Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی شخصیت نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی

    پاکستانی شخصیت نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی

    پاکستان کی ارب پتی شخصیت اور کامیاب انٹرپرینیور آزاد چائے والا نے منفرد ویب سائٹ متعارف کراکر ایک بار پھر سب کو حیران کردیا ہے

    باغی ٹی وی : جی ہاں پاکستانی نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ اور دیگر ہنر فراہم کرنے والی مشہور شخصیت آزاد چائے والا نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی۔

    آزاد چائے والا نے اس بار ایک منفرد اورحیران کن ویب سائٹ سیکنڈ وائف ڈاٹ کام (Secondwife.com) متعارف کروائی گئی ہے، ویب سائٹ مسلمانوں کو ازدواجی خدمات فراہم کرے گی اور اس کے ذریعے مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسری ،تیسری اور چوتھی شادی کرسکیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ متعارف کرانے کا مقصد ایسی خواتین کی مدد کرنا ہے جن کو شوہروں کی تلاش ہے اور انہیں ایسے مردوں سے رابطے میں لانا ہے جو دوسری، تیسری یا چوتھی بیوی کی تلاش میں ہیں۔

    آزاد چائے والا نے مزید کہا کہ ہم نے اس پراجیکٹ پر بہت سا پیسہ اور وقت خرچ کیا ہے اور اس کی کامیابی پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس قبل آزاد چائے والا اپنی ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ وہ شادی کے موضوع پر ایک ویب سائٹ پر کام کر ہے ہیں جس میں gomarry.com انگلش لوگوں کے لئے اور Secondwife.com مسلمانوں کے لئے ہے-

    کروڑ پتی آزاد چائے والا نے بتایا تھا کہ ایک عرصہ آزاد کشمیر میں ٹافیاں بھی بیچی ہیں بارہ سال کی عمر میں انہوں نے بھمبر میں ستاون روپے کی ٹافیاں خریدی اور لوگوں کو بیچی، کچھ عرصہ یہ کام چلا لیکن پھر والد کے کہنے پر انکو یہ کام بند کرنا پڑا انکے مطابق انہوں نے 53 روپے سے شروع ہونے والے کاروبار سے کچھ ہی دنوں میں اپنی والدہ کو تقریباً بائیس سو روپے کما کے دئیے-

    انکا کہنا تھا کہ پندرہ سال کی عمر میں گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے انگلینڈ جانا پڑا وہاں اکیس سال کی عمر تک قریب چھ سال ریڑھی لگائی، بطور سیلز مین کام کیا اور مختلف چھوٹے موٹے کام کئے انکا کہنا تھا کہ اس سارے عرصے میں نے آئی ٹی کا کام جاری رکھا اور پھر بائیس سال کی عمر میں اپنا پہلا گیمنگ پروجیکٹ مکمل کر لیا-

    آزاد نے بتایا کہ گیم بنانا انکی زندگی کا بڑا ٹرننگ پوائنٹ تھے اسکے بعد میں دبئی چلا گیا اور کئی اور آئی ٹی پروجیکٹ لانچ کئے آزاد نے مزید بتایا کہ آئی ٹی سے کمانے کے بعد میں نے دبئی اور برطانیہ میں ریل اسٹیٹ میں انویسٹ کیا اور آج یہ پراپرٹیز بھی کروڑوں میں ہے-

    آزاد چائے والا نے نو جوانوں کو پیغام دیا کہ ڈگری کریں مگر ہنر سیکھیں، شروع میں نوکری کریں لیکن اپنا چھوٹا موٹا کاروبار ضرور کریں زندگی میں معاشی کامیابی کا گر کاروبار ہی ہے

  • پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

    پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

    لیاری یونیورسٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ڈیجیٹل اسٹک متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق لیاری یونیورسٹی کے طلباء کی ٹیم نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر شفیق اعوان کی زیر نگرانی جدید چھڑی صرف تین ہزار روپے کی لاگت سے تیار کی ہے جو موبائل ایپلی کیشن سے منسلک ہے۔

    یہ ایپلی کیشن نابینا افراد کو اردو کے علاوہ انگریزی، سندھی پنجابی میں راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے آواز کے ذریعے آگاہ کرتی ہے اور دیگر کسی بھی زبان کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ بصارت سے محروم افراد اس جادو کی چھڑی کا صرف ایک بٹن دباکر اپنے اہل خانہ یا دوستوں کو اپنی لوکیشن سے آگاہ کرسکتے ہیں۔

    یہ اسٹک تیار کرنے والے نوجوانوں کی ٹیم میں شہزاد غلام مصطفی، شہزاد منیر اور محمد حمزہ علی شامل ہیں جن کا تعلق مڈل کلاس گھرانوں سے ہے اور انہوں نے اپنے بی ایس آئی ٹی کے فائنل پراجیکٹ کے طور پر یہ چھڑی تیار کی ہے جس کی موبائل ایپلی کیشن بھی خود ڈویلپ کی گئی ہے۔

    اگر حکومتی سطح پر اس پراجیکٹ کی سرپرستی کی جائےتو یہ اسٹک صرف ایک ہزار روپے میں تیار کرسکتے ہیں-

    شہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ کرونا کی وبا کے دوران جہاں تعلیمی ادارے بند تھے ہم نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر شفیق اعوان کی نگرانی میں تین ماہ کی مدت میں یہ ایپلی کیشن اور اسٹک تیار کی جو چار جدید الٹراسانک سینسرز پر مشتمل ہے، اسٹک کو ایک مرتبہ چارجنگ کے بعد ایک ہفتہ تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    شہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ اسٹک کو کمرشل بنیادوں پر تیار کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم مالی وسائل آڑے آرہے ہیں، اگر حکومتی سطح پر اس پراجیکٹ کی سرپرستی کی جائے اور کمپونینٹس کی درآمد میں مدد فراہم کی جائے تو وہ بصارت سے محروم افراد کو یہ اسٹک صرف ایک ہزار روپے میں تیار کرکے دے سکتے ہیں ، یہ اسٹک ایکسپورٹ کرکے پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرسکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ اس اسٹک کی افادیت کو مزید بڑھانے کے لیے اس کو اپ گریڈ کررہے ہیں جلد ہی اس اسٹک میں کیمرا بھی نصب کیا جائے گا جو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے بصارت سے محروم افراد کو ان کے اردگر موجود اشیا یا افراد کی شناخت کرکے آگاہ کریگی کہ سامنے سے ٹرک، کار سائیکل یا کوئی فرد آرہا ہے اسی طرح گوگل میپ کے ذریعے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں بھی رہنمائی فراہم کی جائیگی۔ش

    ہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ اگلا ورژن ایک جدید عینک پر مشتمل ہوگا جس میں کیمرا اور سینسرز نصب کیے جائیں گے۔ جادو کی اس چھڑی کو اپ گریڈ کرنے کے لیے الٹراسانک سینسرز کی جگہ جدید لیزر سینسرز استعمال ہوں گے جن کی رینج اور ایکوریسی زیادہ ہوگی-

  • آنرآئندہ ماہ اپنا پہلا فون عالمی سطح پرمتعارف کرانے کے لئے تیار

    آنرآئندہ ماہ اپنا پہلا فون عالمی سطح پرمتعارف کرانے کے لئے تیار

    ہواوے سے الگ ہونے کے بعد آنر اپنا پہلا اسمارٹ فون عالمی سطح پر مئی میں پیش کرنے جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہواوے سے الگ ہونے کے بعد آنر کا پہلا اسمارٹ فون وی 40 فائیو جی چین میں جنوری 2021 میں متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب یہ کمپنی ہواوے سے علیحدگی کے بعد عالمی سطح پر پہلا اسمارٹ فون آنر 50 سیریز کی شکل میں متعارف کرانے والی ہے۔

    فوٹو بشکریہ جی سی ایم ارینا
    فون میں ڈوئل سرکولر ڈیزائن کیمرا سیٹ اپ بیک پر موجود ہوگا یہ کیمرا سیٹ اپ ہواوے کے نئے فلیگ شپ فون پی 50 کی لیک تصاویر سے ملتا جلتا نظر آتا ہے جو جون میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

    فوٹو بشکریہ جی سی ایم ارینا
    تاہم آنر 50 فون میں کیمرا سیٹ اپ کا اوپری سرکل ایک لینس پر مشتمل ہوگا جبکہ نیچے والے سرکل میں 2 کیمرے چھپے ہوں گے جبکہ ایل ای ڈی فلیش دونوں سرکلز کے درمیان ہوگی جبکہ مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل چین میں ہی جنوری میں آنر وی 40 فائیو جی فون میں اینڈرائیڈ 10 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کمپنی نے اپنے میجک یو آئی 4.0 سے کیا ہے فون کو چین میں ہی فروخت کے لیے پیش کیا گیا کیونکہ وہاں فون گوگل سروسز کے بغیر ہی دستیاب ہوتے ہیں۔

    تاہم کمپنی اپنا پہلا فون آنر 50 سیریز عالمی سطح پر متعارف کرانے جا رہی ہے اس میں گوگل سروسز اور ایپس موجود ہوں گی یا نہیں یہ ابھی تک واضح نہیں ہے یہ آئندہ ماہ میں ہی پتہ چل سکے گا-

    خیال رہے کہ مئی 2019 کو امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ہواوے اور آنر کے نئے فونز گوگل سروسز سے محروم ہوگئے تھے، جس سے مختلف مارکیٹوں میں ڈیوائسز کی فروخت متاثر ہوئی تھی مگر ہواوے نے 2020 کے آخر میں آنر کو فروخت کردیا تھا۔

  • 90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی مشین

    90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی مشین

    سائنسدانوں نے جھوٹ پکڑنے والی ایسی مشین ایجاد کرلی –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا کی ایک ٹیکنالوجی فرم کونویرس نے 90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی ایک لائی مشین متعارف کروائی ہے۔

    امریکہ میں ایجاد کی جانے والی مشین آنکھ کی پتلیوں کی حرکت ریکارڈ کرے گی جس سے سچ اور جھوٹ کا 90 فیصد تک بالکل صحیح تعین ہوسکے گا۔

    اس مشین کی آئی ڈیٹیکٹ ٹیکنالوجی انسانوں کی دل کی دھڑکن، سانس لینے یا پھر پسینہ آنے کا جائزہ لینے والی مشینوں سے بالکل ہٹ کر ہے۔

    فوٹو بشکریہ کونویرس
    فرم کے چیئرمین ٹوڈ میکلسن کا کہنا ہے کہ انسانوں کے اپنی سانس پر کنٹرول کرنے، پرسکون رہنے اور پسینہ نہ آنے سے سچ اور جھوٹ کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

    آئی ڈیٹیکٹ کو تقریباً ایک سو مختلف عناصر کے ہمراہ پتلیوں کے سائز میں تبدیلی کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔

    یوٹاہ یونیورسٹی کے عالمی سطح پر نامور سائنس دانوں نے 2003 میں یہ ٹیکنالوجی تیار کی اور وسیع تر تحقیق کے ذریعے ،اس میں بہترین تبدیلی لائی گئی ہے-

    کمپنی کے مطابق ایوارڈ یافتہ آئی آڈٹیکٹ ٹیکنالوجی صرف 15 سے 30 منٹ میں ملازمت کے درخواست دہندگان ، ملازمین ، مریضوں ، منشیات کے استعمال کنندہ ، کھلاڑیوں ، مجرموں کے مشتبہ افراد اور دیگر مخصوص معاملات یا جرائم کے بارے میں درست جانچ کرتی ہے۔

    آئی ڈیٹیکٹ کو عام عنوانات پر اسکریننگ ٹیسٹوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور ، اس کا استعمال مجرمانہ یا سول مقدمات میں تشخیصی (واحد مسئلہ) ٹیسٹ کے لئے کیا جاسکتا ہے۔ یہ جھوٹ کا پتہ لگانے کی صنعت میں ایک حقیقی گیم چینجر ہے۔

  • اندھیرے میں جگنو کی طرح جگمگانے والا منفرد سمارٹ فون

    اندھیرے میں جگنو کی طرح جگمگانے والا منفرد سمارٹ فون

    رئیل می کی جانب سے رات کے اندھیرے میں کسی جگنو کی طرح جگمگانے والا منفرد اسمارٹ فون کیو 3 نامی سیریز کے فونز کو 22 اپریل کو پیش کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : کیو 3 نامی سیریز کے 2 فونز کیو 3 اور کیو 3 پرو متعارف کرائے جائیں گے جن کے بیک پر فلورسینٹ کلر آپشن بھی ہوگا جو اندھیرے میں جگمگائے گا۔

    فوٹو بشکریہ رئیل می کیو3 پرو
    رئیل می کیو 3 پرو فون میں 6.43 انچ کا امولیڈ ڈسپلے ہوگا جبکہ میڈیا ٹیک کا ڈیمینسٹی 1100 پروسیسر موجود ہوگا۔

    فون میں ممکنہ طور پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جس میں مین کیمرا 64 میگا پکسل کا ہوسکتا ہے۔

    فون کے اندر 4500 ایم اے ایچ بیٹری 65 واٹ چارجنگ کے ساتھ دی گئی ہے علاوہ ازیں اینڈرائیڈ 11 آپریٹنگ سسٹم، ڈوئل سم سپورٹ اور دیگر فیچرز بھی موجود ہوں گے۔

    مگر فون کی خاص بات اس کا بیک کور ہی ہوگا جس کے بارے میں کمپنی کے انڈسٹریل ڈیزائن ڈائریکٹر شیانگی شائر نے وضاحت کی کہ کیو 3 پرو کسی جگنو کی طرح جگمگائے گا۔

    کیو 3 فوٹو بشکریہ رئیل می
    یہ فون دن میں سورج کی روشنی کو جذب کرے گا اور رات کو جگمگائے گا جس طرح کسی بھی فلورسینٹ سرفیس میں ہوتا ہے۔

    کمپنی کی جانب سے ایک یا سینڈ اسٹون کرسٹل بھی تیار کیا ہے جبکہ 5 ایکسز مائیکرو لیول تھری ڈی مائیکرو اسٹرکچر کی بدولت فون دیکھنے میں اچھا لگے گا جبکہ اس کو ہاتھ میں رکھنا بھی آسان ہوگا۔

  • عالمی سروس’پے پال‘ کے ادارے ’وینمو‘ نے کرپٹو کرنسی کی خریدو فروخت شروع کر دی

    عالمی سروس’پے پال‘ کے ادارے ’وینمو‘ نے کرپٹو کرنسی کی خریدو فروخت شروع کر دی

    سلیکان ویلی: رقم منتقلی کی مشہور عالمی سروس ’’پے پال‘‘ کے ماتحت ادارے ’’وینمو‘‘موبائل ادائیگی ایپ اب صارفین کو بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل ٹوکن کی خریدوفروخت کر ے گی’’وینمو‘‘ سروس اور ایپ کا مقصد افراد کے درمیان رقم کے تبادلے کو آسان اور تیز رفتار بنانا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب منگل سےوینمو نے کرپٹو کرنسیز کا لین دین بھی اپنی خدمات میں شامل کرلیا ہے جس کے تحت عام صارفین بھی کم از کم ایک ڈالر کے عوض بٹ کوائن، ایتھریئم، لائٹ کوائن اور بٹ کوائن کیش جیسی کرنسیز کی خرید و فروخت کرسکیں گے؛ جس کے بعد انہیں اپنی ٹرانزیکشنز کو ایپ کی فیڈ میں پبلش کرنا ہوگا اس میں کم از کم اخراجات کی ضرورت ہو گی۔

    یہی نہیں بلکہ کرپٹو کرنسی خرچ کرکے ’’وینمو‘‘ کے ذریعے آن لائن خریداری بھی کی جاسکتی ہے ابھی حال ہی میں ، کمپنی نے عالمی سطح پر لاکھوں آن لائن تاجروں کو ادائیگی کے لئے لوگوں کو اپنی کرپٹو ہولڈنگز کا استعمال کرنے دینا شروع کردیا۔

    یہ ترقی پے پال کے ابتدائی اقدام پر توسیع کرتی ہے تاکہ صارفین اس کے مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے کرپٹو خریدیں۔

    70 ملین سے زیادہ صارفین کے ساتھ ، وینمو امریکہ میں سب سے مشہور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات میں سے ایک ہے جو خاص طور پر نوجوان امریکیوں میں مشہور ہے جو دوستوں اور خاندان کے ساتھ ادائیگی کرنے یا تقسیم کی خریداری کے لئے اس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مقابلہ اسکوائر کی کیش ایپ سے ہے۔

    پچھلے سال کورونا وبا کے باوجود بھی اس سروس کے ذریعے 159 ارب ڈالر کی رقم منتقل کی گئی۔

    اس کے سینئر نائب صدر اور جنرل منیجر ڈیرل ایسچ نے کہا ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ اپنے سفر میں جہاں بھی ہوں ، وینمو پر موجود کریپٹو ہماری ایک قابل اعتماد پلیٹ فارم پر اور براہ راست جس ایپ پر چاہیں آپ کرنسیوں کی خریدو فروخت کر سکتے ہیں –

    کرپٹو کرنسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پے پال کی ذیلی کمپنی کا بڑے پیمانے پر کرپٹو کرنسی کے لین دین کو ممکن بنانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دیگر مالیاتی ادارے بھی اس جانب توجہ دیئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

    ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافے کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں نے 2021 میں قیمت میں اضافہ کیا ہے ، جبکہ ٹیسلا اور پے پال جیسی بڑی کمپنیوں نے بھی اس میں نمایاں دلچسپی لی۔ ٹیسلا نے رواں سال کے شروع میں 1.5 بلین ڈالر کا بٹ کوائن خریدا تھا اور اب اسے اپنی کاروں کی ادائیگی کے طور پر قبول کیا ہے۔

    وینمو ایک موبائل ادائیگی کی خدمت ہے جس کی ملکیت پے پال کی ہے۔ وینمو اکاؤنٹ رکھنے والے ایک موبائل فون ایپ کے ذریعہ دوسروں کو فنڈ منتقل کرسکتے ہیں۔ اس نے امریکہ میں2018 کی پہلی سہ ماہی میں 159 بلین ٹرانزیکشنز کیں-

  • گلابی رنگ میں واٹس ایپ ایک خطرناک وائرس ،سائبر ماہرین نے خبردار کردیا

    گلابی رنگ میں واٹس ایپ ایک خطرناک وائرس ،سائبر ماہرین نے خبردار کردیا

    سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گلابی رنگ میں واٹس ایپ تبدیل کرنے کا دعویٰ کرنے والا لنک ایک وائرس ہے جوآپ کے موبائل فون کو ہیک کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیرملکی ٹیکنالوجی ویب سائٹ 360 گیجٹس کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسا لنک گردش کر رہا ہے جس میں واٹس ایپ کا رنگ گلابی کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے خبردار رہیں، یہ وائرس ہے اور یہ آپ کے موبائل فون کو ہیک کر سکتا ہے۔


    سائبر ماہرین نے واٹس ایپ صارفین کوخبردار کیا ہے کہ واٹس ایپ سے آفیشل اپ ڈیٹ ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس لنک پر کلک کرنے سے صارفین کا فون ہیک ہو جائے گا اور وہ اپنے واٹس ایپ تک رسائی سے محروم ہو جائیں گے۔

    یہ ڈاؤن لوڈ لنک واٹس ایپ گروپس میں گردش کر رہا ہے 360 گیجٹس کے مطابق سائبر سیکیورٹی کے ایک ماہر راج شیکھر راجہ ہریا نے کہا کہ واٹس ایپ پنک کے نام کے ساتھ کسی بھی لنک پر کلک نہ کریں، ورنہ آپ کے فون تک مکمل رسائی ختم ہو جائے گی اور ایسے لنک پر کلک کرنے سے آپ کے بینکنگ پاس ورڈ پر قبضہ اور پھر اکاؤنٹ سے چوری بھی ہو سکتی ہے۔

    واٹس ایپ کے صارفین بھی یہ نقصان دہ لنک شیئر کر رہے ہیں اس لیے سائبر انٹیلی جنس فرم نے صارفین کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ گوگل یا ایپل کے آفیشل ایپ اسٹور کے علاوہ کسی بھی ایپ کو انسٹال نہ کریں۔

    سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط ایپ کا استعمال کر کے دراصل آپ اپنے فون پر سمجھوتا کرتے ہیں اور آپ کے ذاتی ڈیٹا جیسے تصاویر، ایس ایم ایس، اور رابطوں وغیرہ کو چوری کیا جا سکتا ہے جبکہ کی بورڈ پر مبنی میل ویئر آپ کی ٹائپنگ کی ہر چیز کو ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے-

    دوسری جانب واٹس ایپ نے گیجٹس 360 کوجاری ایک بیان میں کہا ، "ای میل سمیت کسی بھی قسم کی سروس میں کوئی بھی غیر معمولی ، غیر اخلاقی یا مشکوک پیغام موصول ہو سکتا ہے اور جب کبھی بھی ہوتا ہے تو ہم صارف کی مکمل رہنمائی کرتے ہیں۔” خاص طور پر ، ہم یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ لوگ ایپ کے اندر فراہم کردہ ان ٹولز کا استعمال ہمیں رپورٹ بھیجنے ، رابطہ کی اطلاع دینے یا بلاک کانٹیکٹس بلاک کرنے کے لیے استعمال کرے-

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب جعلی واٹس ایپ ورژن چل رہا ہو۔ ماضی میں ، صارفین پر واٹس ایپ گولڈ کی مختلف قسم نے حملہ کیا تھا جسے کچھ ہیکرز نے صارف کے اعداد و شمارحاصل کرنے کے لئے تشکیل دیا تھا۔

    واٹس ایپ سٹیٹس ٹریکرمیں نقص،آن لائن صارفین سائبر کرمنلز کے نشانے پر

    واٹس ایپ میں نئی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی ،لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس نشانے پر

  • مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر’انجینیٹی‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر’انجینیٹی‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

    کیلیفورنیا: ناسا کا چھوٹا ہیلی کاپٹر ’انجینیٹی‘ اپنی پہلی آزمائشی اُڑان بھر چکا ہے-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ اس مہینے کے اوائل میں ’انجینیٹی‘ کے مرکزی روور ’پرسیویرینس‘ سے الگ ہوجانے کے بعد، پرواز اور رہنمائی سے متعلق اس کے سافٹ ویئر میں کچھ خامیوں کا انکشاف ہوا تھا جنہیں درست کرنے میں کئی دن لگ گئے۔


    اگلے مرحلے میں اس کے پنکھوں (روٹرز) کو خاصی رفتار سے گھما کر ان روٹرز کی کارکردگی جانچی گئی۔


    زمین پر اوسط ہیلی کاپٹر کے بلیڈ 400 منٹ سے 500 منٹ کی گردش کی شرح سے گھومتے ہیں پرواز کےلیے انجینیٹی کے روٹرز کا تقریباً 25 ہزار چکر فی منٹ کی رفتار سے گھومنا ضروری تھا۔


    ناسا کے ماہرین نے کچھ دیر پہلے ہی انجینیٹی کے تمام پہلوؤں کا حتمی جائزہ لے کر اس کی پہلی آزمائشی پرواز بھی کامیابی سے مکمل کرلی ہے۔


    یہ پرواز اگرچہ صرف چند سیکنڈوں پر محیط تھی لیکن یہ بلاشبہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے یوٹیوب پر یہ ساری کارروائی یوٹیوب پر لائیو اسٹریم کے ذریعے نشر کی جسے سوا لاکھ سے بھی زائد افراد نے دنیا بھر میں دیکھا۔

    انجینیٹی ہیلی کاپٹر کی پہلی پرواز سے متعلق لائیو اسٹریم کی ریکارڈنگ

    مریخ کی ’مارس روور‘ بھی انسانوں کی طرح ’سیلفی بخار‘ میں مبتلا

  • ٹائٹینک سے بھی بڑا سمندر پر تیرنے والا سائنسی شہر ارتھ 300

    ٹائٹینک سے بھی بڑا سمندر پر تیرنے والا سائنسی شہر ارتھ 300

    سائنسدانوں نے سائنسی تجربات کے لیے ایک دیوہیکل بحری جہاز تیار کرنے کامنصوبہ بنایا ہے 3 فٹبال گراؤنڈز جتنا بڑا یہ جہاز سمندر پر چلتا پھرتا سائنسی شہر ہوگا-

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی ویب سائٹ فوربز کے مطابق ماہرین نے سائنسی تحقیقات کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ ایک دیو ہیکل بحری جہاز تیار کرنا شروع کردیا ہے جو سائز میں 3 فٹبال گراؤنڈز جتنا ہوگا۔

    اس جہاز کا نام ارتھ 300 رکھا گیا ہے جس کا مقصد زمین پر بڑے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے سائنس اور ریسرچ کی کوششوں کو متحد کرنا ہے، جہاز کے مینو فیکچرر ایڈڈس یاٹ کے بانی سالس جیفرسن کے مطابق یہ جہاز تقریباً 160 سائنسی ضروریات کو پورا کرے گا۔

    ماہرین کے مطابق یہ جہاز سمندر میں سائنس، ریسرچ اور ایجاد کے لیے ایک جدید ترین تکنیکی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔اسے 22 تجربہ گاہوں اور روبوٹ سسٹم سے آراستہ کیا جانا ہے جو مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے سائنسی تحقیقات کو آگے بڑھائے گا اور اس میں 400 افراد کے کام کرنے کی گنجائش ہوگی اگرچہ یہ سائنسی تحقیقاتی مشن جوہری توانائی پر کام کرے گا مگر اس سے کسی قسم کی تابکاری کے اخراج کا خطرہ نہیں ہوگا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جہاز گرین ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوگا جو سائنسی تحقیق کے شعبوں میں استعمال ہوتی ہے اور اس میں پگھلے ہوئے نمک ری ایکٹر کے ذریعہ توانائی حاصل کی جائے گی جو ایٹمی بجلی پیدا کرنے کی ایک قسم ہے یہ پگھلے ہوئے فلورائڈ نمکیات کو بطور چلر استعمال کرے گا اور کم دباؤ پر بھی کام کرے گا۔

    ارتھ 300 پروجیکٹ کے سی ای او آرون اولیویرا کا کہنا ہے کہ اس میں این ای ڈی پروجیکٹ کے تیار کردہ ڈیزائن کے ذریعہ حیرت انگیز فن تعمیر کا مظاہرہ کیا گیا ہے، یہ جہاز کروز، ریسرچ، ریسرچ ٹرپ اور لگژری یاٹ میں پائی جانے والی خصوصیات پیش کرے گا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ ارتھ 300 ایک چلتا پھرتا سائنسی شہر ہوگا جس میں سائنسی تجربات کے لیے وسیع جگہ تیارکی گئی ہے۔

    یہ جہاز ٹائی ٹینک سے بھی بڑا اور فٹ بال کے 3 گراؤنڈز جتنا ہوگا اس کی تیاری پر کام جاری ہے اور سنہ 2025 میں اسے باقاعدہ سائنسی تحقیقاتی مشن کے لیے لانچ کردیا جائے گا۔

  • پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر سن 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔

    نومولود بیٹی کا نام بامبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا بامبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بامبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

    انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں مکان نمبر 104 خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی شہزادی بامبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

    سن 1915 میں شہزادی بامبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ سدھر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بامبا سدھرلینڈ ہو گیا۔

    شہزادی بامبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔

    سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بامبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپنے مرحوم باپ دلیپ سنگھ کی روح کو کسی طور پر سکون پہنچا سکے گی۔

    اس دوران شہزادی بامبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا علامہ اقبال، شہزادی بامبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ شہزادی بامبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا وہ عمارت سن 1944 میں سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی آج بھی یہ عمارت ان کے خاص ملازم پیر بخش کی اولاد کے زیراستعمال ہے۔

    تقسیم کے ایک برس قبل 13جولائی 1946ء کو بامبا نے رنجیت سنگھ کی اولاد کا ایک حقیقی وارث ہونے کے ناطے اپنے ایک وکیل رگھبیر سنگھ ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کی وساطت سے اپنی پنجاب کی سلطنت کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک خط یو این او کو بھجوایا لیکن اس خط کا کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔

    تقسیم کے وقت شہزادی بامبا انگلینڈ، ہندوستان اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے کا حق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے دادا کی سلطنت پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ہر چیز پر ترجیح دی وہ لاہور میں رہ کر دلیپ سنگھ کی جائیداد اور دیگر معاملات کو دیکھتی رہیں وہ لاہور میں اکثر اپنی گاڑی پر مال روڈ اور دوسرے علاقوں میں چلی جاتیں اور عہد رفتہ کی عمارات کو دیکھتی رہتی تھیں۔

    شہزادی بامبا نے ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر سے گلہ کیا کہ میں اس بادشاہ کی پوتی ہوں جس کی ملکیت میں تمام پنجاب تھا اور مجھے بس میں الگ سے کوئی نشست بھی نہیں دی جاتی بامبا کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ تھے وہ اپنی وفات سے دو برس قبل ہی کانوں سے بہری ہو چکی تھیں، آنکھوں سے خاص دکھائی بھی نہیں دیتا تھا اور فالج کے حملے کے باعث وہ اپنے دستخط بھی نہ کر سکتی تھیں۔

    ان تمام حالات کی خبر شہزادی کے قریبی رشتہ داروں میں سے پریتم سنگھ کو مکمل طور پر تھی 10 مارچ سن 1957 کو بامبا انتقال کر گئیں اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی عیسائی رسومات کی ادائیگی کرنے کے بعد شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفنایا گیا۔

    ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

    حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتی
    جس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہے
    اگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھے
    تو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتا

    علاوہ ازیں شہزادی بامبا کی قبر کے کتبے پر درج ذیل تحریر رقم ہے۔

    Here lies in eternal peace The Princess Bamba Sutherland Eldest Daughter of Maharajah Daleep Singh and Grand Daughter of Maharajah ranjit Singh of Lahore.Born on 29th September 1869 in London-Died on 10th March 1957 at Lahore.

    شہزادی بامبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جوان کی وصیت کے مطابق ان کے خاص ملازم پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔

    جبکہ لندن میں بچی ہوئی دلیپ سنگھ کی وسیع و عریض جائیداد کا کوئی بھی وارث نہ بچا اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا اور یوں وہ تمام جائیداد تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔

    لیکن لندن میں موجود سکھ خاندان کے نوادرات وصیت کے مطابق پیر کریم بخش نے حکومت پاکستان کے تعاون سے لاہور منگوانے کی درخواست دائر کی متعلقہ بنک نے انتہائی ایمانداری سے وہ خاندانی نوادرات ایک ہفتے میں لاہور بھجوا دیئے۔

    ان نوادرات کوشہزادی بامبا کی رہائش گاہ میں محفوظ کر کے ’اورئینٹل میوزیم‘ کھولا گیا 1962ء میں حکومتِ پاکستان نے شہزادی بامبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔

    سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔