Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنوبی افریقہ کے خلاف سلامی بلے باز فخر زمان نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    جنوبی افریقہ کے خلاف سلامی بلے باز فخر زمان نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    جنوبی افریقہ کے خلاف سلامی بلے باز فخر زمان نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    باغی ٹی وی : دورہ جنوبی آفریقہ کے سلسلے میں قومی ٹیم کے پریکٹس جاری ہے . پریکٹس میچز کا سلسلہ جاری ہے . قذافی سٹیڈیم میں انٹرا سکواڈ پریکٹس ون ڈے میچ ہوا جس کے دوران فخر زمان نے سنچری بنائی . اس پرفارمنس پر اوپننگ بیٹسمین فخر زمان پر جوش اور پر اعتماد ہیں کہ انہیں تھری فیگر اننگز کھیل کر بہت اچھا لگا.

    اس کارکردگی پر فخر زمان کا کہنا تھا کہ وہ اچھے باؤلرز کیخلاف کوئی ون ڈے میچ کافی عرصے کے بعد کھیلے ہیں. انہوں نے کہا کوشش کی کہ خود کو کریز پر زیادہ دیر تک قائم رکھ سکیں جبکہ سیٹ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے سٹروکس کھیلنا شروع کئے تو سکورنگ ریٹ میں اضافہ ہونے لگا۔

    فخر زمان کا کہنا مزید کہنا تھا کہ دورے کے حوالے سے یہ ان کی بہت اچھی بات ہے ان کا کہنا تھا کہ جبکہ کیمپ کافی حد تک موثر ثابت ہوا. اس میچ سے حاصل ہونے والا اعتماد ان کو کام دے گا جو کہ جنوبی افریقہ کیخلاف میچوں میں بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ یاد رہے کہ بائیں ہاتھ کے بیٹسمین اس سے پہلے بھارت کے خلاف چیمپئن ٹرافی میں اچھی کارکردگی دکھا سکے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے کے بعد ون ڈے میچ کھیل کر پر جوش ہیں۔

    ادھ جنوبی آفریقہ کے حوالے قومی ٹیم کے حوالے سے اہم خبر کہ جس کو سول ایوی ایشن نے واضح‌ کر دیا . جس میں کہا گیا ہے کہ میزبان ملک سمیت بارہ افریقی ممالک کو سی درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ 26 مارچ کو ٹیم چارٹرڈ فلائٹ سے جوہانسبرگ روانہ ہو گی . کورونا سفری پابندیوں کی وجہ سے قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ جنوبی افریقہ متاثر ہونے کا کوئی اندیشہ نیہیں ہے . جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے متعدد افریقی ممالک سے آنے اور جانے والے مسافروں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں.

    واضح رہے پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نےے ، بی اور سی کیٹیگری میں شامل ملکوں کی نئی فہرست جاری کی ہے،

    ہزارہ گرلز بمقابلہ گلگت گرلز فٹ بال میچ کی تصویری جھلکیاں

  • ہزارہ گرلز بمقابلہ گلگت گرلز فٹ بال میچ کی تصویری جھلکیاں

    ہزارہ گرلز بمقابلہ گلگت گرلز فٹ بال میچ کی تصویری جھلکیاں

    ہزارہ گرلز بمقابلہ گلگت گرلز فٹ بال میچ کی تصویری جھلکیاں

    باغی ٹی وی : ہزارہ گرلز بمقابلہ گلگت گرلز کے درمیان فٹ بال میچ کی تصویری جھلکیاں آگییں ، یوم پاکستان کے حوالے سے دونوں ٹیموں کے درمیاں میچ ہوا جس کی تصویر جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں.

    ادھر پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے قومی ویمن فٹ بال چیمپئن شپ کے شیڈول میں تبدیلی کردی ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی ایف ایف قومی ویمن فٹ بال چیمپئن شپ کے چاروں کوارٹر فائنلز 28 مارچ کو کروائے گا۔پی ایف ایف کے مطابق ان چاروں کوارٹر فائنل میں سے 2 صبح 10 بجے اور دیگر 2 شام 4 بجے ہوں گے

  • شاہد آفریدی نے دیا یوم پاکستان پر اہم پیغام

    شاہد آفریدی نے دیا یوم پاکستان پر اہم پیغام

    شاہد آفریدی نے دیا یوم پاکستان پر اہم پیغام

    باغی ٹی وی :قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے یومِ پاکستان کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ سرزمین پاکستان ہماری قومی شناخت ہے

    قومی ہیرو شاہد آفریدی نے ٹوئٹر پر جاری پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یوم پاکستان ایک ایسے نظریے کی یاد کا دن ہے کہ جس کے باعث ہمارے آباؤ اجداد اور بہادر سپاہیوں کو علیحدہ وطن کے لیے جدوجہد کرنے کا حوصلہ دیا۔

    https://twitter.com/SAfridiOfficial/status/1374247207839358977?s=20
    انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر کرتے رہنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایک خوبصورت سرزمین اور قومی شناخت بخشی۔شاہد آفریدی نے اپنے پیغام میں پاکستان زندہ باد! کا نعرہ بھی درج کیا .

    واضح‌رہے کہ پاکستان بھر میں یوم پاکستان ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز 31 توپوں کی سلامی سے ہوا، اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ لاہور گیریژن میں بھی دن کا آغاز اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ پشاور گیریژن میں بھی جشن آزادی کے سلسلے میں توپ کے 21 گولے داغے گئے۔ کوئٹہ کینٹ میں دن کا آغاز اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔

    لاہور مزار اقبال پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ مہمان خصوصی ائیر وائس مارشل ندیم اختر خان، ائیر افیسر کمانڈنگ پی اے ایف ائیرمین اکیڈمی، کورنگی کریک تھے۔ مہمان خصوصی نے مزار اقبال پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ فضائیہ کے چاک و چوبند دستے نے شاعر مشرق کو سلامی دی اور حفاظتی فرائض سنبھالے۔

  • دورہ جنوبی افریقہ  قومی ٹیم پر کیسی سفری پابندیاں ہوں گی

    دورہ جنوبی افریقہ قومی ٹیم پر کیسی سفری پابندیاں ہوں گی

    دورہ جنوبی افریقہ قومی ٹیم پر کیسی سفری پابندیاں ہوں گی

    باغی ٹی وی :قومی ٹیم دورہ جنوبی افریقہ کرے گی تو سفری پابندیوں سے مستثنی ہو گی .

    قومی ٹیم کے حوالے سے اہم خبر کہ جس کو سول ایوی ایشن نے واضح‌ کر دیا . جس میں کہا گیا ہے کہ میزبان ملک سمیت بارہ افریقی ممالک کو سی درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ 26 مارچ کو ٹیم چارٹرڈ فلائٹ سے جوہانسبرگ روانہ ہو گی . کورونا سفری پابندیوں کی وجہ سے قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ جنوبی افریقہ متاثر ہونے کا کوئی اندیشہ نیہیں ہے . جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے متعدد افریقی ممالک سے آنے اور جانے والے مسافروں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں.

    واضح رہے پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نےے ، بی اور سی کیٹیگری میں شامل ملکوں کی نئی فہرست جاری کی ہے،’’سی‘‘ کیٹیگری میں جنوبی افریقہ، برازیل، کولمبیا، بوٹسوانا اور دیگر سمیت 12ملک شامل ہیں۔

    ان ملکوں میں موجود کورونا وائرس کی جنوبی افریقی اور برازیلین قسم کو بہت زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے وہاں سے مسافروں کی آمد پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد بھی واپس نہیں آ سکیں گے

  • سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے توعالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران ختم کیا جاسکتا ہے  تحقیق

    سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے توعالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران ختم کیا جاسکتا ہے تحقیق

    سمندر دنیا کے 70 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور اب دنیا میں تحفظ کے حامل سمندری علاقوں کے مفصل نقشے سے انکشاف ہوا ہے کہ اگرسمندروں کی حفاظت کی جائے تو اس سے نہ صرف آب و ہوا میں تبدیلی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں بلکہ عالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک تحقیقی مقالے رپورٹس کے مطابق سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے تو صحتمند خوراک کی مسلسل فراہمی یقینی ہوجائے گی، سمندری جانوروں کے مسکن اور ان کی بقا کو فروغ ملے گا اور شاید موسمیاتی تبدیلیوں کا قدرتی حل بھی برآمد ہوسکے گا۔

    ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے سمندروں میں خاص مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ اگر ان کی کڑی نگرانی اور حفاظت کی جائے تو 80 فیصد سمندری حیات کو تحفظ ملے گا، ماہی گیری کی تعداد میں 80 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہوگا، اور سمندری فرش کی ٹرالنگ روکنے سے ایک ارب ٹن تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوجائے گا کیونکہ سمندری فرش پر ماہی گیری کا یہ طریقہ نہایت خطرناک ہے۔


    یہی وجہ ہے کہ ٹرالنگ کا عمل نہ صرف سمندری حیاتیات کےلیے تباہ کن ہے بلکہ اس سے سمندروں میں سالانہ کروڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سمندری پانیوں میں گھل رہی ہے۔ اس تحقیق کے اہم رکن پروفیسر اینرک سیلا کہتے ہیں کہ اس وقت عالمی بحر کے صرف سات فیصد رقبے کو تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دے کر کہا کہ 2030 تک سمندروں کے 30 فیصد حصے کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔

    اپنی تحقیق میں انہوں نے سمندری ڈیٹا اور الگورتھم کی مدد سے کہا ہے کہ عالمی سطح پر یہ کام ممکن ہے اور اس میں تمام شریک کو ایک میزپربیٹھنا ہوگا کیونکہ سمندروں کا تحفظ ہر حال میں انسانوں کو ان گنت فوائد فراہم کرسکتا ہے صرف 30 فیصد سمندری علاقوں کو تحفظ اور کڑی نگرانی کے ذریعے محفوظ بنا کر اس سے تین گنا فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں-

    اس تحقیق میں بین الاقوامی ماہرین نے اہم کردار ادا کیا ہے جسے محض نقشے کی بجائے ایک پورا منصوبہ (فریم ورک) کہا جاسکتا ہے جو ایک تہائی سمندری علاقوں کی سخت نگرانی اور تحفظ پر زور دیتا ہے کیونکہ سمندر کے یہ مقامات خود کی مرمت اور بحالی کے شاندار خواص رکھتے ہیں۔

    ان علاقوں کو ایم پی اے یا میرین پروٹیکٹڈ ایریا کہا جاتا ہے جہاں ماہی گیری پر پابندی عائد کرکے بہت سے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس طرح پورا ماحول اور مسکن دھیرے دھیرے بحال ہوجاتا ہے دوسری جانب رپورٹ میں سمندری فرش کی ٹرالنگ کو انتہائی تباہ کن قرار دیا گیا ہے۔

  • تجربہ گاہ میں آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کی کاشت

    تجربہ گاہ میں آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کی کاشت

    ہالینڈ کے سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں پہلی بار آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود ’کاشت‘ کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں میں آنسوؤں کا بنتے رہنا اور وقفے وقفے سے خارج ہونا ہماری صحت کےلیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے ہماری آنکھیں مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ آنکھوں کی صفائی بھی ہوتی رہتی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ’سیل پریس‘‘ کے ریسرچ جرنل ’’اسٹیم سیل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی ’دی رائل نیدرلینڈز اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز‘ کی سرپرستی میں کی گئی اس تحقیق میں سب سے پہلے جینیاتی انجینئرنگ کی جدید ترین ٹیکنالوجی ’کرسپر‘ (CRISPR) سے استفادہ کرتے ہوئے وہ جین شناخت کیے گئے جو انسانوں اور چوہوں کی آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود میں اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔

    یعنی ’خلیاتِ ساق‘ (stem cells) استعمال کرتے ہوئے پیٹری ڈش میں آنسو بنانے والے مخصوص خلیات تخلیق کرکے انہیں غدود کی شکل میں کامیابی سے یکجا کیا گیا۔


    تجربہ گاہ کے ماحول میں ان غدود نے ٹھیک ویسے ہی آنسو بہائے جیسے قدرتی آنکھ سے آنسو نکلتے ہیں۔

    فی الحال یہ ابتدائی نوعیت کے تجربات ہیں جن کا مقصد آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کے کام کو باریک بینی سے سمجھنا ہے۔

    تاہم مستقبل میں ماہرین اسی طریقے پر آنسو بنانے والے ایسے غدود تیار کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں جنہیں خشک آنکھوں کی بیماری میں مبتلا مریضوں میں پیوند کیا جاسکے گا البتہ یہ منزل ابھی بہت دور ہے جس کا انحصار آئندہ تجربات میں کامیابیوں پر ہے۔

  • انگلی کے اشارے اور دماغ سے کمپیوٹر قابو کرنے والا فیس بک کا ڈیجیٹل رسٹ بینڈ

    انگلی کے اشارے اور دماغ سے کمپیوٹر قابو کرنے والا فیس بک کا ڈیجیٹل رسٹ بینڈ

    فیس بک نے کلائی پر باندھے جانے والا ایک ویئرایبل بنایا ہے جو دماغی سگنل پڑھ کر آگمینٹڈ ریئلٹی کے ماحول میں آپ کو مختلف سہولیات فراہم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : فیس بک نے اپنے بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اس طرح آئی پوڈ جیسا نظام پہن کر دماغی سگنلوں کو پڑھا جاسکتا ہے اور جب آپ کسی منظر میں کوئی ڈیجیٹل شے دیکھتے ہیں تو صرف دماغی طور پر سوچنے سے ہی اسے ایک سے دوسری جگہ لے جاسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل پٹا الیکٹرومائیوگرافی (ای ایم جی) استعمال کرتے ہوئے دماغ سے ہاتھوں تک پہنچنے والے حرکتی (موٹر) اعصاب کو پڑھتا ہے۔


    اب تک اس آلے کو کوئی نام نہیں دیا گیا ہے لیکن اس کی بدولت آگمینٹڈ ریئلٹی کی معلومات یا اجزا کو انگلی کے اشارے یا محض سوچنے سے ہی ایک سے دوسری جگہ حرکت دینا ممکن ہوگا۔

    اسی برس نو مارچ میں فیس بک نے خود فیس بک گلاس (عینک) کا اعلان کیا تھا جو آگمینٹڈ ریئلٹی میں استعمال کی جاسکتی ہیں اسی کے ساتھ مخصوص دستانے اور دیگر آلات پر تحقیق کے لیے بھی غیرمعمولی رقم خرچ کی گئی ہے۔

    آگمینٹڈ ریئلٹی کو یوں سمجھئے کہ آپ ایک مخصوص عینک سے حقیقی منظر کو دیکھ رہے ہیں اور اس میں ڈجیٹل معلومات شامل ہوتی جاتی ہیں۔ اس کی بہترین مثال پوکے مون گیم ہے جو حقیقی مقامات پر ڈجیٹل پوکے مون کردار دکھاتا ہے۔اسی طرح آگمینٹڈ ریئلٹی کسی بھی جگہ اور منظر میں مزید معلومات اور پہلوؤں کا اضافہ کرسکتی ہے۔

    تاہم اسے گوگل گلاس، یا کسی ہیڈ اپ ڈسپلے کے ساتھ ہی استعمال کیا جاسکے گا اور فیس بک کے خیال میں ڈیجیٹل کنگن اس ضمن میں بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے لیکن واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی فیس بک کی ریئلٹی لیبس میں اب تک تحقیق اور مزید تصدیق کے مراحل میں سے گزررہی ہے اس پر کئی برس سے تحقیق جاری ہے-

  • اک نظریہ جو ایفائے عہد نا ہو سکا   ازقلم غنی محمود قصوری

    اک نظریہ جو ایفائے عہد نا ہو سکا ازقلم غنی محمود قصوری

    اک نظریہ جو ایفائے عہد نا ہو سکا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا جس کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار قربانیاں دیں مگر اس سے قبل ہمارے قائدین نے بھی بھرپور جدوجہد کی تبھی یہ مملکت خدادا پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا
    پاکستان کا خواب ولی کامل حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا تھا اسی لئے انہوں نے اپنی مردم شناس نظر سے قائداعظم حضرت محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی قائدانہ صلاحیتوں کو بھانپ کر قائد اعظم کو اس وطن عزیز کے لئے جستجو کے لئے چنا کیونکہ اس وقت پورے ہند کے ہر صوبے میں ایک یا اس سے زیادہ مسلمانوں کی تنظیمیں تھیں مگر اقبال جانتے تھے کہ حقیقی محنت و مشقت قائد اعظم اور ان کے ساتھی ہی کر سکتے ہیں اور مسلمانان ہند کی ایک مشترکہ جماعت ہونا لازم ہے سو آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا سکے
    اقبال فہم و فراشت والے تھے وہ جانتے تھے کہ مسلمانان ہند و ہندوؤں کا ایک ساتھ رہنا ناممکن ہے اسی لئے اقبال نے 1930 کو الہ آباد کے تاریخی اجلاس میں جداگانہ وطن کے حصول کا نظریہ پیش کرکے ساری دنیا کے ایوانوں میں دھماکہ کر دیا تھا
    اقبال رحمۃ اللہ علیہ اس ملک کو خالصتاً اسلامی اصولوں پر چلانا چاہتے تھے اسی لئے انہوں نے 28 مئی 1937 کو قائد اعظم کے نام لکھے اپنے خط میں لکھا تھا کہ
    اسلامی قوانین کے نفاذ سے ہی ہمارا ملک ترقی کر سکے گا میں اسلامی قانون کے مطالعہ سے اس نتجیے پر پہنچا ہوں کہ اگر اسلامی نظام کا نفاذ کیا جائے تبھی ہر ہر شحض کم از کم حق معاش تک پہنچے گا اور میرا عقیدہ ہے کہ ہر مسلمان غربت سے نجات اور امن و امان تک رسائی بغیر شرعی نفاذ کے حاصل نہیں کر سکے گے

    ایک اور خط میں اقبال نے قائد کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا تم جدوجہد سے الگ وطن تو لے لو گے مگر بغیر اسلامی نفاذ کے اس کو صحیح معنوں میں ایک ملک کی طرح نا چلا پاؤ گے لہذہ اس ملک کی بقاء قرآن و سنت کے نفاذ سے ہی ہوگی

    آخر کار حکم ربی سے اقبال 21 اپریل 1938 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
    23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اقبال رحمۃ اللہ کی خواہشات کے عین مطابق قرار داد پاکستان پیش کی اور قائد نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا

    آج اقبال ہم میں موجود نہیں،
    (فوت ہو گئے ہیں) اگر وہ زندہ ہوتے تو وہ یہ جان کر کتنا خوش ہوتے کہ ہم نے وہ سب کچھ کر دیا جو وہ چاہتے تھے

    قائدِ اعظم اور ان کے رفقاء نے دوقومی نظریہ کی بنیاد پر اقبال کی خواہشات کے مطابق بڑی جدوجہد سے پاکستان کا قیام کیا اور قائد اعظم نے بارہا اپنے تقریریں میں کہا کہ اس ملک کی بقا و سلامتی قرآن و سنت کے نفاذ سے ہی ہے مگر افسوس کہ آج ہم نے قرار داد پاکستان ،یوم پاکستان، اور یوم آزادی کے دنوں کو منانا ہی قیام پاکستان کا مقصد سمجھ لیا ہے حالانکہ ایسا ہرگز اقبال و قائد نے پوری زندگی قرآن و سنت کے نفاذ کی عملی کوششیں کیں مگر ان کی زندگیوں نے ساتھ نا دیا اور رب کے حضور چلے گئے مگر ہمارے ان کے بعد آنے والے ہر حکمران نے نظریہ اقبال و جناح کو اہمیت نا دی اور آج پاکستان کو غریب کے لئے تنگ کر دیا جس کی بدولت آج غربت مہنگائی،بے روزگاری اور دہشت گردی کا سامنا ہے یہ خود کو اقبال و قائد کے روحانی فرزند کہنے والے اغیار سے یاریاں لگا کر اس مملکت پاکستان کے بنانے کا مقصد ہی بھول گئے تبھی یہ خود بھی ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں اور پاکستان کے امن و امان کو بھی خطرہ لاحق کر رہے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ وہ نظریہ جو ایفائے عہد نا ہو سکا اس کے چور یہ موجودہ وہ سارے سابقہ حکمران بھی ہیں ان شاءاللہ کل روز قیامت اقبال و قائد کا ہاتھ ہوگا اور ان کے گریبان کیونکہ ان کو بنا بنایا پاکستان ملا ہے ناکہ اقبال و قائد کی طرح محنت کرکے

  • تصویر جسے کھینچنے میں 12 سال کا عرصہ لگا

    تصویر جسے کھینچنے میں 12 سال کا عرصہ لگا

    فن لینڈ کے ایک مشہور فلکیاتی فوٹوگرافر جے پی میتساوینیو نے تقریباً 12 سال کے عرصے میں تصویر کھینچی۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق فوٹوگرافر جے پی میتساوینیو کی کھینچی گئی تصویر کی حقیقی جسامت 1.7 گیگا پکسل (ایک ارب 70 کروڑ پکسل) ہے ہماری کہکشاں یعنی ’ملکی وے‘ کے وسیع حصے کو ظاہر کرتی ہوئی یہ کوئی ایک تصویر نہیں بلکہ 234 ایسی تصویروں کا مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک بجائے خود درجنوں فلکیاتی تصویروں کا مجموعہ ہے۔

    میتساوینیو 2007 سے پیشہ ورانہ فلکیاتی فوٹوگرافی کر رہے ہیں جس کےلیے انہوں نے فن لینڈ کے شہر اولو میں ذاتی رصدگاہ بھی قائم کر رکھی ہےاپنی کھینچی ہوئی آسمانی تصویریں وہ ایک ویب سائٹ کے ذریعے مختلف افراد اور اداروں کو فروخت کرتے ہیں۔

    فوٹوبشکریہ میڈیا
    رپورٹس کے مطابق ملکی وے کہکشاں کی یہ تصویر کھینچنے کا سلسلہ 2009 سے 2021 کی ابتداء تک جاری رہا جس میں وہ ہماری کہکشاں کے مختلف حصوں کی تفصیلی تصویریں کھینچتے رہے اور انہیں احتیاط سے آپس میں جوڑ کر ایک تصویر کی صورت دیتے رہے۔

    میتساوینیو کا کہنا ہے کہ اس کام کےلیے انہوں نے اپنی دوربین مجموعی طور پر تقریباً 1,250 گھنٹے تک ملکی وے کہکشاں کے الگ الگ حصوں پر مرکوز رکھی۔

    فوٹوبشکریہ میڈیا
    ویسے تو یہ تصویر اصل میں بہت بڑی ہے لیکن فلکیات کا شوق رکھنے والے عام افراد بھی اس کا قدرے بڑا ورژن مفت میں (اس لنک سے) ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں جو 7023 پکسل چوڑا اور 1299 پکسل اونچا ہے، جبکہ کمپیوٹر اسٹوریج میں یہ 11.5 میگابائٹ جتنی جگہ گھیرتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ تصویر آسمان میں 125 ڈگری لمبے اور 22 ڈگری چوڑے حصے کا احاطہ کرتی ہے جس میں ہماری کہکشاں لگ بھگ 2 کروڑ ستارے موجود ہیں۔

    یہی نہیں بلکہ ستاروں کی روشنی بھی ان میں موجود عناصر کا پتا دیتی ہے۔ مثلاً آیونائزڈ ہائیڈروجن سے خارج ہونے والی روشنی سبز رنگ کی ہے، سلفر (گندھک) کی سرخ، جبکہ آکسیجن کی رنگت نیلی ہے وغیرہ۔

  • عہدِ وفا پر قائم رہنا ہی ہماری منفرد پہچان اور کامیاب زندگی ہے

    عہدِ وفا پر قائم رہنا ہی ہماری منفرد پہچان اور کامیاب زندگی ہے

    مارچ کے مہینہ میں آٹھ مارچ کی تیاریخ دنیا میں حقوقِ نسواں کے نام سے جانی جاتی ہے… جس تحریک کا آغاز یورپ میں فرانسیسی انقلاب کے بعد ہوا جس کا مقصد عورتوں کو ہر لحاظ سے مساوی حقوق دینا،یکساں اخلاقی ضابطے مقرر کرنا اور عورتوں کا گھر میں رہنا قید سے تعبیر کرنا اور اُن کی گھریلو اور اہم ترین ذمہ داریوں سے آزاد کرنا،بے پردگی و بے راہ روی کا فروغ،شادی کے معاملے میں آزادی اور جنسی اعتبار سے شتر بے مہار آزادی وغیرہ جس کے بنیادی مقاصد ہیں…
    یعنی اگر مرد مزدوری کرتا ہے تو لازمًا عورت بھی مزدوری کرے…
    مرد چراگاہوں میں جانور چرانے جاتا ہے تو عورت بھی وحشی جانوروں کو قابو کرتی پھرے…
    مساوات کا تو یہی مطلب ہوا ناں کہ ہر ممکن،ناممکن کام کر کے دکھائے عورت…!!!
    جن معاشروں میں اس تحریک نے جنم لیا تھا وہاں عورت ایک صنعتی پراڈکٹ ہے…سنگل مدر کلچر نے عورت پر دوہری تہری ذمہ داری کا بوجھ لادا ہوا ہے…
    جبکہ اسلام نے عورت کو حیا کی چادر دے کر قواریر کا لقب بخشا…اُسے سڑکوں پر رسوا کرنے،کھلونا اور جنسِ بازار بننے سے محفوظ کر کے مقدس رشتوں کے حصار میں مامون کر دیا…وراثت میں حق دیا…مرد کے مقابلے میں ماں کو تین گنا زیادہ حق دیا…جنگ کے میدان میں عورت کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم دی…اور اس کے قتل سے منع فرمایا…معاشی ذمہ داریوں سے مستثنٰی رکھا…اور معاشرتی اصلاح میں مہذب کردار کی راہیں ہموار رکھیں…
    آج حقوق نسواں کی تحریکوں کے پشت بان اپنے گریباں میں جھانک کر تو دیکھیں کہ جس گندگی کو وہ اپنے معاشرے میں پھیلا کر اُس کی گلی سڑی فصل کاٹ رہے ہیں وہی نظام اور کلچر مسلم معاشروں پر مسلط کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے جسے الحمدللّٰہ اکثریت نا پسند کرتے ہوئے عورت کے اصل حقوق پر توجہ رکھے ہوئے ہے…
    جنگوں میں لاکھوں خواتین کو آگ و خون کا نشان بنا دینا کس کی تاریخ کا سلگتا اور بھڑکتا ہوا باب ہے…؟
    اسلام نے عورت کو جو باوقار،باعزت اور ذمہ درانہ کردار سونپا ہے،اس کا تصور دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں ملتا…عورت کے حقوق کو قرآن جیسے آفاقی پیغام میں سورتیں اُتار کر واضح کیا…عورت سے حُسنِ سلوک کی بار بار تاکید کی…
    اسلام میں تو عورت کی پرورش اور تربیت پر جنت کی خوش خبری دی گئی…!!!
    مسلم معاشروں میں اگر کہیں عورت کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا تو وہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہو گی اور ایسے واقعات کو عالمی میڈیا میں اُچھال کر ایسی تحریکیں اپنا پلڑا وزنی کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہیں…
    ہمیں صحیح معنوں میں اسلام کا فہم حاصل کر کے اس کی اصلاح و فلاح پر مشتمل تعلیمات کو اپنا کر دوسروں کے اذہان و قلوب کو بھی اس روشنی سے منور کرنا ہو گا…
    اور ایسی خواتین کی تربیت پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی جو حقیقتًا ایسی سازشوں کا شکار ہونے کی بجائے بہترین ردعمل اور گلے کی ہڈی بن جائیں…جن کے بارے شاعر نے بہت خوب کہا ہےکہ:
    یہی وہ مائیں ہیں جن کی گود میں اسلام پلتا ہے…
    اسی غیرت سے انسان نور کے سانچے میں ڈھلتا ہے…!!!
    اور مسلمان عورت سے یہی زیور چھیننا ایسے مشنریوں کا اصل ہدف بھی ہے…!!!
    یاد ہے ناں…؟
    ایک عہد باندھا تھا اس دل کی دھڑکن سے…اگر اُس کی بنیادوں کے تار کھینچنے کی کوشش کی تو اس دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو کر ناکام بھی ہو سکتی ہیں…عہدِ وفا پر قائم رہنا ہی ہماری منفرد پہچان اور کامیاب زندگی ہے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)
    ==================================