Baaghi TV

Category: بلاگ

  • موقع تلاش کرو کامیاب ہوجاو . تحریر : شعیب علی

    موقع تلاش کرو کامیاب ہوجاو . تحریر : شعیب علی

    کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ دنیا میں بے شمار موقع ہے جن کو استعمال کرکے انسان کچھ بڑا کر سکتا ہے کامیاب ہونا یا نہ ہونا تو انسان کی اپنی سوچ پر ڈیپینڈ کرتا ہے زندگی تو سمندر کی طرح موقع لے کر تمہارے آگے کھڑی ہے مگر یہ تم پر منحصر ہے کہ تم بالٹی بھرتے ہو یا صرف چمچ.

    زندگی انسان کو دینا تو بہت کچھ چاہتی ہے مگر انسان لینا کچھ نہیں چاہتا زندگی کہتی ہے محنت کرو جو لینا چاہتا ہے لے جا مگر انسان ہے کہ محنت ہی نہیں کرتا اسے موبائل سے ہی فرصت نہیں واٹس اپ پر بڑا اسٹیٹس لگا کر سمجھتا ہے کہ اس کا سٹیٹس بھی بڑا ہو گیا مگر ہوتا کچھ نہیں اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کے یہ زندگی ہے دوست کبھی ہنسائے گی کبھی رُلائے گی لیکن جو خاموشی سے لگا رہا وہ نکھڑ جائے گا اور جو بیچ میں ہی چھوڑ گیا ایک دن وہ بہت پچھتائے گا کہ اس لیے زندگی میں کبھی بھی آگے بڑھنے سے ڈرو مت کیونکہ یہاں تو پھر جیت جاؤ گے یا اگر ہار گے تو ایک نئی سیکھ ہو گی اور کہتے ہیں انسان کو کبھی بھی اپنے وقت پر غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وقت تو کبھی ان نوٹوں کا بھی نہیں ہوا جو کبھی پورا بازار خریدنے کی طاقت رکھتے تھے.

    @Shabi_223

  • "لڑکیوں کو محبت سے پرہیز کرنا چاہیے  تحریر : نــــازش احمــــد

    "لڑکیوں کو محبت سے پرہیز کرنا چاہیے تحریر : نــــازش احمــــد

    اب بات کو آگے بڑھاتے ہیں اور بتاتی ہوں کے محبت سے پرہیز کیوں کرنا چاہیے ؟؟ بات کرتے ہیں سوشل میڈیا کی محبت کی وہ محبت جو صرف چار دن کی ہوتی ہے؟ جو صرف جسم دیکھنے کی حد تک ہوتی ہے ؟ وہ محبت جو صرف مزا چکھنے کی ہوتی ہے لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے کرنا چاہیئے کے آپ جس کو اپنا محبوب اور ایک سچے پیار کرنے والے سمجھتی ہیں نا وہ اور بھی کسی کا محبوب ہوتا ہے آپ کیا سمجھتی ہیں وہ صرف آپ کا ہے نہیں ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا اگر آپ سے وہ محبت کرتا ہی ہے تو نکاح کے لیے راضی کیوں نہیں ہوتا پھر اس کے گھر والے نہیں مانتے کیا محبت کرتے وقت وہ گھر والوں سے پوچھ کر محبت کرتے ہے کے میں اس لڑکی سے محبت کرلوں ؟؟ جو آپ سے محبت کرے گا تو آپ سے ہی نکاح کریگا کیا اپنے یہ نہیں سنا ؟ "جس سے محبت کرو تو نکاح بھی اس سے کرو”پھر یہ کیسی محبت ہے اور ہر دوسری لڑکی سے ہو جاتی ہے اور ہر لڑکی سے محبت کا جھوٹا دعویٰ ہوتا ہے” لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے بھی کرنا چاہیے ” جس کو آپ محبت کا نام دے رہی ہوتی ہیں نا وہ محبت نہیں ہے محبت کے نام پر ٹائم پاس ہوتا ہے ۔ آپ محبت کرو گھر والوں کی نظروں میں گر جاؤ آپ شادی کے لیے گھر والوں کو راضی بھی کرلو لیکن اگر لڑکے کے گھر والے راضی نہیں ہوے تو کیا ہوگا ؟؟ آپکی اپنی value اور ختم ہو جائیگی آپ کی جو گھر میں عزت ہوتی ہیں نا وہ نہیں ہوگی بات بات پر طعنے ملتے ہیں خاندان ِ میں لوگ ماں باپ کو ہی کہتے ہیں جس میں ماں باپ کا کوئ قصور بھی نہیں ہوتا وہ تو بیٹی پر بہت بھروس کرتے ہیں لڑکیوں کو محبت سے پرہیز اس لیے کرنا چاہیے کہ اس میں صرف لڑکیوں کی زندگی برباد ہوتی ہیں اس میں ماں اور باپ کی بھی زندگی خراب ہوتی ہیں لڑکوں کا کیا وہ تو پھر کسی اور سے محبت کر کے بیٹھ جاتے ہیں انکو ٹائم پاس کے لئے اور مزا چکھنے لئے اور ملتی ہیں اور ہم لڑکیوں اتنی پاگل ہوتی ہیں وہ اسکو ہی اپنا سب کچھ مان کر بیٹھ جاتی ہیں ۔ یاد رکھئے جو آپ سے محبت کریگا اس کو کسی کا بھی ڈر نہیں ہوگا وہ گھر والوں کو بھی راضی کر سکتا ہے بس شرت یہی ہے کی محبت سچی ہونا چاہیے بس آخری میں اتنا کہنا چاہتی ہوں کے خدا را یہ جھوٹی اور دھوکے باز ڈیجیٹل محبت سے باز آجائیں یہ کوئی محبت نہیں ہوتی محبت صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے صرف اپنے شوہر سے ہوتی ہے اور کوئی محبت نہیں ہوتی ہے

    "محبت کرو تو نکاح کرو
    بے نام رشتہ خُدا کو پسند نہیں”
    @itx_Nazish

  • عمران خان محفوظ پاکستان کی ضمانت . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    عمران خان محفوظ پاکستان کی ضمانت . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    اس ملک خدادا کو اللہ پاک نے بڑی نعمتوں سے نوازا یہاں کے موسم ،آبی و قدرتی ذخائر،معدنی وسائل ،میدانی علائقے ،پہاڑی سلسلے ، ریگستان ، دریاوں کا پانی ،سمندر ،زرخیز زمینیں ،ہر موسم کی میوہ جات ،محنتی،خوش اخلاق اور پیارے لوگ ،مختلف زبانیں ،الگ الگ کلچر لیکن سب ایک پھولوں کے گلدستے کی طرح ہیں ،دنیا کے سب سے بہترین مذھب دین اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ہمارے اس عظیم ملک جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے ،اتنی نعمتوں کے باوجود ہمارا یہ پیارا وطن جسے دنیا کے مسلمانوں کی امامت کا فرض نبھانا تھا ،اس عظیم ملک کو دنیا کی سپر پاور بننا تھا لیکن ہم بجائے ترقی اور خوشحالی کے تنزلی اور تباہی کی طرف جانے لگے ،ہمارے لوگ بیروزگاری،بھوک ،افلاس میں پھنستے چلے گئے ،سرکار کے نام پر بننے والے ہر ادارے میں بربادی ہی نظر آتی تھی ،اس تباہی و بربادی کے پیچھے ہمارے نااہل حکمران تھے ،کروڑوں کی آبادی پر چند خاندانوں کی حکومت رہی ،جمہوریت کی بجائے بادشاہی نظام کو فروغ دیا جاتا رہا ،دو جماعتوں مسلم لیگ ن اور پپلزپارٹی نے اس ملک پر باری باری کا کھیل کھیلا پارٹی کے سربراہان کا خاندان خود کو بادشاہ اور اپنے چند قریبی دوستوں یاروں میں وزارتیں اور ملک کی اہم ذمہ داریا دیتے رہے ،ان دونوں جماعتوں نے اس ملک کی عوام اور اس پاک دھرتی کے ساتھ بڑی ناانصافی کی ،ہمیشہ عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنے کا ڈرامہ کرکے حکومت میں آتے اور پھر دونوں جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں ایک ہوجاتی ،پھر اسی طرح یہ لوگ اپنی اپنی باری پر ملک کو لوٹنا شروع ہوتے ،پاکستان کا پیسہ لوٹ کر باہر ممالک میں لے جاکر اپنی جائیدادیں اور کاروبار بڑھاتے رہتے ،دونوں ایک دوسرے کو کرپٹ اور چور کہتے آئے لیکن کیونکہ دونوں اندر سے ایک تھے تو کسی نے ہمت نہیں کی ان کا احتساب کرنے کی ان کے ساتھ چند چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی اپنا اپنا حصہ لے کر مزے لیتے رہے لیکن کرپشن لوٹ مار کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے آن پہنچا ،لوگ بیروزگاری،غربت ،مہنگائ،نا انصافی سے تنگ آچکے ،ملک کا ہر ادارہ تباہ کردیا ،صحت ،تعلیم ،پولیس سسٹم ،ٹرانسپورٹ سسٹم سب برباد کردیئے گئے ،صحت کے نظام کی تباہی کے اس سے بڑا کیا ثبوت پیش کیا جائے کہ جہاں تین بار وفاق اور ۵ بار پنجاب میں حکومت کرنے والی ن لیگ کی قیادت اپنا علاج کروانے باہر جائیں ،سوچیں اس ملک میں کون کاروبار کرے گا جس ملک کے حکمران اپنا کاروبار باہر ممالک میں کریں ،اس ملک کی کیا عزت ہونی جس ملک کا وزیراعظم عرب ملک کی کسی کمپنی میں چپڑاسی بھرتی ہو اقتدار کے نشے میں مست یہ دونوں جماعتیں عوام کو جمہوریت کے نام پر بے وقوف بناتی رہی اور خود اس ملک کے بادشاہ بنے بیٹھے رہے ،عوام کی یہ حالت اور ملک کی تباہی دیکھ کر پاکستان کو دنیا میں عزت دلوانے والے ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کے کپتان پاکستان کی شان ہر دلعزیز جناب عمران خان صاحب نے سیاسی سفر کا آغاز کیا پہلے دن تقریر کی جس میں اپنا ایک نکاتی ایجنڈہ پیش کیا کہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے اس ایجنڈے نے پپلزپارٹی اور ن لیگ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائ تو ان لوگوں نے عمران خان صاحب کو وزارتوں کی لالچ دی ،رشوت کی آفرز کی لیکن کپتان ان کے خلاف ڈٹا رہا پھر ان لوگوں نے خان صاحب کے خلاف ذاتی حملے کئے ،کردار کشی کی ،ہر طرح سے خان صاحب کو جھکانا چاہا لیکن خان صاحب نہیں جھکے اور پھر ان دو جماعتی سیاست کے نام پر بادشاہت سے پاکستانی عوام بلکل تنگ آچکی اور قوم کی امیدیں عمران خان صاحب سے وابستہ ہونا شروع ہوئ عوام جوق درجوق پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنتے گئے اور ایک قافلہ بنتا گیا الحمدللہ قوم کے اعتماد اور مسلسل ٢٠ سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد عمران خان صاحب نے ان دو جماعتی اتحاد کو پاش پاش کیا اور عوامی ووٹ کی طاقت سے اس ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے ،اپنی سیاسی جدوجہد میں عمران خان صاحب نے کرپشن کی بنیاد پر نواز شریف کو ملک کی اعلی عدالت سے نااہل کروایا اور جب مخالفین نے عمران خان صاحب پر کرپشن کے کیسز کئے تو اسی اعلی عدالت سے عمران خان صاحب صادق و امین ثابت ہوئے جس نے خان صاحب کی حب الوطنی،سچائ ،دیانتداری پر مہر لگادی اور عوام نے اپنے لئے صادق و امین لیڈر کو منتخب کیا جس نے اقتدار میں آتے ہی تمام چور،لٹیروں اور کئ سالوں سے ملک پر حکمرانی کرکے ملکی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب شروع کیا،ادارے سیاست سے پاک کئے ،چوروں کو پکڑ کے جیلوں میں ڈالا تو کئ بڑے چور کسی نا کسی طرح بیماری کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ گئے ،ان چوروں کی سیاست بلکل اسی طرح تباہ ہوئ جیسے ان لوگوں نے کرپشن کے زریعے اس ملک کو تباہ کیا اب وہ دنیا بھر میں رسوا ہوئے بیٹھے ہیں اور عمران خان صاحب دنیا میں پاکستان کا کھویا ہوا مقام دلانے کی کوششوں میں مگن ہیں آج وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوششوں سے پاکستان کی کھوئ ہوئ ساکھ بحال ہورہی ہے ،چوروں سے نجات کے بعد قوم نے سکون کا سانس لیا تو وہیں وزیراعظم عمران خان صاحب اس قوم کو عظیم قوم بنانے میں مصروف ہیں ،ہمارے انصاف کا نظام ،تعلیم ،صحت سمیت تمام سرکاری اداروں میں واضع بہتری آرہی ہے ملک خوشحالی طرف چل پڑا اب اس ملک میں کسی چور ،کرپٹ انسان کی کوئ گنجائش نہیں انشااللہ اگلے چند سالوں میں وزیراعظم عمران خان صاحب کی قیادت میں پاکستانی ایک عظیم قوم بن کر دنیا میں ابھریں گے ہمارے تمام مسائل حل ہوں گے ،عوام خوشحال ہوگی اور دنیا اس عظیم انقلاب اور اس کے ہیرو وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کو ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھے گی.

    عمران خان زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    @MajeedMahar4

  • اسلامی جمہوریہ پاکستان . تحریر: فہیم حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان . تحریر: فہیم حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں مختلف عقیدے کے لوگ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں
    وطن عزیز پاکستان سے محبت ہمیں وراثت میں ملی ہے وطن سے محبت ہر ایک پاکستانی پر فرض ہے اس مٹی پر ہر پاکستانی مر مٹنے کو تیار رہتا ہے اور اس فرض کو پورا کرنے کے لیے ہمارے فوجی جوان سب سے آگے ہیں جو کہ اپنی جان کی پروا کئے بغیر دن رات ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں ہمیں اپنے فوجی جوانوں کی قدر کرنی چاہیے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو سر سبز و شاداب ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے اونچے اونچے پہاڑ اور خوبصورت چشمہ جات پر بنا ہے موسم کے لحاظ سے اگر بات کی جائے تو پاکستان کو اللہ نے چار موسموں سے نوازا ہے.

    موسم گرما، موسم سرما،موسم بہار اور موسم خزاں.
    گرمی کی بات اگر کی جائے تو کئی شہریوں میں ایسا موقع بھی آیا ہے کہ جہاں درجہ حرارت 53 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے مگر پاکستان ایسا ملک ہے جہاں کبھی پورے ملک میں یکساں درجہ حرارت نھی رہا ملک کا جنوبی حصہ جو خشک اور ریگستانی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے جبکہ دوسری جانب شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت کم ہوتی ہے شمالی علاقہ جات میں بارشیں اور کئی مقامات پر برف باری بھی ہوتی ہے پاکستان میں کئی وادیاں ایسی ہیں جہاں دنیا بھر سے سیاح پاکستان کے خوبصورتی کا لطف اٹھانے آتے ہیں ان میں وادی نیلم کی اگر بات کی جائے تو میرے زہن میں اس وادی کے خوبصورتی بیان کرنے کے لیے الفاظ کم ہیں وادی نیلم کا شمار ان خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس وادی کے خوبصورتی سے لطف اٹھانے آتے ہیں اس وادی میں سرسبز پہاڑ اور ٹھنڈے پانی کے خوبصورت چشمہ جات پائے جاتے ہیں.

    @faheempti0118

  • کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی  تحریر: محمد عدیل علی خان

    کشمیر پر اقوام متحدہ کی خاموشی تحریر: محمد عدیل علی خان

    اقوام متحدہ کو چائنہ میں مسلمانوں پر ظلم نظر آتا ہے جو صرف پروپیگنڈا ہے اصل ظلم اقوام متحدہ کو نظر نہیں آتا کشمیر 700 دنوں سے کرفیو میں پڑا ہوا ہے اقوام متحدہ یہاں پر جائزہ لینے کے لئے کیوں نہیں آتا کشمیری ماؤں کی عزتیں لیلام ہو رہی ہے …وہ نظر نہیں آتا کشمیر میں بھارتی فوج نے ماؤں بیٹیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک کر رہی ہے وہ دنیا کو نظر کیوں نہیں آتا جب ان کے بیٹوں کو انکے سامنے زبح کیا جاتا ہے جب انکی بیٹیوں کی انکے سامنے عصمت دری کی جاتی ہے انکا بہت ہی گندے طریقے سے ریپ کیا جاتا ہے کہاں مر گئی اقوام متحدہ‏کشمیر میں انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی کی جا رہی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ہم پاکستانی کیا کرتے سوتے سوتے ہیش ٹیگ چلا دیتے ہیں ان کی اہمیت ہماری نظر میں اتنی ہے لیکن کشمیری پاکستان کو کس نگاح سے دیکھتے ہیں وہ میں آپ کو بتاتا ہوں…..!‏میری ملاقات اسلام آباد میں ایک کشمیری بھائی سے ہوئی میں جب ان سے ملا تو ان کے چہرے پے وہ خوشی نہیں تھی جو ایک پاکستانی کو دیکھ کر ہونی چاہئیں جب میں نے ان سے اس اداسی کا سبب پوچھا کہ بھائی آپ پاکستان میں ہے آپ کو خوش ہونا چاہیے لیکن آپ اداس ہے تو اس کشمیری بھائی نے کہا کہ‏عدیل بھائی جب پاکستان کی طرف ہجرت کا سوچتے ہیں تو ہماری مائیں ہمیں ایک ہی نصیحت کرتی ہیں بیٹا جب تم پاکستان کی سرزمین پر پہنچا پہلے سیدھا پاؤں اور پھر الٹا پاؤں رکھنا اور وہ دعا پڑھنا جو مسجد میں داخل ہوتے وقت پڑھتے ہیں اور پھر شکرانے کے نوافل ادا کرنا پاکستان کی مٹی پر‏اس نے کہا عدیل بھائی جب پاکستان میں گوما تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی بھی ہندوستان میں ہو ہر طرف ہندوستان گانے ہندوستانی سقافت ہی نظر آئی پاکستان اور ہندوستان میں مجھےکوئی فرق محسوس ہی نہیں ہوا عدیل بھائی ہم وہاں پر ہندوستان سے آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور یہاں پر‏ہندوستانی کلچر ہندوستان لوگوں سے محبت..عدیل بھائی اس سے ہمیں یہ چیز سمجھ آتی کہ ہماری قربانیاں رائیگاں جائی گی پاکستان سے ہم کشمیری اتنی محبت کرتے ہیں لیکن پاکستانی اب بھی ہندوستانی کلچر کو اپنانے میں لگے ہوئے ہیں اس سے بہتر ہے کہ ہم بھی آزادی کی لڑائی لڑنا چھوڑ دیں‏یہ باتیں کر کے وہ کشمیری بھائی تو چلا گیا لیکن مجھے سوچ میں ڈال کر چلا گیا جب تک وہ کشمیری بھائی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا تب تک میں نے شرم سے سر نہیں اٹھایا یہ ملاقات یہی ختم ہوئی ہمیں کشمیری بھائیوں کا مسئلہ اب عالمی عدالت میں پورے پاکستان کی عوام نے اٹھانا ہے کب تک‏وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ میں صرف تقریریں کرتا رہے گا اب بھی وقت ہے پاکستانیوں سنبھلنے کا…….

    Twitter.https://twitter.com/iAdeelalikhan?s=09

  • انصاف کا کٹہرا . تحریر : انجینئرعنصراعوان

    انصاف کا کٹہرا . تحریر : انجینئرعنصراعوان

    گزشتہ کئی دنوں سے ہمیں سوشل میڈیا پر ایک جیسے ہیش ٹیگز گردش کرتے دکھائی دے رہے ہیں. جن میں ہوا کی بیٹیوں کے لیے انصاف کی اپیل کی جا رہی ہے. تین دن ایک جیسے ہیش ٹیگز (جسٹس فار…… ) پر جن کے لیے انصاف مانگا جا رہا ہے انکے نام تبدیل ہیں. یعنی پچھلے دنوں میں مختلف قتل کی  وارداتیں سامنے آئیں جن میں ہوا کی بیٹیوں کو بیہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا.
    یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیں آئے روز ایک نیا واقعہ سننے کو ملتا ہے. کبھی کسی کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے اور کبھی کسی بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیے جانے کے واقعات رونما ہوتے ہیں. کبھی کسی کو قتل کر کے غیرت کے نام پر قتل کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے.

    یہاں تک کے ہمارے مدرسے سکولز اور یونیورسٹیز جن کا کام معاشرے کو سدھارنا اور معاشرے کو ان معاشرتی برائیوں سے پاک کرنا ہے وہ خود بھی ان معاشرتی برائیوں سے محفوظ نہیں ہیں. آئے روز رونما ہونے والے اسطرح کے واقعات میں کبھی کسی مدرسے یا سکول کے اساتذہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں ملوث پائے جاتے ہیں تو کبھی  یونیورسٹیز کے پروفیسرز اپنی سٹوڈنٹس کو جنسی ہراساں کرتے نظر آتے ہیں.

    مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں مختلف فنکشنز کے نام پر ہونے والی بےحیائی اور فحاشی آپ کے سامنے ہے.
    جب بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو سوشل میڈیا پر ایسے ہی ہیش ٹیگز دکھائی دیتے ہیں جن میں عوام کافی غم و غصے میں انصاف کی اپیل کرتی اور مجرموں کو سخت سزائیں دینے اور کیفرکردار تک پہنچانے کی اپیل کرتی نظر آتی ہے. کیسز بھی درج کیے جاتے ہیں اور مقتدر اداروں کی جانب سے ممکنہ انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی جاتی ہے. لیکن ہمیشہ ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں.

    یہاں پرغریبوں کے لیے انصاف ناپید ہو چکا ہے. انسانی زندگی کی کوئی وقعت نظر نہیں آتی یعنی جس کا دل کرے جب چاہے انسانی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرے اور اسے ضائع کر دے کوئی پوچھنے والا نہیں. گزشتہ کئی سالوں سے یہ اسی طرح چلتا آ رہا ہے اور چلتا رہے گا جب تک بر وقت انصاف کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جاتی اور ان ملزمان کو قرار واقع سزائیں نہیں دی جاتیں.
    یہ برائیاں ہمارے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل چکی ہیں انکے خاتمے کے لئے بہت ضروری ہے کہ مقتدر ادارے حرکت میں آئیں قانون کا نفاذ کریں اور ایسے تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر  سخت سے سخت سزائیں دے کر کیفرکردار تک پہنچائیں.

    @A_Awan11

  • اسلام اورعقل . تحریر: فرید خان

    اسلام اورعقل . تحریر: فرید خان

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں موجودایک ایک حرف پتھر کی لکیر ہے۔ رسول اللہ ص کی زندگی ایک نمونہ ہے۔ اسلام کی ظہور اس وقت ہوا جب دنیا زمانہ جہالت میں تھا۔ اسلام کی ظہور اس وقت ہوا جب دنیا جہالت دیکھ چکی تھی ہر قسم کے رسم و رواج سے گزر چکی تھی۔ اللہ ج نے تمام انسانوں کو ایک راہ دیکھائی جسے صراط مستقیم کہتے ہیں۔ فرمایا جو لوگ اس پہ چلیں گے وہ فلاح پائیں گے۔ یہ وہ راستہ ہے جو اللہ نے منتخب کیا ہمارے لیے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کو سمجھنے کے لیے عقل قاصر ہے یہ دین نقل کی گئی ہے اور اس پر یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ اوپر ذکر شدہ باتیں وہ باتیں ہیں جو ہم بار بار سن چکے ہیں اور سنتے رہیں گے۔ یہ باتیں میں نے اپ کی نظر اس لیے کی کیونکہ میں دوبارہ یقین دہانی کی کوشش کررہا کہ ہم اس راستے سے انحراف کررہے ہیں جو اللہ نے ہمارے لیے منتخب کیا ہے۔ اس سے انحراف کا نقصان واضح ہے قومیں پستی کی طرف جا رہے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے بائیں بازو کی سیاست ان اصولوں کے انحراف کی وجہ سے مسلسل ناکامی کا شکار ہیں۔ ہمارے سیاسی تربیت میں اب باقائدہ طور پر ان اصولوں سے انحراف کا درس دیا جاتا ہے ۔ ہماری سیاسی تربیت میں اب مذہب اور دین اسلام پر تنقید سکھاتا ہے، ہماری سیاسی تربیت میں اب ایسے اصول بتایا جاتا جو محض عقل پر مبنی ہے ۔ جب سوال کیا جاتا کہ اپ اسلام کی بنیادی اصولوں سے انحراف کررہے تو کہتے ہیں اب وقت بدل چکازمانہ بدل چکا اب لوگوں میں عقل ایا ہے شعور ایا ہے ۔ جبکہ اللہ نے چودہ سو سال پہلے قران میں فرمایا ہے سورہ رحمن انسان اور اس دنیا کی تخلیق کے ورد سے بھرا ہے۔ اللہ نے انسان کو عقل پہلے سے دی ہے اور اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے لیکن اس کا مطلب تو یہ تھوڑی ہوا کہ اپ اس رب کے بتائے گئے اصولوں سے منکر ہو جاو جس نے اپ کو عقل دی ہیں ۔

    بے شک اپ عقل سے کام لے لیکن اسلام کے اصول اس کے تعلیمات اور مسائل پر عقلی بنیاد پر دلائل دینا ہماری پستی کا سبب ہے ۔ ہم مانتے ہیں کہ دنیا جدید ہوگئی اس وقت سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے لیکن یہ دور کبھی اپ کو اتنا عقل نہیں دے سکتا کہ اپ خود سے دلائل بنائے اور لوگوں کو اپنی عقلی دلائل پر راغب کریں جو اسلامی تعلیمات کے حولے سے ہو ۔ ایسی سوچ و فکر جسے ہم جدید دور کہتے یہ کوئی جدید سوچ نہیں پرانے زمانے میں بھی ایسی سوچ والے طبقے گزرے ہیں تابعین کے دور میں بھی ایسا ایک فرقہ گزرا تھا جسے مقتدلہ کہا جاتا تھا ۔ یہ لوگ عقل سے کام لیتے تھیں۔ یہ اللہ کے معجزوں سے انکاری تھے۔ یہ عیب سے انکاری تھے یہ صرف ان چیزوں پر یقین رکھتے تھے جو ان کے سامنے ہو اور کوئی ثبوت موجود ہو ۔ جسے اج کل کے دور میں سائنسی تحقیق کہتے کہ اگر کوئی بات سائنسی طور پر ثابت نہ ہو جائے تو اس پہ یقین نہیں کیا جاتا جبکہ اسلام یقین پر مشتمل ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتاے ہوئے تعلیمات پر یقین ایمان کا حصہ ہے ۔ اللہ تعالی سورہ بقرہ کے شروع میں فرماتا ہے "وہ لوگ جو غیب پر ایمان لائے”  وہ متقین ہے اب غیب کیا ہے؟ جس پر یقین ایمان ہے، غیب وہ چیز ہے جسے نہ انسان سن سکتا نہ دیکھ سکتا نہ محسوس کرسکتا حتی کہ غیب عقل سے بھی اوپر کی چیز ہے جسے صرف اور صرف اللہ سمجھ سکتا ہے اور ہمیں اس پر یقین کی تلقین کی گئیں ہیں ۔ غیب انسان کی عقل سے کیوں اوپر ہے اس پر کئی مثالیں لکھی گئیں ہیں۔ حضرت موسی ع کے وقعے میں جس میں جادوگروں کا ذکر ہے لکھا جاتا کہ جب جادوگروں نے سانپ پینکے ہر طرف تو موسی ع کے ساتھ ایک لاٹھی تھی ۔ اب انسان کا عقل کیا کہتا کہ جب سانپ ہو ہر طرف اپ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ انسان اپنے عقل کے مطابق اس لاٹھی سے ان سانپوں پر حملہ اور ہوگا لیکن غیب نے کیا کہا کہ اے موسی ع اپ یہ لاٹھی ذمین پر پینکے اور جب موسی ع نے وہ لاٹھی پینکی تو وہ ہوا جو انسان کی عقل سے دور ہے اود ایک بڑا ازدہا بنا جو ان سانپوں پے حملہ اور ہوا ۔ انسان کے عقل کے مطابق ہاتھ کی انگلیاں وہ تخلیق ہے جس سے اپ کھانا کھا سکتے کوئی کام کر سکتے اور کسی چیز کو پکر سکتے لیکن اس کے برعکس نبی ع اور صحابہ  جب کسی سفر میں تھے تو پانی کی ضرورت ائی پیاس کی وجہ سے لیکن پانی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا پھر نبی ع کے انگلیوں سے غیب نے پانی بہائے تھےجو کہ انسان کی عقل سے بہت دور ہے ۔ ان دو مثالوں کو بیان کرنے کا مقصد عیب اور اللہ کے بتائے گئے اصول کو عقل سے نہ پرکھا جائے ۔ ‏اللہ تعالی سورت اعراف کے ایت نمبر تین میں فرماتے ہیں.          

     (اے لوگو!) تم صرف اُس (وحی) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف اتاری گئی ہے اور اس کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو”  اللہ فرماتا ہے اپ صرف میرے بتائے گئے اصولوں کی پیروی کریں اور ان لوگوں کے پیچے نہ چلو جو اپنی پیٹ سے باتیں بناتے اور ان لوگوں کے پیچھے بھی نہ چلو جنہوں نے عقل کی بنیاد پر خود اپنی طرف سے راستے بنائے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی راہ پر چلنے کی توفیق دیں اور ان لوگوں سے دور رکھیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ امین ۔

    twitter @Faridkhhn

  • تحریک پاکستان کی ایک گمنام ہیروئن . تحریر: محمد محسن

    تحریک پاکستان کی ایک گمنام ہیروئن . تحریر: محمد محسن

    "فاطمہ بنت محبوب عالم”
    دنیا کے تقریباً ہر براعظم میں چاہے افریقہ ہو، شمالی امریکہ ہو، جنوبی امریکہ، ایورپ ہو یا پھر ایشیاء آزادی کی تحریکیں چلیں۔ ہر جگہ پسے ہوئے اور بے بس لوگوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی قیمتی جائیدادوں اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بعض جگہ یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں اور بعض جگہ ناکام جس کی وجہ سے ان آزادی کی تحریکوں میں عارضی بندش تو ہوئی لیکن کوئی بھی ظلم و جبر کا نظام ان کو مستقل طور پر روک نہ پایا۔ ابھی بھی دور حاضر میں آپ مشاہدہ کریں تو ایسی تحریکیں ہنوز جاری و ساری ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جہاں یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں وہاں کتنے ایسے گمنام ہیرو ہیں جنکو بھلا دیا گیا یہاں تک کہ عام لوگوں کو ان کا نام تک معلوم نہیں۔ صرف چند اک نام ہوتے ہیں جو زبان زدِ عام ہوتے ہیں باقی سب تاریخ کے پنوں میں پڑے رہتے ہیں یہاں تک کہ اک دن وہ پنہ تاریخ سے بھی کٹ جاتا ہے۔ برصغیر میں بھی آزادی کی اک ایسی ہی تحریک چلی جس نے برطانوی سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور دھیرے دھیرے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئی اور اک الگ وطن پاکستان حاصل کیا۔ پاکستان بننے کے بعد آج ہم چند اک نامور شخصیات کے علاؤہ وہ کتنے ہی گمنام ہیرو ہیں جو کہ تحریک آزادی میں پیش پیش تھے کو بھلا چکے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ریاستی بنیاد پر بھی ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کوئی سعی نہیں کی گئی۔ انہی گمنام ہیروز میں ایک فاطمہ بنت محبوب عالم تھیں جو 1890 میں لاہور میں مولوی محبوب عالم کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ مولوی محبوب عالم مزہبی لگاؤ رکھنے کے باوجود اک معتدل شخصیت کے مالک تھے جو کہ بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے تھے۔ فاطمہ بنت محبوب عالم نے اپنی بنیادی تعلیم گھر سے ہی حاصل کی اور 1901 میں پرائیویٹ میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بعد میں تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک پرائیویٹ سکول میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتی رہی اور فورٹ نائٹلی میگزینز میں لکھتی بھی رہیں تاکہ مسلمان خواتین میں شعور اجاگر ہو۔ فاطمہ بیگم کو برطانوی انڈیا میں پہلی مسلمان صحافی کے طور بھی جانا جاتا ہے جس نے پہلے پہل تو ایک خواتین کے میگزین "شریف بی بی” میں بطور ایڈیٹر اپنی خدمات سرانجام دیں لیکن بعد میں "خاتون” کے نام سے ایک اپنا میگزین شروع کیا تاکہ وہ خاص طور پر مسلمان خواتین کی تربیت کے لیے کچھ بہتر کر سکے اور ان میں ایک سیاسی تحریک پیدا کر سکے۔ اس نے لکھنے کا کام 1909 سے ہی شروع کر دیا تھا جب وہ "عصمت” نامی رسالہ/اخبار میں مضمون لکھتی تھی۔ فاطمہ نے "حج بیت اللہ و زیارت دیار حبیب” کے نام سے ایک سفرنامہ بھی تحریر کیا۔ جیسے جیسے اس کے سیاسی شعور میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے ہی وہ مختلف سیاسی فورمز کے ساتھ جڑتی گئی یہاں تک کہ وہ لاہور کی دو تنظیموں "انجمن خاتون اسلام” اور ” انجمن حامی بیگمات اُردو” میں ایک میں بطور جوائنٹ سیکرٹری اور دوسری میں سیکریٹری منتخب ہوئیں اور ماہوار میٹنگز میں بھرپور شرکت کی۔ اسکی بدولت انہوں نے خواتین میں ایک نئی تعلیمی، سیاسی اور شعوری تحریک پیدا کی۔ اس کے ساتھ ساتھ فاطمہ نے مسلمان خواتین کی ویلفئیر کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہاں تک کہ ان کاموں میں اپنے زیورات بھی پیش کیے۔ فاطمہ بنت محبوب عالم سر سید احمد خان کی طرح انگریزی تعلیم کی حامی تھیں۔ ان کے خیال میں اگر مسلمانوں کو انگریزوں اور ہندوؤں کا مقابلہ کرنا ہے تو مرد و خواتین کو جدید تعلیم حاصل کرنا ہوگی جس کے لیے انگریزی تعلیم ضروری ہے۔ یہی جدید تعلیم منجھی ہوئی باشعور مسلمان مائیں پیدا کریں گی جو کہ اپنی اولاد کی بہتر تربیت کریں گی۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد وہ کچھ عرصہ ممبئی میں ٹھریں جہاں انکی قائد اعظم سے ملاقات ہوئی جس میں فاطمہ بیگم کو نئی زمہ داریاں سونپی گئیں۔ 1938 میں انہوں نے لاہور میں نواں کوٹ کے علاقے میں اپنی جگہ پر "جناح اسلامیہ گرلز کالج” قائم کیا جسکا افتتاح جناح صاحب نے بذات خود اپنے ہاتھوں سے کیا جہاں لڑکیوں کی جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ پردہ کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔ فاطمہ بنت محبوب عالم نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے بالعموم اور مسلمان خواتین کے لیے بالخصوص بہت خدمات سرانجام دیں۔ آئیے اک نظر انکی کاوشوں پر۔

    کیونکہ وہ بذات خود پنجاب (لاہور) سے تعلق رکھتی تھیں اس لیے ان کی سب سے زیادہ خدمات پنجاب بیسڈ ہیں۔ جناح اسلامیہ گرلز کالج کے ذریعے انہیں ایسا پلیٹ فارم میسر آیا جہاں انہوں نے لڑکیوں میں سیاسی و سماجی شعور کے ساتھ ساتھ تقریری جزبہ بھی پیدا کیا۔ اس کالج سے پڑھی لڑکیوں نے بعد میں بڑے بڑے فورمز پر ہوسٹنگ اور کمپیرنگ کے فرائض سر انجام دئیے۔ اسی اسلامیہ گرلز کالج کو تب گیسٹ ہاؤس بنا دیا گیا جب لاہور قرارداد منظور ہوئی اور دور دراز کے شہروں سے سیاسی ورکرز لاہور تشریف لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامیہ گرلز کالج کی طالبات اور فاطمہ بیگم بذات خود نے بھی ان انتظامات کے لیے خاصی تگ و دو کی۔ انہی خدمات کی بدولت 1943 میں فاطمہ بیگم کو مسلم لیگ کی "وومین سنٹرل سب کمیٹی” کا ممبر بنا دیا گیا۔ جس میں فاطمہ بیگم نے اپنی زمہ داری کو بخوبی سر انجام دیتے ہوئے تحریک پاکستان میں اہم رول ادا کیا اور مسلمانوں میں ایک الگ ملک حاصل کرنے کا جزبہ پیدا کیا۔ قراداد لاہور کے بعد پاکستان بننے تک اور بہت سے اہم واقعات میں سے دو اہم واقعات 1946 کے عام انتخابات اور 1947 کی سول نافرمانی کی تحریک تھی۔ فاطمہ بیگم نے پنجاب میں رہتے ہوئے ان دونوں واقعات کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کی خوب مدد کی۔ 1946 کے عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر وہ پنجاب کے مختلف شہری اور دیہاتی علاقوں جہلم، گجرات، وزیر آباد اور گجرانوالہ میں گئیں اور مسلمانوں کو پاکستان اور مسلم لیگ کی اہمیت سے آگاہ کیا جس کی بدولت مسلمانوں نے دل کھول کر مسلم کی حمایت کی اور مسلم لیگ کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ دوسری جانب جب جنوری 1947 میں پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلی تو بھی فاطمہ بیگم نے اپنی سٹوڈنٹس اور دوسرے سیاسی ورکرز کے ساتھ کلیدی رول ادا کیا۔ 27 جنوری 1947 کو سول نافرمانی کی خاطر خضر حیات کی حکومت کے خلاف لاہور میں دو بڑے جلوس نکالے گئے جن میں ایک کی قیادت فاطمہ بنت محبوب عالم کر رہی تھیں۔ اس وقت کی حکومت نے اس سول نافرمانی کی تحریک کو کچلنے کے لیے اپنا ہر حربہ استعمال کیا۔ عورتوں پر ٹیر گیس اور لاٹھی چارج کے وار کیے گئے جس کی وجہ سے اکثر خواتین بے ہوش اور زخمی ہوئیں۔ پنجاب کے علاؤہ فاطمہ بیگم نے NWFP موجودہ خیبرپختونخواہ میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ اس صوبہ میں چونکہ خدائی خدمت گار اور کانگریس کا کرادر بھی کلیدی تھا تو یہاں ان کو سیشل مشن دے کر بھیجا گیا۔ NWFP میں ویسے تو 1939 سے "فرنٹیئر وومین مسلم لیگ” کا فورم موجود تھا لیکن دوسری سیاسی جماعتوں کی وجہ سے یہ فورم معدوم ہو کر رہ گیا تھا۔ لہذا فاطمہ بیگم نے 1945 میں اس صوبہ کا رخ کیا اور اور "فرنٹیئر وومین مسلم لیگ” کی تنظیم نو کی جس میں ان کی مدد ان پٹھان لڑکیوں نے بھی جو ان کے لاہور والے اسلامیہ گرلز کالج سے فارغ التحصیل تھیں۔ اپنے تقریباً پندرہ روزہ قیام کے دوران فاطمہ بیگم نے NWFP کے تقریباً سارے اہم علاقوں کو وزٹ کیا اور جلوسوں اور میٹنگز میں مسلم لیگ اور پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دوسرے اور لوگوں کے ساتھ ساتھ NWFP میں مسلم لیگ کو ریفرینڈم میں جتوانے میں ایک اہم کردار فاطمہ بیگم کا بھی تھا جس نے بیگم شاہنواز اور بیگم تصدق کی مدد سے پٹھان مسلمانوں میں آزادی کی تحریک پیدا کی۔

    پنجاب اور NWFP کے علاؤہ جس علاقے میں فاطمہ بیگم نے اپنی خدمات سرانجام دیں وہ تھا بیہار۔ ہوا کچھ یوں کہ اکتوبر 1946 میں جب تحریک پاکستان اپنے فل جوبن پر تھی بیہار میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس میں مسلم خاندانوں کو خوب تشدد اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان مسلمانوں کے تشدد کے بارے میں نومبر تک کسی کو کانوں کان خبر ہی نہ ہونے دی گئی۔ جب فسادات رکنے کا نام نہ لے رہے تھے تو گاندھی نے احتجاج میں بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ ان فسادات کے دوران فاطمہ بیگم نے اپنی امداد کے ساتھ پنجاب سے بیہار کا رخ کیا۔ انہوں نے بیہار میں ہندو تشدد کے ستائے ہوئے تقریباً 400 مسلمانوں کو یہاں سے پنجاب منتقل کیا اور یہاں پنجاب میں ان لوگوں کے لیے انکی رہائش اور خوراک کا مناسب انتظام کیا۔ ان بیہاری لوگوں کو پنجاب میں مستقل رہائش دینے کے لیے اپنی زمین پر اک کالونی بنا کر دی تاکہ یہ لوگ یہاں پر اپنی زندگی سکھ کے ساتھ گزار سکیں۔ بعد میں قیام پاکستان کے دوران جب قتل و غارتگری شروع ہوئی تو فاطمہ بیگم ان حالات کے مارے مہاجرین کی خدمت کے لیے پیش پیش تھیں۔ یہ حالات کی ستائی ہوئیں اور اپنے خاندان سے بچھڑی خواتین کو اپنے دفتر لاتی، انکی رہائش اور کھانے کا مناسب بندوبست کرتی اور جیسے ہی ان کے رشتے دار ملتے یہ ان کو ان کے حوالے کرتی۔ اس دوران فاطمہ بیگم نے انسانی روپ چھپے ہوئے ان منحوس درندوں کو بھی دیکھا جنہوں نے قتل و غارت کے ساتھ ساتھ عصمت دری کا بازار بھی گرم رکھا۔ کئی ایسی خواتین تھیں جو جسمانی اور جزباتی کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد کا بھی شکار ہوئیں اور انکی وجہ سے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوئیں۔ فاطمہ بیگم نے ان کے ساتھ خصوصی وقت گزارا، ان کے ساتھ کھانا کھایا باتیں کیں تاکہ وہ اس نفسیاتی ٹراما سے نکل کر نارمل ہو سکیں اور انکی ہر طرح سے مناسب مدد کی۔ فاطمہ بنت محبوب عالم کی ان ساری کاوشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ بھی ہمارے تحریک پاکستان کے دوسرے بڑے ہیروز کی طرح ایک ہیروئن تھیں جن کے بارے میں موجودہ نسل کو ضرور بتایا جانا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں ایسا کوئی منظم ادارہ نہیں جن کی وجہ سے ایسے کئی گمنام ہیروز آج تک گمنام ہیں۔

    @muhamad__Mohsin

  • سندھ برباد، آزاد کشمیر میں جیت کے  خواب .تحریر :فضیلت اجالہ

    سندھ برباد، آزاد کشمیر میں جیت کے خواب .تحریر :فضیلت اجالہ

    پاکستان کے جنوب مشرقی حصہ میں واقع صوبہ سندھ قدیم ورثے کا مالک ہے ،جہاں پچھلے تیرہ سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جنہوں نے سندھ کو تباہ کرنے میں کوئ کسر نہی چھوڑی ۔
    سندھ میں ہر طرف کتوں کا راج ہے اور جیے بھٹو کا نعرہ لگانے والے آزاد کشمیر میں جیتنے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔

    13برس کے طویل عرصے میں بھٹو سرکار نے سندھ کی عوام کو غربت،بے روزگاری،کچرا کنڈیوں ،قحط اور خشک سالی کے سوا کچھ نہی دیا ۔ایک طرف بلاول زرداری آزاد کشمیر میں بلند و باگ جھوٹے دعووں کے سنہری جال پھینکنے میں مصروف تو دوسری طرف طویل لوڈشیڈنگ سے بے حال،پانی کی بوند بوند کو ترستا شہر قائد اور بھوک کے ہاتھوں دار فانی سے کوچ کرتے صحرا تھر کے نومولود بچے زرداری حکومت کے منہ پہ طمانچہ ہے ۔

    کچھ دن قبل سوشل میڈیا پہ بلاول بھٹوں یہ دعوای کرتے نظر آئے کہ کشمیر میں تیر چلے گا ، بلاول بھٹو اور ان کے جیالے شائد یہ بات فراموش کر چکے ہیں کہ بھٹو خاندان نے کشمیریوں کے حقوق خود داریت پر تیر تو اسی دن چلا دیا تھا جب راجیو گاندھی کی اسلام آباد تشریف آوری پر شاہرہ کشمیر کے بورڈز کو سفید کپڑے سے بھٹو خاندان کی ایما پہ ہی ڈھانپا گیا تھا ۔

    آج بلاول زرداری وزیر اعظم پاکستان پر کشمیر فروشی کا الزام لگاتا ہے تو انسانیت خون کہ آنسو روتی ہے ،تاریخ 27دسمبر 2007 کے وہ تاریک اوراق پلٹتی ہے جہاں بلاول کی والدہ ماجدہ محترمہ بینظیر بھٹو ایک انگریزی اخبار میں یہ شرمناک اقرار کرتی ہیں کہ انہوں نے سکھوں کی لسٹیں راجیو گاندھی تک پہنچاتے ہوئے اسکی مدد کی ۔

    کشمیری لاشوں پر جھوٹے وعدوں کی سیاست کرنے والی پیپلز پارٹی پہلے اپنے گزشتہ پچاس سالوں کی سیاست کا حساب دے کہ کھوکھلے دعووں،اور جھوٹے الزامات کے علاوہ انہوں نے کشمیر کیلیے کیا کیا؟کس پلیٹ فارم پر کشمیریوں کے حقوق کی بات کی ؟کشمیر کو چھوڑیں پیپلز پارٹی صرف سندھ کا حساب ہی نہی دے سکتی ۔وہ سندھ جہاں قتل و غارت ،راہ زنی اور عزت زنی عام ہیں ،جہاں عوامی سیاست کی بجائے نوٹوں کی اور ظلم و جبر کی سیاست ہے ۔وہ پیپلز پارٹی نے جس نے ثقاتی ورثہ کیلیے مشہور سندھ کو کچرا کنڈی اور گندے نالوں میں تبدیل کردیا ہے آج جنت نظیر وادی آزاد کشمیر میں جیت کے دعوے کر رہی ہے ۔ کشمیری عوام بھٹو کی آڑ لیے بلاول و زرداری کے گھناؤنے چہروں کو خوب پہچانتی ہے کہ جو سندھ کی عوام کیلیے کچھ نا کرسکے، جنہوں نے روشنیوں کے شہر ،شہر کراچی کو لوڈ شیڈنگ کی تاریکیوں میں دھکیل رکھا ہے وہ کشمیری عوام سے کیے وعدے کیا خاک پورے کریں گے ۔

    نعروں اور نوٹوں کی سیاست کرنے والے بلاول کشمیر میں حکومت کی بات کرتے سندھ کی بربادی کے سوال پہ آئیں ،بائیں ،شائیں کرتے نظر آتے ہیں ،گزشتہ تیرہ سالوں میں زرداری حکومت نے سندھی عوام کو مسائل کے انبار دیے ہیں ،لاچار سندھی عوام کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہی ،تھر میں ہزاروں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن امرا وقت کے کان پہ جوں نہی رینگتی ،آئے روز سیکڑوں لوگ ناقص نظام صحت اور علاج کے فقدان کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں ، پیپلز پارٹی نے بھٹو تو زندہ رکھا لیکن مظلوم عوام کو زندہ درگور کر دیاہے ،آوارہ کتوں کی بہتات اور انکا شکار بن کے ابدی نیند سوجانے والوں کی لاشوں پہ بین کرتی مائں بہنیں بھٹوں کے زندہ ہونے کا ماتم کرتی نظر آتی ہیں ۔

    سندھ کی حالت زار چیخ چیخ کر آزاد کشمیر کے باسیوں سے التجا کرتی ہے کہ ان کے دھوکے اور ہوائ وعدوں پہ یقین نا کرنا جو 50 سال سے کچھ نہی کر سکے وہ اب کیا کریں گے ۔کشمیری عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کے ،مریم ہو یا بلاول انکا مقصد صرف اور صرف زاتی مفادات اور اپنے اپنے ابا کی کرپشن اور لوٹ مار کو محفوظ کرنا ہے۔
    آزاد کشمیر کے باسیوں کی آخری امید عمران خا ن ہے۔

  • بیروزگاری اور ڈیجیٹل میڈیا سکلز . تحریر: حسنین احمد

    بیروزگاری اور ڈیجیٹل میڈیا سکلز . تحریر: حسنین احمد

    پاکستان کی کل ابادی کا ٪60 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔اتنی بڑی نوجوان ابادی کیلئے تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے مشکل کام ہے۔ اس ٪60 فیصد ابادی کا زیادہ حصہ متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں پر مشتمل ہے جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار تلاش کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔مگر حکومت وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کو روزگار فراہم نہیں کرسکتی جس کی وجہ سے زیادہ نوجوان بیروزگاری کا شکار ہوجاتے ہیں اور یو ملک میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔مگر اب ای-کامرس کے نام سے ایک نئی انڈسٹری ابھر رہی ہیں جس سے یہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کم کی جاسکتی ہیں۔ای-کامرس ایک اسی انڈسٹری ہے جس میں انلائن خرید وفروخت کی جاتی ہیں،مختلف چیزیں بیچی اور خریدی جاسکتی ہیں، مختلف فلیٹ فارمز جیسا کہ ایمازون،فے فال وغیرہ پر انلائن کاروبار شروع کیا جا سکتا ہیں اور گھر بیٹھے ہی ڈالر کما جا سکتے ہیں۔ ۔اس انڈسٹری میں فری لانسنگ کافی مقبول ہے۔بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص پاکستان میں کرونا کے بعد فری لانسنگ کی شرح میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔فری لانسرز گھر بیٹھے ہی لیپ ٹاپ کے زریعے کام کرکے پیسے کماتے ہیں۔فری لانسنگ کیلئے کسی ہنر جیسا کہ "ڈیجیٹل مارکیٹنگ،ویب ڈیزائننگ،گرافکس ڈیزائننگ،سوشل میڈیا ہینڈلنگ وغیرہ کا ہونا ضروری ہے۔کئی نجی ایسے فلیٹ فارمز موجود ہے جس سے اپ انلائن سکل یا ہنر سیکھ کر خود کفیل بن سکتے ہیں۔۔ہزاروں لوگ اس اندسٹری سے اپنی روزی روٹی کمارہے ہیں مگر پاکستان میں بہت کم لوگ اس انڈسٹری سے فائدہ اٹھارہے ہیں جس کی اصل وجہ اس بارے میں معلومات کا نہ ہونا ہے۔

    حکومت کو ای-کامرس بارے اگاہی پھیلانی چاہیے اور ایسے ادارے قائم کرنے چاہیے جس میں یہ چیزیں سکھائی جاتی ہو۔اس انڈسٹری کے بدولت نہ صرف بیروزگاری میں کمی لائی جاسکتی ہیں بلکہ ملک میں غربت کی شرح میں بھی کمی لائی جاسکتی ہیں اور ملک کی 60 فیصد نوجوان ابادی ملک کی تعمیر وترقی میں کردار کی قابل ہوسکتی ہیں۔

    @Itx__Hasnain