Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خدمت خلق  تحریر: فیصل شہزاد گوندل

    خدمت خلق تحریر: فیصل شہزاد گوندل

    کسی قوم کے زندہ قوم کہلانے کی سب سے بڑی دلیل یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے افراد کے دل میں انسانوں کے لٸے کتنا احساس اور رحمدلی ہے اور اس کے یہی جذبات اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی ایک دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ قوم دنیا کی قیادت کا حق رکھتی ہے یا نہیں ۔ درحقیقت افراد اور قوموں کے درمیان برتری کا فیصلہ بھی انہی آثار کے مطابق ہوتا ہے جو اس میدان میں چھوڑتی ہیں ۔ اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت اس طرح کی ہے کہ ایک مالدار، غریب ،مزدور تاجر ،زمیندار ، شاگرد، استاد، عورت مرد ،بوڑھا ،اندھا، کمزور بھی نیکی کا کام بنا کسی تردد کے کر سکتا ہے اور اس کے مالی حالات معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کر نے میں اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنتے ۔ دین اسلام میں کوئی ایسا انسان نہیں پایا جاتا جو کسی نہ کسی طریقے سے بھلائی کا کام نہ کر سکتا ہو۔ ہر انسان اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق بھلاٸی کے کام کر سکتا ہے۔ مالدار اپنے مال اور اپنے مرتبے کے ذریعے نیکی کا کام کرے گا۔ غریب ہے تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کام اپنے ہاتھ اپنے دل ،اور اپنی زبان سے کرے۔ حضورﷺ کے زمانے میں بعض ناداروں نے آپ سے شکایت کی کہ مالدار لوگ نیکی کے میدان میں ان سے آگے بڑھ گئے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنی دولت کو فاہ عامہ اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرر ہے ہیں اور ناداروں کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جو وہ نیکی کی راہ میں دیں ۔ ان کے سامنے حضورﷺ نے وضاحت کی کہ نیکی کے کام کا ذریعہ صرف مال ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ کام نیکی اور بھلائی کا کام ہے جس سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچے ۔ آپﷺ نے فرمایا: ’تم جو ایک دفعہ اللہ کی تسبیح کرتے ہو یہ بھی نیکی ہے ، کسی بھلائی کا حکم دینا بھی نیکی ہے، برائی سے روکنا بھی نیکی ہے،راستے سے کانئے وغیرہ تکلیف دینے والی چیز کا ہٹانا بھی نیکی ہے،دو آدمیوں میں صلح کرا دینا بھی نیکی ہے، اور کسی یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دینا بھی نیکی ہے۔ اس طرح اسلام خیر کے دروازے معاشرے کے تمام لوگوں کے لیے کھول دیتا ہے ۔ اور یہ خیر اور فلاح صرف ہم مذہب کے لیے نہیں بلکہ اسلام انسان کو انسان دوستی کے اس اونچے مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں سے خیر و نیکی کے کام تمام انسانی برادری کے لیے عام ہو جاتے ہیں چاہے ان کا مذہب ،ان کی زبان ،ان کا ملک اور ان کی قومیت کوٸی بھی ہو۔ ہمارے نبی ﷺ فرماتے ہیں: لوگ اللہ کے عیال ( خاندان) ہیں اللہ کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اس کے عیال کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔

    @MrGondalll

  • گریجوایشن کے بعد زندگی کیسی رہے گی ؟  تحریر:محمد شہباز سرکانی

    گریجوایشن کے بعد زندگی کیسی رہے گی ؟ تحریر:محمد شہباز سرکانی

    اکثر طالب علم یہی سوچتا ہے کہ اب مدرسے سے فارغ ہوں اب میری زندگی کیسی گزرے گی اور کن کن مشکلات سے گزرنا پڑے گا ۔ سب سے پہلے تو اپنے دوستوں سے بچھڑنے کا غم ہوتا ہے اور پھر آگے روزگار کی پریشانی اگر آپ کا تعلق کسی غریب گھرانے سے ہے اگر آپ کسی سردار کے بیٹے ہیں ، کسی زمیندار کے بیٹے ہیں تو پھر تھوڑی آسانی رہے گی ورنہ ہر وقت یہی پریشانی رہے گی ۔
    پھر گریجوایشن کے بعد طالب علم جب روزگار کی طرف جاتا ہے تو کچھ نہیں دیکھتا وہ بس کسی نہ کسی طرح روزگار حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر اس کو پسند کا کام نہ ملے تو وہ اس امید کے ساتھ زندگی جینے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ ابھی شروعات ہے پھر زندگی سنور جاۓ گی اور کسی دن اچھا روزگار بھی مل جاۓ گا ۔ حالیہ دنوں مجھے بھی ان مشکلات کا سامنا رہا اور میں بھی تمام طالب علموں کی طرح ہی رہا مگر ہمت نہیں ہاری اور زندگی کی جنگ لڑتا رہا اور ابھی بھی جاری ہے ۔
    جب ہم بات کریں کسی بے روزگار گریجوایٹ طالب علم کی تو وہ بہت سی مشکلات کا سامنا کرتا ہے جیسے بے روزگاری کا رونا ، معاشرے کی تنگدستی ، طعنے ، اور گھر والوں کی طرف سے پریشر حتی کہ وہ کسی بھی شعبے میں جانے کےلیے تیار رہتا ہے تاکہ ان سب چیزوں سے جان چھوٹ جاۓ اور کسی نہ کسی طرح وہ کسی اچھے سے روزگار کے ساتھ جڑ جاۓ تاکہ وہ ابھی اس بے روزگاری کی نحوست سے نجات حاصل کرلے ۔
    شروعات میں جب آپ روزگور والے ہوں بھی جاٸیں تو آپ کو بہت سے لوگوں کی طرف سے مختلف باتیں سننے کو ملیں گی کہ یہ تمہارا شعبہ نہیں ، اس کو اب حتمی روزگار نہ سمجھنا ، تم خواہ مخواہ اپنا وقت ضاٸع کررہے ہو اس سے کچھ وصول نہیں ہوگا یہ تمہارا شعبہ نہیں مطلب بہت کچھ سننے کا ملتا ہے اگر آپ نے ارادہ کرلیا تو ان چیزوں کو سن لیں مگر کریں وہی جو آپ کی زندگی مطالبہ کررہی ہے کیونکہ ضرورت اپنی آپ نے خود کرنی ہے لوگوں نے نہیں اس لیے ان کی طرف کان نہ دھریں اور اپنے کام سے کام رکھیں
    جب زمانہ طالب علمی کا رہا تو بہت سے خواب آنکھوں میں سجاۓ روز یونیورسٹی کالج ، سکول جاتے ہوۓ یہ سوچ کر کہ ایک دن ملک کی تقدیر اور اپنی زندگی سنور جاۓ گی لیکن اس کےلیے بہت سی مشکلات ہم بھول جاتے ہیں جس طرح آپ نرسری سے لے کر ایم اے تک بہت سے امتحانات سے گزرتے ہیں اس طرح آپ ایم اے کے بعد مطلب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اور بہت سی مشکلات کےلیے اپنے آپ کو تیار رکھیں کیونکہ یہ زندگی ہے اور مشکلات کو صبر کے ساتھ سامنا کریں اس طرح زندگی اچھی گزرے گی ۔ تحریر https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • اوورسیسز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ . تحریر : عثمان چوہدری

    اوورسیسز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ . تحریر : عثمان چوہدری

    اورسیز پاکستانی ہر مشکل گھڑی پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہيں اس کی تازہ مٽال گزشتہ تين سالوں جب ملک کو انتہائی معاشی چلنجز کا سامنا تھا تو اورسیز پاکستانیوں نے وزيراعظم عمران خان کی کال پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ چاہے ریکارڈ ترسیلات زر ہو ، روشن ڈیجٹل اکاونٹ اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ہو اورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی انوسٹمنٹ کر کے ملک کو ڈیفلٹ ہونے سے بچایا، گزشتہ تین سالوں میں ملکی معیشت کو جیسے اورسیز پاکستانیوں نے سہارہ دیا ہے اسکی ماضی میں مثال نہی ملتی ،
    حکومت اور سٹیٹ بینک کے اورسیز کارکنوں کی سہولت کے لئے شروع کیے گئے مختلف اقدامات کی وجہ سے کوڈ 19 وبائی امراض میں درپیش چیلنجوں کے باوجود مثبت نتائج آنا شروع ہو گے ہیں۰

    سٹیٹ بنک اوف پاکستان کے مطابق اس سال 2020-2021 میں پاکستان کو تاریخ کی ریکارڈ ترسیلات زر 29.4 ارب ڈالر وصول ہوی ہیں ۰
    اورسیز پاکستانیوں نے سال 2019-2020 میں ریکارڈ 23.13 بلین ڈالر کی ترسیلات زر بیھجی تھی۰یاد رہے اس سال پا کستان کو گزشتہ سالوں کی ترسیلات زر کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ وصول ہوٸ ہیں. پاکستان کو ترسیلات زر کا تقریبأ 60 فیصد خليجی ممالک اور 40فیصد امریکہ ، برطانیہ ، یورپ اور دیگر ملکوں کے اورسيز پاکستانيوں سے وصول ہوتا ہے ۔

    اورسيزپاکستانی ہمیشہ سے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعہ ملکی معاشی ترقی میں اہم حصہ رہے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات کرنا ضروری سمجتا ہوں سابقہ ​​تمام حکومتوں نے اورسیز پاکستانیوں کو ان کی شراکت کے لئے مختلف مراعات سے نوازنے کا وعدہ کیا تھا
    لیکن کسی نے بھی ان وعدوں کوتکميل تک نہیں پہنچایا جتنا وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں موجودہ حکومت نے کوشش کی ہے۔ جس کی وجہ سےاورسیز پاکستانی پہلے کے مقابلے اب زیادہ پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں۰

    @iusmanchoudhry

  • سوشل میڈیا کا بہترین استعمال   تحریر: فرمان اللہ

    سوشل میڈیا کا بہترین استعمال تحریر: فرمان اللہ

    سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے ایک عام انسان کو بھی دوسروں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔ جس طرح الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد پرنٹ میڈیا کی اہمیت کافی حد تک ختم ہوئی اِسی طرح سوشل میڈیا کے آنے کے بعد الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت میں بھی کافی حد تک کمی ہو چکی ہے.

    ایک وقت تھا جب ملک میں صرف پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا راج تھا اور بہت سارے مسائل جن کا تعلق ایک عام انسان سے ہوتا تھا اُن مسائل کی نشاندہی کبھی نہیں ہوتی تھی لیکن آجکل سوشل میڈیا کی بدولت کوئی بھی انسان اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتی کے بارے میں پوری دنیا کو بتا سکتا ہے لیکن میں نے نوٹ کیا ہے کہ آج بھی ہم کافی حد تک سوشل میڈیا کا استعمال بہترین انداز سے نہیں کر رہے۔

    بہت سارے لوگ اسے ٹائم پاس کے لیے استعمال کرتے ہیں فیک نیوز اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے سوشل میڈیا کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    سوشل میڈیا کے بڑے فوائد ہیں اچھی باتوں کو شیئر کرنا جس سے کسی اور کا اچھا ہو سکے، کسی مظلوم لاچار کی آواز بننا اور اس کی فریاد اعلی حکام تک پہنچانا، ملک میں ہونے والے ہر غلط کام کی نشاندہی کرنا اس پر بول کر اپنے آواز لاکھوں لوگوں تک پہنچانا، ملک و قوم کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا، دشمن کے غلط بیانیہ کو دھبڑدوس کرنا اس کی غلط چالوں کو بے نقاب کرنا۔ ایسے بے شمار فوائد ہیں سوشل میڈیا کے اگر آپ اِس کا بہتر استعمال کریں تو

    Twitter account: @ForIkPakistan

  • بھیک مانگنا ایک کاروبار . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک کاروبار . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    آجکل بھیک مانگنا ایک پیشہ بن گیاہے۔ اوربھکاری لوگوں سے پیسے لینااپنا حق سمجھتے ہیں۔ عموماً بھکاریوں کوشہر کے چوک, چوراہوں, ریسٹورینٹس, شاپنگ مالز, مارکیٹوں اور ہسپتالوں کے باہر دیکھا جاتا ہے۔ ٹریفک سگنلز بند ہوتے ہی بھکاریوں کا ایک ٹولہ امڈ آتا ہے اور ہر گاڑی, رکشے اوربائیک پر بیٹھے لوگوں کوتنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور اسطرح یہ گداگر پورا دن چاروں اطراف کے سگنلز پر گھومتے رہتے ہیں.

    گداگری ایک ایسی بیماری ہے جو ایک دفعہ لگ جائے تو گویا کینسر کیطرح جان لیکر ہی چھوڑتی ہے۔
    ہمارے شہری بھی اس گداگری کو پروان چڑھانے میں ان گداگروں جتنے ہی شامل ہیں۔ کیونکہ ہم جب انکو پیسے دیتے ہیں تو ان کے لاشعور میں یہ بیٹھ جاتا ہیں کہ گویا یہ تو ہمارا حق ہے جو انہوں نے دینا ہے۔ اسطرح یہ لوگ اس میں پختہ ہوجاتے ہیں اور پھر یہ کام تادمِ مرگ جاری رکھتے ہیں اور اپنی اگلی نسلوں کو بھی اس کیلئے تیار کرتے ہیں۔ اسطرح یہ لوگ اپنے بچوں کوانجنیئر, ڈاکٹر, سائنسدان اور تاجر نہیں بناتے بلکہ پیشہ ور اور بے ضمیر گداگر بناتے ہىں جو کہ ملک وقوم کیلئے ایک ناسور ہوتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ہمارے لئے شرمندگی باعث ہوتا ہیں.

    من حیث القوم ہمیں اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا اور اپنے آنے والی کو بھی یہ سبق دیکر جائینگے کہ یہ گداگری ختم کرنا ایک تحریک ہے نہ کہ ایک وقتی جدوجہد-

    @IjazPakistani

  • برین ڈرین اور پاکستان . تحریر : صالح ساحل

    برین ڈرین اور پاکستان . تحریر : صالح ساحل

    کسی بھی ملک کی افرادی قوت یا دوسرے لفظوں میں ہنر یافتہ لوگوں کا روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ملک کو چھوڑ کر چلے جانے کو برین ڈرین کہتے ہیں کسی بھی ملک کا سرمایہ اس کے ہنر یافتہ نوجوان ہوتے ہیں پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں جوان سب سے زیادہ ہیں مگر اس کے ساتھ بد نصیب بھی کیوں کے پاکستان کے ہنر یافتہ نوجوان یہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ان میں سے سب سے بڑی تعداد ڈاکٹروں کی ہے ایک ڈاکٹر پر ریاست لاکھوں روپے لگتی ہے اور کیا ہی بد قسمتی ہے کے وہ باہر چلا جاتا ہے اس کے بعد انجینر حتی کے الیکڑیشن تک یہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہیں اور ریاست ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی دیکھ رہی ہے اور اس میں ان نوجوان کا کیا قصور جب کسی کو یہ لگے کے نا اس کا یہاں مستقبل ہے کبھی سوچا ہے کے ہماری ریاست ہمارے ٹیکس کے پیسے سے ان کو ہنر دیتی ہے اور وہ اپنے اس ہنر کو باہر جا کر دوسروں کو دیتے ہیں ایک تو ریاست کے پاس وسائل نہیں اوپر سے سونے پر سہاگا کے یہ نظام اتنا گٹھیا اور بدبودار ہو چکا ہے کے جہاں ایک شریف اور ایماندار شخص کا کام کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے ایسے میں کوئ پاگل ہی ہو گا جو یہ کام کرے گا اپنے قیمتی ذہن ہم کھو رہے ہیں پھر ہم روتے ہیں کے ہم ہر چیز میں مغرب سے پیچھے ہیں ایسا نا ہو کے ہمارے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے اس پر سوچنا شروع کرو.

    @painandsmile334

  • ایف اے ٹی ایف کی غیر جانبداری سوالیہ نشان      تحریر:محمد زمان

    ایف اے ٹی ایف کی غیر جانبداری سوالیہ نشان تحریر:محمد زمان

    آخرکاربھارتی وزیر خارجہ جے ایس شنکر نے تسلیم کرہی لیاہے کہ بھارت پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے لئے ایف اے ٹی ایف پر اثر انداز ہو رہا ہے،اس اعتراف کے بعد یہ تو ثابت ہوا کہ ایف اے ٹی ایف بھارتی اثر و رسوخ میں کام کرنے والا ایک سیاسی ڈھونگ ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جی شنکر کا یہ اعتراف کہ ان کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل رکھا جائے۔بھارت کے وزیر خارجہ کا یہ بیان پاکستان کے اس مئوقف کی تصدیق کرتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور اس پربھارت کا اثر و رسوخ ہے۔ جے ایس شنکر نے یہ سچ بی جے پی کے سیاسی کارکنوں کے اجتماع میں بولا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آرایس ایس ہندوتوا کے نظریات کی بی جے پی کی بھارتی سرکار بین الاقوامی اداروں کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیا بھارت کی طرف سے اعلانیہ اس اعتراف کے بعد ایف اے ٹی ایف اس تنازع سے باہر نکل سکتا ہے؟ کیا ایف اے ٹی ایف کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھانے چاہئیں؟۔ کیا ایسے بیانات کے بعد یہ ادارہ اپنی ساکھ برقرار رکھ پائے گا؟ کیا اس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے فیصلوں کو انصاف پر مبنی کہا جا سکتا ہے؟۔ اب یہ ثابت ہوا ہے کہ یف اے ٹی ایف متعصب مغربی دنیا کے آلہ کار کی حیثیت سے کام کر رہااورمغربی کے نوآبادیاتی نظام کوپروان چڑھانے میں پیش پیش ہے جوممالک مغربی ممالک کی پالیسیوں سے انحراف کرکے اپنے ملکی مفاد میں فیصلے کرناچاہتے ہیں تو ان ممالک کوسبق سکھانے اورانہیں مفلوج کرنے کیلئے ان پرمنی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی معاونت کاالزام لگاکران پرپابندیاں لگادی جاتی ہیں جس کی واضح مثال پاکستان ہے جس نے ایف اے ٹی ایف کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کیا اس کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا، جواس ادارے کی حقیقی روح کے خلاف ہے جبکہ پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ثبوت ڈوزئیرکی صورت میں اقوام متحدہ میں جمع کرائے اور ایف اے ٹی ایف کو بھی آگاہ کیا۔بھارتی دہشت گردی کی واضح مثال پاکستان میں گرفتاربھارتی نیوی کاحاضرسروس آفیسر راء کاایجنٹ کلبھوشن یادیوہے۔ بھارت داعش کو ہتھیار فراہم کرتا ہے لیکن اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق بھارت دنیا بھر میں حوالہ کے ذریعہ خفیہ طور پر رقم منتقل کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن یہ ایف اے ٹی ایف کودکھائی نہیں دیتاکیونکہ بھارت اس کے بڑوں کالے پالک ہے۔ بھارتی ادارے اور افراد غیر قانونی اور مشکوک لین دین کے ذریعے 1.53 بلین ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھے اتنے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے باوجود بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی،اسی طرح بھارت میں غیرمحفوظ ایٹمی اثاثے جہاں یورینیم چوری کی خبریں عالمی میڈیاکی اکثروبیشتر زینت بنتی ہیں لیکن یہ سب ایف اے ٹی ایف کودکھائی نہیں دیتے کیونکہ یہ پابندیاں صرف ان ملکوں پرلگائی جاتی ہیں جوان کی جی حضوری نہیں کرتے۔حقیقت میں ہونایہ چاہئے تھا کہ ایف اے ٹی ایف کو بھارت کے خلاف ایکشن لیکر سخت کارروائی کرتے ہوئے اسے بلیک لسٹ میں ڈالاجاتااورپاکستان کی بہترین کارکردگی پراسے گرے لسٹ سے نکال کروائٹ لسٹ میں شامل کیاجاتا۔ اب عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف کی جانبداری کاواضح ثبوت اورکیساہوگا ۔دنیا بھارت سے ہونے والی منی لانڈرنگ پر خاموش رہتی ہے۔ کیا بھارت سے دہشت گردوں کی مالی سرپرستی اور معاونت دنیاسے ڈھکی چھپی ہے ؟۔ ان سارے واقعات کے بعد پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات کو کسی بھی طورپر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان پر پابندیوں کی سب سے بڑی وجہ مسلم ملک ہونا ہے اس کے بعد دوسری بڑی وجہ ایٹمی صلاحیت کا ہونا ہے تیسری بڑی وجہ کہ ہمارے دفاعی ادارے اور عوام کو ملک سے بے پناہ محبت ہے، پاکستان نے ہر مشکل میں دنیا کا ساتھ ضرور دیا ہے لیکن اس کے باوجودمتعصب دنیا نے پاکستان کو نشانے پر رکھاہواہے۔ ایف اے ٹی ایف کی مسلسل گرے لسٹ میں رکھنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، حیلے بہانوں سے پاکستان پر مزید پابندیاں لگانے کے لیے ماحول بنایا جارہاہے ۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت اس سلسلے میں منفی کردار ادا کر رہا ہے، بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان پر مزید سختی کی جائے، اس کے لیے سازشیں اور اپنا اثرورسوخ بھی استعمال کر رہا ہے۔ افغانستان جنگ میں پاکستان نے امریکہ کی حمایت کی اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا اتحادی بنا تو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ دنیا کو پر امن بنانے کے لیے ہم نے 70 ہزار قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کھربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کیا، ہماری ایک نسل خود کش بم دھماکوں کا نشانہ بنی، دوسری نسل نے دہشت گردوں کے خوف میں زندگی بسر کی، ہم بیرونی دنیا سے کٹ کر رہ گئے اوردنیاکے خطرناک ملک کاخطاب حاصل کیا، دنیا کو دہشت گردوں سے نجات دلاتے دلاتے ہم خود دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر آ گئے یہ سب کچھ امریکی حمایت کے باوجود ہوا۔ پاکستان نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے علاقائی سیاست میں غیر جانبدار رہنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ افغانستان کے معاملے میں بھی پاکستان خطے میں صرف پائیدار امن قائم کرنے کی پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے اور غیر جانبداری کے موقف پر قائم بھی ہے۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت، افغانستان میں غیرافغان نمائندہ اشرف غنی کی حکومت اور امریکی حمایت سے پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں (غیرنمائندہ اس لئے کہ افغانستان کا 85فیصدحصہ طالبان کے کنٹرول میںہے) پہلے داسوڈیم کا افسوس ناک واقعہ سے چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر کی بیٹی کا اغوا کاڈرامہ، یہ سب واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ان کا مقصد پاکستان کے امن کو تباہ کرنا ہے، پاکستان کی ساکھ کو خراب کرنا اور دنیا کو یہ بتانا کہ پاکستان میں کوئی محفوظ نہیں ہے، پاکستان کو چین کے ساتھ دوستی کی بھی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے کیونکہ سی پیک پاکستان کے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہا۔ دنیا یاد رکھے کہ پاکستان نے دو دہائیوں تک ہر طرح کی دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان کے دفاعی اداروں نے اپنی عوام کے ساتھ مل کر ملک دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ اس مرتبہ بھی پاکستان کے خلاف جو جال بچھایا جا رہاہے پاکستان کے دفاعی ادارے اپنے غیور عوام کے ساتھ مل کر اسے ناکام بنائیں گے اور ان شاء اللہ ایک بار پھر پاکستان سرخرو ہوگا لیکن اب ایف اے ٹی ایف کی ساکھ اور غیر جانبداری ایک سوالیہ نشان بن کر سامنے آچکی ہے کیونکہ بھارتی وزیرخارجہ جے ایس شنکرنے بیچ چوراہے کے ایف اے ٹی ایف کی ہنڈیا پھوڑدی ہے کہ بھارت پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے لئے ایف اے ٹی ایف پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اس اعتراف کے بعد یہ تو ثابت ہوا کہ ایف اے ٹی ایف بھارت نوازہے کوئی غیرجانبدارانٹرنیشنل ادارہ نہیں رہاہے۔

  • کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری . تحریر: سردار امیر حمزہ

    کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری . تحریر: سردار امیر حمزہ

    کشمیر کی سیاست میں برسوں سے طاری جمود اور JKUM کی انٹری ،تحریر:سردار امیر حمزہ (ترجمان جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ)
    پانچ اگست انتفاضہ کشمیر کے بعد اِس پار کشمیر کی صورتحال بھی بدل چکی تھی۔سب جماعتیں اپنے اپنے منشور کو لے کر مفادات کی سیاست کررہی تھیں۔ایسے میں بے چین تھا اور کشمیر کا ہر نوجوان کسی خبر کے انتظار میں تھا۔میں نے عزم کیا کہ ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھیں جو حقیقی طور پر کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں کی عکاسی کرے۔سردار بابر حسین ہمارے دوست تھے۔پاکستان تحریک انصاف سے منسلک تھے۔میں ان سے ملاقات کی ان کے سامنے ساری صورتحال کو رکھا۔انہوں نے حامی بھری اور چند دوستوں کے ساتھ مل کر طے پایا کہ نئی جماعت کا نام جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ ہوگا۔دوسری طرف سردار بابر حسین نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔یہ اسی سال پانچ فروری کا دن تھا۔ہمارے لیے یہ نہایت تاریخ ساز دن تھا۔ایوان صحافت مظفرآباد میں ہم نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا باقاعدہ اعلان کردیا اور سردار بابر حسین کو صدر منتخب کردیا۔ساتھ ہی تنظیم کی تنظیم سازی کا بھی اعلان کردیا۔ہم نے جو اغراض ومقاصد طے کیے ان میں سب سے اہم یہ تھا کہ ہم حقیقی طور پر کشمیر کی تحریک کی پشتیبانی کریں گے اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آواز بلند کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر میں انقلاب کی ایک نئی روح بیدار ہو۔حالیہ تحریک آزادی کشمیر میں ہونے والے زخمی اور شہدا کے گھروں کی دیکھ بھال،دل جوئی اور عزت افزائی کرنا،نوجوانوں کو اپنے کشمیری ہیروز اور تاریخ کشمیر سے آشنا کرنا،تحریک آزادی کے لیے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال۔کرپشن کیخلاف جہاد،قانون کی حکمرانی،میرٹ کی پامالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرنا،آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لانا۔ فائرسیفٹی، سول ڈیفنس کی تربیت دینا، اپنے علاقے کی بہتری کے لیے اتفاقِ رائے سے کام اورفیصلہ جات کرنا۔لوکل کونسل اوریونین کونسل کی تعمیر و ترقی کے لیے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پلان بنانا۔طلباء کے لیے تعلیمی وظائف اورکیریئر کونسلنگ کے لیے ورکشاپس کا انعقاد۔جوانوں کے لیے ٹیکنیکل تعلیم کے ساتھ ساتھ سمال بزنس کی انٹرنشپ کا انعقاد کرنا۔کھیلوں کے فروغ اورمنشیات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا۔ ماحولیات کی بہتری کے لیے جنگلات کا تحفظ و آگاہی۔لیڈرشپ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تربیتی ورکشاپس اور یوتھ پارلیمنٹ کا قیام۔ختمِ نبوت اور حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسبانی۔خوشحالیِ کشمیر کے لیے نوجوان اور ایماندار قیادت کو آگے لا کر آزاد کشمیر کو قابض، کرپٹ سیاسی مافیا سے آزاد کروانا۔خواتین کے تحفظ کے لیے مکمل قانون سازی کرنا۔

    اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی مکمل قانون سازی کرنا۔عوام کے فری علاج معالجے کو یقینی بنانا۔یہ ہمارے اغراض ومقاصد تھے۔نوجوان ہم سے متفق ہوئے۔جس کے پاس بھی جاتے وہ ہمارے مشن کو سراہتا اور ساتھ چلنے کی یقین دہانی کرواتا۔لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا۔وہ دن بھی آیا جب پورے کشمیر میں ہم نے اپنا بہت کم وقت میں منظم نیٹ ورک قائم کرلیا۔ہم نے بہت سے خدمت کے کام کیے۔بالخصوص کورونا کی حالیہ لہر میں ہم نے عوام کی خدمت میں اپنا کردار نبھایا۔ہم نے جہاں موقع ملا بلدیاتی انتخابات کے لیے آواز اٹھائی۔سردار بابر حسین نے پورے کشمیر کے دورے کیے۔ہم نے عملی سیاست میں بھی اترنے کا فیصلہ کیا اور الیکشن کمیشنکیطرف سے اعلان ہوتے ہی ہم نے تقریبا ہر حلقے میں اپنے امیدوار نامزد کیے۔یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے اس کو قبول کیا اور ہمیں کامیابی ملی۔ہم نے دین دار و دیانتدار اور کشمیر کاز سے مخلص امیدواروں کا چناؤ کیا۔الیکشن کمیشن کی طرف سے ہمیں کرسی کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا۔ہم نے آزاد کشمیر الیکشن میں بھر پور مہم چلائی۔بڑی بڑی جماعتیں ہماری مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوئیں۔ہم پرامید ہیں کہ مجموعی اعتبار سے انتخابات میں اچھا ووٹ بنک حاصل کرکے کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں ایک الگ مقام بنالیں گے۔گذشتہ روز قبل ضلع باغ،نارووال،سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں بڑے ہمارے پاور شو ہوئے عوام نے ہمیں اپنی حمایت کا بھر پور یقین دلایا۔ہم حکومت میں آئیں یا نہ آئیں اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کرائیں گے۔رو ز گارکے مواقع فراہم کرینگے۔اوورسیز کشمیری اس میں ہمارے ساتھ تعاون کرینگے۔ ہم مہاجرین مقیم پاکستان‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور بیرو ن ممالک مقیم کشمیریوں کیساتھ مل کر سب کو متحد کرینگے۔ خواتین کی اسمبلی میں نمائندگی کو بڑھایا جائیگا۔ہم ایم ایل ایز کو نہیں یونین کونسل سطح سے نوجوان کونسلر ز کو آگے لائیں گے۔ تمام مسائل کا حل بلدیاتی انتخابات میں ہے۔ جب یہ نظام بحال ہو گا تو فنڈز براہ راست عوام تک جائیں گے۔ غریب آدمی آگے آئے گا۔ انصاف ملے گا۔ گزشتہ 30سا ل سے ایوانوں میں ایک مافیا مسلط ہے۔ یہ سب اپنے فائدے کیلئے الیکشن لڑتے ہیں کامیاب ہو کر لوٹ مار کرتے ہیں۔ یہ سب لوٹ مار روکنے کیلئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروانا چاہتے ہیں۔نوجوان ہمارے ساتھ ہیں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لوکل لیڈرشپ کو اوپر لائینگے۔ موجود ہ سیاسی نظام میں ہر جماعت میں باپ کے بعد بیٹا اور اسکے بعد پوتا آگے لایاجارہاہے۔یہ لوگ خاندانوں کی سیاست کرتے ہیں۔اس نظام کو ختم کرینگے۔کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ان شاء اللہ امید کے ساتھ کہتا ہوں پچیس جولائی کا دن ہمارے لیے نوید کا باعث بنے گا آپ بھی آج باہر نکلیں اور کرسی پر مہر لگا کر ہمارے کارواں کو آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دیں۔

    @SpokesmanJKUM

  • سوشل میڈیا اور ہماری زمہ داریاں   تحریر: سید لعل بُخاری

    سوشل میڈیا اور ہماری زمہ داریاں تحریر: سید لعل بُخاری

    اس بات میں کوئ شک نہیں کہ ڈیجیٹل سوشل میڈیا ،بطور ایک موثر قوت اور معاشرے کی آواز کے،اپنے آپ کو منوا چُکا ہے۔
    اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اب سوشل میڈیا کی پیروی کرنے پر مجبور ہے
    آپ شام کو ٹی وی پرکسی بھی ٹاک شو کو دیکھ لیں۔وہاں سوشل میڈیا کے ٹرینڈز پر پروگرام کیے جا رہے ہوں گے۔سوشل میڈیا پر چھاۓ رہے دن بھر کے موضوعات پر بات ہو رہی ہو گی۔
    سوشل میڈیا کے اس طرح اہمیت اختیار کر جانے سے بطور ایکٹوسٹ ہم سب کی زمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ہمیں اس فورم کا مثبت استعمال کرنا چاہیے۔تنقید کسی پر بھی کی جا سکتی،چاہے وہ حکومت ہو یا اپوزیشن،تنقید ضرور کریں،اسی تنقید سے معاشروں اور ملکوں کی اصلاح ہوتی ہے۔
    لیکن تنقید میں شائستگی کا پہلو نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔گالی گلوچ کو تنقید نہیں کہا جاسکتا۔آپ کسی کے لیڈر کو گالی دیں گے تو وہ آپ کے لیڈر کو مغلفات سے مخاطب کرے گا۔اس سے جہاں معاشرے میں منافرت اور کدورت بڑھے گی،وہیں آپ زاتی دشمنیاں بھی پال لیں گے۔جس سے کسی کا بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اپوزیشن اور حکومت کے غلط کاموں پر تنقید ضرورکریں۔مثبت تنقید زندہ معاشروں کی نشانی ہوتی ہے۔آپکی تحریرکے کمنٹس میں جو لوگ سُلجھے ہوۓ طریقے سے تنقید کرتے ہیں۔اُن کا مناسب جواب دیں۔جو لوگ حد کراس کرتے ہیں یا اپنی تربیت کا اظہار کرتے ہیں۔اُن کی بے ہودگی پر یا تو خاموشی اختیار کر لیں یا پھر FIAسائبر ونگ جیسے اداروں کو رپورٹ کریں۔
    گالی گلوچ زیادہ تر فیک اکاونٹس سے کی جاتی ہے،فیک اکاونٹس والے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ انکو کوئ دیکھ نہیں سکتا۔
    حالانکہ ایسی بات قطعا” نہیں ہے،موجودہ دور میں یہ بدمعاشی نہیں چل سکتی۔اداروں کے لیے ایسے فسادیوں کو پکڑنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔یہ لوگ جب پکڑے جاتے ہیں تو رو رو کر پاوں پکڑ رہے ہوتے ہیں کہ معاف کر دیا جاۓ۔تو اس سے بہتر نہیں ہے کہ بندہ گاجریں ہی نہ کھاۓ تاکہ پیٹ درد سے بچا جا سکے۔
    اللہ تعالی نے اگر آپ کو قلم کی طاقت دی ہے تو اسکا اسعمال اپنے ملک کی بہتری اور معاشرے کی بہتری کے لیے کریں۔
    ریاستی مفادات کو اپنے زاتی یا سیاسی نظریات کی بھینٹ مت چڑھائیں۔اس ارض پاک کا ہم سب پہ قرض ہے،اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر کے اپنا یہ قرض اتارنے کی کوشش کیا کریں تا کہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر،مضبوط اور خوشحال پاکستان مل سکے #
    @lalbukhari

  • انسانی جسم کی پہچان . تحریر : عبید الله

    انسانی جسم کی پہچان . تحریر : عبید الله

    انسانی پہچان میں فنگر پرنٹ کا بہت بڑا کردار ہے، کسی فرد کی الگ سے پہچان اٹھارہ سو اسی میں ڈاکٹر ہنری فالڈز جنکا تعلق فرانس سے تھا، انہو نے کی تھی. تب سے انسانی پہچان کا سلسلہ شروع ہوا جو آجکل کے جدید دور میں بھی سرِ نمایاں ہے جسکا متبادل کوئی اور زریعہ نہیں ہے. دنیا میں کم و بیش سات ارب نوے کروڑ سے زیادہ انسان رہتے ہیں اور کئ ارب سے زیادہ انسان اس دنیا فانی سے جا چکے ہیں اور نہ جانے قیامت تک کتنے انسان اس فانی دنیا میں جنم لیں گے لیکن تمام انسانوں کی فنگر پرنٹس ایک دوسرے سے جدا ہونگی حتیٰ کہ جُڑوا بھائیوں کے فنگر پرنٹس بھی جدا تھے اور ہوں گے. اس سب کے باوجود کئی لوگ جو اللہ تعالی کو نہ ماننے والوں میں سے ہیں وہ شکوہ کرتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی میں مِل جاتا ہے اور اسکے جسم کی ہڈیاں خاک میں مِل جاتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہیکہ انسان کے جسم کا ایک ایک ٹکڑا اکٹھا کرکے انسان کو پہلی والی شکل میں اتارا جائے گا، یہ ناممکن ہے لیکن اگر اسطرح ہو بھی جائے تو روزِ محشر کیسے اس انسان کی پہچان واضح ہوگی.

    اس کا جواب اللہ تعالی نےقرآن مجید کی سورۃ قیامت کی آیت نمبر 3 اور 4 میں دیا ہے.
    "أَيَحۡسَبُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجۡمَعَ عِظَامَهُۥ”
    ترجمہ
    "کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں”

    یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقیناٙٙ انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں

    دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    "بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُۥ”
    ترجمہ
    "ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں”

    بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا. جن میں اللہ تعالیٰ کو نہ فقط بوسیدہ ہڈیوں کے جمع کرنے بلکہ انسان کے انگلیوں کے سروں کو بھی دوبارہ بنانے پر قادر قرار دی گئی ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آج سے چودہ صدیوں پہلے کسی کو علم تھا کہ ہر انسان کی انگلیوں کے نشانات ایک دوسرے سے جدا ہیں ؟
    بالکل یہ علم رکھنے والی زات الله تعالیٰ کی ہے اور کوئی زات نہیں.

    @ObaidVirk_717