Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات  تحریر : تصوّر جٹ

    ‏اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات تحریر : تصوّر جٹ

    اسلام میں ہمیں ہر چیز کے بارے میں سکھایا جاتا ہے ۔
    اِسی طرح اسلام قربانی کا سکھاتا ہے۔
    اسلام صرف جانوروں کی قربانی نہیں بلکہ اپنی انا کی قربانی اپنی ضروریات اپنی خواہشات کی قربانی دینے کا درس دیتا ہے ۔

    ہمیں اپنی خواہشات کی قربانی دے کر اللہ کی رضا میں راضی ہونا چاہیے تا کہ ہم آخرت کی زندگی سنوار سکے۔

    ارشاد ہوا _
    ” جو اللہ کی رضا میں راضی ہو گیا اللہ اس پر راضی ہو گیا”
    اور جس پر اللہ راضی ہو جائے اُسے اور کیا چاہیے۔
    ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد ہی اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنا ہے۔

    عیدین قربانی اور ایثار کی عملی مثال ہے
    عیدین کے موقع پر ہمیں غریبوں کا لازمی خیال رکھنا چاہیے۔
    اُن کو اپنی خوشیاں میں شریک کرنا چاہیے تا کہ وہ بھی عید کی خوشیوں کو محسوس کر سکے۔

    اگر عید کی خوشیوں کی بات کی جائے تو اب مجھے وہ پہلے والی خوشیوں کی لہر نظر نہیں آتی۔
    جیسے کہ بچوں کا تیار ہونا چاند رات کو بچیوں کا مہندی لگانا رات کو دیر تک جاگنا۔ پڑوسیوں کا ایک دوسرے کی طرف جا کر عید کی مبارک باد دینا۔

    اب یہ سب ختم ہوتا جا رہا ہے کیوں کی سائنس کے جدید دور نے انسان کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ اُس کے پاس کِسی کو دینے کے لئے ٹائم نہیں۔

    عید ااضحٰی ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں سنت ابرہیمی ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔

    اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگو تھی دنبہ کی قربانی تو اس کا فدیہ تھا۔
    مگر افسوس ہمیں دنبہ یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی…

    اللہ ہم سب کو عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔آمین

  • دشمن کے ہتھیاروں میں اب صرف دو کارتوس ہیں  تحریر بلال لطیف

    دشمن کے ہتھیاروں میں اب صرف دو کارتوس ہیں تحریر بلال لطیف

    ایک کا نام فرقہ پرستی ہے
    اور دوسرے کا نام قوم پرستی ہے۔

    پہلے کچھ عرصے سے پاکستان میں دشمن ایک چال چل رہا ہے جو کہ فرقہ پرستی ہے۔

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فرقہ وارانہ انتہا پسندی ملکی سالمیت اور قومی وحدت کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ فرقہ واریت اور مسلکی انتہا پسندی یقیناً کسی بھی ملک کی بقاء کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ3 عشروں سے فرقہ پرست عناصر کی قوم دشمن اور وطن مخالف سرگرمیوں کی جولان گاہ بنا ہوا ہے۔

    پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا جس میں پاکستانیوں کو آپس میں لڑانے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کرنی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    دشمن ہر وقت تاک میں رہتا ہے کب پاکستان میں ذرا سی صورتحال خراب ہو اور وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں

    ہمیں دشمن کے ارادوں کو سمجھنا ہو گا اور ان کو منہ توڑ جواب دینا ہو ہمیں اپنی صفوں کو مظبوط رکھنا ہو گا تاکہ دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب نا ہو۔

    اب کچھ بات کرتے ہیں قوم پرستی پر
    حالیہ برسوں میں پاکستان میں قوم پرستی کو ایک عروج ملا جس میں دشمن نے آلہ کار پاکستان میں وجود ملک دشمن عناصر اور پاکستان کے غداروں کو بنایا
    اگر ہم بات کریں پشتون، ہزارہ، بلوچستان؛ گلگت، سندھ، پنجاب، کشمیر کی تو قوم پرستی عروج پر ہے
    پشتون کے نام پر ایک جماعت جیسے پشتون سے کوئی ہمدردی نہیں ہر وقت تاک میں رہتی ہے ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے۔
    پشتون معصوم اور نوجوانوں کو پاکستان اور پاکستان آرمی کے خلاف ایک منظّم طبقہ اکسا رہا ہے اور کھل کر ملک دشمنی پر اتر آیا ہے۔
    اسی طرح بلوچستان کشمیر گلگت سندھ اور ہزارہ کے لوگوں کو ایک مخصوص طبقے کے ذریعے اکسا جا رہا ہے۔

    اگر ہم ان دو گولیوں سے بچ گے تو جیت ہماری ہو گی انشاء اللہ۔

    @Bilal_Latif1

  • عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر

    عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر

    ہمارے ہاں جب بھی ریپ کا کوئی واقع پیش آئے، تو معاشرے کا ایک طبقہ مختلف نقاط، جیسے کہ عورت کا لباس،عورت کی آزادی،عورت کی تعلیم وغیرہ کو بنیاد بنا کر عورت کو ہو موردالزام ٹھہرا دیتا ہے۔یعنی مظلوم کو ہی ظلم کی وجہ بنا دیا جاتا ہے۔

    مجھے اس سے اختلاف ہے۔ دو حرفی بات یہ ہے کہ ریپ کی وجہ صرف اور صرف ریپ کرنے والا مرد ہے۔

    اس معاشرے میں برقع پوش خواتین کے ساتھ ریپ ہوئے، چھوٹی بچیاں اس ظلم کا نشانہ بنیں، درندوں نے چھوٹے لڑکوں کو بھی نہیں بخشا۔ ‏ابھی کچھ روز پہلے ملتان میں ایک لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی کی تو جب اس لڑکے نے ریکیشن دیا تو اس کو گولی مار دی گئی۔ ابھی چند دن پہلے ایک چھوٹی بچی کے ساتھ زیادتی کرکے اس کو مار کے اس کے جسم کو آگ لگادی گئی۔ زینب کا واقعہ ہم سب کو یاد ہے۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہم سب نے سن رکھے ہیں۔

    ان بچوں نے کون سی حد پار کی تھی؟ کیا اپنے ساتھ ریپ ہونے کی وجہ یہ بچے خود تھے؟ انکا لباس تھا؟ انکی مادر پدر آزادی تھی؟

    ‏مجرم ہمیشہ ریپ کرنے والا ہے نا کہ ریپ ہونے والا۔

    اگر کوئی مرد بچوں کا ریپ کر رہا، بچیوں کا ریپ کر رہا ہے، خواتین کا ریپ کر رہا ہے تو مسئلہ اس ریپ کرنے والے مرد کے ساتھ ہےاور اسی کی ہمیں بطور معاشرہ روک تھام کرنی ہے۔

    Twitter account @MH__586

  • حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک شخصیت تحریر: محمد صابر مسعود

    حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک شخصیت تحریر: محمد صابر مسعود

    آپ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں لیکن پھر بھی آپ کے سامنے کچھ صفات بیان کئے دیتا ہوں جن کا ذکر فائدہ سے خالی نہیں، آپ کی ذات شمس و قمر کی طرح روشن ہے، بلاشبہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے مجدد اور حکیم الامت تھے۔ 5/ربیع الثانی/1285ھ (1863ع) کو اتر پردیش میں واقع تھانہ بھون ضلع مظفر نگر کو آپ جیسی شخصیت کے دیدار کا شرف حاصل ہوا، ابتدائ تعلیم تھانہ بھون اور میرٹھ میں ہوئ، 1295ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے ۔
    پانچ سال مشغولِ تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل ہوئ ۔
    حضرت مولانا یعقوب نانوتوی، مولانا سید احمد دہلوی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، وغیرہ آپ کے کبار اساتذہ ہیں، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر اکتساب فیض کیا اور 15/سال کانپور میں درس وتدریس کا سلسلہ قائم رہا ۔
    اس کے بعد پوری زندگی تبلیغ و تذکیر اور تصنیف و تالیف کے ذریعہ اصلاحِ عقائد و اعمال و ابطالِ رسوم و بدعات کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس کی کوئ نظیر ماضی قریب کی تاریخ میں نہیں ملتی، آپ کی اصلاح و تربیتی سرگرمیوں سے ہزاروں انسانوں کو فیض پہنچا، کثرت تصانیف میں آپ کا کوئ ہمسر نہیں۔
    مختلف موضوعات پر تقریبا ایک ہزار تصانیف آپ کی یادگار ہیں ۔
    آپ کے خلفاء و مجازین بیعت کی تعداد 164 ہے ،جن کے ذریعہ آپ کا فیض چار دانگ عالم میں پھیلا اور آج بھی جاری ہے، سیاسیات میں آپ اپنے استاد شیخ الہند ؒ کے قافلہ میں شریک نہ رہے، پھر بھی مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعۃ الانصار کے اجلاس میرٹھ کی صدارت فرمائ، 19-20/ جولائی 1943ع کی درمیانی شب میں اس دنیائے فانی کو الوداع کہا ۔ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تھانہ بھون کے قبرستان، ،،عشق بازاں ،میں تدفین عمل میں آئ ۔۔

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے۔۔

    @sabirmasood_

  • حکومتی خارجہ پالیسی بہتر لیکن داخلہ پالیسی کمزورکیوں؟    تحریر: عادل شیر اعوان

    حکومتی خارجہ پالیسی بہتر لیکن داخلہ پالیسی کمزورکیوں؟ تحریر: عادل شیر اعوان

    دنیائے سیاست کے قوانین کے تحت حکومت اور اپوزیشن پرمشتمل ہر دومخالف سیاسی پارٹیاں ایکدوسرے پرجائزتنقیدکے ذریعے مسائل کی نشاندہی کرتی اورانہیں حل کرنے کیلئے لائحہ عمل بتاتی اور تشکیل دیتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں تھوڑا مختلف ہے کہ یہاں اپوزیشن میں ہوتے ہوئےتوحکومت کے ہرکام میں کیڑے اور عوام کے چھوٹے چھوٹے اجتماعی توکیاانفرادی گھریلو مسائل بھی نظرآتے ہیں لیکن حکومت ملتے ہی پتہ نہیں وہ عالی اور روشن دماغ کہاں چلے جاتے ہیں جن کے پاس اپوزیشن میں ہوتے توہرمسئلہ کا حل ہوتا ہے لیکن حکومت میں آتے ہی سب کچھ بھول جاتاہے،
    بلکل ایساہی ہمارے وزیراعظم اپنی 22سالہ جدوجہد”حصول حکومت”میں کرتے نظرآئے اورایک ریڑھی والے مزدور،کسان،فیکٹری میں کام کرنیوالے نچلے درجے کے لوگوں اوربچے بوڑھےمردوخواتین پرمشتمل ہرصنف کے مسائل کی نشاندہی کرتے اور چٹکیوں میں ان کا حل بتاتے رہے جس سے ہرپڑھالکھاباشعورفردیہ سمجھنے لگا کہ یار یہ بندہ پاکستان کیلئے ضرورکچھ کریگاکیونکہ آکسفورڈکاپڑھاہونے کے باوجود اسے عام آدمی کے مسائل اوراس سے بڑھ کرانہیں حل کرنے کا علم اور صلاحیت بھی ہے توہمارے ملک کی روایت کے مطابق کسی نئے چہرے کوآگے آنے کیلئے جس نئی سوچ یانعرے کی ضرورت ہوتی ہے وہ بڑی تیزی سے پروان چڑھی کہ "تبدیلی کو ووٹ دو”اورچشم فلک نے دیکھا کہ ملک کے باشعور،پڑھے لکھے طبقہ اور نوجوان نسل نے اس نعرے کو قبول کیااورتحریک انصاف کو ووٹ دیکروزارت عظمی کی کرسی پربٹھادیااورعمران خان نے وزیراعظم بن کر عنان حکومت سنبھال لیا جس کا فوری اثر یہ ہوا کہ چونکہ عمران خان کی شہرت پہلے سے ہی ایک سنجیدہ اور سخت طبیعت منتظم کے طورپرپھیلی ہوئی تھی جس نے ہر سرکاری ملازم کو اسکے خول میں بندکردیااوروہ ڈرگیاکہ اب اگرکام نہ کیاتوپتہ نہیں کیاہوجائے گااورشایدبغیرحساب کتاب کے جیل یاگھرجاناپڑجائے یہی وجہ ہے کہ ہرمحکمہ کو سانپ سونگھ گیااوریکدم ہرکرپٹ اور رشوت خورنے جان ہے تو جہان ہے والے مقولہ پر عمل کرتے ہوئے اپناگورکھ دھندابندکردیاکہ یارجب اس نے تین بارکے طاقتور ترین وزیراعظم نوازشریف کو نہیں چھوڑاتوایک سرکاری ملازم کی کیا اوقات ہے اوراسی وجہ سے دوچارماہ تمام سرکاری دفاترچپ سادھ گئے اور عوام سے تھوڑا بہت تعاون کرنے لگے لیکن انہیں یاوزیراعظم کوشایدپتہ نہیں تھاکہ پاکستانی نظام سیاست کاطرہ امتیازہی مثبت سے زیادہ منفی سوچ کیساتھ ملک اور قوم کی محبت کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنی زات کیلئے ہی کام کرنا ہے جو انہوں نے کرنا شروع کردیااورپرپرزے نکالنا شروع کردئیے جبکہ عمران خان کی سابقہ تقریروں کو دیکھ کر جن سے یہ پتہ لگتاتھاکہ اسے اپنی قوم کے ہر مسئلہ کا علم ہے لیکن بدقسمتی سے اسے یہ علم نہیں تھاکہ ایک کونسلرسے لیکراسمبلی ممبرتک جوسیاستدان کروڑوں لگاکراسمبلی میں آتا ہے وہ ملک کی نہیں بلکہ اپنی نسلوں کی تقدیر بدلنے کیلئے آتا ہے،ایک درجہ چہارم سے لیکرگریڈبائیس تک کاجوسرکاری ملازم لاکھوں کروڑوں کی رشوت دیکرکوئی عہدہ حاصل کرتاہے وہ ملک اور قوم کیلئے نہیں بلکہ اپنے لئیے کام کرے گااورپھرسابقہ حکومتوں کے بھرتی کردہ سفارشی سرکاری ملازم جو کئی سالوں کی سروس کے بعدترقی کرتے کلرک سے افسر بن گئے ہیں وہ کس طرح اسکی تبدیلی کے نعرے کو قبول کرینگے اور تعاون کرینگے اور وہی ہوا جس کا خدشہ پڑھے لکھے تجزیہ نگارظاہرکرتے آرہے تھے کہ عمران خان کے بے رحم احتساب کے ڈر سے بجائے اپنے آپکوسیدھاکرنے کے سب اپنوں اوربیگانوں نے اسے ہی سیدھا کرنے کیلئے گٹھ جوڑکرلیااورتعاون کرناچھوڑدیااورجوچندایک سیاستدان یا سرکاری ملازم کرپشن وغیرہ میں پکڑے گئے ہمارے کمزورعدالتی اور احتساب کے نظام کی بدولت بچ گئے اور یوں ہرکرپٹ عمران خان اور اسکی تبدیلی کے نعرے کا مذاق اڑاتے اپنے سابقہ کاموں میں جت گیااورعمران بے بسی سے سب کودیکھتارہ گیاجسکی دلیل کبھی چینی کبھی آٹے اورکبھی پٹرول کا بحران کہ جس چیزکابھی وزیراعظم نے نوٹس لیاوہ عوام کی پہنچ سے دورکردی گئی،
    جسکی دلیل سانحہ ماڈل ٹاون وساہیوال میں ملوث ملزمان کاباعزت بری ہوجانااورحکومت کادیکھتے رہ جانا،
    جسکی دلیل راوانواراورعزیربلوچ جیسے سینکڑوں بے گناہوں کے قاتلوں کابچ جانااورحکومت کا کچھ نہ کرسکناہیں جسکی دلیل ہر چھوٹے بڑے مافیا کے سامنے حکومت کاگھٹنے ٹیک دینا ہے،
    لیکن میں کہوں گا کہ اس میں نظام کی خرابی نہیں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کا زیادہ عمل دخل ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے تو آپکے پاس سومعاشی ماہرین کی ٹیم تھی لیکن حکومت میں آتے ہی وہ کہاں گئی کیونکہ اگر وہ ٹیم موجود ہوتی تووہ آپ کو ملکی معیشت پراثرانداز پرائیویٹ اداروں کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے انہیں قومیانے یا انکے مقابلہ میں سرکاری اداروں کے مضبوط کرنے کا مشورہ دیتی مثال کے طورپہ آپ چینی مافیاپہ ہاتھ ڈالنے سے پہلے ملک میں موجودعرصہ دراز سے بندسرکاری شوگر ملوں کو ٹھیک کرکے چلاتے تاکہ پرائیویٹ چینی مافیاجونہی اسکابحران پیداکرتاآپکی بجائے آپکی سرکاری شوگرملیں اسکا مقابلہ کرتیں اور بحران پیدا نہ ہوتا؛
    آٹے کے بحران سے بچنے کیلئے آپ کسان سے براہ راست ساری گندم خودخریدکرزخیرہ کرتے تاکہ بوقت ضرورت اسے آٹے کی صورت میں حکومتی مقرر کردہ نرخوں میں عوام کو فراہم کرتے؛
    اور جب پٹرول کا بحران پیداہواتوآپ پی ایس اوکے ذریعے وافرمقدارمیں تیل خریدتے تاکہ بجائے اسکے کہ جہاں آپ پٹرول کیلئے پرائیویٹ سیکٹرکی منتیں کرتے رہے وہ آپکے ترلے کرتے اور یہ بحران بھی پیدا نہ ہوتا؛
    اور سب سے بڑی بات کہ ہمارے تجربہ کے تحت تو کبھی بھی قومیں عوام کی منت سماجت سے نہیں بنتیں بلکہ قانون کی پیروی اوراسکے لاگو کرنے میں سختی کرنے سے بنتی ہیں جسکی حالیہ مثال ہمارے ملک میں جاری کرونالاک ڈاون ہے کہ آپ نے اس پرعملدرآمدکروانے کیلئے سختی نہیں کی اور ہم نے عمل بھی نہیں کیااورجہاں قانون کی گرفت اتنی کمزوریوکہ ایک عام آدمی بھی اس سے خوفزدہ نہ ہو وہاں مختلف مافیازکاقانون سے بچ نکلنایااسے گھرکی لونڈی سمجھ لیناکوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اور قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے ہم جن مغربی اقوام کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اصل میں وہ لوگ بھی ہم جیسے لاپرواہ اور بے ایمان ہی ہیں لیکن قانون کے نفازمیں سختی اور بھاری جرمانوں کے ڈر نے انہیں قوم بنارکھاہے جس کی مثال سابقہ لاک ڈاون میں امریکہ میں ایک سیاہ فارم کے قتل پرہونیوالااحتجاج ہے جس کے دوران ہونیوالی لوٹ مارنے انکے مہذب پن کی ساری قلعی کھول کے رکھ دی ہے لیکن ہم میں اور ان میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اسطرح کی لوٹ مارکاجوموقع انہیں کبھی کبھارمیسرآتاہے ہمیں ہرروزدستیاب رہتا ہے کیونکہ اول توہمارے ہاں قانون پرعملدرآمدنہیں ہوتااوراگرہوتاہے تونظرنہیں آتااوریہی وجہ ہے کہ ہم لوگ بحثیت قوم ایک ہجوم ہیں جس میں شامل ہرفردکی کوئی اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی منازل اورمقاصد ہیں جن کے حصول کیلئے ہم ہرجائزناجائزحربہ استعمال کرتے چلے آرہے ہیں اورکوئی پوچھنے یاٹھیک کرنے والا بھی نہیں حتی کہ
    عمران خان صاحب آپ بھی نہیں

    اس لئیے مجبوری سے کہناپڑرہاہے کہ اگراجازت ہوتو

    آپکی خارجہ پالیسی بہترلیکن داخلہ پالیسی بہت کمزورہے

    @adiiawan8

  • مسئلہ کشمیر؛ دو جوہری مسلح ممالک کے مابین نیوکلیئر فلیش پوائنٹ    تحریر:  محمد بلال

    مسئلہ کشمیر؛ دو جوہری مسلح ممالک کے مابین نیوکلیئر فلیش پوائنٹ تحریر: محمد بلال

    اس حقیقت سے ہر کوئی آشنا ہے کہ جنگ عظیم اول کے بعد مزید جنگوں کے خطرات سے بچنے کیلئے اور عالمی انصاف کی فراہمی کیلئے انسانی حقوق کے سب سے پہلے ادارے لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں لایا گیا چونکہ یہ ادارہ اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکامیاب رہا اور جنگ عظیم دوم کی وجہ بنا تو اِسے ختم کردیا گیا اور جنگ عظیم دوم کے بعد اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیاجو ابھی تک اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس کی سیکیورٹی کونسل کی سب سے اہم ذمہ داری عالمی امن و انصاف کو یقینی بنانا اور دنیا کو جنگوں کی ہولناکیوں سے بچانے کے لئے اقدام کرنا ہے لیکن73سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل بھارت سے اپنی منظور کردہ متعدد قراردادوں کے باوجود عالمی قوانین کی پاسداری کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور اب بھی ناکام نظر آرہی ہے اور بھارت جب چاہے کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں قائم کررہا ہے۔ مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی سطح پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ دنیا کے امن کیلئے بھی ایک شدید خطرہ ہے، اگر یہ مسئلہ جلد از جلد حل نہ کیا گیا تو دنیا ایک بہت بڑی جوہری تباہی کا سامنا کرسکتی ہے۔یہ مسئلہ گزشتہ 73 سال سے دو ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان چلا آرہا ہے، تقسیم ہند کے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندوگٹھ جوڑ اس مسئلے کی بنیاد بنا، کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی تھی اور کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ بھی تھا لیکن اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے نہ دیا گیا۔ کشمیریوں کی شروع سے ہی مذہبی، ثقافتی و سماجی ہم آہنگی موجودہ پاکستان کے لوگوں سے تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی موجودہ پاکستان سے منسلک تھا یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کشمیریوں کی بڑی اکثریت نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ کشمیریوں کے اس رجحان کو دیکھتے ہوے بھارت نے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے ردعمل میں قبائلی مجاہدین کشمیری مسلمانوں کی مدد کو پہنچنا شروع ہوگئے اور جب بات ڈوگرا فوج و ہندوتوا شدت پسندوں کے بس سے باہر ہوگئی تو نہرو سرکار نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل کردیا جس کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ پھوٹ پڑی جس میں بھارتیوں کی زبردست پٹائی ہوئی تو نہرو سرکار فوراً اقوام متحدہ جا پہنچی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی پر پاکستان نے جنگ بندی کردی اور معاملہ عالمی قوانین کے تحت اقوام متحدہ پر چھوڑ دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اور معاملہ استصواب رائے کے زریعے حل کرنے کے فارمولے کے تحت طے پایا۔ اس ضمن میں سیکیورٹی کونسل نے متعدد قراردادیں پاس کیں لیکن ہٹ دھرم بھارت مختلف ہتھکنڈوں سے ٹال مٹول کرتا رہا۔ اسی دوران بھارت نے 1954 ء میں نام نہاد الیکشن کرواکر پٹ کشمیر اسمبلی سے بھارت کے ساتھ الحاق کی منظوری لیکر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا جس کے جواب میں UNSC نے قرارداد 122 پاس کی جس میں نام نہاد کشمیر الیکشن اور نام نہاد اسمبلی کے قانون کو مسترد کرتے ہوئے استصواب رائے کے مطابق الحاق کا فیصلہ قائم رکھا۔1998ء کے پاک بھارت ایٹمی دھماکوں کے بعد اقوام متحدہ نے قرارداد 1172 کے ذریعے دونوں ممالک پر کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کی بہتری کے لئے زور دیا لیکن بھارت اپنی فطرت سے باز نہ آیا وقتی دکھاوا کرکے بھارت پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا جس کی زندہ مثال کلبھوشن ہے اور حالیہ دنوں ڈجی آ ایس پی آرا اور وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں پش کیا گیا ڈوزئیر بھی بھارتی مداخلت کے شواہد ہیں پاکستان بارہا اقوامِ عالم کو یہ باور کروا رہا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے جو خطہ کو جوہری تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے مابین چار ہولناک جنگیں ہوچکی ہیں اور گزشہ سال 27 فروری 2019 کو تازہ جھڑپ میں پاکستان نے بھارت کے دو جنگی طیارے MIG-21 مار گراۓ اور ایک پائلٹ ابھینندی کو گرفتار کیا بعد ازاں خطے میں امن کی خاطر جزبہ خیر سگالی کے تحت اسے رہا کر دیا گیا یہاں یاد رہے دونوں ممالک ہی ایٹمی قوت ہیں اور ممکنہ طور پر جنگ کی صورت دونوں ایٹمی ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرسکتی ہیں ایسے میں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ سات دہائیوں سے لٹکے مسئلہ کشمیر کا حل اپنی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق کرے جسےبھارت مختلف ہتھکنڈو بشمول ڈیموگرافی کی تبدیل اور حیلے بہانوں کا استعمال کرکے ستر سالوں سے گریز کررہا ہے۔بھارت نے 5اگست 2019ء کو جو اقدام کیا وہ سراسر اقوام متحدہ کی تمام تر قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور آج بھارت کے اس غیر آئینی اقدام کو 2 سال ہونے کو ہیں لیکن اقوام متحدہ کی خاموشی جوں کی توں قائم ہے۔ بھارت سرکار نے 5اگست 2019ء سے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر کہ عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر تمانچہ مارا ہے۔ اگر ایسے میں اقوام متحدہ نے کوئی پیشرفت نہ کی تو دونوں ممالک کے درمیان ایک ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کہ نتائج نا صرف جنوبی ایشاء بلکہ پوری دنیا پر مرتکب ہونگے۔

    @Bilal_1947

  • عنوان : صرف 30 سال اور ہم    تحریر: سہیل احمد چوہدری

    عنوان : صرف 30 سال اور ہم تحریر: سہیل احمد چوہدری

    زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بس 30 سال پیچھے کا چکر لگائیں
    زندگی کتنی خوش و خرم گزر رہی تھی چھوٹے بڑے اپنے دائرے میں رہ کر چل رہے تھے.ادب و احترام کا انحصار تربیت پر سوال اٹھانے سے بچاتا تھا.علاقےیں کچھ ایسی بیٹھک بھی ہوا کرتیں تھیں جہاں مسائل کو پولیس اسٹیشن تک جانے نہیں دیا جاتا تھا.لوگ بخوشی.اطمعنان سکون سے گھروں کے دروازے کھلے رکھنے رکھ کر تسلی محسوس کیا کرتے تھے.اگر کوئی بزرگ کسی کو ڈانٹتا تو اپنائیت کا احساس اجاگر ہوتا .گھر سے ماں کی گود کو پہلی درسگاہ تصور کیا جاتا تھا.اردو کی بجائے پنجابی کو فرض سمجھا جاتا تھا.بچوں کے سامنے رکھی اشیاء بھی اپنی جگہ سے ہلنے کی اجازت نہیں دیتیں تھیں. اچھے برے کی تمیز پر ہر کوئی زور دیتا. خواہشات میں اہم چیز حق حلال کی روزی اور اولاد کو نیک انسان بنانے پر فوکس کیا جاتا تھا.محنت چاہے پڑھائی میں ہو یاں کام میں .بھرپور پذیرائی ملتی تھی.بزرگوں کے جیون ساتھی کے ساتھ ساتھ انکے جہیز کا سامان بھی آخر تک چلتا.رشتوں میں منافقت اور اشیاء میں ملاوٹ نہ ہونے کے برابر تھی .کم سے کم اولاد کی تعداد 7 تو ہوتی ہی تھی.ایک ماں نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام تو الگ بچوں کو برابر ٹائم بھی دیتیں تھیں.اکیلا باپ 8 , 8 بچوں کیلیے اکیلا کافی تھا.اللہ کی شکر گزاری پر بار بار زور دیا جاتا تھا.بچے بوڑھے ہونے پر بھی ماں باپ کی آواز سے تجاوز ناں کرتے تھے.گھر کی بہو سسرال سے اپنی میت اٹھوانا پسند کرتیں تھیں .گھر کے مسئلے مسائل پر پردہ ڈال کر مرد تک بات نہیں جانے دیا کرتیں تھیں.علیحدگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی.ٹرالی والے ٹیلیوزن اور گھر کے دروازے رات 8 بجے پی ٹی وی کے ڈرامے سے شروع ہوکر 9.30 بجے کے خبر نامے کے اختتام کے ساتھ بند کر دیئے جاتے.بچوں کو ٹی وی سے اتنے فاصلے پر بیٹھنے کا حکم تھا جیسے آجکل کورونا کے دوران سماجی فاصلے پر زور دیا جاتا یے.بہو کو بیٹی کا درجہ دیا جاتا تھا..داماد کو بیٹا تصور کیا جاتا تھا پرائیویٹ سکول نہ ہونے کے برابر تھے.سرکاری سکول میں کلاس کے نالائق سٹوڈنٹس بھی اساتذہ کے آگے سر نہ اٹھاتے تھے. اساتذہ گھڑی کو دیکھنے کی بجائے شاگردوں کے متعلق زیادہ سوچتے تھے اور نالائق شاگردوں پر زیادہ فوکس کرنا اپنی زمہ داری سمجھتے تھے.
    کل ملا کر بہترین انسان بنا کر روزگار کیلیے مارکیٹ میں بھیجا جاتا تھا.
    انکی مثبت سوچ اور رویہ سے ان کی تربیت اور افکار کا پتا چلتا تھا.کم تعلیم یافتہ والدین نے بہترین آفیسرز پیدا کیے.
    ہر بندہ اپنی جگہ پر ایسے براجمان ہو کر زمہ داری نبھاتا تھا جیسے جانور اور چرند پرند اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں.
    کھلے مکان .اونچی چھتوں والے کھلے کلاس روم.مٹی کی دیواریں وہ بھی 22 انچ تک چوڑی.گلیوں میں سولنگ.سنگل اسٹوری مکان .شرم و حیاء.ماں باپ اساتذہ کا تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرتی لیکچر اور مثالوں کی بھرمار نے صحت مند مثبت دماغ والے انسان پیدا کیے.مہنگائی نام کو دشمن تصور کیا جاتا تھا
    اب آتے ہیں 2000 کے دور میں جس میں ہم ایٹمی طاقت .جدید جنگی سامان .بہترین ٹیکنالوجی.
    پر سبقت لے گئے.اور خود کو بیرونی طاقتوں کے آگے مضبوط پیش کیا.
    پر ایک چیز جو جوں کی توں ہے وہ بیرونی قرضہ جات.خیر اس جو تو رجگتے ہی الگ ہیں جس پر دو رائے نہیں.
    کیا کھویا کیا پایا.
    1-اردو اسپیکنگ مائیں پر بچوں میں انسانیت کا فقدان
    2- ایجوکیٹڈ والدین پر اولاد معاشی بے راہ روی کا شکار
    3- ٹی وی .ریموٹ ہر ایک کی دسترس میں پر توجہ کا مرکز بےہودہ اور نان سیئریس وقت کا ضیاع
    4- موبائل .موٹر سائیکل وقت کی ضرورت پر مقاصد آوارہ گردی
    5- مہنگے پرائیویٹ اسکول, اسٹوڈنٹ کی تعداد بھی مختصر پر فیسوں کا بوجھ اور پڑھائی اور ڈگری برائے نام
    6- سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور جرائم کا بڑھنا
    انسانیت پر سے یقین کا خاتمہ خوف کا چورن سرعام بکنا.
    7-انصاف کے اداروں میں انصاف کی دھجیاں سر عام
    دو قانون .غریب کیلیے الگ امیر کیلیے الگ. ناامیدی
    8-عورت کا بے جا بوجھ مرد پر
    سورس کوئی بھی ہو
    مقاصد پر کوئی سمجھوتا نہ کرنا.
    9- ہر ایک کی جیب میں اپنے مسلک کا فتوئ
    10- بناوٹی سوچ . ہر حال ہر قیمت پر آگے نکلنے کی سوچ
    11- صبر .توکل.توبہ سے دوری وغیرہ وغیرہ
    12- چھوٹے بڑے کا ادب ممنوع.
    اپنے بچوں کو دوسروں پر فوقیت کی فکر
    اتنی بے فکری میں تو جانور بھی بچے نہیں پالتے شاید .جتنے ہم بے فکر ہو گئے ہیں
    13- ہٹلر نے کہا تھا
    اچھی مائیں دو اچھا معاشرہ لے لو .
    14- حلال حرام سے زیادہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور.
    15- بے شمار پیسا ہونے کے باوجود اںسانیت کا فقدان
    سارا قصور ریاست کا نہیں
    کچھ ہمارا بھی فرض بنتا ہے
    مرد کا کام بہتر رزق حلال کما کر گھر کو اسپورٹ کرنا ہے
    ماں کا کیا کام ہے شاید اس پر سوال بنتا ہے
    کیونکہ مولانق طارق جمیل صاحب نے کیا خوب کہا تھ کہ صبح صبح مائیں بچوں کو اپنی جان چھڑانے کیلیے اسکول بھیج دیتی ہیں اسکول میں بچوں کو کارٹون دکھائے جاتے ہیں تاکہ بچے کا دل اسکول میں لگے اور ماوں کی مجبوری کے ساتھ اسکول مافیا کا وظیفہ لگا رہے.
    باقی بچے گھر پر ہیں اور فیسیں آسمان پر .
    جب بچہ گھر آتا ہے تو موبائل یاں ٹی وی دیجھتا یے تو اسے والدین بھی کارٹون نظر آتے ہیں
    ہمیں مل کر اس نظام کو بدلنا ہوگا
    ہم نہیں بدلیں گے تو جیسے 30 سال پہلے کی محنت کو چںد سالوں نے بدل کر درہم برہم کر دیا کسی ناں جسی کو تو شروعات کرنا ہو گی.
    خود کو بدلیں .جیسے چین نے صرف 30 سالوں میں اپنے آپ کو دنیا کی بہترین قوم ثابت کر دکھایا.
    خدارا آپس کی منافقت سے نکلیں اور پچھلے 30 سال کو مثال بنا کر اپنا ٹائم ٹیبل ترتیب دیں .
    کسی کے چہرے کو سرخ دیکھ کر اپنے منہ کو ٹھپڑ مار کر لال کرنے سے گریز کریں.
    اپنے لال کی فکر کریں دوسروں کی گال کو چھوڑیں .

  • ہمارے تعلیمی مسائل تحریر: محمد وسیم

    ہمارے تعلیمی مسائل تحریر: محمد وسیم

    ہمارے موجودہ نظام تعلیم کی بنیاد لارڈ میکالے نے 1835 میں رکھی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنی قوم اور مزہبی ضرورت کے پیش نظر ایک نئے تعلیمی نظام کو وضع کرتے۔ لیکن ہمارے مقتدر طبقے نے لارڈ میکالے کے وضع کردہ نظام تعلیم کے مطابق اپنا تعلیمی نظام مرتب کیا-تعلیمی نظام کسی بھی ملک و قوم کے تہزیب و تمدن ، رسم و رواج اور ترقی پر برابر اثر رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم سیاسی اعتبار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی زہنی طور پر انگریز بہادر کی غلام ہے۔1857 کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر پاک و ہند میں دو طرح کے تعلیمی نظام ابھر کر سامنے آئے۔ ایک مذہبی نظام تعلیم اور دوسرا انگریزی نظام تعلیم۔ اول الزکر نظام تعلیم بھی بس نام کا مذہبی رہ گیا تھا اور موخر الزکر اخلاقی طور پر بہت برا ثابت ہوا۔موجودہ پاکستان میں تین طرح کے نظام تعلیم نظر آتے ہیں۔ پہلا نظام تعلیم تو عام سرکاری سکولوں اور کالجوں کا ہے ۔ دوسرا نظام تعلیم پرائیویٹ ہے اور تیسرا انگریزی اور غیر ملکی طرز کا ہے جہاں ذریعہ تعلیم خالص انگریزی ہے۔
    ہمارا موجودہ نظام تعلیم بہترین کلرک پیدا کرنے کی تو صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ سائنس دان، بہترین مسلمان اور اچھے سی۔ایس۔پی آفیسر پیدا کرنے سے قاصر ہے۔افسوس کہ ہم نے اغیار کا طرز تعلیم اپنا لیا اور اپنا بھی گنوا بیٹھے۔ حقیقی طور پر ہمارا تعلیمی نظام انگریزی تعلیمی نظام سے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بہت سے نقائص ہیں۔
    # بلاشبہ پاکستان ایک غریب ملک ہے ہم دوسرے ممالک کی نسبت اپنے بجٹ کا بہت ہی کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بجٹ کا مناسب حصہ تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا۔
    # ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی اغیار کی زبان میں نصابِ تعلیم ہے۔ انگریزی کی بالادستی سراسر ہماری غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمارے تمام علوم و فنون قومی زبان میں پڑھائے جائیں.
    #ہمارا تعلیمی نظام بلاشبہ بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ مثال کے طور پر امتحانات کا ناقص نظام، دوہرا تعلیمی نظام، اساتذہ کی کمی ، لیبارٹریوں میں سائنسی آلات کی کمی، تحقیقی کام کے لیے سہولیات کافقدان وغیرہ۔ ان تمام مسائل کو حل کیے بغیر تعلیمی ترقی نا ممکن ہے۔نظامِ تعلیم کی حقیقی اصلاح موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں تعطیلات کی بھرمار ایک اہم مسئلہ ہے۔ تعلیم سیشن نہایت قلیل عرصے پر مستمل ہوتا ہے اور بروقت نصاب ختم نہیں ہو پاتا اس کا ازالہ بہت ضروری ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ تعلیم کی طرف مبذول کرے تاکہ پاکستان کو حقیقی طور پر آزادی نصیب ہو۔ دعا ہے اس پاک کارساز مالک پروردگار سے کہ وہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں ہدایت عطا کرے بے شک وہی ہدایت دینے والا ہے ۔ آمین ثم آمین

    @mstrwaseem

  • قاتل روڈ  تحریر: علی رضا بخاری

    قاتل روڈ تحریر: علی رضا بخاری

    اہلیان ضلع ڈیرہ غازی خان و ضلع راجن پور 34 افراد بے موت لقمہ اجل، 40 سے زائد زخمی، 70 سے 75 خاندان برباد ہوئے، ہر آئے روز اس قاتل خونی سنگل انڈس ہائی وے کشمور، راجن پور تا ڈی جی خان، رمک اٹھتے لاشے قیامت صغری کا منظر تڑپتے لاشے کٹے پھٹے جسم، سسکیاں اور آہیں جو کہ حاکم وقت کے کانوں تک پہنچنے سے شاید قاصر ہیں، 20 سے 40 سال کےجوان صرف روزی روٹی کی خاطر پنجاب کے بڑے شہروں میں اپنوں سے دور اپنے علاقوں میں روزگار میسر نہ ہونے کے سبب مجبور بس حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے، کئی بہنوں کے بھائی کئی سہاگنوں کے سر کے سائیں، کئی مائوں کے راج دلارے، جگر کے ٹکڑے ،کئی خاندانوں کے واحد کفیل، اور درجنوں اپاہج ہونے والے مجبوری اور بے بسی کی تصویر بنے لاش نما زندہ چہرے آپ سے شاید کہہ رہے ہوں کہ کس کو قاتل کہیں کس کو مقتول کہیں، 40 سال سے یہ قاتل خونی سنگل روڈ کئی حادثات کو جنم دے چکا ہے کیا اب بھی کسی اور خونی منظر، کسی قیامت صغری کا مزید انتظار ہے، اس المناک حادثے نے پورے وسیب کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اب اس معاملے پر خاموشی بےحسی ہوگی، کب تک بے بس زندگی گزارتے رہیں گے، کب تک اپنوں کی لاشوں کو کاندھا دے کر تیرا سردار میرا سردار زندہ باد کے نعرے لگاتے رہیں گے، کب تک پارٹی پارٹی کھیلتے رہیں گے، کب تک اپنے خون کو پانی کی طرح بہتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنے رہیں گے، خدا کے لئے ہر گروپ ہر پارٹی کو سائیڈ پہ رکھ کر اس قاتل خونی روڈ کو ون وے دو رویہ ڈبل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، سوال یہ ہے کہ یہ روڈ پچھلے کئی سالوں سے ہر دوسرے دن کسی نہ کسی معصوم کی جان لیتا ہے، پریس کانفرنسوں میں یہ روڈ منظور ہے مگر اصل میں کب بنے گی؟ ہم اگر عملی طور پر بطور معاشرہ قدم نہیں اٹھا سکتے تو کم سے کم سوشل میڈیا پر آواز اٹھا سکتے ہیں سنا ہے سوشل میڈیا پر کیے گئے احتجاج پر جلد ایکشن لیتے ہیں۔

    @aliraza_rp

  • حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    اللہ نے بنی نوع انسان کے ساتھ کروڑوں چرند پرند بھی پیدا کیے جن کی حیات و افزائش، نسل انسانی کے ساتھ چلتی اور معدوم ہوتی رہی۔
    جب میں ساؤتھ افریقہ شفٹ ہوا تو خاصی حیرانگی ہوئی کہ یہاں چند جانور ایسے ہیں جن کی حفاظت ہمارے وی آئی پیز کی طرح کی جاتی ہے اور انتہا تب ہوئی جب اس جانور کا شکار کرنے والے شکاری جنہیں رینجرز کی زبان میں “پوچرز” کہا جاتا ہے مقابلے کے بعد شدید زخمی اور کچھ کو ہلاک کر دیا گیا۔ جی ہاں جان سے مار دیا گیا۔
    یہ حفاظتی اقدامات تھے “گینڈے” کو شکار سے بچانے کے لیے۔ ڈائنوسارز کے زمانے سے چل رہے چند جانوروں میں اب صرف ہاتھی اور گینڈا ہی باقی رہے اور گینڈا کی نسل اس کے دانت کی وجہ سے انتہائی شدید خطرات سے دوچار ہے۔
    کچھ بعید نہیں اگر جانور زبان رکھتے تو ضرور کہتے کہ “انسان کس قدر حیوان اور وحشی ہے”۔ جانور کا بھی کرۂ ارض پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ عام انسان کا مگر کیا کیجیے۔
    گینڈے بارے تھوڑی تحقیق اور معلومات آپ سے شیئر کرتا ہوں جو کم ہی لوگوں کو معلوم ہیں اور کیسے ساؤتھ افریقن حکومت انہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔
    آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جنگلات کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے نہ صرف گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ہیں ۔ زیادہ تر جنگلات میں جنگلی جانور نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنوبی افریقہ کے جنگلات ان چند جنگلات میں سے ایک ہیں جہاں اب بھی مختلف اقسام کے جنگلی جانور موجود ہیں۔اس لیے یہ تمام دنیا میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں بہت سے ایسے جانور پائے جاتے ہیں جو اب باقی دنیا میں ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ انھی جانوروں میں سفید اور سیاہ گینڈے بھی شامل ہیں۔ گینڈوں کی نسل گزشتہ کئی دہائیوں سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ مختلف جرائم پیشہ افراد ان کے سینگ کے حصول کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں اور ان کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ جسامت کے لحاظ سے یہ ایک بکتر بند ٹینک کی طرح ہے۔ یہ لاکھوں سال سے ہمارے ساتھ اس دنیا میں موجود ہے، لیکن اب اس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ۔ 1970 تک گینڈوں کی تعداد 70،000 تھی جو اب 27،000 کے قریب ہے۔

    جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے سفید اور سیاہ گینڈے میں اگرچہ رنگت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ دونوں ہی سرمئی رنگت کے ہوتے ہیں لیکن ان کو ان کی مختلف خصوصیات کی وجہ سے یہ نام دیے گئے ہیں۔
    سفید گینڈا ہاتھی کے بعد زمین پر پایا جانے والا دوسرا بڑا ممالیہ جانور ہے۔ سفید گینڈا 1900 کی دہائی کے اوائل میں 100 سے بھی کم رہ گئے تھے۔ لیکن عالمی محکمہ تحفظ جنگلی حیات اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے اب ان کی تعداد بڑھ کر 17،212 اور 18،915 کے درمیان ہوگئی ہے۔
    سیاہ گینڈے کا سائنسی نام ڈیسورس بائی کارنس ہے۔ یہ سفید گینڈے کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ پودے اور جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں۔ خاص طور پر ببول ان کی پسندیدہ غذا ہے۔ سیاہ گینڈوں کی آبادی 1970 میں 70،000 سے کم ہو کر 1995 میں صرف 2،410 رہ گئی تھی۔ لیکن افریقی محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی مسلسل کوششوں کی بدولت اس وقت ان کی تعداد 5،366 اور 5،627 کے درمیان موجود ہے۔

    معاشی ترقی اور آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے جنگلات کو کاٹ کر نئے شہر اور کالونیاں قائم کی جانے لگیں۔ اس عمل سے جنگلی حیات کوناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ کیونکہ ان کے قدرتی گھر ختم ہونا شروع ہو گئے، جہاں یہ مل جل کو گروہوں کی شکل میں رہتے تھے۔ اب یہ الگ تھلگ علاقوں میں تقسیم ہو گئے، جہاں ان کی افزائش کو خطرہ ہے۔ بہت کم گینڈے قومی پارکوں اور مصنوعی جنگلوں میں زندہ رہ پاتے ہیں۔

    جنگلی جانوروں خاص طور پر گینڈوں کو بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر شکار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ شوقیہ طور پر بے رحمانہ طریقے سے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ جس سے ان کی نسل تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

    شوقیہ شکار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تعداد ان افراد کی بھی ہے جو ان کا سینگ حاصل کرنے کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں۔ ایشیاء اور باقی دنیا میں پائے جانے والے گینڈوں کا ایک سینگ ہوتا ہے۔ لیکن جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے گینڈوں کے دو سینگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے انھیں زیادہ شکار کیا جاتا ہے۔ لوگ یہ سینگ روایتی دوائیوں کے استعمال یا بیش قیمت تحفے کے طور پر دینے کے لیے بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ چین اور ویتنام کی منڈیاں ان کے سینگ کی بڑی خریدار ہیں۔ چین کی ایک اہم مارکیٹ میں اس کے سینگ سے بنے نوادرات فروخت کیے جاتے ہیں۔ ویتنام میں اس کو کینسر کے علاج کے لئے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا سینگ جسم سے زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے، اس لیے سنگین سے سنگین بیماری میں بھی شفا دیتا ہے۔
    دنیا بھر میں گینڈوں کی آبادی کا تقریبا 80 فیصد جنوبی افریقہ کے کروگر نیشنل پارک میں موجود ہیں ۔گذشتہ پانچ سالوں میں 5100 سے زائد گینڈے غیر قانونی طور پر شکار ہوئے جن میں سے 50 فیصد صرف کروگر نیشنل پارک میں شکار ہوئے۔ لیکن افریقہ کے جنگلات میں اب ان کی حفاظت کے لیے رینجرز، ڈرون کیمروں اور جہاں ضرورت ہو تو مسلح افواج کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

    اگرچہ غیر قانونی شکار پر پابندی اور مصنوعی طریقوں سے افزائش نسل کر کے ان کی آبادی کو بڑھانے کی کوشش بہت حد تک کامیاب ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ہمیں اپنے قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ اس کا شکار زیادہ تر سینگ کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے، اس لیے صارفین کی مانگ ختم ہو جائے تو شکاریوں اور سمگلروں کی اس میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ کم سے کم جنگلات کی کٹائی ہو۔ اور یہ قدرتی ماحول میں نسل برقرار رکھ سکیں۔

    ‏Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1