Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اللہ رب العالمین نے قرآن الکریم میں فرمایا ہے ؛
    ترجمہ: ” ان (کافروں) سے لڑو، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا، اور ان پر تمہیں فتح دے گا، اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔”
    (سورۃ التوبہ – آیت 14)

    مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل عرصے سے اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست کا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ جس سے ناصرف غزہ بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک بھی محفوظ نہیں رہے۔ اسرائیل 2023ء سے لے کر 2025ء تک فلسطینی حمایتی تنظیموں حماس اور حزب اللہ کے کئی اہم ترین رہنماؤں اور اعلی قیادت کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا آیا ہے۔ بلکہ لبنان، شام ،یمن،اردن اور ایران کی خودمختاری پہ بھی با رہا حملوں سے باز نہیں آیا ۔ جس میں اعلی قیادت و معصوم شہریوں کو بھی بربریت کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    13 جون جمعہ کی علی الصبح بھی اپنی مجرمانہ فطرت سے مجبور دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل نے ایران کی خودمختاری پہ حملہ کیا۔ جس میں 200 اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت شیراز، تبریز اور شمال مغربی ایران میں اہم جوہری و فوجی تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ جس میں ایران کے 9 اہم سائنس دانوں، اعلی فوجی قیادت جن میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی ، ایرانی آرمی چیف جنرل علی باقری، ایران کے معظم ء اعلی سید علی خامنہ ای کے مشیر اور کئی اہم کمانڈرز سمیت کئی معصوم بچوں اور شہریوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً حملوں میں ایرانی آئل ریفائنریز اور دنیا کی سب سے بڑی گیس ریفائنری پہ بھی حملہ کیا گیا۔

    اسرائیل کے اس دہشت گردانہ فعل پہ تمام مسلم اُمہ سمیت پوری دنیا بالخصوص پاکستان میں غم و غصہ کی شیدید لہر ڈور گئی۔ پاکستان نے اسرائیلی دہشت گردی کو ایران کی خودمختاری و خطے کی سلامتی و سالمیت پہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ۔ اور بھرپور انداز میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی میں ایران کی حمایت اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی باقاعدہ قرارداد بھی پیش کی گئی۔

    مسلم دنیا میں ایران واحد اسلامی ریاست ہے۔ جو غزہ میں جاری اسرائیلی بیہمانہ جارحیت پہ نظریاتی و عملی طور پہ مسلسل علمِ حق بلند کرتی نظر آتی ہے۔ اور اس پہ اپنا ایک واضح و اٹل موقف اور دلیرانہ مزاحمتی جہدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ ایران نے کبھی امریکی و اسرائیلی گھٹ جوڑ کے دباؤ کو اقتصادی و تجارتی پابندیوں کی صورت جھیلا ۔ تو کبھی اپنے اہم رہنماؤں کی شہادتیں دیکھیں۔ مگر ایرانی استقامت و عزمِ حریت میں کبھی کوئی لغزش نہ آ سکی ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ مسلم اُمہ میں ایران اور ایرانی سپریم لیڈر محترم سید علی خامنہ ای کو قدر و محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    اگر ہم حالات و واقعات کا بغور جائز لیں۔ تو واضح نظر آتا ہے۔ کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کو شہ کس کی حاصل ہے۔”نو وار” (کوئی جنگ نہیں) کے سلوگن سے اقتدار پہ براجمان ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے بظاہر پر امن ہونے کا لبادہ اوڑھا۔ اور پچھلے دنوں مشرقِ وسطیٰ کا کچھ مبہم سا دورہ بھی کیا۔ طویل عرصہ سے خطے کے دہشت گرد ملک اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی آزادی کی بات بھی کی ۔ مگر صرف "بات” ہی کی۔ ورنہ تو فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت کی بندش کے لئیے اقوامِ متحدہ میں پیش ہونے والی کسی بھی قرارداد کو امریکہ ہی پاس نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف ٹرمپ نے پرامن ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے ۔ ایران کو بھی مذکرات کی پیشکش کی ۔ جسے ایران نے قبول بھی کر لیا۔

    انہی مذاکرات کا سلسلہ پیر سے عمان میں شروع ہونا تھا۔ اب اگر مذاکرات شروع ہو چکے تھے۔ تو اسرائیل کے کے پاس حملوں کا کیا جواز بنتا تھا۔ یعنی آپ ایک ہی وقت میں وقت و مقام طے کر کے مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی حملے بھی کر رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے ۔ کہ کفار کا پلان تیار تھا۔ اور محض مذاکرات کا جھانسا دے کر اپنے پلان پہ عمل کیا گیا۔

    یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے ۔ کہ امریکہ نےاسرائیلی جارحیت سے دو دن قبل سے ہی مشرقِ وسطی سے اپنے شہریوں اور اہلکاروں کو انخلاء کی ہدایات جاری کی تھیں۔ امریکہ نے بظاہر ایران پہ حملے سے لاتعلقی کا اظہار تو کیا۔ مگر ساتھ ہی اسرائیل کا ناصرف ساتھ دینے کا واضح عندیہ دے دیا ۔ بلکہ ایران پہ دھمکیوں کی بوچھاڑ بھی کر دی گئی۔ کہ اس سے پہلے کچھ نہ بچے ایران اسرائیل سے معاہدہ کرلے ۔ ورنہ مستقبل میں ہونے والے حملے اور بھی وحشیانہ ہوں گے۔ یعنی کفار کے گھٹ جوڑ نے حالات و واقعات ایسے بنا دیئے ۔ کہ ایران مذکرات سے ہاتھ اٹھا لے۔

    اگر اس پورے منظر نامے کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ تو صاف نظر آتا ہے۔ کہ ایران کے خلاف کفار کا یہ شیطانی اتحاد محض اس لیے قائم ہے۔ کہ ایران نے مسلم اُمّہ کے ضمیر کی ترجمانی کرتے ہوئے ہمیشہ ایک واضح اسلامی و دینی عقیدے کی بنیاد پر صیہونی جارحیت کے خلاف علمِ مزاحمت بلند کیا، اور باطل کی تمام تر دھمکیوں، سازشوں اور اتحادوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے فلسطین کے مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔

    ایران پہ صہیونی جارحیت کے بعد ایرانی شہر قم کی مسجدِ جمکران (Jamkaran Mosque) کے گنبد پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا۔ جسے انتقامی پرچم یا "علامتِ انتقام” قرار دیا جاتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مردِ آہن محترم سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے لئیے تکلیف دہ قسمت کا انتخاب کیا ہے ۔ اور بدلہ لینے کا واضح عندیہ دیا۔ جس کی توقع ناصرف ایرانی بلکہ ہر مسلمان کر رہا تھا۔
    سپریم لیڈر کی ہدایت کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے "وعدہِ صادق 3″( الوعد الصادق-3) کے نام سے اسرائیل پہ آپریشن آغاز کیا ہے۔ ایرانی بلیسٹک میزائلوں نے تل ابیب کو روشنیاں گل کرنے پہ مجبور کر دیا ہے۔
    ایران نے اپنے دفاع میں جو قدم اٹھایا ہے۔ بلکل درست اٹھایا ہے۔ ہر خودمختار ملک کو اپنے دفاع اور اپنی خود مختاری کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل مسلم ممالک کی خود مختاری میں مسلسل دخل اندازی کرتا آیا ہے۔ خود دہشت گرد صہیونی قابض ریاست ، موساد کی ایران میں موجودگی کا اعتراف کر چکی ہے۔ ایسی دہشت گرد ریاست اور اس کے دہشت گرد حکمرانوں کی بربریت کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ صہیونی صدر نتین یاہو کا ذہن جنگی جنون میں مفلوج ہو چکا ہے۔ جو مکمل امریکی پشت پناہی میں اقوامِ متحدہ کے قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس وقت مسلم اُمہ کو کفار کے اس گھٹ جوڑ کے خلاف متحد ہونے اور ایک متفقہ موقف اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
    اور آخر میں جنرل باقری آپ کی شہادت کا دلی دکھ ہوا۔۔۔۔۔
    بطور مسلم و پاکستانی ہم ہر طرح سے ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ رب العزت تمام ایرانی شہداء کے درجات بلند فرمائیں۔ اور ایران کو کفار کے خلاف فتح یاب فرمائیں۔
    اللّٰهُمَّ انصُرِ الإسلامَ والمسلمينَ۔
    آمین اللھم آمین

    یہ درس کربلا کا ہے
    کہ خوف بس خدا کا ہے

  • جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفادات کا معاملہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ کتنے دن گذر گئے ایران اسرائیل جنگ کو عالمی قوتیں اور دیگر ممالک خاموش ہیں۔ انسانوں کو آگ کے شعلوں میں جلتا دیکھ کر بھی عالمی قوتوں اور دیگر عالمی حکمرانوں کی خاموشی کے پیچھے مفادات ہی تو ہیں۔ اس سے قبل غزہ ، روس،یوکرائن ، کشمیر اوردیگر دنیا کے وہ ممالک جہاں انسانوں کو آگ کے شعلوں کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ یاد رکھیئے یہ زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، انسانوں کے بسنے کے لئے یہ زمین خدا پاک نے بنائی۔ انسانوں پر کسی طاقتو رکا ظلم اللہ تعالیٰ کو گوارہ نہیں ، و ہ پاک ذات انسانوں پرظلم برداشت نہیں کرتی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی سے دونو ں جانب ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس سے قبل یمن ،لبنان ، شام و انسانوں کے قتل عام سے عالمی قوتیں آگاہ ہیں۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے کس کام کے ؟ امریکہ ، چین ، روس اور دیگر عالمی قوتیں کس کام کی ؟ ان کو بے گناہ انسانوں جن میں بچے بوڑھے ، عورتیں شامل ہیں ، ان کی چیخیں کیوں نہیں سنائی دیتی ؟ مشرق وسطی کو موت ، تباہی سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اسرائیل کی جنگ میں کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ٹرمپ دونوں کو میز پر بٹھا سکتا ہے مذاکرات کروا سکتا ہے ۔دونوں کی چابیاں ٹرمپ کے پاس موجود ہیں۔ ٹرمپ ایران کو اسرائیلی حملوں سے بچا سکتا ہے۔ اُمید ہے امریکی صدر انسانی ہمدردی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ بقول( ساحر لدھیانوی)؎
    خون اپنا ہویا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر
    جنگ مشرقی میں ہو یا مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر

    عالمی قوتیں امریکہ ہویا چین دیگرممالک اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر تیسری عالمی جنگ سے محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یورپی طاقتوں کو ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے زورد ینا چاہیئے۔ آج دنیا کوتباہ کن انسانی ،سیاسی ،اقتصادی اور ماحولیاتی نتائج کے ساتھ خطرناک تصادم میں لپیٹنے کا خطرہ ہے۔ اقوام عالم اپنا کردارا دا کرے ۔ مسلم ممالک جذباتی نعروں سے نکل کر علم اور عمل کے راستوں کا انتخاب کریں۔

  • من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ اگر ہم اس معاشرے کے پرانے دور کو دیکھیں تو وہ بہت سادہ تھا۔ اس معاشرے میں شرم و حیا تھی۔ لڑکیاں اپنے سروں سے دوپٹے اُتارتے ہوئے شرماتی تھیں، اگر کوئی لڑکی اپنے سر سے دوپٹہ اتار بھی لیتی تو اس کی والدہ ہی سب سے پہلے اس کو ڈانٹیں۔ أس دور میں بچوں کی تربیت ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق کی جاتی تھی۔ أس دور میں تربیت ماں باپ مل کر کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں تربیت موبائل فون کرتا ہے، بہت ہی کم والدین ہیں جو آج کے دور میں اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ بھی اسلامی اصولوں کے مطابق۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں، ہمارا ملک کی بنیاد بھی لا الہ الااللہ ہے لیکن جو بھی آج اس معاشرے میں ہو رہا ہے وہ کہیں سے بھی اسلامی ریاست کا طریقہ نہیں ہے، آج اسلامی معاشرے میں ایسے ڈرامے بن رہے ہیں، جو کہیں سے بھی اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔

    من مست ملنگ جیسے جہاں ایک استاد کو بعد میں شاگرد سے محبت کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں پرسنل لائف کو سرےعام دیکھایا جاتا ہے، جہاں ایک غیر مرد ایک غیر عورت کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں غیر مرد ایک عورت کو کپل ڈانس کرتے ہوئے گاڑی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ کیا یہ سب اسلامی معاشرے میں ہوتا ہے؟ کیا یہ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے؟ ان انگریزوں نے ہمیں اس حد تک اپنا ذہنی غلام بنایا ہوا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو غلط اور صحیح کا ہی نہیں پتا۔ ہماری آج کی نوجوان نسل جن کے ہاتھوں میں "تلوار” ہونی چاہیے۔ جو اسلام کے علمبردار ہونے چاہیے۔ وہ سر سے دوپٹہ اتارنے کو فیشن کہتی ہے، وہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو فیشن کہتی ہے، اور لڑکیاں شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو فیشن کہتی ہے، وہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کو فیشن کہتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل لڑکیوں، لڑکوں کا ایک ساتھ ڈانس کرنے کو فیشن کہتی ہے۔ یعنی جو سبق ہم کو اسلام نے دیا ہے أس کے خلاف ہر کام کرنے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے، ہماری نوجوان نسل ان ناچنے گانے والوں کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیٹیوں کو بے قصور مار دیا جاتا ہے، ان کا ریپ کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ آج کل کے دور کے کہتے ہیں کہ ان ڈراموں سے پہلے بھی جرائم ہوتے تھے، لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ بالکل ہوتا تھا، لیکن اتنا نہیں ہوتا تھا جتنا آج ہوتا ہے، تب کہیں مہینوں، سالوں بعد جا کر ایسی کوئی ایک آدھی خبر سننے کو ملتی تھی، لیکن آج تو ہفتوں بعد نہیں بلکہ روز آئے دن ایسی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آئے دن کسی نا کسی لڑکی یا لڑکے کو مار دیا جاتا ہے۔ آج کے جرائم کی شرح تب کے جرائم کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ یہ سب اسی ڈراموں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ آج جو بھی ہمارے معاشرے میں بے حیائی پھیلی ہوئی ہے یہ اسی ڈراموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ غیر مسلموں نے کوئی بھی کام کرنا ہو تو پہلے ان کو ڈراموں میں دیکھایا جاتا ہے، پھر بعد میں اصل زندگی میں اس کو معاشرے کا حصے بناتے ہیں۔ پہلے وہ ڈراموں میں یہ چیز بار بار دیکھا کر عوام کا رد عمل چیک کرتے ہیں۔ پھر جب ایک چیز کو بار بار دیکھایا جاتا ہے تو عوام مانوس ہو جاتی ہے، پھر بعد میں اس کو معاشرے میں لایا جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ اس بات کا ثبوت مانگو کے تو آپ لوگ دیکھو کہ پری زاد ڈرامے میں لڑکی کو لڑکا دیکھایا جاتا ہے، یعنی وہ لڑکی ہو کر لڑکے والے کام کرتی ہے "ببلی بدمعاش” نام رکھتی ہے وہ لڑکوں والے کھیل کھیلتی ہے، لڑکوں کے ساتھ لڑائی کرتی ہے، اس بات کا دوسرا ثبوت بخت دوار ڈرامہ ہے، جس میں ہیروئن کو ہی لڑکا دیکھایا جاتا ہے۔ اس کا ہیئر اسٹائل بھی لڑکوں والا ہوتا ہے۔ پھر بعد میں "ایل جی پی ٹی کیو” کو اس معاشرے میں لایا گیا۔ کتنے ہی لڑکی لڑکوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ یہ کس وجہ سے ہوا کہ پہلے ہی عوام کو یہ چیز عام سی معمولی کرکے دیکھ دی تھی۔

    اگر ہم چاہتے کہ ہماری نوجوان نسل اس سب سے محفوظ رہے وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو ہم کو ان ڈراموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ان ڈراموں کے خلاف عوام میں آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ان ڈراموں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔آپ لوگ ایسے ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہمارا ساتھ دیں اس نیک کام میں، اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ آپ لوگوں کے سامنے ایسے ڈراموں کے شاٹ کلپ بھی آئیں تو ان کو اگنور کریں۔ پلیز ایسے ڈراموں کو سرچ کرنے سے گریز کریں ان کے ویوز بڑھانے سے گریز کریں جتنا ایسے ڈراموں کو ریچ ملتی ہے اتنے ہی ہمارے معاشرے میں ایسے ڈرامے بنتے ہیں۔ اتنے ہی ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں دیکھائے جائیں گے۔

  • سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    سوشل میڈیا: سہولت یا زحمت؟ فیصلہ آپ کا،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک حقیقت بن چکا ہے۔ یہ معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے لوگوں کو قریب لاتا ہے اور مثبت استعمال کی صورت میں سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مگر کیا ہم واقعی اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں؟

    اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال وقت ضائع کرنے، بے مقصد بحث و مباحثے، افواہیں پھیلانے اور دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے تک محدود ہو چکا ہے۔ ہم دن کا بیشتر حصہ اسکرین پر گزار دیتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ہمارے تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، دوست ایک ہی محفل میں بیٹھے ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کٹے کٹے نظر آتے ہیں، اور حقیقی رشتے ناتوں کی جگہ "آن لائن کنکشنز” نے لے لی ہے۔

    سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کا طوفان
    سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر چیز کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی جھوٹی خبر یا افواہ چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے، اور لوگ بغیر تصدیق کیے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں، جس سے بسا اوقات معاشرے میں بے چینی اور بدگمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ قرآن میں واضح حکم ہے "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)مگر ہم تحقیق سے زیادہ شیئر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، کئی بار لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں، قوم میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بے بنیاد خبریں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

    کیا ہم سوشل میڈیا کے غلام بن چکے ہیں؟
    سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو عملی زندگی سے کاٹ کر ایک "ڈیجیٹل دنیا” میں قید کر دیا ہے۔ ہم گھنٹوں موبائل اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں، مگر حقیقی دنیا میں ہمارے رویے سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک ماں اپنے بچے کو کھلانے کے بجائے فون اس کے ہاتھ میں دے دیتی ہے، نوجوان کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور لوگ فطری حسن کو دیکھنے کے بجائے کیمروں کے ذریعے اسے قید کرنے میں مصروف ہیں۔

    مثبت استعمال: فیصلہ آپ کا!
    سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟ اگر ہم اس کا مثبت استعمال کریں، تعلیمی مواد دیکھیں، اچھے اخلاق کو فروغ دیں، وقت کا درست استعمال کریں اور تحقیق کے بغیر کوئی خبر آگے نہ بڑھائیں، تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر ہم اس میں کھو کر اپنا قیمتی وقت اور توانائیاں ضائع کرتے رہیں، تو یہ ہمارے تعلقات، ذہنی سکون اور زندگی کی اصل خوبصورتی کو ہم سے چھین لے گا۔

    سوچیں! کیا ہم سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟آئیے، آج سے ہم یہ عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک مثبت ذریعہ بنائیں گے، جھوٹی خبروں اور فضول بحثوں سے دور رہیں گے، اور اپنی حقیقی زندگی کو زیادہ اہمیت دیں گے

    یہ بازار ہے جناب! تحریر: اقصی جبار

    حروف کے جنازے، سچائی کی موت ،تحریر : اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    کہانی جو لکھی نہ گئی.تحریر: اقصیٰ جبار

    سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا.تحریر: اقصیٰ جبار

  • معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ

    معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ

    معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہر دورِ حکومت اپنے ماضی کو بھول کر جانے والی حکومت پر سارا ملبہ ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عوامی شعور میں کمی اور زبان بندی کے ساتھ انصاف کرنے والے اداروں کی خاموشی ہے۔ عوام الناس کے مسائل پر آئیں، آج بات کرتے ہیں بجٹ کے حوالے سے، جو عوام پچھلے 76 سالوں سے ایک ہی سرکاری سطح کے قصیدہ کی صورت سنتی آ رہی ہے۔

    ہر سال کی طرح جب حکومتیں بجٹ پیش کرتی ہیں، تو ایک بار پھر عوام کو یہ سننے کو ملتا ہے کہ معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے، وسائل محدود ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں، اور "قوم کو قربانی دینی ہو گی”۔ لیکن قوم کب تک قربانی دیتی رہے گی؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ قربانی واقعی قوم دے رہی ہے یا صرف غریب اور متوسط طبقہ؟ کیا اشرافیہ، وزرا، بیوروکریٹس اور سیاسی اشرافیہ کسی قربانی میں شریک ہیں؟ جی ہاں، ہماری موجودہ آبادی کے ساتھ ساتھ وہ بھی قصور وار ہیں جو ابھی اس دنیا میں نہیں آئے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا وہ بھی بڑھتے ہوئے ٹیکس، مہنگائی اور بیروزگاری کی بھٹی میں جل رہے ہیں؟ جواب نہایت تلخ اور سادہ ہے: "نہیں”۔

    پاکستان کی معیشت آج جس نہج پر کھڑی ہے، وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومتی دور کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی، اقربا پروری، کرپشن اور بیوروکریسی کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ سب کو سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے، مگر کب تک؟ جو بھی حکومت آئی، اس نے اپنے مفادات کے گرد پالیسی گھمائی۔ ہر حکومت کا نعرہ "معاشی بہتری” تھا، لیکن نتیجہ "مزید قرض، کمزور روپیہ، بڑھتی مہنگائی” نکلا۔

    ملکی سیاست میں ہم اکثر سیاست دانوں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی اصل اقتدار کی روح رواں تھی اور رہے گی، جب تک انصاف کا نظام پاکستان میں رائج نہیں ہوتا۔ فائل کو روکنا، منصوبے کو دبانا، منظورِ نظر ٹھیکیدار کو نوازنا، اور قانون کی تشریح اپنے فائدے کے مطابق کرنا — یہ سب اُس بدعنوان نظام کا حصہ ہے جو کئی دہائیوں سے عوام کی امیدوں کو نگل رہا ہے، اور دور تک اس کے بارے میں کوئی واضح تبدیلی آتی نظر نہیں آ رہی۔

    اربوں روپے کے فنڈز صرف کاغذوں میں استعمال ہوتے ہیں، حقیقت میں سڑکیں، سکول، ہسپتال، ڈرینج، ٹیکنالوجی، سب کچھ خالی خول رہ جاتا ہے۔

    2024 کے سروے کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 7 سے 10 ارب ڈالر کرپشن کی نذر کر دیتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ذمّہ دار کون ہے؟ شاید اس کا جواب آپ کو بھی معلوم نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر سال اپنی معیشت کو اتنا نقصان خود اپنے ہاتھوں سے پہنچاتے ہیں، جتنا کوئی بیرونی دشمن بھی نہ دے سکے۔

    کرپشن صرف نوٹ کھانے کا نام نہیں، یہ نااہل افراد کو بھرتی کرنا، یہ پاکستان کے تمام اداروں میں ہے۔ کوئی بھی سرکاری بلکہ نیم سرکاری ادارے بھی اس ترقی میں شامل ہیں۔ غیر شفاف ٹینڈرز، سیاسی وفاداری پر تقرریاں اور اپنے لوگوں کو نوازنے کا مجموعہ ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ ایک معمول بن چکا ہے۔

    جب عوام کو آٹا، چینی، دوائی اور روزگار کے لیے لائنوں میں کھڑا ہونا پڑے اور ان کے "خادمِ اعلیٰ” بیس گاڑیوں کے پروٹوکول میں گزر رہے ہوں، تو یہ صرف معاشی عدم توازن نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن بھی ہے۔

    اربوں روپے ہر سال وزیروں، مشیروں، سفیروں، کمشنروں، سیکریٹریز اور اعلیٰ عہدے داران کے پروٹوکول، گاڑیوں، دفاتر، غیر ملکی دوروں اور تقریبات پر خرچ کیے جاتے ہیں ، یہ وہ پیسہ ہے جو صحت، تعلیم اور عوامی فلاح پر لگنا چاہیے۔

    ہر بار معاشی بحران آئے تو پہلا ہدف عوام بنتی ہے:

    بجلی مہنگی، ماہرِ اقتصادیات ایسا فارمولا بنا دیتے ہیں کہ آپ کی عقل دنگ رہ جاتی ہے، جیسے 200 یونٹ اور 201 یونٹ کا فارمولا شاید دنیا میں پہلی بار استعمال کیا گیا ہو۔گیس پر سبسڈی ختم،پیٹرول پر لیوی،اشیائے خور و نوش پر ٹیکس،ادویات مہنگی،تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ، مگر تنخواہیں معمول کے مطابق جبکہ مہنگائی کا تناسب عوام کی سوچ سمجھ سے بالاتر۔

    عوام کو بتایا جاتا ہے کہ "یہ سب ملکی بقاء کے لیے ہے” لیکن اشرافیہ کے لیے بقاء کا کوئی بحران نہیں، ان کے لیے تو یہ سارا نظام ایک محفوظ جنت ہے۔
    یہ سب باتیں تنقید نہیں بلکہ زمینی حقیقتیں ہیں۔ حل بھی موجود ہیں، اس پر آنے والے کالم میں بات کریں گے۔

  • بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ماہِ جون کے آغاز کیساتھ ہی عوام کی نظریں نئے مالی سال کے بجٹ پہر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ بجٹ دراصل ایک ایسا میزانیہ ہے۔ کہ جس میں نئے مالیاتی سال کے لئیے تمام تر اخراجات اور کلی آمدنی کے بارے میں تخمینہ سازی کی جاتی ہے۔ اور آمدنی کو مختلف ملکی شعبہ جات کے لئیے مختص کیا جاتا ہے۔
    امسال بھی پاکستان کا وفاقی بجٹ 2 جون کو پیش کرنے کی شنوائی تھی۔ جسے آئی۔ایم۔ایف سے کچھ اہم معاملات طے نہ ہونے کے سبب اجازت نہ مل سکی ۔ جس کی وجہ سے نیاء مالیاتی بجٹ تاخیر سے 10 جون 2025 کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں قائدِ ایوان میاں محمد شہباز شریف کی موجودگی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا۔ حسبِ معمول اپوزیشن کا ہنگامہ بھی جاری رہا ۔ اور وزیرِ خزانہ اپنا کام کر کے روانہ ہو گئے۔

    اس بجٹ میں عوام کو حقیقت میں ریلیف حاصل ہوا ہے۔ یا محض اعدادوشمار سے بہلا کر مطمئن کر دیا گیا ؟ جائزہ لیتے ہیں۔
    وزیرِ خزانہ نے پاکستان کا مالی سال 26ـ2025 کے لئیے 17573 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا۔ جس میں گروس فیڈرل آمدن کا ہدف 19298 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ نیٹ فیڈرل ریونیو کا تخمینہ 11072 ارب روپے اور اس طرح بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے یعنی ٹوٹل GDP کا 5٪ ہے ۔ ایف ۔بی ۔آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14130 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ قرضوں اور ان پہ سود کی ادائیگی کے لئیے قریبا آدھے سے زیادہ بجٹ کا حصہ یعنی 8207 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

    تنخواہ در و پنشنر طبقہ جو اسوقت مہنگائی کے بوجھ تلے سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ بجٹ سے خاصی توقعات وابستہ کئیے بیٹھا تھا۔ اس کو یہ ریلیف دیا گیا۔ کہ فیڈرل ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافہ کیا گیا پے۔ جبکہ پنشن میں اضافے کو کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی افراط ء زر کی شرح سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ تخمینے میں افراطِ زر کی شرح 7.5 فی صد رکھی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا واقعی مہنگائی کی شرح اس وقت 7.5 فی صد ہی ہے۔؟؟ گراؤنڈ رییئیلٹیز تو بہت آگے کی بات کر رہی ہیں۔ پیش کردہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پنشنز میں 7 ٪ اضافہ انتہائی کم ہے۔ مزید نئی پنشن اصلاحات بھی متعارف کروائی گئیں ہیں۔ جن کے مطابق پنشنر کی وفات کے بعد فیملی پنشن 10 سال تک محدود کرنا اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ ایک سخت فیصلہ ہے۔ جب کہ ایک سے زائد پنشنز کا خاتمہ اور ری ٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب ،ملکی خزانے کے لئیے بہتر تجویز ہے۔

    تخواہوں میں اضافے کی بات کی جائے تو 10 ٪ اضافہ بہت ہی کم ہے۔ اس مہنگائی میں کم سے کم اجرت میں بھی کوئی اضافہ نہ کرنا بھی تکلیف دہ ہے۔ اور وجہ صنعت کو ریلیف دینا بتایا گیا۔ مگر یہ کیسا ریلیف ہے۔ جو صنعتوں کو غریب مزدور و محنت کش سے دلوایا جا رہا ہے۔!!
    وہی ایوان کہ جہاں یہ بجٹ پیش کیا گیا اور جس کی سربراہی اسپیکر صاحب کر رہے ہیں۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے ان کی اپنی اور چیرمین سینٹ کی تنخواہوں میں 600 گنا اضافہ کیا گیا ہے اور 2 لاکھ سے بڑھا کر 13 لاکھ کر دی گئیں ہیں۔ کیا مہنگائی صرف ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لئیے ہی پریشان کن ہے۔؟ یا تنخواہوں میں اس قدر اضافے کی ضرورت صرف انہی کو ہے۔؟؟؟ یا پھر ملازمین و پنشنرز کے صبر کا درجہ زیادہ ہے۔ یا پھر قربانی کی توقع صرف اسی طبقے سے ہی ہے۔ !!!

    وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے۔ "انفراسٹرکچرل ریفارمز کہنا آسان ہے۔ کرنا مشکل ۔” اور آئی۔ایم۔ایف کی ہدایت کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا حجم کم کر کے 1 ہزار ارب روپے کر دیا گیا۔ مزید ایچ ۔ای ۔سی کے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لئیے بھی 1 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ جبکہ ارکانِ پارلیمان کی ترقیاتی اسکیموں کے لئیے 70 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچرل ریفارمز مشکل ضرور ہوتی ہیں۔ مگر کرنا لازم ہوتی ہیں۔ معاشی ترقی کی طرف آپ تبی جا سکتے ہیں۔ جب آپ کا انفراسٹرکچر بہتر ہو گا۔
    ارکانِ پارلیمان کے جو ہر سال فنڈز مختص کئیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈویلپمنٹ بھی نظر آنی چاہئیے۔ مگر فنڈز کہاں جاتے ہیں اور انفراسٹرکچر کیوں نہیں بہتر ہو رہا ، یہ نہیں معلوم!!

    ہیلتھ کی بات کی جائے تو اس کے لئیے 14.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جو کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری مشترکہ منصوبوں کے لئیے ہیں۔ جبکہ کوئی بھی نیا منصوبہ یا پروگرام شروع نہیں کیا گیا۔
    تعلیم اور صحت کسی بھی ملک کے اہم شعبہ جات ہیں۔ ان کی ترقی و بہتری کے نئے منصوبے شروع کرنا اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنا لازم و ملزوم ہے۔

    اگر ٹیکسوں کی بات کی جائے ۔ تو ٹیکسوں کا حجم بڑھا دیا گیا ہے۔ اور 600 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ۔312 ارب روپے کے براہ راست نئے ٹیکس نافذ کئیے جائیں گے۔ سولر پہ 18 فی صد درآمدی ٹیکس ،فون پہ 25 فی صد ، فروزن اشیاء چپس ، آئس کریم ، کولڈ ڈرنکس پہ 5 فی صد ایکسائز ڈیوٹی ،ای کامرس پہ 18 فی صد ٹیکس جبکہ پیٹرول پر 2.50 فی لیٹر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ بجلی کے سرچارجز میں اضافہ کی کی بھی تجویز ہے۔ یعنی جنرل سیل ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کا بوجھ متوسط و نچلے طبقے پہ پڑے گا۔ ایک طرف صنعت میں گروتھ بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ تو دوسری طرف انرجی و پیٹرول پہ محصولات لگا کر
    قیمتیں بڑھائی جا رہیں ہیں۔ جب صنعت کے لئیے بجلی و پیٹرول ہی مہنگا دستیاب ہو گا۔ تو لازم عنصر ہے۔ کہ پیداوار بھی مہنگی ہو گی۔ جس سے افراطِ زر میں اضافہ ہو گا۔

    عام پروفٹ آن ڈیٹ (Profit on Debt)، یعنی بینک ڈپازٹ اور سیونگ سرٹیفیکیٹس سے حاصل ہونے والے منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15% سے بڑھا کر 20% کر دی گئی ہے ۔ مزید انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کے لئیے
    Artificial Intelligence Audit Selection System
    کو متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔
    50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پہ ٹیکس کی شرح 0.6٪ سے بڑھا کر 1٪ کر دی گئی ہے۔ جس سے روزانہ کے لین دین کو مہنگا کر دیا گیا ہے۔

    مزید میزانیہ 26ـ2025 میں زراعت کا حجم 4.5 ٪ رکھا گیا ہے۔ مگر زرعی آلات ، بیج و فرٹیلائزرز پہ GGT کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ زراعت کے لئیے نئی اصلاحات بھی نہیں جاری گئیں۔ جو اس وقت کی ضرورت ہیں۔ جیسے زرخیز زرعی زمین کی بے دریغ فروخت اور اس پہ رہائشی کالونیوں کی کنسٹریکشن کی روک تھام وغیرہ۔

    اس وقت پاکستان میں افراطِ زر کیساتھ تعلیمی یافتہ و سکلڈ بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ اور برین ڈرین کی وجہ بن رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 میں قریباً 727,000 افراد جبکہ 2لاکھ ہنر مند و پڑھے لکھے افراد نے وطن کو خیر آباد کہہ دیا۔ مگر بجٹ میں نہ تو پڑھی لکھی افرادی قوت کو کھپانے کی کوئی تجویز زیر ء غور آئی ۔ نہ ہی برین ڈیرین کے خاتمے کے لئیے کوئی منصوبہ بتایا گیا۔
    پورے بجٹ کا جائزہ اور ادارہ شماریات کی رپورٹس بتا رہی ہیں۔ کہ قریباً تمام ضروریاتِ زندگی پہ ٹیکس لگا ہے۔ اور اشیاء عوام خاص طور پہ متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوئی ہیں۔ درحقیقت جو افراطِ زر کے حالات ہیں اس کے مطابق عوام بلخصوص تنخواہ دار و پنشنر طبقے کو ریلیف نہیں مل سکا۔

  • اوچ شریف: ترنڈ بشارت میں خستہ حال بجلی کا کھمبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف: ترنڈ بشارت میں خستہ حال بجلی کا کھمبا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے ترنڈ بشارت میں واقع ضلع کونسل ہیلتھ ڈسپنسری کے قریب نصب بجلی کا خستہ حال کھمبا اہلِ علاقہ کے لیے ایک مستقل جان لیوا خطرہ بن چکا ہے۔ سیمنٹ اور بجری سے بنا یہ کھمبا بری طرح شکست و ریخت کا شکار ہے، جس کے اندر سے آہنی سریے ظاہر ہو چکے ہیں۔ یہ نہ صرف بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ بن سکتا ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔

    مقامی شہریوں کے مطابق کھمبا طویل عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مگر محکمہ واپڈا اور متعلقہ اداروں نے تاحال کوئی مرمتی کارروائی نہیں کی۔ درجنوں خواتین، بچے اور بزرگ روزانہ اس خطرناک کھمبے کے قریب سے گزرتے ہیں، اور کسی بھی لمحے بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اس خستہ حال کھمبے کو تبدیل کیا جائے یا مرمت کی جائے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری واپڈا اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

  • ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار

    ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار

    ایران.اسرائیل جنگ، بھارتی جاسوسی اور پاکستان کا کردار
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تنازعات اور جارحیت کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ کشیدگی نے خطے کو عسکری، سفارتی اور جغرافیائی سیاسی لحاظ سے ایک نازک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے ایران میں موجود بھارتی دہشت گرد نیٹ ورکس کے الزامات نے اس تنازع کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔

    ایران.اسرائیل تنازع کا آغاز اسرائیلی حملوں سے ہوا جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، سابق سربراہ محمد باقری، ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ اور خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے سربراہ غلام علی رشید سمیت کئی اہم شخصیات شہید ہوئیں۔ ساتھ ہی ساتھ جوہری سائنسدانوں جیسے احمد رضا ذوالفقاری دریانی، فریدون عباسی، محمد مہدی تہرانچی، عبدالحمید مینوچھر اور امیر حسین فقہی کی ہلاکت نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو شدید دھچکا پہنچایا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد ایران کے جوہری عزائم کو روکنا تھا جو ان کے بقول حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اسرائیل کی یہ پوزیشن کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کر رہا ہے، عالمی سطح پر شدید تنازع کا باعث بنی کیونکہ ایران ہمیشہ اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔

    ان حملوں میں 86 افراد کی شہادت اور 341 کے زخمی ہونے کے بعد ایران نے پراکسی جنگ کے بجائے براہِ راست عسکری ردِعمل کا فیصلہ کیا۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے تل ابیب، حیفہ اور جنوبی اسرائیل کے حساس فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے اسرائیل کے فضائی دفاع کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعویٰ زمین بوس ہوگیا ۔ یہ حملے نہ صرف عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے بلکہ اسرائیلی عوام کو خوف میں مبتلا کردیا جو ایک واضح پیغام تھا کہ اسرائیل اب خطے میں خود کو غیر محفوظ تصور کرے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ ذکر ہے۔ پاکستان نے اسرائیلی حملوں کی واضح مذمت کی اور ایران کے "حقِ دفاع” کی کھل کر حمایت کی جو پاکستان کی اس دیرینہ خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جو فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، علاقائی خودمختاری اور غیر جانبداری پر مبنی ہے۔ شدید معاشی اور سیاسی دباؤ کے باوجود پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اصولی اور مستقل موقف اختیار کیا جو مسلم دنیا کی بڑھتی ہوئی تقسیم کے پس منظر میں ایک جراتمندانہ مثال کے طور پر سامنے آیا۔

    پاکستان اور ایران کے تعلقات جغرافیائی قربت، تہذیبی رشتہ داری اور تاریخی رفاقت پر مبنی رہے ہیں اور افغانستان و بھارت جیسے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ایران سے پاکستان کے روابط نسبتاً مستحکم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں بعض پیچیدہ عوامل ان تعلقات میں رکاوٹ بنے ہیں، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے ایران کو بھارتی دہشت گردی کے ثبوت فراہم کرنے کے باوجود مؤثر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان تناؤ کی کیفیت بھی پیدا ہوئی۔

    پاکستان نے متعدد بار ایران کو بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے تخریبی نیٹ ورکس کے ثبوت فراہم کیے، جن میں بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سرفہرست ہے۔ کلبھوشن جو ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا، نے اپنے اعترافی بیان میں "را” کی پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں شمولیت کا اعتراف کیا۔ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ایران کی سرزمین کو بھارتی دہشت گردوں نے پاکستان کے خلاف استعمال کیا ،ایران میں پاکستانی مزدوروں کا قتل اور اس کے علاوہ ایران نے ان کے خلاف بروقت اقدام نہ کرکے بلوچستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہری شہید ہوئے۔

    پاکستان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اگر ایران نے وقت پر اقدامات کیے ہوتے تو نہ صرف یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کمزور ہوتے بلکہ ایران خود بھی اسرائیلی جاسوسی و دہشت گردی سے محفوظ رہ سکتا تھا۔ برطانوی اخبار "گارڈین” کی ایک رپورٹ میں بھی بھارت کے ان نیٹ ورکس کی عالمی سرگرمیوں کا انکشاف کیا گیا، جس میں پاکستان، کینیڈا اور دیگر ممالک میں "را” کی ٹارگٹ کلنگ کی حکمت عملی سامنے لائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد اپنے مخالفین کو بیرون ملک ختم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی اور اس کے لیے "را” نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” اور روسی "کے جی بی” سے تربیت حاصل کی۔

    ایران میں حالیہ گرفتاریوں نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے 73 بھارتیوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ علاوہ ازیں یزد شہر میں پانچ ایرانی شہریوں کو حساس تنصیبات کی تصاویر اسرائیل کو بھیجنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ ان واقعات نے پاکستان کے اس دعوے کو تقویت دی کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کے اندر بھی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

    پاکستان کا یہ واضح موقف ہے کہ بھارت نے ایران کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا۔ اگر ایران نے پاکستان کے پیش کردہ ثبوتوں پر بروقت توجہ دی ہوتی تو شاید اسرائیلی حملے اور ایرانی کمانڈرز کی شہادت جیسے سانحات روکے جا سکتے تھے۔

    مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے مسلم دنیا کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ خلیجی ریاستیں جو کبھی اسرائیل کے خلاف صف آراء تھیں، اب غیر جانبداری یا خاموشی کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس کی وجوہات میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی، امریکی دباؤ اور اقتصادی مفادات شامل ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان نے اصولی موقف اپناتے ہوئے ایران کی حمایت جاری رکھی اور عالمی فورمز پر اس کے حق میں آواز بلند کی، جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی استقامت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    تاہم پاکستان کو عالمی دباؤ اور خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی اتحادوں کا ادراک بھی رکھنا ہوگا۔ ایران.اسرائیل جنگ اور بھارتی دہشت گردیاور جاسوسی کے نیٹ ورکس نے مشرق وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ ایران کی جانب سے کی گئی براہِ راست عسکری کارروائی نے اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کے تصور کو ملیامیٹ کردیاہے جبکہ پاکستان کے فراہم کردہ بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں نے عالمی برادری کو خطے کی حساس سیاسی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جہاں اسے اپنی سفارتی حکمت عملی کو نہ صرف مزید مستحکم کرنا ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھارتی دہشت گردی اور اسرائیلی خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر مہم بھی جاری رکھنا ہوگی۔ ایران کے ساتھ تعاون اور خطے کے استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

    مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کا انجام کچھ بھی ہو، اس خطے کی سیاسی، عسکری اور سفارتی نوعیت اب ویسی نہیں رہے گی جیسی ماضی میں تھی۔ طاقت کا توازن، اتحادوں کی سمت اور قوموں کی ترجیحات ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ اگر مسلم دنیا اب بھی متحد نہ ہو سکی تو آئندہ تصادم صرف ایران و اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ ہر اس ملک کو اپنی لپیٹ میں لے گا جو آزادی، خودمختاری اور انصاف کی بات کرے گا۔

  • اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    اسرائیلی جارحیت پر ایرانی وار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
    تحریر:سید ریاض جاذب
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شعلوں کی زد میں ہے۔ اسرائیل کے جارحانہ حملے اور ایران کی براہِ راست جوابی کارروائی نے خطے کو شدید کشیدگی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے کھل کر اسرائیل کو نشانہ بنایا اور شاید یہ بھی پہلی بار ہے کہ جب مسلم دنیا اس قدر بٹی ہوئی ہے کہ مؤثر ردعمل سے قاصر نظر آئی ہے۔

    ایران کی یہ کارروائی محض ایک فوجی ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح علامتی پیغام ہے کہ اسرائیل اب ہر جگہ غیرمحفوظ ہے۔ ایران نے پراکسی جنگ کے طویل دور سے نکل کر براہِ راست تصادم کا راستہ اختیار کیا ہے، جس نے اسرائیل اور اس کے بین الاقوامی پشت پناہوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    درجنوں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اسرائیلی فضائی دفاع کو چیلنج کرتے ہوئے تل ابیب، حیفہ اور جنوبی اسرائیل کو ہدف بنایا۔ برسوں سے ایران کو صرف نعرہ باز یا محدود عسکری طاقت سمجھنے والے اب ششدر ہیں۔ ایرانی حملوں نے اسرائیل کو پہلی مرتبہ یہ احساس دلایا ہے کہ جس آگ کو وہ دوسروں کے گھروں تک پہنچاتا رہا، وہ اس کے اپنے صحن تک بھی آ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، کئی میزائل اسرائیل کے حساس فوجی مراکز پر لگے، جن سے نہ صرف فوجی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا بلکہ عوامی سطح پر خوف، غیر یقینی اور ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔ دنیا کو ایک بار پھر یہ سبق ملا کہ صرف اسلحہ، ٹیکنالوجی یا امریکی حمایت کسی ریاست کو ناقابلِ شکست نہیں بناتی۔

    پاکستان نے اس تمام صورتحال میں جو مؤقف اختیار کیا، وہ عالمی سطح پر محدود سہی، مگر اخلاقی اور اصولی لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ اسرائیلی حملے کی کھلے الفاظ میں مذمت اور ایران کے "حقِ دفاع” کی حمایت، کوئی وقتی یا روایتی بیان بازی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اصولی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان ہمیشہ فلسطینی حقِ خودارادیت، علاقائی خودمختاری اور غیرجانب داری کی بنیاد پر اپنی خارجہ پالیسی کو ترتیب دیتا آیا ہے — اور اس موقع پر بھی یہی روش اختیار کی گئی۔

    ایران سے پاکستان کی ہمدردی صرف سیاسی نہیں بلکہ جغرافیائی، تہذیبی اور معاشرتی قربت پر بھی مبنی ہے۔ افغانستان اور بھارت کے بیچ ایران وہ واحد ہمسایہ ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نسبتاً مستحکم رہے ہیں، اور یہی رشتہ موجودہ عالمی تناؤ میں ایک متوازن سفارتی حکمت عملی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    تاہم اہم سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا کی اکثریت ایران کے ساتھ کھل کر کیوں نہیں کھڑی؟ خلیجی ممالک، جو کبھی اسرائیل پر سخت مؤقف رکھتے تھے، اب احتیاط، غیر جانبداری یا خاموشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی وجوہات میں حالیہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی، خطے میں امریکی اثرورسوخ، اور ان ممالک کی اندرونی اقتصادی ترجیحات شامل ہیں۔

    ایسے میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود اس نے بغیر کسی دباؤ کے واضح پالیسی اپنائی — اسرائیلی مظالم کی مذمت اور ایران کی عسکری کارروائی کو دفاع قرار دیا۔ آج جب بیشتر ریاستیں مفادات کے دباؤ میں خاموشی کو ترجیح دیتی ہیں، پاکستان کی اصولی سیاست ایک مثال بن کر ابھرتی ہے۔

    اسرائیل اور ایران کی موجودہ کشیدگی کا انجام کچھ بھی ہو، یہ طے ہے کہ مشرق وسطیٰ اب ویسا نہیں رہے گا۔ طاقت کے توازن، سیاسی اتحاد اور سفارتی صف بندیاں ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے یہ ایک اصولی مؤقف ہے، دوسری جانب عالمی سفارتی دباؤ۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان اپنی پالیسی میں توازن، حکمت اور استقامت کا مظاہرہ کرے۔

    فلسطین، لبنان، شام اور اب ایران سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کا مقصد محض ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ پورے خطے کو غیر مستحکم رکھنا ہے۔ اگر مسلم دنیا اب بھی متحد نہ ہوئی، تو آئندہ جنگ صرف اسرائیل اور ایران کے بیچ نہیں رہے گی بلکہ ہر وہ ملک لپیٹ میں آئے گا، جو انصاف، آزادی اور خودمختاری کی بات کرتا ہے۔

  • اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    ایران میں اس بار سائنسدانوں کی شہادت

    دنیا میں کسی بھی ملک میں سب سے حساس شخصیت -ایرانی آرمی چیف کی شہادت، پھر دیگر کمانڈرز…
    کیا یہ سب اتفاق ہے؟
    نہیں! دشمن کو کہیں نہ کہیں سے اندر کی مدد مل رہی ہے
    اور جب دشمن کو اندر سے مدد ملے، وہ ناقابلِ شکست ہو جاتا ہے

    اسرائیل اور امریکہ کی نظریں صرف ایران پر نہیں…
    بلکہ پورے عالم اسلام پر ہیں!
    اور اس بار جنگ ہتھیاروں سے نہیں، ٹیکنالوجی سے ہو رہی ہے

    آپ کے ہاتھ میں جو فون ہے
    وہی دشمن کی سب سے بڑی آنکھ ہے
    GPS… لوکیشن… کال ڈیٹا… سب کچھ شیئر ہو رہا ہے
    گوگل، ایپل اور AI سسٹمز دشمن کے ہتھیار بن چکے ہیں

    آپ کا فون آپ کا دشمن بھی ہو سکتا ہے
    خاص طور پر جب آپ دشمنوں کے نشانے پر ہوں
    آپ کی حرکتیں، نشست و برخاست، حتیٰ کہ سانسوں کی گنتی تک محفوظ کی جا رہی ہے

    لیکن صرف خطرہ صرف موبائل نہیں…
    اصل خطرہ ارد گرد کے غدار بھی ہیں
    جو اپنوں کے روپ میں دشمنوں کے سہولت کار بنے بیٹھے ہیں ،یہی لوگ اتنے حساس لوگوں کی شہادتوں کے راستے کھولتے ہیں…

    وقت آ گیا ہے کہ ایران سمیت ہماری اسلامی حکومتوں کو بھی آنکھیں کھولنی ہوں گی!اپنے موبائلز پر بھی شک کرنا ہو گااور اپنے اردگرد کے "میٹھے دشمنوں” کو پہچاننا سب سے ضروری ہے

    اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو غداروں، ٹیکنالوجی کے جال،اور دشمنوں کے منصوبوں سے محفوظ رکھے — آمین