Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں سام سنگ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی

    رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں سام سنگ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی

    سمارٹ فون کمپنی سام سنگ نے رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں اپنے صارفین کو خوشخبری سنائی ہے-

    باغی ٹی وی : سمارٹ فون کمپنی سام سنگ نے رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں اپنے مختلف اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہےجبکہ کچھ کے ساتھ خصوصی انعامات بھی دیئے جائیں گے۔

    سام سنگ دنیا میں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز فروخت کرنے والی کمپنی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی ڈیوائسز کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے سام سنگ کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران جن فونز کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے وہ صرف کمپنی کے ای اسٹور سے ہی خریدیں جاسکیں گے-

    کمپنی نے ایس 21 پلس کی قیمت ایک لاکھ 94 ہزار 999 روپے سے کم کرکے ایک لاکھ 84 ہزار 999روپے (مفت بڈز پلس و اڈاپٹر)-

    جبکہ گلیکسی ایس 21 الٹرا 2 لاکھ 29 ہزار 999 روپے کی بجائے 10 ہزار روپے کمی کے ساتھ 2 لاکھ 19 ہزار 999 روپے (مفت بڈز پلس و اڈاپٹر) میں دستیاب ہوگا۔

    کمپنی نے نئے فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 کی قیمت کی 7 ہزار روپے کمی کی ہے اور یہ اب ایک لاکھ 69 ہزار 999 روپے کی بجائے ایک لاکھ 62 ہزار 999 روپے دستیاب ہوگا جس کے ساتھ مفت بڈز پلس اور اڈاپٹر بھی دیا جائے گا۔

    گلیکسی ایس 20 ایف ای، گلیکسی 52 اور اے 72 کی قیمت میں تو کمی نہیں کی گئی مگر ان کے ساتھ مفت گلیکسی فٹ 2 دیا جائے گا جبکہ گلیکسی اے 32 کے ساتھ ہینڈز فری دی جائے گی۔

    گلیکسی اے 71 کی قیمت ڈیڑھ ہزار روپے کمی سے 67 ہزار 999 روپے سے 65 ہزار 499 روپے کردی گئی ہے۔

    گلیکسی اے 51 کا 6 جی بی ریم والا ماڈل 2 ہزار روپے سستا کیا گیا جو 49 ہزار 999 روپے کی بجائے 47 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 8 جی بی ریم والے ماڈل کی قیمت ساڑھے 3 ہزار روپے کمی سے 54 ہزار 999 روپے کی جگہ 51 ہزار 499 روپے ہوگئی ہے۔

    گلیکسی اے 31 کو 36 ہزار 999 روپے کی بجائے 35 ہزار 499 روپے میں خریدا جاسکے گا جبکہ گلیکسی اے 12 (64 جی بی اسٹوریج ماڈل) 32 ہزار 999 روپے کی بجائے 30 ہزار 999 روپے اور اے 12 (128 جی بی اسٹوریج ماڈل) 32 ہزار 999 روپے کی بجائے 30 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا۔

    گلیکسی اے 02 ایس کا جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 19 ہزار 999 روپے کی بجائے 19 ہزار 299 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 23 ہزار 999 روپے کی بجائے 21 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا۔

    گلیکسی اے 02 کا 3 جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 18 سو روپے کمی کے ساتھ 17 ہزار 999 روپے کی بجائے 16 ہزار روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 64 جی بی اسٹوریج والا ورژن 19 ہزار 799 روپے کی بجائے 17 ہزار 500 روپے میں خریدا جاسکتا ہے۔

    یہ پیشکش 14 اپریل سے 15 مئی 2021 تک برقرار رہے گی۔

  • وزیر اعظم آزاد کشمیر نے محکمہ جات کے ملازمین کیلئے خوشخبری سنا دی

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے محکمہ جات کے ملازمین کیلئے خوشخبری سنا دی

    وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ محکمہ جات کے ملازمین کے دیرینہ مطالبات اور ان کے مسائل کے حل کےلئے کابینہ نے 1ارب80کروڑ روپے کے پیکج کی مالیاتی و انتظامی منظوری دیدی ہے ۔ 15ہزار پرائمری ٹیچرز،8400جونئیر ٹیچرز اور ساڑھے5ہزار سینئر ٹیچرز کی اپ گریڈیشن کی منظوری دیدی گئی ہے ۔کابینہ نے ہیلتھ اور نرسنز ٹریننگ الاﺅنس، سپیشل ہیلتھ الاﺅنس ، پیرامیڈیکس کے سروس اسٹرکچر،ہیلتھ فاﺅنڈیشن کے قیام سمیت صحت عامہ کے ملازمین کے جملہ مطالبات کی منظوری بھی دیدی ہے۔

    کابینہ نے پولیس ایڈمنسٹریشن الاﺅنس، سیکرٹریٹ الاﺅنس ، ٹیکنیکل ملازمین کی اپ گریڈیشن سمیت مختلف محکمہ جات کے ملازمین کے دیرینہ مطالبات کی بمطابق سفارشات منظوری دیدی ہے ۔ آزادکشمیر کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا پیکج ہے جو ہمارے معاشی طور پر مستحکم ہونے کی عکاس ہے ۔ جب آزادکشمیر لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تھی تو میں نے اپنا پہلا دورہ لاہور ذکوة منافع فنڈسے ادھار لیکر کیا تھالیکن آج اللہ کے فضل وکرم سے ہم مالیاتی طور پر خودکفیل ہیں ۔

    ہماری حکومت پر بے بنیاد اعتراض کرنے والے سامنے آکر بات کریں ‘انہیں دلیل کے ساتھ جواب دیں گے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں ہم نے اداروں کو تباہ کیا وہ یہ بتائیں کہ انہوں نے ادارہ بنایا ہی کونسا تھا؟آئینی طور پر آخری دن تک وزیراعظم ہوںاور وزیراعظم کاختیارات مدت ختم ہونے تک میرے پاس ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز آزادجمو وکشمیرکابینہ اجلاس کے بعدوزراءحکومت چوہدری طارق فاروق، ڈاکٹر نجیب نقی، چوہدری محمدعزیز، بیرسٹر افتخار گیلانی، سردارفاروق احمدطاہر اور ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ہماری جماعت اور حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہےکہ ہم نے ریاست میں میرٹ بحال کیا ، آزادکشمیر حکومت کومالیاتی اور انتظامی طور پر خودکفیل بنایا۔ انہوں نے کہاکہ مختلف محکمہ جات کے ملازمین کے ا پ گریڈیشن اور تنخواہوں کے معاملات کے حل کےلئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس نے ذیلی محکمہ جات سے سفارشات لیکر کابینہ میں پیش کیں۔ جن کی روشنی میں آج ہم نے اس تاریخی پیکج کا اعلان کیاتاکہ ملازمین ذہنی طور پر مطمئن ہو کر ریاست کی خدمت کر سکیں ۔

    عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے کابینہ کمیٹی میںمعاملات زیر کار ہیں اور کمیٹی سفارشات کے بعد ان پر مزید فیصلہ کیا جائے گا۔اس موقع پر وزیر تعلیم بیرسٹرافتخار گیلانی نے کہا کہ پرائمری اساتذہ کو بی 7اور جونئیر کو بی 9سے اپ گریڈ کر کے بی11دیتے ہوئے انہیں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ٹیچر کا نام دیدیا گیا ہے جبکہ سینئر ٹیچرز بی16کو ایک اضافی انکریمنٹ دینے کی منظوری دید ی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی پہلے سے نافذ کردہ ٹائم سکیل فارمولہ اسی طرح موجود رہے گا۔ اس اپ گریڈیشن سے 28ہزار900ٹیچرز مستفید ہونگے۔

    انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے اقتدار میں آتے ہیں اساتذہ کی بھرتیوں کےلئے این ٹی ایس کا نفاذ کیا اور میٹرک پی ٹی سی ، سی ٹی کے تعلیمی معیار کو بی اے اور بی ایڈ میںمبدل کیا۔ اس طرح پرائمری اور جونئیر اساتذہ کی تعلیمی قابلیت مساوی ہونے کی بنا پر انہیں مساوی سکیل دیا گیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1983کے بعد سے سکیل اپ گریڈیشن کا یہ سب سے بڑا پیکج ہے جو ہماری حکومت کا ایک کارنامہ ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اساتذہ بھی اپنا فرض ادا کریں گے اور اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نبھائیں گے ۔

    وزیر خزانہ و صحت ڈاکٹر نجیب نقی خان نے کہا کہ کابینہ نے جولائی2015سے گریڈ 1سے 20تک کے ہیلتھ الاﺅنس میں اضافے ، نرسز کے ڈریس الاﺅنس میں اضافے ، ٹریننگ الاﺅنس کو 15ہزار سے بڑھا کر 20ہزار کرنے ، ڈاکٹرز کے نان پرکٹسنگ الاﺅنس میں اضافے ،پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ الاﺅنس میں اضافے ، ہاﺅس آفیسرز کے اعزازیہ میں اضافے ،پیرامیڈیکس کے سروس اسٹرکچر کی منظوری، میڈیکل اسسٹنٹ کو پیرامیڈیکس میں مبدل کرنے، نرسز کے مختلف کیڈرز کو اپ گریڈ کرنے ، لیڈی ہیلتھ کو سول سرونٹ بنانے ، ہیلتھ فاﺅنڈیشن اور کالج آف نرسنگ کے قیام کی منظوری دیدی ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ یوٹیلٹی الاﺅنس کے حوالہ سے سیکرٹریٹ الاونس اور سپیشل الاﺅنس کا جائزہ لیتے ہوئے تما م ملازمین کو دیے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کابینہ نے کلرکس فاﺅنڈیشن کے قیام ، ایجوکیشن کے منسٹریل سٹاف کی ترقیابی کے قواعد کے منظوری، سیکرٹریٹ الاﺅنس کی ملازمین کو بلا تخصیص فراہمی اور پولیس ایڈمنسٹریشن الاﺅنس دیے جانے کے علاوہ ٹیکنیکل ملازمین ،ڈیٹا انٹری آپریٹرز کو بی14دیتے ہوئے سٹینوگرافر میں مبدل کیے جانے اور محکمہ برقیات کے ساتھ انجینئرز،ڈرافٹمین،ہیڈ ڈرافٹمنین اور ٹریسر کی آسامیوں کی اپ گریڈیشن کی بھی منظوری دیدی ہے ۔

    وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز نے کہا کہ ہماری حکومت نے ریاستی ملازمین کے مطالبات اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے پورے کیے ۔ محکمہ تعمیرات کے عامہ کے دس سال سے زائد سروس کے حامل 504قلیوں کو مستقل کر دیا گیاہے ۔ کابینہ نے پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ انجینئرز کو ٹیکنیکل الاﺅنس دینے اور سب انجینئرز سمیت ٹیکنیکل ملازمین جس محکمہ میں بھی کام کررہے ہیں کا سکیل اپ گریڈ کیے جانے کی منظوری دیدی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نوازشریف کی جانب سے ریاست کا بجٹ دوگنا کرنے کے بعد آزادکشمیر بھر کی سڑکوں کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے ۔

    شفاف ٹینڈرنگ کی وجہ سے 3 ار ب سے زائد کی بچت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1ارب80 کروڑ روپے سے زائد کے اس سکیل اپ گریڈیشن پیکج دینے پر وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان اور ریاستی بیورو کریسی مبارکباد کی مستحق ہے ۔ ہماری حکومت اور جماعت نے ساڑھے چار سال کے دوران تاریخی تعمیر وترقی کروائی ، لوگوں کے مسائل حل کیے اور سماجی انصاف کی فراہمی یقینی بنائی ۔

  • فیس بک نے رمضان المبارک سے متعلق نیا فیچر متعارف کرا دیا

    فیس بک نے رمضان المبارک سے متعلق نیا فیچر متعارف کرا دیا

    رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا ایپ فیس بک نے ہیش ٹیگ MonthOfGood# کے نام سے ایک مہم شروع کی ہے –

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے فیس بک نیوز روم نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ گزشتہ برس ہماری کمیونٹی نے ‘Happy Ramadan ‘ کی مہم کے تحت 2 کروڑ سے زائد فیس بک پر پوسٹس اور کمنٹس کا تبادلہ کیا’۔

    مزید کہا گیا کہ گزشتہ برس عید کے پہلے روز واٹس ایپ ویڈیو کالز کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا تھا۔

    فیس بک نے کہا کہ کورونا کے باعث رکاوٹوں کے باوجود رمضان اچھے کام کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کا اہم موقع ہے۔

    فیس بک کے مطابق پورے مہینے میں ، ہم تخلیق کاروں ، کمیونٹیز ، پبلشرز اور این جی اوز کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو نمایاں کریں گے جو اچھے کام کر رہے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مزید برآں ، جو لوگ مہینے کے دوران خیراتی عطیات دینے یا اپنی زکوٰ ۃ کو پورا کرنے کے خواہاں ہیں وہ غیر منافع بخش افراد کو تلاش کرنے کے لئے فیس بک اور انسٹاگرام کا رخ کرسکتے ہیں۔جس میں چند غیر ملکی فاؤنڈیشن ہزاروں خیراتی اداروں میں سے صرف چند ایک فلاحی کارکن ہیں جو رمضان میں فنڈ جمع کرنے والے افراد کو کھانے کی ٹوکریاں ، سامان اور ہنگامی امداد فراہم کرتے ہیں جنھیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    فوٹو بشکریہ فیس بُک
    رپورٹ کے مطابق رمضان میں لوگ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے نئے اسٹیکرز MonthOfGood کے ساتھ اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ اچھے کام شیئر کرسکیں گے۔

    جیسا کہ اپنے دوستوں اور گھر والوں کا سحر یا افطار کے موقع پر شکریہ ادا کرنا، کوئی اچھا کام کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا تاکہ دیگر کے اندر بھی اس طرح کے کاموں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔

    فیس بک ایپ میں نئے اوتار اسٹیکرز بھی موجود ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ میسنجر اور میسنجر کڈز ہپر نئے کیمرا ایفیکٹس اور اسٹیکرز بھی موجود ہوں گے۔

    فوٹو بشکریہ فیس بُک
    خیال رہے کہ گزشتہ برس فیس بک اور انسٹاگرام پر سال 2019 کے مقابلے میں ماہ رمضان میں فنڈریزنگ میں دگنا اضافہ ہوا تھااسی لیے فیس بک نے اس مرتبہ ماہ مقدس میں دنیا بھر میں موجود اپنے 2 ارب سے زائد صارفین کو MonthOfGood# مہم کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔

  • مریخ کی ’مارس روور‘ بھی انسانوں کی طرح ’سیلفی بخار‘ میں مبتلا

    مریخ کی ’مارس روور‘ بھی انسانوں کی طرح ’سیلفی بخار‘ میں مبتلا

    رواں برس فروری میں مریخ کی سطح پر اترنے والی خودکار گاڑی ’پرسیویرینس‘ بھی انسانوں کی طرح ’’سیلفی بخار‘‘ میں مبتلا ہوگئی ہے جس نے گزشتہ روز اپنے ’سر‘ کی سیلفی لے کر زمین پر بھیجی ہے۔

    باغی ٹی وی :ناسا کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے پرسیویرینس مارس روور نے انجیونٹی ہیلی کاپٹر کے ساتھ سیلفی لی ، جسے 6 اپریل2021 ، مریخ پر مشن کے 46 ویں دن ، یا اس تصویر میں تقریبا 13 فٹ (4 میٹر) دور اس تصویر میں دیکھا گیا۔ جبر نے روٹر کے روبوٹ بازو کے سرے واقع ، واٹسن (وائڈ اینگل ٹوپوگرافک سینسر برائے آپریشنز اینڈ اینجیرنگ) کے نام سے کیمرا کا استعمال کرتے ہوئے اس تصویر پرکو حاصل کیا، جو رمن (Luminescence for Organics and Chemicals) کے ساتھ رہائش پزیر ماحول سکین کرنا ہے۔


    جب روور ہیلی کاپٹر کی طرف دیکھ رہا تھا ، اس وقت انفرادیت کے ساتھ استقامت کے ساتھ سیلفی لی گئی62 انفرادی تصاویر لی گئیں جب وہ واٹسن کیمرے کے سامنے تھا ان ’مریخی سیلفیوں‘ کے ذریعے زمین پر موجود سائنسدان اس روور کی عمومی کارکردگی یا کسی خرابی پر نظر رکھتے ہیں-

    واضح رہے کہ مریخ پر بھیجی گئی یہ خودکار گاڑی یا ’مارس روور‘ کئی طرح کے کیمروں اور مشاہداتی آلات سے لیس ہے جن میں سے ایک کا نام ’واٹسن‘ ہے جو پرسیویرینس کے روبوٹ بازو (روبوٹک آرم) کے سرے پر نصب ہے۔

    رپورٹ کے مطابق واٹسن بذاتِ خود ’’شرلاک‘‘ (SHERLOC) نامی ایک نظام کا حصہ ہے جو پرسیویرینس پر نصب ہے؛ اور جس کا مقصد مریخ کے ماحول میں زندگی سے تعلق رکھنے والے سالمات (مالیکیولز) کی تلاش اور شناخت کرنا ہے۔

    ’’شرلاک‘‘ اپنے لیزر اسپیکٹرو اسکوپ کے ذریعے مریخی مٹی، چٹانوں اور پتھروں کا تجزیہ کرتا ہے جبکہ اس کام کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کےلیے وہ خاص طرح کے دو کیمروں سے مدد لیتا ہے۔

    مریخی روور کی سیلفی لینے والا کیمرا ’واٹسن‘ بھی انہی میں سے ایک کیمرا ہے جسے پرسیویرینس کے لمبے ’’بازو‘‘ کے بالکل سرے پر نصب کیا گیا ہے۔

    ایسی ہی ’مریخی سیلفیوں‘ کے ذریعے زمین پر موجود سائنسدان، کروڑوں کلومیٹر دور اس گاڑی پر نظر رکھتے ہیں تاکہ اس کی عمومی کارکردگی یا کسی خرابی سے باخبر رہ سکیں۔

    رواں ماہ 7 اپریل کو جب ناسا نے پرسیویرینس کی سیلفی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کرائی تو کمنٹس میں بعض لوگوں نے پرسیویرینس اور ’جونی فائیو‘ نامی سائنس فکشن فلم روبوٹ کے ’چہروں‘ میں مماثلت تک تلاش کرلی۔ یہ روبوٹ 1986 میں ریلیز ہونے والی فلم’شارٹ سرکٹ‘ کا مرکزی کردار بھی تھا۔

    مارس 2020/ پرسیویرینس کی  خام تصویریں دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں-

  • حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عوام کو کیوں؟  از قلم غنی محمود قصوری

    حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عوام کو کیوں؟ از قلم غنی محمود قصوری

    حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عوام کو کیوں؟

    از قلم غنی محمود قصوری

    وطن عزیر میں رواج بن گیا ہے کہ حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عام پاکستانیوں کو دی جاتی ہے مسئلہ کوئی بھی ہو حکمران اپنے محلوں میں عیاشیاں کرتے ہیں جبکہ ان کی غلطیوں کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے

    کل لاہور سے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا جو کہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک انتہائی غلط قدم ہے کیونکہ گورنمنٹ و تحریک لبیک کے مابین معائدہ ہو چکا ہے کہ 20 اپریل سے پہلے گورنمنٹ کسی بھی ٹی ایل پی راہنما کو گرفتار نہیں کرے گی مگر گورنمنٹ نے وعدے کی خلاف ورزی کی

    سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد پورے پاکستان میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے اور مظاہرین نے مین شاہراہوں کو بند کر دیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام جام ہو کر رہ گیا
    مسافر لوگ اپنے گھروں کو پہنچنے کی خاطر سو رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے گاؤں دیہات کے راستوں سے اپنے گھروں کو پہنچتے رہے

    تحریک لبیک پاکستان نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا جو کہ شرعاً بلکل جائز ہے اور علامت عشق رسول ہے مگر اس جمہوری نظام حکومت نے ان مطالبات کو نا پہلے مانا اور نا اب
    جس پر مظاہرین و پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور دو افراد جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے حالانکہ مظاہرین بھی مسلمان اور پولیس والے بھی مسلمان
    یعنی فرانس کا مسلمان مارنے کا مقصد بغیر کچھ کئے ہی پورا

    تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ بلکل جائز اور حق پر مبنی ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ

    رسول اللہ نے ارشاد فرمایا
    اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں (صحیح بخاری)

    مگر گورنمنٹ نہیں مانی جس کی جوابدہ روز قیامت گورنمنٹ ہے عام عوام نہیں
    راستے بند ہونے سے کئی لوگ سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں
    عفت مآب مائیں،بہنیں،بیٹیاں، بچے،بوڑھے اور جوان راستوں میں پریشان بیٹھے ہیں حالانکہ راستوں کے متعلق واضع حدیث ہے کہ

    آپؐ نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا اگر ہماری مجبوری ہو تو آپؐ نے فرمایا: تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ راستے کا حق کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ’’نظر نیچی رکھنا‘ ایذا نہ دینا‘ سلام کا جواب دینا‘ اچھی بات کہنا‘ برائی سے منع کرنا۔‘‘ (مسلم: 4815)

    ایک اور حدیث ہے کہ

    [من اذی المسلمین فی طرقہم وجبت علیہ لعنتہم] (طبرانی)

    ’جو شخص مسلمانوں کو ان کے راستوں میں تکلیف دے اس پر لعنت واجب ہو گئی

    مگر افسوس کہ ایک انتہائی جائز مطالبے کے لئے ہم نے نبی کریم کا منع کردہ راستہ اختیار کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو ایذا دی مسلمانوں کو اس ایذا دینے پر ایک سورہ قرآن پیش خدمت ہے

    لَا تُبْطِلُوْا صَدُقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی۔۔۔البقرہ

    اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو

    افسوسناک بات ہے کہ جائز مطالبہ جو کہ ایک صدقہ ہے اسے ہم مسلمانوں کو ایذا دے کر ضائع کر رہے ہیں اور پھر ماہ رمضان کا آغاز بھی ہو چکا ہے لوگ سودا سلف لینے جا رہے ہیں تاکہ رمضان کی اچھے سے تیاری کر سکیں اور ان مسافروں میں بیشتر نفلی روزے سے بھی ہیں

    خدارا حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا پاکستانیوں کو نا دو اسلام آباد میں سفارتخانہ ہے اسے بند کرو وزیراعظم ہاؤس و صدر پاکستان ہاؤس ہے اس کا گھیراؤ کرو کیا قصور ہے ان مسلمان پاکستانیوں کا ؟
    یہ بھی کلمہ گو ہیں یہ بھی نبی کریم کی حرمت پر جان لٹانے والے ہیں

    اللہ کے بندوں تمہارے عزیز اقارب سے لوگ فرانس میں نوکریاں کر رہے ہیں ان کو واپس بلاؤ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو تاکہ ان کی معیشت کمزور ہو اور ان کو ایذا پہنچے مگر یہ کیا تم نے تو اپنوں کو ہی ایذا دینی شروع کر دی جس کی ممانعت قرآن بھی کرتا ہے اور حدیث بھی

    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آم

  • مسئلہ فلسطین اور غرب و عرب       تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین اور غرب و عرب تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین اور غرب و عرب

    تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    جب بھی فلسطین کی بات ہوتی ہے تو اذہان میں حق اور باطل کا پیمانہ سامنے آجاتا ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے کہ جب جب کربلا کا ذکر ہوتا ہے تو حسینی کردار یزیدی کردار کو شکست خوردہ کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اذہان حق اور باطل کے معرکہ کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ فارمولہ رہتی دنیاتک قائم و دائم رہے گا ۔ حق کی قوتیں باطل قوتوں کے ساتھ نبرد آزما رہیں گی اور ممکن ہے کبھی ظاہری طور پر حق کی قوت کو دو قدم پیچھے ہونا پڑتا ہو لیکن آخر کار حق ہی ہے جو غالب آتا ہے اور غالب ہی آنے والاہے ۔ بالآخر باطل کو نابود ہونا ہی ہے ۔

    فلسطین کی جب جب بات ہوتی ہے تو ہمارے سامنے ایک ایسا خاکہ کھنچا چلا جاتا ہے کہ جس میں صہیونی جرائم کی ایک طویل داستان رقم ہے ۔ صہیونیوں کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی تاریخ ایک سو سال پر محیط ہو چکی ہے ۔ جیسا کہ مقالہ کے عنوان میں ہی بیان کیا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونی جرائم میں عالم مغرب کی آشیرباد یا شراکت داری ۔ جی ہاں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔

    تاریخ کا مطالعہ کرنے سے علم ہوتا ہے کہ سرزمین فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست بنانے کے لئے برٹش آرتھر بالفور ،امریکی ٹریو مین اور اسی طرح دیگر مغربی ممالک کے مختلف سیاست مداروں نے صہیونیوں کا ساتھ دیا ۔ صہیونیوں کے ان مغربی آقاءوں نے نہ صرف فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست کے قیام کے لئے ان کا ساتھ دیا بلکہ فلسطین پر صہیونیوں کے ناجائش تسلط کے لئے صہیونیوں کو ہر قسم کی آزادی فراہم کی تا کہ وہ فلسطینی عوام کا قتل کریں اور ان کو انہی کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کریں ۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی حالات میں اگر صرف فلسطین کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں پائی جاتی ہے کہ عالم مغرب نے صہیونیوں کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی پشت پناہی اور ان کی مدد کی ہے ۔ اس لئے اگر آج کہ جدید دنیا میں یہ بات کہی جائے کہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونیوں کے ایک سو سالہ جرائم اور ظلم میں امریکہ، برطانیہ او ر دیگر مغربی ممالک برابر کے شریک ہیں تو یہ بات بالکل بے جا نہ ہو گی ۔

    آج بین الاقوامی فورم پر امریکی اور مغربی سامراج فلسطین پر قائم غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست کا حامی نظر آتا ہے ۔ مغربی ذراءع ابلاغ کی حالت تو اس طرح کی ہے جیسے صہیونیوں کے غلام ہوں ۔ امریکی اور یورپی سامراج فلسطین میں جاری قتل و غارت گری اور ہر قسم کی انسانی حقوق کی پامالی سمیت نا انصافیوں میں برابر کا شریک جرم ہے ۔

    آج جو کچھ جدید دنیا میں فلسطین کے ساتھ کیا جا رہاہے یہ خود جدید دنیا کے چہرے پر ایک بد نما داغ کی مانند ہے ۔ عالمی اداروں کی کھلی بے حسی ان کی کمزوری اور حیثیت کو واضح کر رہی ہے ۔ آج فلسطینی عوام دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم عوام ہے ۔ جہاں اس معاملہ میں غرب برابر کا شریک ہے وہاں آج عرب بھی اس معاملہ میں صہیونیوں کے جرائم میں برابر کا شریک کار ہے ۔ آج مغربی دنیا کی ایماء پر عرب دنیا کے چند ممالک فلسطینی عوام کے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں ۔ انہیں فلسطین کی مذہبی اور ثقافتی حمیت سے بھی کوئی غرض نہیں ۔ ان کے لئے فلسطینی عوام کا بہنے والا خون شاید نالیوں میں بہنے والے گندے پانی سے بھی کم قیمت رکھتا ہے ۔ انتہائی دکھ کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ مسلم دنیا کی سب سے مقدس زمین حجاز و یثرب پر قائم آل سعود کی حکومت اسرائیل کے ساتھ یارانہ بنا چکی ہے ۔ یمن میں براہ راست امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کا قتل عام کر رہی ہے ۔ بحرین ، عرب امارات اور ان کی دیکھا دیکھی کچھ افریقی ممالک بھی اسی راستہ پر چل نکلے ہیں ۔ انہوں نے قدس شریف کا سودا کرنے کی ٹھان رکھی ہے ۔ ان کو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین سے کوئی لگاءو باقی نہیں رہا ۔ اب ایسے حالات میں یہ عرب حکمران ہوں یا مغربی حکمران ہوں ، ان میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے ۔ یہ تاریخی اعتبار سے شاید فلسطینی عوام کے لئے بدترین دور تشبیہ کیا جائے ۔ یہاں ان عرب حکمرانوں کے اس گھناءونے کردار سے نہ صرف فلسطین کی تاریخ کے لئے سیاہ باب ہے بلکہ دنیا کی دیگر مظلوم اقوام کہ جن میں سرفہرست فلسطین کے بعد کشمیری ہیں ، ان کو بھی دھچکا اور گہری چوٹ پہنچ رہی ہے ۔ یہ سوال مقبوضہ کشمیر کی وادی میں جنم لے چکا ہے کہ جن مسلمان اور عرب ممالک نے مغربی ممالک کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کی پردہ داری شروع کر دی ہے تو اب ان سے کشمیر کے معاملہ پر کیا توقع کی جا سکتی ہے;238; ۔ یقینا مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کی یہ تشویش بر حق ہے ۔

    حیرت انگیز اور افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمرانوں نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی ابتداء ایک ایسے زمانہ میں شروع کی ہے کہ جب خود صہیونی جعلی ریاست اسرائیل سیاسی طور پر غیر مستحکم نظر آ رہی ہے اور اسی طرح عسکری عنوان سے بھی اب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی پوزیشن یہ ہے کہ آخری معرکہ انہوں نے اڑھتالیس گھنٹوں سے زیادہ میدان میں باقی نہیں رہ پائے ۔ اسی طرح حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے سیاسی و عسکری میدان میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی حاصل کی ہے ۔ جہاں اسرائیل میں ایک سال میں تین مرتبہ انتخابات ہوئے ہیں وہاں فلسطین کی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حماس اور مزاحمتی گروہوں کی کامیابی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔

    ایک طرف صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل ہے کہ جس نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کسی طور پر بھی اپنے ظالمانہ اقدامات سے رکنے والا نہیں ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ شاید امریکہ اور یورپی ممالک سمیت اب عرب دنیا کے حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کی کمر تھپ تھپانا ہو ۔ بہر حال مسلم دنیا کے عرب ممالک کو چاہئیے کہ وہ فلسطینی عوام کی امنگوں کا خیال رکھیں ۔ اگر فلسطین کی مدد نہیں کر سکتے اور کرنا نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں لیکن ان کی پیٹھ پر خنجر بھی نہ گھونپے ۔ عرب دنیا کے حکمرانوں کو چاہئیے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتکاری کے فیصلے واپس لیں ۔ اس عنوان سے لاطینی امریکہ کے ممالک اگرچہ وہ کئی ممالک سے نسبتا چھوٹے ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کے اقدامات کئے ہیں جو قابلِ تحسین ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کا قیام اس لئے عمل میں لایا گیا تھا تا کہ مغربی ایشیائی ممالک میں مسلمان حکومتوں کو کمزور کر کے اس خطے کے وسائل پر اسرائیل قابض ہو جائے اور گریٹر اسرائیل کے ناپاک منصوبہ کو عملی جامہ پہنا سکے ۔ عالم مغرب نےاس منصوبہ کی تکمیل کے لئے اسرائیل کی ہر ممکنہ مدد جاری رکھی تا کہ اسرائیل محفوظ رہے ۔ بہر حال گذشتہ ستر سالوں میں اب اسرائیل کی صورتحال یہ ہے کہ وہ مسلسل سازشوں اور قتل و غارت گری سمیت قبضوں کے بعد آخر کار اپنے ہی گرد دیواریں قائم کر رہا ہے ۔ یعنی اسرائیل پھیلنے کی بجائے سکڑ رہا ہے ۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر آج امریکہ میں یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی موجود ہے جو اسرائیل کے وجود کو جعلی تصور کرتی ہے اور فلسطین کو فلسطینیوں کا مانتی ہے ۔ مسئلہ فلسطین اور اس کی حمایت ایک ایسا وسیلہ ہے کہ جس کی مددسے مسلم امہ متحد ہو سکتی ہے بلکہ عالم مغرب کی تمام سازشوں اور جرائم کا منہ توڑ جواب بھی دے سکتی ہے ۔ آج دنیا بھر میں عوام کے جذبات اسرائیل مخالف ہیں ، دنیا کے عوام مظلوم اقوام کے ساتھ ہیں ۔ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں ہماری نوجوان نسل فلسطینیوں کیساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کر رہی ہے ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جس نے روز اول سے ہی فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی ہے اور یہ حمایت پاکستان کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کی اصولی و نظریاتی سیاست کے اجزاء سے حاصل ہوئی ہے ۔

  • عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے پر شنیرا اکرم کا زینب عباس کیلئے خصوصی پیغام

    عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے پر شنیرا اکرم کا زینب عباس کیلئے خصوصی پیغام

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ اور سماجی کارکن شنیرا پاکستانی معروف اسپورٹس پریزینٹر اور میزبان زینب عباس کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے پر خصوصی پیغام دیا ہے-

    باغی ٹی وی : زینب عباس کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے پرجہاں ملکی و غیر ملکی اسپورٹس شخصیات مبارکباد دے رہے ہیں اور اس نئے سفر کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں وہیں شنیرا اکرم نے بھی ایک خصوصی پیغام جاری کیا-


    شنیرااکرم نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس حولے سے زینب عباس کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا اورزینب عباس کے ٹوئٹ کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ری ٹوئٹ کرتے ہوئے شنیرا نے لکھا کہ ’ہمارے جھنڈے کو ہمیشہ اونچا لہرانا۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کی معروف اسپورٹس پریزنٹر زینب عباس نامور برطانوی ٹی وی چینل اسکائی اسپورٹس پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی جبکہ زینب عباس پہلی پاکستانی اسپورٹس پریزنٹر ہیں جنہیں غیر ملکی ٹی وی چینل پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا ہے۔

    اسحوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے زینب عباس کا کہنا تھا کہ میں یہ شئیر کرتے ہوئے بہت پرجوش ہوں کہ میں پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سیریز اور اس کے بعد ہونے والے ’دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ‘ کے لیے اسکائی اسپورٹس پر ڈیبیو کروں گی۔‘

    ساتھ ہی زینب نے کہا تھا کہ وہ ایک شاندار ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہیں۔

  • حادثات سے بچانے والی اینڈرائیڈ ایپلیکیشن

    حادثات سے بچانے والی اینڈرائیڈ ایپلیکیشن

    اسمارٹ فون ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے انسان دنیا سے بے خبر ہوجاتا ہے، لیکن انسان کا فون میں یہی انہماک کبھی کبھی کسی حادثے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے دنیا بھر میں متعدد افراد اسمارٹ فون پر مصروف رہتے ہوئے اکثر و بیشتر کبھی کسی گاڑی سے ٹکرا جاتے ہیں تو کبھی کبھی دیوار یا کبھی کسی بڑے حادثے کا بھی باعث بن جاتےہیں-

    باغی ٹی وی :سمارٹ فون کے صارفین کو ایسے ہی حادثات سے بچانے کے لئے ایک ایسی ایپلی کیشن بنائی گئی ہے جو چلتے ہوئے موبائل پر نظریں جمائے رکھنے کے عادی افراد کو سر اٹھانے پر مجبور کردیتی ہے۔

    جی ہاں XDA Developers کی جانب سے بنائی گئی اس ایپلی کیشن Heads Up کوگوگل پلے اسٹور سے مفت میں انسٹال کیا جاسکتا ہے۔

    یہ ایپلی کیشن ڈیجیٹل ویل بینگ کے زُمرے میں آتی ہے اس ایپ کے اسکرین شاٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ چلتے وقت اس ایپ کو استعمال کر رہے ہیں تو فورا آپ کی موبائل اسکرین پر ایک نوٹیفیکیشن ظاہر ہوگا جس میں آپ کو مختلف پیغامات دیے جائیں گے جیسے کہ’ محتاط رہیے‘،’سامنے دیکھیں‘، وغیرہ وغیرہ۔

    اس ایپلی کیشن کے ڈویلپر کے مطابق اس ایپ کو فون کی سیٹنگ میں جا کر سوئچ آن اور سوئچ آف بھی کیا جاسکتا ہے، اسی طرح صارف اپنی مرضی کے مظابق نوٹیفیکیشن کو بند یا اس کے ظاہر ہونے کا وقت بھی مقرر کر سکتا ہے۔ فی الحال اس ایپلی کیشن سے اینڈرائیڈ موبائل فون صارفین ہی مستفید ہوسکتے ہیں۔

  • فیس بک کی مختلف گروپس کیلئے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے فیچر کی آزمائش

    فیس بک کی مختلف گروپس کیلئے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے فیچر کی آزمائش

    دنیا بھر میں معروف سماجی ویب سائٹ فیس بک مختلف گروپش کے لیے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے آپشن پر کام کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی :اس فیچر کے ذریعے کسی گروپ پر جاری مباحثے میں شامل افراد کی رائے کو اپ ووٹ یا ڈاؤن ووٹ دے کر تبصرے کو اہم بناکر بامعنی گفتگو کی جاسکے گی۔

    فیس بک نے نومبر 2020 میں اس پر کام کیا تھا اور اب دوبارہ اس کی آزمائش کی جارہی ہے اس طرح کسی کی رائے کو قابلِ قدر یا غیراہم قرار دینے میں مدد ملے گی۔

    سوشل میڈیا کے ماہر جوہانس وان زِل نے اپنے بلاگ میں اس کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ آیا یہ آپشن کب پیش کیا جائے گا اور اس کی اندرونی آزماش کب تک جاری رہے گی۔

    بعض تجزیہ نگاروں نے فیس بک کے نئے آئکن کی بنا پر انہیں شناخت کیا ہے اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کسی پوسٹ پر کمنٹس کو ’مفید‘ اور ’معلوماتی‘ قرار دیا جاسکتا ہے یا پھر اسے غیراہم قرار دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے تاہم فیس بک ورک پلیس پر اپ اور ڈاؤن کمنٹس کا آپشن پہلے سے ہی موجود ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 2018 میں بھی فس بک گروپ کی بجائے انفرادی صارفین کی پوسٹ پر بھی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کی سہولت کا تجربہ کیا گیا تھا۔

    اس وقت فیس بک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں آزما کر دیکھا جارہا ہے کہ یہ لوگوں کے لیے کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کے ذریعے لوگوں کو بامقصد کمنٹس کو اوپر لانے میں مدد دے گا جبکہ انہیں مناسب نہیں لگا تو اسے نیچے بھی دھکیل سکتے ہیں، جبکہ اس سے کسی صارف کی نیوزفیڈ یا دوستوں سے بات چیت بھی متاثر نہیں ہوگی۔

    اگرچہ فیس بک نے اسے ترک کردیا تھا لیکن کمپنی کی دوبارہ اس آپشن میں دلچسپی سے معلوم ہوا ہے کہ فیس بک اس آپشن کو بطور کمنٹ ماڈریشن استعمال کرنا چاہتا ہے تاہم فیس بک نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں-

  • احتجاج کے شرعی آداب   بقلم :عمران محمدی

    احتجاج کے شرعی آداب بقلم :عمران محمدی

    احتجاج کے شرعی آداب

    بقلم
    عمران محمدی
    ( عفا اللہ عنہ )

    =============

    وطن عزیز پاکستان میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور قتل و غارت کا سلسلہ بڑھی تیزی سے پروان چڑھتا جا رہا ہے، سیاست اور مذہب کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے جذبات کو غلط جگہ استعمال کرنا تو گویا فنکاروں کے دائیں ہاتھ کا فن ہے

    وطن عزیز پاکستان میں احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں لانگ مارچ اور بڑے بڑے سیمینارز کا سلسلہ تقریباً پورا سال ہی جاری و ساری رہتا ہے
    جن میں سے بعض مستقل اور بعض ہنگامی ہوتے ہیں اور بعض مذہبی اور بعض سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں
    جن میں لوگوں کی کثیر تعداد اپنے گھروں سے نکل کر باہر سڑکوں پر اپنی مذہبی اور سیاسی وابستگی کا اظہار کرتی ہے،

    یہ مظاہرے اپنے مظاہرین کے عقائد و نظریات اور حقوق کے ترجمان ہوتے ہیں
    احتجاجی مظاہرے کے انداز اور اسٹائل سے ہی متعلقہ افراد کے اخلاق و کردار کا اندازہ ہوتا ہے اور ان کا چہرہ کھل کر سامنے آتا ہے کہ آیا یہ لوگ پر امن شہری ہیں یا پر تشدد ذہنیت کے حامل ہیں

    یہ دھرنے اور احتجاج خواہ مذہبی ہوں یا سیاسی مجموعی طور پر ان کا چہرہ مایوس کن اور انتہائی غیر مناسب ہے
    مد مقابل کی عزت و حرمت سے کھیلنا
    املاک کو نقصان پہنچانا
    دکانیں جلانا
    سڑکوں پر ٹائر جلا کر بلاک کرنا
    گاڑیوں کو نظر آتش کرنا
    انسانی جانوں سے کھیلنا
    الغرض کہ دھرنے کی دنیا میں یہ سب کچھ جائز سمجھ لیا جاتا ہے الا کہ کسی کو اللہ تعالٰی نے عقل و دانش سے کام لینے کی توفیق دے رکھی ہو

    سو ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک مسلم کی جان، مال اور عزت کی کیا اہمیت ہے اور احتجاجی دھرنوں کے شرعی اصول و ضوابط کیا ہیں

    احتجاج کرنے کے شرعی آداب

    احتجاج کرنا انسان کی جبلت میں شامل ہے اور اس کا پیدائشی حق ہے
    بچہ دنیا میں آتے ہی احتجاج کرتا ہے
    جب تک بچہ روئے نہیں ماں دودھ نہیں دیتی

    اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق منوانے، امت مسلمہ کے مفادات، اسلامی شعائر اور ارکان اسلام کے دفاع کے لیے اگر احتجاج اور دھرنا ناگزیر ہو جائے تو پھر احتجاج کرنے، دھرنا دینے اور لانگ مارچ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، ایسا کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات احتجاجی مظاہرے نا صرف یہ کہ جائز بلکہ واجب اور ضروری ہو جاتے ہیں

    غیرت اسلامی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جب بھی اور جہاں کہیں بھی ”احتجاج“ کی ضرورت محسوس ہو، ضرور کیا جائے تاکہ اپنے جذبہ ایمانی کا اعلان ہوسکے اور کل روز قیامت ہم یہ کہہ سکیں کہ جب کبھی بھی اسلام یا اسلامی اقدار کے خلاف کوئی عمل ہوا، ہم نے مقدور بھر اس کے خلاف آواز بلند کی

    لیکن کسی بھی قسم کے احتجاج کے دوران کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہئے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو اور یہ خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ کہیں دوران احتجاج جذبات کی لہر میں بہتے ہوئے شرعی حدود سے متجاوز نہ ہو جائیں
    احتجاجی مظاہروں کے لیے چند اھم امور مد نظر رکھنا ضروری ہیں

    احتجاج کے لیے پر امن اور مہذب طریقہ اپنایا جائے

    جاہلوں، بدؤں اور بد تمیز لوگوں سا انداز ہر گز نہ اپنایا جائے
    اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ
    (سورة المؤمنون 96)
    ” آپ برائی کو احسن (سب سے بہتر) طریقہ سے دفع کریں۔”

    مثال کے طور پر پریس کانفرنس احتجاج ریکارڈ کرانے کا ایک سلجھا طریقہ ہے

    احتجاج کریں مگر گالی مت دیں

    اپنی زبان سے ”مجرموں“ کے خلاف گالم گلوچ یا نازیبا الفاظ نہیں ادا کرنا چاہئے بلکہ تقریر و تحریر میں اخلاقی قدروں میں رہتے ہوئے مجرموں کے اقدامات کی مذمت کی جائے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ
    مومن بہت زیادہ لعن طعن کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا
    ترمذی

    احتجاج میں فساد فی الارض نہ ہو

    مظاہروں اور جلوسوں کے دوران سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے۔ بلکہ اگر ”مجرمان سے متعلقہ املاک“ بھی ہماری دسترس میں آجائیں تو انہیں بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ توڑ پھوڑ اور پولس یا انتظامیہ پر پتھراؤ وغیرہ کرنا بالکل غلط ہے

    اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ …
    (سورة الأعراف 56)
    ” اور زمین میں فساد برپا نہ کرو

    وَاللَّہ ُلَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
    ﴿ سورة آل عمران: 5 ﴾
    اللہ تعالٰی ظالموں کو پسند نہیں کرتے

    احتجاج، اسلام اور اہلیان اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بنے

    دوران احتجاج ایسا کچھ بھی نہ کیا جائے کہ سیکولر لابی کو باتیں کرنے کا موقع ملے
    یا اسلام کا غلط چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر ہو
    یا یہ کہ اس سے بڑا کوئی اور ’’منکر‘‘ جنم نہ لے

    کیونکہ پھر یہ احتجاج دفاع اسلام نہیں بلکہ اسلامیان کے لیے ایک نئے فتنے اور کئی طرح کی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو گا

    وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ …
    (سورة البقرة 119)
    ” اور فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے”

    لہذا حرمت رسول اور دین اسلام کی حفاظت کرتے کرتے حرمتِ دینِ رسول پامال نہ کیجئے

    دوران احتجاج اگر کسی کی گاڑی جلا دی گئی یا دکان جلا دی گئی یا اس کی کسی اور چیز کو نقصان پہنچا دیا گیا تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس شخص کو ہمیشہ ہمیش کے لیے مذہب اور اہلیان مذہب سے متنفر کردیا گیا ہےسوچئے کہ یہ کتنا بڑا فتنہ و فساد ہےکیا یہ اسلام کی خدمت ہوگی یا اسلام سے دشمنی

    دوران احتجاج راستے مت روکے جائیں

    احتجاج سے ٹریفک میں خلل نہیں پڑنا چاہئے اور نہ ہی راستہ بلاک کرکے عام شہریوں کو مشکلات میں ڈالنا چاہئے

    جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے
    عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا، فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ : ” أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ ".

    کہ ایک دفعہ جہادی سفر کے دوران لوگوں نے راستے بلاک کر دیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں میں اعلانات کروادیے کہ جس نے راستے بلاک کیے اس کا کوئی جہاد نہیں ہے
    حكم الحديث: حسن

    حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے راستوں پر بیٹھنے سے بھی منع کردیا فرمایا

    ایاکم والجلوس علی الطرقات
    راستوں میں مت بیٹھا کرو

    راستے بلاک ہونے کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرکے کھانے والےغریب و مسکین کام نہیں کرسکتے لہذا وہ اور انکے بچے بھوکے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

    بیمار علاج کیلئے بھی نہیں جا سکتے۔ بے شمار لوگ اذیت میں دن گزارتے ہیں اور اسی طرح مسلمانوں کی اکثریت کو اذیت پہنچتی ہے اور مسلمانوں کو ایذا پہنچانا کبیرہ گناہ ہے

    فرمایا
    وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
    (الأحزاب:۵۸)
    ” اور وہ لوگ جو ناحق مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا پہنچاتے ہیں انھوں نے یقیناً بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھا یا۔”

    احتجاج روڈ بلاک کیے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔
    سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر بھی مظاہرہ ہوسکتا ہے
    عجیب بات ہے کہ ہمیں راستہ روکے بغیر احتجاج کا کوئی طریقہ سجھائی نہیں دے رہا۔

    ڈبل سڑکوں پہ ایک جانب بند کر لیں تاکہ دوسری طرف ٹریفک بحال رہے۔

    احتجاج کو بغاوت و خروج کا جامہ مت پہنایا جائے
    احتجاج کے لیے نکلنے سے پہلے اپنے کارکنان کو خوب اچھی طرح بریف کریں
    کہ
    احتجاج کرنا ہے بدمعاشی نہیں کرنی
    احتجاج کا مقصد حکومت تک اپنی بات پہنچانا ہے, بغاوت کرنا نہیں

    دوران احتجاج کسی بھی حکومتی وغیر حکومتی عہدیدار کی تکفیر مت کریں، کسی بھی انسان کے قتل کے فتوے مت جاری کریں اور نہ ہی عوام الناس اور کارکنان کو جوش دلائیں کہ فلاں فلاں شخص اگر آپ کو کہیں مل جائے تو اسے قتل کر دیا جائے

    اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ:

    یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ.(۸)
    ’’ ایمان والو، اللہ کی خاطر عدل وانصاف کے گواہ بن کر کھڑے ہو جاؤ، اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمھیں برانگیختہ کر کے ناانصافی پر آمادہ کردے۔ عدل پر قائم رہو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمھارے اعمال کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘

    احتجاج کے دوران افراتفری، توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کا سا ماحول بنا کر معاشرے میں دہشت نہ پھیلائی جائے

    جیسا کہ حدیث میں آیا ہے
    عَنْ عَبْدﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتَّی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اﷲِ! وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ.
    أبوداود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4: 94، رقم: 4242

    ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا۔کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ افراتفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے۔‘‘

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    إِنَّﷲَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا.
    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب الوعيد الشديد لمن عذب الناس بغير حق، 4 : 2018، رقم : 2613
    اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو اذیت و تکلیف دیتے ہیں

    اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده.
    (بخاری، الصحيح، باب من سلم المسلمون، رقم11

    ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔

    سورۃ البروج کی آیت نمبر دس (10) میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ
    (بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے)

    دوران احتجاج اسلحہ کی بے جا نمائش مت کریں

    حالیہ مظاہروں کے دوران ایسے بہت سے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں
    حتی کہ ایک صاحب نے تو ننگی تلوار ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی
    جبکہ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    لَا يُشِيرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ.

    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2617
    ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔‘‘

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ.

    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2616

    ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في إشارة المسلم إلی أخيه بالسلاح، 4: 463، رقم: 2162
    ’’جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔‘‘

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

    نَهَی رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا.
    ترمذی، ابو داؤد
    ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ننگی تلوار لینے دینے سے منع فرمایا۔‘‘

    ________
    اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایک مسلمان کی عزت، مال اور جان کی حرمت

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‌ۚ
    اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حجاب
    ( بخاری )
    مظلوم کی بددعا سے بچیں کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پردہ نہیں ہے

    کسی مسلم کو حقیر سمجھنا حرام ہے
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ»
    [مسلم: 2564]
    "کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ۔”

    آپﷺ نے ایک اور موقعہ پر فرمایا:
    المسلم اخوالمسلم لا یظلمہ ولا یخذلہ ولا یحقرہ

    مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے
    بخاری و مسلم

    مسلمان کی حرمت کعبہ کی حرمت کی طرح ہے
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی جان ومال کے تلف کرنے اور قتل و غارت گری کی خرابی و ممانعت سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
    إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وأعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هذَا، فِی شَهْرِکُمْ هٰذَا، فِی بَلَدِکُمْ هٰذَا، إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمٍْ.
    بخاری و مسلم

    بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی)ہے اُس دن تک جب تم اپنے رب سے ملو گے۔

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا:
    مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا.
    ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932
    (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘

    مسلمانوں کی عزت، مال اور جان سب کے سب دوسروں پر حرام ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ
    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم  ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص ۱۳۸۶،حدیث:۲۵۶۴)
    یعنی ہر مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔

    کسی کی ملکیت پر نا جائز قبضہ کرنے کا خوفناک انجام
     
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ 
    مسلم
    جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین پر نا جائز قبضہ کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنائیں گے

    کسی کو ناحق قتل کرنے کی سنگینی

    قرب قیامت کئی فتنے ظاہر ہونگے جن میں سے ایک قتل و غارت بھی ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ العِلْمُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اﷲِ، أَيُمَا هُوَ؟ قَالَ: الْقَتْلُ، الْقَتْلُ.
    بخاری و مسلم
    ’’ زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا کہ قتل، قتل (یعنی ہرج سے مراد ہے: کثرت سے قتلِ عام)۔‘‘

    مسلمان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف

    قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا.
    المائدة، 5: 32
    ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘

    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَی اﷲِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.
    (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
    اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ) ہو جانا ہلکا (واقعہ) ہے

    قیامت کے دن سب سے پہلے قتل کا حساب ہوگا

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خونریزی کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاء.
    بخاری و مسلم
    ’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔‘‘

    قاتل کے کسی بھی قسم کے نیک اعمال قبول نہیں ہوتے

    حضرت عبد اﷲ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اﷲُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا.
    جس شخص نے کسی مومن کو ظلم سے ناحق قتل کیا تو اﷲ تعالیٰ اس کی کوئی نفلی اور فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا۔
    ابو داؤد

    قاتل کی سزا دائمی جہنم ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًاo

    ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کے قاتل کی سزا جہنم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَائِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اشْتَرَکُوْا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَکَبَّهُمُ اﷲُ فِي النَّارِ.
    ترمذي، کتاب الديات، باب الحکم في الدماء، 4: 17، رقم: 1398
    ’’اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہو جائیں تب بھی یقینا اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا۔‘‘

    مزید فرمایا
    إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُوْرِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ، فِيْهَا سَفْکَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ.

    بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن قتل مؤمنا متعمدًا فجزاؤه جهنم، 6: 2517، رقم: 6470
    ’’ہلاک کرنے والے وہ اُمور ہیں جن میں پھنسنے کے بعد نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہو، اِن میں سے ایک بغیر کسی جواز کے حرمت والا خون بہانا بھی ہے۔‘‘