Baaghi TV

Category: بلاگ

  • (PayPal) پےپال پاکستان کیوں نہیں آرہا ہے؟

    (PayPal) پےپال پاکستان کیوں نہیں آرہا ہے؟

    ایک پارلیمانی پینل نے سکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کریں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ پےپال (PayPal) پاکستان میں کیوں کام نہیں کررہا ہے۔

    PayPal پے پال

    پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی ممبران نے نشاندہی کی کہ لوگ ایمیزون سے بھر پور فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں کیونکہ پے پال (PayPal) پاکستان میں کام نہیں کرتا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا ، "ہم پاکستان میں پے پال (PayPal) چاہتے ہیں کیونکہ بہت سارے لوگ فری لانسسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور ہمیں پے پال فری (PayPal) لانسنگ ویب سائٹوں سے رقم کی منتقلی کے لیِے جاہیے۔”

    کمیٹی اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک کے نمائندے کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پے پال (PayPal) پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ کمیٹی کو پیش کی گئی فنانس ڈویژن کی دستاویز کے مطابق ، پے پال (PayPal) ایک نجی کمپنی ہے جس کی موجودگی مختلف ممالک میں ہے۔

    تاہم ، پے پال (PayPal) نے اس کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ کسی خاص مارکیٹ میں داخل ہونا ایک کاروباری فیصلہ ہے اور اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ وے کے داخلے / عمل پر کوئی پابندی نہیں ہے جو متعلقہ زرمبادلہ کے ضوابط کی تعمیل کرسکتی ہے۔

    News Source: Startup Pakistan

  • ماحولیاتی آلودگی اور ہماری ذمہ داری .تحریر: حمزہ بن شکیل

    ماحولیاتی آلودگی اور ہماری ذمہ داری .تحریر: حمزہ بن شکیل

    ماحولیاتی آلودگی کے باعث اس وقت دنیا بھر کو موسمیاتی تبدیلیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر قابو پانے کے لئے ہمیں اجتمائی اور انفرادی سطح پر ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے…

    ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہر سال کئی لاکھ لوگ مختلف پھیپڑوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور کچھ جان کی بازی ہار جاتے ہیں.

    ماحولیاتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہمارے کارخانوں سے نکلتا وہ زہریلا کیمیکل ہے جو نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پرانی گاڑیوں سے نکلتا دھواں، پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کا بڑھتا استعمال اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی بھی ایک اہم وجہ ہے۔

    زندگی کی بقاء کے لیے آلودگی سے پاک ماحول بہت ضروری ہے۔ جہاں شہریوں کو رہنے کے لیے صحت افزا ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے وہیں ہماری کچھ انفرادی ذمہ داریاں بھی ہیں جنہیں پورا کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہئے وہ پرانی گاڑیوں اور مشینوں پر بین لگاۓ جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں چاہئے کے ہم زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریں اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

    ماضی میں ہمارے جنگلات کو نہایت بیدردی سے کاٹا گیا پر اب وقت ہے کے ہم اپنے ماحول کو پھر سے سر سبز و شاداب بنایں.

    درخت لگانا سنت نبوی اور صدقہ جاریہ ہے۔ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ جو کوئی درخت لگائے، پھر اس کی نگرانی اور حفاظت کرتا رہے، حتیٰ کہ درخت پھل دینا شروع کر دے تو وہ اس شخص کے لیے صدقے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک اور موقع پر حضورﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگائے، اور اس میں سے کوئی انسان، درندہ، پرندہ، یا چوپایہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن مہیا کرتے ہیں بلکہ زمینی کٹاؤ کو روکنے کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں سایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے اردگرد کا ماحول خوبصورت ہو جاتا ہے اور ہماری صحت پر اس کے مثبت اثرات پڑتے ہیں۔

    آئین آج ہم سب یہ تہیہ کرتے ہیں کہ ہم ایک پودا ضرور لگائیں گے اور اس کے تناور درخت بننے تک اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کو بھی با خوبی نبھائیں گے۔ اس سب سے ماحولیاتی آلودگی میں بہت حد تک کمی آئے گی۔

  • پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ .تحریر:شعیب اسلم

    پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ .تحریر:شعیب اسلم

    عالمی طاقتوں کی بھرپور سازشوں اور مخالف اقدامات کے باوجود قیامِ پاکستان ایک معجزہ ہی تھا .
    قیام کے ساتھ ہی مذہبی و سیکولر طبقات کوئی رستہ نہ پاکر اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور انکے فروغ کے لئے متحرک ہوگئے, جس کی وجہ سے پاکستان میں دو نظریاتی انتہاؤں نے جنم لیا
    مذہبی انتہا پسندی
    لبرل اور سیکولر انتہا پسندی
    ہر دو مکاتیبِ فکر کی نظر میں اختلاف رائے رکھنے والا ملعون و مطعون ٹھہرا
    مذہب پر چونکہ ہر کوئی دسترس نہیں رکھتا, اسکے لئے وہ مخصوص طبقے کے محتاج ہیں اس لئے بہت تھوڑے تناسب کے علاوہ اس طبقے کی اکثریت
    کو اپنی تھیوکریسی انداز کی مطلق العنانیت قائم کرنے اور اپنے مفادات کے لئے مخصوص نظریات کی ترویج اور عام آدمی کو اپنے نظریات کے تابع کرنے کا بھرپور موقع مل گیا
    اس کام کو طاقت کے بغیر سرانجام نہیں دیا جاسکتا تھا تو سیاست میں نفوذ کیا گیا
    دوسری طرف سیکولر طبقہ عالمی قوتوں کا مُہرہ بنا
    پرویز ہود بھائی, شرمین عبید چنائے نے سول ایٹمی ری ایکٹرز کی مخالفت میں سندھ ہائی کورٹ سے یہ منصوبہ رکوادیا
    میڈیا کے ذریعے معاشرتی اقدار پر حملہ کیا گیا
    خاندانی نظام میں نقب زنی کی گئی
    ویڈ لاک کے بجائے آزاد تعلقات کے فروغ کیلئے ڈرامے کا رخ ہی بدل دیا
    بہنوئی کا سالی کے ساتھ ,
    سسر کا بہو کے ساتھ تعلق دکھا کر وژوئل امپیکٹ کے ذریعے سلو پوائزن نئی نسل میں انجیکٹ کیا جارہا ہے

    انتہا پسند مذہبی طبقے نے مدرسوں کے ذریعے اپنے اپنے نظریات کے پیروکاروں کی بہت بڑی کھیپ پیدا کی
    تو دوسری جانب لبرل انتہا پسند کالجز اور یونیورسٹیز کے ذریعے قوم کے مستقبل پر حملہ آور ہوئے
    آج پاکستان میں جتنی بھی معاشی, سیاسی, انتظامی اور سب سے بڑھ کر اخلاقی تباہی ہوئی ہے اسکے پیچھے یہی دو قوتیں ہیں

    اعتدال پسند , امت کو جوڑنے والے علماء اور لسانی,صوبائی اور نسلی تعصبات کی حوصلہ شکنی کرنے والے دانشور اور سیاسی رہنما ان دو انتہا پسند طبقات کے تیروں کے رخ پر ہیں.
    جب تک پاکستانی خود کو مسلکی, لسانی صوبائی حدود میں مقید رکھیں گے
    جب تک خود دین نہیں پڑھیں گے, سیکھیں گے
    جب تک نام نہاد کھوکھلی روشن خیالی, سریلے اور جوشیلے نعروں کے سحر میں جکڑے رہیں گے تب تک پاکستان کی ترقی و خوشحالی ایک دیوانے کا خواب ہی رہے گی

    ایک قدم میانہ روی کی طرف ,
    ایک قدم خود سیکھنے کی طرف ,
    ایک قدم سب سے پہلے پاکستان کی طرف ,
    ایک قدم غیر جانبدار اور کریٹیکل تھنکنگ کی طرف
    تو
    قائد کا پاکستان
    اسلام کا قلعہ بننے سے کوئی طاقت روک نہیں سکے گی

  • ماں باپ کی انا.تحریر: یاسر خان بلوچ

    ماں باپ کی انا.تحریر: یاسر خان بلوچ

    ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ماں باپ اپنی بیٹی کیلئے جاہل،گنوار،نکما اور فضول شخص سلیکٹ کر لیتے ہیں مگر ایک اچھا ویل ایجوکیٹڈ پرسن رشتہ لے آئے اورکہے کے میں آپکی بیٹی سے محبت کرتا ہوں تو وہ اسے ریجیکٹ کر دیتے ہیں بنا کسی جواز کے اور اپنی بیٹی سے پوچھنا تک گواراہ نہیں کرتے۔
    جبکہ ان کی اپنی بیٹی بھی اسے لائیک کرتی ہو وہ اپنی ہی اولاد کی پسند کو اپنی انا کا مسلۂ بنا لیتے ہیں کہ اس نے ہماری اجازت کے بنا باہر کیوں محبت کی؟
    جبکہ دوسری طرف اسلام نے اس بات کی مخالفت کی ہے آپؑ نے فرمایا کہ اگر آپ کے گھر کوئی رشتہ آتا ہے تو اپنی بیٹی یا بیٹے سے فیصلہ کرنے سے پہلے ضرور مشورہ کرو اور اسے فل اختیار دیں کہ وہ آزادانہ طور پر اس کے بارے میں فیصلہ کرے۔اگر اسے پسند ہو تو آپ بھی پسند کریں اور اگر اسے پسند نہ ہو تو اسے مجبور نہ کریں۔
    جبکہ ہمارے ہاں یہ بات دور دور تک عمل میں نہیں ہے۔پہلے تو کوئی اپنی بیٹی سے پوچھتا نہیں اور اگر کوئی دوسرا اسے اپنی اولاد سے مشورہ کرنے کا کہے تو اسے جواب دیتے ہیں ہمارا خون ہے ہمیں پتا ہے کہ ان کیلئے کیا برا ہے اور کیا اچھا، بھلا کوئی ماں باپ بھی اپنی اولاد کا برا چاہتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری بیٹی کو بھی ہماری پسند پر اعتراض نہیں ہوگا۔
    دوسری طرف اگر کوئی والدین اپنی بیٹی سے پوچھ لیں اور جواب میں اگر وہ اعتراض کر دے تو اسے اپنی انا بنا لیتے ہیں۔اور اس پر بدچلن کا ٹائیٹل لگا دیتے ہیں۔اس سے پورا گھر بلکہ پورا معاشرہ تک منہ موڑ لیتے ہیں۔اس بیچاری پر دباوٗ ڈالا جاتا ہے ہر کوئی اسے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے دوست،رشتہ دار اور گھر والے سب۔
    اگر والدین اپنی بیٹی سے پوچھیں اور بیٹی انکار کر دے اور والدین بیٹی کی مان لیں تو لوگ اس لڑکی پر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اس پر گندے گندے الزام لگائے جاتے ہیں۔انجام یہ کہ اس کے والدین لوگوں کی باتوں میں آکر اپنی بیٹی کی نہیں سنتے اور بس یہ کہ دیتے بیٹا ہم مجبور تھے۔

    اپنی بیٹی کی زرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھنے والے بھی ایسے موقع پر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور اپنی عزت لے کے بیٹھ جاتے۔
    المیہ یہ کہ وہ اپنی بیٹی کی پسند کو قتل کر دیتے اور وہ بھی بے دردی سے، اور اگر ان کا یہ فیصلہ غلط ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ بس نصیب!! اس کے نصیب میں ایسے تھا۔
    ہم اپنے رسم و رواج کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں۔اسی رسم و رواج کی وجہ سے بعض لڑکیاں گھر کی دہلیز پار کر جاتی ہیں وہ اپنے والدین کو نہیں بتا سکتی کہ انہیں فلاں شخص سے محبت ہے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے والدین اس کی پسند کو قبول نہیں کریں گے۔بعض اوقات لڑکیوں کا گھر سے قدم اُٹھانے کی وجہ ان کے گھر کا ماحول ہوتا ہے کہ اس کی اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے دل کی بات اپنے گھر والوں کو کھل کر کہ سکے۔کیونکہ ان کو ڈر ہوتا کہ کہیں ان کی جان نہ لیں لے۔

    بیٹی کا گھر کی دہلیز پار کرنے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کو کھل کر سب بتا دے کہ اسے فلاں شخص سے محبت ہے۔اسے کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے کسی بھی قیمت پر اسے بتا دینا چاہیے۔ اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کی بات سنیں اور اس شخص کے بارے میں تصدیق کریں اگر اچھا لگے تو ٹھیک نہیں تو بیٹی کو آگاہ کریں نا کہ اسے اپنی انا کا مسلۂ بنا ئیں۔
    اور خدارا اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا تعلق رکھیں کہ وہ اپنے بارے کوئی بھی فیصلہ لینے لگے تو آپ کو بتائے اور اسے یقین ہو آپ اس کی بات سنیں گے اور اسے اپنی انا کا مسلۂ نہیں بنائے گے۔

  • منشیات کا  رجحان . تحریر: محمد جاوید

    منشیات کا رجحان . تحریر: محمد جاوید

    ہمارے معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اور نفسیاتی مسائل کسی سنگین خطرے سے خالی نہیں.ہر روز ہم اخبارت اور شوشل میڈیا پر اس طرح کی کئی خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ منشیات کا نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے دھوکے سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر ختم ہوجاتی ہے۔ منشیات کی لعنت صرف ہائیر تعلیمی اداروں اور ہائیر سوسائٹی میں ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ ایک فیشن کے طور پر سامنے آرہی ہے۔گاؤں کھیڑے کے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ جس کے انتہائی مضر اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں ۔ راہ چلتے چھوٹے بچے بھی سگریٹ کا دھواں اڑاتے دیکھائی دیتے ہیں۔
    اکثر بچے اور نوجوان والدین کی غفلت اور ان کے رویہ کی وجہ سے نشے کی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت اپنے بچوں کو بھی دیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔۔۔کہاں جاتے کس سے ملتے ہیں۔ بعض مرتبہ تو غلط صحبت ملنے سے نشے کے عادی ہوجاتے ہیں۔کئی اپنے مسائل سے ڈر کر اور کئی حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لئے بھی نشہ کا سہارا لیتے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نوجوان نسل فیشن کے طور پر سگریٹ یا دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کرتی ہے پھر یہ فیشن یہ شوق وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت بن جاتا ہے اور اس طرح وہ شخص مکمل طور پر نشے کاعادی بن جاتا ہے۔ اورپھر اس کے دل و دماغ کو مکمل تباہ و برباد کردیتا ہے ۔ پھروہ شخص ہر وقت نشے میں مدمست رہتا ہے۔ اور اس کو پورا کرنے کے لئے ہر وہ غلط کام کرنے لگتا ہے جہاں سے پیسے حاصل کرسکے۔ اور اس طرح اچھا بھلا تندرست صحت مند انسان اپنی زندگی کو تباہی کی دہلیز پر لا کر کھڑا کرتا ہے ۔
    پوری دنیا منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کے ساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ رہی ہے۔ اور کھائے جارہی ہے۔سگریٹ اور شراب پیتے ہوئے لوگوں کو دوستوں کو دیکھ کر دل مچل جاتا ہے۔جو نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے ان کی زندگی کو اندھیرے میں ڈال کر ان کی جوانی کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہا ہے۔
    منشیات کی عادت ایک خطرناک مرض ہے۔ یہ خود انسان کو اور اس کے گھربار کو معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔ اگر ایک بار کوئی نشہ کرنے کا عادی ہوجائے تو وہ پھنستا ہی جاتا ہے۔اور پھنسے کے بعد اس کے مضر اثرات کا انہیں ادراک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟؟؟

    منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشےکا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی خوشیوں کی خواہشات کی تمناؤں کی بھی موت ہوتی ہے۔کوئی اگر نشہ کرنا شروع کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ، کوئی واقعہ، مایوسی، محرومی اور ناکامی کا کوئی پہلو ہوتا ہوگا۔پر انسان یہ کیوں نہیں سوچتا کہ مایوسی اور ناکامی کا علاج صرف نشہ کرنا نہیں۔ بلکہ نشہ انسان کی صحت کے لیے زہر ہے۔ آج کل نئے نئے فلیور میں نشہ آور چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔لیکن یہ نشہ انسان کی صحت خراب کرنے کے ساتھ ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔نشہ بیچنے والے دلال، لوگوں سے، قوم سے، نئی نسل سے پیسے بٹور کر ان کو تباہی کی طرف ڈھکیل دیتے ہیں۔ نسلیں تباہ ہو رہی ہے ہو جائے اُن کی بلا سے انہیں تو صرف نوٹ بٹورنے ہیں۔
    کسی بھی قوم کے لیے اصل قوت اِن کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نئی نسل کا جذبہ ہی کسی بھی قوم کو بھرپور ترقی سے ہم کنار کرتا ہے۔ کسی بھی ملک میں نئی نسل کو ملک کی بہتر خدمت کے لیے بھرپور انداز سے تیار کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔صرف معاشی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں ہوا کرتی بلکہ ملک کے دفاع میں بھی اس کا بھرپور کردار ہوتا ہے۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو سرحدوں پر رات دن جاگ کر ملک کو دشمنوں سے بچاتے ہیں۔ ملک کی آزادی اور خود مختاری کا حقیقی تحفظ نئی نسل ہی کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔ اگر نئی نسل متحد اور چوکس ہو تو دشمن اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ کسی بھی طور نہیں پہنا سکتا.

    لیکن آج نشے کے تاجروں کے ذریعے نئی نسل کو مختلف نشوں کی عادت میں مبتلا کرنا اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔کسی ملک کی نئی نسل منشیات کی عادی ہوجائے نتائج انتہائی خطرناک ہوجاتے ہیں۔
    ایک طرف تو دنیا بھر میں منشیات کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کو ہر طرح کی منشیات سے بالکل پاک کرکے نوجوانوں کو مکمل تباہی سے بچایا جائے اور دوسری طرف منشیات کا مافیا نئی نسل کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ منشیات کی غیر قانونی تجارت سے کروڑوں کماتے ہیں۔ نوجوانوں کو ہیروئن، کوکین، چرس، گانجا، افیم اور نہ جانے کتنے طرح کے نشے میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔اور نئی نسل کا منشیات کی لَت میں مبتلا ہونا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں آگے چل کر ملک کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔اور سوال صرف معاشی نقصان کا نہیں ہے بلکہ نئی نسل کو منشیات کی لت میں مبتلا کرکے کسی کام کا نہ رہنے دیا جائے۔ جب نئی نسل منشیات کی عادی ہوگی تو معاشرتی خرابیاں بھی پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں پورے معاشرے میں بگاڑ پھیلے گا۔معاشرے کی بنیاد ہلانے میں اور نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔

  • چوراہے میں پڑا نشئی. تحریر:بشارت محمود رانا

    چوراہے میں پڑا نشئی. تحریر:بشارت محمود رانا

    انسانی معاشرتی بگاڑ میں جہاں اور بہت سی بُرائیوں کو مؤردِ اِلزام ٹھرایا جاتا ہے اُن میں سے ایک بہت بڑی بُرائی اور لعنت مختلف اقسام کی منشیات بھی ہیں جو انسانی معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں یا پھر پھیلائی گئی ہے۔

    آج میں اپنے پیارے ملک پاکستان کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اِس برائی کے خلاف آواز اُٹھانے کی اپنے تائیں بھرپور کوشش کروں گا۔

    اِس سے پہلے اسی ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کرتے ہوئے میں یہاں ایک بات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا کہ 20 جون 2021 کو میں نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پہ تھریڈ کی صورت میں “ نشہ ایک لعنت ہے” کے عنوان سے ایک ٹویٹ بھی کی تھی، جس میں میں نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب، اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کی وفاقی منسٹری اور اینٹی ناکوٹکس فورس پاکستان کے آفیشل ہینڈلز کو بھی مینشن کرتے ہوئے اِس برائی کے خلاف کاروائی کرنے اور جو کوئی بھی منشیات کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں اُن کے خلاف سخت سزاوں کے قوانین بھی بنائے جانے کی درخواست کی تھی۔

    اور اس کے ساتھ ساتھ ٹویٹر پہ موجود بڑی ٹرینڈنگ ٹیمز کے ہیڈز کو بھی ہینڈل کے ساتھ مینشن کر کے ٹرینڈ کی صورت میں اس کے خلاف آواز اٹھانے کی درخواست بھی کی تھی تا کہ اربابِ اختیار تک آواز پہنچ سکے، جس کے بعد اِن میں سے کچھ مینشنڈ ٹیمز کی جانب سے 26 جون 2021 کو منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ” #نشہایکلعنت ” کے نام سے ٹرینڈ بھی لانچ کیا گیا تھا، جو تقریباً دو دن تک پینل پہ موجود رہا۔ جس میں، میں نے بھی بھرپور حصہ لیا تھا۔ اُن ٹیمز اور اُس ٹرینڈ میں شامل ہونے والے سبھی عزیزان کا شکریہ

    تو اب معاشرے کے اِس ناسور کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں کہ

    بلاشبہ! نشہ خواہ وہ کسی بھی قسم کا ہو، جس سے انسان مدہوشی یا مستی سی کے عالم میں چلا جائے، وہ بہت سے نقصانات کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیونکہ انسان جب نشے کی حالت میں ہو تب وہ خود پہ اپنا کنٹرول کھو بیٹھتا ہے اور پھر اِس عالمِ مدہوشی کی وجہ سے اِس کا بہت ساری دوسری معاشرتی برائیوں اور گناہوں میں پڑ جانا معمولی سی بات ہو سکتی ہے۔

    اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو تقریباً پاکستان کے ہر شہر میں آپ کو فٹ پاتھوں، چوکوں، چوراہوں، پارکوں اور بہت سی جگہوں پہ ایسے نشئی نشے میں دُھت لوگ گرے، پڑے، بیٹھے اور نشہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے اور اکثر اوقات تو عام شہری بھی اِن کی وجہ سے پریشان ہوتے نظر آتے ہیں لیکن! اِن نشئیوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ نہ تو پولیس ہی انہیں کچھ کہتی ہے، نہ ہی کوئی اور ادارہ۔

    اور ایسے گِرے پڑے ہوئے یہ نشئی دِکھنے میں بھی کے لئے بھی عجب منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ لہذا اس کا سدباب بھی بہت ضروری ہے۔
    اور اِس میں ذرّا برابر بھی کوئی شک نہیں کہ اِس منشیات کو بیچنے کے کاروبار میں بھی بھاری منافع کمایا جاتا ہے۔ جِس میں بلاشبہ بیک ڈور پہ بڑے بڑے سیاسی کردار اور سرکاری محکموں میں موجود بہت ساری کالی بھیڑیں بھی ملوث ہوتی ہیں۔ جو اِس جان لیوا اور حرام دھندے میں صرف پیسوں کی خاطر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ اور یہی نہیں بلکہ اگر کوئی ان کے بارے شکایت کرے تو نہ صرف اُنہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں بلکہ جہاں ضرورت پڑے ہر قسم کی طاقت کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

    جو کہ معذرت کے ساتھ ہمارے معاشرے کی چند تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے اور یہ بدعنوان لوگ نا صرف ہمارے پیارے ملک پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں بلکہ اِس ملک کے عوام کے ساتھ بھی بہت بڑا ظلم اور ذیادتی کرتے ہیں۔

    اور یہ منشیات کا کاروبار اور نشہ ایک ایسی حرام لعنت ہے جس کے حرام ہونے کا ذکر خود اللہ تعالی نے بھی قرآنِ مجید میں کیا ہے جن میں سے چند آیات پیشِ خدمت ہیں کہ

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ: سورة المائدہ آیت نمبر90
    ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔

    يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ: سورة البقرہ آیت نمبر219
    ترجمہ: (اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو۔

    تو اس طرح ہمیں بطور مسلمان بھی اِن قرآنی احکامات کو دیکھتے ہوئے منشیات کے استعمال اور اِن کے کاروبار کو بھی حرام جانتے ہوئے اِس سے جتنا ہو سکے بچنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو سکے اس کے خلاف کھڑے بھی ہونا چاہیے۔

    اب میں اِن منشیات کے استعمال سے ہمارے معاشرے پہ پڑنے والے بُرے اثرات کا ذکر کروں گا وہ یہ کہ

    اگر ہم اپنے معاشرے میں اپنے اِرد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت ساری ایسی مثالیں دیکھنے کو مِلتی ہیں جن میں زیادہ تر افراد جو کسی بھی قسم کے نشے میں مبتلا ہو جائیں، وہ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کیلئے ہی وبالِ جان بنتے ہیں پھر اپنے گلی محلے والوں کے لئے اور پھر اپنے گاؤں، قصبے یا پھر ٹاؤن کے لئے اور پھر ان میں سے کچھ تو شہر کی سطح تک لوگوں کیلئے مصیبت کا باعث بنتے ہیں۔

    جیسے کہ پہلے پہل یہ نشے کے عادی لوگ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے کسی نہ کسی بہانے سے اپنے گھر والوں سے پیسوں کا انتظام کرتے ہیں۔ پھر جب کام ایسے نکلنا بند ہو جائے تو گھر والوں سے پیسوں کے لئے لڑائی کرنا بھی اِن کا معمول بن جاتا ہے۔

    اور پھر انہیں اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے آہستہ آہستہ اپنے ہی گھر سے پیسے چُرانے کی عادت پڑنا شروع ہو جاتی ہے، پھر اپنے گھر سے چیزیں چوری کر کے بیچنا اور اپنا نشہ پورا کرنا اور کبھی گھر والوں سے لڑائیاں، کبھی کسی سے مار پیٹ کرنا، اِن کا معمول بن جاتا ہے۔ اور یہ وقت ہوتا ہے جب ان کے گھر والے ان سے تنگ آ کر انہیں گھر سے نکال دینا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

    لیکن! تب تک اِن نشئیوں کو اس قدر نشے کی لَت لگ چکی ہوتی ہے کہ مر جانا بہتر سمجھتے ہیں مگر! اپنا نشہ کرنا نہیں چھوڑ سکتے اور پھر یہ اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے گلی محلوں میں چوریاں کرنا اور آہستہ آہستہ بڑے بڑے ڈاکے مارنے میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ پھر اِن چوریوں اور ڈکیتیوں کے بعد یہ نشے میں عقل سے عاری لوگ بچوں اور بچیوں کو اغوا، زنا باالجبر جیسے واقعات میں بھی ملوث پائے جانے لگ جاتے ہیں۔

    الغرض! معاشرے میں پائی جانے والی ہر برائی میں ایسے لوگوں کی شمولیت عام ہو جاتی ہے۔

    اور اب آخر میں! میں گورنمنٹ آف پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان اور باقی تمام اربابِ اختیار سے مؤدبانہ گزارش کروں گا کہ اس گمبھیر مسئلے کا لازم کوئی مستقل سدِباب کیا جائے اور منشیات کے عادی لوگوں کا اس نشے سے نجات کے لئے ان کے علاج کا کوئی مستقل انتظام اور ان منشیات کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت سزائیں اور قوانین بنائے جائیں تا کہ ہمارے معاشرے میں برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور ہم بطور پاکستانی ایک عزت دار قوم کے طور پر دنیا میں اپنا اعلی مقام حاصل کر سکیں۔

    واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

  • "طالبان کا پس منظر اور افغانستان” .تحریر:محمد محسن

    "طالبان کا پس منظر اور افغانستان” .تحریر:محمد محسن

    عالمی جنگوں سے پہلے دنیا ملٹی پولر تھی یعنی کہ دنیا میں کوئی اک واحد سپر پاور نہ تھی۔ جیسے ہی دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو یہ ملٹی پولر دنیا بائی پولر بن گئی جس کے نتیجے میں سوویت یونین اور امریکہ دو بڑی طاقتیں نمودار ہوئیں۔ ان دونوں ممالک میں اک دوسرے پر فتح حاصل کرنے کی جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ کو عرف عام میں سرد جنگ کہا جاتا ہے جو کہ تقریباً 1945 میں شروع ہوئی اور 1991 میں آ کر ختم ہوئی۔ اس سرد جنگ کے دوران ان دونوں ممالک کی سیدھی آپسی تو کوئی جنگ نہ ہوئی لیکن انہوں نے اپنے اپنے حامیوں کو اک دوسرے کے مقابلے میں خوب سپورٹ کیا۔ اس سرد جنگ کے دوران دو بڑی جنگیں ہوئیں جن میں سے ایک میں امریکہ جبکہ دوسری میں سوویت یونین کو شکست ہوئی۔ پہلی اہم جنگ تو ویتنام کی جنگ تھی جس میں سامراجیت اور اشتراکیت کی بنیاد پر دونوں نے اپنے اپنے حامیوں کی مدد کی۔ شمالی ویتنام کے چین کے ساتھ رابطے کی وجہ سے یہ خطہ اشتراکیت کی طرف مائل تھا جبکہ جنوبی ویتنام کو امریکہ سپورٹ کر رہا تھا تا کہ ان کو بھی اشتراکی نظریات میں نہ ڈھال لیا جائے۔ خیر ویتنام میں اک لمبی جنگ ہوئی جس میں امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب امریکہ سوویت یونین سے اپنی اس شکست کا بدلہ لینا چاہتا تھا اور موقعہ کی تلاش میں تھا کہ سوویت یونین نے اپنے اشتراکیت کے نظام کو بڑھانے کے لیے افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں جس سے امریکہ کی جان کو لالے پڑ گئے اور اس نے سوویت یونین کے نظریات کو یہاں سے اکھاڑنے کے لیے مختلف مسلمان ممالک کی مدد حاصل کی جن میں پاکستان، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات سرفہرست تھے۔ خیر ان ممالک نے دل کھول کر امریکہ کی مدد کی جس کے بدلے میں پاکستان کی طرف امداد کے منہ کھول دئیے گئے۔ عرب ممالک خود تو لڑ نہیں سکتے تھے لہذا اس سارے منظر نامے کی زمہ داری پاکستان کو دی گئی۔ پاکستان، افغانستان، سعودی عرب وغیرہ سے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کو یہاں فوجی ٹریننگ دی گئی۔ اوپر سے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی جس نے پاکستان میں اسلامائزیشن کی اک ایسی جزباتی تحریک چلائی جس میں مسلمان آسانی سے پھنس گئے۔ اسلام کے لیے پاکستان میں بہت کام ہوئے۔ نت نئے قوانین متعارف کراۓ گۓ اور حدود آرڈیننس وغیرہ بھی تبھی پاس ہوئے۔ پاکستان اور افغانستان کے ملحقہ بارڈر پر دینی مدارس قائم کیے گئے جن کے لیے فنڈنگ دوسرے ممالک سے آتی تھی۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ ان لڑاکا گروہ کو مجاہدین کا نام دیا گیا جن کی گوریلا کارروائیوں کی بدولت سوویت یونین کو یہاں قدم نہ جمانے دئیے گئے۔ وہ سوویت یونین جو 1979 میں افغانستان میں داخل ہوا تھا اسے 1989 میں شکست کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا۔ اس عرصہ کے دوران جب سوویت یونین کی فوجیں یہاں افغانستان میں موجود تھیں ان کی حمایت یافتہ حکومت افغانستان میں قائم رہی۔ اب جب سوویت یونین کی افواج واپس جاچکی تھیں تو اس حکومت کا کوئی حامی نہیں تھا اس لیے لوکل افغان اس حکومت کے درپے ہو گئے۔ اگرچہ سوویت یونین واپس جا کا تھا لیکن پھر بھی اس نے افغانستان میں موجود اپنی حامی حکومت کی مدد جاری رکھی جو کہ غالباً 1989 کے بعد ڈیڑھ دو سال تک ہی قائم رہ سکی اور بعد میں اس کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس حکومت کے خاتمے کے بعد بھی افغانستان کے حالات سازگار نہیں ہو رہے تھے کیونکہ افغانستان مختلف قبائل پر مشتمل اک ملک ہے جنکی آپسی دشمنی کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتی ہے۔ اسی کشمکش میں ان مدارس کے طلباء جو کہ سوویت یونین کی جنگ کے دوران قائم کیے گئے تھے ملاں عمر کی قیادت میں اکٹھے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان کے دور دراز کے دیہاتوں میں قابض ہو گئے۔ 1994 میں طالبان اک منظم روپ میں سامنے آئے اور ٹھیک دو سال بعد 1996 میں افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ طالبان بنیادی طور پر پشتون قبائل کے لوگوں پر مشتمل اک جماعت ہے جس میں دوسرے قبائل کے لوگ بھی شامل ہیں۔

    اس وقت افغانستان میں چار بڑے قبائل ہیں جن میں پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ شامل ہیں۔ وہ طالبان جنہوں نے 1996 میں افغانستان میں حکومت بنائی تھی آہستہ آہستہ انکی حکومت تقریباً 90 فیصد افغانستان پر پھیل گئی سوائے شمال کے علاقے کے۔ طالبان کی اس حکومت کو بین الاقوامی سطح پر کوئی پزیرائی حاصل نہیں ہوئی اور نہ اس کو کسی نے تسلیم کیا سوائے پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے۔ وہی امریکہ جن کی خاطر یہ افغان لوگ لڑے تھے اسی نے افغانستان پر پانبدیاں عائد کر دیں لیکن طالبان بھی اپنی حکومت پر بضد رہے یہاں تک کہ 9/11 کا واقعہ رونما ہو گیا۔ اس واقعہ کی زمہ داری سعودی عرب کے اسامہ بن لادن پر عائد کی گئی جو کہ ان کے مطابق اس وقت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ پہلے طالبان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کو دینے کی حامی بھری لیکن پھر انکار کر دیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان میں وار آن ٹیرر کا اعلان کر دیا۔ لہذا 2001 سے امریکہ نے افغانستان کی زمین پر قدم رکھے جو کہ بیس سال تک بڑھتے چلے گئے۔ اس عرصہ کے دوران امریکہ نے سوویت یونین کی طرح اپنی حمایت یافتہ اک کٹھ پتلی حکومت قائم کیے رکھی جس میں پہلے حامد کرزئی اور اب اشرف غنی نے بطور صدر اپنی زمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اسی سوویت حکومت کی طرح یہ حکومت بھی عوامی پزیرائی حاصل نہ کر سکی اور بڑے بڑے شہروں تک ہی محدود رہی۔ بیس سال ہزاروں فوجی مروانے اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی جب کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا تو 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا اعلان کیا۔ فروری 2020 میں طالبان کو پیس ٹالکس کے لیے راضی کرنے کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے اپنا اپنا کردار ادا کیا اور اک معاہدہ کیا گیا کہ اب یہاں سے امریکہ اپنی افواج کو نکال لے گا تاکہ آپ لوگ افغان حکومت کے ساتھ ملکر اک حکومت بنا لو۔ صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد اس امریکی انخلاء میں اچانک تیزی آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بگرام ایئر بیس کو بھی خالی کر دیا گیا جبکہ باقی تھوڑے امریکی فوجی افغانستان میں واپس بچے ہیں۔ افغانستان میں اک بار پھر وہی خلا پیدا کر دیا گیا ہے جو کہ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد پیدا ہوا تھا۔ تب سوویت یونین کی حمایت کے باوجود افغانستان کی حکومت بمشکل تھوڑا عرصہ نکال پائی تھی لیکن اب کی بار تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ اب تو امریکہ کو بھی افغانستان سے کوئی خاص سروکار نہیں اگر ہوتا تو ایسے اچانک تو یہاں سے نہ نکلتا۔ اب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے اڈے مانگ رہا۔۔ اگر اتنی ہی ضرورت تھی تو پھر افغانستان سے نکل کر گیا ہی کیوں؟۔ اب دوسرے ممالک سے یہ کہہ رہا کہ ہمیں جگہ دو تا کہ ہم ان طالبان پر نظر رکھ سکیں اور عام لوگوں کی حفاظت کر سکیں۔

    اب آجائیں امریکی انخلاء کے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان پر مضمرات کی طرف۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب افغانستان میں سول وار شروع ہوئی تھی تو افغانستان سے لاکھوں مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے۔ تب کے پاکستانی حکمرانوں کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان پر کتنا بڑا بوجھ ڈال کر جارہے ہیں۔ تب امداد کی مد میں خزانوں کے منہ پاکستان کے لیے کھول دئیے گئے تھے جس میں کسی نے ان مجاہدین کے پاکستان میں مستقبل کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا۔ اور وہ مجاہدین جن کو پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے نام پر اپنے اندر سمویا کہ ابھی ان کے ملکی حالات ٹھیک نہیں لہذا یہ کچھ عرصہ یہاں گزار کر جب ملکی حالات ٹھیک ہوں گے واپس چلے جائیں گے لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس وہ مجاہدین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ پاکستان نے انہیں مسلم برادر سمجھ کر عارضی رہائش گاہ دی لیکن وہ یہاں پکے ہو گئے بلکہ پیچھے سے اوروں کو بھی بلاتے رہے۔ اس کے علاؤہ انکی آپسی لڑائی نے پاکستان کی اکانومی کو جو نقصانات پہنچائے اس کی وجہ سے آج پاکستان کی اکانومی کا یہ حال ہے۔ اوپر سے ان کی پر تشدد کارروائیاں پاکستان میں بھی جاری ہو گئیں جن کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ہزاروں ہی معزور اور اپاہج ہوئے۔ اب جب امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے تو پاکستان کو بھی اک ڈپلومیٹک طریقہ اختیار کرنا چاہیے نا کہ ماضی کی طرح جزباتی۔ آپ اندازہ لگا لیں کہ دنیا کا سپر پاور ملک ان جنگی اخراجات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہاں سے نکل رہا ہے تو ہم اک اور جنگ کا خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کی آپس میں نہیں بننی اور آخر کار حالات اسی طرف جاتے نظر آرہے ہیں جو کہ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد بنے تھے کیونکہ نہ تو طالبان نے موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کرنا اور نہ ہی سب قبائل نے طالبان کو۔ ایک بار پھر طالبان دیہی علاقوں میں ایسے ہی اپنے جھنڈے گاڑ رہے ہیں جیسے 1994 کے بعد گاڑے تھے۔ اس سارے پس منظر میں پاکستان کو افغان بارڈر پر باڑ مکمل کرنی چاہیے اور طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ نارمل سیاسی تعلقات استوار کرنے چاہیے نا کہ جزباتی کیونکہ اب پاکستان مزید مہاجرین کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

  • یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج کوئی الگ نسل نہیں ہے بلکہ یہ قوم حضرت نوح ع کی اولاد میں سے ہے۔حضرت نوح ع کے تین بیٹے تھے۔ان میں اک یافث تھا۔یافث کے بارہ بیٹے تھے۔ان بارہ بیٹوں میں سے دو کا نام یاجوج ماجوج تھا۔ انہی دو بیٹوں کے طفیل سے اک وحشی قوم کی نسل چلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں یاجوج ماجوج کا تذکرہ آتا ہے وہاں ذوالقرنین بادشاہ بھی ذکر لازمی آتا ہے کیونکہ یاجوج ماجوج کو پہاڑوں میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے والہ یہی بادشاہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہا جاتا ہے کہ ذوالقرنین بادشاہ ہمیشہ حالت سفر میں ہوتے تھے ۔اک دفعہ یہ بادشاہ ایک سلطنت میں پہنچے جہاں ترک آباد تھے۔یہ سلطنت آرمینا اور آذربائیجان کے قریب واقع ہے۔وہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم آباد تھی جو ترک قوم کا قتل اور بربریت کے پہاڑ توڑتی تھی۔اور اپنی شر پسندی اور فتنہ انگیزی میں بہت مشہور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترک قوم اس وحشی قوم سے محفوظ ہونے کے لیے ۔اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی ساری تکلیف سے ذوالقرنین بادشاہ کو آگاہ کیا۔ بادشاہ نے تب ترک قوم اور اپنے حواریوں سے مل کر ان دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو بند کرنے کا قدم اٹھایا۔ذوالقرنین نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے اس راستے پر رکھ دیے پھر ان کو نظر آتش کر کے ان کے اوپر پگھلا ہوا تانبا ڈالہ پھر اک ناقابل تسخیر دیوار سامنے آئ جو اب تک اپنی طاقت و توانائ سے قائم دائم ہے۔۔

    اس دیوار کی بلندی یاجوج ماجوج کی پہنچ سے بہت دور ہے اور اسے توڑنا اور اس میں سوراخ کرنا بھی اک ناممکن کام ہے۔اب یہ قوم ہماری دنیا سے ہمیشہ کے لیے کٹ گئ ہے۔کسی کو نہیں معلوم کہ اب ان کا طرز زندگی کیا ہے۔لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ وہ دیوار توڑنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔وہ روزانہ دیوار سے سوراخ کرتے ہیں اور جب سوراخ ہونے کو ہوتا ہے ہے تو ان کا سردار انہیں واپسی کا حکم دیتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ باقی کام کل کریں گے۔۔۔۔

    یہ بھی زبان ذد عام ہے کہ جب اس قوم کے خروج کا وقت آئے گا تو ان کی زبان سے لفظ۔۔انشاءاللہ ۔جاری ہو گا جو کہ تا حال اللہ کریم نے ان سے انشاءاللہ کی توفیق چھین رکھی ہے۔جب یہ قوم انشاءاللہ کہ کر دیوار توڑنا شروع کرے گی تو دیوار ٹوٹ جائے گی۔۔

    یاجوج ماجوج قہر بن کر نکلیں گے۔ہر طرف تباہی پھیلا دیں گے۔کسی کی جرآت نہیں ہوگی کے اس قوم کا سامنا کر سکے۔اس قوم کا جو پہلا گروہ نکلے گا اس کے سامنے پانی کی جھیل آئے گی وہ جھیل کا سارا پانی پی جائے گا ۔دوسرا گرو آ کر کہے گا کہ کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔یہ قوم ہر طرف خون ریزی کر دے گی ہر سمت عذاب ہی عذاب ہو گا۔ہر طرف ف کرب وبلا کا منظر ہو گا۔اک وقت آئے گا جب ساری زمین پر یاجوج ماجوج کا قبضہ ہوگا۔پھر یہ قوم یروشلم کے پہاڑ پر پہنچے گی اور کہے گی۔اب ساری زمین پر ہمارا قبضہ ہے۔پھر آسمان کی طرف تیر برسا ئے گی تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں۔گی اس وقت حضرت عیس ع کا نزول بھی ہو چکا ہو گا۔ اور دجال قتل ہو چکا ہو گا۔

    ۔عیسی ع کو خبر دی جائے گی ۔کہ یاجوج ماجوج نکل چکے ہیں۔جس کے مقابلہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔اس طرح عیسی ع اس وحشی قوم کی یلغار میں آئیں گے۔اور ان کو شکست دینے میں ناکام ہونگے۔ہزار میں سے نو سو آدمی اس قوم کے ساتھ جڑتے جائیں گے۔ آخر کار عیسی ع ساتھیوں سمیت کوہ طور پر چلے جائیں اور یاجوج ماجوج سے چھٹکارے اور ان کے شر سے پناہ کی اللہ کریم سے دعا کریں گے۔ عیسی ع کی دعا قبول ہو گی۔

    اللہ کریم یاجوج ماجوج کی گردن پر مخصوص قسم کا کیڑا پیدا کریں۔وہ کیڑا یاجوج ماجوج کی ہلاکت کا سبب بنے گا ۔ہر طرف اس وحشی قوم کی لاشیں ہی لاشیں ہوں گی۔جو بدبو پھیلا رہی ہوں گی ۔پھر خاص قسم کے پرندے آئیں جو ان لاشوں کو وہان لے جائیں گے جہاں حکم خدا وندی ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔ . ۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاجوج ماجوج کا قصہ تمام ہونے کے بعد۔پھر تیز بارش ہو گی۔زمین صاف شفاف ہوگی۔برکتوں کا زمانہ لوٹے گا۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔پھل اس قدر ہوں گے کہ اک انار بہت سے لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔مویشیوں کا دودھ پوری بستی کے لیے کافی ہو گا۔اس کے سات سال تک سکون رہے گا۔پھر وہ دن آن پہنچے گا۔جس کا ہمارے رب نے وعدہ کر رکھا ہے۔پھر توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا

    نوٹ : اگر تحریر میں کوئی غلطی ہوئی تو اس کے لئے پیشگی معزرت

  • مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    مڈل کلاس پاکستانی کی زندگی، تحریر: عنقودہ

    ‏آپ گاڑی کسی مکینک کی ورکشاپ پر کھڑی کرجاتے ہیں لیکن باقی وقت اسی غم میں گذرجاتا ہے کہ پتہ نہیں وہ انجن کی اوورہالنگ کے 40000 میں سے کتنے پیسے لگائے گا اور کتنے اپنی جیب میں ڈالے گا، کمپوننٹ اوریجنل ڈالے گا یا نقلی کوالٹی کے ڈالے گا، سامان پرانا ڈال دے گا، یا ڈالے گا ہی نہیں۔۔
    آپ گاڑی کسی رشتہ دار کے گھر کے ساتھ گلی میں کھڑی کرجاتے ہیں لیکن ساری رات اسی ٹینشن میں گذرجاتی ہے کہ پتہ نہیں کوئ اڑا ہی نہ لے جائے، کوئ ٹائر ہی نہ کھول لے جائے۔۔
    کسی الیکٹرانک شاپ سے کوئ چیز خریدتے وقت اچھی اور بری کوالٹی کا سیاپا ہی رہتا ہے…
    شوز کی کسی شاپ سے بھی اچھے اور برے مال پر تول مول چلتا رہتا ہے…
    کپڑے لیتے وقت دکان دار سے صرف اس غرض سے دوستی بڑھائ جاتی ہے کہ کہیں وہ خراب کوالٹی کا کپڑا اچھی کوالٹی کا بول کے نہ دے دے۔۔ اس سے خوامخواہ میں ڈاک خانہ ملایا جاتا ہے، یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہم پہلے بھی آپکی شاپ سے اتنا کپڑے لے کر گئے ہیں ، اگلی بار اور گاہک بھی لائیں گے لیکن پلیز ہمیں کپڑ ا اچھی کوالٹی کا دینا اور پیسے بھی کم لگانا۔۔۔۔
    رشتہ لیتے وقت بھی یہی ٹینشن رہتی ہے کہ پتہ نہی دوسرا فریق کتنی غلط بیانیاں کررہا ہوگا۔ لڑکی کیسی ہوگا، لڑکا کیسا ہوگا، نشہ تو نہیں کرتا۔۔ کاروبار کیا ہے؟ پہلے سے شادی شدہ تو نہیں؟ وغیرہ وغیرہ

    کہیں پلاٹ لے لیا تو اسکی ہزار دفعہ چھان بین کریں گے۔۔ سب یہی مشورہ دیں گے کہ جلدی سے پلاٹ کی نشانیاں لگا لو, چاردیواری پھیر لو ایسا نہ ہو کہ کوئ قبضہ ہی کرلے.
    مکان کرائے پر دیتے وقت کرائے دار سے بھی یہی مطالبہ ریتا ہے کہ بھائ وقت پر خالی کردینا اور قبضہ نہ کرلینا..
    مکان بنواتے وقت ہر وقت ٹھیکے دار کے سر پر کھڑا رہنا پڑتا ہے ورنہ یہی پریشانی رہتی ہے کہ پتہ نہیں وہ میٹریل کس کوالٹی کا استعمال کرتا ہوگا. شارٹ کٹ تو نہیں لے رہا..
    کوئ قریبی جاننے والا پیسے مانگ لے تو آپ پیسے ہوتے ہوئے بھی اس سے جان چھڑالیتے ہیں کیونکہ آپ کو یہی خدشہ ہوتا ہے کہ یہ میرا پچاس ہزار اگلے پانچ سالوں میں بھی نہیں لوٹائے گا، اسکے پیچھے ذلیل ہونا پڑے گا۔۔ 50 ہزار کے وہ پچاس ٹکڑے کرکے واپس کرے گا، چونیاں اٹھنیاں آپکے کام کے کسی کام نہ آئیں گی ۔۔
    ریڑھی والے کے سر پر بھی کھڑے ہوجاؤ کہ ٹماٹر اچھے ڈالنا لیکن وہ پھر بھی ڈنڈی مارجائے گا..
    قصائ سے گوشت لیتے وقت بار بار زبان ہونٹوں پر پھیری جاتی ہے کہ پتہ نہیں یہ گوشت بکرے کا ہے یا گدھے گا….
    بازار میں جاؤ تو ایک ہاتھ جیب پرہی رہتا ہے کہ کہیں کوئ پاکٹ نہ مارلے۔۔۔

    ٹرین میں سفر کررہے ہیں تو سامان پر نظر رکھنے کے لیے ایک بندے کو جاگ کر رہنا پڑتا ہے. ۔۔
    تھانے، کچہری کا چکر خدا کسی کو نہ لگوائے اور کوئ تھانے کچہری کے چکر میں پڑہی گیا تو بے گناہ ، مظلوم اور مدعی ہونے کے باوجود عزت بھی جاتی ہے، پیسہ بھی جاتا ہے اور وقت بھی۔۔
    آپ جس جس شعبہ زندگی پر نظر ڈالتے جائیں یہی کہانیاں ملیں گی.. میں یہ نہیں کہتی کہ سب لوگ ایک جسے ہیں لیکن یہ تناسب 80 اور 20 کا رہتا ہی ہے
    ایک مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پاکستانی اس چکی میں ہمشہ پستا ہی رہتا ہے
    ہمارا مجموعی معاشرہ بھی اسی منافقت. مفاد پرستی. لالچ ,جھوٹ اور بے حسی پر مشتمل ہے جبکہ ہر دوسرا آدمی ان باتوں کا گلہ بھی کرتا ہے اور خود ہی ا ن خرابیوں میں حصہ دار بھی ہوتا ہے۔“

  • وادی کھلانہ کا منظرنامہ! تحریر: زوہیب زاہد خان

    وادی کھلانہ کا منظرنامہ! تحریر: زوہیب زاہد خان

    آزادکشمیر میں میں الیکشن 2021 کو چند روز باقی رہے گئے ہیں. تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواران الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ آزادکشمیر کے تمام انتخابی حلقے سیاسی گہما گہمی جاری ہے۔

    لیکن ان تمام حلقوں میں اہم ترین حلقہ LA – 32 حلقہ نمبر 6 ہے۔ اسکی اہمیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا آبائی حلقہ ہے۔ یہ حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں ہے اور ضلع جہلم ویلی (ہٹیاں بالا) میں ہے۔

    اس حلقے کی اہم ترین یونین وادی کھلانہ ہے۔ وادی کھلانہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پاکستان کے پہلے نشان حیدر پانے والے فوجی کیپٹن سرور شہید وادی کھلانہ کی بلند پہاڑی ” تلپترا ” کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔ اس اعتبار سے وادی کھلانا آزادکشمیر کی تاریخ میں اہمیت کی حامل ہے۔
    اسکے ساتھ وادی کھلانہ آزادکشمیر کے دو بڑے ڈویژن یعنی کہ پونچھ ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن کا سنگم بھی ہے۔ وادی کھلانہ لائن آف کنٹرول پر واقع پاکستان کی خوبصورت ترین وادی ہے.

    وادی کھلانہ کی مجموعی آبادی تیس ہزار سے زائد ہے۔ یہ حلقہ 6 یعنی LA – 32 کی سب سے بڑی یونین کونسل ہے۔

    وادی کھلانہ میں بظاہر BHU یعنی بیسک ہیلتھ یونٹ موجود ہے لیکن وہاں ناکافی سہولیات ہیں۔ وادی کھلانہ میں ہمہ وقت میڈیکل اسٹاف کی ضرورت ہے۔ اسکے ساتھ آپریشن آلات اور تمام میڈیکل سہولیات کی ضرورت ہے۔ صحت کے ناقص انتظامات کی وجہ سے مریضوں کو شہر لے جانا پڑتا ہے۔ آج تمام امیدواروں کو ووٹ کی ضرورت ہے لیکن ان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ عوام کو بھی صحت کی بنیادی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔

    وادی کھلانہ میں بظاہر گورنمنٹ میڈیکل سائنس کالج موجود ہے لیکن ابھی تک کالج کی عمارت کا سرے سے ہی کوئی وجود نہیں ہے۔ کالج کا عارضی انتظام مڈل اسکول کی انتظامیہ کے تعاون سے مڈل اسکول کی عمارت میں چلایا جارہا ہے۔ بیچارے طلباء تعلیم کیلئے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے آپ کے بچے تو VIP اسکولوں اور اعلی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرلیتے ہیں لیکن وادی کھلانہ کی غریب عوام کے بچے کہاں تعلیم حاصل کریں گے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومتیں گزشتہ دس سالوں سے آزادکشمیر میں برسرِ اقتدار تھیں۔ ان حکومتوں کے جھوٹے دعوئوں کے باوجود آج تک سائنس کالج کی عمارت نہیں بن سکی ہے۔ تعلیم عوام کی بنیادی ضروریات میں ایک اہم ترین ضرورت ہے۔

    وادی کھلانہ میں آمد و رفت کیلئے اگرچہ پختہ سڑک بن چکی ہے لیکن ناقص میٹریل کی وجہ سے روڈ کی حالت بھی دن بدن ناقص ہوتی جارہی ہے۔ یونین کونسل کی مرکزی شاہراہ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ وادی کھلانہ کی عوام کا بنیادی مطالبہ ہے کہ موجودہ سڑک کی توسیع کی جائے تاکہ بسیں اور ٹرک کی رسائی کھلانہ کی عوام تک ہو۔ تاکہ ٹیکسی مالکان کے من مانے کرائے سے عوام کی جان چھوٹے۔

    وادی کھلانہ میں محکمہ زراعت کا دفتر تو موجود ہے لیکن کئی سالوں سے بند ہے۔ کوئی اسٹاف موجود نہیں ہے۔ خالی اور ویران عمارت محکمہ زراعت آزادکشمیر کی توجہ کی منتظر ہے۔

    وادیِ کھلانہ میں محکمہ برقیات کا دفتر موجود ہے۔ محکمہ برقیات کا دفتر قبرستان کے درمیان میں واقع ہے مگر کئی سالوں سے بند اور ویران پڑا ہے۔ محکمہ برقیات آزادکشمیر کی بے حسی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    وادی کھلانہ چونکہ پہاڑی علاقہ ہے۔ برساتی نالوں کی بہتات ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے آج تک کوئی بڑا پل یونین کونسل کو نہیں دیا۔ کچھ دن قبل ایک برساتی نالے میں طغیانی کی وجہ سے تین بچے اور ایک خاتون بہہ گئیں جنکی ڈوبنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ یہ سب موجودہ اور گزشتہ حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔

    جناب عزب ماب وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر صاحب! آپ کا سب سے بڑا ووٹ بنک وادی کھلانہ ہے۔ آپ پانچ سال سے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں۔ آپ نے وادی کھلانہ کو آج تک ایک پل بھی نہیں دیا۔ افسوس کی بات ہے۔

    وادی کھلانہ میں مواصلات کی اشد ضرورت ہے۔ بظاہر ایس سی اور ٹیلی فون لینڈ لائن سروس گزشتہ پندرہ سالوں سے بخوبی کام کررہی ہے۔ لیکن دور حاضر کے تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے صرف ٹیلی فون سروس پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج وادی کھلانہ کی عوام کو موبائل سروس کی ضرورت ہے۔
    وادی کھلانہ کی عوام کا اپنے امیدواروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ یونین کونسل کھلانہ میں SCOM کی موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس فراہم کی جائے۔ حکومت وقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس ہماری اہم ترین ضرورت ہے۔

    وادی کھلانہ کی عوام پاکستان تحریک انصاف کی ممکنہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے ہمیں تمام بنیادی سہولیات کی فراہم کی جائیں اور وادی کھلانہ کے ساتھ کی جانے والی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔ (جزاک الله)

    Zohaib Zahid Khan
    Media Coordinator
    ‎IYW Pakistan for (AJK)