گرمی کے موسم کا آغاز ہوچکا ہے، اور ہم تیز دھوپ کے نیچے کچھ دیر قیام نہیں کرسکتے ہیں۔ درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ لیکن آپ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا! آسانی سے سانس لیں اور اے سی کے درجہ حرارت کو 26 میں ایڈجسٹ کریں۔ دیہی علاقوں میں درجہ حرارت شہروں کے مقابلہ میں کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہروں میں موجودہ ٹریفک کا بہاؤ دیہی علاقوں سے مختلف ہے۔ ہمارے ملک میں ٹریفک کے شور اور ٹریفک کے دھواں کسی گنتی میں شمار نہیں کیے جاتے ہیں، اور وہ ہر سال ہزاروں جانوں کے جانے کا باعث بن رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے نئے رہائشی منصوبوں کے لئے زرعی اراضی پر رہائشی علاقوں کی تعمیر کے کاروبار میں اسے تبدیل کردیا ہے۔ ہمارے ملک میں کوئی قانون یا ضابطہ اخلاق موجود نہیں ہے۔اگر سبز اراضی کو رہائشی علاقے میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو اس علاقے میں جیتا سبزہ کاٹا گیا ہے اس کے برابر اتنا ہی سبزہ کسی دوسرے علاقے میں لگایا جاۓ۔
آپ دوسروں کی بات کیوں کہنا چاہتے ہیں، پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ لیکن اس کی زراعت صرف کاغذی کام تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ اس پر یقین نہیں رکھتے ہیں تو، جب آپ اپنے شہر سے کسی دوسرے شہر کا سفر کرتے ہو تو راستے میں سڑک کے کنارے ایک پھل دار درخت یا کوئ سایہ دار درخت نظر آ جاۓ یہ نامکمن ہے۔ ہمارے رہائشی علاقے میں درخت غائب ہوگئے ہیں۔ اور جو موجود بھی ہیں وہ صرف سجاوٹ کے لیے جس کا نہ کوئ سایہ نا کوئ پھل۔ اس صورت میں، کون اب خالی جگہوں پر سبز رنگ کی نمائش کی توقع کرسکتا ہے؟ پاکستان میں درجہ حرارت کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ملک میں جنگلات کی کمی، درخت نہ لگانے کے رجحان اور ذاتی غیر ذمہ داری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم شدید گرمی کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔آئندہ آنے سالوں میں، شدید گرمی سے ہماری نسلیں تشدد کا نشانہ بنیں گی۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔آپ زیادہ سے زیادہ ٹاک شوز میں بیٹھ کر باتیں کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم، آپ اور پورے ملک، ہم سب ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنی بے حسی کے عروج پر فخر ہے۔ کوئی بھی ہمیں پیاس سے مرتے رہنے سے نہیں روک سکتا۔ بھارت نے ہمارے پانیوں میں ڈیم بنا کر ہمارے ملک کو صحرا کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔
آج، ہمیں یہ سمجھنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی کہ درخت ہمارے اور ماحول کے لئے بہت اہم ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ وزارت زراعت، جنگلات و آبپاشی کی وزارت مشترکہ منصوبہ تجویز کرے گی جسے حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے نافذ کرسکتی ہے۔ یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ کوئی بھی حکمران اس مسئلے کے ہل کا سوچھ سکتا ہے، اور صوبائی سطح پر سڑکوں کے کنارے درخت اور پودے لگانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ وہ صرف اپنے کمرے کے درجہ حرارت کو کم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لہذا،اب لوگوں کو اپنی مدد آپ اپنے گھر کے چاروں طرف درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ سڑک کے کنارے بسنے والے ہی اس ملک کو جل کر مرنے سے بچانے کے لئے سڑک کے کنارے درخت اور گھاس لگاسکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کو بچانے کے لیے سب سے بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔
@mussab_tariq
جو لوگ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ میں ایک پر باش اور زندگی سے بھرپور لڑکی ہوں مجھ سے کل سہیلی نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ اُداس ہوتی ہیں ،مجھےیہ سوال عجیب سا لگا میں نے کہا کہ میں بھی اداس ہوتی ہوں کیونکہ میں بھی انسان ہوں
پھر اس نے پوچھا کہ آپ کیا کرتی ہیں اپنی پریشانی ختم کرنے کےلیے
میں نے بتایا کہ میں اس ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
اسکے لیے چند اسٹیپس ہیں جن پہ عمل کرکے آپ سب بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں
1۔پریشانی کی وجہ دیکھتی ہوں کہ اسکی وجہ کیا ہے
2۔جب وجہ جان لیتی ہوں اگر تو ہے وہ خدشہ یا بدگمانی تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں تاکہ اللّٰہ تعالیٰ آئندہ مجھے اس سے محفوظ رکھے
3۔اگر واقعی وہ کوئی سیریس مسئلہ ہے تو اسکی وجہ ڈھونڈتی ہوں اور اسکے بعد حل کی طرف توجہ دیتی ہوں ،وجہ ختم مسئلہ حل عمومآ ایسا ہوتا ہے لیکن کچھ مسائل کو ہمیں گہرائی میں جاکر دیکھ کے صبر سے حل کرنا پڑتا ہے
4۔اگر وہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جو میں حل نہیں کر سکتی تو 2 نفل قضائے حاجات کے پڑھ کر اُسے اللّٰہ کے حوالے کر دیتی ہوں
میں ان پوائنٹس پہ عمل کر کے اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
کیا آپ لوگ بھی ان پوائنٹس کو اپنا کر اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرکے اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے تیار ہیں؟
بیٹھے بیٹھے فیصلہ ہوا آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے دیکھ کر آئیں کیا چل رہا ہے, چند دوستوں کے ساتھ اسلام آباد سے ہم روانہ ہوئے, ہماری پہلی منزل میر پور تھی. میر پور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بھی جلسہ تھا. میر پور چیک پوسٹ کراس کی تو الگ ہی منظر تھا ہر طرف سیاسی پارٹیوں کے پرچم, بینرز آویزاں تھے. یہاں ایک نئی جماعت کا پرچم بھی آویزاں تھا,یہ کشمیر کے الیکشن میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والی جماعت جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا پرچم تھا. ہم نے اپنے اس سفر میں اس جماعت کے امیدواروں سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی. ہماری پہلی منزل میرپور حلقہ ایل اے 3 تھی جہاں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار چوہدری شبیر چیچی سے ملاقات کرنا تھی. چوہدری شبیر چیچی کے پاس پہنچے ان سے ہم نے الیکشن کے حوالے سے گفتگو کی وہ پرعزم نظر آرہے تھے. چوہدری شبیر چیچی بتانے لگے پہلے وہ مسلم کانفرنس کے ساتھ تھے لیکن اس بار انہوں نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ وہ اس جماعت کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لیں جو ختم نبوت ﷺ اور کشمیر کی آزادی کے لیے صف اول میں نظر آتے ہیں. چوہدری شبیر چیچی کہنے لگےان کا مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ سے ہے, وہ پاکستان کے کچھ سیاستدانوں سے بہت نالاں تھے کہ یہ لوگ باہر سے آکر ہمیں دو ٹکے کا کہتے ہیں ,کہنے لگے میں تو اپنے حلقہ کی عوام سے کہتا ہوں ہم کشمیر کے مقامی لوگ ہیں, کشمیر کی مقامی جماعت ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں.اس موقع پر ان سے میرپور کے حوالے سے دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی .
اسی دوران ہمیں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے حلقہ ایل اے 4 کھڑی شریف کے امیدوار چوہدری خالد حسین آرائیں کی طرف چلنا تھا, موومنٹ کے میڈیا کوآرڈینیٹر انیس الرحمان باغی بھی ہمارے ساتھ تھے. میرپور شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر منگلا کے علاقے میں ہم داخل ہوئے تو بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات چوہدری خالد حسین کے آویزاں تھے .چوہدری خالد حسین ہمارے انتظارمیں تھے لیکن ہم تاخیر سے ان کی طرف پہنچے وہ نکل چکے تھے اور اب ہم ان کے انتظار میں وہاں موجود تھے. کچھ دیر بعد چوہدری خالد حسین کندھے پر سفید رومال رکھے داخل ہوئے اور ہماری آمد پر شکریہ ادا کیا. چوہدری خالد حسین کو ہم نے نہایت پرجوش پایا وہ بھی اپنے علاقے اور کھڑی شریف کی عوام سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے. ہمیں یہ بھی کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار کی طرف سے انہیں دستبردار ہونے کی پیشکش بھی کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی. چوہدری خالد حسین کہنے لگے کہ اب وہ وقت نہیں رہا ٹوٹی نلکے کی سیاست کی جائے, اب ہم خدمت انسانیت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں, عوام کے اور بھی بہت سے مطالبات ہیں میں اگر کامیاب نہ بھی ہوسکا تو میرے دروازے کھڑی شریف کی عوام کے لیے کھلے ہیں. میرپور میں سیاسی حوالے سے ہم نے صورتحال کا جائزہ لیا تو زیادہ تر لوگ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کررہے ہیں. ن لیگ کے انتخابی جلسہ کے حوالے سے ہمیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ کوٹلہ ارب علی خان سے ایم این اے عابدرضا کوٹلہ نے پانچ سو افراد کو اپنے ساتھ لا کر مریم نواز کا جلسہ کامیاب کروایا لیکن عوامی سطح پر ان کی پوزیشن اتنی مظبوط نہیں .قائد اعظم سٹیڈیم میں بھی پنڈال سج چکا تھا جہاں وزیر اعظم عمران خان نے بھی خطاب کرنا تھا .ہم میرپور سے نکلے اور اگلی منزل ہماری کوٹلی تھی. کوٹلی ہم دھنواں سے تتہ پانی کے علاقے میں پہنچے یہاں مسلم کانفرنس دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھی اور یہاں تحریک لبیک کے بینرز اور پرچم بھی ہمیں دیکھنے کو ملے, یہاں ہم جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار سانول آکاش کے بارے نجی چینل پر ایک رپورٹ دیکھ چکے تھے, انہوں نے تتہ پانی شہر میں اپنی انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا, سانول آکاش ایڈووکیٹ کے بارے بتایا گیا وہ دھنواں کے علاقے میں کچے مکان میں رہتے ہیں, موٹر سائیکل پر کمپین کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا کوئی بنک بیلنس نہیں, JK یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوارسانول آکاش امیدوار راج محل کے ساتھسانول آکاش ایڈووکیٹ بتانے لگے انہوں اسی تتہ پانی سے طلبہ سیاست کا آغاز کیا اور آج اسی تتہ پانی میں وہ اپنا انتخابی جلسہ کرکے فخر محسوس کررہے ہیں. تتہ پانی کے بارے سن رکھا تھا کہ یہاں ایک چشمہ ہے وہاں پانی شدید گرم ہوتا ہے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہم قریب ہی چشمے پر پہنچے .چشمے کا پانی واقعی نہایت گرم تھا. یہاں سے ہم واپسی کی رات لی اور رات کے ایک بجے ہم واپس اسلام آباد اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے .
پچھلی قوموں کے واقعات پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی قوم پر عذاب برے فعل کی وجہ سے آیا ، کسی پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ، کسی پر رب کے احکامات کی نافرمانی کی وجہ سے ۔ کسی ایک برے کام کی وجہ سے پوری کی پوری قوم تباہ و برباد ہوجاتی تھی
آج ہماری امت ، امت مسلمہ کس برائی میں ملوث نہیں ؟
"قوم لوط کا عمل ہم میں موجود ہے”
"قوم شعیب کی ناپ تول میں کمی والی عادت ہم میں موجود ہے”
"قوم نوح کی اللہ کے احکامات کو نہ ماننے والی عادت ہم میں موجود ہے”
"قوم موسیٰ کی ناشکری والی عادت ہم میں پائی جاتی ہے ”
"قوم عیسی علیہ السلام والی بنا تحقیق کے دوسروں پر الزامات لگانے والی عادت ہم میں موجود ہے”
کوئی ایسی برائی نہیں جو ہم نہ پائی جاتی ہو ۔ لیکن اس کے باوجود ہم ابھی تک تباہ کیوں نہیں ہوئے ؟ کیوں یک لخت اللہ تعالیٰ کا عذاب ہم پہ نازل نہیں ہوا
اس کی وجہ صرف اور صرف میرے پیارے نبی ﷺ کی دعائے مبارکہ ہے جو انہوں نے اپنی امت کیلئے کی
کہ یارب! میری امت کو ایک ہی دفع عذاب سے تباہ نہ کرنا
صرف اپنے نبی محمد ﷺ کی دعائے مبارکہ کی وجہ سے ہم بچے ہوئے ہیں ۔ ورنہ جیسے ہمارے اعمال ہیں ہم پر تو خدا کا غضب نازل ہوتا
تو جس نبی کو اتنی فکر تھی ہماری آج ہم انکی سنت پر چلنے سے گریزاں کیوں ہیں ؟
اللہ ہم سب کو حقیقی معنوں میں امت محمدیہ کا پیروکار بنائے تاکہ قیامت کے دن ہم اپنے نبی کے سامنے شرمندہ نہ ہوں
آمین
ہم اپنے بڑوں سے سنتے تھے کہ مستقبل میں جنگ بغیر بندوقوں کی ہوگی ہم اس بات کو سن کر ہم حیران ہوا کرتے تھے کہ بندوق کے بغیر بھی کوئی جنگ ہوتی ہے بھلا- جیسے ہی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اور دنیا ایڈوانس اور ہورہی ہے ایسے ہی بڑوں کی باتیں سچ ہونے لگ گئی ہے-
ان بغیر بندوق کے جنگ میں سے ایک جنگ کا نام ہے سائبر کرائم دنیا کے ممالک میلوں دور فاصلے پر اپنے ہی سرزمین اپنے ہی گھر سے ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ سکیں گے- اس جنگ میں نہ کسی بندوق کی ضرورت ہوگی نہ کسی جنگی جہاز کی ضرورت ہو گی اور نہ کسی ٹینک کا ضرورت ہوگا۔ بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے کی سسٹم تباہ کر رہے ہوں گے- دنیا میں 2019 سے کرونا وائرس پھیلنے لگا ہے اور تب سے ہی اس جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہےـ
دنیا کا تقریبا سارا نظام ہی انٹرنیٹ پر منحصر ہو چکا ہے- خواہ وہ کسی ملک کا الیکشن ہو تعلیمی نظام ہو معیشت ہو اکانومی ہو بزنس ہو تقریبا سب آن لائن ہو چکے ہیں-
پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لگ ڈاؤن کے دوران ہزاروں سائبر اٹیکس ہوئے ہیں جن میں سے کچھ بزنس کے زوم سیشنز، پر تعلیم کے زوم سیشنز پر، گورنمنٹ ویب سائٹس، پر پرائیویٹ اداروں پر ہوئے ہیں-
ان میں سے ایک یہ تھا جب پاکستان میں آن لائن تعلیم کا کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں تھا اور سٹوڈنٹس آن لائن امتحان لینے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ کچھ انٹرنیٹ کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے تھے اسی اثنا میں (ایچ ای سی) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا ویب سائٹ ہیک ہو گیا-
ہمارا پڑوسی ملک بھارت آئی ٹی کے دوڑ میں ہم سے بہت آگے ہیں اور ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خدانخواستہ وہ کبھی بھی ہمارے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں-
خصوصا ہمارے خطے میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہے-
کوئی ہمارا ساتھ چاہے گا تو کوئی ہمارا خلاف ہوگا، کسی کو ہماری ضرورت ہوگی، جبکہ کسی کو ہم چاہیں گے-
جس طرح جنگ کے دوران پاکستان عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے کوئی امداد بھیج رہا ہوتا ہے تو کوئی اسلحہ لے کر باہر کی طرف جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام میں سائبر سیکیورٹی اور سائبر کرائم کے عوامل کا شعور ہونا چاہیے تاکہ مشکل وقت میں اپنی اور اپنے ملک کی دفاع کرسکیں۔
پاکستان اندرونی اور بیرونی سائبر سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار ہیں-
پاکستانی حکومت کو غصہ، مذمت، جیل اور پھر رہائی جیسے فلسفوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے چاہیے۔
موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان سائبر کرائم کے قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے اس کو مزید سخت اور فعال کرنا چاہیے
بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئی بھی سائبر سکیورٹی اویرنس پروگرام یا کمپین نہیں چلایا جا رہا ہے جو کہ بعد میں ہمارے لیے بہت خطرہ بن سکتا ہے جس طرح کوئی سیاسی جماعت یا حکومت اپنی الیکشن کمپین مقامی زبانوں، محلوں اور گھروں میں جاکر کرتا ہے اسی طرح سے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مقامی زبانوں میں سائبر سیکیورٹی اویرنس پروگرام چلانے چاہیے تاکہ پاکستانی عوام سائبر کرائم کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور اپنے ملک کی دفاع کے لئے مکمل تیار ہو۔ پاکستان زندہ باد
(@imshehzadahmad)
عید الاضحٰی ایک ایسا مذہبی تہوار ہے جو اپنے ساتھ بہت سی خوشیاں اور یادیں لے کر آتا ہے۔ اور اس خاص دن کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان سنت ابراہیمی کی ادائیگی پورے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ یہ تہوار ایک ایسی قربانی کی یاد دلاتا ہے جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا اور اس خواب میں حکم ملتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اےابراہیم اپنی سب سے زیادہ پیاری چیز میری راہ میں قربان کرو۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کےحکم کے مطابق اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی زوجہ حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ اسماعیل علیہ السلام کو تیار کر دیں کسی دوست کے ہاں دعوت پر میں اس کو ساتھ لے جاناچاہتا ہوں۔
اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت دعاؤں کے بعد عمر کے پچھلے حصے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شکل میں اولاد عطا فرمائی اور اللہ کے حکم کی تکمیل کیلئےحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں قربان کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے گھر سے اس مقام (منی) کی طرف نکلے جہاں اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا تھا۔
منزل کی طرف جاتے ہوئے شیطان نے راستہ روکا اور ورغلانے کی کوشش کی کہ ایک خواب کیلئے تم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے جارہے ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پتھر اٹھا کر شیطان کو مارا اور فرمایا ہٹ جاؤ میرے پاس ایک اسماعیل ہے اگر ہزار بھی ہوتے تواللہ کی راہ میں قربان کر دیتا۔سبحان اللہ
اپنے تیرہ سالہ بیٹے حضرت اسماعیل کو ساتھ لیااور راستے میں اپنے خواب کا تذکرہ کیا اپنے بیٹے سے اس کی رائے پوچھی۔
اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا۔
ابو ذبح کیا کرناہے جو کرنا ہے کیجیے اور ایسا تو ممکن نہیں کہ گلے پر چھری چلے اور میں تڑپوں نہیں لیکن میں آپ کو صبر بھی کر کے دکھاوں گا۔
باپ نے بیٹے کو لٹایا اور رسیوں سے بدن جکڑ لیا۔ ہاتھ میں چھری پکڑ لی۔
اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد محترم سے فرمایا کہ یہ رسیاں کھول دیجیے مورخ لکھے گا کہ باپ ذبح کرنا چاہتا تھا بیٹا ہونا نہیں چاہتا تھا۔ سبحان اللہ۔
باپ نے بیٹے کی ریشم جیسی گردن پر چھری رکھ دی اور پورے زور سے دبائی لیکن ایک بال بھی نہ کٹا چھری کو پتھر پر تیز کیا اور واپس گردن پر رکھ کر زور سے دبائی اور گردن کٹ گئی خون بہنے لگا خوش ہو گئے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل کر دی۔بارگاہ رب ذوالجلال میں سرخرو ہو گیا جلدی جلدی آنکھوں سے پٹی اتاری اور دیکھتے ہیں کہ ذبح ہونے والا ان کا گوشہ جگر اسماعیل نہیں بلکہ ایک دنبہ تھا اور حضرت اسماعیل پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔
اللہ پاک نے چھری کو اپنے حکم سے روک دیا کہ ایک بال بھی نہ کاٹے اور ساتھ ہی دنبہ حضرت اسماعیل کی جگہ رکھ دیا اور پچھلوں کیلئے سنت کر دیا۔
عید الضحی اس عظیم قربانی کی یاد ہے جو ہر سال ذوالحج کے مہینے میں تازہ کی جاتی ہے۔
اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور کئی ایسی عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔
آمین۔
شکریہ۔
ڈیرہ غازی خان شہر کی تاریخ 400 سال پرانی ہے۔ پندرھویں صدی کے وسط میں حاجی خان میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان میرانی بلوچ کے نام پر اس شہر کی بنیاد رکھی ۔ ڈیرہ غازی خان چاروں صوبوں کو آپس میں ملاتا ہے یعنی پاکستان کے بالکل درمیان میں ہے ۔ خوبصورتی میں بھی مالامال ہے جس کے مغربی حصے میں بلند و بالا کو سلمان اور مشرقی حصے میں پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ پایا جاتا ہے ۔ ڈیرہ غازی خان سیاسی اعتبار سے بھی کافی اہم راہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی اہم شخصیت کابینہ میں شامل رہی ۔
بلخ شیر مزاری نون نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے نگران وزیر اعظم بنے ان کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ نومبر 1993 میں فاروق احمد خان لغاری جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا جو کہ دسمبر 1997 تک قائم رہا۔ اسی طرح سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی گورنر پنجاب رہے اور ان کے بیٹے دوست محمد خان کھوسہ وزیر اعلی پنجاب رہے جو کہ نون لیگی کارکن ہیں ۔
موجودہ حکومت میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا تعلق بھی اسی شہر محکمہ موسمیات کی وزیر زرتاج گل اور مشیر وزیر صحت جناب حنیف خان پتافی کا تعلق بھی ڈیرہ غازی خان سے ہی ہے ۔
سیاسی لحاظ سے بہت اہم شخصیت رکھنے والے شہر میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہوئی۔ حال ہی میں تونسہ روڈ پر ہونے والا حادثہ جس میں تیس لوگوں نے جان کی بازی ہاری۔۔۔۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ 70 سال سے ہونے والی نااہلی کا نتیجہ ہے ۔اسی روڈ پر ہر سال سینکڑوں جانیں چلی جاتی ہیں ۔ سڑکیں ہونے کی وجہ سے حادثات ہونا عام سی بات ہے ۔ چاروں صوبوں کو ملانے والا شہر میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ اربوں روپے کی لاگت سے ایک روڈ تعمیر ہوتا ہے اور چھ ماہ بعد اس کی حالت بدترین ہو جاتی ہے ۔ یہ حال صرف تونسہ روڈ کا ہی نہیں بلکہ اندرون اور بیرون شہر کی تمام تمام سڑکوں کا یہی حال ہے ۔
اگر تعلیمی لحاظ سے شہر کی ترقی کا جائزہ لے کر 70 سال میں صرف ایک ہی یونیورسٹی بن پائی ۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بھی میدان نہ ہونے کے برابر ہیں ۔
شہریوں کے لیے پینے کا صاف پانی تک نہیں ۔ پائپ لائن جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی سیوریج کا پانی بھی پینے کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے ۔
اور انتظامیہ کی طرف سے اس بات کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔
الغرض ہر شہر طرح کے مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ موجودہ حکومت میں بزدار کی زیر نگرانی سات ارب کے ارب روپے کی لاگت سے ابھی تک صرف مختلف جگہوں (چوک) پر مجسمہ لگائے گئے ہیں اور مزید ترقیاتی کام جاری ہے-
کسی نادان شخص کی طرح ہم بھی اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو رضائے الٰہی کے حصول میں گزارنے کے بجائے غفلت یا گناہوں میں گزار دیتے ہیں اگر کبھی ضائع ہونے والے ان قیمتی لمحات کا حساب لگانا چاہیں تو شاید ہمارے لیے ممکن نہ ہو
البتہ کوشش ضرور کرتے رہنا چاہیے اس لیے کہ وقت ایسی نعمت ہے جو سب جو یکساں ملتی ہے
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ غریب کے لیے دن رات میں 24 گھنٹے ہیں تو امیر کے لیے 27۔ بلکہ اللّٰه نے ہم میں سے ہر ایک کو دن رات کی صورت میں 24 گھنٹوں میں 1440 منٹ یا 86400 سیکنڈ عطا فرمائے ہیں- اب یہ ہم پر ہے کہ کون ان اوقات کی قدر کرتا ہے اور کون برباد کیونکہ ایک نہ ایک روز اس زندگی کا اختتام ہونے والا ہے
حضرت حسن بصری ؒ فرماتے تھے کہ :
"اے ابنِ آدم! تو مختلف مرحلوں کا مجموعہ ہے جب بھی تیرے پاس سے دن یا رات گزرتے ہیں تو تیرا ایک مرحلہ ختم ہو جاتا ہے اور جب تیرے تمام مراحل ختم یو جائیں گے تو تو اپنی منزل یعنی جنت یا جہنم تک پہنچ جائے گا”
خود کے ساتھ انصاف کیجیے اور غفلت کی نیند سے جاگ کر اپنی زندگی کا قیمتی وقت رائیگاں ہونے سے بچائیں کامیابی آپ کا مقدر ٹھہرے گی۔
برے وقت کی ایک خاصیت ہے، کہ آپ کو وہ لوگ بھی صلاح دینے لگ جاتے ہیں جو خود کسی قابل نہیں ہوتے،زندگی میں بہت دور جانا پڑتا ہے یہ جاننے کے لیے کہ آپ کے نزدیک کون ہے ؟؟ جھوٹی باتوں پر جو لوگ واہ واہ کریں گے ،وہی ایک دن آپ کو تباہ کریں گے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے :میں پسند تو ہو بہت لوگوں کی ،لیکن تب تک جب یہ میری ضرورت ہوتی ہے، پریشانی میں کسی کا مذاق مت اڑاو ،اور خوشی میں کسی کو طعنہ نہ دو، اس سے رشتوں میں موجود پیار کا ختم ہو جاتا ہے ،اپنی انگلیوں کا استعمال ہمیشہ اپنے گناہوں کو گننے کے لیے کرو ، دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے لئے نہیں یہ کڑوا سچ ہے، کہ جب تک خود پر نہ بیتے ،تب تک دوسروں کے درد کا احساس ہی نہیں ہوتا ، زندگی میں اگر کوئی کمی رہ جائے، تو اداس مت ہونا کیوں کہ ادھوری خواہشیں ہی جینے کا مزہ دیتی ہے، کچھ لوگ پگھل موم کی طرح رشتے نبھاتے ہیں ، اور کچھ لوگ آگ بن کر ایسے جلاتے ہی رہتے ہیں، تالے سے سیکھنا ساتھ نبھانے کا ہنر وہ ٹوٹ تو جاتا ہے، پر چابی نہیں بدلتا دل سے اترے ہوئے، لوگ اگر سامنے آ بھی جائیں تو نظر ہی نہیں آتے، ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا لفظ انسان کے غلام ہوتے ہیں ،مگر بولنے سے پہلے بولنے کے بعد انسان اپنے الفاظ کا غلام بن جاتا ہے، کبھی کسی کہ ساتھ اتنی امیدیں نہ رکھنا ،کہ امید کے ساتھ تم بھی ٹوٹ جاؤ
ٹوٹ جاتے ہیں وہ رشتے اکثر جن کو نبھانے کی کوشش اکیلے ہی کی جاتی ہے ،وہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا جن میں نبھانے کی چاہ دونوں طرف سے ہوں کامیاب رشتے کا یہ اصول ہے بھول جائے وہ بات جو فضول ہے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ انسان کو دکھ نہیں توڑتا ،دکھوں میں اپنوں کا رویہ اسے توڑ دیتا ہے ،ذرا سی رنجش پر نہ چھوڑنا اپنوں کا دامن زندگی بیت جاتی ہے اپنوں کو اپنا بنانے میں ۔جب انسان ہی نہیں رہے گا، تو اس کی غلطیوں کو کیا کریں گے، کسی سے روٹھو گے کسے مناؤ گے ؟کسے معاف کرو گے کسے سزا دو گے ؟اس لئے جو پاس ہے اس کی قدر کرنا، سیکھو کچھ ہنس کر بول دیا کرو، کچھ ہنس کر ٹال دیا کرو ، یوں تو بہت پریشانیاں ہیں تم کو بھی مجھ کو بھی پر کچھ فیصلے وقت پر ٹال دیا کرو!!
جمہوریت کا مطلب لوگوں کی حکومت ہوتی ہے۔ لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور لوگوں کیلئے ہوتی ہے۔جمہوریت ذمہ دار اور جواب دہ حکومت کا نام ہےجموریت ایک نظریہ نہیں ہے ۔ جمہوریت حکومت چلانے کے ایک طریقہ کار کا نام ہے
میں جب سے پیدا ہووی ہوں میں نے ہمارے پاکستان کی جہموریت کو ہمیشہ خطرے میں ہی پایا ہے ۔۔جب عوامی احتجاج ہو مہنگائی کے خلاف ۔جہموریت خطرے میں ۔جب سیاست دان الیکشن ہارنے لگے ۔جہموریت خطرے میں ۔۔جب کسی غریب کی بیٹی وڈیروں کے ہتھے چڑھ جائیں اور غریب سوشل میڈیا پر وڈیو بنا کر حکومت وقت سے مدد مانگے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔جب عوام گٹر اور واٹر سپلائ کا مکس پانی پی کر بیمار ہو جائے صاف پانی کا مطالبہ کرے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔۔جب سیاست دان ضمیر فروش صحافیوں کو ساتھ ملا اداروں کو گالی گلوچ دے اور ادارے ان پر گرفت مضبوط کرے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔جب عوام روٹی مہنگی پر احتجاج کرے تو جہموریت خطرے میں ۔۔جب لوگ حکمرانوں سے تنگ آکر ان کو چپیڑیں جوتے مارنے لگ جائیں تو بھی جہموریت خطرے میں ۔۔لیکن جناب حیرانگی کی بات ہے کہ جب حکمران عوامی ٹیکس پر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں جہموریت کو کوی خطرہ نہیں ۔جب عوامی پیسے پر بیرون ملک ساری کابینہ کو لے جا کر عیاشی کی جاے جہموریت کو خطرہ نہیں ۔جب عوام کے فنڈ پر عوامی پیسے پر اپنے بچے کو یورپ کی مہنگی یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا جاے تو بھی جہموریت کو خطرہ نہیں ۔جب عوامی فنڈ پر اپنے شاندار بنگلہ بنایا جاے اور غریب کو ٹوٹی سڑک ٹھیک کر کہ ٹرخا دیا جاے ۔تب بھی جہموریت خطرہ میں نہیں ۔۔
عوام کے ٹیکس کے پیسے سے عوام پر پیسہ لگا کر اگلے بیس سال تک جب عوام کو جتاتے ہے ہم تمھارے لیے یہ کیا اتناااااا کچھ کیا ۔ جہموریت کو تب بھی کوی خطرہ نہیں ۔ہسپتالوں میں غریب مریضوں ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور سیاست دانوں کو اسی ہسپتال پروٹوکول دیا جاتا ہے جہموریت کو تب بھی کوی خطرہ نہیں ۔۔جناب ۔کسی غریب والدین کا بیٹا سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتا یہ جہموریت کو تب بھی خطرہ نہیں۔۔۔ سیاست دانوں کی سرپرستی میں سکول کا ماسٹر دو سو بچوں ساتھ بدفعلی کرتا ہے جہموریت کو تب بھی خطرہ نہیں ۔۔سیاست دانوں کی سرپرستی میں ایک وزیر کی بیٹی اداروں کو گالی گلوچ دیتی ہے اور ماں وزیر کی کردی پہ مزے سے عوامی فنڈ پر عیاشیاں کررہی ہوتی ہے ۔حکومتی ارکان کا حصہ ہوتی ہے لیکن جہموریت کو بالکل خطرہ نہیں۔۔۔اور جب یہ سیاست دان الیکشن ہارتے ہیں ۔۔سیاست ایک کھیل کی طرح آج توں تو کل میں ۔۔لیکن میرے پاکستان میں جو ایک بار اقتدار پہ قابض ہو گیا ۔۔وہ اترنا تو چاہتا ہی نہیں ۔تصور بھی نہیں کرتا کہ کل وہ ہار سکتا ہے ۔۔بس ایک ہی آواز ہوتی ہے کل ہم جیٹ کر مزید یہ کام کریں گے ۔۔ہم سے پانچ سال دس سال یہ اچھا نہیں ہوا ۔ہم اگلے دس سال یہ کریں گے ۔۔ینعی عوام کا خون تو ہر حال میں نچوڑتے رہنا ہے ۔جان نہیں چھوڑنی ۔۔ہارنے کے بعد بچوں کی طرح ایک دوسرے پہ الزامات کی برسات کہ تجھے فوج لیکر آئ تجھے فوج لیکر آئ توں آمر کی گود میں پیدا ہوا تو توں آمر کی گود میں کھیلا ۔توں سلیکٹڈ ہے توں سلیکٹڈ ہے ۔۔جناب آپ نے کبھی آج تک ان سیاست دانوں کو اپنی ناکام کارکردگی کا اعتراف کرتے دیکھا ہے ۔کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔۔کیونکہ اعتراف کرنا تو ان کی توہین ہے ۔۔
یہ جہموریت نہیں ۔یہ خدا کی زمین پر کفر کا نظام ہے ۔۔یہ ایک لفافہ پر چلتے حکمرانوں کی عیاشیوں کا نام ہے ۔۔۔جی ہاں لفافے ۔۔۔اب آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ لفافہ مطلب ضمیر فروش صحافی نہیں جی یہ ضمیر فروش سیاست دانوں پہ بات ہے ۔ جو جب جاتے ہے تو آنے والوں کو بہت اہم پیغام دے کر جاتے ہیں۔۔اور وہ پیغام یہ ہوتا ہے
کسی ملک کے وزیراعظم کے خلاف جب بہت جلوس نکلنے لگے اور نعرے لگنے لگے تو اس نے مخالف جماعت کے سربراہ کو بلوایا ۔اور کہا: مجھے معلوم ہے کہ میرے بعد تم ہی وزیراعظم بنو گے ۔یہ دو لفافے سنبھال کے رکھ لو ۔جب کوی مشکل درپیش آئے تو پہلا لفافہ کھول کر جو کچھ لکھا ہو اس کے مطابق عمل کرنا ۔پھر دوبارہ مصیبت میں مبتلا ہونے پر دوسرا لفافہ کھولنا اور وہ ہی کچھ کرنا جو اس پہ لکھا ہو۔۔
ملک میں انتخابات ہوے مخالف پارٹی کا لیڈر وزیراعظم بن گیا ۔چند سالوں تک اس کی حکومت اچھی چلتی رہی
پھر اس کے غلط کاموں کی وجہ سے اس کے خلاف بھی نعرے لگنے لگے ۔اس نے پہلا لفافہ کھولا اس میں لکھا تھا ۔
تمام الزامات مجھ پر یعنی پرانے وزیراعظم پر ڈال دو
نئے وزیراعظم نے یہی کیا ۔دو تین سال تک عوام خاموش ہو گئ ۔اس کے بعد پھر عوام میں بیداری کی لہر اٹھی اور وزیراعظم کے خلاف جلوس نکلنے
۔