اپنے جزبات پر قابو رکھ کر فیصلے کرو۔
    اپنا اور اپنے بچوں کےمستقبل کے بارے میں سوچوں۔ والدین کو چاہٸیے کہ رشتہ طے ہونے سے پہلے اپنے اولاد کی رضامندی پوچھیں۔ زندگی بہت قیمتی ہے اس کو ایسے فیصلوں سے برباد مت کرو۔اپنے رشتے مضبوط کرو۔ اپنے رشتوں کو کمزورہونے سےبچاٶ ۔اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارو کسی تیسرے کے باتوں پرکان مت دھروں،کیونکہ اگر بیوی کو اسکاحق ملے تو وہ شوہر کو ،اپنے بچوں کو اور گھر کو توجہ دے گی ۔اگر بیوی گھر کے کسی فرد جیسے ساس، دیور، نند سے بد زبانی کرے یا نافرمانی کرے تو فیصلے کرنے سے پہلے دونوں کی طرف سے دلاٸل سن لو اور خود کو اور اپنی نسل کو نقصان سے بچاٶ۔ اللہ ہم سب کو ایسے نقصانات سے بچاۓ ۔آمین
    @Munn_wajji (rtwitter)

  • کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    معاشرتی ومعاشی ترقی میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے. میڈیا ہمارے معاشرے کی آواز ہے. اور یہ ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے. میڈیا ابلاغ کا ایک موڈ ہے, اس نے خواتین کو بااختیار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے. اسکے علاوہ کوویڈ 19 کے بارے میں اور کیسوں کی تعداد سے لے کر ویکسین تک ہر تفصیل کے بارے میں ہمیں آگاہ کررہا ہے.

    حالات سے باخبر رہنا کسی بھی انسان کی بنیادی خواہش ہوسکتی ہے. آج میڈیا کی ترقی دیکھ کر جہاں خوشی ہوتی ہے وہیں افسوس بھی ہوتا ہے کیونکہ کچھ میڈیا چینلز نے سب سے پہلے کی دوڑ میں اصل صحافتی اقدار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے. میرے خیال میں میڈیا حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے اچھے کاموں کے اقدامات سے بھی عوام کو آگاہ رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. کیونکہ صحافی برادری معاشرے کا اہم طبقہ ہے. صحافی حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں.

    سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحافی ہر عام و خاص کی آ واز ہیں اور اپنے قلم سے عوامی مسائل کو اجاگر کرکے ان کے مسائل کے حل کے لئے راہ ہموار کرکے ایک بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں اور اسی کردار کی وجہ سے انہیں معاشرے میں ایک منفرد حیثیت حاصل ہے. میڈیا خاص کر ٹیلی ویژن جو معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اسکے لئے مختلف پروگرام نشر کرتا ہے پر مجھے لگتا ہے کسی حد تک معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کررہا ہے کیونکہ میڈیا کا کردار کسی ملک کو سنوارنے یا بگاڑ میں اہم ہوتا ہے.

    مثال کے طور پر گھر میں داخل ہونے کے بعد اکثر لوگ پہلا کام یہ کرتے ہیں ٹی وی آن کرتے ہیں. اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں میڈیا نے ہر انسان کو باخبر بنا دیا ہے کیونکہ عام انسان بے شک وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو ٹی وی پر خبریں سن لیتا ہے.

    ایک چیز کی داد تو بنتی ہے کہ پاکستانی میڈیا نے حساس سیاسی اور باقی معاملات پر نہایت ذمے داری سے رپوٹنگ کی ہے. چاہے وہ طاقت ور طبقے کی کرپشن ہو یا انسانی حقوق کی بحث یا کہیں بے ضابطگیاں ہو یا 27 فروری بھارت کا ڈرامہ. انکو بے نقاب کیا ہے. ان میں سرفہرست نام مبشر لقمان کا آ تا ہے جو بنا کسی خوف کے, بنا کسی لالچ کے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں. ان کا مشہور ٹی وی پروگرام کھرا سچ ہر خاص وعام کا پسندیدہ پروگرام ہے. کئی چہرے اس پروگرام کے ذریعے انھوں نے بے نقاب بھی کئے. اور سچائی پر مبنی حقائق عوام کے سامنے لائے. کئی بار جب وہ سٹوری کرتے ہیں تو ان پر دباؤ بھی آتا ہے کہ ہمارے خلاف رپورٹنگ کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ ،مبشر لقمان کا پروگرام کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ ہے جس میں ہر بات کھری ملتی ہے

    مگر مبشر لقمان کھل کر نہ صرف تنقید کرتے ہیں بلکہ جہاں اچھا ہورہا ہو اسکو اجاگر بھی کرتے ہیں. انھوں نے معاشرے کے بہت سارے جرائم کو بےنقاب بھی کیا ہے. مبشر لقمان ہی ہیں جس نے دلیری سے اس بات کا پہلی دفعہ میڈیا پر انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے مرکزی لیڈر بھارتی شہری ہیں. مبشر لقمان ہی تھے جس نے بھارت کی طرف سے تین پاکستانی شہریوں پر لگنے والے جھوٹے دہشتگردی کے الزام کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے لاہور کی مارکیٹوں میں ایک پروگرام کیا جس کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی تھی. اسی طرح نجم سیٹھی کے ماضی کی جھلک پہلی دفعہ میڈیا پر مبشر لقمان کے پروگرام میں ہی نشر ہوئی تھی.

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا میڈیا مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے اقدامات سے بھی عوام کو باخبر رکھے . ذاتی مفادات کو سائیڈ رکھ کے ملک اور ملک کی سلامتی کے لئے کام کرے تو یقیناً معاشرے میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گئیں.

  • پاکستانی  سرکاری ملازم  کی میم 84 لاکھ میں نیلام

    پاکستانی سرکاری ملازم کی میم 84 لاکھ میں نیلام

    "فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثر” انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والے ان کئی مزاحیہ میمز میں سے ایک ہے جو پاکستانیوں نے بنائے، لیکن یہ پہلی میم ہے جو آن لائن 84 لاکھ روپوں میں نیلام ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : 2015 میں گوجرانوالہ کے ایک سرکاری ملازم محمد آصف رضا نے فیس بک پر ایک تصویر شئیر کر کے اپنے دوست کے ساتھ چھوٹا سا مذاق کیا، جس میں انہوں نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کا دوست مدثر اب خود غرض ہوگیا ہے اور وہ اس سے اپنی دوستی توڑ رہے ہیں اور کسی اورکو اپنا بیسٹ فرینڈ بنا رہے ہیں۔

    غیر ملکی صحافیوں کی پاکستان آنے کی پابندی ،”سب سے بڑی جمہوریت“ بھارت کا نام نہاد دعوٰی ایک بار پھر…

    اس میم کو سوشل میڈیا پر فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثرکا نام دیا گیااس میم کے مشہور ہونے کے بعد جہاں مدثر سے ان کی دوستی بحال ہوئی وہیں انٹرنیٹ پر انھیں عالمی شہرت حاصل ہوئی۔

    یہ معمولی سا مذاق اتنا وائرل ہوا کہ اس پر 47 ہزار لوگوں نے ری ایکٹ کیا، 56 ہزار لوگوں نے اسے شیئر کیا اور فیس بک پر 27 ہزار لوگوں نے اس پوسٹ پر تبصرے کئے-

    تاہم اب 6 سال بعد آصف نے اسے فاؤنڈیشن نامی این ایف ٹی پلیٹ فارم پر نیلامی کے لیے پیش کیا، جسے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی کمپنی میکینزم کیپیٹل کے شریک بانی اینڈریو کینگ نے 20 ایتھر میں خریدا ہےایتھر کی موجودہ ویلیو کے تحت پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 84 لاکھ روپے اور52 ہزار امریکی ڈالربنتی ہے۔

    یا د رہے کہ این ایف ٹی نامی نان فنجیبل ٹوکن ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی مزاحیہ میم، تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے-

    غیر ملکی سیاح بھی پاکستان اور پاک فوج کے مداح نکلے

  • اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    اسلام آباد دریا جیسا: کیسے؟ تحریر:صوفیہ صدیقی

    پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہلے بھی ساون کی بارشوں میں بھگتا تھا، یہاں چھوٹے موٹے سیلاب تقریبا ہر سال ہی آتے ہیں۔ لیکن یہ سال تھوڑا مختلف ہے۔ اس سال اسلام آباد کے نشیبی اور ریہہ علاقوں میں نہیں بلکہ سیلابی پانی، شہر کے نئے بننے والے سیکٹرز میں آرہا ہے۔ اوپر سے غصب یہ کہ گزشتہ دس دونوں میں یہ دوسری بار ہوا ہے کہ اسلام آباد کا ایک نجی تعمیراتی سیکٹر ای گیارہ اور فیڈرل گورنمنٹ ھاوسئنگ سوسائٹی اور سی ڈی اے کے زیر انتظام بننے والا سیکٹر ڈی بارہ، میں سیلابی ریلہ آیا ہے۔ جس سے قیمتی جانوں اور لوگوں کے اثاثوں کو شدید پہنچا ہے۔

    مون سون کی بارشوں سے بہتا شہر اقتدار، یقینا بنانے والوں نے ایسا نہیں بنایا ہو گا نہ سوچا ہوگا۔ یہ شہر میں گزشتہ کئی سالوں سے اکثر بارش کی لپیٹ میں آتا ہے لیکن اس بار شاید انتظامیہ کی غفلت زیادہ ہے ۔

    ای 11 اور ڈی 12 کے علاقوں سے آج سوشل میڈیا کے ذریعے بے شمار ایسی ویڈیوز دیکھنے کو ملیں جو بتا رہی تھی کہ یہ اسلام آباد بہیں بلکہ کوئی بہتا ہوا دریا ہے۔
    سیلاب کا پانی بہہ رہا ہے اور گاڑیوں کو اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے۔ ایسے لگتا ہے اگر اس شہر کا ایسے ہی رکھا جاتا رہا تو کہیں کوئی نیا دریا یہاں ہی نہ بن جائیں۔ ویسے انگریزی زبان میں شہری علاقوں میں آنے والے ایسے سیلابوں کے لیے” اربن فلڈنگ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

    راولپنڈی کے رہنے والے اس سیلابی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ جبکہ اسلام آباد کے باسیوں کے لیے یہ ایک نئی نئی زحمت ہے۔ اور یقینا اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
    ان کتابی باتوں میں ایک نظر ڈالتے ہیں جو شہر اقتدار میں بڑھنے کے ساتھ ساتھ نظر انداز کی جارہی ہیں۔

    گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ، سیلاب خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ نقصان دہ خطرہ ہے ، جو کہ بارشوں کے ساتھ قدرتی توانائیوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 1950 سے 2010 19 بڑے سیلابوں نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے ۔
    ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ، اس عرصے میں قریب 8،887 اموات کی اطلاع ہے۔ جبکہ حالیہ کچھ برسوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ملک کے بہت سے شہروں میں شہری سیلاب ایک عام واقعہ بن گیا ہے۔ صرف یہ ہیں نہیں کہا جاتا ہے کہ 2010 کے میگا سیلاب نے تقریبا 20 ملین افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا۔ اس سیلاب سے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ، زراعت اور ماحولیاتی نظام اورزمین کی پیداواری صلاحیت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    2010 کے بعد تقریباً ہر سال سیلاب کا ایک بڑا واقعہ م پیش آیا ، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
    اب شہری سیلابوں میں دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے سب سے بڑے شہری مراکز خصوصا کراچی اور لاہور بار بار شہری سیلاب کا شکار ہو رہےہیں۔ اور اب یہ دائرہ پاکستان کے دارالحکومت تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ان شہری سیلابوں کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان کو موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بہت ذیادہ وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن شاید ہماری حکومتیں اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یا انھیں لوگوں کی جان و مال اور املاک کی فکر نہیں ہے۔

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

    اربن فلڈنگ کے وجوہات میں سب سے موسمیاتی تبدیلی ہے لیکن پاکستان میں فلڈ مینجمنٹ اور دیگر اداروں کی اس معاملے پر نظر پوشی بھی اسے بڑھا رہی ہے۔

    پاکستان میں شہری سیلاب کا سبب بننے والی کچھ کلیدی وجوہات یہ ہیں:
    شہری سیلاب کی صورت میں کم وقت میں پانی کا زیادہ بہاؤ اور بارش شامل ہے۔ اسے سائنس زبان میں ہائیڈرو سسٹم کہا جاتا ہے۔
    بڑے شہروں میں غیر منصوبہ بند مقامات زیادہ تر آبی گزرگاہوں اور قدرتی نکاسی آب کے ارد گرد تعمیر کیے جاتے ہیں جو کہ شہر ی سیلاب کی اہم ترین وجہ ہے۔ یعنی شہری انتظامیہ کو کچی آبادیوں کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے جو بیشتر نالوں کے کنارے پر بنائی جاتی ہیں۔
    کچی آبادیوں کی وجہ سے ، نالوں کو تجاوزات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ قدرتی نکاسی آب کے راستوں کو روکتا ہے۔
    اب تو انتہا وہ کوڑا کرکٹ ہے جو نکاسی آب والے نالوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے ۔
    بلدیہ کا ایک اہم کردار ہے جو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے ۔
    شہر کے اصل نقشے کو نظر انداز کرنا بھی شہری سیلاب میں اضافے کا سبب ہے۔
    آبادی میں اضافہ اور شہروں کا پھیلاؤ بھی دیکھنا ہوگا۔
    ان تمام وجوہات کے بعد اسلام آباد کو دریا بنانے والی انتظامیہ کی بات کرتے ہیں۔
    سی ڈی اے سمیت ہر بڑے ادارے کو جو اسلام آباد کی خوبصورتی کا کریڈٹ لیتے ہیں، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شہر میں بننے والی غیر سرکاری اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں کو کب تک لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے دیا جائے گا۔
    اربن فلڈنگ مینجمنٹ والے لوگوں کو کہاں استعمال کیا جائے گا؟
    غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کو کون دیکھے گا؟ سب سے آخر میں شہریوں کو اربن فلڈنگ کی صورت میں رسک مینجمنٹ کی تربیت کون دے گا؟.
    صرف یہ ہی نہیں عید الاضحی کے دن ہونے والی بارش ایک اشارہ تھی جس کے بعد نالوں کی صفائی انتظامیہ اور میونسپل کی ذمہ داری تھی۔جیسے نہیں دیکھا گیا۔
    اسلام آباد کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر میں ایسی تمام تعمیرات کا خاتمہ ہو جو کہ پانی کی گزر گاہوں پر تعمیر ہوئیں ہیں اور ان تمام افسران کی سرزنش ہو جو اس اہم معاملے میں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور شہر اقتدار کو دریا بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔۔کہیں یہ دریا ہم سب کو اپنے ساتھ بہا کے نا لے جائے۔
    ورنہ شہر دریا بن رہا ہے اور ہماری انتظامیہ آئندہ آنے والے سیلابوں سے بچنے کے لیے لوگوں کو لائف جیکٹ دے ہی رہی ہیں۔ یعنی دریا کے کنارے رہنے والوں کو اب تیراکی سیکھ لینی چاہیے

  • عبادت _ الہی کے تقاضے  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    عبادت _ الہی کے تقاضے تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان اللہ کریم کی بنائی ہوئی ایک اعلی تخلیق ہے.
    پھر اچھے برے کا شعور دیا. اللہ کریم نے خود قرآن مجید میں ارشاد فرمایا. کہ ہم نے انسان کو بڑی خوبصورت شکل میں پیدا کیا.
    پھر اسی انسان کو اللہ نے فرشتوں پر فضیلت عطا کی. انسان کو علم سکھایا اور فرشتوں سے سجدہ کروایا.
    یہ سب کیوں کیا گیا؟
    قرآن کریم میں اللہ کریم نے
    ارشاد فرمایا.
    اور میں نے جن اور انسان اسی لئے پیدا کیے ہیں کہ وہ میری عبادت کریں۔سورۃ الذاریات، آیت56.
    اگر رب کریم کی عطائیں اور نعمتیں شمار کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا وجود انگنت عجوبوں کو سمیٹ کر بنایا گیا ہے. منہ کہ اندر رکھی زبان کی ہی بات کی جائے تو گرم اور ٹھنڈک کا احساس لیے یہ زبان مختلف زائقوں کی الگ الگ پہچان رکھتی ہے. اگر حرکت کرے تو الفاظ کا تسلسل اسے دوسرے انسانوں سے گفتگو کا شرف بھی بخشتی ہے. جب پیٹ کی بھوک مٹانی ہو یہی زبان دانتوں کی مشینری میں گاہے بگاہے خوراک فیڈ کرتی اور اسے پیسنے میں مدد کرتی دکھائی دیتی ہے. حیرت کی بات ہے صرف ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اتنی صلاحیتوں سے بھرپور میرے رب کے عطا کیے ہوے کسی عجوبے سے کم نہیں. انسان کا ہر عضو اس طرح کے بے مثال عجوبوں کا مجموعہ ہے.
    اس سب کی شکر گزاری کے لیے اللہ رب العزت مختلف ادوار میں انبیاء کرام علیہم السلام کے زریعے مختلف تحائف _عبادت عطا کیے تو اس امت کو نماز جیسا تحفہ عطا فرمایا.
    ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحفہ کی اہمیت میں اور اضافہ فرمایا.
    جیسا کہ
    1. نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے.
    2. جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا
    3. مومن اور کافر میں فرق نماز کا چھوڑ دینا ہے
    4. نماز مومن کی معراج ہے.
    معراج ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں رب سے ملاقات کا شرف کا شرف انسان کو ملتا ہے. کیسی شان کریمی رب العالمین کی اور تربیت رسول ختم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اس تحفہ کا حق ادا کر کے دکھایا لا جواب ہے. جس سر کو اونچا رکھنے کے لیے انسان زمانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھتا ہے رب کریم کے سامنے زمین پر رکھ کہ اسکی بڑائی بیان کرتا ہے. یہ حسن عبادت یقیناً اللہ کی شکر گزاری کے لیے دئیے کسی تحفے سے کم نہیں.
    معراج کو معراج کے درجے تک لیجانا انسان کا کام ہے. کم از کم یہ احساس ضرور دل میں ہو کہ رب کریم کے سامنے کھڑا ہوں. دنیا کے صاحب کے سامنے اچھے کپڑوں اعلی جوتے نایاب خوشبو کا استعمال کرنے والے اس رب کریم جو کہ اس صاحب کا بھی رب ہے جو اس بھی رزق اور عزت دیتا ہے کے سامنے جاتے وقت کم از کم اسی طرح کا اہتمام کیا کریں. بارگاہ رب العالمین ہے مزاق تو نہیں. یہ احساس تو کم از کم ہو کہ میں دو جہان کے رب کے سامنے کھڑا ہوں. اس سے اعلی درجہ ہے اس چیز کا احساس کہ جس کے لیے فرشتوں کی صفیں رکوع و سجود میں مشغول وہ میری نماز کو بھی دیکھ رہا ہے. جیسے جیسے انسان رب کریم کے پاس ہوتا چلا جاتا ہے رب العالمین اس پر عنایتیں بڑھاتا چلا جاتا ہے.
    اس سے اعلیٰ مقام ہے انسان جو بول رہا ہو جس چیز کی گواہی زبان دے دل بھی اس کی شہادت دے رہا ہو. زبان بولے
    الحمد للہ رب العالمین تو دل رب العالمین کی اس رب ہونے کی شان کو پورے وثوق سے تسلیم کرتا دکھائی دے. دل اتنا موم ہو جاے جیسے روئی کا گالہ. روح رب کے سامنے اقرار بندگی کرنے لگے. جسم رب کی اس شان کے اقرار میں طائب نظر آے.
    سوچئے ابھی تو یہ احساس ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا اور سن رہا ہے. اور میرا جسم روح زبان دل سب اسی کی بندگی میں لگ گئے. بتائیں دنیا تو کہیں دور رہ گئ. یہ تب ہی ہوگا جب آپ پہلی منزل سر کریں گے کہ میں رب کے سامنے کھڑا ہوں. جس کے سامنے حشر میں کھڑا ہونا ہے. جس نے سارا کاشانہ_جہاں چلا رکھا ہے.
    اس سے آگے معراج کی کامل منزل شروع ہوتی ہے. جس میں یہ احساس ہوتا ہے. میں رب سے ملاقات میں ہوں میرے منہ سے الفاظ نکلتے ہی رب العالمین کے سامنے عاجزی پیش کر رہے ہیں. فاصلے بلکل ختم. بات آمنے سامنے تک آ پہنچی. احساس کی انتہا ہے. بندہ رب العالمین سے محو گفتگو سامنے حاضر ہے عبادت کا عالم کہ دنیا چھوڑ آیا کہیں دور اس کے خیالات ختم بس وہ اور رب العالمین کے سامنے عاجز جسم عاجز روح تعبیدار دل لیے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کی سدا بلند کرتے جھک جاتا ہے. تو دل گواہی دے پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا. سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہْ پکارتا ہے. دل تلملا اٹھے میرے اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی. زبان اور دل کا یہ تال میل دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ سکون روح کو مہیا کر جاتا ہے. پھر جب دنیا کی ساری عزتیں سٹیٹس رتبے بھول کر سر رب کے سامنے لا رکھتا ہے اور اپنے رب کو پکارتے ہوے کہتا ہے. سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی پاک ہے میرا رب جو بلند ترہے. تو دنیا اس کے سامنے زیر ہو جاتی اور ہر جگہ ایک کی ہستی کا ساتھ دکھتا ہے. پھر جب دل اس پر شہادت کی ضرب ثبت کرتا ہے تو روح اپنی حقیقی مٹھاس کو حاصل کرتی بندے کو اپنا من ہلکا لگنے لگتا ہے. پھر تشہد میں رب سے مکالمے کا سلسلہ اس کے نکھار کو بڑھاتا چلا جاتا ہے. دل میں کیے اعمال کی ندامت آنکھوں سے بہتا آئندہ فرمانبرداری کا عزم. رب العالمین کے سامنے اسی کو کل عالم کا مختار سچے دل سے ثابت کرنے کے بعد جب تشہد میں انسان اب رب کے سامنے بخشش مانگتا ہے. میرا رب بڑا کریم ہے بخشش بھی دیتا ہے پھر سے آنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور یہ احساس بھی کہ تو جس کے سامنے بیٹھ گیا ہو نا مراد نہیں لوٹاتا. بہتر نہ ہو بہتر کر کے دیتا ہے. بہنو بھائیو عبادت _ الہی کا تقاضہ سمجھیے اپنی عبادت کو کامل بنائیے. اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے بٹھا کر معراج کرائی یہ وہی احساس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی آنکھوں سے ظاہری بدن سے معراج کرایا گیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نبوت ہے. امت کو وہی مکالمہ تحفہ میں دیا گیا جو معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں رب العالمین جلالہ اور رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا. عبادت کے تقاضوں کو سمجھیے. عبادت کو کامل بنائیے. رب العالمین سے تعلق ایسا بنائیے کہ کل بروز قیامت جب ملاقات ہو رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں تو شوق دیدار سے آنکھ چھلکے. آج اس رب العالمین کی دید ہو گی جسکے سامنے ہونے کا احساس لیے رکوع و سجود سے روح کو سکون دیتے رہے.

    @EngrMuddsairH

  • نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    نکاح کو آسان کرو تحریر: سحر عارف

    اللّٰہ پاک کی سب سے خوبصورت تخلیق انسان ہے اور اللّٰہ نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ اللّٰہ کی عبادت تو چرند پرند، درخت، پھول، جانور نیز کائنات کی ہر شے کرتی ہے پر اللّٰہ کو سب سے محبوب انسانوں کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ پاک اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ ہمارے بار بار غلطی کرنے پر وہ ہمیں فوراً سے سزا نہیں دے دیتا بلکہ ہمارے ایک بار توبہ کرنے پر ہمیں معاف فرما دیتا ہے۔

    اللّٰہ کی ہم سے محبت کی انتہا ہے کہ اس ذات نے جہاں دیکھا کہ میرا بندہ گناہ کرسکتا ہے وہیں اس کے لیے کچھ ایسے طور طریقے اور رشتے بنا دیے تاکہ وہ گناہ سے بچ سکے اور نکاح اسی کی ایک مثال ہے۔

    جیسے انسان کی بہت سی دیگر فطری ضروریات ہوتی ہیں اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک ضرورت ہے۔ نکاح وہ خوبصورت رشتہ ہے جو مرد اور عورت کو جائز طریقے سے ایک کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کے لیے حلال کردیتا ہے۔ نکاح کو اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "نکاح کرنا میری سنت ہے”۔
    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
    ” جو کوئی نکاح کرتا ہے تو وہ آدھا دین مکمل کرلیتا ہے اور باقی آدھے دین میں اللّٰہ سے ڈرتا رہے”۔

    یعنی ہمارا دین خود نکاح جیسے پاک رشتے پر زور دیتا ہے کہ وہ شخص جو خانہ داری کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نکاح کر لے۔ لیکن آج کے دور میں نکاح کو کچھ اور ہی طریقے سے لیا جاتا ہے۔ نکاح کے نام پر لڑکی کے گھر والوں سے جہیز لینا اب ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ یعنی اب ماں باپ اپنی بیٹی بھی دیں اور ساتھ جہیز جیسی لعنت بھی۔ جہیز کے نام پر لڑکے کو گاڑی بھی چاہیے اور اپنے گھر کے لیے فرنیچر بھی، فریج سے لے کر برتنوں تک ہر چیز لی جاتی ہے۔

    بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی، جہیز کے علاؤہ کچھ اور فضول قسم کی رسمیں بھی ڈالی جاتی ہیں جیسا کہ لڑکے کی ماں اور بہنوں کو سونے کی بنی بالیاں یا انگوٹھیاں دینا۔ ایسے ہی سب کے دیکھا دیکھی ان رسموں کو مزید سے مزید فروغ ملتا چلا جارہا ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔ دوسرا ان سب باتوں کی وجہ سے آج کل نکاح بھی مشکل ہورہے ہیں۔ نکاح کرنا اب ایک غریب کے لیے کوئی آسان کام نہیں رہا۔

    اسی لیے ایک ایسا قانون بننا چاہیے جس میں جہیز لینے اور دینے پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے اور جہیز لینے والے کو سزا بھی ملنی چاہیے تاکہ نکاح کو آسان بنایا جاسکے۔ اس سب کے علاؤہ بحیثیت انسان ہمیں بھی اپنا کچھ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد اپنے معاشرے کو جہیز جیسی لعنت سے پاک کرسکیں۔

    @SeharSulehri