Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوٹیوب اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس میں اہم تبدیلی متعارف

    یوٹیوب اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس میں اہم تبدیلی متعارف

    ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس میں ایک اہم تبدیلی کو متعارف کرایا ہے-

    باغی ٹی وی :یوٹیوب پر کسی ویڈیو کو پلے کرنے پر ریزولوشنز کی ایک فہرست دی جاتی ہے جس میں آٹو آپشن کے ساتھ مختلف ریزولوشنز کے آپشن ہوتے ہیں آٹو آپشن ویڈیو کوالٹی کو انٹرنیٹ کنکشن کی رفتار کے مطابق ایڈجسٹ کرتا ہے۔

    مگر اب نئی تبدیلی کے تحت ویڈیو کے کوالٹی مینیو میں 4 آپشنز موجود ہوں گے آٹو، ہائر پکچر کوالٹی، ڈیٹا سیور اور ایڈوانسڈ۔

    فوٹو بشکریہ یو ٹیوب
    آٹو آپشن تو پہلے کی طرح ہی کام کرے گا جبکہ ہائر پکچر کوالٹی سیٹنگ بہتر معیار کے لیے زیادہ ڈیٹا استعمال کرے گی جبکہ سیٹنگ میں تیزرفتار وائی فائی کنکشن پر بھی ویڈیو 720 پی پر اسٹریم ہوگی۔

    ڈیٹا سیور موڈ میں کم ڈیٹا خرچ ہوگا اور پکچر کوالٹی 480 پی تک محدود ہوجائے گی تاہم تیزرفتار کنکشن پر 720 پی ریزویوشن بھی ویڈیو کا حصہ بنے گی۔

    ایڈوانسڈ مینیو میں ویڈیو ریزولوشنزن کی مکمل فہرست دیکھی جاسکے گی مگر اس کا اطلاق صرف اوپن ویڈیو پر ہی ہوگا تاہم ڈیفالٹ ویڈیو کوالٹی سیٹ کرنے کے لیے سیٹنگز میں جاکر ویڈیو کوالٹی اور پھر پریفرنس مینیو میں جاکر موبائل نیٹ ورکس اور وائی فائی ہر ڈیفالٹس سیٹنگز کو سیٹ کرنا ممکن ہے۔

    یہ فیچر اب صارفین کے لیے متعارف کرادیا گیا ہے مگر ہر ایک تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گااس نئی تبدیلی سے صارفین موبائل ڈیٹا کو یادہ بہتر طریقے سے بچاسکیں گے۔

  • کیا ڈولفن میں بھی خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے منفی جذبات رکھتی ہیں؟

    کیا ڈولفن میں بھی خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے منفی جذبات رکھتی ہیں؟

    آسٹریلیا: مطلب پرستی، بغض اور خودغرضی صرف ہم انسانوں تک ہی محدود نہیں پہلے یہ منفی جذبات، پرائمیٹس میں دریافت ہوئےاور اب سمندر کی ہمیشہ ہنستی مسکراتی ذہین ترین مخلوق ڈولفن میں بھی اس رویے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : تحقیقی ہفت روزہ جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق مغربی آسٹریلیا میں شارک بے کے مقام پر سائنسدانوں نے بعض تجربات کے بعد کہا ہے کہ یہ سمندری ممالیہ بھی آپس میں بغض و عداوت رکھتے ہیں۔

    سائنسدانوں کے مطابق بوٹل نوز ڈولفن کے نر اپنے انہی ’ساتھیوں‘ کی پکار پر توجہ دیتے ہیں جو ماضی میں انہیں بچانے یا مدد کے لئے آئے ہوں جبکہ مدد نہ کرنے والے ڈولفن گروہ کی پکار پر وہ کان نہیں دھرتے اور نظرانداز کردیتےہیں۔

    برسٹل یونیوررسٹی نے اسے’اتحادی نیٹ ورک‘ قرار دیا ہے جو نر ڈولفن کے درمیان قائم ہوتا ہے عین سماجی رویے کی طرح ڈولفن کے غول ملکر شکار کرتے ہیں یا پھر مل کر ایک دوسرے کی شکاریوں سے حفاظت کرتے ہیں۔

    تحقیق کی سربراہ اسٹیفنی کنگ کہتی ہیں کہ ڈولفن سماجی جانوروں کی طرح اپنی ہم انواع میں تعلقات کی درجہ بندی کرتے ہیں عین اسی طرح ہم بھی اپنے ہم جنسوں کی ایسے ہی درجہ بندی کرتے رہتے ہیں ’انسانوں سے ہٹ کر بوٹل نوز ڈولفن میں اتحاد اور تعاون کا بہت پیچیدہ نظام ہوا ہے جسے ہم سمجھنا چاہتے تھے-

    اسٹیفنی کنگ نے مزید بتایا کہ ڈولفن یاد رکھتی ہیں کہ کس نے ان کی مدد کی تھی اور اس کے جواب میں انہیں کس کے کام آنا ہے پھر اپنی مخصوص سیٹی نما پکار سے یہ ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں کیونکہ ہر ڈولفن کی مخصوص آواز زندگی بھر یکساں رہتی ہیں اسی لیے مشکل میں ڈولفن کا ایک گروہ دوسروں کو بلاتا ہے۔

  • واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار    دبئی پولیس

    واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار دبئی پولیس

    دبئی: بھکاریوں کے خلاف تازہ کارروائی میں دبئی پولیس نے واٹس ایپ کے ذریعے اپنی دکھ بھری داستان سنا کر بھیک مانگنے والا بھکاری گرفتار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :د بئی پولیس کے مطابق انہوں نے ایک عرب ’سائبر بھکاری‘ گرفتار کیا ہے جو مقامی واٹس ایپ صارفین کے نمبر حاصل کرکے انہیں اپنی دکھ بھری داستان لکھ بھیجتا تھا اور ’اللہ کے نام پر‘ مالی امداد مانگتا تھا۔


    اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں دبئی پولیس نے عوام کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ درد بھری کہانیاں سنانے والے بھکاریوں کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ یہ جعلساز ہوتے ہیں اور ان کا واحد مقصد عام لوگوں کو بے وقوف بنا کر رقم اینٹھنا ہوتا ہے۔

    ٹویٹ میں ’سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بھکاریوں‘ سے متعلق بتایا گیا کہ جو رمضان کے مقدس مہینے میں زکوۃ، صدقات و خیرات سمیٹنے کےلیے سرگرم ہوگئے ہیں اور منظم گروہوں کی شکل میں کام کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق، وہاں بھیک مانگنے والوں، بھیک منگوانے والوں اور بھیک منگوانے کی غرض سے مقامی یا غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے والوں کےلیے سخت سزا کے علاوہ ان پر ایک لاکھ درہم جرمانہ بھی کیا جا رہا ہے۔

  • فلوباٹ: اینڈروئڈ موبائلز کا انتظام سنبھالنے والا خطرناک سافٹ وئیر

    فلوباٹ: اینڈروئڈ موبائلز کا انتظام سنبھالنے والا خطرناک سافٹ وئیر

    لندن : ماہرین اینڈروئڈ فونز کو نقصان پہنچانے والے ایک ٹیکسٹ میسج کی شکل میں بھیجے گئے پیغام سے خبردار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق پیکج ڈیلیوری کمپنی کی جانب سے بھیجنے کا دعویٰ کرنے والے اس پیغام میں صارفین کو ایک ٹریکنگ ایپ انسٹال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے لیکن اصل میں یہ ایک خطرناک قسم کا ‘سپائی ویئر’ ہوتا ہے یہ پورے برطانیہ میں پھیل گیا ہے –

    اسے ‘فلو باٹ’ کا نام دیا جا رہا ہے اور یہ جس فون میں داخل ہوتا ہے اس کا انتظام سنبھالنے کے بعد اس سے خفیہ معلومات اکھٹی کرتا ہے جیسے بینک سے متعلق معلومات وغیرہ۔


    نیٹ ورک آپریٹر ووڈا فون کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے آگاہی کے لیے لاکھوں ٹیکسٹ میسیجز پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں۔

    ووڈا فون کے ایک ترجمان کے مطابق ہمارے اندازے کے مطابق فلوبوٹ کی یہ موجودہ لہر کو بہت جلد بہت زیادہ پذیرائی ملے گی اور یہ ایک ایسی چیز ہے جسے روکنے کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے۔


    انھوں نے کہا کہ صارفین کو اس مخصوص خطرناک سافٹ ویئر سے ہوشیار رہنا ہو گا اور ٹیکسٹ میسیجز پر موصول ہونے والے کسی بھی پیغام میں دیے گئے لنک پر کلک کرنے سے قبل احتیاط برتنی ہو گی۔

    دیگر برطانوی نیٹ ورکس جیسے ‘ای ای’ اور ‘تھری’ نے بھی اس حوالے سے صارفین کو متنبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    برطانیہ کے قومی سائبر سکیورٹی مرکز (این سی ایس سی) نے اس حوالے سے موجود خطرے کے بارے میں ہدایات جاری کی ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر آپ نے حملہ کرنے والی ایپلیکیشن غلطی سے ڈاؤن لوڈ کر دی ہے تو آپ نے کیا کرنا ہے۔

    این سی ایس سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر صارفین نے غلطی سے لنک پر کلک کر دیا ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ ایسے متعدد طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    اس میل ویئر کی یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ متاثرہ صارف کے جاننے والوں کے نمبروں پر بھی یہ پیغام بھیج سکتا ہے۔

    اس حوالے سے ایک واضح خطرہ موجود ہے کہ ایک خطرناک ایپلی کیشن صارف کے سمارٹ فون پر انسٹال کی جا سکتی ہے جو لا تعداد ٹیکسٹ میسیجز بھیجنا شروع کر دے۔

    صارفین کے لیے جو بڑا خطرہ موجود ہے وہ ان کے انتہائی ذاتی ڈیٹا کے لیے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

    جہاں اس ٹیکسٹ میسیج سکیم میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ پیکج ڈلیوری کمپنی کی جانب سے بھیجے گئے ہیں ان کی جانب سے فی الحال فشنگ یعنی ذاتی مالی معلومات اور دیگر معلومات کے بارے میں فارم بھروائے جاتے ہیں۔

    یہ نئی لہر اس طرح مختلف ہے کہ یہ خطرناک سافٹ ویئر موبائل میں خود ہی انسٹال ہو جاتا ہے اور کیونکہ اس کے پھیلاؤ کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔

    اگر کوئی اینڈروئڈ فون کا استعمال کرتے ہوئے اس لنک پر کلک کرتا ہے تو انھیں ایک ایسے پیج پر لے جایا جائے گا جو یہ ‘وضاحت’ کرتا ہے کہ آپ پارسل ٹریکنگ ایپ انسٹال کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے اور ایسا اے پی کے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    اے پی کے فائلز دراصل اینڈروئڈ ایپس کو محفوظ گوگل پلے سٹور کے بغیر انسٹال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ عام طور پر ایسی ایپلی کیشنز کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بلاک کر دیا جاتا ہے لیکن اس سلسلے میں یہ پیج دراصل ایسی ہدایات دیتا ہے جس کے ذریعے انسٹالیشن کی جا سکتی ہے۔

    ایپل آئی فون صارفین اس مسئلے سے فی الحال دوچار نہیں ہیں کیونکہ وہ اینڈرائڈ کی اے پی کے فائلز انسٹال نہیں کر سکتے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ‘اس حملے کے کامیاب ہونے کے شرح بہت کم ہو گی’ کیونکہ اس حوالے سے خاصی مشکلات آڑے آ سکتی ہیں۔

    موبائل یو کے نامی ادارے نے کہا ہے کہ صارفین جنھیں یہ خطرناک پیغام موصول ہوتا ہے وہ اسے 7726 پر فارورڈ کر سکتے ہیں تاکہ اس کے حوالے سے مزید تحقیق کی جا سکے، بعد میں بےشک اسے ڈیلیٹ کر دیں۔

  • ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

    ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مریخ پر بھیجے جانے والے مشن پرسیورینس نے 20 اپریل کو پرسیورینس نے مریخ کے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکٹھا کرکے اسے سانس لینے کے قابل آکسیجن میں تبدیل کردیا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق پرسیورینس میں ایک ایسا انسٹرومنٹ ( مارش آکسیجن) نصب ہے جسے اس تجربے کے لیے استعمال کیا گیا۔

    اس ٹوسٹر سائز ٹول سے اس مشن کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز سے آکسیجن ایٹمز کو الگ کرنا ممکن ہوا، جس کے لیے گیس کو لگ بھگ 1470 ڈگری فارن ہائیٹ پر گرم کرکے کاربن مونوآکسائیڈ کو تیار کیا گیا۔

    انسٹرومنٹ کے پہلے تجربے کے دوران 5 گرام آکسیجن تیار ہوئی، جس سے ایک خلا باز کو 10 منٹ تک انے اسپیس سوٹ میں 10 منٹ تک سانس لے سکتا ہے۔

    ناسا کے مطابق تجربے کی کامیابی سے مستقبل کے مشنز کے لیے ایک نیا ذریعہ کھل گیا ہے بالخصوص ایسے مشنز جن میں انسانوں کو راکٹوں میں مریخ میں بھیجا جائے گا، جہاں انہیں آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔

    مثال کے طور پر مریخ پر 4 انسانوں کو لے جانے والے راکٹ میں 55 ہزار پاؤنڈ آکسیجن بھیجنے کی ضرورت ہوگی، مگر مریخ تک اتنی زیادہ مقدار میں آکسیجن بھیجنا ممکن نہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے مستقبل کے مشنز کے لیے سرخ سیارے کی کھوج زیادہ آسان ہوسکے گی۔

    یہ پہلی بار ہے جب زمین سے باہر کسی جگہ آکسیجن کو تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل مریخ میں زمین سے باہر پہلی بار ایک ہیلی کاپٹر کی پرواز میں کامیابی حاصل کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ ناسا کا یہ پرسیورینس روور روبوٹ سرخ سیارے پر مائیکربیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش کا کام کرے گا۔

    مریخ پر لینڈنگ 2.7 ارب ڈالر اور 2 سالہ کوششوں کا خطرناک ترین منصوبہ تھا جس کا بنیادی مقصد ان مائیکروبز کے ممکنہ آثار کو کھود کر تلاش کرنا ہے جو 3 ارب برس قبل مریخ پر موجود تھے، جب نظام شمسی کا چوتھا سیارہ سورج سے زیادہ گرم ، نم اور زندگی کے لیے ممکنہ طور پر سازگار تھا۔

    پرسیورینس کیا ہے؟

    مریخ پر مشن کا ایک اہم مقصد علم نجوم ہے ، جس میں قدیم مائکروبیل زندگی کی نشانیوں کی تلاش بھی شامل ہے۔ یہ روور سیارے کی ارضیات اور ماضی کی آب و ہوا کی خصوصیات بنائے گا ، لال سیارے کی انسانی تلاش کے لئے راہ ہموار کرے گا ، اورٹوٹی ہوئی چٹان اور دھول کو جمع کرنے اور اس میں تجربہ کرنے کا پہلا مشن ہوگا۔

    اس کے نتیجے میں ناسا کے مشنز ، ESA (یورپی اسپیس ایجنسی) کے تعاون سے مریخ پر خلائی جہاز بھیجیں گے تاکہ ان مہر بند نمونوں کو سطح سے جمع کریں اور گہرائی سے تجزیہ کرنے کے لئے انہیں زمین پر واپس بھیجیں مریخ 2020پرسیورینس مشن ناسا کے چاند تا مریخ کی تلاش کے نقطہ نظر کا ایک حصہ ہے –

    سائسدانوں کو امید ہے کہ وہ اس قدیم مقام سے زندگی کے نمونوں کو تلاش کرسکیں گے اور پرسیورینس کو مریخ سے پتھر کھوج نکالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں زمین پر ان کا تجزیہ کیا جاسکے۔

    جو انسانوں کی جانب سے کسی دوسرے سیارے سے پہلی مرتبہ جمع کیے جانے والے پہلے نمونے ہوں گے۔

    جنوبی کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری ، جو کیلیفورنیا کے پاسادینا میں کیلٹیک کے ذریعہ ناسا کے لئے منظم کی گئی ہے ، اور اس نے پرسیورینس روور کی کارروائیوں کا انتظام کیا۔

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر’انجینیٹی‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

  • خوش قسمت لوگ    تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    خوش قسمت لوگ تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    خوش قسمت لوگ
    تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    رمضان المبارک اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ یہ مہینہ نزول قرآن کا مہینہ ہے۔تو ضروری ہے کہ اس ماہ مبارک میں اس اللہ کے کلام کو خصوصی طور پر ترجیح دی جائے۔ویسے تو ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سارا سال ہی اس کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے، لیکن اس مہینے میں خاص طور پر پڑھنے اور سمجھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔قرآن پاک کو پڑھنا، اسے زبانی یاد کرنا، اس میں جو احکامات الٰہی ہیں انہیں سمجھنا اور اس کی تعلیم دینا، رب العزت کا قرب حاصل کرنے کا سب سے بہترین اور پاکیزہ ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالق کائنات نے جو ہمیں ہدایت و رہنما کتاب قرآن مجید عطا فرمائی، اس کی تعلیم حاصل کرنے اور دنیا میں بسنے والے لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ اعلان فرما دیا کہ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھتا اور دوسروں کو سکھلاتا ہے“۔(بخاری)

    سیدنا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ”صفہ“میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:”تم میں سے کون ہے جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ ہر روز صبح سویرے”بطحان“ یا ”عقیق“ میں جائے،پھر وہاں سے دو موٹی تازی اونٹنیاں مفت میں بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے لے آئے؟ہم نے کہا:اے اللہ کے رسول!ہم سب یہ پسند کرتے ہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو کیا تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے مسجد میں نہیں جاتا جہاں وہ کتاب اللہ کی دو آیات کا علم حاصل کرے یا ان کی تلاوت کرے،یہ اِس طرح کرنا اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین آیات کی تلاوت کرنا، تین اونٹنیوں سے اور چار آیات چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔پھر اسی طرح ہر آیت ایک ایک اونٹ سے بہتر ہوگی۔“(احمد ومسلم) –

    یاد رہے کہ”بطحان“ مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے اور”عقیق“ مدینہ میں ایک وادی کا نام ہے۔اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی مسجد میں نماز پڑھے اور پھر قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی تلاوت کرے تو یہ اس کے لیے دو بڑی، موٹی اور صحت مند اونٹنیوں سے بہتر ہو گا اور تین آیات تین اونٹنیوں سے اور چار آیات چار اونٹنیوں سے اور پچاس آیات پچاس اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اگر کوئی اس سے بھی زیادہ آیات پڑھے گا تو اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ اجر وثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ بڑ اہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو ہر روز مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہے اور ساتھ ساتھ قرآن حکیم کی تلاوت کر کے اتنے بڑے اجر و ثواب کو اپنے نامہ اعمال میں درج کروا لیتا ہے۔ بعض لوگ اس اجر و ثواب سے کئی کئی دن اور کئی کئی مہینے محروم رہتے ہیں۔جو کہ سوائے افسوس اور خسارہ کے کچھ بھی نہیں۔

    ہمارے معاشرے میں کئی مسلمانوں کو قرآن مجید پڑھنا نہیں آتا اور عمر بھی بڑی ہوتی ہے، تو وہ بڑی عمر ہونے کی وجہ سے اسے سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے صحابہ کرام ملیں گے جنہوں نے اپنی بڑی عمر کی پرواہ کیے بغیر اسے سیکھنا شروع کیا۔ اسی طرح پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مہمان مہاجر آتا تو اسے قرآن مجید کی تعلیم دلواتے۔ جیسا کہ“سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشغول ہوتے تھے۔ آپ کے پاس جب کوئی مہاجر آتا تو آپ اسے ہم میں سے کسی شخص کے حوالے کر دیتے جو اسے قرآن مجید سکھلاتا۔“قرآن مجید کی تلاوت کے حوالے سے اُس بندے کی بھی بڑی فضیلت ہے جو کوشش کر کے اٹک اٹک کے پڑھتا رہتا ہے۔

    بخاری و مسلم میں روایت ہے”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کا ماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرّم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص جو قرآن مجید پڑھتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور پڑھنا اس پر مشکل ہو یعنی کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے تو ایسے شخص کو دوگنا اجر دیا جائے گا۔”ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے حالانکہ یہ پڑھنا اس کے لیے سخت مشکل کا باعث ہے، اس کو دو اجر ملیں گے۔

    امام ابوالفضل الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صدر اول کے لوگ قرآن مجید کو حفظ کرنے اور کروانے کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ بسااوقات بڑی عمر کے لوگ چھوٹی عمر کے لوگوں سے پڑھتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:”قتادہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے اور رات کو قیام کرتے اور ثابت رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے۔ وہ ان لکڑیوں سے اہل صفہ کے لیے کھانا خریدتے تھے اور رات کو قرآن مجید پڑھتے اور اس کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس کو قرآن مجید پڑھنا نہیں آتا اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے کام کاج سے جب فارغ ہو جائے قرآن پاک سیکھنے کے لیے کسی اچھا پڑھنے والے سے ضرور سیکھے۔

    ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن مجید پڑھا کرو،کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔“(مسلم)”حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ رب العزت فرماتا ہے: جس شخص کو قرآن اور میرا ذکر اتنا مشغول کردے کہ وہ مجھ سے کچھ مانگ بھی نہ سکے تو میں اسے مانگنے والوں سے بھی زیادہ عطا فرما دیتا ہوں اور تمام کلاموں پر اللہ تعالیٰ کے کلام کی فضیلت اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پرفضیلت ہے۔

  • قسط نمبر 2 : ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں         تحریر: کاشف علی ہاشمی

    قسط نمبر 2 : ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں تحریر: کاشف علی ہاشمی

    ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    قسط نمبر 2
    حرمت رسولؐ کا مسلہ بنا لاسٹ ٹائم آسیہ کیس اور فرانس کے معاملے پر تحریک لبیک نکلی اور دھرنے دیے اس سے پہلے جب بھی حرمت رسولؐ کا مسلہ ہوا تمام جماعتیں نکلیں اور مشترکہ جلسے کئیے مختلف بڑے شہروں میں بڑے جلسے ہوے جس میں سیاسی پارٹیاں۔شریک ہوئیں۔ لاہور میں اک اسٹیج پر تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کا اکٹھ ہوا جو اک شاندار اور زبردست تحریک تھی-

    اک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
    نا کوئی بندہ رہا اور نا کوئی بندہ نواز

    مگر کوئی باضابطہ علماء کامشترکہ پلیٹ فارم نہیں بن سکا جو اس قسم کے حالات مشترکہ پیغام دیتا یا شاید اس کے بعد دیگر واقعات کی تیزی سے تبدیلی کی گرد تلے یہ موضوع تھوڑا دبا ہاں اس وقت اک مشترکہ پلیٹ فارم دفاع پاکستان کے حوالے سے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے حوالے سے جس کی قیادت مولونا سمیع الحق اور حافظ سعید اور حمید گل جیسے معاملہ فہم اور دور اندیش قیادت کر رہے تھے مولانا سمیع الحق شہید ہوگئے حمید گل بھی اللہ کے ہاں پہنچ گئے جبکہ عالمی دبا حافظ سعید کو پابند سلاسل کیا گیا جبکہ اس طرح کے معاملات کے حوالے جو اک مشترکہ پلیٹ فارم تھا وہ بکھر گیا-

    اور جماعتوں کی قائدین بھی بدل گئے سیدمنور حسن جماعت اسلامی اور تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی بھی بھی خالق حقیقی سے جاملے یوں اک معاملہ فیم دینی قیادت کا فقدان نظر آرہاہے-

    اورتحریک لبیک کی قیادت بھی اک نوجوان کے ہاتھ میں مذہبی لوگوں کا جوش و خروش کو کنٹرول کرنا اور معاملات کو سمجھ کر چلنا اک مسلہ ہے درحقیقت دفاع پاکستان طرز کا اک پلیٹ فارم ازحد ضروری ہے جبکہ اس وقت سوشل میڈیا پر اس وقت ملحد سوچ جو کہ اسلام کے لبادے میں ہی اسلام کو ڈس رہی اور ہمارے کم فہم مسلمان اس سیکولر اور ملحد سوچ کا شکار ہو رہے ہیں اور فرقہ پرستی اور شخصیت پرستی کو دور دورہ ہے جبکہ مذہبی لوگ مکمل طور پر بکھرے نظر آتے ہیں حتی کہ مذہبی لوگ اک مسلک کے ہی آپس میں چھوٹے موٹے اختلافات پر دست و گریباں ہیں اور سارا ملبہ اک دوسرے پر ڈال رہے ہیں –

    منفعت ايک ہے اس قوم کی’ نقصان بھی ايک
    ايک ہی سب کا نبی’ دين بھی’ ايمان بھی ايک
    حرم پاک بھی’ اللہ بھی’ قرآن بھی ايک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

    کیا اسلامی قیادتیں جو کچھ عرصہ پہلے اک منظم تھیں سور مل کر بھٹو جیسے آدمی سے قادیانی کو غیر مسلم قرار دینے کا بل پاس کروا لیا ماضی قریب میں چاہے وہ ایم ایم اے کا پلیٹ فارم تھا یا دفاع پاکسان جیسا کا مضبوط اور موثر ادارہ مگر اس عمل کو آگے بڑھنے حالات کے حوادث اور کچھ حکومت کی چالاکیوں نے روک دیا ہے یعنی کچھ فوت ہوگئے اور کچھ بین ہیں وقت آگیا ہے کہ مسلمان الگ الگ کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کے بجائے اک مشترکہ علماء لجنہ تشکیل دیں علماء سامنے آئیں اور اس قسم کے مسائل پر حکومت وقت کو لوگوں کے جذبات سے آگاہ کریں-

    تو دوسری طرف معاملہ فہم علماء کو سوشل میڈیا پر اک عام آدمی کی طرح اکاونٹ بنا کر بھی آنا چاہیے تاکہ جو نظریاتی حوالے سے اک شدید حملہ ہورہا ہے جہاں اک ہی بات پر مسلمانو کو اپس میں منتشر کر دیا جاتا ہے اس پر ایکشن ہو علماء کی مشترکہ کانفرنس جو اعلامیہ دے اس پر باقی علماء پابندی کریں یوں اک طاقتور مشترکہ بیانیہ تشکیل ہو اور لوگوں کو پتہ چل سکے کہ دین کا اس میں کیا کردار ہے اور اس طرح کوئی بے قابو ہجوم اپنی ہی عوامی املاک کو نقصان نا پہنچا سکے اور قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں حکومت کو بھی احساس ہو کہ معاملہ کس نوعیت کا ہے-

    اس وقت سوشل میڈیا پر مولوی اور علماء مدارس کے خلاف اک منظم مہم اور ذہن سازی جاری ہے کہیں اکا دکا غلط واقعات کو ہائی لائیٹ کر کے مدارس کو بدنام کرنے کا کام منظم شاطر اور شست باندھ کر لکھنے والے خرانٹ لوگوں کا ٹولہ سرگرم عمل ہے وجہ ہمارا منظم نا ہونا اور بکھرے ہونا ہے اللہ تو قرآن میں یہود و نصاری سے یہ معاملہ کرنے کا کہہ رہے ہیں-

    قُلْ یٰٓــاَہْلَ الْکِتٰبِ تَـعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمْ: «(اے نبی ) کہہ دیجیے: اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان بالکل برابر ہے»

    یعنی یہود و نصاری سے اک مشترکہ بات پر اکٹھا ہوا جاسکتا ہے تو کیا اسلام کے یہ فرقے اور ان فرقوں کے اندر تنظیموں اور چھوٹی چھوٹی قیادتوں میں بٹی اس امت کو یکجا نہیں کیا جاسکتا ؟ اگر مسلمان اپنے فرقہ وارانہ اختلافات اک طرف رکھ کر اک مشترکہ جدو جہد کا پلیٹ فارم بنا لیں تو یقین کریں صرف مذہبی حوالے سے نہیں بلکہ ملکی حوالے سے تربیتی حوالے سے اک انقلاب برپا ہوسکتا ہے-

    آیسے وقت جب پرانی سیاسی مداری اور تمام سیکولر حکومتیں ناکامی سے دوچار ہیں اور عوام میں انکا کوئی خاص معاملہ نہیں رہ گیا اگر رہ گیا ہے تو وہ شخصیت پرستی کی حد تک ہے جس کو علماء کا یہ مشترکہ پینل تبدیل کر سکتا ہے اس حوالے سے ملک میں حافظ سعید صاحب کا رول اک زبردست رول تھا انہوں نے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو اک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا مگر افسوس ہماری تھکی ہوئی حکومت نے بیرونی دباو پر انہیں پابند سلاسل کر دیا-

    بحرحال اب بھی علماء کی سطح پر اک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت ہے ورنہ سیاسی مداری اپنی حکومتوں کو مزید مضبوط کرنے کے لیے دینی طبقے کو مزید تقسیم کر رہے ہیں اور سیکولر عناصر کا بیانیہ مضبوط ہورہاہے-

    اس نئی آگ کا اقوام کہیں ایندھن ہے
    ملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے

    کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ تمام علماء اور مذہبی جماعتوں کا اکٹھ ہوتا اور نبیؐ کی وہ حدیث کہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہے اور دو سے دور ہے کی بدولت یہ قیادتیں مل کر بیٹھتے اور معاملات پر جمع تفریق سے بحث ہوتی تو یقینًا شیطان دور ہوتا اور ملکی و ملی حوالے سے بہترین اقدامات لیے جاتے جس سے اہل دین کا مذاق اور دین کو نشانہ بنانے کا موقع نا ملتا جبکہ اس وقت اہل دین اک دوسرے کے مقابل مختلف سیکولر اتحادوں کے ساتھ بٹے ہوے ہیں ۔

    اس وقت امت کا مسلہ نااتفاقی اور ذاتی مفادات کی وجہ سے متحد نا ہوسکنا ہے بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کے اختلافات اور اندرون سطح صوبائیتوں اور قومیتوں کے اختلافات اور وہیں مذہبی فرقہ وارانہ اختلافات سے آگے مسلکی جماعتوں تنظیموں اور قیادتوں کے اختلافات نے اس عظیم امت کو اک بہت بڑا بے قابو ہجوم بنا دیا ہے جسکی کوئی سمت مقرر نہیں ہے جسکا سارا فائدہ لادین قوتیں اٹھا رہی ہیں –

    سوشل میڈیا کی وجہ سے اور معاملات پہ کم فہم لوگوں کے آواز اٹھانے سے بھی معاملات خراب آپس میں اک دوسرے کی جماعتوں کو طعنے دیتے جملے کستے اور الٹی سیدھے ناموں سے توہین کرتے یہ نابالغ افراد وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں کہ جن کے زریعے آگ شروع ہوتی ہے اور رفتہ موٹی اور بڑی لکڑیاں بھی انکی جلائی آگ کے اثر میں آجاتی ہیں آپکا کوئی جملہ یا کمنٹ کو یہ مت سمجھیں کہ آپ کوئی بہت بڑے ادمی نہیں اور اس سے فرق نہیں پڑے گا بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے جملے لکھنے والے ہی معاملات کی ابتدا ہیں یہ چھوٹی لکڑیوں سے شروع ہونے والی آگ آہستہ آہستہ بڑی لکڑیوں کو جلانے کاباعث ہے چھوٹے کارکنان کی تربیت بھی ضروری تاکہ بڑی سطح پر آپس میں غلط فہمیاں کم ہوسکیں اور آپس میں محبت درگزر اور چشم پوشی سے کام لیا جائے اقبال نے اس حوالے سے جو رہنمائی کی واللہ اقبال کی نظر نے ان دھندلے ناقابل فہم منظر ناموں کو نکھیر کر دکھا دیا-

    تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیم
    تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم
    چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم
    پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
    تخت فغور بھی ان کا تھا، سریر کے بھی
    یونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی؟

    ہمیں سب سے پہلے ذاتی مفادات سے نکلنا ہوگا اور یہ سمجھنا کہ ہم اکیلے اس سارے مسلے کا کریڈٹ لے لیں اور دیگر جماعتوں سے مشاورت ضروری نہیں بلکہ ہم خود کافی ہیں میرا خیال ہے کہ اب اس نظریے کو دفن کر کے اپنے معاشرے ملک و ملت کے لیے تمام دینی ذہن رکھنے والی جماعتوں کو اک مشترکہ پلیٹ فارم بنانا ہوگا یہ مشترکہ پلیٹ فارم اک مشترکہ سیاسی محاذ میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے-

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے فرقہ وارانہ اور بین المسلکی اختلافات اور تنظیموں اور جماعتوں کے اختلافات کو اک طرف رکھ کر مشترکہ مفادات کے لیے جد جہد کریں اپنے دل میں وسعت پیدا کرنا ہوگی اور اپنی نظر کو امت کے وسیع مفاد کو دیکھنے کے لیے بنانا ہوگا اپنی ذاتی مفادات کو وقتی طور پر چوٹ بھی پہنچے تو اوج ثریا پر پہنچنے کے لیے قلب سلیم سے مدد لینا ہوگی تبھی تخت ففغور بھی تمہارا ہوگا جب تم اسلام کی حمیت پیدا کرو گے جب ہم قومیتوں فرقوں تنظیموں پارٹیوں کی عصبیتوں سے نکلیں گے اگرچہ یہ مشکل کام ہے مگر یہ کام کرنا ہوگابقول اقبال

    ہے جو ہنگامۂ بپا یورش بلغاری کا
    غافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا
    تو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا
    امتحاں ہے ترے ایثار کا، خود داری کا
    کیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سے
    نور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے

    تو دوسری طرف عزیمتوں سے دور تھکی ہوئی اک سوچ کہ دشمن یہ کر دے گا فیٹف یہ کر دے گا اور حرمت رسولؐ کے حوالے عالمی سطح پر مسلمان حکمرانوں کا کمزور سا بیانیہ محض اک میاوں میاوں سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ وہ معاملہ جو اک چند گستاخوں سے شروع ہوا تھا آج سرکاری بیانیہ بن گیا مگر تجارتوں میں مصروف مسلمان حکمران کو اس سے کیا لینا دینا ان کا خیال ہے کہ دولت انبار اکٹھے کرو پھر دشمن سے مقابلہ ہو سکتا ہے قور یہاں وہی مسلہ انتشار ہے یعنی کوئی اتفاق رائے موجود نہیں بین الاقوامی سطح پر کیا مسائل ہیں اس پر مفصل گفتگو انشاءاللہ اگلی قسط میں ہوگی-

  • کشف الاسرار:  کرونا اور حقائق   تحریر: کاشف علی ہاشمی

    کشف الاسرار: کرونا اور حقائق تحریر: کاشف علی ہاشمی

    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار
    کرونا اور حقائق

    اس وقت پچھلے سال سے دنیا میں اچانک اک دھماکہ چوکڑی شروع ہوئی کرونا کے نام پر اور ساری دنیا کو بند کر دیا گیا کہیں دیر سے اور کہیں جلدی لیکن اسقدرعجیب و غریب خبریں پھیلائیں گئیں تاریخ میں پہلی مرتبہ جھوٹ پر مبنی خوف عالمی سطح پر بیچا گیا دیکھئے ہمارا ہر گز مطلب نہیں کہ کرونا نہیں ہے یا آپ احتیاط نا کریں بلکہ بلکہ ہمارا مطلب ہے یہ اتنا زوردار نہیں ہے جتنا پروپیگنڈا کیاجارہا ہے بلکہ کوڈ پہلے بھی بھی موجود تھا اب کوڈ 19 آگیا ہے-

    اس حوالے سے دنیا بھر میں جھوٹی خبریں پچھلے سال اٹلی وغیرہ اور امریکہ سے آئیں تھیں جبکہ اس سال یہ خبریں انڈیا سے آرہی ہیں عالمی سطح ٹیسٹ کٹوں کے جعلی ہونے کے کیسز سامنے آئے جسے بی بی سی جیسے اداروں نے رپورٹ کیا دنیا میں آنے والے ایونٹس کی پشین گوئیاں کرنے والے عالمی میڈیا کے اداروں نے اس پر صاف صاف کہا کہ وہ دنیا کو کنٹرول کرنے جارہے ہیں ہر چیز انڈر کنٹرول ہے ٹرمپ جیسوں نے کہا کہ ہم نے دنیا سے فراڈ کیا تھا مگر ہمارے بزر جمہر اس کو ہر صورت جان لیوا ثابت کرنے پر تیار ہیں-

    کتنے ڈاکٹروں نے کہا کہ معاملات جو بتائے جارہے ہیں ایسے ہے نہیں خود اک قریبی جاننے والے پروفیسر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ اللہ پر ایمان رکھو بیماری کچھ نہیں پروپیگنڈا ذیادہ ہے ٹھیک ہے آپ احتیاط کریں لیکن ملک کو لاک ڈاون کرنا جیسا کہ حکومتی مشینری کے پرزے اس پر بہت اصرار کر رہے ہیں مگر عمران خان نے بارہا اس کو ریجیکٹ کیا ہے-

    عمران خان کو اس خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اس نے ملک میں غریب لوگوں بارے سوچا ہے اب بھی عمران خان نے کہا کہ وہ فوج مقرر کریں گے مگر لاک ڈاون نہیں کریں جبکہ اسد عمر نے کہا ہے کہ اگر احتیاط نا کی گئی تو لاک ڈاون لگا دیا جائے گا-

    سارا دن میڈیا پر خبریں دینے والے میڈیا اینکرز اور سیاستدان خود کوئی احتیاط نہیں کر رہے لیکن عوام کو وبال میں ڈالا ہوا ہے فواد چوہدری کی سالگرہ پر یہ سب بغیر کسی ماسک اور کسی فاصلے بنا بیٹھے تصویریں بنواتے یعنی ان کو حقیقت پتہ ہے ورنہ انکو 10% یقین ہوتا تو خود کبھی ایسے نا بیٹھتےاور قومی اسمبلی کے اجلاس میں دیکھ لیں نا فاصلہ نا ماسک اور غریب کو پسنے کے لیے سب متفق ہیں-

    اسی طرح یہ بھی بات سامنے آرہی ہے کہ عالمی سطح سے دباو ہے بل گیٹس نے کہا تھا کہ 2021 تک سکول نہیں کھلیں گے آپ دیکھ لیں کسی کی جرات نہیں ہے دنیا اسوقت چند ہاتھوں میں یرغمال نظر آتی ہے اور نامعلوم مصلحتوں کے تحت حکومتیں بھی جھکتی نظر آتی ہیں لیکن ہمارے ہاں ہر چیز کو کانسپریسز تھیوری کے نام پر ریجیکٹ کرنا بھی بہت آسان ہے لیکن ہمیں کچھ فیکٹس پر بھی غور کرنا چاہیے اپنے محلے علاقے کا سروے کریں ڈیتھ ریٹ کیا چل رہا ہے-

    اس وقت بہت کچھ جو پہلے کبھی نہیں ہوا وہ ہورہا ہے جوکہ حکومتوں پر بیرونی دباو ظاہر کرتا ہے ٹرمپ کا عجیب و غریب معاملہ سامنے آیا ہے ترک صدر اخبار فروش اور انڈین مودی چائے فروش دنیا اکثر حکومتیں زبردستی لائی گئی ہیں یقینًا آپ بہت سی باتوں میں اختلاف کر سکتے ہیں ہمارے نقطہ نظر میں فرق ہوسکتا ہے مگر پانامہ کو عالمی سطح پر کونسی قوت لے کر آئی تھی جو ریاستوں کے سربراہوں سے بھی ٹکرا گئی ؟ –

    خیر ہم کرونا کی بات کر رہے ہیں کہ بہت سی درست خبروں کو۔میڈیا نے نہیں پھیلایا اور بہت سے فیک نیوز انٹرنیشنل میڈیا پر چلیں جس پر بعد میں ثابت ہوا اقرار کیا گیا کہ جھوٹ بولا گیا ہے-

    مگر اس پر ایسی کہانیاں بیان کی گئیں کہ الامان والحفیظ کہ جی اک بندہ اپنے گھر بیٹھا تھا وہ بالکل باہر نہیں گیا لیکن یہ ہوا کہ اسے کوڈ ہو گیا تحقیق کی تو پتہ چلا کہ آن لائن سامان منگوایا گیا تھا ڈلیوری والے لڑکے کو تھا جس سے اس شخص میں منتقل ہوا مگر حیرت انگیز طور پر باقی افراد جو ساتھ رہتے تھے ان کو نہیں ہوا اب ہم اس پر کچھ آپ سے شئیر کرتے ہیں-

    رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لَا عَدْوٰی وَلَا صَفَرَ وَلَا ھَامَۃ“یعنی نہ بیماری کا اُڑ کر لگنا ہے، نہ صَفَر کی نحوست ہے نہ اُلّو کی نحوست ہے۔ ایک اعرابی نے عرض کی: یارسولَ اللہ! پھرکیا وجہ ہے کہ میرے اونٹ مٹی میں ہرن کی طرح (چست،تندرست و توانا)ہوتے ہیں،تو ایک خارش زدہ اونٹ ان میں داخل ہوتا ہے اور ان کو بھی خارش زدہ کر دیتا ہے ؟تو حضور علیہ الصّلوٰۃو السَّلام نے فرمایا: پہلے کو کس سے خارش لگی ؟(بخاری،ج4،ص26،حدیث:5717

    یہاں ہم جذام والی حدیث کو پڑھیں کہ کوڑھی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو اور یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں تو انکا جمع و تطبیق یہ ہے کہ کوئی بھی بیماری از خود متعدی نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کی معیشت سے لگتی ہے اس لیے وباوں میں لوگوں کی جس تعداد نے شکار ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر مر جاتی ہے اور جس نے بچنا ہوتا ہے وہ بچ جاتے ہیں احتیاط کریں مگر لاک ڈاون اور کریک ڈاون سے جو حالات ہو سکتے ہیں اس پر انشاءاللہ تفصیلی الگ مضمون لکھوں گا –

    مسلم شریف کی ایک روایت میں ہےکہ سال میں ایک رات ایسی آتی ہے کہ اُس میں وَبا(یعنی بیماری) اُترتی ہے جو برتن چھپا ہوا نہیں ہے یا مَشک کا منہ بندھا ہوا نہیں ہے اگر وہاں سے وہ وَبا گزرتی ہے تو اُس میں اُتر جاتی ہے۔

    (مسلم ، ص1115 حدیث : 2014
    یعنی وبا اوپر سے نازل ہوتی ہے یعنی آپ کسی بیمار سے نہیں ملتے اچانک محلے علاقے میں آپکو ایک مرض کے مریض نظر آتے ہیں جو اس بات کی دلالت ہے کہ وبا اوپر سے ناذل ہوتی ہے احتیاط کریں مگر اس کو اس طرح مت مسلط کریں کہ ملکی معیشت کا پہیہ رک جائے اور مہنگائی کی چکی میں پسے لوگ بے روزگاری کے بوجھ میں کچلے جائیں –

    پوری میڈیا مشینری کے بے پناہ پروپیگنڈے کے باوجود ڈیتھ ریٹ میں بڑھوتری کے بجائے کمی آگئی ہے کیونکہ نارمل ڈیتھ ریٹ ڈیلی ڈیڑکھ لاکھ ہے 2017 کے اعدادو شمار کے مطابق جبکہ آج 16 17 گھنٹو میں اعدودوشمار 118000 ہیں

  • واٹس ایپ صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی

    واٹس ایپ صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی

    دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بیٹا ورژن متعارف کروادیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے واٹس ایپ کے نئے ورژن 2.21.9.3. کی اپ ڈیٹ گوگل پلے بیٹا پروگرام کے ذریعے جمع کروادی گئی ہے اس ا پ ڈیٹ کے ذریعے جلد ہی واٹس ایپ ’Self Destructive Photos And Videos feature ‘ فیچر متعارف کروانے جارہا ہے۔


    اس فیچر کے تحت واٹس ایپ صارفین کے پاس یہ آپشن موجود ہوگا کہ وہ ’Self Destructive Message‘ کے اس فیچر کو اِن ایبل کرکے کسی کو بھی تصاویر، ویڈیوز یا جِف بھیجیں گے تو وہ بھیجے جانے والے شخص کے دیکھنے کے بعد ’چیٹ ونڈو‘ سے فوراً خود ہی غائب ہوجائے گی۔

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ اس فیچرپر کام کررہا ہے اور جلد اس فیچر کو متعارف کرادیا جائے گا۔

    فوٹو بشکریہ ویب انفو بیٹا
    واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کے ذریعے صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ اس کے تحت پیغام وصول کرنے والا آپ کی تصاویر یا ویڈیوز کو غائب ہونے سے پہلے تک ہی کھول سکتا ہے یہ فیچر iOS اور Android کے لئے دستیاب ہوگا-

    فوٹو بشکریہ ویب انفو بیٹا
    واٹس ایپ کا مزید کہنا ہے کہ پیغام وصول کرنے والا پیغام بھیجنے والے کی تصاویر محفوظ کرنے کے لیے اسکرین شاٹ بھی لے سکتا ہے تاہم اس کے باوجود انتظامیہ اس قسم کے میڈیا کے لیے اسکرین شاٹ یا ویڈیو کیپشن کوروکنے والا کوئی فیچر متعارف نہیں کروانا چاہتی۔

  • انسٹاگرام پرغیراخلاقی پیغامات کی روک تھام کے لئے نئے فیچر کی آزمائش

    انسٹاگرام پرغیراخلاقی پیغامات کی روک تھام کے لئے نئے فیچر کی آزمائش

    فیس بک کی فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام صارفین کے غیراخلاقی پیغامات کو خود کار طریقے سے فلٹر کرنے کا فیچر متعارف کرائے گا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ نیا ٹول صارفین کو خود کار طریقے سے غیر مہذب پیغامات، جملوں اور ایموجیز کو فلٹر کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

    اس فیچر کو درحقیقت مشہور اور عوامی شخصیات کے لیے متعارف کروایا جائے گا جو بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ناپسندیدہ پیغامات وصول کرتے ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فیچر کے ذریعے انتظامیہ انسٹاگرام پر بھیجے جانے والے نفرت انگیز جملوں اور پیغامات سے نمٹ سکے گی۔

    اعلان میں مزید کہا گیا ہے کمپنی آئندہ ہفتوں میں متعدد ممالک میں اس فیچر کو متعارف کروائے گی تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ فیچر کن ممالک میں متعارف کروایاجائے گا البتہ کمپنی اس فیچر کی دیگر ممالک میں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انسٹا گرام نے ’لائیک کاؤنٹ‘ چھپانے والے فیچر کی آزمائش شروع کرنے کا اعلان کیا تھا انسٹاگرام کا کہنا تھا کہ لائیک فیچر جلد متعارف کرایا جائے گا-

    انسٹاگرام اسٹوریز پر ردعمل کے اظہار کے لیے اسٹیکرز کی آزمائش

    اپنے صارفین کو ذہنی دباؤ سے بچانے کے لئے انسٹاگرام کی انوکھے اور حیرت انگیز فیچر…