ایک عہد…ایک وفا…!!!
(بقلم:جویریہ بتول).
مارچ کا مہینہ تاریخِ پاکستان میں انفرادی حیثیت رکھتا ہے… یہ وہ مہینہ ہے جب 1940ء میں لاہور کے خاص وقت کے منٹو پارک میں حامیانِ پاکستان کا ایک سیلابی ریلا جمع تھا…دو قومی نظریے کی وضاحت تھی…اور قرارداد لاہور کی منظوری تھی…یہ ساری حسین یادیں تاریخ کے اوراق سے ذہن کے دریچوں میں اُتر کر ایک فرحتِ جاں فزا کا نمونہ پیش کرتی ہیں…اور دل کی گہرائی سے بانیانِ پاکستان کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کو جی چاہتا ہے…
لے کے رہیں گے پاکستان…
بن کے رہے پاکستان…
پاکستان کا مطلب کیا ؟
لا الہ الا اللّٰہ…
جیسے دور اندیشی پر مشتمل نعرے اس عظیم قوم کا عظیم مستقبل اپنی گونج کی لہروں میں سمیٹے ہوئے تھے…کتنی خوب صورت وضاحت تھی اس نظریہ کی…کہ…!
یہ دو الگ الگ قومیں ہیں…جن کا جینا مرنا،اُٹھنا بیٹھنا،رسم و رواج،اخلاق و عادات،مذہب و تاریخ،قوانین و ہیرو،خوشی،غمی،تہذیب و ثقافت،حلال حرام سب الگ الگ ہیں…اُدھر کروڑوں خداؤں کے پجاری اور اِدھر درِ واحد پر جھکنے والی جبینیں تھیں…یہ ہر حالت میں ایک دوسرے کی ضد ہیں…!!!
اور پھر راستے جدا ہو گئے…!!!
ایک عہد تھا جو وفا ہوا…ایک قرارداد تھی جو حقیقت بن گئی…
ایک خواب تھا جسے واضح اور روشن تعبیر مل گئی…!!!
اسی عہد پر لاکھوں مسلمانوں نے جانیں قربان کر دیں…عورتوں نے عزتوں کی قربانی دی اور ثابت کیا کہ ہمارا مقصد محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ یہ دیوار ہے لا الہ الا اللہ کے نظریہ کی دیوار…اسلام کے آفاقی اور فلاحی اصولوں کی دیوار…یہ حد فاصل اب قائم ہو کر رہے گی اور قلیل عرصہ کے بعد ہی ریاستِ مدینہ کے بعد دنیا کی پہلی نظریاتی مملکت وجود میں آ گئی…وہ صبح جو اپنے دامن میں صد ہزار نجوم کا خون لیے،اپنے وجود پر اپنی ماؤں اور بہنوں کی ردا اوڑھے…لُٹے پٹے مہاجر قافلوں کی داستاں سمیٹے…منزل کی آس میں آبلہ پا چلے آتے عظیم جواہر کی یاد لیے طلوع ہوئی…
ایک عہد تھا ناں جو وفا ہوا تھا…؟
مارچ 1940ء تشکیلِ پاکستان کی طرف اُٹھا ایک اہم قدم تھا…جو 1947ء میں قیامِ پاکستان کی منزل سے ہم آغوش ہوا…
وہی نظریہ جو کل اس وطنِ عزیز کی نظریاتی عمارت کی بنیاد بنا تھا،آج بھی وہی نظریہ اس کے استحکام اور بلند تعمیر اور فلاح کا راستہ ہے…جن رسوم و رواج اور جس تہذیب و ثقافت کا انکار کرتے ہوئے اس سفر کا آغاز کیا تھا…یہ دن اسی عہد پر مضبوطی سے کاربند رہنے کا اعادہ کرنے اور بزرگوں کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرنے کی دستک دینے آتا ہے…جس کی بنیاد پر سرحدیں الگ ہوئیں…قومیں الگ ہوئیں…پرچم الگ ہوئے…پہچان الگ بنی…اُسی عہد کو اپنا راہ نما بنانا آج بھی ہماری ویسی ہی ضرورت ہے…کہ
پاکستان عقیدہ بھی،پاکستان یقین بھی ہے
پاکستان نظریہ بھی،پاکستان زمین بھی ہے…
رنگ برنگی دنیا میں اس کی یہ پہچان ہے…!!!
تبھی یہ قلم کہہ رہا ہے کہ
کٹھن مراحل سے گزر کر اپنا یہ مقام ہوا…
دیا خونِ جگر تو گلشن میں پھر نام ہوا…
فولادی عزم سے ڈٹے تو عمل میں اک رنگ اُبھرا…
اُسی عمل کی ضرب سے عدو پھر ناکام ہوا…!!!
Category: بلاگ
-

دیا خونِ جگر تو گلشن میں پھر نام ہوا بقلم:جویریہ بتول
-

اِک عہد جو کیا تھا وفا ہو گیا بقلم: جویریہ بتول
اِک عہد جو کیا تھا ،وفا ہو گیا
بقلم: جویریہ بتولیہ اپنا وطن ہے اپنی شان…
نظریہ اِس کا ہے اپنا ایمان…!کیا تھا عہد جب آسماں تلے…
قافلے وفا کے پھر یوں چلے…
قدموں سے ایسے قدم وہ ملے…
روک نہ سکا جنہیں کوئی طوفان…وہ جو خواب تھا اقبال کا…
تھا جواب وہ ہر اِک سوال کا…
تھا عزم وہ خاتمۂ زوال کا…
رفعتوں کے سفر کا ہوا تھا اعلان…کی قائد نے یوں نظریہ کی وضاحت…
کہ دنگ کھڑی تھی ہر ایک فصاحت…
ہار گئی تھی جب ہر سُو شقاوت…
منہ دیکھتا رہا، عدو ہو کر حیران…دامن میں پھر لُہو کے دریا بَھرے…
سروں پہ بہنوں کی ردائیں اوڑھے…
وہ بچے، عورتیں اور جواں و بوڑھے…
بن گئے سب طُلوعِ سَحَر کی اذان…اِک عہد جو کیا تھا ،وفا ہو گیا…
بچے بچے کی زباں پہ صدا ہو گیا…
نغمۂ آزادی کی پھر جو نَوا ہو گیا…
جہاں میں بن گئی اپنی یہ پہچان…یہ دھرتی ہی نہیں ایک عقیدہ تھا…
حقیقت کا کُھلا جو جریدہ تھا…
مقابل جس کے باطِل سَر بریدہ تھا…
تھاصدیوں کاسینے میں مچلتا ارمان…آج بھی ہے ضرورت اُسی اتحاد کی…
ترقئ علوم و فنون اور ایجاد کی…
کردارِ انسانیت کی پختہ بنیاد کی…
خزاں کی زَد میں ہو نہ کبھی گُلستان…یہ اپنا وطن ہے اپنی شان…
نظریہ اس کا ہے اپنا ایمان…!
================================== -

پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف ہر سازش بری طرح ناکام
22-03-21
پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف ہر سازش بری طرح ناکام رہی۔حکومت اپنی مدت پوری کرے گی،پی ڈی ایم ایکسپائر ہو چکی ہے۔اقتدار کی ہوس میں مبتلا کرپٹ سیاستدانوں پر مشتمل پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔پی ڈی ایم ملک کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہتی ہے۔اپوزیشن والوں کی یہ خواہش بھی کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار پی ڈی ایم کو ترقی کے سفر میں رخنہ نہیں ڈالنے دیں گے۔عثمان بزدار
-

ہر شاعرکی شناخت اس کی قومی زبان ہے
پاکستان کے شعراء کو شاعری کا عالمی دن مبارک! یاد رہے کہ عالمی سطح پر ہر شاعرکی شناخت اس کی قومی زبان ہے اغیار کی زبان ہرگز نہیں! حتی کہ پاکستان جیسے غلام ملک میں دو سو سال کی انگریزی غلامی کے باوجود جس کی تعلیم ‘ عدالت’ سرکار ‘ عسکری و سول امتحانات کی زبان انگریزی ہونے کے باوجود عالمی سطح پر ایک بھی انگریزی کا شیکسپئر یاورڈزورتھ پیدانہ ھوسکا !ا
اے پاکستانی شاعرو! تم بھی دنیا کے تمام شاعروں کی طرح سے اپنی زبان کی بقا و نفاذ کی بات کرو۔ زبان کی بقا پہلے ہے شاعری بعد میں ہے ! تمہاری تو زبانیں اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔
خاکم بدہن انگریزی غلامی سے اگر تمہاری زبان کا وجود ہی باقی نہ رہا’ تو تمہاری لکھی ہوئی شاعری کو ہڑھے گا کون؟ اس لیئے اپنی زبان کے نفاذ کی بات کرو۔ ہر مشاعرے اور ادبی تقاریب میں عدالت عظمیٰ کے نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کی قرارداد ضرور ہیش کرو! تمہاری شہرت’ عزت ‘ روزی روٹی صرف پاکستانی زبانوں کی عزت و توقیر سے وابستہ ہے۔
فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
-

مظفرگڑھ میں ایک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا
تھانہ کراد قریشی کی حدودمیں
محمد رجب قلندرانی , محمد حاکم قلندرانی بستی بکھے والا , یونین کونسل گل والا , قصبہ بصیرہ , تحصیل و ضلع مظفر گڑھ کےرہائشیوں نے سرعام رسیوں سے باندھ کر محمد سلیم گاذر ولد محمد کاظم موضع سدن والا یونین کونسل گل والا تحصیل و ضلع مظفر گڑھ کے رہائشی پر تشدد کر ڈالا
جو انسانی حقوق کے تحفظ کی کھلی نا فرمانی ہے -

پاکستانی سائنسدانوں نے بھنگ کے پودے سے بنے دھاگے سے جراثیم کش جینز تیار کر لی
فیصل آباد :زرعی یونیورسٹی کے ماہرین نے بھنگ کے پودے سے دھاگا بنا کر جراثیم کش جینز تیار کر لی ہے۔
باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جینز کی تیاری سے پاکستانی برآمدکنند گان کو بیرون ملک سے بھنگ کے ریشے سے تیار دھاگا درآمد کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور قیمتی زرمبادلہ کی بھی بچت ہو گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اسد فاروق نے بھنگ کے پودے سے وہ دھاگا تیار کیا ہے جو آج کل بین الاقوامی سطح پر جینز کی تیاری میں استعمال ہو رہا ہے 80فیصد سوتی دھاگے کے ساتھ 20 فیصد بھنگ کے دھاگے سے تیار ہونے والی جینز جراثیم کش اور ماحول دوست ہونے کی وجہ سے مقبول ہو رہی ہے۔
بھنگ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قدرتی طور پر اینٹی بیکٹریل صلاحیت رکھتا ہے اور جب اس کے دھاگے سے تیار جینز کو پہنا جاتا ہے تو جلد پر جراثیم اس طرح سے پیدا نہیں ہوتے جیسے دوسرےکپڑے پر ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر اسد فاروق کہتے ہیں کہ ٹیکسٹائل مالکان جینز کی تیاری کے لیے صنعتی بھنگ کا دھاگا بیرون ملک سے درآمد کرتے تھے، مقامی سطح پر دھاگے کی تیاری سے ناصرف قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے بلکہ کمایا بھی جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسد فاروق کے مطابق بھنگ کے دھاگے سے تیار کی جانے والی جینز کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، پاکستان اگر اس پراڈکٹ کو مینوفیکچرکر لے اور اس کو انفرادی طور پر تیار کرنے کے قابل ہو جائے توبہت زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر صنعتی بھنگ سے تیار ملبوسات کی منڈی 25 بلین ڈالر مالیت کی ہے، اگر فوری طور پر صنعتی بھنگ کی کاشت میں اضافہ کر کے ضرورت کا دھاگا مقامی طور پر ہی تیار کیا جائے تو پاکستانی ملبوسات کی برآمدات میں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
-

واٹس ایپ اورانسٹاگرام کی سروس میں بندش کے حوالے سے فیس بک کا وضاحتی بیان سامنے آ گیا
دو روز قبل 10 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا صارفین کو واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی بندش کا سامنا کرنا پڑا تھا جو کہ بعد میں مسئلہ حل کر دیا گیا تھا تاہم ایسا کیوں ہوا اس حوالے سے فیس بک نے اب وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے۔
باغی ٹی وی : اس حوالے سے فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی اس تکنیکی مسئلے کو حل کر چکی ہے جس کے باعث لاکھوں واٹس ایپ اور انسٹاگرام صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
زیر غور تکنیکی مسئلے کے باعث کمپنی کی آن لائن پیغامات کی خدمات واٹس ایپ اور میسنجر متاثر ہوئی تھی جس کے باعث #whatsappoutage ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔
ڈاؤن ڈی ٹیکٹر ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 ہزار واٹس ایپ اور 10 لاکھ انسٹاگرام صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا سائٹس میں مسائل کی پوسٹ کی گئیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل واٹس ایپ اور انسٹاگرام صارفین سمیت فیس بک کے مسینجر صارفین کی جانب سے پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنے کی شکایات موصول ہوئی تھی اس حوالے سے واٹس ایپ کی جانب سے ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرکے سروس بحالی کا بتایا گیا اور کہا کہ سروس کی معطلی 45 منٹ تک برداشت کرنے کا شکریہ لیکن اب سروس بحال کردی گئی ہے۔
-

مویشیوں کو ماحول دوست بنانے کے لئے چارے میں تھوڑی سی سمندری گھاس شامل کر دیں تحقیق
امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مویشیوں کو ماحول دوست بنانا ہے تو ان کی خوراک میں تھوڑی سی مقدار سمندری گھاس کی شامل کر یں-
باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس ون‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ گائے بھینسوں کے چارے میں سمندری گھاس کی تھوڑی سی مقدار شامل کردی جائے تو ان سے میتھین گیس کے اخراج میں 82 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس (یو سی ڈی) میں کی گئی اس تحقیق کے دوران 21 پالتو گایوں کے روزانہ چارے میں سرخ سمندری گھاس (Asparagopsis taxiformis) کی تھوڑی سی مقدار شامل کی گئی سرخ سمندری گھاس کی یہی قسم پاکستانی ساحلی پٹی پر بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔

اس کے بعد خصوصی آلات کے ذریعے دن میں چار مرتبہ ان کی ڈکاروں سے خارج ہونے والی میتھین گیس کی مقدار معلوم کی گئی۔پانچ ماہ تک جاری رہنے والے ان تجربات سے معلوم ہوا کہ جن گایوں نے معمول کے چارے کے ساتھ روزانہ صرف 80 گرام سرخ سمندری گھاس کھائی تھی، ان کی ڈکاروں سے میتھین کا اخراج 82 فیصد تک کم ہوا تھا جبکہ ان سے حاصل ہونے والے دودھ اور گوشت کے ذائقے اور غذائیت پر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ سرخ سمندری گھاس کے اجزاء، مویشیوں کے معدے میں ان خامروں کو کام کرنے سے روکتے ہیں جو میتھین کے اخراج کی وجہ بنتے ہیں۔
قبل ازیں یہی تحقیق امریکی اور آسٹریلوی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی تھی تاہم اس کا دورانیہ صرف 15 دن رہا تھا موجودہ تحقیق میں یہ مدت بڑھا کر 5 ماہ کرتے ہوئے سرخ سمندری گھاس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اگرچہ فضا میں میتھین کا اخراج کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نسبت 25 گنا زیادہ حرارت جذب کرتی ہے۔
یعنی فضا میں ایک ٹن میتھین سے ماحول کے درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ اتنا ہوتا ہے کہ جیسے 25 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل کردی گئی ہو۔
بعض تحقیقات میں 20 سالہ اثرات کی بنیاد پر یہاں تک کہا گیا ہے کہ میتھین گیس میں ماحول کو گرمانے کی صلاحیت، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 84 گنا زیادہ ہے۔
فضائی میتھین کے حالیہ اضافے میں انسانی سرگرمیوں کا کردار سب سے نمایاں ہے جس کا 37 فیصد حصہ پالتو مویشیوں، بالخصوص گائے بھینسوں کی ڈکاروں اور ریاح سے فضا میں شامل ہوتا ہے۔
یہ تجربات اگرچہ امید افزا ہیں لیکن سرخ سمندری گھاس کی بڑے پیمانے پر کاشت اور دور دراز مقامات تک محفوظ منتقلی جیسے امور پر اب بھی کام ہونا باقی ہے۔ اگلے مرحلے میں ان ہی نکات پر تحقیق کی جائے گی۔
-

پاکستانی قوم عالمی سطح پر گونگی بہری کیوں؟
سائنس و ٹیکنالوجی کےنام پر پاکستانی بچوں کو غیر ملکی زبان میں تعلیم دے کر گونگا بہرہ بنانے والے اداروں سے پوچھاجائے کہ انہوں نے کتنے سائنسدان پیدا کئے ہیں؟
بین الاقوامی زبان میں تعلیم دینے کا ڈھونگ رچا کر والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر کنگال کرنے والے مہنگے ترین تعلیمی اداروں کے مالکان کا احتساب کر کے پوچھا جائے کہ ان کے اداروں کے فارغ التحصیل کتنے بین الاقوامی اداروں میں اعلی ملازمت پر فائز ہیں؟ ہماری تحقیق کے مطابق لمز کے گریجویٹ امریکہ میں انگریزی کے ٹیسٹ میں ناکام ہوگئے ہیں ۔اردو تو خیر ان کو اتی ہی نہیں ۔انگریزوں کے ملک میں انگریزی کا ٹیسٹ بھی پاس نہ کرسکیں۔۔
ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ پاکستان کے انتہائی اعلیٰ انگریزی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل امریکہ و برطانیہ میں درجہ چہارم سے بھی کم تر کی ملازمت کر رہےہیں۔۔لیکن پاکستان آ کر یہی لوگ افسر بن کر ملک کے انتظامات سنبھال لیں گے۔ان انگریزی میڈیم اداروں ہی کی وجہ سے پاکستان بدانتظامی’ بدعنوانی’ رشوت ستانی ‘ دو نمبری ‘ جعلسازی میں صف اول پر ہے!
اس سب کا حل یہی ہے کہ اس قوم کو ‘ قوم بنانے کے لئے یہاں ہر سطح زندگی پر اردو کو نافذ کردیا جائے۔ ورنہ آنے والے وقتوں میں پاکستان امریکہ و برطانیہ میں درجہ چہارم کی ملازمت بھی حاصل نہ کرسکییں گے۔! کیونکہ غیر ملکی زبان میں تعلیم بچے کی فطری صلاحیتوں کو کچل دیتی ہے ! جس ملک کی ابادی دس لاکھ ہے وہ بھی اپنا سارا نظام آپنی زبان میں چلا رہا ہے پاکستان توخیر دنیا کی ساتویں جوہری قوت ہے۔۔پھر پاکستانی’ قوم عالمی سطح پر گونگی بہری کیوں؟-
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
-

پاکستانیوں کو ذلت کے عمیق گڑھے سے کون نکالے گا، کیسے نکالے گا؟ ازقلم:پروفیسر محمد سلیم ہاشمی
پاکستانیوں کو ذلت کے عمیق گڑھے سے کون نکالے گا، کیسے نکالے گا؟
(پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)سوال کیا گیا، "جو لائق ہیں وہ انگریزی میں پڑھ کر بھی زندگی کی دوڑ میں آگے نکل جاتے ہیں جو نالائق ہیں وہ اردو میں پڑھ کر بھی نالائق ہی رہتے ہیں۔ زبان کا تعلیم سے کیا تعلق ہے؟”
میں تڑپ اٹھا۔ ہم کس قدر پستی میں ڈوب گئے، کس قدر ذلت میں اتر گئے کہ اب ہم بنیادی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھے۔ ہمیں روشنی اور اندھیرے، عزت اور ذلت، زندگی اور موت میں فرق کرنا بھی نا ممکن نظر آنا شروع ہوگیا۔
لیاقت ثانوی بات ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ تعلیم کس زبان میں دی جائے۔
برطانیہ میں تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔
امریکہ میں تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے۔
روس میں تعلیم روسی میں
جرمنی میں جرمن
ترکی ترک
ایران فارسی
جاپان جاپانی
چین چینی
فرانس فرانسیسی
سپین ہسپانوی
پرتگال پرتگالی
فن لینڈ فنش
ہالینڈ ڈچ
ناروے نارویجن
ڈنمارک ڈینش
سویڈن سویڈش
برما برمی
تھائی لینڈ تھائی
بنگلہ دیش بنگلہ
افغانستان افغانی
بھلا ساری دنیا کے ملک اپنی اپنی زبان میں تعلیم کیوں دے رہے ہیں؟
اگر دوسری زبان میں تعلیم دینا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا تو
روس میں انگریزی
جرمنی میں فرانسیسی
چین میں روسی
جاپان میں جرمن
اور اس طرح باقی ملکوں میں بھی غیر ملکی زبانوں میں تعلیم دی جا رہی ہوتی۔
معاملہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کا مقیاس ذہانت اس قدر کم ہو چکا ہے کہ ان کو زندگی اور موت کے درمیان فرق محسوس تک نہیں ہوتا۔ ان کے لئے غلامی اور ازادی، ذلت اور عزت اور روشنی اور اندھیرے کے درمیان تمیز کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ہم بھلا ایسے ہی ذلتوں کے عمیق سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
آؤ میں بتاؤں کیا فرق ہےانگریزی اردو
غلامی آزادی
تاریکی روشنی
بدحالی خوشحالی
پسماندگی ترقی
ذلت عزت
جہالت علم
موت زندگی۔
ہے۔
بات سمجھ میں آ جائے تو سمجھ جاؤ کہ ابھی زندگی کی کوئی رمق تمہارے اندر موجود ہے ورنہ اپنے آپ کو مردہ سمجھنا شروع کر دو۔
پاکستانیو یاد رکھو جب تک اس ملک میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر اردو نافذ نہیں ہو جاتی، تم ذلیل رہو گے، اندھیروں میں ڈوبے رہو گے، بد حال رہو گے، پسماندہ رہو گے، پستیوں میں گرتے رہو گے، مردہ رہو گے۔
کسی ملک پر کسی غیر ملکی زبان کا تسلط اتنا ہی سادہ مسئلہ ہوتا تو پاکستان جیسے تماشے جگہ جگہ ملک ملک لگے ہوتے۔
پاکستان پر انگریزی کا تسلط اس ملک کے خلاف سب سے بڑی سازش اور مجرمانہ حرکت ہے۔ یہ برصغیر پرانگریزوں کے قبضے سے بھی بھیانک اور سنگین معاملہ ہے۔پروفیسر محمد سلیم ہاشمی
انتخاب و اشتراک
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک