Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وقت  تحریر:حسیب احمد

    وقت تحریر:حسیب احمد

    وقت وہ چیز ہے جو کبھی ایک جیسا نہیں رہتا ہے اور نا ہی واپس آتا ہے گزرا ہوا وقت۔ ہم لوگوں کو قدر کرنی وقت کی۔ کیوں کہ وقت اور عزت ایسی چیز ہے اگر وہ جائے تو واپس آنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔
    جب ایک شاگرد کے پڑھنے کا وقت ہوتا ہے تو وہ نہیں پڑھتا اور اگئے چل کر وہی وقت اس کو ایسی ٹھوکر مرتا ہے کہ وہ شخص سوچتا ہے کاش اس نے وقت کی قدر کی ہوتی

    وقت واقعات کا مسلسل تسلسل ہے جو بظاہر ماضی سے لے کر حال تک ، مستقبل کے ذریعے ناقابل واپسی واردات میں ہوتا ہے۔ ایک شخص اس دنیا میں ایک ایسے وقت کے اندر رہتا ہے جس کا اظہار اسی معاملے میں ہوتا ہے ، دس سال پہلے تک آپ ویسے نہیں تھے جیسا کہ آپ آج ہیں ، نہ آپ کی شکل میں ، نہ آپ کے علم میں ، نہ آپ کے تجربات میں ، آپ کے ارد گرد کی ہر چیز بدل جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس مضمون میں ، ہم انسانی زندگی میں اس وقت کی اہمیت کے بارے میں بات کریں گے۔

    جو چیز ہم وقت پر نہیں کرتے اور کہتے ہیں اگئے چل کر کریں گے تو اس چیز کے بہت زیادہ برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ہماری زندگیوں میں۔ لحاظ وقت بادشاہ ہوتا ہے اس سے کام لینا سیکھیں نا کہ اس کو ضیاع کرنا۔

    مثال لے لیں اگر کسی شخص کے ساتھ حادثہ پیش آتا ہے تو ہم اس کو اگر وقت پر اسپتال منتقل نہیں کرتے تو وہ شخص اپنی زندگی ہار جاتا ہے اور وقت پر اس کو نا لانے والے بھی عمر بھر پچھتاوے کا سامنا کرتے ہیں اپنی نظروں میں گر جاتے ہیں۔

    اس طرح اگر ہم اس لاک ڈاؤن کی صورت میں ہم جو گھر بیٹھے ہوئے ہیں تو ہم لوگوں کو اس چیز کا فائدہ اٹھانا چاہیے کہ ہم کچھ نا کچھ نیا کریں اس لاک ڈاؤن میں فارغ بیٹھے سے اچھا ہے۔

    ہمیں اللہ کی طرف سے دیئے ہوئے اس وقت کی قدر کرنی چاہئے اور اس استعمال کرنا سیکھیں ناکہ ضیاع کرنا۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اگر آج ہم وقت کی پابندی نہیں کریں تو اگئے چل کر وقت ہماری قدر نہیں کرے گا۔

    اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور ہمیں وقت ضائع کرنے سے پہلے سوچ سمجھ دے تاکہ ہم ایسا نا کریں !!

    اس لیے بڑے کہتے ہیں "گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ” (وقت)

    "وقت تو ایسا ہی ہوتا ہے صاحب”
    "ایک بار جائے تو اپنا محتاج بنادیتا ہے”

    لحاظ وقت کی قدر کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی تلقین کریں کہ وہ اپنا وقت ضائع نا کریں اور کسی کام میں اپنے کو استعمال کرنے کی کوشش کریں کیوں وقت کی قیمت نہیں ہوتی آپ وقت نہیں خرید سکتے وقت انمول ہے جو زندگی میں کبھی لوٹ کر نہیں آنا۔

    ہم لوگ فضول کی چیزوں میں وقت ضائع کرتے ہیں اور حقیقی چیز کے وقت نہیں ہوتا اور جب وقت چلا جاتا ہے تو پھر احساس ہوتا ہے کاش اس وقت یہ کام کیا ہوتا ہم نے۔

    لحاظ وقت کا جانے نا دیں اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی آسان بنائیں اور اپنی زندگیوں میں وقت جیسی نعمت کا لطف اٹھائیں کیوں زندگی اور وقت دونوں ایک بار ہی ملتے ہیں زندگی ہو وقت پر جینا سیکھیں کیوں کہ جب وقت نہیں ہوگا تو یہ لطف نہیں ملے گا۔ اللہ پاک ہمیں وقت کی قدر کرنے کی ہدایت دے اور لوگوں ضائع کرنے سے پہلے سوچ سمجھ دے کہ وہ اس نعمت سے محروم نا ہوں ۔

    قدر کرنا سیکھیں وقت کی یہ واپس نہیں آنا دوبارہ یہ قیمتی ہے اور صرف ایک بار ملتا ہے

    @JaanbazHaseeb

  • زبردستی کے منصف   تحریر : شاہ زیب

    زبردستی کے منصف تحریر : شاہ زیب

    آج ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہر کوئی منصف بنا ہوا ہے۔
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے جسے آپ یہ میں جھٹلا نہیں سکتے۔
    جیسے کہ ابھی آپ نے اس آرٹیکل کا موضوع پڑھ کر ہی سوچ لیا ہوگا کہ یہ ایسا ہو گا یا ویسا ہوگا۔
    بلکل اسی طرح ہم دن رات دوسرے انسانوں کے بارے میں بھی راۓ قائم کر لیتے ہیں اور نہ صرف راۓ قائم کرتے ہیں بلکہ اس کو حتمی جان کر اس شخص یا اس چیز کے بارے میں فیصلہ بھی کر لیتے ہیں۔
    کسی سیاستدان کا کوئی بیان آیا تو ہم نے اس کے بارے میں فیصلہ صادر کر دیا کہ یہ تو ہے ہی برا/ کرپٹ/چور
    دنیا میں کوئی بھی واقعہ پیش آۓ چاہے وہ موسمی تبدیلی ہو
    کوئی عالمی وبا ہو
    کوئی حادثہ ہو
    ہم نے اس کے اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ ضرور دینا ہوتا ہے۔
    ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم سب ہی اپنی ذات میں منصف ہیں۔ کوئی کم ہوسکتا ہے ، کوئی زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے انکار آپ نہیں کر سکتے۔
    صبح جاگنے سے لے کر رات کو سونے تک، ہم اپنا زیادہ تر وقت اپنے اسی مشغلے میں صرف کر دیتے ہیں۔
    ہمیں اپنے سے زیادہ دوسرے کی فکر ہوتی ہے کہ اس نے یہ کام غلط کیا۔
    وہ چیز خراب کی
    وہ یہ کام اس طرح سے کرتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔
    صرف کام ہی نہیں ہم تو انسان کے بارے میں بھی یہ کرتے ہیں کہ
    یہ انسان اچھے مزاج کا ہے۔
    وہ بدمزاج ہے ۔
    فلاں تو بہت اکھڑ مزاج ہے۔
    فلاں نہایت اچھا اور نرم مزاج ہے۔
    بطور معاشرہ ہمارا رویہ ایسا ہوگیا ہے کہ ہم ہر وقت اسی کام اور اسی مشغلے میں مگن رہتے ہیں۔
    اُس نے یہ ٹھیک کیا
    ِاس نے یہ غلط کیا۔
    وہ اچھا ہے
    یہ برا ہے۔
    وہ ہونا چاہیے تھا
    یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
    یہاں تک کہ جن لوگوں کو ہم ذاتی طور پر جانتے بھی نہیں ہیں ان کے متعلق بھی راۓ قائم کر کے ان کے بارے میں فیصلہ کرلیتے ہیں۔
    اور یہ فیصلہ عموماً بظاہر دیکھ کراچھا یا برا کیا جاتا ہے۔
    اب آپ سوچیں گے کہ اس میں کیا غلط ہے؟
    مسلہ یہ نہیں کہ ہم یہ سوچتے ہیں بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم سچائی جانے بغیر یہ سب کرتے ہیں اور پھر اس ڈٹ جاتے ہیں
    نہ صرف خود، بلکہ دوسروں پر بھی اپنا یہ فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    بے شک ﷲ پاک نے انسان کو دماغ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے
    لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم زبردستی کے منصف بن جائیں اور کسی کے بارے میں پوری طرح جانے بغیر اس کے بارے میں اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ کر دیں۔
    اس طرح زبردستی کے منصف بن کر، دوسروں کے بارے میں فیصلے کر کے ہم نہ صرف ان لوگوں کی بلکہ اپنی زندگی بھی مشکل بنا رہے ہیں۔
    کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ سامنے والا انسان ابھی کن مشکل حالات سے گزر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ اتنا تلخ مزاج ہوگیا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کوئی کتنے دکھ سہہ کر بھی مسکرا رہا ہے۔
    اس لیے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی بھی آسان بنائیں۔
    دوسروں کے بارے فیصلہ صادر کرنے میں جلد بازی نہ کریں۔ جب تک آپ اس کے متعلق سب جان نہ لیں.
    سب ہی ایک جیسے اچھے یا برے نہیں ہوسکتے۔
    کیونکہ رب العزت نے سب کو الگ شکل، مزاج، سمجھ، دماغ کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
    بہتر ہے کہ دوسروں کو بھی انسان ہونے کا مارجن دیں اور بلاوجہ جج بن کر راۓ قائم کرنے سے گریز کریں۔
    اس سے نہ صرف آپ کی بلکہ آپ کے ارد گرد رہنے والوں کی زندگی بھی پرسکون ہو گی۔

  • اداسی کا علاج  تحریر: حُسنِ قدرت

    اداسی کا علاج تحریر: حُسنِ قدرت

    اداسی کی سب سے بڑی وجہ ہماری توقعات کے الٹ نتائج کا آنا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو انسان بہت زیادہ غصہ کرتا اور پھر آہستہ آہستہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور وہی مایوسی ڈپریشن سمیت متعدد ذہنی بیماریوں کی طرف لے جاتی ہے
    اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ اداسی کا شکار نہ ہوں یا آپ اداسی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ آپ بے غرض ہو جائیں جو کام کریں بےلوث ہو کر کریں جو انسان بغیر کسی لالچ کے کچھ کرتا ہے تو وہ زندگی سے بہت کچھ وصول کرتا ہے یعنی اگر آپ اداسی سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ اس بات کو اپنا نصب العین بنالیں کہ
    میں بغیر کسی ذاتی مفاد کے مخلوقِ خدا کی خدمت کروں گا یا کروں گی”
    روانہ سوچیں کہ آج میں اداس ہوں لیکن مجھے دوسروں کی خوشی کا سبب ضرور بننا ہے میری اداسی یا پریشانی اللہ تعالیٰ دور کرے گا اگر آپ صرف یہی سوچ کر کچھ کریں تو بہت سارے لوگ آپکی وجہ سے خوش ہوں گے اور پھول تقسیم کرنے والوں کے ہاتھ تو ویسے ہی خوشبو سے بھرے رہتے ہیں
    اپنے ملازمین سے انکا حال احوال دریافت کریں ،انکے کام کی نوعیت پوچھیں انکی تعریف کریں اپنے گھر کے لوگوں کا خیال رکھیں اور انہیں خوشی دیں جب آپ بےلوث ہوکر یہ سب کچھ اللّٰہ تعالیٰ کی خاطر کریں گے تو وہ غیب سے آپکی طرف خوشیوں کے تحفے بھیجے گا
    کچھ بھی ایسا نہ کریں جس سے آپکا ضمیر آپ کو روک رہا ہو
    اگر آپ اداس ہیں پریشان ہیں تو بستر پہ جاکر سونے سے پہلے یہ سوچیں کہ کل آپ کس کس کو خوش کریں گے یہ اداسی سے نجات کی طرف بہت بڑا قدم ثابت ہوگا تب عین ممکن ہے کہ آپ اپنے آپ سے یہ کہیں کہ میں تو اداس ہوں میں کیسے کسی کو خوش کر سکتی ہوں/کرسکتا ہوں لیکن اس خیال کو جھٹک دیں اور یہ سوچیں کہ کوئی تو آپکی وجہ سے خوش ہوگا اپنی امی کے لیے آپ کچھ چاکلیٹس لاسکتے ہیں چھوٹے بہن بھائیوں کو کوئی چھوٹے موٹے گفٹس دے سکتے ہیں آپ انکی کسی اسائنمنٹ یا ریسرچ ورک میں مدد کر سکتے ہیں اور چھوٹی موٹی خوشیوں کو باقاعدہ انجوائے بھی کر سکتے ہیں بہن بھائیوں کو بغیر کسی وجہ کے ٹریٹ بھی دے سکتے ہیں دوستوں کو لنچ پہ بلا سکتے ہیں اس سے آپ کو ڈھیروں خوبصورت لمحات ملیں گے اور آپ اپنی اداسی بالکل ہی بھول جائیں گے
    اپنے دوستوں اور کلاس فیلوز سے اچھے تعلقات رکھیں ایک اچھے انسان کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں سے خوش گوار تعلقات رکھتا ہے اپنے جیون ساتھی کے ساتھ مخلص ہوتا ہے اور پیار سے رشتے کو سینچتا ہے اور اسکے لیے یہ بہت ضروری ہے آپ خوشیاں بانٹنا سیکھیں اور خوشیاں دینا بھی جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ترجمہ:آپکا اچھا کام وہ ہے جس سے دوسرے کے چہرے پر آپکی وجہ سے خوشی اور مسکراہٹ آتی ہے
    یعنی کسی کو مسکرا کر سلام کرنا بھی اچھا کام ہے،کسی سے اسکا حال پوچھ لینا بھی اچھا کام ہے، کسی کی تیمارداری کرنا بھی اچھا کام ہے اس سے نہ صرف لوگ آپ سے محبت کریں گے بلکہ آپ کے نئے دوست بھی بن جائیں گے نیز پریشانی اور اداسی آپ سے دور بھاگے گی اگر آپ کسی راستے سے گزر رہے ہیں اور کسی کا بھلا کر سکتے ہیں کسی کے چہرے پہ مسکراہٹ لا سکتے ہیں تو یہ لازمی کریں کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ آپ اس راستے سے دوبارہ گزریں گے
    زندگی بانٹنے کا نام ہے آپ جب بے لوث ہوکر بانٹنا شروع کریں گے تو اداسی آپ سے کوسوں دور بھاگے گی

  • غربت پر قابو پانے کا حل تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    غربت پر قابو پانے کا حل تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    مختلف حکومت کے ذریعہ غربت میں کمی کے بارے میں پالیسیاں بناتی ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے ۔پاکستان میں امیر طبقہ تو خوشحالی سے زندگی بسر کر لیتا مگر غربت کا سامنا پاکستانی قوم کو کرنا پڑتا ہے

    اگر غربت پر تندہی سے دیکھ بھال اور اس پر اعتماد کے ساتھ کام نہ کیا گیا تو وہ ریاست کے پورے میکانزم کو کھا جائے گی فلاحی ریاست کے مضبوط ہونے کے لیے ناقص طبقے کی ترقی کے حوالے سے پالیسیاں چیک لسٹ میں سب سے اوپر ہونی چاہئیں جب ہم مستقل طور پر اپنی زوال پذیر معیشت کو اونچائیوں کی طرف گامزن کریں گے۔ بشرطیکہ ہم ایسی پالیسیاں تیار کریں جو نہ صرف متاثرہ مقامات کی فلاح و بہبود کو پیش کریں بلکہ ان کے نقطہ نظر کو بھی منتقل کریں ۔میں غربت کے خاتمے کے لئے درج ذیل اقدامات تجویز کرتا ہوں۔

    ١۔صنعتی تجارت کو فروغ دیں۔
    ٢۔پیداوار میں اضافے کے لیے نٸے روایتی زرعی سامان کو نئے سائنسی سازوسامان سے تبدیل کرنا۔.
    ٣۔انصاف اور مساوات کا قیام۔
    ٤۔وسائل کی مساوی تقسیم۔
    ٥۔میرٹ زندگی کے ہر شعبے میں ایک اعلی حکمت عملی ہونا چاہئے۔
    ٦۔امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ۔
    ٧۔افراط زر اور دیگر معاشی اشارے اور ریگولیٹرز کا کنٹرول۔.
    ٩۔سرمایہ کاری کے دوستانہ ماحول کی ترقی
    غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ امکانات اور مراعات دینا۔
    ١٠۔انتہا پسندی اور جاگیرداری کو ختم کرنا۔
    ١١۔لوگوں کو اچھی طرح سے ہنر مند بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ تکنیکی انسٹی ٹیوٹ کا قیام۔.
    ١٢۔تعلیم کا دائرہ۔
    ١٣۔ملازمت کے مواقع کی فراہمی۔
    ١٤۔کرایہ داروں میں زرعی اراضی کی تقسیم۔

    قیادت کو یہاں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مناسب منصوبہ بندی اور اچھی حکومتی پالیسیوں سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔. انہیں صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد کے یے مجاز اور دیوار سے تعلیم یافتہ معاشی ماہرین کی تقرری کریں اور ظاہر ہے کہ اس کے حل کے لئے ان کے اخلاص کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔.

    ایک ملک کی معیشت اس کے حل کے ساتھ اپنے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے جب اسے بچایا جاتا ہے تو بہت سارے مسائل خود بخود ہوجائیں گے۔. اس کے حل کے لئے تنہا قیادت ہی کافی نہیں ہے۔. مساوی حصہ کے ساتھ پاکستان کے عوام کو بھی ذمہ داری ملی ہے۔. لوگوں کو حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں اپنے ہی ملک کے ساتھ مخلص رہنا چاہئے اور غربت کے خاتمے کے لئے اپنی تمام تر کوشش کرنے چاہیے!!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر  : باچاخانزادہ

    تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر : باچاخانزادہ

    بچوں کی تربیت اس دور کا سب سے اہم چیلنج بن چکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تربیتِ اولاد ایک نہایت صبر آزما اور جاں گسل کام ہے مگر اس کے نتائج و ثمرات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ کام مشکل نہیں رہتا۔ بڑے مقاصد کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بچوں کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد اور دنیا و آخرت کا بہترین ذخیرہ بنانے سے بڑا مقصد اور کیا ہوسکتا ہے! سو اس لحاظ سے اس راہ کی مشقتیں پھر بھی کم ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی برحق ہے کہ نیک کام کے ہر مرحلے پر خدا کی مدد و نصرت شامل حال رہتی ہے جس سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ ذیل میں چند ایسے اصول لکھ رہے ہیں جو تربیت کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوں گے۔ تجربہ اس بات کا شاہد ہے۔
    اولا تو یہ ذہن میں رکھیں کہ بچے کی مثال ایک سادہ لوح کی ہے۔ وہ اپنے بڑوں کو دیکھ دیکھ کر اس لوح میں رنگ بھرتا ہے۔ جیسا معاملہ اور برتاؤ اس کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ اس کی زندگی کے ضابطے بنتے جاتے ہیں۔ اس لئے والدین کو خصوصاً بچوں کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    1- غلط کی حوصلہ شکنی
    عموماً بچے کبھی کبھار غلطیاں کردیتے ہیں۔ کبھی تو اوروں کی دیکھا دیکھی میں اور کبھی عدمِ توجہی کے باعث۔ بچہ کوئی غلطی کرے تو اس پر پیار سے باز پرس ضرور کرنی چاہیے، تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ غلطی دوبارہ نہیں کرنی ہے اور یہ کہ میرے سے سوال جواب کرنے والے لوگ موجود ہیں جو میرے ہر عمل کی نگرانی کر رتے ہیں۔ عام طور پر والدین محبت کے دھوکہ میں آکر ایسے مواقع یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیتے ہیں کہ "ابھی توبچہ ہے۔ بعد میں سیکھ جائے گا”۔ یاد رہے یہ ایک تباہ کن غلطی ہوتی ہے جو بچے کی تربیت میں بہت منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بعد میں کبھی نہیں سیکھا جاتا، بچپن کا سیکھا پچپن تک ساتھ چلتا ہے۔ پکڑ نہ کرنے کے باعث بچہ اپنی غلطی کی اصلاح کے بجائے اس پر جری ہوجاتا ہے۔ یوں غلطی در غلطی کی ایک لڑی بنتی چلی جاتی ہے۔

    2- اچھائی کی تعریف
    بچے عموماً پاک طینت اور صاف دل ہوتے ہیں۔ برائیوں کی طرح ان کی اچھائیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی اچھی بات کہیں، اچھا کام کریں تو تعریف ضرور کرنی چاہیے۔ اپنی وسعت کے بقدر حوصلہ افزائی بھی کریں تاکہ اسے معلوم ہو کہ اچھائیوں کی قدر کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ عمل انہیں مزید اچھائیوں کی شہہ دے گا۔ اس میں ایک بات کا دھیان رہنا چاہیے کہ تعریف اور حوصلہ افزائی کے ساتھ مزید اچھائیوں کی بھی ترغیب دی جائے۔ اسی ایک اچھائی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہیے۔

    3- ضد کبھی پوری نہ کریں
    بچے ضدی کیوں بنتے ہیں؟ کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ضد سے بات مانی جاتی ہے۔ جب آپ ان کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے تو وہ سمجھ بیٹھے گا کہ اپنی بات ایسے منوائی جاتی ہے۔ اس لیے بچہ جب کبھی ضد کرے دل پر پتھر رکھ کر اسے پورا کرنے سے باز رہیں۔ وہ روئے دھوئے جو کرے، آپ نے ہار نہیں ماننی۔ یہی بچے کے ساتھ خیر خواہی اور محبت کا تقاضا ہے۔ ایک مرتبہ ضد پوری نہ ہوگی تو پھر کبھی ضد پنے کی شکایت نہیں ہوگی۔

    4- ذمہ داری سونپیں
    عمر کے لحاظ سے بچوں کو ذمہ داریاں بھی سونپیں۔ چھوٹا ہے تو گھر میں کوئی گلاس اٹھوا دیں۔ اپنے کھلونے سمیٹنے کی ذمہ داری دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بچے میں احساس ذمہ داری پیدا ہوگی۔ وہ شروع سے ہی ایک ذمہ دار حیثیت سے پروان چڑھنا شروع ہوجایے گا۔ جن والدین کو اپنے بچوں کے بھولے پن اور سادگی کی شکایت رہتی ہے وہ یہ کام کر کے مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

    5- گپ شپ کریں، رائے لیں
    بچوں کے ساتھ میٹنگز رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ معمول کی نشستوں کے علاوہ خصوصی نشست رکھنے کا بھی اہتمام کریں جس کے لئے انہیں پہلے سے بتائیں کہ ایک خاص بات کرنی ہے۔ گفتگو سنجیدہ ہونی چاہیے جس میں بچوں کی رائے لی جائے۔ ان کی آراء پر مثبت تبصرے بھی ساتھ کریں۔ کہیں نقص ہو تو وہ بھی بتائیں۔ اس سے بچوں میں فیصلہ سازی کی قوت پیدا ہوگی۔ ان کا دماغ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔

    6- لکھوائیے
    ایک صاحب نے کہا میں نے اپنے بچوں کو بہترین تحریر نویسی سکھانے کے لئے یہ اصول اپنایا کہ جو معاملہ ہو میں ان سے لکھنے کا کہتا۔ یوں وہ لکھ لکھ کر بہترین لکھاری بن گئے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بھی گاہے بگاہے بچوں سے لکھوائیں۔ کہیں گھومنے گئے تو اس پر کچھ لکھوائیں۔ اسکول پر لکھوائیں۔ والدین، اساتذہ، بہن بھائی، پسند نا پسند، ڈھیر سارے موضوعات ہیں جن پر بچے بآسانی لکھ سکتے ہیں۔ لکھنا سیکھیں گے تو سمجھنا بھی سیکھیں گے۔ ایک لکھای قوم کا ترجمان ہوتا ہے۔ لکھنا بھی آنا چاہیے۔

    7- خود مثال بنیں
    بچوں کو جیسا بنانا چاہتے ہیں خود بھی ویسا بننے کی کوشش کریں۔ جو بات انہیں کہیں خود بھی عمل کریں۔ یاد رکھیں! خود عمل کیے بغیر صرف آرڈر جاری کرنا اپنی محنت ضائع کرنے والی بات ہے۔ بچے سنتے کم دیکھتے زیادہ ہیں۔ جیسا ماحول ویسا کردار ہوگا۔ انہیں جیسا دکھایا جائے گا ویسے ان کی شخصیت کی تعمیر ہوگی۔

    درج بالا چند اصول تربیت کے حوالے سے تجربات کا نچوڑ ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے بچے آپ کے لئے دنیا میں نیک نامی اور افتخار کا باعث بنیں گے۔ بچے والدین کی سب سے قیمتی دولت ہیں۔ ان کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دھیان رہے کہیں یہ دولت زندگی کی مصروفیات کی نذر ہو کر ضائع نہ ہو جائے۔ زندگی جتنی بھی مصروف ہو، بچوں کے لیے وقت ضرور نکالیں۔

    @bachakhanzada5

  • تربیت اور تعلیم میں فرق تحریر : اسامہ خان

    تربیت اور تعلیم میں فرق تحریر : اسامہ خان

    انسان کی تعلیم و تربیت کا عمل اس کے پیدا ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے انسان تعلیم اور تربیت کے لیے سکول و مدرسہ کی طرف رجوع کرتا ہے بچے کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جاتی ہے کہ اپنے بڑوں سے چھوٹو سے اور بزرگوں سے کیسے بات کرنی ہے یہ تربیت سب بچوں کو یکساں دی جاتی ہے کچھ بچے اس پر عمل کرتے ہیں اور کچھ نہیں جو بچے اس پر عمل نہیں کرتے ان کا عمل نہ کرنے کا بہت بڑا کردار اس بچے کے گھر کے مسائل اس کے والدین کا اس سے بات کرنے کے طریقے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آج انسان اگر 16 پڑھ لے اور اس میں اخلاق نہ ہو تو کسی کام کا نہیں ہے بے شک وہ جتنے بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہے۔ بڑی قسمتی سے ہمارے معاشرے میں بچوں کو تم کرکے بات کی جاتی ہے ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ آپ کو "آپ” کہہ کر پکارے۔ جو ہم اپنے بچوں کو بچپن میں سکھاتے ہیں اور ان کے ساتھ رویہ اختیار کرتے ہیں بچہ ہمیشہ وہی سیکھتا ہے اور بڑے ہو کر اسی تربیت پر چلتا ہے۔
    ہمارے معاشرے کی ایک اور بہت بڑی بدقسمتی ہے بڑے اگر غلط بھی ہو اور چھوٹا ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو اس کو بدتمیز کہا جاتا ہے۔ اور اگر بڑے بات کر رہے ہوں اور چھوٹا چپ کر کے بیٹھا رہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ تمہارے منہ میں زباں نہیں ہے جیسے، آج کے دور میں لوگ تربیت پتہ نہیں کس کو کہتے ہیں۔ اگر وہی کام وہ خود کرے تو وہ ٹھیک ہے اگر وہ چھوٹا کرے تو وہ غلط ہے،
    بچے اپنے والدین کا عکس ہوتے ہیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آپ سے عزت سے پیش ہیں آپ کا احترام کریں۔ تو آپ پر بھی لازم ہے کہ اپنے بچوں کا احترام کرے ان کی عزت کرے اور ان کے ساتھ ایسے پیش آئیں جیسے آپ اپنے ہم عمر کے لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ آج کے دور میں لوگ توقع کرتے ہیں کہ ہم چھوٹوں کو جو مرضی کہیں لیکن وہ ہماری عزت کریں۔ وہ آپ کے منہ پر آپ کی عزت تو ضرور کریں گے لیکن دل میں کبھی نہیں کریں گے۔ ایسی عزت کا کیا فائدہ جو دل سے ہی نہ کی گئی ہو والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایسے پیش آئے جیسے میں اپنے بڑوں کے ساتھ آتے ہیں۔ آپ کا بچہ آپ کا بینک ہے جس میں آپ اپنا اخلاق اپنی تربیت جمع کرواتے ہیں جو آج آپ جمع کروائیں گے کل کو وہی آپ کے سامنے آئے گا۔ بہت سے بچے اسی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتے کیونکہ ان کی تربیت ہی نہیں ہوئی ہوتی بچے سمجھتے ہیں کہ جیسے ہم گھر میں بات کرتے ہیں ویسے ہی باہر کی دنیا بھی چلتی ہے میری والدین سے اپیل ہے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں ان کو اچھا ماحول مہیا کرے تاکہ بچے قابل انسان بن سکے اور چار آدمی میں بیٹھ کر اپنے خاندان کا نام روشن کر سکے۔ آج غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے اور ہم بچوں کو کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارا نام خراب کر دیا حالانکہ کہیں نہ کہیں ہماری تربیت میں کھوتی ہوتی ہے۔ اور میں اپنی ہونہار نسل کو بھی کہوں گا تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت حاصل کریں اگر ہر بار غلطی آپ کی نہیں ہوتی تو ہر بار غلطی آپ کے والدین کی بھی نہیں ہوتی آپ کے والدین آپ کو پڑھاتے ہیں بڑا کرتے ہیں اور قابل انسان بناتے ہیں اور اگر آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت حاصل نہیں کرتے تو جاھل میں اور آپ نے کوئی فرق نہیں ہے

  • جاہلیت کے نعرے تحریر::واحید خان

    آج کل جاہلیت کا ایک نعرہ تو یہ ہے کہ ایک کہتا ہے کہ میں پٹھان ہوں، پشتون ہوں دوسرا کہتا ہے کہ میں پنجابی ہوں تیسرا کہتا ہے کہ میں سرائیکی ہوں چوتھا کہتا ہے کہ میں سندھی ہوں پانچواں کہتا ہے کہ میں بلوچی ہوں اپنے آپ کو پٹھان ، سندھی ، بلوچی وغیرہ کہنا کوئی بری بات نہیں لیکن اس کا یہ مطلب لینا کہ ہم سب گویا دوسروں سے جدا مخلوق ہیں ہماری شخصیت ہماری قوم علیحدہ ہونی چاہیے یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ یہود ہندو اور امریکہ کا پروپیگنڈا بے
    ہر ملک کے اندر قومیں ہوتی ہے امریکہ کتنی اقوام پر مشتمل ہے؟؟ کیا وہ ساری ایک ہی نسب والی ہیں امریکہ میں سارے وہ لوگ جمع ہوگئے ہیں۔جو ڈاکو ہوتے تھے یا قتل کرتے تھے۔وہاں گورے بھی ہیں کالے بھی ہے ہندوستان میں کتنی اقوام رہتی ہیں؟؟ لیکن دشمن بڑا چالاک ہے۔ یہود بڑے چالاک ہیں۔
    خلافت عثمانیہ کو بھی قومیت کے نعرے پر توڑا گیا۔اور مسلمانوں پر کبھی اسلام کا لیبل لگا کر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔
    آج کل اغیار حاص طور پر پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ پنجابی علیحدہ ہو جائے پشتون علیحدہ ہو جائے بلوچ علیحدہ ہو جائے اور سندھی علیحدہ ہو جائے اور پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ تاکہ پورے کے پورے پاکستان کے مسلمانوں کو ترنوالہ بنا کر ختم کیا جائے اس لیے انہوں نے دیکھ لیا کہ پاکستان کا مقابلہ کرنا مشکل اور ناممکن ہے۔ الحمدللہ پاکستان ایک مضبوط اور قوی ملک ہے انشاء اللہ اغیار اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا .آیت شریف کا مفہوم یہ ہے مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں (سورۃ الحجرات آیت نمبر 10 پارہ 26) اور حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے جس کونے میں بھی مسلمان رہتا ہے وہ ہمارے کلمے کا بھائی ہے
    حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ فوقیت صرف اور صرف تقوی کے بنیاد پر حاصل ہے
    لہذا آج کل جو قومیت کے نعرے لگایا جاتے ہے اصل میں یہ جاہلیت کے نعرے اور اغیار کا سازش ہیں ہمیں ان نعروں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
    Twitter Handle:: ‎@waheed859

  • اسلامی قوانین ضروری ہیں تحریر: یاسر خان بلوچ

    اسلامی قوانین ضروری ہیں تحریر: یاسر خان بلوچ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حالات جیسے ہیں ان سے آج کل بچہ بچہ واقف ہے بلکہ خوفزدہ ہے۔۔یہ ملک جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا جس کی بنیاد ہی لا الہ الا اللہ ہے آجکل اس میں ہر چیز نظر آتی ہے سوائے اسلامی اصول اور قوانین کے۔آج کل ملک میں جو انتشار اور قتل و غارت گری پھیلی ہوئی ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے۔۔بہت سے آزاد خیال لوگوں کو اس بات سے انکار ہو گا۔۔بہت سوں کو یہ بات قدامت پسندی نظر آئے گی مگر سچ یہی ہے کہ جب تک ہم اسلام اور اس کی تعلیمات سے روگردانی کرتے رہیں گے معاشرہ گراوٹ کا شکار رہے گا۔معاشرے کے اندر پھیلا یہ بگاڑ اور بدنظمی کبھی بھی سمیٹی نہیں جا سکتی جب تک اسلامی قوانین کو لاگو نہ کر دیا جائے۔بچے جنہیں اس باغِ جہاں کا پھول کہا جاتا ہے انہیں اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بری طرح روندا اور مسلا جا رہا ہے۔۔خواتین اب گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔۔کہیں شوہر کے ہاتھوں بیوی کا قتل ہو رہا ہے،کہیں بیوی کے ہاتھوں شوہر کا،کہیں اولاد ماں باپ کو قتل کر رہی ہے اور کہیں ماں باپ اولاد کی جان کے دشمن ہوئے کھڑے ہیں۔یہ اس ملک کے حالات تو نہیں ہونے چاہئیے تھے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور جس کی تعمیر کیلیے کئی خاندانوں نے اپنے خون سے آبیاری کی۔ایسے لگتا ہے جیسے قیامت وقوع پذیر ہونے کو ہے۔۔ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔۔ایسے لگتا ہے جیسے ہر انسان دوسرے انسان کے خون کا پیاسا ہے۔۔ایسے لگتا ہے جیسے ہر احساس ختم ہو کر رہ گیا ہے۔۔اب لوگ کسی مظلوم کی داد رسی نہیں کرتے بلکہ اس کی ذات کی کھوج میں لگ جاتے ہیں کہ وہ کیسا انسان ہے اور پھر رائے دی جاتی ہے کہ اگر اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے تو یہ اسی لائق تھا۔اب کسی کے مدد مانگنے پر اس کی مدد نہیں کی جاتی بلکہ ہاتھ میں نصیحتیں تھما دی جاتی ہیں۔ایک انسان دوسرے انسان کے اوپر چڑھائی کرنے کو اور اس کا حق مارنے کو ترقی کی ایک کوشش سمجھتا ہے۔یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تعلیمات کو چھوڑ کر مغرب کو اپنا رول ماڈل بنا لیا ہے۔۔ہم نے اسلامی تعلیمات اور قوانین کو سخت اور انسان دشمن سمجھ کیا ہے حالانکہ انسانیت کی بقا ان ہی میں ہے۔۔ہمیں اسلامی قوانین کے لاگو ہونے سے کیوں ڈر لگتا ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح ہمارے دامن بھی سیاہیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اس لیے ہم بھی کہیں ان کی لپیٹ میں نہ آ جائیں۔اس لیے ہر شخص دوسرے پر ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش ہے کیونکہ اپنا دامن تو بچا ہوا ہے۔اسی لیے تو عمران اور ظاہر جعفر جیسے ہزاروں درندے کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔۔اگر کسی ایک کو بھی چوک میں لٹکا دیا جاتا تو حالات شاید کچھ بہتر ہوتے۔زینب کے بعد کوئی ماہم نہ ہوتی۔

  • تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد

    تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد

    تین ضرب چار انچ کی چھوٹی سی کتاب نقل کیلئے خفیہ طور پر استعمال ہونے والے پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کے نام سے مقبول ہے ان گائیڈز پر دفعہ ۱۴۴ کے تحت پابندی کے باوجود امتحانات کے دوران یہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں بغیر کسی رکاوٹ کے فروخت کئے جاتے ہیں۔جن کے استعمال سے بجا طور پر ہونہار طلباء کی حق تلفی ہوتی ہے تاہم اس کے باوجود بیشتر طالب علم پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کو امتحانات میں کامیابی کیلئے کارآمد ذریعہ سمجھتے ہیں اور اب بات یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ جن طلباء کو پڑھنے میں دلچسپی تھی اور نقل کے ذرائع کو معیوب سمجھتے تھے اب وہ بھی ان مواد کے استعمال سے نہیں شرماتے کیونکہ امتحانی حال میں نقل کا استعمال عام ہے اور ان طلباء کے پاس دوسرا راستہ نہیں بچتا تو اپنی حق تلفی کے رد عمل کے طور پر ان میں پڑھنے اور محنت کرنے کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے اور ہونہار طلباء بھی اب نقل سے کام چلانے میں نہیں شرماتے۔

    یہ بوٹی یا پاکٹ گائیڈز اتنے مقبول ہیں کہ کسی بھی شہر کے تقریباً ہر کتب فروش کے پاس دستیاب ہوتے ہیں۔امتحانات کے دوران پاکٹ گائیڈز کی طلب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے جس کیلئے بوٹی مافیا سے جڑے پبلشرز اور پرنٹرز دن رات کام کرتے ہیں اور کتب فروشوں کو بوریاں بھر بھر کے سپلائی کرتے ہیں ان کتب فروشوں میں ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب ان گائیڈز پر پابندی کی خبریں آتی ہیں تو دکاندار ان بوٹیوں کو خفیہ طریقے سے فروخت کرتے ہیں تاہم اگر حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کوئی مسلہ پیش آتا بھی ہے تو کچھ پیسے دیکر معامعلہ رفع دفع کرنا مشکل نہیں ہے

    چند دن قبل سوات میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن کی جانب سے انٹر اور میٹرک کے امتحانات کا انعقاد کیا گیا جن میں طلباء کی جانب سے پیپرز کے بعد انوکھے انداز سے نقل کی کاپیاں ہوا میں اچھال کر برسائے کئے اور سڑکوں پر پاکٹ گائیڈز اور دیگر مواد کی ہزاروں پرچیاں پھینک کر چھوڑ گئے اس عمل کے تصاویر اور ویڈیوز سواشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے اس عمل سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔


    میٹرک کے امتحان میں مصروف ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ پیپر میں آئے ہوئے تقریباً ہر سوال کا جواب پاکٹ گائیڈ میں موجود ہوتا ہے جسے آسانی سے الگ کرکے لکھا جاسکتا ہے اگر حال میں سختی زیادہ ہو تو لکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس سے کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے تاہم پھر بھی بہت سے طریقے موجود ہیں جن کا استعمال کرکے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو چکما دیا جاسکتا ہے۔

    پاکٹ گائیڈ المعروف “بوٹی” کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ طلباء اپنے ساتھ دو دو یا تین تین کاپیاں رکھتے ہیں،لہٰذا اگر حال میں سختی ہو تو طلباء کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ ایک پرزہ چھوٹ جانے سے لکھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کیونکہ طالب علم متعلقہ موضع کا دوسرا پُرزہ نکال لیتے ہیں اور یہ ایک عام عمل ہے جسے ہر کوئی کرتا ہے بس میں نے بتادیا اور زیادہ لوگ بتانے سے شرماتے ہیں لیکن میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک عام عمل ہے جسے تقریباً ہر طالب علم کرتا ہے

    ایک کتاب فروش کا کہنا تھا کہ پاکٹ گائیڈ کی فروخت چونکہ منافع بخش کاروبار ہے اسلئے دکانداروں کو امتحانات کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے اس کا کہنا تھا کہ عام دکانداروں کے علاوہ چند ایسے دکاندار بھی ہیں جن کے پاس فوٹو کاپی کی مشینیں لگی ہوتیں ہیں اور وہ پاکٹ گائیڈ سے بھی بہتر مواد فروخت کرتے ہیں جوکہ مشین کے ذریعے اچھے کاغذ اور صاف لکھائی کیساتھ چھاپے جاتے ہیں یہاں تک کہ جاری پرچہ کے دوران بھی طالب علم رفع حاجت یا پانی پینے کا بہانہ بناکر ان دکانداروں کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور مطلوبہ سوالات کے جوابات پرنٹ کرواکر امتحانی حال لے جاتے ہیں۔

    ایک اسٹیشنری دکان کے مالک نے کہا کہ اگر حکومت پاکٹ گائیڈز کی فروخت بند کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو کتب فروشوں اور اسٹشنری دکانوں کے بجائے شائع کرنے والے پبلشرز اور پرنٹرز پر چھاپے مارکر کاروائی کریں کیونکہ جب تک یہ پاکٹ گائیڈز دستیاب ہونگے تو طالب علموں کیلئے ان کا حصول مشکل نہیں اور یہاں تک کہ آجکل آن لائن کاروبار کا رجحان ہے اور ان چیزوں کو آن لائن بھی کسی کوڈ ورڈ کا استعمال کرکے خریدا یا فروخت کیا جاسکتا ہے غرض جب تک یہ گائیڈز چھپتے رہینگے جدید دور کے طالب علم انہیں حاصل کرتے رہینگے کیونکہ نئی نسل کے پاس ان مواد کو حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں طریقے موجود ہیں۔

  • سر زمین وطن کی چادر ، سبز ہلالی پرچم  تحریر : فضیلت اجالہ

    سر زمین وطن کی چادر ، سبز ہلالی پرچم تحریر : فضیلت اجالہ

    اچانک بریک لگانے کی وجہ سے گاڑی کے ٹائر زور سے چرچرائے تھے ،موسلا دھار برستی بارش کی پرواہ کیے بغیر وہ بے چینی اور اضطراب کی حالت میں گاڑی سے اترا اور بھاگ کر کچھ فاصلے پر موجود کیچڑ لگے کاغذ کے ٹکڑے کو اٹھا کر چومتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا تھا ،اسکی پہلی محبت کی نشانی ،اور پہلی محبت بھی کبھی بھولی ہے ،یہ تو رگوں میں لہو بن کر دوڑتی ہے ،پہلے عشق کی داستان سناتا وہ سبز ہلالی پرچم کا چھوٹا سا ٹکڑا ،اس پرچم کو آنکھوں سے لگائے وہ ماضی میں ڈوب گیا تھا ،سات سالہ بچہ گھر میں داخل ہوتے ہی چلایا تھا آپی آپی مجھے بھی پاکستانی جھنڈا چاہیے ،اس کی ضد کو دیکھتے اسکی بہن کمرے میں گئی تھی اور اپنی ہری قمیص کو کاٹ کہ اسے جھنڈے کی شکل دیتے ایک چھڑی پر لگا کہ اسے تھمایا تھا ،اس بچے کے ہاتھ میں جیسے ہفت اقلیم آگئ تھی جھنڈے کو لہراتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا بن کے رہے گا پاکستان ،لے کے رہیں گے آزادی ،اچانک ہوا کہ دوش پہ لہراتی آواز
    ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
    نے اسے واپس ہوش کی دنیا میں لاکھڑا کیا تھا آنکھوں سے بہتے اشکوں کو صاف کرتےاس نے دور دور تک بکھری اپنی ناقدری پہ ماتم زدہ پاکستانی جھنڈیوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کاش وہ ان لاکھوں بہنوں کے پھٹے آنچل ان لوگوں کو دکھا سکے جو اس وطن اور اس سبز ہلالی کو حاصل کرنے کیلیے تار تار ہوئے تھے ،اس نے آج جانا تھا کہ کیوں اسے اس پرچم سے اتنا لگاؤ اور عقیدت ہے ،
    اور یہ صرف اس ایک نوجوان کی کہانی نہیں ہے بلکہ ایسی ان گنت کہانیاں اس پرچم ستارہ و ہلال کے ساتھ جڑی ہوئ ہیں ،اور آج کی نسل کیلیے یہ پرچم یہ جھنڈیاں صرف فوٹو شووٹ اور تفریح کا زریعہ بن کر رہ گئی ہیں

    قومی جھنڈے کی جو ناقدری و بے ادبی ملک پاکستان میں ہوتی وہ دنیا کے کسی اور کونے میں نظر نہیں آئے گی
    جس وطن کا جشن آزادی منانے کیلیے گھروں اور گلیوں کو سجایا جاتا ہے اسی کے قومی نشان لیے ہزاروں جھنڈیاں زمین پر پڑی نظر آتی ہیں۔
    جس پرچم کو جوانوں نے سر پر باندھ کر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے جانیں قربان کی تھیں کچرے میں پڑا ملتا ہے۔
    یہ کیسی محبت ہے
    یہ کیسا جشن ہے
    ہم دنیا کو کیا بتا رہے ہیں ،کیا دکھا رہے ہیں
    اس سبز جھنڈے کی ناقدری کر کے لاکھوں شہیدوں کو کیا جواب دیں گے جنہوں نے اس پرچم کو لہرانے کیلیے اپنی زندگیوں کے نذرانے پیش کیے۔ یہ لاالہ کے نعرے پہ حاصل کیے گئے ملک کے قومی پرچم کو قدموں تلے روند کے بروز محشر اللہ اور اسکے رسول کو کیا منہ دکھائیں گے ۔
    وطن سے محبت کا یہ کونسا مقام ہے کہ ایک ویڈیو بنانے کیلیے, ایک ٹک ٹوک کی خاطر اس پرچم کو نا جانے کتنی بار گرایا جاتا ہے ،اس پرچم کی قدر نا کرنے والے اس پرچم کی قدر اس باپ سے پوچھے جس نے اپنے ھی ھاتھوں سے اپنے جوان لخت جگر کو منوں مٹی کے نیچے دفنایا، اس کےباوجود پاکستانی پرچم لہرایا ہے
    اس عظیم پرچم کی قدر اس فوجی کے بیٹے سے پوچھو جسے باپ کی لاش کے بدلے میں یہ جھنڈا عنایت ہوتا ہے۔
    اس ماں سے پوچھو جو اولاد پہ آئے اک کھرونچ کے بدلے دنیا ہلا دہتی ہے لیکن جب جواں بیٹا ،شہید ہوتا ہے تو لہو رنگ آنکھیں لیے مسکراتی ہے اور سبز ہلالی پرچم پہ وارنے کیلیے دوسرے بیٹے کو بھیج دیتی ہے ،کیوں کہ وطن عزیز کا یہ سبز جھنڈا
    آنکھوں کی بینائ اور سکون قلب ہے
    اور اس پرچمِ عظیم کی قدرو منزلت اس پہ جان نثار کرنے والی فوج سے پوچھو
    کیونکہ جب بھی وطن کا کوئی بیٹا شہید ہوتا ہے تو اس کے جسد خاکی کو اس سبز پرچم میں لپیٹا جاتا ہے اس پرچم کی اہمیت وہی جانتے ہیں جو اس کی تاقیامت سربلندی کے لئے اپنے لہو کے نذرانے پیش کرتے ہیں یا وہ اجداد کہ جنہوں نے بقائے وطن اور اس سر سبز و سفید پرچم کی سربلندی کے لیے ناجانے کتنے لخت جگر اس دھرتی پہ وارے ہیں
    14 اگست منائیے لیکن خدارا جتنی محبت سے آپ سبز ہلالی پرچم کو خریدتے ہیں اتنی ہی محبت سے اس پرچم کی حفاظت بھی کیا کریں نہ کہ 14 اگست گزرنے کے بعد روڈ پر پھینک دو.اس پرچم کی اپنی جان سے بھی بڑھ کر حفاظت کریں کیوں کہ یہ صرف کپڑے کا ٹکڑا نہی ہے ،اس کے ہرے رنگ کو لاکھوں جوانوں نے اپنے لہو سے سینچا ہے اسکے غرور سے چمکتے چاند میں انتظار کی سولی پہ لٹکتی نا جانی کتنی سہاگنوں کہ بالوں کی چاندی چھپی ہے ۔اس پہ بنے تارے کی تمکنت کیلیے لاکھوں تارے یتیم ہوئے ہیں ۔
    یہ پرچم ہمارے عزم و اسقلال کی سنہری داستاں ہے اسے یوں بے آبرو نا کیجیے ۔آپ کا لہو سبز ہلالی پرچم کی بقا کا ضامن ہے ۔
    اس پرچم کی کیسی عظیم شان ہے
    اس پرچم کا مطلب پاکستان ہے
    ۔مجھے فخر ہے کہ میں جس سر زمین کی باسی ہوں وہاں مائیں ابھی ایسے سرفروشوں کو جنم دیتی ہیں جو اس دھرتی اور اس پہ لہراتے پرچم کو گرنے نہی دیتے ۔14 اگست ضرور منايے مگر 15 اگست کو بھی وہی جذبہ زندہ رکھيے،کیونکہ
    آزادی نام ہی عقل و شعور کا ، سر زمین مقدس سے عہد وفا کا ، سامراجی طاقتوں کے خلاف اعلان جنگ کا، قانون کی پاسداری اور انصاف کی یکساں فراہمی کے لئے جدوجہد مسلسل اور باہمی اتفاق کا ہے ۔
    یہ پرچم ہماری عزتوں کا نشان ہے
    خدارا آپ بھی اس پرچم اور وطن عزیز کی اہمیت کو سمجھیے اس سے محبت کا عملی ثبوت دیں اور جہاں کہیں بھی یہ سبز ہلالی کو گرا ہوا دیکھیں تو جھک کہ اٹھانے میں شرم محسوس نا کیا کریں ۔
    کیوں کہ اس پرچم کی بقا میں ہماری بقا ہے ،یہی سچے محب وطن کی نشانی اور اپنی مٹی سےعشق ھے اور عشق کبھی ختم یا دفن نہیں ھوتا بلکہ ھمیشہ زندہ رھتا ھے۔پہلے خود اس ہلالی پرچم کی عظمت کو سمجھنا ہوگا تبھی ہم دنیا کو بتا پائیں گے کہ ہماری رگوں میں لہو کی جگہ یہ سبز رنگ دوڑتا ہے اور اس سبز پرچم کی خاطر ہم جان دے بھی سکتے اور اسکی طرف بری نظر سے دیکھنے والے کی جان لے بھی سکتے ہیں
    آؤ یہ عہد کریں کہ اس 14 اگست ،جشن آزادی منائیں گے لیکن اس پرچم کی تعظیم میں کمی نہیں آنے دیں گے آؤ عہد کریں کہ

    ہم تو لڑیں گے وطن کے لیے
    جھنڈا تو ملے گا کفن کے لیے

    @_Ujala_R