Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چٹھہ برادری کی طرف سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو عشائیہ

    چٹھہ برادری کی طرف سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو عشائیہ

    آزاد جموع کشمیرمیں الیکشن کمپین میں سیاسی اندازمیں جاری ہے، ایل اے 38 جموں 5 میں ایم پی اے چوہدری عادل بخش چٹھہ کیطرف سے چوہدری ذیشان یونس ٹانڈہ امیدواربرائے ایم ایل اے کے اعزازمیں منچرچٹھہ میں عشائیہ دیا گیا ہے، اس عشائیہ میں اہل علاقہ کے معززین نے بھی شرکت کی ہے، اہل علاقہ کے معززین نے مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار کو یقین دہانی کروائی ہے کہ 25 جولائی کو اہل علاقہ شیرپرمہرلگائیں گے، مسلم لیگ کے نامزد امیدوار کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا ہے.

    عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے نامزد امیدوار کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے، مسلم لیگ ن کشمیر کی عوام کو کبھی مایوس نہیں کرے گی.

  • "آبدوز ڈرون” جو پہلی نظر میں عام سے مچھلی دکھائی دیتا ہے

    "آبدوز ڈرون” جو پہلی نظر میں عام سے مچھلی دکھائی دیتا ہے

    چینی فوج کے لئے تیار کیا گیا جاسوسی ڈرون جو پہلی نظر میں عام سی مچھلی دکھائی دیتا ہے اسے بیجنگ کی ایک روبوٹ بنانے والی کمپنی نے تیار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی’بویا گونگداؤ روبوٹکس‘ کا تیار کردہ یہ زیرِ آب جاسوس ڈرون پہلی بار ’’بیجنگ ملٹری ایکسپو‘‘ میں پیش کیا گیا جو گزشتہ ماہ منعقد ہوئی تھی۔

    یہ ڈرون نہ صرف دیکھنے میں اصلی اور جاندار مچھلی جیسا ہے بلکہ اس کے تیرنے کا انداز بھی بالکل کسی حقیقی مچھلی کی طرح ہےاس ’آبدوز ڈرون‘ کی آنکھوں میں جاسوس کیمرے نصب ہیں جو سمندر کے اندر بہت دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    علاوہ ازیں اس کی کھال میں کئی طرح کے سینسرز بھی ہیں جو اسے سمندری پانی کے درجہ حرارت سمیت دوسری مختلف خصوصیات سے مسلسل باخبر رکھتے ہیں یہ ایک بار مکمل چارج ہوجانے کے بعد، یہ آبدوز ڈرون مسلسل آٹھ گھنٹے تک پانی کے اندر تیر سکتا ہے۔

    بویا گونگداؤ روبوٹکس کا کہنا ہے کہ اسے بحری علوم اور سمندری زندگی پر تحقیق کرنے والوں کےلیے بنایا گیا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر اس سے سمندر کی خفیہ نگرانی کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔

  • ایل اے 5 کی عوام پی ٹی آئی میں شامل

    ایل اے 5 کی عوام پی ٹی آئی میں شامل

    حلقہ ایل اے 5 برنالہ میں پاکستان تحریک انصاف برنالہ نے کوٹ جیمل کے مقام پرشاندارسیاسی پاورشو کیا ہے، پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار نے اہل علاقہ کے دل جیت لیے ہیں، اہل علاقہ نے نامزد امیوارکی حمایت کا اعلان کردیا ہے.

    نامزد امیدواراسمبلی چوہدری انوارالحق نوراورصدرانصاف سپورٹس اینڈ کلچرونگ آزاد کشمیرعمرشہزاد جرال کا کوٹ جیمل کی سرزمین پر شانداراستقبال کیا گیا ہے، متعدد افراد نے دیگرجماعتوں سے علیحدگی اختیارکرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ہے.

    نامزد امیدوار نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم موروثی سیاست کو ختم کریں گے، باریاں لینے والوں کی اب یہاں کوئی جگہ نہیں ہے، 25 جولائی کو کشمیر کی عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر ثابت کریں گہ ہم کشمیر کے محافظ ہیں.

  • نئے رشتوں کی تلاش ۔ تحریر: حنا

    نئے رشتوں کی تلاش ۔ تحریر: حنا

    دو لوگ جب آپس میں تعلق بناتے ہیں تو شروع شروع میں بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ دونوں دل ہی دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ وہی ہے ویسا ہی ہے جس کا میں۔۔۔آج تک انتظار (کرتی یا)کرتا آیا ہوں۔۔۔
    ہر انسان کی زندگی میں کوئی ایسا انسان ضرور آتا ہے جس سے بات کر کے دل کو سکون ملتا ہے اپنا غم اس سے بانٹ کر دل ہلکا ہوجاتا ہے اگر دل اداس ہو اور اچانک سے اسکا مسیج آجاۓ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے موڈ خود ہی اچھا ہوجاتا ہے
    اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ یہ جانتے ہو کہ وہ آپکی منزل کبھی نہیں ہوسکتا مگر پھر بھی دل بےبس ہوجاتا ہے
    اس کا ساتھ اتنا خوبصورت لگتا ہے کے دل چاہتا ہے جو وقت اسکے ساتھ ہو بس وہی زندگی مرتے دم تک بس یہی میرا ساتھ نبھائے دونوں کو یہ پتا ہوتا ہے جب کہ دونوں ہی ایک دسرے کا نصیب نہیں بن سکتے یہ جانتے ھوۓ بھی دونوں ہی یہ تعلق نبھاتے ہیں !!

    لمبی لمبی کالز اور مسیجیز کے بعد…..
    جب تعلق کا نیا پن‘ ختم ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے۔۔۔بندھی امیدیں بھی مرنے لگتی ہیں دونوں یہ سوچتے ہیں کہ یہ وہ نہیں ہے جسے میں نے سمجھا تھا
    کیونکہ انسان کو جب کچھ حاصل ہوجاۓ تو وہ اسکی تمنا نہیں کرتا حاصل کو چھوڑ کر پھر سے لاحاصل کہ پیچھے بھاگتا ہے اور پھر دلچسپی کم ہوجاتی ہے
    دونوں ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں فوراََ میسج کا جواب دینے والے ایک دوسرے کو کئی کئی دن جواب نہیں دیتے دونوں کے درمیان کالز کم ہو جاتی ہیں بلیم گیم شروع ہو جاتی ہے تم یہ ہو تم وہ ہو تم ایسے ہو تم ویسے ہو یہ کیا ہے؟وہ کیا ہے؟تم یہ نہیں کرتے تم وہ نہیں کرتے لاشعور کی لڑائی شعوری طور پر ہونے لگتی ہے یہاں تک کے بات قطع تعلق پر آجاتی ہے
    جو ہاتھ میں ہو اسے چھوڑنے سے پہلے کسی نئے کی تلاش۔۔۔شروع ہو جاتی ہے کچھ ’نیا‘ ڈھونڈنے کی آرزو جنم لیتی ہے اور پھر نئے کے ساتھ جب ’نیا پن‘ ختم ہوتا ہے تو۔۔۔پتا چلتا ہے کہ کہ یہ بھی وہ نہیں جس کی مجھے تلاش تھی!
    حناء ۔

  • کشمیری عوام کو روایتی ہتھکنڈوں سے خریدنا نا ممکن ہے، سعید انجم

    کشمیری عوام کو روایتی ہتھکنڈوں سے خریدنا نا ممکن ہے، سعید انجم

    جموں و کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کا یونین کونسل تلگراں حلقہ کوٹلہ مظفرآباد میں انتخابی جلسہ ہوا ہے، حلقہ کوٹلہ یوتھ ونگ کی جانب سے سعید انجم مغل کا شاندار استقبال جلسہ گاہ آمد پروالہانہ استقبال کیا گیا ہے، پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئی ہیں، علاقہ عمائدین کا پھولوں کے ہار پہنا کرسعید انجم مغل کی حمایت کا اعلان کیا ہے.

    جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سعید انجم مغل کا کہنا تھا کہ اہلیان تلگراں نے ثابت کردیا کہ وہ نظریاتی اورتحریک آزادی کشمیر کے پشتیبان ہیں، ہمارا انتخابی منشورمقبوضہ کشمیرکی آزادی اورآزاد کشمیرکی خوشحالی کیلئے جدوجہد کرنا ہے، ریاست آزاد جموں کشمیر میں اس بارہم اگلی بارتم کا کھیل چل رہا ہے، مگراب وقت آ گیا ہے کہ عوام ان موروثی سیاستدانوں کے چنگل سے نکل آئیں، کشمیری قوم پچیس جولائی کوکُرسی کے نشان پرمہر لگائیں، کرپٹ ٹولے سے جان جھڑائیں، جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ نے باصلا حیت اورعوامی نمائندوں کو ٹکٹ جاری کئے ہیں، میں آپ کا بھائی بیٹا آپ میں سے ہی ہوں اوالیکشن کے بعد بھی آپ میں ہی رہوں گا، ہماری اصل سیاست عوام کی خدمت ہے جو الیکشن سے پہلے بھی جاری ہے، بعد میں بھی جاری رہے گی.

    ان کامزید کہنا تھا کہ عوام اب باشعورہوچکی ہے،عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت کا ادراک ہوچکا ہے، اب کشمیری عوام کو روایتی ہتھکنڈوں سے خریدا نہیں جا سکتا، ایک غریب گھرانے کا بیٹا ہوں مجھے غریب کا احساس ہے میں اورمیری پارٹی الیکشن کے بعد بھی عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔

  • کشمیر کے نوجوان ریاست کے مستقبل کے ضامن بن چکے ہیں، حمزہ رافع

    کشمیر کے نوجوان ریاست کے مستقبل کے ضامن بن چکے ہیں، حمزہ رافع

    کشمیرکی پہلی سیاسی پارٹی جس نے پہلے عملی کام کیے پھرانہی کاموں کواپنا منشوربنایا ہے، ایک سال قبل موومنٹ کا پہلاعوامی پروجیکٹ مساجد کے شہرکوٹلی میں غریب مریضوں کے لیے دسترخوان کا قیام تھا جو رمضان کی آمد پرموبائل سحری پروگرام میں تبدیل ہو گیا ہے.

    ورثاء شھداء کی گھریلو کیفیت دیکھتے ہوئے بغیر کسی تفریق کے تحریک کشمیر سے جڑی ہرجماعت بشمول قوم پرست جماعتوں کے شھداء کے ورثاء کے لیے موومنٹ کا وفد 5٫6 گاڑیوں کے پروٹوکول کی صورت میں راشن لے کرشھداء کے گھروں کا دورہ کیا کیوں کہ موومنٹ کے بانیوں کے نزدیک پروٹوکول کے حقیقی حقداراس ارض وطن کے لیے قربانیاں پیش کرنے والے لوگ ہیں، بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونا امیدواران اسمبلی کے لیے کرپشن کی راہ ہموار کرتا ہے علاقوں کو پسماندہ بناتا ہے لہٰذا موومنٹ کی پہلی سیاسی تحریک بلدیاتی نظام کی بحالی کے لیے جدوجہد کی تھی جو25 جولائی کے بعد بھی جاری رہے گی.

    موومنٹ کے جنرل سیکرٹری امیرحمزہ رافع نے جب نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا دھویں اڑانے کوقابل فخرجانتے دیکھا توکشمیرمیں باشعوریونیورسٹی طلباء کو ساتھ ملا کرپریزنٹیشنز تیارکرتے ہوئے چوک چوراہوں میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کواس کے بارے میں آگہی دی ہے، آزاد کشمیرمیں انتخابات کے دن قریب آتے ہی انہی منظم نوجوانوں نے مشاورت کے بعد عزم کرلیا ہے کہ اسی سال پارٹی کو سیاسی تحریک کا آغازکرنا چاہیے، لہٰذا پارٹی کی رجسٹریشن کے بعد انہی عملی کاموں کومنشوربنا کرقلیل وقت میں کئی حلقوں سے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے.

    کیا آپ اس تحریک کا حصہ بن کرآزاد خوشحال کشمیرمیں ہمارا دست و بازو نہیں بنیں گے؟

  • یوم شہدائے کشمیر :کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنے تک کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے   عمران خان

    یوم شہدائے کشمیر :کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنے تک کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے عمران خان

    لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور دنیا بھر کے کشمیری 13 جولائی 1931 کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آج کے دن کو یوم شہدائے کشمیر کے طور پر منارہے ہیں۔

    باغی ٹی وی :واضح رہے کہ 13 جولائی 1931 کو ڈوگرہ مہاراجا کی فوج نے عبد القدیر نامی نوجوان کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران یکے بعد دیگرے 22 کشمیری نوجوانوں کو سری نگر سینٹرل جیل کے باہر شہید کردیا تھا۔

    عبدالقدیر نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ راج کے خلاف متحد ہونے کو کہا تھا۔

    13 جولائی 1931 کو نماز ظہر کے وقت ایک نوجوان نے اذان دینا شروع کی تھی کہ ڈوگرہ مہاراجا کے سپاہیوں نے اسے فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا لیکن اذان دینے کا سلسلہ جاری رہا اور اذان مکمل ہونے تک 22 نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یوم شہدا پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں-


    وزیراعظم عمران خان نے یوم شہدا کے حوالے سے جاری کئے گئے پیغام میں کہا کہ 13جولائی 1931 کے 22 شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،ڈوگرا مہاراجہ کے فوجیوں نے پر امن کشمیری مظاہرین پر فائرنگ کی کشمیریوں پر ظلم و بربریت اور غیرقانونی بھارتی قبضے کے خلاف نئی جدوجہد سامنے آئی ہے-


    وزیر اعظم نے کہا کہ غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف کشمیری مرد اور خواتین جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ان کی منصفانہ جدوجہد میں کھڑا ہے آزادی کے حصول تک جدوجہد کا سلسلہ جاری رہے گا اور جب تک انہیں یو این ایس سی کی قراردادوں کے ذریعے اپنے حق خودارادیت کی ضمانت نہیں مل جاتی ہے سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی ظلم وبربریت کےخلاف کشمیریوں کی مزاحمت کا جذبہ آج بھی زندہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے ،ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک تاریخ ہے-

  • کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    اگرچہ پاکستان کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لحاظ سے علمی درجہ بندہ پہ تیسرے نمبر پہ رکھا گیا ہے۔
    بین الااقوامی سطح پر پاکستانی حکومت کی اقدام کی کافی پذیرائی بھی ہورہی ہے تاہم تمام تر احتیاط کے باوجود کرونا وائرس کی نئی قسم جو سب سے پہلے انڈیا میں تشخیص ہوئی تھی وہ پاکستان پہنچ چکی ہے یہ خبر یقیننا تشویش ناک ہے کہ وطن عزیز میں بھارتی کرونا وائرس کے مریض آنا شروع ہوگئے ہیں۔
    اس خطرناک وائرس کے پھیلنے کی خدشے کی وجہ سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر نے حکمت عملی ترتیب دی ہے اور اس پالیسي کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو ویکسین لازمی قرار دیا ہے ۔ حکومت کی پوری کوشش اس بات پہ منحصر ہے کہ کسی طرح اس خطرناک لہر پہ قابو پایا جاسکے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں اس لہر کی وجہ سے بھارت میں لاکھوں لوگوں کی اموات ہو چکی ہے ۔
    اور پاکستان میں اب دن بدن کیسز بڑھ رہے ہیں جو کہ تشویشناک صورتحال ہے ۔
    کچھ دن پہلے اسد عمر نے اپنی ٹویٹ میں واضح طور پر یہ کہاں تھا اگر کیسز کی شرح اسی طرح بڑھتی گئی تو ہمیں شادی هالز اور ہوٹلز پہ پابندی لگانی ہوگی۔ اس وقت پاکستان میں تعلمی ادارے پہلے سے بند کیے گئے ہیں۔

    اس ضمن میں عوام کو بھی چائے حکومت کے اقدام کا بھر پور طریقے سے ساتھ دیں کیونکہ اسی میں ملک وہ قوم کی بقا ہے ۔ اس وقت حکومت کی پوری کوشش ہے کہ جلد از جلد پاکستان کے تمام افراد کو ویکسین لگائی جائے جو کہ درست اقدام ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے حال ہی میں بتایا تھا کہ ’ڈیلٹا ویریئنٹ اب تک کرونا وائرس کی شناخت ہونے والی اقسام میں ’سب سے زیادہ منتقل‘ ہونے والی قسم ہے، جو  ویکسین نہ لگانے والی آبادی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
    پاکستان میں کم عقلی اور لاشعوری ویکسین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کی جارہی ہے اور حکومت کو چاہئے لوگوں کو اس بارے میں شعور و آگاہی دیں اور ایسی پالیسیز بنا لیں کہ جو عمل نہیں کرینگے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ اس چوتھی لہر سے ملک وہ قوم کو بچایا جا سکے۔
    ڈیلٹا وائرس اتنا خطرناک ہے کیونکہ یہ جلدی سے منتقل ہونے والا وائرس ہے ، پھیپھڑوں کے ری سیپٹرز کو مضبوطی سے جکڑنے اور اینٹی باڈیز کے رد عمل کو سست کرنے کی’ صلاحیت موجود ہے۔
    پاکستان کا کردار کو اب تک سراہا جا رہا ہے لگ بگ بائیس کروڑ سے زیادہ آبادی والا ملک اب تک بڑھے لیول کی تباہی سے بچا ہوا ہے اور اب بھی چائے کہ تمام قوم جلد از جلد اپنا ویکسین لگاوا لیں اور اس وائرس کی تباہی سے ملک وہ قوم کو بچائے اور ملک وہ قوم کی بقا میں اپنا مثبت کردار کو ادا کریں۔

    @I_MJawed

  • فری لانسنگ کی دنیا .تحریر عادل ندیم

    فری لانسنگ کی دنیا .تحریر عادل ندیم

    آج سے دھائی پہلے جب طلباء گاؤں سے شہر کا رخ کرتے تھے تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کو فکر معاش بھی رھتی تھی جس کے لیے وہ ٹیوشن پڑھاتے ، ھوٹلز پر کام کرتے یا اس جیسے دوسرے مشقت والے کام کرتے۔
    جس سے ان کی پڑھائی پر بھی اثر پڑتا تھا ۔

    آج کا زمانہ بدل چکا ھے
    آج طلباء پڑھائی کے ساتھ ، فری لانسنگ سے کمائی کر رھے ھیں

    آج ھم آپ کو متعارف کروانے جا رھے ھیں فری لانسنگ سے۔
    سب سے پہلا سوال جو آپ سب کے اذھان میں آے گا کہ فری لانسنگ ھے کیا ؟

    فری لانسنگ سے مراد اپنی خدمات کو آن لائن بیچنا ھے ۔
    آپ کو کلائنٹ آرڈر دیتے ھیں کہ ھمارے کاروبار کے لیے ویب سائٹ بنا دیں ، ھمیں گرافکس بنا دیں ، کاروبار کی مارکیٹنگ کر دیں یا ھمارے ورچوئل اسسٹنٹ بن جائیں۔
    اس کے علاؤہ بے شمار ایسے کام ھیں جو آپ فری لانسر کے طور پر سر انجام دے سکتے ھیں .
    آپ اپنے گھر سے یہ کام سر انجام دیتے ھیں آپ کو آفس جانے کی ضرورت نہیں ھوتی۔
    کلائنٹس آپ کو عموماً گھنٹوں کے حساب سے ادائیگی کرتے ھیں

    Upwork, Fiverr, guru.com , Freelancer.com ,toptal & people per hour
    یہ بڑے فری لانسنگ کے پلیٹ فارمز ھیں جن پر ھزاروں کی تعداد میں پاکستانی بھی موجود ھیں اور ماہانہ اچھی خاصی آمدن کما رھے ھیں اور پاکستان میں روپے لا رھے ھیں

    فری لانسنگ کے لیے ضروری ھے کہ آپ کے پاس کوئی سکل ھو جو آپ آن لائن بیچ سکیں۔

    گرافک ڈیزائننگ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن، ورڈ پریس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ، ایمازون ورچوئل اسسٹنٹ،ای کامرس، سوشل میڈیا مینیجر اور بے شمار سکلز ھیں جو آپ سیکھ سکتے ھیں
    اب آپ یہ سوچ رھے ھوں گے کہ یہ سکلز سیکھیں ؟
    تو پریشان نہ ھوں مختلف ادارے موجود ہیں جو یہ سکلز سکھا رھے ھیں

    E-Rozgaar , Digi Skills & Tevta
    یہ حکومتی ادارے ھیں جو مختلف سکلز فری میں سکھا رھے ھیں

    اس کے علاؤہ Extreme E-commerce & enablers
    یہ نجی ادارے ھیں جو فری اور پیڈ کورسز کروا رھے ھیں

    آپ انٹرنیشنل لرننگ پلیٹ فارمز جیسا کہ Udemy & Coursera اور دیگر پلیٹ فارمز سے بھی سکلز سیکھ سکتے ھیں۔

    فری لانسنگ کے لیے ضروری ھے کہ آپ کہ پاس ایک عدد لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر اور ایک اچھا انٹرنیٹ کنیکشن ھو۔

    آج ھی ان اداروں کی ویبسائٹس کو وزٹ کریں، اپنی پسند کی سکل سیکھیں اور اپنے فری لانسنگ کیرئیر کا آغاز کریں۔

    فری لانسنگ کی دنیا آپ کی منتظر ھے

  • خطے کی اچانک بدلتی سکیورٹی صورتحال  اور پاکستان، تحریر  : ملک علی رضا

    خطے کی اچانک بدلتی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان، تحریر : ملک علی رضا

    افغانستان سے امریکی اتحادی فوجوں کے اچانک انخلا کے بعد خطے کی موجودہ سکیورٹی حالات خاصے غیر متزلزل دیکھائی دے رہیں ۔ ایک طرف امریکہ کے بھاگ نے سے افغانستان میںطالبان کی پیش قدمیاں غیر معمولی بڑھ گئی ہیں اور متعدد علاقوں پر قبضہ بھی جما لیا گیا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے موجوہ پیش قدمیاں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں جو اب بج چُکی ہیں ۔ جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان شامل ہے ۔
    حالیہ واقعات کے بعد ، پاکستان میں بھی خاصی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اب کی بار کیا کرنے جا رہا ہے؟ ایک طرف پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو بتا دیا کہ کسی قسم کی جنگ کے لیے پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، دوسری طرف افغان طالبان نے بھی اس چیز کی یقین دہانی کروائی ہے کہ طالبان بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ مہاجرین کا ہے اگر افغان طالبان اسی طرح اپنی کاروائیاں کرتے رہے تو پاکستان میں اچھی خاصی تعداد میں افغان مہاجرین آ سکتے ہیں ا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ افغان مہاجرین کی شکل میں پاکستان کے دشمن اپنے دہشت گرد بھی پاکستان میں بھیجوا سکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی بھارت نے ایسے کام سر انجام دیے ہیں۔
    بھارت کو اس قدر خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ اس کے سارے بنے بنائے منصوبے اب مودی سرکار اور انکی ایجنسی ” را ” کو ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ کندھار کی جانب طالبان کی پیش قدمی نے بھارتی حکام کو خود اپنی ناکامی کے قریب تر ہوتے دیکھائی دے رہا ہے بھارت نے بھی بظاہر اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیہے بھاری تعداد میں اپنے فوجی کابل بلوا لیے ہیں جو کہ بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان کے ساتھ لیس ہیں، پڑوسی ممالک اس چیز پر بھی سوالات کر رہے ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی جب امریکہ سے بھاگ رہے ہیں تو بھارت وہا ں اپنی فوجی طاقت کیوں جمع کر رہا ہے ؟
    اس تمام صورتحال میں ایک چیز جو مجھے لگ رہی ہے کہ امریکہ نے اپنے بھاگنے کے بعد بھارت کو اپنے نائب کے طور وہاں جانے کا کہا تا کہ جو کام بھارت ، پاکستان کیخلاف پہلے چپ کر ، کر رہا تھا اب وہ کام مزید تیزی کے ساتھ ہونگے تا کہ کسی طرح سے پاکستان بیک فٹ پر لایا جائے۔امریکہ بہت پہلے ہی سے بھارتی اثرو رسوخ کو افغانستان میں بڑھا چکا ہے وہ بھِی اس لالچ پر کہ بھارت افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ اور دہشت گرد کاروائیاں با آسانی کر سکے۔ امریکہ کے پیٹ میں خاصہ درد اس وجہ سے بھی ہے کہ اب کی بار پاکستان نے اسے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور وی یہی چاہے گا کہ کسی طرح سے پاکستان سے بدلہ لیا جائے، ایک فیٹف کی صورت میں پہلے ہی پاکستان پر تلوار لٹک رہی ہے وہ بھی کچھ ایسی چیز کا شاخسانہ لگتاہے کہ پاکستان اب اپنی خودمختاری کے فیصلے خود کر رہا ہے اور یورپی ممالک کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں ۔
    اہم بات یہ ہے کہ یہاں افغان حکومت کا کردار بہت ہی عجیب و غریب ہے ، اشرف غنی کابینہ کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ اس معاملے پر وہ کیا کریں اور کس طرح اس معاملے کو ہینڈل کریں۔یہی وجہ سے کہ افغان حکومت کی ناقص پالیسیوں کیوجہ سے افغانستان عوام بھی خاصی پریشان ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان اوروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی افغانستان کے مسلے پر مکمل حکمت عملی کیساتھ عملی میدان میں اُترنے کی ہدایات کی ہوئی ہیں اور دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھی نجی ٹی وی چینلز کو اپنے الگ الگ انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان کے مسلے پر پاکستان کے سکیورٹی ادارے مکمل اور کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھِی خطرے کے پیش نظر مکمل اعتماد کیساتھ ملکمی خودمختاری کی حفاظت کے انتظامات کو یقینی بنایا جائےگا، پاک فوج اور ملکی سکیورٹی کے ادارے ہمہ وقت تیار ہیں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے افغانستان نے نکلنے میں بہت جلد بازی سے کام لیا جس سے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں لیکن پاکستان اس تمام صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے طور پر تمام اقدامات جاری رکھے ہوئےہے۔

    اس وقت ملک کے اند ر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا، حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قطر کا دورہ کیا اور وہاں افغان طالبان سمیت افغان حکومت اور افغانستان کے سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں قطر کے کردار بھی بات چیت ہوئی ۔ قطر نے پاکستان کی کاوشوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔
    پاکستان کے دوسرے ممالک سے رابطے جارے ہیں اور ر قسم کے اقدامات جو ضروری ہیں وہ کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے افغان مسلے کے حل کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیتا رہا اور اس معاملے کے مکمل حل تک پاکستان کا یہی موقف رہے گا۔
    یہاں ایک بات اس یقین کیساتھ کہتا چلوں کہ جہاں امریکہ اور اسکی اتحادی فوجیں 20 سالوں میں اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی اور طاقت رکھنے کے بعد بھی اپنا اسر و رسوخ قائم نہ کر سکا اور بھاگ گیا وہاں پاکستان ان خطرات سے نمٹنے کے ہمہ وقت تیار ہے اور انشا اللہ پاکستان ہر قسم کے تمام خطرات سے باحسن طریقہ کار سے نمٹنے کا حوصلہ اور طاقت رکھتا ہے۔