Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قرآن سے بے سہارہ عورت کی حفاظت : تحریر احسان اللہ خان

    قرآن سے بے سہارہ عورت کی حفاظت : تحریر احسان اللہ خان

    یہ ایک مہاجر عورت کی داستان ہے۔ جو جالندھر کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ داستان غم خود اس کی زبانی ملاحظہ کیجئے۔
    میں تو اس بات پر یقین رکھتی ہوں جو خدا نے اپنی کتاب میں فرمائی ہے کہ خدا جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے وہ بہت ہی کریم و رحیم ذات ہے۔ پھر وہ ایک دم اپنے بچپن کی طرف لوٹی اور کہنے لگی کہ بچپن میں ہمیں قرآن کریم کی تعلیم بہت سختی سے دی جاتی تھی۔ اگر کوئی کسی بہانے کی وجہ سے قرآن پڑھنے نہ جاتا تو پہلے بزرگ اس کو سمجھاتے پھر اسے نئے طریقوں سے سزا دی جاتی حتیٰ کہ وہ بڑی خوشی سے قرآن پاک پڑھنے چلا جاتا۔
    اسی طرح میں نے بھی ایک دفعہ سر درد کا بہانا بنایا۔ سزا تو نہیں ملی تھی لیکن سمجھو مجھے ایک دم سمجھ آگئی کہ قرآن پاک پڑھے بغیر گزارا نہیں۔ چنانچہ میں نے قرآن پاک حفظ کرنا شروع کیا۔ اور اس وقت نئے کپڑے نہیں پہنے لیکن دھلے ہوئے پہنے تھے جب تک قرآن پاک حفظ کرلیا۔
    زندگی کے دن گزر رہے تھے کہ اچانک ملک تقسیم ہوگیا اور ہم پاکستان آرہے تھے کہ راستے میں غنڈوں اور ڈاکوؤں نے ہمارے قافلے پر حملہ کردیا پھر کیا ہوا اس کے بعد اس کی آواز مدہم پڑھ گئی اور دو ننھے ننھے اشک انسو سے گر پڑے۔ میرے گھر کے تمام افراد شہید ہوگئے اور میں بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آنے پر میں نے اپنے آپ کو ایک نرم اور پر سکون بستر پر پڑا پایا۔ یہ ایک خوبصورت کمرہ تھا جس میں کچھ عریاں فوٹو تھیں اور بعض تصویروں پر گرنتھ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ سکھوں کا گھر ہے اچانک زور سے دروازہ کھلا۔ اور ایک نواجوان سکھ اور ایک بوڑھی عورت کمرے میں داخل ہوئے۔ اور آتے ہی اس نوجوان نے اس عورت سے کہا ”ماں یہ ہے تیری بہو کیا تجھے پسند ہے؟ “ وہ۔عورت ہنس کر بولی ہاں پسند ہے۔ پھر وہ باہر چلی گئی اس کے بعد اس نوجوان نے الماری سے شراب کی بوتلیں نکالیں پھر وہ بے تحاشہ پینے لگا۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔ اس کے بعد میری آنکھوں سے نیند غائب ہوگئی۔ اور میں وہاں سے بھاگنے کی تیاری کرنے لگی۔ رات کے تقریباً دو بجے تھے میں چارپائی سے اتر کوئی چیز تلاش کرنے لگی۔ اچانک مجھے ایک چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی یہ ایک کرپان تھی جو اس بے ہوش سکھ کی چارپائی کی نیچے پڑی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے کرپان اٹھائی اور اس کا سر تن سے جدکردیا۔ معمولی سی چیخ سنائی دی اور بے تحاشہ باہر کو بھاگی۔ راسے کی مشکلات سے بچنے کے بعد دن تقریباً دو بجے واہگہ بارڈر کی سرحد پر ہلالی پرچم کو دیکھ کر میں بے ہوش ہوگئی۔ اس کے بعد کیا ہوا میں اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان رہنے لگی۔المختصر اسی محافظ (قرآن) نے میری زندگی بچائی۔ جو اسی وقت یہی قرآن میرے بغل میں تھا۔

    IhsanMarwat_786

  • خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    خُدا کی نعمتیں چھپاؤ تحریر: عتیق الرحمن

    اللّہ تعالٰی نے ہر انسان کو مختلف نعمتوں سے نوازا ہے
    جو چیز ایک انسان کے پاس ہے کافی حد تک ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے پاس نہ ہو اور اسی بات سے اللّہ آزماتا ہے کہ کیا میری عطا کی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا جو چیز نہیں ملی ابھی اس کی خواہش میں ملی ہوئی نعمتوں کی ناشکری
    ویسے ہم اپنے اعمال کا طخمینہ لگائیں تو ہماری نعمتیں اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جنکے ہم قابل بھی نہیں تھے
    ایک بزرگ نے بہت گہری بات کی، کہتے ہیں کہ اگر اللّہ نے ہمیں کسی نعمت سے نوازہ ہے تو ضروری نہیں اسکا ذکر سب کے سامنے کرتے رہو۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ ناشکری میں آئے گا بلکہ اسکہ شکر تنہائی میں اللّہ سے کرو کیونکہ اسکا صلہ بھی اسی نے دینا ہے
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نعمت کو چھپایا جائے تو اس بات کو انہوں نے ایسے واضح کیا کہ فرض کرو جو نعمت تمہارے پاس ہے اور تم اسکا ذکر کسی ایسے انسان کے سامنے کرو جسکے پاس وہ نہ ہو اور اسے اسکی ضرورت بھی محسوس ہو رہی ہو تو اسکا دل دکھے گا اور ہوسکتا وہ اللّہ سے شکوہ بھی کر بیٹھے تو اللّہ اس کے بدلے تم سے وہ نعمت چھین لے
    اس لئے بہتر ہے نعمتوں کا ذکر یوں نہ کیا جائے کہ دوسرے انسان کو تکلیف ہو اس نعمت کے نہ ہونے سے کیونکہ بیشک یہ اللّہ کے بس میں ہے کس کو پہلے نوازنا ہے اور کس بعد میں۔

    Twitter id @AtiqPTI_1

  • “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    کبھی نرمی، کبھی سختی، کبھی الجھن، کبھی ڈر
    وقت اے دوست ! بہرحال گزر جاتا ہے
    لمحہ لمحہ نظر آتا ہے کبھی اک اک سال
    ایک لمحے میں کبھی سال گزر جاتا ہے

    دوستوں نے یاد دلایا آج میراجنم دن ہے ۔ یوم پیدائش سے زیادہ اہم دن اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ یہ دن باربار آتا ہے اور انسان کو خوشی اور دکھ سے ملے جلے جذبات سے بھر جاتا ہے ۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے گزرنے اور موت سے قریب ہونے کے احساس کو بھی شدید کرتی ہے اور زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو بھی ۔
    زندگی کا (۲۳) واں سال ختم ہونے کو ہے۔ آج یونہی بیٹھے بیٹھے بات چھڑی کہ سال کیسا گزرا تو حسابِ سودوزیاں کرنے بیٹھی۔۔معلوم ہوا کہ۔۔
    وہی حالات، وہی رویے، وہی باتیں، وہی مخفل ۔۔کچھ خاص تبدیلی تو نہیں آئی۔۔سوائے کورونہ کی ایک لہر سے تیسری تک میں تبدیلی۔۔۔
    اس سال بھی سارے موسم ویسے ہی تھے۔۔ بے بسی اور کم مائیگی کے کہرے میں لپٹے ہوئے۔۔اس سال بھی اپنی اور دوسروں کی مجبوریوں پرجی بھر کے رونا آیا۔۔
    اس سال بھی لوگ امن و سکون کو ترستے رہے ۔
    ذاتی سطح پر دیکھوں تو بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ذاتی کمزوریوں کی فہرست میں اضافہ ہوتادکھائی دیتا ہے۔
    آغاز سے اختتام تک یہ سال مجموعی طور پر ہم پاکستانیوں کے لئے بہت مشکل رہا۔ لیکن پھر بھی ہم رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے لئے سب کچھ اچھا ثابت فرمائے اور انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر خوشیاں، سکون، امن و سلامتی اور کامیابیاں سب کا مقدر ہوں۔آخر میں اُن تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے اس دن پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے۔۔(آمین)
    جواد خان یوسفزئی
    ٹویئٹر : Jawad_Yusufzai@

  • نسل نوجواں کو درپیش خطرات  تحریر : محمد شفیق

    نسل نوجواں کو درپیش خطرات تحریر : محمد شفیق

    نوجوان نسل کسی بھی ریاست کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتی ہے،نوجوان قوم کہ معمار ہوتے ہیں جن کے سر پر ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔
    انکی مثال ایک قیمتی اثاثے کی ہے جسے اگر نیکی ،ا چھائ اور ترقی کے کاموں میں بروئے کار لایا جائے تو یہ نعمت عظیم سے کم نہی ۔
    اور اگر یہی سرمایا شر اور فساد کے کاموں میں مشغول ہوجائے تو تباہی کا باعث بنتا ہے۔
    بد قسمتی سے ہماری نوجوان نسل تباہی کے کے دھانے پر ہے ۔نوجوانوں کی نوے فیصد آبادی بے راہ روی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کا شکار ہے جو کسی بھی ملک یا قوم کیلیے انتہائ سنگین مسلہ اور مقام فکر ہے کہ، ایسا کیوں ہے؟ ایسے کونسے اسباب ہیں؟
    جو ہمارے سنہرے مستقبل کو تاریکی میں تحلیل کر رہے ہیں ۔
    نسل نوجواں کو درپیش خطرات میں سے کچھ بنیادی مسائی درج زیل ہیں

    سوشل میڈیا نے زندگی کو بہت آسان بنادیا ہے ،میلوں کے فاصلے کو سیکنڈز میں بدل دیا ہے ۔ہر قسم کی معلومات صرف ایک ٹچ کی دوری پہ ہے لیکن وہیں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں
    کافی عرصے سے سوشل میڈیا کا استعال خطرناک حد تک تجاوز کر چکا ہے،
    اور بلخصوص نوجوان نسل کیلیے یہ نشے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔جس طرح نشہ کرتے ہوئے دماغ انسانی کا مخصوص حصہ Nucleus accumblance فوران ایکٹو ہوتا ہے بلکل اسی طرح جب کوئ بھی صارف سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوتا ہے تو دماغ کا یہ حصہ ایکٹو ہوجاتا ہے اور انسان سوشل میڈیا کہ نشے میں بری طرح جکڑا جاتا ہے ۔کسی بھی سکرین چاہے موبائل ہو یا لیپ ٹاپ کا مسلسل اور دیرپا استعمال نا صرف انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ انسان کو حقیقی دنیا سے نکال کر خیالی دنیا میں پھینک دیتا ہے۔

    نوجوان نسل کی مثبت تعلیم و تربیت کا پہلا زریعہ والدین اور پھر مختلف درجات کی تعلیمیی درسگاہیں ہیں۔ جو ایک معمولی انسان کو ایک جوہر شناس جواھر کی طرح تراش کر ھیرے میں ڈھال دیتی ہیں
    لیکن انتہائ افسوسناک امر ہے کہ آجکل تعلیمی درس گاہیں نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلتی نظر آتی ہیں ۔تعلیمی اداروں میں فحاشی ،جنس پرستی اور سگریٹ سے لیکر ہر قسم کے نشہ کی نا صرف کھلی آزادی بلکہ تمام سہولیات موجود ہیں ۔ عریانیت اور بیہودہ ڈانس پارٹیوں کو ماڈرن ازم کا نام دیکر تعلیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ استاد جسے روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا ہے طلبہ کے ساتھ اس قدر شرمناک فعال میں ملوث پایا جاتا ہے کہ انسانیت شرما جاتی ہے ۔اگر اس نظام تعلیم کو تبدیل نہی کیا گیا اس کے خلاف کاروائ نہی کی گئی تو وہ وقت دور نہی جب ہماری تعلیمی درسگاہوں کو فحاشی اور نشے کے اڈو کا نام دیا جائے گا

    نوجوان نسل کو در پیش خطرات میں سے تیسرا بڑا اور اہم خطرہ فحش ویبسائٹس کا استعمال ہے
    نوجوان نسل اس گھٹیا نشے میں اسقدر غرق ہو چکی ہے کہ وہ فحش مواد دیکھتے دیکھتے خود اسکا حصہ بن چکی ہے ،
    اس کی سب سے بڑی وجہ اس قسم کے مواد کی آسانی سے دستیابی ہے۔لمحہ فکریہ ہے کے 8 سال کے بچے سے لیکر 16 سال کے نوجوان تک نوے فیصد لوگ فحش مواد دیکھنے والوں کا حصہ ہیں۔فحش مواد نا صرف اخلاقی طور پہ تباہ و برباد کرتا ہے صحت کو انتہائ بری طرح متاثر کرتا ہے بلکہ اس نے رشتوں کے تقدس کو بھی بری طرح پامال کر کے رکھ دیا ہے۔

    نوجوان نسل کی تباہی کی اور بے راہ روی کی ایک اہم وجہ بےروزگاری اور وسائل کی عدم دستیابی بھی ہے۔ اعلی تعلیم کے باوجود جب نوکری نہی ملتی تو نوجوان چور راستے اختیار کرتے ہیں اور ہر قسم کا جرم چاہے وہ ڈاکہ زنی ہو یا عصمت زنی کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں ۔
    روزگار کا نا ملنا ایسا عفریت ہے جو صرف پسماندہ ممالک ہی نہی بلکہ ترقی یافتہ مما لک کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ان تمام عوامل اور خطرات سے نوجوان نسل کے متاثر ہونے میں والدین بھی برابر کے زمہ دار ہیں۔ نسل نوجواں کو اچھے برے کی تمیز سکھانا ،اس کی ہر حرکت پہ نظر رکھنا والدین کی زمہ داری ہے ،پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے، لیکن آج کل کے والدین ہر عمل کو معاشرے کے سر ڈال کر خود بری الزماں ہو جاتے ہیں جو کہ سراسر خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے ۔

    نوجوان نسل کو ،اپنے ملک کے معماروں کو اور اپنے ملک کو تباہی سے بچانا ہے تو مل کر ان سب عوامل کا حل سوچنا ہوگا
    @IK_fan01

  • شادی میں تاخیر کی وجوہات اور سماجی مسائل – آصف گوہر

    شادی میں تاخیر کی وجوہات اور سماجی مسائل – آصف گوہر

    شادی میں تاخیرکی وجوہات اور سماجی مسائل
    تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے ۔

    "تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے.”
    سورة النور 32
    ہمارے ہاں بچوں کی شادیوں میں تاخیر کی جو سب سے بڑی ایک وجہ ہے وہ بچہ ابھی پڑھ رہا ہے تعلیم مکمل نہیں کی اگر تعلیم مکمل ہوچکی ہے تو ابھی ملازمت کی تلاش ہے۔ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم اور روزگار کے چکر میں ایسا پھنسایا ہوا ہے کہ شادی کرنے کی جو اصل عمر ہوتی ہے وہ کب کی گزر جاتی ہے جس سے نوجوانوں میں کئ طرح کے نفسیاتی اور سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا سامنا اکثر معاشرے کو کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد بھی تعلیم مکمل کی جاسکتی ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور رزق کا وعدہ اللہ سبحان و تعالی کا ہے۔ اللہ نکاح کے بعد رزق دروازے کسی پر بند نہیں کرتا۔
    تعلیم اور روزگار میسر آجانے کے بعد دوسرا مرحلہ جو بچوں کی شادی میں مزید تاخیر کا باعث بنتا ہے وہ آئیڈیل بہترین اور ہم پلہ جیسے حیلے ہیں والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑی جگہ ہاتھ مارا جائے لڑکے والوں کو اپنے چاند کے لئے لمبے قد والی سمارٹ اعلی تعلیم یافتہ گورے رنگ اور ایسی لڑکی کا رشتہ درکار ہوتا ہے جس کے زیادہ بہن بھائی بھی نہ ہوں چاہے انکا اپنا چاند گرہن زدہ ہی کیوں نہ ہو ان کو لڑکی ماڈل کی طرح ہر لہذا سے مکمل ہی کی طلب ہوتی ہے اور اس آئیڈیل کی تلاش میں بچوں کی عمر میں کئ سال کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
    برسر روزگار کمانے والی لڑکیوں کی شادی میں بھی اکثر والدین تاخیر کرتے ہیں کیونکہ بچی اپنے والدین کے لئے آمدنی کا ذریعہ بنی ہوتی ہے اور اس کی آمدنی سے چھوٹے بہن بھائیوں کے تعلیمی یا دیگر اخراجات پورے ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اور ہمارے معاشرے اور کلچر میں یہ رواج نہیں کہ بچے اپنی شادی کا مطالبہ والدین کے سامنے پیش کریں
    اور یوں اسطرح کی بچیاں اور بچے نظر انداز ہوتے رہتے ہیں اور شادی کی عمر گزار بیٹھتےہیں ۔
    شادی میں تاخیر کا شکار ہونے والے نوجوان اور افراد اپنی فطری اور جسمانی ضرورت کے لئے کیا کرتے ہیں اور اس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں میں اس پر گفتگو نہیں کروں گا۔
    جن نوجوانوں شادیاں لیٹ ہوتی ہیں انکی تولیدی صلاحیت میں کمی فطری بات ہے ۔
    لیٹ شادی والے والدین کے بچے ابھی چھوٹے ہی ہوتے ہیں کہ وہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں اور اکثر بچوں کی تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی وفات پا جانے ہیں یا کسی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اپنی اولاد کی خوشیوں میں شامل ہونے یادیکھنے سے قبل ہی وفات پا جاتے ہیں ۔
    ہمیں اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے والدین اپنے بچوں کی شادیوں میں تاخیر نہ کریں اسطرح ان کے بچے کئ نفسیاتی معاشرتی اور سماجی مسائل سے محفوظ ہو جائیں گے یقینا اس کا اثر معاشرے پر بھی پڑے گا اور بے رہ راوی اور جنسی جرائم میں بھی کمی آئے گی۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • دہشتگردی اور ہمارا معاشرہ  تحریر: محمد اشرف

    دہشتگردی اور ہمارا معاشرہ تحریر: محمد اشرف

    دہشتگردی ایک ایسا موضوع ہے جو موجودہ دور میں بین الااقوامی سطح پر سے گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ایک مطلب براری کا وحشیانہ حربہ ہے جس کے ذریعے کچھ لوگ، گروہ یا ممالک اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر ہماری تاریخ میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں طاقت ور ممالک کی باہمی آویزشیں کئ صورتوں میں سامنے آئی ہیں ۔
    دہشتگردی کے محرکات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔پہلے تو اسکی سرپرستی مختلف ممالک کررہے ہوتے ہیں ۔ایک ملک دہشتگردی کے ذریعے دوسرے ملک کو دبا کر اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس ضمن میں دنیا کے طاقت ور ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مثلاً امریکا کی ایجنسی’سی آئی اے اور روسی ایجنسیاں وغیرہ سرگرم عمل دکھائی دیتی ہیں ۔ایسی ایجنسیاں خفیہ طریقوں سے ممالک میں دہشت گرد حملے کراتی ہیں ۔
    دہشت گردی کی کئی صورتیں ہوتی ہیں جیسا کہ فرقہ واریت ،طبقاتی کشمکش ،غربت وبے روزگاری اورخودکش دھماکہ وغیرہ دہشت گردی کی خطرناک ترین صورت ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور سے نجات کیسے ممکن ہے ۔اس ضمن میں بین الا قوامی سطح پر اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہیے ۔یہ حقیقت ہے اگر اقوام متحدہ یہ پابندی لگا دے کہ کوئی ملک ذاتی دشمنی میں کسی دوسرے ملک میں کوئی تخریبی کاروائی یا دہشت گردی کی سرپرستی نہیں کرسکتا تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کا پودا جڑ سے نہ اکھڑ جائے۔مزید کہ عالمی سطح پر ناجائز قبضے ختم کروائے جائے تاکہ حاکم اور محکوم کے درمیان آویزش ختم ہو جائے۔
    جہاں تک علاقائی دہشتگردی کا تعلق ہے، اسکو ختم کرنے کیلئے تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ہر ریاست کو چاہئے کہ عوام کیلئے مناسب تعلیم اور روزگار کا بندوبست کرے۔ قوم کے مناسب تعلیم اور بروقت روزگار مل جائے گا تو وہ خود ان سرگرمیوں سے دور رہیں گے ۔ اسطرع ملک میں عدل و انصاف پیدا ہوگا۔
    ہمارے اساتذہ اور مزہبی زُعما کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔انھیں طالبعلموں اور عوام الناس میں رواداری ،برداشت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنی چاہیے ۔ظاہر ہے کہ جب اَہل معاشرہ اِحترام آدمیت کے پاسدار ہو جائیں گے تو وہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے کی بجائے ایک دوسرے کی راحت کے اَمین بن جائیں گے ۔

    @M_Ashraf26

  • حکمران اور ہماری عوام تحریر:  زوبیہ سدوزئی

    حکمران اور ہماری عوام تحریر: زوبیہ سدوزئی

    اپنی عوام کو حکمرانوں سے پیار کرتے دیکھتی ہوں تو اک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا یہ حکمران بھی عوام سے اتنا پیار کرتے ہیں؟ ہر بار الیکشن آتے ہیں اور ہر بار عوام کو جھوٹے لارے لگا کر بےوقوف بنایا جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے غریب اور معصوم عوام جو روزی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں ان کی نفسیات پڑھ لی ہیں۔ اک غریب آ دمی جس کے گھر پانی تک فراہم نہیں اس کے علاقے کا امیدوار وہاں جائے گا اور اسے پانی اور پائپ کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کر لے گا۔ اک غریب آدمی جس کے گھر کھانے کو کچھ نہیں وہاں کا امیدوار کچھ اناج اور پیسوں کا لالچ دے کر اس سے ووٹ لے لے گا۔ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر ہم سے یہ پیار کرتے ہوں تو یہ صرف اور صرف ووٹ مانگنے کے ٹائم ہی ہمارے پاس آتے ہیں؟ کیا عوام نے کبھی یہ سوچا کہ جو لوگ موروثی سیاست سے آگے آئے ہیں جو سونے کا چمچ لے کے پیدا ہوئے ہیں انہیں غریب کے درد کا اس کی مشکلات کا کیسے احساس ہو گا؟ مریم نواز اور بلاول جیسے لیڈر کیسے ان کا احساس کر سکتے ہیں اک جس کا سب کچھ لنڈن میں ہے اور دوسرا جسے اپنی مادری زبان تک بولنا نہیں اتی۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جس نے کوشش کی ہو جو محنت کر کے آگے آ یا ہو وہی اپنی عوام کا درد رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ جس کو آپ ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کر سکے گا یا نہیں۔ وہ اس ملک کے لیے کام کر رہا ہے یا صرف اپنی کرسی کے لیے اور دولت کے نشے لوٹنے کے لیے۔

  • دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا میعار
    تحریر : توقیر عالم

    ہم پاکستانی بحثیت قوم جس زوال کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارا دہرا میعار ہے حدیث نبوی ہے ” تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ”
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ھو گا کہ ہمارا میعار اپنے مفادات اور ترجیحات کی بنیاد پر بدل جاتا ھے
    سارا دن ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے والا افسر شام کو واپسی پر چند منٹ کی گرمی برداشت نہیں کر پاتا اور سخت گرمی کے سٹیٹس لگاتا ہے مگر اپنے نیچے سخت گرمی میں کام کرنے والے مزدور کو چند منٹ سکون کرتا دیکھ کر برہم ھو جاتا ہے
    خدا سے دن میں پانچ وقت نماز میں رحم اور کرم کی دعا مانگنے والا امید رکھتا ہے خدا اسے معاف کرے مگر خود نہ تو کسی دوسرے انسان کو معاف کرنا گوارہ کرتا ہے نہ ہی کسی کے عیب چھپاتا ہے الٹا اس کے جہنمی ھونے کے فتوے جاری کرتا ہے کیا معلوم اس انسان کی کونسی ادا بارگاہ خداوندی میں مقبول ھو جائے اور بخشش کا وسیلہ بن جائے ایسے ہی اگر آپ کہیں مہمان جا رہے ہیں تو جان لیں آپ کی عزت اور مہمان نوازی آپ کی مالی حیثیت کے مطابق کی جائے گئی اب تو غریب بھائی سے تعلق منقطع کر لیا جاتا ہے اور امیر دوستوں کو بھائی بنا لمیا جاتا ہے
    نظام عدل کی بات کی جائے تو انصاف کا میعار آپ کی مالی حیثت طے کرے گی اگر آپ غریب ہیں تو سمجھ لیں جمع پونجی اور وقت برباد ھو گا مگر انصاف ملنے کی امید بہت کم ہے اگر آپ صاحب حثیت ہیں تو خوش خبری ہے آپ کو بہت جلد انصاف مل جاے گا بلکہ آپ کی مالی حالت کے حساب سے بہت زیادہ بھی مل سکتا ہے اگر آپ سابقہ وزیر اعظم ہیں تو آپ کو اربوں روہے کی کرپشن کے الزامات کے باوجود عدالت کے ذریعے لندن جانے کی اجازت مل جاتی ھے البتہ اگر آپ غریب صلاح الدین ہیں تو پولیس کی حراست میں مارے جائیں گے
    ہماری صحافت میں دوہرے میعار کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ابھی چند روز پہلے دو صحافیوں پر تشدد کیا گیا اک صحافی کی بھرپور حمایت کی گئی جبکہ دوسرے صحافی کے معاملے میں خاموشی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارا میعار اخلاقیات نہیں اپنے تعلقات ہیں آج عیدالضحیٰ کے موقع جب تمام مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر رہے ہیں تو سارا سال کے ایف سی میکڈونلڈ نہاری اور بریانی کھانے اور ان کی مشہوری کرنے والے صحافی ہمیں جانوروں کی قربانی سے باز رہنے کی تلقین فرما رہے ہیں
    سیاست میں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں کرونا سے بچنے کی تدابیر کے بارے میں میڈیا پر آگاہی مہم میں حکومت اور اپوزیش بھرپور طریقے سے حصہ لیتی ہے مگر پھر پی ڈی ایم کے پورے پاکستان میں جلسے اور ان میں احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن نے انسانی جانوں کی پرواہ کئیے بغیر بیسیوں جلسے کئیے اور ان میں کسی احتیاطی تدبیر کا خیال نہیں رکھا گیا
    ضیاالحق کے دور حکومت میں جہاد کو حکومتی سطح پر بھرپور تعاون حاصل رہا اور افغانستان میں روس کو شکست دی گئی مجاھدین ہمارے ہیرو قرار پائے
    وقت اور حالات بدلے اور انہیں مجاھدین کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا مجاھدین کے خلاف بیس سال تک امریکہ کی مدد کی گئی وقت نے ایک بار پھر کروٹ بدلی امریکہ رات کی تاریکی میں افغانستان سے نکل بھاگا اور مجاھدین پھر سے ہمارے محسن اور ہیرو قرار پائے افغانستان میں طالبان کی فتح پر خوشیاں منانے والی پاکستانی حکومت خود پاکستان میں جماعت الدعوۃ اور تحریک لبیک جیسی مذہبی تنظیموں پر پابندی لگا چکی ہے اور ان کی قیادت پابند سلاسل ہے کشمیر و فلسطین پر آواز بلند کرنے والے چین کے اویغور مسلمانوں کے حق میں ایک بیان تک نہیں دے سکے
    الغرض ہمارے مفادات اور ترجیحات کے باعث ہمارے میعار بدل جاتے ہیں
    خدا ہم سب کو حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا کرے۔

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن
    توقیر عالم

    توقیر عالم ایک پر امید فری لانس رائٹر ہیں۔ ان کی تحاریر ملک عزیز کے نمایاں پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ پر وزٹ کریں۔
    @lovepakistan000

  • عید_قرباں اظہارِ قربت ہے اور شکر رب العالمین کا زریعہ ہے تحریر: انجینئر مدثر

    عید_قرباں اظہارِ قربت ہے اور شکر رب العالمین کا زریعہ ہے تحریر: انجینئر مدثر

    عید قرباں ہے ہر سو ہر جگہ اسی کی برکتیں دکھائی دیتی ہیں. کہیں بکروں کی رونقیں تو کہیں بچھڑوں کے پاؤں میں بندھے کھنکتے گھنگطروں کی چھنکاریں ہیں. کہیں عید کی نماز کے بعد قربانی شروع تو کہیں قصائی کا انتظار جاری ہے.
    اس سب کشمکش میں ایک اہم کام جو کرنے کا ہے اور جو عید کے مقاصد میں سے ایک ہے وہ ہے خوشیاں بانٹنا اور گلے شکوے بھلا کر پھر سے متحد ہونا. ٹوٹے تعلقات کی از سرنو بحالی اور کمزوروں کا احساس.

    *قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے پیچھے مقصد بھی تو یہی ہے.*
    اپنے حصے کے بعد رشتاداروں اور دوست احباب کو جو حصہ دیا جاتا ہے یہ وہ تحفہ ہوتا ہے جو پرانی رنجشوں کو مٹانے اور از سر نو رشتوں کی تکمیل کے لیے انتہائی کارآمد نسخہ ہے

    *بلا شبہ شریعت کی ہر ایک چیز میں بھلائی ہی بھلائی ہے*
    رشتہ داروں میں سے ٹوٹے دلوں پر مرہم رکھنا عید کے کاموں میں اہم کام ہے.
    تیسرا حصہ غریبوں مسکینوں اور ان لوگوں کے نام جو قربانی میں شریک ہو کر اپنی قربانی نا کر سکے. دیں اسلام کی خوبصورتی ہی یہی ہے ہر کسی کو خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دیتا ہے. تاکہ کسی کے دل میں مفلسی یا مجبوری کا خیال تک نا رہے اور ہر مسلمان خوشی خوشی عید کی خوشیاں منا سکے. غریبوں کا غریب ہونا ان کا اپنا اختیار ہرگز نہیں یہ تو اللہ رب العزت کی تقسیم ہے جسے چاہے امیری دے اور جسے چاہے غریبی. جسے چاہے مں کی امیری اور خرچ کرنے کا جزبہ دے اور جسے چاہے من کی غریبی اور کنجوسی.
    اگر ہم فراغ دلی کا مظاہرہ کریں تو رب تعالیٰ پسد فرمائے گا اور مزید برکتیں عطا فرمائے گا.
    اللہ رب العزت نے اپنی پاک کتاب میں ارشادفرمایا.
    سورۃ ابراہیم آیت نمبر 7.
    وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا
    حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جسے شکر کرنے کی توفیق ملی وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ‘‘ یعنی اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ جسے توبہ کرنے کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے’’وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ‘‘ یعنی اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے ۔ (در منثور، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۷، ۵ / ۹)

    (2)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللّٰہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، ۶ / ۵۱۶، الحدیث: ۹۱۱۹)

    (3)…حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، ۱ / ۴۸۴، الحدیث: ۶۰)

    (4)…سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘ یعنی اے اللّٰہ ! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، ۲ / ۱۲۳، الحدیث: ۱۵۲۲) اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوراپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے ، اٰمین۔([1])
    عید ہمارے لیے پیغام محبت لاتی ہے. لہٰذا محبت بانٹیں. گوشت کے ساتھ ساتھ مخلصی کو فروغ دیں. رشتوں میں پیار بڑھائیں. اپنی شادی شدہ بہن بھائیو کے گھر ضرور جائیں عید کی خوشیوں کو گقشت کے ساتھ تقسیم کریں. اپنے بچوں میں اپنے رشتہ داروں کی محبت کو پروان چڑھائیں. ان کے دلوں میں بڑوں کی تعظیم کا بیج بوؤیں.

    یتیم اور مسکین سے شفقت والا معاملہ کریں. ایسا نہ ہو کہ آپ کا اندازِ تقسیم کسی کے لئیے باعثِ تقلیف بن جائے. عید خوشیاں بانٹنے کا نام ہے اس لئے اس کے اصل مقصد کو ملحوظ خاطر رکھا جائے. کیونکہ یہ رضا الہی کے لیے قربانی کی جاتی ہے تو رضا الہی والے اعمال سے ہی اس عید کو منائیں. ٹوٹے تعلق جوڑیں محلے داروں رشتہ داروں دوستوں یاروں اپنے پیاروں میں خوشیاں بانٹیں. دکھ مٹائیں. احساس اور نرمی والا معاملہ کریں اور عید منائیں.

  • قربانی کا پیغام، میرے اور آپ کے نام – عمران محمدی

    قربانی کا پیغام، میرے اور آپ کے نام – عمران محمدی

    قربانی کا پیغام میرے اور آپ کے نام

    بقلم
    عمران محمدی
    ( عفا اللہ عنہ )

    *===============*

    1️⃣ *قربانی اخلاص کا درس دیتی ہے کہ اعمال صالحہ خالص اللہ تعالٰی کے لیے ہی بجا لائے جائیں*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
    کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔
    الأنعام : 162

    مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی قلبی، زبانی اور جسمانی عبادات، مثلاً قیام، رکوع اور سجود، یہ سب غیر اﷲ کے لیے تھیں، اسی طرح ان کی قربانیاں اور زندگی اور موت کا وقت سب انھی کی نذر تھا، ہاں کبھی ﷲ تعالیٰ کو بھی شامل کر لیتے تھے۔ فرمایا، ان سے صاف کہہ دیجیے کہ میرا تو یہ سب کچھ ایک اﷲ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہے اور سب سے پہلے میں اپنے آپ کو ایک اﷲ تعالیٰ کے سپرد کرنے والا اور اس کا فرماں بردار بنانے والا ہوں، میرا جینا اور مرنا بھی اس اکیلے کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے ساتھ شرک کو ختم کرنے کے لیے ہے، حتیٰ کہ اسی پر میری موت آ جائے۔

    2️⃣ *قربانی تقوی کا درس دیتی ہے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے

    لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ
    اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا۔ اسی طرح اس نے انھیں تمھارے لیے مسخر کر دیا، تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔
    الحج : 37

    یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس نہ قربانیوں کے گوشت پہنچیں گے، جو کھا لیے گئے اور نہ ان کے خون، جو بہا دیے گئے۔ یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے غنی ہے، اس کے پاس تو تقویٰ یعنی تمھارے دل کا وہ خوف پہنچے گا جو اللہ کی ناراضگی سے بچاتا ہے، جو دل پر غالب ہو جاتا ہے تو آدمی اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتا اور ہر منع کردہ کام سے باز آ جاتا ہے۔

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَلٰكِنْ يَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَ أَعْمَالِكُمْ ]
    [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ… : 2564/34 ]
    ’’اللہ تعالیٰ تمھاری شکلوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔‘‘

    اس آیت اور حدیث سے دل کے تقویٰ اور نیت کے اخلاص کی اہمیت ظاہر ہے، اس لیے قربانی خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ دکھاوا مقصود ہو اور نہ شہرت، نہ فخر اور نہ یہ خیال کہ لوگ قربانی کرتے ہیں تو ہم بھی کریں۔ نیت کے بغیر عمل کا کچھ فائدہ نہیں۔ نیت خالص ہو تو بعض اوقات عمل کے بغیر ہی بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے۔

    انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا :
    [ إِنَّ بِالْمَدِيْنَةِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيْرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوْا مَعَكُمْ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ ؟ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِيْنَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ]
    [ بخاري، المغازی، باب : ۴۴۲۳ ]
    ’’مدینہ میں کئی لوگ ہیں کہ تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ تمھارے ساتھ رہے ہیں۔‘‘ لوگوں نے کہا : ’’یا رسول اللہ! مدینہ میں رہتے ہوئے؟‘‘ فرمایا : ’’ہاں! مدینہ میں رہتے ہوئے، انھیں عذر نے روکے رکھا۔‘‘

    نیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آدمی کی زندگی جتنی بھی ہو محدود ہے، یعنی صرف چند سال، اگر اس میں نیک عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں اور برے عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔ محدود عمل پر غیر محدود جزا نیت کی وجہ سے ہے کہ نیک کی نیت ہمیشہ نیکی کرتے رہنے کی اور بد کی نیت ہمیشہ بدی کرتے رہنے کی تھی۔

    تقویٰ ہر وقت اللہ کے خوف سے اس کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔
    احسان بھی یہی ہے کہ ہر وقت یہ بات دل و دماغ میں حاضر رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کی تفسیر فرمائی :
    [ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ]
    [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل… : ۵۰ ]
    ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقینا تمھیں دیکھ رہا ہے۔‘‘

    3️⃣ *قربانی سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے اسوہ حسنہ پر بھی عمل کرنے کا پیغام دیتی ہے کیونکہ قربانی سنت ابراہیم علیہ السلام ہے*

    سنتِ ابراہیمی اپنانے کے ساتھ ساتھ عقیدہءِ ابراہیمی بھی اپنایا جائے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    قَدۡ كَانَتۡ لَـكُمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ فِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ‌ۚ
    یقینا تمہارے لیے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ ہے
    الممتحنة – آیت 4

    اور فرمایا
    اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ‌ فَبِهُدٰٮهُمُ اقۡتَدِهۡ ‌ؕ
    یہی( انبیاء )وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر،
    الأنعام – آیت 90

    یعنی توحید اور عقائد میں ان کی راہ پر قائم رہیے، کیونکہ تمام انبیاء ان باتوں میں متفق ہیں، باقی احکام میں سے بھی جو منسوخ نہیں ہوئے ان کی بھی پیروی کیجیے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جن کاموں میں کوئی نیا حکم نہیں آیا ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے انبیاء کے طریق پر رہنے کا حکم تھا۔

    مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا :
    ’’کیا سورۂ ص میں سجدہ ہے؟‘‘
    تو انھوں نے «وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ» سے لے کر «فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ» تک تلاوت کر کے فرمایا :
    ’’ہاں، وہ (داؤد علیہ السلام ) بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کی پیروی کا آپ کو اس آیت میں حکم دیا گیا ہے اور اس آیت میں داؤد علیہ السلام کے سجدے کا ذکر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان انبیاء کی پیروی کا حکم ہے۔‘‘
    [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «أولئك الذين هدي الله … » : ۴۶۳۲ ]

    4️⃣ *قربانی، اللہ تعالٰی کی راہ میں جان، مال اور اولاد تک کی قربانیوں کے لیے تیار کرتی ہے
    اسی لئے تو پہلے ابراہیم علیہ السلام کو بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیا گیا اور یہی قربانی کا فلسفہ ہے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعۡىَ قَالَ يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى‌ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ
    پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے ! بلاشبہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ بیشک میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو دیکھ تو کیا خیال کرتا ہے ؟ اس نے کہا اے میرے باپ ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے تو اسے کر گزر اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں سے پائے گا
    الصآفات 102

    ابراہیم علیہ السلام وقتاً فوقتاً شام سے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کی خبر گیری کے لیے آتے رہتے تھے۔ جب بیٹا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا، یعنی اس قابل ہو گیا کہ باپ کا ہاتھ بٹا سکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام کو ایک نیا امتحان پیش آیا۔ وہ یہ کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑی دعاؤں اور آرزؤوں کے بعد بڑھاپے میں ملنے والے نہایت عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اسے اللہ کا حکم سمجھ کر کسی بھی تردّد کے بغیر اس پر عمل کا پکا ارادہ کر لیا اور بیٹے سے کہا، اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو دیکھ، تو کیا خیال کرتا ہے۔

    بیٹے کی رائے پوچھنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ اگر وہ نہ مانتا تو وہ اللہ کے حکم پر عمل نہ کرتے، بلکہ وہ اپنے ساتھ بیٹے کو اللہ کے حکم کی اطاعت میں شریک کرنا چاہتے تھے اور انھیں امید تھی کہ بیٹا اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے ضرور آمادگی کا اظہار کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حلیم لڑکے کی بشارت دی تھی اور واقعی بیٹے نے یہ کہہ کر حلیم ہونے کا ثبوت دیا
    قَالَ يٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ
    اے میرے باپ ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے تو اسے کر گزر
    اس سے معلوم ہوا کہ اسماعیل علیہ السلام نے اسے محض خواب نہیں بلکہ اللہ کا حکم سمجھا اور کہا اے میرے باپ! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے وہ کیجیے۔ یہ صاف دلیل ہے کہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام دونوں نے یہی سمجھا اور دونوں اسے اللہ کا حکم سمجھ کر اس کی تعمیل کے لیے تیار ہو گئے۔

    سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ : اس میں اسماعیل علیہ السلام کی کمال اطاعت کے ساتھ ان کا کمال صبر ظاہر ہو رہا ہے، جو ان کے ’’ غُلَامٌ حَلِيْمٌ ‘‘ ہونے کا نتیجہ تھا۔ اطاعت اور صبر کے ساتھ ان کا اللہ تعالیٰ کے لیے حسنِ ادب بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اپنی اطاعت اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے تابع قرار دیا کہ اگر اس نے چاہا تو میں اس آزمائش پر صبر کروں گا۔
    (تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ)

    کسی صاحب نے لکھا ہے کہ اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگو تھی
    دنبہ کی قربانی تو اس کا فدیہ تھی
    ہمیں دنبہ یاد رہا گفتگو یاد نہیں رہی

    5️⃣ *قربانی اپنے سب سے اچھے اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا پیغام دیتی ہے*

    فرمان باری تعالٰی
    لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ
    تم پوری نیکی ہرگز حاصل نہیں کرو گے، یہاں تک کہ اس میں سے کچھ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔
    آل عمران – آیت 92

    نیکی میں کامل درجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عزیز ترین چیز صرف کی جائے۔

    اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کی ایک دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

    (1)انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ’’یا رسول اللہ ! میری جائداد میں سے مجھے سب سے محبوب ’’بَيْرُحَاء‘‘ باغ ہے (جو عین مسجد نبوی کے سامنے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا نفیس پانی پیا کرتے تھے) اور اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
    «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ »
    سو میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس کے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں، آپ اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرما دیں۔‘‘
    [ بخاری، الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الأقارب … : ۱۴۶۱، مختصرًا ]

    (2)عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
    ’’اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں سے جو حصہ ملا ہے اس سے بڑھ کر نفیس مال مجھے آج تک حاصل نہیں ہوا، میں نے ارادہ کیا ہے کہ اسے صدقہ کر دوں۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’اصل اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کے راستے میں تقسیم کر دو۔‘‘
    چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وقف کر دیا۔
    [ بخاری، الشروط، باب الشروط فی الوقف : ۲۷۳۷۔ ابن ماجہ :۲۳۹۶، ۲۳۹۷ ]

    *قربانی کے جانور کے لیے جوان، تندرست اور بے عیب ہونے کی شروط لگائی گئی ہیں تاکہ اللَّهُ کی راہ میں محبوب ترین مال خرچ کرنے کی عادت پیدا ہو*

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا
    لَا يَجُوزُ مِنْ الضَّحَايَا الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي

    ’’چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، مریض جس کا مرض واضح ہو اور اتنا کمزور جانور کہ اس میں گودا تک نہ ہو۔‘‘
    نسائي 4376

    6️⃣ *قربانی، غریبوں، مسکینوں اور عام مسلمانوں کو کھانہ کھلانے، مظلوم اور دکھی انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآٮِٕسَ الۡفَقِيۡـرَ
    سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ۔
    الحج – آیت 28

    اور فرمایا
    فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَالۡمُعۡتَـرَّ ‌ؕ
    تو ان سے کچھ کھاؤ اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔
    الحج – آیت 36

    حدیث میں آتا ہے
    جس سال مدینہ منورہ میں باہر سے کافی زیادہ تعداد میں لٹے پھٹے مہاجرین آئے تھے اس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تین دن سے زیادہ گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا تھا تاکہ ان سے تعاون کیا جا سکے

    عبد اللہ بن ابی بکر نے حضرت عبد اللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا:
    نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ فَقَالَتْ صَدَقَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادَّخِرُوا ثَلَاثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَ الْأَسْقِيَةَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا نَهَيْتَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَ إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین (دن رات ) کے بعد قربانیوں کے گو شت کھا نے سے منع فر ما یا ۔عبد اللہ بن ابی بکر نے کہا : میں نے یہ بات عمرہ (بنت عبد الرحمان بن سعد انصار یہ ) کو بتا ئی عمرہ نے کہا : انھوں نے سچ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے (بھوک اور کمزوری کے سبب) آہستہ آہستہ چلتے ہو ئے جہاں لو گ قربانیوں کے لیے مو جو د تھے (قربان گا ہ میں)آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” تین دن تک کے لیے گو شت رکھ لو ۔ جو باقی بچے (سب کا سب ) صدقہ کر دو۔”دوبارہ جب اس (قربانی ) کا مو قع آیا تو لو گوں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !لو گ تو اپنی قربانی (کی کھا لوں ) سے مشکیں بنا تے ہی اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” کیا مطلب ؟” انھوں نے کہا : یہ (صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ) آپ نے منع فرما یا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت (وغیرہ استعمال نہ کیا جا ئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :” میں نے تو تمھیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آپا ئے تھے ۔اب (قربانی کا گو شت ) کھا ؤ رکھو اور صدقہ کرو۔”
    مسلم 5103

    لوگوں کو کھانا کھلانے کی عظمت و شان ان آیات میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے

    وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
    اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو۔
    الإنسان : 8
    إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا
    (اور کہتے ہیں) ہم تو صرف اللہ کے چہرے کی خاطر تمھیں کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
    الإنسان : 9
    إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا
    یقینا ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت منہ بنانے والا، سخت تیوری چڑھانے والا ہو گا۔
    الإنسان : 10
    فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا
    پس اللہ نے انھیں اس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور انھیں انوکھی تازگی اور خوشی عطا فرمائی۔
    الإنسان : 11
    وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا
    اور انھیں ان کے صبر کرنے کے عوض جنت اور ریشم کا بدلہ عطا فرمایا۔
    الإنسان : 12
    مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا
    وہ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ اس میں سخت دھوپ دیکھیں گے اور نہ سخت سردی۔
    الإنسان : 13

    7️⃣ *قربانی درس دیتی ہے کہ اللہ تعالٰی کی نعمتیں اور نشانیاں دیکھ کر سبق حاصل کیا جائے اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا جائے*

    وَالۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰهَا لَـكُمۡ مِّنۡ شَعَآٮِٕرِ اللّٰهِ لَـكُمۡ فِيۡهَا خَيۡرٌ‌ ‌ۖ فَاذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهَا صَوَآفَّ‌ ۚ فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُهَا فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَالۡمُعۡتَـرَّ ‌ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرۡنٰهَا لَـكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏
    اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے، تمہارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔ سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں، پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھاؤ اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔ اسی طرح ہم نے انھیں تمہارے لیے مسخر کردیا، تاکہ تم شکر کرو۔
    الحج – آیت 36

    "الْبُدْنَ ‘‘ بڑے بدن والا جانور۔
    یہ لفظ بڑے جسم کی وجہ سے اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
    گائے کو بھی ’’بَدَنَةٌ‘‘ کہہ لیتے ہیں
    قاموس میں ہے :
    ’’ اَلْبَدَنَةُ مُحَرَّكَةً مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كَالْأُضْحِيَةِ مِنَ الْغَنَمِ‘‘
    ’’یعنی جس طرح بھیڑ بکری کی قربانی کو اضحیہ کہتے ہیں اسی طرح اونٹ اور گائے کو بدنہ کہتے ہیں۔‘‘

    حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    [ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّيْنَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ نَّشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِيْ بَدَنَةٍ ]
    [ مسلم، الحج، باب جواز الاشتراک في الھدی… : 1318/351 ]
    ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے نکلے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹوں اور گائیوں میں شریک ہو جائیں، ہم میں سے ہر سات آدمی ایک بدنہ میں شریک ہو جائیں۔‘‘

    *فائدہ* اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ اور گائے دونوں کو بدنہ کہتے ہیں اور یہ کہ حج کے موقع پر اونٹ اور گائے دونوں میں سات سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔

    یعنی یہ ہم ہیں جنھوں نے اس طرح بے بس کرکے اتنے بڑے قوی ہیکل اونٹ اور بیل، جو طاقت میں تم سے کہیں زیادہ ہیں، تمھارے تابع کر دیے ہیں۔ تم ان سے جو فائدہ چاہتے ہو اٹھاتے ہو، ان پر بوجھ لادتے ہو، سواری کرتے ہو، دودھ پیتے ہو اور جب چاہتے ہو ذبح کر لیتے ہو، وہ اف نہیں کرتے۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو، نہ کہ مشرکین کی طرح ان کا جن کا نہ ان چوپاؤں کے پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے اور نہ تمھارے لیے تابع کرنے میں

    *اتنے بڑے، مضبوط اور قوی ہیکل جانور، اللہ کے حکم سے انسان کے ایسے تابع فرمان ہوئے کہ جب چاہے انہیں ذبح کر کے کھا جائے اور جب چاہے ان پر سواری کرے شائد یہی وجہ ہے کہ بوقت سواری اللہ کی تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے*

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ
    اور وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے اور تمھارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
    الزخرف : 12
    لِتَسْتَوُوا عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ
    تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو، جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔
    الزخرف : 13
    وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
    اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔
    الزخرف : 14

    ہمارے استاذ گرامی جناب حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ لکھتے ہیں
    *انسان جب گھوڑوں، گدھوں، خچروں، اونٹوں یا کشتیوں پر سوار ہوتا ہے اور جم کر بیٹھ جاتا ہے تو عام عادت بن جانے کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سواریوں کو تابع کر دیے جانے کی کتنی بڑی نعمت عطا ہوئی ہے۔ ذرا کسی شیر یا چیتے یا کسی اور جنگلی جانور پر اس طرح جم کر بیٹھے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر ہو گی۔ یہی حال سمندر میں پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان بحری جہازوں پر سکون و اطمینان کے ساتھ سواری کا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے کشتیوں اور چوپاؤں میں سے تمھارے لیے سواریاں بنائیں، تاکہ ان کی پشتوں پر جم کر بیٹھو، پھر جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ تو اپنے رب کی انھیں تمھارے لیے مسخر کرنے کی نعمت یاد کرو۔*

    *اور دل میں یاد کرنے کے ساتھ زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح ان الفاظ میں بیان کرو، تاکہ تمھیں احساس رہے اور اقرار بھی ہوتا رہے کہ ان سواریوں کو قابو میں لانا کبھی ہمارے بس کی بات نہ تھی اور یہ بھی کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ان سواریوں کی محتاجی ہم مجبور بندوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا مالک ہر قسم کے احتیاج اور مجبوری سے پاک ہے۔اگر انسان سوچے تو سواریوں سے پہلے زمین کی پشت بھی چوپاؤں اور کشتیوں کی پشت کی طرح ہے، جس پر سوار وہ زمانے کے حوادث اور تھپیڑوں کے درمیان جم کر محوِ سفر ہے۔ سو ہماری ابتدا ہمارے رب کی طرف سے ہوئی، اس نے زندگی بسر کرنے کے لیے زمین کی پشت کو ہمارے لیے بچھونا بنا دیا، پھر اس نے چوپاؤں اور کشتیوں کی پشت کو ہمارے لیے جائے سکون بنا دیا، اب ساری عمر ہم ان پر سکون و اطمینان کے ساتھ سوار ہوتے رہتے ہیں۔*

    ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کی طرف نکلتے ہوئے سواری پر جم کر بیٹھ جاتے تو تین دفعہ ’’اَللّٰهُ أَكْبَرُ‘‘ کہتے، پھر کہتے : [ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِيْ سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيْفَةُ فِي الْأَهْلِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَ الْأَهْلِ ]

    ’’ پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور عمل میں سے ایسے عمل کا جسے تو پسند فرمائے۔ اے اللہ ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کی دوری کو ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں جانشین ہے۔ اے اللہ ! میں سفر کی مشقت اور غم ناک منظر دیکھنے سے اور مال اور اہل میں ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

    8️⃣ *قربانی ہمیں درس دیتی ہے کہ اللہ تعالٰی کو جوانی کی عبادت اور جوانی کی قربانی بہت پسند ہے*

    یعنی اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی عین جوانی، صحت اور تندرستی کی حالت میں اللہ تعالٰی کے لیے وقف رکھا جائے یہ نہیں کہ جب خود بوڑھے ہوگئے تو مسجد میں ڈیرے ڈال دیے اور اپنی اولاد میں سے بھی جو بچہ سب سے زیادہ نالائق، کمزور اور اپاہج ہو اسے مسجد، مدرسہ اور حفظ قرآن کے لیے چھوڑ دیا

    لاغر، کمزور، لنگڑے، بھیگنے اور انتہائی بوڑھے جانور کی قربانی کے ممنوع ہونے میں یہی فلسفہ ہے

    جوانی کی عبادت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم خوش خبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
    سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ:
    سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔

    الإِمَامُ العَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ
    اوّل انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا

    بخاری 660

    9️⃣ *قربانی ہمارے گھروں اور گلی محلوں کو خون سے رنگین کرکے جہاد فی سبیل اللہ کا پیغام دیتی ہے*

    اور اپنے بیٹوں، بھائیوں کی اللہ کی راہ میں قربانی کیلئے تیار کرتی ہے

    جیسا کہ اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم قربانی کے اصل فلسفے کی طرف اشارہ کررہا ہے

    اسماعیل اور ابراہیم علیہما السلام کے اس عظیم واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہو اور اسلام کی خاطر جہاد کرتے ہوئے سب کچھ قربان کر دینے کی ضرورت ہو اور دوسری طرف ماں باپ اور خویش و اقارب کی محبت ہو اور دنیا کے دوسرے تعلقات یا مفادات و خطرات اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بے پروا ہو کر اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دنیوی مفاد یا خطرہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اسے اللہ کا حکم ماننے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے باز رکھ سکے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بھی وقت عذاب آ سکتا ہے۔

    اسی بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار واضح فرمایا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘
    [ بخاری، الإیمان، باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الإیمان : ۱۵، عن أنس رضی اللہ عنہ]

    عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا۔
    عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :
    ’’آپ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے اپنی جان کے۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تک کہ میں تجھے تیری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘
    عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی :
    ’’اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔‘‘
    فرمایا :
    ’’اب اے عمر ! (تیرے ایمان کا معاملہ درست ہوا)۔‘‘
    [ بخاری، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۶۶۳۲ ]

    یہی بات قرآن میں موجود ہے

    قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
    کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
    التوبة : 24

    🔟 *قربانی توحید کا پیغام دیتی ہے کہ معبود و مسجود صرف ایک اللہ رب العزت کی ذات اقدس ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا عبادت کی کسی بھی قسم کا مستحق نہیں ہے*

    قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ
    کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔
    الأنعام – آیت 162

    مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی قلبی، زبانی اور جسمانی عبادات، مثلاً قیام، رکوع اور سجود، یہ سب غیر اللہ کے لیے تھیں، اسی طرح ان کی قربانیاں اور زندگی اور موت کا وقت سب انھی کی نذر تھا، ہاں کبھی اللہ تعالیٰ کو بھی شامل کرلیتے تھے۔ فرمایا، ان سے صاف کہہ دیجیے کہ میرا تو یہ سب کچھ ایک اللہ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہے اور سب سے پہلے میں اپنے آپ کو ایک اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے والا اور اس کا فرماں بردار بنانے والا ہوں، میرا جینا اور مرنا بھی اس اکیلے کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے ساتھ شرک کو ختم کرنے کے لیے ہے، حتیٰ کہ اسی پر میری موت آجائے۔( الأستاذ بھٹوی ح)

    قربانی اور دیگر عبادات کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالٰی کی ہی ذات ہے
    فرمایا
    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
    پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
    الكوثر – آیت 2

    اس آیت مبارکہ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ نماز پڑھو تو صرف اپنے رب کے لیے اور قربانی کرو تو وہ بھی اسی کے لیے، کسی غیر کے لیے نہیں

    *غیراللہ کے لیے جانور ذبح کرنا لعنت کا کام ہے*

    ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہا : میں حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو راز داری سے کیا فر ما تے تھے؟ آپ ناراض ہو ئے اور کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کو ئی راز نہیں بتا یا جس کو اور لوگوں سے چھپایا ہو۔البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فر ما ئی تھیں ۔اس نے پو چھا : امیر المومنین ! وہ کیا باتیں ہیں ؟ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
    لَعَنَ اللہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ

    ” جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے اور جس شخص نے زمین (کی حد بندی) کا نشان بدلا اس پر اللہ لعنت کرے۔”
    مسلم 5124

    *مگر افسوس کہ آج بہت سے مسلمان یا تو صریح غیراللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں یا پھر ذبح تو اللہ کے نام پر کرتے ہیں لیکن بعد گیارہویں شریف کے ختم کے کی آڑ میں غیر اللہ کو اس میں شامل کر لیتے ہیں*

    1️⃣1️⃣ *قربانی اتباع سنت کا پیغام دیتی ہے اور یہ کہ خلاف سنت اعمال قبول نہیں ہوتے*

    دلیل….
    ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے سنت سے ہٹ کر عید کی نماز سے پہلے جانور ذبح کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے کہا تھا کہ یہ محض گوشت کا جانور ہے قربانی نہیں ہے

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :

    إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ فَقَالَ عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ فَقَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ

    ” آج کے دن ہم جس کا م سے آغاز کریں گے (وہ یہ ہے ) کہ ہم نماز پڑھیں گے، پھر لوٹیں گے، اور قربانی کریں گے۔جس نے ایسا کیا ، اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے (پہلے) ذبح کر لیا تو وہ گو شت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو پیش کیا ہے۔وہ کسی طرح بھی قربانی نہیں ہے ۔”حضرت ابو بردہ بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( اس سے پہلے) ذبح کر چکے تھے انھوں نے کہا : میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دودانتی بکری دودانتا بکرے سے بہتر ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :تم اس کو ذبح کردو ،اور تمھا رے بعد یہ کسی کی طرف سے کا فی نہ ہو گی۔
    مسلم 5073 وبخاري

    یعنی اعمال کے قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند رہے۔ اگر کوئی شخص اطاعت سے نکل کر کوئی اعمال شروع کر دے تو اس کے سارے اعمال باطل ہیں، خواہ وہ اپنے خیال میں کتنے اچھے عمل کرتا رہے

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور اس رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل مت کرو۔
    محمد : 33

    ہر وہ عمل جس میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ ہو اور وہ ان کے بتائے ہوئے طریقے پر نہ ہو وہ باطل ہے، کیونکہ عمل کی قبولیت کے لیے اخلاص اور اتباع سنت شرط ہے،
    جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ]
    [ مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ و رد محدثات الأمور : ۱۸ /۱۷۱۸ ]
    ’’جو شخص وہ عمل کرے جس پر ہمارا عمل نہیں وہ مردود ہے۔‘‘

    2️⃣1️⃣ *قربانی اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے کا پیغام دیتی ہے*

    دلیل….
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عید موقعہ پر سو اونٹ قربان کیے

    ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ وَأَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ
    پھر رسول اللہ ﷺ قربان گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹنیاں نحر کیں اور بقیہ کے متعلق سیدنا علی ؓ کو حکم دیا اور ان کو اپنی قربانی میں شریک بنایا
    ابو داؤد 1905

    آج مالدار صاحب استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ ضرور اس سنت پر عمل کریں اور بڑھ چڑھ کر قربانی کیا کریں

    3️⃣1️⃣ *قربانی، جانوروں پر بھی رحم، شفقت اور نرمی کرنے کا پیغام دیتی ہے*

    حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:دو باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛:

    «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»،

    "اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سب سے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔اس لئے جب تم(قصاص یاحد میں کسی کو) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو،اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو،تم میں سے ایک شخص(جو ذبح کرنا چاہتا ہے) وہ اپنی(چھری کی ) دھار کو تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے۔”
    مسلم 5055

    ایسے ہی شریعت اسلامیہ میں قربانی کے جانوروں کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآٮِٕرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهۡرَ الۡحَـرَامَ وَلَا الۡهَدۡىَ وَلَا الۡقَلَٓاٮِٕدَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! نہ اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم کی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں) کی
    المائدة – آیت 2

    ”الْهَدْيَ“ ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لیے ساتھ لے جاتے تھے۔ اونٹوں کی کوہان کی دائیں طرف تھوڑا سا زخم کر کے مل دیتے، اسے اشعار کہتے ہیں اور گلے میں ایک جوتا یا پٹا ڈال دیتے۔

    ”الْقَلَآئدَ“ یہ ’’ قِلاَدَةٌ ‘‘ کی جمع ہے، جس سے مراد وہ پٹا یا رسی وغیرہ ہے جو پرو کر ہدی ( قربانی) کے گلے میں بطور علامت باندھ دی جاتی تھی۔ چھوٹے جانوروں کا اشعار نہیں کرتے تھے۔

    ”الْقَلَآئدَ“ کا معنی اگرچہ پٹے ہیں مگر مراد وہ جانور ہیں جن کے گلے میں وہ پٹا ڈالا گیا ہو۔ ان سب چیزوں کا ذکر اگرچہ ”شَعَآئرَ اللّٰهِ“ کے ضمن میں آ چکا ہے مگر ان کے مزید احترام کی خاطر ان کو الگ بیان کیا ہے۔

    مزید فرمایا
    َ وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ شَعَآٮِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَى الۡقُلُوۡبِ
    اور جو اللہ کے نام کی چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو یقینا یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ ۔
    الحج – آیت 32

    قربانی کے جانور بھی ” شعائر اللہ “ میں داخل ہیں
    چناچہ فرمایا :
    (وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ )
    [ الحج : ٣٦ ]
    ” اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔ “

    ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے آتے ہوئے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچائے، جانور قیمتی خریدے اور عیب دار جانور نہ خریدے۔ ان پر جھول اچھی ڈالے، انھیں خوب کھلائے پلائے اور سجا کر رکھے، جیسا کہ گلے میں قلادے ڈالنے سے ظاہر ہے، مجبوری کے بغیر ان پر سواری نہ کرے، اور قربانی کے بعد ان کے جھول وغیرہ بھی صدقہ کر دے۔
    ( تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ )

    4️⃣1️⃣ *قربانی, چند عارضی پابندیوں سے گزار کر مستقل حرام اور ممنوع کاموں سے اجتناب کی مشق کرواتی ہے*

    مثال کے طور
    دس دن ناخن اور بال نہیں کاٹنے یعنی قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص جب ذوالحجہ کا چانددیکھ لے یا یہ خبر عام ہو جائے کہ چاند نظر آگیا ہے تو اس رات سے لے کر اپنے جا نور کی قربانی کر لینے تک اپنے جسم کے کسی حصے سے کوئی بال یا ناخن نہ کاٹے کیونکہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ»
    (صحیح مسلم، الأضاحي، باب نهى من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو يريد التضحية أن يأخذ من شعره…، ح:۱۹۷۷)
    "جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔

    بوڑھا جانور ذبح نہیں کرنا

    کمزور جانور ذبح نہیں کرنا

    بھینگا اور لنگڑا جانور ذبح نہیں کرنا

    شریعت اسلامیہ میں قربانی کی عارضی پابندیوں کی طرح بعض مستقل اور دائمی پابندیاں بھی موجود ہیں مثال کے طور پر دس دن جسم کے کسی بھی حصے سے بال نہیں کاٹنے تو پوری زندگی داڑھی کے بال نہیں کاٹنے

    اگر قربانی میں عیب دار جانور ذبح کرنے کی پابندی ہے تو پوری زندگی حرام کمائی سے حاصل کیا ہوا جانور یا مال کھانے پر بھی پابندی ہے

    5️⃣1️⃣ *نماز پڑھنے اور قربانی کرنے والے شخص کے دشمنوں کو اللہ تعالٰی کافی ہوجاتے ہیں اور ان کی جڑ کاٹ دیتے ہیں نیز اس شخص کا تذکرہ دیر تک باقی رہتا ہے اور اللہ تعالٰی ایسے شخص کو کثیر اولاد عطا فرماتے ہیں* ان شاء اللہ

    اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ

    بلاشبہ ہم نے تجھے کوثر عطا کی۔

    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ

    پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔

    اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ

    یقینا تیرا دشمن ہی لاولد ہے۔

    الكوثر –

    *وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين*

    🌹🌹🌹🌹🌹