Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں تحریر: شعیب

    اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں تحریر: شعیب

    دوست کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ حرف حرف رٹ کر بھی آگاہی نہیں ملتی آگ نام رکھ لینے سے روشنی نہیں ملتی آدمی سے انسان تک آؤ گے تو سمجھو گے کہ کیوں چراغ کے نیچے روشنی نہیں ملتی اور کہتے ہیں کسی نے سو سالہ بزرگ سے پوچھا زندگی میں خوشی کو کیسے پایا جائے تو اس بزرگ نے بہت ہی پیارا جواب دیا جتنا پاس ہے اسے کم دکھاوا کرو اور جتنا جانتے ہو اسے کب بولا کرو زندگی ہنسی خوشی گزر جائے گی آج کے دور میں تو لوگ ہر ایپ کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں مگر کبھی کوئی اپڈیٹ کرنے کی بات کرتا ہے تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور یہی اس دنیا کی کڑوی سچائی ہے

    لوگ بڑی سوچ سوچنے والوں کی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑانے لگ جاتے ہیں اس لئے تو بڑا سوچنے والے ہی بڑا کر کے جاتے ہیں جبکہ چھوٹی سوچ رکھنے والے صرف مذاق بناتے ہی رہ جاتے ہیں آج سے چالیس سال پہلے اگر کوئی سمارٹ فون کی بات کرتا تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی ڈیوائس ٹچ کرنے سے چلی تصویر بھی کیپچر کریں کال بھی کروائے ایس ایم ایس بھی بھجوائے ویڈیو بھی دکھائے اور ویڈیو کال بھی کروائیں پوری دنیا میں سے کہیں سے بھی انفارمیشن اکٹھی کرکے آپ تک پہنچ جائے ایسا ناممکن ہے مگر آج سب کچھ آپ کے سامنے ہے لوگوں نے جتنا کہا کہ نہیں ہوسکتا اتنی بار بڑے لوگوں نے وہ کر کے دکھایا اس لئے ایک بات ذہن میں باندھ لیں اس دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اور کہتے ہیں اللہ نے انسان کو رنگنے کے لئے نہیں بلکہ ایک باعزت باوقار زندگی گزارنے کے لیے پیدا کیا ہے اس لئے خود کو عزت دو محنت کرو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے وقت دو خود کی عزت کرو کیوں کہ جب تک آپ خود کی عزت نہیں کریں گے تو کوئی بھی آپ کی عزت نہیں کرے گا اپنے دماغ میں منفی خیالات کی بجائے مثبت خیالات کو جگا دو اپنے مقصد کو وقت دو اور خود کو قبول کرو آپ کے ذہن میں آپ کا ایک خوبصورت اور من پسند سیلف امیج ہونا چاہیے یاد رکھیں کہ کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا انسان نے ہمیشہ مزید کچھ سیکھنے مزید اچھی کارکردگی دکھانے کی گنجائش
    @Shabi_223

  • عیدِ قربانی اور اس سے جڑی معیشت تحریر: حسان خان

    عیدِ قربانی اور اس سے جڑی معیشت تحریر: حسان خان

    ہر سال کی طرح اس سال بھی جوں جوں عید الاضحی کے دن نزدیک آ رہے ہیں شہر شہر نگر نگر مویشی منڈیاں سج رہی ہیں بھاو طے پا رہے ہیں جانوروں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کے اس عظیم تہوار پر اکثر مغرب میں ‘جانوروں کے حقوق’ کے نام پر تنقید ہوتی رہتی ہے تو آج ہم مذہبی تقاضوں سےہٹ کر معاشی پہلو سے عید الضحی کی اہمیت کا جائزہ لینگے اور جانوروںکے حقوق کے نام پر مغرب کی منافقت کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کرینگے
    دنیا کے ہر خطے میں مسلمان پائے جاتے ہیں اور ان تمام خطے میں مسلمانوں سے زیادہ غیرمسلم عیدِ قربانی اور اس سے منسلک کاروبار سے منسوب ہیں۔ عید قربانی پر تقریباً تمام مسلمانوں تک گوشت ضرور پہنچتا ہے جس سے انکی پروٹین کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ عید پر ناں صرف تمام آبادی تک گوشت پہنچانے کا زریعہ ہے بلکہ اس سے منسلک ہزاروں کاروبار سےلاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے جس سے دنیا کی معیشت میں اربوں ڈالرز کا اضافہ ہوتا ہے۔چمڑہ جو برآمدات میں بہت اہم مقام رکھتا ہے برینڈڈ پرس ، جیکٹس اور جوتوں سمیت بہت سی قیمتی چیزیں اس سے بنتی ہیں۔ چمڑے کی صنعت کا دارومدار عیدِ قربانی پر پیدا ہونے والی کھالوں پر ہوتا ہے سینکڑوں کارخانوں میں لاکھوں جانوروں کی کھالیں لائی جاتی ہیں جن پر لاکھوں مزدور کام کرتے ہیں اور انکے سارے خاندان کی روزی روٹی چلتی ہے۔ عید قرباں سے اور کیا کیا کاروبار چلتے ہیں اور کیسے لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آتی ہے اسکی مثال ہم اپنے ملک پاکستان سے لے لیتے ہیں۔ اقتصادی شماریے پاکستان کے مطابق سال 2016 میں پاکستان میں عید قربانی کے موقع پر 3.5 ارب ڈالر کا کاروبار ہوا جس میں مویشی کی خرید و فروخت میں 2.8 ارب ڈالر خرچ ہوئے جبکہ کپڑوں، جوتوں اور دیگر مصارف میں 700 ملین ڈالر کا لین دین ہوا۔ دیہاتوں میں لوگ سارا سال مویشی پالتے ہیں اور عید کے موقع پر اربوں ڈالر صاحب استطاعت مسلمانوں کی جیب سے نکل کر موشی پالنے والوں کی جیب میں آ جاتے ہیں جس سے ان لوگوں کا سارا سال کا خرچ نکل آتا ہے جبکہ 9 کروڑ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کیے گئے
    امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ہر سال عیدِ قربانی کا حجم تقریباً 400 ارب ڈالر ہے دنیا کی معیشت میں 400 ارب ڈالر عید کے تین دنوں میں ڈالے جاتے ہیں جبکہ اس تمام کاروبار میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں کا حصہ ہوتا ہے اور انکو فائدہ پہنچتا ہے.
    یہ تو ہو گئے عید الضحی کے اقتصادی پہلو اور اس سے ساری دنیا کو ہونے والے فائدے کی داستان اب ہم آتے ہیں عید الضحی کے خلاف بولنے والے مغرب کی منافقت پر۔۔
    ویسے تو سارا سال ہی مگر خاص طور پر عید کے قریبی دنوں میں جانوروں کے حقوق کی علمبردار کئی نام نہاد تنظمیں قربانی کو ظالمانہ اقدام کہہ کر اسکی مزمت کر رہی ہوتی ہیں اور عید الضحی پر پابندی کا مطالبہ ہر رہی ہوتی ہیں ان تمام تنظیموں سے میرا سوال ہے آپکو میکڈونلڈز کا روزانہ 300 جانور ذبح کرنا نظر نہیں آتا ؟ کے ایف سی سالانہ 75 کروڑ مرغیوں کو ظالمانہ طریقے سے مارتی ہے آپکو وہ نظر نہیں آتا ؟ سپین میں کھیل کے نام پر سالانہ ہزاروں بیلوں کو ظالمانہ طریقے سے قتل کیا جاتا ہے لاکھوں لوگ ان مناظر کو دیکھ کر قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں اسی طرح نیپال میں بھی ہر پانچ سال بعد گدھیماں دیوی کیلئے لاکھوں جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کا ان سب پر واجبی سی تنقید کر کے جانوروں کے حقوق کے نام پر مسلمانوں کے عظیم تہوار پر حملہ آور ہو جانا کس طور پر قابل قبول نہیں

  • پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ مکمل کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز روانہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ مکمل کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز روانہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ مکمل کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز روانہ-

    باغی ٹی وی: قومی اسکواڈ مانچسٹر سے بذریعہ پرواز بارباڈوس کے لیے روانہ ہوئی تھی قومی اسکواڈ کی گزشتہ روز مانچسٹر میں کی گئی کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کے رزلٹ منفی آئے تھے-

    قومی اسکواڈ مقامی وقت کے مطابق آج سہ پہر تین بجے بارباڈوس پہنچے گا بارباڈوس پہنچنے پر اسکواڈ کی آرائیول ٹیسٹنگ کی جائے گی قومی اسکواڈ میں شامل تمام ارکان بارباڈوس میں ایک روز آئسولیشن میں رہے گا-

    کورونا ٹیسٹ کے رزلٹ منفی آنے پر کھلاڑی کل سے ٹریننگ سیشنز کا آغاز کریں گے۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 5 ٹی ٹوئنٹی اور 2 ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے، پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ 27 جولائی کو کھیلا جائے گا۔

  • سیاحت اور ہماری روایتی غیر ذمہ تحریر: زبیر احمد

    سیاحت اور ہماری روایتی غیر ذمہ تحریر: زبیر احمد

    پاکستان دنیا کے ان بابرکت ممالک میں شامل ہے جو قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہیں یا تو وہ چار خوشگوار موسم ہیں ، موسمی پھل جن کا ہم بے چینی سے انتظار کرتے ہیں یا وہ پہاڑ جو ہماری آنکھوں کو سکون دیتے ہیں۔
    پاکستان کے شمال میں واقع سب سے اہم وادیوں میں سے ایک مشہور گلگت بلتستان ہے جو چین ، ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ ایک سرحد ہے۔  قدرت نے پاکستان کے انتہائی شمال کو گلگت بلتستان سے نوازا ہے
    متنوع قدرتی خوبصورتی خطے کی خوبصورتی کی نشاندہی کرتی ہے۔  پرکشش مناظر ، سدا بہار جنگلات ، سرد صحرا ، برف پوش پہاڑ اور عظیم ثقافتی میراث سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
    ٹریکرز ، فطرت سے محبت کرنے والے اور کوہ پیما ہمیشہ پاکستان کے خوبصورت ورثے کا تصور کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر کریں اور اس کی خوبصورتی کو سراہیں۔
    یہاں سیاحوں کی تعداد میں ہرسال مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو اپنی فطرت کی دلکشی کو دیکھنے کی پیاس بجھانے کے لئے گلگت بلتستان کی طرف گامزن ہوتے ہیں
    سیاحت کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ صرف اس تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سے سماجی و معاشی طور پہ لوگوں کے طرز زندگی و بودوباش میں ارتقاء آتا ہے
    جب آپ کسی چیز کو پسند کرتے ہیں تو ضروری ہوتا ہے  اس کا خیال رکھنا آپ کا فرض بن جاتا ہے لیکن سیاحوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ہےجب سیاح شمالی علاقوں کا رخ کرتے تو یہاں کے مسحور کن قدرتی مناظر سے لطف اندوز تو ضرور ہوتے ہیں لیکن اس سیرو تفریح کے دوران فالتو اشیاء، کوڑا کرکٹ، فضلہ انتہائی غیرذمہ داری سے پھینک آتے ہیں
    سیاحت کا موسم ختم ہونے کے فوری بعد ان خوبصورت وادیوں میں پلاسٹک کے تھیلے اور ڈسپوز ایبل سامان سمیت ہر طرح کا کوڑا پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ وادیاں جو کہ فطرتی خوبصورتی کا مظہر ہوتی ہیں غیرذمہ دارانہ رویے کے باعث آلودگی کا شکار ہیں
    سوشل اور پرنٹ میڈیا پاکستان کے خوبصورتی سیاحتی مقامات کی بدترین آلودہ صورتحال کے بارے میں لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے
    سیاحوں کو اس بارے میں بریفنگ دینے کا انتظام کرنا چاہیے کیونکہ یہ علاقے تب تک ہی خوبصورت نظر آئیں گے جب تک ہم ان کو اپنے گھر کی طرح صاف ستھرا رکھیں گے اور انکو صاف رکھنے کا احساس رکھیں گے۔ حکومت کو یہ بھی کوشش کرنی چاہئے کہ سیاحت کو جنگلوں، جھیلوں اور گلیشئر سے دور رکھیں تاکہ یہ تباہ کن سرگرمیوں سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے ہمارا پاکستان انتہائی خوبصورت یے اور  پاکستانی ہونے پہ ہم سب کو فخر ہے اور بے شک یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آلودگی سے اپنے ملک کو محفوظ رکھیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھیں
    (twitter @KharnalZ) 

  • چین کے معاملات پر شور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟    روسی میڈیا نے سوال اٹھا دیا

    چین کے معاملات پر شور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟ روسی میڈیا نے سوال اٹھا دیا

    روسی میڈیا نے سوالات اٹھا ئے ہیں کہ چین کے معاملات پرشور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے؟

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سوفٹ ویئر کمپنی این ایس او گروپ کی جانب سے بنائی گئی خفیہ ٹیکنالوجی پیگاسس کے ذریعے حکومتوں نے دنیا بھر میں صحافیوں، سیاستدانوں اور اہم شخصیات کے فون ٹیپ کیےجس پر پوری دنیا مشتعل ہے۔ تاہم ، اس دعوے کے مقابلے میں اسرائیلی معاملے پر غصہ اس قدر نہیں جتنا چین کی جانب سے ہواوے (Huawei) کمپنی سے اس مطالبہ پر سامنے آیا تھا کہ وہ فون میں بیک ڈور رکھے جو کبھی ثابت نہیں ہوا۔

    اس ہفتے کے شروع میں ، واشنگٹن پوسٹ اور ممنوعہ کہانیاں بشمول انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ مل کر ، خبر رساں اداروں کے ایک گروپ نے پریشان کن نتائج کا انکشاف کیا پوری دنیا کی حکومتیں این ایس او گروپ سے پیگاسس سپائی ویئر خرید رہی ہیں اور اسے صحافیوں کی جاسوسی کے لئے استعمال کررہی ہیں ، عوامی شخصیات ، اور یہاں تک کہ دوسرے عالمی رہنما بھی۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    واضح رہے کہ موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔

    پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔

    آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔

    ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔

  • پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر – بقلم: آصف گوہر

    پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر – بقلم: آصف گوہر

    پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر
    بقلم: آصف گوہر

    "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔ ”
    (صحیح بخاری 48)
    گالی گلوچ کو کسی بھی مہذب معاشرے میں پذیرائی حاصل نہیں ہوتی ۔بلکہ بدزبانی کرنے والوں سے لوگ کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں لیکن گذشتہ چند سالوں سے ہمارے سیاست دانوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گالیوں کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جلسوں میں سیاسی مخالفین کو یہودی ایجنٹ اور یہودی کے بچے تک کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا یہودی خود ورطہ حیرت میں ہونگے کہ پاکستانی اپنی سیاست میں ہماری مشہوری کیوں کر رہے ہیں۔ افسوس کا مقام کا ہمارا میڈیا گالیاں دینے والے سیاستدانوں کی پذیرائی کرتا ہے جتنی زیادہ کوئی سیاستدان گالیاں دیتا ہے اتنا ہی اس کو رات 8بجے سے 11 بجے تک پرائم ٹائم میں میڈیا ٹاک شوز میں مدعو کرکے اس بدزبان شخص کو قوم کے سامنے لا کر بٹھایا جاتا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ میں خواتین کو گالیاں دی جاتیں ہیں ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا ہے فحش جملہ بازی کا تبادلہ ہوتا ہے۔ سیاستدان باقاعدہ مرغوں کی طرح ایک دوسرے پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
    کل سے سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کے خودساختہ جلاوطن رہنما عابد شیرعلی کا لندن کے ایک ریسٹورانٹ میں گالم گلوچ پر مبنی ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے۔ کوئی شریف آدمی اس کو سن نہیں سکتا۔ موصوف بھرے ہوئے ہوٹل میں کسی کو ننگی گالیاں دے رہے تھے۔ اس ہوٹل میں خواتین اور بچے بھی کھانا کھانے آئے ہوئے تھے اور عید الضحٰی ہونے کی وجہ سے دیگر مسلم ممالک کے شہری بھی اسی ہوٹل میں موجود تھے اور ایک خاتون باقاعدہ کہتی سنی گئیں کہ آپ لوگ عید کے روز جھگڑا کررہے ہیں ۔ اس طرح کے لوگ پاکستان میں بھی ناپسندیدہ تھے اور بیرون ملک بھی پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔
    شیخ روحیل اصغر اپنی گالیوں کو پنجابی زبان اور کلچر قرار دیتے رہے پیپلزپارٹی کے ایک رکن اسمبلی فردوس عاشق اعوان کو ٹی وی ٹاک شو میں لائیو گالیاں دیتے رہے اور شو کا میزبان دور کھڑےہو کر دانت نکالتا رہا ۔
    جب تک ہمارا میڈیا مادر پدر آزاد گالم گلوچ کرنے والوں کو پرموٹ کرتا رہے گا معاشرے میں بدزبانی کے کلچر کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔
    ہمارے میڈیا ہاوسز ریٹینگ کے چکر میں نورا کشتی ٹاک شوز کے ذریعے بدزبانی کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔
    پیمرا کو آگے آنا چاہیے اور اس کو رکوانا چاہیئے اور بدزبان گالیاں دینے والوں پر قومی میڈیا پر آنے کی پابندی ہونی چاہئے ۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ @Educarepak

  • دانت اوورل کویٹی اور اسکی حفاظت(1) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت اوورل کویٹی اور اسکی حفاظت(1) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر ھینڈل : @nabthedentist

    اللہ نے انسان کو اسکے جسم کو اسکی ھر ایک سانس کو قیمتی بنایا ھے اسکی حفاظت کرنا اسکا خیال رکھنا انسان پر ویسے ھی فرض ھے جیسے انسان کے لئے اعمال صالحہ کرنا انسان کا جسم اللہ کی امانت ھے اللہ خوبصورتی جمال اور طہارت کو پسند کرتا ھے اور صفائ رکھنے والے انسانوں کو اپنا محبوب رکھتا
    جسم کے تمام حصوں کی اپنی اہمیت ایسے ھی دانتوں کی بھی اہمیت ھے انکو روزانہ کم از کم دو بار صاف رکھنا ایک صبح ناشتے کیبعد ایک رات سونے سے پہلے انتہائ ضروری ھے انسان کے منہ میں زندگی میں دو بار دانت آتے پہلی بار 20 اور اگلی بار 32 پہلی بار جب دانت نکلتے تو ھم انکو دودھ کے دانت کہتے یہ چھوٹے جبڑے کے عین مطابق چھوٹے ھوتے اور پھر ابھی یہ موجود ھی ھوتے تو پیچھے پکی ڈارھیں نکلنا شروع ھوجاتی 13 سال کی عمر میں قریبی سارے پکے دانت نکل آتے سب سے آخری ڈارھ جسکو ھم عقل ڈارھ بھی کہتے وہ عموما جوانی میں نکلتی کئیوں کی یہ نکلتی بھی نھیں اور کئ کی خراب نکلتی اور پھر سرجری کرکے نکلوانی پڑھتی

    بطور ڈینٹل سرجن اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں پیدائش سے لیکر دانتوں کی مکمل عمر پہنچ جانے کے مراحل انکے مسائل اور ان سے جڑے مسئلوں کے حل پر ایک سیرپا گفتگو کرونگا جسکا مقصد لوگوں میں علم شعور پہنچانے کی اپنے تئیں کوشش ھوسکے کہ دانتوں کی کونسی بیماریاں ھیں انکا حل کیا ھے کب مریض کو ڈینٹسٹ پاس جانا چاہئے اور گھر پر ایسا کیا کریں کہ یہ مسئلے دوبارہ سر نا اٹھا پائیں
    بچوں میں جیسا کہ میں نے بتایا بچپن میں 20 دانت نکلتے دس اوپر والے جبڑے اور دس نیچے والوں میں تو 5 سال کی عمر سے لیکر 12 سال کی عمر ایسی ھوتی ھے جس میں زیادہ تر بچے دانتوں میں کیڑا لگنے کی شکایت کیساتھ ڈینٹسٹ کے پاس جاتے ھیں درحقیقت دانت بچپن سے خراب جورے تھے اثرات اس عمر میں آتے بچوں کے دانتوں کا سب سے بڑا دشمن فیڈر ھے اگر میرا بس چلے تو مارکیٹ میں جتنی کمپنیز ھیں انکے فیڈرز کو آگ سے جلادوں یہی بچوں میں rampant caries نامی بیماری پیدا کرتے یہی دانت ٹیرے کرنے میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتے بچوں کونتکالیف درد جن کیسز میں آتا ان میں 90 فیصد فیدر استعمال کرتے بچے ھی ھوتے دوسری غلطی بچوں کے مناسب دانت صفائ نا کرنا انکو دانت صاف کرنے کا سلیقہ طریقہ نا سکھانا ھے اور جو دانت صاف کر رھے ھوں بچے انکو ھائ فلورایئڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کروانا ھے

    بچوں کا بچوں والا ٹوتھ پیسٹ دیں ٹوتھ برش دیں اور دانت دو بار صاف نھین کروانے بلکہ ھر بار جب وہ کچھ میٹھا کھائیں یا باھر کا۔کچھ کھائیں تب صاف کروانے ھیں
    بچہ 11 سال کا جب ھوجاتا یا اسکے canine جو نوکیلے دانت ھوتے وہ نکل آئیں تو اسوقت اگر آپکو لگے کے بچے کے دانت ٹیڑھے ھیں تو آپ ڈینٹل سرجن پاس جائیں ایک اچھا ڈینٹسٹ ایک اچھا صاف ستھرا کلینک اور ایک اچھی ٹریٹمنٹ بچوں کیلئے ھمیشہ ترجیحی بنیاد پر ھونے چاہئے

  • دولے شاہ کے چوہے. تحریر: راحیلہ عقیل

    دولے شاہ کے چوہے. تحریر: راحیلہ عقیل

    سید کبیرالدین شاہ کا مزار گجرات شہر کے درمیان میں واقع ہے اس کی وجہ شہرت اس مزار پر پائے جانے والے چھوٹے سروں کے معصوم اور انتہائی مظلوم بچے بڑے ہیں آخر کیا وجہ ہے کیوں ہیں یہ بچے ایسے ؟

    کہا جاتا ہے جو تحقیق سے ثابت بھی ہوا ہے کہ جو جوڑے اولاد کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس مزار پر آکر منت مانتے ہیں کہ انکے گھر جو پہلی اولاد پیدا ہوگئی چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی اس کو مزار پر دیا جائے گا کون سی ماں ایسی ہوگئی جو اپنی پیٹ سے جنمی اولاد کو ایسی جگہ چھوڑ آئے جہاں ہر طرف مظلوم دکھائی دیتے ہوں ” لیکن کہا جاتا ہے کے جس نے منت پوری نا کی انکی دوسری تیسری اولادیں بھی چھوٹے سر والے شاہ دولے کے چوہے پیدا ہونگے حالانکہ بہت سے منتی بچوں کے سر نارمل بچوں جیسے تھے وہ کہیں سے چوہے نہیں لگتے تھے پھر بھی دل پر پھتر رکھ کر والدین کو اپنی اولاد مزار کے کرتا دھرتاوں کے حوالے کرنی پڑتی،دوسرا تاثر یہ ہے کہ یہ بچے بالکل نارمل ہوتے ہیں بھکاری مافیا ان بچوں کو اغوا کرتا ہے بچپن میں ہی ان بچوں کے سروں پر لوہے کے کنٹوپ یا آہنی پتریاں لگا کر رکھا جاتا ہے تاکہ ان کے سر چھوٹے رہ جائیں اور ان کی ذہنی نشوونما نہ ہوسکے تاکہ انہیں درگاہوں پر اور بازاروں میں دولے شاہ کے چوہے کے طور پر پیش کرکے بھیک منگوائی جائے، اکثر والدین اولاد کی ممتا میں مجبور ہوکر مزار کا رخ کرتے ہیں کے اپنی اولاد کو دیکھ سکیں مگر وہاں وہ بچے دوبارہ دکھائی نہیں دیتے سالوں بعد نظر ابھی جائیں تو پہچان میں نہیں آتے،

    امریکہ کے نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹیٹیوٹ (NHCRI) نے چند سال پہلے اس معاملے پر تحقیق کی تھی اور اس تحقیق میں ان 33 پاکستانی گھرانوں کو بھی شامل کیا اکثر ماہرین کو کہنا ہے خاندان میں شادیاں کرنے سے ایسے بچے پیدا ہوسکتے ہیں مگر ابھی تک اس پر مکمل اتفاق نہیں ہوا، شاہ دولے کے چوہے تو ذہنی نشوونما رک جانے پر اپنا صحیح غلط پہچان نہیں پاتے مگر کیا آپ نے سوچا ہے کتنی سیاسی جماعتیں ہیں جو عوام کو اپنے مفاد کے لیے انکے ذہنوں کو خراب کرکے اپنے حساب سے چلا رہے کوئی کارکن اپنے لیڈر کے خلاف درست بات بھی سنا برداشت نہیں کرتا، مذہبی جماعتیں ہوں یا ملک دشمن ذہنوں پر ایسی کنٹوپ لگائی ہوئی ہے کہ مرنے مارنے کو تیار رہتے ہیں ایک آواز پر دنگے فساد جلاؤ گھیراؤ یہ ہیں اصل ذہنی بیمار لوگ جنکو صحیح غلط دکھائی نہیں دیتا شاہ دولے کے چوہے نا صحیح ایسے لوگ اپنی نسلوں کو بھی غلامی کی زنجیر پہنا کر چلے جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ہم پڑھے لکھے باشعور لوگ ہیں

  • باغی ٹی وی کو اپنی تحریریں بھیجنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں

    باغی ٹی وی کو اپنی تحریریں بھیجنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں

    باغی ٹی وی کو اپنی تحریریں بھیجنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں

    باغی ٹی وی بلاگز میں کیسے لکھا جائے؟
    اگر آپ باغی ٹی وی کے بلاگز میں اپنے مضامین، بلاگز اور کالمز بھیجنے کے خواہش مند ہیں تو آپ کو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا پڑے

    بلاگ آپ کی ذاتی تخلیق ہونہ کہ کسی کا نقل شدہ ہو.وہی بلاگ شائع ہوسکے گا جو صرف باغی ٹی وی کو ہی ارسال کیا گیا ہو، اگر آپ کی تحریر پہلے کہیں اور شائع ہو چکی ہے تو وہ باغی ٹی وی پر شائع نہیں کیا جائے گی

    بلاگ کے متن میں انگریزی الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا جائے. بلاگ کی زبان عام فہم اور سلیس ہونی چاہیے بلاگ لکھنے کے بعد اس کو ایک یا دو دفعہ خود پڑھ لیں تاکہ ممکنہ غلطیوں کو دور کیا جاسکے. اسلام، نظریہ پاکستان، افواج پاکستان، اقلیتیوں کے خلاف اور فرقہ وارانہ مواد نہیں ہونا چاہیے

    بلاگ کی طوالت 600 سے 1200 الفاظ کے درمیان ہونی چاہیے. مدیر کسی بھی بلاگ میں سے غیراخلاقی مواد کو حذف کرنے، ٹائٹل تبدیل کرنے اور متن میں تبدیلی کرنے کا اختیار رکھتا ہے.

    باغی ٹی وی بلاگز آپ کو موقع دیتا ہے کہ آپ اپنے بلاگز، مضامین اور کالمز باغی ٹی وی بلاگز کو بھیجیں. باغی ٹی وی بلاگز ان کو اپنی ویب سائٹ پر نمایاں جگہ دے گا اور آپ کے بلاگز کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر بھی کرے گا

    نوٹ، سب سے اہم، بلاگ بھیجنے کے بعد شائع ہونے کے لئے باری کا انتظار کریں، سب شائع ہوں گے،بلاگ ای میل کریں

    mumtaz@baaghitv.com

    بلاگ کا ٹائٹل بھی لکھیں، اپنا نام اور ٹویٹر آئی ڈی آخر میں لکھیں،

    اگر تین روز میں تحریر شائع نہ ہو تو واٹس اایپ پر میسج کر کے پوچھ سکتے ہیں، بار بار میسج کرنیوالوں کو کوئی جواب نہیں دیا جائے گا واٹس ایپ نمبر 03349755107

    کاپی پیسٹ تحریریں کسی صورت شائع نہیں کی جائیں گی،تحریر بھیجنے کے بعد اپنی باری کا انتظار کریں،اہم نوٹ، اگر کسی کی مسلسل تین تحریروں میں سے کاپی پیسٹ نکلا تو اسکو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا

    اوتھر پروفائل .. نہیں بنا ئی جا رہی اور جن کی بنی ہوئی ہے ان میں سے کسی نے مستقل ایک ماہ تک کوئی تحریر نہ بھیجی تو اسکی پروفائل ختم کر دی جائے گی

    تحریر کی اشاعت کے لئے شناختی کارڈ کی کاپی فرنٹ اور بیک لازمی ہمراہ بھیجیں، بغیر شناختی کارڈ کے کوئی تحریر شائع نہیں کی جائے گی

    ممتاز اعوان
    ایڈیٹر باغی ٹی وی اردو
    03349755107 واٹس ایپ نمبر

  • بغاوت کرو اس معاشرے کے خلاف !  تحریر: حسن ریاض آہیر

    بغاوت کرو اس معاشرے کے خلاف ! تحریر: حسن ریاض آہیر

    کبھی کبھی بغاوت بھی کرنی چاہیے، جو بغاوت کسی اچھے مقصد کے لیے کی جائے وہ غداری نہیں ہوتی۔ بغاوت کرنا بھی ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ باغیوں کو نظام اور معاشرہ کبھی قبول نہیں کرتا۔

    ذرا غور کریں ان باتوں پر !

    ہمارے معاشرے میں اگر عورت پر کوئی جھوٹا الزام لگا دیا جائے تو اس کو وہ ثابت کرتے اپنے کردار پر کئی دھبے لگا بیٹھے گی اور مرد جھوٹ ہی کیوں نا بولے عورت کی بانسبت اس پر زیادہ یقین کر لیا جاتا ہے۔
    آخر کیوں ؟
    کیوں ایسا ہے کہ مرد موبائل استعمال کریں تو عام بات ہے اور عورت کریں تو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟

    کیوں ایسا ہے کہ جائیداد ہمیشہ مرد یعنی بھائیوں میں تقسیم ہو گی اور بہن کا وراثت میں بھی کوئی حق نہیں ؟
    کیوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی جاتی ہے اور بیٹیوں کو مخصوص تعلیم دلوا کر انہیں گھر بٹھا لیا جاتا ہے ؟
    کہ یہ پڑھ کہ کیا کریں گی اس نے تو ویسے بھی اگلے گھر جانا ہے۔
    ہم مسلمان ہیں بےشک ہمیں کبھی وہ حد پار نا کرنی اور نا کرنے دینی ہے جو اسلام نے مقرر کی ہے۔ لیکن جو تم اس خود ساختہ نظام اور معاشرے کی گھٹیا سوچ کی زنجیروں میں جکڑ چکے ہو اس سے باہر نکلو اور عورت کو بھی کھلی فضا میں جینے کا حق دو وہ بھی انسان ہے۔ اس کو پابندیوں کی ایسی زنجیروں میں نا جکڑ ڈالو کے سانس لینا بھی محال ہو جائے۔
    یہ نظام کب بدلے گا ؟
    جب ہم بدلیں گے تب بدلے گا !
    @HRA_07