Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

    تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ؟تحریر: محمد اکرم

    وہ شخصیات تایخ کی مظلوم ترین شخصیات ہوتی ہیں جن کے بارے میں کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی اتنی تشہیر کی جائے کہ وہ قبولِ عام کا درجہ حاصل کر لے۔
    اگرچہ مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی عمومی وجہ شہرت یہی ہے کہ وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کا دل و جان سے بھرپور ساتھ دیا مگر انہوں تاریخ برصغیر اور پھر پاکستان میں اپنے عظیم بھائی کے شانہ بشانہ خود بھی ایک بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی بھابھی محترمہ رتی بائی (مریم جناح) کی ناگہانی وفات کی وجہ سے اپنے عظیم بھائی کو پہنچنے والے شدید صدمے کے دوران انہیں سنبھالا دیا جس کے بغیر شاید وہ تاریخ کا دھارا نہ موڑ سکتے۔ دنیا کے نقشے پر وہ اسلامی مملکت منصہ شہود پر نہ ابھرتی جس کا 14 اگست 1947ء سے پہلے وجود بھی نہ تھا۔

    انگریز سامراج، کانگرس اور نیشلسٹ مسلمانوں کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان کے قیام کا معجزہ رونما ہوا۔ بدقسمتی سے قائداعظمؒ جلد ہی جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ شہید ملت خان لیاقت علی خان کو ایک افغان نے لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کر دیا۔

    ایک نوزائیدہ مملکت کے لیے یہ جھٹکے قابل برداشت نہ تھے۔ قوم پے در پے دو عظیم صدمات سے دوچار ہوئی۔ سیاسی استحکام کی جگہ نظام سیاست میں جوڑ توڑ اور محلاتی سازشیں پروان چڑھنے لگیں۔ قصہ مختصر ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا۔ بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ ہوا۔ صدارتی انتخابات ہوئے تو حزب اختلاف میں شامل قیام پاکستان کے بدترین مخالفین خان عبدالغفار خان و دیگر نے کمال ہوشیاری سے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو جنرل ایوب خان کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی الیکشن مہم کے انچارج بنائے گئے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران مادر ملت کی شخصیت پر انتہائی نازیبا ریمارکس دیے جن کا تذکرہ بھی مادر ملتؒ کی توہین ہے۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں غلام دستگیر خان نے مادرملتؒ کے خلاف جو توہین آمیز حرکت کی، اس کا تصور کر کے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دھاندلی کے الزامات لگے، صدارتی انتخابات متنازع قرار پائے مگر جنرل ایوب خان صدر منتخب ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ بےمثال اقتصادی ترقی ہوئی۔ بڑے ڈیم تعمیر ہوئے۔ جشن ترقی بھی منایا گیا مگر مشرقی پاکستان میں سیاسی محرومیوں کا لاوہ سلگتا رہا جس میں مادر ملتؒ کی شکست کے صدمے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پھر حزبِ اختلاف متحرک ہوئی۔ عوام کے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس کے پیش نظر صدر ایوب خان مستعفی ہو گئے۔ زمامِ اقتدار جنرل یحیٰ خان نے سنبھال لی۔ ون یونٹ سسٹم ختم ہوا۔ عام انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے کلین سویپ کیا۔ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی سرخرو ہوئی۔ جمہوری اصولوں کے مطابق اقتدار اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کا حق بنتا تھا جسے تسلیم نہ کیا گیا۔ اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگایا گیا۔ ملک دو لخت ہو گیا۔ قوم خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو گئی۔

    پھر ایک اور سانحہ رونما ہوا۔ کہا گیا کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملت فاطمہ جناحؒ کو غدار قرار دیا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ کسی نے بھی تحقیق کی کوشش نہ کی کہ اس الزام کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ کن اخبارات میں یہ بات رپورٹ ہوئی۔ تاریخ نویسی کے اصولوں پر پوری اترنی والی تاریخی شہادتیں کیا ہیں؟ اس کسوٹی پر کسی نے بھی الزام کو پرکھنے کی کوشش ہی نہ کی۔ بس بات منہ سے نکلی پرائی ہوئی کا قصہ ہوا۔ بات کو غلط العام کا درجہ حاصل ہو گیا۔ فوج سے نفرت کرنے والے عناصر نے اس الزام کو دہرانا ایک فیشن بنا لیا۔

    راقم الحروف نے جب تحقیق شروع کی تو دنگ رہ گیا کہ ناقدین کے پاس اس الزام کا کوئی تاریخی حوالہ اور ثبوت موجود نہیں جس میں جنرل ایوب خان نے مادرملت کو غدار قرار دیا ہو۔ صرف ٹائم میگزین میں یہ بات ملی کہ ایوب خان نے مادرملت کو پرو امریکن اور پرو انڈین قرار دیا مگر اس میں بھی یہ بات نہ ملی کہ ایوب خان نے مادرملت فاطمہ جناحؒ کو غدار (ٹریٹر) قرار دیا ہو۔ میں نے ایک معروف صحافی اور اس الزام کی تکرار کرنے والے دیگر مصنفین کو بار بار چیلنج کیا کہ کوئی تاریخی حوالہ پیش کریں بصورت دیگر قوم کی ماں پر بلاثبوت تہمت مت لگائیں کہ کوئی اولاد اپنی ہی ماں پر کبھی تہمت نہیں لگاتی۔ ایوب خان میں سینکڑوں خامیاں ہوں گی۔ ان سے اظہار نفرت کے لیے ان خامیوں پر تنقید کے ہزاروں زہریلے تیروں کی بارش کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں میدان کھلا ہے مگر جنرل ایوب خان کے بغض میں مادرملت فاطمہ جناحؒ پر تہمت طرازی کسی کو زیب نہیں دیتی۔ یہ تاریخ کے ساتھ بددیانتی ہے۔ یہ امر تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ بات تاریخ نویسی کے اصولوں کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی کہ جنرل ایوب خان نے مادر ملتؒ کو غدار قرار دیا تھا تو اگر اس بات کا دہرانا مادر ملتؒ پر تہمت قرار پائے گا تو یہ جنرل ایوب پر بھی بہتان ہو گا۔ یہ تاریخ پر کیسا ظلم ہے کہ ایوب خان پر بہتان لگا کر مادر ملت پر تہمت لگاؤ۔ ایک ہی تیر سے دو شخصیات کو گھائل کرو۔ کیسا کمال ہنر ہے کہ اس بات کی اتنی تکرار کرو کہ اگر ردعمل میں عوام کسی کے اقوال و افعال کو غداری کے زمرے میں شمار کریں تو وہ فخر سے کہے کہ ایوب خان نے مادر ملت کو بھی غدار قرار دیا تھا، لہذا اگر اسے بھی غدار قرار دیا جا رہا ہے تو یہ اس کے لیے فخر کی بات ہے۔ پس اب زمانے کا چلن یہ ہو گیا ہے کہ اس غیرمصدقہ الزام کی آڑ میں اب جو دل میں آئے کسی ثبوت کے بغیر بولیں۔ کسی تاریخی حوالے کے بغیر لکھیں۔ اگر ناقدین تاریخی حوالہ جات نہ دینے پر غدار کہیں تو خود کو مادرملت فاطمہ جناحؒ کا پیروکار قرار دے دیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس توہین آمیز صورتحال میں مادر ملتؒ اور قائداعظمؒ کی ارواح جس کرب سے انگاروں پر لوٹتی ہوں گی، اس کا تصور بھی محال ہے۔

  • اولاد کی تربیت . تحریر:فروا منیر

    اولاد کی تربیت . تحریر:فروا منیر

    کسی بھی پختہ عمارت کے لئے اس کی بنیاد کا پختہ ہونا ضروری ہے اگر بنیاد پختہ نہیں ہوگی تو عمارت قائم نہیں رہ سکے گی۔
    کسی بھی معاشرے کی نوجوان اس معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں
    معاشرے کی مضبوط بنیاد کے لیے اس معاشرے کے نوجوانوں کی تربیت کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
    ہمارے معاشرے میں جب کسی نوجوان کو دیکھا جاتا ہے تو اس کی حرکات اور اس کے انداز کا بخوبی جائزہ لیا  جاتا ہے اگر اچھے کردار کا مالک ہو تو یقینا اس کی تربیت اور اسکے والدین کی تعریف کی جاتی ہے کہا جاتا ہے کے اسکےوالدین  نے اس کی تربیت اچھے انداز سےکی۔اور اگر کسی  برائی میں ملوث پایا جائے تو اس کا الزام بھی   والدین کی تربیت پر آتا ہے
    ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو تو پرانے زمانے میں جب کوئی بچہ روتا تھا تو اس کے والدین یا  قریبی عزیز اس کو اٹھا کر خاموش کرواتے اور اس بچے کو وقت دیتے تھے مگر آج کل جیسے ہی  بچے کی رونے کی آواز آتی ہے ماں بچے کے ہاتھوں موبائل تھما دیتی ہے ٹیلی ویژن کے سامنے بٹھا دیتی ہے اور خود بے خبری کی وادی میں کھو جاتی ہے
    وہ بچہ جب اس کو والدین کے وقت کی ضرورت تھی ان کی قربت کی ضرورت ہے کہ وہ جب موبائل کو پاتا ہے تو موبائل کو ان سب چیزوں سے بہتر پاتا ہے۔
    اور پھر آج کل کے والدین کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو بس موبائل میں کھو گیا ہے ہر وقت موبائل کے ساتھ لگا رہتا ہے تو سوچا جائے تو اس چیز کی بنیاد کس نے ڈالی تھی۔
    ہونا یہ چاہئے تھا کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ان کو اچھے برے کی تمیز کا فرق سکھاتے کیونکہ بچہ کچی عمر  میں جو سیکھتا ہے وہ اپنی زندگی اس کے مطابق کی گزارتا ہے
    جب ماں سے کہا جاتا ہے کہ بچے کے ہاتھ میں موبائل کیوں دیا تو یہی جواب آتا ہے کہ ہمیں گھر کے اور کام بھی ہوتے ہیں موبائل سے بچہ مصروف ہو جاتاہے تو ماں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے ۔

    بات کرتے ہیں شہزادی حضرت فاطمہ علیہ السلام کی جنہوں نے اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ آج بھی زمانہ رشک کرتا ہے فاطمہ ع چکی  پستیں ،گھر کے  کام بھی کرتیں مگر اپنی اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ    امام حسن ع اور حسین ع دونوں  جنت کے نوجوانوں کے سردار کہلوائے۔
    خدارا بچوں کی تربیت میں کوتاہی نہ کریں۔
    یہ آپ کی تربیت ہی ہے جو آپ کی اولاد کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد کا معاشر ے کے قابل افراد میں شمار ہو تو انکی تربیت اچھے انداز سے کریں ان کی بنیاد کو مضبوط بنائیے۔ایک مضبوط بنیاد پر ہی ایک مضبوط عمارت کھڑی ہو سکتی ہے

  • ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    کسی دور میں پاکستان فلم انڈسٹری بھارت سے مقابلہ کرتی تھی وحید مراد سنتوش کمار محمد علی ندیم جیسے اداکار ناصر پاکستان بلکہ برصغیر میں شہرت رکھتے تھے فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد ناظرین کیلئے تفریح کا ذریعہ صرف ٹیلی ویژن رہ گیا ۔ ناظرین کی بڑی تعداد 8 بجے آنے والے ڈرامے شوق سے دیکھتی اور اکثر ڈرامہ سیریل مقبولیت کے ریکارڈ بھی قائم کرتے الفا براوو چارلی، بندھن، عینک والا جن، گیسٹ ہائوس اور آغوش غرض ھر عمر کے ڈرامے عوام میں پسند کئے جاتے سڑکیں ویران ھوجاتی۔ عمدہ اداکاری بہترین پروڈکشن اور بہت سبق آموز کہانیاں اداکار اتنے ڈوب کر اداکاری کرتے تھے کہ ان کا اصل نام ہی بھول جاتا تھا اور صرف کردار ذہنوں پر نقش ہو جاتے ۔ تاہم 2010ء کے بعد تو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری بدل کر رہ گئی۔

    معیاری کہانیوں کی جگہ ساس بہو کے جھگڑے طلاقوں گھریلو جھگڑوں نے لے لی اگرچہ کئی اچھے ڈرامے بھی پیش کے گئے تاہم زیادہ تر اوسط درجے کے ڈرامہ سیریل چھوٹی سکرین کا حصہ بنے۔ یہ زیادہ تر ڈرامہ سیریل نجی چینلز پر نشر ہوئے اور کچھ سرکاری ٹی وی کا بھی حصہ بنے۔ ماسوائے چند ڈرامے جیسے ڈرامہ ‘داستان‘ جوکہ 1947ء کی ہجرت کے تناظر میں عکسبند کیا گیا اور رضیہ بٹ کے ناول ‘بانو‘ سے ماخوذ تھا اس کے بعد ‘میری ذات ذرۂ بے نشان‘ نے شہرت کے ریکارڈ قائم کیے ‘درِ شہوار‘ بھی ایک بہترین ڈرامہ تھا اور اسکے علاوہ ‘ھم سفر ‘ ‘زندگی گلزار ہے‘ جیسے انگلی پر گنے جانے والے ڈرامے جن میں کوئی سبق ہویا وہ معاشرے کی حقیقت کے قریب ہوں وہ پیش ھوئے اور انھوں نے ریکارڈ مقبولیت حاصل کی۔ ایسے ڈرامے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے کوئی سبق مل سکے۔ ”سرخ چاندی‘‘ تیزاب گردی پر بنایا گیا ڈرامہ تھا جس نے ناظرین کو ہلا کر رکھ دیا۔

    ان چند سالوں میں پڑوسی ملک کے کلچر کو یہاں یوں فروغ دیا گیا جیسے ثواب کا کام ھو مگر افسسس لوطن کی محبت اور قومی ہیروز پر ڈرامے نا ھونے کے برابر بنائے گئے ڈرامہ نا صرف کردار سازی ذہن سازی میں کردار ادا کرتا بلکہ ملک کا کلچر بھی دنیا کو دکھانے کا ذریعہ بنتا یہ بات غور طلب ہے کہ سنہرے دن اور الفا براوو چارلی کے دو دہائیوں بعد عہدِ وفا بنایا گیا یہ بھی امر قابلِ غور ہے کہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر حالیہ سالوں میں کوئی ڈرامہ سیریل نہیں بنا۔ ۔ ہمارے نجی چینلز ساس بہو کے جھگڑوں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ زیادہ تر ڈراموں میں دو شادیوں‘ متعدد افیئرز اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

    دوسری طرف بھارت ہمارے مسلمان ہیروز کے کرداروں کو مسخ کر رہا ‘ ایک فلم پدماوت میں علائو الدین خلجی کے کردار کو یکسر متضاد پیش کیا گیا ہے جبکہ ‘پانی پت‘ فلم میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کیا گیا۔ اس کے ساتھ آن لائن ویب سٹریم پر بھی بھارت کی اجاہ داری ہے‘ ہر دوسرا سیزن پاکستان کے خلاف بن رہا ہے جبکہ پاکستانی ہدایتکار کشمیر، بلوچستان، ایل او سی، سیاچن، سرحدی امور، ملکی حالات، فوجی اور سویلینز شہدا کی قربانیوں سے نظر چرا کر ٹی وی پر معاشقے کروانے میں مصروف ہیں، عورتیں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں، نندیں بھابھیوں کے گھر تباہ کر رہی ہیں اور گھروں میں ایک

    خدارا پاکستانیوں پر رحم کریں‘ تحریک پاکستان، 1965، 1971، کارگل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضربِ عضب، رد الفساد جیسے آپریشنز ان پر ڈرامے بنایئں وہ ہیں ہمارے اصل ہیرو‘ ان پر ڈرامے اور فلمز بنانی چاہئیں۔ اس کے علاوہ غازیوں، پولیس کے ہیروز اور سویلینز کی قربانیوں کو اجاگر کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ آج کی نسل کو پتا ہو کہ ان کے اصل ہیرو کون ہیں ورنہ تیاری پکڑیں کچھ عرصے بعد ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ویسا ہی حال ہو گا‘ جو فلم انڈسٹری کا ہو چکا۔

  • مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

    مملکت خداد پاکستان . تحریر:فیصل خان

    دنیا میں اس وقت دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ جن میں سے کچھ ترقی پذیر اور کچھ ترقی یافتہ ہیں۔ ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے روس سے کم از کم دس گنا چھوٹا ہے، آبادی کے لحاظ سے چائنہ، انڈیا سے چھ گنا چھوٹا لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے۔
    یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے، خوبانی، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سےچوتھے،
    پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے،
    دنیا کی سب سے مہنگا ترین خشک میوہ چلغوزے کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر،
    (چترال اور وزیرستان)
    آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں،
    چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں،
    گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں
    اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔
    یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے۔ اسکی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور برِ اعظم جنوبی امریکہ کی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں نمبر پر ہے۔ کوئلے کے زخائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے زخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ہے۔ سی این جی کے استعمال میں اول نمبر پر ہے۔ اسکے گیس کے زخائر ایشیا میں چھٹے نمبر پر ہیں اور یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔

    لیکن۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔لیکن

    سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ملک کرپٹ، چور اور لٹیرے سیاستدانوں کی پیداوار میں ایک نمبر پر ہے
    وہ اسلئے کہ ملک پچھلے 30 سالوں سے چوروں کے شکنجے میں رہا
    ملک کو تباہ کرکے اپنے کاروباروں کو وسعت دی
    ملک گروی رکھ کر بیرون ملک جائیداد بنائی
    ملک میں روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر اپنے بچوں کو انگلینڈ شفٹ کروائے
    اپنے خاندان والو کو اعلی اعلی منسبوں پر فائز کروائے
    ملک کو غیروں کا مرکز بنایا
    خق و سچ بات کرنے والو کا گلہ دبایا
    اور جس نے ملک کی فلاح چاہا اسے غدار اور ایجنٹ کہا۔

    اور آج اس ملک کا حال یو چھوڑ کر گئے ہے کہ ملک کا حزانہ خالی ہے
    ملک آئی ایم ایف کو گروی دیا ہے
    قرضوں میں جکڑا ہوا ہے
    معیشت ڈوب گئی ہے
    لوگ غربت سے مر رہے ہے
    عدالتوں سے غریب کیلئے قانون اور امیر کیلئے ریلیف مل رہے ہے

    اور یہ ہے
    مملکتِ خداداد” پــــــاکـــــــــــستان ”

  • کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    کرپشن کیس ساوتھ افریقہ کے سابق صدر کو گرفتاری دینا پڑی ، تحریر:عینی سحر

    ساوتھ افریقہ کے 79 سالہ سابق صدر جیکب زوما جنہوں نے ٢٠٠٩ سے ٢٠١٨ تک حکمرانی کی ان پر کرپشن کے الزامات تھے جن پر انہوں اکڑ دکھاتے ہوئے آئینی عدالت میں پیش نہ ہونے کو ترجیح دی اور عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہوۓ جس پر عدالت نے انھیں چار جولائی تک کی مہلت دی کے یا تو گرفتاری دیں یا پھر پولیس سابق صدر کو گرفتار کرے سابق صدر جیکب زوما نے مہلت ختم ہونے سے چند لمحے پہلے خود کو حکام کے حوالے کردیا اور اب قانون کے مطابق وہ پندرہ ماہ کی جیل کی سزا کاٹیں گے

    عدل و انصاف کا نظام اسلامی ریاست کی اساس رہا ہے لیکن دیکھا جاۓ توعدل وانصاف کے اس نظام کا مملکت خدا داد پاکستان میں فقدان ہے ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں لیکن اسکے برعکس ہمارے سزا یافتہ حکمران بلندوبانگ دعووں کیساتھ عیش و آرام سے رہتے ہیں اور آزادی سے بیرون ملک سفر کرتےاور پھر عدالتی بلاوے کو روندڈالتے ہیں_

    ساوتھ افریقہ کے صدر کے حق میں کسی نے نعرہ نہیں لگایا اسکو چھوڑ دو اور ووٹ کو عزت دو . بلکہ وہاں پر عوامی تجسس یہ تھا کہ آیا سابق صدر اور پولیس آئینی عدالت کے حکم کا پاس کریں گے یا نہیں کیوں کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور قانون کے احترام میں معاشرے کی بقا ہے ہمارے سیاستدان عدالتی فیصلوں اور تصدیق شدہ جرائم کے باوجود ضمانتیں لیکر انتخابی تحریکیں چلاتے اور اپنا نظریہ عوام میں پھیلاتے ہیں اور یہ سوال پوچھتے ہیں ‘کیا آپ ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں کا وزیراعظم عدالتوں میں پیش ہو ؟_

    ہمارے ہاں قانون اور عدالتی بالادستی کیساتھ عوامی شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے کے قانون سے کوئی افضل نہیں اگر خلیفہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اپنی زائد چادر کا حساب دینے کے پابند تھے تو آج کےاور سابقہ حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوۓ جوابدہی میں اپنی ہتک نہیں سمجھ سکتے اس لیے کے قانون سب کیلئے برابر ہونا چائیے

  • کشمیری مہاجروں کوذاتی مفاد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا، عثمان علیم

    کشمیری مہاجروں کوذاتی مفاد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا، عثمان علیم

    نارووال میں مہاجرین جموں وکشمیرکی نشست حلقہ ایل اے37 ناروال 4 سے نامزد امیدواربرائے ممبرقانون سازاسمبلی عثمان علیم عرف مسلم بھائی کی انتخابی مہم زورشورسے جاری ہے، حلقہ میں انتخابی گہما گہمی عروج پر ہے، اسی سلسلے میں جموں کشمیر یونائٹیڈ موومنٹ نے گزشتہ روزقلعہ احمد آباد میں پاورشو کا مظاہرہ کیا ہے، جلسہ عام میں مہاجرین جموں کشمیر نے بھرپورشرکت کی ہے، جلسہ گاہ میں پارٹی نغموں پرکارکنوں کا جذبہ دیدنی تھا، جبکہ جلسہ گاہ پہنچنے پرعثمان علیم عرف مسلم بھائی کا پھولوں کی پتیاں نچھاورکرکے استقبال کیا گیا ہے، کارکنوں کی جانب سے تیرا بھائی میرابھائی مسلم بھائی اورسچے کشمیریوں کی پہچان کُرسی کا نشان نعرے لگائے جاتے رہے ہیں.

    جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نامزدامیدواربرائے ممبرقانون سازاسمبلی عثمان علیم کا کہنا تھا کہ مہاجرین نے جمود توڑدیا ہے اب کشمیری مہاجرین کو کوئی ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کرسکتا ہے، کشمیر کے حقیقی پشتیبان بیس کیمپ کی اسمبلی میں پہنچ کرمقدمہ کشمیردنیا کے ہرفورم پرپوری قوت سے لڑیں گے، کشمیرکوآزادی دلوائیں گے، فصلی بیٹروں نے نہ توکشمیرکا مقدمہ لڑا اورنہ ہی ریاست آزاد جموں وکشمیرکی خوشحالی کیلئے اقدامات کئے، ذاتی مفادات کی سیاست کرنے والوں نے پوری ریاست کو محرومیوں میں دھکیل دیا ہے، جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ جدوجہد آزادی کشمیرسے خوشحالی کشمیرتک کے سلوگن پرالیکشن لڑرہی ہے، آپ لوگوں کے ووٹ کی طاقت سے اللہ نے موقع دیا تومہاجرین کشمیر کی خوشحالی اورآزادی کشمیر کیلئے حقیقی معنوں میں جدوجہد کریں گے، نارووال کے مہاجرین کے لیے الگ سے یونیورسٹی اورکالجز کا قیام میرا انتخابی ایجنڈا ہے، عوام پچیس جولائی کو گھروں سے نکلیں اورکرسی کے نشان پرمہرلگا کرفصلی بٹیروں کو مسترد کردیں۔

  • سپیشل بچوں کا سپیشل خیال ،‏تحریر: شاہدہ بانو

    سپیشل بچوں کا سپیشل خیال ،‏تحریر: شاہدہ بانو

    انسان کو اللہ پاک نے بڑی پیاری اور اعلی جسامت سے نوازا ہے
    انسان کا جسم ہڈیوں، گوشت، خون وغیرہ سے مل کر ایک جسم کی شکل میں سامنے ہوتا ہے
    سامنے دیکھنے میں تو انسان تقریبا سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں میں اللہ پاک کی طرف سے کوئی نا کوئی کمی رکھ دی جاتی ہے یا پھر زندگی میں آگے بڑھتے ہوئے انسان کی زندگی میں کوئی ایسا حادثہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس سے انسان اپنے جسم کا ظاہری یا اندرونی حصوں میں سے کوئی ایک کھو دیتا ہے جس سے وہ معذور ہو جاتا ہے
    کچھ بچے پیدائش کے وقت ہی کسی نا کسی جسمانی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں
    ایسے بچے نارمل بچوں سے زیادہ توجہ مانگتے ہیں جب ان کو خصوصی توجہ دی جائے تو وہ بچے احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے اور وہ بھی زندگی کی دوڑ مین شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں سپیشل بچوں کے لیے الگ سے سکولز ہیں وہاں بچوں کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں کوشش کریں وہاں بھی بچوں کو بھیجا جائے اور خصوصی توجہ دلائی جائے اور گھر مین بھی بچوں کو ایسا ماحول دیا جائے جس سے وہ اپنی کمزوری کو سوچنے کے بجائے وہ اپنی زندگی کا سوچیں

    وہ کھڑے نہیں ہو سکتے تو لیٹا کر ہی ان کو ورزش کرائی جائے ان کے ساتھ باتیں کی جائیں ان کو زیادہ سے زیادہ ٹائم دیا جائے
    اگر وہ بول نہیں سکتے تو ان کے اندر پڑھنے لکھنے کی اتنی صلاحیت پیدا کی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں دنیا کو بتا سکیں
    وہ اپنے کام کروا سکیں
    آگے جا کر وہ اپنے لیے خود کما کر کھا سکیں

    بہت جگہوں پےچل دیکھا گیا ہے اسپیشل بچوں کو الگ کر کے رکھ دیا جاتا یے ان کو کوئی توجہ نہیں دی جاتی ان کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا جس سے وہ بچے پہلے تو بیمار ہوتے ہی ہیں بعد میں وہ سوچ سوچ کر احساس کمتری جیسی لعنت کا بھی شکار ہو جاتے ہیں
    آئیں مل کر معاشرے کو اسپیشل بچوں کا اسپیشل خیال رکھنے کی طرف لے کر آئیں
    خود بھی کوشش کریں ہمارے معاشرے میں ہمارے ارد گرد ہمارے خاندان میں کوئی ایسا بچہ ہے تو ہم خود اس کا زیادہ سے زیادہ خیال بھی رکھیں گے

  • پاکستان میں تعلیم ،تحریر ! صاحبزادہ ملک حسنین

    پاکستان میں تعلیم ،تحریر ! صاحبزادہ ملک حسنین

    تعلیم انفرادی و اجتماعی طور پر سب کے لیے نہایت اہم ہے تعلیم معاشرے کو بہترین شہری پڑھے لکھے نوجوان اور معاشرے کو باشعور کرتی ہے تعلیم ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے تعلیم ایک اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے انفرادی طور پر کسی بھی ملک کا تعلیم یافتہ ہونا ملکی استحکام اور ترقی کے لئے بہت ضروری ہے جس سے وہ ملک ترقی کرتا ہمارے دن اسلام نے مسلمانوں پر تعلیم فرض کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی اہمیت اس قدر بیان کی ہے کہ "علم عبادت سے افضل ہے”
    تحریک پاکستان سے قبل برصغیر میں سرسید احمد خان نے تعلیم کے لئے جو اقدامات کیے آج ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں ایک سکول کو کالج اور یونیورسٹی تک لے گئے اگر اس وقت مسلمان ایسی اعلی کاوشیں کر سکتے ہیں تو آج ہم اس آزاد ملک میں کیوں نہیں کر سکتے

    ہماری آزادی کو 73 گزر چکے ہیں مگر آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے کیا اچھا کیا اور کیا برا کیا کبھی ہم پکے مسلمان بننے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی مغربی ممالک کی نقالی کرتے نظر آتے ہیں یہ یہ بات صرف رہن سہن کی حد تک نہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی اس سے نہیں بچ سکا ہرسال بدلتے تعلیمی نصاب نے ہمارے تعلیمی نظام کو مکمل تباہ کر دیا ہے ہم تو آج تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمارے تعلیمی نظام کی زبان اردو ہونی چاہیے یا انگریزی ملک کا حال یہ ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہم لوگ انگریزی کو پسند کرتے ہیں تعلیمی نظام میں بھی انگریزی کو پسند کیا جاتا ہے آخر کون سی احساس کمتری ہے جو ہمیں ہماری قومی زبان اردو سے دور کر رہی ہے دنیا میں جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے وہ اپنی قومی زبان میں کی ہے

    مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب امریکا اور یورپ کا ہی مرہون منت رہا ہے ہمارے مصنفین نے جو بھی اردو میں کتابیں لکھی ہیں ان کو ترقی یافتہ ممالک میں لکھی گئی کتابوں کا ترجمہ کہہ سکتے ہیں جو کتابیں ہمارے مصنفین نے انگریزی میں لکھی ہیں ان کو ترقی یافتہ ممالک میں لکھی گئی کتابوں کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں جب سے نجی اسکولوں اور اور کالجوں کا رواج پڑا ہے تب سے کتابیں بھی انہی مصنفین کی پڑھائی جاتی ہیں جو یورپین یا امریکن سکولوں کالجوں میں پڑھائی جاتی ہیں
    قوموں کی ترقی کا دارومدار کتابیں پڑھ لینے یا ڈگریاں حاصل کرنے میں نہیں ہے کہا جاتا ہے کہ گریجویٹ اسمبلی بن جانے سے ہمارا سیاسی کلچر تبدیل ہو جائے گا اکثر ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ آگے آئیں گے تو یہ ملک ترقی کرے گا مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان ہر محکمے میں پڑھے لکھے افراد موجود ہیں جن کی تعلیمی قابلیت ایم فل یا پی ایچ ڈی ہے مگر پھر بھی ملک ترقی نہیں کر رہا ہے تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں جن کا ذکر ہمیں کتابوں میں ملتا ہے

    مگر "پاکستان میں حقیقت اس چیز کے بالکل برعکس ہے یہاں طلبہ کو تعلیم نہیں ڈگریاں دی جاتی ہیں”
    پاکستان میں ہزاروں گورنمنٹ کالج اور سکول قائم ہیں جن میں نہ جانے کتنے زمین پر اور کتنے کاغذوں پر موجود ہیں لیکن ہزاروں کالجوں اور سکولوں کے باوجود لوگ بنیادی تعلیم سے محروم ہیں تعلیم مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہے لوگوں میں اس کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے "بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کو کاروبار سمجھا جاتا ہے اور لاکھوں نہیں کروڑوں کمائے جاتے ہیں ”
    دنیا کے وہ 26ممالک جو پاکستان سے بھی زیادہ غریب ہیں مگر تعلیم پر پاکستان سے زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بجٹ میں سے صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ ہمیں سکولوں اور کالجوں کی خستہ حالت کی صورت میں نظر آتا ہے جو چند لوگ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ سرکاری اداروں کے بجائے نجی اداروں کو فوقیت دیتے ہیں

    تعلیم کے لیے مختص کیا گیا 2 فیصد بجٹ بھی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے ” پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے بھی زیادہ بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتے ہم اس وجہ سے بھی تعلیم میں دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں کہ ہمارے حکمران تعلیم پر توجہ نہیں دیتے اگر پاکستان میں نظام تعلیم بہتر کرنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں تعلیمی بجٹ بڑھانا ہوگا اور اپنا تعلیمی نصاب درست کرنا ہوگا اور تعلیم کے لیے ان اساتذہ کا انتخاب کرنا ہوگا جو نئی نسل کی ذہنی صلاحیت سے واقف ہوں اور ان کے تعلیمی تقاضوں کو پورا کر سکیں اور اس کا بہترین ذریعہ ہے وہ طلباء ہیں جو حال ہی میں تعلیم حاصل کرکے فارغ ہوئے ہو (یعنی نوجوان اساتذہ )وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز تبدیل ہوئی ہے تو لازما” ایجوکیشن کے طور طریقے اور تقاضے بھی تبدیل ہوئے ہیں انہیں وہ اساتذہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں جو چند سال قبل ہی تعلیم سے فارغ ہوئے ہوں حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لئے تمام عملی اقدامات بروئے کار لائے اور پورے ملک میں ایک ہی نظام تعلیم ہو۔

  • کرنل رظفر کا کشمیرکےنوجوانوں کومقامی سطح پرروزگار دینے کا عزم

    کرنل رظفر کا کشمیرکےنوجوانوں کومقامی سطح پرروزگار دینے کا عزم

    راولاکوٹ میں کرنل رظفرکی انتخابی مہم جاری ہے، کرنل رظفرنے یونین کونسل اندروٹ، کیاٹ کلاں، ہورنہ میرہ، نکہ میرہ اوربھگوئیں کےعلاقوں کا دورہ کیا ہے، سردارعتیق، سردارسلیمان ظفرنے ساتھیوں سمیت حمایت کا اعلان کردیا ہے، کشمیرکا بنیادی مسئلہ خوراک کا ہے.

    جموں کشمیر یونائٹیڈ موومنٹ کے حلقہ 05 پونچھ سے نامزدامیدواربرائے قانون سازاسمبلی کرنل رظفرنے مختلف علاقوں کے دورہ کے موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب ہو کرزراعت اورروزگار کے مواقع فراہم کریں گے، کشمیر کے نوجوان روزگارکیلئے اب بیرون ملک نہیں جائیں گے، نوجوانوں کو ان کے گھر پہ روزگار دیں گے، عوام پچیس جولائی کو مجھے کامیاب کریں، جموں کشمیر یونائٹیڈ موومنٹ کے قیام کا مقصد حقیقی معنوں میں آزاد کشمیرکوبیس کیمپ بنا کرآزادی کشمیرکیلئے جدوجہد کرنا ہے، حلقے میں تعلیم کا معیار انتہائی گرچکا ہے، لوگ گورنمنٹ اسکولوں کی بجائے اپنے بچوں کو مہنگے پرائیوٹ اسکولوں سے تعلیم دلوانے پرمجبورہیں، کامیاب ہوکراسکولوں کے معیارکو بہترکرنا اورنوجوانوں کیلئے مقامی سطح پرروزگارکے مواقع پیدا کرنا میری اولین ترجیح ہے.

    کرنل رظفر نے مزید کہا کہ سابقہ حکومتوں نے آزادی کشمیر کیلئے کوئی کرادارادا نہیں کیا ہے، ریاست آزادجموں کشمیر کی پہلی ذمہ داری آزاد کشمیرکو بیس کیمپ بناکرآزادی کشمیر کیلئے جدوجہد کرنا ہے، مگرممبران قانون سازاسمبلی نے وہ کردا ادا نہیں کیا ہے جو انہیں کرنا چاہئے تھا، آزاد کشمیر کومحرومیوں میں دھکیل دیا گیا ہے، جبکہ جدوجہد آزادی کشمیر کے فریضہ کو بھول گے، عوام ان نظریاتی غداروں پرمزید اعتماد نہیں کریں گے، اب وقت آگیا ہےعوام ان کا احتساب کرے، پچیس جولائی کونظریاتی اورکشمیر کے حقیقی پشتیبان لوگوں کو کامیاب کریں اور پچیس جولائی کو جموں کشمیریونائٹیڈ موومنٹ کے انتخابی نشان کُرسی پرمہرلگائیں۔

  • اڑان .تحریر: ‏حمیرا الیاس

    اڑان .تحریر: ‏حمیرا الیاس

    وہ روز صبح ہی صبح اڑان بھرتی، اور اپنی چونچ میں کچھ نا کچھ بھر کر لاتی ریتی،تب تک جب تک بچوں کی بھوک ختم نا ہو جاتی،اور وہ خاموش نا ہو جاتے
    اور میں روزانہ یہ اڑان دیکھتی
    پھر ایک دن کیا ہوا کہ صبح دم کی چہل پہل میرے روشن دان میں ختم ہو چکی تھی۔ اور وہاں بس خاموشی کا راج تھا۔ چڑیا کے بچے اڑنا سیکھ چکے تھے، اور وہ گھونسلا چھوڑ کر اڑ گئے۔ چڑیا بھی دوبارہ نظر ناآئی، کافی دن انتظار کر کے گھونسلہ ادھر سے ہٹادیا۔ تھوڑے دن گزرے تھے کہ ہماری کام والی واویلا کرتی آن موجود ہوئی، امی کے سامنے بیٹھےروئے جائے، پانی کھانا،چائے پینے کے بعد کچھ ڈھارس بندھی تو پتا چلا کہ بیٹے کی نوکری دوسرے شہر میں ہو گئی، بہت اچھی تنخواہ مل رہی اب ماں کے لئے اس گھر کو چھوڑنا اپنے محلے داروں رشتے داروں سے دور رہنا ممکن نہیں ہو رہا، اور وہ زور دے رہی تھی کہ کوئی اس کے بیٹے کو سمجھائے اپنے شہر سے دور نوکری نا کرے۔
    اور وہ رات اس سوچ میں گزری کہ ماں تو ماں ہے، وہ کیوں اتنا کچھ کرتی، وہ کسی پرندے کی ہو یا انسان کی،خود سے بڑھ کر اپنی اولاد کو دیتی۔ ہر سکھ کے لئے بار بار اڑان بھرتی۔ اندر باہر کے چکر کاٹتی۔

    لیکن کیاوجہ ہے کہ چڑیا اپنے بچوں کو گھونسلے سے اڑان بھرنا سکھاتی!!!
    جبکہ ہمارے معاشرہ کی ماں اسے اڑان سکھانے کے بجائے خود خوفزدہ اور غیر محفوظ ہوجاتی!!!
    کیوں؟؟
    بہت سی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہم پہلے سے ہی یہ سوچ کر بچے پیدا کرتے کہ یہ ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہوںگے۔

    ہجرت ہر پیغمبر کی نسبت سے ہمارے لئے سنت ہے، لیکن ہم ہجرت کے نام سے ہی خوفزدہ ہونے لگتے۔ ہم گھروندے بنا کر انہی میں اپنی وابستگیاں اتنی گہری لگاتے کہ ان کے ٹوٹ جانے سے ڈرنے لگتے۔
    یہی خوف بڑھ کر ہمارے بچوں کے اوپر ہر وقت پروں کی چھایا کئے رکھنے کی ترغیب دیتا، ہم ان کی پرواز سے ڈر جاتے کہ کہیں کچھ گزند نا پہنچے، اور یوں ان کی اونچی اڑان کی راہ میں ہم خود رکاوٹ بن جاتے

    کیا ایسے ہم اس چڑیا سے زیادہ بے بس اور کمزور نا ہوئے؟ جس نے اپنی اولاد کو پرواز کرنا سکھایا، آر آزاد کر دیا کہ کاؤ، اس دنیا میں گھومو، پھرو اور اللہ کی تسبیح بیان کرو۔
    ہمارے معاشرہ میں ہر جگہ پر محدود سوچ کی بنیادی وجہ ہمارا اپنے بچوں کو یہ ترغیب دینے سے کوتاہی ہی ہے۔
    ذمہ داری بحیثیت والدین یا اساتذہ یہی ہے کہ ہم انہیں اڑان بھرنا سکھائیں اور جب وہ آزادانہ رہنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں اپنی زندگی کو جی کر دیکھنے دیں۔

    ہاں ایک انسان اور چڑیا میں اتنا فرق ضرور ہے، کہ والدین اپنی اولاد کی کونسلنگ اور حوصلہ افزائی دونوں کے لئے ان کے پیچھے موجود رہیں تاکہ ان کے پروں کی سمت صرف اونچی پرواز ہی کی طرف اشارہ کرے، بس یہی ایک طریقہ ہو سکتا اسوقت گرتی معاشرتی اقدار کو سہارا دینے اور واپس اوج ثریا کو پانے کا۔

    @humerafs