Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں    ترجمان فیس بک

    پاکستان میں دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں ترجمان فیس بک

    دنیا کی سب سے بڑی سماجی ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوری طور پر دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے-

    باغی ٹی وی : فیس بک نے اگرچہ دنیا بھر میں ویڈیوز اور دیگر مواد کے عوض مواد تیار کرنے والوں کو پیسے دینا شروع کر دیئے ہیں تاہم پاکستان میں تاحال عام کانٹنیٹ کریئٹرز کے لیے ایسی سہولیات شروع نہیں کی گئیں مگر حکومت کی خواہش ہے کہ ایسی سہولیات یہاں بھی شروع ہوں۔

    فیس بک کے علاوہ یوٹیوب اور گوگل اشتہارات اور مونیٹائزیشن یعنی مواد کے ذریعے پیسے کمانے کے منصوبے کے تحت مواد تیار کرنے والوں کو رقم فراہم کرتا ہے۔

    حال ہی میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کے سائنس و ٹیکنالوجی کے مشیر ضیاءاللہ بنگش نے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک جلد پاکستان میں ویڈیوز کے عوض پیسے دینے کا سلسلہ شروع کردے گا۔

    ضیاء اللہ بنگش نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں بتایا تھا کہ کہ انہوں نے فیس بک کی سنگاپور میں موجود ٹیم سے رابطہ کیا ہے اور وہ پاکستان میں مختلف منصوبے شروع کرنے کو تیار ہیں۔


    ضیاء اللہ بنگش کے مطابق انہوں نے سنگاپور میں فیس بک کے نمائندوں سے طویل مذاکرات کیے، جس دوران فیس بک عہدیداروں نے پاکستان میں چند منصوبے شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

    وزیر اعلیٰ کے مشیر کے مطابق فیس بک پاکستان میں مواد کے عوض پیسے دینے کا سلسلہ شروع کرنے سمیت دیگر منصوبے بھی شروع کرے گا جب کہ فیس بک پاکستان میں دفتر بھی کھولے گا۔


    ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ انہوں نے فیس بک کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو بھی آگاہ کیا ہے اور انہوں نے بھی فیس بک سمیت گوگل اور یوٹیوب کے لیے پاکستان میں بہتر کام کرنے کے حوالے سے قانون سازی کرنے کی یقین دہانی کروائی۔


    وزیر اعلیٰ کے مشیر کا کہنا تھا کہ جلد وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اسد قیصر کی سربراہی میں فیس بک اور یوٹیوب سمیت دیگر بڑی ویب سائٹس سے مذاکرات شروع ہوں گے اور جلد ہی پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع کھلیں گے۔


    تاہم ضیاء اللہ بنگش کے دعووں کے بعد فیس بک انتظامیہ نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کا فوری طور پر پاکستان میں دفتر کھولنے کا ارادہ نہیں۔

    فیس بک کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فیس بک دیگر کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے مگر کمپنی کا فوری طور پر پاکستان میں دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ فیس بک نے پاکستان میں فوری طور پر ویڈیوز کے عوض پیسے دینے کے سلسلے شروع کیے جانے سے متعلق بھی کوئی جواب نہیں دیا تاہم کہا کہ پاکستانی کانٹینٹ کریئٹرز کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری برادری بین الاقوامی ہے اور ہم دنیا کے بہت سے ممالک میں بغیر کسی دفتر کے کام کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کے دنیا کے درجنوں ممالک میں دفاتر نہیں ہیں تاہم فیس بک کے بڑی مارکیٹوں میں شمار ہونے والے ممالک میں دفاتر موجود ہیں فیس بک کے زیادہ تر دفاتر یورپ و امریکی ممالک میں ہیں تام افریقہ اور ایشیا میں بھی فیس بک کے دفاتر موجود ہیں۔

    فیس بک کے براعظم ایشیا میں مجموعی طور پر 18 دفاتر ہیں، جو نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان، انڈونیشیا، سنگاپور، فلپائن، چین، تائیوان، ملائیشیا، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور بھارت میں موجود ہیں حیران کن طور پر فیس بک کے پڑوسی ملک بھارت میں 5 دفاتر ہیں جو کہ ممبئی، دہلی، بنگلورو، حیدرآباد اور گڑگاؤں میں موجود ہیں۔

  • خواتین کھلاڑیوں پر مشتمل ایمرجنگ کیمپ کب سے اور کہاں شروع ہوگا؟‌

    خواتین کھلاڑیوں پر مشتمل ایمرجنگ کیمپ کب سے اور کہاں شروع ہوگا؟‌

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ 27 خواتین کھلاڑیوں پر مشتمل ایمرجنگ کیمپ 3 سے 17 اپریل تک معین خان اکیڈمی میں لگایا جائے گا۔قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ڈیوڈ ہیمپ، اسسٹنٹ کوچ ارشد خان، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ ڈرائیکوس سائمان اور اکیڈمی کوچز محسن کمال اور نوید انجم کیمپ میں کوچنگ کے فرائض انجام دیں گے۔قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا کوچنگ اسٹاف کیمپ میں طلب کردہ خواتین کرکٹرز کی صلاحیتوں اور فٹنس میں بہتری لانے کی کوشش کرے گا۔

    پی سی بی کے کوویڈ 19 پرٹوکولز کے تحت یہ کیمپ بھی بائیو سیکیور ماحول میں لگایا جائے گا، جہاں اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف کو کوویڈ 19 کے 2 مختلف ٹیسٹ کےنتائج منفی آنے کے بعد ہی بائیو سیکیور ماحول میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ کیمپ کے تمام شرکاء کا پہلا ٹیسٹ ان کی اپنی رہائشگاہ اور دوسرا ہوٹل میں لیا جائے گا۔

    خواتین کرکٹرزمیں‌ آئمہ سلیم ستی ، انوشہ ناصر ، عاصمہ امین ،عریجہ حسیب ، عائشہ نسیم ، بسمہ امجد ، فجر نوید ، فاطمہ خان ، فاطمہ زہرہ ، گل رخ ، گل اسوہ، حمنہ بلال ، ہانیہ احمر ، خوش بخت وسیم ، لائبہ فاطمہ ، لاریب ملک عزیز ، لاویزہ منیر ، مومنہ ریاست خان ، نجیہ علوی ، نازش رفیق ، ردا اسلم ، صائمہ ملک ، شوال ذوالفقار ، سیدہ عروب شاہ ، سیدہ انشرہ اسد ، یسراء عامر اور زیب النساء کے نام سر فہرست ہیں

  • آرپی او ڈی جی خان کا مظفرگڑھ کا دورہ

    آرپی او ڈی جی خان کا مظفرگڑھ کا دورہ

    مظفرگڑھ۔آر پی او ڈی جی خان فیصل رانا نے مظفرگڑھ کا دورہ کیا ڈی پی او آفس میں پولیس کی چوق و چوبند دستے نے آر پی او کو سلامی دی آر پی او نے پولیس لائن میں آن لائن ڈرائیونگ سسٹم کا افتتاح کیا ڈی پی او مظفرگڑھ حسن اقبال آر پی او کے ہمرا تھے

    مظفرگڑھ۔ریجنل پولیس آفسیر فیصل رانا کے مظفرگڑھ ڈی پی او آفس پہنچنے پر ا حسن اقبال نے استقبال کیا ڈی پی او آفس میں پولیس کے چوق چوبند دستے نے آر پی او کو سلامی دی۔آر پی او نے ڈی پی او آفس میں شہدا کی فیملز سے ملاقات کی۔ڈی پی او آفس سے ریجنل پولیس آفیسر فیصل رانا پولیس لائن پہنچے جہاں پر آر پی او نے آن لائن ڈرائیونگ سسٹم کا افتتاح کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مظفرگڑھ میں ڈی پی او حسن اقبال کی قیادت میں پولیس مثالی پولیس بننے جارہی ہیں

  • شرمین عبید چنائے نے پاکستان میں اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروادیا

    شرمین عبید چنائے نے پاکستان میں اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروادیا

    آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے نے پاکستان میں اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروادیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شرمین عبید چنائے نے پاکستان مذہبی اقلیتوں کے لیے خصوصی ویب سائٹ لاؤنچ کردی انہوں نے اپنے اس پلیٹ فارم کا نام ’پرچم میں سفید‘ رکھا ہے۔

    اس پر اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہری آزادانہ طور پر اپنے جذبات اور تجربے کو شیئر کرسکتے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اس حوالے سے شرمین عبید چنائے نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی چند تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ”جبری طور پر تبادلوں ، اغواء ، اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے مابین ، پاکستان کی اقلیتوں کو ابھی تک ایک مکمل جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ’پرچم میں سفید‘ ویب سائٹ کے ساتھ ، ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی امتیاز کا سامنا کرنے والے شہری ان معاملات پر اپنی آواز سننے کے قابل ہوں ، جو ان کے لئے اہم ہیں ، ان کے حقوق کی حفاظت اور ان کے فروغ ، ان کے خیالات اور خواہشات پر حقیقی طور پر غور کیا جائے –

    شرمین نے لکھا کہ مذکورہ ویب سائٹ ایک انٹرایکٹو ویب سائٹ ہے جس کا مقصد طلباء ، کارکنوں ، اور قانون سازوں کے لئے ایک پلیٹ فارم کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ہے اوراس سے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مختلف مسائل کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل. یہ پلیٹ فارم دلچسپی رکھنے والوں کے لئے مفصل معلومات کا ذریعہ ہوگا اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی پھیلانے کا امکان ہوگا۔

  • ’کریم‘ نے اپنی سپر ایپ میں کورونا ویکسینز کے حوالے سے نیا فیچرلانچ کردیا

    ’کریم‘ نے اپنی سپر ایپ میں کورونا ویکسینز کے حوالے سے نیا فیچرلانچ کردیا

    آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی معروف کمپنی ’کریم‘ نے اپنی سپر ایپ میں کوویڈ 19 کے حوالے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے-

    باغی ٹی وی : ’کریم‘ کی جانب سے ‘گیڈ ویکسینیٹڈ’ کے نام سے سپر ایپ کے اس فیچر کے ذریعے صارفین آسانی سے قریبی ویکسینیشن سینٹر پر کال کرکے آسانی سے ٹریفک اور پارکنگ کے تمام مسائل کے بغیر رائیڈ بک کراسکتے ہیں۔

    مزید برآں اس فیچر میں ویکسین کے لیے اہلیت، ملک بھر میں قائم کیے گئے تمام ویکسین سینٹرز کی لوکیشن اور ٹائمنگز بھی شامل ہیں۔

    فیس بک پر کریم کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں کہا گیا کہ ہم اس اہم وقت میں آپ کی مدد کے لیے پُرعزم ہیں۔

    پوسٹ میں کہا گیا کہ کریم ایپ کے ہوم پیج پر موجود ہمارا نیا فیچر ‘گیٹ ویکسینیٹڈ’ حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے تمام کویڈ-19 ویکسینیشن سینٹرز کی تفصیلات فراہم کرتا ہے اور آپ کو محفوط طریقے سے وہاں لے جاتا ہے۔

    مزید کہا گیا کہ یہ نوٹ کرلیں کہ آپ اس وقت کریم کی رائیڈ بُک کرائیں کہ آپ میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں اور گزشتہ 14 روز میں کورونا سے متاثرہ فرد سے رابطےمیں نہ رہے ہوں۔

    پوسٹ میں کہا گیا کہ آپ کریم کی سخت حفاظتی پالیسیوں سے مستفید ہوں گے اور ویکسینیشن سینٹر کی پارکنگ میں ہجوم سے بچیں گے۔

    واضح رہے کہ یکم فروری کو چین سے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی 5 لاکھ خوراکوں پر مشتمل پہلی کھیپ پاکستان پہنچی تھی جس کے بعد 3 فروری سے کورونا کے خلاف صفِ اول میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن کا آغاز ہوا تھا۔

    ملک میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے بعد 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کے لیے رجسٹریشن کا آغاز 15 فروری سے ہوا تھا جبکہ ویکسینیشن کا عمل 10 مارچ سے شروع ہوا تھا۔

    بعد ازاں 26 مارچ کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے کورونا کی ویکسینیشن کے لیے رجسٹریشن کا آغاز 30 مارچ سے ہوگا۔

  • صدر آزاد کشمیر کا امریکی حکومت سے  مودی حکومت  کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    صدر آزاد کشمیر کا امریکی حکومت سے مودی حکومت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    مظفر آبادصدرآزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے امریکہ کی جوبائیڈن حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی طرف سے ہندو آبادی کی بڑےپیمانے پر منتقلی کے ذریعہ ریاستی مسلم اکثریت کو غیر قانونی طریقہ سے ختم کرنے کےمنصوبے اور مقبوضہ علاقے میں نہتے اور غیر مسلح کشمیریوں کے قتل عام کو بند کرانےکے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    وہ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اپنے اس مفروضے پر نظرثانیکرے کے بھارت کی نو لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں دشت گردی سے لڑنے کے لیے آئی ہے۔ یہ جھوٹ پر مبنی بھارت کا بیانیہ ہے جس کا حقیقت سے دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایکقومی انگریزی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکہ بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بد ترین ظلم و تشدد بند کرانے اور شہری اور بنیادی آزادیوں کی بحالی کے لیے غیرمبہم اور دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کرے کیوں کہ امریکہ وہ ملک  ہے جو تقریباً ایک صدی سے انسانوں کے حق خودارادیت کی وکالت کرتا چلا آیا ہے اور اہم ایسے ملک سے یہ توقع نہیں رکھتے وہکشمیریوں کے حق خود ارادیت کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیری جمہوریانداز میں آزادانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اوریہ کوئی انوکھا مطالبہ نہیں ہے بلکہ کشمیریوں کے اس حق کو اقوام متحدہ کی سلامتیکونسل کی قراردادوں کی شکل میں عالمی برادری نے پہلے ہی تسلیم کر رکھا ہے۔ عالمیبرادری اور عالمی میڈیا کی طرف سے کشمیر پر ایک بار بھی توجہ مرکوز ہونے کے امکاناتکے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس سےقبل  کے دنیا جموں و کشمیر کی طرف متوجہ ہوپاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو خود اپنی توجہ کشمیر پر مرتکز کرنی ہوگی کیوں  کہ دنیا یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ہمجس چیز کا مطالبہ اس سے کر رہے ہیں اس کیطرف ہماری اپنی توجہ کتنی ہے۔

    دنیا کیتوجہ  براہ راست ہمارے جذبے اور کوششوں کےتناسب سے ہو گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ  مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیں اپنی کامیابیوں کو کم کر کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں تازہ جارحیتکے بعد دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہوا تھا اور مسئلہ کشمیر کو دنیا کی با اثرپارلیمانز اور سول سوسائٹی میں بڑے پیمانے پر زیر بحث لایا گیا تھا۔

    لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہمیں وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جو مطلوب تھے لیکن ہمارے سامنے مسلسل جدوجہد کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ بھارتی فوج کے محاصرے میں محصور کشمیری ہر روزاپنے مقدس خون کی قربانی پیش کر رہے ہیں اور اگر وہ  بھارتی فوج کی سنگینوں کے سائے میں ظالم کےسامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں تو ہم آزاد شہری ہیں اور ہماری کوششیں اور کارکردگیان سے زیادہ اور بہتر ہونے چاہیے۔

  • سٹی آف سپورٹس اینڈ ایجوکیشن کا اعزاز ، نوجوان فاسٹ باؤلر پاکستان انڈر19 کرکٹ ٹیم میں شامل

    سٹی آف سپورٹس اینڈ ایجوکیشن کا اعزاز ، نوجوان فاسٹ باؤلر پاکستان انڈر19 کرکٹ ٹیم میں شامل

    بورےوالا( رضوان سلیمی ) سٹی آف سپورٹس اینڈ ایجوکیشن سے تعلق رکھنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں شامل کرلئے گئے ۔تفصیلات کے مطابق سٹی آف سپورٹس اینڈ ایجوکیشن بورےوالا کے نواحی گاؤں 259ای بی سے تعلق رکھنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر طاہر حسین بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا حصہ بن گئے نوجوان باصلاحیت فاسٹ باؤلر طاہر حسین قبل ازیں جنوبی افریقہ میں منعقد ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے ۔

    نوجوان فاسٹ باؤلر طاہر حسین ۔سابق ضلعی صدر وہاڑی کے کلب العباس کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلتے ہیں ۔سابق صدر ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن ۔چوہدری عبدلقدیر سلیمی ۔چوہدری جاوید اقبال ۔سابق سیکریٹری میاں حفیظ الرحمن ۔انچارج راشد لطیف کرکٹ اکیڈمی استاد سلیم۔ حماد وقار۔ سردار وقار ڈار۔سابق ضلعی چیئرمین ایڈہاک کرکٹ کمیٹی ڈاکٹر آصف خان ۔سابق ممبر ڈسٹرکٹ ایڈہاک کمیٹی اصغرعلی جاوید ۔اور دیگر نے طاہر حسین کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے

  • نئے خلائی جرثومے کا نام برصغیر پاک و ہند کے مسلمان طبی ماہر کے نام پر رکھنے کی تجویز

    نئے خلائی جرثومے کا نام برصغیر پاک و ہند کے مسلمان طبی ماہر کے نام پر رکھنے کی تجویز

    عالمی خلائی اسٹیشن سے دریافت ہونے والے ایک نئے جرثومے کا نام برصغیر پاک و ہند کے مشہور طبّی ماہر حکیم اجمل خان کے نام پر رکھنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ’’ناسا‘‘ کے ماہرین نے 2011 سے 2016 تک عالمی خلائی اسٹیشن میں مختلف مقامات سے جراثیم (بیکٹیریا) کی چار اقسام حاصل کی تھیں جنہیں مزید تحقیق کےلیے زمین پر لایا گیا خلائی اسٹیشن 408 کلومیٹر بلندی پر رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔

    امریکی اور ہندوستانی ماہرین کی مشترکہ ٹیم نے ان جراثیم کا تفصیلی جینیاتی تجزیہ کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے بتایا ہے کہ ان میں سے صرف ایک جرثومہ ایسا ہے جس کے بارے میں ہم پہلے سے جانتے ہیں، جبکہ باقی تین بیکٹیریا پہلی بار دریافت ہوئے ہیں۔

    بیکٹیریا کی یہ چاروں اقسام ’’میتھائیلو بیکٹیریاسیائی‘‘ (Methylobacteriaceae) نامی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جس کے مختلف ارکان مٹی اور تازہ پانی میں عام پائے جاتے ہیں اور پودوں کی نشوونما سے لے کر انہیں بیماریوں سے بچانے تک میں اہم کردار ادا کرتے ہیں آسان الفاظ میں، یہ جراثیم زرعی لحاظ سے بہت مفید ہیں۔

    خلائی اسٹیشن سے ان بیکٹیریا کا ملنا کوئی عجیب و غریب بات نہیں کیونکہ خلانور پچھلے کئی سال سے خلا کے بے وزن ماحول میں چھوٹے پیمانے پر مختلف فصلیں اگاتے آرہے ہیں۔

    نئے دریافت ہونے والے تینوں جرثوموں کو ابتدائی طور پر IF7SW-B2T، IIF1SW-B5 اور IIF4SW-B5 کے عارضی نام دیئے گئے۔

    بھارتی ماہرین نے آن لائن ریسرچ جرنل ’’فرنٹیئرز اِن بائیالوجی‘‘ میں اس دریافت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ مذکورہ نودریافتہ جرثوموں میں سے IF7SW-B2T کو حکیم اجمل خان مرحوم کے نام پر Methylobacterium ajmalii کا باضابطہ نام دیا جائے۔

    انہیں توقع ہے کہ حکیم اجمل خان کی طبّی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ماہرین کو بھی اس نام پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا-

  • زکوۃ کی فضیلت و اہمیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ کے متعلق  انتہائی اہم معلومات

    زکوۃ کی فضیلت و اہمیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ کے متعلق انتہائی اہم معلومات

    زکوۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ رسولِ پاک ﷺ کا فرمانِ پاک ہے :
    ”اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔”
    (بخاری شریف، کتاب الایمان ،باب دعا ء کم ایمانکم ،حدیث نمبر۸،ج۱،ص۱۴)

    زکوۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ حکیم میں نماز اور زکات کا ایک ساتھ 32 مرتبہ ذکر آیا ہے۔
    (ردالمحتار،کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۲)
    علاوہ ازیں زکوۃ دینے والا خوش نصیب دنیوی واُخری سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ زکات کی فرضیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ پاک قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے :

    وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ

    اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو۔
    (پ ۱،البقرۃ:۴۳)

    نماز کے بعد زکوٰۃ ہی کا درجہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ایمان کے بعد نماز اور اس کے ساتھ ہی جا بجا زکوٰۃ کا ذکر کیا گیاہے۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا کے ہیں۔ یہ مالی عبادت ہے۔ یہ محض ناداروں کی کفالت اور دولت کی تقسیم کا ایک موزوں ترین عمل ہی نہیں بلکہ ایسی عبادت ہے جو قلب او ررُوح کا میل کچیل بھی صاف کرتی ہے۔ انسان کو اللہ کا مخلص بندہ بناتی ہے۔ نیز زکوٰۃ اللہ کی عطا کی ہوئی بے حساب نعمتوں کے اعتراف اور اس کا شکر بجا لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے اِنْ تُقْرِ ضُوااﷲَ قَرْضاً حَسَناً یُضَاعِفْہُ لَکُمْ وَ یَغْفِر لَکُمْج (سورئہ التغابن 17) ترجمہ! اگر قرض دو اللہ کو اچھی طرح قرض دینا وہ دو گنا کرے تم کو اور تم کو بخشے۔

    اس کے مقابلے میں جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اُن کے لئے اللہ کاارشاد ہے وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ اْلذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُو نَہَا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ فَبَشِّرْ ہُمْ بِعَذَاْبٍ اَلِیْمٍ ط (سورئہ توبہ 34)۔ ترجمہ! جو لوگ جمع رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو اُن کو خوشخبری سُنا دے عذاب ِ دردناک کی۔

    زکوٰۃ کے متعلق ہر طبقے مثلا عام لوگ، تاجر، زمیندار اور جانور پالنے والوں کے لئے انتہائی اہم معلومات

    ایک لاکھ پر -/2500 روپے زکوۃ ادا کی جائے گی-
    دو لاکھ پر -/5000
    تین لاکھ پر -/7500
    چار لاکھ پر -/10000
    پانچ لاکھ پر-/12500
    چھ لاکھ پر -/15000
    سات لاکھ پر-/17500
    آٹھ لاکھ پر-/20000
    نو لاکھ پر-/22500
    دس لاکھ پر-/25000
    بیس لاکھ پر-/50000
    تیس لاکھ پر-/75000
    چالیس لاکھ پر-/100000
    پچاس لاکھ پر-/125000
    ایک کروڑ پر-/250000
    دو کروڑ پر-/500000
    ‎ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟
    ‎اکثرمسلمان رمضان المبارک میں زکوة ادا کرتے ہیں
    ‎سونا چاندی
    ‎زمین کی پیداوار
    ‎مال تجارت
    ‎جانور
    ‎پلاٹ
    ‎کرایہ پر دیےگئے مکان
    ‎گاڑیوں اوردکان وغیرہ کی زکوۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔

    قرآن کریم میں زکوۃ ادا کرنے والے کے لئے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے-

    1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر 6-7)
    ‎2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)

    3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہیں۔(طبرانی)
    4۔زکوٰة كامنکر‎جوزکوٰةادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار ہیں۔

    دوسری جانب زکوۃ دینے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں خوشخبری سنائی ہے-
    ‎5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کےدن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے-
    (البقرہ 277)
    ‎6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑاذریعہ ہے(التوبہ103)

    ‎زکوٰۃکا حکم:
    ‎ ہر مال دارمسلمان مرد ہو یاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔

    ‎نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سےزکوٰۃ دینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔

    ‎زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے-

    ‎زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔
    1۔سونا چاندی
    ‎2۔زمین کی پیداوار
    ‎3۔مال تجارت
    ‎4۔جانور۔

    ‎سونے کی زکوٰۃ:
    87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکوٰۃ واجب ہے -(ابن ماجہ1/1448)

    ‎نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکوٰۃ واجب ہے۔(سنن ابودائود کتاب الزکوٰۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
    ‎فتح الباری جز چار صفحہ 13

    ‎چاندی کی زکوٰۃ:
    612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکوٰۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)

    ‎زکوٰۃ کی شرح:
    ‎ زکوٰۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)

    ‎زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ:
    ‎ مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وارپر عشر بیسواں حصہ دینا ہوگا ورنہ ہے۔قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکوٰۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)-

    ‎نوٹ:زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،سورج مکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکوٰۃ یعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔ (صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)-

    ‎اونٹوں کی زکوٰۃ:
    ‎ پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)-

    ‎بھینسوں اورگائیوں کی زکوٰۃ

    30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
    40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکوٰۃ دیں۔(ترمذی1/509)

    ‎بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔

    ‎بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ:
    40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃہے جبکہ 120سےلےکر200تک دو بکریاں زکوٰۃ۔ (صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
    ‎چالیس بکریوں سے کم پرزکوٰۃ نہیں۔

    ‎کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ:
    ‎ کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھر اس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃ نہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔

    ‎گاڑیوں پر زکوٰۃ:
    ‎ کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔

    ‎نوٹ:
    ‎گھریلو استعمال والی گاڑیوں، جانوروں،حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)-

    ‎سامان تجارت پر زکوٰۃ:
    ‎ دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔

    ‎نوٹ:دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکوٰۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکوٰۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکوٰۃ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ ان سے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے-

    ‎پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ:
    ‎ جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکوٰۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیے خریدا گیا پلاٹ پر زکوٰۃ نہیں۔
    ‎(سنن ابی دائودکتاب الزکوٰۃ حدیث نمبر1562)-

    ‎کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
    ‎ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکوٰۃکےمستحق مسلمانوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اوراولادپراصل مال خرچ کریں زکوٰۃ نہیں۔
    ‎نوٹ:
    ‎(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اوراولادمیں پوتے پوتیاں نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔

    ‎زکوٰۃکےمستحق لوگ
    ‎1۔مساکین(حاجت مند)
    ‎2۔غریب
    3۔ زکاۃوصول کرنےوالے
    ‎4۔مقروض
    ‎5۔قیدی
    ‎6۔ مجاھدین
    ‎7.مسافر (سورۃالتوبہ60)

    اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوٰۃ فرض ہے-

    ‎عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰة فرض ہے

  • شب برات کی فضیلت و حقیقت

    شب برات کی فضیلت و حقیقت

    عوام میں نصف شعبان کی رات کا اہتمام کرنے اور خاص طور سے اسی رات میں عبادات انجام دینے کے کئی اسباب ہیں جن میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ رسول اللہ کی طرف منسوب ایسی بہت ساری احادیث کا وجود جن سے اس رات کی فضیلت، اس میں اعمال کی پیشی، عمر کی تحدید، رزق کی تقسیم، دعاء کی قبولیت اور خود رسول اللہ کااس رات عبادات کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے لہٰذا اس عظیم ثواب کے حصول اور سنت نبوی ؐ کی پیروی میں لوگ اس رات کااہتمام اور اس رات کی تعظیم میں بہت زیادہ مبالغہ کرتے ہیں۔

    براۃ کے معنیٰ ہیں نجات، اور شبِ برات کا معنیٰ ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کاموجب بن سکتا ہے۔

    قرآن پاک میں فرمان باری تعالیٰ: فیہا یفرق کل أمر حکیم(الدخان 4)۔”اسی رات میں ہر فیصلہ شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتا ہے”کی بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔ علامہ زمخشری کہتے ہیں:

    نصف شعبان کی رات کے چار نام ہیں:
    لیلۃ المبارکہ
    لیلۃ البراۃ
    لیلۃ الصک
    لیلۃ الرحمۃ
    اور کہا گیا ہے کہ اس کو شب برات اور شب صک اس لئے کہتے ہیں کہ بُندار یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں وہ پیمانہ ہوکہ جس سے ذمیوں سے پورا خراج لے کر ان کے لئے برات لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں کے لئے بخشش کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔ اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔

    یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ رات پانچ خصوصیتوں کی حامل ہوتی ہے۔

    اس میں ہر کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔
    اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے۔
    اس میں رحمت کانزول ہوتا ہے۔
    اس میں شفاعت کا اتمام ہوتا ہے۔
    اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رات میں یہ عادت کریمہ ہے کہ اس میں آب زمزم میں ظاہراً زیادتی فرماتا ہے۔

    زیادہ تر مفسرین کا بھی ماننا ہے کہ مذکورہ رات سے مراد شب قدر ہے۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ:

    حٰم وَالْکِتٰبِ الْمُبِيْنِ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْمٍ

    حا میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کردیا جاتاہے۔ (الدخان، 44: 1تا4)

    اس آیت کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ برکت والی رات سے مراد شب قدر ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے رات کو مبہم رکھا ہے لیکن دوسری جگہ واضح کردیا ہے کہ جس برکت والی رات میں قرآن کریم اتارا گیا ہے، وہ شب قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "بے شک ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر یعنی خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے۔”
    اور یہ نزول رمضان المباک کے مہینہ میں ہواجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    "وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا۔”(البقرہ185)۔

    اور یہاں جس برکت والی رات کا جس میں ذکر ہوا ہے، اس برکت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بیان میں صاف کردیا کہ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مبارکہ(برکت والی ) رات کا نام اس لئے دیا ہے کہ اللہ اس رات لوگوں کے درجات میں اضافہ فرماتا ہے، ان کی لغزشوں کو معاف کرتا ہے، قسمت کی تقسیم کرتا ہے، رحمت پھیلاتا ہے اور خیر عطا کرتا ہے-((احکام القرآن لابن العربی)۔

    ابن العربی کہتے ہیں: "اکثر علماء کے نزدیک :فیہا یفرق کل امر حکیم(الدخان4)یعنی اسی رات میں ہر طے شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتاہے، سے مراد شب قدر ہے جبکہ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے لیکن یہ بے بنیاد بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سچی اور فیصلہ کن کتاب قرآن مجید میں فرمایا:وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا(البقرہ185)۔

    سیدہ عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

    ” 4راتوں میں اللہ تعالیٰ خیر کے دروازے کھول دیتا ہے: عیدالاضحی کی رات، عیدالفطر کی رات، نصف شعبان کی رات جس میں عمر، روزی اور حج کرنے والے کے بارے میں لکھا جاتا ہے اور عرفہ کی رات، صبح کی اذان تک۔” (الدر المنثور، وقال ابن العربی : لایصح فیہا شیٔ ولافی نسخ الآجال ،احکام القرآن)۔

    بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات دعا قبول ہوتی ہے مثلاً عبدالرزاق نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے :”
    4″راتوں میں دعاء مستردنہیں ہوتی: جمعہ کی رات ،پہلی رجب کی رات، نصف شعبان کی رات اورعیدین کی رات۔”(مصنف عبدالرزاق)۔
    نصف شعبان کی رات میں عبادات کااہتمام:

    نصف شعبان کی رات کی فضیلت بیان کرنے والی مذکورہ احادیث کی بنا پر لوگ نہ صرف اس رات کی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اس رات میں نماز اور دعاء کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ اس رات میں عبادت کرنے کے سلسلے میں جو احادیث آئی ہیں، ان میں سیدنا علی بن ابی طالب ؓ کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

    "جب نصف شعبان ہو تو رات میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات آفتاب غروب کے بعد آسمانِ دنیا پر اتر تاہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا جسے میں بخشش دوں؟ ہے کوئی روزی مانگنے والا جسے میں روزی دوں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ، جس کی مصیبت دور کروں؟ یہاں تک فجر طلوع ہوجاتی ہے۔”(سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان)۔

    خطیب بغدادی اور ابن نجار نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی ہے کہ: رسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام شعبان کے روزے رکھ کر اس کو رمضان کے ساتھ ملادیتے تھے اور آپ کسی بھی ماہ کے تمام دنوں کے روزے نہ رکھتے تھے سوائے شعبان کے۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کا مہینہ آپ کو بڑا پسند ہے کہ آپ اس کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ہاں۔ اے عائشہ (رضی اللہ عنہا): کوئی نفس بھی پورے سال میں فوت نہیں ہوتا مگر اس کی اجل شعبان میں لکھ دی جاتی ہے۔ تو میں پسند کرتا ہوں کہ جب میری اجل لکھی جائے تو میں اللہ کی عبادت اور عمل صالح میں مصروف ہوں۔(امام جلال الدین سیوطی ’’تفسیر در منثور‘)

    نصف شعبان کی رات کی بہت فضیلت ہے، جیسا کہ علمائے عظام کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رات کو کسی متعین عبادت کے لئے خاص کرلیا جائے۔مثلاًرات میں نماز پڑھنا اوردن میں روزہ رکھنا کیونکہ اس بارے میں رسول اللہ سے کوئی قابل اعتماد حدیث کاپتہ نہیں جبکہ کسی عبادت کی قبولیت کی2 شرطیں ہیں: صرف اللہ کی رضامندی کے لئے ہواور سنت کے مطابق ہو۔اگر کسی بھی عبادت میں ان دونوں میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو وہ عبادت قابل قبول نہیں۔