Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف

    جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ تحریر ؛فرزانہ شریف

    دین کو لے کر اسلام کے نام پر کسى کا بھى مزاح اڑانا” کسى کلمه گو مسلمان کو کمتر سمجھنا” کمنٹس ميں پوسٹس میں فخر محسوس کرنے سے پہلے ہم اعمال اپنى زندگى کو هى دیکھ لیں’ کیا ہم جانتے ہمارى زندگى کب کس مقام پر اور کس حال میں اختتام پذیر ہو”
    کیا ہم جانتے ہیں ہمارى نماز ہمارے اعمال قبولیت کا شرف پا رہے ہیں” اپنے فرقے کو بہترین سمجھنا اور دوسرے کسى بھى فرقے کے مسلمانوں کو کمتر سمجھنا گالى گلوچ طنزو مزاح کى محفلیں سجانا کم سے کم ہم امتى۔۔۔۔۔۔؟!
    شیوه نهيں دیتا اس فانى زندگى ميں نصیحت کرنا تنقید کرنا بہت آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا مشکل ہے”
    برداشت نہیں کسى ميں نفسا نفسى کے دور میں ہر انسان کا خود کو بہترین نیک ایمان دار سمجھنا دوسروں کو کمتر سمجھنا بہت عام بہت آسان بہت قابل فخر بات بن چکى اب ۔۔۔! آج تک ميں نے کوئی فرقہ واریت ٹویٹ یا پوسٹ نہیں کی اچھى بات جو بولے سن بھى لیتى عمل کى کوشش بھى’ اور کبھى کوئی بول دے پوسٹس کمنٹ ڈیلیٹ کرنے کو تو بنا بحث کے کر بھى دیتى’ کبھى کبھار پوچھتى ضرور ہوں’ کیا غلط کا برا هے اس ميں کچھ تفصیل یا تھوڑا سا هى بتا دیں” بات ختم ادھر هى۔۔۔

    ہم نہی جانتے ہم زندگی کے کس موڑ پر ہمارے کس قول فعل عمل سے کسی کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں کبھی کبھار غیر ارادی طور پر بھی ہوجاتا ہے ایسا۔۔
    دعا کریں ہمیں کبھی کسی کی بددعا نہ لگے
    انسان کی زندگى ميں اپنے اتنے معاملات پریشانیاں در پیش لاحق ہوتى ہیں اپنے گناه اپنى نافرمانیاں بجائے اس کے ہم اپنے ایمان کى اپنے اعمال کی فکر کریں مگر نہ جى ہمیں تو یہ ثابت کرنا فلاں جہنمى هے فلاں ایسا ہے صرف
    ہم”اللہ سبحانه وتعالیٰ کے لاڈلے ہیں اور جنت کا ٹکٹ ہمارے ہاتھوں میں ہے انا للہ وانا الیہ راجعون💔
    استغفراللہ ربى من کل ذنب واتوب الیه”
    اللہ الرحمن الرحیم الغفور القدوس السلام المومن العزیز الجبار القہار الرزاق الفتاح العظیم پاک پروردگار ہمیں هدايت کامل ایمان نصیب فرمائے آمین یارب العالمین

  • سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے.تحریر:  امان الرحمٰن

    سوشل میڈیا کو اپنے وطن کے لیئے استعمال کیجئے.تحریر: امان الرحمٰن

    دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔آج آپ نے کوئی بھی معلومات لینی ہو یا کوئی کتاب ڈاؤن لوڈ کرنی ہو سب انٹرنیٹ پر مل جاتا ۔جہاں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں اس کے منفی استمعال کا عنصر بھی جنم لے رہاہے، بدقسمتی سے پاکستان میں یہ منفی عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ۔آج ہر دوسرے شخص کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون ہے اور ہر شخص فیسبک اور ٹویٹر انسٹاگرام پر ایکٹو رہتا ہے یا یوں سمجھئے کے ہم نے سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا بہت اہم حصہ تصور کرلیا ہے جس کے بغیر زندگی گُزارنا مشکل ہو جائے گی ۔ لیکن اگر ہماری ایسی عادت بن ہی گئی ہے یا ہم اِس کے بنا رہ نہیں سکتے تو کیوں ناں ہم اِس موبائل کے ساتھ جوڑے سوشل میڈیا کو اپنے ملک اپنے مذہب کے لئے استعمال کریں اور ملک و قوم کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ مُعاشرہ بہتری کی طرف آئے اور آپ کی ایک چھوٹی سی پوسٹ یا تحریرکسی کے دل میں گھر کر جائے۔ اب آجائیں کے استعمال کیسے کریں اور کیا کِیا جائے تو دیکھیں کچھ لوگ اس کا مثبت استعمال کر رہے ہیں اورکچھ لوگ منفی،

    جو مثبت استعمال کر رہے وہ اپنے فارغ وقت میں سوشل میڈیا کے زریعے اپنے وطن اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجحتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے خلاف دشمنوں کے پروپیگنڈہ کو ناکام بناتے ہیں ۔ جو لوگ منفی استعمال کر رہے ہیں وہ ہوش میں آئیں زندگی چھوٹی ہے اس کو فضولیات میں برباد نہ کریں۔
    کمنٹ میں "گو” لکھ کر ٹرک چلنے کا انتظار نا کریں۔۔!’
    جو دس گروپوں میں شیئر کرے گا اس کو اپنا نمبر دوں والی پوسٹ شیئر کر کے اپنے ضمیر کو مردہ مت بنائیں۔ کبھی خُود کا اپنا مُحاسبہ بھی کر لیا کریں کے زندگی کا مقصد کہیں فوت تو نہیں کر دیا میں نے۔۔؟ اب دیکھیں ایسی ایسی پوسٹس اور مضمون یا لطیفے ہیں کےاگر سنجیدگی سے غور کریں تو اِن فضولیات کا کتنا گہرا اثر لوگوں کی سوچ پر پڑ رہا ہے کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں کے ہم کیا کر رہے ، یہ وقت کا ضیاء نہیں تو اور کیا ہے ؟ صحیح معنوں میں اِن فضولیات نے ہمیں اللہ سے دور کر دیا ہے مگر یہ سلو پوائیزن کی طرح ہم میں رچ بس گیا ہے اور ہمیں آہستہ آہستہ نقصان اور بربادی کی طرف لیجا رہا ہے، اور اِس کا علاج صرف اپنا مُحاسبہ ہے اور اِس سے بھی آسان یہ کے آپ اپنے موبائل کو اپنا ہتھیار اپنا مورچہ بنائیں ہر برائی کے خلاف، اِس لئے سب سے پہلے کون سا ٹب بھرے گا والی پوسٹ کر کے نا تو آپ کو کچھ حاصل ہوگا نا دوسروں کو، خُدارا ایک ذمہ دار شہری بنیں اللہ نے جو یہ زندگی آپ کو دی ہے اِسے ہر اُس بہتر کام میں صرف کریں ناں کے فضولیات میں ، سوشل میڈیا کو تفریح کا ذریعہ مت بنائیں،

    اس کا بہترین استعمال کریں اور آج کل مثبت استعمال یہ ہے آپ ففتھ جنریشن وار کے سپاہی بن جائیں اور دشمنوں کی پاکستان کے خلاف شروع کی جنگ میں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے شانہ بشانہ لڑیں ، اس سے أپ کی ذات کو فائدہ ہوگا، اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یقین جانیئے آپ کو ہندوستان اور بالی وڈ سے نفرت ہو جائے گی،
    آپ عالمی سازشوں کو سمجھنے لگیں گے، وطن پرستی پروان چڑھے گی، آپ کے پاس فضول کاموں کے لیے وقت نہیں ہوگا ، آپ کے علم میں اضافہ ہوگا ، اسلام اور پاکستان کی مکمل تاریخ جاننے میں آپ کو مدد ملے گی۔ اِن شاء اللہ
    اس لئے آئیے اور وطن کا دفاع کیجئے۔اگر آپ کسی پارٹی کے کارکن ہیں اور افواج پاکستان سے اپنے لیڈروں کی وجہ سے بغض میں مبتلا ہو گئے ہیں تو اس راہ پر آپ پر بہت حقائق آشکار ہوں گے ، آئیے اور سوشل میڈیا کا اپنے وطن کے لیے استعمال کیجئے، آپ کو لگے گا کہ آپ اپنا وقت برباد نہیں کر رہے آپ کا ضمیر مطمئن رہے گا۔

    کچھ لوگ کہتے ہیں سوشل میڈیا پر پاکستان کو دفاع کیسے کریں ہمیں سکھایا جائے۔
    تو دوستو اگر آپ نئے ہیں تو جو لوگ پہلے سے کام کر رہے ہیں ان کا حوصلہ بڑھائیں ان کی پوسٹوں کو مختلف گروپس میں شئیر کریں، ٹویٹر پر ہیں تو کوئی اچھی بات ہے تو اُسے واٹس ایپ پر شیئر کریں، واٹس ایپ پر ہے تو فیس بک پر شیئر کیجئے۔۔۔۔ ہاں ایک بات اچھے سے ذہن نشین کرلیں کے یہ سوشل میڈیا اکثر و بیشتر آپ کو فیک نیوز جعلی خبریں بھی ملیں گی نظر آئیں گی مگر آپ نے یہاں ایک ذمہ دار پاکستانی سے پہلے نبیﷺ کی وہ حدیث یاد رکھنا ہے کے بنا تصدیق آپ نے وہ بات آگے نہیں پہنچانی جس کا آپ کو کوئی ثبوت نہیں ملا ہو ہاں اگر ثبوت ہیں تو شیئر ضرور کیجئے۔ دیکھیں آپ جب بہتری کی نیت سے خالص ہو کر کسی اچھے مقصد سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں گے تب آپ کا ضمیر بھی پُر سکون ہوگا اور اِس جھوٹ کی جنگ جو ہم پر قومی اور مذہبی روایات پر ایک حملہ کی صورت مسلط ہے جسے ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے آپ اِس کے گُمنام سپاہی بن جائیں گے ۔ اور آہستہ آہستہ آپ سب جان جائیں گے اِس ففتھ جنریشن وار کے بارے میں کے یہ کتنی گہری ضرب ہے ہے ہم پر اور ہمیں کیسے اِس نہ نظر آنے والی جنگ سے اپنی پاک سرزمین کو محفوظ بنانا ہے۔
    آئیے اور سوشل میڈیا کا اپنے وطن کے لیے استعمال کیجیے۔ اللہ کریم ہمیں ہر برائی سے دور رکھے آمین

  • قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی.  تحریر:شمیل آعوان

    قربانی جذبہ بھی فریضہ بھی. تحریر:شمیل آعوان

    قربانی سنت ابراہیمی ہے جو ہر سال ہم اہنا اولین فریضہ سمجھ کے اپناتے اور نبھاتے ہیں..
    عید قربان نا صرف سنت ہے بلکہ یہ ایک ایسا درس ہے
    جو ہماری زندگی کو ہمارے کردار کو بہت سوچنے پہ آمادہ کرتی ہے. اسلام نے کتنی خوبصورتی سے اس دن کو غرباء کے لیے بھی بہترین بنایا. اس قربانی کا اللہ پاک کی نظر میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ غرباء مساکین لوگ جو سارا سال شاید بکرے گاے کا گوشت کھانے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اس دن پیٹ بھر کے کھانا کھاتے ہیں اور اللہ پاک اپنے بندوں کی خوشی میں ہی خوش ہوتے ہیں.
    اس طرح قربانی کے گوشت میں بھی ان مستحقین کے باقاعدہ حصے طے کیے گئے ہیں تاکہ ان تک پہنچ سکے.
    یہ قربانی نا صرف جانوروں تک محدود ہے یہ ہمیں درس دیتی ہے ایثار کا برابری کا احساس کا بندگی کا حقوق العباد کا جو کہ اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے.
    ہمارے معاشرے میں حقوق العباد تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے مگر بحیثیت ابسان تو ہم کبھی مکمل ہونے کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتے اگر کوئی ذات مکمل ہے تو وہ رب ذوالجلال کی ہے جو ہر سال حقوق العباد کو دہرابے اور یاد دہانی کروانے کو اس دن کو ہماری زندگیوں میں لاتا ہے اور ہم اس دن دل کھول کے ہر گھر میں استطاعت کے مطابق گوشت دیتے ہیں دروازے پہ آئے مساکین اور ضرورت مندوں کو بانٹ کر دلی سکون اور اللہ کا قُرب حاصل کرتے ہیں.

    قصہ مختصر یہ کہ…

    وہی ذات ہے جو بے شک یقیناً سب جانتی ہے اور ہماری زندگیوں کو انسانیت کی خدنت کی طرف کب کیسے مائل کرتی ہے وہ وہی رب خود ہی جانتا ہے ہم بہت چھوٹے اور
    گناہگار ہیں.
    اللہ پاک اس موقع پہ بھی ہم انسانوں کو حقیقی جذبہ قربانی سے نواز دیں.
    آمین
    @shameel512

  • تلاش   تحریر: صدام حسین

    تلاش تحریر: صدام حسین

    پی کے 81 تیل وگیس پیدا کرنے والا حلقہ ہونے کیوجہ سے بہت آہمیت کا حامل مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج اس بدقسمت حلقے کو ایسا لیڈر نہی ملا جو اس حلقے کی عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے اقدامات اٹھائے تیل وگیس کی پیداوار سے وطن عزیز صوبہ خیبر پختونخواہ وضلع کوہاٹ کو سالانہ اربوں کا منافع ہورہا ہے مگر جہاں سے یہ سونا اگل رہا ہے وہاں کے مکین آج بھی صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں ۔
    ہماری زمین سے پیدا ہونے والا گیس ملک کے دوسرے آضلاع کی فیکٹریاں کارخانے اور گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے مگر سونااگلنے والے سرزمین کے لوگ روزی روزگار کے لیے دیار غیر یا پھر ملک کے دوسرے آضلاع کا رخ کرنے پر مجبور ہیں گزشتہ پی ٹی آئ حکومت میں شہزادئ کے مقام پر انڈسٹریل زون قائم کرنے کا واویلا رہا مگر ابھی تک عملی اقدامات دور دور تک نظر نہی آرہے تیل گیس پیدا کرنے والی کمپنیاں و منتخب عوامی نمائندے عوام کو چونا لگاکر خود تو اس نعمت سے فیاضیاب ہورہے ہیں مگر اس بدقسمت حلقے کی عوام کی ویلفئر کے لیے خاطرخواہ اقدامات اٹھانا گوارہ نہی کرتے ۔
    12یونین کونسل پر مشتمل یہ وسیع و عریض حلقہ بنیادی ضروریات کے لیے ہمیشہ کسی مسیحا کی "تلاش ” میں اپنی رائے دہی کا استعمال کرتی چلی آرہی ہے مگرآج تک ایسا کوئ نمائندہ انکی کردرے ہاتھوں پر خوشحالی وترقی کی لکیر نہ کھینچ سکا ۔
    موجودہ پی ٹی آئ صوبائ و وفاقی حکومت عوام پر سرمایہ کاری کرنے پر یقین رکھتی ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب انتخابی مہم کے دوران پر عوام پر سرمایہ کاری کرنے پر زور دیتے چلے آئے ہیں اور وزیرمملکت برائے داخلہ محترم شہریارخان آفریدی صاحب بھی آپنے تقاریر میں عوام کی قسمت بدلنے کی باتیں کرتے چلے آئے ہیں ہم پی ٹی آئ حکومت و محترم شہریارخان آفریدی صاحب سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ حلقہ پی کے 81 کے تیل وگیس کی پیداوار کو مدنظر رکھ کر اس حلقے میں انڈسٹریل زون کے قیام کو اولین ترجیح دینگے اور اس حلقے کی محرومیاں ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اتھائنگے انشاءاللہ ۔
    صاف پینے کا پانی ہمیشہ سے اس حلقے کی مکینوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے دریا سندھ اس حلقے کے ساتھ بہتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے آگر حکومت وقت سنجیدگی سے اسطرف توجہ دیں تو دریاسندھ سے حلقہ پی کے 81 کی ابنوشی و ابپاشی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں اور گیس سے چلنے والی چھوٹی بڑی فیکٹریاں لگا کر اس حلقے اور کوہاٹ کی بیروزگاری پر قابو پایا جاسکتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کوہاٹ سے منتخب صوبائ و وفاقی نمائندے کب اس طرف توجہ مبذول کرتے ہیں ۔
    پی ٹی آئ اور بالخصوص محترم شہریارخان آفریدی کو آللہ نے عوام کی بے لوث خدمت کا موقعہ دیا ہے آگر یہ موقعہ ضائع کیا گیا تو آئندہ اسطرح کا موقعہ شائد نہ ملے

    @SAA_afridi

  • سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی  تحریر : زوہیب زاہد خان

    سنت نبویؐ کی پیروی حقیقی کامیابی تحریر : زوہیب زاہد خان

    آج کے دور میں ہم مسلمان دنیا کی رنگینیوں میں کھوگئے ہیں۔ آج ہم دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوچکے ہیں جسکی وجہ سے ہماری زندگیوں سے برکت اٹھی چکی ہے۔ ہمیں کہیں طرح کے مسائل نے گھیر لیا ہے۔ ہم الجھنوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہمارے دل مردہ اور بے ضمیر ہوچکے ہیں. مجموعی طور پر ہمیں زوال کا سامنا ہے۔

    ناکامی کی بنیادی وجہ :
    مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ الله پاک اور الله کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی نہ گرازنا ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی الله اور رسول الله کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ یہ ہی مسلمانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔

    سنت نبویؐ :
    ہر وہ ایسا عمل جو ہمارے پیارے رسولؐ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہو اور امت کو اسکا حکم دیا ہو اس عمل کو ہم سنت کہتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم کی پوری زندگی ہمارے لیئے عملی نمونہ ہے. پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے محبت ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ پیارے نبی کی سنت سے محبت نبی سے محبت کی عظیم ترین مثال ہے۔

    الله رب العالمین نے ہمارے نبی کریم کی سیرت طیبہ کو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بنادیا ہے۔ مسلمان زندگی کے ہر امور میں آپ کی سیاست طیبہ کو پڑھ کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم کی زندگی ہر مسلمان کیلئے بہترین اسوہ حسنہ ہے۔

    قران و سنت :
    آج کے مشکل ترین دور میں الله اور رسول اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا ہماری دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی ہے۔

    قران مجید میں الله نے مسلمانوں کیلئے واضح احکامات بیان فرما دیئے ہیں۔اسکے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بتائی ہوئی احادیث مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنا ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو الله اور الله کے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @ZohIbZahidKhan

  • جماعت اسلامی پاکستان  تحریر:  عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان تحریر: عامر خان

    پچھلے کچھ دنوں سے جماعت اسلامی پر کچھ لکهنے کا ارادہ تها وقت کا سیاہ گھوڑا مگر سرپٹ دوڑ رہا تها ذاتی مصروفیات جس کی کمر پہ سوار تهیں اور ناچیز ارادہ باندهتا ہوں توڑ دیتا ہوں کی کیفیت سے دوچار کہ پرسوں ن لیگ کے چند نوجوان کارکنان سے نشت ہوئی موضوع تها خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات کسی ایک کے پاس بهی کوئی اعداد و شمار تک نہیں تهے معلومات کا یہ عالم تها کہ یہ تک نہ جانتے تهے کہ مقتول کارکنان کا تعلق کس جماعت سے ہے دھاندلی پر میں بحث نمٹا چکا تو انہوں نے کپتان پر روایتی تنقید شروع کی ایک ایک نقطے کا میں نے تفصیل سے جواب دیا کوئی پانچ گھنٹے کی سعی لا حاصل کے بعد ان کا موقف یہ تها کپتان کامیاب کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ ان سے پرانی اور زیادہ اچھے لوگوں پر مشتمل جماعت، جماعت اسلامی ناکام ہے اس پر بهی میں نے کهل کر بحث کی اور دونوں جماعتوں کی کامیابی و ناکامی پر اپنی معروضات پیش کیں اختتام پر کچھ تحریک انصاف بارے اچهے خیالات کا اظہار کر رہے تهے یا پهر نرم الفاظ کا چناؤ تب بهی ارادہ کیا کہ پہلی فرصت میں جماعت اسلامی پہ کچھ لکهوں گا کل رات عزیزم حافظ عبدالودوود عامر کی اپڈیٹ دیکهی حافظ صاحب میرے لیئے نہایت قابل قدر ہیں اچھا خاصا مطالعہ رکهتے ہیں ذہین نوجوان کا فکری تعلق جماعت اسلامی سے ہے جمعیت طلباء کے غالبا زون کے ذمہ دار ہیں ان کی تحریر غصے سے لبریز تهی کپتان کے اس بیان پر وہ تپ اٹھے ہیں کہ جس میں انہوں نے سراج الحق صاحب سے کہا ہے کہ وکٹ کے چاروں طرف نہ کهیلیں حافظ صاحب کا غصہ اپنی جگہ تاہم جان کی امان پاوں تو کچھ عرض کروں کہ تحریک انصاف پر تنقید کی جائے تو اس کے کارکنان گالیوں سے مخالف کی تواضع فرماتے ہیں جماعت والے جبکہ ہاکیوں سے.صالحین کی جماعت کے کارکنان کا خیال یہ ہے کہ ان سے اختلاف ناقابل معافی جرم ہے اور ان کے لیڈران پر تنقید گویا گمراہی کی دلیل ہے ایک وضاحت پہلے یہ کہ جماعت ہر لحاظ سے تحریک انصاف سے بہتر جماعت ہے نظم و نسق مثالی ہے اور احتساب کا عمل اس سے بهی مثالی اچهے اور باکردار لوگوں کی حامل! سید مودودی کا لگایا ہوا پودا مضبوط بهی بهی ہے اور مربوط بهی. چوائس اول وہی ہے 2013 کے انتخابات کے ہنگام کپتان کے بنیادی حلقہ این اے 71 میں جماعت کی مہم میں نے برپا کی پورے زور کے ساتھ ، دوران مہم امیر جماعت تحصیل عیسی خیل مجهے یہ کہتے رہے ن لیگ کو ہدف تنقید نہ بنایا جائے یا للعجب ‘ دلیل کوئی نہ تهی ووٹرز تحریک انصاف کے حامی اس کے باوجود اسی پہ تنقید پہ وہ خوش ہوتے یہ جانتے ہوئے بهی کہ جماعت صرف صوبائی ووٹ کی طلبگار ہے اور اگر اسے کچھ پانا ہے تو تحریک سے ہی پانا ہے اس کے باوجود وہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر کپتان کے مقابل امیدوار کے حامی تهے یہ اگر سیاسی بصیرت ہے تو پهر اللہ ہی حافظ! جماعت میں کبهی قاضی صاحب نے اسلامک فرنٹ کا ڈول ڈالا تها جس کے جلسوں کا اپنا ایک رنگ تها شوری نے مگر اس تجربہ کو ناپسند کیا اور قاضی صاحب کے پاوں میں بیڑیاں ڈال دیں سید منور حسن نے جماعت پر اسلامی رنگ کو گہرا کیا آخری تجزیے میں وہ سیاسی عمل سے ناامید نظر آئے ان پر جہادی تحریکوں کا رنگ غالب تها سراج الحق صاحب امیر بنے تو ایک امید سی تهی کہ وہ شاید سیاسی ناکامی کا تجزیہ کریں گے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت میں وہ شامل ہوئے اور پوری شان کے ساتھ تحریک انصاف نے بهی اپنے بازو کهولے اور دونوں بغلگیر ہو گئیں دھرنے کے ہنگام سراج الحق صاحب مصلحت کار بن کر ابھرے مصالحت اچهی سوچ تهی وہ مگر کبهی ن لیگ پر برستے ان کو مذاکرات کے تعطل کا ذمہ دار ٹہراتے کبھی وہ جمہوریت کے چیمپین بن کر دھرنے والوں کو دھمکاتے کہ خبردار ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں حیرت کے ساتھ خلق خدا یہ سوچتی رہ جاتی کہ کیا ن لیگ کی حکومت کا دوسرا نام جمہوریت ہے اور اسحاق ڈار میاں صاحبان ان کے جانشین حمزہ شہباز اور مریم صاحبہ جمہوریت کے روشن نشان نیز ماڈل ٹاون ایسے واقعات اس جمہوریت کے ماتھے کا جهومر خیبر کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے بعد جماعت نے بهی اپنی حلیف حکومتی جماعت کو اڑے ہاتھوں لیا اور اپنی ناکامی چهپانے کےلئے تحریک انصاف کو دھاندلی کی چیمپین قرار دے ڈالا ایک ایسا انتخاب جو قوم برادری کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے ساڑھے گیارہ ہزار پولنگ سٹیشنوں میں سے 121 پر ہی سنگین بدانتظامی ہوئی پولیس اور حکومت کے ساتھ ساتھ جس کا الیکشن کمیشن بهی ظاہر ہے کہ ذمہ دار ہے مگر کیا اسے قومی انتخابات کی طرح دھاندلی زدہ الیکشن کہا جا سکتا ہے کوئی بهی باشعور اس بات کو تسلیم نہ کرے گا دوسری بات یہ ہے کہ کیا ان تمام مقامات پر گڑبڑ کی ذمےداری صرف تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے جس کے گیارہ کارکن مقتول ہوئے اور کئی زخمی عجیب دھاندلی تهی جس میں طاقتور فریق یعنی دھاندلی کرنے والے انصافیے ہی مارے جا رہے تهے اللہ کی آخری کتاب کا فیصلہ یہ ہے کہ کسی گروہ سے دشمنی تمہیں ناانصافی پہ نہ ابهارے.
    سات جماعتوں کے اتحاد میں بعد ازاں پتہ چلا کہ آٹھویں جماعت اسلامی بهی تهی تو کپتان کےلئے جماعت کے کارکنان کا فرمان عالیشان کیا ہے کہ وہ احتجاج بهی نہ کرتے؟ایک سادہ سا اصول یہ ہے کہ دوست کا دوست.دوست اور دوست کا دشمن ، دشمن .دشمن یہ بات مگر امیر جماعت کو کون سمجھائے اپنی جماعت کی ناکامی کے اسباب جو خارج میں تلاش کرتے ہیں حافظ صاحب کا فرمان یہ ہے کہ تحریک انصاف میں فلاں فلاں شخص جو ہیں وہ غلط لوگ ہیں بجا مگر کیا ان کے نکل جانے سے جماعت کامیاب ہو پائے گی؟؟ ناکامی کہاں ہے مینار پاکستان جلسے میں خطاب فرماتے ہوئے جن پر سراج صاحب برسے شام ہونے پر ان کے ہاں ہی کهانا کها رہےتهے! بقیہ کل انشاءاللہ جاری ہے.
    ازقلم

    @Aamir_k2

  • عنوان :  وزیراعظم عمران خان کے اقدامات   تحریر : سیف اللہ عمران

    عنوان : وزیراعظم عمران خان کے اقدامات تحریر : سیف اللہ عمران

    بہت سارے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ تبدیلی کہاں ہے جس کا خان صاحب نے اعلان کیا تھا اور وہ وعدے کہاں گئے تو آپ کو بتاتے ہیں بہت سارے وعدہ وفا ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے مسلئے ہیں جن پر قابو پانے کی کوشش کی جس رہی ہے جن میں مہنگائی ہے جو کو حکومت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ایک دن آئے گا کہ پاکستان مہنگائی فری ہو جائے گا
    اب آئیے کچھ مثبت اقدامات بتاتے ہیں اپکو
    جس پرٹوکول کو ہم پچھلے 35 سالوں دیکھ رہے تھے عمران خان نے اسکو آتے ہی ختم کیا ۔
    جب ہم گھر سے نکلتے تو ہم نے دعا کرتے کہ کوئی بڑا آدمی نہ آئے تاکہ ہم اسکول ، کالج ، دفتر یا مزدوری تک پہنچ سکیں
    عمران خان نے ہمارے خرچ پر وزراء اور اشرافیہ کی پرتعیش حکومت کا رہنا ، کھانا پینا ختم کیا ، جوہمیں مغل عہد کی یاد دلاتا تھا
    عمران خان نے حکمرانوں اور اشرافیہ کو سرکاری خرچ پر سردرد کی گولی لینے لندن جانا پر پابندی عائد کی
    اس سے نہ صرف قومی ایئر لائن خسارے میں تھی بلکہ اربوں افراد کو سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگایا دیاجاتا تھا
    عمران خان نے ہمیں ان بچوں کی غلامی سے آزاد کیا جن کا نطفہ ابھی بھی باپ کے جسم میں تھا اور ہم غلامی کے لئے تیار تھے
    عمران خان نے اپنے سپورٹران کو یہ شعور دیا کہ جہاں میں غلط ہوں مجھے روک کر کہنا کہ تم غلط ہو ہم تمھیں چھوڑ دیں گے
    عمران خان نے اپنے پرائے سارے چوروں کو قطار میں کھڑا کردیا۔ اس نے عوامی ووٹ بیچنے والوں کو سرعام بے نقاب کیا
    عمران خان نے ان شاندار عمارتوں کو قوم کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقف کیا جو پرتعیش حکمران عیش و آرام کے اڈوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
    عمران خان نے کرونا کے دوران ملکی تاریخ میں پہلی بار 12 ہزار امداد کی شفاف ترسیل ممکن بنائی جو اس سے پہلے صرف ورکروں اور وڈیروں کو ملتی تھی
    عمران خان نے بطور کسئ بھی حکمران پہلی بار ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دنیا کے ایوانوں میں آواز اٹھائی اور مسلم امہ کو اس مسلے پر اکھٹا کرنے کی کوشش کی جبکہ اس سے پہلے ہر بار سرعام ہمارے حکمران ناموس رسالت کا سودا کرتے تھے
    ہم میں سے بیشتر جنگل کے باسی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ کوئی جنگلاتی افسر یا وزیر ہوتا جو ان جنگلات کو تباہ ہونے سے بچاتا
    عمران خان سے پہلے کسی نے ماحولیاتی سسٹم بچانے کی کوشش کی ہی نہی
    عمران خان سے پہلے کسی نے فٹ پاتھ پر بھوکے سونے والوں کا سوچا بلکل نہی ، کیا کسی کو احساس تھا کہ احساس پروگرام کتنا ضروری ہے. بھوک لگی فٹ پاتھ پر سونا کتنا مشکل تھا اور وقار کے ساتھ چھت کے نیچے بستر اور اچھا کھانا لینا کتنا ضروری تھا
    اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کو پسند کرسکتا تو ، عمران خان کو پسند کرنا تو دور اگر میرے بس میں ہوتا تو میں عمران خان کے راستے میں اس طرح پھول بچھاتا جیسے کہ 30 سال کا شخص 16 سال کے محبوب کے راہوں میں بچھانے کی خواہش کرتا ہے۔۔
    کیونکہ عمران خان نے ہمیں اس غلامی سے بچایا جس میں ہم ابوجہل کے پیروکار تھے
    شکر ہے کہ پاکستان ، ملک کے نواز اور زرداری کے دشمن فنا ہوچکے تھے ، لہذا خان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
    اور وہ ان چیزوں میں مصروف ہوگیا۔ ابھی میرے پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کے پاس یہ ہیرا ہےTwitter
    @Patriot_Mani

  • عید الاضحیٰ کے موقع پر مشعال ملک کا رقت آمیزویڈیو پیغام جاری

    عید الاضحیٰ کے موقع پر مشعال ملک کا رقت آمیزویڈیو پیغام جاری

    اسیر کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ آج کشمیر میں مسلمانوں کو اپنا مذہبی تہوار عید منانے کا حق بھی نہیں اور کشمیری نماز عید بعد ایک دوسرے سے مل بھی نہیں سکتے،نریندر مودی حکومت نےکشمیریوں پر عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کے ذبح کرنے اور اجتماعی نمازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے،عید کے موقع پر کشمیر قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کشمیری حریت پسند لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اپنے ویڈیو پیغام میں تمام اُمتِ مسلمہ کو عیدالاضحی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کو مذہبی تہوار عید منانے کا حق بھی نہیں، کشمیری عید الاضحی کی نماز بھی ادا نہیں کر سکتے عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کے ذبح کرنے اور اجتماعی نمازوں پر پابندی لگا رکھی ہے-

    مشعال حسین ملک کا عیدالاضحی پر پیغام دنیا بھر کے مسلمانوں کو عید الاضحی مبارک میری دعا ہے کہ آپ سب اپنے پیاروں اپنے دوستوں کے ساتھ محفوظ اور خوش رہیں اور یہ عید کا خوبصوت تہوار ہنستے مسکراتے منائیں یکن بد قسمتی سے مودی اور مودی حکومت نے انڈیا کے مسلمانوں اور جموں کشمیر کے کے ہر کشمیری کی ایک بار پھر زندگی جہنم بنا دی ہے-

    انہوں نے کہا یہ میری میرے شوہر کے بغیر 14ویں عید ہے ہماری فیملی بہت ہی مشکل حالات سے گزر رہی ہے کیونکہ میرے شہور میری بیٹی کے والد تہار جیل کے ڈیڈسیل میں قید ہے ہماری عید بہت ہی درد بھری ہے کیونکہ ہماری فیملیاں ساتھ نہیں ہیں ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کر سکتے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

    واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر گائے، اونٹوں، بچھڑوں اور ایسے دوسرے جانوروں کے ذبح پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ انیمل و شیپ ہسبنڈری اینڈ فشریز کے ڈائریکٹر پلاننگ نے اس ضمن میں جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں کے صوبائی کمشنروں اور پولیس کے انسپکٹر جنرلوں کے نام ایک حکم نامہ جاری کیا حکم نامے میں انیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا کی طرف سے 25 جون کو ارسال کر دہ ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ‘جموں وکشمیر میں عیدالاضحیٰ، جو 21 سے 23 جولائی تک منائی جائے گی، کے دوران ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں قربانی کے جانور ذبح کئے جائیں گے –

    حکم نامے میں متذکرہ افسران سے کہا گیا کہ اس کے پیش نظر مجھے ہدایت دی گئی ہے کہ میں آپ سے انیمل ویلفیئر قوانین کی پاسداری اور جانوروں کے غیر قانونی ذبح کرنے کی روک تھام کو یقینی بنانے نیز انیمل ویلفیئر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی درخواست کروں۔

  • سنت ابراہیمی.تحریر:  فروا منیر

    سنت ابراہیمی.تحریر: فروا منیر

    عیدالاضحیٰ پوری دنیا میں مسلمان ہر سال جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ہر سال سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر کے مسلمان مذہبی جوش و جذبے سے عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ منانے کا مقصد سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔

    یہ عشق کی انتہا یہ تھی کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تو آپ نے خود کو عشقِ خداوندی کی سپرد کردیا یہ عشق کی انتہا کی تھی جب آپ کو حکم ملا کہ اپنی بیوی اور بیٹے کو ویران و بیابان علاقے میں چھوڑ آؤ تو  آپ ع نے اپنی بیوی اور بیٹے کو حکم الہی کی سپرد کردیا ۔ یہ عشق کی انتہا یہ تھی کہ جب آپ کو حکم ملا کے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کر دو تو آپ نے یہ خواب اپنے بیٹے کو سنایا اور اپنے بیٹے کو حکم الٰہی کے سپرد کر دیا۔

    حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اصل مقصد نہیں تھا اصل مقصد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور  عشق کی انتہا کو دیکھنا تھا ۔ بے شک اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی ہر آزمائیش پر ثاںت قدم رہے اور کامیاب ہوئے۔
    اسی طرح ہر مسلمان کی زندگی میں آزمائش اور مشکلات آتی ہے آزمائشوں اور مشکلات میں پریشان ہونے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں ۔ ہمیں بھی ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے

    سنت ابراہیمی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں اپنی جان مال قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے
    صرف جانور کو قربانی کرنا چاہیے کہ ہمیں اپنے نفس کی قربانی دینے کی ضرورت ہے ہر اس راستے سے ہمیں دور رہنا ہے جو راستہ اللہ سے دور کر رہا ہے سب سے بڑی قربانی اپنے نفس کی قربانی ہے اللٰہ تعالیٰ کی خاطر اپنے نفس کی قربانی کے لیے بھی ہر وقت تیار رہنا چاہیے

    ہمیں سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور  دین اسلام اور راہ خدا کے لیے کسی قربانی سے انکار نہیں کرنا ہے

    Email Address
    Farwawrites1214@gmail.com

    @Fatii_PTI

    Name
    Farwa Munir

  • کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں  تحریر : مسکان اشرف

    کیا "واقعی میں ہم سب منافق ہیں تحریر : مسکان اشرف

    لفظ منافقت سے ہم سب واقف ہیں ۔
    منافقت کرنے والا منافق کہلاتا ہے ۔ اب منافقت کیا ہوتی ہے اس سوال کا جواب بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں کیونکہ ہمارے پیارے مذہب اسلام نے منافق اور منافقت کی واضح نشانیاں دیں ہیں جو چمکتے سورج کی طرح عیاں ہیں ۔ منافق کی سب سے بڑی نشانی یہ ہیں کہ وہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہوتا ہے ۔ باالفاظ دیگر منافق کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ۔ انسان فطری طور پر گویا ہوتا ہے اور اللہ رب العزت نے اسے زبان دی ہے جس کی مدد سے وہ بولتا رہتا ہے ۔ بولتے بولتے اس کی زبان سے مختلف لہجوں میں الفاظ کی صورت میں باتیں نکلتی ہیں ۔ یہ باتیں دیگر انسان پرکھتے ہیں، جانچتے ہیں، تولتے ہیں، حتی کے چکتے بھی ہیں بعد ازاں ان ہی باتوں کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد اس انسان کے حوالے سے رائے قائم کی جاتی ہے کہ بولنے والا کیسا انسان ہے ۔ کیا اس کا قول ، فعل سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ۔ اگر رکھتا ہے تو ٹھیک، نہیں رکھتا تو منافق ٹھہرتا ہے ۔
    آئیں !!!! اب اسی فارمولے کو خود پہ آزماتے ہیں ۔ روزمرہ زندگی میں ہمارے قول و فعل میں کتنا تضاد ہوتا ہے ؟؟؟ کیا ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں؟؟؟؟ کیا رسماً، عادتاََ اور مجبوراً ہمارے قول و فعل ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہوتے؟؟؟
    ایک دن میں ہم جتنے متعلقین سے ملتے ہیں اور ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تو خدا کو گواہ بنا کر خود ہی کو جواب دیجیے کہ کیا ہم اُن سے ملتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے، اُن کے ساتھ بیٹھتے ہوئے یا کھاتے ہوئے منافقت کرتے ہیں یا نہیں ؟؟؟ ہم باتوں ہی باتوں میں ان کو ورغلاتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ جس بات میں ہمارا نفع اور فائدہ نہ ہو اس بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟ کیا پورے مہینے میں ہم کوئی ایسا کام نہیں کرتے کہ جس کام کے بارے میں ہمارا قول کچھ اور ہمارا فعل کچھ اور ہو ؟؟؟ جس بات کو کرنے سے ہماری شخصیت سنورتی ہے خواہ وہ جھوٹ کیوں نہ ہو اور حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو، کیا ایسی باتیں ہم کرتے ہیں یا نہیں ؟؟ ہم دوسروں کی بیگار (مدد) سے جان چھڑوانے کے لیے بے دریغ جھوٹ بولتے ہیں یا نہیں؟؟ کیا ہم اپنے ہی جگریوں کو دھوکہ دیتے ہیں یا نہیں؟؟؟؟ اگر ان جیسے اور درجنوں سوالات کا جواب آپ کا "نہیں” میں ہے تو پھر تو آپ فرشتہ ہیں لیکن اگر آپ کا جواب ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہاں میں ہے تو پھر تو آپ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔
    میرے اندازے کے مطابق پڑھنے والوں میں اکثریت کے جواب کا تعلق "ہاں” سے ہے تو پھر تو مبارک ہو کیونکہ پھر تو "واقعی میں ہم سب منافق ہیں ”

    معذرت
    Twitter @IamBlackninaj05