Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنے سے ہیکنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟

    کیا بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنے سے ہیکنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟

    متعدد سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنا ہمیں ہیکرز کے لیے آسان ہدف بنا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو اپنا پاس ورڈ ہی یاد نہ رہا ہو، اور آپ غلط پاس ورڈ کا اندراج کرتے ہیں اور بلآخر آپ کو درست پاس ورڈ کے لیے دوبارہ نیا پاس ورڈ بنانا پڑتا ہے-

    لیکن متعدد سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق وقتی زحمت محسوس ہونے کے ساتھ ساتھ بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنا ہمیں ہیکرز کے لیے آسان ہدف بنا سکتا ہےاس سے ہمارے ای میل، زوم اکاؤنٹ یا جو بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں اس کے ہیک ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ نیا پاس ورڈ ہماری انٹرنیٹ سکیورٹی پر سمجھوتے کا باعث ہو؟اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم نیا پاس ورڈ بنانے کے لیے پرانے کو تبدیل کرتے ہیں تو اس میں کم سے کم رد وبدل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نیا پاس ورڈ ہمیں یاد رہے اور یہ ہی سائبر ہیکرز اور کریمنلز کے لیے ان پاس ورڈ کو جاننے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔

    مثال کے طور پر ہم اپنے پرانے پاس ورڈ ‘0001’ سے تبدیل کر کے ‘0002’ رکھ دیتے ہیں یا کسی بھی پاس ورڈ کے آخر میں اپنی پیدائش کا سال لگا دیتے ہیں۔ یا پھر اپنے پاس ورڈ کا آخری حرف مہینے کے عدد سے رکھ دیتے ہیں۔

    اور اگر پاس ورڈز بہت زیادہ پیچیدہ ہوں تو کچھ صارفین ان کو ’سٹِکی نوٹس‘ پر لکھ کر کمپیوٹر سکرین پر چسپاں کر دیتے ہیں۔

    غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یوروکیٹ آٹی سکیورٹی سینٹر کے ڈائریکٹر یویان کوبے نے بتایا کہ آخر میں ہم ان ہی پاس ورڈز میں معمولی رد وبدل کر کے نئی شکل بنا لیتے ہیں کیونکہ ہم نیا پاس ورڈ یاد رکھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

    ’اس کے علاوہ بہت سی سروسز کے لیے ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرنا ایک عام بات ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی دھوکا دہی یا فشنگ مہم کے دوران آپ کا پاس ورڈ چوری ہو گیا ہے تو ہیکرز کو آسانی سے یہ علم ہو سکتا ہے کہ آپ دیگر پلیٹ فارمز پر کون سا یا کس طرح کا پاس ورڈ استعمال کر رہے ہیں اور وہ حاصل کردہ پاس ورڈ میں لفطوں یا عددوں کا رد و بدل کر کے آپ کے دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی ہیک کر سکتے ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق سائبر سکیورٹی کے ماہر کا کہنا تھا کہ لیکن ایک طریقہ ایسا ہے جس سے ہم ہیکرز اور سکیمرز کے لیے اس کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر تو جب بھی ہمیں پاس ورڈ تبدیل کرنے کا کہا جائے تو ہمیں پاس ورڈ مکمل طور پر ہی نیا رکھنا چاہیے۔ یہ اقدام کافی مضبوط اور محفوظ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ عمل بہت زحمت طلب ہے کیونکہ ہم بیک وقت متعدد پلیٹ فارمز پر پاس ورڈز استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ لوگ بہت عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ محفوط پاس ورڈ کیسے بنایا جائے۔ لیکن پاس ورڈ کو لازمی تبدیل کرنے کا یہ دور جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ آخر میں ایک مضبوط پاس ورڈ متعدد کمزور پاس ورڈز سے بہتر ہو گا۔’

    لیکن ایسا سوچنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ درحقیقت آٹی ٹی سکیورٹی ماہرین کافی عرصے سے بار بار پاس ورڈ تبدیل کرنے پر خبردار کرتے رہے ہیں چند برس قبل، کمپیوٹر پاس ورڈز کے بارے میں رہنما ضوابط کی کتاب کے مصنف بل بر پاس ورڈ کے متعلق اپنے ہی مشورے سے دستبردار ہوگئے تھے۔

    ان کے مطابق پاس ورڈ کو ہر تین ماہ بعد تبدیل کیا جانا چاہیے اور اس میں شامل عددوں اور کریکٹرز اور الفاظ کو ملا کر لکھنا چاہیے جیسا کہ ‘Protected‘ بدل کر‘pr0t3ct1d‘ بن جائے تاہم، کمپیوٹرز کو کسی آسان لفظ جیسا کہ ‘پاس ورڈ’ کے برعکس الفاظ کے بے ترتیب مجموعہ کو سمجھنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاس ورڈز کے رہنما اصول مرتب کرنے والے 72 سالہ ریٹائرڈ ماہر کا کہنا تھا کہ جو میں نے تجویز کیا تھا اس پر مجھے زیادہ تر افسوس ہے۔ میرے خیال میں یہ مشورہ شاید بہت سارے لوگوں کے لیے بہت مشکل طلب کام تھا انہوں نے یہ کتاب سنہ 2013 میں شائع کی تھی اور اپنا یہ بیان سنہ 2017 میں دیا۔

    آج بھی بہت سارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ادارے وقتا فوقتاً پاس ورڈ تبدیل کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ لیکن چند ایسا کوئی مطالبہ نہیں کرتے ان میں سے ایک کمپنی مائیکرو سافٹ بھی ہے جس نے سنہ 2019 میں کہا تھا کہ یہ وقتاً فوقتاً پاس ورڈ تبدیل کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرنے جا رہی ہے جبکہ یہ دہائیوں تک اس کی تجویز دیتی رہی ہے مائیکروسافٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایک پرانا اور متروک عمل ہے۔

  • اسمارٹ فون میں ٹرانسلیشن کا حیرت انگیز ٹول

    اسمارٹ فون میں ٹرانسلیشن کا حیرت انگیز ٹول

    سلیکان ویلی: اسمارٹ فون میں ٹرانسلیشن کا ایسا بہترین ٹول جو بہت ہی آسانی سے مختلف زبانوں میں آنے والے پیغام کا مطلوبہ زبان میں ترجمہ کر دیتا ہے۔

    باغی ٹی وی : بیرون ملک کاروباری بات چیت کرنے والے یا فری لانسرزکو سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسلیشن کا پیش آتا ہےلیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے اسمارٹ فون میں ٹرانسلیشن کا ایسا بہترین ٹول موجود ہے جوبہت ہی آسانی سے مختلف زبانوں میں آنے والے پیغام کا مطلوبہ زبان میں ترجمہ کر دیتا ہے۔

    اینڈرائیڈ اور ایپل آئی فون صارفین کی بڑی تعداد کی بورڈ گوگل کا ’جی بورڈ‘ یا پھر مائیکروسافٹ کا ’سوئفٹ کی‘ استعمال کرتی ہے۔

    جی بورڈ ٹرانسلیشن فنکشن اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں ڈیوائسز پر یکساں کام کرتا ہے اگرچہ سوئفٹ کی اینڈرائیڈ اور ایپل آئی فون دونوں آپریٹنگ سسٹمز پر کام کرتا ہے لیکن اس کا ٹرانسلیشن کا فیچر صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

    اینڈرائیڈ فون پر پیغامات کا ترجمہ کرنے کاطریقہ

    1۔ اگر آپ کے پاس پہلے سے جی بورڈ نہیں تو گوگل پلے اسٹور سے اسے انسٹال کرلیں۔

    2۔ سیٹنگ کو اوپن کریں، ’ Keyboard & input method‘ یا ’ Languages & input‘ سرچ کریں۔

    3۔ مینیج کی بورڈز پر کلک کرکے جی بورڈ کو ڈیفالٹ کی بورڈ بنائیں۔

    4۔ اب اپنا میسج باکس کھولیں، جب آپ جی بورڈ پر ٹائپ کریں گےتو کیز کے اوپر آپ کو ٹرانسلیشن کا آئیکون نظر آئے گا۔

    5۔ اس آئیکون پر کلک کرکے ٹرانسلیشن موڈ آن کردیں-

    6۔ اپنی مطلوبہ ان پُٹ اور آؤٹ پُٹ زبانوں کو منتخب کریں، جو پیغام بھیجنا ہے اُسے ٹائپ کریں اور ٹرانسلیٹ میسج پر کلک کردیں۔

    7۔ ترجمہ شدہ پیغام میسج کے خانے میں نظر آئے گا آپ چاہیں تو اسے آگے بھیج دیں یا اس میں ترمیم کرلیں۔

    8۔ اسی طرح جب آپ کو کسی دوسری زبان میں پیغام موصول ہو تو مطلوبہ پیغام کو کاپی کرکے ٹرانسلیشن باکس میں پیسٹ کرنا ہوگا۔

  • عام پودا جیٹروفاکرکاس میں دریافت مرکب کینسر کیخلاف لڑائی میں نیا ہتھیار

    عام پودا جیٹروفاکرکاس میں دریافت مرکب کینسر کیخلاف لڑائی میں نیا ہتھیار

    نیویارک: پوردوا یونیورسٹی اور اسکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے بہتات میں اگنے والے عام شرب جیٹروفا کرکاس سے ایک نیا مرکب نکالا ہے جو ایسے کینسر پروٹین پر اثر انداز ہوتا جو اس سے قبل کسی بھی دوا سے قابو نہیں آرہا تھا۔

    باغی ٹی وی: کینسر کے مرض میں خلیات مرتے نہیں بلکہ گچھے اور رسولی کی صورت میں جمع ہوجاتے ہیں اس کے بعد وہ بدن کے دوسرے حصے میں پھیلتے جاتے ہیں اپنی تعداد بڑھانے کے لیے کینسر کے خلیات دیگر صحت مند خلیات کے ڈی این اے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

    بعض اقسام، مثلاً دماغ، چھاتی، آنت، پھیپھڑے اور جگر کے کینسر میں بی آر اے ٹی ون (BRAT1 ) نامی پروٹین ہی ڈی این اے کے تباہی اور مرمت کے تمام معاملات کو کنٹرول کرتا ہے اس پروٹین کا علاج کرکے ان اقسام کے کینسر کو بڑی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی کہ اب تک اس پروٹین پر اثرکرنے والی کوئی دوا نہیں بنائی جاسکی ہے۔

    اس دریافت کے اہم سائنسدان پروفیسر منگجائی ڈائی نے کہا کہ جہاں تک کینسر خلیات کو مارنے اور انہیں دوسرے مقام تک روکنے کے لیے ہمارے پاس بہت سے مرکبات ہیں لیکن بی آر اے ٹی ون کو روکنے والا کوئی ادویاتی مرکب ہمارے پاس نہ تھا-

    سائنسدانوں نے کرکیوسون اے، بی، سی اور ڈی کو تجربہ گاہ میں بریسٹ کینسر کے خلیات پرآزمایا اس میں کرکیوسون ڈی بہت مؤثر دیکھا گیا جس نے سرطانی رسولی کو چھوٹا کردیا جب اسے ایک دوا ایٹوپوسائڈ کے ساتھ ملاکر استعمال کیا گیا تو مزید اچھا نتیجہ نکلا۔ واضح رہے کہ یہ دوا بریسٹ کینسر میں عام استعمال ہوتی ہے اور ایف ڈی اے سے منظورشدہ بھی ہے۔

    لیکن فی الحال ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ جیٹروفا کی جڑوں سے کرکیوسون ڈی کو نکالنا بہت مشکل ہے کیونکہ بہت ساری جڑوں سے اس کی معمولی مقدار ہی نکل پاتی ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے تجربہ گاہ میں تالیف کرنے کی کوشش کی جائے گی سائنسدان پرامید ہیں کہ اس طرح مرکب کی قدرے خاص حالت مل سکے گی –

    یاد رہے کہ جیٹروفا کرکاس امریکا بھر میں عام پایا جاتا ہے جو اس سے قبل بایوفیول کی تیاری میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اس پیڑ سے ’کرکیوسونس‘ نامی کئی مرکبات حاصل ہوئے ہیں۔ اپنی ساخت کی بنا پر یہ دیگر مرکبات سے بہت مختلف ہیں اور ان میں کئی طرح کی حیاتیاتی سرگرمیاں بھی دیکھی گئی ہیں توقع ہے کینسر کے خلاف لڑائی میں نئے ہتھیار اسی پیڑ سے حاصل ہوسکیں گے۔

  • ناموس رسالت کی حفاظت کیسے ممکن ہے ؟  ازقلم غنی محمود قصوری

    ناموس رسالت کی حفاظت کیسے ممکن ہے ؟ ازقلم غنی محمود قصوری

    ناموس رسالت کی حفاظت کیسے ممکن ہے ؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم لبوں پر آتے ہی محبت،امن اور ایمان کا احساس ہونے لگتا ہے
    یہ ایسا کسی اور ہستی کے لئے ہرگز نہیں
    میرے شفیق نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم رسالت سے پہلے بھی انسانیت کیلئے مشعل راہ تھے اور بعد از رسالت حتی کہ اگلے جہان بھی نبی ذیشان ہی کام آئینگے
    چالیس سال کی عمر مبارک میں اللہ تعالی نے آپ کو نبوت بخشی
    آپ نبوت سے پہلے ہی صادق و امین کے نام سے پکارے جاتے تھے مگر اعلان نبوت کے بعد صادق و امین کہنے والوں میں سے کچھ نے معاذاللہ آپ کو جادوگر،مجنوں اور دیوانہ تک کہا کیونکہ اعلان نبوت و دعوت و توحید سے ان لوگوں کے جعلی خداؤں کی خدائی خطرے میں پڑ گئی تھی حالانکہ وہ کہتے تھے بس ایک دعوت توحید نا دے ہم آپ کو اپنا سردار مانتے ہیں نیز جو آپ مانگیں گے ہم دینگے مگر میرے نبی نے اپنا کام دعوت و توحید جاری رکھا جس پر ان فرعونان وقت نے میرے نبی کو اذیتیں دیں ان کو تنگ کیا ان شاتمین رسول میں ابولہب، ابو جہل،امیہ بن خلف،عاص بن واصل و دیگر سرداران جہالت شامل تھے

    ان بدمعاشوں کی گستاخیوں کی میرے نبی کو سخت اذیت ہوتی مگر میرے نبی نے ان کو جواب نا دیا بلکہ رب نے ان بدبختوں کے خلاف آسمان سے آیات اتاریں اور ان کو وعید کی اللہ نے فرمایا

    یقیناً تیرا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے
    پھر فرمایا
    بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو خوگر ہو منہ در منہ طعن و تشنیع کا،اور پیٹھ پیچھے لگانے کا

    ایک اور جگہ فرمایا ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا

    تاریخ گواہ ہے کہ میرے نبی نے ان بدمعاشوں فرعونان وقت کی تمام اذیتیں برداشت کرکے ایک عظیم معاشرے کی تکمیل کا سنگ بنیاد رکھا جس میں کسی گورے کو کالے پر عربی کو عجمی پر امیر کو غریب پر فضلیت نا تھی مگر تقوی کی بنیاد پر
    یہی باتیں ان جہلا کو بری لگتی تھیں اور یہ بدمعاش نبی رحمت کو اذیتیں دیتے مگر میرے نبی رحمت نے کبھی ان کو جواب نا دیا کیونکہ رب نے فرمایا کہ

    اے محمد بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبہ پر فائز ہیں ۔۔سورہ القلم 4
    ان جہلا کو جواب نا دینے سے مراد یہ نا تھی کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب محمد معاذاللہ ان سے ڈرتے تھے بلکہ وہ حکم الہی کے مطابق ہر کام کرتے تھے اور رب کے حکم کے منتظر تھے
    حکم ربی ہوا کہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ ہجرت کریں سو نبی کریم نے حکم الہی پر ہجرت کی اور مدینہ میں جماعت اصحاب کو منظم کیا تو اللہ نے آسمان سے حکم جاری کیا کہ

    اور ان سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک کہ فتنہ ( شرک) مٹ نا جائے اور اللہ تعالی کا دین غالب نا آ جائے اگر تو یہ باز آجائیں ( شرک و توہین سے) اور رک جائیں ( تو تم بھی رک جاؤ) زیادتی تو صرف ظالموں کے لئے ہی ہے۔۔سورہ البقرہ 193

    میرے نبی کریم و اصحاب محمد نے ان فرعونان وقت کو للکارا اور ان کا خوب جم کر مقابلہ کیا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ خود کو اعلیٰ،طاقتور ترین و متکبر سمجھنے والے نبی رحمت کے آگے جان بچانے کو لیٹ گئے اور جان کی امان مانگنے لگے
    ان میں سے بہت سے مشرب اسلام ہو کر دنیا کے عظیم ترین لوگ بن گئے اور کچھ جاہل اپنی جہالت پر ڈٹے رہے مگر اب ان کو پتہ چل گیا کہ نبی ذیشان کی تلوار اور اصحاب کے آگے ان کی بات چلنے والی نہیں سو ان کی گستاخیاں بہت کم ہو گئیں
    میرے نبی نے ان کو مکہ سے نکال باہر کیا اور آج نبی کی تلوار سے نکالنے جانے پر یہ لعنتی لوگ قیامت تک اس جگہ دوبارہ داخل نا ہو سکینگے
    یہ شاتمین رسول ہر دور میں گستاخیاں کرتے آئے ہیں ان کے بڑوں کو آج بھی دنیا شاتمین رسول اور کائنات کے غلیظ ترین اور لعنتی ترین لوگوں کے طور پر جانتی ہے جبکہ میرے نبی و اصحاب کی عزت و تکریم پہلے سی ہے اور سدا رہے گی بھی
    کیونکہ حدیث نبوی ہے کہ
    مجھے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لوگ یہ گواہی نا دینے لگ جائیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ،اور نماز قائم کرنے لگیں،اور زکوۃ ادا کرنے لگیں،لہذہ جب وہ یہ کام کرنے لگیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ کرلئے مگر اسلام کے حق کے ساتھ ،اور ان کا حساب اللہ کے سپرد۔۔ البخاری 24

    اللہ رب العزت نے نبی کریم کو جب سے جہاد کا حکم دیا اس کے بعد میرے نبی نے ان کفار سے جہاد کیا اور ان کی گردنیں کاٹیں اور فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا وصال محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام اور پھر تابعین ،تبع تابعین نے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا اور ناموس رسالت کی حفاظت کی تاریخ گواہ ہے جب جب تلوار اٹھتی رہی نبی کریم کی ناموس کی حفاظت ہوتی رہی پھر مسلمانوں کو وہن نے گھیر لیا اور انہوں نے تلوار چھوڑ دی تو گستاخان رسول نے ناموس رسالت پر وار شروع کر دیئے موجودہ دور میں اسلام دوسرا بڑا دین ہے کرہ ارض پر تقریبآ 57 اسلامی ممالک موجود ہیں ایٹم بم و جدید ترین ہتھیاروں کیساتھ دنیا کی ہر معدنیات و نعمت سے آراستہ ہیں مگر افسوس کہ دن بدن نبی کریم کی ناموس پر حملے ہو رہے ہیں کبھی ڈنمارک تو کبھی ناروے کبھی برطانیہ تو کبھی فرانس ،امریکہ غرضیکہ ہر کافر ملک اپنی ناپاک حرکتوں سے ناموس رسالت پر وار کرتا آ رہا ہے حالانکہ نبی کریم نے اوائل اسلام کے دنوں میں خاموشی سے ان شاتمین رسول کو برداشت کیا جس کی حکمت اسلام کا پھیلاؤ تھا اور جماعت اصحاب کو جمع کرنا تھا مگر اعلان جہاد ہوتے ہی ان کی گردنیں اڑائیں اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا کیونکہ شاتمین رسول سے مسلمان تو مسلمان دیگر کمزور مذاہب بںی غیر محفوظ تھے
    ہم امت محمدیہ کے وارث ہیں اور نبی کریم کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہم امت محمدیہ کو نبی کریم فرما کر گئے کہ

    میں قیامت سے قبل تلوار دے کر بیجھا گیا ہوں حتی کہ اللہ واحدہ لاشریک کی عبادت ہونے لگے ۔۔مسند احمد 4869

    مگر افسوس آج ہم نے تلوار کو چھوڑ کر ناموس رسالت کیلئے احتجاج جیسے کمزور حربے کو اپنا لیا اور سمجھ بیٹھے کہ ناموس رسالت پر حملہ نہیں ہو گا
    ہماری زندگی اسوہ رسول کی محتاج ہے ہمیں ہر وقت اسوہ رسول پر چلنا ہو گا ناموس رسالت پر حملے روکنے کیلئے تلوار اٹھانی ہو گی امت محمدیہ اور تمام مسلمان ممالک کو یک جان کرکے ان کافروں کی گردنوں کو کاٹنا ہو گا اور اس کرہ ارض پر دین اسلام کا بول بالا کرنا ہو گا بصورت دیگر یہ احتجاج کچھ نا کر سکیں گے اگر احتجاج سے ناموس رسالت محفوظ ہونی ہوتی تو اس وقت میرے نبی و اصحاب محمد احتجاج کرتے مگر وہ خاموش رہے اور اعلان جہاد ہوتے ہی وار کیا جس سے کافروں کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا اور ناموس رسالت پر وار روکنے کے ساتھ ساتھ دین اسلام کو بلندی ملی

    آج ہم سب پر خاص کر مسلمان حکمرانوں پر فرض ہے کہ عیاشیاں چھوڑ کر اسلام کی سربلندی و ناموس رسالت پر وار روکنے کیلئے تلوار چلائی جائے اور فرض عین جہاد کا الم بلند کیا جائے تاکہ ناموس رسالت کی حفاظت کے ساتھ دین اسلام کا بول بالا رہے
    نیز ہم سب کو کافروں کے طرز زندگی کا بائیکاٹ کرنا،ان کی پراڈکٹس کو اپنی زندگیوں سے نکالنا لازم ہے تاکہ ان کو مالی نقصان دے کر اور تلوار چلا کر ناموس رسالت پر ہونے والے وار روکے جا سکیں
    تو آئیے عہد کریں فرانس و دیگر گستاخ ممالک کی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کریں اور احتجاج نہیں بلکہ جہاد کا نعرہ لگا کر تلوار تھام لیں کیونکہ خاموش رہنے کا جواز ہمارے پاس قطعاً نہیں
    جیسے ہمارے اسلاف نے تھامی جیسے غازی علم الدین نے تھامی
    اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

  • ایک کروڑ80 لاکھ مربع کلومیٹرسمندری علاقےکومحفوظ بنانےکیلئےعالمی منصوبہ

    ایک کروڑ80 لاکھ مربع کلومیٹرسمندری علاقےکومحفوظ بنانےکیلئےعالمی منصوبہ

    ورجینیا: ہمارے سمندروں کو کئی عارضے لاحق ہوچکے ہیں تاہم اب ان سمندروں کو محفوظ کرنےا کا ایک عالمی منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے

    باغی ٹی وی : تحقیقی ہفت روزہ جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 80 لاکھ مربع کلومیٹر سمندری علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی منصوبہ شروع کیا گیا ہے جسے ’بلیو نیچر الائنس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    بلیو نیچر الائنس میں کئی ادارے اور فلاحی تنظیمیں ہیں جو مل کر پانچ برس تک اس منصوبے پر کام کریں گی۔ ابتدا میں اہم نوعیت کے تین بحری مقامات یعنی فجی کے قریب واقع لاؤ سی اسکیپ، انٹارکٹیکا میں سدرن اوشن اور جنوبی بحرِ اٹلانٹک میں ٹرسٹان ڈی کنہا کے تحفظ اور بحالی پر کام کیا جائے گا۔
    https://twitter.com/nature/status/1383061640451604483?s=20
    بلیو نیچر الائنس میں شامل اوشن یونائٹ نامی تنظیم کی سربراہ کیرن سیک کہتی ہیں کہ ہمارے سمندر بحران کے شکار ہیں اور ان کی نوعیت بہت پیچیدہ ہے۔ عالمی منصوبے کے تحت بحری نوعیت کے اہم علاقوں کے تحفظ اور فطری مقامات کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس دوران مقامی آبادیوں کو منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔

    سائنسداں متفق ہیں کہ اگر ہمارے سمندر تندرست اور صاف رہتے ہیں تو انسان کی بقا بھی انہی سے وابستہ ہے۔ آلودگی اور پلاسٹک کا کچرا تیزی سے سمندر میں پھیل رہا ہے اور اب جانوروں کی بڑی تعداد کو ہلاک کررہا ہے۔

    ہم انسان ہر سال640,000 ٹن کچرا اور پلاسٹک سمندر میں ڈال رہے ہیں۔ ان میں ماہی گیری کے پرانے جال بھی ہیں جن میں وہیل سے لے کر کچھوے تک پھنس کر مر رہے ہیں۔

    سمندر ہمیں غذا اور دنیا کی نصف آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ پھرعالمی حدت اور کلائمٹ چینج سے سمندروں کی تپش بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب کورل ریف اور مرجانی چٹانیں تباہ ہورہی ہیں جو اکثر سمندری حیات کی نرسریاں اور گھر ہوتی ہیں۔ پھر پوری دنیا میں بحری سطح بلند ہورہی ہے اور سمندر کی لہریں ساحلوں کو کاٹ رہی ہیں۔

    معاہدے کے تحت فوری طور پر سمندری اور ساحلی علاقوں کا اہم ترین 30 فیصد حصہ بچایا جائے گا اور اس میں اقوامِ متحدہ کی تائید ومدد بھی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ بحری تحفظ والے علاقوں (مرین پروٹیکٹڈ ایریاز) یا ایم پی اے میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور مناسب وسائل خرچ کیے جائیں گے۔

    اگرچہ 2020ء تک دس فیصد عالمی سمندر کو محفوظ کرنا تھا لیکن یہ ہدف 7.65 ہی حاصل ہوسکا ۔ تاہم 1985ء سے تحفظ شدہ بحری علاقوں کی تعداد 430 سے بڑھ کر اب 18500 ہوچکی ہے جو ایک اچھا قدم ہے۔

    لیکن اب بھی بہت بڑے ایم پی ایز علاقوں میں ماہی گیری، کان کنی اور ڈرلنگ وغیرہ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے اس مشقت کے باوجود سمندری علاقوں کو تحفظ شدہ علاقے قرار دینے کی اسکیم پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان علاقوں میں مرجانی چٹانیں تیزابیت اور تباہی کی شکار ہورہی ہیں۔

    دوسری جانب اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ سمندری مسکن اور علاقوں کو بچانے سے نازک بحری حیات کا بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور وہاں نایاب جانوروں کی نسل خیزی کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے تاہم بلیو نیچر الائنس کے اس اقدام کو دنیا بھر کے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات نے مجموعی طور پرسراہا ہے۔

  • پاکستانی انڈر گریجویٹ طلبا کا کارنامہ :ملک کا پہلا مائیکرو پراسیسر ڈیزائن کر لیا

    پاکستانی انڈر گریجویٹ طلبا کا کارنامہ :ملک کا پہلا مائیکرو پراسیسر ڈیزائن کر لیا

    کراچی : آئی ٹی انجینئرنگ کے تدریسی ادارے عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے انڈر گریجویٹ طلبا نے پاکستان کا پہلا مائیکرو پراسیسر ڈیزائن کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :مائیکروپراسیسرز کی 500ارب ڈالر سے زائد کی گلوبل مارکیٹ میں اپنا مقام بنانے کے لیے پاکستان کا پہلا قدم ہے تفصیلات کے مطابق گوگل کے اشتراک سے اوپن سورس ٹیکنالوجیز کو بروئے کارلاتے ہوئے 2 سسٹم آن چپ مائکرو پراسیسرز سوئیٹزرلینڈ میں واقع عالمی ادارے کے تشکیل کردہ اوپن اسٹینڈرڈ انسٹرکشن سیٹ آرکیٹکٹ RISC-V پر مشتمل ہے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں پاکستان کی خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ مائیکروپراسیسر پاکستان کی آئی ٹی انجینئرنگ کے تدریسی ادارے عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پاکستان کی پہلی مائیکرو الیکٹرانکس ریسرچ لیبارٹری میں سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز پر ہونے والی تحقیق کا نتیجہ ہے اور پی ایچ ڈی ماہر ڈاکٹر علی احمد انصاری کی نگرانی میں انڈر گریجویٹ طلبہ نے ڈیزائن کیے ہیں۔

    پاکستان میں ڈیزائن کیے گئے یہ مائیکرو پراسیسرز گوگل کے ایک فنڈڈ پروگرام کے تحت ڈیزائن کیے گئے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں ڈیزائن ہونے والے 40 اوپن سروس پراسیسرز میں منتخب کیے گئے جو آئندہ ماہ تک چپ کی شکل میں تیار ہوکر پاکستان آجائیں گے اور پاکستان کے پہلے RISC-V مائیکرو پراسیسر ہوں گے۔

    اس پراسیسر کو براق کا نام دیا گیا ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے ایک کو ابتداء اور دوسرے کو غازی کا نام دیا گیا ہے یہ پراسیسرز انٹرنیٹ آف تھنگز پر مشتمل سلوشنز کے لیے کار آمد ہوں گے اور مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے طریقوں سے انسانی زندگی آسان بنانے والی برقی مصنوعات، گاڑیوں اور مشینوں میں نصب کیے جاسکیں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں پہلے مائیکروپراسیسرز کی تیاری کا سہرا کراچی کے نوجوان آئی ٹی ماہر ڈاکٹر علی احمد انصاری کے سر ہے جنہوں نے دنیا کے کسی بھی ملک میں سکونت اختیار کرنے کے مواقع ٹھکراتے ہوئے پاکستان آکر اپنی صلاحیتیں ملک و قوم کے لیے بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا۔

    ڈاکٹر علی احمد انصاری نے سندھ ٹیکنیکل بورڈ سے ریڈیو الیکٹرانکس میں صوبہ بھر میں میٹرک میں پہلی پوزیشن حاصل کی، ڈی جے سائنس کالج سے پری انجینئنرنگ کرکے این ای ڈی کا رخ کیا جہاں الیکٹرانکس ڈپارٹمنٹ میں داخلہ لیا اور یہاں سے بی ای الیکٹرانکس کرنے کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اسکالرشپ پر جنوبی کوریا سے الیکٹرانکس اور کمیونی کیشن انجینئرنگ میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی مکمل کیا۔

    ڈاکٹر علی احمد انصاری ہیلتھ کیئر ایڈوانس سائنس پر تحقیق کے عالمی ادارے Elsevier کے ایڈوائزری پینل کا حصہ ہیں، انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران دو ایجادات اپنے نام کیں اور ٹی وی ایل ایس آئی اور ٹی سی اے ایس جیسی فیلڈز میں ان کے تحقیقی مقابلے عالمی جریدوں کا حصہ بنے۔

    علاوہ ازیں انہیں یورپ کے بہترین ٹیلنٹ انویسٹمنٹ کمپنی انٹرپرنیورز فرسٹ کے کو ہورٹ ممبر کے طور پر منتخب کیا گیا اور برطانیہ نے انہیں گلوبل ٹیلنٹ قرار دیتے ہوئے برطانیہ کا ویزا جاری کیا۔

    پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

  • واٹس ایپ نے اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کے نوٹیفیکشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا

    واٹس ایپ نے اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کے نوٹیفیکشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا

    فیس بک کی زیرملکیت کمپنی واٹس ایپ کی جانب سے ایک بار پھر پالیسی کے حوالے سے نوٹیفکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ نے 4 جنوری 2021 کو دنیا بھر میں صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی اور اصول و ضوابط میں تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کے لیے نوٹیفکیشنز بھیجنا شروع کیے تھے کہ نئی پالیسی کا نفاذ 8 فروری سے ہوگا ورنہ ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے جائیں گے تاہم لوگوں کے شدید ردعمل پر پرائیویسی پالیسی کا اطلاق 15 مئی تک ملتوی کردیا گیا تھا۔


    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی سائٹ ویب بیٹا انفو WABetaInfo نے بتایا کہ میسجنگ ایپ میں صارفین کو نئی پالیسی کے حوالے سے آگاہ کرنے کے لیے الرٹس بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

    تاہم اس بار کمپنی کی جانب سے یہ نوٹیفکیشنز ان صارفین کو بھیجے جارہے ہیں جن کی جانب سے اب تک نئی پالیسی کو قبول نہیں کیا گیا۔

    یعنی اگر جنوری میں آپ اس طرح کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرنے کی بجائے اسے قبول کرچکے ہیں تو آپ کو دوبارہ پالیسی کے بارے میں رائے نہیں لی جائے گی۔


    فوٹوز بشکریہ ویب بیٹا انفو

    نئے نوٹیفکیشن کے اسکرین شاٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی کی جانب سے صارفین کو بتایا جارہا ہے کہ نئی پالیسی اور اصول و ضوابط کا اطلاق 15 مئی سے ہوگا۔

    کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تبدیلی کے باوجود واٹس ای میں تمام چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوں گی، جبکہ کاروباری اداروں سے چیٹ کو آسان بنایا جارہا ہے، جس کا کچھ حصہ فیس بک سے شیئر کیا جاسکتا ہے، مگر یہ آپشنل ہوگا یعنی صارف کو ہی اس کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    مزید براں صارفین کو یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کاروباری ادارے ان سے کی گئی چیٹس کا انتظام کس طرح کرتی ہے۔

    رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نئی پالیسی کو قبول نہ کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوگا مگر اس حوالے سے فروری میں ایک رپورٹ میں تفصیلات سامنے آئی تھیں۔

    معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کو اپنی مرضی اور اپنے ٹائم فریم کے تحت پالیسی کا جائزہ لینے کی سہولت فراہم کریں گے اور یاد دہانی کے لیے ایک بینر بھی ایپ پر نظر آتا رہے گا۔

    واٹس ایپ نے پرائیویسی سے متعلق یہ وضاحت ایک ای میل کے جواب میں دی جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ سہولت 15 مئی تک دستیاب رہے گی اور اس کے بعد شرائط تسلیم نہ کرنے والوں کو راضی کرنے کے لیے بتدریج مطالبہ کیا جائے گا۔

    ای میل میں مزید کہا گیا ہے کہ 15 مئی کے بعد شرائط تسلیم نہ کرنے والے ایپ پر آنے والے میسیجز نہیں پڑھ سکیں گے تاہم انہیں مختصر وقت کے لئے نوٹیفکیشن اور کالز موصول کرنے کی سہولت میسر رہے گی۔

    ای میل کے مطابق یہ ‘مختصر وقت’ کئی ہفتوں کا ہوگا جبکہ ایف اے کیو کا نیا پیج کا لنک بھی دیا گیا جس میں ایسے صارفین کے حوالے سے اقدامات کی تفصیلات دی گئی ہے۔

    کمپنی کی جانب سے غیرمتحرک کیے جانے والے صارفین کو 15 مئی کے بعد بھی نئی پالیسی یا اپ ڈیٹس کو قبول کرنے کی سہولت دی جائے گی اور ان کے میسجز بحال کردیئے جائیں گے۔

    ایسے غیرمتحرک صارفین کے حوالے سے واٹس ایپ کی پالیسی میں واضح کیا گیا کہ اکاؤنٹس عام طور پر غیرمتحرک ہونے کے 120 دن بعد ڈیلیٹ کیے جاتے ہیں۔

    واٹس ایپ کا صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع

    واٹس ایپ چیٹ کو محفوظ بنانے کے چار طریقے

  • اسوس کمپنی منفرد کیمرے کیساتھ نئے فلیگ شپ فون متعارف کرانے کیلئے تیار

    اسوس کمپنی منفرد کیمرے کیساتھ نئے فلیگ شپ فون متعارف کرانے کیلئے تیار

    تائیوان کی کمپنی اسوس اپنے نئے فلیگ شپ فون متعارف کرائے گی-

    باغی ٹی وی : کمپنی نے اگست 2020 میں اپنے فلیگ شب زین فون 7 اور 7 پرو متعارف کرائے تھے جن میں کیمرا سسٹم پر خاص طور پر توجہ دی گئی تھی کمپنی نے زین فون 7 سیریز میں اپنے پرانے فونز میں دیئے گئے فلپ اپ کیمرے کو پہلے سے بہتر بناکر نئی ڈیوائسز کا حصہ بنایا۔

    دونوں میں سیلفی کیمرا نہیں تھا بلکہ بیک فلپ کیمرا سسٹم ہی سیلفی لینے میں مدد دیتایہ بیک فلپ کیمرا سسٹم 3 کیمروں پر مشتمل تھا-

    تاہم اب یہ کمپنی اپنے نئے فلیگ شپ فون متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

    جی ایس ایم ارینا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسوس کمپنی 12 مئی کو ایک ایونٹ میں نئے فونز متعارف کرائے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے کمپنی نے ایک خصوصی ویب سائٹ بھی تیار کی ہے۔

    کمپنی کے مطابق اس بار صارفین کو زیادہ بہترین کارکردگی اور کامپیکٹ سائز کی توقع رکھنی چاہیے۔

    فوٹو بشکریہ جی ایس ایم ارینا

    فون کے بارے میں زیادہ تو علم نہیں مگر اسنیپ ڈراگون 888 پراسیسر دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ اس بار زین فون 8 اور 8 پرو کے ساتھ 8 منی بھی یش کیا جاسکتا ہے۔

    جی سی ایم ارینا کے مطابق اس سیریز میں 8 سے 16 جی بی ریم دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ اینڈرائیڈ 11 آپریٹنگ سسٹم موجود ہوگا۔

    ڈیوائسز میں 120 ہرٹز ریفریش ریٹ موجود ہوگا جبکہ پی ٹی زی کیمرا سسٹم اس بار بھی کیمرا سسٹم منفرد ہوگا یا کم از کم تصویر پر 8 کے ہندسے یہی عندیہ ملتا ہے۔

  • ایک ساتھ 30 سے زائد خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر لوٹنے والا جعلساز گرفتار

    ایک ساتھ 30 سے زائد خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر لوٹنے والا جعلساز گرفتار

    ٹوکیو: جاپانی پولیس نے گزشتہ دنوں ایک ہی وقت میں 35 الگ الگ خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر قیمتی تحفے بٹورنے والے شخص کو گرفتار کیا ہے-

    باغی ٹی وی :’سورا نیوز 24‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جاپان کے علاقے کنسائی کا 39 سالہ رہائشی تاکاشی میاگی پچھلے دو سال سے خواتین کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ان سے قیمتی تحفے تحائف بٹور رہا تھا۔

    مبینہ طور پر اس نے اپنی کارروائیوں کا سلسلہ تب شروع کیا جب وہ غسل خانے اور شاور سے متعلق مصنوعات بنانے والی ایک کمپنی کی مختلف چیزیں گھر گھر جا کر فروخت کیا کرتا تھا جو عام طور پر خواتین کےلیے ہوتی تھیں۔

    اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاکاشی میاگی نے خاص طور پر ادھیڑ عمر خواتین کو دوست بنانا شروع کیا، جن میں سے بیشتر یا تو غیر شادی شدہ تھیں یا پھر اُن کی ازدواجی زندگی میں کڑواہٹ گھلی ہوئی تھی۔

    تاکاشی میاگی نے ان میں سے ہر خاتون کو یقین دلایا کہ وہ اس سے پوری طرح مخلص اور سچا دوست ہے ان خواتین کی عمریں 40 سے 47 سال تک بتائی گئی ہیں جبکہ جاپانی پولیس کے مطابق ان خواتین کی تعداد کم از کم 35 ہے۔

    میاگی نے ان میں سے ہر خاتون کو اپنی مختلف تاریخِ پیدائش بتائی اور اپنی سالگرہ کے بہانے ان سے قیمتی تحفے تحائف لیتا رہا۔

    پولیس کے مطابق، وہ ان تمام عورتوں سے مجموعی طور پر ایک لاکھ ین (ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) مالیت کے تحائف لے چکا ہے جن میں میں تقریباً 30 ہزار ین جتنی مالیت کا ایک قیمتی سوٹ بھی شامل ہے۔

    دلچسپی کی بات یہ ہے کہ میاگی کو پکڑوانے کےلیے اس کی جھوٹی محبت کا نشانہ بننے والی خواتین نے پولیس کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی کیونکہ وہ اس فراڈیئے سے واقف ہوچکی تھیں اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہتی تھیں۔

    فی الحال جاپانی پولیس میاگی سے تفتیش کررہی ہے تاکہ مزید خواتین کے بارے میں جان سکے جنہیں وہ اپنی محبت کے جال میں پھانس کر تحفے بٹور چکا ہے۔
    https://youtu.be/-UAmRRnfC8U

  • فیس بک نیوز فیڈ کو بہتر بنانے کے لئے صارفین کی مدد کی خواہاں

    فیس بک نیوز فیڈ کو بہتر بنانے کے لئے صارفین کی مدد کی خواہاں

    فیس بک نے نیوز فیڈ میں صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے صارفین سے مدد چاہتی ہے۔

    باغی ٹی وی :فیس بک نیوز روم کے مطابق آئندہ چند ماہ کے دوران کمپنی کی جانب سے لوگوں سے ان کو نظر آنے والی پوسٹس پر فیڈبیک اکٹھا کیا جائے گا لوگوں کی رائے کو نیوز فیڈ میں مواد دکھانے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    اس مقصد کے لیے فیس بک کی جانب سے عالمی سطح پر لوگوں سے سروے کرکے سمجھا جائے گا کہ کونسی پوسٹس متاثر کن ہوتی ہیں، جو کمپنی کے بقول لوگ اپنی نیوزفیڈ پر زیادہ دیکھنا چاہتے ہیں۔


    اس کے بعد کمپنی کی جانب سے اس طرح کا مواد نیوزفیڈ پر اوپر دکھانے پر کام کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ فیس بک کی جانب سے لوگوں سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ کونسے مخصوص موضوعات کی پوسٹس اپنی فیڈ پر زیادہ یا کم دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بلاگ میں بتایا گیا کہ اگرچہ نیوزفیڈ کی پوسٹس صارف کے فرینڈز، گروپس اور پیجز (جن کو وہ فالو کرتا ہے) کی ہوتی ہیں، مگر ہم جانتے ہیں کہ قریبی دوست اور گھروالے بھی ایسی پوسٹس شیئر کرتے ہیں جن میں آپ کو دلچسپی نہیں ہوتی، یا آپ ان کو دیکھنا نہیں چاہتے۔

    فیس بک نے یہ بھی بتایا کہ وہ لوگوں کی جانب سے نیوزفیڈ پر سیاسی مواد کے حوالے سے بھی رائے حاصل کرے گی۔

    کمپنی کے مطابق یہ ایک حساس شعبہ ہے تو آئندہ چند ماہ کے دوران ہماری جانب سے یہ سمجھنے ہر کام کیا جائے گا کس طرح کا مواد منفی تجربات سے منسلک ہے، مثال کے طور پر ایسی پوسٹس کو دیکھا جائے گا جن پر اینگری ری ایکشنز بہت زیادہ تعداد میں ہو اور پوچھا جائے گا کہ کس طرح کی پوسٹس لوگ کم دیکھنا چاہتے ہیں۔

    کمپنی کی جانب سے ایک نئے ڈیزائن کی آزمائش کی جائے گی جس میں صارفین اوپر دائیں کونے میں ایکس پر کلک کرکے کسی پوسٹ کو نیوز فیڈ سے ہائیڈ کرسکیں گے۔

    فیس بک نے نیوز فیڈ سے متعلق نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    فیس بک پوڈ کاسٹ پر مشتمل نیا فیچر متعارف کرائے گی

    فیس بک نے رمضان المبارک سے متعلق نیا فیچر متعارف کرا دیا

    فیس بک کی مختلف گروپس کیلئے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے فیچر کی آزمائش

    فیس بک نے نفرت اور نسل کی بنا پر نازیبا جملوں کو روکنے کا ایک اہم ٹول پیش کردیا