Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان فرسٹ موومنٹ کی یوتھ اے پی سی اور نظریہِ پاکستان    از: طہ منیب

    پاکستان فرسٹ موومنٹ کی یوتھ اے پی سی اور نظریہِ پاکستان از: طہ منیب

    پاکستان فرسٹ موومنٹ کی یوتھ اے پی سی اور نظریہِ پاکستان از طہ منیب

    چند روز قبل عثمان رضا جولاہا صدر والنٹیئر فورس پاکستان کی دعوت پر انسٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں آل پارٹیز یوتھ کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس میں وفاقی وزیر علی محمد خان ، ترجمان پنجاب حکومت سیمابیہ عارف، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پاکستان فرخ ڈال، صدر کشمیر یوتھ الائنس ڈاکٹر مجاہد گیلانی سمیت متعدد یوتھ قائدین شریک ہوئے۔

    قومی یکجہتی کے عنوان پر ملک کے طول و عرض سے نوجوان شریک تھے۔ بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان ، خیبر پختونخوا سمیت کشمیر سے نوجوان قیادت نے اپنے مسائل بتانے کے ساتھ ساتھ انکے حل پر زور دیا۔

    راقم نے قیام پاکستان کی بنیاد یوم پاکستان کی روداد اور نظریہ پاکستان کی اہمیت کو یاد کرنے اور اس پر عمل کرنے پر زور دیا کہ یہ دو قومی نظریہ ، نظریہ اسلام ہی نظریہ پاکستان تھا جسکی بنیاد پر یہ ملک لا الہ الااللہ کے نظام اور اسکے احکامات کی تعمیل کیلئے حاصل کیا۔ آج ہمسایہ ملک میں مسلمانوں کی حالت زار اس نظریہ کی حقانیت پر دلالت کرتی ہے۔

    جہاں ایک سال قبل متنازعہ شہریت بل میں لاکھوں مسلمان سڑکوں پر جبکہ ہزاروں طلباء نیو دہلی میں لاٹھیوں اور گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔ چند دن پہلے ایک مسلم بچہ مندر میں پانی پینے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنا جبکہ بابری مسجد، گجرات فسادات سمیت ہند میں مسلم کش فسادات کی ایک تاریخ ہے۔

    جب یہ نظریہ کمزور پڑا تو ہمارا ملک دولخت ہو گیا جہاں کل مودی نے ایک بار پھر بنگلہ دیش کے قیام کی جدوجہد میں شرکت کی وجہ سے اپنی گرفتاری کا حوالہ دیا اور اس سے قبل اندرا گاندھی نے بھی انڈین پارلیمنٹ میں اپنی فاتحانہ تقریر میں نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبونے کی بات کی تھی۔

    دوسری طرف ہزاروں پڑھے لکھے پی ایچ ڈی ، ایم فل ، انجینئرز کشمیری نوجوانوں کا پچھلی ایک دہائی میں تکمیل پاکستان کی جنگ میں پیش کیا گیا مقدس خون پاکستانی ارباب اختیار کے سامنے سوال بن کر کھڑا ہے۔

    پاکستان کی یوتھ پاکستان کا مستقبل ہے ، یوتھ اگر نظریہ پاکستان کے سبق کو یاد کرے اور اس پر عمل پیرا ہو تو یہ ارباب اختیار کو بھی نظریہ پاکستان پر کھڑا کر سکتی ہے۔ یہ نظریہ پاکستان ہی ہے جو ہماری سالمیت اور بقا کا ضامن ہے۔

  • آدم علیہ السلام کا اپنی اولادوں کا آپس میں نکاح کرنا کیوں ضروری تھا

    آدم علیہ السلام کا اپنی اولادوں کا آپس میں نکاح کرنا کیوں ضروری تھا

    اللہ تعالی نے انسان کی نسل بڑھانے کا ایک طریقہ رائج کیا ہے جو سب کو پتہ ہے مگر اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی اماں جی حواء کو اس طریقے سے ہٹ کر بنایا اور ان سے بنی نوع انسان کی افزائش کا عمل شروع ہوا جس پر ملحدین اعتراض کرتے ہیں کہ اب موجودہ شریعت میں سگے بہن بھائیوں کا نکاح جائز نہیں جبکہ آدم علیہ السلام کی اولادوں کا آپس میں نکاح کیا گیا ہے جو کہ قابل اعتراض ہے

    ان کے اعتراض کا جواب ہے کہ کیا تم بتا سکتے ہو کہ پہلے دودھ بنا تھا کہ دہی؟
    میں قرآن سے بھی دلائل دونگا ان شاءاللہ
    قرآن راہ ہدایت ہے علم و عقل والوں کیلئے چونکہ ملحدین دنیا کے سب سے کم عقل ترین اور ناپختہ ذہن لوگ ہوتے ہیں سو ان کے لئے جیسے کسی کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے حروف تہجی کا سکھایا جانا لازم ہے ایسے ہی ان ملحدین کو دنیاوی مثالوں سے سمجھایا جانا بھی لازم ہے

    یقیناً ہر بندہ اس بات کا ہرگز شعور نہیں رکھتا کہ پہلے دہی بنی کہ دودھ جب دہی نا تھی تو دودھ کی دہی کیسے بنی ؟
    ہمارے ہاں جب کبھی دہی میسر نا ہو تو دودھ کی دہی بنانے کیلئے کھٹے کا بھی استعمال کیا جاتا ہے
    ہر انسان جانتا ہے کہ دودھ کو محفوظ رکھنے کیلئے گرمی و دہی سے بچایا جاتا ہے تاکہ دودھ خراب نا ہو سکے اگر دودھ کو دہی یا زیادہ گرمی لگ جائے تو دودھ پھٹ جاتا ہے جس کی وجہ دہی میں موجود بیکٹیریا کا ہونا ہے مگر جب اسی دودھ کی دہی بنانی ہوتی ہے

    تو پھر دودھ کو دہی لگانا لازم ہوتا ہے اور گرمائش دینا بھی تاکہ دہی بن سکے اور دہی کی افزائش میں اضافہ ہو اب جب دہی بن گئی تو پھر سابقہ بات کی طرح دہی لگانے کیلئے کھٹے کی ہر گز ضرورت نہیں دہی بنانے کیلئے تھوڑی سی دہی بچا کر رکھی جاتی ہے جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہماری فریج میں تھوڑی سی دہی بطور جاگ لگانے کیلئے رکھی جاتی ہے تاکہ بوقت ضرورت اس سے مذید دہی بنائی جائے

    بات واضع روشن ہے کہ آدم علیہ السلام و اماں جی حواء علیہ السلام دنیا پر موجود واحد انسان تھے جن سے بنی نوعِ انسان کی افزائش بڑھانا مقصود تھا سو اس لئے کچھ عرصہ آدم علیہ السلام کے ہاں ہونے والے بیٹے بیٹیوں کی شادی کرنا لازم تھا جب ان کی اولاد کا سلسلہ بڑھ گیا تو اس سلسلہ کو موقؤف کر دیا گیا
    اب میں قرآن سے اس کی مثال پیش کرتا ہوں
    آدم علیہ السلام کے ہاں جو بھی بیٹا ہوتا تواس کے ساتھ بیٹی ضرور پیدا ہوتی تو اس بچی کے ساتھ پیدا ہونے والا بچہ دوسرے بچے کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی سے شادی کرتا ۔ تفسیر ابن کثير سورۃ المائدۃ آیۃ نمبر ( 27 )

    بلاشبہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کے لیے یہ مشروع کیا تھا کہ وہ اپنی اولاد میں سے بیٹی اور بیٹے کی آپس میں شادی کردیں اس لیے یہ حالات کی ضرورت تھی ، لیکن کہا جاتا ہے کہ ان کے ہردفع ایک بیٹا اورایک بیٹی اکٹھے پیدا ہوتے تھے تو اس طرح وہ ان کے ساتھ شادی کرتے جو ان کے علاوہ دوسری دفعہ پیدا ہوتے تھے پھر جب افزائش نسل کافی بڑھ گئی تو یہ نظام حکم ربی سے منع ہو گیا
    کیونکہ ہم انسان ہر بات نہیں جانتے

    اور (اے پیغمبر! اس وقت کا تصور کرو) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ : ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔” تو وہ کہنے لگے۔”کیا تو اس میں ایسے شخص کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد مچائے گا اور (ایک دوسرے کے) خون بہائے گا۔جبکہ ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح وتقدیس بھی کر رہے ہیں۔”اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ ”جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔” (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے اسماء (نام یا صفات و خواص) سکھا دیئے۔ پھر ان اشیاء کو فرشتوں کے روبرو پیش کر کے ان سے کہا کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو”۔ فرشتے کہنے لگے نقص سے پاک تو تیری ہی ذات ہے۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہی
    سورہ البقرہ آیت 30 تا 38

    فرمان باری تعالی ہے کہ
    یہ ہرگز ایسی بات نہیں جو گھڑ لی جائے اور لیکن اس کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے ہے اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں ۔
    قرآن ، سورت یوسف ، آیت نمبر 111

    یہ قرآن راہ ہدایت ہے ایمان اور عقل والوں کیلئے کیونکہ جن کے دل زنگ آلو ہو گئے اور وہ ہدایت یاب ہونا ہی نہیں چاہتے ان سے اللہ تعالی یوں مخاطب ہیں
    ھر اگر وہ تیری بات قبول نہ کریں تو جان لے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
    قرآن ، سورت القصص، آیت نمبر 50

    اللہ تعالی ہم سب کو حق سچ لکھنے سمجھنے بولنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • تحریک آزادی کشمیر کو خطرہ معاہدہ امن سے نہیں تمہاری زبانوں سے ہے

    تحریک آزادی کشمیر کو خطرہ معاہدہ امن سے نہیں تمہاری زبانوں سے ہے

    فی زمانہ کشمیر پر کچھ لوگوں کا موقف مختلف رہا ہے اور ان کا کام اس محاذ پر سوائے مایوسی پھیلانے کے اور کچھ بھی نہیں
    1947 میں جب غیور کشمیریوں نے افواج پاکستان اور قبائلیوں کے ساتھ مل کر انڈیا کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو اپنی تباہی دیکھ کر اس وقت کے وزیراعظم کو مجبوراً جنگ بندی کیلئے سلامتی کونسل پہنچنا پڑا اور پھر سلامتی کونسل کے استصواب رائے کی یقین دہانی پر جنگ بندی کرنی پڑی یہ لوگ اس وقت بھی جنگ بندی کو غلط کہتے رہے اور جنگ کو نا روکنے کا واویلا کیا اور خود گھروں میں بیٹھے رہے اور واویلا کیا جہاد کشمیر کے سودے کا ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کو پیچھے نہیں ہٹنا چائیے تھا

    ایسی مایوسیاں پھیلانے والوں میں کچھ کشمیری ہیں اور کچھ لوگ پاکستانی بھی شامل ہیں جو دراصل راہ جہاد سے فرار چاہتے ہیںوقت گزرتا گیا پاکستان اور انڈیا کے مابین 1965,1971 کی دو جنگیں خالصتاً وجہ عناد مسئلہ کشمیر کے لئے لڑیں گئیں تب ان لوگوں نے کہا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں سو وقت گزرتا گیا 1989 میں جب ہندو کا ظلم عروج پر پہنچا تو کشمیریوں نے کلاشن اٹھائی اور انڈین فوج پر یلغار کی جس کیلئے مجاھدین پاکستان و افغانستان سے وادی میں پہنچے اور اپنے مسلمان کشمیری بھائیوں کی مدد کی اس بار ان لوگوں نے پھر شور کرنا شروع کر دیا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں انٹرنیشنل کورٹ میں کیس لڑا جائے

    اس سے خون ریزی ہو گی فلاں فلاں مگر کشمیریوں نے اپنا کام جاری رکھا وادی کشمیر کے اندر جاری اس تحریک سے دونوں ملکوں کے مابین لائن آف کنٹرول پر ہر روز کشیدگی رہنے لگی جس سے روزانہ دونوں جانب سے جانی و مالی نقصان ہونے لگا جس پر یہ لوگ پھر چلائے کہ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ و دونوں ممالک کی افواج کا جانی نقصان ہو رہا ہے اسے روکا جائے

    1999 میں ایک بار پھر دونوں ملکوں کے مابین کارگل چھڑی جس کا خالصتاً مقصد آزادی کشمیر تھا جس میں انڈین فوج کے ساتھ پاکستانی مجاھدین و آرمی کو سخت جانی و مالی نقصان ہوا مگر پھر ان لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھا کہ حالات خراب کئے جا رہے ہیں مسئلہ کشمیریوں اور انڈیا کا ہے پاکستانی فوج بیچ میں نا آئے وغیرہ وغیرہ

    وقت نے کروٹ لی اور 2003 میں انڈیا و پاکستان دونوں ممالک نے امن مائدہ کیا کہ ایل او سی پر حالات بہتر کئے جائیے تاکہ جانی و مالی نقصان نا ہو اس معائدے پر ان لوگوں نے پھر واویلا شروع کر دیا کہ کشمیر کا سودا ہو چکا ہے جنگ بندی کشمیر کے سودے کی علامت ہے کشمیریوں کو دھوکے میں رکھا گیا ہے فلاں فلاں مگر کشمیریوں اور مجاھدین نے ایک نا سنی اور اپنا کام جاری رکھا حتی کہ 2010 کے بعد تحریک آزادی اپنی انتہاہ کو پہنچی کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دیں ا

    انڈین فوج پر تاریخی یلغاریں کیں مگر جہاد کشمیر کے لئے برہان وانی ریاض نائیکو ،بشیر لشکری جیسے نوجوان راہ جہاد میں کود پڑے ان لوگوں نے پھر شور مچا دیا کہ کشمیر میں مجاھدین انڈین فوج کو مارتے ہیں جس کے ردعمل میں انڈین فوج پھر کشمیریوں پر ظلم کرتی ہے غیر ملک سے مجاھدین مال کیلئے جاتے ہیں ان مجاھدین کے جانے سے فتنہ پھیلتا ہے وغیرہ وغیرہ مگر ان کو کشمیریوں نے گھاس نا ڈالی اور جہاد کشمیر جاری رکھا یہاں تک کے پلوامہ میں مجاھدین نے فروری 2019 میں تاریخی خودکش فدائی حملہ کیا جس سے انڈیا تو انڈیا پوری دنیا کے ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اتنی قوت سے اتنا بڑا حملہ کیسے ممکن ہے؟ مجاھدین بہت زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں خاص کر اندین فوج و میڈیا نے شور ڈالا کہ مجاھدین اس قابل نہیں یہ حملہ پاک فوج نے کروایا ہے

    اس حملے میں انڈین سی آر پی ایف کے 46 فوجی ہلاک اور 100 سے اوپر زخمی ہوئے تھے اس پر ایک بار پھر یہی لوگ میدان زبانی محاذ سے تنقید کرنے کو کود پڑے کہ انسانی جانوں کا ضیاع ہو گیا حالانکہ ان کو اس وقت انسانی جانوں کا ضیاع نظر نا آیا جب روزانہ مجاھدین کشمیر کے ساتھ عام کشمیریوں کو انڈین فوج نے بے دردی سے شہید کیا اور ابتک ایک لاکھ کے قریب کشمیری نوجوانوں کو انڈین فوج شہید کر چکی ہے جن میں بچے،عورتیں اور بزرگ بھی شامل ہیں

    پلوامہ حملے کے بعد انڈین فوج نے ایل او سی کراس کی تو ان لوگوں نے پھر پاکستان کے دفاع پر سوال اٹھایا اور بزدلی کا طعنہ مارا مگر چند ہی گھنٹوں بعد پاکستان فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کراس کی اور انڈین ائیر فورس کے دو طیارے مار گرائے جس پر چند ہی گھنٹوں بعد ان لوگوں کو انڈیا سے ہمدردی ہو گئی اور بات امن و شانتی کی ہونے لگی

    چند ماہ گزرے 5 اگست 2019 کو انڈین فوج نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے کو ختم کیا اور کرفیو لگا دیا جو کہ آج 600 سے اوپر دن گزرنے کے ساتھ جاری ہے اب یہی امن کی آشا والے لوگ پھر امن کو بھول کر لڑائی کا درس دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کشمیر کا حل سوائے بندوق کے نا ہو گا مگر کشمیریوں اور مجاھدین نے سخت حالات کا مقابلہ کرکے مسلح تحریک کو آگے بڑھایا اور کرفیو کے باوجود انڈین فوج پر حملے جاری رکھے جس کے باعث ایل او سی پر پہلے سے خراب حالات مذید خراب ہوتے چلے گئے

    حالات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک نے رواں ماہ ایک بار پھر ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر گولی باری نا کرنے کا فیصلہ کر لیا جس پر پھر ایک بار انہی لوگوں کو مروڑ اٹھا کہ پاکستان نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ بیچا کتنے میں ہے کیونکہ سودا تو پیسوں کے عیوض ہوتا ہے

    انہوں کا اعتراض ہے کہ پاکستان آرمی اگر مخلص ہے تو کشمیر میں گھس جائے فلاں فلاں مگر کشمیریوں نے پچھلے ہفتے اکیلے سرینگر کے گردونواح میں 3 حملے انڈین فورسز پر کئے جس میں انڈین فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا جس پر یہ لوگ غیر ملک سے جانے والے مجاھدین کا تذکرہ کرنے والے خاموش رہے ان کو توفیق نا ہوئی کہ یہ غیر ملکی مجاھدین آخر کشمیریوں کی رائے کے بغیر کیسے وادی میں چھپ جاتے ہیں؟
    جبکہ انڈین فورسز بار بار روتی ہے کہ غیر ملکی مجاھدین ہی سب سے بڑا خطرہ ہیں جن کو کشمیری لوگ پناہ دہتے ہیں اور ان کی معاونت کرتے ہیں

    ان منافقین کے لئے میں اللہ کے نبی کریم کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔
    (سنن ابی داوُد ،جلد دوم کتاب الجہاد2504
    کہ اس حدیث کے مطابق تمہارا کیا کردار ہے عملی طور پر ؟

    کیا تم نے جہاد کشمیر میں جان سے حصہ لیا ؟کیا تم نے مجاھدین تنظیموں کی مدد کی ؟ مجاھدین پر تم چندہ کھانے کا الزام لگاتے ہو تو دوسری طرف انڈین فوج پر ہوئے حملوں پر یہی کہتے ہو کہ یہ کام بیرون ممالک مجاھدین کا ہے کیا کھایا گئے چندے سے انڈین فوج پر حملہ ہو سکتا ہے؟

    کیا تم نے اپنی زبانوں سے مجاھدین و کشمیریوں کی حمایت کی ؟
    اگر تم نے کبھی جہاد کشمیر و مجاھدین کی حمایت کی ہوتی تو آج اس زبانی جہاد جوکہ نبوی حدیث سے بافضیلت ثابت ہے اس کے اظہار پر تمہاری فیسبک ٹویٹر وال خاموش کیوں؟ اور اتنی مایوسی کس لئے ؟
    حالانکہ کشمیری تو پہلی کی طرح پرعزم ہیں

    اللہ کے نبی نے تو جہاد کو طاقت کے مطابق فرض قرار دیا ہے مگر تم زبانی سب سے سستے جہاد پر بھی خاموش کیوں؟؟؟
    رہی بات امن معاہدے کی یہ پہلے بھی ہوا اس سے تحریک آزادی کو نا پہلے فرق پڑا تھا اور نا اب پڑا ہے جنہوں نے جو کرنا ہے وہ خوب کرتے ہیں تم اپنی آخرت کی سوچو
    پھر بھی شک ہے تو موجودہ معرکوں پر انڈین فوج کے سامنے کشمیریوں کے نعرے کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا؟ لاالہ الااللہ سن لو

    بات ایک سورہ قرآن بیان کرکے ختم کرتا ہوں
    یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ا س کے فضل سے مایوس ہوجانا کافر کا وصف ہے، جیسا کہ سورۂ یوسف میں ہے:

    ’’اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ‘‘(یوسف:۸۷)
    : بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں ۔
    یاد رکھو امن معاہدے سے تحریک آزادی کشمیر کو کوئی خطرہ نہیں اگر خطرہ ہے تو تمہاری مایوسی زدہ زبانوں سے
    اللہ تعالی ہم سب کو مایوسی جیسی لعنت سے محفوظ فرمائے آمین

  • انسٹاگرام اسٹوریز  پر ردعمل کے اظہار کے لیے اسٹیکرز کی آزمائش

    انسٹاگرام اسٹوریز پر ردعمل کے اظہار کے لیے اسٹیکرز کی آزمائش

    فسین بک کی مقبول فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام نے اسٹوریز پر ردعمل کے اظہار کے لیے اسٹیکرز کی آزمائش کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : یہ سب جانتے ہیں کہ انسٹاگرام فی الحال اسٹوری پر ردعمل دینے کے لیے صارف کو 8 ایموجیز پیش کرتا ہے تاہم جلد ہی صارفین کے لیے انسٹاگرام اسٹوریز پر رد عمل کے اظہار کے لیے مزید اسٹیکرز متعارف کروا دیئے جائیں گے۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انسٹالیک ٹوئٹر ہینڈلر کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ انسٹاگرام اسٹوریز پر رد عمل کے اظہار کے مختلف اسٹیکرز کی آزمائش کر رہا ہے۔

    انسٹاگرام انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام اسٹوری پر رد عمل کے اظہار کے لیے مختلف فیچرز متعارف کروائے جائیں گے جن میں کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے صارف کسی بھی صارف کی انسٹاگرام اسٹوری پر رد عمل کا اظہار کرپائے گا۔

    ویڈیو میں انسٹاگرام اسٹوریز کے لیے 4 مختلف کیٹگریز کے اسٹیکرز (ہیپی، لوو ، فنی اور سیڈ) دیکھے جا سکتے ہیں، اور ہر کیٹگری میں مزید 5 اسٹیکرز شامل ہیں۔

    تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ انسٹاگرام اسٹوریز کے لیے یہ اسٹیکرز کب متعارف کروائے جائیں گے۔

  • آن لائن گیم پب جی ایک ارب ڈاؤن لوڈز کیساتھ  دنیا بھر کے کامیاب ترین گیمز کی دوڑ میں شامل

    آن لائن گیم پب جی ایک ارب ڈاؤن لوڈز کیساتھ دنیا بھر کے کامیاب ترین گیمز کی دوڑ میں شامل

    ریونیو کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمزچینی کمپنی ٹیک جائنٹ ٹینسنٹ کے مطابق ان کے موبائل فون گیم پب جی موبائل نے چین کے باہر مجموعی طور پر ایک ارب ڈاؤن لوڈز کے سنگِ میل عبور کرلیا جس کے بعد آن لائن گیم پب جی دنیا بھر کے کامیاب ترین گیمز میں شامل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق پب جی موبائل، پلیئر ان نون کے بیٹل گراؤنڈز کا موبائل ورژن ہے، جس میں پلیئرز کا ایک گروہ، ایک دوسرے سے اس وقت تک لڑتا رہتا ہے جب تک صرف ایک کھلاڑی باقی نہیں رہ جاتا ہے یہ آن لائن گیم اس وقت سے مقبول ہے جب اسے 3 برس قبل 2018 میں لانچ کیا گیا تھا۔

    پب جی موبائل کے ڈاؤن لوڈز کے حالیہ اعداد و شمار کے بعد یہ اب کلو گیمز کے سب وے سرفر اور کنگ ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ کے کینڈی کرش ساگا سے پیچےرہ گیا ہے۔

    ڈیٹا اینالیٹکس فرم سینسر ٹاور کے مطابق مذکورہ دونوں گیمز کھیلنے میں آسان ہیں اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد انہیں پسند کرتی ہے۔

    نیکو پارٹنرز کے تجزیہ کار نے کہا کہ پب جی موبائل کے ایک ارب ڈاؤن لوڈز کا مطلب ہے کہ اس جیسے دیگر گیمز بھی اسی جگہ پہنچ سکتے ہیں۔

    ٹینسینٹ جو ریونیو کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمز کمپنی ہے جس کا چین میں اسی طرح ایک اور گیم ہے جو پیس کیپر ایلیٹ کہلاتا ہے۔

    یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آگیا ہے جب ٹینسینٹ کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ چوتھی سہ ماہی میں ان کے آن لائن گیمز ریونیو میں 29 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے چین اور بین الاقوامی مارکیٹس میں ویڈیو گیمز کھیلنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہے۔

    کمپنی کے مطابق ان کے 2 ہٹ گیمز اونر آف کنگز اور پب جی موبائل، اسی سہ ماہی میں چین اور بین الاقوامی مارکیٹس میں بالترتیب ٹاپ رینکنگز میں رہے۔

  • موٹرولا نے جی سیریز کے 2 مِڈ رینج موبائل فون لانچ کر دیئے

    موٹرولا نے جی سیریز کے 2 مِڈ رینج موبائل فون لانچ کر دیئے

    موٹرولا نے گزشتہ ماہ ای اسیریز کے انٹری لیول فون کے بعد اب جی سیریز کے 2 مِڈ رینج موبائل فون بھی متعارف کرا دیئے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق موٹو جی-50 بظاہر موٹو جی-10 جیسا ہے جبکہ موٹرولا ایج ایس کو ری برانڈ کرکے موٹو جی-100 کا نام دیا گیا ہے جو رواں برس کے آغاز میں چین میں لانچ ہوا تھا۔


    موٹو جی-50 کا ریکٹینگولر کیمرا ایزل ہے جس میں ٹرپل سینسر کیمرا سیٹ اپ موجود ہے۔

    موٹو جی-50

    اس کا آئی پی ایس ایل سی ڈی پینل ساڑھے 6 انچ کا ہے، جس کا ریفریش ریٹ 90 ہرٹز اور ریزولوشن 720پکسلز ہے۔

    موٹو جی- 100

    موٹو جی -100 کا ڈیزائن موٹرولا ایج ایس جیسا ہے اس کا فنگر پرنٹ اسیکینر موجود ہے جبکہ بیک پر کواڈ-کیمرا سینسر سیٹ اپ موجود ہے۔

    ڈسپلے میں جی-100 کی آئی پی ایس ایل سی ڈی 6.7 انچ کی ہے اور اس کا پکسل ریزولوشن 2520×1080 ہے موٹو جی -100 ، ایچ ڈی آر 10 سپورٹ سے لیس ہے اور برائٹنس 560 نٹس ہے۔

    موٹرولا کے یہ دونوں موبائل واٹر ریزیسٹنٹ لیکن ان میں آئی پی ریٹنگ موجود نہیں ہے۔

    موٹو جی-50 میں اسینپ ڈریگن 480 فائیو جی چپ سیٹ موجود ہے، اس کے ساتھ ہی اس کی جی پی یو بھی جی-10 سے بہتر ہے۔

    جی-50 ، 4 جی بی ریم اور 64 جی یا 128 جی بی آن بورڈ اسٹوریج سے لیس ہے۔

    موٹو جی 100 میں کوال کوم اسنیپ ڈریگن 870 موجود ہے اور اس میں 8 جی بی ریم اور 128 جی بی یو ایف ایس 3.1 اسٹوریج موجود ہے۔

    دونوں ہینڈ سیٹس اینڈرائیڈ 11 آپریٹنگ سسٹم سے لیس ہیں اور ان میں ایک نیا یوزر انٹر فیس بھی موجود ہے جو MY UI کہلاتا ہے۔

    موٹو جی 50 میں بیک پر ٹرپل سینسر کیمرا موجود ہے، ساتھ میں 48 میگا پکسل مین سینسر، 5 میگا پکسل میکرو کیمرا اور 2 میگا پکسل ڈیپتھ سینسر موجود ہے۔

    سیلفیز کے لیے موٹو جی50 میں 13 میگا پکسل کا سنگل سینسر کیمرا بھی موجود ہے۔

    دوسری جانب جی100 میں کواڈ سینسر کیمرا سیٹ اپ موجود ہے، 16 میگا پکسل کا وائیڈ سینسر موجود ہئ جو فیز-ڈیٹیکٹ آٹوفوکس کی صلاحیت رکھتا ہے ساتھ ہی 2 میگا پکسل کا فکسڈ-فوکس ڈیپتھ سینسر اور ایک ٹی او ف سینسر موجود ہے۔

    سیلفی کیمرا میں 16 میگا پکسل سینسر اور ایک 8 میگا پکسل 100 ڈگری الٹرا وائیڈ اینگل کیمرا موجود ہے۔

    موٹرولا کے دونوں نئے موبائل فونز میں 5000 ایم اے ایچ بیٹری، فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ موجود ہے۔

    موٹرولا کی بلاگ پوسٹکے مطابق موٹو جی 50 آئندہ چند ہفتوں میں یورپی مارکیٹس میں فروخت کے لیے دستیاب ہوگا اور اس کی قیمت 250 یورو (45 ہزار 473 روپے ہوگی)۔

    جی 100 کی قیمت چین میں 305 ڈالر ہے لیکن بین الاقوامی مارکیٹس میں ممکنہ طور پر 499 ڈالر (77 ہزار روپے) ہوگی۔

  • ایپل کے آپریٹنگ سسٹم میں سنگین خامی سامنے آنے کے بعد کمپنی نے ایمرجنسی اپ ڈیٹ ریلیز کر دی

    ایپل کے آپریٹنگ سسٹم میں سنگین خامی سامنے آنے کے بعد کمپنی نے ایمرجنسی اپ ڈیٹ ریلیز کر دی

    معروف امریکی کمپنی ایپل نے اپنے آپریٹنگ سسٹم میں سنگین خامی سامنے آنے کے بعدآئی فون، آئی پیڈ اور اسمارٹ گھڑیوں کے لیے ایک ایمرجنسی اپ ڈیٹ ریلیز کی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپل نے آئی فونز اور آئی پیڈز کے لیے آئی او ایس 14.4.2 اور اسمارٹ گھڑیوں کے لیے واچ او ایس 7.3.3 کی ایمرجنسی اپ ڈیٹ دی ہےایپل کے آپریٹنگ سسٹم میں خامی گوگل کے تھریٹ اینالیسز گروپ نے تلاش کی ہےاور یہ براہ راست ایپل کے ویب کٹ براؤزر انجن میں موجود ہے۔

    اس حوالے سے اپنے دیئے گئے بیان میں ایپل کا کہنا ہے کہ اس خامی کا بہت تیزی سے ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اس لیے ایمرجنسی اپ ڈیٹ ریلیز کی گئی ہے تاہم ابھی ایپل کی جانب سے اس خامی کی زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں مگر ایسی خامیاں اکثر صارفین کو ایسی سائٹس پر منتقل کرتی ہیں جہاں ان کی معلومات اور ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے۔

    اس خامی کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایپل نے پرانی ڈیوائسز یعنی آئی فون5s، آئی فون 6، آئی فون 6پلس، آئی پیڈ ائیر، آئی پیڈ منی2، آئی پیڈ منی 3 اور آئی پوڈ ٹچ (چھٹی جنریشن) کے لیے بھی آئی او ایس 12.5.2 ریلیز کیا ہے۔

    اس لیے اگر آپ کسی بھی سنگین سیکیورٹی مسئلے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنا آپریٹنگ سسٹم فوراً اپ ڈیٹ کر لیں۔

  • فیس بک پلیٹ فارم اور انسٹاگرام پر بطورعطیہ جمع کی گئی رقم پانچ ارب ڈالرتک جا پہنچی

    فیس بک پلیٹ فارم اور انسٹاگرام پر بطورعطیہ جمع کی گئی رقم پانچ ارب ڈالرتک جا پہنچی

    سان فرانسسكو: دنیا بھر میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر کے لوگوں اور تنظیموں نے پانچ ارب ڈالر کا عطیہ جمع کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فیس بک نے باضابطہ طور پر اپنےمرکزی پلیٹ فارم، اس کے ٹولز اور انسٹاگرام پر 12 ماہ کے دوران پانچ ارب ڈالر کی رقم عطیہ کرنے کی تصدیق کی ہے بالخصوص فیس بک کی جانب سے کورونا وبا کے دوران لوگوں کی غیرمعمولی مدد کی گئی ہے

    اس ضمن میں فیس بک نے کئی طرح کے ٹولز متعارف کرائے ہیں جو مختلف تنظیموں کو فنڈ جمع کرنے میں مدد دیتے ہیں فیس بک کے مطابق ماحولیاتی اور انسانی عوام کی بنا پر اس نے عطیہ اور عطیہ کنندگان پر خصوصی توجہ رکھی ہے صرف 2020 میں کورونا وبا میں لوگوں کی مدد کرنے کے ضمن میں 17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم عطیہ کی گئی ہے۔

  • کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    منی پلانٹ کا نام تو سب نے سنا ہوگا ۔منی پلانٹ سے متعلق کئی باتیں منسوب بھی کی جاتی ہیں منی پلانٹ کا سائنسی زبان میں نباتاتی نام ایپی پرینیم منی پلانٹ کہتے ہیں منی پلانٹ ایک آرائشی، سرسبز، خوبصورت اور سدا بہار بیل ہے یہ پانی میں بھی اگائی جا سکتی ہے اور مٹی میں بھی۔ اِس کی خاص بات یہ ہے کہ اِس پر نہ کوئی پھل لگتا ہے اور نہ پھول۔ لیکن اگر یہ جنگل میں اگا ہو تو اِس پر بہت دیر بعد پھول لگ جاتے ہیں اور ایسا ہونا بہت نایاب ہے اس کا وطن جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں۔ اسے بڑھنے کے لیے گرم مرطوب موسم مون سون پسند ہے۔

    پودوں کو تین بنیادی نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا نائیٹروجن دوسرا پوٹاشیم اور تیسرا فاسفورس۔ نائیٹروجن سے پودے میں ہریالی آتی ہے یعنی پتے وغیرہ بہت اگتے ہیں۔ پوٹاشیم سے جریں شاہیں اور تنہ وغیرہ مضبوط ہوتے ہیں اور شاہیں ذیادہ اگتی ہیں اور فاسفورس سے پھول اور پھل بہت ذیادہ اگتا ہے منی پلانٹ کو کسی بھی خاص کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی آپ اِس کو صرف پانی میں بھی لگا دیں تو یہ پھلتا پھولتا رہے گا۔

    منی پلانٹ کے فوائد:
    منی پلانٹ اپنی خوراک ہوا سے ہی حاصل کر لیتا ہے۔ اِس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جس گھر میں یہ لگا ہو اُس گھر میں جتنی بھی مضر صحت گیسیں ہوتی ہیں منی پلانٹ اُس کو جزب کر لیتا ہے اوراُن کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے اور گھر کا ماحول بھی تازہ اور خوشگوار رہتا ہے۔ اِس کی ایک اور خاص بات جو دوسرے پودوں سے منفرد ہے وہ یہ کے دوسرے پودے دن میں اپنے اندر سے اوکسیجن باہر نکالتے ہیں اور کاربنڈائی اوکسائیڈ اپنے اندر جزب کرتے ہیں اور رات کو اوکسیجن اور کاربنڈائی اوکسائیڈ دونوں ہی جزب کرتے ہیں۔ لیکن منی پلانٹ دن میں بھی اوکسیجن خارج کرتا ہے اور رات میں بھی اوکسیجن ہی خارج کرتا ہے۔ جس سے گھر کے ماحول میں تازگی رہتی ہے۔

    منی پلانٹ لگانے کا طریقہ:
    منی پلاٹ گملے میں بھی لگا سکتے ہیں اور پانی میں بھی اگر گملے میں لگانا ہے تو گملے میں مٹی بھر لیجیے اور اگر پانی میں لگانا ہے تو کسی بوتل وغیرہ میں پانی بھر لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو منی پلانٹ کی بیل کا ایک چھوٹا ٹکرا چاہیے ہو گا۔ وہ بیل کا چھوٹا ٹکڑا آپ اپنی لوکل نرسری سے بھی حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اگر آپ کے آس پاس کسی نے منی پلانٹ لگایا ہوا ہے تو آپ اُن سے بھی بیل کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے سکتے ہیں۔ اُس کی لمبائی کم از کم دو اینچ ہونی چاہیے۔ اب اُس بیل کے ٹکرے پر اگر پتے لگے ہوئے ہیں تو اُن کو اتار لیں صرف سرے پر جو چھوٹے پتے لئے ہوں اُن کو نہ اتاریں۔ اب آپ اِس بیل کو گملے میں لگا لیں اور کسی چھاوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہے۔

    لیکن یاد رہے کہ اِس کو دھوپ میں نہیں رکھنا۔ اسی طرح آپ اِس کو پانی میں بھی لگا سکتے ہیں۔ ایک بوتل لیں اور اُس میں پانی ڈال دیں۔ اِس کے بعد اُس بوتل میں بیل ڈال دیں۔ اور اُس کو کسی چھائوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہو۔ بیل لگانے کے ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر آپ کی بیل کی جڑیں نکل آئیں اور آپ کی بیل بڑھنے شروع ہو جائے گی اور اُس پر نئے پتے بھی لگنے شروع ہو جائیں گے۔

    منی پلانٹ کے بارے میں اختیاطی تدابیر:
    اگر آپ نے پانی میں منی پلانٹ لگایا ہے تو جس بوتل وغیرہ میں بھی آپ نے منی پلانٹ لگایا ہے اُس میں پانی کا لیول برکرار رکھیں یعنی اگر پانی ختم ہو رہا ہو تو اُس بوتل میں دوبارہ پانی بھر دیں اگر گملے میں منی پلانٹ لگایا ہے تو اُس کو روز پانی دیں لیکن یہ یاد رہے کہ پانی گملے میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی گملے میں کھڑا رہا تو آپ منی پلانٹ کی جڑیں گل جائے گئیں اور وہ مرجھا جائے گا منی پلانٹ کی بیل اور پتے بہت بد ذائقہ ہوتے ہیں۔ اِس لیے کبھی غلطی سے بھی اُن کو نہ چکھیں۔

    منی پلانٹ کے بارے میں مفروضات:
    نام کی مناسبت سے یہ خیال بھی عام ہے کہ منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے تاہم پودے بیچنے والوں کی نظر میں منی پلانٹ لگا کر امیر ہوجانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں البتہ کہا جاتا ہے کہ صحت بڑی دولت ہے تواس لحاظ سے دیکھا جائے تومنی پلانٹ واقعی بڑا دولت بخش پودا ہے ۔ گھر کے ماحول میں چوبیس گھنٹے وافر آکسیجن سے گھر بھر تروتازہ اورہشاش بشاش رہتا ہے۔

  • قومی ٹیم جنوبی آفریقہ کے لیے روانہ کون کیوں نہ جا سکا

    قومی ٹیم جنوبی آفریقہ کے لیے روانہ کون کیوں نہ جا سکا

    قومی ٹیم جنوبی آفریقہ کے لیے روانہ کون کیوں نہ جا سکا

    باغی ٹی وی : پاکستان کی ٹیم نے جنوبی آفریقہ کے لیے اڑان بھر لی ، اس سلسلےمیں بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے مڈل آرڈر بیٹسمین سعود شکیل نا جا سکے جو کہ . پاؤں کی انجری کا شکار ہوکر دورۂ جنوبی افریقہ سے باہر ہوگئے ۔

    قومی ون ڈے اسکواڈ میں آصف علی کو شامل کر لیا گیا ہے۔دورۂ جنوبی افریقا میں شامل قومی اسکواڈ کے تمام 35 ارکان کے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آگئی ہے۔

    https://twitter.com/TheRealPCB/status/1375311901131952132?s=20

    نوجوان مڈل آرڈر بیٹسمین سعود شکیل بائیں ٹانگ میں انجری کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز سے باہر ہوگئے ہیں۔ وہ بدھ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے پریکٹس میچ کے دوران گریڈ ون ٹیئر کی انجری کا شکارہوگئے تھے۔

    سلیکشن کمیٹی نے ٹیم منیجمنٹ کی مشاورت کے بعد آصف علی کو بطور متبادل کھلاڑی قومی ون ڈے اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔ آصف علی پہلے ہی جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے خلاف اعلان کردہ قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

    چونکہ سعود شکیل زمبابوے کے خلاف اعلان کردہ قومی ٹیسٹ اسکواڈکا بھی حصہ ہیں لہٰذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ فی الحال نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں اپنے ری ہیب پروگرام کا آغاز کریں گے اور اگر وہ 12 اپریل سے قبل مکمل صحتیاب ہوجاتے ہیں تو وہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل بقیہ 10 ارکان کے ہمراہ ہرارے روانہ ہوجائیں گے۔

    چونتیس رکنی قومی اسکواڈ 26 مارچ بروز جمعہ کو بذریعہ چارٹرڈ فلائیٹ جوہانسبرگ روانہ ہوگا۔ ان 34 ارکان میں 21 کھلاڑی اور 13 ٹیم آفیشلز شامل ہیں۔قومی ٹیم کو دورہ جنوبی افریقہ میں 3 ایک روزہ انٹرنیشنل میچز اور 4 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے ہیں۔قومی اسکواڈ وہاں سے 17 اپریل کو 3 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز اور 2 ٹیسٹ میچز کھیلنےہرارے روانہ ہوگا، جہاں سے 12 مئی کو قومی اسکواڈ کی وطن واپسی ہوگی