Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پاکستان میں پراکسی وار.تحریر :امان الرحمٰن

    ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پاکستان میں پراکسی وار.تحریر :امان الرحمٰن

    افغانستان کی دن بہ دن بدلتی صورتحال کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مشترکہ دُشمن پاکستان میں وہی پراکسیز کو تیز کرنے کی کوشش میں ہیں جو آج سے چند سال پہلے مسلط کر کے اور مُنہ کی کھا چُکا ہے اب دوبارہ ایک بار پھر سے افغانستان میں شکست خُوردہ ہو کر کسی مکار لومڑی اور بُزدل دُشمن کی طرح اپنے تمامتر وسائل استعمال کرتے ہُوے پاکستان میں انتشار کی فضاء پیدا کرنےکے لئے ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پراکسی وارمسلط کرنےجا رہا ہے بھارت اور امریکہ کے ساتھ اسرائیل میں یہ تہہ ہُوا ہےکے پاکستان کو چین کے ساتھ دوستی کی سزا ضرور ملنی چاہئےکیوں کے اب پاکستان اپنے اندرونی اور بیرونی فیصلوں میں خُود کو آزاد کر رہا ہے۔

    اور یہ دُشمن کو پسند نہیں آرہا کے پاکستان نے بھارت کو نازی سوچ سے ملا کر دنیا میں ذلیل کر کہ رکھ دیا ہے انٹرنیشنل لیول پر دنیا کو اپنے ساتھ ملایا ہے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کے بھارت سے کشمیر پر 370 اے لگوا کر پاکستان کو بھڑکانے میں ناکام رہے تو بھارت، امریکہ، اسرائیل ڈائریکٹ پاکستان سے لڑائی یا پاکستان پر حملہ کی گُنجائش نہیں رہی ۔
    اب جیسا کے ماضی میں پاکستان کی مسلح افواج نے دنیا کی سب سے خوفناک پراکسی وار لڑی ہے بلکہ اُن میں فتح حاصل کی ہے ، الحمدُللہ ۔
    دُشمن نے پاکستان میں باقی دنیا کی طرح سیدھا حملہ نہیں کیا جیسا کہ افغانستان پر، عراق، لیبیا ، شام یا اور ممالک میں سیدھا آکر اٹیک کیا لیکن پاکستان پر کوئی بھی حملہ نہیں کر سکا کیونکہ ہم نیوکلیئر پاور ہیں بہادر افواج بھی ہے اور لڑنے کی قابلیت بھی ہےاور شائدیہ خطرہ بھی ہو کے کہیں پاکستان ایٹمی حملہ ہی نہ کردے کہ عالمی جنگ شُروع ہو جائے اور پوری دنیا ہی تباہ ہو جائے۔

    اِسی لئے دُشمن کے پاس آسان حل یہی تھا کے ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پراکسی وار لڑی جائے اور ساتھ جھوٹا پروپیگنڈہ جاری رکھا جائے ۔

    پچھلے 20 سالوں میں دیکھا جائے توپاکستان میں دنیا کی سب سے خطرناک پراکسی وار لڑی گئی، میرے پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک ماہ میں 40، 40 بم دھماکے ہوتے تھے پاکستان میں تب سے اب2021 تک 70 ہزار سے زائدپاکستانی شہید ہوے جن میں فوج کے جوان، پولیس، لاانفورسمنٹ ایجنسیز کے اہلکار، اور عام شہری شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جو گُمراہ ہوے دُشمن کی باتوں میں آکر ریاست کے خلاف لڑتے ہوے مارے گئےیہ اُسی پراکسی وار کا حصہ بنے جو اب پھر دوبارہ تیز نظر آرہی ہے جیسا کے بلوچستان میں بی ایل اے، اور پی ٹی ایم، ایم کیو ایم، جسقم جئے سندھ والے، اِن سب کو "را” سی آئی اے، اسرائیل فنڈز دیتے تھے ۔

    اِ س کا ثبوت ساری دنیا کے سامنے کُلبھوشن یادیو ہے، ہیلری کلنٹن کا انٹرویو سامنے ہے کہ ہم نے یہ سب کیا پاکستان میں، اور کچھ عرصہ پہلے بھارتی ریٹائرڈ میجر گوروآریا ٹی وی پر بیٹھ کر خُود بتا رہا تھا کے ہم نے بلوچستان میں کیا کِیا اور کیا کریں گے یہ بات وہ کُھل کراکثر کرتا رہا ہے۔
    اور اب بھی یہ معملہ چل رہا ہے بلکہ اب زور پکڑ رہا ہے کیوں کے سی پیک نزدیک آگیا ہے پاکستان مستحکم ہو رہا ہے تو دُشمن نہیں چاہتا کے پاکستان میں سکون ہو پاکستان ترقی کرے۔جیسا کے پہلے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان کے بارے میں خبریں دیا کرتا تھا اب بھی دے رہا ہے جیسے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کی خبر بھارت میں بیٹھا بی بی سی کا نمائندہ دے رہا تھا کُچھ الگ انداز میں ، اور چند ماہ پہلے ایک بار پھر لال مسجد کی خبریں لگا رہا تھا جیسا پہلے لال مسجد پر خبریں دیا کرتا تھا اب پھر یہ ہمارے دینی حلکوں کو اُبھارنے کیلئے پُرانی خبریں نئے انداز میں چھاپ رہا ہے کیوں ؟

    کبھی فرقہ وارانہ فساد کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی دہشت گردی کی کسی تنظیم سے پاکستان کو جوڑنے کی ناکام کوشش ہوتی ہے یہی تو ہے ففتھ جنریشن وار فیئرجس سے ریاست کی عوام کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی منڈی میں پاکستان کی غلط اندازمنظر کشی کی جائے ، بدنام کیا جائے اور فیٹف جیسے اِدارے کو بنا کر صرف اپنے مقاصد حاصل کرنےکے لئے استعمال کیا جائے ۔
    ہمیں ہوشیار رہنا ہو گا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھٹکنے سے بچانا ہوگا اور اِن شاءاللہ ہم اب اِس پراکسی وار کو اچھے سے سمجھ چُکے ہیں ، ہم ففتھ جنریشن وار فیئر سوشل میڈیا پر لڑنے کے ساتھ ساتھ اب ہم ٹرینڈ بھی ہو گئے ہیں کے یہ ففتھ جنریشن وار کیا بلاہے اور یہ شعور ہمیں ہمارے محسِن لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب نے اچھے سے سکھا دیا تھا جب وہ ایک مشکل وقت میں پاکستان کے لئے پاک فوج کےشعوبہِ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے عہدے پر فائز تھے وہ وقت یقیناً پاکستان کے لئے بہت کٹھن اور مشکل وقت تھا تب لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب نے ہی پاکستان کی بکھرتی ہُوئی غفلت میں ڈُوبتی ہُوئی نوجوان نسل کو اُن کا مقصد یاد کروایا تھا اور اِس نہ نظر آنے والی جنگ کو کاؤنٹر کرتے ہُوےلیڈ کرتے ہُوے رہنمائی کرتے ہوےبھرپور طریقےسے سوشل میڈیا پر ایک مضبوط عصاب کی مالک پاکستانی نوجوانوں کو دُشمن کے مقابل لا کھڑا کیا اور ہم ایک مُٹھی کی طرح متحدہو گئے، اور ہیں اور ہمیشہ متحد رہیں گےاِن شاء اللہ۔ اللہ پاک ہمارا اور ہمارے پیارے پاکستان کا حامی و ناصر ہو آمین
    پاکستان پائندہ آباد

  • ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کو اس سرزمین پر مبعوث فرمایا تاکہ وہ ہم تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچائیں۔ پھر ان انبیاء کو بہت بڑے بڑے امتحانات سے آزمایا۔ جن کو اللہ پاک نے چنا وہ سب اپنے امتحانات میں سرخرو ہوئے اور ہمارے لیے مثالیں چھوڑ گئے۔ ایسا ہی ایک امتحان جو بہت صبر آزما تھا اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک سے اولاد کی تمنا کی اور اللہ تعالی نے تقریبا 100 سال کی عمر میں اسے پورا کیا اور آپکو ایک بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا کیا۔ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے امتحان لیا۔ روز خواب میں قربانی کا حکم ہوتا کہ اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان کرو۔ لاتعداد اونٹ اور بکریاں روز اللہ کی راہ میں قربان کیں لیکن پھر خواب دوبارہ آتا رہا حتی کہ بیٹے کی قربانی کا حکم ملا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت مائی ہاجرہ کو سارا قصہ سنایا اور وہ بھی آخر نبی کی بیوی تھی اللہ پاک کے حکم پر آمین کہہ دیا اور اپنے بیٹے کو اللہ تعالی کی راہ میں قربانی کے لیے تیار کیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لے کر اللہ کی راہ میں قربان کرنے نکل پڑے راستے میں شیطان آیا اور اللہ کے نبی کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن ہر بار منہ کی کھائی اور اللہ کے نبی نے اسے تین مقام پر پتھر مارے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی اس ادا کو ہمارے لیے حج کے واجبات میں شامل کردیا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کر زمین پر لٹایا تو بیٹے نے عرض کی کہ بابا میری اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں فرط محبت میں اللہ تعالی کی حکم عزولی نہ ہوجائے۔ دونوں باپ بیٹے نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹا دیا۔ پوری کائنات حیرت میں چلی گئئ فرشتے، جنات کہ یااللہ یہ کیسا امتحان ہے اور یہ کیسے تیرے بندے ہیں جو تیرے حکم کو بجا لانے کے لیے ہر حال میں تیار ہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بسم اللہ پڑھ کر چھری چلائی لیکن اللہ تعالی کے حکم سے چھری نہیں چلی تو آپ مسلسل چھری چلاتے رہے۔ اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا ابراہیم تب تک چھری چلائے گا جب تک اسکے ہاتھ کو گرم خون نہ لگا۔ جنت سے ایک دنبہ لے جاو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نکال کر دنبہ لٹادو ۔ پھر چھری چلی تو گرم خون ہاتھوں کو لگا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
    جب پٹی کھولی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ اللہ تعالی کا پیغام سنایا اور کہا کہ اللہ تعالی نے آپکی قربانی قبول کر لی اور آپ اپنے امتحان میں سرخرو ہوئے۔ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر تشریف لائے اور اپنی بیوی کو خوشخبری سنائی کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا۔ اللہ تعالی کو اپنے رسول کلیم اللہ کی ادا اتنی پسند آئی کہ قیامت تک جو شخص حج کے لیے جائے گا وہ اس سنت کو ادا کرے گا۔

    ‏@warrior1pak

  • ضلع  تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    ضلع تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    1985 میں اٹک اور جہلم کے کحچھ حصوں کو ملاکر بننے والا ضلع چکوال ( تقریبا” 6524 کلومیٹر ) رقبے پر محیط ہے۔ اسکی پانچ تحصیلیں ہیں جن میں چکوال، کلرکہار، چواسیدن شاہ، تلہ گنک اور لاوہ شامل ہیں جبکہ اسکی کل آبادی لگ بھگ 15 لاکھ افراد کے قریب ہے۔ چکوال کو اپ گریڈ کرتے وقت ، تحصیل تلہ گنگ کو ضلع اٹک سے منسلک کیا گیا تھا اور اس وقت اسے ضلع چکوال کا دوسرا سب ڈویژن بنایا گیا تھا۔ پانچ تحصیلوں میں تلہ گنگ سب سے بڑی اور گنجان آبادی پر محیط تحصیل ہے۔ اس میں تقریبا” 17 یونین کونسلز، 80 کے قریب چھوٹے بڑے دیہات / گاوں، 320 کے قریب مختلف تعلیمی ادارے (سکولز ، کالجز) اور 3 پولیس اسٹیشن شامل ہیں ۔
    اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو تحصیل تلہ گنگ لگ بھگ 85 سال تک (1901-1985) تک انتظامی طور پر ضلع اٹک کے زیر اثر رہا ہے اور 1985 میں جب چکوال کو ضلع بنایا گیا تو اس علاقے کو اسکے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ اسی سال یعنی 1985 میں پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات کروائے گئے، تو ان کے ذریعہ ذات، برادری، دولت و حیثیت اور روایتی سیاسیی خاندانوں کو استحکام بخشا گیا۔ اس استحکام کی بدولت خاندانی سیاستدان ہر مرتبہ منتخب ہوکر اسمبلیوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ 1985 سےلیکر تاحال یہاں کی سیاست نظریات کی بجائے مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتی آرہی ہے۔ یہ چند مخصوص لوگ مخصوص سیاسیی جماعتوں کے ٹکٹس پر الیکشن لڑتے ہیں اور اگر پارٹی انکو ٹکٹ نہ دے تو یہ فورا” ہی کسی بھی دوسریسیاسیی جماعت کے ساتھ الحاق کرلیتے ہیں۔ بلفرض متبادل پارٹی بھی ٹکٹ سے محروم رکھے تو یہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

    اسی موورثی سیاسیی پالیسی کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں اپنی سیاسیی اجارداری اور وڈیرہ شاہی قائم کررکھی ہے۔ اپنے لیے حمایتی، مالی سپورٹرز اور موورثی طور پر سیاسیی اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو پال رکھا ہے، جو الیکشنز میں انکے دست راست بنکر انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کرتے ہیں۔ 1985 سے لیکر تاحال تلہ گنگ کی علاقائی سیاست میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ لگ بھگ 36 سال سے یہاں کے وڈیرے اور موورثی سیاستدانوں کی سیاست ایک ہی ڈگر پر چلی آرہی ہے ۔سال 1988 سے لیکر 2018 تک کے الیکشنز تک تمام سیاسیی جماعتوں نے "ضلع تلہ گنگ” کے نعرے کو انتخابی مہمات کے دوران "قومی نعرے” کے طور پر استعمال کرکے عوام کے جائز حق پر ڈاکہ ڈالتے آرہے ہیں۔
    سال 2014 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ڈاریکٹو آرڈر کا ایک عدد ردی کاغذ بنام ضلع تلہ گنگ ایشو کیا تھا اور ہمیشہ کیطرح میاں جی نے بھی یہ چورن بیچ کر عوام کی داد موصول کرلی تھی۔ ابھی چند روز پہلے موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے چئیر مین اور وزیراعظم عمران خان کیطرف سے بھی متعلقہ انتظامیہ کو تحصیل تلہ گنگ کی اپ گریڈیشن کےلیے ایک عدد سرکاری ڈاریکٹو آرڈرز جاری ہوچکا ہے، لیکن تاحال تلہ گنک کی سیاسیی بے یارو مددگار عوام کو اس حوالے سے کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری جانب این اے 65 کی تمام سیاسیی جماعتیں ڈاریکٹو آڈرز کےلیے کریڈیٹ کریڈیٹ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تمام سیاسیی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام ترشی کرتی نظر آرہی ہیں، کوئی پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں لگا ہے تو کوئی عوام کی داد موصول کرکے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ اس تحریک نے اور سیاسیی پوائنٹ کورنگ کی رفتار نے اس وقت مزید زور پکڑ لیا جب حکمران جماعت کی اتحادی ق لیگ کے صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے "ضلع تلہ گنگ” کے حوالے نے بیان دیا کہ ” ضلع تلہ گنگ قابل عمل منصوبہ نہیں ہے” ۔ اس مایوس کن بیان کے آتے ہی سوشل میڈیا پر سوشل ورکرز اور سیاسیی جماعتوں کیطرف سے مسلم لیگ ق پر تنقید کے تیروں کی بارش شروع ہوگئی، تحریک انصاف، نون لیگ اور باقی سیاسیی جماعتوں نے حافظ عمار یاسر کے اس مایوس کن بیان کی شدید الفاظ میں مزاحمت کی اور انکا کہنا تھا کہ اگر "ضلع تلہ گنگ” قابل عمل منصوبہ نہیں ہے تو اپنی الیکشن مہمات کے دوران یہ چورن کیوں بیچا گیا ہے ؟ عوام سے کیوں جھوٹ بولا گیا؟ عوام کی آنکھوں میں کیوں دھول جھونکی گئی؟ عوام کو کیوں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر ان سے ووٹ حاصل کیے گئے ؟ آخر کب تک تلہ گنگ کی عوام کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں گی ؟ کب تک عوام اپنے مسائل کی پوٹلیاں اٹھا کر چکوال جاتی رہے گی ؟ کب تک عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کےلیے گھنٹوں لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا ؟ کب تک عوام کو بنیادی ضروریات کے ضروری کاغذات بنوانے کےلیے گھنٹوں روڈ پر ٹرانسپورٹ کےلیے زلیل و رسو ا ہونا پڑے گا؟

    اس وقت سوشل میڈیا پر "تلہ گنگ کو ضلع بناو” تحریک زور و شور سے جاری ہے۔ ابھی تک سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان، سوشل ورکرز، سیاسیی و سماجی کارکن، صحافی برادری، اساتذہ کرام، ڈاکٹرز الغرض تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں اور نہ صرف ضلعی سطح پر اس تحریک کو چلایا جارہا ہے بلکہ بیرون ملک سے بھی کثیر تعداد میں نوجوانوں نے اس تحریک کو جوائن کرلیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم نوجوانوں کیطرف سے "ضلع تلہ گنگ” کےلیے اسپیشل دعائیں بھی کی گئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر موجود تمام افراد کا کہنا ہے کہ اب یہ تحریک "ضلع تلہ گنگ ” کے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ایسے ہی چلے گی اور کسی قسم کی سیاسیی یا حکومتی ہیرا پھیری میں نہیں آیا جائے گا۔ تمام افراد کا ایک ہی نعرہ، "بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا” بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا”۔ تحریک کے شرکاء کا کہنا ہے کہ اس بار ہمیں سیاسیی پارٹی بازیوں سے بالا تر ہوکر "ضلع تلہ گنگ” کےلیے کوشش کرنی ہے ، تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر، صرف مشترکہ مفاد کو اپنانا ہے، نون، ش، ق، پی ٹی آئی سب کو بھول کر عوامی مفاد کو سامنے رکھنا ہے۔
    ہماری وزیراعظم پاکستان عمران خان ، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر سے گزارش ہے کہ خداراہ اب تلہ گنگیوں کے حال پر رحم کریں اور نصف صدی سے چلی آرہی تحصیل کو "ضلع تلہ گنگ” بنایا جایا تاکہ عوام کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوسکے۔

  • نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی وجہ اسلامی قوانین کا نفاذ تھا کہ ایسی ریاست جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ آسانی سے ممکن ہو

    کسی بھی ریاست کے قیام کے بنیادی ستونوں میں سے نظام عدل ایک اہم ستون ہے ہے کسی بھی معاشرے میں امن وامان کے قیام کی بڑی وجہ اس معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم ہونا ہے مگر افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک نہیں دو قوانین کی بالادستی ہے امیر کے لیے الگ قانون ہے اور غریب کے لیے الگ ۔

    یہاں اگر کوئی غریب چوری جیسے جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو پہلے تو اس کو لوگوں کے ہاتھوں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے اور پھر تھا نے کی ہوا الگ سے کھانا پڑتی ہے۔
    مگر ٹھہریے اگر آپ کا کوئی سیاستدان اس ملک کے خزانے لوٹتا نظر آئے گا یا کوئی با اثر شخص اس جرم کا مرتکب ہوتا نظر آئے گا تو اس کے ساتھ ہرگز برا سلوک نہ ہو گا بلکہ اس کے گلے میں ہار ہوں گے اور اس کے نعرے گونجتے نظر آئیں گے۔

    ایسا کیوں ہے کیونکہ ہمارا نظام عدل اس قدر خستہ حال ہو چکا ہے کہ وہ قانون جو کہ عدل ی بالادستی کے لئے تھا وہ امیروں کے گھروں کی باندی بن چکا ہے
    غریب کا بیٹا ہوائی فائرنگ جیسا جرم کرے گا تو جیل جائے گا مگر ایم این اے کا بیٹا یہی کام کرے گا تو قانون اندھا بن جائے گا۔

    قانون تو واقعی مکڑی کے جالے کی طرح ہے جس میں پھنسنا غریب کو ہوتا ہے اور امیر کی مثال اس مکری کی ہے جو خود اس قانون کے جالے کو بنتا ہے۔

    یہاں انصاف بکتا ہے ،یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    یہ کیسا قانون ہے کہ کرپٹ کے تحفظ کے لیے چھٹی والے دن بھی عدالت لگ جاتی ہے اور غریب انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔

    اگر کوئی بھی کسی بھی اس معاشر ے میں امن چاہتا ہے خوشخالی چاہتا ہے تو اس معاشرے میں نظام عدل کی بالادستی اور سب کے لیے فوری اور سستا انصاف ضروری ہے۔

    جب نظام عدل خستہ حال ہوتا ہے تو وہ معاشرہ بھی خستہ حال ہو جاتا ہے

  • آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت

    آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت

    آزاد کشمیر عام انتخابات کی سیاسی ہلچل اپنے عروج پر!تحریر: معین وجاہت
    جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں 25 جولائی 2021 کو آزاد کشمیر میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کو زور لگا رہے۔

    آزادکشمیر الیکشن کو کامیاب بنانے کیلئے وفاقی وزراء بھی PTI کے حق میں بھرپور مہم چلارہے ہیں جبکہ دوسری طرف مریم نواز بھی اس وقت آزاد کشمیر میں ہیں اور بلاول بٹھو زرداری بھی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔

    ایک طرف جہاں تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہیں وہیں دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے آزادکشمیر میں گزشتہ پندرہ سالوں سے مسلم کانفرنس، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں برسرِ اقتدار تھیں۔ آزادکشمیر کی عوام ان پرانے سیاستدانوں سے نالاں ہوچکی ہے۔ یہ سیاستدان ہر بار پارٹیاں اور انتخابی نشانات بدل کر عوام کے درمیان آجاتے ہیں۔

    یہ سیاستدان ہماری بھولی بھالی کشمیری عوام کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے جھوٹے وعدوں کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور ہماری سادہ لوح عوام ان سیاستدانوں کے وعدوں اور دعووں پر اعتبار کرلیتی ہے پھر بعد میں پانچ سال پچھتاتی رہتی ہے۔

    آج حالات بدل چکے ہیں۔ عوام کافی حد تک سمجھدار ہوچکی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگ اپنے سیاسی حقوق کو پہچانیں اور انفرادی مفاد کے بجائے علاقائی سطح پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔

    آزادکشمیر کے علاقے ابھی تک پسماندہ ہیں۔ اسکول، ہسپتال اور سڑکیں تک موجود نہیں ہیں۔ کشمیری عوام سمجھ لے آپ کے منتخب سیاستدان ہر بار ووٹ لینے کے چکر میں آپ کو تعمیر و ترقی کے لالی پاپ دے جاتے ہیں۔

    آج الحمدالله ہماری نوجوان نسل باشعور ہوچکی ہے۔ نوجوان سمجھ چکے ہیں ان موسمی سیاستدانوں کا نہ کوئی مستقل نظریہ ہوتا ہے اور نہ کوئی وژن! ان سیاستدانوں کا نظریہ اقتدار کی سیاست اور انکا وژن کرپشن ہے۔ لہذا اس بار ووٹ صرف اسی امیدوار کو دیں جو عملی طور پر آپکے حلقے کے بنیادی مسائل حل کرنے میں مخلص ہو. اس امیدوار کو ووٹ دیں جسکو عوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہو اور وہ امیدوار اچھے اور برے حالات میں عوام کے درمیان ہو۔

    آزادکشمیر کی عوام کو تعلیم کیلئے اسکول اور کالجوں کی ضرورت ہے۔ صحت کیلئے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی ضرورت ہے۔ ہسپتالوں بہترین طبی عملے اور ادویات کی ضرورت ہے۔ آمد ورفت کیلئے پختہ سٹرکوں اور شاہرات کی ضرورت ہے۔

    آزادکشمیر کی عوام کو تیز ترین 3G اور 4G سروس کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں 7 سال سے تھری جی اور فور جی سروس چل رہی ہے لیکن بدقسمتی آزادکشمیر میں ابھی تک ناکارہ 2G سروس چل رہی ہے۔

    آزادکشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کی ضرورت ہے۔ میرٹ پر جب نوجوانوں کو روزگار ملے گا تو آزادکشمیر ترقی کرے گا۔

    امید ہے اور دعا ہے جو سیاسی جماعت بھی آزادکشمیر برسراقتدار آئے وہ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مخلص ہو۔ میری دلی دعا ہے الله پاک مجھ سمیت ہر مسلمان کو ایمانی عافیت عطا فرمائے۔ اللہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ اللہ پاک وطن عزیز پاکستان اور آزادکشمیر پر اپنا خصوصی کرم نازل فرمائے ۔

    پاکستان زندہ باد
    آزادکشمیر تابندہ باد

  • ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے کہ
    ایک بادشاہ نے دو نایاب عقاب منگوائے.
    دیکھا کہ ان میں سے ایک عقاب شکار کرتا اور اڑتا تھا لیکن دوسرا ایک ٹہنی پر بیٹھا رہتا.
    بیسیوں حربے آزمائے لیکن وہ اُڑ کے نہ دیا,
    بادشاہ نے ایک ماہر شکاری کو بلوایا, اگلے دن سب نے دیکھا کہ وہی عقاب اڑانیں بھرتا پھررہا ہے.
    بادشاہ نے شکاری سے وجہ پوچھی تو شکاری نے جواب دیا کہ عقاب جس ٹہنی پر بیٹھتا تھا ,میں نے وہ ٹہنی کاٹ دی
    اسی طرح سرکس کے ہاتھی کو نازک سی رسی سے بندھا ہوا دیکھا ہوگا آپ نے,اس ہاتھی کو بچپن میں طاقتور رسی سے باندھا جاتا رہا جو وہ توڑ نہیں سکتا تھا, جس سے اسکے ذہن میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ رسی نہیں ٹوٹے گی.

    دراصل یہ عقاب اور ہاتھی دونوں کا کمفرٹ زون تھا
    لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے کہ
    میں نہیں کرسکتا, مجھ سے نہیں ہوگا
    تو آسان سے آسان کام بھی پہاڑ بن جاتا ہے .
    ہم نے جگہ جگہ اپنی سوچ اپنے عمل, پر بیریئر لگا رکھے ہیں , اجتہاد سے دور بھاگتے ہیں.
    ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی نازک سی ٹہنی پر بیٹھا ہے
    ہار جانے کا خوف,ناکامی کا ڈر ہمیں چیلنج قبول کرنے نہیں دیتا
    چیلنج نہ لینے سے ہم اپنی سوچ پر ناکا لگادیتے ہیں ,
    ہمارے اندر آگے بڑھنے کی لگن ختم ہوجاتی ہے,
    ہم ایک چھوٹے سے محدود سرکل میں آرام دہ رہنے کے عادی ہوجاتے ہیں,
    سہل پسند ہوجاتے ہیں.
    یہی وہ نقطۂِ عروج ہوتا ہے جہاں سے زوال شروع ہوتا ہے.
    "تغیّر کو ہے ثبات زمانے میں”
    ایک تبدیلی ہی اس دنیا میں مستقل ہے,
    جامد و ساکت, متحرک و متغیّر کے رستے کی دُھول بن کر رہ جاتے ہیں .

    چیلنج لینا سیکھیں,
    ذہن منصوبہ بندی کا عادی ہوجائے گا,
    ذہن متحرک ہوا تو جسم اس سے ہم آہنگ ہونے کی تگ و دو کرے گا.
    پھر روح میں جوش,ہمت ولولہ اور قیادت کی صفات جنم لیتی ہیں.
    انسانی تاریخ کھنگال لیں,
    آپ کو ہر کامیابی کے پیچھے کوئی سر پِھرا, کوئی انوکھا, کوئی بہادر مُہم جُو نظر آئے گا
    ہر بڑی ایجاد کے پیچھے کوئی جدت پسند اور رسک لینے والی سوچ نظر آئے گی .
    تاریخ بڑی بے رحم ہے, اس میں کم ہمتی, ذہنی غلامی اور سخت و جامد رویوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے.
    ذرا کمفرٹ زون کی ٹہنی سے اُڑ کر تو دیکھیں, کتنے اُفق آپکی پرواز سے تسخیر ہونے کے منتظر ہیں ؟
    ذرا پاؤں کی زنجیر توڑیں تو سہی, کتنی دنیائیں, کتنے رستے آپکا نقشِ پا بننے کے لئے تیار ہیں ؟

    کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
    ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

  • ریاست مدینہ کی طرف سفر  تحریر:محمد نعیم شہزاد

    ریاست مدینہ کی طرف سفر تحریر:محمد نعیم شہزاد

    پیوستہ رہ شجر سے
    ریاست مدینہ کی طرف سفر

    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    وطن عزیز پاکستان آزادی کا 74 واں سورج دیکھنے جا رہا ہے۔ ایشیاء صغیر کی سر زمین پر تاج برطانیہ کے آمرانہ تسلط کے بعد مسلمانوں پر ہندو اکثریت کے جابرانہ اقتدار کے بادل منڈلا رہے تھے کہ مسلم قیادت نے ایک الگ اسلامی مملکت کا مطالبہ کر دیا۔ حیرت ہوتی ہے ان خود ساختہ دانشوروں پر جو دو قومی نظریہ، نظریہ پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں۔ اگر ہندو، مسلم ایک قوم بن سکتے تو اس تقسیم کی قطعاً ضرورت نہ پیش آتی مگر تقسیم کا فارمولا طے ہونا اور اس پر عملدرآمد اس بات کا عکاس ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت دیوانے کے خواب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ تقسیم ہند کے بعد میں پیش آنے والے حالات و واقعات تقسیم کے اس عمل کے درست ہونے پر شاہد ہیں۔ ان 74 برسوں میں ریاست پاکستان نے بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے کلمہ لا الہ الا اللہ کے نام پر بننے والی یہ ریاست حاسدوں کے حسد اور شریروں کے شر کے باوجود قائم دائم ہے اور تاقیامت سلامت رہے گی۔ ان شاء اللہ

    سر دست میں آپ کو مدینہ ثانی کہلانے والی اس ریاست، پاکستان جسے اسلام کا قلعہ بھی قرار دیا جاتا ہے کے نظام حکومت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی بات کرنا چاہوں گا۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو آ نہیں رہی بلکہ آ گئی ہے۔ اور یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جو کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
    تاریخ شاہد ہے کہ ریاست مدینہ میں جب ایک چوری کے مقدمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجرم خاتون کی سفارش کی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقوام کی تباہی کا سبب ذکر فرما دیا۔

    "کمزور کو سزا دینا اور طاقتور کو چھوڑ دینا”۔

    یہ ہر دور کا المیہ رہا ہے کہ طاقتور اور مالدار طبقہ اپنی طاقت کے زور پر تمام طرح کے مواخذات سے بری الذمہ ٹھہرتا ہے اور سارا زور کمزور اور غریب عوام پر ہی نکلتا ہے۔ امیر شخص واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود بچ جاتا ہے اور غریب محض شک کی بنیاد پر دھر لیا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد محکمانہ غفلتیں ہیں جن کی وجہ سے عوام انصاف سے یا تو محروم ہیں یا منتظر اور یہ انتظار ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ ایسے وقت میں پاکستان سیٹزن پورٹل کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ آپ کسی بھی محکمے کی طرف سے لیت و لعل کا شکار ہیں یا آپ کی شنوائی نہیں ہو رہی تو اپنی شکایت کے لیے اس پورٹل کی طرف رجوع کریں۔ شکایت درج کرنے کے 40 یوم سے پہلے پہلے آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اگر شکایت پوری طرح رفع نہ یہہو تو اس کا اظہار تبصرہ کے کالم میں کریں یا دوبارہ شکایت درج کر دیں اور پہلے والی شکایت کا حوالہ بھی دے دیں ۔

    گزشتہ 9 ماہ کے عرصے میں میں سیٹیزن پورٹل سے تین بار مستفید ہوا ہوں اور وہ ثمرات پائے ہیں جو اس کے بغیر ناممکن تھے۔ جب ہمارا کوئی جائز کام رکا ہوا ہو اور اس کے پورے ہونے کی کوئی امید نظر نہ آتی ہو تو سیٹیزن پورٹل ہی ہماری آخری امید بن جاتا ہے اور آپ کو انصاف آپ کی دہلیز پر ہی مل جاتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جنہوں نے اس نظام کا اجراء کیا۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جو قوموں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ میں اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان کو مبارک باد دینا چاہوں گا اور امید رکھوں گا کہ انصاف کی فراہمی کا یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا اور ہمارے پاک وطن کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر ایک فلاحی ریاست بنا دے گا۔

    محمد نعیم شہزاد ایک فری لانس بلاگر اور کانٹینٹ رائٹر ہیں۔ ان کے موضوعات میں تعلیم، عمرانیات اور سیاسیات شامل ہیں۔ لکھاری کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان کا پرسنل اکاؤنٹ وزٹ کریں۔

  • افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    ۔ افغانستان جو پاکستان کاپڑوسی ملک ہے زیادہ تر اس کا وقت جنگ لڑتے ہوئے ہی گزرا ہے اس سے پہلے کافی طاقتیں آئیں پھر روس آیا اس وقت امریکہ ایک بین الاقوامی طاقت بن رہا تھا اسے روس کی اجارہ داری پسند نہ تھی اس نے افغانستان پرحملہ کیا اور روس سویت یونین کو وہاں قابض نہ ہونے دیا بلا آخر روس ١٩٨٩، ١٩٩٠ میں سوویت یونین جسے یو ایس ایس آر کہا جاتا تھا ٹُوٹا اور اس کے ٹُکڑے ہوئے اور روس اپنی طاقت کھو بیٹھا پھر امریکہ دوبارہ کچھ سال کے بعد حملہ آور ہؤا اور نام نہاد دہشت گردی کا واقعے ١١/٠٩/٢٠٠١کی بنا پر افغانستان پر حملہ کیا جس میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں اب ٢٠ سال بعد ٢٠٢١ میں حالات بدلے اور امریکہ کو بھی یہ احساس ہؤا کہ اب وہ مزید جنگ جاری نہیں رکھ سکتا اس نے فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر ٢٠٢١ تک افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہوجائےگا لیکن اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے اور پڑ رہے ہیں مگر وزیراعظم سول اور ملٹری لیڈر شپ کی بہترین حکمت عملی کام دکھا رہی ہے
    اب آتے ہیں پاکستان کی اہمیت کی طرف ماضی میں جو بھی حکومت رہی اس نے صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھا نا کہ پاکستان کا زیادہ ماضی میں جائے بغیر اب روشنی ڈالتے ہیں حالیہ سیچوایشن پر اس وقت پاکستان میں ایک مضبوط لیڈر شپ وزیراعظم عمران خان کی شکل میں موجود ہے پچھلے کچھ دنوں امریکہ نے پاکستان پر ماضی کی طرح مرضی کی شرائط لاگو کرنا چاہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے ہر وہ شرط رد کر دی جو پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی یہاں تک کہ امریکی عہدے داران جو وزیر اعظم کے عہدے سے نچلے عہدے کا آفیشل تھا سے بات کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ اگر امریکہ کو مجھ سے بات کرنی ہےتو وہاں کا صدر بات کرے میں وزیر اعظم ہوں پروٹو کول کا خیال رکھا جائےپچھلے دنوں امریکی سیکرٹری بلنکن کا پاکستانی وزیر خارجہ کو فون آیا جس میں دو طرفہ امور اور افغان امن عمل پر بات چیت ہوئی امریکی ٹیلی فون کالز اور ملاقاتیں زیادہ اگر نہیں بھی ہوئیں لیکن امریکہ کو یہ علم ہو چکا ہےکہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کسی بھی حالت میں ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جو ریاست پاکستان کے خلاف ہوگا ورنہ اس سے پہلے جب گیارہ ستمبر کو دہشت گردی کا واقعہ ہؤا تو امریکہ نے پاکستان پر ایک فون کر کے یہ پریشر ڈالا کہ

    Are you with us or against us ?

    مطلب کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف یہ بڑا عجیب سا سوال تھا بلکل ایسے جیسے دھمکی ہو یا دھونس مگر آج بہت فرق ہے اب امریکہ کے فون آرہے ہیں تو وہ زرا بہتر انداز میں بات کرتا ہے ایک اور جگہ جب وزیر اعظم سے امریکی چینل نے انٹرویو کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ امریکہ کو اپنےاڈے دیں گے تو اس پر وزیر اعظم نے واضح کہا کہ

    Absolutely Not

    یعنی ہرگز نہیں بلکل نہیں پاکستان کی سر زمین سے افغانستان پر کسی قسم کا کوئی بھی حملہ نہیں ہوگا

    اب آپ فرق دیکھ لیں کہ پاکستان نے اپنی اہمیت خود دکھائی ہے اور یہ ممکن تب ہی ہوتا ہےجب آپ کے پاس ایک مضبوط لیڈرشپ ہواور آپ خود اپنی اہمیت دکھائیں افغانستان امن عمل کے پروسیس میں جتنا اہم کردار پاکستان کا ہےکسی اور کا نہیں یہاں تک کہ افغان طالبان کو بات چیت کی میز پر لانے کے لئے پاکستان ہی نےکوششیں کیں ہیں بدقسمتی سے کچھ سیاسی جماعتیں اسے سیاسی رنگ دے رہی تھیں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے تمام سیاسی پارٹیوں کو قومی سلامتی کونسل کے ان کیمرہ سیشن میں افغانستان امن عمل کے پروسیس پر بریف کیا اور کہا کہ یہ ریاست پاکستان کامسئلہ ہے دنیائے نقشے پر اس وقت پاکستان کی بہت زیادہ اہمیت ہے امریکہ جیسی سُپرپاور بھی آج پاکستان کی منت سماجت کرتی نظر آتی ہے وزیر اعظم نے یہ بھی صاف کہا کہ

    “We Will Be Your Friend, Not Your Slave’

    یعنی ہم آپ کے دوست بنیں گے لیکن آپ کے غلام نہیں

    یادرکھیں ہمیشہ کے قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ایک لیڈر شپ مضبوط اسٹینڈ لیتی ہے آپ کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا.

    ﷲ تعالیٰ پاکستان کاحامی و ناصر ہو آمین

  • ووٹ خراب کرنے نہیں، ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے آئے ہیں،ظفرخادم

    ووٹ خراب کرنے نہیں، ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے آئے ہیں،ظفرخادم

    جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 22 سے نامزد امیدوارکرنل (ر) ظفرخادم نے پائینولہ میں کارنرمیٹنگ سے خطاب کیا ہے.

    ہمارا مقابلہ کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ریاست کشمیرکے دشمنوں سے ہے، جنہوں نے کشمیریوں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالا ہے، ہم نے سیاست کا آغازکاروبارنہیں خدمت اورعبادت سمجھ کرکیا ہے، کرسی کا نشان مضبوط اورمستحکم ریاست کشمیرکا نشان ہے، کشمیرمیں امن، روزگاراورتجارت کی بہتری کے لیے کرسی پرمہرلگائیں، ہم آپ کے ووٹ کی حفاظت اورحلقے کے مسائل حل کریں گے۔

    کرنل(ر)ظفرخادم کا کہنا تھا کہ میں نے ایل اے 22 دیکھا امیدواروں نے جو وعدے کئے وہ وفا نہیں ہوئے ہیں، ہم جھوٹ کی جگہ سچ لانا چاہتے ہیں، خیانت کی جگہ امانت ودیانت لانا چاہتے ہیں، لوٹ کھسوٹ کی جگہ ریاست کشمیرکے خزانے کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، ہم سوچ و بچارکے بعد سیاست میں آئے ہیں، ہم کسی کا ووٹ خراب کرنے نہیں آئے بلکہ ریاست کشمیرکے استحکام کے لئے میدان میں نکلے ہیں.

    منتخب ہونے کے بعد خود نہیں کھاﺅں گا بلکہ حلقے پرلگاﺅں گا، 25 جولائی تک ترقیاتی کاموں پرپابندی ہے اس کے بعد اللہ نے جتنی توفیق دی ہے کام کروائیں گے، خدمت کی سیاست کریں گے، مسئلہ کشمیرذاتی یا سیاسی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے، مقبوضہ کشمیرکی عوام اپنے خون سے تحرےک آزادیی کشمیرکی آبیاری کررہے ہیں، کشمیرکی آزادی پاکستان کی مضبوطی اوراستحکام کی ضمانت ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کریںگے.

  • عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا،کاشف جمیل

    عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا،کاشف جمیل

    جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 21سے نامزد امیدوارانجینئرکاشف جمیل نے راولا کوٹ بلدیہ اڈہ میں انتخابی دفترکا افتتاح کیا ہے،
    کرسی کا انتخابی نشان عزم، یقین اوراجالوں کا نشان ہے، ہم ریاست کشمیرکا مستقبل روشن کرنے آئے ہیں، خدمت انسانیت کی بنیاد پرووٹ لے کرایل اے 21 سے کامیابی حاصل کریں گے، منشیات فروش اورقبضہ مافیا راولا کوٹ پہ قابض ہے، کرپشن، لوٹ مارکی سیاست کے خاتمے کے لئے کرسی پرمہرلگائیں، ہماری تحریک آپ کے مفادات کا تحفظ کرے گی.

    اس موقع پرایل اے 21 سے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی، امیدوارانجینئرکاشف جمیل کے انتخابی دفتر پہنچنے پراہلیان علاقہ نے ان کا بھرپوراستقبال کیا ہے، پھولوں کے ہار پہنائے گئے ہیں.

    افتتاح کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے جموں کشمیریونائیٹڈ موومنٹ کے ایل اے 21 سے نامزد امیدوارانجینئرکاشف جمیل کا کہنا تھا کہ عوام 25 جولائی کو کرسی پرمہرلگا کرکرپشن کے سرداروں کومسترد کردیں گے، عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے والوں کوگھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے، کرسی پرمہرلگا کراپنی تقدیربدلیں اور ریاست کشمیر کو مضبوط بنانے کے لئے ہمارا ساتھ دیں، کرپشن کا خاتمہ اورقومی خزانہ لوٹنے والوں کا احتساب کریں گے.

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے ووٹ کے تقدس کواب تک پامال کیا گیا ہے، حلقہ ایل 21 کی عوام ہرطرح کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، ہمارے نوجوان ڈگریاں لیکرسڑکوں پردھکے کھانے پرمجبورہیں، ہم لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے سیاست میں اترے ہیں، قوم ہمارا ساتھ دے انہیں کبھی مایوس نہیں کریں گے۔