Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اقتدارمیں رہوں یا نہیں عوام کی خدمت کروں گا، سانول آکاش

    اقتدارمیں رہوں یا نہیں عوام کی خدمت کروں گا، سانول آکاش

    کوٹلی میں جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کے نامزد امیدواربرائے ممبر قانون سازاسمبلی سانول آکاش ایڈوکیٹ کا یونین کونسل گوئی دھنواں نے دورہ کیا ہے، ڈورٹوڈورانتخابی مہم، مختلف وفود سے ملاقاتیں، کارنرمیٹنگز کی ہیں.

    کوٹلی حلقہ راج محل میں جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کے امیدواربرائے ممبرقانون سازاسمبلی سانول آکاش کی انتخابی مہم جاری ہے، اس موقع پرانہوں نے مختلف کارنرمیٹنگز اورعلاقہ عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کا انتخاب نظریات کی بنیاد پرکیا ہے، ہم ذاتی مفادات کی نہیں بلکہ نظریات کی بنیاد پرسیاست کررہے ہیں، اقتدارمیں ہوں یا نہ عوامی خدمت، کشمیرکی خوشحالی اورمقبوضہ کشمیرکی آزادی کیلئے جدوجہد جاری ہے اورجاری رہے گی.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ شکرگزارہوں گوئی دھنواں کے میرے بزرگوں اورنوجووان دوستوں نے مجھے محبت دی اوراپنی بھرپورحمایت کا یقن دلایا ہے، اس بارنظریاتی جدوجہد کرنے والوں اورخوشحالی کشمیر کیلئے عملی طورپرمصروف جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کی فتح ہوگی۔پچیس جولائی کو صرف کرسی پرمہریں لگیں گی۔

  • پرانی دونوں جماعتوں کے زوال کا وقت شروع ہوگیا ہے،شبیرچیچی

    پرانی دونوں جماعتوں کے زوال کا وقت شروع ہوگیا ہے،شبیرچیچی

    میرپورمیں سیاسی وسماجی رہنماعمرظہورنے چوہدری شبیرچیچی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے.

    جموں کشمیر یونائٹیڈ موومنٹ کے نامزد امیدواربرائے ممبر قانون سازاسمبلی حلقہ ایل اے تھری میرپورچوہدری شبیرچیچی کی انتخابی مہم جاری ہے، گزشتہ روزشبیر چچی کے اعزازمیں پرانی چونگی میں کارنرمیٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں علاقہ کی سیاسی وسماجی شخصیات سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے، اس موقع پرعلاقے کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت عمرظہورنے ساتھیوں سمیت جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے، چوہدری شبیرچیچی کی حمایت کا اعلان کیا ہے.

    عمر ظہورکا کہنا تھا کہ چوہدری شبیر چیچی خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشارشخصیت ہیں، جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کشمیرکی نمائندہ جماعت ہے، جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ آرپارکے کشمیریوں کیلئے امید کی کرن بن کرابھری ہے، ساتھیوں سمیت جموں کشمیر یونائٹیڈ موومنٹ کی سپورٹ اورووٹ کا اعلان کرتا ہوں۔

    اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے چوہدری شبیرچیچی کا کہنا تھا کہ میں عمرظہورسمیت اہل علاقہ کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ نے مجھ پراعتماد کیا اوراپنی حمایت کا یقین دلایا ہے. اب پرانی دونوں جماعتوں کے زوال کا وقت شروع ہوگیا ہے، قوم انہیں ووٹ کی طاقت سے اسمبلی میں پہنچایا تاکہ یہ عوام کہ مسائل حل کریں اورتحریک آزادی کشمیرکیلئے دنیا میں آوازاٹھائیں مگران لوگوں نے قوم کومایوس کیا ہے، اب قوم ووٹ کی طاقت سے ان کا احتساب کرے گی۔

  • قدرت کا اک حسین تحفہ "رتی گلی جھیل” از محمد عبداللہ

    قدرت کا اک حسین تحفہ "رتی گلی جھیل” از محمد عبداللہ

    آزاد جموں و کشمیر کےخوبصورت ترین مقامات میں سے ایک مقام "رتی گلی جھیل”.
    ضلع نیلم میں واقع یہ خوبصورت مقام دواڑیاں سے 16 کلومیٹر بلندی پر واقع ہے. دواڑیاں تک اپنی گاڑی پر بھی جاسکتے اور لوکل بھی جاسکتے. دواڑیاں سے رتی گلی بیس کیمپ تک آپ کو جیپیں میسر آتی ہیں.
    ویسے دواڑیاں سے رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک کا راستہ بذات خود بہت ہی دلکش راستہ ہے جو ایک تند و تیز پہاڑی نالے کے ساتھ ساتھ بلندی کی طرف چڑھتا ہے. اگر آپ کے پاس وقت ہو اور ہمت بھی ہو تو آپ دواڑیاں میں رات بسر کرنے کے بعد صبح سویرے پیدل سفر کا آغاز کریں اور نالے کے کنارے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے شام تک رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک پہنچیں.
    رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ پر اگر آپ رات گزارنا چاہیں تو وہاں خیمہ جات موجود ہیں جو مناسب کرائے میں آپ کی رات گزارنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں. رتی گکی سے علی الصبح آپ جھیل کی طرف چڑھنا شروع کریں آدھے راستے میں گلیشیئرز کے درمیان ایک چھوٹی جھیل آتی ہے. آپ اس کے کنارے سے ہوکر بلندی کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں.
    یہاں پر فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں اور ان کے دامن میں موجود چراگاہیں آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی ہیں اور یہاں پر اکثر سیاِح غلطی کرتے ہیں جو ہم نے بھی کہ جگہ جگہ رک کر تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور جب بندہ پہاڑ کی چوٹی پر جیسے ہی پہنچتا تو سامنے کا منظر اتنا دلفریب ہوتا کہ کچھ لمحات تک تو بندہ مبہوت ہوکر رہ جاتا وہ منظر دیکھ کت بندہ سوچتا کہ یار نیچے جگہ جگہ کر تو وقت ضائع کیا. بیس کیمپ سے جھیل تک لے جانے کے لیے خچر اور گھوڑے بھی بیس کیمپ پر موجود ہیں.
    جیسے ہی آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہیں تو سامنے گلشیئر ، اس عقب میں گلشیئرز سے ہی ڈھکی جھیل اور جھیل کے عقب میں تین اطراف سے جھیل کو گھیرے میں لیے ہوئے دیو ہیبت کالی کھڑی چٹانیں آپ کے سامنے موجود ہوتے ہیں.یہ منظر اتنا دلفریب اور حسین ہے کہ آپ کی زبان بےساختہ پکار اٹھتی ہے "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ”.
    جون کے اواخر میں اس جھیل کا راستہ کھلتا ہے اور اگلی برفباری تک یہ راستہ کھلا رہتا ہے. جھیل تک قدرے مشکل ٹریک اور گلیشیئرز کی وجہ سے کم لوگ اس جھیل تک جاتے ہیں تو اس وجہ سے جھیل کی قدرتی خوبصورتی صاف ستھری حالت میں آپ کے سامنے موجود ہوتی ہے. البتہ دوست احباب کے ساتھ جانے والے انسان خالی بوتلیں اور ریپرز وغیرہ وہاں پھینک ہی آتے ہیں جو کہ ایک نامناسب عمل ہے. اگر سبھی ٹورسٹس تھوڑی سی کوشش کریں اور خالی بوتلوں اور ریپرز وغیرہ کو ڈال کر نیچے لے آیا کریں تو ان قدرتی مناظر کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے.

    محمد عبداللہ

  • پاک بحریہ کثیرالجہتی محاذوں پر مصروفِ عمل .تحریر:افتخار احمد خانزادہ

    پاک بحریہ کثیرالجہتی محاذوں پر مصروفِ عمل .تحریر:افتخار احمد خانزادہ

    پاک بحریہ ایک کثیر الجہتی مقاصد کا حامل ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کی بحری حدود کی حفاظت کے علاوہ خطے میں پُر امن جہاز رانی کا فروغ اور آبی گزرگاہوں کو محفوظ بناتے ہوئے پاکستان کی بحری تجارت کو بحفاطت پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے، اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے پاک بحریہ ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں وطنِ عزیز کی ساکھ،سربلندی اوردائمی استحکام کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے۔پاک بحریہ نے کبھی دہشت گردی کے خلاف کھلے سمندروں میں عالمی بحری قوتوں کے ہمراہ عالمی امن کے لیے اپنی خدمات پیش کیں، کبھی انسدادِبحری قزاقی کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کیاتو کبھی زلزلے،سیلاب اور قدرتی آفات میں گھرے متاثرین کو سامانِ خوردو نوش اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو ممکن بنایا۔
    قدرتی آفات اور حادثات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی اور متزلزل صورتِ حال میں پاک بحریہ نے قوم کو کبھی بھی مایوس ہونے نہیں دیا۔ کووڈ کی صورتِ حال کے دوران پاک بحریہ نے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں ضرورت مند خاندانوں تک غذائی اشیاء کی فراہمی کو ممکن بنا کر قوم کا اعتماد جیت لیا۔

    پاک بحریہ نہ صرف عسکری محاذوں پر برسرپیکار اپنی جرات،اولولعزمی، فرض شناسی اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ قومی سطح پر رفاہ عامہ کے کاموں میں بھرپور حصہ لے کر انسانی خدمت کا فریضہ بھی بخوبی نبھا رہی ہے۔پاک بحریہ نے نہ صرف1000 کلو میٹر کی ساحلی پٹی پر آباد سر کریک سے جیوانی تک کی آبادیوں کو ہمیشہ مفت طبی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایاہے بلکہ اندرونِ سندھ، وسطی پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں بھی ان سہولیات کو باہم پہنچانے کا بھر پوراہتمام کیا ہے، جس کا مظاہرہ پاک بحریہ اپنے میڈیکل کیمپس کے انعقاد کے ذریعے کرتی رہتی ہے۔ 8 اکتوبر کے زلزلے میں متاثرین کو طبی امداد اور ضروری سامان کی فراہمی کے ساتھ متاثرین کی اسپتالوں تک رسائی جیسے اقدامات میں پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا،شمالی علاقہ جات میں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے آپریشنز میں بھی پاک بحریہ نےدیگر مسلح افواج کے شانہ بہ شانہ اپنا کردار اداکیا،جس نے پاک بحریہ اور عوام کے درمیان پُر جوش اور متاثرکن جذبات کو جنم دیا۔ اس طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاک بحریہ اپنا کردار ادا کر کے عسکری اداروں پر عوام کا مزیداعتماد بحال کرتے ہوئے قوم پراپنا منفرد تشخص آشکار کر رہی ہے۔

    آزادکشمیر مظفرآباد میں پاک بحریہ کے 30 جون سے 2 جولائی 21 تک منعقد ہ 3روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں پاک بحریہ کی جانب سے پہلی بار اس فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آزادکشمیر مظفر آباد ڈویژن کے ضلع ہٹیاں کے علاقے چکار،نواحی علاقے چلہ پانڈی اور نیلم وادی کے علاقے کنڈل شاہی میں لگائے گئے3 روزہ فری میڈیکل کیمپ میں پاک بحریہ کے خصوصی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے علاقائی لوگوں کو گھر کی دہلیز پر مناسب تشخیص کے بعدفری ادویات کی فراہمی کو ممکن بناکرمقامی افراد میں زندگی کی روح پھونک دی اور اس طرح کشمیر کے دورافتادہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات سے محروم ضرورت مند اور مستحق افراد کے دل جیت لیے۔اس فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام نیول ہیڈ کواٹر کی خصوصی ہدایت کے تحت عمل میں لایا گیا تا کہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں رہائش پزیرافراد میں انسانی صحت سے متعلق شعور اُجاگر کرتے ہوئے انہیں مناسب طبی سہولیات اورادویات فراہم کی جا سکیں۔ہزاروں افراد کا مفت طبی معائنہ کیا گیااور تشخیص کے مطابق مختلف امراض میں مبتلا کثیر تعداد میں مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔پاک بحریہ کے طبی ماہرین کے متاثرکن اور خوش اخلاق رویے نے علاقائی افراد کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیں۔ پاک بحریہ کی یہ ٹیم کوالیفائیڈ ڈاکٹرزاور فزیشنز پر مشتمل تھی جس میں شامل میڈیکل،سرجیکل،امراضِ چشم،زچہ و بچہ اور جلدی امراض کے خصوصی ماہرین نے مختلف امراض میں مبتلا مستحق افراد کو بھرپور توجہ کے ساتھ معائنے کے بعد طبی سہولیات فراہم کیں۔عوام الناس کو صحت عامہ سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی بالخصوص خواتین کو ماں اور بچے کی صحت سے متعلق ضروری معلومات سے آگاہ کیا گیا کہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے اور صحت مند بچے ہی صحت مند معاشروں کا آئینہ دار ہوا کرتے ہیں۔

    آزاد کشمیر کے ان دور افتادہ دیہاتی علاقوں میں جہاں مناسب بنیادی طبی سہولیات کا فقدان موجود ہے، اچھے اسپتالوں تک رسائی اور مہنگی ادویات کا حصول عوام الناس کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ ان مقامات پر اس طرح کے فری میڈیکل کیمپس ضرورت مندافراد، بچوں، بوڑھوں، خواتین اور مستحق خاندانوں میں خوشیاں بانٹتے ہوئے ان کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جس کی بدولت مقامی لوگوں میں پاک بحریہ سے متعلق محبت سے بھرپور جذبات جنم لے رہے ہیں مقامی افراد پاک بحریہ سے متعلق دلوں میں نرم گوشے رکھتے ہوئے تشکر آمیز مسکراہٹوں کے ساتھ بحریہ کے اس اقدام پر دعا گو نظر آتے ہیں۔یقینا قوموں کی زندگی میں ایسے ہی لمحات باہمی ہم آہنگی اور یک جہتی کے فروغ کا باعث بنتے ہیں جس کی بنا پر مستقل بنیادوں پر قومیں معاشروں میں اپنے وجود کا احساس دلایا کرتی ہیں جن کے نتائج قومی حمیت اور ناقابلِ تسخیر دفاع کی صورت میں اقوامِ ِعالم پرآشکارہوتے ہیں اور تاریخ ان عوامل کو اپنے دامن میں جگہ دے کر قوموں کی زندگی کو امر کر دیا کرتی ہے۔ پاک بحریہ انہی عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف فلاحی کاموں میں بھرپور حصہ لیتی ہے اور ارضِ وطن کے دفاع اور دائمی استحکام کے لیے کثیر الجہتی محاذوں پر ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔

  • کوئی حد نہیں خدمت کی :تحریر:فیاض احمد عباسی

    کوئی حد نہیں خدمت کی :تحریر:فیاض احمد عباسی

    سفید مصفا وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے آفیسرز اور جوان سمندر کی بے کراں وسعتوں کے حکمران ہیں۔ اُ ن کی فرض شناسی، مستعدی اور حب الوطنی کی بدولت پاکستان کی سمندری سرحدیں محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ یہ سر فروش نہ صرف ملکی بحری سرحدوں کے دفاع کے قومی فرائض بخوبی نبھا رہے ہیں بلکہ ملک میں جب بھی کوئی ناگہانی آفت رونما ہوئی تو قوم کے یہ بیٹے مدد کے لیے ہمیشہ تیار نظر آئے۔ پاکستان نیوی کی قومی خدمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ملک کی ساحلی آ بادی میں نظر آتا ہے۔ تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کی سہو لیات کا معاملہ، روزگار کی فراہمی ہو یا معیشت کا استحکام پاکستان نیوی ہر جگہ پیش پیش رہتی ہے۔ تعلیم کے لیے بحریہ کا لجز، بحریہ اسکولز،کیڈٹ کالجز اپنی خدمات پیش کیے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ سر کاری اسکولوں کی سرپرستی اور ان کے ساتھ تعلیمی تعاون ایک الگ کاوش ہے۔

    صحت کی بات کی جائے تو ساحلی علاقوں میں تسلسل کے ساتھ فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد نمایاں ہے۔ کووِڈ 19- کے دوران پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے صحت کی سہولیات اور ساحلی آبادی کے علاج معالج میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔میڈیکل کیمپس قائم کیے، حفاظتی سامان کی تقسیم کی، لوگوں کو بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔ شدید امراض میں مبتلا مریضوں کا اور ماڑہ میں واقع پاکستان نیوی کے ہسپتا ل پی این ایس درماں جاہ میں جدید آلات سے علاج کیا گیا۔ کووِڈ19-کے دوران پاکستان نیوی نے ملک کے ساحلی علاقوں اور دیگر شہروں میں 70ہزار ٹن راشن بانٹا، 50ہزار کے قریب حفاظتی سامان اور طبی آلات تقسیم کیے۔

    روزگار اور معیشت کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان نیوی ساحلی پٹی کے مستحق نو جوانوں کو خصوصی رعایت کے ساتھ ملازمت دیتی ہے۔ اُ ن کے لیے کو ٹہ بھی مخصوص ہے۔پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے کی سمندری گزر گاہوں کو محفوط بنا کر پاکستان نیوی پاکستانی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بحری اقتصادی پوٹینشل کے سلسلے میں آگہی کے فروغ اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کے ضمن میں پاکستان نیوی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ یہ تو ساحلی علاقوں میں پاک بحریہ کی خدمات کا انتہائی مختصر ذکر تھا۔

    ساحلی علاقوں کے علاوہ ملک میں کبھی بھی جہاں بھی ضرورت پیش آئی پاکستان نیوی پیش پیش رہی۔ اپنی قومی خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان نیوی نے آزاد جموں و کشمیر میں تین دن پر محیط فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس فری میڈیکل کے انعقاد کا مقصد آزاد جمو ں و کشمیرکے علاقوں چہلہ بانڈی، چکار اور نیلم میں آباد مستحق خاندانوں کو علاج کی سہولیات کی دستیابی اور ادویات کی بلا معاوضہ فراہمی تھا۔ پاکستان نیوی فری میڈیکل کیمپ کے ماہر ڈاکٹر ز نے کیمپ میں آنے والے مریضوں کا انتہائی باریک بینی سے معائنہ کیا اور مرض کی تشخیص کے بعد انہیں بلا معاوضہ ادویات فراہم کی۔ میڈیکل کیمپ میں آنے والے ہزاروں مریضوں میں خواتین بچے اور معمر افراد شامل تھے۔ مقامی آبادی اور علاقے کی معزز شخصیات نے مشکل کی اس گھڑی میں گھروں کی دہلیز تک علاج معالج کی سہولیات اور ادویات پہنچانے پر پاک بحریہ کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔ میڈیکل کیمپ میں آنے والے معمر افراد نے کہا کہ ہم پاکستان نیوی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے میڈیکل کیمپ لگایا۔ ہم عمر رسیدہ لوگ دور دراز کا سفر نہیں کر سکتے اور صحت بھی اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ہمیں گھر میں علاج کی سہولیات میسر آئی ہے۔ نیوی کے ڈاکٹر بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ عملہ اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے۔ علاج بہت اچھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ معززینِ علاقہ نے کہا کہ مہم پر جب بھی مشکل آن پڑی پاک بحریہ نے ہمیشہ ہماری مدد کی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا2019 کا زلزلہ پاکستان نیوی کی امداد ی کاروائیوں، بحالی کے کاموں اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ زلزے کے بعد پاکستان نیوی نے ہمارے بچوں کے لیے اسکولوں کی تعمیر نو کی۔ گھروں کی کو دوبارہ بنانے میں مدد کی۔ ہمارے زخمیوں کا علاج معالجہ کیا۔ ہماری ہمت افزائی کی، حوصلہ دیا، تسلی دی، الغرض زندگی میں اُمید کی کرن پیدا کی۔

    یہ پہلا موقع نہ تھا جب پاکستان نیوی نے آزاد جمو ں و کشمیر میں میڈیکل کیمپ لگا یا بلکہ اس سے قبل بھی پاکستان نیوی اس خطے میں امدادی آپریشنز انجام دے کر مشکل کا شکار لوگوں کی اعانت کر چکی ہے۔ 8 اکتوبر 2005 کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں آنے زلزلے نے بڑے پیمانے پر بتا ہی پھیلائی۔ پاکستان کی تاریخ میں آنے والے اس ہولناک زلزلے سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ لاکھوں کی تعدا د میں خاندان بے گھر ہو گئے۔بے گھر خاندا ن بے سرو سامان کسی غیبی مدد کے منتظر تھے، کسی مسیحا کا انتظار کر رہے تھے۔ اس سانحہ کے فوراً بعد پاکستان کی مسلح افواج امدادی کاروائیاں کرنے اور قیمتی انسانوں جانوں کو بچانے کے لیے حرکت میں آئیں۔ ریسکو آپریشنز میں 50 ہزار سے زائد مسلح افواج کے جوان اور آفیسرز نے حصہ لیا۔ پاک بحریہ بھی ان امدادی آپریشنز میں پیش پیش رہی۔ متاثرین کی امداد کے لیے پاکستان نیوی نے مختلف شہروں میں امدادی کیمپس قائم کیے تاکہ امدادی سامان جمع کیا جاسکتے۔ان امدادی کیمپس کے ذریعے جمع ہونے والے سامان کو ریل گاڑی، ٹرکوں اور پاکستان نیوی کے طیاروں کے ذریعے کراچی اور ساحلی شہروں سے اسلام آباد لا یا گیا اور پھر انہیں آزاد کشمیر کے متاثر ین تک پہنچایا گیا۔ اس سانحے میں زخمی ہونے والوں کے لیے ریلیف کیمپس لگائے گئے۔ جہاں ان زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان ریلیف کیمپس کو فیلڈ ہسپتا ل میں بدل دیا گیا جہاں شدید زخمیوں کا علاج کیا گیا۔ پاکستان نیوی کے ڈاکٹر ز، پیرا میڈیکل اسٹاف، آفیسرز اور جوانوں نے یہاں دن رات خدمات انجام دیں اوراپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوئے۔ ادویات کی اشد ضرورت کے پیش نظر پاک بحریہ کے فو کر طیارے کے ذریعے ادویات کو کراچی سے پی اے ایف چکلالہ پہنچایا گیا جہاں سے یہ ادویات پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے متاثرہ علاقوں میں پہنچائی گئیں۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کے سی کنگ اور ایلویٹ ہیلی کاپڑز زخمیوں کو ہسپتال تک پہنچانے کا کام انجام دیتے رہے۔ اسلام آباد میں واقع پاک بحریہ کے ہسپتا ل پی این ایس حفیظ کو زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے مخصوص کیا گیا۔ پاک میرینز اور نیوی کے اسپیشل سروس گروپ کے جوانوں نے امدادی سر گرمیوں میں حصہ لے کر زخمیوں کو فیلڈ ہسپتال پہنچا یا اور متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔

    26ستمبر2019کو آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد پاک بحریہ متاثرین ِ زلزلہ کی امداد کے لیے متحرک ہو گئی۔ پاک بحریہ کی امدادی ٹیموں نے میر پور آزاد کشمیر کے گاؤں جرار اور ڈھوک گجر کے متاثرینِ زلزلہ میں امدادی سامان تقسیم کیا۔۔ زلزلے سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے تھے۔ 2005 کے زلزلے کی تلخ یادوں نے وہاں کے لوگوں کو ایک خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ سب بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھے۔ زندگی بھر کی جمع پونچی کے ضیاع نے انہیں بے حد افسردہ کر رکھا تھا۔ امدادی ٹیموں میں شامل پاک بحریہ کے آفیسرز و جوانوں نے زلزلے سے متاثرہ بھائیوں کی ڈھارس بندھائی، اُن کی ہمت افزائی کی اور کسی بھی مصیبت کی صورت میں اُن کو ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ امدادی سامان جس میں خیمے اور کئی ٹن راشن شامل تھا زلزلہ متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔

    پاکستان نیوی قومی خدمات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی کاروائیوں کو انجام دے چکی ہے۔ اس کی عالمی خدمات میں یمن کے شورش زدہ علاقوں سے سینکڑوں افراد کو بحفاظت نکالنا،بحری قزاقوں کے ہاتھو ں یرغمال ہونے والے بحر ی تجارتی جہاز ایم وی سویئزکے عملے کی بازیابی، سمندری طوفان ”سونامی“ کے دوران سری لنکا، مالدیپ اور انڈونیشیاء میں امدادی آپریشن اورکھلے سمندروں میں مصیبت میں گرفتا ر افراد کی مدد قابل ذکر کارنامے ہیں۔

    پاکستان نیوی اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ کسی بھی ناگہانی آفت کی صور ت میں ملک و قوم کی خدمت کے لیے پر عزم ہے اور اس کے آفیسرز و جوان کسی بھی مشکل میں اپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہونے جذبے سے سرشار ہیں۔

  • طالبان کی نئی حکمت عملی؟ تحریر: نوید شیخ

    طالبان کی نئی حکمت عملی؟ تحریر: نوید شیخ

    اب تک طالبان کی افغانستان کی مسسلسل پیش رفت کیا ہے اور کیسے وہ چن چن کر اپنے دشمنوں کو عبرت کا نشان بنا رہے ہیں ۔ اب جیسا کہ کل خبر آئی تھی کہ بھارت طالبان کے خلاف قوتوں کو افغانستان میں اسلحہ فراہم کر رہا ہے ۔ آج طالبان نے قندھار میں بھارتی قونصل خانے پر قبضہ کرکے یہ بدلہ اتار دیا ہے اور قونصل خانے پر قبضے کی ویڈیو بھی جاری کردی گئی ہے۔ ویڈیو میں طالبان کو قندھار میں بھارتی قونصل خانے کے مختلف حصوں میں جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارتی سفارتکاروں اور سکیورٹی عملے نے اپنا سامان بھی پیک نہیں کیا۔ اور بھاگ گئے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت بیس سال تک افغانستان میں کئی طرح کے جنگی جرائم میں امریکہ کا مددگار رہا ہے ۔ اب افغانستان میں بھارت کی حالت عجیب سی ہو گئی ہے ۔ تین ارب ڈالر وہاں کھپانے والا بھارت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ طالبان کے ساتھ چین ، روس ، ترکی اور امریکہ وغیرہ سیدھی بات کر رہے ہیں اور پاکستان بھی۔ لیکن بھارت کی وزارت خارجہ کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے کیونکہ سب کو انکی اصلیت معلوم ہے ۔ اس وقت بھارت کی وزارت خارجہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج افغانستان ہے۔ بھارت کو فوری طور پر جس چیز نے تشویش کا شکار کیا وہ اس کے پائلٹوں کا معاملہ ہے۔ طالبان زمینی حملوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں لیکن فضائی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بیس برسوں کے دوران بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے پاس یہ معلومات موجود ہیں کہ طالبان ، معصوم بچوں اور عام شہریوں پر بمباری کرنے والے کئی پائلٹ بھارتی فضائیہ کے ہیں۔ طالبان نے اب تک برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم پائلٹوں کے متعلق ان کی پالیسی غیر مبہم ہے۔ اب یہ بھی خبریں ہیں کہ حالیہ دنوں سات یا آٹھ پائلٹ طالبان نے قتل کئے ہیں۔ ان میں کچھ بھارتی بھی ہیں۔ بھارت کے لئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ اب تک بھارت اپنا بہت سا عملہ افغانستان سے نکال چکا ہے۔ ان میں زیادہ تر سفارتی کور میں کام کرنے والے انٹیلی جنس کے لوگ تھے۔

    ۔ یہ لوگ افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑائی اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اب بھارتی سفارت کار ایسے پراپیگینڈہ کر رہے ہیں کہ طالبان امن دشمن ہیں اور غیر مہذب ہیں ۔ جبکہ بھارتی میڈیا کو تو ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان دشمنی کے پیچس لگ گئے ہیں ۔ بھارتی میڈیا اس وقت رو رہا ہے ، چینخ رہا ہے ، چلا رہا ہے ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ جائیں تو جائیں کہاں ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے لئے افغانستان کی صورت حال مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور سیکرٹری خارجہ ہر وہ دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں جہاں سے طالبان کا گزر ہوا ہو ۔ مگر طالبان نے اب بھی اور پہلے بھی درپردہ رابطوں کی بھارتی کوششوں سے بیزاری کا اظہار کیا ہے ۔

    طالبان کے برسر اقتدار آنے سے بھارت افغانستان کی شکل میں ایک سٹریٹجک اتحادی سے محروم ہو چکا ہے۔ بھارت کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے۔ اور بھارت کو اس چیز کی بھی بہت تکلیف ہے کہ طالبان اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اس لئے پاکستان کو ایک اور دوست ہمسایہ مل گیا ہے ۔ پاکستان کا مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا۔ سی پیک اور وسط ایشیا تک جانے والے تجارتی راستے کھل سکتے ہیں۔ اس لیے بھارت کے لئے یہ تصور کرنا ہی ڈرونا خواب ہے کہ وہ ہارے اور فرار ہوتے لشکر کا سپاہی ہے۔ مودی ، جے شنکر اور اجیت ڈول کے پائوں تلے انگارے سلگ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے خطے میں پاکستان اور چین کے سوا سب سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور سب انہیں پاکستان کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ درحقیقت بھارت کو افغانستان میں خانہ جنگی سوٹ کرتی ہے کیونکہ اسے افغان سرزمین پر پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی سازشیں مزید پروان چڑھانے کا موقع ملے گا۔ چنانچہ افغانستان کا عدم استحکام ہمارے عدم استحکام پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا یہ موقف بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرمایہ کاری ڈوبنے پر بھارت شدید مایوسی کا شکار ہے اور ایسے میں اُس کی بوکھلاہٹ قابل فہم ہے ۔

    بھارت پہلے امریکا کی ناک کے نیچے بدامنی پھیلاتا رہا ۔ افغانستان میں امن نہیں ہونے دیا ۔ اب روس ،ایران ،چین اور سب ممالک دیکھ رہے ہیں کہ بھارت عدم استحکام کیلئے اسلحہ پہنچارہا ہے ۔ خطے کے امن کیلئے ضرور ی ہے کہ بھارتی دوغلی گیم کو روکا جائے ۔ حقیقت میں بھارت افغانستان میں خانہ جنگی کروا رہا ہے ۔ بنیادی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھے ،امریکا کو بھارت پر نظر رکھنی چاہئے ،بھارت کے جہاز اسلحہ بھر بھر کر افغانستان آرہے ہیں اور دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کو نظر نہیں آرہے ۔یہ اسلحہ آتش بازی کیلئے نہیں لڑائی کیلئے جارہا ہے ،اقوام عالم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے ،دنیا کو افغانستان میں خانہ جنگی نہیں ہونے دینی چاہئے ۔ کیونکہ اگر چاہے تو پاکستان بھی طالبان کو اسلحہ دے سکتا ہے۔ مگر افغانستان میں خانہ جنگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ افغانستان میں اگر امن لانا ہے تو کسی کو پراکسی نہیں بننے دینا چاہئے۔

    ۔ دوسری جانب طالبان نے شمالی اتحاد کا مرکز سمجھے جانے والے 100 اضلاع پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ وہ اضلاع ہیں جہاں طالبان اپنے دور حکومت میں بھی قبضہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اب شمالی صوبے بدخشاں کے تمام اضلاع پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ اس میں وہ ضلع فرخار بھی شامل ہے جو نائن الیون سے پہلے طالبان کے مخالف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے زیر قیادت شمالی اتحاد کا مرکز تھا۔ شمالی صوبوں میں طالبان کی کامیابی کی بڑی وجہ یہاں ان کی تنظیم سازی اور یہاں موجود تاجک اور ازبک آبادی کو اپنی صفوں میں شامل کرکے اعلیٰ عہدے دینا ہے۔ اس کے علاوہ ان صوبوں میں افغان فوجیوں کو کابل حکومت کی طرف سے امداد نہ مل سکی ۔ بہت سے فوجیوں نے طالبان کی عام معافی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھیار ڈالے اور طالبان سے نقدی اور کپڑے وصول کرکے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔ طالبان نے اب افغان فوج اور عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج ہتھیار ڈال دے تو ہم ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ ہماری حکومت سے عوام کو کوئی تشویش نہیں ہے۔ امریکہ کے خلاف جہاد میں عوام کی مدد سے امریکہ کو شکست دی ہے ۔ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان سے کوئی خوف نہ رکھیں۔ دراصل امریکی لوگ عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ جونہی امریکہ افغانستان سے جانے لگا ہے تو عوام بھی کھل کر ہمارا ساتھ دینے لگے ہیں۔

    ۔ اب تک کی صورتحال کے بارے میں افغان طالبان کے دوحا میں موجود ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے 80 فیصد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے اور اب صرف مرکز باقی رہ گیا ہے۔ جن اضلاع پر قبضہ کر رہے ہیں وہاں اپنا نظام بھی نافذ کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا کسی کے ساتھ کوئی شخصی یا ذاتی مسئلہ نہیں ہے، ہم نے جن حالات کی وجہ سے جہاد شروع کیا تھا وہ حق اورباطل کا معرکہ تھا۔ حق اور باطل کے معرکے کے آخر میں فتح حق کی ہوتی ہے۔ جو اقوام ہم پر حملہ آور ہوتی ہیں وہ ہماری روایات سے متصادم ہوتی ہیں اس لیے ظاہر سی بات ہے کہ ہم انہیں شکست ہی دیں گے۔ ہم اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم افراتفری نہیں پھیلائیں گے جس کی وجہ سے خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی طالبان نے ایک بار پھر کابل ائرپورٹ ترکی کے حوالے کرنے کی مخالفت کر دی ہے ۔ انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انخلاء مقررہ تاریخ تک کوئی غیرملکی فوج قبول نہیں۔

    اس بیان کے بعد افغان حکومت نے کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کیلئے اینٹی میزائل سسٹم نصب کردیا ہے ۔ افغان سکیورٹی فورسز کے ترجمان اجمل عمر شنواری نے کہا ہے کہ سکیورٹی سسٹم ہمارے غیر ملکی دوستوں نے دیا ہے ۔ یہ کافی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے ۔ اس لئے فی الحال ہمارے غیر ملکی دوست ہی اسے سنبھال رہے ہیں لیکن ہم اسے سنبھالنے کی صلاحیت میں اضافہ کررہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی عالمی ذمہ داریوں سے صرف نظر کیا ہے اور انتہائی عجلت میں افغانستان سے اپنی فوج واپس بلائی ۔ اس حوالے سے چین نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے اس عمل سے افغان عوام اور خطے کے دیگر ممالک پر ملبہ ڈال دیا حالانکہ اس ساری صورتحال کیلئے اصل قصور وار امریکی انتظامیہ ہے کیوں کہ اُسی پر تمام تر افغان مسئلے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں۔ وہ اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اور مطلب نکلنے پر اجنبی بن جاتا ہے۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک یقینا نئے سکیورٹی بحران سے نمٹ لیں گے لیکن دنیا امریکہ کو ہمیشہ ایک عجلت پسند ، مطلب پرست اور غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر یاد رکھے گی۔ امریکی منافقت کی انتہادیکھ لیجیے کہ بیس برس قبل افغان حکومت اس کی چہیتی جبکہ طالبان دہشت گرد اور خطے کے امن کیلئے ناسور قرار دیے جاتے تھے۔ پچھلے سال فروری کے مہینے میں قطرمیں طالبان سے معاہدہ کرکے امریکہ نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ طالبان کی افغانستان میں کیا اہمیت ہے

    اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے طالبان کے پانچ ہزار قیدی افغان حکومت کے جیلوں سے رہا کروائے۔ اس دوران امریکہ نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ہونے والے تاریخی معاہدے کے وقت اشرف غنی حکومت کی شرکت ضروری نہیں سمجھا۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال میں پاکستان کو بہرحال اپنے مفادات کو پیش نظر رکھنا ہے۔ اس وقت امریکہ بھی جارحانہ انداز ترک کرکے افغانستان میں امن کیلئے ہم سے ڈو مور کے تقاضے کر رہا ہے اور کابل انتظامیہ بھی پاکستان سے معاونت کی طلب گار ہے۔ جبکہ طالبان افغانستان میں ماضی کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں اور پوری آب وتاب کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں پر قابض ہورہے ہیں۔ افغان طالبان کا اعتماد اور لب و لہجہ اس امر کا عکاس ہے کہ وہ ابھی سے خود کو کابل کے اقتدار پر براجمان سمجھ رہے ہیں اور اسی تناظر میں وہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • طلبہ شفقت محمود سے کیا چاہتے ہیں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    طلبہ شفقت محمود سے کیا چاہتے ہیں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    کورونا وباء موت تعلیمی نظام کو شدید متاثر کردیا. امتحانی نظام تو بالکل ہی مفلوج ہوکر رہ گیا. 2020 میں تو طلبہ کو پروموشن دے دی گئی لیکن موجودہ سال میں بھی طلبہ بضد ہیں کہ امتحانات نہ لئے جائیں. آل پاکستان سٹوڈنٹ محاذ نے مطالبہ رکھا تھا ’امتحانات کینسل کرکے ہمیں اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے.راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاج ہوئے. اس دوران ٹویٹر ٹرینڈ ٹاپ پر رہا. طلبہ رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا گیا. وزیر تعلیم شفقت محمود کے اعلان کے بعد کہ 10 جولائی کو ہر حال میں امتحانات ہوں گے, طلبہ میں غم و غصہ کی لہر میں اضافہ ہوگیا. طلبہ نے دوبارہ احتجاج کی کال دی, اس دوران پولیس کی بھی سیکیورٹی سخت تھی ,پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کا پہلے سے پلان ترتیب دے دیا تھا. اس دن بھی طلبہ ملک کے مختلف حصوں سے اسلام آباد پہنچے, طلبہ کو گرفتار کیا گیا. طالبات بھی احتجاج کا حصہ بنیں. جن کا صرف ایک مطالبہ تھا کہ ہمیں نا صحیح پڑھایا گیا ہے یہاں تک کہ ہمیں پڑھانے والوں کو زوم تک چلانا نہیں آتا تھا اس لئے یا تو وقت دیا جائے یا تو امتحانات منسوخ کئے جائیں لیکن اس احتجاج سے بھی طلبہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا. اور تو اور دو دن سے انٹر کے امتحانات بھی جاری ہیں. مزمل شفیق طلبہ رہنماء ہیں اور ان دنوں ہونے والی سرگرمیوں میں کافی ایکٹو رہے. مزمل شفیق ہمارے دوست بھی ہیں اور ایک ہی صحافتی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں, میرا مزمل شفیق سے تعلق بھی اسی تنظیم کے ذریعے بنا. مزمل شفیق امتحانات کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ‏راولپنڈی بورڈ کے زیر نگرانی قائم کردہ سنٹرز میں نہ تو طلباء کا Temperatureچیک کیا گیا نہ ہی Sanitizerلگایا جاتا اور امتحانی حال میں ہوا کے ناکافی وسائل کی وجہ سے طلباء پریشان۔

    آج بھی مسلم ہائی اسکول میں ایک طالب علم کی حالت خراب ریسکیو 1122 نے اسپتال منتقل کیا۔اور یہ صرف راولپنڈی ہی نہیں دیگر شہروں کے سنٹرز سے بھی اطلاعات موصول ہوئیں. مزمل شفیق نے بتایا کہ ہماری وزیر تعلیم شفقت محمود سے بھی میٹنگ ہوئی ہے. انہوں نے بتایا کہ ‏وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی, شفقت محمود صاحب نے کہا کہ طلباء کے تمام مسائل پر تفصیلی جائزہ لیا گیا تاہم کوئی اور پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے امتحانات لینا مجبوری ہے,مزمل بتلاتے ہیں کہ میں نے درخواست کی کہ نصاب نا مکمل ہونے کے باوجود مشکل امتحانات بنانا نا انصافی ہے۔‏براہ کرم آپ احکامات جاری کریں کہ پیپر چیکنگ میں نرمی برتی جائے تا کہ طلباء امتحانات میں کامیاب ہو سکیں۔دیگر یہ بھی درخواست کی کہ یونیورسٹیز کے میرٹ کو کم کیا جائے تاکہ طلباء با آسانی داخلہ لے سکیں۔آخر میں سپلیمنٹری امتحانات کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جس پر نظرثانی کی جائے گی.

    یاد رہے طلبہ کی حوالے سے اپوزیشن نے بھی آواز اٹھائی اور اس مسئلے کو اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا لیکن وفاقی حکومت امتحانات لینے پر بضد رہی اور اس وقت انٹر کے امتحانات جاری ہیں, یہی امید رکھتے ہیں کہ مولا کریم طلبہ کی مدد فرمائے, آمین

  • اکاونٹ ویریفائیڈ اور معاشرے میں چھپے بھیڑیے .تحریر: حمیرا نزیر

    اکاونٹ ویریفائیڈ اور معاشرے میں چھپے بھیڑیے .تحریر: حمیرا نزیر

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہر کسی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکے زیادہ سے زیادہ فالورز ہوں زیادہ سے زیادہ فینز ہوں اسکی بات اسکی لکھی گئی تحریر دور تک زیادہ لوگوں تک جاے، اس کے لیے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ایک بیلو ٹک کا انقعاد کیا ہے چاہے وہ فیسبک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر یا کوی بھی پلیٹ فارم ہوں، وہ بلیو ٹک آپکے حقیقی ہونے کی نشاندھی کرتا ہے بلیو ٹک سے آپکے مداحوں کو یہ پتا چلتا کہ کہ اس اکاونٹ کے پیچھے وہی شخصیت ہے جسے وہ جانتے اور پسند کرتے ہے، ایسے ہی بلیو ٹک پر سے پابندی ٹویٹر نے ایک طویل عرصے کے بعد کچھ ہفتوں کے لیے ختم کر دی تاکہ ٹویٹر یوزرز آپنے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا سکے، حالیہ گنتی کے مطابق ٹویٹر کو جوائن کرنے والوں کی تعداد 18 کروڑ سے تجاوز کر گئی، بہت سے لوگوں نے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا لیے اس سے یہ بھی فائدہ ہوتا کہ کوی بھی شخص آپکا نام آپکی پکچر لگا کر آپکا جعلی اکاونٹ نہی بنا سکتا ، مجھے ہمیرا نزیر کو بھی ٹویٹر کے بلیو ٹک کا بہت بے صبری سے انتظار تھا،

    آخر وہ دن آ ہی گیا اور اس دن کے لیے بہت سے صحافیوں سے رابطے میں بھی تھی جن کے اکاونٹ بلیو ٹک شدہ یے انہوں نے بھی مکمل یقین دہانی کروای کہ ہم آپکی بھرپور مدد کرے گے اور ساتھ میں میں نے یہ بھی کہاں کہ اگر اس پر کوی کسی قسم کا خرچہ بھی آیا تو وہ بھی میں خود کروں گی ، آخر وہ دن آ گیا پابندی ہٹ گئی میں نے بھی صحافیوں سے رابطے شروع کر دیے کچھ نے جواب دیے کچھ نے بلیک لسٹ کر دیا حقیقت میں تکلیف ہوی کہ کیا میں اس لائق بھی نہی کہ کوی میرا رپلای تک کرے، شدید افسوس ہوا آپنی بے بسی پر ، آخر ایک نے رپلای کیا تو پہلے ہی منٹ مجھ سے ویڈیو کال کا مطالبہ کر ڈالا، یہ جانتے ہوے بھی کہ میں ایک حافظ قران ہوں اور ایسی حرکت تو کیا کسی غلط لفظ سننے سے بھی کانپ جاتی ہوں ، میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سر ایسی ہماری کوی ڈیل تو نہی تھی آپکو ہیلپ کرنی تو بتا دیجیے ورنہ آپکا شکریہ آپ اپنے راستے میں آپنے راستے یہ کہہ کر میں انہیں بلاک کر دیا اب ایک اور صحافی جو کبھی پی ٹی وی نیوز پر آیا کرتے تھے یہاں نام لکھنا نہی چاہتی ان سے بات کی تو کافی بار تو میسج سین کرتے اور کوی جواب نا دیتے جب دیتے تو میں بزی ہوں کہہ کر چلے جاتے، خیر کوئی بات نہی آخر ایک دن آ گیا جب وہ فری ہوے بات چلی تعارف پوچھا میں نے بتایا لاہور سے ہوں کہتے تو پھر ملاقات کر لیں کہی ہوٹل میں ، میں جب یہ الفاظ سنے میں ہکی بکی رہ گئی کہ واللہ کیا ہو گیا ہماری عوام کو میں جب انکار کر دیا تو کہتے اکاونٹ ویریفائیڈ کروا دیتے لیکن شرط یہ مجھے آپنی ننگی پکچریں شئیر کروں میں نے صاف کہاں سر آپ قابل آحترام ہے میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہے جو آپکی بیوی آپکی بہن، آپکی بیٹی آپکی والدہ کے ساتھ لگا ہے تو آپ یہی بات ان سے کہہ کر دیکھیں، یہ کہتے ہی موصوف کہتے جاو اب میں دیکھتا کہ کیسے ہوتا تمہارا اکاونٹ ویریفائیڈ، میں نے بلاک کر کے اللہ کا شکر ادا کیا کہ کہی مجھ سے وہ گناہ سرزد نہیں ہوا،

    اب آئے دن بہت سی لڑکیوں کے جن کے اکاونٹ چند دنوں میں ویریفائیڈ ہوے یے وہ لڑکیاں ان صاحب کا شکریہ آدا کرنے کے ٹویٹ کرتی نظر آتی ہے ان صاحب کی وجہ سے ہمارا اکاونٹ ویریفائیڈ ہو گیا، میں جب وہ ٹویٹ دیکھتی تو سوچتی کہ کتنوں نے آپنی ننگی تصویریں ان صاحب کو پیش کی کتنوں نے ہوٹلوں میں ملاقاتیں کی اکاونٹ ویریفائیڈ کے لیے، اور آج ہم بیٹھے ہے آپنی عزت اور آبرو بچاے بیشک اکاونٹ ویریفائیڈ نا ہوا لیکن اس معاشرے میں چھپے بھڑیئے تو سامنے آ گیے میری آپ سب بہن بیٹیوں سے گزارش ہے کہ خدارہ ایسے بھیڑیوں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچاے یہ بھیڑیے آپکو نوچ کھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہے انھیں ہر گز کوی موقع فراہم نا کریں عزت ایک بار چلی جاے پھر تامرگ واپس لوٹ کر نہی آتی،

  • سابق اولمپین ہاکی نوید عالم 47 سال کی عمرمیں لاہو رمیں انتقال کرگئے    بیٹی کی  تصدیق

    سابق اولمپین ہاکی نوید عالم 47 سال کی عمرمیں لاہو رمیں انتقال کرگئے بیٹی کی تصدیق

    کینسر کے مرض میں مبتلا سابق ہاکی اولمپئین نوید عالم انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی :47 سالہ سابق ہاکی اولمپئین اور ورلڈکپ 1994 کی فاتح ہاکی ٹیم کے رکن نوید عالم کی موت کی تصدیق مرحوم کی بیٹی نے کی ہے نوید عالم کینسر کے مرض میں مبتلا تھے نوید عالم کی چند روز سے طبیعت ناساز تھی جس کے بعد شوکت خانم میموریل اسپتال میں چیک اپ کروایا جہاں انہیں بلڈ کینسر کی تشخیص ہو ئی تھی-

    گزشتہ روز کیمو گرافی ہوئی تھی اور اسی دوران ان کو دل کا دورہ پڑا جس کے باعث وہ انتقال کر گئے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل نوید عالم کی بیٹی نے بتایا تھا کہ ڈاکٹرز نے علاج کے لیے 40 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا ہے انہوں نے کہا تھا کہ والد ورلڈ چیمپئین ہیں، علاج میں مدد کی ضرورت ہے، تاہم اس سلسلے میں انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے علاج میں مدد کی اپیل کی تھی-

    نوید عالم اولمپئین فورم پر بہت متحرک رہے ہیں اس فورم سے سابق کھلاڑیوں اور ہاکی سے متعلقہ افراد نے بھی فنڈز اکٹھے کرنے شروع کر دیے تھے-

    یاد رہے کہ نوید عالم پاکستان ہاکی ٹیم چین ہاکی ٹیم اور بنگلہ دیش ہاکی ٹیم کے بھی کوچ رہ چکے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کا جلسہ، حمایت حاصل کرنے میں کامیاب

    پی ٹی آئی کا جلسہ، حمایت حاصل کرنے میں کامیاب

    نامزد امیدواراسمبلی ایل اے 18 سردارعبد القیوم نیازی کی جانب سے منڈھول کے مقام پرشاندارجلسے کا اہتمام کیا گیا ہے، اس موقع پرعوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے،.

    جلسہ کے مہمان خصوصی وفاقی وزیرامورکشمیروگلگت بلتستان علی امین گنڈا پور، وفاقی وزیرمراد سعید، صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری، رہنما تحریک انصاف تنویرالیاس تھے، مہمانوں خصوصی کی آمد پرپنڈال فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا ہے، اس موقع پر وفاقی وزیرامورکشمیروگلگت بلتستان علی امین گنڈا پور، وفاقی وزیر مراد سعید، سابق وزیراعظم وصدرپی ٹی آئی آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، رہنما تحریک انصاف تنویرالیاس نامزد امیدواراسمبلی ایل اے 18 سردارعبد القیوم خان اوردیگر قائدین نے خطاب کیا ہے.

    جلسے میں علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جلسے کے شرکا پرجوش دکھائی دییتے تھے، جلسے میں خواتین نے بھی شرکت کی تھی.