Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سمت کی تلاش. مگر کب تک؟

    سمت کی تلاش. مگر کب تک؟

    سمت کی تلاش. مگر کب تک؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کی 75 سالہ تاریخ اگر کسی ایک مقام پر کھڑی دکھائی دیتی ہے تو وہ ہے "چوراہا”ایک ایسا چوراہا جہاں سے کئی راستے نکلتے ہیں، مگر ہم نہ کبھی سمت کا تعین کر پائے، نہ منزل کی طرف بڑھ سکے۔ ہر چند سال بعد ایک نیا نعرہ، نیا خواب، نئی امید اور پھر وہی پرانا دھوکہ۔ ہم بطور قوم ہر دور میں چوراہے پر ہی کھڑے رہے جمہوریت ہو یا آمریت، سیکولرزم ہو یا مذہبی سیاست، معیشت ہو یا نظریاتی شناخت،ہر موڑ پر سوال وہی رہا: اب کیا ہوگا؟ مگر ہم نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ بار بار ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

    ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ نہیں کہ ہم منزل تک نہیں پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں کبھی یہ معلوم ہی نہیں رہا کہ منزل ہے کیا؟ تعلیمی پالیسی ہو یا خارجہ حکمتِ عملی، صنعتی وژن ہو یا زرعی منصوبہ بندی،ہماری تمام پالیسیاں وقتی، سطحی اور سیاسی فائدے کے تابع رہی ہیں۔ ہر نئی حکومت پرانی پالیسیوں کو لپیٹ کر نئی زبان میں پیک کر دیتی ہے، مگر عملی میدان میں صفر۔ وژن 2025 ہو یا وژن 2030، یہ سب خواب کاغذوں پر تو خوبصورت لگتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد کی نیت کہیں نظر نہیں آتی۔

    ملک میں ترقی کے دعوے تو ہوتے ہیں مگر یہ صرف رپورٹوں اور پریس کانفرنسز کی زینت بنتے ہیں۔ حقیقت میں ہم آج بھی صاف پانی، بنیادی تعلیم، صحت، بجلی اور گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ کسان زبوں حالی کا شکار ہے، نوجوان بے روزگار ہیں اور متوسط طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ مگر سیاست دانوں کے پاس ہر بار ایک نیا بیانیہ، ایک نیا خواب ضرور ہوتا ہےجس کا اختتام صرف نعروں، ٹوئٹس اور اشتہارات پر ہوتا ہے۔

    ہر آنے والا حکمران "نیا پاکستان”، "ریاست مدینہ” یا "ترقی کے سنہرے دور” کے نعرے لے کر آتا ہے، مگر یہ نعرے صرف ماضی کے خوابوں کی طرح دم توڑ دیتے ہیں۔ اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرے، ادارے مضبوط بنائے، طویل المدتی منصوبہ بندی کرے،نہ کہ صرف تقاریر اور تصویری مہمات پر گزارا کرے۔

    یہ کہنا بھی درست ہے کہ صرف حکمران طبقہ ہی نہیں بلکہ ہم عوام بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ہم ووٹ جذبات کی بنیاد پر دیتے ہیں، فیصلے سوشل میڈیا کی افواہوں سے کرتے ہیں اور جب نتائج برآمد ہوتے ہیں تو شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ ہم نے کبھی سنجیدہ اجتماعی سوچ کو فروغ نہیں دیا، نہ ہی طویل المدتی استحکام کو ترجیح دی۔

    کب تک؟
    یہ سوال اب صبر کا نہیں، بیداری کا ہے:
    ہم کب تک غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارتے رہیں گے؟
    کب ہم بحیثیت قوم اپنی سمت کا تعین کریں گے؟
    کب ہم اجتماعی روڈ میپ تشکیل دیں گے؟
    کب ہم نعرے بازی سے نکل کر منصوبہ بندی، ادارہ سازی اور قانون کی حکمرانی کو اپنا شعار بنائیں گے؟

    اب بھی وقت ہے…
    اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو وقت کا بہاؤ ہمیں پیچھے چھوڑ دے گا۔ دنیا آگے بڑھ چکی ہے، ہم اب بھی اسی چوراہے پر کھڑے ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، اپنی منزل خود متعین کرنا ہوگا۔ وگرنہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف سوالات، خالی وعدے اور مایوسیوں کا ورثہ دے کر جائیں گے۔

    مگر… کب تک؟

  • اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان

    اپووا — قلم کا کارواں .ملک یعقوب اعوان

    قلم کی لو سے روشن ہے، یہ بزمِ بیداری
    لفظوں میں ہے طاقت، اور فن میں دل‌داری
    ادب کے قافلے کی ہے، یہ شانِ نیازی
    اپووا ہے وہ تنظیم، ہے سب پر یہ بھاری
    ادیبوں کی پکار ہے، لکھاریوں کی شان
    خیالوں کا یہ قافلہ، نہیں کوئی عام کاروان
    جو حرف میں بغاوت ہو، جو نظم میں ہو جان
    اپووا کے ہر رکن کا، ادب سے جڑا ہے ایمان
    یہ بزمِ علم ہے ایسی، جو سوچ جگاتی ہے
    اندھیر دل میں بھی کچھ خواب ٹانک جاتی ہے
    جو خامشی میں بولے، جو چپ توڑ جاتی ہے
    اپووا وہ امید ہے، جو حوصلہ بڑھاتی ہے۔
    مشاعرے ہوں یا اجلاس، ہو کوئی تخلیق کا باب
    یہ کارواں ادب کا ہے، نرالا، بے حساب
    قلم سے انقلاب آئے، سچائی ہو کامیاب،
    اپووا ہے وہ محاذ، جہاں لفظ ہو جواب۔
    تو آؤ، ارادوں سے ہم روشن چراغ جلائیں
    اپووا کی چھاؤں میں، نئی دُنیائیں بسائیں
    ادب کا پیغام لے کر، ہم سب کو ساتھ لائیں
    یہ بزمِ فن کہتی ہے — چلو، دلوں کو ملائیں
    یعقوب اعوان

  • مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    مسرت کلانچوی کے اعزاز میں شام، تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    26 مئی پیر کے دن کاسمو پلیٹن کلب میں مسرت کلانچوی صاحبہ کے اعزاز میں ایک شام منانے کا اہتمام کیا گیا یہ اہتمام انجن ترقی پسند مصنفین اور پاک میڈیا فاؤنڈیشن طرف سے تھا بہت خوبصورت شام تھی جس میں مصنفین، صحافیوں اور پی ٹی وی سے وابستہ افراد اور مسرت صاحبہ کے دوستوں نے بھر پور شرکت کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا .

    مسرت کلانچوی جو تغمہ امتیاز سمیت بہت سے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں انہوں نے ادب کی ہر صنف میں لکھا اور بہت خوب لکھا ان کی صلاحیتوں کو بہت پذیرائی ملی ان کے لکھے ڈرامے ہوں یا افسانے ناول ہوں یا بچوں کا ادب اور پھر سیرت نبوی پر بھی لکھا اردو میں بھی اور سرائیکی میں بھی لکھا بلکہ وہ سرائیکی کی پہلی افسانہ نگار ہیں نام و نمود سے دور وہ ایک جینوئن تخلیق کار کی طرح بچپن سے اب تک فن کی آبیاری کرتی رہیں
    اس پروگرام میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، پروگرام کی نظامت جاوید صاحب نے کی مہمانان خصوصی میں پروین ملک صاحبہ، بلقیس ریاض صاحبہ، حفیظ طاہر صاحب، ڈاکٹر ایوب ندیم ، آ غا قیصر عباس، ڈاکٹر امجد طفیل شامل تھے جبکہ مسرت کلانچوی صاحبہ نے کمال مہربانی سے اپنی دوستوں کو بھی مہمانان خصوصی کا درجہ دیا اور ہم سب کو باقاعدہ اسٹیج پر بلوا کر بٹھایا اور گفتگو کا موقع دیا دوستوں میں دعا عظیمی، ثمینہ سید ، کنول بہزاد ، رقیہ اکبر ، شاہین اشرف علی ، فاطمہ شیروانی اور دیگر شامل تھیں .

    بلقیس ریاض صاحبہ نے کہا کہ میں نے جب مسرت کلانچوی کا سارا تخلیقی کام دیکھا تو بہت حیران اور متاثر ہوئی کہ اتنا بہترین تخلیقی کام ان کے کریڈٹ پر ہے ثمینہ سید اور کنول بہزاد نے بھی مسرت صاحبہ کے تخلیقی کام پر عمدہ گفتگو کی ڈاکٹر ایوب ندیم ، پروین ملک ، کامریڈ تنویر صاحب اور تمام گیسٹ سپیکرز نے مسرت صاحبہ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا

    میں نے کہا کہ مسرت صاحبہ بھاگوان یعنی نصیب والی ،خوش قسمت ہیں کہ ان کو ساز گار جہان ملا ان کے والد نے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی ان کو اچھا ماحول دیا اور پھر ان کی شادی بھی ایسے شخص سے ہوئی جہاں ان کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ مزید جلا ملی علامہ اقبال نے ایک شعر میں کہا تھا
    گفند جہان ما آ یا بہ تو می سازد؟
    گفتم کہ نمی سازد گفند کہ برہم زن
    (کیا تمہیں میرا جہان ساز گار ہے ؟
    کہا ، نہیں، کہا، تو پھر اسے درہم برہم کردو)
    اس دنیا میں بہت سے لوگوں کو جہان ساز گار نہیں ملتا لیکن وہ اسے درہم برہم نہیں کر سکتے بلکہ بہت سے لوگوں کی زندگی ایسے گزرتی ہے کہ
    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    مسرت کلانچوی صاحبہ نے آخر میں بہت خوبصورت گفتگو کی اور اپنے لکھے پہلے ڈرامے ،، ایک منٹ، ، کا پس منظر بیان کیا ان کا پہلا ڈرامہ ہی نصرت ٹھاکر اور پی ٹی وی کے ارباب اختیار کو بہت پسند آیا اور آن ایئر ہونے پر عوام کو بھی پسند آیا ، مسرت کلانچوی صاحبہ نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ واقعی خوش قسمت ہیں ان کے والد اور شوہر اسلم ملک صاحب نے بھر پور تعاون کیا،مسرت کلانچوی صاحبہ کے اس مقام تک پہنچنے میں قسمت کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی محنت اور فن سے ان کی گہری وابستگی، کمٹمنٹ کا بھی ہاتھ ہے، ایسے لگتا ہے وہ پیدائشی تخلیق کار ہیں بچپن میں ہی کہانیاں لکھنا مصوری کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ ننھی مصورہ آج بہت عروج پا چکی ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ،پروگرام کے منتظمین کو اتنا اچھا پروگرام ترتیب دینے پر بہت مبارکباد

  • وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    وطنیت کے جال میں امت کی وحدت,تحریر؛ اقصیٰ جبار

    دنیا میں قوموں کی شناخت ان کے اصولوں اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ایک امت کی شکل میں جینے کا درس دیا، اور یہی اتحاد مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ قرآن کہتا ہے:
    "تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی میں نہ پڑو۔”
    مگر آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ اس رسی کو چھوڑ چکی ہے، اور اس کے نتیجے میں ہماری طاقت منتشر ہو گئی ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان متحد تھے، دنیا ان کے قدموں میں جھکتی تھی۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے نہ صرف دنیا کو بہترین عدل و انصاف دیا بلکہ علم، حکمت، اور ثقافت کا چراغ بھی روشن کیا۔ سلطنت عثمانیہ کا زوال ہماری وحدت کے خاتمے کی داستان سناتا ہے، اور آج کی حالت تو یہ ہے کہ ہم قوموں کی صف میں اپنے وقار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    ہماری وحدت کا خاتمہ کیسے ہوا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمیں اپنی اجتماعی ناکامیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وطن پرستی نے ہمیں ایک قوم کے بجائے مختلف ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر ملک، ہر قوم اپنی سرحدوں کے اندر محدود ہو کر رہ گئی ہے، اور اس محدود سوچ نے امت کے تصور کو دھندلا کر دیا ہے۔

    اقبال نے اسی حقیقت کو بڑے زور دار الفاظ میں بیان کیا تھا:
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے، وہ ملت کا کفن ہے

    وطن سے محبت فطری ہے، اور اسلام اسے روکتا بھی نہیں، لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ محبت ہماری اصل شناخت، یعنی امت مسلمہ، پر غالب آ جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک تھے۔ آج ہم ان حدود کے قیدی بن چکے ہیں جو ہم نے خود کھینچی ہیں۔

    ہماری سیاسی قیادت، جو امت کی رہنمائی کی ذمہ دار تھی، اب خود مفادات کی سیاست کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمارے اندرونی اختلافات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے، اور دوسری طرف بیرونی طاقتیں ہمیں تقسیم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمان کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہ آئیں، کیونکہ ہمارا اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

    اقبال نے ہمیں بار بار یاد دلایا کہ مسلمانوں کی اصل طاقت ان کا ایک امت ہونا ہے:
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

    اب سوال یہ ہے کہ اس زوال کا علاج کیا ہے؟ کیا ہم اپنی تاریخ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق دے سکتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار ہونے کا مطلب صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمیں ایک امت بن کر جینے کا درس دیتا ہے؟ یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ مدارس اور جامعات میں ایسا نصاب متعارف کرائیں جو امت کے تصور کو زندہ کرے۔ علماء اپنے خطبوں میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد کا درس دیں۔ میڈیا، جو آج زیادہ تر نفرت کے بیج بوتا ہے، اسے ایک مثبت پیغام کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔ اور سب سے اہم، ہر مسلمان اپنے دل میں یہ عزم کرے کہ وہ امت مسلمہ کا حصہ ہے اور اس کا کردار اسی وحدت کو مضبوط کرنے میں ہے۔

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آج بھی ہم اپنی سمت درست کر لیں اور اللہ کی رسی کو تھام لیں، تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہ امت ایک بار پھر دنیا کے سامنے اپنی عظمت کا لوہا منوا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کی دیواریں گرا دیں اور ایک جسم بن جائیں، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا:
    "مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں؛ اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔”

    وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو پہچانیں اور ان نظریاتی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ تب ہی ہم اس امت کی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

  • امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    امت مسلمہ اور اخلاقی زوال،تحریر؛ اقصیٰ جبار

    Email;jabbaraqsa2@gmail.com

    دنیا بھر میں امت مسلمہ کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، مگر ان میں ایک سب سے بڑا چیلنج ہے اخلاقی زوال۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر نہ صرف میڈیا کم توجہ دے رہا ہے بلکہ ادب اور معاشرتی مباحث میں بھی اس کی گونج بہت کم سنائی دیتی ہے۔

    اخلاقیات، کسی بھی قوم کی بنیاد اور اس کی پہچان ہوتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اخلاق کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "مجھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔” مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر ان تعلیمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جھوٹ، بددیانتی، رشوت، حسد، اور خود غرضی جیسے عیوب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

    اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اخلاقی اقدار کے ذریعے ہی دنیا کو متاثر کیا۔ مسلمانوں کی سچائی اور امانت داری کی مثالیں آج بھی تاریخ کے اوراق میں جگمگا رہی ہیں۔ مگر موجودہ دور میں، ہم اپنی اس میراث کو فراموش کر چکے ہیں۔

    معاشرتی سطح پر، اخلاقی زوال کی سب سے بڑی مثال ہمارے رویے ہیں۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ محلے کی سطح سے لے کر عالمی تعلقات تک، ہم اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ نتیجتاً، امت مسلمہ دنیا میں اپنی عظمت اور مقام کھو رہی ہے۔

    میڈیا اور ادب کو چاہیے کہ اس مسئلے کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور بیدار کریں۔ ایسے موضوعات پر ڈرامے، مضامین، اور کالم لکھے جائیں جو لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔ تعلیمی نظام میں اخلاقیات کے مضامین کو شامل کیا جائے اور والدین کو بھی بچوں کی تربیت میں اخلاقی اقدار کو ترجیح دینی چاہیے۔

    یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ان میں بہتری لائیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو اخلاقی اقدار کے ذریعے دوبارہ حاصل کرے۔

    اگر ہم اپنی اخلاقیات کو درست کر لیں، تو دنیا میں ہماری پہچان دوبارہ قائم ہو سکتی ہے اور ہم دنیا کے لیے ایک مثالی قوم بن سکتے ہیں۔

  • اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) نے حال ہی میں پشاور چکوال اور تلہ گنگ کا ایک انتہائی کامیاب اور یادگار دورہ مکمل کیا، جس نے ادبی، صحافتی اور معاشرتی میدان میں نئے افق روشن کیے۔ یہ دورہ قلمکاروں کے باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے اور خاص طور پر دور دراز علاقوں کی باصلاحیت مرد و خواتین لکھاریوں کو قومی دھارے میں لانے کے اپووا کے غیر متزلزل عزم کی عملی مثال بنا۔

    اپووا کے وفد نے پشاور پہنچنے پر سب سے پہلے گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی، جو اس دورے کا سب سے اہم اور بنیادی حصہ تھا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور معاشرتی ترقی میں قلمکاروں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات نے اپووا کے مقاصد اور کوششوں کو حکومتی سطح پر نہ صرف پذیرائی دلائی بلکہ مستقبل کے لیے نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے۔

    گورنر ہاؤس سے ملاقات کے بعد، اپووا کے وفد نے ” چائنہ ونڈو” کا دورہ کیا، جو چین کی ثقافت اور اقدار کو پاکستانی عوام سے متعارف کرانے کا ایک منفرد اور دلکش پلیٹ فارم ہے۔ یہیں اپووا کے پہلے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح کیا گیا، جو خطے میں قلمکاروں کے لیے ایک نئے مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اپووا کی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا، ناز پروین نے اس موقع پر وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا جس میں مقامی کھانوں کی لذت اور روایتی پشاوری قہوے کی مہمان نوازی نے وفد کے دل موہ لیے۔
    apwwa


    پشاور میں اگلا پڑاؤ حیات آباد تھا، جہاں باہمی رشتوں کے احترام کی ایک مثال قائم کی گئی۔ اپووا کے پی کے وومن ونگ کی صدر فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر ان کے شوہر کے انتقال پر تعزیتی ملاقات کی گئی اور حیات آباد میں ہی اپووا کے ریجنل آفس کا بھی افتتاح عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عمر شہزاد اور اپووا کی ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کی جانب سے وفد کے لیے ایک مزیدار ہائی ٹی کا انتظام کیا گیا۔ اور کیک کاٹا گیا ۔اس موقع پر نئے عہدوں کا بھی اعلان کیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔


    مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی، رانی عندلیب کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان کے تاثرات اس دورے کا سب سے متاثر کن اور عزم سے بھرپور حصہ تھے: "میں اپووا کی انتہائی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی خاتون کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے اور اس کو اپنے وفد میں شامل کر کے گورنر ہاؤس تک لائے جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں خواتین کے فیلڈ میں کام کرنا کو برا سمجھا جاتا ہے، مجھ پر اس سے پہلے تو دو تین حملے ہو چکے ہیں لیکن میں اپنے شوق اور لگن کی وجہ سے کام کر رہی ہوں۔ انتہائی مشکور ہوں کہ اپووا نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا اور اس وفد میں شامل کیا”۔ رانی عندلیب کی کہانی عزم، ہمت اور قلم کی طاقت کی ایک زندہ مثال ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپووا کس طرح پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔


    پشاور کے بعد، اپووا کا وفد "شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین” تلہ گنگ پہنچا، جو اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، اور متحرک رکن ممتاز اعوان کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ یہاں بھی اپووا کے ضلعی آفس کا پروقار افتتاح کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے صحافی اور لکھاری شریک ہوئے۔ یہ بھرپور شرکت اپووا کی علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر شیخ فیضان کو اپووا کوارڈینیٹر تلہ گنگ اور چکوال مقرر کیا گیا۔ اس تقریب میں ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا، جو علاقے کے ادبی حلقوں کے لیے ایک خوشگوار آغاز ثابت ہوا۔ یہ دورہ صرف دفاتر کے افتتاح یا ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ قلمکاروں کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپووا کے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر تھا۔ اس تاریخ ساز دورے نے پاکستان میں ادبی اور صحافتی تحریک کو نئی جہتیں دی ہیں اور نئی نسل کو قلم کے ذریعے مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دی ہے۔

  • اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی. قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان

    اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی. قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان

    اوکاڑہ: جنگلات کی بربادی ، قدرتی خزانے کے ضیاع کی داستان
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہم بحیثیت قوم وقت کا ضیاع اور وسائل کا صحیح استعمال نہ کرنا ہماری رگوں میں خون کی طرح شامل ہے۔ سرکاری اداروں کے ساتھ پبلک ریلیشن شپ نہ ہونے کی وجہ سے آج ہماری قوم نہ صرف مقروض ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی مقروض پیدا ہوتی رہیں گی۔

    آج ہم آپ کو اوکاڑہ کی سطح پر وسائل ہونے کے باوجود منصوبہ بندی نہ کرنے کے حوالہ سے محکمہ جنگلات پر بات چیت کرتے ہوئے یہ بتائیں گے کہ کس طرح ہم درختوں کے حوالہ سے فوائد حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ضلع اوکاڑہ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ زرخیز زمین، وسیع نہری نظام، سازگار موسمی حالات اور بہترین آبی وسائل اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں جنگلات کے فروغ کی بے پناہ گنجائش موجود ہے، مگر افسوس کہ نہ حکومتی سطح پر سنجیدگی دکھائی گئی اور نہ ہی عوامی سطح پر شعور پیدا کیا جا سکا۔

    آج دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیاں تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ درخت اور جنگلات ہی وہ قدرتی ذریعہ ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ماحول کو متوازن رکھتے ہیں، زمین کو بنجر ہونے سے بچاتے ہیں اور ہزاروں مخلوقات کے لیے مسکن مہیا کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اوکاڑہ جیسے زرعی ضلع میں جنگلات کے فروغ کو کبھی حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیا۔

    سال 2019/20 میں محکمہ جنگلات کی جانب سے اوکاڑہ میں ایک نئی امید کا چراغ روشن ہوا۔ اس وقت کے ایس ڈی او افتخار احمد جنجوعہ کی قیادت میں نہروں اور راجباہوں کے کناروں پر درخت لگانے کا ایک شاندار منصوبہ شروع ہوا۔ ان کی ٹیم نے لاکھوں درخت لگائے۔ یہ نہ صرف محکمانہ کارکردگی کی ایک مثال تھی بلکہ ایک عزم اور جذبے کی داستان بھی تھی۔ افتخار احمد جنجوعہ اور ان کی ٹیم کو بجا طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے نہ صرف منصوبے کو عملی جامہ پہنایا بلکہ ایک نئی راہ بھی دکھائی۔

    مگر بدقسمتی سے افتخار احمد جنجوعہ کی ٹرانسفر کے بعد یہ منصوبہ بھی روایتی بدانتظامی اور کرپشن کی نذر ہو گیا۔ نہ صرف نئے درخت لگانے کا عمل رک گیا بلکہ پہلے سے لگے درختوں کی دیکھ بھال بھی چھوڑ دی گئی۔ نتیجتاً مقامی بااثر افراد اور زمینداروں نے محکمانہ ملی بھگت سے اربوں روپے مالیت کے درخت چوری کر کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا۔

    تحصیل دیپالپور کے مقام پپلی پہاڑ پر جنگلات کی کٹائی آج بھی جاری ہے۔ سرکاری اہلکاروں کی چشم پوشی اور بدعنوان عناصر کی سرپرستی میں سرسبز درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ یہ قومی اثاثہ ضائع ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

    حیران کن بات یہ ہے کہ اوکاڑہ میں وسیع نہریں، راجباہ اور کھالوں کا جال موجود ہے، جو سارا سال پانی مہیا کرتے ہیں۔ پانی کی دستیابی کے باوجود درخت لگانا حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔ یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے درست منصوبہ بندی اور نیک نیتی سے بروئے کار لایا جائے تو اوکاڑہ پورے پنجاب میں جنگلات کا ماڈل ضلع بن سکتا ہے۔

    اگر حکومت سنجیدہ ہے تو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:

    * درختوں کی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
    * محکمہ جنگلات کو فعال کیا جائے اور مستقل نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
    * سرمایہ کاروں کو سہولیات دے کر جنگلات کے فروغ میں شریک کیا جائے۔
    * عوام میں درختوں اور جنگلات کی اہمیت پر شعور اجاگر کیا جائے۔
    * مقامی نوجوانوں کو جنگلات کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے بھرتی کیا جائے تاکہ غربت اور بے روزگاری میں کمی آئے۔

    اوکاڑہ میں جنگلات کی بربادی صرف سرکاری نااہلی کی ایک مثال نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ افتخار احمد جنجوعہ جیسے دیانتدار اور فرض شناس افسران کی محنت اور لگن ضائع نہ ہونے دی جائے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ جنگلات کے فروغ کو صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ معاشی استحکام کے مضبوط ستون کے طور پر لیا جائے۔ اگر ہم نے آج بھی آنکھیں نہ کھولیں تو کل ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

    عوامی آگاہی کے لیے آج ہی اپنا کام شروع کرنا ہوگا۔ ہر پڑھے لکھے شخص کا یہ قومی فریضہ ہونا چاہئے کہ وہ درخت لگانے کی مہم میں صدقہ جاریہ سمجھ کر شامل ہو اور لوگوں کو آگاہ کرے کہ درخت کتنے ضروری ہیں۔

    برسات کا موسم جولائی میں شروع ہو جاتا ہے، جو کہ درخت لگانے کا ایک اچھا موسم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فروری مارچ بھی درخت لگانے کا اچھا موسم ہے۔ علاقائی آب و ہوا میں پلنے والے درخت لگانے چاہئیں۔ اوکاڑہ میں نیم، پیپل، بکین، شریں، جامن، بیری، شیشم، کیکر، آم، لسوڈا اور اس طرح کے کئی ایک درخت لگائے جا سکتے ہیں۔

  • اپووا  اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    پشاور: آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے وفد نے حال ہی میں پشاور میں قائم "چائنہ ونڈو” کا خصوصی دورہ کیا۔ یہ دورہ اپووا کی کے پی کے جنرل سیکرٹری اور چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین کی خصوصی دعوت پر ترتیب دیا گیا۔

    چائنہ ونڈو، چین کی ثقافت، تاریخ اور طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ایک اہم پروجیکٹ ہے۔ یہاں چینی ثقافت سے متعلق ہر چیز، بشمول ان کی کرنسی، روایتی لباس، اور دیگر اشیاء کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ زائرین چین کے بارے میں جامع معلومات حاصل کر سکیں۔اس مرکز میں چینی زبان کی کلاسز بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ مقامی افراد چینی زبان سیکھ سکیں۔ اس دورے کے دوران یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اپووا کے تمام ممبران کو چائنہ ونڈو میں ساڑھے تین ماہ کا چینی زبان کا کورس بالکل مفت کروایا جائے گا۔

    اس کے علاوہ، چائنہ ونڈو میں اپووا کا ایک ضلعی آفس بھی قائم کیا گیا ہے، جو دونوں اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور ثقافتی تبادلے کو مزید فروغ دے گا۔ یہ اقدام اپووا کے ممبران کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا اور پاکستان اور چین کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ڈائریکٹر چائینہ ونڈو ناز پروین کی طرف سے اپووا وفد کے اعزاز میں پر تکلف لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

  • سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    پابندی کے باوجود سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار بن کر ویڈیو بناؤ مہم چلا رہے ہیں۔جیسے ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے ویسے ہی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ورنہ افسران اور گلی کے آوارہ لونڈے لپاڑے ایک جیسے نظر آنے لگیں گے۔
    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر شو آف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔تمہاری سیلف پروجیکشن محکمے کی عزت نہیں بدنامی اور شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔

    سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں،شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔

    ایسے افسران کو نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے ان کی ویڈیوز بنا کر بےعزت کرنا۔ ہم آئے روز ڈرامہ دیکھتے ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا گیا۔ یہ سارا کچھ ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں، سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کیلئے کی جانی والی فنکاریاں اور جعل سازیاں ہیں۔ڈی پی او اپنے ایس ایچ او کو جبکہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیلیدار اور پٹواری کو ایڈوانس ٹاسک دیتے ہیں کہ میرے آنے پر بہترین استقبال ہونا چاہئے اور پروفیشنل ویڈیو گرافرکو بلانا۔آپ غور کریے گا پھول پہنانے اور پتیاں پھینکنے والے سارے منشیات فروش،زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔

    گذشتہ دنوں ایک ایڈیشنل آئی جی ملنے آئے اور سوشل میڈیا کے ذکر پر انہوں نے اس بات کا اقرارکیا کہ فنکاریاں اور سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران نے ناصرف اپنے حلف سے روگردانی اور اختیارات سے تجاوز کیا بلکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بھی شرمسار کیا۔ان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن میں سب سے زیادہ بدنامی اور عوامی نفرت پولیس ڈیپارٹمنٹ نے سمیٹی۔لیکن بہت سارے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر سول افسران پولیس سے زیادہ بڑے اور گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔انہوں نے اپنا موبائل میرے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو دیکھ کر بتائیں کہ یہ اسسٹنٹ کمشنر ٹھیک ہے،ویڈیو دیکھ کر میں نے ان سے کہا کہ سر یہ ہرگز اسسٹنٹ کمشنر نہیں ہوسکتا۔کسی نے فیک اکاؤنٹ بنایا ہو گا ورنہ اسسٹنٹ کمشنر اس قدر واحیاتیاں کیوں کرے گا؟ کوئی بھی آفیسر اس قدر جاہل اور بے شرم تو ہونہیں سکتا، بیوروکریسی کا معیار اتنا بھی نہیں گر سکتا کہ ایسے گندے انڈے بھی آفیسر بن جائیں۔لیکن مجھے غلط ثابت ہونا پڑا کیونکہ یہ اسسٹنٹ کمشنر کا ذاتی اکاؤنٹ تھا۔ابھی میری حیرانی ختم نہیں ہوئی تھی انہوں نے ایک خاتون کی ویڈیو دکھائی تو میں نے کہا کہ خواتین پر تنقید مناسب نہیں ویسے بھی کوئی مجبور عورت ہوگی جو سوشل میڈیا کے زریعے پیسے کمانا چاہتی ہے یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سٹیج ایکٹریس نہیں بلکہ یہ بھی سرکاری ملازم ہے۔

    اگر سرکاری گاڑی اور پروٹوکول ساتھ نہ ہو تو سرکاری افسران سڑکوں اور چوراہوں پر جس طرح کی بیہودہ حرکتیں اور ایکٹنگ کی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں انکو لونڈا لپاڑا سمجھ کر کسی سپاہی نے پکڑ کر تشریف لال کر دینی ہے بعد میں بتاتا پھرے گا کہ میں مراثی نہیں افسر ہوں۔بقول سنئیر افسران سیلف پروجیکشن والے ذہنی مریض ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگے گا تو غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو گا
    تحریر: راحین راجپوت
    دنیا بھر میں تمباکو نوشی کو ایک مہلک عادت تسلیم کیا جاتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف صحت بلکہ معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں میں حکومتیں تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگا کر اس کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں غربت کی شرح بلند ہے اور صحت کی سہولیات محدود ہیں، وہاں سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس لگانے کی حکومتی پالیسی نہ صرف صحت عامہ کے حوالے سے اہم ہے بلکہ یہ غریب طبقے کی مالی حالت پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی ایک عام عادت ہے، جو نوجوانوں سے لے کر بڑی عمر کے افراد تک میں پائی جاتی ہے۔ سگریٹ، نسوار، حقہ اور پان میں استعمال ہونے والا تمباکو روز مرہ کی زندگی میں بہت عام ہے۔ پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو سے جڑی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، جن میں پھیپھڑوں کا سرطان، دل کی بیماریاں اور سانس کی تکالیف شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 160,000 سے زائد اموات تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    جب حکومت سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس کے پیچھے دو بڑے مقاصد ہوتے ہیں:
    1۔ عوام کو تمباکو نوشی سے روکنا
    2۔ قومی خزانے کے لیے آمدنی اکٹھا کرنا

    جب کسی چیز پر ٹیکس لگایا جاتا ہے تو اقتصادی اصول کے مطابق جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی مانگ کم ہو جاتی ہے۔ یہی تصور یہاں بھی کار فرما ہوتا ہے کہ سگریٹ مہنگی ہوگی تو لوگ کم خریدیں گے اور اس مہلک عادت سے باز آئیں گے۔

    تاہم پاکستان جیسے ملک میں جہاں سگریٹ نوشی کی عادت کئی دہائیوں سے جمی ہوئی ہے، وہاں صرف قیمتیں بڑھانا ہی کافی نہیں۔ جب سگریٹ پر ٹیکس لگتا ہے اور اس کی قیمت بڑھتی ہے، تو سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ غریب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ محدود آمدنی میں اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، اس لئے اگر کوئی فرد تمباکو نوشی کا عادی ہے تو وہ اپنی دیگر ضروریات جیسے کھانا، تعلیم یا دوا پر خرچ کر کے بھی سگریٹ خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح ٹیکس سے تمباکو نوشی مکمل ختم تو نہیں ہوتی، لیکن غریب طبقے کی مالی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔

    یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کم آمدنی والے افراد سگریٹ کی جگہ نسوار یا دیگر سستی مگر زیادہ نقصان دہ یا اس کی متبادل اشیاء ڈھونڈ لیتے ہیں، جس پر ٹیکس کی شرح یا تو کم ہوتی ہے یا بالکل نہیں۔ نتیجتاً، ٹیکس کا مقصد یعنی صحت بہتر بنانا، مکمل طور پر حاصل نہیں ہو پاتا۔

    بین الاقوامی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگانے سے اس کے استعمال میں کمی واقع ہوتی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق تمباکو پر ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ، اس کی کھپت میں تقریباً 4 فیصد کمی کرتا ہے، اور کم آمدنی والے ملکوں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

    پاکستان میں بھی اس پالیسی کے کچھ مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں، جیسے نوجوانوں میں سگریٹ شروع کرنے کی شرح میں معمولی کمی۔ تاہم مجموعی طور پر تمباکو نوشی کی شرح میں نمایاں کمی لانے کے لیے ٹیکس کے ساتھ ساتھ تعلیم، آگاہی اور صحت کی سہولیات بھی ضروری ہیں۔

    ٹیکس ایک مؤثر ہتھیار ہے لیکن اگر اس کے ساتھ دیگر اقدامات نہ کیئے جائیں تو یہ کافی نہیں ہوتا۔ حکومت کو چاہیے کہ سگریٹ اور تمباکو نوشی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرے:

    * تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے۔
    * سکولوں اور کالجوں میں تمباکو مخالف تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
    * سگریٹ کی فروخت پر عمر کی حد کو سختی سے لاگو کیا جائے۔
    * علاج معالجے کی سہولیات جیسے کہ تمباکو چھوڑنے والے مراکز قائم کیئے جائیں۔
    * تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہو۔

    اگرچہ سگریٹ پر ٹیکس سے حکومت کو اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن ان فنڈز کا ایک حصہ صحت کے شعبے میں استعمال ہونا چاہیئے، خاص طور پر غریب طبقے کے لیے۔ حکومت اگر چاہے تو ان فنڈز کو عوامی ہسپتالوں میں صحت بہتر بنانے، تمباکو چھوڑنے کے پروگراموں اور بنیادی صحت کے مراکز کے قیام کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اس طرح غریب عوام کو دو طرفہ فائدہ ہو سکتا ہے، ایک طرف صحت بہتر ہو اور دوسری طرف مالی بوجھ کم ہو۔

    سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس ایک اہم پالیسی اقدام ہے جو صحت عامہ کے فروغ کے لیے نا گزیر ہے، لیکن اس کا نفاذ اس انداز میں ہونا چاہیئے کہ غریب عوام پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ محض قیمتیں بڑھا دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی مہمات، صحت کی سہولیات اور سماجی تبدیلی کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔

    اگر یہ سب عوامل ایک دوسرے کے ساتھ چلیں، تو نہ صرف تمباکو نوشی میں کمی آئے گی بلکہ ایک صحت مند، خوشحال اور با خبر معاشرہ تشکیل پائے گا۔