Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    قوموں کی ترقی کا انحصار ان کی عوام پر ہوتا ہے۔اگر یہ عوام دھوکے باز ہو بڑے افسروں سے لیکر چوکیداروں تک سب کے سب بےایمان ہوں تو قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ جن قوموں کی نوجوان نسل ٹک ٹاک تک محدود ہو جاۓ جس قوم کی نوجوان نسل چارسو کی خاطر اپنا ایمان تک بیچ دیں ایسی قومیں ترقی نہیں کرتی۔ آج ملک میں لوگ عارضی دنیاوی دولت کی خاطر اشرف المخلوقات کو کتوں کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ آج ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم توجہئ کی وجہ سے سیکنڑوں مریض مر رہے ہیں۔

    مطلب ہمارے ملک میں ہر وہ کام ہو رہا ہے جس سے غریب غریب تر ہوتا جا رہا اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ایک بندے کا کام نہیں ہے چاہے وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو۔جب تک ملک میں وہ ڈاکیا(جو سڑکوں پر مارا مارا پھرتا ہے کہ کوئ خطوط کو ان کے مالک تک پہنچا سے تا کہ میرا سو روپیہ پٹرول کا بچ جاۓ گا) ٹھیک نہیں ہو گا۔

    آج ہمیں ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیراس بے حس قوم کو خواب غفلت سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسے لوگ بھی ہماری طرح انسان ہی ہیں بس فرق یہی ہے کہ وہ انسان بھی ہیں اور ان کے اندر انسانیت بھی موجود ہے۔ کیونکہ انسان اور انسانیت میں بڑا فرق ہے بظاہر تو لگتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں لیکن ان کے اندر زمین و آسمان کا فرق ہے۔انسانیت آج کی اس دنیا میں بہت کم پائی جاتی ہے۔

    عبدالستارایدھی کی طرح آج بھی ایسے بہت لوگ اُن کی طرح موجود ہیں جو بغیر کسی معاوضے و کانچ کے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارا تعلق چاہے کسی بھی علاقے سے ہو ہمیں ان کا حصہ بننا چاہیے اور انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے نزدیکی مستحق لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ایسے لوگ ہی جب بڑے بن جاتے ہیں تو پھر کوئی عبدالستارایدھی تو کوئی قاسم علی شاہ بن جاتا ہے تو کوئی طارق عزیز بن جاتا ہے۔
    پاکستان زندہ باد🇵🇰

    @ asad_malik333

  • درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو . تحریر : عمر عطاء

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو . تحریر : عمر عطاء

    چند سال پہلے میرے بابا کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا واقعہ پرموجود کچھ بے شرم لوگوں نے مدد کرنے کی بجاۓ جیب سے نقدی خالی کرلی بھلا ہو وہاں پرموجود ان لوگوں کا جوبابا کو اچھی طرح جانتے تھے انہوں نے وہ نقدی ان بے شرموں سے واپس لے کر بعد میں ہمارے حوالے کی۔
    کیا ہمارے اندررتی برابربھی انسانیت کا احساس نہیں ہے۔

    ایسے بہت سارے واقعات منظرعام پر آۓ ہیں کہ روڈ ایکسیڈنٹس متاثرین سے زیورات، نقدی اورموبائل فونز ہتھیا لیے جاتے ہیں۔ علی پور روڈ جو کہ قاتل روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ آۓ روز یہاں پر حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اورسینکڑوں جانیں ضائع ہوئ ہیں لیکن یہاں کے سیاستدانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ میرے ایک رشتہ دار جو کہ پٹرولنگ پولیس میں ہوتے ہیں بتا رہے تھے کہ کچھ سال قبل روہیلانوالی میں ایک بس کو حادثہ پیش آیا تھا اور اس میں تمام لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔ اس سنگل روڈ پر حادثات تو روز کا معمول ہیں لیکن دل دہلا دینے والی بات یہ کہ وہ بولتے ہیں جب ہم لوگ ان تک پہنچنے تو خواتین کے کانوں سے بالیاں تک اتار لی گئیں تھیں۔ میں سوچ رہا تھا اللّٰہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ہی قیامت کا دن رکھا ہے تاکہ مظلوموں کی شنوائی ہو سکے۔

    وہاں پرصرف مظلوم کی حمایت کی جائے گی اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملے گی۔ انسان کو اشرف المخلوقات بھی صرف اس وجہ سے بنایا گیا ہے کہ وہ انسانیت سے محبت سے پیش آۓ۔

    بقول شاعر
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں!

    انسان جب نیکی پر اترتا ہے تو وہ فرشتوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے لیکن یہی انسان جب گرنے پر آتا ہے تو شیطان سے بھی بد تر ہو جاتاہے۔ بات صرف احساسات کی ہے.

    Momi_70

  • بحثیت قوم .  تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم . تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم

    بحثیت قوم ہم ایک سست قوم ہیں ہم اپنی منزل کو پانے کے شارٹ کٹ طریقے ڈھونڈتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی مشقت نہ کرنی پڑے اور ہمارے کام ہو جائے ہم خود کو تبدیل نہیں کرنا آج جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کو دیکھ لیں ان کی عوام میں سستی نہیں وہ محنت کش لوگ ہیں شارٹ کٹ کے طریقے نہیں ڈھونڈتے اپنا کام پوری لگن سے کرتے ہیں ۔۔۔۔

    اور ہم بحیثیت قوم چور کرپٹ بھی ہیں بجلی چوری ہم کرتے ہیں رشوت ہم کھاتے ہیں ملاوٹ ہم کرتے ہیں سود خوری ہم کرتے ہیں کوئی ناگہانی آفت آجائے تو ذخیرہ اندوزی کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہم چاہتے ہیں ہم خود کو تبدیل کیے بغیر تبدیلی لے آئے حلانکہ تبدیلی ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے اور فرد سے تبدیلی کے اثرات بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں

    ایک بندہ اگر تبدیلی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے پاکستان میں تبدیلی لے آئے گا اکیلا ہاں البتہ وہ اپنے حصے کا کام کر جائے گا اگر یہ ہم سب اپنے اوپر فرض کر لیں کہ تبدیلی لانی ہے تو اس کے لیے سب کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا ایمانداری سے جس طرح قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے اسی فرد سے کارواں بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    قرآن مجید میں واضح بتایا گیا ہے کہ

    اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ الرعد، آیت 11

    ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے

    خود کو بدلے ان شاءاللہ وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے بس شروعات اپنے سے کریں ۔۔۔۔۔

    تحریر: مدثر حسن
    @MudasirWrittes

  • نام نہاد لبرل طبقہ اور قربانی . تحریر: مجاید حسین

    نام نہاد لبرل طبقہ اور قربانی . تحریر: مجاید حسین

    جیسے جیسے قربانی کے دن قریب آتے ہیں نام نہاد لبرل اور دین سے بے زار طبقہ قربانی کی روح کو سمجھے بغیر اس کے خلاف کھلم کھلا میدان میں آ جاتے ہیں۔ آپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ جا کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان امیر ذادوں اور امیر ذادیوں کو اللہ کی راہ میں سنت ابراہیمی اور سنے رسول اللہ ﷺ کے خلاف اور اسے قائم رکھنے والوں کے خلاف کتنی نفرت بھری ہوئی ہے۔ ان کا اصل مدعا یہ ہے کہ قربانی پہ مسلمان جانور "ذبح” کر کے بہت ظلم کرتے ہیں جو نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ان پیسوں سے کسی غریب کی مدد کر دینی چاہیئے۔

    لیکن اگر آپ مزید تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ یہی لوگ میکڈانلڈ، برگر کنگ، کے ایف سی، سب وے اور پیزا ہٹ جیسے برانڈز کے نا صرف دلدادہ دلدادہ ہوتے ہیں بلکہ وہاں برگرز وغیرہ کھاتے ہوئے اپنی تصاویر شئیر کرنا قابل فخر سمجھتے ہیں۔ کیا نہیں معلوم نہیں کہ میکڈونلڈ میں ہر سال ایک ارب پاؤنڈ گائے کا گوشت پکایا جاتا ہے جس سے ان کے پسندید برگرز بنتے ہیں؟

    برگر کنگ ہر سال پچاس لاکھ پاؤنڈ صرف گوشت اپنے مشہور برگر "ووپر” میں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح کے ایف سی ہر سال ایک ارب مرغیاں بھون کر لوگوں کو کھلا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف فوڈ چینز ہیں جن کا ذکر اس مضمون کو طویل کر دے گا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اندر جان نہیں ہوتی؟

    وہ لبرلز جنہیں قربانی پر جانوز ذبح کرنے پہ اعتراض ہے جس کا ایک تہائی گوشت غریبوں کو بانٹا جاتا ہے تاکہ کم از کم سال میں کچھ دن وہ بھی گوشت کھا سکیں، اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ برگر، پیزا اور ہاٹ ونگز کھاتے ہوئے ان کا ضمیر کہا سویا ہوتا ہے؟
    ہے کسی لبرل کے پاس اس کا جواب؟؟

    @Being_Faani

  • یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    بہت سے دوسرے پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی یورپ جانے اوردیکھنے کا بہت شوق تھا، میں 2004 میں پاکستان سے بہترمستقبل اور بس چند سال لگا کرواپس پاکستان آنے کیلئے سعودیہ آیا تھا، پہلے چھ ماہ بہت ہی معمولی تنخواہ پرکام کیا اور پھرواپس پاکستان آگیا، چھ ماہ کی چھٹی گزاری اوربالکل آخری دن واپس سعودیہ پہنچا اوراسی پرانی نوکری پرکام شروع کیا اور ساتھ ساتھ اپنے رب سے رزق میں برکت کی دعا بھی کی اور وادی الدواسرنامی چھوٹے سے گاوں سے عمرہ کیلئے مکہ مکرمہ جانے کیلئے رخت سفرباندھا، پہلا عمرہ بس پرکیا ساتھ میں عبدالرحمان سلیم اورکچھ اورساتھی تھے الحمد للہ والدین کی دعاوں اوراللہ رب العالمین کی رحمت سے اگست 2005 میں ریاض میں ملازمت مل گئی جوکہ 2020 دسمبر تک ریا ض میں جارہی رہی.

    2009 میں یورپ جانے کیلئے کوششیں شروع کیں، بہت سے احباب نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق ہمیں معلومات دینی شروع کیں، کسی بھائی کا خیال تھا کہ کوئی ایجنٹ پکڑا جائے اورکام کروایا جائے کسی بھائی نے حوصلہ افزائی کی تو کسی بھائی نے کہا کہ اگر آپ جیسوں کا ویزہ لگ گیا تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے، خیرمعلومات لیں تو پتا چلا کہ جس ملک جانا ہو وہاں کا رہائیشی بند ہ کسی وکیل سے ایک دعوت نامہ تحریرکروا کر بھیجے جس میں ان کی اورمیری سب معلومات ہوں، میرے بہنوئی اوربہن وہاں رہائش پزیر ہیں تو دعوت نامے والا معاملہ تو حل ہوگیا اورجو چیزیں چاہیں تھیں انکی ایک لمبی لسٹ تھی، میں نے بھی اپنی کمپنی سے گزارش کی کہ مجھے آئریش ایمبیسی کے نام لیٹر دیں اورگارنٹی لیٹربھی دیں کہ بندہ صرف سیر کی نیت سے جارہا ہے اورتین ماہ کی چھٹیاں گزارکرواپس اپنی نوکری پرلوٹ آئے گا، کمپنی والوں نے بھی کمال شفقت سے تعریفی لیٹر کیساتھ کیساتھ گارنٹی لیٹربھی بنا دیا اور لکھ کر دے دیا کہ ان کیساتھ میرا معاہدہ آئندہ پانچ سال تک کار آمد ہے.

    سب دستاوی مکمل کیں تو پتا چلا کہ ٹکٹ پہلے لینی پڑتی ہے پھرسے دوست احباب ہی کام آئے جس جس سے جتنا جتنا مال مل سکا نکلوا لیا گیا اور ٹکٹ خریداری والا معاملہ بھی الحمد للہ مکمل ہوا ترکش ائرلائن کی ٹکٹ خریدی جوکہ ریاض سے استنبول اوراستنبول سے ڈبلن کیلئے تھی اوراسی طرح واپسی ہونی تھی، میں بھی ٹائی وائی لگا کرسارے کاغزات لیکر آئرلینڈ ایمبیسی وقت سے دو گھنٹے پہلے پہنچ گیا، جب جاکرسکیورٹی والوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ صبح 9:30 بجے سفارتخانہ کھلے گا اورآپ سے پہلے بھی چھ سات افراد موجود ہیں، طرح طرح کی فکریں لاحق ہوئی کبھی انگریزی میں ہونے والے انٹرویو کی فکر، کبھی ویزہ نہ ملنے کی فکر دامن گیرہوئی ،اللہ اللہ کرکے اپنی باری آئی تو سامنے اپنے ایک پاکستانی بھائی بیٹھے درخواستیں وصول کررہے تھے نا م تھا ملک قدیر صاحب ہنستے مسکراتے تعارف ہوا سب نے پیپر دیکھے اورامید دلائی کہ ان شاء اللہ ویزہ لگ جائے گا، قدیر ملک بھائی پاکستان پنڈ دادنخان کے رہنے والے ہیں، بہت ہی ملنسار نیک سیرت اوراچھا مزاج رکھنے والے بھائی ہیں ان سے 2009 سے بنا تعلق ان کی ریٹائرمنٹ 2020 تک قائم رہا ہرعید خوشی غمی میں ایک دوسرے کا حال احوال لینا اورغیر رسمی ملاقاتیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ملک صاحب جہاں بھی ہوں اللہ رب العالمین انہیں بہترین صحت سے نوازیں.

    15 دن کےطویل انتظار کے بعد دوبارہ پاسپورٹ لینے آئیریش ایمبیسی آنا ہوا، ملک صاحب نے داخل ہوتے ہی ویزہ مل جانے کی خوش خبری سنائی اس طرح پہلی دفعہ کسی بھی دوسرے ملک کیلئے سفر کیا، ریاض سے ترکی استنول پہنچے استنبول کا ہوائی اڈہ انتہائی مصروف اوربہت بڑی ڈیوٹی فری مارکیٹ ہے جہاں دنیا جہان کی چیزیں خرید سکتے ہیں 4 گھنٹےانتظارکے بعد اگلی فلائٹ پکڑی اوراس طرح ڈبلن ائرپورٹ پہنچے، دورجہاز سے اتاردیا گیا اوراشارے سے کہا کہ وہ سامنے چلے جائیں، امیگریشن مکمل ہوئی بہن بہنوئی لینے آئے ہوئے تھے ڈبلن سے براستہ کارہم لونگ فورڈ پہنچے اور15 دن قیام کیا بہت عزیز رشتہ دارو ہاں مقیم ہیں پورے 15 دن دعوتیں ہوتی رہیں اورمختلف شہر اورمارکیٹیں دیکھنے کا موقع ملا ایسے ہی ایک بوٹ سیل ( جس میں لوگ اپنی استعمال شدہ چیزیں فروخت کرتے ہیں جاناہو ا) اور سیلفی لیکر دوستوں سے شئر کردی جس پر جواب آیا چوہدری صاحب یورپ جا کے وی لنڈا بزار لبھ لیا اے ( کہ یورپ جا کر بھی آپ نے لنڈابازارڈھونڈ لیا ) یہ ہی بات آج یاد آئی توسوچا کچھ اسی پرتحریرکرلیا جائے، کچھ پرانی یادیں تازہ کرلی جائیں، اپنے پڑھنے والوں کیلئے بھی کچھ لکھ دیا جائے باقی کا احوال بھی ان شاء اللہ جلد تحریرکیا جائے گا.

    @mmasief

  • درود پاک کی فضیلت . تحریر : عادل ندیم

    درود پاک کی فضیلت . تحریر : عادل ندیم

    درود پاک صلی علیہ وآلہ وسلم پڑھنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک میں بڑے پیارے انداز میں دیا گیا ہے۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو.
    ( الاحزاب56 )

    سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتے ہیں( ترمذی)

    ذرا سوچئے کیا ھمارا شمار بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب لوگوں میں سے ھو گا.

    کیا ھم اپنے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتے ھیں ؟

    حضرت حذیفہؓ کا فرمان ہے کہ درود پاک پڑھنا، درود پاک پڑھنے والے کواور اس کی اولاد کو، اور اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے ۔

    کس خوبصورت طریقے سے درود پاک کی فضیلت بیان کی گئی ھے کہ درودِ پاک سے نہ صرف آپ کا نصیب بدل جاے گا بلکہ آپ کی آنے والی نسلوں کا بھی نصیب بدل جاتا ھے ۔
    ھمیں اپنی نمازکا یقین نہیں ھوتا کہ قبول ھوئی یا نہیں؟ ھمیں اپنی کی گئی نیکیوں کا پتہ نہیں ھوتا کہ قبول ھوئیں یا رد کردی گئیں لیکن
    درود پاک وہ واحد عبادت ھے جو کہ لازماً قبول ھوتی ھے.

    تو کیا یہ اللہ پاک کی طرف سے ایک خاص انعام نہیں ھے ؟

    درود پاک پڑھنے سے 10 نیکیوں میں اضافہ ھوتا ھے ، 10 گناہ مٹتے ھیں اور بندے کے 10 درجات بلند ھوتے ھیں.

    حضرت ابو ہریرہ رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ نے ارشاد فرمایا: "جو بندہ مجھ پر ایک بار درود پڑھے اللہ جل شانہ اس پر 10بار درود بھیجتے ہیں۔” ( صحیح مسلم )

    آئیں اپنے اللہ کا حکم مانیں اور اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کو اپنی عادت بنائیں۔
    درود پاک سے اللہ پاک کو اتنی محبت ھے کہ درودِ پاک کو نماز کا حصہ بنا دیا گیا.

    چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اپنی زبان کو اللہ پاک کے ذکر اور درودِ پاک سے معطر رکھیں ، آپ کی زندگیوں میں وہ تبدیلیاں آنا شروع ھو جائیں گی کہ جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ھوگا.

    اللہ پاک ھم سب کو اپنے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں.

    آمین ثم آمین

  • عید قرباں اور ہم  تحریر : احسن وقار خان

    عید قرباں اور ہم تحریر : احسن وقار خان

    کبھی سوچا ہے عید قرباں کیا ہے؟
    اس کو عید قرباں کیوں کہتے ہیں ؟
    کیا صرف جانور قربان کرنا ہی عید قرباں کا مقصد ہے ؟
    عید قربان صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں ۔عید قرباں کا مقصد تقویٰ اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے ۔

    عید قربان صرف جانور قربان کرنا نہیں بلکہ خدا کی راہ میں استقامت دیکھانا ہے
    اللہ کو نا قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نا ان کا خون ۔ کچھ پہنچتا ہے تو وہ تقوی پہنچتا ہے اور خدا صرف متقی لوگوں کی قربانی قبول کرتا ہے ۔
    سوچنے کی بات ہے کے ہم قربانی تو کرتے ہیں لیکن کیا ہم سمجھتے ہیں کے عید قرباں کیا ہے ؟
    ہم بڑے بڑے جانور قربان تو ضرور کرتے ہیں لیکن کی کبھی کسی نے سوچا ہے کے ہم قربانی کا اصل مقصد پورا کر رہے ہیں یا نہیں ۔
    کہیں ایسا تو نہیں کے ہم کہیں ہم ریاکاری میں ا کر اپنا قربانی کا مقصد کھو تو نہیں دیتے ۔
    کہیں اتنا پیسہ خرچ کر کے بھی ریاکاری ہی وجہ سے ہماری نیکی کا اثر زایل تو نہیں ہو رہا ۔

    قربانی صرف جانور کی قربانی نہیں یہ ہر اس چیز کی قربانی ہے جو آپ کو خدا سے دور کر رہی ہے ۔قربانی سے مراد ہماری آنا کی قربانی ہے ۔
    ہمارے اندر چھپی نفرتوں کی قربانی ہے ۔
    ہماری نفسیاتی خواہشات کی قربانی ہے ۔
    اس عید قرباں کچھ کر سکتے ہیں تو اپنی آنا
    اپنے دلوں میں پوشیدہ نفرتیں اور اپنی نفسیاتی خواہشات قربان کر کے دیکھیں سکون ملے گا ۔
    کوشش کریں کے سب کام خدا کی رضا کے لیے کریں ۔
    ریاکاری ، نفرتیں اپنی میں کو ختم کریں

    آئیے قربان کریں اپنی ذات کے ایک بت کو اِس سال صرف اس رب کے لیے جس نے قربان کرنے کا حکم دیا کیوں کہ ہماری اپنی ذات کا خول ہی ہمارے لیے سب سے عزیز ترین ہوتا ہے اور اسی خول کو توڑنا ہی دَر حقیقت ایک عبادت ہے ۔
    معاف کریں ، اپنے دلوں کو صاف کریں ، اپنے اور اپنوں کے لیے زندگیوں میں گنجائش پیدا کریں ، خوش رہیں اور خوش رکھیں۔

    Twitter account
    KhanKh23151672

  • "لبرل ازم اور اسلام”   تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم اور اسلام” تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم” کو جہاں تک میں نے سنا، پڑھا اور جانا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لبرل ازم یہودیت سے پیدا شدہ فضلات میں سے ایک ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کا یہودیت سے ایسا سخت ترین معرکہ ہے جو صبح قیامت ہی کو ختم ہو سکتا ہے اس سے پہلے اس کا تصور ممکن نہیں ہے. مطلب اسلام کے کسی نام لیوا کے لئے "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. اور اجازت ہو بھی کیسے؟ کیونکہ یہ "لبرل ازم” زبردستی کی "حریت” اور آزادی کا قائل ہے، جبکہ اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات ہے جس نے انسانیت کی زندگی کے ہر شعبے، ہر موڑ اور ہر مصیبت میں دستگیری کی ہے. زندگی کا ایک حصہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں مذہب اسلام اپنے ماننے والوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا نظر آیا ہو. اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام ایک پاکیزہ، صاف و شفاف نظام حیات ہے جس میں کسی طرح کی عریانیت، عیاری، مکاری، زنا کاری، سود خوری اور دیگر صفات رذیلہ کا کوئی مقام نہیں ہے. جبکہ "لبرل ازم” لوگوں کو ایسی "حریت” کا حامی بناتا ہے جس میں عریانیت اور لادینیت کو بنیادی مقام حاصل ہے.
    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام نے قرآن کریم کے ذریعے واضح الفاظ میں خواتین کو حجاب (پردے) کا پابند بنایا ہے. جبکہ "لبرل ازم” کے بنیادی ارکان میں سے” حریت” کا مقصد یہ ہے کہ” ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہے اور اس زندگی کے طریقہ کار اور نہج کا بھی خود مختار ہے کسی کے قواعد و قوانین اس کے لئے ذرہ بے مقدار کی حیثیت رکھتے ہیں. چاہے وہ کسی سے اپنے تعلقات استوار کرے یا کسی سے بالکل بھی تعلق نا رکھے وغیرہ وغیرہ. بس اپنے اندر ودیعت کی ہوئی صفات و کمالات کو قوم کے سامنے اجاگر کرنا یہ مقصد اصلی ہے جس سے سرمایہ داری میں روز بروز اضافہ ہو اور زندگی گزارنے کے لئے تمام تر وسائل و اسباب مہیا ہوں”.
    یعنی لبرل ازم کے اندر حریت کے ذریعے مکمل آزادی کا مطالبہ ہے. جبکہ اسلام نے بھی ہر انسان کو آزاد رہنے کا مکلف بنایا ہے مگر اس آزادی کو چند امور پر مشروط کیا گیا ہے جن کی بجا آوری ضروری ہے، اور یہ شرائط بھی قیود کے طور پر نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعے بھی انسانیت کی دستگیری ہی مقصود ہے. مثلاً خواتین کو مکمل آزادی ہے مگر اس کے لئے پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہے. تو اب لبرلز یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ اسلام کے اندر عورتوں کو قید کر کے رکھا جاتا ہے تا آں کہ اسے اپنا چہرہ بھی دکھانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ مرد کو اس طرح کی کسی پابندی کا مکلف نہیں بنایا گیا. تو ان لوگوں کے لئے جواب یہ ہے کہ کہ آپ لوگوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے صرف ایک ہی جہت پر محنت کی ہے جبکہ اس کی ایک جہت اور بھی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو پردے کا پابند بنایا ہے اس کے ساتھ ساتھ مردوں کو "غض بصر” (نگاہیں نیچی رکھنے) کا حکم بھی دیا ہے.
    اسلام کے اس نظام سے مساوات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح اسلام نے اس حکم کے ذریعے عریانیت اور ننگے پن کا سد باب کیا ہے جس کی وجہ سے ہر ایک شخص دوسرے کا مکمل احترام کرتا ہے. اس کے بر عکس مغربی تہذیب کا جائزہ لیا جائے تو ان کے یہاں کسی بھی طرح کی ترقی کا عریانیت کے بغیر تصور محال ہے. آپ کسی بھی شعبے (ڈپارٹمنٹ) کی جانب نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ وہاں عریانیت کا بازار گرم ہے حتیٰ کہ امور خانہ داری میں بھی اس عریانیت کو فیشن کا نام دیکر اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے زنا کاری عام سے عام تر ہوتی جا رہی ہے.
    خلاصہ یہ ہے کہ جس پردے کو اسلام نے مصلحت کے طور پر رکھا ہے اس کے فوائد کثرت سے معاشرے میں نمایاں نظر آتے ہیں. اور لبرلز کے یہاں سب سے اہم چیز "سرمایہ کاری” ہے چاہے اس کے لئے عریانیت کے لباس کو زیب تن کرنا پڑے. اور اس کے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات خاندان پر مرتب ہوتے ہیں جہاں ماں باپ اولاد کی تربیت سے زیادہ سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ خود غرضی، لالچ، حرص اور حسد کا سیلاب پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے. عورتیں گھروں سے نکل کر بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں اور عصمت و عفت کی چادریں چاک ہوجاتی ہیں. زنا اتنا عام ہو جاتا ہے کہ نکاح ایک نا معقول فعل نظر آتا ہے جیسا کہ ابھی چند دن قبل ایک نام نہاد بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلم لبرل خاتون نے یہ زہر نکالا تھا کہ "معاشرے میں نکاح کی ضرورت ہی کیا ہے جب سارا نظام ایسے ہی چل رہا ہے”. حرامی بچوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے جیسا کہ امریکہ، سویڈن اور فرانس میں ہو چکا ہے. جہاں حالیہ سرویز کے مطابق زنا سے پیدا شدہ بچوں کی تعداد جائز اولاد سے کہیں زیادہ ہے. اور اس وقت یہ رجحانات مغرب تک ہی محدود نہیں ہیں. دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں غیر ثابت النسب بچوں کی تعداد دو ہزار ایک کے مقابلے میں 367 فی صد زیادہ ہے.اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مغربی تہذیب کتنی غلیظ ترین تہذیب ہے.ایک طرف اسلام ہے کہ اس نے مرد و عورت دونوں کو پردے کا مکلف بنایا ہے اور دوسری طرف یہ نام نہاد صاف و شفاف تہذیب جس میں زنا کاری کو جائز ہی نہیں قرار دیا مزید برآں اس کے لئے مظاہرے کئے جاتے ہیں اور باقاعدہ یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ "ہر انسان خود مختار ہے، جس کے ساتھ چاہے جسمانی تعلقات استوار کر سکتا ہے”.
    خلاصہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. یہ مغربی قوم روئے زمین کی غلیظ ترین قوم ہے کوئی اسلام کا نام لیوا اس سے متاثر نہ ہو بلکہ صحیح اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ ہو تاکہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اسلام سے دامن نا چھڑائے بلکہ ان تمام غلیظ تہذیبوں سے اپنے آپ کو بچا لے.

    @The_salaar_786

  • معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    صفائی اور حفظان صحت کی اہمیت کو کسی بھی معاشرے سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر عقیدہ اور تہذیب صفائی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے ، کسی تہذیب یا معاشرے کی ترقی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے صفائی کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جسمانی اور روحانی طور پر ، صفائی اور پاکیزگی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ اسلام میں ، روحانی پاکیزگی جسمانی صفائی اور پاکیزگی سے منسلک ہے۔

    مزید اہم بات یہ ہے کہ صفائی ستھرائی کو ایک ناگزیر کہا جاتا ہے تاہم ، ہمارے عقیدے کا یہ بنیادی اور طاقتور اصول ، بدقسمتی سے ، ہمارے معاشرے میں عملی طور پر اس کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ اسلام کے اس قیمتی اصول کو ہماری زندگی کا حصہ بنانے کے لئے ہمارے فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی طریقوں پر بھی سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

    اسلام نے صفائی کی اہمیت پر اسے ایمان کا حصہ بنایا ہے لہذا ، لوگوں کو صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے شعوری کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ، متعدد سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے عقیدے کی اس قیمتی قیمت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں

    قرآن پاک میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو صفائی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

    ارشاد ربانیﷻ ہے: اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

    "بے شک اﷲ بہت توبہ کرنیوالوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے”(البقرة،2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا حَتّٰی يَطْهُرْنَ ج فَاِذَا تَطَهَّرْنَ

    جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں اور جب وہ خوب پاک ہوجائیں (البقرة، 2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ ثِيَابَکَ فَطَهِّرْ

    اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں (المدثر: 4)

    نگاہ نبوتﷺ میں صفاٸی کے وسیع المعنی لفظ ہے۔
    اس لئے رسول ﷺ نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے

    فرمان رسول ﷺ ہے کہ الطهور شطر الايمان.

    "صفائی نصف ایمان ہے” صحيح مسلم
    قرآن مجید و حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جسم و ماحول کی صفائی کے بغیر ، کوئی شخص روحانی طور پر اللہ کی قربت حاصل نہیں کرسکتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ صفائی اور پاکیزگی کی عدم موجودگی میں ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

    قارئين اکرام! ہمارے معاشرے میں صفائی کے بارے میں بیان بازی سے بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق غائب ہے۔ ایک تیز مشاہدے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ صفائی اور حفظان صحت کے حوالے سے ہم نے کتنی بے حس ثقافت تیار کی ہے۔

    توجہ فرماٸیں!!

    ہمارے معاشرے میں گلیوں ، سڑکوں یا پارکوں میں کچرا پھینکنا ایک عام سی بات بن چکی ہے

    اگر دیکھا جاٸے عوامی مقامات پر ڈسٹ بِن شاذ و نادر ہی پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ڈسٹ بنس انسٹال ہوجائے تو ، لوگ ان کا صحیح استعمال نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ، وہ باہر کوڑا کرکٹ پھینکنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو صاف کرتے ہیں اور کچرے کو اس کے مضمرات پر غور کیے بغیر سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایلیٹ اسکولوں کے طلباء بھی کوڑے دانوں کی موجودگی میں ہی کچرا زمین پر پھینک دیتے ہیں۔ اس سے صفائی اور حفظان صحت کے بارے میں ہمارا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح راہ چلتے ہوٸے لوگ دیواروں پہ پان تھوک دیتے ہیں ، جو نہایت ہی معیوب عمل ہے

    ایک اور شعبہ جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے عوامی بیت الخلاء کی خوفناک حالت۔ عوامی بیت الخلاء کی کمی ایک بہت بڑا چیلنج ہے ، لہذا لوگ فطرت کی آواز کا جواب دینے کے لئے کھلی جگہیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جو بیت الخلاء موجود ہیں وہ انتہائی قابل رحم حالت میں ہیں کہ کوئی ان کو استعمال نہیں کرسکتا۔

    اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کی قابل رحم حالت کی نشاندہی کرنے کے لئے پیش کی جاسکتی ہیں۔ لہذا ، اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے شعوری کوششوں کی ضرورت ہے۔

    ہمارے عقیدے کی روشنی میں لوگوں کو صفائی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی اور حساس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں معاشرتی ادارے جیسے تعلیمی ادارے ، میڈیا اور مذہبی ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

    پاکستان ، نظام تعلیم کو اپنے طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ صفائی اور حفظان صحت سے متعلق درس و تدریسی مواد کو نصاب اور درسی کتب میں شامل کیا جانا چاہئے۔ میڈیا عوام کو صفائی کی اہمیت اور غیر صحت پسندانہ زندگی کے نقصانات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے اور اس کا احساس دلانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہےمساجد اور مدرسے جیسے مذہبی ادارے بھی لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے میں حکومت کے کردار اور عزم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    صفائی کی اہمیت کو فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طرف تو یہ انسانی صحت اور روحانی ترقی کے لئے ایک اہم عنصر ہے۔ دوسری طرف یہ ماحولیاتی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

    صاف ستھرا اور حفظان صحت سے متعلق طرز زندگی اپنانے سے ، جہاں صحت کے امور کا تعلق ہے وہاں ایک قیمتی رقم بھی بچائی جاسکتی ہے۔ ایک صاف ستھری اور صحتمند زندگی معاشرے کی ثقافت کو بہتر بنانے میں معاون ہے اور زندگی کے ہر پہلو جیسا کہ آرٹ ، فن تعمیر ، کھانا ، موسیقی وغیرہ کی عکاسی کرتی ہے۔ آخر کار ، یہ تہذیب کی ایک اعلی سطح کی طرف جاتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہےکہ سماجی و فلاحی تنظیمیں مسلمانوں میں صفائی ونفاست اور خوش سلیقگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کریں اور قرآن اور حدیثﷺ کے نہج پر ایک مثالی مسلم معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنائیں

    اللہ ﷻآپکا حامی و ناصر ہو آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • کشمیر     تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    کشمیر تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    لفظ کشمیر سنتے ہی زہن میں غلامی کا تصّور نمایاں ہو جاتا ہے۔وادی کشمیر جو کے بہت عرصے سے غلامی کی زنجیر میں بندھی پڑی ہے۔اگر خوبصورتی کی بات کی جائے تو کہتے ہیں اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو وہ ہے”کشمیر”مگر اس زمین کی جنت میں لوگوں کے ساتھ جہنم بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جاتا ہے ۔کشمیر ایک متنا زعہ علاقہ ہے اس کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا حصہ بھارت کے قبضہ میں ہے اور باقی کچھ حصہ پاکستان نے ایک معاہدے کے تحت چینیوں کو حفاظت کے لیے دیا گیا ہے اور تھوڑا سا علاقہ گلگت بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے ۔تقاضا اور وقت کے فیصلے بهی کتنے انمول ہوتے ہیں نا!
    روایات اور تقاضہ اف!
    یُوں بھی کہہ سکتے ہیں کے کشمیریوں نے اپنی پوری زندگی ہی غلامی کی نظر کی ہے۔
    کبھی کبھی سکھوں کی غلامی، کبھی پٹھانوں کی غلامی،کبھی مہاجروں کی غلامی، بہرحال اس غلامی کے رواں دواں میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انسان مشکلات کا سامنا کر لیتا ہے مگر عزتوں کی پامالی جب کی جائے تو اس کا کفارا کوئی عمر بھر بھی نہیں پورا کر سکتا ۔خیر غلامی سے نکلنے کے لیے آزادی ضروری ہے اور آزادی کے لیے خود لڑنا پڑتا ہے،خود اٹھنا پڑتا ہے اور خود سے خود کو فتح کرنا پڑتا ہے۔
    "آزاد پنچھیو سے کوئی تو پوچھے
    آسمان پر اڑنے کا مزا کیسا ہے
    فقط اتنا ہی کہیں گے
    ایک آزاد اڑان عمر بھر کے سکون کے لیے کافی ہے۔”