رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے
شہیدبھٹو اور نواز شریف نے دفاع ناقابل تسخیر بنایا،انکی بے توقیری کرنے والے معافی مانگیں
آج جو بچے جنگوں میں جانیں گنوارہے یا معذور ہورہے ،ان کا کیا قصور ؟دنیا آدھا نہیں پوراسوچے
اقوام عالم کب تک جنگیں سہتی رہیں گی،کوئی تو آگے آئے اور یہ سلسلہ بند کرائے،دنیا امن چاہتی ہے
تجزیہ ،شہزاد قریشی
رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے،کوئی نہیں جانتا ایران اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں آگے چل کر کیا صورت حال پیدا ہوگی، دنیا کی طاقتور قوتیں جو دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم ہیں، دنیا بھر کے انسانوں پر رحم کریں، دنیا بھر کے انسان حالت جنگ میں رہنا پسند نہیں کرتے ،اگر دنیا بھر کے انسانوں سے سوال کیا جائے تو مجموعی طورپر عام شہری کی جنگ میں جانے کا انتخاب نہیں کرتے اُن کو جہاں وہ رہتے ہیں آزادی سے رہنے کا حق ہونا چاہیے، جنگوں میں عام انسان مارا جاتا ہے اُن کے بچے مارے جاتے ہیں،عام انسانوں کی پکار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، عام انسان اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا ہے ،وہ آرام سے زندگی گزارنا چاہتا ہے ، ذرا نہیں پورا سوچیے جو بچے جنگی علاقوں میں پروان چڑھتے ہیں یا جابرانہ حکومتوں کی حکمرانی میں وہ بعد کی زندگی میں ہتھیار اٹھانے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں،جنگی ماحول میں کوئی ڈاکٹر، انجنیئر ، سائنس دان نہیں بنتا، دنیا بھر کی فیصلہ ساز قوتیں انسانی دوستی کا پرچم بلند کریں ، آخر عام انسانوں کی کون سی خطا ہے جس کی اُن کو سزا دی جا رہی ہے ،عالمی دنیا کے حکمران مسلم ممالک ہوں یا امریکہ یا مغربی ممالک اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے مذمتی بیانات سے باہر نکل کر سوچیں، غور کریں کہ مخلوق خدا کے ساتھ کون سا ظلم ہے جو نہیں ہو رہا، مشرق وسطیٰ کو جنگ کا میدان کیوں بنایا جا رہا ہے ؟ اور مشرقی وسطیٰ جنگ کا میدان کیوں بن رہا ہے ؟ مشرقی وسطیٰ کے حکمران سوچیں اور غور کریں، ماضی میں کئی جنگیں لڑی گئیں جن کی ضرورت نہیں تھی عالمی طاقتوں نے کمزور بہانے تراش کر چھوٹے ملکوں پر دانستہ جنگیں تھوپیں اور وسائل پر قبضہ کیا، ہر چند کے امن بہت اہم ہے ، انسان بہت مقدم ہے اور انسانیت بہت محترم ہے، مگر عالمی غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لئے مضبوط دفاع لازم ہو گیا جو ہری طاقت کا حصول اہم ہو گیا آج عالمی غنڈہ گردی کو دیکھ کر ملک کی سیاسی لیڈر شپ یاد آتی ہے ،پاکستان کو عالمی غنڈہ گردی سے بچانے کے لئے ایک کردار بھٹو تھے ایک سیاسی لیڈر تھا جس نے پاکستان کے لئے جوہری قوت ضروری سمجھا جبکہ دوسرا نواز شریف جس نے ایٹمی دھماکے کئے، جنہوں نے بھٹو اور نواز شریف کی بے توقیری کی اُن کو آج ا پنے جرم کا اعتراف کرکے بھٹو کی مغفرت اور نواز شریف سے معافی کے ساتھ خراج تحسین پیش کرنا چاہیے
Category: بلاگ

قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات
جب سخن و قلم کے چراغ روشن ہوں، اور علم و عرفان کی مہک فضا میں گھل جائے، تو ایسے لمحات تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم ہو جایا کرتے ہیں۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا ادبی قافلہ، جو ہمیشہ فکر و فن کے گلدستے لیے ملک بھر کے ادبی چمن کو معطر کرتا رہا ہے، حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی کی خصوصی دعوت پر پشاور روانہ ہوا۔
یہ مژدہ جانفزا بانی و صدراپووا ایم ایم علی کی پُرخلوص کال پر راقم کو ملا، اور بلا تامل اس فکری سفر میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ، لاہور سے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کی زیرقیادت اس قافلے نے ادب و اخلاص کے ساز پر رواں دواں ہو کر بلکسر کی پرنور فضاؤں میں شب بسر کی،سحر ہوتے ہی منزلِ مقصود کی جانب روانگی ہوئی، اور گورنر ہاؤس پشاور کے درو دیوار نے اپووا کے کارواں کو والہانہ خوش آمدید کہا۔ منتظمین کی شائستگی اور تکریم نے اس علمی ملاقات کو مزید باوقار بنا دیا۔گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ساعتِ سعید نصیب ہوئی۔ ملک یعقوب اعوان نے نہایت بلیغ انداز میں اپووا کا تعارف پیش کیا، جس کے بعد تمام معزز اراکین نے فرداً فرداً اپنا تعارف کروایا، ایک سے بڑھ کر ایک ادبی ستارہ، جس کی چمک سے گورنر ہاؤس جگمگا اٹھا۔
اس روح پرور نشست میں بانی صدر ایم ایم علی اور نائب صدرحافظ محمد زاہد نے اپووا کی فکری خدمات، ادبی سرگرمیوں اور تنظیمی اہداف کو نہایت شائستہ اور مدلل لب و لہجے میں پیش کیا۔ گفتگو میں جو شفافیت اور خلوص تھا، اس نے گورنر کو متاثر کئے بغیر نہ چھوڑا،گورنر فیصل کریم کنڈی نے نہایت پرخلوص کلمات میں اپووا کے اس سنجیدہ ادبی مشن کو قومی یکجہتی، فکری بالیدگی اور ثقافتی تجدید کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑتا ہے، اور اپووا اس جوڑنے کے عمل میں پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تمام شرکائے وفد کو تعریفی اسناد اور یادگاری سوینئرز سے نوازا۔ چائے کی ضیافت کے دوران گفتگو کا دائرہ مزید وسعت اختیار کر گیا۔ آخر میں اپووا کی جانب سے سالانہ ادبی تقریب میں شرکت کی دعوت پیش کی گئی، جسے گورنر خیبر پختونخوا نے نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ ادب کے اس مقدس سفر میں اپووا کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
یہ سفر، ملاقات محض ایک رسمی گفتگو نہ تھی بلکہ قومی ادب کی قدر دانی اور فکری ہم آہنگی کی ایک نادر مثال تھی، جہاں قلم کی حرمت کو منصب کی عظمت سے جوڑا گیا۔وفد میں ملک یعقوب اعوان، ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، محمد اسلم سیال، ممتاز اعوان، معاویہ ظفر، محمد بلال، ڈاکٹر عمر شہزاد، ڈاکٹر سعدیہ شہزاد، ناز پروین، بشریٰ فرخ، تابندہ فرخ، ثمینہ قادر، نیلوفر سمیع، رانی عندلیب شامل تھے،”دلاور” بھی ہمارے ہمراہ تھا ،دلاور کے گاڑی سے اترتے ہی گورنر ہاؤس انتظامیہ کی دوڑیں بھی دیکھنے والی تھیں………..
یقیناً یہ ملاقات ادب کی توقیر، ادیب کی عزت اور فکر کی پذیرائی کا مظہر تھی، اپووا کا یہ اقدام آنے والے دنوں میں مزید فکری سنگ میل عبور کرنے کی نوید دے رہا ہے،اپووا…کی جانب سے مزید سرپرائزتیار ہیں.
اپووا محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ ادب کا مقدس قافلہ ہے ، ایسا قافلہ جو قلم کے چراغ اٹھائے، روشنی بانٹنے کے سفر پر گامزن ہے، اس قافلے کی ہر کڑی، ہر فرد اور ہر قدم علم، شعور، زبان، تہذیب اور فنِ تحریر کے احترام سے لبریز ہے، اپووانے معاشرے کے ان گوشوں میں روشنی پہنچائی ہے، جہاں جہالت کا اندھیرا اور فکری جمود برسوں سے براجمان تھا، اپووا کی ادبی کاوشیں معاشرتی نکھار، فکری ارتقاء اور قومی یگانگت کی ایک زندہ علامت بن چکی ہیں،اپووا نہ صرف شعرا و ادبا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے بلکہ نئے لکھنے والوں کی آبیاری کر کے انہیں فکر و فن کے باغ میں تناور درخت بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان کی تقریبات میں ادب کے قدردان، لفظوں کے مسافر، اور فہمیدہ دل و دماغ یکجا ہوتے ہیں، جہاں صرف باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ روحانی ارتعاش، فکری پرورش اور جمالیاتی آگہی بانٹی جاتی ہے،ایم ایم علی جیسے بصیرت افروز قائد، ملک یعقوب اعوان جیسے باوقار رہنما، حافظ محمد زاہد جیسے فکری معمار، اور درجنوں اہلِ قلم کی پرخلوص کوششوں نے اپووا کو پاکستان کی ادبی پیشانی کا جھومر بنا دیا ہے۔
آج جب دنیا تشدد،نفرت، مادّہ پرستی اور زبان کی سطحیت کا شکار ہو رہی ہے، اپووا ایسے وقت میں دلوں کو جوڑنے، زبان کو نکھارنے اور قلم کو حرمت دینے کے لیے سینہ تان کر کھڑی ہے،ہم اپووا کے بانیان، کارکنان، اور تمام ادبی سپاہیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ عقیدت، تحسین اور محبت پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ یہ قافلہ یوں ہی فکر کی مشعلیں لے کر اقبال کے خواب، فیض کی امید کو آگے بڑھاتا رہے۔




















وزیر زراعت کے نام کھلا خط
وزیر زراعت کے نام کھلا خط
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑپاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پنجاب اس کا دل کہلاتا ہے، جہاں کی زرخیز زمینیں صدیوں سے دنیا بھر میں اپنی پیداوار کے لیے مشہور ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پنجاب کے دل میں واقع 23 فور۔ایل اور 22 فور۔ایل حلقہ پی پی 190، تحصیل اوکاڑہ آج بدترین پانی کے بحران کا شکار ہیں۔
یہ علاقہ جو ماضی میں سرسبز کھیتوں، لہلہاتی فصلوں اور خوشحال کسانوں کی پہچان رکھتا تھا، آج پانی کی کمی اور حکومتی عدم دلچسپی کے باعث بربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ زیر زمین پانی کھارا ہو چکا ہے، نہری پانی آخری ٹیلوں تک پہنچتے پہنچتے کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہو کر رہ گئی ہے۔
23 فور۔ ایل اور 22 فور۔ایل کے علاقے میں زیر زمین پانی کا کھارا پن ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ٹیوب ویل کے ذریعے نکالا جانے والا پانی زمین کی زرخیزی کو تباہ کر رہا ہے۔ کھیتوں میں نمکیات کی تہیں جم گئی ہیں اور محتاط اندازے کے مطابق 20/30ہزار نمکیات کا تناسب پانی میں شامل ہے جبکہ زرعی ماہرین کے مطابق 1000 کے لگ بھگ نمکیات کا تناسب نہری پانی میں مکس کرلیں تو گزارا چل جاتا ہے۔ مگر نمکیات زیادہ ہونے کی وجہ جس سے زمین اپنی پیداواری صلاحیتیں کھو رہی ہے۔ پینے کے پانی میں بھی نمکیات کی زیادتی نے انسانی صحت پر خطرناک اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔
یہ دونوں گاؤں نہر کے آخری ٹیلوں پر واقع ہیں جہاں پہلے ہی پانی کم مقدار میں پہنچتا ہے۔ مگر اب با اثر افراد اور محکمہ انہار کی ملی بھگت سے پانی کی چوری نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ آخری ٹیلوں کے کسانوں کو پانی کی بوند بوند کے لیے ترسنا پڑتا ہے۔ اور رات کو اکثر محکمانہ ملی بھگت سے پانی مزید کم ہو جاتا ہے۔ جبکہ یہاں پر ایک اندازے کے مطابق 25/30 منٹ فی ایکڑ پانی منظور شدہ ہے مگر 3 گھنٹوں میں بھی آخری کھیتوں کو سیراب کرنا مشکل ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی کی کمی کے باعث خشک ہو جاتی ہیں، کسانوں کی سال بھر کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔
جن کسانوں کے پاس آباؤ اجداد کی زمینیں ہیں، آج وہ بھی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ فصلیں نہ اگنے کی وجہ سے کسان قرضوں میں ڈوب چکے ہیں۔ پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے اور جو تھوڑی بہت فصل بچتی ہے اس کی قیمت مڈل مین حضرات اپنی مرضی سے طے کرتے ہیں۔ یہ کسان جن کے خواب کبھی سرسبز کھیتوں کی صورت میں لہراتے تھے، آج غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ان دونوں چکوک کے لوگ زراعت پیشہ چھوڑ کر بچوں کی روزی روٹی کمانے کے لیے شہروں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ آج کئی خاندان اپنی زمینیں چھوڑ کر شہروں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ دیہات خالی ہوتے جا رہے ہیں اور شہروں پر آبادی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ لوگ کب تک شہروں میں سہارا ڈھونڈتے رہیں گے؟ کب تک اپنی زمینوں سے ہجرت کرتے رہیں گے؟
پانی کے کھارے پن کی وجہ سے صرف فصلیں ہی تباہ نہیں ہو رہیں بلکہ انسانی صحت اور جانور بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بچوں میں جلدی امراض، معدہ اور جگر کی بیماریاں، اور ہڈیوں کی کمزوری عام ہو چکی ہے۔ مویشی بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار بھی گر رہی ہے۔
علاقے کے کاشتکاروں نے وزیر زراعت پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنجیدہ مسئلے پر توجہ دیں۔ کسان مطالبہ کر رہے ہیں کہ:
* سولر انرجی اسپیشل گرانٹ جاری کی جائے تاکہ سولر ٹیوب ویل کے ذریعے میٹھا پانی استعمال کیا جا سکے۔
* محکمہ انہار میں پانی چوروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جن کی کئی ایک ایف آئی آر درج شدہ ہیں مگر کاروائی نہیں ہوسکی۔
* زرعی اصلاحات کے تحت زیر زمین پانی کی مینجمنٹ کے منصوبے شروع کیے جائیں۔
* بنجر ہونے والی زمینوں کو دوبارہ قابل کاشت بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔آج 23 فور ایل اور 22 فور۔ایل کے کسان حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ محض وعدے، اعلانات اور فوٹو سیشن سے کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت اگر زراعت کو واقعی ترقی دینا چاہتی ہے تو اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ کسان کی ہجرت کا مطلب دیہی معیشت کا زوال ہے اور اس کا اثر مجموعی قومی معیشت پر بھی پڑے گا۔
کب تک کسان اپنی زمینیں چھوڑتے رہیں گے؟
کب تک زرخیز زمینیں بنجر ہوتی رہیں گی؟
کیا حکومت صرف ترقیاتی دعوؤں میں مصروف رہے گی؟
کیا عوامی نمائندے اس گاؤں کے مسائل کی ذمہ داری قبول کریں گے؟جی ہاں، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوامی نمائندے کسان کی فریاد سنیں۔ اگر زراعت ختم ہوئی تو یہ ملک بھی شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔ پانی کی قلت کا یہ خطرناک الارم حکمرانوں کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔


ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان
ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
ایک خبر کے مطابق پاکستان اور روس نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق روس کے دورے پر گئے پاکستانی وفد کی سینٹ پیٹرزبرگ میں گیزپروم حکام سے ملاقات ہوئی، جس میں توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں اور شراکت داری پر غور کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور روس نے اقتصادی تعاون کے نئے مواقع کی تلاش پر زور دیا اور طے پایا کہ او جی ڈی سی ایل اور گیزپروم ممکنہ منصوبوں کی مل کر نشاندہی کریں گے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور اسٹریٹجک تعلقات کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے۔اس تناظر میں اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو 1948ء میں سفارتی تعلقات کے قیام سے لے کر اب تک پاکستان اور روس (سابقہ سوویت یونین) کے تعلقات سرد جنگ کے دوران محدود اور بعض اوقات کشیدہ رہے لیکن 1970ء کی دہائی میں پاکستان سٹیل ملز کے قیام جیسے منصوبوں نے تعاون کی راہ ہموار کی۔ 21ویں صدی کے آغاز خاص طور پر 2010ء کے بعد توانائی، دفاع، تجارت اور تعلیم کے شعبوں میں متعدد معاہدوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کیا۔ 2024ء تک کم از کم 20 سے 30 اہم معاہدوں یا مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط ہو چکے ہیں، جن میں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن، دفاعی تعاون اور بارٹر ٹریڈ شامل ہیں۔
اسی تسلسل میں سینٹ پیٹرزبرگ کی حالیہ ملاقات توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک نئی مثال ہے، جہاں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن، جس پر 2016ء میں اتفاق اور 2021ء میں توثیق ہوئی، 2.5 بلین ڈالر کے منصوبے کے طور پر نمایاں ہے۔ روس نے پاکستان کو LNG درآمد کے لیے 1500 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی حمایت بھی کی ہے جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور روس کے خطے میں اقتصادی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اہم ہے۔
یہی رجحان دفاعی شعبے میں بھی نظر آتا ہے، جہاں 2016ء میں مشترکہ فوجی مشقوں "دروجبا” اور چار ایم آئی۔35 ہیلی کاپٹروں کی فراہمی نے خطے میں جغرافیائی سیاسی توازن کو تقویت دی، خاص طور پر جب پاکستان روایتی اتحادیوں سے ہٹ کر نئے اسٹریٹجک شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ تجارت و سرمایہ کاری میں بھی پیش رفت ہوئیہے، 2024ء میں ماسکو میں منعقدہ پہلے پاک روس تجارتی فورم میں بارٹر ٹریڈ معاہدے کے تحت پاکستان 20 ہزار ٹن چاول برآمد کرے گا جبکہ روس 20 ہزار ٹن چنے فراہم کرے گا۔
اسی تسلسل میں دسمبر 2024ء کے 9ویں بین الحکومتی کمیشن اجلاس میں انسولین کی تیاری، تعلیمی تعاون اور دوطرفہ تجارت کے فروغ سمیت 8 معاہدوں پر دستخط ہوئے جو دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ تمام پیش رفتیں پاکستان اور روس کے تعلقات کو ایک وسیع تر جغرافیائی تناظر میں بھی اہم بناتی ہیں، خاص طور پر وسط ایشیائی ریاستوں کے حوالے سے، جہاں روس ایک کلیدی کھلاڑی ہے۔ پاکستان کی گوادر بندرگاہ وسط ایشیائی ممالک کے لیے تجارت کا اہم راستہ بن سکتی ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک خطے میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور روس کی یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کے درمیان ممکنہ تعاون خطے کے اقتصادی منظر نامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔
تاہم ان مثبت رجحانات کے باوجود موجودہ عالمی اور علاقائی حالات ان تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث ہے، پاک روس تعاون کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ روس ایران کا اتحادی ہے اور پاکستان ایران کے ساتھ سرحدی اور تاریخی تعلقات رکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن مغربی دباؤ یا علاقائی عدم استحکام توانائی منصوبوں یا سرمایہ کاری میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔
اسی طرح امریکہ کی علاقائی پالیسیاں خاص طور پر چین اور روس کے خلاف حکمت عملی، پاکستان کے لیے چیلنجز ہیں کیونکہ پاکستان امریکی مالیاتی اداروں پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی پابندیوں کا خوف پاک روس معاہدوں کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لیکن ایک امکان یہ بھی موجود ہے کہ پاکستان کی چین کے ساتھ شراکت اور SCO کے ذریعے تعاون اس دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔
اسی ضمن میں بھارت کی پاکستان کے خلاف پراکسی وار، خاص طور پر افغانستان اور بلوچستان میں مبینہ مداخلت، ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ روس کے بھارت کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں۔ تاہم، روس نے پاکستان کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس کی مثال دفاعی معاہدے اور مشترکہ فوجوی مشقوں کی صورت میں موجود ہے۔ بھارت کی پراکسی سرگرمیاں اگرچہ علاقائی استحکام کو متاثر کرتی ہیں، لیکن پاک روس تعلقات پر براہ راست اثر کا امکان کم ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنے مشترکہ مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں دیگر چیلنجز جیسے کہ افغانستان کی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور بیوروکریٹک رکاوٹیں، تعاون کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں، لیکن SCO اور CPEC جیسے پلیٹ فارمز ان سے نمٹنے کے لیے مضبوط فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو خطے کی بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال پاکستان اور روس کو قریب لا رہی ہیں۔ امریکہ اور چین کی رقابت، افغانستان کے حالات اور بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ روس، جو مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، ایشیا میں نئے شراکت داروں کی تلاش میں ہے اور پاکستان اس تناظر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس شراکت داری کی بنیاد اگرچہ ابھی محدود تجارت پر قائم ہے لیکن بارٹر ٹریڈ اور توانائی کے منصوبے اسے وسعت دے سکتے ہیں۔ روس کی تکنیکی مہارت اور پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن باہمی فائدے کی بنیاد ہے، جبکہ وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ طلبہ اورثقافتی تقریبات و وفود کے تبادلوں اور تعلیمی معاہدوں (جیسے نیوٹیک اور کامسیٹس کے MoUs) سے عوامی سطح پر تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، جو طویل مدتی شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
چنانچہ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتی قربت خطے کے نئے دور کا عکاس ہے۔ اگرچہ ایران اسرائیل تنازعہ، امریکی مفادات اور بھارت کی پراکسی سرگرمیاں چیلنجز ہیں لیکن مشترکہ مفادات اور بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال اس شراکت داری کو مضبوط کر رہی ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعاون اور SCO جیسے پلیٹ فارمز اسے مزید گہرا کر رہے ہیں۔
مناسب پالیسی سازی اور معاہدوں پر عمل درآمد کے عزم کے ساتھ پاکستان اور روس نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے معمار بن سکتے ہیں۔ یہ شراکت داری محض ایک امکان نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو خطے کے مستقبل کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں ایک دوسرے کے تعاون سے تنازعات ختم ہوں گےاور مشترکہ ترقی سب کا مقدر بنے گی۔
ماسکو سے گوادر تک ابھرتی ہوئی یہ نئی راہیں نہ صرف اقتصادی ترقی کا نیا نقشہ کھینچ رہی ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی ازسرِنو متعین کر رہی ہیں۔ روس کے لیے پاکستان ایک بحری راستے کی شکل میں وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا دروازہ بن رہا ہے جبکہ پاکستان روس کی توانائی، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سے اپنے معاشی ڈھانچے کو مستحکم کر سکتا ہے۔ بارٹر ٹریڈ سے لے کر اسٹریٹجک پائپ لائنز تک، دونوں ممالک ایسی بنیاد رکھ رہے ہیں جو آنے والے عشروں میں خطے کے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی منظرنامے کو بدل سکتے ہیں۔ اگر یہ شراکت داری درست سمت میں مستحکم رہی تو گوادر کا ساحل اور ماسکو کی فضائیں ایک دوسرے کی ہم آواز بن سکتی ہیں، جہاں نئی راہیں صرف سفر کی نہیں بلکہ باہمی اعتماد، ترقی اور خودمختاری کی ضمانت ہوں گی۔


وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیں
وسطی ایشیائی ریاستیں، تجارتی تعلقات کی نئی راہیں
تحریر:ضیاء الحق سرحدی، پشاور
📧 ziaulhaqsarhadi@gmail.com
گزشتہ دنوں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ازبکستان، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ریلوے لائن فریم ورک کی جلد تکمیل پر اتفاق کیا گیا ہے۔ بلاشبہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ وسطی ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کے لیے بے پناہ اقتصادی مواقع کا حامل ہے۔ حالیہ اقدامات نہ صرف سفارتی تعلقات میں گرم جوشی لانے کا باعث بن رہے ہیں، بلکہ خطے میں معاشی اور تجارتی ربطوں کو بھی نئی سمت دے رہے ہیں۔ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کا مقصد ازبکستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست ریلوے کے ذریعے رابطہ بنانا ہے، جو افغانستان سے گزرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد 573 کلومیٹر طویل ریل رابطہ قائم کر کے تجارت کو بڑھانا ہے جو تاشقند، کابل اور پشاور کو جوڑے گا۔ منصوبے پر عمل درآمد سے پاکستان اور وسطی ایشیا کے مابین تجارتی تعلقات کو تقویت ملنے کی توقع ہے، جس کا مقصد ازبکستان اور پاکستان کے درمیان کارگو کی فراہمی کے اوقات کو تقریباً پانچ دن کی مسافت تک نمایاں طور پر کم کرنا ہے۔ یہ ریلوے روٹ افغانستان میں ترمذ، مزار شریف اور لوگر سے گزرے گا جب کہ پاکستان کے ضلع کرم میں خرلاچی بارڈر کراسنگ تک جائے گا۔ یہ منصوبہ مسافروں اور مال برداری کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، اس مقصد کے لیے ریلوے علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور علاقے میں مجموعی اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
وسطی ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کے لیے بے پناہ اقتصادی مواقع کا حامل ہے۔ پاک بھارت کشیدگی سے سرخرو ہونے کے بعد حالیہ دنوں فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ حکام کا ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کا سرکاری دورہ انتہائی اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں ایران نے خطے میں امن قائم کرنے کی غرض سے دو طرفہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری بڑھانے کا اعادہ کیا ہے جبکہ پاکستان کو وسطی ایشیا سے تجارت کا گیٹ وے کہا جا سکتا ہے۔
پاکستان کا محل وقوع ایسا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی آ کر ملتے ہیں جب کہ جنوب میں بحر ہند کا وسیع سمندر ہے جو چین اور مشرق بعید سے مشرق وسطی، افریقہ اور یورپ کے درمیان اہم تجارتی راستوں کی گزرگاہ ہے۔ بحر ہند کی سمندری گزرگاہوں سے توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے کے لیے کوئی سمندری ساحل اور بندرگاہ نہیں ہے، واحد زمینی راستہ ایران کے علاوہ پاکستان سے گزر کر جاتا ہے۔ پاکستان سے گزرنے والا یہ راستہ زیادہ تر میدانی اور ہموار ہونے کے باعث آئیڈیل راستہ ہے جب کہ ایران سے جانے والا راستہ زیادہ تر پہاڑی اور ناہموار ہے۔ یہ جغرافیائی حقیقت پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک دلکش کنجی بنا دیتی ہے۔
پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک چین، ایران اور افغانستان کے علاوہ دیگر ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بالعموم اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بالخصوص تجارتی و دفاعی اور عسکری شعبوں میں قابل ذکر تعاون بڑھا سکتا ہے۔ آذربائیجان کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے۔ آذربائیجان نے 31 دسمبر 2027 تک پاکستانی چاول پر عائد کردہ کسٹم ڈیوٹی کو استثنیٰ قرار دے رکھا ہے۔ یہ استثنیٰ پاکستان کے لیے بڑا ریلیف ہے، اگرچہ اس ٹیکس چھوٹ کے باوجود پاکستان کی چاول برآمدات آذربائیجان کی کل درآمدات کا محض 4 فیصد ہے۔
قازقستان کی معیشت اس خطے کی بڑی معیشت ہے جہاں 370 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سامنے آئی ہے۔ قازقستان کے معدنی وسائل میں شامل کوئلہ، کرومائیٹ اور زنک کا ذخیرہ دنیا کا دوسرا بڑا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ قازقستان قدرتی گیس سے بھی مالا مال ہے۔
ایران سے ہم سستے داموں تیل، لوہا، اسٹیل، چمڑا، شیشہ، تازہ سبزیاں اور پھل درآمد کر سکتے ہیں جب کہ گندم اور چاول برآمد کر سکتے ہیں۔ گندم اور چاول کی مصنوعات ہم ترکیہ کو بھی برآمد کر سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے چوراہے پر پاکستان کا تزویراتی محل وقوع بلاشبہ اسے رابطے اور تجارتی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے اچھی پوزیشن میں رکھتا ہے، جو پاکستان اور خطے کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کے مرکز کے طور پر امکان پیش کرتا ہے۔
اس کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشییٹو کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے اور رابطوں میں اضافہ ہے جو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو فروغ دے سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان، چین، کرغیز جمہوریہ اور قازقستان نے 9 مارچ 1995 کو چہار فریقی ٹریفک اور ٹرانزٹ معاہدے (کیو ٹی ٹی اے) دستخط کیے۔ یہ چین، پاکستان، کرغیزستان اور قازقستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریفک اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے ایک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہے۔ یہ وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب میں پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے درمیان ایک مؤثر رابطہ نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔ چین نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور اس خطے کے ساتھ اس کی تجارت تقریباً 100 بلین امریکی ڈالر ہے۔
اس کے بعد ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبہ ہے۔ تاپی منصوبے کا مقصد ترکمانستان میں کلکنیش گیس فیلڈ سے قدرتی گیس افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت لانا ہے۔ تاپی منصوبہ حکومت پاکستان کے انرجی سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے۔
پاکستان کی پوزیشن اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ جہاں مغرب، چین اور بھارت افغانستان کے وسیع معدنی وسائل کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں، پاکستان کی رسائی صرف چند ملین ڈالر کے اجناس کی تجارت تک محدود ہے۔ ایران کے ساتھ، پاکستان، ایران گیس پائپ لائن جو بہت ضروری ہے، دہائیوں سے التوا کا شکار ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کا آغاز ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، اس سے پاکستان کو جنوبی خطے میں اپنی حیثیت مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین سہ فریقی تزویراتی اتحاد کی بنیاد شنگھائی تعاون تنظیم نے فراہم کی تھی جس میں چین، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان، بھارت، پاکستان، ایران، بیلا روس شامل ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سی پیک کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کر کے پاکستان کے لیے اقتصادی راہداری کو ایران اور ترکیہ کے تیل اور گیس کی فراہمی، بجلی پیداوار اور ترسیل، تجارتی نقل و حمل، بندرگاہوں اور جہاز رانی کے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں۔
ایشیا کے دیگر ممالک جو پاکستان کی طرح بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی کا خطرہ محسوس کر سکتے ہیں، جیسے سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، میانمار کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو استوار کریں۔ باہمی تعاون اور اشتراک کے امکانات کو فروغ دیں۔
قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغیزستان اور تاجکستان توانائی، زراعت اور معدنیات کے وسائل سے مالا مال ہیں اور پاکستان ان کے لیے ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
سی پیک اور ٹرانس افغان ریلوے جیسے منصوبے بہتر رابطوں اور تجارت میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر پاکستان اپنے اقتصادی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے، روایتی منڈیوں پر انحصار کم کر سکتا ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری
ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری
تفصیلات کے پنجاب بھر کی طرح ڈیرہ غازیخان میں بھی گرمی کی شدید لہر کے باوجود درجنوں پرائیویٹ اور پیف سکولز حکومتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے آج بھی کلاسز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب کی جانب سے 20 مئی 2025 کو صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں 28 مئی سے موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا مگر متعدد نجی سکول مالکان نے اس نوٹیفکیشن کو نظرانداز کر کے تدریسی عمل جاری رکھا ہے۔
شدید گرمی کے دوران ان سکولوں میں صبح 6:30 سے 10:00 بجے تک تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں، جنہیں والدین نے "تندور جیسے کلاس رومز” قرار دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سکولوں میں نہ پنکھے چل رہے ہیں، نہ ہوا کا گزر ہے اور نہ ہی پینے کے ٹھنڈے پانی کی مناسب سہولیات موجود ہیں۔ ایسے میں بچوں کو پڑھنے پر مجبور کرنا کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
صوبہ پنجاب خاص طور ڈرہ غازیخان میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہےجو کہ 50 ڈگری تک محسوس کیا جارہا ہے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے ہیٹ ویو کی وارننگ جاری ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر وزیر تعلیم پنجاب نے 28 مئی سے سکولوں اور کالجوں میں تعطیلات کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بیشتر نجی سکولز مالکان نے اس فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا۔ بچوں کو سکول بلانے کا مقصد صرف فیسیں وصول کرنا اور بزنس کو برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
والدین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں میں والدین نے سکولز کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے اور پرائیویٹ سکولز مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایک والد حبیب خان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں مجبوراً بچوں کو بھیجنا پڑ رہا ہے کیونکہ فیسیں لی جا رہی ہیں اور غیر حاضری پر جرمانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوال یہ کہ کیا حکومت صرف نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے ہے؟”
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب کالجز جن میں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں 15 اگست تک بند کیے جا چکے ہیں تو پھر نازک عمر کے بچوں کے سکولز کھلے رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کی خاموشی اور اداروں کی بے حسی نے والدین کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سکولز (سرکاری و نجی) 28 مئی سے بند ہوں گے اور 15 اگست 2025 کو دوبارہ کھلیں گے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ جو سکولز حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ سکولز کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے، بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور بچوں کی صحت سے کھیلنے والے اداروں کو نشان عبرت بنایا جائے۔
والدین کا سوال واضح ہےکہ کیا حکومت اپنی رٹ بحال کر پائے گی یا یہ خاموشی پرائیویٹ سکولز مافیا کے لیے کھلی چھوٹ ثابت ہو گی؟

خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن
خلیج بنگال سے ہوتا ہوا اکھنڈ بھارت کا خواب، چاغی میں دفن
تحریر: حاجی محمد اکرم آرائیں، واربرٹن
1947 میں دو قومی نظریے کو جھٹلانے کا خواب لیے خلیج بنگال سے ابھرنے والا اکھنڈ بھارت کا فریب، بالآخر 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہندو سامراج نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان پر چار جنگیں مسلط کیں۔ 1948ء کی جنگ میں یہ خود اقوامِ متحدہ گیا، جہاں موجودہ آزاد کشمیر کو استصواب رائے کا حق تسلیم کیا، مگر بعد میں مُکر گیا۔ 1965ء کی جنگ میں ناکامی کے بعد روس میں شملہ معاہدہ کے تحت جنگی اصولوں سے انحراف کیا۔ 1971ء میں سازش کے ذریعے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کروایا اور پھر غرور و تکبر سے اکڑ کر کہا گیاکہ
"ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔”مگر 5 اگست 2024ء کو وہی دو قومی نظریہ خلیج بنگال سے اس طاقت سے ابھرا کہ بھارت کو بنگلہ دیش سے دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ اس ساری کشمکش اور ہٹ دھرمی سے خطہ ہمیشہ تناؤ اور جنگوں کا شکار رہا۔
13 مئی 1998ء کو بھارت نے 5 ایٹمی دھماکے کر دیے اور برملا اعلان کیا کہ وہ آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے جارہا ہے اوربرصغیر کا تھانیدار بننے کی کوشش کی۔ اکھنڈ بھارت کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نہ صرف جشن منایا گیا بلکہ عالمی طاقتوں کی خاموشی نے اسے شہ دی۔نہ اقوامِ متحدہ نے کوئی مذمت کی، نہ کسی بڑی ایٹمی طاقت نے کوئی نوٹس لیا۔
لیکن پاکستان کی باہمت قیادت، خصوصاً وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف، صدر محمد رفیق تارڑ، آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر سائنس دانوں نے سر جوڑ لیے۔ پاکستان پہلے ہی ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا، فیصلہ صرف اعلانِ جُرأت کا تھا۔
جب دنیا نے ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے ڈالروں کی لالچ دی اور پھر دھمکیاں دیں، تو یہ لمحہِ آزمائش تھا۔ تب مجید نظامی مرحوم نے تاریخی جملے کہے:
"میاں صاحب، ایٹمی دھماکہ کر دو ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی!”
یہ بات دل میں لگی، حوصلہ بڑھا اور یوں 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے چاغی پہاڑ پر پاکستان نے 6 ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کے 5 دھماکوں کا جواب دے دیا۔چاغی کا پہاڑ زرد ہو گیا، پورا ملک "اللہ اکبر” کے نعروں سے گونج اُٹھا، پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک بن گیا۔ بھارت کا اکھنڈ بھارت کا خواب چاغی میں دفن ہو گیا۔
پھر 7 مئی 2025ء کی رات بھارت نے دوبارہ حملہ کیالیکن اس بار پاک فوج اور فضائیہ نے بھارت کی غرور و تکبر بھری یلغار کو خاک میں ملا دیا۔ چند گھنٹوں میں پاکستان کے شاہینوں نے رافیل طیارے مار گرائے، اڈے تباہ کیے، اوڑی، اودھم پور، پٹھانکوٹ سمیت بجلی کی 70 فیصد سپلائی ختم کر دی۔
بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے، چوکیوں پر سفید پرچم لہرا دیے اور امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی کا اعلان ہوا۔
اس فتح کے پیچھے پوری قوم کا اتحاد، سوشل میڈیا کی جنگی حکمت عملی، پاکستانی میڈیا کا جرأت مندانہ کردار اور سفارتی محاذ پر کامیابی شامل تھی۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں تینوں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ حکمت عملی نے نہ صرف دشمن کو حیران کیا بلکہ عالمی تجزیہ کار بھی دنگ رہ گئے۔
یہ اسلام اور کفر کی نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ ہمیں اندرونی سیاسی استحکام، قومی اتحاد اور عسکری دفاع پر مکمل اعتماد رکھنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ
"ہنود، یہود و نصارٰی کبھی اسلام دوست نہیں ہو سکتے!”آج 56 اسلامی ممالک منتشر ہیں اور کفار متحد۔ اللہ تعالیٰ فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائے۔
پاکستان زندہ باد! پاک فوج پائندہ باد!


اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام
اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کا قیام
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
اوکاڑہ کے باسیوں کے دلوں پر راج کرنے والے میں برسوں سے ایک خواب پل رہا تھا کہ ان کے شہر میں بھی ایک مکمل میڈیکل کالج ہو، جہاں ان کے بچے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ آخرکار یہ خواب پورا ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی دلچسپی اور چوہدری ریاض الحق جج ایم این اے اوکاڑہ کی انتھک کاوشوں سے یہ سنگ میل عبور ہوا اور 16 ارب روپے کی خطیر رقم سے اوکاڑہ میں میڈیکل کالج کی منظوری دے دی گئی ہے۔یہ محض ایک کالج نہیں بلکہ اوکاڑہ کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ہے۔ برسوں سے اوکاڑہ کے نوجوان میڈیکل کی تعلیم کے لیے لاہور، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں کی خاک چھانتے رہے۔ کئی باصلاحیت طلباء و طالبات محض مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنا خواب پورا نہ کر سکے۔ اب اُن کے خوابوں کو پَر لگ چکے ہیں۔ اپنے ہی شہر میں انہیں وہ تمام جدید تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی جو کسی بڑے شہر کے میڈیکل کالج میں ہوتی ہیں۔
اس میڈیکل کالج کی تعمیر کے ساتھ ایک مکمل تدریسی ہسپتال بھی قائم ہوگا جو جدید مشینری، تجربہ کار ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف سے مزین ہوگا۔ اس اسپتال سے نہ صرف اوکاڑہ بلکہ گرد و نواح کے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔ جہاں پہلے معمولی امراض کے علاج کے لیے بھی مریضوں کو لاہور لے جایا جاتا تھا، اب انہی بیماریوں کا علاج اپنے شہر میں میسر ہوگا۔
یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ اس خواب کو حقیقت بنانے میں چوہدری ریاض الحق جج کا کردار کلیدی رہا۔ انہوں نے ہر فورم پر اوکاڑہ کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے میڈیکل کالج کے قیام کی آواز بلند کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومت نے اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا اور عوام کے دل جیت لیے۔
16 ارب روپے کی اس سرمایہ کاری سے نہ صرف تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلاب آئے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئے گی اور اوکاڑہ ایک تعلیمی و طبی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔
آج اوکاڑہ کے نوجوانوں کے چہروں پر خوشی کی چمک ہے، والدین کے دلوں میں اطمینان ہے اور شہر کے باسیوں میں ایک نئی امید جاگ چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور چوہدری ریاض الحق جج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور قیادت مخلص ہو تو خواب شرمندہ تعبیر ہو جاتے ہیں۔
یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے اپنا بچپن یاد آ رہا ہے جب میڈیکل کے خواب دیکھنے والے کئی ہونہار بچے محض سہولیات کی کمی کی وجہ سے اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ آج کا اوکاڑہ اُن کے خوابوں کی تعبیر بن چکا ہے۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس منصوبے کی حفاظت کریں، اسے سیاست کی نذر نہ ہونے دیں اور اپنے بچوں کا مستقبل روشن بنائیں۔
مگر اس موقع پر مرحوم راؤ سکندر اقبال سابقہ وزیر دفاع کا ذکر نہ کرنا اور ان کو اوکاڑہ کی ترقی کے حوالہ سے خراج تحسین پیش نہ کرنا سب سے بڑی زیادتی ہوگی۔ راؤ سکندر اقبال مرحوم کی خدمات اوکاڑہ کا ایک سنہری باب ہیں جن کی انتھک کوششوں سے اوکاڑہ کو چار چاند لگے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔


ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف
ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
پاکستان کی سینیٹ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی حالیہ تقریر نے ایک بار پھر پاکستان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے تاریخی بیانیے کو زندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا حوالہ دیا، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2011 میں کہا تھا کہ "ایران کے بعد پاکستان ہماری نظر میں ہوگا۔” یہ بیان اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کی جوہری طاقت اسرائیل کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا وہ اقتباس ہے جو اسرائیل کے بانی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے دیا تھا جو مبینہ طور پر 1967 میں The Jewish Chronicle (UK) میں شائع ہوا تھاکہ "عرب ہمارے دشمن نہیں ہیں کیونکہ ہم ان کو جانتے ہیں اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی ہمارے پاس ہے۔ ہمارا اصل دشمن پاکستان ہے کیونکہ پاکستان اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔” موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی اور پاک بھارت تنازعات میں اسرائیلی کردار نے اس دشمنی کو نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اس کے عرب ممالک کے ساتھ تنازعات عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کبھی سفارتی سطح پر استوار نہ ہوئے۔ پاکستان نے فلسطینی کاز کی غیر متزلزل حمایت کی اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے پلیٹ فارم سے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں جب اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف فتح حاصل کی تو پاکستان نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا لیکن سفارتی طور پر عرب ممالک کی بھرپور حمایت کی۔ صدر ایوب خان کی قیادت میں پاکستان نے OIC کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا جو عرب اسرائیل تنازعے کے تناظر میں اسلامی ممالک کے اتحاد کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنا۔
1973 کی عرب اسرائیل جنگ نے اس اتحاد کو مزید مستحکم کیا۔ OPEC کے رکن ممالک خاص طور پر سعودی عرب نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کے خلاف تیل کی پابندی عائد کی جسے "تیل کا ہتھیار” کہا گیا۔ اس اقدام نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا اور پاکستان نے اس کی سیاسی حمایت کی، جو اس کے فلسطینی کاز اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کے نظریاتی موقف کا عکاس تھا۔ پاکستانی فضائیہ کے افسران نے اردن اور شام میں اسرائیلی طیاروں کے خلاف شجاعت سے لڑائی لڑی، جو پاکستان کی عرب کاز سے وابستگی کا ثبوت ہے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس نے اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اقوامِ متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی وکالت کی۔
پاکستان کا ایٹمی پروگرام جو 1974 میں بھارت کے جوہری دھماکے کے بعد تیزی سے ترقی کرتا چلا گیا، نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل کے لیے بھی تشویش کا باعث بنا۔ 1980 کی دہائی میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور بھارتی ایجنسی را (RAW) کے درمیان تعاون کی خبریں سامنے آئیں، جن کا مقصد مبینہ طور پر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو سبوتاژ کرنا تھا۔ 1984 میں اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو "خطرہ” قرار دیا اور 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی تجربات کیے تو یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے۔ بھارتی صحافیوں اور مغربی مبصرین نے "Project Blue Star II” نامی ایک مبینہ منصوبے کی تفصیلات شائع کیں، جس کے تحت را اور موساد نے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔پاکستان کی چوکس ہونے کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوا، لیکن اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسرائیل پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے کتناخوفزہ اور مخالف ہے.
حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسرائیل کھل کرپاکستان دشمنی میں سامنےآیا۔ مئی 2025 میں بھارت نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کیے، جن میں لاہور، کراچی اور بہاولپور جیسے کئی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستانی فورسز نے ان حملوں کو ناکام بنایا لیکن اسرائیلی سفیر رووین آزار کی جانب سے بھارت کے "دفاعی حق” کی حمایت نے اس دشمنی کو مزید عیاں کر دیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں را اور موساد ملوث ہیں، جن میں کراچی میں چینی انجینئرز پر حملے اور گوادر میں سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ بھارت 2004 سے اسرائیلی فالکن کنٹرول سسٹم سمیت جدید ہتھیار حاصل کر رہا ہے اور اسرائیلی ٹیکنالوجی اب بھارتی عسکری مشن کا اہم جزو بن چکی ہے۔
موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو ایک غیر مستحکم خطے میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور ایران پر حملوں کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔اور رواں ہفتے اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا.جنگ میں تبدیل ہوتا یہ منظر نامہ ،اس کے علاوہ پاکستان جو جغرافیائی طور پر ایران کے قریب ہے، اس سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ ایران کے بعد پاکستان کو اسرائیلی ایجنڈے کا ہدف بنانا، جیسا کہ اسحاق ڈار نے نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو کے حوالے سے خبردار کیا، پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس کی دفاعی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے اور اسے ہدف بنانے کی کوئی بھی کوشش خطے میں ایک بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔
پاکستان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی جڑیں نظریاتی اختلافات، فلسطینی کاز کی حمایت اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے متعلق اسرائیلی خدشات میں پیوست ہیں۔ بن گوریان کا بیان تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور اس دشمنی کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں اسرائیلی ڈرونز اور فوجی تعاون واضح دکھائی دیا، نیز ایران اسرائیل تنازعے کی بڑھتی ہوئی شدت، پاکستان کے لیے نئے چیلنجز پیش کرتی ہے۔
پاکستان کو اس بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت کی حفاظت شامل ہے بلکہ سفارتی سطح پر OIC اور دیگر عالمی فورمز کے ذریعے اپنے موقف کو مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے مبینہ گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوگا اور خطے میں اپنے اتحادیوں، خاص طور پر سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنا ہوگا۔
ایران کے بعد پاکستان اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے، جیسا کہ نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو اور اسحاق ڈار کے بیان سے عیاں ہے۔ یہ کوئی واہمہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو عشروں سے جاری جغرافیائی سیاسی چالوں اور بین الاقوامی سازشوں سے جڑی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے پاکستان کی جوہری طاقت کو مسلسل خطرہ سمجھا جاتا رہا ہے اور بھارت اس ایجنڈے کا علاقائی شراکت دار بنا ہوا ہے۔ آج جب مشرق وسطیٰ ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے تو پاکستان کو اپنی جوہری صلاحیت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو نئے عالمی تناظر میں ترتیب دینا ہوگا۔ یہ "ایشیا پیسیفک کولڈ وار” کا دور ہے، جہاں دشمن نہ صرف سرحدوں پر ہے بلکہ عالمی سازشوں کے جال میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگابلکہ عالمی برادری میں اپنی آواز کو زیادہ موثر انداز میں اٹھانا ہوگا تاکہ وہ اس نظریاتی جنگ میں اپنی بقا اور خودمختاری کو یقینی بنا سکے۔


معاشرے میں بداعتمادی کا خاتمہ ضروری
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خبروں، باتوں اور افواہوں کی رفتار بجلی سے بھی تیز ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل ایپلیکیشنز اور دیگر ذرائع کی بدولت ہر شخص کی زندگی دوسروں کے سامنے ایک کھلی کتاب بنتی جا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق سچ مان لیں؟ اور کیا کسی کے بارے میں محض سنی سنائی بات پر تعلقات ختم کر دینا یا ان کی عزت اچھالنا درست ہے؟ہر گز نہیں،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ”(سورۃ الحجرات، آیت 6)
یہ آیت ہمیں ایک واضح ہدایت دیتی ہے کہ کسی کی بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لینا دانشمندی نہیں بلکہ جہالت ہے۔ تحقیق کے بغیر کسی پر الزام لگانا، اس کی شخصیت کو بدنام کرنا یا اس سے تعلق ختم کر لینا ایک نہایت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔
ہم اکثر دوسروں کے بارے میں سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر رائے قائم کر لیتے ہیں، چاہے وہ بات جھوٹ ہو یا سچ کا فقط ایک پہلو۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے تعلقات کو خراب کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بداعتمادی، دوری اور منافقت کو فروغ دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا”گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے”(صحیح بخاری)الزام تراشی کا انجام یہ ہوتا ہے کہ سچ سامنے آنے پر انسان شرمندگی کا شکار ہوتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو آخرت میں بھی حساب دینا ہوگا۔
اسلام کا پیغام یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی کی خامی یا کوتاہی معلوم ہو بھی جائے، تب بھی ہمیں اس کا پردہ رکھنا چاہئے، نہ کہ دوسروں کے سامنے اس کی تشہیر کریں یا مزاق بنائیں۔رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے،”جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا”(صحیح مسلم)،یہ عمل صرف نیکی ہی نہیں بلکہ انسانیت کا بھی تقاضا ہے۔ جب ہم دوسروں کی عزت کا خیال رکھیں گے تو ہماری اپنی عزت بھی محفوظ رہے گی۔
کسی دوست، رشتہ دار یا عزیز کے بارے میں ایک الزام سن کر فوری طور پر قطع تعلقی کرنا دراصل جذباتی کمزوری کی علامت ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ ہم بات کی حقیقت جانیں، فریقین کا موقف سنیں اور اس کے بعد ہی کسی رائے یا فیصلے پر پہنچیں۔بغیر تصدیق تعلق ختم کرنا نہ صرف دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ خود ہمارے لیے بھی پچھتاوے کا باعث بن سکتا ہے۔ کئی بار سچائی سامنے آنے پر وقت گزر چکا ہوتا ہے اور تعلقات واپس جوڑنا ممکن نہیں رہتا۔یہ وقت ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اور مہذب انسان اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر بات پر فوراً یقین نہ کریں۔دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔عیب پوشی کریں، نہ کہ عیب جوئی۔تحقیق اور انصاف کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے کہ ہم کسی کی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنیں، بگاڑنے کا نہیں۔
تحریر:نور فاطمہ
































