Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏قدیم و جدید ہندوستان .تحریر : محمد صابر مسعود

    ‏قدیم و جدید ہندوستان .تحریر : محمد صابر مسعود

    ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپناقدم مبارک رکھا، جسکو موٴرخ اسلام علامہ قاضی محمد اطہر مبارکپوری رحمة اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق سترہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہا ہے، جسکو ایک شہر (قنوج) کے بادشاہ سربانک کے معجزہ شق القمر کو دیکھ کر مشرف باسلام ہونے کا رتبہ ملا ہے، جس کی طرف حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے برادر محترم ”حضرت حکم بن ابی العاص رضی اللہ عنہ“ کو ایک لشکر کا کمانڈر بنا کر ایک بندرگاہ ”تھانہ“ اور ”بھروچ“کے لئے روانہ کیا خلاصہ یہ کہ اس ملک کو ہزاروں سال قدیم ہونے کاشرف حاصل ہے۔

    یہاں قبل مسیح اشوک بادشاہ سے لے کر مغل فرماں رواں بہادر شاہ ظفر (جنہوں نے ہندوستان کی محبت میں اپنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر درد بھرے الفاظ میں ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہو کر باپ کے سامنے اپنا فرض ادا کرتی ہے ۔ اس کے بعد انگریزوں نے شہزادوں کے دھڑوں کو کوتوالی کے سامنے اور کٹے ہوئے سروں کو خونی دروازے پر لٹکا دیا تھا)
    بہر کیف مختلف بادشاہوں نے حکومت کی، کبھی تو یہ ملک ظالم و جابر حکمرانوں کے زیر دست رہا تو کبھی نیک دل اور عادل ومنصف فرماں رواؤوں کے زیر نگیں رہا ۔ اس ملک میں جہاں ایک طرف راجہ داہر جیسا ظالم، عہد و پیمان توڑنے والا بادشاہ گزرا (جس نے اپنے بھتیجے چچ کو قتل کرایا اور اپنے بھائی کی بیوہ سے شادی کی جو کہ سرہند لوہانہ نامی ایک سردار کی بہن تھی، جس نے سلطنت کی لالچ میں ایک جوتشی کے کہنے پر کہ اس کی بہن چندرا کی شادی جس شخص سے ہو گی وہ اروڑ کی سلطنت کا حکمران بنے گا چندرا سے شادی کر لی) تو وہیں دوسری طرف اس کے غرور کو خاک میں ملانے کے لئے محمد بن قاسم جیسا رحم دل جرنیل آیا ( جنکو عراق کے گورنر حجاج نے ہندوستان کی طرف بارہ ہزار افواج مع اسباب و آلاتِ حرب و ضرب کے رجا داہر کی گوشمالی کے لئے روانہ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اسلامی لشکر جرار کا راجا داہر کی فوج سے زبردست معرکہ ہوا اور راجا داہر مارا گیا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے راجا داہر کے غرور کو توڑ کر ہندوستان کی سرزمین کو ظلم و سرکشی سے پاک کردیا) اسی طرح ایک طرف اکبر نے دسویں صدی ہجری کے اخیر اور گیارہویں صدی ہجری کے آغاز میں شہنشاہیت کی ترنگ اور عقلیّت کے نشہ میں عقل وہوش سے بے نیاز ہوکر ”دینِ اسلام“ کے متوازی ”دین الٰہی“ کے نام سے ایک جدید مذہب کی تحریک چلائی (جسکا مختصر سا تعارف موٴرخ بدایونی نے کچھ اس طرح سے کرایا ہے کہ یہ برخود غلط مجتہد اور امام تھا، وحی الٰہی کو محال قرار دیتا، غیب اور عالم غیب سے متعلق ارشاداتِ نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کی برملا تکذیب کرتا، فرشتوں، جنّات، معجزات، بعث بعد الموت، حساب و کتاب اور ثواب وعذاب کا کھلے لفظوں انکار کرتا تھا۔ اس الحاد و زندقہ میں صرف اکبر ہی گرفتار نہیں تھا؛ بلکہ اس کے ارد گرد رہنے والوں میں سے اکثر لوگوں کا حال یہی تھا، معجزاتِ نبوی کے ساتھ استہزاء کی کیفیت کو ملابدایونی نے یوں بیان کیا ہے کہ ”بھرے دربار میں ایک پیر پر کھڑے ہوکر معراجِ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذاق اڑاتا اور کہتا کہ میں جب اپنا دوسرا پیر اٹھاکر کھڑا نہیں رہ سکتا تو راتوں رات ایک شخص آسمان سے اوپر کیسے پہونچ گیا، پھر خدا سے باتیں بھی کیں اور جب واپس ہوا تو بستر تک گرم تھا“ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ مذاق واستہزاء کا یہی معاملہ شق القمر اور دیگر معجزات کے ساتھ بھی تھا) تو دوسری طرف اس کے نو ایجاد دین کا پردہ چاک کرنے کے لئے مجدد الف ثانی اسکے خلاف علمِ جہاد بلندکرتے ہوئے اٹھا اور خدا کے حکم سے کامیابی و کامرانی نصیب ہوئی ، اس ملک میں عالم گیر جیسا نیک دل بادشاہ بھی پیدا ہوا جس نے حکومت کرکے اسلام کی حقانیت کو عملاً ثابت کیا، اور جسے شاہجہاں نے ایک حسین تاج محل جیسا تحفہ دیا (جس نے ہندوستان کو اپنے نور سے منور کیا ہوا ہے لیکن آج اسلام دشمنی میں اسی تاج محل کو یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ غیر ہندوستانی متصور کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں) ، اور پر شکوہ لال قلعہ دیا (اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاؤس واقع ہے جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے) ۔
    ہمارا یہ ہندوستان کبھی سونے کی چڑیا کہلاتا تھا؛ لیکن آج جھوٹے، لٹیرے و گھوٹالے باز حکمرانوں کی وجہ سے کنگال و بھکمری کا شکار ہے کبھی تو یہ ظالم حکومت یوپی کے ایک ضلع مظفر نگر میں الیکشن جیتنے کے لئے ہندو مسلم فسادات کراتے ہوئے نظر آتی ہے توکبھی اڈانی و امبانی کے چاپلوسی کرنے کے لئے کسانوں پر ظلم کرتے ہوئے دیکھی جاتی ہے،کبھی کورونا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کا قتل کر رہی ہے تو کبھی این آر سی کے نام پر مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کو بغیر کسی ثبوت کے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کر رہی ہے بالآخر اب یہ ملک سونے کی چڑیا نہیں بلکہ خون کے پیاسوں کا مسکن اور اسلام دشمنوں کا اڈہ بن چکا ہے جن کا تحریک آزادی میں دور دور تک نام نظر نہیں آتا اور اسی بات کو بھلانے کے لئے کہ ان اسلام دشمنوں کا تحریک آزادی میں کوئ حصہ نہیں تھا تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والے یہی مسلمان تھے جنکو آج نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، کبھی تو انکو نیوز چینلز کے ذریعہ ہراساں کیا جا رہا ہے تو کبھی آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعہ مابلنچنگ کی جا رہی ہے، کبھی سی اے اے کے تحت انہیں پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے تو کبھی عورتوں کو انصاف دلانے کے نام پر مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے الغرض یہ کہ مسلمانوں کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔وہ ٹیپو سلطان بھی ایک مسلمان ہی تھا جس کی موت پر انگریزوں نے فخریہ کہا تھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔ اسی ہندوستان کی آزادی کے لیے علماءِ حق نے شاملی کا میدان اپنے خون سے گرم کیا، لاہور سے دہلی تک کے درختوں کو اپنی جان کی قربانی دے کر آباد کیا، دریائے راوی میں بہے، لاہوری جامع مسجد میں لٹکائے گئے… اور ایک دن ان کےخون نے اثر دکھایا اور 1947میں آزاد ہوگیا ۔آزاد کیا ہوا، بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اسکی چھاتی کو دوحصوں میں چیر کر ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بھائیوں اوربہنوں کو الگ الگ ملک کا باشندہ بناکر ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا۔ برسوں شیروشکر ہوکر ایک ساتھ رہنے والے بھولے بھالے انسان انگریز کے جال میں پھنس گئے، گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے والے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور 1947ء میں تقسیم کے وقت وہ خون خرابہ ہوا کہ شیطان بھی شرمندہ ہوگیا، انسانیت کانپ اٹھی، ہر جگہ مہاجرین کی لاشیں نظر آنے لگیں، پنجاب کا گُروداس پور خون سے سرخ ہوگیا، انسانی لاشیں کتوں کی لاشوں کی طرح سڑکوں پر نظر آرہی تھیں، تعفن زدہ ماحول قائم تھا، لیکن لوگ خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ انگریز ہندوستان سے چلے گئے، ملک آزاد ہوگیا، ہم آزادہوگئے، لیکن شاید دونوں طرف کے رہنے والے باشندے اس بات سے نا بلد تھے کہ ہم تو رسماً آزاد ہوئے ہیں، جمہوریت کا نام نہاد طوق گلے میں لٹکا دیا گیا ہے جہاں مجبور محض ہوکر زندگی گزارنی پڑے گی، عوام کے پاس طاقت نہیں ہوگی، عوام محض مفلوک الحال ہوں گے، خیر کسی نہ کسی طرح 1947ء کا طوفان گزر گیا، عوام کو خوشی ہوئی کہ وہ آزاد ہوگئے اور خدا کا شکر ہے کہ آزاد ہیں؛ لیکن آزادی کے بعد سے ہی جس قوم نے آزادی کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جہادِ آزادی کا فتوی دیا، اسے نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوگیا، کانگریس نے اسے اپنے ووٹ بینک کی طرح استعمال کرنا شروع کیا تو بی جے پی اور دیگر پارٹیوں نے ا سے ڈرا دھمکا کر رکھا اور ایک دن ایسا آیا کہ آزاد ہونے پر افسوس ہونے لگا، کانگریس کی دوغلی پالیسی اور انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے گروہ نے تاریخی بابری مسجد کو آئینِ ہند بنانے والے بابا صاحب امبیڈکر کی یومِ پیدائش پر شہید کرکے یہ پیغام دے دیا کہ مسلمان جمہوریت پر یقین رکھیں لیکن ہم نہیں رکھیں گے (اور آج تک وہ درندے کتوں کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں جنمیں سر فہرست ہمارے پردھان منتری بھی ہیں) ، اور اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے ہم ان کی مساجد و عبادت گاہوں کو مسمار کرتے رہینگے ، فسادات کے ذریعے ان کے اَملاک تباہ کرتے رہینگے اور 1992ء کے بعد فسادات کا نہ تھمنے والا ایک ایسا سلسلہ جاری ہوا جو ممبئی، بھیونڈی، ملیانہ، اورنگ آباد ، مرادآباد، بھاگلپور، بہار شریف اور گجرات کے خونی ماحول سے ہوتا ہوا مظفر نگر اور دلی تک پہنچا جہاں صرف ایک ہی قوم کو نشانہ بنایا گیا، اس کی معیشت کو تباہ کیا گیا، ان کی ہی ماں و بہنوں کی عصمت لو ٹی گئی اور ستم بالائے ستم تو یہ ہوا کہ ان ہی سے حب الوطنی کا ثبوت بھی مانگا جانے لگا۔۔۔ !

    اب حال یہ ہے کہ جو لوگ آزادی کے لیےکبھی نہیں لڑے ان کی حکومت ہے اور جنہوں نے آزادی کے ذریعے اپنے خون سے سینچا وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں، ان کا ملک میں جینا دوبھر ہے، عدلیہ، مقننہ، حکومت، صحافت سب ان کے خلاف ہے، پھر کاہے کا جمہوری ہندوستان؟، اب ہندوستان جمہوری نہیں رہا، کچھ دن بعد عوام ۲۶؍جنوری کو جشنِ جمہوریت منائیں گے۔ اور یہ عہد کریں گے ’’بھارت میرا ملک ہے۔۔۔۔ہم سبھی بھارتی آپس میں بھائی بہن ہیں۔۔۔میں اپنے ملک سے محبت کرتاہوں۔۔۔۔اس کی باوقار اور مختلف النوع ثقافت پر مجھے ناز ہے۔۔۔۔میں ہمیشہ اس کے شایانِ شان بننے کی کوشش کرتارہوں گا۔۔۔۔میں اپنے والدین، اساتذہ اور سبھی گروؤں کی عزت کروں گااور ہر ایک کے ساتھ نرمی برتوں گا۔۔۔۔میں اپنے وطن اور اہلِ وطن کے ساتھ نیک نیتی کا حلف لیتا ہوں۔ ان کی بھلائی اور خوش حالی ہی میں میری خوشی ہے‘‘۔۔۔۔!اس عہد میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو سچے دل سے جمہوری ملک تسلیم کرتے ہیں، جمہوری دستور پر یقین رکھتے ہیں اور ملک میں امن و شانتی اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور وہ لوگ بھی عہد کریں گے اور جشن جمہوریت منائیں گے جنہوں نے جمہوریت و دستور کا مذاق اڑایا،اتنا ہی نہیں بلکہ وہ لوگ ہر لمحہ اور ہرپل آئین اور دستور کو ختم کرکے سیکولر کی حیثیت کو چھین کر ہندو راشٹر میں بدلناچاہتے ہیں، کاش اے کاش! وہ عادل و منصف حکمراں ہمیں پھر نصیب ہوجائیں، تاکہ ہزاروں سال کی پرانی روایت باقی رہے اور ہم خوشحال رہیں ۔۔۔!

  • اِنسانی زہر .تحریر:تحریر مبین خان

    اِنسانی زہر .تحریر:تحریر مبین خان

    سوچا کہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اس پر کچھ لکھوں
    سانپ کی زہر اس کے منہ میں ہوتی ہے جسے وہ اپنے دانتوں کی مدد سے مخالف پر استعمال کرتا ہے کچھ سانپ اپنی زہر مخالف پر فوار کی صورت میں پھینکتے ہیں
    بچھو اپنی زہر اپنی دم میں محفوظ رکھتا ہے جہاں سے یہ اپنی دم کے آخری کنارے پر نوک کے ذریعے مخالف پر وار کرتا ہے
    ایک مثل مشہور ہے کہ
    سانپ سلائے اور بچھو رولائے
    بچھو کے کاٹے کے درد کی شدت ناقابل برداشت ہوتی ہے
    دنیا میں ایک بچھو (ڈیتھ سٹاکر) جو قد و قامت میں انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے زیر انتہائی قیمتی ہے۔ اس کی ایک کلو زہر کی قیمت پاکستانی اربوں روپوں میں ہے
    کہا جاتا ہے کہ ہر دو جانوروں کی زہر تریاق کا کام بھی کرتی ہے۔
    جو بنی نوع انسان کو بچانے کے کام بھی آتی ہیں
    زہر بھی ہے تریاق بھی ہے

    لیکن انسانی زہر ہمیشہ اپنا اثر منفی ہی رکھتی ہے اس کا اثر کبھی مثبت نہیں رہا
    یعنی وہ تریاق کبھی بھی نہ بن سکی۔
    بنی نوع انسان نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی روح کو زخمی کیا وہ روح جو دراصل اللّٰہ پاک کا امر(حکم) ہے
    جب یہ بداعمالیاں اس حد تک پہنچ گئیں کہ روح زخمی ہو گئی تو پھر روح کی سوچوں کا محور جسے ضمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ متاثر ہونے لگا۔اور رفتہ رفتہ اپنی زندگی کھونے لگا۔ حتیٰ کہ ضمیر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
    اور ضمیر گلنے اڑنے لگتا ہے

    اس کے تعفن سے بے زار ہو کر روح اس بدبو کو سوچوں کے زریعے انسانی جسم کے اہم حصے دماغ تک پہنچا دیتی ہے۔
    اور پھر دماغ اپنی استطاعت کے مطابق مختلف مخارج(زبان، آنکھ،ہاتھ ، پاؤں وغیرہ)کے زریعے اس ضمیر کے تعفن زدہ مواد کو دوسرے انسانوں اور دیگر مخلوقات کی طرف روانہ کر دیتا ہے
    جس سے مختلف روحانی بیماریاں جنم لیتی ہیں
    ان بیماریوں میں سرفہرست نفرت اور منافقت عروج پاتی ہیں
    المختصر یہ زہر پہلے خود اسی انسان کو بد اعمالیوں کی شکل میں نقصان پہنچا کر دوسرں کو متاثر کرتی ہے
    اللّٰہ پاک ہمیں نیک اور صالح اعمال کی توفیق عطا فرمائیں آمین
    یہ میری زاتی آراء ہے
    متفق ہونا ضروری نہیں

  • اور تم آسان سمجھتے ھو مسلماں ھونا .تحریر۔ علی بلوچ

    اور تم آسان سمجھتے ھو مسلماں ھونا .تحریر۔ علی بلوچ

    آج کے دن لیکن آج سے ٹھیک 90 سال پہلے جب کشمیر کے اس نوجوان قدیر نے اپنے مسلمان ھونے کا فرض اس طرح نبھایا کہ میرے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی روز محشر اسے ھر صورت اپنی بانہوں میں لیں گے، کہ جس کی استقلال کو جناب صدیق نے بوسہ دیا ھو گا، کہ جس کی جرات پر جناب عمر فاروق کا عدل بھی جلال میں آیا ھو گا کہ جس کی ھمت کو جناب عثمان نے داد شجاعت سے نوازا ھو گا ، کہ جس کے عظم کو جناب علی نے شرف قبولیت بخشا ھو گا

    میں کیوں نہ آج 90 سال بعد بھی اس نام پر رشک کروں اس دن پر جھوم اٹھوں ان ناموں پر قربان جاؤں اور ان فرعونوں کو کیوں نہ بتلاؤں جنھوں نے اپنے ھر پر فتن دور میں میرے اسلام کو ختم کرنا چاھا، لاکھوں وجود ختم کر دییے عزتیں پامال ھوتی رھیں، نوجوان مذبح خانے پہنچتے رھے لیکن وہ جذبہ جس نے آج سے 90 سال پہلے میرے قرآن کی بے حرمتی پر انگڑائی لی تھی آج وہ جذبہ لاوا بن کر ابل رھا ھے اج تم پاس سے گزرو تو بھسم ھو جاؤ گے۔۔۔

    اب باری تمھاری ھے ھم نے تو ایک صدی اس ظلم و جبر کو اپنے سینوں پر سہا ھے لیکن اب باری تمھاری ھے تم جس آگ سے کھیلے ھو اب اس آگ میں جلنے کی ذمہ داری تمھاری ھے۔۔۔

    تمھیں تاریخ نے بتلایا نھیں کہ۔۔۔
    تم نے جب کشمیر میں اپنے ڈوگرا میں میرے قرآن کو جلایا تھا تم نے جب میرے اسلام سے اپنی نفرت کا کھل کر اظہار کیا تھا۔ تم نے جب قرآن مجید کو جلا کر خود کو خوب اطمینان بخشا کہ طاقت کے نشے نے تمھیں چور کر دیا لیکن تمھیں وہ نوجوان خوب صورت وجیہ چہرہ تاریخ نے دکھلایا نھیں کہ جو شیر کی سی پھرتی سے تم پر لپکا تھا کہ جس نے آواز لگائی تھی اب ظلم نھیں سہنا اب چپ نھیں رھنا یہ وقت ھے اپنا حق لینے کا اور اب سے ھر گزرتا وقت تم پر بھاری ھو گا۔۔۔

    لیکن تم بزدل نکلے تمھیں میرے رب کونین کے کلام نے اس قدر خوف میں مبتلا کر دیا کہ جب تمھارے ڈوگرا راج کے سامنے اذان کی صدا بلند ھوئی کہ…

    اللہ اکبر اللہ اکبر اور ساتھ ھی دوسری آواز ایک سنسناتی گولی کی تھی اور صدا بلند کرنے والے کو چیرتی گزر گئی…

    پھر اسی مجمعے میں سے دوبارہ آواز آئی اشھدالااللہ الاللہ، اشھدالااللہ الاللہ پھر کہیں سے بندوق سیدھی ھوئی اور صدائے اشھداللہ کو خاموش کرا گئی…

    اسی لمحے کسی کونے سے پھر سے ننھی آواز اٹھی اشھدانامحمدالرسول اللہ اشھدانامحمدالرسول اللہ اور ایک بار پھر ایک گولی گردن میں پیوست ھوئی اور ننھی آواز دب گئی…

    کیا ھی منظر تھا کہ حئیٰ الصلوٰۃ حئیٰ الصلوٰۃ کی گونج اٹھی اور اسی لمحے سینے سے لہو بہا۔۔۔

    جذبہ دوراں نہ رکا اور حئیٰ اللفلاح حئیٰ اللفلاح باآواز بلند سنائی دیا پھر ایک گولی چلی اور سر میں جا گھسی کہ ساتھ ٹھہرے قدرے کمزور وجود مگر موت سے بے خوف بچے نے اپنے چہرے سے لہو صاف کیا اور بول اٹھا اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہَ الاللہ اور اپنا چہرہ پھر نہ صاف کر سکا…

    اور اس طرح ایک اذان کے مکمل ھونے کی قیمت 22 جانوں کا نذرانہ تھا۔۔۔

    ایک ایسا نذرانہ کہ جس کا کوئی مول نھیں کہ جس پر کوئی دھول نھیں کہ جس پر کچھ وصول نھیں ایک ایسا کھرا نذرانہ کہ جس نے دنیائے نا حق کو بتلایا کہ۔۔۔

    یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ھے
    اور تم آسان سمجھتے ھو مسلماں ھونا

    نادان نے سمجھا کہ اب تاریخ نہیں بدلے گی اب یہ لمحات دوبارہ نہیں آئیں گے اب کوئی وادی کشمیر میں قرآن ھاتھ میں نہیں تھامے گا کہیں کسی گنبد پہ لگے سپیکر سے صدائے تکبیر بلند نہ ھو گی کہیں سے کوئی آزادی کی بات نہیں کرے گا کسی کا جذبہ ” ھے حق ھمارا آزادی ھم لیکر رہیں گے آزادی کیلئے نھیں لٹے گا کوئی زبان تیرا میرا رشتہ کیا لاالہ الاللہ نہیں بولے گی…

    کیونکہ اب ان میں وہ حوصلہ ھی نھیں اب ان 22 جوانوں کے لاشے دیکھ کر وادی کشمیر کی مائیں بیٹے پیدا کرنا بند کر دیں گی، خود کو بانجھ کر لیں گی، اپنی جوانی ھماری عیاشیوں کے سپرد کر دیں گی لیکن۔۔۔

    لیکن یہ کیا ھوا کہ آج 90 سال بعد بھی مائیں بانجھ نہ ھو سکیں بیٹے جننا بند نہ ھو سکے، عزتوں کے محافظ ببانگ دھل سامنے آ ٹھہرے۔۔۔

    کسی نے موسیٰ کو پیدا کر دیا
    کسی نے ذاکر کو جنم دے دیا
    کسی نے ریاض نیکو کو تیار کر دیا
    تو کسی نے ایک برھان وانی ھم سب پر مسلط کر دیا۔۔۔

    تم نے ایک صدی لگا دی جذبہ حریت کو دبانے میں لیکن وادی کشمیر میں آزادی کی روح فضاء میں معطر ھو گئی۔ وہ ایک اذان جسے تم نے خود پر بھاری سمجھا اور 22 جوان لاشے گردا دئیے آج اسی ایک اذان کا کرشمہ کہ وطن کے گوشے گوشے سے آزادی کی صدائیں بلند ھوتی ھیں۔۔۔

    کوئی شک نھیں کہ آج تم ھار گئے ھو
    تم نے گولیوں سے وجود چھلنی کئے
    تم نے بارود سے کھیل کر ھم کو آزما لیا
    ھمیں نظریات سے ختم کرنے کی کوشش کی لیکن تم ھار گئے۔۔۔
    آج دیکھو ھر دن ھر لمحہ کو بہ کو ہر زبان یا اللہ بسم اللہ اللہ اکبر کی صدا بلند کرتی ھے..۔

  • غلامی کی انتہا ،تحریر: محمد ابراہیم

    غلامی کی انتہا ،تحریر: محمد ابراہیم

    ہمیں سرائیکی نہیں پنجابی وزیر اعلیٰ پنجاب چاہیے۔
    چلو مان لیتے وہ کام نہیں کرتے تو زیادہ تکلیف تو نہیں ہوتی تھی
    جب سرائیکی وزیر اعلی آ گیا تھا تو ہماری خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی کہ
    اب ہمارا وسیب خوشحال ہو گا
    قانون کی پاسداری ہو گی
    سارے لوگ اسی خوشی میں مگن تھے کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان نے سرائیکی دھرتی پر بڑا احسان کیا
    ایک
    ٹرائیبل ایریا سے اٹھا کر پہلی دفعہ خواجہ شیراز محمود کے ونگ میں پاکستان تحریک انصاف کی وجہ سے اپنی زندگی میں صوبائ اسمبلی کا الیکشن جیتنے والا عثمان خان بزدار
    جس کو عمران خان صاحب نے پہاڑ سے اٹھا کر
    پورے پنجاب کا مالک بنا دیا تو سرائیکی وسیب کئ خوشی کی انتہا نہ رہی تھی
    آہستہ آہستہ وزیر اعلی پنجاب بننے کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے
    عثمان خان بزدار کو اپنا وسیم اکرم بنا دیا
    لوگوں نے تنقید کئ یہ ہو گیا وہ ہو گیا
    لیکن عمران خان صاحب نے وسیم اکرم پلس بنا دیا بڑی امیدیں تھی
    لیکن.
    تین سال گزرنے کے بعد کیا ہوا

    ڈیرہ غازی سے تونسہ ہائی وے روڈ اتنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے کہ روزانہ حادثات ہوتے ہیں قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں اب تو یہ روڈ قاتل روڈ کے نام پر مشہور ہوچکا ہے،
    اگر بات کریں صحت کی تو مشیر صحت ہمارے اپنے شہر ڈیرہ غازی کا کا ہے حنیف پتافی لیکن ہسپتالوں میں علاج کی کوئی سہولت نہیں غریب کی بیٹی ،ماں،بہن بچے کو فٹ پاتھ پر جنم دے دیتی ہے لیکن ہسپتال میں ایڈمٹ نہیں کیا جاتا ایسے مشیر صحت کا ہم کیا کریں،
    اور اگر بات کریں امن و امان کی صورتحال کی تو یہاں لادی گینگ کا راج ہے ہمارے مقامی سردار ان گینگز کی پشت پناہی کرتے ہیں وزیراعظم عمران خان نوٹس لیتا ہے لیکن ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی لادی گینگ کے خلاف کوئی کاروائی اعمل میں نہیں لائی گئی ،اخر ہم گلہ کریں تو کس سے کریں وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ہمارے اپنے علاقے کا ہے ،
    دوسری بات ڈیرہ غازی خان کا ورکر بے یارومددگار پڑا ہے
    احسان اللہ خان جو سائیکل پر پورے پاکستان میں تحریک انصاف کے ہر جلسے میں جاتا تھا

    اس کو کرنٹ لگا
    ٹراما سنٹر گیا
    وزیر اعلی پنجاب نے شوباز والا نوٹس لیا کچھ نہ ہوا
    وزیر اعلی نے امداد کا کہا کیا ہوا کچھ نہیں
    احسان اللہ وفات پا گیا
    وہ تو خوش تھا کہ ہمارا وسیب کا وزیر اعلی ہے
    ہمارے دکھ کا مدوا کرے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا
    کیونکہ
    وسیم اکرم پلس نے ٹونس لیا اس کے بعد دوبارہ تک کسی ضلع صدر ڈیرہ غازی خان سے رپورٹ تک نہیں لی
    اور ہمارے ارکان اسمبلی اتنا مصروف ہو گیے وہ نمبر تک نہیں اٹھاتے
    چلو احسان اللہ کی وفات ہو گئ تو اپنا وزیر اعلی پنجاب عثمان خان تھا
    اگر وہ
    ان کے گھر والوں کی کی امداد کا کوئ چیک دے سکتا تھا

    لیکن افسوس کےساتھ کہنا پڑ رہا ہے
    تین سال میں پی ٹی آئی ورکروں کو ایسا لگا کہ ہم اپوزیشن میں ہے کیا ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ کی حکومت ہے
    اس کے ساتھ
    طور خان بزدار
    ان کی حکومت ہے کیونکہ وہ جب چاہتا ہے وزیر اعلی پنجاب سے ٹائم نکال کر مل لیتا ہے
    ادھر تو ورکر کو کسی نے پوچھا تک نہیں
    اس سے بہتر تو یہی تھا کہ
    پنچابی وزیر اعلی ٹھیک تھا
    اب سرائیکی وسیب کا وزیر اعلی نے کیا کیا ہے
    ڈیرہ غازی خان آپ کے سامنے
    ڈیرہ غازی خان سے زمک تک روڈ سامنے ہے
    کس کس سے گلہ کریں
    کیونکہ عمران خان نے جنوبی پنجاب کو وزیر اعلی پنجاب دیا
    وفاقی وزیر ،زرتاج گل
    مشیر صحت، حنیف پتافی
    لائیو سٹاک وزیر محسن لغاری
    اب عمران خان کیا کر سکتا ہے
    ہماری اپنی قسمت

  • سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !! تحریر: حسن ریاض آہیر

    سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !! تحریر: حسن ریاض آہیر

    سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !!

    منٹو ادبی تاریخ کا وہ نام تھا جس نے اپنی قلم کے ذریعے ہمیں اور ہمارے معاشرے کو آئینہ دکھایا۔

    ایک کہاوت ہے کہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکو میرے خیال میں منٹو صاحب نے صحیح معنوں میں اس کہاوت کو اپنی قلم کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے اس معاشرے کو اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کر دیا۔

    منٹو جیسا نہ کبھی پھر آیا اور نہ کبھی آئے گا۔
    جتنا میں نے سعادت حسن منٹو صاحب کو جانا ہے، تو ایک چیز واضح نظر آئی کہ جب جب اس معاشرے اور معاشرے کے ٹھیکیداروں کو انہوں نے اصل چہرہ دکھایا تو وہ نظر چراتے، بے ضمیر شرفاء اس معاشرے کے ٹھیکیدار منٹو سے ناراض ہوجاتے اور اپنی اس گستاخی کے لیے ان کو عدالت کے چکر لگانے پڑتے
    اس معاشرے میں کچھ عناصر منٹو صاحب کے خلاف نہیں بلکہ انکی سوچ اور انکے قلم کے خلاف تھے، کیونکے سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے۔

    جون ایلیاء کا یہ شعر منٹو صاحب کی بھرپور عکاسی کرتا ہے :
    جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
    میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

    سعادت حسن منٹو نے بہت سے ناول لکھے اور ان میں اس معاشرے کے متعلق تلخ حقائق بیان کئے۔ بعد میں جن پہ ڈرامے اور فلم بندی بھی کی گئیں۔

    انکے مشہور ناولز میں : کالی شلوار، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نوکر، بدنام اور ٹھنڈا گوشت وغیرہ شامل ہیں۔

    منٹو صاحب کی کچھ کہی ہوئی باتیں جو سدا بہار ہیں اور آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ان میں سے چند ایک :

    ” جس نیت سے طواف برقع پہنتی ہے کچھ مرد بلکل اسی نیت سے داڑھی رکھ لیتے ہیں ”

    ” جس ملک میں ہم رہتے ہیں، سر ننگا ہو تو کہتے ہیں تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ بندہ پورا ننگا ہو تو کہتے ہیں کہ بابا پہنچی ہوئی چیز ہے۔ ”

    ” مسجد میں شیعہ، سنی، وہابی سینما میں ایک ذات سالے مادر ذات ”

    آخر میں ایک سوال …..
    کیا آپ میں بھی منٹو ہے ؟

    کالم نگار : حسن ریاض آہیر
    Twitter Handel : @HRA_07

  • سندھ کی بربادی پیپلزپارٹی .تحریر :ماشا نور

    سندھ کی بربادی پیپلزپارٹی .تحریر :ماشا نور

    خاندانی سیاست کے بادشاہ خود کو سمجھنے والے بلاول بھٹو کی قیادت میں آج سندھ پرحکومت کررہی پیپلز پارٹی کراچی والوں کے لیے بڑے بڑے اعلان تو ہیں لیکن صرف زبانی پورے شہر کی حالت دیکھ کر باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کے یہاں رہنے والے کن حالات میں زندگی گزار رہے نوکری سے لے کر ہسپتال میں علاج تک کے لیے دھکے کھانا مقدر بن چکا ہے کرپشن کرکے بڑے بڑے محل بنانے والے انکو بھول جاتے جنکے ووٹ سے آج وہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں پیپلزپارٹی کی کرپشن کی داستانیں تو تاریخ میں لکھی جانی چاہیے تاکہ آنے والوں کو علم ہوسکے کہ ہم نے مسلط بھٹو خاندان نے پاکستان کو کس طرح برباد کیا اور مزید کررہے ہیں،ماضی میں تیزی سے ترقی کرنے والا شہر کراچی آج کچراکنڈی بن چکا ہے پیپلز پارٹی نے کراچی کے ساتھ ہمیشہ سے ہی سوتیلا سلوک رکھا پھر چاہے وہ کراچی میں بسنے والوں کے حقوق ہوں یا میئر کراچی کے اختیارات سندھ حکومت ہمیشہ سے کراچی کو سیاسی طور پر استعمال ضرور کرتی رہی لیکن کراچی کے مسائل پر انکی آنکھ نا کھلی سندھ حکومت آئین پاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اختیارات اور وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھ کر اڑا رہی ہے جبکہ سندھ کی عوام کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں، بالخصوص سندھ کے دارالخلافہ کراچی کو پیپلز پارٹی نے اپنے تعصب کی وجہ سے برباد کر کے رکھ دیا ہے

    پاکستان کو 70 فیصد جبکہ سندھ کو 92 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے نالوں کی صفائی نہیں ہوتی انکی چوڑائی کو بڑھایا نہیں جاتا بارشیں شروع ہونے سے قبل شہر کے نالوں میں مزید کچرا ڈال دیا ہے ایک طرف عوام گٹر کے پانی سے پریشان تو دوسری جانب بارش زحمت بن جاتی،کراچی کے تقریباً ہر علاقے پر قبضہ کرکے ان کو بیچنے والے نااہل، کرپٹ، تعصب زدہ حکمران اینٹی انکروچمنٹ کے نام پر بے بس اور بے گھر عوام کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں پیپلز پارٹی آنے والے وقت میں خود کو پاکستان پر حکومت کرتا دیکھ رہی ہے اللہ ایسا وقت نا لائے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگتے سندھ کو برباد کرنے والے پاکستان پر حکومت کرنے کے قابل نہیں ڈاکو راج کرنے والے نمائندوں سے عوام کو آزادی چائیے مزید اندھیروں میں ڈوبے سندھ کو کون بچائے گا؟ سوچیے ۔۔۔۔۔۔

  • ڈاکٹر عافیہ اور انکی 86 سالہ سزا . تحریر:سید عمیر شیرازی

    ڈاکٹر عافیہ اور انکی 86 سالہ سزا . تحریر:سید عمیر شیرازی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی جن پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے وہ افغانستان میں افغان طالبان اور القاعدہ کی سہولت کار تھیں اور اس بےبنیاد الزام کی بنا پر انکو چھیاسی سال کی طویل سزا سنا دی امریکی عدالت نے جب کہ یہ جھوٹ پر مبنی صرف ایک الزام تھا اس واقعے کی تحقیقات بھی نہیں کی گئی تھی
    لیکن امریکا نے دہشت گرد قرار دے دیا تھا پاکستانی حکومت کی کیا مجال تھی کہ اپنے آقا کے خلاف کچھ بول سکے
    ڈاکٹر عافیہ جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر تھی جو مختلف ممالک میں جا کر اپنی خدمات سر انجام دیتی رہتی تھیں
    افغانستان کا دورہ بھی اسی طرح کا ایک دورہ تھا کیوں کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان شدید قسم کی جنگ جاری تھی اور عوام بھی اس جنگ میں متاثر ہو رہی تھی ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر پاکستانی حکومت نے امریکا کے اس گھٹیا حرکت پر کوئی احتجاج تک نہ کیا اور وہ با آسانی ڈاکٹر عافیہ کو امریکا لے گے۔۔۔

    پاکستانی حکمران دیکھتے رہ گئے اور امریکی یہودی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو ان کی آنکھوں کے سامنے سے لے گئے اور ہم بے غیرتوں کی طرح
    دیکھتے رہے۔۔۔۔

    اب اللّه پاک ہی کسی معجزے کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کو ظالم یہودیوں سے آزاد کر سکتے ہیں کیوں کہ ان حکمرانوں میں تو جرات نہیں ہے .یا میرے مولا قوم کی بیٹی اور فخر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جلد از جلد یہودیوں سے آزادی دلوا دیں اور جب تک وہاں ہیں انکی حفاظت فرما۔ آمین

  • بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    عبدالستار ایدھی 29 فروری 1928 کو بھارت کی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے ، 1947 میں بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہوئے ، عبد الستار ایدھی نے 1966 میں اپنے نرسنگ ہوم کی ایک نرس بلقیس ایدھی سے شادی کی۔
    ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز

    عبد الستار ایدھی نے 1951 میں کراچی کے علاقے میٹھا در میں قلیل سرمایے سے میمن ویلنٹئر کور نام سے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے مدینہ ویلنٹئر رکھا گیا۔

    عبدالستار ایدھی نے خدمت خلق کا آغاز اسی ڈسپنسری سے کیا وہ سارا دن مجبور غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور رات کو اسی ڈسپنسری کے باہر ایک بنچ پر سو جاتے ۔

    فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے عبدالستار ایدھی نے کئی ممالک کے دورے کئے جن میں ایران، ترکی ،فرانس ،یونان، بلغاریہ، یوگوسلاویہ،شامل ہیں۔

    پاکستان واپس آ کر انہوں نے 1952 میں ایک زچگی سینٹر اور 1954 میں نرسوں کی تربیت کے لئے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا۔

    عبدالستار ایدھی نے 1957 میں ایشین فلو کے وقت کراچی میں مختلف مقامات پر امدادی خیمے لگائے اور بیماروں میں مفت ادویات بھی تقسیم کیں۔

    عبدالستار ایدھی کی ان گرانقدر خدمات اور خدمت خلق کی لگن کو دیکھتے ہوئے مخیر حضرات نے دل کھول کر مدد کرنا شروع کردی ۔

    ان فنڈز کی رقم سے عبدالستار ایدھی نے ایک وین خریدی اور اسے ایمبولینس میں تبدیل کیا ، یہ وین 24 گھنٹے مریضوں کو لانے لے جانے کیلئے مفت دستیاب رہتی، اسی دوران عبدالستار ایدھی نے مدینہ ویلنٹئر ڈسپنسری کا نام تبدیل کر کے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ رکھ لیا۔

    سیاست

    1970 میں خدمت خلق کے جذبے سے سر شار عبدالستار ایدھی نے باقاعدہ ملکی سیاست میں آ کر عوامی خدمت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے آذاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا ، تاہم کامیاب نہ ہوسکے، 1975 میں ایک مرتبہ پھر عبدالستار ایدھی نے انتخابات میں حصہ لیا مگر دوسری بار بھی ناکام ہوئے، اس کے بعد عبدالستار ایدھی نے ہمیشہ کیلئے سیاست سے کنارہ کرلیا۔

    ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات پر ایک نظر

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فری ایمبولینس سروس ہے، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس اس وقت اٹھارہ سو سے زائد ایمبولینسز موجود ہیں جو ملک بھر میں آج بھی مفت سروس مہیا کرتی ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو ائیر کرافٹ ، ایک ہیلی کاپٹر ایمبولینس، 28 لائف بوٹ (بحری ایمبولینس) بھی موجود ہیں، اس کے علاؤہ موبائل میت سرد خانہ اور مختلف مقامات پر 180 سرد خانے بھی بنائے گئے ہیں ، ایک سرد خانہ میں تیس میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، سرد خانوں میں رکھی میت کو اگر تین دن تک کوئی شناخت نہ کرے تو اسے مواچھ گوٹھ کراچی میں بنے ایدھی قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے، اس قبرستان میں لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد میتوں کو دفن کیا جاچکا ہے، ایدھی فاؤنڈیشن نے ملک بھر میں تقریباً 180 میت خانے ، میرج بیورو سینٹرز ، پاگل خانے، اینیمل شلٹرز ، اسکولز ، پناہ گاہیں ، زچگی سینٹرز ، معذور افراد کیلئے سینٹرز ، ایدھی لنگر خانے اور بےشمار مہاجرین کیمپ بنائے ہیں۔۔

    بین الاقوامی خدمات

    دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایدھی سینٹرز اپنی خدمات دے رہے ہیں جن میں افغانستان، ایران ، سوڈان ، ایتھوپیا شامل ہیں۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ، امریکہ ، انگلینڈ ، آسٹریلیا میں بھی ایدھی سینٹرز بنائے گئے ہیں ۔

    عبدالستار ایدھی کو ان کے خدمات بدولت بےشمار قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نواز گیا ہے۔

    وفات

    عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو 88 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔

  • روڈ ایکسیڈینٹ  کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    روڈ ایکسیڈینٹ کس کی غفلت ہوتی ہے .تحریر: احمد لیاقت

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں روڈ حادثے کے شکار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتے ہیں یا معزور ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی شرح دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے یا پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کو روڈ سیفٹی کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے
    پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر روڈ حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس میں ڈرائیورز کی غفلت سب سے نمایاں ہے۔ ڈرائیورز کی غفلت اور جلد بازی کے ساتھ غیر تربیت یافتہ ڈرائیونگ ہے

    مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر آۓ روز ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں

    👈 گاڑی چلانے کی مہارت سکھانے والے اداروں کا فقدان
    👈 ناتجربہ کار ڈرائیور
    👈 جعلی لائسنس کی روک تھام نہ ہونا
    👈مسلسل کئی گھنٹوں تک گاڑی چلانا
    👈 ملک بھرمیں یکساں لائسنس کا اجراء نہ ہونا
    👈 ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری
    👈 موبائل فون کا استعمال
    👈 سڑکوں پر سفید اور زرد لائنوں کا نہ ہونا
    👈 مسافر بسوں میں سیٹ بیلٹ کا نہ ہونا
    👈 گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ نہ ہونا
    👈مسافر بسوں میں ہنگامی دروازہ نہ ہونا
    👈 گاڑی میں حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا
    👈 نشہ آور چیزوں کا استعمال
    👈 پرانی گاڑیوں کا بےدریغ استعمال

    چند ایک وجوہات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
    ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیزی رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، سڑکوں کی خستہ حالی ، گاڑی میں خرابی ، اوورلوڈنگ ، ون وے کی خلاف وزری، اورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، نو عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائر وں کا استعمال شامل ہے۔لیکن ان میں سب سے اہم وجہ سڑک استعمال کرنے والے کا جلدباز روّیہ ہے۔ 80 سے 90 فیصد ٹریفک حادثات غیر محتاط رویے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں ، مگر ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کے لئے قطعاً تیارنہیں، اوریہ ہی ٹریفک کے مسائل اور حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔جب تک ہم اپنے رویوں کو درست نہیں کریں گے اس وقت ٹریفک حادثات میں کمی ممکن نہیں۔
    جبکہ ٹریفک حادثات اور مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا کہ گاڑیوں کے لیے تو موٹر وہیکلز کے قوانین موجود ہیں مگر آہستہ چلنے والی گاڑیاں مثلاً گدھا و بیل گاڑی کے لئے کوئی قانون سازی نہیں ہے، اس وجہ سے روڈ استعمال کرنے والے یہ لوگ قانون سے نہ صرف بالا تر ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات بھی ہیں۔ ان افراد کو تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے ، تاکہ ان کو روڈ استعمال کرنے سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوسکے

    دنیا بھرمیں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ اسکول بنے ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے کا خواہشمند ہر شخص کئی دنوں تک اسکول جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کی مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کا نظام ہونے کے برابر ہے، اکثر لوگ اپنے رشتداروں یا دوستوں سے گاڑی چلانا سکیھ لیتے ہیں اور ایسا کرنا جرم بھی نہیں سمجھتے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مخصوص ادارے ہی ڈرائیونگ سکھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
    حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں اس قسم کا نظام متعارف کرائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے سخت سے سخت سزا مقرر کرے۔ ڈرائیونگ اسکول بنانے سے ملک میں سیکڑوں افراد کو روزگار مہیا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تربیت یافتہ ڈرائیور میسر ہونگے

    پاکستان کے ہرصوبے میں الگ الگ قسم کے لائسنس کارڈ جاری کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کارڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لائسنس کارڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح مرکز اسلام آباد سے ہی جاری کیا جائے تاکہ جعلی کارڈ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکے۔

    اسی وجہ سے پاکستان میں روڈ ایکسیڈینٹ کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ہے جس کے برعکس پاکستان کی گورنمنٹ کا کام سست روی کا شکار ہوتا ہے باہر کے ممالک میں قانون سازی کرکے اس پہ عمل پیرا کروانا گورمنٹ کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ہم سب کی یہی کوشش ہوگی ہے موجودہ گورنمنٹ اس پر توجہ دے تاکہ بہتری کیلئے بہتر اقدام کرکے لوگوں کو ہلاکتوں سے بچاۓ
    @JingoAlpha

  • افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

    گزشتہ کچھ دہائیوں سے افغانستان کے حالات میں نشیب و فراز دیکھنے کو ملا ہے۔ خاص کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کے بعد افغانستان میں امریکی جارحیت  نے خطے میں جیوگرافیائی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی اثرات مرتب کئے ہیں۔

    افغانستان روس کی طرح امریکہ کے لیے  قبرستان ثابت ہوا اور  شکست خوردہ ھو کر یہاں سے راتوں رات تاجکستان کے راستے سے رہ فرار اختیار کررہا ہے۔

    امریکی آمد کی طرح اسکی یہاں سے روانگی بھی خطے کے حالات کو نیا روخ دے گی۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھی اس تبدیلی کو محسوس کرینگے ۔خاص کر پاکستان ایران اور انڈیا کے اندر اس تبدیلی کے جھٹکے محسوس کئے جائیں گے۔
    انڈیا اس وقت بہت "شش و پنج”  میں مبتلا ہے ایک طرف افغانستان میں انڈین انویسٹمنٹ ڈوب رہی ہے اور "ڈوبتے ہوۓ کو تنکے کا سہرا” کے مصداق انڈیا افغان حکومت کو بچانے کی "تگ و دو "میں لگا ہوا ہے اور دوسری طرف افغان طالبان سے ملنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔ مگر اب تک منہ کی کھانی پڑی ہے مستقبل میں بھی ایسا لگ رہا کہ انڈیا کا رول امریکہ کے ساتھ افغانستان سے ختم ہورہا ہے اور اب انڈیا کو افغانستان میں پاکستان مخالف سازشیں کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

    رہی بات پاکستان کی تو وہ بھی اس تبدیلی کو ماضی کی طرح پھر سے محسوس کرے گا۔ افغانستان سے امریکی روانگی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی ایک نیا موڑ آئے گا۔پاکستان کو امریکہ کے جانے کے بعد ایک بڑا چیلنج کا سامنا ہے کہ کسی طرح افغانستان میں امن قائم ہو اور خانہ جنگی نہ ہو ۔
    اگر خدا نہ خواستہ افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس کے برے اثرات یقینی طور پر ماضی کی طرح پاکستان پہ مرتب ہونگے اسلیے پاکستان مستحکم  اور پرامن افغانستان کے لئے ہر ممکن کوشیش کرے گا۔

    پروفیسر عمیر انس کہتے ہیں کہ "ایران کے پاس ایک نیا صدر ہے اور انڈیا اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی نئی حکومت کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد کے بعد ایران پر کچھ پابندیاں ہٹائے جانے کی امید ہے اور ممکن ہے کہ انڈیا اس سے فائدہ اٹھانا چاہے گا۔”
    افغانستان کے حالات نازک دور سے گزر رہے  ہیں خطے کا ہر ملک آنے والے حالات سے اضطراب کی کفیت میں دیکھائی دے رہا ہیں۔
    اب خطے کے دیگر ممالک کو چاہئے کہ ایک بلاک بنا کر چین روس کے ساتھ ملکر افغانستان کے امن کے لئے کوشش کریں نہیں تو یہ خانہ جنگی کے منفی اثرات پورے خطے کے ممالک پر ہونگے۔ اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر ہے۔