Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    بیجنگ: چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور موڈیول) جمعرات کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

    باغی ٹی وی :یہ خلا میں انسانوں کے قیام اور مختلف معاملات کی کھوج کے چین کے بلند عزائم کا ایک اہم سنگ میل ہے’تیانہے‘ نامی اس موڈیول میں 3 افراد کی رہائش کے لیے کوارٹر موجود ہیں اور اسے 28 اپریل کو لانگ مارچ 5 بی راکٹ سے لانچ کیا گیا۔

    یہ خلائی اسٹیشن 2022 تک مکمل فعال ہونے کی توقع ہے اور اس سے قبل 10 مشنز کے ذریعے زمین کے مدار میں اسپیس اسٹیشن کے مزید حصے بھیج کر اسمبل کیے جائیں گے۔

    تاہم 28 اپریل کو لانچ کے بعد خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور موڈیول) جمعرات کو کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق 29 اپریل کی رات 11 بجکر 11 منٹ پر چین کی وین چھانگ اسپیس لانچ سائٹ سے چینی خلائی اسٹیشن کا مرکزی ماڈیول کامیابی سے لانچ کیا گیا جسے چین کی جانب سے خلائی مشن کے نئے دور میں کامیابی کا اعلان قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ اب تک زمین کے گرد مدار میں کئی چھوٹی موٹی تجربہ گاہیں بھیجی جاچکی ہیں لیکن صحیح معنوں بڑے خلائی اسٹیشنوں کی تعداد صرف 2 رہی ہے: سابق سوویت یونین کا ’میر‘ اور امریکی قیادت میں ’بین الاقوامی خلائی اسٹیشن‘ (آئی ایس ایس)۔ اس طرح چین وہ تیسرا ملک ہوگا جو تنِ تنہا ایک بڑا خلائی اسٹیشن زمین کے گرد مدار میں پہنچائے گا۔

    چینی خلائی اسٹیشن کے مرکزی ماڈیول کا نام ’تیانہے‘ رکھا گیا ہے جس کی مجموعی لمبائی 16.6 میٹر، قطر 4.2 میٹر اور ٹیک آف کے وقت وزن 22.5 ٹن ہے۔

    یہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن کے انتظام اور کنٹرول کا مرکزی حصہ ہے جس میں تین خلانورد سائنسی تحقیق کےلیے طویل عرصے تک قیام کرسکیں گے۔

    ’تیانہے‘ کے خلاء میں پہنچ جانے کے بعد خلائی اسٹیشن کےلیے نئی ٹیکنالوجیز، مثلاً روبوٹ بازو، کی جانچ پڑتال اور توثیق کی جائے گی اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا تو آئندہ ماہ چینی خلانورد اس ماڈیول تک بھیجے جائیں گے جو اس کے باہر کئی طرح کی اہم سرگرمیاں انجام دیں گے۔

    چینی خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی منصوبے کے مطابق 2021 سے 2022 کے دوران 11 خلائی پروازوں کے ذریعے ’تیانگونگ 3‘ کے دیگر ماڈیولز، ضروری ساز و سامان اور عملہ وغیرہ بھیجے جائیں گے۔

    2022 تک مدار میں اپنی تکمیل مکمل کرنے کے بعد، چین کا یہ خلائی اسٹیشن مسلسل پندرہ سال تک مقررہ مدار میں رہتے ہوئے کام کرسکےگا۔

    امریکی جریدے ’سائنٹفک امریکن‘ کے مطابق ’تیانگونگ 3‘ میں سائنسی تجربات کےلیے اندرونی طور پر 14 الماریاں نصب کی جائیں گی جبکہ بیرونی حصے میں 50 ایسے مقامات (ایکسٹرنل ڈاکنگ پوائنٹس) مخصوص ہوں گے جہاں خلائی تحقیق سے متعلق آلات منسلک کیے جاسکیں گے۔

    خلائی تحقیق کے چینی ادارے نے ’تیانگونگ 3‘ میں انجام دینے کےلیے تقریباً 100 تجربات ابھی سے منتخب کرلیے ہیں جن میں 9 بین الاقوامی خلائی تحقیقی تجربات بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ چین کی جانب سے خلائی کھوج کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ٹیکنالوجی پیشرفت بھی کی جارہی ہےچین کے خلائی پروگرام نے حال ہی میں چاند کی سطح کے نمونے واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ آئندہ ماہ مریخ پر اس کا مشن لینڈ ہونے کی توقع ہے۔

    خلائی اسٹیشن کے موڈیول کو بھیجنے کے مشن کو روانہ ہوتے ہوئے بیجنگ میں چینی وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ قیادت نے لائیو دیکھاچین کا یہ اسپیس اسٹیشن مکمل ہونے پر زمین کے زیریں مدار میں 15 سال تک موجود رہے گا۔

    کم از کم 12 خلابازوں کی جانب سے پرواز اور اسٹیشن میں رہنے کی تربیت حاصل کی جارہی ہے جبکہ چین کا پہلا انسان بردار مشن جون میں بھیجے جانے کا امکان ہے2022 کے آخر تک مکمل ہونے پر ٹی شکل کے اس اسپیس اسٹیشن کا وزن 66 ٹن ہوگا جو کہ موجودہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے چھوٹا ہےچین کی جانب سے اپنے اسپیس اسٹیشن کو آئی ایس ایس کی طرح استعمال کرنے کا منصوبہ تو نہیں مگر چینی حکام کا کہنا ہے کہ گیرملکی شراکت داری کی راہ کھلی ہے۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • پاکستان میں موبائل ٹیلیفونی اسپیکٹرم کی نیلامی جون میں کئے جانے کا امکان

    پاکستان میں موبائل ٹیلیفونی اسپیکٹرم کی نیلامی جون میں کئے جانے کا امکان

    موبائل ٹیلیفونی اسپیکٹرم کی نیلامی جون میں کئے جانے کا امکان-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق کنسلٹنٹ کا کہنا ہے کہ موبائل ٹیلیفونی اسپیکٹرم کی نیلامی پاکستان میں کامیابی ہوگی کیونکہ یہاں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ایڈوائزری کمیٹی کے فنانس ڈویژن میں ہونے والے اجلاس میں ایک کنسلٹنٹ کی جانب سے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) اسپکٹرم سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے دوران کمیٹی نے اسپیکٹرم کی فروخت کی منظوری دے دی کنسلٹنٹ آگلے مرحلے میں سٹیک ہولڈرز سے ملاقات کریں گے اور انہیں نیلامی کے عمل کے حوالے سے بریف کریں گے اوراس کے بعد اگلے مرحلے میں کنسلٹینٹ نیلامی سے متعلق طریقہ کار پر مبنی معلوماتی یادداشت پیش کریں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن سید امین الحق، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد، متعلقہ وفاقی اداروں کے سیکریٹریز، چئیرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آف فریکوئنسی الوکیشن بورڈ (ایف اے بی) اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

    وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اسپیکٹرم کی فروخت ملک بھر میں مواصلات اور آئی ٹی سروس کے فروغ اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    کنسلٹنٹ کی جانب سے کمیٹی کو 1800میگا ہرٹس اور 2100 میگا ہرٹس بانڈز کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی بتایا گیا کہ ‘اسپیکٹرم نیلامی 21-2020’ میں سرمایہ کاروں کے لیے مستقل مزاجی پر مرکوز اور موبائل بروڈ بینڈ کے پھیلاؤ کے باعث پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

    کنسلٹنٹ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں براڈ بینڈ اور ٹیلیفونی کی ترقی کی نمایاں صلاحیت موجود ہے اور موجودہ چار سیلولر کمپنیاں ترقی کے مواقع کو بروئے کار لانے کے لیے اضافی اسپیکٹرم حاصل کرنے کی خواہاں ہیں اسپکٹرم کی نیلامی کامیاب ثابت ہوگی جس سے حکومتی ریونیو پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

  • ٹوئٹر کا کوویڈ 19 ویکسینز فیکٹ باکس کو صارفین کی ٹائم لائن کا حصہ بنانے کا فیصلہ

    ٹوئٹر کا کوویڈ 19 ویکسینز فیکٹ باکس کو صارفین کی ٹائم لائن کا حصہ بنانے کا فیصلہ

    مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے ٹوئٹرمیں صارفین کے لیے کوویڈ 19 ویکسینز فیکٹ باکس کو صارفین کی ٹائم لائن کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر سپورٹ نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کوویڈ 19 ویکسینیشن اب عام ہوتی جارہی ہے، تو اس کو دیکھتے ہوئے ہم نے ضروری سمجھا کہ آپ کے ملک میں ویکسین کی تازہ ترین تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1386676306369253378?s=20

    کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کی ٹائم لائن کے اوپر کوویڈ 19 ویکسینز کی تفصیلات دیکھی جاسکیں گی ان تفصیلات میں لوگوں کو ویکسینز کے محفوظ ہونے اور افادیت کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور یہ تفصیلات طبی ماہرین کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل یوٹیوب نے بھی 27 اپریل کو کوویڈ 19 ویکسین پی ایس ایز کو نشر کرنے کا اعلان کیا تھا ان ویڈیوز میں ایسی تمام چیزوں کو ہائی لائٹ کیا جائے گا جو لوگ وبا کے خاتمے کے بعد جاننا چاہتے ہوں گے۔

    دوسری جانب فیس بک کی جانب سے نوٹیفکیشنز کے ذریعے لوگوں کو اس وقت آگاہ کیا جائے گا جب اس علاقے میں تمام بالغ افراد کے لیے ویکسینیشن کو اوپن کردیا جائے گا۔

    کمپنی کی جانب سے فی الحال یہ فیچر امریکا میں دستیاب ہے مگر جلد دیگر ممالک تک اسے توسیع دی جائے گی۔

  • ٹیلیگرام میں صارفین کے لیے متعدد نئے فیچرزمتعارف

    ٹیلیگرام میں صارفین کے لیے متعدد نئے فیچرزمتعارف

    میسجنگ ایپ ٹیلیگرام نے صارفین کے لیے متعدد نئے فیچرز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جن میں وائس چیٹ میں ویڈیو سپورٹ، پیمنٹس 2.0، شیڈولنگ وائس چیٹس، وائس چیٹس کے لیے منی پروفائلز، نیا ویب ورژن اور دیگر شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : ٹیلیگرام کی جانب سے جاری بلاگ میں ان تمام اپ ڈیٹس کی تفصیلات بتائی گئیں ان اپ ڈیٹس میں وائس چیٹ میں ویڈیو کانفرنسنگ سپورٹ، سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ میسجنگ ایپ مائیکرو سافٹ ٹیمز، زوم اور گوگل میٹ کو ٹکر دینے کی کوشش کررہی ہے۔


    یہ فیچر آئندہ چند ہفتوں میں صارفین کو دستیاب ہوگا۔


    اپ ڈیٹ پیمنٹ 2.0 کے تحت کسی بھی چیٹ میں کریڈٹ کارڈ سے ادائیگیوں کے لیے سپورٹ فراہم کی جائے گی اس مقصد کے لیے 8 تھرڈ پارٹی پیمنٹ سروسز کو ٹیلیگرام میں ایڈ کیا جارہا ہے جبکہ صارفین کو ایپ میں کسی خریداری پر طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے گا اسی طرح ٹیلیگرام کی کسی بھی ایپ بشمول ڈیسک ٹاپ سے بھی ادائیگیاں کی جاسکیں گی۔


    ٹیلیگرام کی جانب سے اب گروپس اور چینیلز کے ایڈمنز کو وائس چیٹس شیڈول کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے شیڈول وائس چیٹ پر رنگا رنگ کاؤنٹ ڈاؤن دکھایا جائے گا اور صارفین کے پاس آپشن ہوگا کہ واٹس چیٹ شروع ہونے پر ایک نوٹیفکیشن موصول کرسکیں گے۔


    ٹیلیگرام کی جانب سے صارفین کے لیے منی پروفائلز کے ذریعے یہ جاننا بھی آسان بنایا جارہا ہے کہ وہ کس سے وائس چیٹ کررہے ہیں اس اپ ڈیٹ کے ذریعے صارفین پروفائل پکچرز اور بائیو کو وائس چیٹ ونڈو سے نکلے بغیر دیکھ سکیں گے۔


    ٹیلیگرام کی جانب سے 2 ویب ایپس کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے جس میں مختلف فیچرز جیسے انیمٹڈ اسٹیکرز، ڈارک موڈ، چیٹ فولڈز اور دیگر موجود ہوں گے ٹیلیگرام ویب K اور ویب Z محض 400 کے بی حجم کی ایپس ہوں گی اور اسٹینڈ آلون ایپس کے طور پر کام کریں گی۔


    دیگر فیچرز میں چیٹ میں تصاویر اور ویڈیوز کو انگلیوں سے زوم کرنے کا آپشن بھی قابل ذکر ہے جبکہ آئی او ایس میں ویڈیو کو 15 منٹ فاسٹ فارورڈ اور ریوائنڈ بھی کیا جاسکے گا اینڈرائیڈ میں اسکرین کو دائیں یا بائیں سائیڈ کو دبا کر رکھ کر ایسا کیا جاسکے گا اور 10 سیکنڈ فارورڈ یا ریوائنڈ کیا جاسکے گا۔


    ٹیلیگرام کو اب اینڈرائیڈ صارفین پلے اسٹور کی بجائے براہ راست ٹیلی گرام ڈاٹ او آر جی سے بھی ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے بلکہ وہاں کئی دن یا ہفتے پہلے نئے ورژن کو بھی انسٹال کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر اپنی چیٹ باآسانی منتقل کرنے کا طریقہ

    دنیا بھر میں جن خدشات کا ڈر تھا سامنے آنا شروع ہو گئے،ٹیلی گرام پرفیس بک کے 50…

  • مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے  محققین

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے محققین

    محقیقن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعےبحیرہ مردار کے قریب غاروں سے سکرولزکی صورت میں برآمد ہونے والی پراسرار قدیم دستاویزات کا راز جان لیا ہے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کے مطابق محققین نے ان قدیم طوماروں کے مخطوطات میں سے ‘عظیم كتاب أشعيا’ کہلانے والی دستاویز پر تجربات کیے تھے جن سے پتہ چلا کہ شاید دو نامعلوم افراد نے قدیم زمانے میں اُس وقت کی زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ کی ہُو بہُو نقل تیار کی تھی۔

    ان قدیم مخطوطات جو کے طومار کی صورت میں یعنی گول لپٹے ہوئے کاغذات کی صورت میں غاروں میں ملے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک انجیل کے عہد نامہِ قدیم کا ایک نُسخہ ہے 70 برس پہلے برآمد ہونے والے یہ مخطوطات آج کے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہیں اور ابھی تک راز ہی بنے ہوئے ہیں-

    ان قدیم مخطوطات کا ایک حصہ بحیرہِ مردار کے قریب قمران نامی پہاڑ کے ایک غار سے مقامی بدوؤں کو ملا تھا اب غرب اردن کے یہ پہاڑ اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    ان میں زیادہ تر ایسے مسودے ہیں جو عبرانی، آرامی اور یونانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تیسری صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق بنتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق كتاب أشعيا ان 950 مختلف مخطوطات میں سے ایک ہے جو ان غاروں سے سنہ چالیس اور سنہ پچاس کی دہائیوں میں ملے تھے۔ یہ مخطوطہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے 54 کالم نصف حالت میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک ہی انداز سے لکھے گئے ہیں۔

    ہالینڈ میں یونیورسٹی آف گرونینجن کے محققین نے كتاب أشعيا کے جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت اس وقت سب سے زیادہ جدید اور نمونوں کو سمجھنے کے طریقے کا استعمال کیا۔ انھوں نے عبرانی زبان کے ایک حرف ‘الف’ کا تجزیہ کیا جو کہ اس کتاب میں 5000 مرتبہ درج تھا۔


    فوٹو بشکریہ بی بی سی اردو

    محققین ملادن پوپووچ، معرو ف ضالع اور لمبرٹ شومیکر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ وہ اس قدیم روشنائی کے نشانات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ڈیجیٹل امیجز پر ظاہر ہوئے تھے۔

    ان محققین کے مطابق قدیم روشنائی کے نشانات کسی بھی شخص کے بازو اور ہاتھوں کے پٹھوں کی حرکات و سکنات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ ہر فرد کے اپنے انداز کی مخصوص ہوتی ہیں انھوں نے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا ایک مخطوطے کے لکھنے میں ایک سے زیادہ افراد شامل تھے اس طریقے کا استعمال کیا۔

    محققین کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ دو کاتبین مل جل کر کام کرتے رہے تا کہ وہ ایک جیسا طرز تحریر برقرار رکھ سکیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی منفرد خصوصیت کو بھی ظاہر کر سکیں۔

    محققین کے مطابق کتابت میں یکسانیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کاتبین کو کسی ایک مدرسے یا ایک خاندان میں ایک جیسی تربیت دی گئی ہو، مثال کے طور پر دونوں کو ان کے والد نے لکھنے کی تربیت دی ہو کاتبوں کی ایک دوسرے کی نقل کرنے کی صلاحیت اتنی بہترین تھی کہ اب تک کے کئی ماہرین ان دو کاتبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھ سکے تھے-

    معروف ضالع نے اس تحقیق کا پہلا تجزیاتی ٹیسٹ کیا ٹیکسٹوریل اور ایلوگرافک خصوصیات کے ان کے تجزیہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ عظیم كتاب أشعيا کے طومار میں متن کے 54 کالم دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں تُکّے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے کلسٹرڈ منظم انداز میں بنے ہوئے تھے۔

    اس تبصرہ کے ساتھ کہ اس طومار کے ایک سے زیادہ کاتب ہو سکتے ہیں، ضالع نے ان اعداد و شمار کو اپنے ساتھی محقق شومیکر کے حوالے کیا، جنھوں نے اب حروف کے ٹکڑوں کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے کالموں کے مابین مماثلتوں کا جائزہ لیااس دوسرے تجزیاتی مرحلے نے دو مختلف کاتبوں کے ہونے کی تصدیق کردی-

    عظیم کتاب اشعیا کا یہ تجزیہ اور اس مخطوطے کی کتابت میں دوسرے کاتب کی شناخت کرنے میں کامیابی اب یہ قمران سے ملنے والے دوسرے قدیم مخطوطوں کا تجزیہ کرنے کے بھی نئے امکانات کھولتی ہے۔

    اب محققین دونوں کاتبوں کے لکھے ہوئے طومار کی تحریروں کے مائکرو لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور احتیاط سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ان مخطوطات پر کس طرح کام کیا۔

    پوپووچ کے مطابق یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع بنتا ہے جو ماہرین اور محققین کے مابین ان کاتبوں کے درمیان بہت زیادہ پیچیدہ روابط کا انکشاف کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مطالعے میں ہمیں ایک بہت ہی ایک جیسے طرز تحریر کے شواہد ملے ہیں جو عظیم اشعیا کے اسکرول کے مشترکہ دو کاتبوں کی ایک جیسی تربیت یا اصلیت کا پتہ دیتے ہیں ہمارا اگلا مرحلہ دیگر طومار کی تحقیقات کرنا ہے، جہاں ہمیں ان کے مختلف کاتبوں کی ابتدا یا تربیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

    اس طرح سے ہمیں ان معاشروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی جنھوں نے بحیرہ مردار کے طومار تیار کیے تھے اب ہم مختلف لکھنے والوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے نام کبھی نہیں جان پائیں گے لیکن 70 سال کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر ہم ان کی لکھاوٹ کے ذریعہ ان سے مصافحہ کر لیں گے۔

  • مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر ’انجینیٹی‘ کی تیسری کامیاب پرواز

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر ’انجینیٹی‘ کی تیسری کامیاب پرواز

    پیساڈینا، کیلیفورنیا: مریخ پر ناسا کے ’انجینیٹی‘ ہیلی کاپٹر کی پروازوں کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے، پہلی دو پروازوں کے بعد تیسری پرواز بھی کامیابی سے مکمل ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : جیٹ پروپلشن لیبارٹری، ناسا کے مطابق تیسری پرواز میں ’انجینیٹی‘ ہیلی کاپٹر 5 میٹر (16 فٹ) کی بلندی تک پہنچا۔ اپنی دوسری پرواز میں بھی یہ اتنی ہی اونچائی تک پہنچا تھا۔

    البتہ، پاکستانی وقت کے مطابق 25 اور 26 اپریل 2021 کی درمیانی رات ہونے والی اس تجرباتی پرواز میں ’انجینیٹی‘ نے اضافی طور پر 50 میٹر (164 فٹ) کا فاصلہ بھی طے کیا، جس کے بعد وہ اسی جگہ آکر واپس اتر گیا کہ جہاں سے اُس نے اُڑان بھری تھی۔

    اس پرواز کے دوران انجینیٹی کی رفتار 2 میٹر فی سیکنڈ (7.2 کلومیٹر فی گھنٹہ) رہی جو بلاشبہ خاصی تیز قرار دی جاسکتی ہے۔

    جیٹ پروپلشن لیبارٹری نے یوٹیوب پر انجینیٹی ہیلی کاپٹر کی تیسری تجرباتی پرواز کی ویڈیو بھی جاری کردی ہے جو ایک منٹ 16 سیکنڈ کی ہے۔

    مریخ پر موجود گاڑی ’پرسیویرینس روور‘ کے ’ماسٹ کیم زی‘ سے بنائی گئی اس ویڈیو میں انجینیٹی ہیلی کاپٹر کو دائیں جانب پرواز کرکے کیمرے کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے، اور کچھ دیر بعد واپس آکر اترتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    اس دوران انجینیٹی ہیلی کاپٹر پر نصب کیمرے سے بھی ارد گرد کی کچھ تصویریں کھینچی گئی ہیں جن میں سے کچھ جیٹ پروپلشن لیبارٹری نے اپنی پریس ریلیز میں بھی شامل کی ہیں۔

    آنے والے دنوں میں مزید آزمائشی پروازوں کے ذریعے انجینیٹی ہیلی کاپٹر کی کارکردگی کے بارے میں مزید اطمینان کرنے کے بعد اس کا مشن آگے بڑھاتے ہوئے مریخ کے وسیع تر علاقے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    19 اپریل کے روز انجینیٹی کی پہلی تجرباتی پرواز کی تھی یہ پرواز اگرچہ صرف چند سیکنڈوں پر محیط تھی لیکن یہ بلاشبہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے یوٹیوب پر یہ ساری کارروائی یوٹیوب پر لائیو اسٹریم کے ذریعے نشر کی جسے سوا لاکھ سے بھی زائد افراد نے دنیا بھر میں دیکھا تھا-

    بعد ازاں 22 اپریل کو دوسری پرواز کی پہلی کے مقابلے میں یہ پرواز نہ صرف زیادہ دیر تک جاری رہی بلکہ اس دوران یہ ہیلی کاپٹر زیادہ اونچائی تک پہنچا جبکہ اس نے فضا میں معمولی سا جھکتے ہوئے دائیں اور بائیں حرکت بھی کی۔

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ کے مطابق، انجینیٹی نے ’مریخی وقت‘ کے حساب سے وہاں اپنے 18 ویں دن (18 ویں سول) یہ پرواز کی، جبکہ زمین پر 22 اپریل کا دن تھا۔

    انجینیٹی ہیلی کاپٹر کی دوسری پرواز 51.9 سیکنڈ تک جاری رہی جبکہ اس دوران اس نے خود کو صرف 5 ڈگری کے معمولی زاویئے پر جھکاتے ہوئے (اُڑتے دوران) دائیں بائیں معمولی حرکت بھی کی اور اپنی اصل جگہ پر واپس آگیا۔

    اپنی دوسری پرواز میں یہ ’ننھا مریخی ہیلی کاپٹر‘ 16 فٹ کی بلندی تک پہنچا اور ایک جانب 7 فٹ ہٹنے کے بعد واپس اپنے پہلے مقام پر آگیا جبکہ پرواز مکمل ہونے پر وہ ٹھیک اسی جگہ دوبارہ اُترا کہ جہاں سے اس نے پرواز کی تھی۔

    مریخ کی ’مارس روور‘ بھی انسانوں کی طرح ’سیلفی بخار‘ میں مبتلا

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر’انجینیٹی‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

    ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

  • ’کے نیکٹ‘  ہاتھ میں پہنا جانے والا پاور بینک

    ’کے نیکٹ‘ ہاتھ میں پہنا جانے والا پاور بینک

    آج کے تیز رفتار دور میں ہمہ وقت فون چارجر یا پاوربینک ساتھ رکھنا پڑتا ہے لیکن اب ہاتھ میں پہنا جانے والا ایک کڑا پاور بینک اور چارجر کا متبادل ثابت ہوسکتا ہے جسے ’’کے نیکٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    انڈی گوگو کے مطابق آج کل کے تیز رفتار دور میں بالخصوص سفر کے دوران فون چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور اسی مشکل کے پیشِ نظر ہاتھوں میں پہنا جانے والا ایک کڑا بنایا گیا ہے جو پاوربینک کا کام دیتا ہے۔ اس کے برخلاف روایتی پاور بینک بھاری بھرکم اور تاروں سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ کے نیکٹ ایک پاکٹ چارجر کا کام کرتا ہے۔


    اس کڑے کی بدولت بجلی کے پلگ، تاروں اور جارچر وغیرہ سے خلاصی مل جاتی ہے۔ کے نیکٹ ایک دھاتی کڑا ہے جو پانچ رنگوں اور تین سائز میں دستیاب ہے۔ اس چارجر کو ایک زیور کی طرح کلائی پر پہنا جاسکتا ہے۔ یہ کڑا آئی فون اور آئی پیڈ کے تمام ماڈل کے لیے کارآمد ہے۔ کے نیکٹ کی گنجائش 2000 ایم اے ایچ ہے۔

  • توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا       بقلم:جویریہ بتول

    توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا بقلم:جویریہ بتول

    توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).

    ہم گزشتہ سال سے ایک اضطراب،وہم اور پریشانی کی کیفیت میں مبتلا ہیں…
    کورونا وائرس کی وبا نے اپنے شکنجے میں کس کر ہر اعتبار سے ہمیں مفلسی کی طرف دھکیلا ہے…وہ تعلیمی اداروں کے بے ترتیب شیڈول ہوں یا کاروبارِ زندگی کے دیگر مرحلے…خوشی و غمی کے مواقع متاثر ہو کر رہ گئے…غریب و دیہاڑی دار طبقہ کام نہ ملنے کی وجہ سے پریشان دکھائی دینے لگا…بڑے کاروباروں کو بھی دھچکا لگا…
    ہم عبادت گاہوں سے بھی دُور ہوئے…
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس دوران ہم نے اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کی…تنہائی کے یہ لمحات ہمیں اپنے دریدہ دامن رفو کرنے پر آمادہ کر پائے یا نہیں…
    ہر اعتبار سے گناہوں کی آلودگی سے متاثر ہوتے ہوئے ہم ندامت و توبہ کے چند آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ سچے دل سے بارگاہ الٰہی میں جھک گئے؟
    ہم نے اپنے تمام معاملات درست کرنے کی نیت کر لی ؟
    کیا بے یقینی اور خوف کی اس کیفیت میں ہم سچے دل سے اپنی اصلاح پر آمادہ نظر آتے ہیں؟
    یہ وبائیں اور بلائیں بڑی آزمائش ہوا کرتی ہیں اور انہیں رضائے حق کے نشان بھی نہیں کہا جا سکتا جب کہ قوم میں تمام تر برائیاں پوری شدت سے موجود بھی ہوں…
    تب صرف ایک حل نکلتا نظر آتا ہے اور وہ ہے توبہ کے ارادے سے اپنے گناہوں پر نادم ہو کر استغفار کرنا…
    بندے اور رب کے حضور توبہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہو سکتا…
    یاد ہے ناں قرآن تو سب پڑھتے ہوں گے شھر القرآن سے گزرتے ہوئے کہ مشرکینِ مکہ بھی جب سخت ابتلاء میں آتے…سمندری لہروں میں گِھر جاتے…کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا…
    معبودانِ باطل غائب ہو جاتے…بت مدد کو نہ پہنچتے تو اللّٰــــہ واحد کو ہی اخلاص سے پکارتے…
    قرآن میں اللّٰه تعالٰی نے اُن کی اس کیفیت کا نقشہ بیان کرنے کے بعد کئی مقامات پر فرمایا کہ جب ہم انہیں اس مصیبت سے نجات دیتے تو ساحلِ سمندر پر پہنچتے ہی پھر شرک و نافرمانی میں مبتلا ہو جاتے…!
    ایک قوم کا تذکرہ بھی تو ضرور نظروں سے گزرا ہوا ہو گا…
    جسے اللّٰہ تعالٰی نے وہ واحد قوم کہا جنہیں عذاب کی وارننگ دی جا چکی تھی مگر اُن کی بصیرت کی آنکھ کُھل گئی تو سب کے سب گڑگڑاتے ہوئے الٰہ واحد کے دربار میں جھک گئے…توبہ کی سسکیوں کی گونج میں اپنے اوپر آئے عذاب کی گھڑیوں کو ایمان کی دولت سے بدلنے میں کامیاب ہو گئے…
    جن کا تذکرہ کرتے ہوئے رب نے فرمایا کسی سابقہ وارننگ زدہ قوم کو اُن کا ایمان لانا فائدہ نہ دے سکا اِلَّا قوم یونس…مگر یونس علیہ السلام کی قوم کو…!!!
    ہاں وہ قومِ یونس تھی…!
    جس کے پیغمبر نے بھی مچھلی کے پیٹ میں پکارا:
    لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین¤
    توبہ کے طلب گاروں پر تو فرشتوں کا نزول ہوا کرتا ہے…
    صحیح بخاری میں ہے سابقہ قوم کے ایک شخص کی مثال دیتے ہوئے رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ:
    جب سو آدمیوں کو قتل کرنے والا آدمی توبہ کی غرض سے نکل پڑا تو اُس کی روح راستے میں ہی قبض کر لی گئی
    آسمان سے فرشتے اُترے اور اُس کی برائیوں اور گناہوں کی وجہ سے جہنم کا مستحق سمجھنے لگے…اللّٰہ نے زمین کو نیکی کی بستی کی طرف سمٹ جانے کا حکم دیا اور اُس کی روح جنت والے فرشتوں کے سپرد کر دی گئی…
    کہ وہ توبہ کی نیت سے قدم اُٹھا چکا تھا…
    رب کتنا قدر دان ہے ؟
    یہ ہم نے سوچنا ہے کہ آیا ہم سچے دل سے رب کو پکار کر پھر سچے ہی رہے یا وقت گزرنے پر پھر ملاوٹ کرنے پر آ گئے…؟
    کیا توبہ کرنے کے بعد پھر خیانتوں کی آمیزش کرنے لگ گئے…؟
    جب خلوصِ دل اور سچے عزم کے ساتھ اُس کے در پر جھک جایا جائے تو وہ تو سیئات کو حسنات میں بدل دیا کرتا ہے…کتنا خوب صورت اور احسان بھرا قانون ہے اُس کا کہ:
    من تاب و اٰمن و عمل صالحا فاولئک یبدل اللّٰہ سَیِّاٰتھم حسنٰت و کان اللّٰه غفور رحیما¤
    (الفرقان)
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    "گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے گویا اس کے ذمہ گناہ ہے ہی نہیں…!”
    (ابنِ ماجہ_کتاب الزھد)
    یہ بات سچ ہے کہ مسلمان قوم آج بھی روحانیت کے مضبوط ترین اور بلند یقین کے درجہ پر فائز ہے…غیر مسلم بھی آج یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کا الٰہ بہت جلد سُن لیتا ہے اور یہی سب سے بڑا سچ اور حقیقت ہے اور ہم نے مل کر اس حقیقت کو دنیا پر آج واضح کرنا ہے…
    وہ تو اپنے بندوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا منتظر ہے…
    وہی بہترین مرجع،بہترین کارساز اور سب سے بڑا مہربان ہے…
    بس کہیں فرق ہے تو اس تعلق میں…!
    سقم ہے تو اس کردار میں…!!
    بھول ہے تو راستوں میں…!!!
    اور ضرورت ہے،عقائد و اعمال کی اصلاح کے ساتھ اخلاص بھرے رجوع اور ندامت بھری توبہ کی…اُس سے خالص اور گہرے سے تعلق کی…نہ کہ وقتی طور پر اور رسمی…!
    پھر اس کی رحمتیں برسیں گی…ہاں یقینًا برسیں گی…اوپر نیچے سے…
    آگے پیچھے سے…
    اور دائیں بائیں سے گھیراؤ کریں گی…یہ اُس کا سچا وعدہ ہے…!!!
    لا ریب ہمارے پلٹنے میں تو دیر اور کوتاہی ہو سکتی ہے…اُس کے راضی ہونے اور بخشش و عطا میں ہر گز نہیں…!!!
    آئیں استغفار کریں…تنہا تنہا سہی مگر وہ تو اقرب من حبل الورید ہے…دلوں میں اُٹھنے والے خیالات سے باخبر…پھر اس استغفار سے گناہ بھی دُھلیں گے…رزق بھی وافر ہو گا اور راستے بھی کُھلنے لگیں گے…اور یاد رکھیے کہ اجتماعی طور پر ابتلاء میں اجتماعی کردار ہی لازم ہو جایا کرتا ہے…
    ہمیں ہر معاملے میں وہ دین کا ہو یا دنیا کا اس کرپشن بھرے کردار سے خود کو بچانا ہے…
    پھر خواص و عوام کی تخصیص نہیں ہوا کرتی اور رب کے حکموں اور لشکروں کے سامنے دنیا بھر کی ٹیکنالوجی اور وسائل بھی کم کم پڑتے دکھائی دینے لگتے ہیں…اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے…رہے نام اللّٰــــہ کا…
    کل من علیھا فان¤ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام¤
    ہم کمزور و بے بس ہیں اور اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں،فلاح کا راستہ اللّٰــــہ تعالٰی نے ہمیں بتا دیا ہے کہ:
    یا ایھا الذین اٰمنو توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا،عسٰی ربکم ان یکفر عنکم سیِّاٰتکم…(التحریم:8).
    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو،توبہ کرو اللّٰــــہ کی طرف خالص و سچی توبہ،قریب ہے تمہارا رب تم سے تمہارے گناہوں کو دُور کر دے…!!!آمین.
    =================================

  • روزہ دار کے منہ سے عین افطاری وقت نکلا تیرا خانہ خراب تو برباد ہو جائے تو نے مجھے برباد کر دیا   ازقلم غنی محمود قصوری

    روزہ دار کے منہ سے عین افطاری وقت نکلا تیرا خانہ خراب تو برباد ہو جائے تو نے مجھے برباد کر دیا ازقلم غنی محمود قصوری

    روزہ دار کے منہ سے عین افطاری وقت نکلا تیرا خانہ خراب تو برباد ہو جائے تو نے مجھے برباد کر دیا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    موجودہ دور میں کرپشن مہنگائی تو بڑھی ہی ہے مگر سب سے زیادہ بلیک مارکیٹنگ و ملاوٹ بڑھی ہے جس کا اعتراف ہر کوئی حتی کہ سرکار خود بھی کرتی ہے
    راقم ماہ رمضان ماہ برکات ماہ شفاء ماہ رحمت رمضان میں اپنی ہڈ بیتی یوں بیان کر رہا ہے

    رمضان سے قبل آٹے کا تھیلا گھر لایا روٹی پکی تو سیاہ کالی چھاننے پر چھان بورا چکی کے آٹے سے بھی زیادہ نکلا خیر اللہ اللہ کرکے کھا لیا کیونکہ ملتا تو پہلے ہی مشکل سے ہے 6 رمضان کو آٹا ختم ہوا تو دکان پر پہنچا پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 1040 کا ملے گا دکاندار قسم دے رہا تھا کہ مل نے 1020 کا ہمیں دیا ہے
    خیر دل نا چاہتے ہوئے بھی خریدنا پڑا آٹا گوندھنے پر اچھا اور معیاری نکلا شکر ادا کیا کہ روزے کیساتھ کم از کم روٹی تو سکون سے کھائیں گے مہنگے داموں ہی سہی
    رمضان میں پیاس کی شدت کم کرنے اور جسم کی زائد گرمی ختم کرنے کیلئے شربت صندل گھر لایا تھا جو کہ صندل کم اور رنگدار پانی زیادہ لگتا تھا مجبورا چھلکا اسپغول ڈال کر پیا
    یکم رمضان سے 10 رمضان تک افطاری ایک کجھور و شربت صندل بمعہ چھلکا اسپغول سے کی مگر حیرت انگیز طور پر پہلے روزے سے ہی جسم میں دردیں شروع ہو گئیں اور پاؤں کے تلوؤں سے ایسے سینک نکلنا شروع ہوا کہ جیسے آگ لگائی ہو نظر انداز کرنے کی کوشش کی مگر بے سود دردیں بڑھتی ہی گئیں اور ساتھ پیٹ کا پھیلاؤ ،پیٹ میں درد اور نیند کی کمی بھی ہوتی گئی سخت پریشان ہوا کہ میں تو پکوڑے سموسے ، کوئی بھی باربی کیو چیز و بازاری چیز ہر گز نہیں کھاتا بس تین سے چار چمچ سالن کم مرچ بمعہ دھی اور دو روٹیاں سحری و افطاری کھاتا ہوں
    پراٹھا تو عرصہ دراز سے چھوڑا ہے شام کو روٹی کے بعد کم از کم آدھ کلو گنڈیریاں چوستاں ہوں پھر کیا وجہ ہے ابھی تو عمر خیر سے 30 سے تھوڑی سی اوپر ہوئی ہے مگر علامات 70 سال والی عمر کی بن گئی ہیں سوچا گنڈیروں اور دہی کا استعمال ترک کرتا ہوں شاید جسم میں ٹھنڈک زیادہ ہو گئی ہے مگر بے سود بلکہ کام مذید بڑھ گیا سوچ سوچ کر پریشان ہو گیا زمانہ طالبعلمی سکول و کالج و ڈسپنسنگ یاد کرنے لگا کہ کیا وجہ ہو سکتی ہے دودھ دہی بھی چھوڑ دیا ہلکے یورک ایسڈ کی بدولت سالوں سے پراٹھا چھوڑا ہوا ہے دل چاہتے ہوئے بھی بڑا گوشت،چاول و دیگر مرغن غذائیں خود پر حرام کی ہوئی ہیں کیونکہ جیسے ڑب تعالی نے کمائی کا حساب لینا ہے بلکل اسی طرح صحت کو ناجائز کھانے کھا کھا کر خراب کرنے پر حساب ہو گا کیونکہ یہ بھی اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے

    خیر 11 رمضان 2021 کو وقت افطاری ہوا تو آج کچھ لیٹ گھر پہنچا قدم گھر سے باہر ہی تھے کہ اذان مغرب شروع ہو گئی تھی سو جلدی جلدی سامنے پڑے سادہ پانی سے افطاری کی پاس پڑے شربت صندل میں ایک چمچ چھلکا اسپغول ڈال دیا اور مسجد میں نماز پڑھنے چلا گیا نماز و عبادات میں پہلے ہی کچھ سستی تھی مگر رمضان آتے ہی طبع ناسازی دائمی ہونے کے باعث بہت بڑا بوجھ لگنے لگیں تھیں کیونکہ پاؤں کے تلوؤں کے درد و سینک کے باعث کھڑا رہنا ناممکن سا ہو گیا تھا

    خیر نماز پڑھی گھر آیا کانچ کے گلاس کو منہ لگایا تو ایک ہی گھونٹ میں گلاس تقریباً ختم کر دیا ابھی گلاس رکھنے ہی لگا تھا تو دیکھا کہ گلاس کے پیندے سے سفید سی چیز چپکی پڑی ہے اس کو انگلی سے لگا کر چھکا تو گندم کا احساس ہوا فوری اسے باہر نکالا تو پتہ چلا وہ تو سوجی ہے جو ہر روز میں چھلکا اسپغول سمجھ کر پی رہا تھا جس کے باعث یورک ایسڈ بڑھنے سے پاؤں کی تلوؤں میں آگ سی لگی رہتی ہے اور سارا جسم درد کرتا رہتا ہے اور جسم میں گرمی بڑھنے سے نیند بھی نہیں آتی ہر وقت سستی رہتی ہے جس سے نمازیں پڑھنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
    صورتحال بھانتے ہی میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ،تیرا خانہ خراب تیرا گھر برباد ہو تو اور تیرے بچے سکھ نا پائیں، ظالم میں تو ناموافق سمجھ کر حلوہ نہیں کھاتا تو مجھے کچی سوجی 1300 روپیہ فی کلو فروخت کر رہا ہے اور چھلکا اسپغول کی صورت میں پلا رہا ہے ظالم تجھے کیڑے پڑیں معاشرے کے ناسؤر تجھ جیسے ملاوٹی تاجر کیلئے تو میرے اللہ کے نبی نے فرمایا ہے

    مَن غَشّنَا فَلیسَ مِنَّا و المَکرُ و الخِدَاعُ فی النَّارِ
    ترجمہ۔۔۔جِس نے ہمارے ساتھ بد دیانتی (ملاوٹ) کی وہ ہم میں سے نہیں اور دھوکہ اور فریب جہنم میں سے ہیں یعنی یہ کام کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے

    ظالم دھوکے باز ملاوٹی تجھے تو میرے نبی امت محمدیہ سے خارج کر رہے ہیں اور اعلان کرکے ہیں کہ تجھ کا ہم مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں
    تو بڑا نمازی پرہیز گار بنا پھرتا ہے تیرا تو صدقہ خیرات قبول نہیں اللہ تعالی کو کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ

    یقینا اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چيز ہی قبول کرتا ہے صحیح مسلم ۔ 1015

    ظالم تو 1300 روپیہ کلو چھلکا اسپغول میں 80 روپیہ کلو والی سوجی ملاوٹ کرکے مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے اور لوگوں کی زندگیاں برباد کر رہا ہے انہیں نماز روزہ جیسے فرائض میں بھی پریشانی کا سامنا ہے تیرا خانہ خراب تو بڑا صدقہ کرنے والا حاجی بنا پھرتا ہے جو کہ قابل قبول بھی نہیں تجھ سے کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے حرام کا مال جمع کیا (کمایا) پھر اس سے صدقہ کر دیا تو اس کو صدقہ کا کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ اس پر اِس (حرام مال کمانے) کا وبال ہوگا –صحيح ابن حبان

    ظالم تو لوگوں کی زندگیاں برباد کرکے مال اکھٹا کرکے صدقہ خیرات کرنے والا مشہور ہے جبکہ اللہ کو تیرا صدقہ قبول ہی نہیں حتی کہ تیرا حج و عمرہ بھی قابل قبول نہیں کیونکہ فرمان الہی ہے کہ

    یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ ۔۔البقرۃ
    ’اے اہل ایمان اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو
    جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    ان اللہ طیب لا یقبل الا الطیب
    ’اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور پاک چیز کو ہی قبول کرتا ہے۔
    او ظالم تیری جمع کی ہوئی دولت ملاوٹی حرام کے مال کی،تیری اولاد پلی اسی حرام کے مال سے ،تیرا بہت بڑا گھر بنا اسی حرام کے ملاوٹی مال سے پتہ نہیں کتنوں کو تو نے غلط ملط اشیاء اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کرکے کھلا کر قبر میں پہنچا دیا ظالم باز آجا ورنہ یاد رکھ اس دنیا میں تو عیش کر لے گا مگر تیرا مستقل ٹھکانہ جہنم ہو گا ظالم تیرے لئے ماہ رمضان میں بدعا کی جا رہی ہے تجھ سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا
    اب بھی وقت ہے توبہ کر لے اللہ تمہیں پاکیزہ مال بہت دے گا کیونکہ فرمان رب تعالی ہے کہ

    وَمَنْ یَّتَّقِ اﷲَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًاo وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ.
    اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لیے (دنیا و آخرت کے رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔
    سورہ الطلاق

    ظالم تجھے قرآن کی آیات اور نبی ذیشان کے کئی فرامین سنا دیئے ڈر جا سمجھ جا یہ دنیا عارضی ہے اگلا مستقل ٹھکانہ جنت ہو گا اللہ کے بندوں سے دھوکہ کرکے ان کی زندگیاں برباد کرکے جنت کی بجائے اپنا مستقل ٹھکانہ جہنم نا بنا
    اور جان لے کہ فرمان ہے کہ جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کا قتل کیا تو تو پتہ نہیں کتنوں کا قاتل ہے
    اب بھی وقت ہے توبہ کرکے اللہ بڑا غفور و رحیم ہے وہ معاف کرنے والا ہے مگر دنیاوی زندگی تک بصورت دیگر نہیں