Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قربانی کا جانور اور اس سے متعلق ہمارے رویوں پہ چند باتیں  تحریر: فہد علی

    قربانی کا جانور اور اس سے متعلق ہمارے رویوں پہ چند باتیں تحریر: فہد علی

    1) سب سے پہلے تو قربانی دینے والے انسان کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کس کیلئے دینے لگا ہے، اس کا مقصد پیدا کرنے والی کی یا دنیا داروں کی رضا حاصل کرنا ہے؟ 2) دوسری بات جو اکثر لوگوں کو معلوم ہے کہ جس رقم سے قربانی خریدی گئی وہ حلال بھی ہے یا نہیں؟

    حلال یا حرام رقم ہونے کی بات تو اکثر لوگ کرتے ہیں لیکن بہت کم غور و فکر کرتے ہونگے، اگر دوسری طرف دیکھیں کہ 3) جب قربانی خرید لی جاتی ہے تو جانور پہ نکتہ چینی و عیب جوئی کے تیر برسنا شروع ہوجاتے ہیں، مالک نے جانور اپنی پسند کا خریدا ہوتا ہے لیکن لوگ عیب جوئی کرتے ہوئے اس کا دل جانور کیلئے کھٹا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

    4) کوئی کہتا ہے مہنگا خرید لیا، اس کی ٹانگ ٹھیک نہیں، سینگ خراب ہیں وغیرہ وغیرہ، اگر تو کوئی عیب واقعی نظر آئے تو ٹھیک ہے اسے بتانا کوئی برائی نہیں لیکن جان بوجھ کر کیڑے نکالنا نہایت غلط عمل ہے۔ 5) کچھ لوگ جتنے کا جانور خریدتے ہیں جان بوجھ کر اس سے کم قیمت بتاتے ہیں تاکہ لوگ کہیں کہ بہت اچھی قیمت پہ خرید لیا ہے تمہاری تو عید سے پہلے عید ہوگئی حالانکہ وہ انسان جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے اور ایسے جھوٹ پہ اللہ کی پکڑ سخت ہے جو جان بوجھ کر بولا جائے اور 6) قربانی کے جانور پہ جھوٹ بولنے سے اللہ قبول کرے گا یا نہیں یہ بھی سوچنا چاہیے

    7) ایک مسلمان جو پہلے زیادہ رقم کی قربانی خریدتا تھا اگر اب کی بار حالات سازگار نہیں رہے اور اس نے سابقہ قربانی کے مقابلہ میں آدھی قیمت والا جانور خریدا ہے تو پہلے تو وہ لوگوں کی باتیں سوچ سوچ کر پریشان ہوگا کہ لوگ اس کے جانور کا مزاح بنائیں گے کہ اس سے چھوٹا جانور نہیں تھا ملا؟ کوئی مرغی ہی خرید لیتے، اس کے بچوں سے طنزیہ کہیں گے کہ وہ چھوٹا سا اور کمزور سا جانور آپ کا ہے؟ اور لوگ غربت کے طعنے دیں گے کہ بس اتنی دیر ہی بڑی قربانی کرنی تھی شوق پورا ہوگیا ہے کیا، فلاں فلاں۔

    8) جس مسلمان نے اللہ کی دی ہوئی طاقت کے مطابق چاہے چھوٹا جانور خریدا ہے یا بڑا اس سے حسد کرنے اور بلاوجہ عیب جوئی کرنے کی بجائے مبارکباد دیں، خوشی کا اظہار کریں کیونکہ قربانی نیت کی ہوتی ہے اور جس ذات کی راہ میں دینی ہے اس نے نیت دیکھنی ہے یہ نہیں دیکھنا کہ کس کا جانور بڑا ہے اور کس کا چھوٹا ہے

    قربانی کے جانور کو لے کر دوسرے مسلمان بھائی یا جانور کا مزاح بنانے اور بلاوجہ عیب جوئی کرنے سے اللہ نہ کرے اپنی قربانی کا ثواب بھی خطرہ میں پڑسکتا ہے لہذا ہمیں توبہ کرنی چاہیے کہ آئندہ کوئی بھی ایسا عمل نہیں کریں گے جس سے دوسروں کی دل آزاری اور اللہ کی ذات ناراضی ہو، پروردگار سب کی قربانی قبول فرمائے، آمین

    Twitter handle @amfahadali1

  • گلگت بلتستان کی جنت نظیر وادیاں  تحریر : محمد جاوید

    گلگت بلتستان کی جنت نظیر وادیاں تحریر : محمد جاوید

    :
    گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ایک ایسی جگہ ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقام کی خاص بات یہاں کے دلکش و دلفریب مناظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔
    پاکستان کے شمال میں واقع کوہ قراقرم،ہندوکش اورہمالیہ دیگر پہاڑی سلسلوں کے دلکش قدرتی حصار میں موجود خوب صورت اوردلکش وادیوں پرمشتمل علاقہ گلگت بلتستان کہلاتاہےجسے پہلے شمالی علاقہ جات کے نام سے جاناجاتاتھا ۔ گلگت بلتستان بنیادی طور پر دو بڑے  حصوں پر مشتمل ہے۔ایک حصہ” بلتستان “کہلاتا ہے جبکہ دوسرا” گلگت” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
    گلگت بلتستان میں دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو اور قاتل پہاڑ کے نام سے جانے جانے والا نانگا پربت بھی گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان کے کل 14 اضلاع ہیں۔ سیاحتی مقامات کی اگر ہم بات کریں تو یہاں درجنوں ایسی جگہیں موجود ہیں جو اپنی خوبصورتی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان مقامات کی سیر و سیاحت کیلئے آتے ہیں۔ یہاں کے مشہور سیاحتی مقامات میں فیری میڈوس، دیوسائی، راما، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد جھیل، شنگریلا، خلتی جھیل، پھنڈر شندور، ہنزہ بلتت اور التت فورٹ، سکردو میں شگر فورٹ اور گانچھے فورٹ، خپلو میں ہزار سال قدیم مسجد چقچن اور نلتر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام سیاحتی مقامات ایک سے بڑھ کرایک ہیں۔ موسم گرما کے شروع ہوتے ہی پاکستان کے مختلف شہروں سے اور دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
    اگر آپ ایک پلان کے تحت اپنا پروگرام مرتب کرتے ہیں تو کم بجٹ اور کم وقت میں پورا گلگت بلتستان کو دیکھ سکتے ہیں
    اسلام آباد سے بائی ایئر سکردو جانے کی صورت میں آپ کو یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ سکردو میں تفصیلی وزٹ کے بعد، آپ دیوسائی روٹ سے گلگت ڈویژن کے بھی تمام خوبصورت مقامات پر جا سکتے ہیں۔
    سکردو میں لینڈ کرنے کے بعد 4 سے 5 دن سکردو(شگر، کھرمنک،گانچھے) کے تمام حسین ٹورسٹ سپوٹ دیکھنے کے بعد دیوسائی(Roof of the world) روٹ سے استور چلا جائے۔استور میں یکدم ہونے کے بعد آپ گلگت ڈویژن کے کسی بھی خوبصورت مقامات کا رخ کرسکتے ،جیسے ہنزہ ،نلتر، نگر وغیرہ۔اور اس کے بعد آپ گلگت  بلتستان کی جنت نظیر وادی غذر کو اپنا منزل بنائیں
    گلگت بلتستان کاضلع غذر صوبے کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ خوبصورت آبشاریں فلک بوس پہاڑ اور یہاں کی جھیلیں سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں اور غذر یہاں پر پانے جانے والے مختلف اقسام کے پھلوں کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے یہاں پر پائی جانے والی درجنوں اقسام کی چیری اس علاقے کی پہچان ہے۔ جبکہ باغبان حضرات کے باغات میں مختلف نسل کے خوبانی کے درخت ہیں اور یہ خوبانی ذائقے کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اس علاقے کو دیکھنے کے لئے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح یہاں کی خوبصورت وادیوں میں خیمہ زن ہوتے ہیں اگر آپ گلگت بلتستان آگئیے اور غذر کی خوبصورت ترین وادی پھنڈر زمین میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے اور اگر اسکو نہیں دیکھا تو آپ نے کچھ نہیں دیکھا زیر نظر تصویر بھی وادی پھنڈر کی ہے یہاں آنے والے سیاح اس خوبصورت وادی میں کئی کئی روز قیام کرتے ہیں۔ پھنڈر سے ہوتے ہوۓ آپ براستہ شندور چترال اور پھر پشاور سے ہوتے اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں

    @I_MJawed

  • کورونا ، حکومت اور تعلیم    تحریر :  صاحبزادہ برجیس احمد

    کورونا ، حکومت اور تعلیم تحریر : صاحبزادہ برجیس احمد

    کورونا وائرس نامی اس خطرناک جان لیوا عالمی وبا نے جہاں اقتصادی،معاشی اور سماجی مسائل پیدا کیئے ہیں وہیں اس وبا نے روزگار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے امور کو خاص طور پر تعلیمی شعبے کو زیادہ متاثر کیا ہے جو کہ ناقابل تلافی ہے
    اس وبا نے جہاں دیگر مسائل کو جنم دیا وہیں اس نے مملکت خداداد پاکستان میں شعبہ تعلیم کی خامیوں اور بےچیدہ کمزوریوں کو بھی پوری دنیا کے سامنے آشکارا کردیا
    پورے عالم کی کورونا سے بچاؤ کی روایات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے بھی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ کورونا سے بچاؤ میں قدرے بہتر ثابت ہوا لیکن اس لاک ڈاؤن سے طلباء وطالبات کے کیریئر career اور فیوچر future پر سنگین اثرات مرتب ہوئے کہیں پڑھائی آن لائن ہورہی تو کہیں پڑھائی کو سکول کالجوں میں طلباء کی تعداد کو نصف کرنے تک محدود رکھا گیا
    اگر بات کریں آن لائن تعلیم کی تو پاکستان میں آن لائن تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اس کی بڑی وجہ یا تو زیادہ تر لوگوں کے پاس سمارٹ فون / ڈیسک ٹاپ وغیرہ کی عدم دستیابی ہے یا پھر نیٹ ورک کے مسائل ہیں جس سےنا ہی اساتذہ اپنا لیکچر آگے پہنچاپاتے اور نہ ہی سٹوڈنٹ اس کو سن پاتے۔
    دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گھروں میں بیٹھے طلباء وطالبات دیگر شغلیات کے پاس رہ کر آن لائن تعلیم کی کلاسز میں دلچسپی نہ دینا ہے جبکہ ایک امر یہ بھی ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے یا پڑھنے والے طلباء وطالبات آن لائن تعلیم کے حصول اور استعمال سے بے خبر ہیں
    ان تمام وجوہات کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ پاکستان میں آن لائن تعلیم فلحال کیلئے سود مند نہیں ہے
    حکومت وقت کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ملک میں آن لائن کلاسز کا اجراء تو کیا لیکن اس کی خامیوں کو نہیں پرکھا جس سے یہ صورتحال بنی
    آئین پاکستان ہر شہری کو تعلیمی شعبے میں سہولیات کی ضمانت دیتا ہے اگر مختلف ناگزیر وجوہات سے تعلیمی شعبے کی بگڑی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس شعبے میں بہتری حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے

    ایک طرف کورونا کی صورتحال تو دوسری طرف خود کو مجبور کہنے والے طلباء جو کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھنے کے بجائے سڑکوں پر نعرے بازی کررہے ہیں اور اسی کو اپنی حق کی جنگ کرار دے رہے ہیں
    اب سوال یہ بنتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
    تعلیمی نقصانات کا ذمہ دار کون ہوگا ؟
    حکومت کی ناقص پالیسیاں ؟ طلباء کی ہٹ دھرمی ؟ یا پھر کورونا وائرس ؟
    اب ایک اور صدمہ یہ ہے کہ کورونا وائرس پھر سے سر اٹھا رہا ہے ماہرین صحت کے مطابق یہ چوتھی لہر پہلی تین لہروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور ان تعلیمات معاملات میں ایک بار پھر تعلیمی اداروں کی بندش کی طرف دیکھا جائے گا
    جس سے ” معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ” والی مثال ثابت ہوگی عالمی وبا کورونا وائرس نے نا صرف تعلیمی شعبے کو متاثر کیا بلکہ اس کے سنگین اثرات دفاتر ، کھیلوں کی جگہوں ، اور کاروباری مراکز پر بھی مرتب ہوئے جس سے پناہ خاندان بے روزگار ہوئے
    لیکن جو اثرات طلباء کی تعلیم پر پڑے وہ آنے والی کئی دہائیوں تک ہمارے ماتھے پر لگا نہ مٹھنے والا نشان ثابت ہوگا
    دن گزرنے کیساتھ ساتھ طلباء کی چینی اور بے سکونی کی کیفیت بڑھ رہی ہے یہاں تک کہ ان مسائل سے ڈپریشن کا شکار ہوکر کئی طلباء اپنے قیمتی جانوں کو ضائع کرچکے ہیں
    ہمیں معلوم نہیں کہ یہ معاملات کب درست سمت میں گامزن ہونگے
    بقول طلباء و والدین ” کورونا سے جو نقصان ہوا سو ہوا لیکن اب تو حکومت ان مسائل لی طرف توجہ دے ”
    اصل بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا جو نقصان تعلیم کا ہوا وہ تو ہوا لیکن اب حکومت کو خاطر خواہ پالیسی اختیار کرنی پڑے گی تاکہ ان نقصانات کا ازالہ ہوسکے
    اگر حکومت اور ماہرین تعلیم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج دیکھنے کیلئے ہم سب کو تیار رہنا پڑے گا۔

    ( )
    ( twitter.com@BarjeesAhmad )

  • معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد  تحریر : محمد نوید

    معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد تحریر : محمد نوید

    اقوام متحدہ کے قانون کے تحت معذور افراد جنہیں خصوصی افراد یا اسپیشل پرسن بھی کہا جاتا ہے ایسے افراد کو کہتے ہیں جو کسی ایسی جسمانی یا دماغی بیماری میں مبتلا ہوں جو انسان کے روزانہ کے معمولات زندگی سرانجام دینے کی اہلیت و صلاحیت پرگہرے اور طویل اثرات مرتب کرے یا وہ بیماری اس فرد کے کام کرنے کی اہلیت یا صلاحیت کو ختم کرے۔ معذوری ذہنی بھی ہو سکتی ہے جسمانی بھی، پیدائشی بھی ہو سکتی ہے اور حادثاتی بھی
    معذور افراد کے لیے نوکریوں میں 3 فیصد کوٹہ متعین ہے جبکہ اس کو بڑھا کر 5 فیصد کرنا چاہیے
    اب آتے ہیں انکے مسائل کی طرف ایک جگہ سے دوسرے مقام تک سفر میں اُن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ وہ روڈ انفراسٹرکچر حائل ہوتا ہے۔سڑک پار کرنا ایک امتحان ہوتا ہے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ معذور افراد کی رسائی کے لیے سرکاری اداروں اور بلڈنگ اور پرائیویٹ سیکٹرز کو باور کروایں کہ معذور افراد کو ایکسیسبلٹی مہیا کی جاۓ ریمپ بنا کر دیے جائیں
    حکومت ماہانہ وظیفہ مقرر کرے
    مفت وہیل چیئرز فراہم کی جاۓ تاکہ وہ آنے جانے کیلئے کسی کے محتاج نہ ہو مفت علاج کی سہولیات مہیا کی جائیں اور گاہے بگاہے سیمینارز منعقد کئے جائیں جہاں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے

    @naveedofficial_

  • پاکستان اور دیسی لبرلز   تحریر: فیصل فرحان

    پاکستان اور دیسی لبرلز تحریر: فیصل فرحان

    اصطلاح میں لبرل اسے کہتے ہے جو مخالف کی بات کو تحمل سے سنے اور مخالف کی رائے کی قدر کریں المختصر یہ کہ صرف خود کو ہی عقل کل نہ سمجھے بلکہ دوسرے کی رائے کو بھی مانیں لیکن جناب ہمارے پاکستانی لبرلز تو سب سے انوکھے اور نرالے ہے کیونکہ ان لوگوں کو لفظ لبرلاازم کے مطلب کا ہی نہیں پتہ ان لوگوں کے نزدیک لبرل وہ ہوتا ہے جو اسلام اور پاکستان کی ہر چیز کی مخالفت کرے۔ یہ صرف میں کہہ نہیں رہا بلکہ ثبوت موجود ہے، یقین نہیں تو پاکستانی لبرلز کے سوشل میڈیا اکونٹس اٹھا کر دیکھ لیں آپ ان پر صرف پاکستان اور اسلام مخالف ہی مواد دیکھے گے۔

    چند دن قبل ایک پاکستانی دیسی لبرل نے ٹویٹ کیا کہ قربانی پر جانور ذبح کرنے کی بجائے واٹر کولر لگوا دیں تاکہ غریب لوگ ٹھنڈا پانی پی سکے۔ اور وہ جناب ٹویٹ بھی آئی فون سے کر رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ بندہ تھوڑا سستا موبائل بھی تو چلا سکتا ہے؟ پھر آئی فوج جیسا مہنگا فون کیو خریدا؟؟ تب کیو غریب یاد نہ آیا؟ یہی لوگ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہے لیکن تب بھی ان لوگوں کو غریب یاد نہیں رہتا، بس یہ غریب سے ہمدردی صرف اسلامی تہوار کے وقت ہی ہوتی ہے؟؟

    ایک اور دیسی لبرل کی روداد سنیے۔ کل ایک نجی ٹی وی کی مشہور صحافی نے ٹویٹ داغا کہ جانوروں کو جینے دیا جائے اور عید جانور کی قربانی کے بغیر کی جائے۔ مطلب یہ محترمہ اللہ اور نبیؐ سے بھی زیادہ ہمدردی رکھتی ہے جانوروں سے؟ جبکہ اسی عورت کی ٹائم لائن دیکھے تو پورانے ٹویٹس میں محترمہ کبھی بیف کھانے کی پوسٹ کر رہی ہے تو کبھی نہاری۔ پوچھنا بس یہ ہے کہ کیا بیف اور نہاری زمین سے اگتی ہے؟ اور جناب یہی محترمہ اپنی ملازمہ پر تشدد میں ملوث تھی، جی ہاں اس نے ایک کمسن ملازمہ پر بدترین تشدد کیا تھا یہ خبر میڈیا کی زینت بھی بنی رہی تو یہاں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا انسان کی قدر جانور سے کم ہے؟ کیونکہ یہ عورت جانور کی حرمت کی بات تو کرتی ہے جبکہ خود انسان پر تشدد کرتی ہے۔ جی ہاں اسے منافقت اور دین بیزاری کہتے ہے۔

    اب آتے ہے دوسرے رخ کی طرف۔ پوری دنیا میں سب سے سے زیادہ جانوروں کا گوشت امریکہ میں کھایا جاتا ہے جو کہ کل دنیا کا 20 فیصد بنتا ہے اسی طرح ٹاپ بیس ملکوں میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں تب ان سستے لبرلز کو ہمدردی اور جانوروں کی زندگی یاد کیو نہیں آتی؟ آپکو پتہ ہے کہ ایک دن میں مکڈونلڈ 67 ہزار جانروں کو ذبح کر کے اپنے ریسٹورینٹس میں سپلائی کرتا ہے لیکن تب یہ لوگ نہیں بولتے کیونکہ یہ گوشت ان امیروں کے پیٹ میں جو جاتا ہے لیکن جب اسلام اللہ کی رضا کیلیے جانور ذبح کر کے غریبوں میں بانٹنے کا حکم دیتا ہے تو سارے لبرلز کے ہاں ماتم بچھ جاتا ہے کسی کو غریب کا جہیز یاد آجاتا ہے تو کسی کو جانوری کی زندگی کی اہمیت۔

    المختصر ان لوگوں کو نہ تو غریب سے ہمدردی ہے اور نہ جانوروں کی ودر ان لوگوں کو بس تکلیف اسلام اور پاکستان سے ہے اور دوسری بڑی وجہ بیرونی این جی اوز سے پیسہ بٹورنا بھی ہے۔ بیچارے کیا کریں اسلام اور پاکستان پر تنقید کر کے ہی تو چند ڈالرز کماتے ہے اور اپنا پیٹ پالتے ہے لیکن یاد رکھوں یہ ڈالرز صرف چند دن کیلیے ہے بہت جلد ہم سب نے مرجانا ہے پھر یہ دولت کام نہیں آئے گی پھر درد ناک عذاب ہوگا بس۔ اسلیے چند ڈالرز کی خاطر اپنی آخرت تباہ مت کیجیے۔

    اسلام زندہ آباد، پاکستان زندہ آباد
    @Farhan_Speaks_

  • جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم    تحریر. عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم تحریر. عامر خان

    آئیے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں! حافظ صاحب کا کہنا یہ بهی تها کہ سراج الحق صاحب سے جب سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہاتھ ملا رہے ہیں تب اناڑی یعنی کپتان ان سے موجود بہتر تعلقات خراب کر رہا ہے کوئی جائے اور ان کو سمجهائے کہ یہی تو وہ پوائنٹ جس پر تحریک انصاف ہی نہیں پاکستانی عوام بهی حیران ہے بندگان خدا وہی لوگ جو عوام کو مسلسل لوٹ رہے ہیں یہی اگر منجهے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہی اسلوب سیاست ہے پهر بهلا جماعت یا تحریک انصاف یا تبدیلی کی کیا ضرورت ہے؟منجھے ہوئے کھلاڑی جو موجود ہیں
    یا للعجب کیسی سوچ ہے اور کیسی مرعوبیت ہے خدا جانے جماعت کے پیٹ میں ن لیگی محبت کا مروڑ کیوں اٹھتا رہتا ہے؟مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے لاہوری ” دهڑے "”کے دل میں لیگ کےلئے اتنی ہمدردی ضرور ہے کہ انہوں نے 2013 کے الیکشن میں اپنے امیر محترم کو ہی فٹ بال بنا ڈالا تها جب خیبر کےپی والے تحریک انصاف اور لاہور والے ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر زور دے رہے تهے آخر آخر جماعت ادھر کی رہی نہ ہی ادھر کی.جماعت کے ارکان+کارکنان برا نہ مانیں تو چند گزارشات پہ غور فرمائیں اولا یہ کہ جماعت کی اساس سیاسی ہے ہی نہیں دارالسلام میں جب اس کی تشکیل ہوئی تو یہ خالصتا ایک اصلاحی، فکری، علمی، جماعت تهی جس کا مقصد محض اسلام کی جدید فکر احیاء اسلام سماج کی اسلامی تشکیل تها نتیجتا البتہ یہ ممکن ہو پاتا کہ ایک سیاسی انقلاب آتا یا سیاسی سسٹم میں بہتر لوگ آ پاتے بعد ازاں جماعت سیاست میں اتری تو بهلا اپنی اساس کے خلاف کیونکر کامیاب ہو پاتی ماضی میں جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر تهی تو اسے محدود سا حصہ اقتدار یا اسمبلی میں دے دیا جاتا جسے جماعت والے اپنی کامیابی سمجھتے مثلا ضیاء صاحب کا دور مثلا ایم ایم اے کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ مشرف کو ایوان سے ایل ایف او جیسے کالے قانون کی منظوری جماعت اور اس کے اتحادیوں کے طفیل ملی! اخبارات نے تب خبر لگائی تهی ملا حلوے کی چند پلیٹوں پہ مان گئے! لال مسجد آپریشن کے ہنگام یہ لوگ زبانی بیان بازی تک محدود رہے بلکہ اسمبلیوں میں براجمان بهی حافظ صاحب نے کپتان پہ جی ایچ کیو کی پهبتی کسی ہنسی کے مارے میرا برا حال ہو گیا کہ کیسے وہ جماعت کے قبلہ اول پہ تنقید فرمارہے ہیں جب تلک جماعت کا امیر کسی بڑے جلسہ ء عام میں اس سابقہ روایت پہ معافی نہ مانگیں گے قوم ان کے رجوع کو تسلیم نہ کرے گی ثانیا جماعت کو امیر جماعت کو ویٹو پاور دینا ہو گی مجلس شوری ، مجلس شوری ہی رہے مجلس تحکیم نہ بنے انہیں امیر کو آزادی دینا ہو گی ثالثا جماعت کی تشکیل سیاسی بنیادوں پہ کی جائے اصلاحی تحریک کو انکی ذمہ داری دے کر الگ کر دیا جائے اور وہ فقط اصلاح سماج کا کام کرے جمعیت طلباء پہ انحصار کی بجائے لیڈر شپ پیدا کی جائے کامیابی اپنی خوبیوں کے طفیل ملتی ہے ناکہ مخالف کی خرابیوں کے طفیل! بیس ہزار سے کچھ زائد کارکنان کے ساتھ کیا بیس کروڑ کے معاشرے کو اپنی جانب متوجہ کرنا ممکن ہوگا؟؟؟ یہ سیاست ہے مہربان سیاست جس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہمارے پاس ترازو کے دو باٹ ہرگز نہیں محترم جس ترازو میں تحریک انصاف کو ن لیگ یا دیگر کو ہم تولیں گے جماعت کو بهی اسی میں اپنی حکومتی حلیف جماعت کو چهوڑ کر آپ اپوزیشن اتحاد میں کھڑے ہوں گےتو نہ صرف کپتان بلکہ ہر صاحب انصاف آپ پہ انگلی اٹھائے گا جو کہ جائز ہو گی کمال کرتے ہیں آپ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت! کپتان پہ ان کے اخلاقی اعترضات کا جواب مناسب عمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ پروردگار اور اس کے بندے کا معاملہ ہے شریعت لوگوں کی نجی زندگی میں جهانکنے کی اجازت نہیں دیتی جماعت کا کردار بلدیاتی انتخابات میں ایک حلیف جماعت کے طور پہ مناسب ہرگز نہیں تها بلکہ بےوفائی کی گرد سے اٹا ہوا تها جماعت کو سوچنا ہو گا ورنہ وہ آسمان دیکهتی رہ جائے گی

    @Aamir_k2

  • علم  تحریر : عائشہ رسول

    علم تحریر : عائشہ رسول


    علم زندگی کا بہترین زاویہ ہے. جس سے انسان بنتا ہے اور انسانیت کی طرف سفر شروع کرتا ہے. علم ہو اور انسان تبدیل نہ ہو تو یہ علم نہیں علم کے ساتھ ظلم ہے.
    علم کی روشنی سے زہن اور فکر منور ہوتی ہے. جو علم زہن کو تاریک کرے وہ علم نہیں… وہ کسی کا یاد کروایا ہوا سبق ہوتا ہے.. . علم انسانی احساسات کو زندگی بخشتا اور شعور کی آبیاری کرتا ہے.جو علم انسان کو اندھے راستوں پہ لے جائے وہ خدا کا عطا کردہ علم نہیں. جو رزق حلال کھاتے ہیں وہ جانتے ہیں علم کیا ہے, عالم کیسا ہوتا ہے اور عالمیت کیا ہے جو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں وہ ان نعمتوں سے واقف ہیں.
    وہ علم سب سے بڑی نعمت ہے جس سے انسانیت کی تعمیرِنو ہوتی ہے.
    علم انسان کو زھنی بلندیوں تک لے جاتاہے مگر سن لو… وہ علم”علم” نھیں’جو زھنی پستیوں سے نکلنے نہ دے, جو خیالوں سے باندھ دے, جو بے غرض سوچ میں جکڑ دے… بلکہ علم تو وہ ہے…. جو فکرکو ھر لمحہ ایک نئی حیات بخش دے, جو روح کو سیراب کردے, جو زہن کو ضیابخش دے.
    علم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک علم والے اور علم کے مطابق عمل کرنے والے زندہ ہیں
    سب سے بڑا علم یہی ہے کہ موت یقینی ہے اور ایک دن ہمارے اعمال کا حساب ہوگا اور نامہ اعمال ہمارے
    ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے اور وہ "یوم حساب”ہوگا
    اور جو لوگ ہر یوم کو "یوم حساب” سمجھ کر گزارتے ہیں میں انکے علم کی قدر کرتی ہوں

    آؤ سب مل کراس علم سے دوستی, آشنائی اور شناسائی کر لیں
    ہماری دین, دنیا اور آخرت سب کے لیے یہ کامیاب ترین نسخہ ہے اور یہ وہ علم ہے جس علم سے نجات ہو گی
    اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق عطا کرے… آمین…
    "وما علینا الا البلاغ المبین ”

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • ہماری غربت کی بنیادی وجہ تحریر: حمزہ بن شکیل

    ہماری غربت کی بنیادی وجہ تحریر: حمزہ بن شکیل

    بل گیٹس نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ اگر ہم غریب گھرانے میں پیدا ھوتے ہیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں لیکن اگر ہم غریب مرتے ہیں تو اس میں سو فیصد ہمارا قصور ہے۔

    کامیابی حاصل کرنے کے لئے قابل ہونا بنیادی شرط ہے لیکن المیہ یہ بے کہ آج کے دور کے بیشتر طالب علم خاص طور پر لڑکے تو پڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ محنت نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی زندگی میں نظم وضبط نام کی کوئی چیز نہیں۔انھیں کھیل کود، موبائل ، کمپیوٹر اور ٹک ٹاک ہی سے فرصت نہیں۔

    وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کیے جائیں۔وہ کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں۔
    لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کی آئندہ کی زندگی کس قدر سخت بے۔ چھوٹی موٹی نوکری کے عوض جو تنخواہ ملتی ہے اس سے تو بجلی وگیس کے بل اور مکان کے کراۓ بھی ادا نہیں ہو پاتے۔

    آج کے طالب علموں کے رپورٹ کارڈ تو نمبروں سے بھرے ھوتے ہیں لیکن ان میں قابلیت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی۔ ایسے نوجوان گریجویشن اور ماسٹر کرنے کے بعد سرٹیفیکیٹس کی فائل ہاتھوں میں تھامے، ملازمت کی تلاش میں مختلف دفاتر کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔

    سفارش کے بعد انھیں کوئی معمولی سی ملازمت تو حاصل ھو جاتی ہے لیکن معمولی تنخواہ کی وجہ سے وہ پوری عمر غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اور یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ھو جاتی ھے۔ معیار زندگی بہتر بنانے اور مہنگائی کو شکست دینے کے لیے ایسی تعلیم کا حصول ضروری ہے جس سے طالب علموں کی قابلیت میں اضافہ ہو۔ جس کی بدولت وہ باآسانی اچھی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ طالب علموں کی آج کی محنت سے بھر پور سخت زندگی ان کی آئندہ کی زندگی کو آرام دہ اور پرآسائش بنا سکتی ہے۔

    اپنے بچوں کو کامیاب بنانے اور غربت کے چنگل سے نکالنے کے لیے انھیں ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کروائیے جہاں نظم وضبط ھو اور جہاں نمبروں کی نہیں قابلیت کی اہمیت ھو۔

    ہم ہیں غربت میں گزارے ہوئے ایّام جنہیں
    لوگ جب تخت پر آتے ہیں تو بھلا دیتے ہیں


  • قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ بہاول پور سے 48 کلو میٹر دور پاکستان کے قدیم اور بڑے قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس قلعہ کی بدقسمتی کہیں کے جب بھی آثار قدیمہ اور لوک ورثہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو موھنجودوڑواور ھڑپہ کی تعمیرات کے علاوہ لوگوں کے ذہن میں قلع روہتاس کی بات ہوتی لیکن بھولے بسرے ہی کسی کو قلعہ دراوڑ کی یاد آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کے محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ والوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سابقہ ریاست بہاول پور کا عظیم الشان قلعہ جو کے سرائیکی علاقوں کی پہچان ہے رفتہ رفتہ بد حالی کا شکار ہو کے لوگوں کی یادوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔

    جب کہ قلعہ دراوڑ ایک بہت ہی اہمیت کا حامل سیاحتی مقام ہے جسے حکومت پنجاب اور اس کے متعلقہ محکموں کی دلچسپی سے بہت ہی اعلی سیاحتی مقام بنا کے بہاول پور جنوبی پنجاب اور پاکستان کی خوبصورتی کو دنیا میں دیکھا کے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
    بہاول پور کے نوابوں اور ان کے خاندان کی قبریں اس قلعہ میں واقع ہیں اور ایک عرصے تک بہاول پور کا نواب خاندان اس قلعہ میں رہائش پذیر رہا۔

    قلعہ دراوڑ جس لاپرواہی اور عدم دلچسپی کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے اس قلعہ میں سیاحوں کے لئے نہ تو کوئی پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی قلعہ کی خبر گیری رکھنے والا ہے نہ ہی کوئی محافظ۔
    نواب مبارک خان اور نواب صادق کے دور تک قلعہ کی صفائی اور دیکھ بھال ہوتی رہی لیکن ان کے بعد آنے والوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور یہ عالیشان اور عظیم قلعہ لاپرواہی کا شکار ہو کر اپنی اہمیت کھو دیا۔
    اگر ماضی کے اس شاندار اور تاریخی قلعہ کے تحفظ اور مرمت کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے جلد ہی یہ عظیم قلعہ کھنڈر میں تبدیل ہو جائے گا۔

    اب جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پنجاب حکومت بہت سے تاریخی مقامات کی بحالی میں دلچسپی لے رہی ہے تو جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کے لوگ حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت سے یہ امید کرتے ہیں کے اس عظیم اور تاریخی قلعہ دراوڑ کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے ہر ممکن ضروری اقدامات اٹھائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو ریاست بہاول پور کی پاکستان کے لئے خدمات اور قلعہ دراوڑ کی تاریخ کا علم ہو۔

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد.
    کالم نگار سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں.

    @Majidjampti

  • ہماری ڈرامہ انڈسٹری کا دن بہ دن گرتا معیار.تحریر: امان الرحمٰن

    کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کواگر زوال پزیر کرنا ہوسب سے پہلے اُس کی تہذیب اُس کا کلچر اُس قوم سے چھین لو پھر وہ قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر پائے گی، مگر ہمارا معاملہ ذرا کچھ اور ہی ہے یہاں ہم صرف ایک قوم نہیں ہم ایک اسلامی نظریہ پر وجود میں آنے والے اسلامی ریاست میں رہنے والے مسلمان ہیں اور ہمارا رہن سہن اور کلچر اسلامی اصولوں پر قائم ہے ۔۔۔۔ میرا مطلب تھا ،معزرت میں نے یہاں تھا کا لفظ استعمال کر لیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کے ہم اپنے اصل سے ہٹ گئے ہیں کیوں کے ہم ناچاہتے ہُوئے بھی اپنی اصل روایات اور اپنی تہذیب خُود ہی چھوڑتے چلے جا رہے ہیں وہ بھی غیر ارادی طور پر ، اِس جدید دور میں جنگیں اب جنگ کے میدان میں نہیں لڑی جاتیں ۔۔۔ اب آپ حیران ہوں گے کہ اِس تحریر کا عنوان تو ڈرامہ انڈسٹری تھا ، خیر یہ بات ہم کسی صُورت اور کبھی بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں گے کے ہم یہ کیسی جنگ میں ہیں ہر دوسرے تیسرے دن بات گُھوم پھر کر یہی کی جاتی ہے کے ہم حالتِ جنگ میں ہیں کیوں کے ہم ذہنی طور پر مفلوج ہو گئے ہیں ہمیں عام زندگی میں طرح طرح کہ معاملات میں اُلجھایا گیا ہے دُشمن تب ہی جان گیا تھا جب یہ دنیا کا واحد ملک جو نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اُس وقت اِس زندہ قوم نے کیسی کیسی قُربانیاں دیں تھیں اور یہ قوم کیا کر سکتی ہے تو لہٰذا مان لیں کے 1948 کی جنگ جب اِس ملک کو بنے ابھی ایک سال بھی نہ ہوا تھا تو کیسے ایک ایسی ریاست کوتسلیم کرلیا جاتا جو اسلامی نظریئے کے ساتھ بنی اور تب اِس قوم کو تقسیم کرنے کا عمل شُروع ہو گیا تھا پھر ٹی وی عام کیا گیا ساتھ ساتھ اِس قوم کو دنیا کی تفریحات کی دوڑ میں لگا دیا، پھر ڈرامہ آگیا جب یہی پاکستانی قوم بمشکل عشاء کی نماز پڑھا کرتی تھی کہ نیند کا غلبا ہوتا تھاوہ 6بجے اور پھر 7 بجے والا ڈرامہ 8 بجے دیکھے بنا سوتی نہیں تھی اُس کے بعد خبر نامہ بھی دیکھنا ضروری تھا اور دنیا ،کی پاکستانی حالات سے بھی بے خبر نہیں رہا جاتا تھا ہم سے پھر ہماری نیند ہم سے آہستہ آہستہ رُوٹھتی چلی گئی ۔۔۔۔ ارے ہاں پھر ہفتے میں ایک اُردو فیچر فلم دیکھنے کو بھی ہمیں ٹی وی پر ہی سہُولت دی گئی اور ہم بہت خُوش ہوے کے ارے واہ ۔۔۔۔کمال ہو گیا اب تو سینما بھی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ قوم جو جب گھر کے مرد جب ٹی وی پر کچھ دیکھتے تو عورتیں ساتھ نہیں بیٹھا کرتی تھیں یا پروگرام کی مناسبت سے شریک ہوا کرتی تھیں پھر پروگرام کا طریقہ بدلنے لگا ہنسی مزاق سے بات چھیڑ چھاڑ تک پہنچی پھر ایک آدھا گانا ساتھ دل میں دھک دھک کرنے لگا پھر شیطان نے بھی دل میں آنے جانے کی وجہ بنا لی اور پھریہ جھجک بھی رفع دفع ہو گئی اور بے حیائی کا یہ چھُپا وار پہلے مزے دینے لگا اور بعد میں جان کا عذاب بن گیا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔۔۔!!’

    نوٹ: اب آجائیں ہم پر تہذیبی یلغار کی شُروعات کیسے ہوئیں اور ہمیں معلوم ہونے کے باوجود ہم وہی کرتے بھی رہے جو ہمیں نہیں کرنا تھا کیوں کے یہ زہر تھا اور دُشمن یہ زہر ہمارے حلق میں آہستہ آہستہ اُتارتا جا رہا تھا ۔۔۔
    اچھا جی۔۔۔ پھر یہ کھیل تو چل ہی رہا ہوتا ہے ساتھ ساتھ سیاسی محاذگرم ہوتا ہے اور ریڈیو اور ٹی وی پر اِنہی سیاسی قومی لسانی خبروں کا تڑکا بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے دُوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کی نیوزکاسٹر سر پر دوپٹہ لئے خبریں دیا کرتی تھی اُس کا دوپٹہ سرکنا شُروع ہُوا ساتھ اِس ریاست جس کی قومی زبان "اُردو” تھی یہاں انگلش چینل بھی آگیا چلیں اچھی بات ہے عالمی دنیا میں ہم اپنا پیغام اچھی طرح پہنچائیں گے۔۔۔ جی چلیں ٹھیک ہے ۔پھر پرائیویٹ چینلز آئے اور مُقابلہ شُروع ہو گیا کے ہماری نیوز کاسٹر زیادہ ماڈرن ہے اُس نے دوپٹہ سر کے ماتھے تک آتا دوپٹہ سر کی بیک سائڈ پر پِن سے اٹکانا شُروع کیا تو دُوسرے پرائیویٹ چینل نے دوپٹہ سر سے اُتار کر گلے کا پٹہ بنادیا ۔۔۔ میرا مطلب گردن میں دوپٹہ ڈال لیا ۔۔۔ٹھیک ہو گیا اب آجائیں ایڈوانس ڈرامہ کی طرف جو کیبل نیٹ ورک کہ ذریئے سے دھڑا دھڑ ٹی وی چینلز کے لائسنس حاصل کرتے گئے اور انٹرٹینمنٹ کا نعرہ لگاتے کُود پڑے اِس قوم کو ماڈرن قوم بنانے کے لئے اور قوم بیچاری کیا کرتی اُسے نہ اسکولوں میں اپنی بنیاد بتائی گئی نہ ہی کلچر بتایا نہ ٹھیک سے دین سکھایا وہ حربے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے مگر وہ ہمارے مختلف اِداروں کے ذمہ تھے اور اُن اُن اِداروں کے ساتھ بھی تو یہی الیکٹرونک میڈیا جُوڑا تھا ناں۔۔۔۔ سمجھیں بات کو کہ جس جس اِدارے کا افسر اپنی ڈیوٹی کر کے جب گھر آتا اور دن بھر کی تھکن مٹانے اپنی دن بھر کی توں توں میں میں کو ریلیکس کرنے کے لئے تفریح اُسے بھی تو چاہئے تھی ناں۔۔۔ وہ بیچارہ بھی تو یہ زہر پیتا ناں تو کیا کرتا کم بخت عادت جو پڑ گئی تھی ۔۔۔۔ وہی بچپن میں عشاء کے وقت سوتا تھا پھر جاگنے لگا اپنا آرام چھوڑا تھا تو طبیعت تو اِس افسر کی بھی بدلنا تھی ناں۔۔۔ زہر جو اندر باہر سے اثر کر رہا تھا ۔۔۔

    اچھا تو کہاں تھے ہم۔۔۔ جی ہم تھے پرائیویٹ چینلز کے لائسنس ، تو جی اب ساتھ آگیا نیا مقابلہ اور مقابلہ اپنوں کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں سے بھی کیا جانے لگا اور پھر جب مقابلہ ہو ساتھ پیسہ ہو ساتھ ایکسٹرا فنڈنگ ہو تو کس سرمایہ دار کی "رال” نہ ٹپکتی بھئی۔۔۔ پھر تو جو ہُوا اللہ کی پناہ کے ڈرامہ ایسا کے اِس قوم کو نہ اپنے مذہب کا ہوش رہا نہ تہذیب کا اور نہ ہی کلچر کا ہر کوئی کسی نہ کسی ڈرامے کا کردار خُود کو سمجھنے لگا کیوں کہ وہ بھی اپنی زندگی میں ایسا ہوتا دیکھتا تھا کیونکہ ہر کسی کو "اُسی” ہلکے زہر نے اپنے پورے کنٹرول میں لینا جاری رکھا ہُوا تھا اور ہر کوئی اپنی تلاش میں ڈرامے دیکھ رہا تھا پھر ڈرامہ فلم کو پیچھے چھوڑ گیا اور وہی ہمارا پڑوسی جس سے ہم مقابلہ کرنے چلے تھے وہ ہم سے شرمانے لگا اور وہ ڈرامہ چھوڑ کر اپنی فلم کی طرف ہی چل دیا مگر ہم کہاں رکنے والے تھے ہم نے این جی اوز اور دنیا کے ایسے اُن اداروں کا سہارا لیا جو سپورٹر تھے اور جو وہی "زہر” یہاں سپلائی کرنے والے تھے وہ ایک بار پھر سے سپلائیر اور ہمدرد ایک ساتھ بن گئے اور ہم اپنا نظریہ کھو بیٹھے ۔۔۔۔ مگر ابھی بھی کچھ لوگ ہیں کچھ اِدارے ہیں کچھ افسران ہیں جو اپنے اُن لوگوں کو نہیں بھولتے جو اِس ریاست کی بنیادوں میں اپنا لہو ڈال کر مضبوط بنا گئے ہیں کے لاکھ دشمنوں کی کوشش کے اِس ملک کی بنیادیں کوئی نہیں ہلا سکتا کیوں کے یہ ملک "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” کے نعرے سے وجود میں آیا ہے اِس ملک پاکستان کو ہم نے اُنہی شہداء کی نسلوں نے سنبھالنا ہے مگر کیسے کیا ہم اپنی شناخت بھول کر گنوا کر کبھی منزل کو حاصل کر پائیں گے۔۔؟ ہرگزنہیں، دیکھیں چائینہ کو جو ہمارے بعد آزاد ہُوا اُس قوم نے اپنی روایات اپنی زبان اپنا کلچر نہیں چھوڑا اور آج وہ دنیا کا سُپر پاور بن گیا ہے صرف علان کرنا باقی ہے اور وجہ ہے اُس کی اپنی اصل بنیاد چینی قوم اپنی اوقات نہیں بُھولی اور ترقی کی منزلیں عبورکرتی چلی جا رہی ہے۔
    دیکھیں جاپان کو جو ایک خوفناک جنگ کے بعد دو ایٹم بم کھانے کے بعد بھی ایک قوم بن کر اپنے پیروں پر کھڑا ہے ، کیوں۔۔؟ کیونکہ جاپانی بچے ایک بار دیکھے گئے کارٹون دوبارہ لگ جائیں تو اُس چینل پر کیس کر دیتے ہیں اور ہمارے یہاں 8 بجے والا ڈرامہ رات 2 بجے نشرِمقرر لگتا ہے پھر وہی ڈرامہ اگلے دن دوپہر کو لگتا ہے ارے کتنا فضول وقت ہے ہماری اِس قوم کے پاس ۔۔۔؟ کچھ اندازہ بھی ہے ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔؟
    آخر میں ایک بات کہانا چاہتا ہوں اگر آج پاکستانی قوم اپنانظریہ زندہ کردیں جو 1947 میں تھا جس کی بناء پر یہ ریاست اِس زمین پر وجود میں آئی یقین کیجئے اللہ ہماری رہنمائی فرمائے گا ہمارے ہر معاملے کا حل نکل آئے گا اِن شاء اللہ۔
    پاکستان زندہ باد
    @A2Khiza